09 اپریل 2016

پاکستان کی پرانی عادت چوری اور سینہ زوری

پٹھانکوٹ حملہ کی جانچ کے لئے پچھلے دنوں آئی پاکستانی ٹیم کے ذریعے وطن واپسی پر مبینہ رپورٹ سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکومت ہند نے آخر کیا سوچ کر اسے پٹھانکوٹ بلایا تھا؟ خبریں ہیں کہ پاک ٹیم نے اپنے یہاں جاکر رپورٹ دی ہے کہ پٹھانکوٹ حملہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے بھارت کا ڈرامہ تھا۔ ٹیم نے کہا کہ جانچ کے دوران بھارت ایسا کوئی ثبوت دینے میں ناکام رہا جس سے ثابت ہوسکے کہ واردات کی سازش پاکستان میں رچی گئی تھی۔پاکستان کی جانچ ٹیم نے اپنے ملک لوٹنے کے بعد ابھی تک این آئی اے سے بات چیت نہیں کی ہے اس لئے بھارت سرکار نے طے کیا ہے کہ جب تک پاکستان کا سرکاری طور پربیان نہیں آجاتا تب تک پاکستانی میڈیا میں چل رہی خبروں پر کوئی رائے زنی نہیں کرے گی۔ اگر میڈیا میں آئی باتیں صحیح ہیں تو یہ واقعی تشویش کی بات ہے۔ پٹھانکوٹ حملہ کو لیکر پاک حکومت نے کافی سنجیدہ رویہ دکھایاتھا۔ خود پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے باآور کیا تھا کہ وہ اس کی جانچ میں پوری مدد کریں گے اس لئے بھارت سرکار نے اپوزیشن کی نکتہ چینی کو درکنار کرکے پاکستانی جانچ ٹیم کو پہلی بار بھارت آنے دیا۔ پٹھانکوٹ ایئربیس کا دورہ کرایا لیکن اب جے آئی ٹی کا رخ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ لگ رہا ہے بلکہ اپنی دورنگی باتوں کی یاد تازہ کردی ہے۔ وہیں حکومت کے ایک ذرائع نے بتایا کہ پاکستان حکومت کے ایک حمایتی روزنامہ کی خبر سے صرف یہی پتہ چلتا ہے کہ آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج دومنہ ہی باتیں کررہے ہیں۔ پاکستان خود ہی بے نقاب ہوگیا ہے۔ جے آئی ٹی کا رخ غیر ذمہ دارانہ لگ رہا ہے۔ کیا پاکستان نے جو ٹیم پٹھانکوٹ بھیجی تھی وہ سب ڈرامہ تھا، جو بین الاقوامی دباؤ میں آکر کیا تھا؟ کیا واقعی جانچ میں اس کی دلچسپی نہیں ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جان بوجھ کر جے آئی ٹی کی رپورٹ پاک میڈیا میں افشاں کرائی گئی تاکہ ماحول خراب ہو اور ہند۔ پاک امن مذاکرات میں رکاوٹ ہو؟ یہ بھی تو ممکن ہے کہ طے معاہدے کے تحت پاکستانی جانچ ٹیم کے بھارت آنے کے بعد ہندوستان کی جانچ ٹیم کو پاکستان جانا ہے اور پاکستان اسے روکنا چاہتا ہے، اس لئے یہ رپورٹ لیک کی گئی ہے۔ پاکستان ویسے تو دہشت گردی کو اپنی سرزمیں سے ختم کرنے اور اکھاڑ پھینکنے کی بات اکثر کرتا رہتا ہے لیکن جب ایسا کرنے کی باری آتی ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ خیر! پاکستان کی دوہری پالیسی ساری دنیا جانتی ہے لیکن سوال تو یہاں یہ ہے کہ حکومت ہند نے کیا سوچ کر پاک جانچ کمیٹی کو بلایا تھا؟
(انل نریندر)

این آئی ٹی طلبا کی کشمیر پولیس کے ذریعے بربریت آمیز پٹائی

ٹی۔20 ورلڈ کپ سیمی فائنل میں بھارت کی ہار کے بعد سے سرینگر کے این آئی ٹی میں غیرکشمیری طلبا کی پولیس کے ذریعے ظالمانہ طریقے پر پٹائی کا معاملہ اب طول پکڑ گیا ہے۔ میچ کے بعد حالات تب خراب ہونے شروع ہوئے جب کشمیر کے کچھ طلبا نے جشن منایا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ اس کے جواب میں کشمیر سے باہر کے سینکڑوں طلبا نے اگلے دن ترنگا لیکر ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے اور کیمپس تک مارچ کیا۔ ان طلبا کو کشمیری پولیس نے دوڑا دوڑا کر اتنی بری طرح پیٹا کے کچھ کی تو ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور کچھ ہسپتال میں اپنا علاج کروا رہے ہیں۔ان کا قصور بس اتنا تھا کہ یہ ترنگا لہرا رہے تھے اور ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ کچھ زخمیوں نے بتایا کہ انہیں کیمپس سے باہر نہیں نکلنے دیا جارہا ہے اور طرح طرح سے دھمکایا جارہا ہے۔ڈرے اور سہمے اورپٹے طلبا نے سوشل میڈیا کا سہارا لیکر وزیر داخلہ ،وزیر انسانی وسائل ترقی اور وزیر اعظم تک سے مدد کی اپیل کی ہے۔ کشمیر کی راجدھانی سرینگر میں ’بھارت ماتا کی جے‘ پر بربریت آمیز لاٹھی چارج پر پورے دیش کا خون کھول رہا ہے اور مرکزی سرکار نے حالات پر کنٹرول پانے کے لئے سی آر پی ایف کے جوان این آئی ٹی میں تعینات کردئے ہیں۔ ہندوستانی فوج نے یونیورسٹی انتظامیہ کی مخالفت کررہے طلبا کو پرامن احتجاجی مظاہرے کی اجازت دی اور انہیں کہا کہ جب ہم ہیں تو آپ کو کس بات کا ڈر ہے، اب جی بھر کے لگاؤں ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے۔ طلبا نے بھی حب الوطنی کے نعرے لگانے شروع کردئے اور سبھی نے کھلے آسمان کے نیچے بھاری بارش کے باوجود ’ بھارت ماتا کی جے، وندے ماترم ‘ کے نعرے لگانے شروع کردئے۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور وزیر انسانی وسائل ترقی اسمرتی ایرانی نے وزیر اعلی محبوبہ مفتی سے فون پر فوراً بات کی اور کہا کہ انسٹیٹیوٹ کے طلبا کی حفاظت یقینی کی جائے۔ محبوبہ سرکار نے کیمپس میں لاٹھی چارج کے واقعہ کی جانچ کے احکامات دے دئے ہیں۔ ریاست میں اتحادی سرکار کی دوسری پاری شروع ہوتے ہی اس جھگڑے نے بھاجپا کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ متاثرہ طلبا کا کہنا ہے کہ دیر شام تک ریاستی سرکار کا کوئی وزیر ان کا حال چال جاننے نہیں آیا۔ دیش کے دیگر حصوں میں مانگ اٹھ رہی ہے کہ این آئی ٹی کو سرینگر (کشمیر) سے منتقل کر کے کسی دوسری ریاست میں لایا جائے۔ مرکزی وزارت انسانی وسائل ترقی وزیر اسمرتی ایرانی کے مطابق جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے سرینگر این آئی ٹی میں لا ء اینڈ آرڈر قائم رکھنے کا بھروسہ دیا ہے۔ پریشان طلبا اور والدین کی مدد کے لئے وزارت کے افسران کی ٹیم کیمپس میں ہے اور یہاں امتحان ختم ہونے تک رہیں گے۔
(انل نریندر)

08 اپریل 2016

وکی لکس کے بعد اب پنامہ پیپرس!

تفتیشی جرنلسٹوں کے ایک گروپ نے ہندوستان سمیت دنیا کی سرکردہ ہستیوں کے ذریعے پنامہ کی معرفت بیرون ملک میں پیسہ چھپانے کا ایک اور سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ وکی لکس کی طرح تفتیشی جرنلسٹوں کی ایک تنظیم نے تقریباً 8 مہینے کی تفتیش کے بعد سامنے آئی اس رپورٹ میں قریب 200 ملکوں کے گراہکوں کے ناموں کا انکشاف کیا ہے۔ پنامہ پیپرس کے نام سے سامنے آئے ان مالی سودوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکردہ لوگوں نے ٹیکس چوری کے لئے’’ ٹیکس ہیونس دیش‘‘ پنامہ میں کمپنی کھلوائی اور غیر قانونی مالی لین دین کو انجام دیا۔ سیشلز ، ورجن آئرلینڈ اور پنامہ جیسے کچھ ایسے ملک ہیں ، جو اپنے یہاں کمپنی قائم کرنے یا یہاں سے چلانے پر کوئی ٹیکس نہیں لیتے۔ پیسہ جمع کرنے پر پوچھ تاچھ بھی نہیں ہوتی ہے اس لئے انہیں ’’ٹیکس ہیونس‘‘ دیش بھی کہا جاتا ہے۔ ایک سال پہلے میونخ (جرمنی)کے ایک اخبار نے تفتیشی صحافیوں کے محاذ انٹرنیشنل کنسورٹیم انویسٹی گیٹیو جرنلسٹ نے اس پنامہ پیپرس کا خلاصہ کرنے کے لئے قرار کیا تھا اس کے تحت بھارت کے ایک انگریزی اخبار سمیت دنیا بھر کے 100 میڈیا اداروں کے صحافیوں نے ایک کروڑ دستاویزوں کی پڑتال کے بعد جو خلاصہ کیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر کی نامی گرامی ہستیوں سمیت بھارت کے کئی لوگوں نے پنامہ میں کمپنیاں کھول کر کالا دھن جمع کیا۔صحافت دنیا کے اب تک کے سب سے بڑے پردہ فاش نے 200 ملکوں کے سربراہ مملکت ، سیاستدانوں، افسران اور کاروباریوں ، فلم اداکاروں اور کھلاڑیوں کے چہرے سے نقاب اتاردیا ہے اور ان اندیشات تصورات کی پھر تصدیق کردی ہے۔ سرمایہ داری کے مالی دھندوں میں بہت کچھ سیاہ ہے اور سماج کے لئے خطرناک بھی ہے۔ حالانکہ یہ کہنا ہوگا کہ ایسی خبریں اب کم چونکانے لگی ہیں۔ حال ہی میں جیسے وجے مالیہ ہزاروں کروڑ روپے کا قرض چکائے بنا دیش چھوڑ کر چلے گئے اور سرکاری بینکوں و انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کارروائی سے فی الحال کوئی خاص فرق پڑتا نہیں دکھائی دیتا۔ تو لوگوں میں ایسی خبروں کے تئیں مایوسی دکھائی دینے لگی ہے۔ اس فہرست میں کئی سربراہ مملکت ایسے ہیں جو ڈکٹیٹر یا کرپٹ حکمراں کی ساکھ رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ شبہ ہونا فطری ہی ہے کہ کہیں ٹیکس بچانے کے نام پر کالے دھن کو سفید کرنے کا کھیل تو نہیں ہورہا تھا۔ پنامہ کی اس کمپنی کو 40 سے زائد دیشوں میں سرگرمی یہی اشارہ کرتی ہے کہ اسے بین الاقوامی سطح پر سرپرستی حاصل تھی۔ دراصل مسئلے کی اصلی جڑ کئی دیشوں کے وہ قانون ہی ہیں جن کے تحت خفیہ کھاتہ کھولنا پیسے کے ذرائع کو چھپانا اور کاغذی کمپنیاں بنانا آسان ہے۔ ان کی معیشت موٹے طور پر دنیا بھر کے امیروں اور غیر قانونی ڈھنگ سے کمائے گئے پیسے کو محفوظ کرنے والوں کے پیسے سے چلتی ہے۔ حالانکہ تازہ انکشافات کے ذریعے سے یہ بتادیا گیا ہے کہ کارپوریٹ سرمائے سے چلنے والے میڈیا میں سچ اجاگر کرنے کا جرأت ختم نہیں ہوئی ہے اور سچ ہمیشہ کے لئے دبایا نہیں جاسکتا لیکن اس جرأت کو پائیداری تبھی ملے گی جب ملک کی حکومتیں اپنی حدود میں اپنے قوانین کے تحت کارروائی کریں اور ایک دوسرے سے مل کر ایسے انٹرنیشنل قانون بنائیں جو اس طرح کی سرگرمیاں چلانے والے کسی بھی اہم اور طاقتور شخص کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ بھارت کے وزیر مالیات ارون جیٹلی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حوالے سے اس کی جانچ کی ضرورت تو بتا دی ہے لیکن ویسی جانچ کتنی حقیقت ہوگی اور کتنا فسانہ ، کہا نہیں جاسکتا۔ حالانکہ کالی کمائی پر ایک اسپیشل جانچ ٹیم پہلے ہی سے سپریم کورٹ کی نگرانی میں کام کررہی ہے۔ اس سے کتنا کچھ باہر آ پائے گا یا ان لوگوں پر قانونی شکنجہ کتناکسا جائے گا یہ کہنا مشکل ہے اور وقت ہی بتائے گا اس فہرست میں جن کے نام آئے ہیں ان میں سے بہتوں نے تو انکار بھی کردیا ہے۔ دیکھیں کہ کیا یہ تفتیشی انجمن آنے والے دنوں میں کوئی دستاویزی ثبوت بھی پیش کرتی ہے؟
(انل نریندر)

جعلسازی کا نیا ریکارڈ: مجسٹریٹ بن کر 2700 ملزمان کورہا کیا

ہمارے دیش میں جعلسازی میں نئے نئے ریکارڈ قائم ہورہے ہیں۔ یہ کرمنل مائنڈ کے ایکٹر ایک سے بڑھ کر ایک نئی اسکیم بناتے ہیں۔ ٹھگی کی دنیا میں سپر نٹورلال اور انڈین چارلس شوبھ راج کے نام سے مشہور شاطر بدمعاش دھنی رام متل (77 سال) آخر کار پولیس کی گرفت میں آہی گیا ہے۔ وہ ایک دو سال سے نہیں بلکہ 50 سال سے ٹھگی کا دھندہ کررہا تھا اور وہ 127 جرائم پیشہ مقدموں میں شامل رہا۔ بنیادی طور سے ہریانہ کا باشندے دھنی رام نے اپنا جال دہلی، ہریانہ، پنجاب، چندی گڑھ و راجستھان میں پھیلا رکھا تھا۔ جعلسازی کے طریقے سے مجسٹریٹ اور اسٹیشن ماسٹر بن کر اس نے کئی کارناموں کو انجام دیا ہے۔ دھنی رام نے پولیس کو بتایا جھجھر میں واقع عدالت میں اس نے فرضی مجسٹریٹ بن کر2700 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا۔اس کے پاس ایل ایل بی کی ڈگری ہے اور اسے قانون کی باریکیوں کی اچھی معلومات ہے۔ اس نے کولکتہ سے کیلی گرافی کا کورس بھی کیا ہے اور ٹھگی کے دھندے میں اسے اس کا کافی فائدہ بھی ہوا ہے۔ اس سے پہلے دھنی رام نشیلے سامان کی اسمگلنگ ، پولیس حراست سے بھاگنا، سٹہ بازی سمیت کئی معاملوں میں ملوث رہا ہے۔چنڈی گڑھ کے ایک معاملہ میں اسے بھگوڑا بھی قرار دیا جا چکا ہے۔ ابھی دھنی رام اور اس کا خاندان ٹیکری خورد علاقے میں رہتا ہے۔ اس سے پہلے وہ جہانگیر پوری اور سونی پت بھی رہتا تھا۔ویسٹ ڈسٹرکٹ پولیس ڈپٹی کمشنر پشپیندر کمار نے بتایا کہ گاڑی چوری انسداد دستے کو اطلاع ملی تھی کہ دھنی رام روہنی کورٹ کمپلیکس میں کار چوری کے لئے آنے والا ہے۔ انسپکٹر راجپال ڈباس کی رہنمائی میں پولیس ٹیم نے کورٹ کے قریب اپنا جال بچھایا۔ سادی وردی میں پولیس کو تعینات کیا گیا۔ جیسے ہی وہ کورٹ کے کمپلیکس کے پاس دکھائی دیا پولیس نے اسے دبوچ لیا۔اس کی نشاندہی پر چوری کی ایک کار بھی برآمد ہوئی ہے۔ روہتک کالج سے بی اے کرنے کے بعد دھنی رام نے فرضی کاغذات کے سہارے ریلوے اسٹیشن میں اسٹیشن ماسٹر کی نوکری بھی کی۔ دہلی سمیت کئی جگہوں پر وہ تعینات رہا بعد میں وہ فرضی ڈرائیوننگ لائسنس بنانے اور گاڑیوں کے فرضی رجسٹریشن کرنے کے دھندے میں آگیا۔ سال1964 میں روہتک میں پہلی بار پولیس کی گرفت میں آیا۔ جیل سے چھٹنے کے بعد اس نے راجستھان سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور کولکتہ سے کیلی گرافی کا کورس کیا۔ کچھ دنوں تک پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں منیم کی نوکری کی ،بعد میں روہتک و دہلی میں وکالت کرتا رہا۔جھجھر کورٹ میں دو مہینے تک فرضی مجسٹریٹ بن کراس نے نہ صرف ملزمان کو رہا کیا بلکہ پولیس والوں کو بیوقوف بھی بناتا رہا۔
(انل نریندر)

07 اپریل 2016

محبوبہ درست تو آید ، آگے کا راستہ آسان نہیں

جموں و کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلی کی حیثیت سے حلف لے کر محترمہ محبوبہ مفتی نے ریاست میں قریب تین مہینے سے چلی آرہی بے یقینی کو ختم کردیا ہے۔ بی جے پی پہلے کی طرح حکومت میں حصہ دار ہے۔ 56 سالہ محبوبہ جموں و کشمیر کی پہلی اور دیش کی پانچویں خاتون وزیر اعلی بن گئی ہیں۔ پیر کو انہوں نے 22 وزرا کے ساتھ عہدۂ راز داری کا حلف لیا۔ ان میں سے 11 پی ڈی پی کے ،9 بھاجپا کے اور 2 پیپلز کانفرنس کے لیڈر شامل ہیں۔ بھاجپا کے نیتا نرمل سنگھ صوبے کے نائب وزیر اعلی بنائے گئے ہیں۔ کانگریس نے حلف برداری تقریب کا بائیکاٹ کیا۔ یہ شاید پہلی بار ہے جب دیش کے چاروں کونوں میں خاتون وزیر اعلی ہیں۔ مغربی بنگال ممتا بنرجی، گجرات آنندی پٹیل اور جموں و کشمیر میں محبوبہ مفتی ، تاملناڈو میں جے للتا ، راجستھان میں وسندھرا راجے۔ یعنی دیش کی اب کل پانچویں خاتون وزیر اعلی ہیں۔ محبوبہ دیش کی پہلی مسلم وزیر اعلی تو نہیں ہیں ، سعیدہ انورا تیمور 1980ء میں آسام کی وزیر اعلی رہ چکی ہیں لیکن فی الحال کٹر پسند طاقتوں کی طرف سے ساکھ کا بحران جھیل رہے اسلام میں اپنی سادگی لیکن تیز ترار مسلم سیاستداں والی تصویر کے ذریعے انہیں اس مورچے پر بھی ایک بڑا کردار نبھانا ہوگا۔ ریاست میں بی جے پی۔ پی ڈی پی کی سرکار بننے کی کوشش بیشک ختم ہوگئی ہے لیکن اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ دونوں پارٹیاں مل کر میل ملاپ سے سرکار چلانے کی کوشش کریں۔اس کوشش میں سب سے بڑی رکاوٹ نیشنلزم کو لیکر ہونے والے چلن و لڑکوں کی ناراضگی پر کنٹرول رکھنا ہوگا۔ جہاں بی جے پی ان دنوں نیشنلزم کی آئیڈیالوجی کو لیکر جارحیت اپنائے ہوئے ہے، وہیں پی ڈی پی حمایتیوں کے لئے اس شکل میں لینا چیلنج بھرا ہوگا۔ ایک اور چیلنج اس سرکار کے سامنے ہے ان علیحدگی پسندوں سے نمٹنا۔ بی جے پی کسی بھی حالت میں نہیں چاہے گی کہ محبوبہ حکومت علیحدگی پسندوں کو لیکرنرم رویہ اپنائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بی جے پی کے لئے دیش کے باقی حصوں میں اپنا ووٹ بینک کھسکنے کا خطرہ پیدا ہوجائے گااور تقریباً یہی صورت پی ڈی پی کی بھی ہے اگر وہ حریت یا پھر دیگر کٹر پسندوں کے خلاف سخت رویہ اپناتی ہے تو اس کے لئے ریاست میں اپنی بنیاد بچا پانا مشکل ہوجائے گا۔ بی جے پی نے مفتی صاحب کی سرکار میں جموں خطہ کی ترقی میں ڈھیل دی تھی۔ اس وجہ سے جموں خطہ میں بی جے پی سے لوگ ناراض ہیں۔ اس بار ان کی کوشش ہوگی کہ جموں میں تیزی سے ڈیولپمنٹ ہو جبکہ پی ڈی پی کا سارا زور کشمیر وادی پر رہے گا۔ریاست کے دونوں حصوں میں ڈیولپمنٹ کو لیکر کتنی آپسی کھینچ تان ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست میں کون سے شہر کو اسمارٹ سٹی بنایا جائے؟ ریاست سے ایک ہی سٹی کو اسمارٹ سٹی بنایا جاسکتا ہے، لیکن کوئیبھی یہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہے کہ وہ جموں اور سرینگر میں سے کسی ایک کو چنے۔ محبوبہ طویل عرصے سے سیاست میں ہیں اور انہوں نے زمینی سطح پر تنظیم کو کھڑا کرنے سے لیکر پارٹی لیڈر شپ تک اپنی سیاسی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔ لیکن انتظامی ذمہ داری پہلی بار اٹھائی ہے۔ معلق اسمبلی نے دونوں پارٹیوں کو اپنے اختلافات کو درکنار کرساتھ آنے پر مجبور کیا ہے۔ مفتی محمد سعید محبوبہ کے مقابلے تھوڑا نرم تھے اور کچھ معاملوں میں انہوں نے تال میل بھی کیا ہے۔ اگر یہ لچیلا پن اور آپسی سوجھ بوجھ بنی رہی تو اتحادی حکومت کا یہ دوسرا دور بھی ٹھیک ٹھاک چل سکتا ہے۔ جموں و کشمیر پر ساری دنیا کی نظریں لگی رہتی ہیں۔ خاص طور پر ہمارے پڑوسی پاکستان کی۔ وہ بھی بڑی بے چینی سے دیکھ رہا ہے کہ کیسے چلتی ہے محبوبہ سرکار۔
(انل نریندر)

سرحد کی حفاظت کرتی بھارت کی بہادر خاتون جوان

بھارت کیلئے یہ بہت فخر کی بات ہے کہ ہماری خواتین اب کسی بھی میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں ہیں بس موقعہ ملنا چاہئے۔ تازہ مثال خواتین کے جنگی پائلٹ بننے کی ہے۔ ایئر فورس میں دیش میں پہلی بار تین خاتون پائلٹ جنگی جہاز اڑانے جارہی ہیں۔ مہلا جنگی جہاز پائلٹوں کا پہلا بیچ 18 جون کو ایئر فورس میں شامل کیا جائے گا۔ ایئر چیف مارشل اروپ راہا نے بتایا کہ تین خاتون ٹریننگ یافتہ افسران نے جنگی رول میں شامل کئے جانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ راہا نے بتایا کہ 1991ء میں خاتون کو پائلٹوں کی شکل میں انڈیا ایئر فورس میں شامل کیا تھا، لیکن یہ محض ہیلی کاپٹر اور ٹرانسپورٹ جہازوں کیلئے ہی محدود تھا۔ خواتین امپاورمنٹ کی سمت میں ایک اور قدم بڑھاتے ہوئے 18 جون کو ایئرفورس میں خاتون پائلٹ کا پہلا بیچ شامل کیا گیا۔بھاونا کانت ، اشونی چترویدی اورموہنی سنگھ دیش کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ بننے جارہی ہیں۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اسے فوجی وردی میں عورتوں کے کردار کے لحاظ سے فیصلہ کن موڑ بتایا ہے۔ فی الحال یہ تین خاتون پائلٹ دوسرے مرحلہ کی ٹریننگ لے رہی ہیں۔ راہا نے بتایا کہ18 جون کو ان کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ہے۔ اس کے پورا ہوتے ہی وہ اپنے ساتھی مردوں کے برابر ذمہ داری نبھا رہی ہوں گی حالانکہ انڈین ایئرفورس اکیڈمی سے پاس ہونے کے بعد بھی انہیں حقیقت میں جنگی بیڑے میں شامل کئے جانے سے پہلے 6 مہینے کا ایک اور کورس پاس کرنا ہوگا۔فائٹر پائلٹوں کے لئے محنت سے زیادہ ذہنی صلاحیت اور پرواز صلاحیت اہم ہوتی ہے۔ اسی ذہنی قوت اور نشو و نما کے لئے انہیں موبائل سے بھی دور رکھا جارہا ہے۔ فلائنگ کی ہر باریکیوں کو سکھانے کے بعد ان کا ٹیسٹ ہورہا ہے۔ ٹیکنیکل موضوعات کے لئے پاسنگ مارکس 90 فیصد اور ایمرجنسی سبجیکٹ کے لئے 100 فیصد ہے۔ ہر اسٹیج پر گراؤنڈ سبجیکٹ اور فلائنگ دونوں سکھائے جاتے ہیں اور دونوں میں اول آنا ضروری ہے۔ ویسے بتا دیں کہ محض ایئرفورس کی ہی نہیں بلکہ پیرا ملٹری فورس میں عورتوں کو سب سے زیادہ موقعہ دیا جاتا ہے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے سی آئی ایس ایف کے یوم تاسیس پر کہا کہ اب دیش کی سرحد کی سلامتی بھی خواتین کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا پیرا ملٹری فورس میں عورتوں کی سانجھے داری کو بڑھانا ضروری ہے۔ ہر فورس میں عورتوں کو33 فیصد حصے داری یقینی کرنی چاہئے۔ ویسے بتادیں کہ ایک اندازے کے مطابق فائٹر پائلٹ کے پورے کیریئر کے دوران ان کی ٹریننگ پر اوسطاً 20 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔
(انل نریندر)

06 اپریل 2016

تنزیل احمد کے قتل سے کھڑے ہوئے کئی سوال

اترپردیش کے بجنور شہر میں قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کے بہادر ڈی سی پی تنزیل احمد کے قتل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان پرجس طرح تابڑ توڑ گولیاں ماری گئیں اس سے صاف ہے کہ قاتلوں کا پورے خاندان کو ختم کرنے کا ارادہ تھا۔ سیہوارہ کے علاق سہسپور کے باشندے تنزیل احمد اپنی فیملی کے ساتھ ایک شادی تقریب میں شرکت کر کارسے لوٹ رہے تھے لیکن دو بائیک سواروں نے گولیوں کی بوچھار کردی۔ بدمعاشوں نے9 ایم ایم کی پستول سے تنزیل کو24 گولیاں ماریں اور فرار ہوگئے۔ واردات میں ان کی اہلیہ شدیدزخمی ہوگئیں جبکہ دو بچے سیٹ کے نیچے چھپ گئے جس سے ان کی جان بچ گئی۔ تنزیل کی بیٹی جمنش فریدہ نے سہمے ہوئے منظر کو بیاں کیا۔ کار ابھی سہسپور میں داخل ہونے ہی والی تھی کہ سڑک پر بن رہی نالی پر گاڑی کی رفتار دھیمی کردی۔ تبھی منہ پر کپڑا باندھے بائیں سائڈ سے بائیک پر سوار دو لوگ آئے اور ممی کی طرف سے کھڑکی پر گولی چلادی۔ خطرہ بھانپتے ہی پاپا نے ہمیں کہا کہ ہیڈ ڈاؤن، تو میں اور میرے بھائی شاہباز نیچے ہوکر سیٹ کے نیچے چھپ گئے اور بائیک والوں نے فائرننگ شروع کردی۔ 10 منٹ تک فائرننگ چلتی رہی اس کے بعد حملہ آور بھاگ گئے۔ بڑی دیر بعد دیکھا تو پاپا خون سے لت پت پڑے تھے۔ اس نے بتایا کہ گولیاں لگنے کے بعد پاپا نے ممی کی گود میں نیچے جھک کر بچنے کی کوشش کی 5 منٹ پر پیچھے سے تایا کی کار آگئی، ممی کو بھی گولیاں لگیں اور ان کے منہ سے خون نکل رہا تھا۔ کیونکہ تنزیل احمد این آئی اے سے وابستہ تھے اس لئے اس طرح کے اندیشات کا پیدا ہونا فطری ہے کہ کہیں ان کے قتل کے پیچھے دہشت گرد عناصر کا ہاتھ تو نہیں ہے۔ خیال رہے کہ جس بجنور ضلع میں انہیں نشانہ بنایا گیا وہاں کچھ وقت پہلے ہوئے بم دھماکے کی جانچ این آئی اے کررہی تھی۔غور طلب ہے کہ بجنور ضلع ایک لمبے عرصے سے دہشت گردوں کے نشانے پر رہا ہے۔ سال2001ء میں آتنک وادیوں نے تھانہ شاہ کوتوالی چوکی پر موجود ایک دروغہ اور پولیس ملازم کو مار ڈالا تھا۔ 2014ء میں 12 ستمبر کو سمی کے 6 دہشت گرد ضلع ہیڈ کوارٹر کے محلہ زائران میں دھماکے کے بعد فرار ہوگئے تھے۔ دیش کی سب سے اہم جانچ ایجنسی این آئی اے کے ڈپٹی ایس پی کے قتل سے ضلع کا ہر شخص سکتے میں ہے۔ ضلع میں ہر کسی کی زبان پر تنزیل احمد کے قتل کو آتنکی واردات سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ اس واردات سے جہاں قاتلوں کا حوصلہ تو صاف ہوتا ہے وہیں اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کی حالت پر نئے سرے سے سوال کھڑے کرتی ہے۔ اترپردیش سرکار چاہے جیسے دعوے کیوں نہ کرے، صوبے میں قانون و انتظام نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ تنزیل احمد کا قتل کوئی عام قتل کی واردات نہیں ہے۔ پولیس فورس کے ایک سینئر افسر کا اس طرح سے قتل کرنا حملہ آوروں کے حوصلے کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر آتنکی اس واردات کے پیچھے ہیں تو ہماری جانچ ایجنسیوں کوقاتلوں کو ڈھونڈ نکالنا ہوگا اور انہیں سزا دلانی ہوگی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہمارے سکیورٹی جوان اور جانچ ایجنسیوں کا حوصلہ گرے گا اور حملہ آوروں کی بھی خود اعتمادی بڑھے گی۔ مرکزی سرکار کو بھی یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ این آئی اے اور دیگر اسی طرح کی ایجنسیوں کے جو افسر خاص طور سے آتنکی وارداتوں کی جانچ کررہے ہیں انہیں سکیورٹی ہر سطح پر مہیا کروائی جائے۔تنزیل قتل سے ایک بات تو صاف ہوتی ہے کہ حملہ آوروں کو ان کی پوری نقل و حرکت کی جانکاری تھی اور ممکن ہے کہ وہ ان کی کار کے پیچھے لگے ہوں اور موقعہ پاتے ہی اپنا کام کرگئے۔ ہمیں اس بہادر افسر کی شہادت پر ناز ہے۔
(انل نریندر)

کیرل،مغربی بنگال اور آسام میں مسلم فیکٹر

پانچ ریاستوں میں ہورہے اسمبلی چناؤ میں مسلم فیکٹر بن کر سامنے آیا ہے۔ جن پانچ ریاستوں میں چناؤ ہورہے ہیں ان میں کیرل، آسام، مغربی بنگال تو دیش کی سب سے زیادہ مسلم آبادی والی ریاستوں میں شمار ہوتی ہیں۔ یہاں سب سے بڑے ووٹ بینک کی شکل میں مسلمان ہیں اور ان کا ووٹنگ پیٹرن چناؤ نتائج کا ایک بہت اہم پہلو ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام پارٹیاں ان کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہیں۔ان ریاستوں میں تو کچھ سیٹیں ایسی ہیں جن پر مسلم ووٹ 50فیصدی کے قریب ہیں۔ واقف کاروں کے مطابق ان تین ریاستوں میں مسلم ووٹروں کا رخ انترم نتیجے طے کرے گا لیکن مسلم آبادی کے سامنے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ان کے سامنے کئی متبادل ہیں۔ 2011ء کے چناؤ اور اس بار کے چناؤ میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ پچھلے اسمبلی چناؤ میں مسلم ووٹ بینک تھے لیکن تب بی جے پی اس کا فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں تھی لیکن اس بار خاص کر آسام میں مسلم ووٹ بٹنے کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ملے گا۔ ادھر ایک اہم شخصیت یوڈی ایف کے بدرالدین اجمل اور کانگریس کے ترون گگوئی دونوں کو اپنے ووٹ بینک پر بھروسہ ہے۔ پچھلے کچھ چناؤ میں مسلمانوں کے درمیان اجمل کی پکڑ بڑھ رہی ہے اگر یہ دباؤ اس بار بھی جاری رہا تو مسلسل چوتھی جیت کے مشن پر نکلے ترون گگوئی کو دھکا لگ سکتا ہے۔اسی طرح کیرل میں لیفٹ کی رہنمائی والے ایل ڈی ایف اور کانگریس کی رہنمائی والے یو ڈی ایف کے درمیان مسلم ووٹ منتقل ہورہے ہیں۔اس بار بھی کم و بیش ایسی ہی صورت ہے لیکن اس بار بڑا فرق یہ ہے کیرل میں آر ایس ایس کی رہنمائی میں بی جے پی نے تمام ہندو گروپوں کو پہلی بار سیاسی طور پر سرگرم ہونے میں کامیابی پا لی ہے۔ ادھر مغربی بنگال میں مسلمانوں نے حالیہ دنوں میں ممتا بنرجی کا ساتھ دیا ہے۔ اس بار بھی ممتا نے ان کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے اپوزیشن کے کئی الزامات کو جھیلا ہے، خاص کر مالدہ کی واردات اور بردوان دھماکے میں بی جے پی نے ممتا پر خوش آمدی کے الزام بھی لگائے۔ دوسری طرف یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وزیر اعظم کی چناؤ ریلیوں میں ان ریاستوں کے ووٹروں پر اثر دکھائی پڑنے لگا ہے۔ مودی نے آسام میں اب تک غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کا اشو نہ اٹھا کر ریاست کی ترقی کا اشو اٹھایا تو مغربی بنگال میں اذان کے دوران اپنی تقریر روک دی۔ حالانکہ لوک سبھا چناؤ میں جب آسام میں بی جے پی کو غیر متوقع کامیابی ملی تھی تب اس کے پیچھے ناجائز بنگلہ دیشیوں کا اشو جیت میں کافی اہم تھا لیکن تب اس اشو کی وجہ سے ہندو ووٹ بینک کا پولرائزیشن ہوا تھا اور مسلمان ووٹ کانگریس اور یوڈی ایف میں بٹ گیا تھا لیکن اس بار مسلم ووٹ کے نہیں بٹنے کے اندیشے کے درمیان بی جے پی ایسے حساس اشوز کو چناؤ میں لانے سے شاید پرہیز کرے۔ ادھر کانگریس ان ریاستوں میں مسلم ووٹ کی بدولت اپنے لئے اچھے دنوں کی واپسی کی امیدیں لگائی ہوئی ہے۔ خاص کر آسام اور کیرل میں کانگریس کو اگر اپنی سرکار بنائے رکھنے کی کوئی امید دکھائی دے رہی ہے تو اس کے پیچھے ایم فیکٹر (مسلم) ہیں۔ پارٹی کی حکمت عملی ہے کہ بہار کی طرز پر بی جے پی کو ہرانے کے لئے مسلم ووٹ متحد ہوسکتے ہیں جس کا فائدہ اسے ملے گا۔بہار میں بھی اویسی سمیت کئی ایسی پارٹیاں چناؤ میں کھڑی ہوئی تھیں جنہوں نے مسلم ووٹ پر دعوی پیش کیا تھا لیکن جب چناؤ نتیجہ سامنے آیا تو یہ حقیقت سامنے آگئی کہ وہ ایک ہی پارٹی کے حق میں متحد ہوکر کھڑے ہیں۔
(انل نریندر)

05 اپریل 2016

جیش سرغنہ مسعود اظہر پر چین کا ویٹو

چین نے ایک بار پھر اقوام متحدہ میں بھارت کی پیٹھ میں چھڑا گھونپ کر پاکستان سے اپنی دوستی نبھائی ہے۔ چین نے پٹھان کوٹ حملے کے لئے ذمہ دار آتنکی تنظیم جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو آتنکوادی سرغنہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔ یہ کافی دلچسپ اتفاق ہے کہ جس دن چین کے صدر شی جی پنگ واشنگٹن میں امریکہ صدر براک اوبامہ کے ساتھ بات چیت سیشن میں اخبار نویسیوں سے بات کررہے تھے تو انہوں نے دہشت گردی کے خطرے سے نپٹنے میں امریکہ اور چین کے رول پر تبادلہ خیالات کئے ہیں۔ اور اسی دن چین نے دہشت گردی تنظیم جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو بچانے کے لئے اقوام متحدہ میں اپنے ویٹو کا استعمال کیا ہے۔ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں ہندوستان نے مسعود اظہر پر پابندی کے لئے تجویز رکھی تھی اور اس کے ثبوت بھی پیش کئے تھے سیکورٹی کونسل کے دیگر مستقل ممبر امریکہ، فرانس وغیرہ کی تجویز کی حمایت میں تھے، لیکن چین نے ویٹو کرکے اسے ناکام کردیا ہے۔ ویسے ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے جب چین نے مسعود اظہر پر پابندی کی تجویز کو ناکام کیا ہے۔ جیش محمد پر تو 2001 کے بعد سے پابندی لگی ہوئی ہے ، لیکن 26/11حملے کے بعد مسعود اظہر پر پابندی لگانے کے ہندوستانی پرستاؤ کو چین نے ویٹو کردیا تھا۔ اقوام متحدہ میں چین کے نمائندے نے پاکستان کی دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر پر اس لئے پابندی نہیں لگنے دی مبینہ طور پر متعلقہ قواعد اور کارروائی کوصحیح طریقے سے تعمیل نہیں کیا گیا ہے۔ کیونکہ چینی نمائندے یہ صاف کرنے میں ناکام رہے کہ جس قاعدے یا عمل کی تعمیل میں کیا خامی تھی جس کے لئے اس نے ویٹو کیا ہے؟ اس نے یہ اس لئے کیا ہے چین ڈپلومیٹک بے شرمی کا ثبو ت دینے میں آمادہ تھا اور وہ بھی ایک ایسے آتنکی کے لئے جس کے کرتوت سے پوری دنیا واقف ہے۔ چین اس سے بے خبر نہیں ہوسکتا ہے۔ کیونکہ مسعود اظہر پٹھان کوٹ میں آتنکی حملے کے لئے ذمہ دار ہے اور اس کی تنظیم جیش محمد پر اقوام متحدہ کی پابندی پہلے سے چلی آرہی ہیں۔ ان حالت میں اقوام متحدہ کے سامنے بھارت کی یہ مانگ بے حد مناسب تھی کہ مسعود اظہر کو بلیک لسٹ میں ڈالا جائے۔ لیکن پاکستان سے اپنی دوستی نبھانے کے لئے چین نے اڑنگا لگا دیا ہے۔ہمیں اس سے بھی مطمئن نہیں ہونا چاہئے کہ چین کے رویہ پر ہم اپنی مایوسی ظاہر کردی ہے یہ معاملہ صرف مایوسی ظاہر کرنے تک محدود رہنے کانہیں ہے۔بلکہ بھارت کو چین سے دو ٹوک انداز میں کہہ دینا چاہئے کہ اس نے آتنکی حمایت کرکے نہ صرف بھارت کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے بلکہ عالمی سطح پردہشت گردی سے لڑنے کا دنیا کو عزم پر بھی چوٹ کی ہے۔ چین کی اس حرکت کے بعد بھارت کو اس کے اپنے دوست اور غیرملکی ہیتشی کے طور پر دیکھنا بند کرنا چاہئے۔ یہ دنیا کے سامنے ظاہر کے چین پاکستان کا صدا بہار دوست ہے اور دوست کے مفادات کی حفاظت کے لئے عہد بند ہے لیکن اب اس نے یہ بھی ظاہر کردیا ہے کہ اس کے اس عزم کے اعلان کردہ آتنکی کو کھلی حمایت بھی شامل ہے۔ مسعود اظہر پر پابندی لگانے سے پاکستان مشکل میں پڑ جائے گا کیونکہ پاکستانی اقتدار اعلی اس کے بہت اچھے دوستانہ تعلقات ہے وہ فوج اور آئی ایس آئی کی سرپرستی میں ہی اپنی دہشت گردی چلاتا ہے۔ پاکستان میں مسعود اظہر اور حافظ سعید جیسے آتنکی سرغنوں نے اقتدار اعلی اور سماج میں اتنا مضبوط تانا بانا بن رکھا ہے کہ اس پر ہاتھ ڈالنا سرکار یا فوج کے لئے چاہ کر بھی ممکن نہیں ہے۔ چین کے اس رویہ سے بھارت کونہ صرف ہوشیار برتنی ہوگی بلکہ اس کی کاٹ بھی کرنی ہوگی۔ پاکستان کے ساتھ چین کااتحاد دن پر دن مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ اور چین جانتا ہے کہ بھارت اس کے خلاف ایک حد سے آگے نہیں بڑھے گا۔ بھارت کو چین کی اس غلط فہمی کو دور کرنا ہوگا۔ 
(انل نریندر)

کیا دیدی مسمار فلائی اوور کے ذمہ داروں پر کارروائی کرینگی

دوسروں کو سیاست نہ کرنے کی نصیحت دینے والی ممتا بنرجی کولکتہ کے بڑے بازار میں زیر تعمیر فلائی اوور حادثے کے لئے پچھلی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا کر خود اسی سیاست کا ثبوت دیا ہے جیسے اپوزیشن کی حکومتوں کی دور میں ہوتا تھا۔کولکتہ کے بڑے بازار وویک آنند فلائی اوور بھارت کے پچھلے کھاتے لیفٹ فرنٹ اور پرانے سرمایہ داری کھینچ تان میں تباہ ہوگیا ہے۔ بلیک لسٹ میں درج حیدرآباد کی کمپنی آئی وی آر سی ایل نے اس حادثے کو بھگوان کی مرضی بتایا ہے اور سیاسی پارٹیوں نے اس کا الزام ایک دوسرے پر ڈال دیا ہے اس فلائی اوور کے گرنے سے 24لوگوں کی موت ہوگئی ہے یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں ہے سوال یہ ہے کہ کیا اس کی جوابدہی طے ہوگی اور قصوروار لوگوں کو کبھی سزا ملے گی؟ کیا آگے کے لئے کچھ سبق لئے جائیں گے؟ فلائی اوور کی تعمیر میں لگی آئی آر وی سی ایل کے ایک سینئر افسر نے اس حادثے کو ایک انہونہ واقعہ قرار دیا ہے کیا زیر تعمیر فلائی اوور کا اچانک گر جانا یا زلزلہ آنے جیسا واقعہ ہے جس پر کسی کا بس نہ ہو؟ کمپنی کو سونپے گئے کام کو لے کر سنجیدہ ہی نہیں بلکہ ان کے افسران کا یہ رد عمل بتاتا ہے کہ ان کے ملازمین، مزدور وں اور عوام کے تئیں زرا بھی احساس نہیں ہوا ہے۔ ایک حصہ کااچانک ڈھے جانا اشور کی مرضی بتانا مارے گئے لوگوں کے تئیں بے حسی کا ثبوت دینا محض نہیں ہے بلکہ اپنی لاپروائی پر پردہ ڈالنے کی کوشش بھی ہے یہ ہی نہیں کہ ڈھلائی کرنے کے کچھ وقت بعد فلائی اوور کا ایک حصہ ڈھے گیا بلکہ پتہ چلا ہے کہ ڈھلائی سے پہلے لوہے کے ڈھانچے میں کئی جگہ نٹ بولڈ ڈھیلے اورکمزور پائے گئے ہیں تب بھی ان کو بدلا نہیں گیا تھا۔ اور ان پر تعمیر کا کام چل رہا تھا نیچے سے لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت جاری تھی جب فلائی اوور کاایک حصہ گرا تب نیچے سے پیدل گزر رہے لوگوں اور ٹیکسیوں کے علاوہ منی بس ، اسکول بس اور ٹرک گزررہے تھے ظاہر ہے کہ ایک بے حد مصروف علاقے میں فلائی اوور کمپنی نے تمام سیکورٹی پیمانوں کو جیسے ہی طاق پر رکھ دیا ہو موجود ہ فلائی اوور بھی دس ہزار کروڑ کے قرض میں ڈوبی ایک داغی کمپنی پچھلے آٹھ سال سے بنا رہی تھی جس کے نٹ بولڈ زنک کھا چکے تھے یہ کام بیچ میں دو تین سال تک روکا رہا اور بعد میں ممتا نے جب شروع کرایا تو ممتا نے چناؤ سے پہلے افتتاح کرنے کی جلد بازی کردی۔ نااہلیت کرپشن اور سیاسی کھینچ تان میں مغربی بنگال میں جو کمپنی اپنی ذہنی سیاسی اور صنعتی صلاحیتوں کی وجہ سے بھارت کے جدیدی کرن کامرکز تھی آج مغربی بنگال حاشیے پر چلا گیا ہے کیا امید کرے کہ دیدی ان کے خلاف کارروائی کرے گی جو اس حادثے کے لئے ذمہ دار ہے۔
(انل نریندر)

03 اپریل 2016

بھارت دہشت گردی کے سامنےنہ کبھی جھکا ہے نہ ہی جھکے گا

وزیر اعظم نریندر مودی کی جب بیلجیم دورہ کا پروگرام بنا تو یہی امید تھی کہ برسلز میں ان کا مرکزی زور ہندوستان کو سرمایہ کاری کے سازگار جگہ کے طور پر پیش کرنے پر ہو جائے گا. مگر ان کے دورے کے ایک ہفتے پہلے بیلجیم کے دارالحکومت برسلز شدید دہشت گردانہ حملے کا شکار بن گئی اور اس کے بعد مودی کا مقصد اور ترجیح بھی تبدیل کرنا پڑا. ضرورت ہو گئی کہ دہشت گردی کے خلاف سخت پیغام دیا جائے. برسلز کے ہوائی اڈے اور ایک میٹرو اسٹیشن پر دھماکے سے مچی افرا تفری کے درمیان ہی یہ اعلان ہوا کہ مودی کے دورے کا پروگرام نہیں بدلے گا. بدھ کو برسلز پہنچنے کے بعد انہوں نے مالبیق میٹرو اسٹیشن جاکر دہشت گرد حملے میں مارے گئے لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا. اس کے ذریعے انہوں نے دہشت گردی سے جنگ میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ بھارت کی یکجہتی کا پیغام دیا. وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ دیر رات کو برسلز کی زمین سے ہزاروں ہندوستانیوں کو خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی پر بھارت کی زیرو ٹالرینس کا سخت پیغام دیا. انہوں نے پاکستان پر بالواسطہ طور پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ بھارت 40 سال سے دہشت گردی سے پریشان ہے. یہ بھی کہا کہ اچھا دہشت گردی یا برا دہشت گردی کچھ نہیں ہوتا. بھارت نے جنگ میں جتنے نوجوان نہیں گنوائے اس سے زیادہ جوان دہشت گردانہ واقعات کے شکار ہوئے ہیں، شہید ہوئے ہیں. بھارت ہمیشہ چیخ چیخ کر دہشت گردی کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرتا رہا تو دنیا نے کہا یہ دہشت گردی نہیں، لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے. جب پوری دنیا کے پاؤں تلے سے زمین ہلنے لگی تب دنیا نے دہشت گردی پر بھارت کی تشویش مانا. 9/11 حملے کے بعد دنیا نے مانا کہ دہشت گردی بڑا چیلنج ہے. وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے آگے نہ کبھی جھکا ہے اور نہ ہی جھکے گا. انہوں نے کہا کہ کوئی مذہب دہشت گردی نہیں سکھاتا. گزشتہ دنوں دہلی میں صوفی کانفرنس کے دوران اسلامی علماء4 کرام نے کہا کہ دہشت گرد جس اسلام کی بات کرتے ہیں، وہ اسلام نہیں ہے. وزیر اعظم نے کہا کہ صرف بم، بندوق اور پستول سے دہشت گردی ختم نہیں کر سکتے. اس کے لئے معاشرے میں ایک ماحول پیدا کرنا ہوگا، جس سے لوگوں میں بیداری پیدا ہو سکے. دہشت گردی نئے دور کا چیلنج ہے. اقوام متحدہ پر بھی نشانہ لگاتے ہوئے مودی نے کہا کہ دنیا کا بڑا تنظیم اقوام متحدہ بھی دہشت گردی کی صحیح تعریف آج تک طے نہیں کر پایا. کون دہشت گرد ہے اور کون نہیں، کون ہے جو دہشت گرد تنظیموں کو فنڈز اور دیگر مواد مہیا کروا رہا ہے آج تک فیصلہ نہیں ہو پایا. ایسے ماحول میں دہشت گردی سے کیسے نمٹا جائے گا؟
(انل نریندر)

حکومت کو نکسلیوں اور دہشت گردوں کوایک ہی نظر سے دیکھنا ہوگا

ایسا جب لگ رہا تھا کہ نکسلیوں کے حملوں میں گزشتہ چند ماہ میں کمی آئی ہے تبھی چھتیس گڑھ کے دنتے واڑہ ضلع کے بھیلاواڑا میں نکسلیوں کے تازہ حملے کی خبر آئی. چھتیس گڑھ میں نکسلیوں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے سب سے بڑے گڑھ دنتے واڑہ میں ایک بار ودی سرنگ دھماکہ کا پھر سی آر پی ایف کے سات جوان کا نشانہ بن گئے. دنتے واڑہ ضلع میں بدھ کو نکسلیوں نے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنا کر مرکز اور ریاستی حکومت کو نہ صرف یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ آج بھی وہ نشانہ بنا کرجاری سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنے کے قابل ہیں، بلکہ اس حملے سے دونوں مرکز اور ریاستی حکومت ایک بار پھر چیلنج کیا ہے. بدھ کو دنتے واڑہ میں مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے جوان اس پولیس گاڑی میں سوار ہوکر گشت پر نکلے تھے. گرام بھیلاواڑا کے قریب جنگل میں گھات لگا کر بیٹھے نکسلیوں نے گاڑی کو باردوی سرنگ سے اڑا دیا. اس واقعہ میں پولیس گاڑی کے پرخچے اڑ گئے اور سات جوان موقع پر ہی شہید ہو گئے. ظاہر ہے کہ پولیس کی اس گشت پارٹی کی نکسلیوں کو پہلے سے معلومات تھی. جس روڈ پر یہ حادثہ ہوا اس کے پاس نکسلیوں نے باقاعدہ ایک سرنگ بنائی اور اس میں آتش گیر مادہ رکھے اور جیسے ہی گاڑی اس جگہ پر پہنچا ریموٹ سے اس بم کا دھماکہ کیا. جس بارد? سرنگ کا استعمال کیا گیا وہ اتنا مہلک تھا کہ سڑک پر چار پانچ فٹ کا گڑھا ہو گیا. اس واقعہ کے بعد سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے. درگا پرساد کا یہ کہنا ہے کہ قوت کے جوانوں کی نقل و حرکت سے منسلک معلومات پہلے لیک ہو گئی تھی، جس سے نکسلیوں کو اس خونی کھیل کو انجام دینے کا موقع ملا. اس بارے میں معلومات لیک کرنے والے نکسلی جاسوس کا پتہ لگانے کے لئے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے. جہاں واردات ہوئی ہے، وہاں کٹے بہبود ایریا کمیٹی سرگرم ہے. واردات کو انجام دینے کے بعد نکسلی قریب 10 منٹ وہاں ٹھہرے رہے اور سرخ سلام کے نعرے لگاتے رہے. یہاں سے تھانہ محض پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، لیکن پولیس کو اطلاع دیر سے ملی. فورس کے ڈائریکٹر جنرل کا یہ کہنا کہ کوئی جاسوس ہے نہ صرف چونکانے والا ہے، بلکہ کئی سوال بھی کھڑے کرتا ہے. سوال یہ ہے] کریں کہ جب اس نکسلی علاقے میں پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکی ہیں تو پھر رازداری میں نقب کس طرح لگی؟ آخر کون کر رہا ہے جاسوسی؟ کیا یہ قوت کے اندر اندر کا کوئی آدمی ہے؟ اگر یہ جاسوس فورس کے اندر اندر ہے تو کیا اس کا انکشاف ہو جائے گا. کیا اسی طرح نکسلیوں پر لگام لگانے کے لئے تعینات جوانوں کی قربانی دی جاتی رہے گی. ریاست اور مرکزی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نکسلیوں اور دہشت گردوں میں کوئی امتیاز نہیں کیا جا سکتا. جب دہشت گردوں کے خلاف کوئی نرمی نہیں برتی جاتی اور نہ ہی انہیں بھٹکے ہوئے نوجوان کی سے تشبییہ دی جاتی ہے تو پھر نکسلیوں کو الگ نگاہ سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟ انہیں قوم کا دشمن ماننے اور مکمل سختی سے ان کو کچلنے میں میں قباحت کرنا ہماری کمزوری ہے اور اسی کا فائدہ یہ نکسلی اور ان کے حامی اٹھاتے ہیں. نکسلیوں کو دہشت گرد کے زمرے میں اس لئے بھی رکھنا چاہئے کیونکہ نہ تو یہ جمہوریت پر یقین کرتے ہیں اور نہ ہی بھارت کے آئین کو ہی مانتے ہیں. نکسلی مہذب معاشرے کے لئے انتہائی خطرناک ایک ایسی نظریے کی پیداوار ہے جو برابری اور انصاف کے بہانے ملک کو بم بندوقیں کے بل پر تہس نہس کرکے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں. بیلیٹ کی جگہ بلیٹ پر یقین رکھتے ہیں. ملک کے عوام نہیں چاہتی کہ حکومت کی دوہری پالیسیوں کی وجہ سے عوام کی حفاظت میں تعینات ہمارے بہادر جوانوں کی یوں قربانی چڑھتی رہے. حکومت کو اس مسئلے پر نہ صرف سنجیدگی سے متھنا کرنا ہوگا، بلکہ نکسل متاثرہ ریاستوں میں بار بار سر اٹھانے والے نکسلیوں کے خاتمے کے لئے ٹھوس حکمت عملی بنانی ہوگی. اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس نظریے کے حامی ملک کے کونے کونے میں بھی پل رہے ہیں. کیا یہ کسی سے پوشیدہ ہے کہ جے این یو میں طویل نکسل واد کے غالب اندھ۔حامی موجود ہیں. کنہیا جیسے بد دماغ والے کھلے عام نکسلیوں کی ستائش کرتے ہیں. اگر نکسلی تنظیموں اور ساتھ ہی ان کے ہمنوا عناصر کے خلاف جھجھک رویہ کو ترک نہیں کیا گیا تو ایسے ہی حملے ہوتے رہیں گے اور ہمارے بہادر جوان شہید ہوتے رہیں گے.
 (انل نریندر)