Translater

15 فروری 2014

لوک سبھا کی تاریخ میں سب سے شرمناک واقعہ، ساکھ تار تار ہوئی!

جمعرات کو لوک سبھا میں جو کچھ ہوا اس نے پورے دیش کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اگر اسے لوک سبھا کی تاریخ میں سیاح دن کہیں تو غلط نہ ہوگا ۔کیونکہ لوک سبھا میں ایسا بدنما داغ پہلے کبھی نہیں لگا۔ اسپیکر نے اس واقعے کو شرمناک اور دھبہ بتاتے ہوئے آندھرا پردیش کے 18 ممبران کو پانچ دن کے لئے معطل کردیا۔ ہوا یوں کہ صبح11 بجے ہی تلنگانہ بل کے احتجاج میں ایوان کی کارراوئی ٹالنی پڑی تھی۔ 12:09 پر وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے بل پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو حالات بگڑ گئے اور تیلگودیشم کے ایم پی وینو گوپال ریڈی لوک سبھا سکریٹری جنرل کی کرسی پر چڑھ کر اسپیکر کی میز پررکھے کاغذات چھیننے لگے۔پیپر ویڈ اٹھا کر سکریٹری جنرل کی میز پر رکھا شیشہ توڑ دیا۔ الزام تو یہ بھی ہے کہ وینو گوپال نے چاقو لہرایا لیکن انہوں نے اس سے انکار کیا۔ کہا کہ ان کے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا مائک تھا جو چاقو جیسا لگا ہوگا۔ کانگریس سے حال میں نکالے گئے ایم پی ایل۔ راج گوپال نے پھر چونکاتے ہوئے کالی مرچ اسپرے چاروں طرف چھڑکااور ایوان اور سامعین گیلری میں بیٹھے لوگوں کو کھانسی ہونے لگی۔ دم گھٹنے، آنکھوں میں جلن کی شکایت پر ڈاکٹروں کو بلانا پڑا۔ونے کمار پانڈے ، پونم پربھاکر اور وی بلرام نائک کو رام منوہر لوہیا ہسپتال لے جایا گیا۔ جہاں بعد میں انہیں تھوڑی تیمارداری کی بعد چھٹی دے دی گئی۔ دوپہر بعد 2 بجے کارروائی پھر شروع ہوتے ہی ہنگامہ شروع ہوگیا۔ اسپیکر نے 16 ممبران کو پانچ دن کے لئے معطل کردیا۔ اس میں کانگریس ، ٹی ڈی پی، وائی ایس آر کانگریس کے ایم پی شامل ہیں۔ جب اس شرمناک واقعہ کے لئے ٹی ڈی پی اور کانگریس کے ایم پی ذمہ دار ہیں تو وہاں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ مرکز کی یوپی اے سرکار اور کانگریس پارٹی بھی اس شرمناک صورتحال کیلئے کم ذمہ دار نہیں۔ سمجھ میں نہیں آیا کیا سوچ سمجھ کر کانگریس اعلی کمان نے وزیر پارلیمانی امور کو اس بل کو پیش کرنے کو کہا ؟ تلنگانہ بل اور آندھرا پردیش کی تقسیم کو لیکر کئی دنوں سے احتجاج چل رہا تھا۔ خود کانگریسی وزیر اعلی اس کے خلاف دہلی میں دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔ آندھرا اسمبلی نے اس ریزولیشن کو مسترد کردیا تھا۔ ان حالات میں اس کو پیش کرکے کانگریس پارٹی نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ وہ کہاوت ہے نہ کہ’ چوبے گھئے چھببے بننے دوبے بن آئے‘ صحیح بیٹھتی ہے۔ اب کانگریس پارٹی کو دونوں طرف سے نقصان ہوگا۔ اس سے ایک اور بات ثابت ہوتی ہے کہ کانگریس اعلی کمان کی اپنے ممبران پارلیمنٹ پر پکڑ کمزورہوگئی ہے۔ پچھلے سات دنوں سے کانگریس کے سیماندھر و تلنگانہ علاقے کے ایم پی ہنگامہ کررہے ہیں اور کانگریس اعلی کمان ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے کترارہا ہے۔ وہ بھی ایسے وقت جب لوک سبھا کا آخری اجلاس چل رہا ہو۔ راہل گاندھی کے آدھا درجن بل پاس ہونے کیلئے لائن میں ہیں؟ پتہ نہیں اب یہ لوک سبھا ٹھیک ٹھاک چلے گی بھی یا نہیں اگر نہیں چلی تو سارے بل لٹک جائیں گے۔راہل کے کرپشن مخالف بل ممبران میں غیر تحفظ کا احساس ہے اب انہیں اس اجلاس کے باقی دنوں میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ وہ اپنے اپنے چناؤ حلقوں میں بلا تاخیر واپس جانا چاہتے ہیں۔ بہت سے ایم پی کو تو یہ پریشانی ستا رہی ہے پتہ نہیں کانگریس اعلی کمان اس بار ٹکٹ دیتا بھی ہے یا نہیں؟ کانگریس اعلی کمان کو اتنا معلوم تھا کہ یہ لوک سبھا کا آخری اجلاس ہے اور اہم بلوں کو پاس کرانے کے لئے آخری موقعہ ہے۔ بہتر یہ ہی ہوتا کہ وہ اپنی فلور مینجمنٹ کو اچھا کرتے۔ پہلے ہی دن 16 ممبران پارلیمنٹ کو معطل کرکے کم سے کم راہل کے اہم بل پاس کروالیتے؟ لگتا ہے کہ کانگریس کے فلور مینجمنٹ دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اب یہ بھی تنازعے کا اشو بن گیا ہے کہ آندھرا پردیش بل 2014ء پیش ہوا ہے یا نہیں۔ سرکار کہہ رہی ہے کہ بل پیش ہوگیا لیکن بھاجپا سرکار کے اس دعوے کو ماننے سے انکار کررہی ہے۔ اس کا کہنا ہے چونکہ پارلیمانی تقاضوں کی تعمیل نہیں ہوئی ہے اس لئے اس بل کو پیش مانے جانے کو تسلیم نہیں کرتی۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر پورے واقعے میں کانگریس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا جو کچھ ہوا وہ کانگریس کا ہی رچا رچایا ڈرامہ تھا کیونکہ کانگریس ایسا سسٹم پیدا کرنا چاہتی تھی جس سے سبھی ممبران لوک سبھا سے چلے جائیں اور تب وہ ایسا دعوی کرسکیں تلنگانہ بل پیش ہوگیا ہے۔ یہ پیش ہونے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے این سی پی کی لیڈر سپریا سلے نے کہا کہ انہیں کوئی پہلے سے فہرست نہیں دستیاب کرائی گئی اور نہ ہی ایوان کی کارروائی میں اسے شامل کیا گیا۔ جیسا میں نے کہا کہ بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں جمعرات کا دن ایک کالا دھبہ ہے جس میں پارلیمنٹ کا وقار تار تار ہوا ہے۔
(انل نریندر)

آئی پی ایل میں سٹے بازی فکسنگ کے تار حوالہ اور آتنکیوں سے جڑے ہیں!

کھیل کی دنیا سے اچھی خبر آئی ہے۔ داغی حکام کے سبب اولمپک مہم سے باہر ہوئے بھارت سے 14 مہینے کی فضیحت کے بعد بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے منگل کو پابندی ہٹا دی۔ اس کے سبب روس کے سوچی میں چل رہے سرمائی اولمپک گیمس میں ہندوستانی کھلاڑیوں کو ترنگے کی جگہ آئی او سی کے جھنڈے تلے مارچ پاس کرنا پڑا تھا جس سے بھارت کی کافی فضیحت ہوئی تھی۔ آئی او سی کے اس فیصلے کے بعد سوچی اولمپک کی اختتامی تقریب میں ہندوستانی کھلاڑی ترنگے کو لیکر فخر سے چل سکیں گے۔ ایتوار کو بھارتیہ اولمپک فیڈریشن کے نئے سرے سے چناؤ ہونے کے دو دن بعد یہ فیصلہ لیا گیا۔ آئی او اے نے ان چناؤ کے سبب انٹر نیشنل اولمپک ایسوسی ایشن نے بھارت کو اولمپک سے باہر کردیا تھا۔ اب بات کرتے ہیں بری خبر کی۔ بی سی سی آئی کے چیئرمین این۔ سرینواسن کے داماد گوروناتھ میپن آئی پی ایل میچوں میں سٹے بازی میں ملوث پائے گئے ہیں اور یہ ثابت ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعے مقرر جسٹس مدگل کمیٹی نے پیر کو عدالت کو سونپی اپنی جانچ رپورٹ میں کہا ہے کہ میپن بندو دارا سنگھ کے ذریعے سٹے بازی میں شامل رہے۔ یہ ہی نہیں وہ ٹیم کی جانکاریوں کو بھی افشاں کرتے تھے۔ اس رپورٹ کے بعد چنئی سپر کنگز کے وجود پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال آئی پی ایل 6- کے دوران راجستھان رائلز ٹیم کے تین کھلاڑیوں کو دہلی پولیس نے اسپارٹس فکسنگ کے الزام میں پکڑا تھا۔ جانچ کے دوران بی سی سی آئی چیئرمین این سرینواسن کے داماد گورو ناتھ میپن کا نام سامنے آیا تھا۔ اکتوبر2013 میں سپریم کورٹ نے جسٹس مدگل جانچ کمیٹی بنائی تھی ۔ سابق آئی پی ایل کمشنر للت مودی نے تو آئی پی ایل میچوں میں ہونے والی اسپارٹس فکسنگ اور سٹے بازی کی جانکاری دیتے ہوئے ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کے شامل ہونے کا بھی الزام لگا دیا ہے۔ مودی نے ایک نیوز چینل سے بات چیت میں کہا کہ فکسنگ کے سچ کو چھپایا۔ جسٹس مدگل کی رپورٹ نے کرکٹ بورڈ کی اس کمیٹی کے کھوکھلے پن کو اجاگر کیا جواس معاملے کے بے نقاب ہونے کے بعد بنائی گئی تھی اور جس نے میپن کو کلین چٹ دی تھی۔ مدگل کمیٹی نے آئی پی ایل کی ایک اور ٹیم راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں جن میں سری سنت بھی شامل ہیں ، کو سٹے بازی میں شامل پایا گیا۔ اگر سپریم کورٹ کی پہل پر قائم کوئی کمیٹی یہ محسوس کررہی ہے کہ کرکٹ ایک صاف ستھرا کھیل بنے او راسپارٹ فکسنگ جیسی برائیوں کو روکنے کے لئے کافی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔اس پر ہمیں تعجب نہیں ہونا چاہئے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسا ہی کچھ دیش کی جنتا بھی محسوس کررہی ہے۔ کمیٹی نے آئی پی ایل کو گڑبڑیوں سے بچانے کے لئے کئی سفارشیں کی ہیں جن میں آئی پی ایل گورننگ باڈی کو بی سی سی آئی سے آزاد رکھنے کی بات بھی شامل ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سٹے بازی اور میچ فکسنگ سے جڑے معاملوں کے لئے کوئی الگ قانون جانچ ایجنسیاں ہوں۔ ان قوانین کو اینٹی دہشت گردی یا ڈرگس قانون کی طرح سخت بنایا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کھیلوں میں ان حرکات کے لئے حوالہ کے پیسے کا استعمال ہوا۔ یہ ہی نہیں رپورٹ میں سٹے بازی اسپارٹ فکسنگ میں آتنکی عناصر کے ملوث ہونے سے قومی سلامتی کو سنگین خطرہ بتایا گیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ قانون سے یہ بیماری شاید رکے۔ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ سارا مسئلہ اس لئے ہے ہمارے دیش میں سٹے بازی پر پابندی ہے اگر یہ ہٹا لیا جائے تو یہ بیماری دور ہوسکتی ہے۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ آئی پی ایل ہمارے بے قدر ہوتے سماج کی جھلک پیش کرتا ہے۔جب سیاستداں سے لیکر دیش کی جانی مانی ہستیاں اس سے جڑی ہوں پھر اس میں اصلاح کی امید کیسے کی جائے۔ سارا کھیل پیسے کا بن گیا ہے۔ آئی پی ایل کے منتظمین کو ہم خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا گورکھ دھندہ تب تک چل رہا ہے جب تک لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔ اگر کرکٹ شائقین اس سے منہ موڑ لیں تو نہ کھیل رہے گا نہ دھندہ۔بی سی سی آئی آئی پی ایل کرکٹ میں گھس گئی ہے اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے شکنجہ کسیں۔بلا شبہ ایسا تبھی ہوگا جب کرکٹ بورڈ کو صاف ستھرے طریقے سے چلائیں گے۔ مگراسے نجی کمپنی کے طور پر چلایا جارہا ہے جو شفافیت اور جوابدہی سے کنارہ کش ہے۔ کیا عجیب بات نہیں کہ کرکٹ شائقین کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کس طرح کرکٹ بورڈ کے مکھیا ہی قاعدے قوانین سے کھیل رہے ہیں۔
(انل نریندر)

13 فروری 2014

سیاسی نوسکھیا ہیں یا سیاسی ناعاقبت اروند کیجریوال؟

اروند کیجریوال کیا سیاست میں نو سکھیا ہیں یا پھر سیاسی ناعاقبت ہیں؟ یہ کہنا مشکل لگتا ہے کیونکہ جس طرح وہ چل رہے ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ وہ سیاست سے ناواقف ہیں، سیاست میں منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں یا پھر پردے کے پیچھے سے کوئی اور انہیں گائڈ کررہا ہے۔ ایک کے بعد ایک ایسا اشو اٹھاتے چلے جارہے ہیں جس سے سیاسی ٹکڑاؤ بڑھے۔ اب آپ تازہ اشو ہی لے لیجئے۔ آپ نے ریلائنس انڈسٹریز کے خلاف ہی مورچہ کھول دیا ہے۔ ایک اور نیا انکشاف کرتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ یکم اپریل سے ریلائنس انڈسٹری سرکار کے ساتھ مل کر ایک ڈالر کی گیس کو 8 ڈالر میں بیچنے کی تیاری کررہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مہنگائی بڑھے گی۔کیجریوال نے بتایا مرلی دیوڑا، ویرپا موئلی، وی ۔ کے سبل، مکیش انبانی، ریلائنس انڈسٹری اور دیگر کے خلاف اینٹی کرپشن بیورو کو ایف آئی آردرج کرنے کے احکامات دئے گئے ہیں۔ کیجریوال نے یہ جانتے ہوئے کہ یہ معاملہ مرکزی سرکار سے وابستہ ہے اس میں دہلی سرکار کا کوئی رول نہیں پھر بھی آخر کیوں ایسا قدم اٹھایا ہے؟ ایسا لگتا ہے مانو کسی طے ایجنڈے کے تحت وہ ایسا اشو اٹھا رہے ہیں۔ یہ ایجنڈا کوئی اور تو طے نہیں کررہا ہے؟ بھارتیہ جنتا پارٹی نے عام آدمی پارٹی پر امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اشارے پر کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ دہلی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ڈاکٹر ہرش وردھن نے یہ الزام پیر کو صدر پرنب مکھرجی کو سونپے گئے میمو رنڈم میں لگایا ہے۔ ڈاکٹر ہرش وردھن کی قیادت میں صدر محترم سے ملنے پہنچے بھاجپا لیڈروں کے نمائندہ وفد نے صدر سے وزیر قانون سومناتھ بھارتی کو برخاست کرنے کی مانگ کرتے ہوئے کیجریوال سرکار کی کارگزاریوں سے بھی متعارف کرایا۔ صدر کو دئے گئے میمورنڈم میں بھاجپا کا کہنا ہے کہ نیویارک یونیورسٹی کا ایک مطالعہ مشتبہ خاتون محترمہ لی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سی آئی اے ایجنٹ ہیں ، نے کبیر، (وزیر تعلیم منش سسودیا کی رضاکار تنظیم) کے کام دیکھے اور بھارت میں اپنے مطابق تحریک اور پروگرام چلانے کی ہدایت دی۔ انہیں ہدایت کے تحت عام آدمی پارٹی محلہ سبھائیں اور سوراج اور مکمل انقلاب اور عوامی مفاد کے نام پر بہت سی کمیٹیاں قائم کرنے جارہی ہے۔ محترمہ لی کے بارے میں خبر ہے کہ ان کی مدد سے ہی عرب دیشوں میں انقلاب لانے کے لئے عوامی تحریک شروع ہوئی۔ تحریر چوک کی تحریک انہیں کی دین تھی۔ یہ مشتبہ خاتون مصر ،قاہرہ، ہائیفا ،چاڈ، اسرائیل اور بھارت ان ملکوں میں مختلف این جی او وغیرہ کے ذریعے سرگرم ہیں اس کی جانچ بھی ضروری ہے۔ کیجریوال وہ سب کام کررہے ہیں جو انہیں نہیں کرنے چاہئیں لیکن وہ سب نہیں کررہے جو انہیں کرنے چاہئیں۔ وہ وزیر اعلی سے زیادہ پردھان منتری کی طرح کام کررہے ہیں؟ جب سے عام آدمی پارٹی کی سرکار بنی ہے سبھی ترقیاتی کام ٹھپ پڑے ہیں۔ اس پارٹی کا ایجنڈا روزانہ نئے ہتھکنڈے اپنا کر جنتا کو اصل اشو سے ہٹا کر گمراہ کرنا اور الجھانا رہ گیا ہے۔ جن لوک پال بل پر اڑے کیجریوال ایک نیا آئینی بحران کھڑا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ دہلی کی عوام کو بجلی ، پانی، بہتر سرکار کا دعوی کرکے اقتدار میں آئے کیجریوال ان سب دعوؤں کی بات تو نہیں کرتے روز روز نئے اشو اٹھاتے جارہے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کیجریوال آخر چاہتے کیا ہیں؟ اتنا تو لگتا ہے کہ انہیں دہلی سرکار کی پرواہ نہیں ،کل کی جاتی آج چلی جائے۔ ان کی ساری توجہ لوک سبھا چناؤ میں لگ گئی ہے۔ کل کو کیجریوال سرکار اقلیتی میں بھی آگئی تب بھی نہیں گرے گی کیونکہ کانگریس فی الحال حمایت واپس لینے کے موڈ میں نہیں لگتی۔ بغیر مرکزی سرکار کی منظوری لئے جن لوک پال بل پاس کرانے کو لیکر ٹکراؤ کتنا بھی بڑھتا دکھائی دے رہا ہوں لیکن دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی سرکار اتنی آسانی سے نہیں گرے گی۔ کانگریس مان رہی ہے کہ لوک سبھا چناؤ سے پہلے ٹکراؤ بڑھا کر سرکار گرانے کے بعد کیجریوال خود کو شہید کی شکل میں پیش کریں گے۔ کیجریوال کو دہلی سے بھگانے کا موقعہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ادھر کیجریوال کے ابھی تک کے پلان کے مطابق سوراج اور دہلی جن لوک پال بل جمعہ کو اسمبلی میں پیش کریں گے اگر اس کا راستہ روکا گیا تو وہ استعفیٰ سونپ کر اسمبلی برخاست کرنے کی سفارش کردیں گے کیونکہ کیجریوال اپنی بات سے اتنی جلدی پلٹتے ہیں کہ ہم انہیں سنجیدگی سے اب نہیں لیتے۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

خاتون کی برہنہ تصویر کو فحش نہیں مانا جاسکتا، سپریم کورٹ

مشہور جرمن ٹینس کھلاڑی بورس بیکر کی اپنی منگیتر کے ساتھ برہنہ تصویر کے اشاعت کے خلاف مجرمانہ معاملے کی سماعت میں سپریم کورٹ نے ایک متنازعہ فیصلہ دیا ہے۔ یہ تصویر سب سے پہلے جرمن میگزین ’اسٹرن‘ میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعد1993ء میں یہ اسپورٹس ورلڈ اور آنند بازار پرتریکا میں شائع ہوئی تھی۔ کولکاتہ کے ایک وکیل نے اخبار کے مدیر اور پرنٹر پبلشر کے ساتھ ہی اسپورٹس ورلڈ کے مدیر بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان منصور علی خاں پٹوڈی کے خلاف مجسٹریٹ کی عدالت میں شکایت کی تھی۔ اخبار اور دیگر پہلے کولکاتہ ہائی کورٹ گئے وہاں راحت نہ ملنے پر انہوں نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ بڑی عدالت نے نچلی عدالت میں التوا کارروائی کو منسوخ کرتے ہوئے کہا یہ تصویر فحش نہیں ہے اور اسے اس پس منظر میں دیکھنا چاہئے جس کے لئے یہ دکھائی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مجسٹریٹ کو اس حقیقت پر غور کرنا چاہئے تھا کہ عریاں یا نیم عریاں خاتون کے دوست کو فحش نہیں کہا جاسکتا جب تک اس کا منظر جنسی ذہن کو بڑھانے یا جنسی خواہش کا اظہارکرنے والا نہ ہو۔ عدالت نے اس تبصرے کے ساتھ ٹینس کھلاڑی بورس بیکر کی اپنی منگیتر کے ساتھ عریاں تصویر اخبار میں اشاعت کے خلاف مجرمانہ معاملہ منسوخ کردیا۔ جسٹس ایس ۔کے بالاکرشن اور جسٹس اے۔کے سیکری کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ صرف سیکس سے متعلق مواد کو ہی فحش کہا جاسکتا ہے جس میں سیکس کی ذہنیت پیدا کرنے کا نظریہ پیش کیا ہوتا ہے۔ ججوں نے کہا فحاشیت کا تعین اوسطاً شخص کے نظریئے سے کرنا ہوتا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ فحاشیت کی تشریح بھی بدلے گی جو ایک وقت میں فحاشیت مانی جائے شاید بعد کی میعاد میں اسے فحاشی نہ مانا جائے۔ عدالت نے کہا کہ نسل پرستی کے خلاف بیکر نے اپنی کالی چمڑی والی منگیتر باربرا فیلس کے ساتھ عریاں تصویر کھنچوائی تھی جس کا مقصد نسل پرستی کی برائی کے خلاف لڑائی لڑنا اور محبت کا پیغام دینا تھا۔ عدالت نے کہا تصویر یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ چمڑی کے رنگ کی زیادہ اہمیت نہیں ہے اور رنگ پر محبت کی جیت ہوتی ہے۔ یہ تصویر محبت کے تصور کا پرچار کرتی ہے جو آگے چل کر گوری چمڑی والے مرد اور کالی چمڑی والی عورت کے بیچ شادی میں بندھتی ہے۔ ججوں نے کہا کہ اس لئے ہمیں تصویر اور آرٹیکل میں چھپے پیغام کی تعریف کرنی چاہئے۔ عزت مآب عدالت نے بالکل صحیح کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ فحاشیت کی تشریح بھی بدل جاتی ہے۔ کچھ برسوں تک فلموں میں رومانس اور پیار کے سین اس طرح کے نہیں ہوتے تھے جیسے آج کی فلموں میں دکھائے جاتے ہیں۔ اب تو کچھ فلموں میں بوسے کے مناظر بھی خوب قبول کئے جارہے ہیں۔ اسی طرح گانوں میں بھی یہ سب چیز شامل ہوگئی ہے۔ہنی سنگھ کے گانوں کے لفظ ہمیں تو فحاشی لگتے ہیں لیکن آج کل کی نوجوان نسل کو بہت پسند ہیں اور عام لگتے ہیں۔ نوجوانوں کی بات کرنے کے انداز میں بھی فرق آگیا ہے۔ گالیاں عام ہوگئی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ فحاشیت کی تشریح بھی بدلی ہے یہ بالکل صحیح بات ہے۔
(انل نریندر)

12 فروری 2014

ریلیوں کی گہما گہمی کا ایتوار!

گذشتہ ایتوار کا دن ریلیوں کے نام رہا۔ جیسے جیسے عام چناؤ قریب آتے جارہے ہیں مختلف سیاسی پارٹیوں کی عوامی تحریک تیزی پکڑتی جارہی ہے۔ ایتوار کو چار ریلیاں ہوئیں۔ ان میں سب سے بڑی ریلی بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی کی کیرل کے شہر کوچی میں ہوئی۔ وہیں لیفٹ پارٹیوں کا گڑھ مانے جانے والے مغربی بنگال کے بعد کیرل میں نریندر مودی کی ریلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ بھاجپا کا جنوبی ہندوستان میں زیادہ اثر نہیں ہے اس لئے اس ریلی میں زیادہ بھیڑ آنے کی امید نہیں تھی لیکن اتنے لوگوں کے آنے سے خود بھاجپا لیڈر بھی حیران رہ گئے۔ یہ تابڑ توڑ ریلیاں کررہے نریندر مودی نے اس مرتبہ دلت کارڈ کھیلا ہے۔ مودی نے ایتوار کو کوچی میں کہا کہ وہ اب بھی سیاسی چھوا چھوت کے شکار ہیں۔ کانگریس پر حملہ بولتے ہوئے مودی نے ان پر دلتوں کوملے حقوق چھیننے کی سازش رچنے کا الزام لگا دیا۔ نریندر مودی ایتوار کو کیرل کے دلت فرقے کی بڑی تنظیم کیرل پلیار مہا سبھا کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں پہنچے تھے۔ مودی نے دعوی کیا کہ 100 دن کے اندر مرکز میں اقتدار میں تبدیلی ہوگی۔ اس کے بعد کانگریس کی سب غلط پالیسیاں ختم کردی جائیں گی۔ آنے والی دہائی دلتوں اور پسماندہ طبقوں کی ہوگی جس وقت مودی کوچی میں یہ سب کہہ رہے تھے اسی وقت کولکاتہ میں برگیڈ گراؤنڈ میں لیفٹ پارٹیوں کی ایک ریلی میں مارکسوادی سکریٹری جنرل پرکاش کرات کہہ رہے تھے کہ مرکز کے اقتدار میں نریندر مودی کو لانے و ان کے گجرات ماڈل کو اپنانے سے دیش میں فرقہ پرستی کو بڑھاوا ملے گا۔ ایتوار کو ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کرات نے کہا کہ مودی کے گجرات ماڈل سے صرف بڑے کاروباریوں و صنعت کاروں کو فائدہ ہوگا جبکہ عام لوگوں کا اس سے کوئی بھلا نہیں ہوگا۔ عام لوگوں کی بات آج کل سبھی لیڈر کرتے ہیں۔ کانگریس نائب پردھان راہل گاندھی بھی اڑیسہ کے سالی پور میں جنتا کی بار کررہے تھے۔ انہوں نے بیجو جنتا دل کے لیڈر و وزیر اعلی نوین پٹنائک پر زبردست حملہ بولا۔ انہوں نے پچھلے 26 دسمبر کو پارٹی کے یوم تاسیس پر ایک پروگرام میں کانگریس کو کرپٹ اور بھاجپا کو فرقہ پرست بتایا تھا۔ اسی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ ریاست میں ہوئے بہت سے گھوٹالوں کے پیچھے بی جے ڈی ہی ذمہ دار ہے۔ کٹک ضلع کے سالی پور شہر میں ریلی کو خطاب کرتے ہوئے راہل نے کہا جن کلیان کے لئے اڑیسہ کو جو فنڈ دیا جاتا ہے وہ ضرورتمندوں تک نہیں پہنچتا۔ زیادہ تر پیسے کو بیچ میں ہی کھا لیا جاتا ہے۔ ریاست میں لوہا ،ابرق اور میگنیز کی جم کر لوٹ مار ہورہی ہے۔اس لوٹ مار کا فائدہ کچھ لوگ اٹھا رہے ہیں جبکہ باقی پریشانیوں میں چل رہے ہیں۔ ایتوار کو ہی مہاراشٹر سرکار کے ساتھ چنگی اشو پر اپنی لڑائی کو آگے بڑھاتے ہوئے ایم این ایس کے لیڈر راج ٹھاکرے نے 12 فروری کو راجیہ شاہراہ پر’ راستہ روکو‘ تحریک کا اعلان کیا تاکہ چنگی ٹیکس کو ختم کرنے کے لئے دباؤ بنایا جاسکے۔ ایس پی کالج پنے کے میدان پر منعقدہ ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا ایم این ایس کی لڑائی تب تک چلے گی جب تک سرکار سڑک کو عمدہ نہیں بنا دیتی۔پانچویں ریلی تو نہیں لیکن لکھنؤ میں سپا پرمکھ ملائم سنگھ یادو کی پارٹی ہیڈ کوارٹر میں اینٹری اور قومی ایگزیکٹو و ضلع پردھانوں کو ایتوار کو خطاب کرتے ہوئے ملائم سنگھ نے کہا کہ مودی کہتے ہیں کہ وکاس پر بحث کریں۔ جب ہم نے انہیں بتایا کیا گجرات میں یوپی کی طرح کنیا ودیا دھن ، بے روزگاری بھتہ اور مفت دوائی اور پڑھائی جیسی سہولیات ملی ہوئی ہیں، تو وہ جواب نہیں دے پائے۔ ملائم نے کانگریس پر حملہ بولتے ہوئے مہنگائی کرپشن اور لچر خارجہ پالیسی پر بھی گھیرا تو بھاجپا کے پردھان منتری کے امیدوار نریندر مودی کو کہا کہ انہیں غلط بیانی سے بچنا چاہئے ،جو سپا یوپی میں دے رہی ہے وہ گجرات میں نہیں دیا جارہا ہے۔ کل ملا کر ایتوار ریلیوں کی گہما گہمی کا دن رہا۔تقریباً ان سبھی کے نشانے پر نریندر مودی ہی رہے۔
(انل نریندر)

منی پور کی طالبہ سے آبروریزی پھر ہوئی دہلی شرمسار!

اروناچل پردیش کے طالبعلم نیڈو نیوتم کی موت کا معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہو پایا تھا کہ نارتھ ایسٹ کے ایک اور راجیہ منی پور کی باشندہ ایک نابالغ طالبہ کے ساتھ بدفعلی کئے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ لاجپت نگر میں اروناچل پردیش کے طالبعلم نیڈو کی پٹائی سے ہوئی موت اور کوٹلہ مبارک پور میں منی پور کی دو طالبہ سے چھیڑ چھاڑ کا معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں پڑا تھا کہ منیرکا میں منی پور کی ہی 14 سالہ طالبہ سے آبروریزی کے بعد شمال مشرق کے لوگوں کا غصہ بھڑکنا فطری ہے۔ پولیس حکام کے مطابق 14 سالہ لڑکی بسنت وہار علاقے میں ٹریول ایجنسی میں کام کرنے والی اپنی خالہ کے پاس رہتی ہے۔ لڑکی ایتوار کی رات قریب10:30 بجے برتن دھونے کا صابن لینے گھر سے نکلی، اسی دوران اس کے مالک مکان کے بیٹے آشیش(نام تبدیل) نے اسے گھر میں کھینچ لیا۔ ملزم نے لڑکی کے ساتھ آبروریزی کی اور احتجاج کرنے پر تھپڑ اور گھونسے مارے۔ واردات کے بعد لڑکی روتے ہوئے اپنے گھر کے راستے میں پڑی جوس کی دوکان چلانے والے ایک لڑکے کے پاس پہنچے مگر زبان نہ سمجھ پانے سے وہاں موجود لوگ متاثرہ لڑکی کی بات سمجھ نہیں پائے۔ اس دوران نارتھ ایسٹ کے دو لڑکے وہاں پہنچے۔ انہوں نے معاملے کو سمجھا اسکے بعد اس کو میڈیکل جانچ کے لئے صفدرجنگ ہسپتال لے جایا گیا جہاں آبروریزی کی تصدیق ہوگئی۔ ساؤتھ دہلی پولیس کے حکام نے نابالغ کے جسم پر چوٹ کے نشانے کی تصدیق کی ہے۔ معاملے کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی بنائی گئی ہے۔ نابالغ لڑکی کی شکایت پر معاملہ درج کر لڑکے کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا ملزم لڑکے کی پہچان وکی کی شکل میں ہوئی۔بدفعلی کے اس ملزم کا یہ پہلا گناہ نہیں ہے اس کے خلاف پہلے بھی چھیڑ چھاڑ کا معاملہ درج ہے۔ ملزم پچھلے برس منریکا میں ایک لڑکی کے گھر میں گھس گیا تھا اور چھیڑ چھاڑ کے الزام میں پکڑا گیا تھا لیکن اس وقت ضمانتی دفعات ہونے کے سبب چھوٹ گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ایک بار پھر نارتھ ایسٹ کے لوگوں کی سلامتی کو لیکر دہلی شرمسار ہوئی ہے اور پولیس چوکسی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ واقعے کے احتجاج میں نارتھ ایسٹ کے ناراض لوگوں اور جے این یو کے مشتعل طلبہ نے وسنت وہار تھانے کے سامنے جم کر ہنگامہ کیا اور تھانے میں گھس گئے اور کئی گھنٹے تک تھانے کے باہر ڈیرا ڈالے رہے۔ پچھلے کچھ دنوں میں یہ ایسی چوتھی واردات ہے جہاں نارتھ ایسٹ کے طلبا سے وارداتیں ہوئی ہیں۔ 31 جنوری2014ء کو لاجپت نگر میں اروناچل کے ممبر اسمبلی کے بیٹے نیڈو کا قتل ہوا تھا۔ 29 جنوری2014ء کو کوٹلہ مبارک پور میں نارتھ ایسٹ کی ہی دو لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ اور مار پیٹ ہوئی تھی۔ ایسے ہی اگست2013ء میں دہلی یونیورسٹی کی تین طلبا سے نارتھ دہلی میں مارپیٹ ہوئی تھی وہیں 2013ء میں منی پور کی 21 سالہ لڑکی مالویہ نگر میں اپنے کرائے کے گھر میں مردہ پائی گئی تھی اور اس کی لاش خون سے لت پت تھی۔ فروری2013ء میں دہلی یونیورسٹی کیمپس میں منی پور کے 10 طالبعلموں پر حملہ ہوا۔ بدفعلی کے واقعے سامنے آنے کے بعد دہلی مہلا کمیشن کی چیئرپرسن برکھا سنگھ بھی کچھ خاتون ممبروں کے ساتھ ایتوار کی دوپہر وسنت وہار تھانے گئیں اور متاثرہ لڑکی سے ملیں اور پولیس کی کارروائی کے بارے میں جانا۔ انہوں نے کہا نارتھ ایسٹ کے ہر اشو کو لیکر سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ بدفعلی کا واقعہ دہلی سرکار کے لئے شرم کی بات ہے ۔ وہیں عام آدمی پارٹی نے اس معاملے میں دہلی پولیس کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا عورتوں کے خلاف مسلسل جرائم بڑھ رہے ہیں دہلی کی عوام اور سرکار لاچار ہے۔ دہلی پولیس کو اپنے دائرہ اختیار میں لیکر مرکزی سرکار ان معاملوں کو نظر انداز کررہی ہے۔ پارٹی کے مطابق ’آپ‘ کی شروعات سے ہی یہ مانگ رہی ہے کہ اس طرح کے معاملوں میں وابستہ پولیس افسر کی ذمہ داری طے ہونی چاہئے۔ یہ دہلی کے شہریوں کے لئے شرم کی بات ہے کہ آبروریزی اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات پر کسی بھی طرح لگام نہیں لگ پا رہی ہے اور ان میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا کسی سازش کے تحت نارتھ ایسٹ کے لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے؟

 (انل نریندر)

11 فروری 2014

اسیما نند کا مبینہ بیان اور عشرت جہاں فرضی مڈبھیڑ!

گذشتہ ہفتے دو ایسی خبریںآئیں جو بہت بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔دونوں ہی بھاجپا اور آر ایس ایس سے ایک طرح سے وابستہ ہیں۔ پہلا واقعہ سمجھوتہ ایکسپریس سمیت کچھ دیکر دھماکوں کے ملزم سوامی اسیمانند کا مبینہ انٹرویو، دوسرا عشرت جہاں فرضی مڈ بھیڑ سے متعلق ہے۔ پہلے سوامی اسیما نند کے مبینہ انٹرویو کی بات کرتے ہیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں سمیت کچھ دیگر معاملوں کے ملزم سوامی اسیما نند انبالہ جیل میں بند ہیں۔ ایک میگزین’’کارواں‘‘ نے جیل کے اندر بند سوامی جی کا انٹرویو لینے کا دعوی کیا ہے۔ ایک بڑے انگریزی اخبار نے اس انٹرویو کی خبر مفصل سے شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے سوامی اسیما نند کو ان دھماکوں کے لئے نصیحت دی تھی۔ اور کہا تھا کہ مسلم سماج کو ان دھماکوں سے سوامی جی کوئی سخت سندیش دے سکتے ہیں تو یہ بہت اچھا ہوگا۔ اس سنسنی خیز خلاصے سے سیاست گرما گئی ہے۔ کانگریس ۔ بی ایس پی۔ سپا نے جمعرات کو آر ایس ایس پر زوردار حملہ بولا۔ ’’کارواں‘‘ میگزین نے مالیگاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں میں ملزم سوامی اسیما نند کی مبینہ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ سنگھ پرمکھ موہن بھاگوت کو دھماکوں کے بارے میں جانکاری تھی اور اسے باقاعدہ ان کا آشیرواد حاصل تھا۔ میگزین نے اسیما نند سے بات چیت کے ٹیپ بھی جاری کئے۔ سوامی اسیما نند پر سال 2006 سے2008 کے درمیان سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ (فروری 2007 )حیدر آباد مکی مسجد دھماکہ (مئی 2007) اجمیر درگاہ (اکتوبر2007 )اور مالیگاؤں میں دو دھماکے (ستمبر2006-08 ) کا الزام ہے۔ان دھماکوں میں کل 119 لوگ مارے گئے تھے۔ اس خبر پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے جیسے ذمہ دار شخص نے بھی کہہ دیا کہ اسیما نند نے اگر سنگھ پرمکھ موہن بھاگوت کے بارے میں کچھ کہا ہے تو وہ صحیح ہوگا۔ مرکزی وزیر راجیو شکلا نے کہا کہ یہ سنگین اشو ہے اور وزارت داخلہ کو اس بارے میں نوٹس لینا چاہئے۔ادھر آر ایس ایس کے ترجمان رام مادھو نے کہا کہ اس انٹرویو کا جواز اور ان کے آڈیو کو لیکر کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔اسیما نند تو خود مجسٹریٹ کے سامنے یہ کہہ چکے ہیں کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ سنگھ کے پرچارک ایم۔جی وید کا کہنا ہے کہ جھوٹے پروپگنڈہ سے کانگریس کو فائدہ نہیں ملے گا۔ بھاجپا نیتا روی شنکر پرشاد نے کہا کہ اسیما نند کے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے وکیل بھی اس کی تردید کرچکے ہیں۔ شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ کانگریس سرکار کی قیادت میں سکیورٹی ایجنسیوں نے کئی لوگوں پر ایسا دباؤ بنایا خود سوامی اسیما نند نے اس خبر کو جھوٹا اور بے تکا قرار دیا ہے۔ جمعہ کے روز اسیما نند کا ایک پرچہ سامنے آیا جس میں لکھا گیا ہے کہ اسیما نند ایک رپورٹر سے ملے ضرور ہیں لیکن انہوں نے ایسا کوئی انٹرویو نہیں دیا ہے۔ میگزین کی رپورٹر ان سے ایک وکیل کے بھیس میں ملی تھی۔ اسیما نند نے میگزین پر مقدمہ دائر کرنے کی بھی چنوتی دی ہے۔اپنے خط میں اسیما نند نے یہ مانا ہے کہ انہوں نے رپورٹر سے کئی بار سماعت کے دوران ملاقات کی تھی۔ ان کا دعوی ہے کہ ان کی رپورٹر سے صرف سماجی کاموں کو لیکر بات چیت ہوئی ہے۔ ادھر این آئی اے نے جمعہ کو اس اشو سے دوری بناتے ہوئے کہا کہ اسیما نند کے مبینہ انٹرویو کی اشاعت میں نہ تو ان کا کوئی رول ہے اور نہ ہی الزامات کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ ایجنسی نے ایک بیان میں کہا نموکمار سرکار عرف سوامی اسیما نند کے ایک جریدے کے فروری 2014ء کے شمارے میں شائع مبینہ انٹرویو کے سلسلے میں این آئی اے کی پوزیشن پر بھی میڈیا کی الگ الگ طرح کی رپورٹیں ہیں۔ این آئی اے صاف کرتی ہے کہ یہ خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں اور کسی بھی طرح این آئی اے کی سرکاری پوزیشن نہیں دکھاتیں۔ اسیما نند کے وکیل نے الزام لگایا تھا کہ یہ انٹرویو ایجنسی کے ذریعے لیا گیا اوریہ ردوبدل کا نتیجہ ہے۔میگزین کا یہ دعوی ہے کہ سوامی اسیما نند نے سنگھ پرمکھ کا نام لیا ہے یہ بے بنیاد الزام ہے اور اس میں کوئی دم نہیں ہے۔ اب آتے ہیں عشرت جہاں فرضی مڈبھیڑ پر۔ سی بی آئی نے عشرت جہاں فرضی مڈبھیڑ معاملے میں جمعرات کو دوسری چارج شیٹ دائر کردی ہے اس میں خفیہ بیورو (آئی بی) کے سابق اسپیشل ڈائریکٹر راجندر کمار سمیت تین دیگر افسران کو قتل اور مجرمانہ سازش کا ملزم بنایا گیا ہے۔ راجندر کمار کے خلاف مسلح قانون کے تحت فاضل الزام لگایا ہے۔ سی بی آئی نے الزام لگایا ہے کہ کمار نے مڈبھیڑ سے ایک دن پہلے13 جون 2009 ء کو ملزمان کو ہتھیار مہیا کرائے تھے۔ سی بی آئی نے مزید الزام لگایا کہ کمار نے گجرات پولیس کے افسر جی۔ سنگھل کو ہتھیار اور گولہ بارود سونپے ان کا استعمال مڈ بھیڑ کو انجام دینے میں کیا گیا۔
قابل ذکر ہے 14 جون2004 ء کو مشرقی احمد آباد میں کرائم برانچ کے ساتھ مڈ بھیڑ میں ممبئی کی باشندہ عشرت جہاں سمیت چار لوگ مارے گئے۔ بتایا گیا کہ یہ آتنکی تھے اور نریندر مودی کو مارنے آئے تھے۔ بعد میں مڈبھیڑ فرضی بتائی گئی۔ اس کیس میں تین اہم اشو تھے پہلا کہ کیا یہ مڈ بھیڑ فرضی تھی؟ دوسرا کیا گجرات کے سابق وزیر مملکت داخلہ امت شاہ اس میں شامل تھے؟ تیسرا کیا عشرت جہاں اور اس کے تین دیگر ساتھی آتنکی تھے؟دوسری چارج شیٹ سے یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ مڈ بھیڑ فرضی تھی۔ اس میں امت شاہ شامل نہیں تھے۔ کم سے کم اب تک درج کی گئی دو ایف آئی آر میں امت شاہ کا نام نہیں ہے۔ تیسرے اشو کا جواب ابھی تک نہیں ملا ہے وہ یہ ہے کہ کیا عشرت جہاں اور اس کے ساتھی آتنکی تھے؟ کیونکہ امت شاہ کا نام اتنا اچھالا گیا کے اب تو خود سی بی آئی چیف رنجیت سنہا نے کہا کہ اگر عشرت جہاں معاملے میں جڑی چارج شیٹ میں بھاجپا نیتا امت شاہ کا نام آیا ہوتا تب یو پی اے سرکار خوش ہوتی۔ فرضی مڈ بھیڑ معاملے میں شاہ سے دو بار پوچھ تاچھ کی تھی لیکن ان کا نام چارج شیٹ میں ملزم کی شکل میں نہیں تھا۔ سنہا کے حوالے سے کہا گیا کہ سیاسی امیدیں تھیں کہ یوپی اے سرکار خوش ہوتی اگر ہم نے امت شاہ کو ملزم بنایا ہوتا لیکن ہم پوری طرح سے ثبوت کی بنیاد پر بڑھے اور پایا کہ شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے لائق ثبوت نہیں ہے۔ بھاجپا سی بی آئی پر کانگریس سے سانٹھ گانٹھ کا الزام لگاتی رہی ہے اور پارٹی ترجمان نرملا سیتا رمن نے کہا سی بی آئی ڈائریکٹر کی جانب سے یہ اہم بیان آیا ہے۔ سہراب الدین معاملے میں بھی تین برس پہلے مقدمہ چلانے کے ثبوت نہیں تھے۔ سی بی آئی نے بھاجپا پی ایم امیدوار نریندر مودی اور امت شاہ پر نشانہ سادھنے کی کوشش کرکے کانگریس یوپی اے سرکار کو مجاز کیا ہے۔ 
(انل نریندر)

09 فروری 2014

بہت جلدی میں کیجریوال تبھی تو ترکش کے سبھی تیر چلا رہے ہیں!

لگتا ہے کہ دہلی کے مکھیہ منتری اروند کیجریوال لوک سبھا چناؤ2014ء کے نشانے کو سادھنے کیلئے اپنے ترکش کے سبھی تیر چلانا چاہتے ہیں۔ حلف لینے کے 48 گھنٹے میں ہی وہ یہ مان کر چلنے لگے کے ان کی سرکار زیادہ دن تک نہیں چل سکتی اور اب لگتا ہے کہ وہ 13 سے16 فروری تک ہی سرکار مان کر کام کررہے ہیں۔ ایسے میں ہر طبقے کو ٹارگیٹ کرکے فیصلے کررہے ہیں یا پھر ایسے مدعے اٹھا رہے ہیں جس سے ان کا وزارت داخلہ اور حکومت ہند سے ٹکراؤ ہو۔دراصل وہ یہ ٹکراؤ چاہتے ہیں تبھی تو جانتے ہوئے بھی ایسے مدعے اٹھا رہے ہیں جن کے بارے میں انہیں معلوم ہے کہ یہ دہلی سرکار کے تحت نہیں ہیں، یا تو انہیں لیفٹنٹ گورنر پاس کرے گا یا پھر مرکزی وزارت داخلہ۔ بھارتی کے خلاف کارروائی کو لیکر ملی بھگت کا الزام ہٹانے کے لئے کیجریوال نے اب ان مدعوں پر توجہ مرکوز کی ہے جو بھرشٹاچار سے متعلق ہیں۔کیجریوال اب اپنی معاون پارٹی کانگریس کے لئے نئی مصیبت کھڑی کرنے جارہے ہیں۔
کامن ویلتھ کھیلوں میں تمام گھوٹالے ہوئے۔ اس کی چرچا سالوں سے ہورہی ہے۔ اب کیجریوال اینڈ کمپنی نے ان گھوٹالوں کے معاملے میں اس وقت کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کو گھیرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو کو وزیر اعلی نے ہدایت کی ہے کہ شیلا دیکشت سمیت سبھی قصورواروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے کارگر کارروائی کریں۔ سمجھا جارہا ہے کہ دہلی سرکار کی پہل کے بعد اینٹی کرپشن بیورو شیلا دیکشت کے خلاف بھی غیر ضمانتی مجرمانہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرے گی ۔غیر ضمانتی دفعات لگائی جاتی ہیں تو شیلا پر گرفتاری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تازہ معاملہ کھیلوں کے دوران لائٹوں کی خرید میں ہوئے گھپلے سے جڑا ہے۔ کامن ویلتھ گیمس کے دوران نہرو اسٹیڈیم کے پاس لودھی روڈ پر جدید اسٹریٹ لائٹ لگائی گئی تھیں۔
کانگریس سرکار کے حکم پر ایم سی ڈی نے یہ لائٹیں لگائی تھیں۔ بتاتے ہیں کہ تب کی وزیر اعلی نے ان لائٹوں کے بھگوا کلر پر اعتراض ظاہر کیا تھا اور ان لائٹوں کو بدلنے کے احکامات دئے تھے۔ آناً فاناً میں مہنگی شرحوں پر (92 کروڑ روپے)دوبارہ لائٹیں لگائی تھیں۔جس سے بعد میں سرکار پر بھرشٹاچار کے الزام لگے تھے۔ بعد میں کامن ویلتھ گیمس سے جڑی جانچ میں سی اے جی نے بھی ان لائٹوں کی خرید پر سوال کھڑے کئے تھے۔ بعد میں کامن ویلتھ سے جڑی جانچ میں سی اے سی نے بھی ان لائٹوں پر معاملے کو رفع دفع کردیا تھا۔ معاملہ سال2008ء کے ودھان سبھا کے چناؤ کا ہے۔ چناؤ ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے باوجود دہلی سرکار نے مختلف اخبارات میں غریبوں کو سستی شرحوں پر مکان دینے کے اشتہارات جاری کئے تھے۔
ان اشتہارات کے خلاف بی جے پی نیتا ویجندر گپتا نے لوک آیکت میں شکایت کی تھی۔ جانچ کے بعد لوک آیکت نے ان اشتہارات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے وزیر اعلی شیلا دیکشت کے خلاف حکم جاری کیا تھا لیکن بعد میں اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ کیجریوال سرکار ناجائز کالونیوں کو شیلا سرکار کے ذریعے مستقل کرنے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کی بھی سفارش کر چکی ہے۔دراصل اسی ایف آئی آر کی بنیاد پر گیمس سے جڑی کمیٹیوں نے دہلی سرکار ، ڈی ڈی اے، این ڈی ایم سی، ایم سی ڈی و کھیل منترالیہ کے خلاف کئی معاملے اٹھائے۔سی اے جی، سی بی آئی اور سی بی سی نے جانچ کی۔ لیکن سبھی جانچ بند کردی گئی کسی قصوروار کو سزا نہیں ملی۔
کیجریوال سرکار نے سبھی محکموں کی فائل نکلوائی، ٹنڈر کاغذات، کیگ رپورٹ، شنگلو کمیٹی رپورٹ، پی ڈبلیو ڈی کی فائلیں نکالیں۔ ان میں سے پی ڈبلیو ڈی وزیر منیش سسودیا نے فائنل رپورٹ تیار کی۔ جب دہلی پردیش کانگریس صدر اروند ر سنگھ لولی سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ (کیجریوال سرکار) چاہے جتنی بھی جانچ کرالیں ،ہم ڈرتے نہیں ہیں اس لئے کے ہم نے کچھ غلط نہیں کیا۔ لولی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاملے میں پہلے بھی دو جانچ ہوچکیں ہیں، ایک جانچ اور ہوجائے گی، جب کچھ غلط ہے نہیں تو نکلے گا کیا؟ سی ایم کیجریوال ایسی کتنی بھی جانچ کرائیں لیکن ان وعدوں پر بھی کام کریں جن کے دم پر وہ جیت کر آئے ہیں۔ان کا دھیان اب مدعوں پر نہیں ہے وہ بجلی کی شرح 50 فیصد کرکے دکھائیں۔ دہلی کے ہر گھر میں فری پانی دیں۔ لوگوں کی نوکری پکی کریں لیکن وہ ان سارے معاملوں کی کسوٹی پر کھرے نہیں اتررہے ہیں بلکہ وہ وعدوں سے پلٹنے کا راستہ تلاش رہے ہیں اور پبلک سب دیکھ رہی ہے۔
اروند کیجریوال اور ان کے سپا سالاروں کا مقصد ہے لوک سبھا چناؤ سے پہلے اپنا ایجنڈا پبلک تک پہنچانا۔ چاہے معاملہ بھرشٹاچار سے متعلق ہو، چاہے وہ قانون و انتظام کا ہو یا پھر سکھ طبقے کے لئے دیویندر پال سنگھ بھلرکی پھانسی کو عمر قید میں بدلنے اور سکھ دنگوں کے لئے ایس آئی ٹی کی سفارش کا ہو، آٹو رکشا ڈرائیوروں کے لئے ویلفیئر بورڈ کا ہو ، سی این جی کے بڑھے دام کا ہو۔ بے گھروں کے لئے رین بسیروں کی بات کررہے ہیں بھرشٹاچار روکنے کے لئے ہیلپ لائن نمبر، مسائل سننے کے لئے افسروں کی روزانہ ایک گھنٹے کے لئے سنوائی کرنا، سبھی کیجریوال اینڈ کمپنی کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔شمال مشرق کے ووٹروں کو رجھانے کے لئے اروناچل پردیش کے طالبعلم کے قتل کے معاملے میں مجسٹریٹی جانچ کے احکامات دینے کے ساتھ دھرنے میں بھی شامل ہوئے۔ اب لوک پال بل پر اڑ کر انہوں نے سیدھے مرکزی سرکار ،وزارت داخلہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے ٹکر لی ہے۔ کل ملاکر اروند کیجریوال جلدی میں ہیں اور اپنے ترکش کے سبھی تیر چلانا چاہتے ہیں۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...