Translater

21 ستمبر 2024

ٹرمپ کو قتل کرنے کی ایک اور کوشش

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کوشش اس وقت کی گئی جب ٹرمپ اتوار کو فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں واقع اپنے گولف کلب میں کھیل رہے تھے۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے اہلکاروں نے اس کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ نو ہفتے قبل، 13 جولائی کو پنسلوانیا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ایک بندوق بردار نے ٹرمپ (78) کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں ایک گولی ٹرمپ کے دائیں کان سے لگی تھی۔ میامی میں اسپیشل ایجنٹ انچارج رافیل بٹوس نے بتایا کہ ویسٹ پام بیچ میں ٹرمپ انٹرنیشنل گالف کلب کے میدان میں ایک خفیہ سروس کے ایجنٹ نے ایک بندوق بردار پر فائرنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی ابھی یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ زیر حراست ملزمان نے ہمارے ایجنٹ پر بھی فائرنگ کی یا نہیں۔ جہاں سے ٹرمپ گولف کھیل رہے تھے وہاں سے کچھ دور چھپے ہوئے امریکی خفیہ سروس کے ایک ایجنٹ نے تقریباً 400 گز کے فاصلے پر جھاڑیوں کے درمیان رائفل کا بیرل دیکھا۔ پام بیچ لیگل کے رک کرڈشا نے بتایا کہ ایک ایجنٹ نے فائرنگ کی اور مشتبہ شخص بھاگ گیا۔ ٹرمپ کی مہم کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے اس کے فوراً بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کو گولی لگی لیکن وہ محفوظ رہے۔ اس وقت مزید معلومات نہیں دی جا سکتی ہیں۔ اپنے حامیوں کو بھیجے گئے پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ میرے اردگرد فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ افواہیں قابو سے باہر ہو جائیں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں محفوظ اور ٹھیک ہوں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ مجھے کوئی حد نہیں روک سکتی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہوائی میں قائم فورئی کنسٹرکشن کمپنی کے 58 سالہ مالک کرمان بنیلے راو¿س کو اتوار کے واقعے کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ نیویارک پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ روتھ کا شمالی کیرولینا میں پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ ہے اور وہ اکثر سیاسی مسائل پر پوسٹس شیئر کرتا ہے۔ پام بیچ پریسنٹ کے رورف نے بتایا کہ ایف بی آئی آزر نے رک بادشا پر تقریباً چار راو¿نڈ فائر کئے۔ اس کے بعد رائفل چلانے والے نے اپنی AK-47 کو اسالٹ رائفل کی طرح استعمال کرنا شروع کر دیا۔افل ایک سیاہ کار میں دو بیک پیک اور دیگر اشیائ چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا۔ ملزم ریان روتھ یوکرین کا حامی ہے۔ 2023 میں، اس نے نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ پاکستان اور ایران سے طالبان کی حکومت سے فرار ہونے والے افغان فوجیوں کو یوکرین لے جانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب یوکرائنی حکام کا کہنا تھا کہ ان کا مشتبہ روتھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ساتھ ہی روس نے اشارہ دیا تھا کہ ٹرمپ کے قتل کی کوشش اور یوکرین اور امریکی حامیوں کے درمیان تعلق ہے۔ دریں اثنا، ٹرمپ نے دوسرے قاتلانہ حملے کے دوران اپنی حفاظت کو یقینی بنانے پر سیکرٹ سروس کا شکریہ ادا کیا اور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ افسران نے بہت اچھا کام کیا۔ مجھے ایک امریکی ہونے پر بہت فخر ہے۔ (انل نریندر)

صرف آتشی ہی کیوں؟

بہار میں، جب نتیش کمار نے مئی 2014 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا، تو انہوں نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے جیتن رام مانجھی پر اعتماد کیا۔ جھارکھنڈ میں ہیمنت سورین نے جنوری 2024 میں جیل جانے سے پہلے چمپائی سورین پر بھروسہ کیا اور انہیں وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ لیکن جب نتیش اور ہیمنت اقتدار میں واپس آئے تو جیتن رام مانجھی، چمپائی سورین نے راہیں جدا کر لیں اور بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا۔ اب جب اروند کیجریوال نے دہلی میں سی ایم کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے آتشی پر بھروسہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیجریوال نے نتیش اور ہیمنت کے ساتھ واقعات کو دیکھ کر بھی آتشی پر اعتماد کیوں کیا؟ حالانکہ جیل جانے کے بعد ان کی اہلیہ سنیتا کیجریوال بھی سرگرم ہوگئیں، لیکن کیجریوال نے آتشی کا انتخاب کیا۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رہنما سومناتھ بھارتی نے دی ہندو اخبار کو بتایا کہ جب اروند جی اور منیش جی جیل میں تھے۔ آتشی نے پارٹی سے متعلق معاملات کو سنبھالنے میں اپنی صلاحیت ثابت کی ہے۔ آتشی اروند اور سسودیا کی ہدایات ایم ایل اے اور کونسلروں تک پہنچاتے رہے تھے۔ اس کے علاوہ آتشی پارٹی میں ایک خاتون چہرہ بھی ہیں۔ ایم ایل اے سنجیو جھا کا کہنا ہے کہ اسمبلی انتخابات میں صرف چند ماہ باقی ہیں۔ ہم پارٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ آتشی کو اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ وہ فی الحال زیادہ سے زیادہ محکموں کو سنبھال رہی تھیں۔ آتشی کو حکمرانی کی بھی اچھی سمجھ ہے۔ ایک اور سینئر لیڈر نے کہا کہ آتشی کا انتخاب کرنا فطری تھا کیونکہ وہ قابل اعتماد ہیں اور کبھی پارٹی کے خلاف نہیں گئیں۔ کیجریوال خود آئی آئی ٹی گریجویٹ ہیں اور وہ ہمیشہ پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ آتشی ایک بہت پڑھی لکھی عورت ہے۔ اس نے پرنگ ڈیل اسکول، دہلی میں تعلیم حاصل کی۔ گریجویشن سینٹ سٹیفن کالج دہلی سے کیا۔ پھر باوقار Chivening اسکالرشپ حاصل کی. آتشی نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے اندر کچھ لوگ آتشی کو آکسفورڈ ریٹرن بھی کہتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق آتشی ترقی کے شعبے میں واپس آنا چاہتے تھے لیکن کیجریوال نے ایسا نہیں ہونے دیا اور انہیں پارٹی سے وابستہ رہنے کو کہا۔ آتشی پارٹی کے بانی ارکان پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کے قریب تھے۔ یوگیندر یادو کو بعد میں پارٹی سے نکال دیا گیا، پرشانت بھوشن بھی الگ ہوگئے لیکن آتشی پارٹی میں ہی رہے۔ کہا جاتا ہے کہ کیجریوال آتشی کے ذریعے جیل سے دہلی حکومت چلا رہے تھے۔ آتشی نے 2013 میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 2015 سے 2015 تک وزیر تعلیم منیش سسودیا کے مشیر کے طور پر کام کیا۔ انہوں نے دہلی کے سرکاری اسکولوں کی سمت کو بہتر بنانے، اسکول مینجمنٹ کمیٹیاں بنانے اور پرائیویٹ اسکولوں کو فیسوں میں اضافے سے روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے۔ جب گوپال رائے نے 17 ستمبر کو آتشی کے وزیر اعلی کے طور پر انتخاب کے بارے میں میڈیا کو بتایا، تو انہوں نے کہا، آتشی مشکل حالات میں دہلی کے وزیر اعلی بن رہے ہیں. آتشی عام آدمی پارٹی (اے اے پی) میں ایک بے داغ چہرہ ہے، جسے بدعنوانی کے خلاف مہم کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ سی ایم کے اعلان کے بعد آتشی نے کہا کہ جب تک میں وزیراعلیٰ ہوں۔ میرا مقصد صرف اروند کیجریوال کو بے داغ وزیراعلیٰ بنانا ہے۔ میں اروند کیجریوال کی رہنمائی میں کام کروں گا۔ آج میں دہلی کے دو کروڑ عوام کی طرف سے کہنا چاہوں گا کہ دہلی کے صرف ایک وزیر اعلیٰ ہیں اور ان کا نام اروند کیجریوال ہے۔ اتیشی کو نیا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد۔

19 ستمبر 2024

وادی کشمیر میں آزاد امیدواروں پر کھیلا بی جے پی نے داو ¿!

دس سال بعد جموں کشمیر میں ہو رہے اسمبلی انتخابات میں کیا بھارتیہ جنتا پارٹی چنوتیوں کا سامنا کررہی ہے ؟ جموں جہاں بی جے پی توقع سے بہتر پرفارمنس کی امید کررہی ہے وہاں پارٹی کے اندر ناراضگی کی خبریں ہیں۔وہیں وادی کشمیر کی 47 سیٹوں پر بی جے پی نے صرف 19 امیدوار کھڑے کئے ہیں یعنی 28 سیٹوں پر بھاجپا نے امیدوار نہیں اتارے ۔ایسے میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیابھاجپا جموں کشمیر میں غیر مقبول ہو گئی ہے ؟ وزیراعظم نریندرمودی ،وزیر داخلہ امت شاہ ودیگر لیڈروں نے دعویٰ کیا تھا کہ آرٹیکل 370- ہٹنے کے بعد علاقہ میں پہلے کے مقابلے امن ہے ۔اور کشمیر وادی کے لوگوں نے بھی سرکار اور بھاجپا پر بھروسہ کیا ہے ۔لیکن لوک سبھا چناو¿ میں بی جے پی کا وادی کشمیر میں امیدوار نا اتارنا اور پھر اسمبلی چناو¿ میں آدھی سے کم سیٹوں پر امیدوار کھڑے کرنے سے سوال اٹھ رہے ہیں ۔2024 کے لوک سبھاچناو¿ میں بھی بی جے پی نے کشمیر وادی میں امیدوار نہیں اتارے تھے صرف جموں میں کھڑے کئے تھے ۔بھاجپا نے دعویٰ کیا کہ آرٹیکل 370 ہٹنے کے بعد وادی میں ا من اور حالات نارمل ہونے لگے ہیں ۔سرکار کا یہ دعویٰ کتنا کھوکھلا نکلا اسی سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیر وادی میں پارٹی آج تک چناو¿ اپنے بل بوطے پر نہیں جیت پائی ۔دیکھو دیکھو کون آیا ،شیر آیا جیل کا بدلا ووٹ سے انجینئر رشید جب دہلی کی تہاڑ جیل سے ضمانت پر چھوٹنے کے بعد پہلی مرتبہ بارہمولہ میں اپنے حمایتیوں کو خطاب کرنے آئے تو یہ نعرہ لگ رہا تھا ۔اب انجینئر رشید کھل کر کمپین کررہے ہیں ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ امید ہے کہ جموں خطہ کی زیادہ سیٹیں جیتے گی اور اگر وادی میں ا نہیں 20 سیٹیں بھی مل جاتی ہیں تو وہ سرکار بنا سکتی ہے۔جموں کشمیر اسمبلی میں 90 سیٹیں ہیں ۔اکثریت کے لئے 46 سیٹیں چاہیے ۔اگر وادی میں وہ 30 سیٹیں بھی جیت لیتی ہے تو وہ گروپ کے امیدواروں کے علاوہ کچھ ان کے کھڑے کئے گئے آزاد ا میدواروں کی مدد سے سرکار بنا سکتی ہے ۔رہا وادی میں دہشت گرد ختم ہونے کا دعویٰ جو بی جے پی کررہی ہے تو شاید ہی ایسا کوئی دن جاتا ہو جب جموں کشمیر میں آتنکی واردات ناہوں ۔وادی میں انجینئر رشید نے 35 اسمبلی سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے ہیں ۔ان کی پرفارمنس کافی حد تک یہاں کے نتیجوں پر اثرانداہوگی ۔انہیں چناو¿ پرچار کے لئے 20 دن کی ضمانت ملی ہے ۔پچھلے قریب 4 سال سے آتنکیوںنے کئی وار کئے ہیں یہاں سیکورٹی فورس پر اس سال جون اور جولائی کے مہینوں میں حملوں میں 10 فوجی شہید ہوئے ۔2020 میں 56 ،2021 میں 45 ، 2022 میں 30 ،2023 میں 33 فوجی شہید ہوئے ۔اس سال اب تک آتنکیوں سے نمٹنے کے لئے الگ الگ کاروائیاں اور آتنکیوں کے ذریعے تاک لگا کر حملے میں 20 فوجی شہید ہوئے ہیں ۔پہلے سے خاموش جموں اب سب سے زیادہ گڑبڑ زدہ علاقہ بن گیا ہے ۔یہ بہرحال ظاہرکرتاہے کہ جموں کشمیر میں جنتا میں چناو¿ کو لے کر کافی زوش وخروش پایا جاتا ہے ۔کچھ پرانے آتنکی بھی چناو¿ لڑ کر قومی دھارا میں آنا چاہتے ہیں ۔کشمیری پنڈت مہلا یہ چناو¿ لڑرہی ہے ۔یہ جموریت کو مضبوطی دے گا ۔امید کی جاتی ہے کہ جموںکشمیر کی مکھیہ دارا سے پھر سے جڑے اور ریاست میں امن چین کی واپسی ہو۔ (انل نریندر)

پی ایم عہدے کی پیشکش ٹھکرائی !

بی جے پی نیتا راو¿ اندرجیت سنگھ ،انل وج اور نتن گڈکری ان تینوں کے بیان آج کل سرخیوں میں بنے ہوئے ہیں ۔راو¿ اندر جیت سنگھ اور انل وج نے تو کھل کر ہریانہ کے وزیراعلیٰ کی عہدیداری پر اپنا دعویٰ پیش کر دیا ہے وہیں نتن گڈکری کے ایک بیان کو بھی اپوزیشن کے کچھ لیڈر اسی انداز میں دیکھ رہے ہیں ۔پچھلے ہفتے مرکزی قومی شہری و ٹرانسپورٹ وزیر نتن گڈکری نے دعویٰ کیا مجھ سے کسی نیتا نے کہا کہ اگر آپ پردھان منتری بنتے ہیں تو ہم لوگ آپ کی حمایت کریں گے ۔کئی بار اپوزیشن لیڈر نتن گڈکری کو ایک بی جے پی کے ایسے لیڈر کی شکل میں پیش کرتے رہے ہیں جن کے پی ایم نریندر مودی اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ سے تعلقات اچھے نہیں ہیں ۔ایسی قیاس آرائیوں کو ہوا کئی بار گڈکری کے کچھ بیانوں سے بھی ملی ۔اسی کڑی میں گڈکری کا تازہ بیان بھی شامل ہے ۔14 ستمبر 2024 کو مرکزی وزیر نتن گڈکری نے ناگپورمیں ایک پروگرام میں شامل ہو کر کہا کہ میں کسی کانام نہیں لینا چاہتا لیکن ایک بار کسی نے کہا تھا کہ اگر آپ پردھان منتری بننے جارہے ہو تو ہم آپ کی حمایت کریں گے ۔گڈکری نے کہا میں نے پوچھا آپ میری حمایت کیو ں کریں گے اور میںآپ کی حمایت کیوں لوں ؟ وزیراعظم بننا میری زندگی کا مقصد نہیں ہے ۔میں اپنی تنظیم اور ا پنے کام کے تئیں ایماندارہوں میں کسی عہدے کے لئے سمجھوتہ نہیں کروں گا ۔میرے لئے عزم بالاتر ہے گڈکری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپوزیشن پارٹیوں میں بھی اچھی پکڑرکھتے ہیں ۔حال ہی میں انڈین ایکسپریس کے ایک پروگرام انڈیا ایکسچنج میں گڈکری سے اسے لے کر سوال پوچھا گیا تھا ۔سوال: آپ ان کچھ بی جے پی لیڈروںمیں سے ہیں جو اپوزیشن کو دشمن یا دیش مخالف نہیں مانتے ہیں ؟ تو انہوں نے جوا ب دیا ہم دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت ہیں ۔جمہوریت میں حکمراں اور اپوزیشن پارٹیاں ہوتی ہیں یہ کار یا ٹرین کے پہیوں کی طرح ہم ہوتے ہیں اور توازن ضروری ہے ۔سب کا وکاس ،سب کا پریاس ہمارا وعدہ یہی ہونا چاہیے۔گڈکری کے بیان پر شیو سینا ایم پی پرینکا چترویدی نے شوشل میڈیا پر لکھا کہ گڈکری جو بڑی کرسی کے لئے اپنی دلی خواہش ظاہر کررہے ہیں وہ اس کے لئے اپوزیشن پارٹیوںکے بہانے مودی جی کو سندیش بھیج رہے ہیں ۔آر جے ڈی نیتا منوج جھا نے کہا بی جے پی میں وزیراعظم کے عہدے کے لئے لڑائی شروع ہو چکی ہے آنے والے مہینوں میں آپ کو اس کے نتیجے دکھائی دینے لگیں گے ۔کیا اس بار بی جے پی نے نریندر مودی کوپردھان منتری چنا تھا انہیںاین ڈی اے نے چنا تھا ۔دراصل 2024 کے نتیجوں کے بعد بھاجپا کی پارلیمانی میٹنگ نہیں ہوئی ہے ۔کیوں نہیں ہوئی ؟ کیا مودی جی کو ڈر تھا کہ میٹنگ میں ان کی لیڈرشپ پر سوال اٹھیں گے اور ہوسکتا ہے کہ بغاوت کے حالات پیدا ہو جائیں ۔راجیہ سبھا کے سابق ایم پی اور سیاسی تجزیہ نگار کمار کو لے کیلکر سے پوچھاگیا کہ کیاگڈکری بی جے پی میں نریندر مودی کی جگہ لے سکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اعتماد کا ووٹ ہارتے ہیں تودوسرے امیدوار کی مانگ ہوگی ۔ایسے میں نتن گڈکری جانشین کے طور پر ابھر سکتے ہیں ۔گڈکری بی جے پی میں بھی اور سنگھ میں بھی پسندکئے جاتے ہیں ۔لوگوں کا تو کہنا ہے کہ گڈکری کے پیچھے سنگھ پوری طرح کھڑا ہے ۔اگر بی جے پی آنے والی چار ریاستوں کے چناو¿ میں اچھی پرفارمنس نہیں دے پاتی تو ممکن ہے گجرات لابی کو چنوتی ملے ۔اس پر صورت میں نتن گڈکری پہلی پسند ہوسکتے ہیں ۔گڈکری بہت سوچ سمجھ کر بیان دیتے ہیں ان کے بیانوں کے کئی مطلب نکالے جاسکتے ہیں ۔ (انل نریندر)

17 ستمبر 2024

سیتا رام یچوری کا جانا انڈیا اتحاد کیلئے جھٹکا!

مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری کا جمعرات کو دہلی کے ایمس ہسپتال میں دیہانت ہو گیا وہ کافی عرصہ سے بیمار تھے ۔انہوںنے 72 سال عمر پائی ۔بیمار ہونے کی وجہ سے وہ وینٹی لیٹر پر تھے ۔یچوری کے خاندان نے ان کی باڈی ریسرچ کے مقصد سے ایمس کو دان کر دی ہے ۔سیتا رام یچوری صرف بڑے لیفٹ لیڈر ہی نہیں تھے بلکہ لوک سبھا چناو¿ سے پہلے اپوزیشن اتحاد کیلئے انڈیا اتحاد بنانے والے سب سے بڑے ستون تھے ۔انڈیا اتحاد بنانے کا سہرہ جے ڈی یو نیتا نتیش کمار ،شردپوار ،راہل گاندھی ،اکھلیش یادو ،تیجسوی یادو اور سیتارام یچوری کو جاتا ہے ۔انڈیا اتحاد بننے سے پہلے کانگریس کی سینئر لیڈر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کیساتھ اپوزیشن اتحاد کو لے کر یچوری کی کئی ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں جب کانگریس نے چناو¿ سے پہلے پردھان منتری کا عہدہ نا مانگنے جیسی شرطوں پر اپنی رضامندی دی تھی تب یچوری نے اپوزیشن اتحاد بنانے کو لے کر کھل کر پردے کے پیچھے سے بڑا رول نبھایا تھا ۔سبھی پارٹیوں کے سینئر لیڈروں کے ساتھ یچوری کے پرانے اور ا چھے رشتوں کی وجہ سے یچوری نے اپوزیشن اتحاد کارول بڑے سلیقہ سے نبھایا ۔اپوزیشن اتحاد بن جانے کے بعد بھی سینئر لیڈروں کے درمیان جو دلوں میں تلخی تھی اسے یچوری ہی دورکراتے تھے ۔جب جے ڈی یو نیتا نتیش کمار انڈیا اتحاد کے نیشنل کنوینر نہیں بنائے گئے تو وہ خفا ہو گئے اور ا ن کے بغیر بھی اپوزیشن کو باندھے رکھا ۔سیتا رام یچوری نے انڈیا اتحاد یا لیفٹ پارٹیوں کے اختلافات ہوں دونوں کو سلجھانے میں کبھی مشکل نہیں محسوس کی ۔یچوری کے خاندان میں ان کی اہلیہ سیما چستی ہیں جو نیوز پورٹل دی وائر کی ایڈیٹر ہیں ان کی تین اولادیں ،2 بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ان کے ایک بیٹے آشیش یچوری کا 2021 میں کووڈ انفیکشن کے سبب موت ہو گئی تھی ۔ان کی بیٹی عقیلایچوری یونیورسٹی میں اور سینٹ اینڈ ریوزگنج یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں ۔جے این یو کے اپنے طالب علمی کے دنوں میں یچوری نے بھلے ہی اندرا گاندھی کے سامنے ناراضگی دکھائی ہو لیکن سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ یچوری کے قریبی رشتے رہے ہیں ۔پارلیمنٹ میں اپنے قٹاش تقریروں کے ساتھ ساتھ اپنے طنزیہ لہجہ کے لئے ھی پہچانے جانے والے یچوری پارلیمنٹ میں لیفٹ کی زوردار موجودگی کا احساس کراتے رہے ۔گٹھ بندھن کا چہرہ اپنے سینئر ساتھی ہرکشن سنگھ سرجیت کے نقشہ قدم پر چلتے ہوئے بنائے رکھا اور ان سے گڑ سیکھے ۔یہیں سے انہوں نے سب کو ساتھ لے کر اپوزیشن اتحاد کا فارمولہ سیکھا ۔سال 1996 میں یو پی اے سرکار سے لے کر یوپی اتحاد اور یو پی 2 کے کامن منیمم پروگرام کی سمت میں ان کا کام اور اشتراک اس کا ثبوت ہے ۔پچھلے سال اپوزیشن ایکتا کے طور پر بی جے پی کے سامنے انڈیا الائنس کی چنوتی اگر سامنے آئی تو اس کے پیچھے یچوری کی کوششوں کے لئے ان کو کریڈٹ دیا جاتا ہے وہ مسلسل یہ بات کہتے تھے کہ بی جے پی کا سامنا کرنے کے لئے متحد ہونا ہوگا ۔ان کے جانے سے جہاںانڈیا الائنس کو جھٹکا لگا ہے وہیں د یش میں ایک عظیم اور حکمت عملی ساز نیتا کھویا ہے ۔ظاہر ہے کہ سیتا رام یچوری کا جانا نہ صرف لیفٹ سیاست بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے بہت اہم نقصان ہے ۔ہم شری سیتا رام یچوری جی کو اپنی شردھانجلی پیش کرتے ہیں ۔ (انل نریندر)

کیجریوال کاچناو ¿ پر کیا اثر ہوگا ؟

سیاست کے گلیاروں میں ان دنوں ہریانہ اسمبلی چناو¿ 2024 کا شور زوروں پر ہے ۔ویسے تو اہم مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مانا جارہاہے لیکن جے جے پی نیشنل لوک دل اور عام آدمی پارٹی یعنی عآپ کے علاوہ آزاد امیدواروں کو کے کر بھی چرچہ زوروں پر ہے ۔ایسے میں قیاس لگائے جارہے ہیں کہ اگر کانگریس اور بی جے پی میں سے کسی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملتی ہے تو ا س صورت میں ان چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کا رول اس چناو¿ میں ا ہم ہو جائے گا ۔اس درمیان دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اب تہاڑ جیل سے باہر آگئے ہیں۔اس مارچ میں ای ڈی نے کیجریوال کو دہلی شراب پالیسی اسکنڈل معاملے میں گرفتار کیا تھا اس کے بعد اے سی بی نے بھی جون میں سی ایم کیجریوال کو تہاڑ جیل میں ہی گرفتار کر لیاتھا ۔جمعہ کو سپریم کورٹ نے کیجریوال کو ضمانت دے دی ۔ایسے میںاب اروند کیجریوال کا ہریانہ اسمبلی چناو¿ میں کتنا اثر پڑے گا ۔2019 کے ہریانہ اسمبلی چناو¿ میں عام آدمی پارٹی 46 سیٹوں پر لڑی تھی مگر پارٹی ایک بھی سیٹ نہ جیت پائی تھی ۔حالیہ لوک سبھاچناو¿ میں پارٹی کو 3.9 فیصدی ووٹ ملے تھے ۔دراصل تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عام آدمی پارٹی کی ہریانہ میں زیادہ طاقت نہیں ہے ۔یہ بات کیجریوال بھی خود جانتے ہیں ۔پچھلی بار جب چناو¿ ہوئے تھے تو ان کو 0.5 فیصدی ووٹ ملے تھے ۔اور اس بار جب کانگریس کے ساتھ اتحاد کے مسئلے پر غور ہورہا تھا تو شروع میں عام آدمی پارٹی نے 10 سیٹیں مانگی تھی اور کانگریس کو صرف 5 سیٹیں دینے کا آفر دے رہی تھی لیکن اچانک عام آدمی پارٹی نے نہ صرف کانگریس کے ساتھ اتحاد توڑ لیا اور ریاست کی سبھی 90 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتار د ئیے ۔سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ایسا کیجریوال نے کیوں کیا ؟ کیا عام آدمی پارٹی بی جے پی کے کہنے پر کررہی ہے تاکہ کانگریس کے ووٹ کاٹے جا سکین ۔اس بات کی بھی چرچہ زوروں پر ہے کہ پہلے دن پردھان منتری چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے گھر گنیش وندنا کرنے جاتے ہیں ۔اور ٹھیک اس کے اگلے دن کیجریوال کو ضمانت مل جاتی ہے ؟ کیا کیجریوال اور بی جے پی لیڈر شپ میں کوئی سودے بازی ہوئی ہے ۔ویسے ہماراخیال ہے کہ کیجریوال کی پارٹی امیدوار کانگریس اور بی جے پی کے ووٹ کاٹ سکتے ہیں ۔ہریانہ میں بی جے پی کا ووٹ شہری ماناجاتا ہے اور عام آدمی پارٹی کابھی جن آدھار برہمن اور ویشیہ فرقہ میں زیادہ ہے ۔کیجریوال خود ویشیہ فرقہ سے آتے ہیں اس لحا ظ سے تو عآپ پارٹی بھاجپا کے شہری ووٹ کاٹے گی ۔لیکن ایسا نہیں کانگریس کو نقصان نہیں ہوگا ان کے بھی ووٹ کاٹ سکتی ہے ۔،کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ کیجریوال کو زیادہ چنتا اگلے سال فروری میں ہونے والے دہلی چناو¿ کی ہے ۔وہ کانگریس کے ساتھ دہلی اسمبلی چناو¿ میں کسی طرح کا اتحاد نہیں کرنا چاہتے ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ کیجریوال اور ان کے نیتا ورکر اب ہریانہ میں کیا رخ اپناتے ہیں۔ ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا ۔بہت جلد ہی تصویر صاف ہو جائے گی ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...