21 مارچ 2020

کورونا وائرس اور چینی کھانہ پینا

پاکستا ن کے سابق تیز گیند با ز شعیب اختر اپنی بے باک رائے زنی کے لئے مشہور ہیں ۔ان کا کورونا وائرس پر زبردست تبصرہ ہے ۔انہوںنے پوری دنیا میں پھیلے کورنا وائرس پر چین کے لوگوں کو کافی کھری کھوٹی سنائی ہے ۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن میں اس وائرس کو ایک وبا قرار دے دیا ہے ۔دنیا بھر کے تمام کھیل ،پروگرام پر بھی اثر پڑ رہا ہے ۔اور کئی بہت سے اسپورٹس ایونٹ اس کے چلتے یا تو ملتوی کر دئے گئے ہیں یا پھر منسوخ کر دیے گئے ہیں ۔شعیب اختر نے یوٹیو ب چینل پر ایک ویڈیو شیئر کیا ہے جس میں اس وبا پر اپنی بات رکھی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اتنا کچھ کھانے کے لئے ہے تو چین کے لوگوں کو چمگادڑ ،کتا،بلی،اور یہاں تک کہ پچھو کھانے کی کیا ضرورت ہے ۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے فیصلہ لیا کہ پاکستان سپر لیگ کے بچے میچ لاہور میں ہوں گے ۔اور یہ سبھی میچ بغیر ناضرین کے موجودگی میں کھلے جائیں گے جس میں سیمی فائنل اور فائنل میچ بھی شامل ہے ۔17-18مارچ کو ان میچوں میں شامل کھلاڑی سیمی فائنل میچ کھیلیں گے اور 22مارچ کو فائنل میچ کھیلا جائے گا ۔شعیب اختر کا کہنا تھا کہ میرے غصے کی سب سے بڑی وجہ پی ایس ایل ہے ۔پاکستان میں کرکٹ سالوں بعد لوٹا ہے اور پہلی بار پوری پی ایس ایل سیزن سریز پاکستان میں کھیلی جا رہی ہے ۔لیکن کرونا کی وجہ سے خطرہ ہے ۔جس وجہ سے غیر ملکی کھلاڑی پاکستان چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔اور میچ خالی اسٹیڈیم میں کھلیے جائیں گے ۔شعیب اختر نے چین کے لوگوں کو جم کر لتاڑا کہ آج جو وائرس پھیلا ہے ان کی غلط چیزوں کے کھانے کی عادتوں کی وجہ سے پھیلا ہے اور اس کے سبب آج دنیا بھر کے لوگ پھیلے وائرس کے خطرے کی دہشت میں ہیں ۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ چین کے لوگوں کو چمگادڑ جیسی چیزیں کھانی ہیں اور ان کا خون پینا ہے ۔یا پیشاب پینا ہے ۔مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ایسی چیزیں کیسے کھا جاتے ہیں ؟آج اس وائرس کی وجہ سے دنیا میں پوری سیاحات پر برا اثر پڑ رہا ہے اور بہت سے ملکوں کی معیشت تک گر گئی ہے ۔پوری دنیا مشکل میں پھنس گئی ہے ۔میں چینی لوگوں کے خلاف نہیں ہوں لیکن میں جانوروں کے کھانے کے خلاف ہوں ۔میں ان کی عادت پر انگلی اُٹھا رہا ہوں لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ آپ چینی لوگوں کا بائیکاٹ کریں لیکن ایسا قانون ہونا چاہیے کہ وہ اپنی من مرضی سے سماج میں نا پسندیدہ غضاءکے طور پر کچھ بھی کھا لیں ۔کرونا وائرس انفیکشن چین کے شہر وہان سے شروع ہوا تھا ۔اور اب یہ آہستہ آہستہ دنیا کے سو سے زیادہ ملکوں میں اپنی پکڑ بنا چکا ہے ۔اور اس سے 1.2لاکھ سے زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثر ہیں ۔ہم شعیب اختر کے خیالات سے متفق ہیں ۔لیکن کسی کے کھانے یا نہ کھانے پر بندش نہیں لگا سکتے ۔

(انل نریندر)

بھارت کورونا کے تیسرے مرحلے کے لئے تیار ہے؟

ہندوستان میں کورونا وائرس کو لے کر بر وقت سخت قدم اُٹھانے سے حالات ابھی تک قابو میں ہیں۔وزارت صحت نے 15جنوری کے آس پاس دہلی ممبئی اور کولکاتہ ہوائی اڈوں پر چین سے آنے والے مسافروں کی جانچ پڑتال شروع کر دی تھی ۔اور ساتھ ہی پورے دیش کے محکمہ صحت نے امکانی مریضوں کی تلاش اور ان پر نگاہ بھی رکھنا شروع کر دیا تھا ۔اسلئے 30جنوری کو بےرون ملک سے پہلا مشتبہ مریض کیرل آیا تو اس کی جانچ میں کورونا کی تصدیق ہوئی اور اس کا فوراََ علاج شروع کر دیا گیا ۔حالانکہ روز مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔لیکن کل متاثرہ مریضوں کی تعداد بے حد کم ہے ۔اور آج جتنے سخت قدم حکومت ہند اُٹھا رہی ہے اتنے دنیا میں کہیں نہیں اُٹھائے گئے ہیں ۔لیکن ہمیں نگرانی میں لا پرواہی نہیں برتنی چاہیے۔انڈین کاﺅنسل آف میڈیکل ریسرسچ کے مطابق کرونا وائرس کا انفیکشن بھارت میں دوسرے نمبر پر ہے ۔مطلب کہ فی الحال انفیکشن انہیں لوگوں کو پھیلا ہے جو اس انفیکشن شدہ ممالک سے بھارت آئے ۔اور وہ اپنے ملنے والوں سے ملے اس کے بعد ہی بھارت میں یہ انفیکشن پھیلا ۔آئی سی ایم آر کے مطابق کورونا وائرس پھیلنے کے چار مرحلے ہیں ۔پہلے میں وہ لوگ جو کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے اور دوسرے دیشوں سے یہ انفیکشن لے کر آئے یہ اسٹیج بھارت پار کر چکا ہے ۔کیونکہ ایسے لوگوں سے مقامی سطح پر یہ انفیکشن پھیل چکا ہے ۔دوسرے مرحلے میں مقامی سطح پر یہ وائرس پھیلتا ہے ۔لیکن یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی وائرس کے شکار لوگوں کے رابطے میں آئے ۔یا جو بیرون ملک سے لوٹے ہیں ۔تیسرا اور چوتھا مرحلہ خطرناک ہے ۔کیمونٹی ٹاسک مشن کا جس کو لے کر بھارت سرکار فکر مند ہے ۔اور یہ کیمونٹی ٹرانس میشن اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص کسی نا معلوم اس وائرس کا شکار شخص کے رابطے میں آئے ۔پچھلے دو ہفتے میں جتنی مرتبہ حکومت ہند کے سینئر حکام نے اس بات پر خاص زور دیا کہ بھارت میں ابھی مرحلہ نہیں آیا ہے اور چوتھا مرحلہ ہونا ہے ۔جب وائرس مقامی سطح پر وبا کی شکل کی اختیار کر لیتا ہے 159دیشوں میں پھیلا کرونا وائرس چین یورپ کے بعد اب ساﺅتھ وسطی ایشیاءکے لئے بڑھا ہے ۔تیسرا مرحلہ یعنی کیمونٹی ٹاسک مشن سے نمٹنے کے لئے بھارت کتنا تیار ہے ؟کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ تیسرے مرحلے میں کورونا سے متاثرہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا ۔فی الحال بھارت کے پاس جتنے ٹیسٹنگ لیب ہیں ان میں سبھی لوگوں کے ٹیسٹ کرائے نہیں جا سکتے ۔فی الحال حکومت ہند کے مطابق دیش میں ستر سے زیادہ جانچ یونٹ ہیں ۔جو آئی سی ایم آر کے تحت کام کر رہے ہیں ۔ادارے کے ڈائرکٹر جنرل بھارگو کے مطابق اس ہفتے کے آخر تک قریب پچاس اور سرکاری لیب کام کرنا شروع کر دیں گے ۔23مارچ تک بھارت میں ایسے مزید دو لیب بن جائیں گے ۔جہاں 1400ٹیسٹ ہو سکیں گے ۔تین گھنٹے میں کووڈ 19کی جانچ کی جا سکتی ہے ۔بھارت اگر کورونا انفیکشن کے تیسرے مرحلے میں پہنچے گا تو ایسا مانا جا رہا ہے کہ اس حالت سے نمٹنے کے لئے پرائیوٹ لیب میں بھی کورونا جانچ کی ضرورت ہوگی ۔اور پچھلے دنوں پرائیوٹ لیبورٹیوں نے بھی اس مرض کی جانچ کی خواہش جتائی ۔وہ کورونا وائرس کے تیسرے مرحلے میں سرکار کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اس جانچ کے لئے سامان کی انہی ضرورت پڑے گی اور لیب حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں ان میں سے ایک ہیں ڈاکٹر اروند لال پیتھ لیب کے مالک ،ان کے مطابق سرکار سے بات جاری ہے ۔ان کاکہنا ہے کہ اگر سرکار سامان مفت مہیا کرائے گی تو لوگوں سے پیسہ نہیں لیں گے ۔جہاں تک کورونا کے خطرے سے بچنے کے لئے لوگ ماسک خرید رہے ہیں ۔کیا وہ کارگر ہیں ؟کورونا وائرس کے لئے دو طرح کی جانچ کی ضرور ت پڑتی ہے ۔پہلی بار میں جن کا ٹیسٹ نتیجہ پازیٹیو آتا ہے ان کا دوسرے مرحلے کے لئے جانچ کی جاتی ہے ۔ان کی جانچ کی قیمت 3ہزار روپئے ہوتی ہے اور پہلا ٹیسٹ 15سو روپئے میں ہوتا ہے ۔اب چاہے اسکولوں میں چھٹیاں کرنے کی بات ہو یا جنتا کرفیو کی بات ہو یا بیرون ملک جانے اور آنے پر پابندی کی بات ہو ۔وقتا فوقتا حکومت نے ان سب کے لئے گائیڈ لائنس جاری کئے ہیں ۔سرکار کی اس طرح کی پہل سے لوگوں میں بیداری اور سنجیدگی بڑھی ہے اور لوگ اس خطرناک وائرس سے احتیاط برتنے لگے ہیں ۔اور مزید دھیان دینے کی ضرورت ہے اس لئے کیونکہ ہم تیسرے اسٹیج میں داخل ہو رہے ہیں ۔کورونا کو ہرانا ہے ،اب پورا دیش ایک ہے ۔

(انل نریندر)

19 مارچ 2020

اسپورٹس ورلڈ پر کورونا کا کالا سایہ

کورونا وائرس کا کالا سایہ اسپورٹس ورلڈ پر بھی پڑا ہے ۔بھارت میں آئی پی ایل ٹل گیا ہے ۔دیگر کھیل مقابلے بھی متاثر ہوئے ہیں ۔اب تو ٹوکیو اولمپک پر بھی کورونا کا خطرہ منڈرانے لگا ہے شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب خالی اسٹیڈیم میں میچ کھیلے جائیں گے ۔یا چھوٹے بڑے تمام پروگراموں کو ملتوی کرنا پڑے گا ۔اتنا ہی نہیں کھیل کی تایخ میں سب سے بڑے کھیل کا انعقاد اولمپک پر بھی سنکٹ آسکتا ہے بھلے ہی گزشتہ میں روس اور امریکہ کے ٹکراﺅ کے چلتے دو بڑی طاقتوں کی میزبانی والے اولمپک بائیکاٹ کا شکا ر ہوئے ہیں لیکن کسی بیماری یا وبا کے سبب کبھی اولمپک کھیل خطرے میں نہیں پڑے کورونا وائرس نے وبا کی شکل اختیار کر کھیل کی دنیا کو دہلا دیا ہے ۔جس سبب سے چوبیس جولائی سے 8اگست تک ٹوکیو میں ہونے والے اولمپک کھیلوں پر بھی سنکٹ بڑھ رہا ہے ۔حالانکہ جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے نے کہا کہ اولمپک اپنے پلان کے مطابق ہی ہوگا او ر دنیا بھر میں چالیس ہزار سے زیادہ لوگ کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں ۔اور اب تک 54سو لوگوں کی موت ہو چکی ہے جاپانی وزیر اعظم نے کہا کہ اس وائرس کے سبب امرجنسی اعلان کرنے کا ان کا کوئی خیال نہیں ہے ۔انہوںنے کہا پروگرام انعقاد کے مطابق پلان کے مطابق جولائی میں ہوں گے ۔امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دو دن پہلے تجویز رکھی تھی کہ کورونا وائرس کے انفیکشن کے بڑھتے اولمپک کو ایک سال کے لئے ملتوی کر دینا چاہیے ۔انہوںنے پریس کانفرنس میں کہا کہ اس کا جواب متعلقہ اتھارٹی سے بات چیت کے بعد دیں گے ۔ہم اس انفیکشن پر قابو پاکر بغیر کسی پریشانی کے پلان کے مطابق اولمپک کرنا چاہتے ہیں ۔وہیں جاپان سرکار کے حکام اور اولمپک کونسل کمیٹی نے کہا کہ تیاریاں سہی چل رہی ہیں ۔انہیں ملتوی یا منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ٹرمپ کی تجویز کے بعد جمعہ کو آبے نے ان سے فون پر بات کی تھی ۔جس میں اولمپک ملتوی کرنے کا کوئی تذکرہ ہیں ہوا ۔جاپان میں 700سے زیادہ لوگ کورونا سے متاثر ہیں اور 21لو گ اپنی جان گنوا چکے ہیں اُدھر فٹبال کی انجمن فیفا نے سفارش کی کہ مارچ اور اپریل میں ہونے والے سبھی بین الا اقوامی فٹبال میچوں کو اس وائرس کے چلتے ملتوی کر دیا جائے ۔یہ مارچ اور اپریل میں کولمبو کو اپنے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں بھیجنے سے انکار کرنے کی اجازت ہوگی ۔فیفا نے کہ ایشیاءاور ساﺅتھ افریقہ دونوں ہی ملتوی ہوئے 2022ورلڈ کپ کے لے کوالی فائی میچوں کی تاریخوں کو مقرر کرنے کا کام کر رہا ہے ۔فیفا کا کہنا تھا کہ مارچ اپریل میں یہ طے ہوئے تھے ۔سبھی بین الا اقوامی میچوں کو جب تک ملتوی کیا جاے گا،تب تک وہ کورونا وبا سے متاثرہ ماحول محفوظ نہیں ہو جاتا۔

(انل نریندر)

پی ایم بتائیں یس بینک کے پچاس بڑے ڈیفالٹر کون ہیں؟

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے ایک سوال پر پیر کے روز لوک سبھا میں جم کر ہنگامہ ہوا سرکاری رویے سے ناراض کانگریس ممبران پارلیمنٹ نے ایوان سے نا ک آﺅٹ کر دیا ہوا یوں کہ لو ک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران راہل گاندھی نے سوال پوچھا کہ ہندوستانی بینکوں کے وہ پچاس سب سے بڑے قرض غبن کرنے والے کون ہیں ؟ان کے نام کیا ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی معیشت مسلسل برے دور سے گزر رہی ہے ہمارا بینکنگ نظام کان نہیں کر رہا ہے ۔بینک ناکام ہو رہے ہیں ۔اس کی اصل وجہ ہے کہ بینکوں سے پیسے کی چوری ۔میں نے پوچھا تھاکہ ٹاپ پچاس ول فل ڈیفالٹرس میں کون ہیں؟مجھے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔وزیر اعظم صاحب کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے ہندوستان کے بینکو ں سے چور ی کی ہے ان کو پکڑ کر لاﺅں گا میں نے پردھان منتری جی سے پوچھا تھا انہوں نے گھما پھرا کر جواب دئے ۔لیکن واضح جواب نہی ملا وقفہ سوالات میں راہل کا نمبر آخر میں آیا وہیں سرکار کی طرف سے وزیر مملکت مالیات انوراگ ٹھاکر نے جواب دینا شروع کیا تو راہل نے پوچھا کہ وزیر خزانہ کیوں نہیں جواب دے رہے ہیں ؟جواب میں انوراگ نے کہا کہ سنٹرل انفارمیشن کمیشن کی ویب سائٹ پر ایک لاکھ سے زیادہ بڑے ڈیفالٹرس کے نام ہیں ۔اس سوال کے ذریعہ سے راہل کانگریس کا پاپ دوسرے کے سر مڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں انہوںنے کہا کہ یش بینک میں کھلبلی کا در پردہ ذکر کرتے ہوئے انہوںنے رانا کپور کے ذریعہ پرینکا گاندھی کی پینٹگ خریدنے کا بھی ذکر کیا ۔انہوںنے الزام لگایا کہ کانگریس کے عہد میں غلط طریقے سے قرض بانٹے گئے مودی سرکار سختی سے ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کر رہی ہے ۔اسی درمیان بارہ بجے اسپیکر نے وقفہ سوالات ختم کرنے کا اعلان کر دیا اس پر کانگریس کے ممبران نے اسپیکر کے سامنے آکر نعرے بازی شروع کر دی راہل گاندھی نے بھی مسلسل ضمنی سوال کے لئے وقت مانگا۔راہل گاندھی کو وقفہ صفر میں ضمنی سوال پوچھنے کی اجازت نہ دیئے جانے پر کانگریس کے ممبران نے سخت اعتراض جتایا اور اس کے احتجاج میں نعرے بازی کر دی ۔ایوان میں کانگریس کے نیتا ادھیر رنجن چودھری نے سخت اعتراض درج کراتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر نا انصافی ہے ۔راہل گاندھی کو ضمنی سوال پوچھنے نہیں دیا گیا ۔جبکہ ابھی کافی وقت بچا ہے ۔اس پر انوراگ ٹھاکر نے بھی یہ کہا کہ مجھے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پیٹنگ اور پوٹریٹ پر بات کروکہ پینٹنگ کس نے بیچی او ر کس کو بیچی میں وہ بھی کہہ سکتا تھا ۔پیسہ کس کے کھاتے میں گیا ؟اور کہاں پر گیا ؟لیکن میں نے یہ سب نہیں کہا کیونکہ ہم لوگ اس پر سیاست نہیں کر رہے ہیں لیکن کانگریس کی طرف ادھیر رنجن چودھری نے اس مسئلے پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ایم ایف حسین کی ایک پیٹنگ تقریبا دو کروڑ روپئے میں بیچی گئی تھی یہ پیٹنگ راجیو گاندھی کی پوٹریٹ تصویر تھی جسے مصور حسین نے بنائی تھی اس کو گاندھی خاندان نے رانا کپور کو بیچا تھا ۔یہ معاملہ 2010کا ہے ۔اگر آپ نے یس بینک کے سو سے زیادہ شیئر خریدے ہیں تو اس میں 75فیصدی حصے داری کو تین سال کے لئے لاک کر دیا جائے گا۔وہیں تین سال تک یہ شیئر نہیں بیچے جا سکیں گے ۔

(انل نریندر)

18 مارچ 2020

اور اب پیٹرول ڈیزل پر سرکار کی مار

کچے تیل کی قیمتوں میں تاریخی گراوٹ کے بعد ملک کے شہریوں کو امید تھی کہ حکومت اب پیٹرول ڈیزل کے داموں میں کافی کمی کرئے گی اور عوام کو بقدر راحت حاصل ہوگی ۔لیکن ایسا نہیں ہوا ۔بلکہ الٹے مرکزی حکومت نے پیٹرول ڈیزل دونوں پر ایکسائز ڈیوٹی تین تین روپئے فی لیٹرل بڑھا دی ۔اس قدم سے بین الا اقوامی بازار میں کچے تیل کے دام کم ہونے کا فائدہ کنزیومر کو دینے کے بجائے سرکار نے یہ ٹیکس لگا کر اپنی آمدنی میں 39ہزار کروڑ سالانہ کی آمدنی بڑھا لی ہے ۔حکومت نے 2014-15کی طرح ایک بار پھر سے بین الا اقوامی بازار میں کچے تیل کے دام کم ہونے کا فائدہ صارفین تک نہیں پہنچانے کا قدم اُٹھایا ہے ۔حالانکہ یہ معمولاتی ہے ۔اس اضافے سے پیٹرول ڈیزل کے خوردہ داموں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ۔یہ بات پیٹرولیم محکمے سے جڑے حکام نے بتائی ۔کیونکہ پبلک سیکٹر کی پیٹرولیم کمپنیوں نے اسے کچے تیل کے داموں میں حال میں آئی گراوٹ کے ساتھ جوڑ دیا ہے ۔سنٹریل ایکسائز بورڈ کی جاری نوٹیفیکشن کے مطابق پیٹرولیم پر خاص طور سے اکسائز ٹیکس دو روپئے سے بڑھا کر 8روپئے لیٹر ل کر دیا گیا ہے ۔ایسے ہی یہ دو روپئے سے بڑھا کر چار روپئے فی لیڈر ہو گیا ہے ۔حکومت نے نومبر 2014سے جنوری 2016کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کے دام پر ایکسائز ڈیوٹی میں نو بار اضافہ کیا ہے ۔ان پندرہ ماہ کی معیاد میں پیٹرول پر ایکسائز ٹیکس پیٹرول پر 11.77روپئے اور ڈیزل پر 13.47روپئے فی لیڈر بڑھ گیا ہے ۔اس سے 2016-17میں سرکار کا ایکسائز مالی ذخیرہ 2014-15کے 99ہزار کروڑ روپئے سے دوگنے سے زیادہ ہو کر 2لاکھ بیالیس ہزار کروڑ روپئے تک پہنچ گیا ہے ۔بین الا اقوامی بازار میں تیل کے دام جنوری کے بعد سے اب تک قریب آدھے ہو گئے ہیں ۔کیونکہ 32ڈالر فی بیرل تک نیچے آگیا ہے ۔پیٹرول ڈیزل کے قیمتوں میں گراوٹ کا فائدہ لوگوں کو نہ دینے پر کانگریس حکومت نے مرکز کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ۔پارٹی نے ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کو سرکار کی من مانی قرار دیتے ہوئے فورا پیٹرول ڈیز کے ساتھ رسوئی گیس کی قیمتیں گھٹانے کی مانگ کی ہے ۔ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا ہے ۔کہ عام لوگوں کو زیادہ فائدہ دینے کے بجائے ٹیکس بڑھا کر خزانہ بھرنے کے اشو پر پارلیمنٹ کے موجودہ سیشن میں پارٹی زور شور سے اُٹھائے گی ۔عام آدمی پارٹی نے بھی اس اضافے کے لے سرکار کو کٹگھرے میں کھڑا کیا ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ سرکار عام آدمی کی جیب پر بے تحاشہ بوجھ ڈال رہی ہے ۔بائک اور اسکوٹر میں ڈلنے والا پیٹرول جہاز کے ایندھن سے زیادہ مہنگا ہو گیاہے ۔پارٹی کے سینئر لیڈر اور ترجمان راگھو چڈھا نے کہا کہ پیٹرول ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھا کر مرکزی سرکار نے 16لاکھ کروڑ روپے کا خزانہ بٹور لیا ہے ۔پچھلے چھ سال میں بارہ مرتبہ ایکسائز ڈیوٹی بڑھائی گئی ہے ۔جس وجہ سے پیٹرول ڈیزل کے دام آسمان چھو رہے ہیں ۔وہیں انہوںنے مانگ کی کہ ایک طرف بے روز گاری بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف کرونا کا خوف کے درمیان مرکزی حکومت کو فوراََ پیٹرول ڈیزل کے دام کم کرنے چاہیے ۔اس سے عام لوگوں کو تھوڑی راحت ملے گی ۔انہوںنے کہا کہ اس وقت دہلی میں پیٹرول 68.87اور ڈیزل 62.50روپئے فی لیڈر مل رہا ہے وہیں جہاز کے ایندھن کی قیمت 56.86روپئے فی لیڈر ہے ۔یہی نہیں بین الا اقوامی بازار میں کچے تیل کے دام پندرہ سال میں پہلی بار اتنے گرے ہیں ۔بین الا اقوامی بازار میں کچے تیل کے دام میں گراوٹ کا فائدہ لوگوں کو پیٹرول ڈیز ل کے دام میں کمی کر کے راحت دی جانی چاہیے ۔

(انل نریندر)

چین سے منتقل ہوا یورپ کورونا وائرس

چین کے شہر وہان سے پھیلنا شروع ہوا کورونا وائرس اب پوری دنیا کو اپنی زد میں لیتا جا رہا ہے ۔شروعات میں اس کا قہر چین پر ٹوٹا تھا ۔لیکن اب کورونا کا نیا ٹھکانہ یورپ بنتا جا رہا ہے ۔پہلے اس کا مرکز ایشیائی دیش چین تھا ۔لیکن اب اس نے یورپ کے ممالک اٹلی،اسپین،اور تھالینڈ سب سے زیادہ اس انفیکشن سے متاثر ہو رہے ہیں اٹلی میں تو حیرانی کی بات یہ ہے کہ کورونا وائرس سے مرنے والے لوگوں کی تعداد کے ریکارڈ توڑ دئے ہیں ایک دن میں 368اموات ہوئی ہیں ۔جس کی دوسرے جنگ عظیم میں اتنی موتیں بھی نہیں ہوئی تھیں ۔کورونا نے اٹلی کو اتنی بری طرح جکڑ لیا ہے کہ اس کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ ایک دن میں 368لوگوں کا مارا جانا جبکہ دنیا میں یہ تعداد سب سے بڑی ہے ۔اس سے پہلے چوبیس گھنٹے میں 250لوگوں کی موت ہوئی تھی۔دوسری جنگ عظیم کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت ایک دن میں قریب 207لوگ مرے تھے ۔لیکن چین میں جس طرح سے اموات ہو رہی ہیں اس کا دوسری جنگ عظیم کا کورونا وائرس سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔اگر سنجیدگی سے اموات کے تناسب کو دیکھیں تو پتہ چل جاتا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاﺅ کتنا خطرناک رخ کرتا رہا ہے ۔مجومعی طور پر اٹلی میں اس انفیکشن سے 1441لوگوں کے مرنے کی خبر آئی ہے ۔اور 21157لوگ اس انفیکشن کے زیر اثر آچکے ہیں ۔جبکہ 1966مریض ٹھیک ہو چکے ہیں ۔اسپین میں کورونا وائرس کے قریب 2ہزار مریضوں کی اتوار تک تصدیق ہوئی ہے ۔اور چوبیس گھنٹے میں اس ملک میں سو سے زیادہ لوگوں کے مرنے کی اطلاعات ملی ہیں ۔اٹلی کے بعد اسپین یورپ کا دوسرا ملک ہے جو اس وائرس سے زیادہ متاثر ہو ا ہے ۔اسپین میں وائرس متاثرہ لوگوں کی تعداد 7753تک پہنچ گئی ہے ۔ان میں سے 288لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں ۔اسپین میں سرکا ر نے پورے دیش میں امرجنسی لگا دی ہے ۔اور اگلے پندرہ دنوں کے لے دوکانیں بار ،ہوٹل ،سنیما ،اسکول،یونیورسٹیاں وغیرہ بند دئے ہیں ۔اور دیش کے تمام لوگوں کے سفر پر پابندی لگا دی ہے ۔اور کئی علاقوں میں تو فوج تعینات کر دی گئی ہے ۔اسپین کے وزیر اعظم کی اہلیہ بیگونا گومیج کرونا وائرس سے متاثر پائی گئی ہیں اور کئی سیاستداں بھی اس کی زد میں آچکے ہیں ۔برطانیہ کی مہارانی ایلزبت دوم نے لندن کا اپنا محل چھوڑ دیا ہے ۔انہیں کسی دوسری جگہ ونڈ سرک کیسل لے جایا گیا ہے ۔ان کی صحت اچھی ہے ۔لیکن ان کا اسٹاف کورونا وائرس کو لے کر گھبرایا ہو اہے ۔پرنس فلپ کو بھی الگ رکھا جائے گا ۔وہیں مہارانی کے 94جنم دن میں کچھ ہفتے رہ گئے ہیں ۔پیلس میں دنیا بھر سے آنے والے لیڈروں کی لگاتار میزبانی کرتا ہے ۔برطانیہ میں وائرس کے خوف سے بیرون ملک سے آنے والے لوگوں پر نگرانی کرنے یا ان کو دیش کا دورہ کرنے نہ کرنے کی نصیحت کرنی پڑ سکتی ہے ۔

(انل نریندر)

17 مارچ 2020

چینی مرد شادی کےلئے پاکستانی لڑکیا ں خرید رہے ہیں

بی بی سے نامہ نگار سحر بلوچ کی ایک چونکانے والی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ چین کے مرد بچولیوں کے ذریعہ پاکستانی خاندانوں سے رابطہ کر رہے ہیں ۔تاکہ وہاں کی لڑکیوں سے شادیاں کی جا سکیں ۔چین کے مرد پاکستان کی عیسائی لڑکیوں سے شادی کر رہے ہیں تو کھلبلی مچنا ضروری تھا ۔پاکستان کے افسر فورا حرکت میں آئے اور انہوںنے ان سرگرمیوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے قریب پچاس لوگوں کو گرفتار کیا تھا ۔لیکن کارروائی کے ایک سال بعد آج بھی چین کے مرد پاکستانی عیسائی لڑکیوں سے شادیاں رچا رہے ہیں ۔حالانکہ اب یہ شادی کا دھندہ بڑی خاموشی سے چل رہا ہے ۔اگر ہم پیچھے جایں تو 2019میں بھی اس طرح کی شادیوں کا پتہ چلا تھا ۔کہ چین کے بہت سے مرد پاکستانی غریب عیسائی لڑکیوں کو چن چن کر خرید رہے ہیں ۔اور انہیں امیر گھروں میں شادی کرانے کا جھانسا دیا جاتا ہے ۔اس کا م میں بہت سے عیسائی پادری انٹر پریٹر چینی مردوں کی بات چیت لگوانے میں مدد کر رہے تھے ۔پتہ چلا ہے کہ ان میں سے زیادہ شادیاں فرضی تھیں ۔جس میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مقیم غریب عیسائی لڑکیوں کو شادی کے بہانے سے چین لے جایا جاتا تھا ۔اور پھر انہیں وہاں جسم فروشی کے کاروبار میں جھونک دیا جاتا تھا ۔اس خبر کے بعد پاکستان کی فیڈرل جانچ ایجنسی نے تفتیش میں پایا تھا کہ پاکستان کی ان غریب لڑکیوں کے اعضاءخاص طور پر ان کی بچے دانی کو نکال کر اعضاءکو بین الا اقوامی بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیا جاتا تھا ۔ایف آئی اے کی جانچ سے پتہ چلا کہ جن لڑکیوں کو جسم فروشی کے لائق نہیں سمجھا جاتا تھا ان کے اعضاءنکال کر فروخت کر دیے جاتے تھے اور انسانوں کی اسملگنگ کرنے والوں کا ایک گروہ ابھی بھی لوگوں کے رابطے میں ہے ۔یہ شادیاں زیادہ تر پاکستان کے سرحدی صوبے کے پیشاور اور چار سدہ شہروں میں کرائی جا رہی ہیں ۔ان کا انتظام دلال کرتے ہیں ۔چینی مردوں اور پاکستانی عیسائی لڑکیوںکی شادی کے اس گھوٹالے میں اکثر پادری ،کوئی رشتہ دار یا فیملی دوست بچولیے کا رول نبھاتا ہے پھر وہ لڑکی کے گھر والوں سے بات کرتے ہیں اور شادی کی تاریخ طے کرتے ہیں پھر ان لڑکیوں کو چپ چاپ طریقے سے اسلام آباد لے جا کر ان کی شادی کر دی جاتی ہے ان سبھی کنبوں نے بیٹیوں کو چین میں شادی کرنے کے پیچھے ایک ہی اہم وجہ بتائی ہے وہ یہ تھی کہ ان کی بیٹیوں کو مالی پریشانی سے آزادی حاصل ہوگی اور خوف پیسے کی فراوانی ہوگی پاکستان کے محکمہ داخلہ کے وفاقی وزیر اعجاز شاہ کے مطابق ہو سکتا ہے کہ ایسی شادیوں میں سے کوئی ایک فیصدی ایسی ہو جو بالکل جائز ہو لیکن زیادہ تر معاملوں میں ان کا اصلی طور پر استحصال کا کیس ہے ۔پنجاب میں زیادہ تر اینٹ بھٹہ مزدور رہتے ہیں ۔انسانی اسمگلروں کے ایک گروپ نے یہاں مزدوروں میں سے کئی کنبوں کو یہ کہہ کر بہکایا تھا کہ اگر وہ چینی مردوں سے اپنی بیٹیوں کی شادی کی تجویز منظور کرتے ہیں تو وہ ایک دن اسی اینٹ بھٹے کے مالک ہوں گے جس میں آج ہو کام کرتے ہیں ۔

(انل نریندر)

دہلی پولیس نے انکت شرما کی موت کی گھتی سلجھائی

دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے نارتھ ایسٹ دہلی کے علاقے میں ہوئے دنگے کے وقت خفیہ ملازم کانسٹبل انکت شرما کے قتل کے معاملے کو سلجھانے کا دعوی کرتے ہوئے واردات کے اہم ملزم کو سندر نگری سے گرفتار کیا ہے ۔اس کی پہچان مومن عرف سلمان عرف حسین عرف ملا عرف ننھے کی شکل میں ہوئی ہے ۔اس کے پہلے انکت شرما کے قتل کے معاملے میں پولیس نے عام آدمی پارٹی کے معطل کونسلر طاہر حسین کو بھی گرفتار کیا تھا ۔ان کا نام بھی ایف آئی آر میں درج ہے ۔فی الحال پولیس ملزم مومن سے پوچھ تاچھ کر معاملے کی جانچ کر رہی ہے ۔واردات کے وقت خاص طور سے کتنے لوگ موجود تھے مومن کی گرفتاری کے بعد اس پورے معاملے کی پرت جلد کھل جائے گی ۔آئی بی کانسٹبل انکت شرما نارتھ ایسٹ کے کھجوری خاص میں رہتے تھے ۔ملزم سلمان نے پوچھ تاچھ میں کئی سنسنی خیز باتیں بتائی ہیں ۔پولیس ذرائع کی مانیں تو ملزم سلمان نے قبول کیا ہے کہ اس نے بھی انکت شرما کو آدھا درجن چاقو مارے تھے ۔اس نے چاقو ایک دوکان سے لیا تھا ۔اور قریب درجن بھر لوگ تھے جو انکت کو بری طرح مار رہے تھے پھر ادھ مرا ہونے پر چاقو سے حملہ کیا ۔سلمان نے کئی اور لوگوں کے نام بتائے ہیں ۔سلمان کو پکڑنے کی کہانی بھی دلچسپ ہے ۔دراصل دنگے کے دوران اسپیشل سیل نے چاند باغ علاقے کے ایک کرمنل موسی کا فون سرویلانس پر لگایا ہوا تھا اسی بات چیت میں سلمان کا نام سامنے آیا ۔ذرائع کی مانیں تو سلمان نے فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھی ایک کو چاقو سے گود دیا تھا ۔جس کے بعد پولیس نے جال بچھا کر ننھے کو دبوچ لیا ۔انکت کے قتل کے ملزم سلمان نے پولیس پوچھ تاچھ میں بتایا کہ ایک چار سال کے مسلم بچے کو پولیس نے گولی مار دی ہے ۔جس کے بعد علاقے کے لوگ غصے میں تھے اور بھیڑ مشتعل ہو گئی تھی اُدھر پولیس کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو مشتعل کرنے کے لے جھوٹی افواہ پھیلائی گئی ہو ۔سلمان نے آگے پولیس کو بتایا کہ جب وہ طاہر کی بلڈنگ کے پاس پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پندرہ سے 20لو گ ایک شخص کو گھسیٹ کر لا رہے ہیںاور اسے پیٹ رہے ہیں لوگوں کے ہاتھوں میں چاقو بھی تھے وہ بھی بھیڑ کے پاس پہنچا اور اس نے بھی کئی بار اس لڑکے کو چاقو مارا ۔وہ لڑکا تھا انکت شرما تھا ۔بعد میں چار پانچ لوگ اس کی لاش کو اُٹھا کر لے گئے اور نالے میں پھینک دی اس پورے معاملے میں معطل عام آدمی پارٹی کے کونسلر طاہر حسین کا کیا رول تھا اس پر جانچ جاری ہے دہلی تشدد کے ملزم طاہر حسین کے گھر پر موت کا سامان 24فروری کو دوپہر میں آیا تھا ۔کونسلر کے گھر میں گھسنے والے باہری لوگ یہ سامان لے کر آئے تھے ۔پولیس ان لوگوں کی تلاش کر رہی ہے نارتھ ایسٹ دہلی میں تشدد27فروری کو بھڑکا تھا چاند باغ کے باشندے اور عآپ سے معطل طاہر حسین کے گھر میں کافی لوگ گھس گئے تھے لوگوں نے ان کے گھر کی چھت پر پتھر اور پیٹرول بم پھینکے اور گولیاں چلائی تھیں ۔جس وجہ سے وہاں یہ کافی سامان ملا کرائم برانچ کے پولیس افسران کے مطابق پوچھ تاچھ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طاہر حسین کے گھر پر پتھر بم وغیرہ پیٹرول شر پسند 24فروری کو لے کر آئے تھے پولیس کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ہے ۔پولیس کے سامنے چشم دید گواہوں نے بیان دیے ہیں اس معاملے میں طاہر حسین نے بھی بتایا کہ اس کے گھر میں گھسے باہری لوگ بھی پتھر پیٹرول بم غلیل لے کر آئے تھے ۔بہر حال انکت شرما کے قتل کی گتھی تو سلجھ گئی ہے لیکن طاہر حسین کا اس کے قتل میں رول تھا یا نہیں ابھی اس کا پتہ لگنا باقی ہے ۔

(انل نریندر)

15 مارچ 2020

کچے تیل کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ

کچے تیل کے سب سے بڑے پیداوار ملک سعودی عرب کے ذریعہ کچے تیل کی قیمتوں میں کمی کرنے اور پیدوار بڑھانے کے فیصلے کے بعد بین الا اقوامی بازار میں اس کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی ۔جو تیس فیصد تک آگئی ہے ۔اور بھاﺅ 2216روپئے فی بیرل پر آگئے ۔تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان پیداوار کو لے کر رضا مندی نہ ہوپانے کے سبب سعودی عرب نے کچے تیل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا جس وجہ سے کچے تیل میں تقریبا 30فیصد کی گراوٹ آئی کاروبار کے دوران صبح ایک وقت یہ 31.02فی ڈالر بیرل تک اتر گیا تھا جو فروری 2016کے بعد سے سب سے نچلی سطح پر ہے کچے تیل کی پیداوار کو محدود رکھنے کو لے کر اوپیک اور غیر اوپیک ممالک میں سمجھوتہ ٹوٹنے کے بعد قیمتوں میں زبردست کمی کا اعلان کیا ۔جس وجہ سے اوپیک کی میٹنگ میں پیداوار میں کمی پر رضا مندی نہیں بن پائی پچھلا معاہدہ اس ماہ کے آخر میں ختم ہو رہا ہے ۔اوپیک نے اس کی تجویز کی تھی کہ سعودی عرب نے کہا تین سال پہلے ہوئے پچھلے معاہدے کے اپریل میں ختم ہونے کے بعد ایک کروڑ بیرل یومیہ پیداور میں اضافہ کرئے گا اِدھر بھارت میں بھی اس کا اثر دکھائی دینا شروع ہو گیا ہے اور قیمتوں میں کمی آئی ۔دہلی میں ایک ہفتے میں ایک لیڈر پیٹرول کی قیمت 2.5روپئے اور ڈیزل کی قیمت میں 2.3پیسے فی لیڈر کی گراوٹ آئی ہے ۔پیٹرل 70.29روپئے اور ڈیزل63روپئے فی لیڈر ہو گیا ۔2020میں اب تک پیڑول کے دام میں پانچ روپئے کی کمی آئی ہے ۔اتنی گراوٹ کے بعد دام آٹھ یا نو مہینے میں سب سے نچلے سطح پر ہیں وہیں کانگریس کا الزام ہے کہ کچے تیل کے دام میں آرہی گراوٹ کے مطابق مرکزی سرکار دام نہیں گھٹا رہی ہے ۔اور رہی سہی کسر کورونا وائرس نے نکال دی ہے ۔پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتو ں نے پچھلے آٹھ مہینے میں سب سے نچلی سطح ہے ۔آل انڈیا پیڑولیم ڈیلرس ایسوسی ایشن کے صدر اجے بنسل نے کہا کہ جس حساب سے کچے تیل کے دام گر رہے ہیں اس کے حساب سے پیڑول ڈیزل کے خوردہ داموں میں سات سے 8روپئے فی لیڈر گراوٹ بنتی ہے بشرط کی سرکار ٹیکس میں کوئی اضافہ نہ کرئے ۔

(انل نریندر)

کورونا وائرس کے خطرے سے پورا دیش خوف میں مبتلا

کورونا وائرس کی بیماری کے پیش نظر دہلی اور ہریانہ نے جمعرات کو اس کو ایک وبا قرار دے دیا ہے ۔دہلی حکومت نے سبھی سنیما گھر اسکول،کالجوں ،اور یونیورسٹیوں کو 31مارچ تک بند کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔وہیں گورو گرام فریدآباد میں محکمہ صحت کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے ۔دیش میں کورونا سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 84تک پہنچ گئی ہے ۔اور دہلی میں کورونا سے رام منوہر لوہیا اسپتال میں ایک خاتون کی موت ہو گئی جس کا سنیچر کو نگم بودھ گھاٹ پر انتم سنسکار کر دیا گیا ،مہیلا کی موت سے 24گھنٹے کے اندر متاثرہ یہ مریض کی دوسری موت ہے ۔جنک پوری کی باشندہ 68سالہ خاتون کو جمعرات کے روز ہی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی ۔ڈاکٹروں کے مطابق اس عورت کو بلڈ پریشر اور ہائیپر ٹینشن کی پریشانی تھی ۔ویسے دیکھا جائے تو کورونا وائرس کا دیش میں زیادہ ہی خوف پھیل گیا ہے ۔130کروڑ کی آبادی والے دیش میں اب تک 84مریض سامنے آئے ہیں ویسے تو یہ تعداد بہت کم ہے ۔بھارت نے روز 373لوگ سڑک حادثوں میں مرتے ہیں ۔بے شک آپ احتیاط برتیں لیکن مرنا جینا اوپر والے کے ہاتھوں میں ہے اس کے یہاں نمبر نہیں آنا چاہیے کورونا تو اگر نمبر آگیا تو ایک بہانا ہے اس خوف کا نتیجہ زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے ۔کورونا کو وبا اعلان کرنے کے بعد جمعرات کو گھریلو شیئر مارکیٹ میں نمبروں کی بنیاد پر ایک دن میں سب سے بڑی گراوٹ درج کی گئی ہے جس کی وجہ سے 11لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ پل بھر میں ڈوب گئے جس سے سرمایہ کاروں میں ہائے توبہ مچ گئی کاروباری واقف کاروں کی مانیں تو جنوری اور فروری مہینے میں کورونا وائرس کی وجہ سے دو ہزار کروڑ روپئے کا کاروبار متاثر ہو اہے ۔اب جس سے ہر دن کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اس سے لوگوں میں بھاری دہشت پائی جاتی ہے ۔لوگ غیر ملکی سامان تک کو ہاتھ نہیں لگا پار ہے یہاں تک جس دوکان میں غیر ملکی سامان بک رہا ہے وہاں جانے سے بھی ڈر رہے ہیں ۔وہیں آئی پی ایل کو 15اپریل تک کے لئے ٹال دیا گیا ہے بی سی سی آئی نے جمعہ کو کووڈ 19وبا کے دباﺅ میں جھکتے ہوئے یہ میچ ٹالنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس فیصلے سے سیدھا اثر کاروبار پر پڑے گا ۔حالانکہ سنیما گھر مالیکان یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ احتیاطا لوگوں کو تھرمل اسکینر سے گزرنے کے لئے انتظام کر رہے ہیں ۔تاکہ سنیما بند نہ ہو پائیں دہلی یوپی موشن پکچر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری جو گیندر مہاجن نے کہا کہ پچھلے تین ماہ ویسے ہی لوگ سنیما گھروں میں کم آرہے ہیں لیکن نوکروں کو تو نکالا نہیں جا سکتا ۔اگر کوئی بھی فلم اوسط کے حساب سے چلتی ہے تو اس سے قریب ایک ہفتے میں 6کروڑ روپئے کی آمدنی دہلی کے سنیما گھروں کو ہوتی ہے ایسے میں دہلی میں سنیما مالکان کو 20سے 25کروڑ روپئے کا مالی نقصان ہوگا۔وزیر اعظم نے بھی دیش واسیوں سے اپیل کی ہے کہ گھبرائے نہیں احتیاط برتئیے اور آنے والے دنوں میں مرکزی وزیر بھی بیرون ملک نہیں جائیں گے ایسے ہی جو ملک کے شہری گھومنے پھرنے کے لئے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں وہ اپنے سفر سے گریز کریں ۔کرونا وائرس پھیلنے کے اثر سے ہماری ٹورزم انڈسٹری بھی متاثر ہوئی ہے ۔لوگوں نے بتایا کہ گرمیوں میں راجستھان کے علاوہ پہاڑی علاقوں میں بھی سیاحتی مقامات پر جانے کے لئے بکنگ کم ہو گئی ہے ۔بھارت میں دو سے نو مارچ کے درمیان بکنگ میں 50فیصد گراوٹ آئی ہے ۔ایک ٹریلول ایجنٹ کمپنی نے بتایا کہ کچھ گھریلو مقبول مقامات پر ہوائی ٹکٹ آخر ی وقت پر دورہ منسوخ ہونے کے سبب کینسل ہو گئے ہیں اور ہوائی سفر سے جانے والے سیاحوں کی تعداد میں 20سے 25فیصد کی گراوٹ آئی ہے ایسے ہی پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال گرمیوں میں کمپنیوں کے گھریلو راستوں پر ٹکٹ بکنگ میں 30فیصد سے زیادہ کی گراوٹ کا سامنا کرنے کا امکان ہے ۔لداخ ،گوہاٹی ،کویمبٹور،شری نگر،امرتسر ،آگرہ،وغیرہ سب سے زیادہ متاثر سیاحتی مقامات رہے ۔یہاں کھانے پینے سے لے کر ریڈی میڈ اور الیکٹرانک سامان کی خرید و فروخت میں بھی بھاری گراوٹ آئی ہے ۔کل ملا کر دیش میں اچانک آئی وبا کرونا وائرس سے بھارت کی معیشت پر برے اثرات مرتب ہوں گے ۔

(انل نریندر)