Translater

31 جنوری 2015

جانباز کرنل رائے نے میڈل لے کرشہادت کو گلے لگایا!

امریکی صدر براک اوبامہ کے ہندوستان سے جاتے ہی پاکستان نواز دہشت گردوں نے جموں و کشمیر میں اچانک حملہ کردیا۔ دہشت گردوں سے مڈ بھیڑ میں ایک دن پہلے یوم جمہوریہ پر جنگ سروس میڈل سے سرفراز کرنل ایم ۔ این رائے سمیت دو سکیورٹی جوان شہید ہوگئے۔ مڈبھیڑ میں دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کا ایک ڈویژنل کمانڈر عابد اور اس کا ساتھی شیراز مارا گیا۔ اس میں ایک آتنکی کا والد ریاستی پولیس میں تعینات ہے۔شہید کرنل مننندر ناتھ رائے کو اپنی فرض شناسی، بہادری اور پچھلے سال کشمیر میں کئی سرغنہ دہشت گردوں کو مار گرانے کیلئے انہیں جنگ سروس میڈل سے سرفراز کیا گیا تھا۔ اگر پاکستان کے ذریعے دہائیوں سے جاری درپردہ جنگ کے باوجود بھارت کے خلاف آتنکیوں کی سازشیں ناکام رہیں تو اس کا سب سے زیادہ سہرہ ہماری فوج کی ہمت اور صبر اور قربانی کو جاتا ہے۔ کرنل رائے اس کی ایک تازہ مثال ہیں۔ اس فوجی افسر نے پچھلے برسوں میں آتنکی نیٹ ورک کو برابر چوٹ پہنچائی تھی اور ایسی کارروائیوں میں کئی خطرناک آتنک وادی مارے گئے تھے۔ انہوں نے لڑکوں کو قومی دھارا میں لانے کے لئے کرکٹ اور فٹبال میچ منعقد کئے تھے۔ فوج کے حکام کے مطابق کرنل رائے کی رہنمائی میں کشمیرکا ماحول پوری طرح سے بدل گیا تھا جس کا ثبوت یہ تھا پچھلے اسمبلی چناؤ میں وہاں بھاری پولنگ ہوئی۔ آتنک وادیوں نے انہیں دھوکے سے مارنے میں اس لئے بھی کامیابی حاصل کرلی کیونکہ کرنل رائے نے پرامن طریقے سے ان سے سرنڈر کرانے کی کوشش کی تھی تاکہ جان اور مال کا نقصان نہ ہو۔ بہرحال کرنل رائے جیسے بہادروں کی شہادت فوج کے لئے تکلیف دہ لیکن فخر کا باعث ہے۔ کشمیر وادی کے پلوامہ ضلع کے ترال علاقے میں منگلوار کو شہید ہوئے کمانڈنگ افسر کرنل رائے کی زندگی شاید نوجوانوں کے لئے مشعل را رہے گی۔ قریب دو مہینے پہلے کرنل رائے نے اپنی بہادرانہ صلاحیتوں کامظاہرہ کیا تھا اور ان کا یہ اسٹیٹس ان کی بہادری کی علامت ہے۔شہید کرنل رائے کا آخری واٹس اپ اسٹیٹس کچھ اس طرح تھا۔ ’’اتنے جنون سے اپنی زندگی کا ہر کردار ادا کرو اگر کبھی پردہ گربھی جائے تو تالیوں کا شور کم نہیں ہونا چاہئے‘‘منگل کو انہوں نے اپنی بہادری سے اس اسٹیٹس کو سچ ثابت کردیا۔ 39 سالہ کرنل رائے کو منگلوار کی صبح انٹیلی جنس کی طرف سے خبریں ملی تھیں کہ ترال میں واقعہایک گاؤں کے گھر میں کچھ دہشت گرد چھپے ہیں۔ وہ فوراً حرکت کرنے والی ٹیم کے ساتھ جن میں 8سے12 جوان شامل تھے وہاں کے لئے روانہ ہوگئے۔ ٹیم نے موقعے پر پہنچ کر تلاشی لینا شروع کی۔ گھر میں رہنے والے لوگ جن پر شبہ ہے کہ وہ آتنک وادیوں کے رشتے دار ہیں ،ان سے درخواست کی کہ وہ تلاشی نہ لیں کیونکہ اس سے لوگ انہیں گاؤں سے الگ کردیں گے۔ کرنل ان لوگوں سے آتنک وادیوں کے بارے میں تفصیلات حاصل کررہے تھے کہ تبھی حزب المجاہدین کے دہشت گردوں نے گولیاں برسانی شروع کردیں اور اچانک ہوئی اس گولہ باری میں کرنل رائے مارے گئے لیکن ایسی ہر شہادت بھارت سرکار اور فوج پر یہ ذمہ داری چھوڑ جاتی ہے کہ ہر قیمت پر کشمیر میں پاک سازشوں کو ناکام کرے۔ پاکستان جس طرح سدھرنے کی جگہ اور زیادہ جارحانہ ہوتا جارہا ہے۔ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے ارادے سے وہ ان جہادی تنظیموں اور سرغناؤں پر کارروائی کرنے کا جو ناٹک کررہا ہے اس کی اصلیت اسی سے ظاہر ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکہ کی طرف سے دہشت گرد قرار لشکر طیبہ کا چیف حافظ سعید اب بھی اپنے خطرناک ارادوں کے ساتھ کھلے عام گھوم رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکی صدر اوبامہ کے دورہ سے بھی پاکستان بوکھلا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ایسے آتنکی حملے اور تیز ہونے کا امکان ہے۔ بھارت سرکار اور فوج کا فرض ہے کہ کرنل رائے کی شہادت بیکار نہ جائے اور بھارت سرکار کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ اب تو اقوام متحدہ اور امریکہ کا بھی آشیرواد ہمارے ساتھ ہے۔ جب پاکستان سرکار اپنے آپ کو ان دہشت گرد تنظیموں سے الگ کرتی ہے تو ان’ نان اسٹیٹ ایکٹروں ‘کو ختم کرنا بھارت سرکار کیلئے آسان ہوجاتا ہے۔ یوپی اے سرکار میں تو قوت ارادی کی کمی تھی لیکن مودی سرکار سے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی امید ہے۔ ہم کرنل رائے کی شہادت پر ان کے غمزدہ پریوار کو اپنی شردھانجلی اور صبر و تحمل کی امید کرتے ہیں اور پرارتھنا کرتے ہیں کہ کرنل رائے کی شہادت ضائع نہیں جائے گی۔
(انل نریندر)

اقتدار کے لالچی کیجریوال سے بہتر کیرن بیدی وزیر اعلی ہوں گی!

چناؤ سے عین پہلے عام آدمی پارٹی کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔پارٹی کے بزرگ اور بانی ممبران میں شامل شانتی بھوشن نے پچھلے جمعرات کو پارٹی چیف اروند کیجریوال کو ہٹانے کی مانگ کردی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی وزیر اعلی امیدوار کیرن بیدی کسی بھی معنی میں کیجریوال سے کم نہیں ہیں۔ ’آپ‘ کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر شانتی بھوشن نے ایک بار پھر کیجریوال کی قیادت پر سوال کھڑے کئے۔ کیرن بیدی کو وزیر اعلی عہدے کا امیدوار بنائے جانے کو بھاجپا کا ماسٹر اسٹوک بتایا۔ بولے بیدی اور کیجریوال دونوں کو ہی وہ انا تحریک کی وجہ سے بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ دونوں پر بھروسہ ہے کے وہ شاندار حکومت دیں گے لیکن پھر کیجریوال پر پہلے بھی منمانی کا الزام لگا چکے شانتی بھوشن نے کہہ دیا پارٹی کے کچھ لوگ الزام لگا رہے ہیں کہ ’آپ‘ کے ٹکٹ دینے میں بندربانٹ ہوئی۔ ان الزامات میں کتنی سچائی ہے یہ تو مجھے پتہ نہیں لیکن پارٹی کی اچھی ساکھ والے لوگوں کو چھوڑ کر انہیں ٹکٹ دے دئے گئے ہیں جو ابھی بھی پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بھوشن نے اروند کیجریوال کے طریقہ کار پر بھی انگلی اٹھاتے ہوئے انہیں پارٹی کے کنوینر کے عہدے سے ہٹانے کی بات کہی۔ انہوں نے کیرن بیدی کے بارے میں کہا کہ میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں وہ سیکولر اور ایماندار ہیں۔ اگر وہ وزیر اعلی بنتی ہیں تو دہلی کو بیحد ایماندار حکومت دیں گی۔ انہوں نے یہاں تک کہا دہلی کی سب سے بہتر وزیر اعلی کیرن بیدی ہی ہوں گی جبکہ اروند کیجریوال پیچھے ہیں۔ کیجریوال کے خلاف کی شکایتیں ملی ہیں، وہ اقتدار کے لالچی ہیں، وزیر اعلی بننے کے لئے چناؤ لڑ رہے ہیں۔ کیجریوال نے پارٹی کو کمزور کیا ہے اس لئے اب ان کی جگہ پر کسی اور کو قیادت سونپی جانی چاہئے۔ منیش سسودیا، اشوتوش پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دو دو کروڑ روپے میں ٹکٹ بانٹا ہے۔ یہ غلط ہے تو پتا تو پتا بیٹا بھی کیجریوال سے مطمئن نہیں۔ پرشانت بھوشن نے دہلی چناؤ میں اتارے گئے پارٹی کے کچھ امیدواروں کے خلاف پارٹی میں اندرونی لوکپال سے بھی شکایت کی ہے۔ سنیچر کو کیرل کے کنور میں ایک پروگرام میں حالانکہ انہوں نے کیرن بیدی کو موقعہ پرست بتایا۔ مودی سرکار کی تنقید کی لیکن ذرائع بتاتے ہیں پچھلے دنوں انہوں نے شکایت کی تھی پارٹی نے کئی ایسے امیدوار اتارے ہیں جن کے خلاف حالیہ دنوں میں کئی طرح کی شکایتیں خود پارٹی کے لوگوں نے کی تھیں۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں میں شمار یوگیندر یادو بھی کیجریوال سے کچھ نا اتفاقی ظاہر کرچکے ہیں۔ کمار وشواس تو چناؤ سین سے بھی غائب ہوچکے ہیں۔ ’آپ‘ پارٹی کی سب سے بڑی فکر اروند کیجریوال ہیں۔ ’آپ‘ پارٹی بیشک اپنے سروے بناتی رہے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کیرن بیدی کیجریوال سے کئی درجہ بہتر وزیر اعلی ہوں گی۔ کیجریوال اپنا بھروسہ کھو چکے ہیں۔
(انل نریندر)

30 جنوری 2015

فیشن آئیکون مودی اور ان کے لاکھوں روپے کے سوٹ پر بحث!

اگر امریکی صدر براک اوبامہ کی اہلیہ مشیل فیشن کی خاتون اول کہلاتی ہیں تو ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کو فیشن کے معاملے میں ’فرسٹ مین‘ کہہ سکتے ہیں۔بھارت کے دورہ پر آئے براک اوبامہ اور ان کی اہلیہ مشیل نریندر مودی کے کپڑوں اور ان کے اسٹائل کے سامنے پھینکے پڑتے نظرآئے ۔نریندر مودی کا جلوہ دیکھنے لائق تھا۔ حالانکہ اپنے کرتوں اور نہرو جیکٹ کو لیکر دیش اور دنیا میں مقبول ہوئے نریندر مودی کے ’’مودی سوٹ‘‘ کو لیکر سوالات کے گھیرے میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 25 جنوری کو صدربراک اوبامہ کے ساتھ بات چیت کے وقت سنہری سینکڑوں دھاریوں والا سوٹ پہن رکھا تھا جس کی قیمت ایک برطانوی اخبار ’لندن ایوننگ اسٹنڈرڈ‘ نے 10 لاکھ روپے بتائی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے جو سوٹ پہنا تھااس میں سونے کی دھاریوں سے ان کا پورا نام ’’نریندر دامودر داس مودی‘‘ لکھا تھا۔ اس سوٹ کا سوشل میڈیا اور اخبارا ت میں خوب تذکرہ ہوا ہے۔ دراصل امریکی صدر کے دورہ کے دوران کئی پیچیدہ مسئلوں کو سلجھانے اور اوبامہ کے ساتھ نجی کیمسٹری کے علاوہ مودی کے اسٹائل کو لیکر بھی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ ایتوار کو اوبامہ کے ساتھ چوٹی ملاقات اور چائے پر بات چیت کے دوران انہوں نے دھاریوں پر باریک لکھا بند گلے والا سوٹ پہن رکھا تھا۔برطانوی اخبار کے مطابق یہ سوٹ برطانیہ کے مشہور فیبرک سپلائی ’’ہولاند اینڈ شیری‘‘ کی طرف سے تیار کیا ہوا لگتا ہے۔ ایسے سوٹ کیلئے ضروری 7 میٹر کپڑے کی قیمت ہی ڈھائی لاکھ سے تین لاکھ روپے بیٹھتی ہے حالانکہ ’ہولاند اینڈ شیری‘ نے اپنے کسی بھی پرائیویٹ گراہک کے بارے میں بتانے سے انکار کردیا ہے لیکن یہ ضرور کہا کوئی دوسرا اس طرح کا سوٹ بنائے ایسا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ ’ہولانڈ اینڈ شیری‘ سوٹ کے لئے کپڑوں کی سپلائی اور بین الاقوامی ٹیلرینگ کمپنی ’ٹام جیمس‘ کرتی ہے اس کمپنی کا کہنا ہے ایسے سوٹ کی لاگت قریب10 لاکھ روپے آتی ہے۔ اتنا ہی نہیں اس ٹیلرینگ کمپنی نے بتایا کہ دنیا میں ممکنہ وہ ایک واحد کمپنی ہے جو اس طرح کا سوٹ بناتی ہے لیکن اس نے مودی کیلئے سوٹ سینے یا اس کی قیمت کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کردیا ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم کی پوشاک سینے والے احمد آباد کے ’زیڈ بلو‘ ٹیلر نے اس بات کو مسترد کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے سوٹ اس نے تیار کیا ہے۔اس کے مطابق وزیر اعظم کو یہ کپڑا تحفے میں ملا یا جس کی سلائی اس نے کی ہے ’زیڈ بلو‘ کافی عرصے سے مودی کے لئے پوشاک بناتا رہا ہے اور مودی کرتے کی خاص ڈیزائن اسی کی مانی جاتی ہے۔ اوبامہ کے دورہ میں الگ الگ موقعے پر مودی الگ الگ پوشاک میں نظر آئے۔ ایتوار کو مودی نے تین پروگراموں میں الگ الگ کپڑے پہنے تھے ان کے مقابلے بھارت کے دورہ کے پہلے دن سے اوبامہ ہر موقعے پر ایک ہی سوٹ میں نظر آئے۔
(انل نریندر)

مسلم آبادی میں 24 فیصد اضافہ!

پچھلے دنوں ساکشی مہاراج کے اس بیان پر کہ ہندو عورتوں کو 4 بجے پیدا کرنے چاہئیں، پر ہنگامہ مچ گیا تھا۔ ہم ساکشی مہاراج کے اس بیان کی حمایت نہیں کرتے۔ کیونکہ دیش کو ضرورت اس بات کی نہیں کہ آبادی کو اور بڑھایا جائے اس بات کی ہے کہ دیش میں بچوں کی تعداد پر کنٹرول لگے۔ اس کے بعد آئی 2011ء میں آبادی کے اعدادو شمار جس میں نئی مردم شماری ہوئی تھی۔ اس کے مطابق2001ء سے 2011ء کے درمیان مسلمانوں کی دیش میں آبادی 24 فیصد بڑھی ہے اس کی وجہ سے دیش میں مسلمانوں کی آبادی 13.4 فیصد سے بڑھ کر14.2 فیصد ہوگئی ہے۔ مذہب کی بنیاد پر مردم شماری ماضی میں یوپی اے سرکار میں کرائی تھی لیکن اس کے اعدادو شمار جاری نہیں ہوئے تھے۔ اب مرکز میں آئی مودی سرکار نے اسے جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ ان اعدادو شمار سے ایک بات کا تو پتہ چلا کہ اس سے پہلے کہ سال1991 سے2001 کے درمیان مسلمانوں کی آبادی اضافہ شرح 29 فیصد تھی جو پچھلی دہائی میں کم ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود یہ قومی تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔ قومی تناسب پچھلی دہائی میں 18 فیصد رہا۔ ایک انگریزی اخبار میں شائع اعدادو شمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی میں سب سے زیادہ اضافہ آسام میں ہوا ہے۔ 2001ء میں آسام میں مسلمانوں کی آبادی 30.9 فیصد تھی جو ایک دہائی بعد بڑھ کر34.2 فیصد ہوگئی۔بنگلہ دیش سے آنے والے ناجائز طور پر بنگلہ دیشی لوگ ہمیشہ سے آسام کے لئے اور دیش کے لئے ایک بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ آسام کے ساتھ لگی مغربی بنگال کی سرحد سے بنگلہ دیش سے آنے والے ناجائز افراد کے مسئلے سے بھی دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ یہاں بھی مسلمانوں کی آبادی بڑھی ہے۔ سال2001ء کی مردم شماری کے مطابق یہاں مسلمانوں کی آبادی25.2 فیصدی سے بڑھ کر2011ء میں27 فیصدی ہوگئی۔ سب سے اہم بات یہ ہی ہے کہ دیش میں مسلم آبادی کے بڑھنے کی رفتار گھٹی ہے لیکن اضافہ اب بھی قومی سطح سے زیادہ ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے ’چھوٹا پریوار سکھی پریوار ‘ کے نعرے کو مسلم سماج میں آہستہ آہستہ مقبولیت مل رہی ہے۔اقتصادی اور تعلیمی ترقی کے حصول میں کامیاب رہے مسلمانوں کا پڑھا لکھا طبقہ اب اپنے کنبے کو اپنی چادر کے حساب سے ہی بڑھا رہا ہے لیکن یہ صاف ہے ایک بڑے حصے کو اب بھی خاندانی منصوبہ بندی کو لیکر ترغیب اور اس کے فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مسلم آبادی میں ہورہے اضافے کو قومی تناسب کے قریب لایا جاسکے اور جی ڈی پی کے طور پر آبادی کنٹرول کی مہم میں کامیابی مل سکے لیکن یہ کام خاص زور زبردستی سے نہیں کیا جاسکتا یہ کام مسلم مذہبی پیشواؤں ،مولانا ، امام زیادہ بہتر طریقے سے کرا سکتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو سمجھائیں کہ کم بچوں کو پیدا کرکے انہیں بڑھیا تعلیم و پرورش کر سکتے ہیں، ان کا مستقبل بہتر بنا سکتے ہیں۔ ویسے شہروں میں مسلمانوں کو یہ بات سمجھ میں آرہی ہے۔ نہ تو وہ چار شادیاں کررہے ہیں اور نہ ہی بچوں کی فوج کھڑی کررہے ہیں۔ کچھ امام، مولانا یہ بھی کہتے ہیں ’تم زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرو تاکہ مسلمانوں کی آبادی ہندوؤں سے زیادہ ہوجائے اور ہم ہندوستان پر راج کریں۔ ایسے مسلم مذہبی پیشواؤں کی بھی اتنی ہی تنقید کرنی چاہئے جتنا ساکشی مہاراج کی کی جارہی ہے۔ جس طرح آسام اور مغربی بنگال میں پچھلے 10 برسوں میں مسلم آبادی تقریباً4 فیصد بڑھ گئی ہے اندیشہ ہے کہ اس میں بڑی تعداد ناجائز طورپر آئے بنگلہ دیشیوں کی ہوسکتی ہے۔ یہ تشویش کا باعث ہے کہ بنگلہ دیشی بھارت میں شورش اور خون خرابہ اور بڑھتے دہشت گردی واقعات اس بڑھتی آبادی کا ایک اہم سبب ہے۔ یہ دیش کی اندرونی سلامتی کیلئے اب خطرہ بنتے جارہے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ مسلم کنبوں میں خاص کر جو تعلیم یافتہ ہیں اپنے بچوں کو بہتر اور باقی سہولیات بہتر پرورش دینے کیلئے اپنے کنبوں کو محدود کرتے جارہے ہیں۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں سمیت سماج کے سبھی طبقوں کو طریقے کے ہر ممکن مواقع دستیاب کرائے۔ بہتر تعلیم دیکر ان میں خواندگی اور ساتھ ہی طبقہ خاص کی آبادی کو لیکر سیاست نہ ہونے دیں کیونکہ اس سے آپسی کشیدگی بڑھتی ہے اور سماج میں تلخی آتی ہے۔ آبادی تو ہمارے لئے ایک مسئلہ بن گئی ہے زیادہ شرمناک یہ ہے کہ وسائل اور سہولیات کی کمی کے چلتے آبادی بڑھتی جارہی ہے اس پر کیسے کنٹرول کیا جائے یہ مودی سرکار کے لئے ایک چنوتی ہے۔
(انل نریندر)

29 جنوری 2015

★ Mahendra's Favorite Photos

Hi there,

Follow my favorite photos on buzzable!

Follow my photos

Mahendra




Don't want to receive emails like this in the future? Click here.
myZamana, Inc. 427 N Tatnall St #40705 Wilmington, DE 19801

دہلی اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو اب مودی میجک سے امید!

دہلی اسمبلی چناؤ میں اب مشکل سے 10 دن رہ گئے ہیں۔ مقابلہ کانٹے کا ہے ۔ کچھ طبقات میں بلا شبہ عام آدمی پارٹی کا اثر زیادہ دکھائی پڑ رہا ہے۔ کم سے کم نچلے طبقے میں اروند کیجریوال کا اثر صاف دکھائی پڑتا ہے۔ ہاں پڑھے لکھے درمیانے طبقے کے ووٹر جس نے پچھلے اسمبلی چناؤ میں کیجریوال کو ووٹ دیا تھا ان کا کیجریوال سے بھروسہ اٹھ گیا ہے اور وہ شاید اس بار کیرن بیدی و بھاجپا کو ووٹ دیں۔ کیجریوال کے بھروسے پر سوالیہ نشان لگنے سے عام آدمی پارٹی کی پوزیشن اس طبقے میں کمزور ہوئی ہے۔ دیش کی پہلی اعلی پولیس افسر کیرن بیدی کو وزیر اعلی امیدوار بنا کر سیاسی پارٹی نے جو چال چلی بھاجپا اب وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف دیکھ رہی ہے۔ چناؤ مہم کے اگلے دور میں پارٹی کی پوری حکمت عملی وزیر اعظم نریندر مودی کی چناؤ ریلیوں اور سرکار کے کارناموں پر مرکوز رہے گی۔ بھاجپا امریکہ کے صدر براک اوبامہ کے دورۂ ہند کو بھی بھنانے کی تیاری میں ہے۔ برانڈنگ کے ماہر کھلاڑی بن چکے وزیر اعظم نریندر مودی کا فن اب بھی برقرار ہے۔ مودی کا یہ فن اس وقت بھی دکھائی دیا جب بھارت دورے پر آئے امریکی صدر براک اوبامہ کے ساتھ مشترکہ طور سے خطاب کررہے تھے۔ ان کے ساتھ خطاب میں مودی نے قومیت کے وقار کو بڑھاتے ہوئے ملک کے عوام کا دل جیتنے کی کوشش کی ہے۔ مودی نے اپنے آپ کو اوبامہ کا بیحد قریبی دوست بتاتے ہوئے کئی بار ان کے پہلے نام ’براک‘ سے مخاطب کیا ۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی ہندوستانی وزیر اعظم نے اتنے بھروسے کے ساتھ امریکی صدر کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ دہلی کی بھاجپا یونٹ اب اوبامہ کے دورہ کا سیاسی فائدہ اٹھانے اور اسے بھنانے کی تیاری کررہی ہے۔بھاجپا لیڈر شپ نے کیرن بیدی کو لا کر ’آپ‘ لیڈر اروند کیجریوال کو بھلے ہی زبردست چیلنج دیا ہو لیکن اس سے ناراض دہلی کے لیڈر اور ورکروں اور ان کے لئے چیلنج بنتے جارہے ہیں۔ ان کی ناراضگی دور کرنے کے لئے پارٹی کے صدر امت شاہ نے باہری لیڈروں کو الگ الگ اسمبلی حلقوں کی کمان سونپ کر حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔ خود بھی ورکروں کے ساتھ میٹنگیں کرنے میں لگے ہیں لیکن باہر سے آئے شخص کو وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار بنائے جانے سے نا خوش بڑے لیڈر و ورکر زیادہ سرگرم نہیں ہوپائے۔ پارٹی کو ڈر ہے کہ اس سے اس کا بوتھ مینجمنٹ ووٹروں کو بوتھ تک لانے کی حکمت عملی گڑ بڑ نہ ہوجائے۔ ایسے میں پارٹی ورکروں میں جوش بھرنے اور اسے پوری طرح سرگرم کرنے کے لئے پی ایم مودی کی ضرورت محسوس ہونا فطری ہے۔ ان کی چناوی حکمت عملی سے وابستہ ایک بڑے نیتا کا کہنا ہے کہ چناؤ مہم کے باقی وقت میں پارٹی کی حکمت عملی بیدی کے بجائے مودی پر مرکوز رہے گی۔ اس میں مودی سرکار کے کارناموں و خود مودی کی ریلیوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ اوبامہ کا دورہ چناؤ مہم کا درپردہ طور سے حصہ ہوگا۔
(انل نریندر)

سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کا انتقال!

دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے اور اسلام کے روحانی مرکز سعودی عرب کو جدید بنانے والے شاہ عبداللہ پچھلے منگل کو انتقال کر گئے۔ وہ 90 برس کے تھے۔ محروم عبداللہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز الاسعادکے 12 لڑکوں میں سے ایک تھے۔ انہیں دسمبر میں نمونیہ ہوگیا تھا جس وجہ سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ شاہ فہد کے علیل ہونے کے بعد1995ء میں شاہ عبداللہ نے باقاعدہ طور پر سعودی عرب حکومت کی کمان سنبھالی تھی۔ 2005 میں انہیں سعودی عرب کا سلطان (کنگ) اعلان کیا گیا۔ عبداللہ پہلے ایسے سعودی شخص تھے جنہوں نے ویٹیکن جاکر عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ سے ملاقات کر دوسرے مذاہب کے تئیں احترام کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے تعلیمی سسٹم میں جدیدیت کو بڑھاوا دیا۔ ملک کے ہزاروں لڑکوں کو سرکاری خرچے پر بیرونی ممالک میں پڑھنے کیلئے بھیجا۔ شاہ عبداللہ نے القاعدہ اور داعش کے خلاف کھل کر امریکہ اور مغربی ملکوں کا ساتھ دیا۔ کٹر پسندوں کے خلاف کارروائی چلائی اور فوج کی مضبوطی پر150 ارب ڈالر خرچ کئے۔ سعودی عرب میں بھارت کے سفیر حامد علی راؤ نے کہا کہ عبداللہ بھارت کے اچھے دوست تھے۔ ان کے لئے بھارت دوسرا گھر تھا۔ عبداللہ کے عہد کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون کی بنیاد رکھی گئی تھی ۔ دہلی اعلامیہ ( 2006) اور ریاض اعلامیہ(2010) میں اس کی صاف جھلک دکھائی پڑتی ہے۔ شاہ عبداللہ نے جنوری 2006 میں ہندوستان کے یوم جمہوریہ پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی تھی۔اس دورہ نے ہند۔ سعودی رشتوں میں ایک نیا باب جوڑا تھا۔وہ 51 برس میں بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے سعودی شاہ تھے۔21 ارب ڈالر سے زیادہ ان کی جائیداد تھی اور وہ دنیا کے آٹھویں سب سے امیر شخص تھے۔ عبداللہ 22 بچے اور7 بیویاں اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔
شاہ عبداللہ خود شاہ عبدالعزیز الاسعاد کے 37 بیٹوں میں سے ایک تھے۔ سعودی ارب کے نئے سلطان سلمان بن عبدالعزیز الاسعود ملک کے سینئر سیاستدانوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ قریب50 سال تک ریاض کے گورنر رہنے کے علاوہ انہوں نے شاہی خاندان کے اندرونی جھگڑوں کو بھی سلجھانے میں اہم رول نبھایا۔ 79 سالہ سلمان کئی برسوں سے بیمار اپنے سوتیلے بھائی شاہ عبداللہ کا کام کاج دیکھ رہے تھے۔ شاہ عبداللہ کی طرح سلطان بھی سعودی عرب کے بانی بادشاہ عزیز الاسعود کے بیٹوں میں سے ایک ہیں۔ شاہ سلمان کے سامنے کئی چیلنج ہیں۔ دیش کے 25 سال سے کم عمر کے ایک کروڑ لڑکوں کو روزگار دلانا، عورتوں کو ڈرائیونگ، انٹر نیٹ سمیت بولنے لکھنے کی آزادی دینا، سلمان خود جانبداری کے شکار ، الزائمر اور دمیشیا بیماری میں مبتلا ہیں۔ اگلی نسل کے جانشین کو لیکر قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں۔ شام ،یمن میں شورش سے نمٹنا و ایران سے رشتوں کو لیکر ان کا امتحان ہوگا۔عورتوں و دیگر جمہوری حکام کو آگے بڑھنے کی بھی چنوتی ہوگی۔ القاعدہ و داعش سے نمٹنا بھی نئے سلطان کی چنوتی ہوگی۔ ہم سلطان عبداللہ کو اپنا خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

26 جنوری 2015

بھارت۔ امریکہ میں سول نیوکلیائی تنازعہ سلجھا

امریکہ کے صدر براک اوبامہ اور ان کی اہلیہ محترمہ مشل اوبامہ بھارت تشریف لائے ہیں اور ان کا پروٹوکول توڑ کر وزیراعظم نریندرمودی کی طرف سے استقبال کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اوبامہ صاحب ہمارے لئے مہمان دیوسمان ہیں ۔ راشٹرپتی بھون میں صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی کی جانب سے جس شاندار طریقہ سے خیرمقدم کیاگیا اس پر اوبامہ نے کہاکہ وہ اس اعزاز کے لئے بہت شکرگزار ہیں گاندھی جی کو شردھانجلی دینے کے بعد انہوں نے وریٹرس بک میں لکھا ہے’’ مہاتما گاندھی کے آدرش سے کافی متاثر ہیں اسکے بعد حیدرآباد ہاؤس میں وزیراعظم نریندر مودی اور براک اوبامہ کے درمیان چوٹی ملاقات ہوئی۔ اس میں بھارت۔ امریکہ نے سوال نیوکلیائی معاہدے پر عمل راہ میں رکاوٹ دور کرنے پر کامیابی حاصل کرلی ہے ۔اس کا سہرا اوبامہ کو جاتا ہے ان کی صدق دلی کے نتیجے میں امریکہ۔ بھارت دونوں ملک معاہدے کو لیکر متفق ہوگئے ہیں۔ سال 2008 سے یہ سمجھوتہ لٹکاہواتھا اس معاہدے پر عمل کے بعد اب امریکہ ہندوستانی رئنیکٹروں کی نگرانی نہیں کرے گا۔ اس کااعلان میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں دونوں سربراہوں نے کیا۔ اس معاہدے پر اگلے سال سے نفاذ عمل میں آئے گا اس سے پہلے امریکی صدر براک اوبامہ اوروزیراعظم نریندرمودی نے حیدرآباد ہاؤس کیمپس میں ’’واک دی ٹاک‘‘ کیا دونوں لیڈروں نے چائے پیتے ہوئے مختلف مسئلوں پر تبادلہ خیال کیا ان میں ماحولیات۔ دہشت گردی کامسئلہ قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ بھارت۔ امریکہ کے درمیان۔ اجمیر۔ وشاکھا پٹنم۔ الہ آباد کو اسمارٹ بنانے پر بھی اتفاق رائے ہوا اس پر دونوں دیشوں نے ایک ایم او یو‘‘(MOU) پر دستخط کردیئے ہیں۔ اس کے علاوہ H.I.Visa (ایچ۔ او ویزہ پر اہم قدم پر غور کیا۔ ڈیفنس سیکٹر میں 10سال کیلئے ایجنڈہ طے ہوگیا ہے۔ دونوں لیڈروں میں جس طرح سے خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر براک اوبامہ کے دورہ ہند سے شاندار نتائج سامنے آئیں گے۔ صدر اوبامہ کا سال بھر سے لٹکے سول نیوکلیائی معاہدے پر عمل کیلئے متفق ہونا دونوں ملکوں کے درمیان میل کاپتھر ماناجائے گا۔ بھارت اب نیوکلیائی سیکٹر میں امریکہ کے ساتھ مل کر ڈھنگ سے کام کرنے کے لئے پرامید ہے۔ بھارت کی جوابدہی سے وابستہ قانون سپلائی کردہ کو نیوکلیائی حادثہ کی صورت میں سیدھے جواب ٹھہراتا ہے۔ جبکہ فرانس اورامریکہ نے بھارت کو عالمی پیمانوں کی تعمیل کرنے کو کہا ہے جس کے تحت بنیادی جوابدہی سپلائر کی بنتی ہے سول نیوکلیائی معاہدے کے عمل کی راہ آسان ہونے سے بھارت اپنی ضرورت کے حساب سے نیوکلیائی توانائی کااستعمال بے روک ٹوک کرسکے گا۔ سول نیوکلیائی معاہدے کی راہ میں روکاوٹ کا دورہونا یہ امریکہ کو اس مسئلہ پر شیشے میں اتارنا وزیراعظم نریندرمودی کی ڈپلومیٹک کامیابی ماناجائے گا۔ وہیں صدر اوبامہ اپنے عہد میں ہند۔ امریکہ کے مابین رشتوں کو نئی بلندیوں پرپہنچانا چاہتے ہیں۔ جس سے دونوں ملکوں کے مفادات کو فائدہ ہوگا۔

66 ویں یوم جمہوریہ کی مبارکباد

آج سارا دیش 26جنوری یعنی 66 واں یوم جمہوریہ منارہا ہے آج اس دن کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ دنیا کے طاقتور دیش امریکہ کے صدر مسٹر براک حسین اوبامہ یوم جمہوریہ پر یڈ میں بطور مہمان خصوصی شامل ہورہے ہیں۔ آج کے دن یعنی 26 جنوری 1950 میں ہندوستان میں ملک کاآئین کانفاذ ہوا اوراسی دن سورج کے عروج کے ساتھ ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں ہندوستانی ڈیموکریٹک ریپبلک کی شکل میں نئے دور کاآغاز ہوا۔
دیش کے آئین کو 211 ماہرین کے ذریعہ 2ماہ اور 11 دن میں تیار کرکے نافذ کرنے سے پہلے 26جنوری کادن مقرر کیا۔ انڈین نیشنل کانگریس کے 1930 کے لاہور اجلاس میں پہلی بار ترنگے جھنڈے کو پھیرایا گیا تھا ساتھ ساتھ ایک اوراہم فیصلہ اس اجلاس میں لیاگیا تھا کہ ہرسال 26جنوری کادن مکمل ’’سوراج دوس‘‘ مجاہدین آزادی مکھی سوراج کاسوراج کریں گے۔ اس طرح 26جنوری غیراعلانیہ طورپر ہندوستان کایوم آزادی کا دن بن گیاتھا۔31 دسمبر 1929 کو آدھی رات کو نیشنل کانگریس کالاہور میں اجلاس ہواتھا۔ 25نومبر 1949 کودیش کے آئین کو منظوری ملی تھی۔ 26 جنوری 1950 کو سبھی ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی نے اس آئین پر دستخط کئے تھے اس کے بعد آئین کو دیش میں نافذ کردیاگیا۔
26جنوری 1950 کو ڈاکٹر راجندر پرساد نے گورنمنٹ ہاؤس کے دربار ہال میں بھارت کے پہلے صددر کے طور پر حلف لیا اورارون اسٹیڈیم میں یوم جمہوریہ کا جھنڈا پھیرایا اور اس وقت انڈونیشیا کے صدر سکارنو مہمان خصوصی تھے۔ آج بھارت کے جمہوریہ بننے کے 65 سال بعد دنیا کے طاقتور دریش کے صدر براک حسین اوبامہ یوم جمہوریہ تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شامل ہوئے یہ ہمارے دیش کے 125کروڑ لوگوں کی خوش قسمتی ہی کہاجائے گا دنیا کی بڑی طاقت ہندوستان کے کروڑوں عوام کے ساتھ ان کے جشن میں شریک ہونے آئی ہے۔26جنوری ایک قومی تہوار کے طور پر دیش کے کونے کونے میں منایاجاتا ہے لیکن بڑا فنکشن قومی راجدھانی میں ہوتا ہے اس دن راج پتھ پر یوم جمہوریہ پریڈ نکلتی ہے جس میں سیکورٹی فورس کے سپریم کمانڈر صدرجمہوریہ سلامی لیتے ہیں ان کو 21توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔ 
یہ قومی تہوار ہمارے دل میں قومی اتحاد کاجذبہ پیدا کرتا ہے اور دیش کے لئے قربانی دینے والے بہادروں کی یاد دلاتا ہے اورہمیں اپنے آئین کے تئیں وفاداری کی تلقین بھی کرتا ہے ساتھ ہی اپنی آزادی کی حفاظت کے لئے بیدار رہنے کابھی پیغام دیتا ہے۔ آج ہمارادیش بیرونی خطرات کے ساتھ اندرونی شورش جس میں ہمارے نوجوان بھٹک کر ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں جن کو نکسلیوں کا نام دیاگیا ہے کسی بھی مانگ کوہتھیار کے زور پر نہیں منوایا جاسکتا بلکہ بات چیت سے مسئلہ کوحل کیا جاناچاہئے۔
ملک میں 2013 میں تبدیلی اقتدار کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے جہاں دیش کے سبھی عوام کو ساتھ لیکر چلنے کے لئے ’’سب کاساتھ۔ سب کاوکاس‘‘ کے نعرے کے ساتھ سرکار کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ وہ اپنے عزم پر عہد نہیں ہیں انہوں نے جموں وکشمیر ہو یا جھاڑ کھنڈ میں سرگرم نکسلی ہوں۔ سبھی سے ہتھیار ڈال کر وکاس کے کام میں شامل ہونے پر زوردیا۔ اس کی وجہ سے وہاں کے نوجوانوں نے گولی کے بدلے بیلٹ سے ملک دشمنی طاقتوں کوجواب دیا ہے۔ اس سے ملک دشمن طاقتوں کے حوصلے پست ہوئے ہیں وہ اپنی کرتوت سے دیش کے لوگوں میں دہشت برقرار رکھناچاہتے ہیں۔ آیئے سب شہری آج 26جنوری کے قومی دن پر آئین کی بالادستی رکھنے ، ملک کے اتحاد۔ سیکولر ڈھانچے کی حفاظت کاحلف لیں۔ ان بہادر دیہاتیوں اورمجاہدین آزادی کو سلام کریں جنہوں نے اپنی قربانی دے کر ہمارے لئے دیش میں کھلی ہوا میں سانس لینے کے لئے آزادی دلائی۔ جے ہند۔ آپ سب کو یوم جمہوریہ کی مبارکباد!

25 جنوری 2015

براک اوبامہ۔ بھارت آپ کا خیرمقدم کرتا ہے!

دنیا کے سب سے طاقتور شخص اس سال ہمارے یوم جمہوریہ پر خاص مہمان ہونگے۔ میں بات کررہا ہوں امریکی صدر براک اوبامہ کی۔ بھارت آپ کاخیرمقدم کرتا ہے۔ ہم آپ کے ممنون ہے ۔ آپ نے ہمارے وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت قبول کی ہے اور بھارت تشریف لائے۔ ہندوستان کو صدر اوبامہ سے کافی امیدیں ہے ایسے وقت جب دنیا میں اقتدار کے تغذیہ بدل رہے ہیں بھارت اور امریکہ کے قریب آنے سے نئے امکانات پیدا ہورہے ہیں۔ دنیا کی سب بڑی دو جمہوریتوں کاآپسی اشتراک اور بھروسہ قائم ہوا ہے۔ اوبامہ صاحب نے پچھلے دنوں امریکہ کو بھارت کا ایک اچھا ساتھی کہا تھا۔ تو ہندوستانی وزیراعظم مودی نے بھی اسی نظریات کے تحت امریکہ سے رشتے مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرد جنگ کے دودہائی بعد کے ماحول نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوری طاقتوں کو ایک محاذ پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔ تو اس کے مشترکہ نشانے ہے دونوں دیش دہشت گردی سے پریشان ہے اور چین کی بڑھتی جارحیت دونوں کے لئے باعث تشویش ہے عالمی تشویش کے ان دو بڑے مسئلوں پر موجودہ دنیا کے ماحول میں ایک دوسرے کا فطری ساتھی کہا گیا ہے اسی جذبے کے تحت جب دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کم ہونگے۔ دونوں کے فوجی مفادات کی دوڑ مضبوط ہوگی۔ آج امریکہ نے بھارت کے تئیں اپنا نظریہ بدلا ہے اور وہ آج بھارت کو ایشیا بحر ہند علاقے میں بڑی فوجی طاقت کی شکل میں ابھرتے دیکھناچاہتا ہے اور اسی ارادے سے اسے سب سے اچھی اور جدید تکنیک والے ہتھیاروں کا سسٹم دینے کی پیش کش کررہا ہے۔
دونوں ہی ملکوں کے صدر اور وزیراعظم کو اوبامہ دورے سے فائدہ ہونے والا ہے۔ جہاں تک امریکہ کی بات ہے سیاسی کلیر کی ڈھلان پر کھڑے اوبامہ کو بھارت کے ساتھ رشتے مضبوط کرنے سے نئی ساکھ اور چمک ملے گی۔ اگر اوبامہ ہندوستانی بازار کو امریکی سرمایہ دارو ں کے لئے کھولنے کے لئے تیار ہوتا ہے تو منڈی کے دور باہر نکل رہی معیشت کو نئی راہ ملے گی۔ اوبامہ کو امید ہے کہ بھارت اپنے سینکڑوں کروڑ ڈالر نیوکلیائی اور ڈیفنس بازار کھولے گا تو فائدہ کمانے والی کمپنیاں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے قریب آئیں گی۔ روس اور چین جیسے کٹر امریکی مخالف ملکوں کے درمیان ہندوستان سے دوستانہ رشتے دونوں ملکوں پر دباؤ بنانے میں کافی مددگار ہو نگے۔ بھارت کے ساتھ فوجی رشتے دنیا کے نقشے پر پھیلے امریکی اسٹیٹ کو بڑھاوا دیں گے۔ رہی بات بھارت وزیراعظم کی تو اگلے ڈیر ھ دہائی تک سیاسی بڑے کھلاڑی بنے رہنے کا خواب دیکھ رہے نریندر مودی کے توقعات کو چارچاند لگیں گے۔ مودی بطور عالمی لیڈر اپنی ساکھ کو مضبوط کریں گے۔ امریکہ سے نزدیکی دہشت گردی، بارڈر فائرنگ یا سرحدی تنازعے کے اشو پر پاکستان اور چین سے زیادہ سختی سے پیش آنے میں مدد ملے گی۔ نریندر مودی اس دورے میں ملاقات کے دوران پاکستان کا کھلا چیٹھا پیش کرکے اس کو بے نقاب کرسکتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی رشتے اور سرمایہ کاری بڑھتی ہے تو ہندوستانی نوجوانوں کے لئے نئے مواقع پیدا ہونگے۔ اور نوجوانوں، پیشہ وروں میں مودی کی پیٹھ زبردست طریقے سے بڑھے گی۔ امریکی سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔ مودی چناوی وعدہ کرسکیں گے۔ دیش میں فی الحال ان کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ مسٹر مودی کو ہندوستانی مفادات کا ہر معاملے میں خیال رکھنا ہوگا۔ امریکہ ہمیشہ اپنے مفادات کے بارے میں سوچتا ہے ہمیں بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔ ہم برابری کی حیثیت سے بات کریں۔ جھک کر نہیں۔ براک اوبامہ کاخیرمقدم ہے سبھی ہندوستانیوں کو یوم جمہوریہ کی مبارکباد! 

(انل نریندر)

جناردھن دیویدی کو نپٹانے میںلگا کانگریس کاایک گروپ

کانگریس صدر سونیا گاندھی کے قریبی رہے جناردن دیویدی کے مبینہ طورپر وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کرنے کو لیکر کانگریس پارٹی میں زلزلہ آگیا ہے۔ دہلی اسمبلی چناو کے دوران پیدا اس تنازعہ کو دیکھتے ہوئے کانگریس لیڈر اجے ماکن نے ان کے بیان کی مذمت کی اور ان کے خلاف پارٹی کی طرف سے ڈسپلین توڑنے کی کارروائی کی بات کہی۔ لیکن جمعرات کی دیرشام جناردندیوی کی پارٹی کے ڈسپلن کمیٹی کے چیئرمین اے کے انٹونی سے ملاقات کے بعد طے ہوگیا کہ ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ دراصل کسی سلسلے میں مودی کی تعریف دی ویدی گھر بیٹھے انہو ں نے کہا کہ وہ سماجی طور پر ان لوگوں کو سمجھانے میں کامیاب رہے ہیں۔(مودی) ہندوستانی لوگوں کے بے حد قریب ہے اور مودی کی کامیابی کو بھارتیہ جنتا کی کامیابی بتایا۔ اور انہوں نے موجودہ وقت کانگریس کے لئے چیلنج بھرا قرار دیا ہے چناو نتائج کو بھاجپایا مودی کی کامیابی سے زیادہ کانگریس کی ہار قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کی اس نظریے کی آنچ سیدھے کانگریس کی سینئر لیڈر شپ پر پڑتی ہے اس سے پہلے سابق مرکزی وزیرششی تھرو بھی یہ کہہ کر مودی کی تعریف کرچکے ہیں کہ وہ پردھان منتری کی ذمے داری کو مضبوطی سے نبھا رہے ہیں۔ جناردھن دیویدی کی وضاحت کے باوجود معاملے طول پکڑرہا ہے اور پارٹی کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ کانگریس میں پرانی پیڑھی بنام نئی نسل کے درمیان کی لڑائی مانی جارہی ہے۔ دراصل کانگریس کے کئی پرانے لیڈروں نے اسے دیویدی کو نپٹانے کے لئے ہاتھ لگیں موقع کی طرف لیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیویدی کے بیان کو کانگریس کے کچھ لیڈر کچھ زیادہ ہی اچھال رہے ہیں۔ دیویدی کے یہ وضاحت کئے جانے پر ان کے لئے ہندوستانیت کی علامت ہمیشہ سے ہی گاندھی اور نہرو رہے ہیں۔ اس باب کو ختم نہیں کیاجاسکتا ہے۔ اورنہ ہی کانگریس نے اس پر غور کیا ہے دیویدی کے بیان کر غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ اس کے لئے انہوں نے دیویدی کے بیان کو چلانے والی انگریزی ویب سائٹ پر کانگریس میں جناردھن دیویدی زیادہ چوکسی برت کر بولنے والے لیڈروں میں سے ہے۔ لیکن پارٹی میں اس بارحریف جس طرح سے اکٹھے ہوئے ہیں ان کی مشکلیں بڑھ گئی ہے کانگریس کے بڑے لیڈروں نے پہلے بھی اٹ پٹانگ باتیں کی ہے۔ اور پارٹی کے ان کے بیانات سے دوری بنائی ہے لیکن ایسا سخت موقف اس سے پہلے کبھی نہیں دکھایا گیا جس طرح صفائی دینے کے باوجود دیویدی پر نقطہ چینی کی جارہی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس کے اندر ایک گروپ دیویدی سے پرانے بدلے لینے کی کوشش کررہا ہے اور ان کی شخصی حیثیت کو پارٹی خاص کر چیئرپرسن سونیا گاندھی کے قریبی ہونے کو تباہ کرنے پر تلا ہے کھلے طور پر اجے ماکن کے ذریعے ان پر کارروائی کے اشارے دینا یہ اجا گر کرتا ہے کہ پارٹی کے اندر شہ مات کا کیسا کھیل چل رہا ہے۔

(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...