Translater
21 نومبر 2020
16سے 18ہزار فٹ اونچائی ایل اے سی پر تعینا ت ہمارے جوان !
دیش میں سردی کا موسم شروع ہوگیا ہے مشرقی لداخ سیکٹر میں پہاڑ برف
سے ڈھک چکے ہیں جون میں گلوان وادی میں چین سے جھڑپوں کے بعد بھارت نے اس سرد موسم
میں بھی اپنے فوجیوں کو 18ہزارفٹ اونچائی پر واقع ایل اے سی کی محاذی چوکیوں پر
تعینات ہیں اس ٹھنڈے کے موسم میں جوان اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا پائے اور انہیں پھر
اس کے لئے دیش بھر کے اچھے اسپتالوں میں چنے گئے سپر اسپیشلسٹ اور سینئر سرجن اور
پیرا میڈیکل اسٹاف بھی ان کے ساتھ رکھے گئے ہیں تاکہ وقت پڑنے پر ان کی صحت کی جانچ
کرتے رہیں اور ضرورت کے حساب سے دوائیں دی جائیں ہر چھ سے آٹھ ہفتے میں میڈیکل
اسٹاف نیا رکھا جاتا ہے دنیا کی سب سے اونچے فوجی علاقے سیاچن سے لوٹے ایک ڈاکٹر نے
بتایا محاذی مورچے پر تعینات فوجی شیو آنند کھانے کی وجہ سے پیٹ میں درد کی بیماری
سے لڑتے ہیں اور دیگر بیماریاں بھی ان کو پریشان کرتی ہیں اس لئے فوجیوں کو بھوگ
آشن ، سانس لینے ورزش کرنے کے لئے کہا جاتا ہے اونچائی والے علاقوں میں کسی بھی
فوجی کو زیادہ سے زیادہ چار مہینے کے لئے تعینات کیا جاتا ہے ایسے ہی اس جنگی میدان
علاقے میں ڈیوٹی سے آئے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا جب ڈاکٹر بیس کیمپ پر پہونچتے ہیں
تو انہیں اونچائی کے حساب سے ایک ہفتے کی معمولاتی ٹریننگ دی جاتی ہے تاکہ ان کا
جسم کم درجہ حررارت کا اثر سہہ سکے تعیناتی 13ہزار فٹ پر ہوتو ٹریننگ 4دن اور
18ہزار فٹ کی اونچائی پر ہوتو 8دن ہو جاتی ہے اور ان کو دس طرح کی ایکٹی وٹی وائی
جاتی ہے اور انہیں پروٹین یافتہ بٹر زیادہ مقدار میں کھلایا جاتا ہے تاکہ اسکن پر
ٹائٹ نیس نہ رہے اور ان کا خون گاڑہ نہ ہو ۔ ہمارے فوجی ڈاکٹر ان مشکل حالات میں
دیش کی حفاظت کر رہے ہیں تاکہ ہم رات میں چین سے سو سکیں جے ہند ہم انہیں سلام کرتے
ہیں ۔ (انل نریندر)
کومہ کی حا لت میں کانگریس پارٹی !
بہار چناو¿ و دیش کی 11ریاستوں کے ضمنی چناو¿ میں کانگریس کی جو درگتی ہوئی ہے کے بعد پارٹی کے اندر کھل بلی مچی ہوئی ہے اور یہ تو ہونا ہی تھا ۔ ایک بار پھر پارٹی میں بغاوت کی آہٹ ہے جس طرح پارٹی کے اندر راہل گاندھی کے طریقہ کار کو لیکر سوال اٹھ رہے ہیں اس کے آنے والے دنوں میں کانگریس کا بہران مزید گہرا ہوسکتا ہے پارٹی کے ذرائع کے مطابق لیٹر بم چھوڑنے والے لیڈروں میں سے کچھ نیتا حملہ آور ہیں اور وہ فیصلہ کن لڑائی کے مونڈ میں ہیں ان میں سے ایک لیڈر کپل سبل نے جو آواز اٹھائی ہے اند ر کھانے پارٹی کے کے سینئر لیڈر نہ صرف ان کی حمایت کر رہے ہیں بلکہ اس مرتبہ پارٹی اعلیٰ کمان سے واضح فیصلے کی توقع کر رہے ہیں ۔ کانگریس کے نیتا مانتے ہیں کہ پارٹی میں باغیوں کی فوج کی ناراضگی ابھی بر قرار ہے ایسے میں اس کا سیدھا اثر پارٹی صدر عہدے کے لئے ہونے والے چناو¿ پر پڑ سکتا ہے ۔ جو اگلے ماہ دسمبر میں ہونے کا امکا ن ہے پارٹی کے نیتا نے کہا کہ اگر راہل گاندھی اس عہدے پر واپسی کی تیاری کر رہے ہیں تو ناراض لیڈروں کی آوازیں کچھ دھیمی پڑ سکتی ہیں دوسرے کئی لیڈروں کا خیال ہے کہ کانگریس 23ناراض لیڈروں نے خط لکھا تھا ان میں صرف کپل سبل ہی بول رہے ہیں ایسے میں ان کی بات پارٹی کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا ہے لیکن وہ مانتے ہیں کہ اس طرح آوازیں نہ اٹھیں تو بہتر ہے کیونکہ پارٹی مشکل دور سے گزر رہی ہے پارٹی کو متحد رہنا چاہئے پارٹی کے نئے صدر کے عہدے کے چناو¿ کی کاروائی چل رہی ہے ۔ کانگریس کی ورکنگ کمیٹی چناو¿ پروگرام کا اعلا ن کر سکتی ہے پارٹی کے اند سی ڈبلیو سی کے لئے چناو¿ کرانے کی مانگ زور پکڑ سکتی ہے سبل اور دوسرے ناراض لیڈر پارٹی صدر کولکھے خط میں چناو¿ کرانے کی مانگ دوڑا چکے ہیں ۔ راجستھا ن کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے آنے کے بعد پارٹی کا ایک بڑا گروپ حملہ آور ہے اشوک گہلوت اور طارق انور کی نصیحت کے بعد پارٹی کے سینئر لیڈر سلمان خورشید نے بہادر شاہ ظفر کے شعر کے ذریعے کپل سبل جوابی تنقید کی ہے ۔ انہوں نے فیس بک پر کانگریس لیڈر شپ کی نقطہ چینی کرنے والے لیڈروں کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی صلاح دی ہے ۔ سلمان خورشید نے لکھا ہے کہ جب ہمیں خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر، پڑی اپنی برائیوں پر جو مار ،تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا ۔ انہوں نے کہا کہ بہادر شاہ ظفر کے قول ہمارے پارٹی کے کئی ساتھیوں کے لئے ایک بہتر ساتھی ثابت ہوسکتے ہیں جو وقتا فوقتا تشویش کا درد جھیلتے ہیں کارتی چدمبرم نے کانگریس اعلیٰ کمانڈ پر سوال داغنے کے انداز میں کہا کہ کانگریس نے ہار کو معمول مان لیاہے ۔ پارٹی محاسبہ کرنے سے بچتی ہے اگر ان سب کے بیان کو دیکھیں تو ایک بات صاف ہے کہ پارٹی کا قد چھوٹا محسوس ہوتا ہے ۔ جو زندہ تو ہے لیکن اس کی حالت کومہ جیسی ہے ۔ کومہ میں ایک طرح سے انسان کو برسوں تک کبھی کبھی انگلی ہلانے سے زندہ ہونے کا ثبوت تو ملتاہے لیکن اس دماغ جینے کے لائق نہیں رہتا دیکھنا یہ ہوگا کانگریس پارٹی اس کومہ کی حالت سے کب مرتی ہے یا اس سے نکلتی ہے تو ؟
(انل نریندر)
دہلی والوں نے خود پیدا کئے یہ سنگین حالات !
راجدھانی میں کورونا انفیکشن کے رکارڈ ٹوٹ رہے ہیں دہلی میں کورونا انفیکشن سے پہلی مرتبہ ایک دن میں 131لوگوں کی موت ہوئی جبکہ 7486نئے مریض سامنے آئے دہلی میں یہ کورونا کا تیسرا پیک مرحلہ ہے ۔ اس سے پہلے جون میں پہلا اور ستمبر میں دوسرا مرحلہ آیا تھا ۔ پہلے پیک کے دوران دہلی میں سب سے زیادہ اموات درج ہوئیں تھیں لیکن تیسرا پیک آتے آتے روزآنہ ہونے والی موتوں سے پچھلے ایک دن کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ اس کے مطابق دیش میں سب سے زیادہ اموات دہلی میں درج کی جا رہی ہیں ۔ حالت یہ ہے کہ پچھلے دس دنوں میں کورونا مریضوں کی موت کے چلتے شرح اموات 1.48فیصدی درج کی گئی ۔ جو باقی ریاستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ۔ راجدھانی میں کورونا وائرس کے بگڑے حالات کو لیکر ڈاکٹروں نے کافی سنگین حالات بتائے ہیں ان کا کہنا ہے دہلی نے خود ایسے حالات پیدا کئے ہیں اس کے ذمہ دار لوگ ہی ہیں سرکار اور انتظامیہ بھی ذمہ دار ہے۔ ان حالات سے بچنے کے لئے لاک ڈاو¿ن متبادل نہیں چننا چاہئے دہلی کے اپولو ہسپتال کے سینئر ڈاکٹر ایس چٹرجی کا کہنا ہے دہلی میں کورونا کے سنگین حالات خود پیدا ہوئے ہیں اور وہ لاک ڈاو¿ن کے حمایتی نہیں ہیں ۔ لیکن مانتے ہیں اس صورت حال کو بہتر حکمت عملی سے سدھارا جاسکتا ہے۔مستقبل کو لیکر پہلے ہی چوکس رہنا ضروری ہے ۔ آئی ایل بی سی اسپتا ل کے ڈاکٹر ایس کے سیرین کا کہنا ہے کہ ان حالات کے لئے دہلی کے لوگ ذمہ دار ہیں حالات بہتر نہ ہونے کے باوجود ولوگوں نے احتیاط پر عمل نہیں کیا ہے ۔ لاک ڈاو¿ن ہٹنے کے بعد لوگوں کو دیکھ کر کبھی بھی کورونا انفیکشن کا احساس نہیں ہوا ۔ بد قسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ کورونا کے تئیں وہ سنجیدہ نہیں ہیں دہلی میں اس وقت 33سے زیادہ پرائیویٹ اسپتال ہیں جن میں کورونا مریضوں کا علاج چل رہا ہے اور بستروں کی اب کمی پڑنے لگی ہے کورونا سے بچاو¿ میں سرکار سے زیادہ عوام کی ذمہ داری اہم ہے ۔ سرکار اپنی طرف سے کوسش کر رہی ہے لیکن لوگ بے خوف باہر گھوم رہے ہیں نا تو ماسک پہن رہے ہیں اور نہ ہی دوری رکھنے کی تعمیل کر رہے ہیں ۔ تہواری سیزن سے پہلے تک لوگ احتیاط برت رہے تھے لیکن تہواری سیزن آنے سے جم کر لاپرواہی دیکھی گئی ۔ جس کے چلتے اب کیس بڑ ھ رہے ہیں سرکار علاج دے سکتی ہے آئی سی یو کا انتظام کر سکتی ہے لیکن ان مریضوں کو ضرورت نہ پڑے لیکن اس بات کا خیال لوگوں کو خود رکھنا پڑے گا اور لوگوں کو اپنی ذمہ داری نبہانی اور احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ماسک سے کافی حد تک کورونا سے بچا جا سکتا ہے اس لئے ماسک لگانا بے حد ضروری ہے بازاروں میں بھیڑ ہے اور پھر جب معاملے بڑھتے ہیں تو یہی لوگ کہتے ہیں سرکار کورونا کو کم کرنے کے لئے کچھ نہیں کر رہی ہے پہلے ہمیں خود اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی اس کے بعد ہی کورونا کم کرنے کے لئے سرکار کو سیں جب تک دوا نہیں آتی تب تک غلطی سے بھی بغیر ماسک باہر نہ نکلیں بھیڑ میں نہ جائیں اور وقت وقت پر ہاتھ دھوئیں ۔ سرکار سب کچھ نہیں کر سکتی ۔
(انل نریندر)
20 نومبر 2020
ایک چمچ سارس- کوو2-وائرس نے دنیا کو ہلایا !
کورونا کے قہر سے دنیا لڑ رہی ہے حالانکہ کیا آپ جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر 5.4سے زیادہ مریضوں کو اس نے اپنی گرفت میں لینے والے سارس 2-وائرس کی کل مقدار ایک بڑے چمچ میں تھوڑی سی ہی زیادہ ہے ۔آسٹریلیائی ماہر ریاضیات میئر پارکر نے اپنے حالیہ تجزیہ کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس کا سائز بہت ہی باریک ہے ابھی تک جتنے معاملے سامنے آئے ہیں اس کے حساب سے یہ مانا جا سکتا ہے 8کلو میٹر سارس -کوو 2- وائرس نے پوری دنیا کو ہلا دیا ہے ۔کیوں کہ ایک بڑے چمچ میں چھ ملی لیٹر رقیق سماتا ہے ۔یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ دنیا بھر میں وائرس کو ایک بڑے چمچ میں بھی سمیٹا جا سکتا ہے ماہر وائرس کی مانیں تو سارس کوووائرس کا سائز انسان کی نسوں سے دس لاکھ گنا چھوٹا ہے یہ ایک کووڈ کی طرح کام کرتا ہے جونسوں میں داخل ہو کر وائرس کو اپنی تعداد بڑھانے میں اہل بناتا ہے ۔کیا آپ کو یقین آئیگا ۔
(انل نریندر )
امت شاہ کی پرچھائی سے نکلتے جے پی نڈا!
بہار اسمبلی چناو¿اور اس کے ساتھ کئی ریاستوں میں ہوئے ضمنی انتخابات کے نتیجوں نے بھاجپا کے قومی صدر جے پی نڈا کو بڑی مضبوطی دی ہے چونکہ وہ باقاعدہ طور سے پارٹی صدر کی کمان سنبھالنے کے بعد پہلے بڑے چناو¿ میں پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے وہیں ریاستوں میں مستقبل کے چہروں کی تلاش تیز ہو سکتی ہے ممکنہ آپسی سنگھرش بھی دکھائی دے سکتا ہے ۔مدھیہ پردیش اور کرناٹک پر خاص نظر رہے گی جہاں تیسرے مضبوط چہروں کی شکل میں جوترآدتیہ سندھیا اور وی وائی وجیندر نے کافی کامیابی دلائی ۔سابق بھاجپا صدر امت شاہ کی کھینچی لمبی لکیر کے بعد پارٹی کمان سنبھالنا کسی کے لئے آسان نہیں ہے لیکن نڈا نے بہار جیسی ریاست میں جیت کے ساتھ یہ عزم دکھایا کہ وہ شاہ کی لکیر کو آگے بڑھا سکتے ہیں ۔بہار کا اثر اگلے سال ہونے والے بنگال آسام میں دکھائی پڑ سکتا ہے ۔اگر بنگال بھاجپا کی جھولی میں آیا تو نڈا بھاجپا توقع کے مطابق اونچائیوں پر لے جانے والے پہلے صدر ہوں گے ۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نڈا کو گھر جاکر انہیں مبارکباد دی اب جبکہ بھاجپا ریاست میں نمبردو آنے کے باوجود اسٹرائک ریٹ کے لحاظ سے یہ بھی طے ہوگا کہ مستقبل کا چہرہ کون ہوسکتا ہے بہرحال بہار اور چار ریاستوں میں ہوئے ضمنی چناو¿ نے ایسے چہروں کو کھڑا کر دیا ہے ۔جو اپنی صلاحیت کا لوہا منوا چکے ہیں ۔اور انہیں لمبے عرصہ تک نظرانداز نہیں کیا جاسکے گا دراصل مدھیہ پردیش میں بھاجپا سے زیادہ جوتر آدتیہ سندھیا کی ناک کاسوال تھا انہوں نے بیس ممبران اسمبلی کی جیت یقینی بنا دی ۔اس سے انکار کرنا مشکل ہے کہ پردیش مین شیو راج سنگھ چوہان اور نریندرسنگھ تومر خیمے کے بعد اب سندھیا خیمہ بھی سر تان کر کھڑا رہے گا ۔وہیں اتر پردیش میں کامیابی کا سہرہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے کھاتہ میں گیا ہے ۔اس چناو¿ کے نتیجے اس لئے بھی اہم ہیں کیوں کہ اگلے ڈیڑ ھ سال میں یوپی میں چناو¿ ہونا ہے ایسے ہی کرناٹک میں جیت کا کریڈٹ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ بی ایس یدی یورپہ کو دیا ہے ۔بھاجپا کے اندر وہاں بھی ایک ایسا گرو پ ہے جو مودی کے خلاف ہے اس میں دلچسپ یہ ہے کہ اس چناو¿ میں وزیراعلیٰ کے لڑکے اور پردیش نائب صدر وائی وی وجیندر کو چمکا دیا ہے ۔پچھلے سال وجیندر نے جب جنتا دل سیکولر کے گڑ میں پارٹی کے لئے جیت حاصل کی تھی اس مرتبہ سارا اسمبلی حلقہ کو بھاجپا میں جوڑدیا ہے ۔یہ ناممکن جیت مانی جارہی تھی کیوں کہ ذات پات کے تجزیہ کے لحاظ سے یہ سیٹ بھاجپا کے موافق نہیں تھی ۔17برسوں میں پہلی بار بھاجپا نے سیٹ جیتی ہے اور اس لئے وجیندر کو یہاں کا ارجن تک کہا جانے لگا ہے ۔
(انل نریندر )
بدلے حالات میں آزادانہ فیصلے لینے کی ہوگی چنوتی!
نتیش کمار نے ساتویں مرتبہ بہار کے وزیرا علیٰ کے عہدے کا حلف لیا اور بھاجپا بھی چھٹی بار حکمراں پارٹی بنی ۔۔۔لیکن یہ پہلی بار ہے کہ بھاجپا نے پورا گھر بدل دیا ۔صرف پچھلی حکومت کے وزیر صحت منگل پانڈ ے کو چھوڑ کر یہاں تک کی بہار میں پہلی بار دو نائب وزیراعلیٰ تارکشور پرساد ،رینو دیوی کو بنایا گیا دو دن پہلے تک آپ جنتا کو چھوڑ بھی دیں تو بڑے بڑے نیتاو¿ں نے بھی ان کے نام کا تصور بھی نا کیا ہوگا ۔یہ چہرے کچھ ویسے ہی ہیں جیسے ہریانہ میں پچھلی مرتبہ سرکار کی تشکیل کے وقت وزیراعلیٰ بنے منوہر لعل کھٹر ہیں ۔ یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ سوشیل کمار مودی بھاجپا کے قدآور لیڈر اس مرتبہ کیبنیٹ میں نہیں ہیں ۔بھاجپا نے اپنا ڈپٹی سی ایم بدلا لیکن ہم سبھی جانتے ہیں کہ اس سے سب سے زیادہ نتیش کمار متاثر ہوں گے وجہ ،اب تک پندرہ سال میں بطور نائب وزیراعلیٰ سوشیل کمار مودی کا لب و لہجہ ایسا تھا کہنا تو دور وہ جانتے تھے کہ نتیش کمارکو کب کیا پسند ہے اور وہ کب کیا کرنے ولے ہیں ۔اسی کے متعلق وہ سرکار کے ساتھ تال میل بٹھاتے تھے سوشیل مودی کا قداور شخصیت بھی ایسی تھی کہ ان کی ہاں میں پورا بہار بھاجپا کی ہاں ہوتی تھی ۔اب تک نتیش کمار کے ہر بڑے فیصلے کے ساتھ بھاجپا مجبوری میں کھڑی رہی ہے لیکن اب پش منظرکچھ الگ ہے ۔نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو این ڈی اے میں سب سے بڑی پارٹی رہی ہے لیکن اس مرتبہ جے ڈی یو قد چھوٹا ہو گیا اور وہ بھاجپا اتحاد می سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے اتنا ہی نہیں پہلی مرتبہ این ڈی اے چار پارٹیوں کا اتحاد تھا اور اقتدار کی چابھی ایک طرح سے چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے ہاتھ میں تھی اس کے علاوہ بھاجپا کوٹے سے اب دو نائب وزیر اعلیٰ ہیں ۔یہ دونوں آنے والے دنوں میں کیسا تال میل بٹھائیں گے یہ بھی اہم سوال ہے ایسے میں اس پاری میں نتیش کمار آزاد ہو کر بڑے اور ہمت افزا فیصلے کس حد تک کر پائیں گے یہ تو وقت بتائے گا ۔حال میں بھاجپا کی پوری قواعد ہی نئی ہے اور اس کی ہر پہل میں نیا پن دکھائی دے رہا ہے جس طرح بھاجپا کوٹے سے سات وزراءجن میں دو نائب وزیراعلیٰ ہیں جبکہ پچھلی سرکار میں صرف منگل پانڈے ہی شامل ہوئے تھے اس سے صاف ہے کہ بھاجپا اب بہار میں اپنی نئی پہچان قائم کرنا چاہتی ہے ۔جہاں تک نتیش کمار کی بات کریں تو ان کے برتاو¿ اور شخصیت میں مضبوطی ہے وہ جلدی جلدی بدلنے والے نہیں ہیں ان کے کوٹے کے وزراءمیں نئے پرانے کا ایک تال میل ہے سوشل انجینئرنگ میں ذات پات برادری کا خیال رکھا گیا ہے ۔لیکن 15وزیر میں سے کسی بھی اقلیتی فرقہ کے ممبر اسمبلی کو جگہ نا ملنا تھوڑا حیرت میں ضرور ڈالتا ہے حالانکہ برہمن پسماندہ اور انتہائی پسماندہ و دلت سماج سے کیبنیٹ میں نمائندگی ہے ۔دبے الفاظ میں ضرور کہتے ہیں چنے گئے کہ سرکار بنانے میں کتنی ساجھے داری کیب نیٹ میں اس کی اتنی حصہ داری طے حد کے تحت زیادہ سے زیادہ 36وزیربن سکتے ہیں ۔22ابھی بھی وزیربنائے جا سکتے ہیں ایسے میں کئی دعوے داروں کے درمیان چند ہی کو چننا پڑے گا ۔اس میں بھی بھاجپا کا فیصلہ کن رول رہے گا کل ملا کر ابھی کچھ مہینوں تک نتیش سرکار کو کئی مراحل سے گزرنا پڑ سکتا ہے ۔نئے حالات سے نتیش کو نمٹنا ہوگا ۔دیکھیں کہ وہ بھاجپا کے ہاتھ کٹپتلی بنتے ہیں یا وہ آزادانہ فیصلے لے سکتے ہیں ۔
(انل نریندر )
19 نومبر 2020
بہار میں جیت کا سہرہ خوواتین کو جاتا ہے !
بھاجپا کی بہار میں شاندار جیت کا سہرہ مہیلاو¿ں کے سر جاتا ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی نے بہار میں این ڈی اے کی جیت کا جشن مناتے ہوئے کہا عورتیں بھاجپا کی سائلنٹ ووٹر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سائلنٹ ووٹر کی آواز سنائی دینے لگی ہے یہ ایک پکی ووٹر ہیں ۔مائیں اور بہنیں ،بہار میں عورتوں کے مردوں سے پانچ فیصد ووٹ پڑے ہیں بھاجپا مانتی ہے عورتوں کا سرگرم رول بنگال میں بھی پارٹی کے لئے طاقت بن سکتا ہے ۔یہاں 166سیٹیں ایسی تھیں جہاں عورتوں کا ووٹ فیصد زیادہ رہا ۔اور یہ ہی وجہ ہے کہ بھاجپا کی جیت اچھی رہی اور بھاجپا جے ڈی یو ہم اور وی آئی پی کا اتحاد 166میں سے 100سیٹیں جیتا اور عورتوں نے اقتدار کے حصول میں بازی برقرار رکھنے میں اہم رول نبھایا ہے ۔اس میں جے ڈی یو کو 21بھاجپا کو 29اور وی آئی پی کو 3سیٹیں ملی ہیں ان 77سیٹوں میں سے مہاگٹھ بندھن کے حصے میں 19سیٹیں آئیں بتا دیں اس مرتبہ اسمبلی چناو¿ میں کل 243میں سے 166سیٹوں پر عورتوں نے مردوں سے زیادہ ووٹ ڈالے تھے جن میں سے 77سیٹیں ایسی ہیں جن میں مردوں اور عورتوں کے درمیان ووٹنگ کافرق 10فیصد سے زیادہ رہا ۔گٹھ بندھن کے کھاتہ میں صرف 13سیٹیں آئی ہیں جن میں گیارہ اکیلے آر جے ڈی کو ملی ہیں ۔جبکہ کمیونسٹ پارٹی کو ایک کانگریس دو ہی سیٹیں مل پائی ہیں ۔
(انل نریندر )
آسیان ممالک نے کیا دنیا کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ !
8سال لمبی بات چیت اور غور خوض کے بعد چین سمیت آسیان ممالک کے ممبران نے اتوار کے روز دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر دئیے ۔ایشیا کے کئی ملکوں کو امید ہے کہ اس معاہدے سے کورونا وبا کی مار سے تیزی سے بہار نکلنے میں مدد ملے گی علاقائی پائیدار اقتصادی ساجھیداری (آر سی ای پی )پر جنوبی مشرق ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان کی سالانہ چوٹی کانفرنس کے ورچول طریقہ سے دستخط کئے گئے ۔آسیان کے دس ملکوں کے علاوہ چین ،آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ ،جاپان ،ساو¿تھ کوریا شامل ہیں ۔سمجھوتہ میں شریک ملکوں کی کل آبادی 2.1عرب ہے ۔دنیا کی کل جی ڈی پی کا آر سی ای پی حصہ داری 30فیصدی ہے ۔جو دنیا کے سب سے بڑے تجارتی معاہدہ ہے ۔حالانکہ اس میں چین کا دبدبہ ہے ۔آسیان کے انڈیونیشیا ،ملیشیا ،فلپائن ،سنگاپور،تھائی لینڈ ،برنئی،ویتنام ،میانماروغیرہ شامل ہیں ۔بھارت اس سمجھوتہ میں شامل نہیں ہے ۔حکام کا کہنا ہے بھارت سے پھر سے شامل ہونے کے امکانات کھلے ہیں ۔بھارت ایک مبصر ممبر کے طور پر اس میں حصہ لے سکتا ہے ۔بھارت ہی آر سی ای پی کی بنیاد رکھنے والے 16ملکوں میں شامل تھا لیکن پچھلے سال بھارت نے اس سے خود کو الگ کر لیا اس کی وجہ بھارت نے تجارتی گھاٹہ بتایا تھا اور کہا تھا کہ آر سی ای پی میں شامل ہونے کا مطلب ہے بھارت کے بازاروں میں چینی چیزوں کی بھرمار اس سے اس کی اندرونی معیشت پر برا اثر پڑتا ۔میزبان دیش ویتنام کے وزیراعظم گوئین جوان کک نے کہا یہ دنیا کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ ہے اس سے خطہ میں ایک نئے تجارت کا ایک اسٹکچر بنے گا ۔تجارت آسان ہو سکے گی کووڈ 19-سے متاثر سپلائی کو پھر سے بنائے رکھا جا سکے گا ۔اس تجارتی معاہدے میں امریکہ شامل نہیں ہے کیوں کہ چین اس کی قیادت کررہا ہے اس لحاظ سے زیادہ تر اقتصادی تجزیہ نگار اس خطہ میں چین کے بڑھتے اثر کے طورپر دیکھ رہے ہیں اگر معاہدہ یورپی یونین اور امریکہ -میکسیکو ،کناڈا تجارتی معاہدے سے بھی بڑی بتائی جارہی ہے ۔
(انل نریندر)
کھلی بحث کا ایسا معیار پہلے کبھی نہیں رہا !
ٹی وی کیوریج کے دوران فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کے الزام کا معاملہ سپریم کورٹ پہونچ گیا ہے ۔چیف جسٹس ایس اے بوگڑے نے رپبلک ٹی وی کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی کی رپوٹنگ طریقہ کار پر سخت رائے زنی ظاہر کی ہے ۔کہا کہ آپ اپنی رپورٹنگ کے ساتھ تھوڑے پرانے زمانے کے ہو سکتے ہیں لیکن سچ کہوں تو میں اس سطح کی بحث کو کبھی قبول نہیں کر سکتا ۔بحث کا معیار پبلک طور پر ایسا کبھی نہیں رہا ۔کورٹ پریس کی آزادی کی اہمیت کو مانتی ہے ،اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میڈیا کے شخص سے سوال پوچھانہیں جانا چاہیے ۔سپریم کورٹ مہاراشٹر سرکار کی طرف سے ممبئی ہائی کورٹ کے تیس جون کے حکم کے خلاف ارنب کے خلاف دائر خصوصی اجازت عرضی پر سماعت کررہی تھی ارنب پر الزام ہے کہ انہوں نے پالگھر لنچنگ اور اپریل میں باندراریلوے اسٹیشن پر پرواسی مزدوروں کے اکھٹا ہونے کے بارے میں جو کوریج کیا تھا وہ فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والا تھا ۔چیف جسٹس آف انڈیا نے ارنب گوسوامی کے وکیل ہری سالوے سے کہا رپوٹنگ میں ذمہ داری نبھانی ہوگی کچھ سیکٹروں میں احتیاط کے ساتھ چلناہوتا ہے ۔بطور عدالت ،ہماری سب سے اہم ترین تشویش امن اور سدبھاو¿ ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کورٹ ان کے مو¿کل سے ذمہ داری کی یقین دہانی چاہتی ہے ۔اس کے جواب میں سالوے نے کہا کہ وہ عدالت کے خیالات سے متفق ہیں لیکن کہا کہ یہ ایف آئی آر صحیح نہیں ہے اور اسے شخص خاص کے طورپر نہیں لیا جانا چاہیے ۔یہاں تک کہ پچھلے ہفتہ رپبلک ٹی وی کی پوری ادارتی ٹیم کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔عدالت نے دوہفتہ کے لئے سماعت ملتوی کرتے ہوئے ارنب گوسوامی کو ایک حلف نامہ دائر کرنے کو کہا ہے ۔جس میں انہیں بتانا ہے کہ انہوں نے کیا کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔مہاراشٹر سرکار کو بھی گوسوامی کے خلاف درج ایف آئی آر کی ایک کاپی دینے کو کہا ہے ۔مہاراشٹر سرکار کی طرف سے ابھیشیک منوسنگھوی نے بمبئی ہائی کورٹ کے جانچ کو روکنے کے فیصلے کی مخالفت کی ان کا کہنا تھا پولیس ارنب کو گرفتار نہیں کرے گی بھلے ہیں جانچ کو پھر سے شروع کیا جائے ۔پوچھ تاچھ کے لئے بھی موجود رہنے کے لئے 48گھنٹے پہلے اطلاع دی جائے گی ۔ادھر سنگھو ی نے کہا کہ کچھ لوگوں کو قانون سے اوپر نہیں مانا جا سکتا ۔تو چیف جسٹس نے طنز کسا کہ کچھ لوگوں کو اوپری دباو¿ کے ساتھ نشانہ بنایا جاتا ہے یہ ان دنوں کا ایک کلچر بن گیا ہے ۔کچھ لوگوں کو ان میں سکورٹی کی ضرورت ہے ۔سی جے آئی نے کہا ہم مانتے ہیں پریس کی آزادی ضروری ہے لیکن اس دلیل سے متفق نہیں ہیں کہ آپ کا کلائنٹ اگر میڈیا ملازم ہے تو اس سے پوچھ تاچھ نہیں ہو سکتی بطور کورٹ ہمارے لئے سماج میں امن قائم رکھنا سب سے اہم ہے کسی سے سوال پوچھے جانے سے چھوٹ نہیں ہے ۔ابھیشیک منو سنگھوی نے کئی فیصلوں کا حوالہ پیش کیا اور کہا چھان بین پر روک نہیں لگائی جا سکتی اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مسئلہ چھان بین کے طریقہ کو لیکر ہے ۔
(انل نریندر )
18 نومبر 2020
ہم کسی ڈکٹیٹر کے نہیں آئین کے محافظ ہیں!
امریکہ میں صدارتی چناو¿ کے بعد سے اتھل پتھل مچی ہوئی ہے ۔ڈونالڈ ٹرمپ محکمہ دفاع میں بڑی رد و بدل کرنے میں لگے ہیں ماہرین اس پر تشویش جتا رہے ہیں اس درمیان امریکی فوج کے بڑے افسر نے یقین دلایا کہ فوج کو سیاست سے الگ رکھا جائے گا جوائنٹ چیف آف اسٹاف و چیئرمین جنرل مارک ملی نے بتایا کہ ہم دوسری فوجوں کے بیچ خاص ہیں ۔ہم میں راجہ یا رانی ،یا مظالم ڈھانے والے یا ڈکٹیٹر کے لئے حلف نہیں لیا ہے ۔ہم نے کسی شخص کا حلف نہیں لیا ہے ۔ہم نے کسی مذہب کے لئے حلف نہیں لیا ہے ۔ہم نے آئین کی حفاظت کا حلف لیا ہے ۔ہر فوجی ہر بحری اور ائیر فورس اور ساحلی گارڈ ، ہم میں سے ہر ایک اپنے ذاتی مفاد کی پروا کئے بغیر اس دستاویز (آئین )کی حفاظت کریں گے ۔امریکی فوج کے میوزیم کے افتتاح کے دوران فوج کے سربراہ مار ک ملی نے یہ بات کہی اس موقع پر نگراں وزیر دفاع کرسٹوفر ملر بھی موجود رہے تھے پنٹگان میں رد وبدل سے سوال اٹھنے لگے تھے کہ کیا یہ سیاست دانوں کے زیراثر سے بچا رہے گا ۔امریکہ کی خاتون اول میلانیہ ٹرمپ اور ڈونالڈ ٹرمپ کے رستہ کو لیکر افواہوں کا بازار گرم ہے ۔غور طلب ہے کہ پچھلے دنوں ایسی خبریں اڑی تھیں کہ میلانیہ ٹرمپ سے طلا ق لے سکتی ہیں ۔قیاس آرائی یہ ہے ٹرمپ کے گھر سے لیکر افسر شاہی میں بھاری ناراضگی چل رہی ہے ۔بہرحال فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی کا بیان بہت کچھ کہہ رہا ہے ۔
(انل نریندر)
خطرناک ہے آن لائن مواد پر سرکاری کنٹرول!
xاب مرکزی سرکار نے انٹرنیٹ کے ذریعے دکھائی جارہی فلموں نیوزمیٹر وغیرہ کو وزارت اطلاعات نشریات کی نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ابھی تک بڑے پردے اور ٹی وی پر دکھائی جانے والی فلمیں ہی اس کی نگرانی میں تھیں اب نیٹ فلکس ایمازون ،یوٹیوب ،پر ڈالے جانے والے میٹر پر بھی اس کی نظر ہوگی جب سپریم کورٹ نے کچھ ٹی وی چینلوں پر ٹیلی کاسٹ ہونے والے قابل اعتراض مواد پر نظر رکھنے سے متعلق اقدامات کے بارے مین مرکزی سرکار سے پوچھاتھا تب اس کا کہناتھا کہ ٹیلی ویزن چینلوں سے اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا انٹرنیٹ ذرائع سے ڈالے گئے میٹر سے ہے ۔مگر اب تک عدالت نے کہا تھا کہ الیکٹرونک میڈیا پر دکھائے جانے والے خبروں کا تجزیہ خود ناظرین کر دیتے ہیں پھر لوگوں کو یہ آزادی ملنی ہی چاہیے کہ وہ کیا دیکھنا پڑھنا اور سننا چاہتے ہیں مگر کیوں کہ انٹر نیٹ کے ذریعے دکھائے گئے میٹر پر ابھی تک کسی ریگولیٹری ادارے کی نظر سے دور رہے ہیں ایک طرح سے سبھی کے لئے یہ آزاد ہے اس لئے کئی چیزیں ایسی بھی ان پر لکھی و دکھائی جاتی ہیں جس سے سرکار کے لئے پریشانی کھڑی ہوتی رہی ہے ایسے میں کئی لوگوں کو فطری طورپر خیال ہے کہ سرکار سوشل میڈیا و الیکٹرونک میڈیا جیسے ذرائع پر لگام کسنا چاہتی ہے ۔اب اس سرکاری نوٹیفکیشن سے فطری طور سے یہ تشویش جگا دی ہے کہ اظہار رائے کی آزادی پہ پہر ہ بٹھانے کے خیال دیش میں ایک بار پھر حاوی ہو رہا ہے ۔نوٹیفکیشن سے اس خطہ کو تقویت ملی ہے کہ سرکار ان نئے اور ترقی پسند میڈیا سیکٹروں کو قاعدے و قوانین میں باندھنے کے بارے میں سوچ رہی ہے جبکہ فی الحال ضرورت اس بندش کو اور کم کرنے کی ہے آن لائن کنٹینٹ اور اظہار رائے کے اختیار کو کنٹرول کرنے کی تو سیدھے لفظوں میں کہا جائے تو یہ ایک طرح سنشر شپ ہے ۔جس کی کسی بھی جمہوریت میں وکالت نہیں کی جا سکتی اگر سرکار اس کو عمل میں لاتی ہے تو یہ ایک سماج کی شکل میں ہمیں پیچھے لے جانے والا قدم ہو گا ویسے بھی ہمارے یہاں صحافیوں کو ملک دشمن کے الزامات میں گرفتار کئے جانے ہر سال بڑی تعداد میں ویب سائٹ کو بلاک کئے جانے اور سال درسال انٹرنیٹ شٹ ڈاو¿ن کرنے کے واقعات میڈیا کی آزادی پر سوالیہ نشان لگار ہے ہیں یہ ٹھیک ہے کہ ایک آزاد انٹرنیٹ سورسز پر دکھائے جانے والے میٹر الزام سے بری نہیں ہیں ۔انٹرنیٹ پردستیاب کرائے گئے میٹر سے لڑکوں پر برا اثر پڑ رہا ہے ۔اور فحاشیت اور بھونڈے پن کا الزام لگاتے ہوئے کئی پروگراموں پر روک لگانے کی ضرورت ظاہر کی جاتی رہی ہے ۔مگر سچائی یہ ہے سنیما اور ٹی وی پروگراموں پر غیر ضروری چلانے کا ٹرینڈ سے عاجز آکر ہی بہت سی فلم سازوں اور پروڈیوسروں اور ہدایت کاروں نے او ٹی پی پراپنی فلموں اور سیریلوں کا ٹیلی کاسٹ کرنا مناسب سمجھا پھر لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے سارے سنیما گھر بند تھے فلم پروڈیوسروں کو یہ پلیٹ فام ملا اپنی فلموں ،سیریلوں کو دکھانے کا راستہ مل گیا ۔
(انل نریندر)
سوشاسن بابو کیلئے آسان نہیں ہوگی نئی پاری !
بہار میں نتیش کمار نے ساتویں مرتبہ وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا انہیں راج بھون میں منعقدہ ایک تقریب میں ریاست کے گورنر فاگو چوہان نے عہدہ رازدادی کا حلف دلایا ۔ان کے ساتھ بھاجپا سے سات اور جنتا دل یو سے پانچ اور ہم پارٹی اور وی آئی پی پارٹی سے ایک ایک وزیر نے حلف لیا سوشاسن بابو و بہار کے وزیرا علیٰ کی کرسی سنبھالنے والے نتیش کمار کے لئے اس بار کی ان کی پاری آسان نہیں ہوگی حالانکہ سیاست میں منجھے ہوئے کھلاڑی ہونے کے ساتھ ہی ان کا انتظامی تجربہ اچھا ہے اس لئے وہ سوشاسن بابو کے نام سے جانے جاتے ہیں لیکن بہار میں موجودہ چنوتیوں سے لڑ کر ریاست کو نئی سمت دینا آسان نہیں ہوگا درپیش ان چنوتیوں سے لڑنے میں اگر وہ کامیاب نہیں ہوتے تو اگلے چناو¿ میں اس کا بڑا نقصان ان کی پارٹی کو ہو سکتا ہے ۔ایسی صورت میں ان کا مینڈیٹ پوری طرح سے کھسک جائے گا نئی سرکار میں سب سے بڑی تبدیلی ہوئی کہ نائب وزیراعلیٰ کے طور پر ان کے پرانے ساتھی سوشیل کمار مودی ان کے ساتھ نہیں ہیں ۔اب ان کے ساتھ تارکشور پرساد اور رینیو دیوی بطور نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کریں گی ظاہر ہے نتیش کمار کے لئے آنے والے حالات آسان نہیں ہوں گے ۔دو نائب وزیراعلیٰ بنائے جانے پرتو کوئی دقت نہیں ہوئی ۔دراصل بھاجپا این ڈی اے میں سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھرنے اور جے ڈی یو کی سیٹوں میں کافی کمی ہونے کے ساتھ یہ صاف ہو گیا تھا کہ اتحادمیں نتیش کمار کے ساتھ اب بڑے بھائی والی نہیں وہ جائے گی ۔اس کے بعد بھاجپا کے خیمہ میں وزیراعلیٰ اس کا بنانے کی مانگ اٹھنے لگی تھی لیکن بھاجپا لیڈ ر شپ نے صاف کر دیا تھا کہ چناو¿ چوں کہ نتیش کمارکے نام پر لڑا گیا اس لئے وہی وزیراعلیٰ رہیں گے جب چناو¿ نتیجے آئے تو مینڈیٹ بھاجپا کو ملا جبکہ نتیش کمار کو بہار کی جنتا نے مسترد کر دیا بہرحال نتیش کمار کو وزیراعلیٰ بنا کر بھاجپا نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ بھاجپا ہر وقت اقتدار کی بھوکی نہیں ہے وہ اپنے وعدوں کو نبھاتی ہے ۔نتیش کمار بہار کے ساتویں بار وزیر اعلیٰ بنے ہیں اتنے وقت تک اقتدار میں رہ کر وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بہار کو کہاں اور کس چیز کی ضرورت ہے لالو پرساد یادو کو مسترد کر وہاں کی عوام نے نتیش کو اس لئے کمان سونپی تھی کہ ان کے ساتھ ایک ٹیلنٹ یافتہ ایڈمسٹریٹر کے طور پر بنی ہوئی ہے ۔اس لئے وہ سوشاسن بابو کے نام سے جانے جاتے رہے ۔ان کے آنے کے بعد بہار میں قانون و نظم میں قابل قدر بہتری آئی ہے مگر پچھے عہد میں لوگوں کو ان سے مایوسی ہوئی تو اس لئے ترقی کے معاملے میں وہ ناکام ثابت ہوئے ایسے ہی اس عہد میں جرائم کے معاملے بھی بڑھے قتل اورآبرو ریزی کے واقعات بھی ان میں شامل ہیں ۔انتظامیہ کی سطح پر بھی تھوڑی سی کمزوری دکھائی دی ۔ان سب باتوں کو لیکر لوگوں میں ناراضگی تھی جب کورونا انفیکشن کے دباو¿ کے پیش نظر مکمل لاک ڈاو¿ن ہوا تب نتیش انتظامیہ میں سنگین لاپرواہی دیکھی گئی چاہے معاملہ دوسرے شہروں سے واپس اپنے گاو¿ں گھر لوٹنے والے پرواسی مزدوروں کا خیال کرنے کا ہو ہم اس معاملے میں نتیش کمار سرکار لچر ثابت ہوئی ۔لیکن سب سے زیادہ ناراضگی نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری کو لیکر ہے ۔مرکز میں بھاجپا سرکار ہے امید کی جاتی ہے کہ بہار سرکار سے تال میل سے بہار کی قسمت جاگے گی ۔
(انل نریند ر)
17 نومبر 2020
یوگی نے ماٹی کے ہنر مندوں کو یادگار بنایا !
انگلیوں کے جادو پر مٹی میں روح پھونکنے والے کاریگروں پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس مرتبہ ان کی دیوالی کو یادگار بنا دیا ۔ہنر کے ماہر اور فن ثقافت کی قیمت پہچاننے والے یوگی نے ماٹی کلا ہاتھوں ہاتھ خرید لی وہ مہمان نوازی میں بھی نہیں چوکے انہوں نے ہنر مندوں کا منھ میٹھا کراد یا بورڈ نے کھادی بھون میں 4سے 13نومبر تک ماٹی آرٹ میلا منعقد کیا جس میں بلند شہر گورکھپور اعظم گڑھ مرزا پور وارنسی الہٰ آباد بارہ بنکی ،امبیڈ کر نگر ،کانپور نگر ،کانپور دیہات سمیت دیگر ضلعوں کے ماٹی کلا کاریگروں کے قریب 30انسٹال لگے تھے جس میں 500سے زیادہ مٹی کی چیزیں لگی ہوئی تھیں ۔9آرٹسٹ وزیراعلیٰ سے ملنے ان کی سرکاری رہائش گاہ پہوچے اور میلے میں بچے مٹی کے کچھ سامان کو بھی ساتھ لے گئے ملاقات کے دوران تحفہ دکھائے تو یوگی نے تقریباً سبھی چیزوں کو 30ہزار 500روپے دیکر خرید لیا ماٹی میلا امید سے دس گنا زیادہ اچھا رہا ۔اس مرتبہ ایودھیا میں 5لاکھ سے زیادہ مٹی کے چراغوں نے تریتا دور کی یاد کو تازہ کر دیا۔
(انل نریندر)
راہل گاندھی میں صلاحیت اور جنون کی کمی !
امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ نے راہل گاندھی کو لیکر اپنی کتاب میں بڑی بات کہہ ڈالی انہوں نے اپنی زبانی” اے پریمکس لینڈ “ میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو نروس اور کم صلاحیت والا قرار دیا ہے ۔اوبامہ نے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا بھی ذکر کیا ہے اوبامہ اپنی کتاب میں لکتے ہیں کہ راہل گاندھی ایک ایسے طالب علم ہیں جنہوں نے فورس ورک تو کیا اور ٹیچر کو متاثرکرنے کے لئے بے چین رہے لیکن اس موضوع میں مہارت حاصل کرنے کے لئے یا تو ان میں صلاحیت نہیں یا جنون کی کمی ہے وہ نروس بے جل کوالٹی والا بتایا ہے ۔اپنے خیال میں اوبامہ نے راہل کی والدہ اور کانگریس کی نگراں صدر سونیا گاندھی کا ذکر کیا ہے ۔ہمیں چارلی کرسٹ ایہنگ مینول جیسے مردوں کے ہینڈ سم ہونے کے بارے میں بتایا جاتا ہے لیکن عورتوں کی خوبصورتی کے بارے میں نہیں صرف ایک یا دو ہی قول ہیں جیسے سونیا گاندھی کے بارے میں تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے سابق وزیردفاع باب گیٹس اور بھارت کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ دونوں میں بالکل جذباتی خلاءسمایا ہوا ہے ۔ایمانداری تو ہے کتاب میں مزید لکھا گیا ہے روس کے صدر ولاد میر پوتن نے اوبامہ کو شکاگو مشین چلانے والے مضبوط چالاک باس کی بھی یاد دلاتے ہیں پوتن کے بارے میں اوبامہ لکھتے ہیں کہ وہ جسمانی طور سے سادہ شخصیت ہیں ۔یہ اوبامہ کی 768صفحات کی یہ کتاب آج یعنی 17نومبر کو بازار میں آنے والی ہے امریکہ کے پہلے افریقی امریکی صدر اوبامہ نے اپنے عہد میں دو مرتبہ 2010اور 2015میں ہندوستان کا دور ہ کیا تھا راہل گاندھی اوبامہ کے عہد کے دوران ان سے ملے تھے جب وہ کانگریس کے نائب صدر تھے دسمبر 2017میں پھر ان سے ملے تھے براک اوبامہ کے تبصرے کو لیکر کانگریس میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔کانگریس ایم پی ایم ہیگور نے براک اوبامہ کو ٹوئیٹر پر ان فالو کر دیا ہے کانگریس نیتا طارق انور نے کہا کہ براک اوبامہ اور راہل گاندھی کے درمیان ایک چھوٹی سی ملاقات ہوئی ہوگی اس میں کچھ منٹوں میں کسی کو پہچاننا بہت مشکل ہوتا ہے ۔کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہا کانگریس کسی ایک شخص کی کتاب میں ظاہر کئے گئے رائے پر کوئی تبصرہ نہیں کرتی راہل گاندھی ایک سنجیدہ لیڈ ر نہیں ہیں ۔ادھر بھاجپا لیڈر و مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ کسی کی بے وقوفیوں کے چرچے عالمی سطح پر پھیل جائیں تو وہ اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ آج کل ان کی بے وقوفی کے چرچے ہر زبان پر ہیں اور سب کومعلو م ہے سب کو خبر ہوگئی ہے ۔
(انل نریندر )
مینڈیٹ مہاگٹھ بندھن کے ساتھ الیکشن کمیشن کا نتیجہ این ڈی اے کے ساتھ!
بات 2010کی ہے دہلی میں رہ رہے 21ساکہ تجسوی یادو انٹر نیشنل کرکٹر بننے کا خواب دیکھ رہے تھے لیکن بہار میں اسمبلی انتخابات میں اپنے والد کی جماعت آر جے ڈی کی مدد کے لئے پٹنہ آگئے ۔تیجسوی کے لئے پٹنہ سے دور رہ کر بھی سیاست نئی نئی تھی ۔لیکن وہ آہستہ آہستہ صحیح معنوں میں سیاست کا پاٹھ سیکھ رہے تھے 2010میں ہوئے اسمبلی چناو¿ میں آر جے ڈی کی خراب پرفارمنس کے بعد تیجسوی دہلی واپس لوٹ گئے لیکن کرکٹ میں بھی ان کی دال کوئی خاص نہیں گلی کرکٹ کے واقف کاروں کے مطابق بہار کی خود کی کوئی ٹیم نہ ہونے کے سبب تیجسوی کو کھیلنے کا صحیح موقع کبھی نہیں ملا ۔مڈل آرڈر کے بلے باز اور آف اسپنر گیندباز تیجسوی یادو کا دل دہلی اور پٹنہ کے درمیان بھٹک رہا تھا ۔حال ہی میں اختتام پذیر بہار اسمبلی چناو¿ میں بھلے ہی مہا گٹھ بندھن اکثریتی نمبر نہیں حاصل کر سکا ہو لیکن تیجسوی یادو کی قیادت مین آر جے ڈی نے 75سیٹیں جیتی ہیں لوگ انہیں اب سیاست کا منجھا ہوا کھلاڑی مان رہے ہیں اور ان کی کپتانی کو قبول کررہے ہیں انہوں نے چناو¿ میں ثابت کر دیا کہ وہ اپنے والد کے سائے سے باہر نکل چکے ہیں ۔اور انہوں نے اپنی لیڈر شپ کو مضبوط کر لیا ہے ۔تیجسوی یادو نے جمعرات کے روز اپوزیشن پارٹی مہا گٹھ بندھن کے چنے جانے کے بعد کہا کہ این ڈی اے نے چناو¿ میں چھل سے جیت حاصل کی ہے پریس کانفرنس میں نتیش کمار کا مذاق اڑاتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا سی ایم کی پارٹی جے ڈی یو تیسرے پائیدان پر رہی حیرانی ہوتی ہے کہ اس صورت کے بعد بھی کیسے وہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کی سوچ رہے ہیں ۔کوئی اپنے ضمیر کی آواز کو دبا کر اقتدار کے لئے اتنا لالچی ہو سکتا ہے ۔2017میں جب ہمارا نام منی لانڈرنگ کے معاملے میں آیا تھا تب نتیش کمار کی ضمیر کی آواز سننے کا حوالہ دے کر مہا گٹھ بندھن سے استعفیٰ دے کر این ڈی اے میں چلے گئے تھے جب ان کی پارٹی سیٹوں کے معاملے میں تیسرے نمبر پر ہے کیا ان کا ضمیر کی آواز کچھ نہیں کررہی ہے ۔جنتا کا مینڈیٹ تو مہاگٹھ بندھن کو ہی ملا ہے لیکن چناو¿ کمیشن کا نتیجہ این ڈی اے کے حق میں گیا ہے ۔ہم لوگ رونے والے نہیں انہوں نے یہ طنز کسہ کہ ہم جد و جہد کرنے والے ہیں جو پارٹی جے ڈی یو چہرہ بدلنے کی بات کرتی تھی وہ آج خود تیسرے نمبر پرآگئی نتیش کمار میں اخلاقیت نہیں بچی ہے اگرتھوڑی بہت ہے انہیں کرسی چھوڑ دینی چاہیے ۔تیجسوی نے کہا این ڈی اے نے چور دروازے سے سرکار بنا رہی ہے بھاجپا صاف طور پر سمجھ لے مینڈیٹ تبدیلی کا مینڈیٹ ہے این ڈی اے کا ووٹ شیئر 37.3ہے جبکہ مہاگٹھ بندھن کا ووٹ شیئر 37.2فیصد ہے ۔یعنی پوائنٹ ون کا فرق ہے اس فرق کو اگر ووٹوں میں کنوٹ کریں تو بارہ ہزار دو سو سترووٹ ہوں گے نتیش نے بے روزگاروں کو نوکری دینے میں معذوری ظاہر کی ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر قانونی طور سے ووٹوں کی گنتی ہوتی تو مہاگٹھ بندھن 130سیٹیں ملتی پھر بھی 110سیٹیں ملی ہیں اور درکار نمبر سرکار بنانے کے لئے 122سے 12کم ہیں ۔تیجسوی نے دو ٹوک کہا مینڈیٹ مہاگٹھ بندھن کے ساتھ جبکہ اسی کا نتیجہ این ڈی اے کے حق میں آیا ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...