Translater
26 دسمبر 2020
گرگٹ کی طرح کورونا بدلتا اپنا وجود
یہ کیسی ٹریچڈی ہے جو انسان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہے جس دیش نے سب سے پہلے ویکسینشن کی کاروائی شروع کی وہیں کے میڈیکل ماہرین نے اپنی تازہ اسٹڈی سے دنیا کو آگاہ کیا ہے زیادہ تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کے نئے اسٹرین پائے گئے ہیں ۔ بریٹس پارلیمنٹ میں پچھلے پیر کو دیش کے وزیر صحت نے بتایا تھا کہ راجدھانی لندن میں قریب ایک ہزار مریضوں میں کورونا وبا کے نئے وائرس کے اثرات پائے گئے ہیں ۔ مانا جا رہا ہے کہ وائرس ابھی تک پرانے سے بھی خطرناک ہوتا چلا جارہا ہے اور تیزی سے پھیلنے والی اس میں صلاحیت ہے جنوبی افریقہ میں اسٹرین وائرس تیزی سے لوگوں کو شکار بنا رہا ہے وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ تمام ویکسین اس نئے اسٹرین پر کتنے ہاوی ہیں ۔ لیکن اس معاملے کی مفصل رپورٹ وہاں کی حکومت نے ورلڈ ہیلتھ آرگانائزیشن کو بھیج دی ہے ادھر بھارت کی راجدھانی کے ایک مشہور ڈاکٹر اس نئے وائرس کے بارے میں اس وقت چونک گئے کہ انہیں کورونا کے بارہ مریضوں میں اسٹرین کے معاملے ملے ہیں اس فنگش تو ہمیںبس اوپر والے کا سہارا ہے یہ منحوس وائرس جلد ختم ہونے والا نہیں ۔
(انل نریندر)
برطانیہ میں رپبلک ٹی وی پر لگا 20لاکھ کا جرمانہ
ریپبلک ٹی وی بھارت میں اپنے پروگراموں سے سرخیوں میں تو ہے ہی لیکن اب توبرطانیہ میں بھی بحث میں آگیا ہے ٹی وی کے مالک ارنب گوسوامی پر برطانیہ کے بروڈکاسٹنگ ریگولیٹ اتھارٹی نے 20لاکھ روپئے کا جرمانہ کیا اس نے ٹی وی کے ایک پروگرام پر نفرت پھیلانے اور عدم رواداری کو فروغ دینے والا پایا ہے آفس آف کمیونیکشن نے برطانیہ میں نیوز چینل کے بروڈکاسٹ اختیار رکھنے والی کمپنی ورلڈ وائڈ میڈیا نیٹورک لمیٹیڈ پر20ہزار پاو¿نڈ یعنی بیس لاکھ روپئے کا جرمانہ لگا دیا ہے حکم میں کہا گیا ہے یہ جرمانہ بروڈکاسٹنگ شرطوں کی خلاف ورزی پر لگایا گیا ہے ریپبلک بھارت چینل پر یہ پروگرام 6ستمبر 2019کو ٹیلیکاسٹ کیا گیا تھا اس پروگرام کا نام تھا پوچھتا ہے بھارت اس کے ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ پروگرام کا پھر سے ٹیلیکاسٹ نہ ہو اس پروگرام میں چینل نے پاکستانی لوگوں کے طئیں نفرت کو بڑھاوا دینے والی اسٹوری دیکھائی برطانیہ کی اتھارٹی آف کام کا کہنا ہے کہ پروگرام میں بحث کے دوران توہین آمیز زبان اور نفرت پھیلانے والے بیان اشخاص ،فرقوں مذھب اور ذات کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کئے گئے پروگرام کی قسمیں ارنب گوسوامی اور تین ہندوستانیوں کے اور تین پاکستانی مہمانوں کے درمیان 22 جولائی 2019بھارت کے خلائی سیٹر لائٹ چندر یان 2پر بحث ہورہی تھی اس بحث میں پاکستان کے مقابلے بھارت کی تکنیکی ترقی سے کی گئی بحث اور پاکستان پر بھارت کے خلاف دہشت گردانہ سر گرمیوں کو بڑھاوادینے کا الزام لگایا تھا ایک مہمان پریم سکلا نے پاکستانی سائنسدانوں کو چور کہہ دیا گو سوامی نے پاکستانی لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم سائنسداں بناتے ہیں آپ آتنکاوادی بناتے ہیں بات یہیں ختم نہیں ہوئی گو سوامی اور کچھ مہمانوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ سبھی پاکستانی لوگ دہشت گرد ہیں ۔چینل کے کونسلنگ ایڈیٹر گورو آریہ نے کہا انہیں سائنسداں ڈاکٹر ان کے نیتا سیاست داں سبھی آتنکوادی ہیں یہاں تک کہ ان کے کھلاڑی بھی ۔یہ پورا دیش آتنکواد کو بڑھاوا دیتا ہے مجھے نہیں لگتا کسی کوبنایا گیا ہے آپ ایک آتنکوادی یونٹ کے ساتھ کام کر رہے ہیں ۔
(انل نریندر)
مذہب کے سبب کسی کو بھی ترقی میں پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا!
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی صدی تقریبات کو وزیر اعظم نریندر مودی نے خطاب کرکے ایک مثبت پیغام دیا ہے ایک طرح سے انہوں نے دیش کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ دیش کی مین اسٹریم سے اپنے آپ کو جوڑیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تعلیم اور فروغ اور پبلی سٹی میں اے ایم یو نے بہترین تعاون دیا ہے ۔ یہ یونیورسٹی بھارت کی بیش قیمت وراثت ہے یہاں سے تعلیم پا کر نکلے تمام لوگ دنیا بھر کے ملکوں میں چھائے ہوئے ہیں۔ اور اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں آگے کہا سرکار کا منتر سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس کے منتر پر کام کر رہی ہے ۔انہوں نے کثیر تہذیبی وراثت کو دیش کی طاقت بتایا انہوں نے اس تقریب کے دوران ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا انہوں نے یونیورسٹی کے بانی سر سید کے اس قول کو دوہرایا کہ اپنے دیش کے بارے میں جو شخص فکر کرتا ہے ،اس کا پہلا سب سے اہم ترین فرض یہ ہے کہ وہ ذات ،نسل یا مذہب کا ذکر کئے بنا سبھی لوگوں کے بھلائی کے لئے کام کرے۔وزیر اعظم نے بغیر کسی امتیا زکے عوام کو فائدہ پہونچانے والے سرکاری اسکیموں کی بھی مثال دی انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیش کے وسائل ہر شہری کےلئے ہیں اور ان کا سبھی کو فائدہ ملنا چاہئے ہماری سرکار اسی نظریہ کے ساتھ کام کر رہی ہے وزیر اعظم نے اے ایم یو کے سو سالہ سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ یقین کرنے کےلئے متحد ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے اے ایم یو کمپلیکش میں ایک بھارت ،سریشٹھ بھارت کے جذبہ دنوں دن مضبوط ہو اورترقی میں مذہبی بنیاد پر کسی کو محروم نہیں ہونا چاہئے حقیقت میں اے ایم یو کا قیام کی بنیاد ہی ترقی پسند نظریہ رہی ہے اور اقلیتی ادارہ ہونے کے باوجود اس نے ذات اور مذہب کے بنیاد پر طلبہ کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا یہ دیش کے ان چنندہ مرکزی اداروں میں سے ایک ہے جہاں توقع سے کم فیس میں عمدہ تعلیم دستیاب ہے وزیر اعظم نے لوگوں کو گمراہ کن پروپیگنڈے سے بھی ہوشیار رہنے اور دل میں قومی مفادات کو بالاتر ماننے کی اپیل کی ۔سیاست انتظار کرسکتی ہے لیکن سماج نہیں، اسی طرح غریب چاہے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو وہ بھی انتظار نہیں کرسکتا ہم وقت برباد نہیں کرسکتے ہمیں آتما نربھر بھارت کی تعمیر کرنے کےلئے مل کر کام کرنا چاہئے وزیر اعظم نے کورونا وبا کے دوران اے ایم یو کے ذریعے سماج کو دیئے گئے بیش قیمت تعاوک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو نے ہزاروں لوگوں کے مفت ٹیسٹ کئے اور آئسلویشن وارڈ بنائے ،بلیڈ بینک بنائے اور پی ایم کیئر فنڈ میں بڑی رقم کا عطیہ دیا جو اس یونیورسٹی کی سماج کے طئیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے ۔سو برسوں میں اے ایم یو نے دنیا کے بہت سے ملکوں کے ساتھ بھارت کے رشتوں کو مضبوط بنانے کےلئے بھی کام کیا انہوں نے کہا کہ اس یونیورسٹی میں اردو ،عربی ،فارسی ،سنسکرت و اسلامی ادب پر کی گئی ریسرچ ساری اسلامک دنیا کے ایک ساتھ بھارت کے ساتھ ثقافتی رشتوں کو نئی طاقت فراہم کی سر سید احمد نے جب اس ادارے کا قائم کو تو ان کے تصور میں آکس فوڈ ،کیمبریج جیسی یونیورسٹی کا تعلیمی میعار تھا سو سال بعد یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اے ایم یو آنے والے وقت میں ایسی ہی کسوٹی پر کھرا اترے گی۔
(انل نریندر)
25 دسمبر 2020
جھٹکوں سے سگنل :کبھی دہلی میں کبھی بھی بڑا زلزلہ متوقع ہے
دہلی این سی آر میں اپریل سے لیکر اب تک پندرہ سے زیادہ زلزے کے جھٹکے آچکے ہیں 17 دسمبر کی دیر رات آیا زلزلہ اتنا تیز تھا کہ سوتے لوگوں کو نیند کھل گئی لوگ گھروں کے باہر آگئے ماہرین کے مطابق بار بار آرہے زلزلوں کے جھٹکے سے پتہ چلتا ہے دہلی ۔این سی آرکے فالٹ اس وقت سر گرم ہیں ان میں بڑے زلزلے کی رفتار 6.5تک رہ سکتی ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کب آئے گا؟زلزلے کی پہلی پیش گوئی کا کوئی نا تو اعلیٰ ہے اور نہ کوئی میکنیزم ان جھٹکوں کو خطرے کی آہٹ مانتے ہوئے راجدھانی کو تیاریاں کر لینی چاہئے لیکن تیاروں کی بات کریں تو پچھلے کئی برسوں سے تیاروں کے نام پر صرف کھانہ پوری ہی جاری ہے کچھ دھائیوں میں دہلی این سی آر کی آبادی کافی بڑھی ہے ایسے میں 6رختر اسکیل کا زلزلہ کافی نقصان پہونچا سکتا ہے مگر دہلی سے 200کلومیٹر دور ہمالیائی خطے میں 7یا اس سے زیادہ رفتار کا زلزلہ آتا ہے تو بھی راجدھانی کے لئے خطرہ ہے ۔ دہلی میں ایک رپورٹ کے مطابق 901.7فیصد مکانوں کی دیواریں پکی ایٹوں سے بنی ہیں ۔ جبکہ 3.7فیصد کچی اینٹوں سے دیواریں بنی ہوئی ہیں۔ ایسی صورت میں انہیں زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔
(انل نریندر)
ٹرمپ 20جنوری کو وائٹ ہاو ¿س چھوڑنے سے انکار کر سکتے ہیں ؟
امریکہ کے چناو¿ کمیشن نے جو بائیڈن کو دیش کے صدر اور ہندوستانی نژاد سینیٹر کملا ہیرس کو نائب صدر کے عہدے کے لئے ان کی کامیابی کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے اس کے بعد بائیڈ ن نے کہا اب متحد ہونے اور زخموں کو مرہم لگانے اور اقتدار سنبھالنے کا وقت آگیا ہے اس کے ساتھ ہی موجودہ صدرڈونالڈ ٹرمپ کی اس قانونی لڑائی پر روک لگ گئی ہے جس میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا تھا ۔الیکشن کمیشن کی میٹنگ دسمبر کے دوسرے بدھوار کے بعد پیر کو ہوتی ہے اس دن سبھی پچاس ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے الیکشن آفسر اپنا ووٹ ڈالنے کے لئے میٹنگ کرتے ہیں واضح ہو صدارتی چناو¿ 3نومبر کو ہواتھا جس میں بائیڈن نے 538ممبری نرواچن منڈل کے 270 سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے اکثریت لے لی ہے لیکن یہ میٹنگ اس سال پہلے کے مقابلے زیادہ سرخیوں میں رہی کیونکہ دیش کے موجودہ صدر ٹرمپ نے اپنی ہار ماننے سے انکار کر دیا اور چناو¿ میں دھاندلی کے الزام لگائے ہیں۔بہر حال بائیڈن 20جنوری کو امریکہ کے نئے صدر کے عہدے کا حلف لیں گے انہوں نے اعلان کیا ہے حلف برداری سادہ ہوگی کوئی شو بازی نہیں ان کا کہنا ہے امریکہ کے جمہوریت کا امتحان لیا گیا اوراسے خطرہ پیدا کیا گیا ۔دیش میں بہت پہلے جمہوریت کی مثال جل چکی تھی اب ہم جاچکے ہیں ۔ اب اس مسل کو کوئی عالمی وبا یا اقتدار کا بے جا استعمال کچھ نہیں ہوسکتا ہمارے ادروں میں اعتماد قائم رہا اور یکجہتی بر قرار رہی اس لئے اب سبھا پلٹنے کا وقت آگیا ہے ۔لیکن صدر ڈونالڈ ٹرمپ اب بھی ہار ماننے کو تیار نہیں ۔سی این این رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ وہ منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کے موقع پر وائٹ ہاو¿س چھوڑنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ اور قانونی لڑائی جاری رکھنے کا عہد کئے ہوئے ہیں ۔ وائٹ ہاو¿س کی پریس سکریٹری کائلی میکنینی نے یہ بات الکٹرول کالج کے ذریعے جو بائیڈن کی کامیابی پر مہر لگانے کے ایک دن بعد کہی ہے ۔ جس دن حلف لیا جاتا ہے اس دن کو یوم آغاز بھی کہا جاتا ہے ٹرمپ کے فریق کا کہناہے کہ عدالتی نظام کا استعمال کرنا کسی طرح سے بھی جمہوریت پر حملہ نہیں ہے۔
(انل نریندر)
بلٹ پر بیلٹ پھرجیتا!
جموں کشمیر سے آرٹیکل 370ہٹنے کے بعد یہاں ہوئے ضلع ڈیولپمینٹ کونسل کے انتخابات نے اصل جیت جمہوریت کی ہوئی ہے پہلی بار ہوئے کونسل کے چناو¿میں جموں کشمیر کی عوام نے کئی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ دہشت گردوں و علیحدگی پسندوں کر درکنا رکرکے لوگوں نے بے خوف ہوکر لوگوں نے جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کیا بلکہ ساتھ ہی پاکستان کو بھی قرارا جواب دیا کشمیر وادی نے مقامی پارٹیوں کے گپکار اتحاد نے اپنا دبدبہ برقرار رکھا ہے ۔لیکن وادی میں بھاجپا کا کھاتہ کھلنا کافی اہم مانا جارہاہے ۔ اس ڈی ڈی سی چناو¿ سے کئی سیاسی پیغام نکل کر آئے ہیں جس میں کشمیر میں اسمبلی چناو¿ کا راستہ بھی صاف ہوا ہے ۔ جموں کشمیر ضلع ڈولپمینٹ کونسل کی 280سیٹوں کے لئے ممبر تھے چناو¿ میں مقامی پارٹیوں کے اتحاد گپکار کو ا112سیٹیں ملی ہیں جبکہ بی جے پی 74سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے اس کے علاوہ جموں کشمیر اپنی پارٹی کے بارہ سیٹیں پر جیت حاصل ملی ہے کانگریس 26سیٹیں جیت کر تیسرے مقام پر رہی جبکہ حیرت انگیز طریقے سے49سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہے جموں کشمیر سے آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے بعد سیاسی پارٹیاںکہنے لگی تھیں کہ وادی میں کوئی بھارت کا جھنڈہ اٹھانے والا نہیں بچے گا۔کچھ پارٹیوں نے پہلے تو جمہوری چناوی عمل سے دوری کا من بنا لیا تھا، لیکن جس طرح سے لوگوں نے ووٹ کرکے جمہوری روایات پر اعتماد ظاہر کیا ہے اس سے صاف ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر جمہوریت کے لئے گہری عقیدت ہے اتنا ہی نہیں علاقائی پارٹیوں نے ڈی ڈی سی کے چناو¿ میں با قاعدہ حصہ لیا اور کامیابی حاصل کیا جس سے صاف ہے کہ کشمیری عوام کو جمہوریت میں پوری طرح بھروسہ ہے ۔ جموں کشمیر میں پاکستان امن بحال ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا اور اس نے چناو¿ کے دوران کئی موقعوں پر در پردہ طریقے سے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور تشدد بھڑکانے کے لئے کوشش کی گئی دہشت گردی کے واقعات کو انظام دینے کی کوششیں کی گئیں لیکن کشمیر کی عوام نے یہ صاف کردیا کہ ہم پاکستان کو ان کے منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اپنے ووٹ کی چوٹ سے پاکستان کو قرارا جواب دیا ہے ۔ وادی کشمیر میں آرٹیکل 370ہٹنے کے بعد مقامی پارٹیاں لوگوں کو یہ سمجھانے میں لگی تھی کہ مرکز کی بھاجپا سرکار ان کے طئیں سوتیلہ رویہ رکھ کر کام کر رہی ہے ۔ مگر ڈی ڈی سی چناو¿ نتیجوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ لوگوں کو مرکزی حکومت پر بھروسہ ہے دوسرے ریاستوں کے مقابلے جموں کشمیر کے حالات مختلف ہیں وہاں قومی دھارا کی سیاست سے الگ ہی نظریہ ہاوی رہتا ہے اس لحاظ سے وادی میں پی ڈی پی کو نیشنل کانفرنس کی قیادت والے گپکار اتحاد کے سوائے بھاجپا ،کانگریس اور آزاد امیدواروں پر لوگوں کا بھروسہ زیادہ دکھائی دیا ۔یہ اس بات کا اشارہ ہے لوگ مین اسٹیرم کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اورترقیاتی پروگراموں کو موثر ڈھنگ سے لاگو کرنے کے مرکز اور ریاستی اور مقامی بلدیاتی اداروں کے درمیان تال میل ہونا بہت ضروری ہے اس لحاظ سے وادی کے بہتری کے اشارے ملنے شروع ہوگئے ہیں ۔ اس سے اسمبلی چناو¿ کا راستہ بھی صاف ہوگیا ہے ۔
(انل نریندر)
24 دسمبر 2020
ورکر سے لیکر نیتا لیڈر شپ سب ان کے مرید تھے !
ہندوستانی سیاست میں ایسے کم ہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنی پارٹی کی لیڈر شپ کے ساتھ عام ورکروں اور نیتاو¿ں کو بھی بھا جاتے ہیں موتی لال وورا ایسی ہی ایک شخصیت اور سیاست داں تھے جو نہ صرف گاندھی خاندان کے پسندیدہ تھے،بلکہ کانگریس کے عام ورکر اور نیتا بھی ان کے مرید تھے ۔ان کا دروازہ چاہے نیتا ہو ورکر ہو یا صحافی ہو سبھی کے لئے ہمیشہ کھلا رہتا تھا ۔آپ جب ان سے ملنے جاتے تھے تو وہ بڑی خوشی کے ساتھ خیر مقدم کرتے تھے میرے ساتھ بھی کئی بارہوا میںجب بھی ان سے ملنے گیا تو وہ بڑی گرم جوشی سے ملا کرتے تھے وورا جی کا کورونا وائرس انفیکشن کے بعد صحت کے بگڑنے کے سبب پیر کے روز ان کا دیہانت ہوگیا ان کی عمر 93سال تھی کانگریس و اس کی قیادت کے لئے اہم تھے اسکااندازہ پارٹی صدر سونیا گاندھی کے اس تعزیتی پیغام سے لگایا جاسکتا ہے سونیا کا کہنا تھا کہ انہیں وورا جی کے مارگ درشن کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی موتی لال وورا کی زندگی پبلک سیوا اور کانگریس کی آئیڈولوجی کے طئیں بے مثال عزم زندہ مثال ہے ہم ان کے مارگ درشن اور بے لوث خدمت کی کمی محسوس کریں گے وہ ایک بڑے وفادار ہونے کے ساتھ ساتھ سب کو ساتھ لیکر چلنے کا ان کا فن تھا کانگریس کے سابق جنرل سیکریٹری جناردھن دویدی اور مدھیہ پردیش جیسے ریاست میں جہاں تک ارجن سنگھ اور ساما چرن سکلا اور مادھو رائے سندھیا جیسے بڑے لیڈر تھے ۔وزیر اعلیٰ کے طور پر سب کے ساتھ سب کا محبوب ہونا وورا جی کے لئے کوئی آسان کام نہیں تھا وہ وزیر اعلیٰ کے لئے ان کے نام کی تجویز ارجن سنگھ نے رکھی تھی ۔ لیکن بعد کے دنوں میں ریاست کے لوگ کہا کرتے تھے ۔وہاں موتی۔مادھوایکسپریس چل رہی ہے سیاست میں پانچ دھائی تک سرگرم رول نبھانے والے وورا جی کے خاندان میں پانچ بیٹیاں اور دوبیٹے ہیں ایک بیٹا ارون وورا درگ سے کانگریس ممبر اسمبلی ہے وورا جی نے کئی برسوں تک صحافت کی تھی ہمیں وورا جی کے جانے کا بہت دکھ ہے ہم ان کے پریوار کو اس اہم ترین نقصان سے صبر کے لئے پراتھنا کرتے ہیں ۔ ہم وورا جی کو اپنی شردھانجلی بھی پیش کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)
نیپال میں اقتدار لڑائی کے درمیا ب پارلیمنٹ بھنگ!
نیپال میں غیر متوقع طریقے سے اتوار کو پارلیمنٹ بھنگ کردی گئی تین سال بعد ہی یہ بھنگ کردی گئی ایوان نمائندگان کو بھنگ کرنے کے فیصلے کے بعد راشٹریہ پتی ودیہ دیوی نے نیا مینڈیٹ کے لئے اگلے سال اپریل مئی میں چناو¿ کا اعلان کردیا ہے وزیر اعظم کے پی ولی شرما حکمراں نیپال کمیونسٹ پارٹی میں چل رہی اقتدار کی جنگ کے بیچ باغیوں اور اپوزیشن پارٹیوں کو چونکاتے ہوئے پردھان منتری ولی نے پارلیمنٹ کو بھنگ کرنے کی سفارش کردی تھی ۔اب اگلے سال تیس اپریل سے دس مئی تک وسط مدتی چناو¿ کرائے جائیں گے وہیں صدر کے فیصلے کو اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ این سی پی کے لیڈروں نے بھی غیر آئینی قرار دیا ہے 2017میں چنی گئی پارلیمنٹ کی میعاد 2022تک تھی ۔ حالانکہ این سی پی کی اندرونی لڑائی میں دوسرے گروپ کی قیادت کر رہے پسپ کمل دہل پرچنڈ ،مادھو نیپا ل اور جھالا ناتھ کھنل وزیر اعظم ولی سے کافی وقت سے استعفیٰ مانگ رہے تھے۔ وہ ولی پر انتظامی ناکامی آئین کا مذاق بنانے اور پارٹی کے فیصلے لاگو نہ کروانے کا الزام لگا چکے ہیں ۔ اس کے بعد سے ولی اپنی پارٹی میں کمزور پڑ رہے تھے ماہرین ارجن اچاریہ اور سابق وزیر اعظم ڈاکٹر سابو رام بھٹا رائے نے فیصلے کو 2015میں بنے نیپال کے نئے آئین سے دھوکہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے صرف سرکار کے اقلیت میں آنے یا اسمبلی معلق ہونے پر ہی سے بھنگ کیا جاسکتا ہے۔ ابھی ایسے حالات نہیں تھے زبردست اندرونی رسا کشی کے درمیان وزیر اعظم ولی کے صدر کو پارلیمنٹ بھنگ کرنے کی سفارش پر پارٹی کے معاون صدر پرچنڈ نے کہا اس فیصلے کے خلاف متحد ہونے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں ہے ۔ اگر سرکار اس سفارش کو واپس نہیں لیتی ہے تو پارٹی کسی بھی حد تک وزیر اعظم کے خلاف جاسکتی ہے ۔ یہ فیصلہ غیر آئینی اور جمہوریت سے مذاق ہے اور ایسی سفارش جمہوری نظام کے بر عکس ہے ۔
(انل نریندر)
اس سے بڑا آندولن پہلے کبھی نہیں دیکھا!
زرعی اصلاحات قانون کولیکر پیدا تعطل جلد ختم ہونے کی امیدیں مدھم ہوتی جارہی ہیں ۔حالانکہ سپریم کورٹ سے لیکر مرکزی حکومت نے کئی تجاویز رکھی ہیں لیکن کسانوں نے ان سب کو مسترد کردیا حکومت کی دوبارہ بات چیت کی پہل کے باوجود ایک ہی بات پر اڑے ہوئے ہیں پہلے تین زرعی قوانین کو ختم کرو یا ایسا تحریر میں یقین دہانی ہو تب آگے کی بات چیت ہوسکتی ہے۔ ویسے اس سے پہلے اتنا بڑآندولن نہیں پہلے کبھی نہیں دیکھاگیا اس کو دیکھنے کےلئے روزآنہ سیکڑوں لوگ آرہے ہیں سندھو بارڈر ۔دہلی یونیورسٹی کے طالب علم مکیش پچھلے دو دنوں سے سندھو بارڈر آرہے ہیں وہ نا یہاں کسانوں کی حمایت میں ہیں اور نہ ہی مخالفت میں وہ کہتے ہیں اتنا بڑا مظاہر ہ آج تک نہیں دیکھا اور سنا تھا جہاں تک ان کی نگاہیں گئیں اور جہاں تک وہ پیدل چل سکے وہاں تک سڑک پر ٹرک اور ٹریکٹر کی قطاریں دیکھی گئیں روہنی کے باشندے کے کہنا ہے وہ پچھلے کئی دنوں سے اس آندولن کو دیکھنے کے لئے او ر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے یہاں پر ایک چیز کو باریکی سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی کہ انہیں یہ جانکاری نہیںہے کہ نئے زرعی قانون کسان کے مفاد میں ہیں۔ یا نقصان میں ،لیکن سرد ہواو¿ں میں رات کا درجہ حرارت 3.4 ڈگری تک نیچے آجاتا ہے ایسے میں عورتوں اور بچوں کا شامل ہونا بڑی بات ہے بلکہ دہلی اور اس کے آس پاس روزآنہ سیکڑوںکی تعداد میں لوگ یہاں پہونچتے ہیں اس آندولن کو تقریباًایک مہینہ ہونے لگا ہے کسان بغیر کسی تشدد کے پر امن طریقے سے ڈٹے ہوئے ہیں اس کڑاکے کی سردی میں دو درجن سے زیادہ کسان یہاں دم توڑ چکے ہیں ۔ کسان تنظیموں نے اتوار کو شہیدی دوس منایا اور آندولن میں اپنی جان گنوانے والوں کو سردھانجلی دی ایک ایس خاتون جو فتحہ گڑھ صاحب کی رہنے والی ہے گروندر کور 23 دنوں سے سندھو بارڈر پر بیٹھی ہوئی ہیں ۔ گھر میں شوہر چھ سال کا بیٹا اور دوسرا بیٹا تین سال کا ہے کہتی ہیں بچوں کی یاد تو آتی ہے لیکن یہ لڑائی بچوں کے مستقبل کے لئے ہی ہے اس لئے میں یہاں سے ہلنے والی نہیں ہوں اسی طرح سے پنجاب سے بہت سی عورتیں شامل ہورہی ہیں ۔ لیکن سب سے ایک بات کامن ہے وہ آندولن کو لیکر جذبہ سبھی کے سر میں سر ملا کر جب تک ڈٹی رہیں گی جب سرکار زرعی قانون کو واپس نہ لے لے ایسے ہی ایک اور خاتون کرنجیت کور کہتی ہیں کہ کئی طرحہ کی مصیبتیں تو ہیں لیکن اس کے سامنے کچھ نہیں جو قانون لاگو ہونے کے بعد ہوگی اور ہم دوسال تک یہاں بیٹھنا پڑے تو ہم ڈٹے رہیں گے ۔ دہلی سے ہی آندولن کو حمایت دینے آئیں بچوں کے ساتھ سیو امیں لگی ہیں مگر یہ آندولن جلد ختم ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے کسان پوری تیاری کے ساتھ ڈٹے ہیں سرکار کو ہی کوئی راستہ نکالنا پڑے گا ۔
(انل نریندر)
23 دسمبر 2020
برطانیہ میں کورونا کے نئے اسٹرین پر تشویش !
لندن اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کووڈ 19-کی نئی قسم کا تیزی سے پھیلاو¿ ہو رہا ہے ۔وہاں کے وزیر صحت چیٹ نیٹ ہینکوک کے مطابق ملک میں کورونا کی بالکل نئے طرح کی وائرس کی پہچان کی گئی ہے ۔اور یہ کورونا وائرس سے زیادہ طاقتور ہے اور تیزی سے حملہ کرتا ہے اور اس سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں ۔اسے دیکھتے ہوئے نیدر لینڈ بیلجیم اور بھارت نے برطانیہ سے آنے والی تمام پروازوں پر روک لگادی ہے ۔جرمنی سے بھی پابندی کی خبرین آرہی ہیں ۔برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے سنیچر کو دیش کی راجدھانی لندن میں ایک بار پھر لاک ڈاو¿ن لاگو کر دیا ہے ۔اور یہ پورے دیش میں نافذ ہے وہیں کرسمس کے دوران ملازمین کو دی جانے والی چھوٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے ۔جونسن کا کہنا ہے یہ نئے قسم کا وائرس پچھلے وائرس کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے ۔اس لئے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے یہ پابندیاں 30دسمبر تک نافذ رہیں گی ۔وزیراعظم نے ڈاو¿ننگ اسپیٹ یعنی پی ایم ہاو¿س سے ٹی وی پیغام میں کہا ابھی بھی بہت کچھ ہمیں پتہ نہیں ہے لیکن یہ معلوم ہے یہ نیا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے ۔یہ خطرناک ہی نہیں بلکہ زیادہ پریشان کرنے والا ہے ۔ساتھ ہی ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس نئے وائرس پر دیش میں بنی کورونا ویکسین کا اثر ہوگا یا نہیں ؟
(انل نریندر)
ایک ہی دن بڑا اسکور بھی اور کم از کم اسکور بھی !
49204084041نا ہی یہ آپ کے کریڈٹ کارڈ کا او ٹی پی نمبر ہے ۔او ر ناہی موبائل نمبر یہ آسٹریلیا کے ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں ٹیم انڈیا کے نہایت شرمناک کارکردگی کا اسکور کارڈ ہے ۔ہندوستانی کرکٹ شائقین نے سنیچر کو صبح ٹی وی پر جو دیکھا اس سے ان کا دل و دماغ دونوں ہی ہل گئے ۔ہندوستانی سرزمین کے باہر پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیل رہی وراٹ سینا نے جمعرات اور جمع کو جیسا کھیل کھیلا تھا اس سے لگ رہا تھا کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف گلابی گیند کا پہلا ٹیسٹ میچ جیت کر شاید تاریخ رقم کر دیں سنیچرکو تاریخ تو بنی لیکن یہ ایسی تاریخ ہے جو کوئی بھی ہندوستانی یاد کرنا نہیں چاہے گا پہلی پاری میں 244رن بنا کر 53رنوں کی بڑھت لینے والی ٹیم اندیا کی دوسری پاری 86منٹ 92گیندوں میں 36رنوں پر ختم ہو گئی اس کے بعد 90رنوں کے آسان ٹارگیٹ کو 2وکٹ پر حاصل کرکے میزبان ٹیم نے 8وکٹ سے جیت درج کر لی اس طرح آسٹریلیا نے چار میچوں کی سریز میں ایک زیرو سے بڑھت بنا لی وراٹ کوہلی کی رہنمائی میں ٹیم انڈیا نے اگر ٹیسٹ کرکٹ میں بڑا اسکور کا ریکارڈ اپنے نام لکھوایا تو ان کی قیادت میں ہی ٹیم نے ٹھیک 4سال بعد کم از کم اسکور کا ریکارڈ بھی بنا دیا ۔اتفاق سے یہ دونوں ریکارڈ ایک ہی دن 19دسمبرکو بنے ۔آج سے چار سال پہلے یعنی 19دسمبر 2016کی کہانی ایک دم مختلف تھی ۔میکوئن تھا چنئی کا ایم اے چدمبر م اسٹیڈیم جب کوہلی کی قیادت مین ٹیم انڈیا نے انگلینڈ کے خلاف اپنی پہلی پاری میں سات وکٹ پر 759رن بنا کر ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑے اسکور کا ریکارڈ بنایا تھا پچھلا ریکارڈ سات وکٹ پر 726 رن تھا ۔جو اس نے سری لنکا کے خلاف 2009دسمبر میں بھی ممبئی بنایا تھا ۔بھارت کی جس ٹیم نے سب سے زیادہ اسکو ر بنایا تھا اس میں موجودہ ٹیم کے چار کھلاڑی وراٹ کوہلی چیتیشور پجارا،روی چندرن اشون ،اور امیش یادو شامل تھے ۔لیکن ورون نائر کی ناٹ آو¿ٹ 033رن اور کے ایل راہل کی 199رن کی پاری تھی جس کے دم پر ٹیم انڈیا نے بڑا اسکور کھڑا کرکے نیا ریکارڈ بنایا تھا بھارت کے دونوں کم از کم اسکور میں کچھ یکسانیت بھی ہے ۔بھارت نے 1974میں میچ کے چوتھے دن بغیر کسی نقصان کے دو رن سے آگے کھیلا شروع کیا اور پھر پاری تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی ۔بھارت کا صرف ایک بلے باز سالیکر (ناٹ آو¿ٹ 18رن )دوہرے نمبر میں پہونچا ۔آسٹریلیا کی گرمیوں مین چھ سال بعد یہ ہی کہانی دہرائی گئی جس ٹیم میں وراٹ کوہلی ،چیتیشور پجارا اور اجنکے رہانے بلے باز وہ 27.2اوور میں 36رن پر آو¿ٹ ہو گئی ۔بھارت کا کوئی بلے باز دو نمبرں میں نہیں پہونچ پایا ۔محمد سمیع ریٹائرہرٹ ہونے کی وجہ سے ٹیم انڈیا سمٹ گئی ۔ٹیم انڈیا کی اس شرمناک پرفارمنس پر تمام کرکٹ شائقین کو دھچکا لگنا فطری ہے ۔وہ یقین نہیں کر پار ہے کہ ٹیم انڈیا نے اتنا خراب کیوں کھیلا۔
(انل نریندر)
متاثرہ سے ہوا تھا گینگ ریپ اور پھر اس کا قتل !
گاو¿ںبلگڑھی کی لڑکی کے ساتھ حیوانیت اور اس کے قتل کے سرخیوں میں چھائے معاملے کی پچھلے 69دنوں سے جانچ کر رہی خفیہ ایجنسی سی بی آئی نے جمعہ کو ہاتھرس کی عدالت میں چاروں ملزمان کے خلاف دو ہزار صفحات کی چارج سیٹ داخل کردی ہے اس معاملے میں چارو ملزمان پر لڑکی سے آبرو ریزی کرنے پھر اس کے قتل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے ملزمان کے وکیل نے عدالت کے باہر بتایا سی بی آئی نے سندیپ ،لوکش ،روی اور رادھو کے خلاف اجتماعی آبرو رریزی و قتل کے الزامات لگائے ہیں ۔ اس معاملے کی پہلی تاریخ چار جنوری لگی ہے کوتوالی چند پا کے گاو¿ں بلگڑھی میں چودہ ستمبر کو ایک دلت لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ اورجسمانی مار پیٹ کی واردات ہوئی ۔علی گڑھ میڈیکل کالج کے دوران متاثرہ نے اپنے بیان میں اجتماعی بدفعلی کی بات کہی تھی ۔اس بیان پر پولیس نے سندیپ روی لوکش،اور رامو کو گرفتار کرکے جیل بھیجا تھا ۔29ستمبر کو دہلی میں علاج کے دوران لڑکی کی موت ہو گئی تھی ۔رات کو گاو¿ں میں اس کا انتم سنسکار کردیا گیا ۔رشتہ دارو ں نے پولیس پر زبردستی انتم سنسکار کا الزام لگایا تھا ۔اس کے بعد ایس پی سی او سمیت پانچ پولیس ملازم معطل ہوئے تھے ریاستی حکومت نے اس معاملے کی جانچ کے لئے پہلے ایس آئی ٹی بنائی اسی درمیان کیس سی بی آئی کوسونپ دیا گیا ۔69دن کی گہری جانچ پڑتال کے بعد سی بی آئی نے اسی تھیوری کو آگے بڑھایا جس پر مقامی پولیس کام کررہی تھی ۔اس میں لڑکی کا 22ستمبر کو علی گڑھ کے میڈیکل کالج میں پولیس کے تفتیشی افسر سی او سادہ باد کے سامنے دیاگیا بیان ہی اہم بنیاد رہا ۔ہاتھرس معاملے کی تحقیقات پر پولیس شروع سے ہی پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی رہی اس کی کوشش تھی کہ کسی طرح معاملہ رفع دفع ہو جائے ۔اس لئے پہلے پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے بچتی رہی پھر لڑکی کے علاج میں بھی لا پرواہی برتی گئی جب معاملہ طول پکڑنے لگا تو پولیس اور انتظامیہ طرح طرح کی کہانیا ں گھڑ کر ملزمان کو بچانے کی کوشش کرتے دیکھے گئے ۔پھر کسی طرح پولیس کو دباو¿ میں کیس آگے بڑھانا پڑا ۔ایک کہانی یہ بھی چلی لڑکی کو پریوار والوں نے ہی مارنے کی کوشش کی تھی مگر اپوزیشن پارٹیوں نے اس معاملے کو لیکر مظاہرے شروع کر دئیے تو انہیں ہاتھرس پہونچنے اور متاثرہ خاندان سے ملنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ۔یہاں تک کہ ضلع مجسٹریٹ پر بھی الزام لگے کہ وہ متاثرہ خاندان کو دھمکا کر چپ کرنے کی کوشش کررہے تھے یہ حیران کرنے والا معاملہ تھا کہ جن لوگوں پر انصاف دلانے کی ذمہ داری ہے وہی نا انصافی کی طرف کھڑے تھے اترپردیش کی قانون و نظم کو لیکر پہلے ہی انگلیاں اٹھتی رہی ہیں ۔ہاتھر س معاملے میں تو پولیس انتظامیہ کے ٹوئٹ نے آگ میں گھی کا کام کیا جس سے پولیس انتظامیہ کے رویہ پر زبردست چوٹ پہوچی ہے جن لوگوں پر حفاظت اور انصاف یقینی بنانے کی ذمہ داری ہے اگر وہی دباو¿ میں آکر ناانصافی کا ساتھ دین گے تو قانون و نظام کو لیکر اتنا بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔بھلا پردیش پولیس کا یہ چہرہ خوف پیدا کرنے والا ہے تبھی تو سپریم کورٹ نے سخت رائے زنی کی تھی کہ اترپردیش میں جنگل راج ہے ۔
(انل نریندر)
22 دسمبر 2020
خواتین پر گھریلو تشدد کا مسئلہ !
دیش کی 22ریاستوں اور مرکزی حکمراں ریاستوں میں کرائے گئے سروے کے مطابق پانچ ریاستوں کی تین فیصدی سے زائد عورتیں اپنے شوہروں کے ذریعے مارپیٹ اور جنسی تشدد کا شکار ہوئی ہیں نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق عورتوں کے خلاف گھریلو تشدد کے معاملے میں سب سے برا حال کرناٹک آسام میزورم ،تلنگانہ اور بہار میں ہے ۔سماجی رضاکاروں اور غیر سرکار ی انجمنوں نے کووڈ 19-وبا کے پیش نظر ایسے واقعات مین اضافہ کا اندیشہ ظاہر کیا ہے اس سروے میں دیش بھر کے 6.1لاکھ گھروں کو شامل کیا گیا ۔جس میں آبادی ہیلتھ فیملی پلاننگ اور کفالت سے متعلق اطلاعات اکھٹی کی گئی ہیں سروے کے مطابق کرناٹک میں 18سے 49برس کی عمر کی قریب 44.4فیصدی عورتوں کو اپنے شوہر کی طرف سے مارپیٹ کا سامنا کرنا پڑا ۔جبکہ 2015-16کے درمیان یہ واقعات 20.6فیصدی تھے ایسے ہی بہار میں چالیس فیصدی عورتوں کو جسمانی اور جنسی تشدد جھیلنا پڑا ہے اسی طرح منی پور میں 39فصدی تلنگانہ مین 36.9فیصدی آسام میں 32فیصدی اور آندھرا مین 30فیصدی عورتیں گھروں میں مارپیٹ کا شکارہوئیں یہ واقعات گھر میں شراب پینے کی وجہ سے شوہروں کی حرکت بتایا ہے ۔گھریلو تشدد پر لگام لگنی چاہیے اس کے لئے سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔
(انل نریندر)
ممتا اپنی سیاسی زندگی میں سب سے مشکل چنوتی سے دوچار!
کیا بنگال کی شیرنی کے نام سے مشہور ہوئی ترنمول کانگریس صدر اور وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اپنے سیاسی کیرئیر کے سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہیں ؟ یوں تو ممتا کی پوری سیاسی زندگی چنوتیوں اور سنگھرش سے بھری رہی ہے لیکن اب اگلے اسمبلی چناو¿ سے پہلے بی جے پی کی طرف سے مل رہی چنوتیوں اور پارٹی میں مسلسل بغاوت کو ذہن میں رکھتے ہوئے سیاسی حلقوں میں یہ سوال پوچھا جانے لگا ہے حال تک سرکار اور پارٹی میں جس نیتا کی بات پتھر کی لکیر ثابت ہو رہی ہے اس کےخلاف ہی جب درجنوں لیڈر آواز اٹھانے لگے ہوں یہ بات دیگر ہے کہ کانگریس کی اندرونی چنوتیوں سے لڑتے ہوئے الگ پارٹی بنا کر لیفٹ پارٹیوں سے دو دو ہاتھ کر چکی ممتا ان چنوتیوں سے گھبرا کر پیچھے ہٹنے کے بجائے ان سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بنانے میں لگی ہوئی ہیں سال 2006کے اسمبلی انتخابات کے وقت سے یعنی 15برسوں سے ترنمول کانگریس اور ممتا ایک دوسرے کی علامت بن گئے تھے اور پارٹی میں کسی نیتا کی اتنی حمت نہیں تھی کہ کوئی ان کی بات کو ٹال سکے اور ان کے کسی فیصلے پر انگلی اٹھا سکے لیکن اب تین چار برسوں میں ممتا کی پکڑ کمزور ہوئی ہے تقریباً دس سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد کچھ نیتاو¿ں میں کچھ ناراضگی ہے اور یہ جائز بھی ہے لیکن بھاجپا نے خاص کر پچھلی لوک سبھا چناو¿ سے جس طرح جارحانہ رویہ اپنایا ہے اور پارٹی نیتاو¿ں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے وہ ممتا کے لئے ایک سنگین چنوتی بن گیا ہے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ مغربی بنگال میںچناو¿ کا بغل بجا کر واپس آگئے ہیں بی جے پی کو اس دورے میں ممتا بنرجی کی پارٹی ٹی ایم سی میں بڑی پھوٹ کی امید ہے ۔اور چھ سال یا سات سال سے زیادہ باغی بھاجپا میں شامل ہوئے ہیں ۔اس کے علاوہ بہت سے لوگ ممتا سے بغاوت کرنے کی قطار میں ہیں حالانکہ بی جے پی کو سوچنا پڑرہا ہے کہ کن علاقوں سے کن لوگوں کو پارٹی میں لیا جائے یا نہیں وہیں امت شاہ نے دعویٰ کیا ہے بھاجپا مغربی بنگال اسمبلی کی 294سیٹوں میں سے 200سیٹ جیتنے کے اپنے ارادے سے حکمت عملی تیار کر چکی ہے اور ذرائع کی مانیں تو چناو¿ ہونے تک پارٹی کے قریب سو بڑے لیڈر بنگال کا دورہ کریں گے ۔مدھیہ پردیش کے تیز ترار وزیرداخلہ نوروتم مشرا سمیت سات بڑے لیڈروں کو ذمہ داری سونپی جارہی ہے وہیں ممتا کے لئے ایک خطرہ اویسی بھی بن رہے ہیں اور وہ مسلم اکثریتی سیٹوں پر فیصلہ کن رول نبھا سکتے ہیں ۔پی ایم سی کے لئے سب سے بڑا خطرہ پارٹی کے باغی ہیں انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر ٹی ایم سی لیڈروں کے ساتھ ملاقات کی ہے انہوں نے کہا وہ کچھ نیتاو¿ں کے پارٹی چھوڑنے سے فکر مند نا ہوں کیوں کہ یہ اچھا ہے کہ سڑے ہوئے عناصر پارٹی چھوڑرہے ہیں ممتابنرجی نے نیتاو¿ں سے کہا کہ وہ فکر مند نا ہوں کیوں کہ ریاست کی عوام ان کے ساتھ ہے ۔
(انل نریندر)
کسان بولے اب تو ہل کرانتی سے ہی نکلے گا سمادھان!
وزیراعظم نریندر مودی نے مدھیہ پردیش کے کسانوں کے پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے دہلی کے بارڈر پر بیٹھے کسانوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی اور سر جھکا کر ان کے ہر مسئلے پر جوا ب دینے کی تیاری کا یقین دلایا ۔لیکن آندولن کاری کسان وزیراعظم کے خطاب سے مطمئن نہیں ہیں ۔اور نئے زرعی قوانین کے بارے میں احتجاجی کسانوں نے فصلوں کی مناسب قیمت دینے کی گارنٹی مانگی ہے ان کا کہنا ہے وزیراعظم نے جمع کو دعویٰ کیا تھا کہ کسانوں کو فصلوں پر ایم ایس پی مل رہی ہے جبکہ یہ سچ نہیں ہے ۔ان کا کہنا ہے وزیراعظم کو یہ جانکاری ہونی چاہیے کہ جہاں دھان کی کم از کم قیمت 1870روپے فی کونٹل ہے وہاں کسان اسے 900روپے میں بیچنے کو مجبور ہیں ۔انہوں نے زرعی وزیرزراعت کے لکھے کھلے خط پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا جو کسان آندولن کے معاملے ہی نہیں جانتے بھارتی کسان یونین دہلی پردیش کے صدر وریندر ڈاگر نے بتایا کہ فصلوں پر ایم ایس پی پہلے سے ہی لاگو ہے لیکن اس کا فائدہ کسانوں کو نہیں مل پاتا ایم ایس پی کے لئے جو قاعدے ہیں وہ کسانوں کی سمجھ سے باہر ہیں ایسے میں نئے قانون مشکل کھڑی کردی ہے انہوں نے کہا اب کسانوں کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کسانوں کا کیا ہوگا ۔پہلے ہی فصلوں کے دام نہیں مل رہے تھے اس قانون سے کارپوریٹ کو موقع ملنے کے بعد کسانون کی حالت اور خراب ہو جائیگی ایسی صورت میں ان قانون کو منظور نہیں کریگا ۔کسانوں کی ایک دوسری تنظیم کا کہنا ہے وزیرکے خط کا کھلا جواب جاری کریگی ۔اے آئی کے ایس سی سی نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ ان تین کھیتی قوانین و بجلی بل 2020واپس لے اور اس کے خلاف غلط پروپیگنڈہ نا کرے ۔ادھر یوپی گیٹ کے پاس دہلی میرٹھ ایکسپریس وے پر جاری کسانوں کے دھرنے کی حمایت دینے کے لئے کئی کسان لیڈر پہوچے یونین کے قومی ترجمان راکیش تکیت اور کسان نیتاو¿ں نے کہا کہ آندولن پر امن جاری ہے سرکار سے چھ دور کی بات چیت ہو چکی ہے لیکن کوئی حل نکلتا نظر نہیں آرہا ہے حل تبھی نکلے گا جب دیش میں حل کرانتی آئیگی کسان حل چلانے اور مسئلے کا حل نکالنے کے لئے تیار بیٹھا ہے وہیں سرکار اسے روکنے کا کام کررہی ہے ۔انہوں نے کہا گاو¿ں تحصیل اور دیش کا کوئی بھی انجمن ہو وہ اپنے جھنڈے کے ساتھ سڑک پر آجائے کسانوں کے اب گھر سے نکلنے کا وقت آگیا ہے ۔کسانوں نے سپیرم کورٹ کے فیصلے پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یوپی گیٹ پر آرہے کسانوں کو روکنے پر پولیس پر ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ اگر یونہیں روکا گیا تو ہم بھی روڈ جار کردیں گے ادھر دہلی کی سرحدو ں پر بیٹھے کسانوں کی لگاتار موتوں کی خبریں سامنے آرہی ہیں یہ سب سے زیادہ اموات سردی کی وجہ بتائی جاتی ہیں کسان نیتاو¿ں کا وہم ہے کہ سردی کی وجہ سے کئی کسان ہیں جو بیمار پڑ کر اپنی جان گنوا چکے ہیں اور گنوا رہے ہیں کسان لیڈروں کے مطابق ابھی تک کل 29موتیں ہو چکی ہیں اس مین دہلی کے سنگھو بارڈر پر چار کسانوں کی موت شامل ہے ۔سنت بابا رام سنگھ کی خودکشی کو کسانوں نے شہادت سے تعبیر کیا ہے ۔سبھی 29کسان آندولن مین شہید ہو ئے ہیں ۔
(انل نریندر)
20 دسمبر 2020
زرعی قوانین سے دقت تھی تو کیجریوال نے ایک قانون کو نوٹیفائی کیوں کیا ؟
زرعی قانون کی مخالفت کے روز دہلی اسمبلی کے اسپیشل سیشن کے دوران دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجروال کے ساتھ حکمراں پارٹی کے کئی اسمبلی ممبران نے مرکزی سرکار کی تینوں زرعی قوانین کی کاپیاںپھاڑ ڈالیں وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ قوانین کی کاپیاں پھاڑنا ان کا مقصد نہیں تھا بلکہ وہ اس کے ذریعے مرکز کی توجہ کسانوں کے مسئلے کی طرف مرکوز کرانا چاہتے ہیں ۔ سخت سردی میں کسان دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں ان کے ساتھ دھوکہ نہیں کرسکتے انہوں نے سوال کیا کہ مرکزی سرکار اور کتنے کسانوں کی جان لے گی آندولن میں روزانہ ایک کسان کی جان جارہی ہے یہ ہاو¿س مرکزی سرکار سے اپیل کر رہا ہے کی تینوں قوانین بیس دن بعد ہی صحیح واپس لے لے پچھلے کچھ برسوں میں انتخابات کو مہنگا بنا دیا ہے یہ قانون کسانوں کے لئے نھیں بلکہ بھاجپا کو چناو¿ کے فنڈنگ کےلئے بنے ہیں یہ بات کسان بھی سمجھ گئے ہیں باقی دیش واسی بھی جلد ہی سمجھ جائیں گے مرکزی سرکارکہہ رہی ہے کسانوں کو زرعی قانون کا فائدہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے انہیں سمجھانے کےلئے بھاجپا نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت کئی اپنے سرکردہ نیتاو¿ں کو اتارا ہے یوگی کہہ رہے ہیں کہ ان قوانین سے کسی کی زمین نہیں جائے گی اور ایم ایس پی ملتی رہے گی اور کسان اپنی فصل دیش میں کہیں بھی بیچ سکتے ہیں ۔ فی الحال دھان کا ایم ایس پی 1868روپئے کنتل ہے جبکہ بہار میں اور یوپی میں یہ کسان محض نو سو روپئے میں فروخت کرنے پر مجبور ہیں ۔ کیجریوال نے پوچھا کہ ان قوانین کو کورونا وباءکے دوران پارلیمنٹ میں پاس کرانے کی ایس کیا جلدی تھی ؟ پہلی بار ہوا ہے کہ راجیہ سبھا میں بغیر ووٹنگ کے ہی تینوں قوانین کو پاس کردیا گیا وہیں بھاجپا ایم پی منوج تیواری نے قانون کی کاپی پھاڑنے پر سخت مذمت کی ہے اور ایسا کرنا غیر آئینی قدم ہے ایم پی نے کہا کہ دیش کے نوجوانوں کو کیجریوال بد امنی کا سبق پڑھا رہے ہیں ۔ کسانوں کے مستقبل کو مکھیہ منتری نے ٹکڑہ ٹکڑہ کیا ہے اس قدم پر دیش کی جنتا حمایت نہیں کرے گی وہیں اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر رام ویر سنگھ بدھوڑی نے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سے پوچھا کہ اگر مرکزی سر کار تیونوں زرعی قانون سے انہیں اتنی پریشانی ہے تو پھر سرکار نے ان تیونوں قوانین میں سے ایک پیداوار ،تجارت ،اور کامرس ترمیم قانون کو 23نومبر کو دہلی میں لاگو کئے جانے کا نوٹیفائی کیوں کیا اور باقی دو قوانین پر بھی غور کرنے کی بات کیوں کہی اتنا ہی نہیں پارٹی نے راجستھا نے ضلع پریشد اور پنچایت چناو¿ میں جیت درج کرکے اس خوش فہمی کو بھی دور کردیا ایسے چناو¿ میں ریاست کی حکمراں پارٹی کو ہی کامیابی ملتی ہے بدھوڑی نے یہ بھی پوچھا دہلی میں کسانوں کو سب سے مہنگی بجلی کیوں دی جاتی ہے انہیں ٹیوب ویل لگانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی ؟ہریانہ کی طرح دہلی کے کسانوں کو زرعی ساز و سامان کی خرید پر سب سڈی کیوں نہیں ملتی؟ وعدہ کرنے کے باوجود گاو¿ں والوں کا لال ڈورا کیوں نہیں بڑھایا گیا؟ کیجریوال سرکار نے کسانو ں کی زمین کا معاوضہ کیوں نہیں بڑھایا بدلے میں متبادل رہائشی پلان کیوں نہیں دیئے ؟
(انل نریندر )
کالے قانون واپس نہیں لےتی سرکار تو ہم مورچہ نہیں چھوڑیں گے!
بنائے گئے زرعی قوانین کو منسوخ کرانے کی مانگ کو لیکر دہلی کی سرحدوں پر پچھلے تین ہفتوں سے ڈٹے کسانوں کے معاملے میں سپریم کورٹ میں لمبی سماعت ہوئی لیکن بد قسمتی سے کوئی نتیجہ نہیں نکل پایا یہاں تک کہ جوائنٹ کمیٹی بنانے کے اشارہ بھی فی الحال نہیں ملا چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی سر براہی والی بنچ نے سماعت کے آخیر میں مرکزی سرکار سے پوچھا کی جب تک کسانوں کی بات چیت کو کوئی حل نہیںنکلتا تب تک سرکار زرعی قوانین پر عمل روکنے کو تیار ہے ؟ اس پر سرکارکی طرف سے پیروی کر رہے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ وہ ایسی یقین دہانی نہیں دے سکتے وہ سرکار سے ہدایت ملنے کے بعد ہی کچھ بتائیں گے اس معاملے میں کسان انجمنوں کو نوٹس جاری کر جواب مانگا اور اگلی سماعت سردیوں کی چھٹی کے دوران والی ویکیشن بنچ کرے گی ۔ کوٹ کے چیف کیریماس ؛پر امن مظاہرہ کسانوں کا اخلاقی حق ہے انہیں ہٹنے کو نہیں کہہ سکتے ۔ تشدد کے بے غیر مظاہر جاری رہ سکتا ہے ۔ پولس کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے حل بات چیت سے نکلے گا صرف دھرنا دینے سے بات نہیں بن سکتی کسان انجمنوں کی دلیل جاننے کے بعد ہی جوائنٹ کمیٹی بناے کا ہی حکم دیں گے ۔ زرعی قوانین کے خلاف بیٹھے کسانوں کا احتجاج جاری ہے کسان مزدور سنگھرس کمیٹی پنجاب کے عہدے دار دیال سنگھ نے بتایا، سپریم کورٹ نے جو کمی´ٹی بنائی ہے اس میں ہم یقین نیہں کرتے اگر سرکار بات چیت کرکے کالے قانون واپس لیتی ہے تو ٹھیک ہے نہیں تو ہم ابھی ہم مورچہ نہیں چھوڑیں گے وہیں کمیٹی کے جنرل سکریٹری سرون چنگھ پنڈیر نے کہا کمیٹی بنانا مسئلے کا حل نہیں ہے کسان پہلے ہی کمیٹی بنانے پر منع کر چکے ہیں وہیں مرکزی وزیر وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کل جو چٹھی لکھی ہے وہ دیش کو گمراہ کرنے والی ہے اس میں کچھ نیا نہیں ہے اگر ہوتا تو ہم اس پر رائے زنی کرتے ۔ وہیں تامل ناڈو میں ڈی ایم کے قیادت میں اپوزیشن پارٹیاں کسانوں کی حمایت میں ایک دن کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے مرکز کے تین زرعی قانون کے خلاف تین ہفتے سے زیادہ وقت سے دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کر رہے ہیں چپکو آندولن کے نیتا سندر لال بگونا نے بھی تین زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کو حمایت دی ہے در اصل کسان آندولن کو لمبا کھینچے جانے سے سب سے بڑی وجہ زرعی قوانین کو لیکر پیدا غلط فہمی یا تنازع کا حل سنجیدگی سے کیا نہ کیا جانا ہے ۔ پہلے حکومت نے پنجاب اور ہریانہ کے آندولن کہہ کر اس کو حل کرنے سے منع کردیا جب دیش کے کسان انجمنوں نے متحد ہو کر دہلی کی طرف کوچ کیا تو انہیں طاقت کے ذریعے انیہں کچلنے کی کوشش کی گئی آخر کار وہ دہلی کی سرحدوں پر آپہونچے اور سردیوں میں تمام پریشانیوں کے باوجود دھرنے پر بیٹھ گئے اس کے باوجود مرکزی سرکار اور بھاجپا کے کئی نیتا اس آندولن کو لیکر سنگین قسم کے بیان دینے لگے کوئی انہیں آتنکی بتا رہے ہیں تو کوئی پاکستانی اور کوئی چین پاکستان سے اسپانسر بتا رہا ہے جس وجہ سے کسانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے لیکن اس کے باجود نیتاو¿ن کی بے تکی بیان بازی بند نہیں ہوئی ہے ۔اب اس تحریک میں کسانوں کے ساتھ انی کی حمایت کے لئے کچھ بڑے کھلاڑی ،سماجی رضا کار اور دانشور بھی اتر چکے ہیں اس دوران دھرنے پر بیٹھے قریب 20کسانوں کی موت ہوچکی ہے ادھر سکھ سنت بابا سنگھ نے تو خود کشی کر لی ہے اب بھی وقت ہے سپریم کورٹ کی صلاح کو سرکار سنجیدگی سے لیتے ہوئے مسئلے کے حل کے لئے قدم آگے بڑھائے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...