20 اپریل 2013

بھاگ پرویز مشرف بھاگ: پاکستان کی بڑھتی تشویشات

پاکستان میں پہلی بار غیر فوجی حکومت نے اپنی میعاد پوری کی اور اب دوسری سرکار کا انتخاب کرنے کے لئے عام چناؤ کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ زیادہ تر وقت فوجی حکومت وہ بھی تاناشاہی کے تحت رہے ملک کے لئے یہ ایک چھوٹا کارنامہ ہی نہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ اپنے آپ میں ایک اچھا واقعہ ہے۔ اس کا سہرہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت کو جاتا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی چھایا سے نکل کر وہ ایک اچھے لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ’سام دام ڈنڈ بھید‘ کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے دیگر سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کو ساتھ ملانے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن عام چناؤ سے پہلے سابق صدر پرویزمشرف کے پاکستان لوٹنے سے ملک میں ایک نئی صورتحال بنتی جارہی ہے۔ پرویز مشرف کے لوٹنے پر فوج کے علاوہ سبھی لوگ مخالف تھے لیکن لگتا ہے کہ فوج اور مشرف میں کوئی خفیہ سجھوتہ ہوچکا ہے۔ فوج کو چھوڑ کر پاکستان میں سبھی سرکاری ایجنسیاں خاص کر عدالتیں ان کے خلاف ہیں۔ آج کی تاریخ میں جنرل پرویز مشرف شاید پاکستان کے سب سے دکھی شخص ہوں گے کہ عام چناؤ کے لئے چار حلقوں سے پرچے داخل کئے اور چاروں جگہ سے خارج ہوگئے۔ الگ الگ مقامات پر الگ الگ اسباب پیش کئے گئے۔ کہیں ان کے دستخط نہیں ملے تو کہیں دلیل دی گئی وہ بے نظیربھٹو اور بلوچ نیتا اکبر بکتی کے قتل کے واقعات سمیت چار معاملوں میں ملزم ہیں۔ پاکستان بچانے کا نعرہ دیکر دیش لوٹے مشرف اس وقت اپنے فارم ہاؤس میں نظر بند ہیں۔ ہائی کورٹ نے 2007 ء میں ایمرجنسی لگانے ، چیف جسٹس کو برخاست کرنے اور60 ججوں کو نظربند کرنے کے ایک معاملے میں مشرف کی ضمانت خارج کر انہیں گرفتار کرنے کے احکامات دئے تو ان کو سنتے ہی فلمی انداز میں جنرل پرویز مشرف اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت عرضی خارج ہوتے دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ عدالت سے اپنے فوجی سکیورٹی کوج میں ہائی کورٹ سے نکل کر اپنے قلعہ نما فارم ہاؤس میں جا چھپے اور انہیں وہیں نظربند کردیا گیا۔ مشرف کے وکیل انہیں بچانے کے لئے سپریم کورٹ بھی پہنچے وہاں ان کی عرضی داخل نہ ہوپائی۔ پولیس نے ان کے فارم ہاؤس کی گھیرا بندی کررکھی ہے اور فرار مانے جارہے مشرف کی سکیورٹی میں لگے پاکستانی رینجر جوان واپس بلا لئے گئے۔ کہنے پڑے گا مشرف نے قانون کی تعمیل کرنے والے ایک ذمہ دار شہری اور ایک سابق صدر و ریٹائرڈ فوجی چیف کی طرح برتاؤ نہیں کیا۔ انہوں نے ایک بھگوڑے یا ایک ایسے شخص کی شکل میں رویہ اپنایا جو خود کو قانون سے اوپر سمجھتا ہے۔ سچائی تو یہ ہے جنرل جہانگیر کرامت کو چھوڑ کر پاکستان کے سبھی فوجی چیف کو نہ صرف قانون سے اوپر بلکہ خود اپنے آپ کو قانون سمجھتے رہے ہیں۔ آج پاکستان سمیت ساری دنیا بڑی بے چینی سے دیکھ رہی ہے کہ اب موجودہ فوجی چیف جنرل پرویز کیانی عدلیہ اور نگراں سرکار کیا قدم اٹھاتے ہیں؟ کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ مشرف پاکستان لوٹنے سے فوج پہلے ہی اپنے آپ کو تھوڑا سا لاچار محسوس کررہی تھی اور ان میں ان کے تئیں کوئی ہمدردی دکھائی نہیں دیتی۔ وہ مشرف کو بیرون ملک میں ہی رہتے دیکھنا پسند کرتی ہے۔ فوج عدلیہ کو بھی پسند نہیں کرتی۔ تازہ واقعہ میں پاکستانی فوجی پاکستان کی عدالتیں آمنے سامنے آگئی ہیں کیونکہ مشرف کو جو سکیورٹی کوج دیا گیا ہے وہ فوج کے ذریعے ہی دیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج بنام پاکستانی پولیس کے ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کرنے میں مشرف کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے؟ یہ اس لئے بھی اہم ہے کہ عام چناؤ سر پر ہیں اور اس واقعہ کا سیدھا اثر عام چناؤ پر پڑ سکتا ہے۔ ایک بار پھر پاکستان میں جمہوریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
(انل نریندر)

آروشی قتل میں ماں باپ کا ہاتھ؟

نوئیڈا کے سرخیوں میں چھائے آروشی ہیمراج قتل میں اہم جانچ افسر رہے سی بی آئی کے اے ایس پی ، اے جی ایل کول نے منگلوار کو سی بی آئی کی خصوصی جج ایس لال کی عدالت میں دعوی کیا کہ آروشی ہیمراج قتل کے ملزم والدین راجیش تلوار اور ڈاکٹر نپر تلوار نے ہی قتل کو انجام دیا تھا۔ پانچ سال پرانے اس قتل کیس میں جانچ ایجنسیوں کی جانب سے گواہ کے طور پر پیش ہوئے اے جی کول نے کہا کہ پوری جانچ اور حالات سے میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ تلوار میاں بیوی نے ہی یہ قتل کئے ہیں۔ اے ایس پی ، اے جی ایل کول کی جانب سے عدالت میں آروشی ۔ہیمراج قتل میں ماں اور باپ کو ہی شامل بتائے جانے پر اور کسی کو تسلی ہو نہ ہو لیکن اس سے نوئیڈا پولیس کو ضرور راحت ملی ہوگی۔ پولیس نے جن ثبوتوں کی بنیاد پر ڈاکٹر تلوار کو گرفتار کر جیل بھیجا تھا اسی تھیوری پر سی بی آئی کام کررہی ہے۔ کول نے اس معاملے میں ملزم بتائے گئے کمپاؤنڈر کرشنا، نوکر راجکمار اور وجے منڈل کو کلین چٹ دے دی تھی۔ سیکٹر25 میں واقع جل وایو وہار میں فلیٹ نمبر32 میں ڈاکٹر تلوار کی بیٹی آروشی اور نوکر ہیمراج کا قتل ہوا تھا۔ نوئیڈا پولیس نے اپنی جانچ میں تلوار کو ملزم بنایا تھا۔ پولیس کی اس جانچ پر تلوار جوڑا ہی نہیں لوگوں نے بھی انگلیاں اٹھائی تھیں۔ سی بی آئی کی پہلی جانچ ٹیم نے بھی نوئیڈا پولیس کی تفتیش پر سوال اٹھاتے ہوئے نوکروں کو ملزم بناتے ہوئے جیل بھیج دیا تھا۔ سی بی آئی کی تفتیش گھومتی رہی جس کے بعد نوکروں کو قتل کا ملزم بنا کر گرفتار کیا گیا لیکن عدالت میں ان کے ان الزامات کی بھی دھجیاں اڑیں۔ ایسے میں دیش کی سب سے بڑی جانچ ایجنسی ایک بار پھر سوالوں کے گھیرے میں آگئی۔ جانچ آگے بڑھی اور سی بی آئی کی دوسری ٹیم نے پھر آروشی کانڈ کی سچائی کو تلاشا اور نوئیڈا پولیس کے اس وقت کے جانچ افسروں کے مطابق مسلسل پوچھ تاچھ سے پریشان ڈاکٹر تلوار نے اپنے وکیل سے پیشگی ضمانت کے بارے میں بات کی تھی۔ سرولنس پر سنی گئی اس بات چیت کے بعد نوئیڈا پولیس کا شک اور پختہ ہوگیا۔ پہلے بھی پولیس جانچ کے مطابق آروشی و تلوار کے درمیان بھلے ہی میل کے تبادلوں میں جو پیغامات طے وہ صاف بتا رہے تھے کہ آروشی اور والد کے درمیان رشتوں میں تلخی تھی۔ فلیٹ کی جس طرح سے حالت تھی اس سے صاف تھا کہ فلیٹ کے اندر کوئی باہری شخص نہیں آیا۔ پولیس کو ڈاکٹر تلوار کے خلاف ایسے کئی ثبوت ملے جن کی بنیاد پر انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ کھچا کھچ بھری عدالت میں اے ایس پی کول نے کہا جب واقعہ کا معائنہ کرنے پہنچے تو انہیں ڈاکٹر راجیش اور ان کی بیوی ڈاکٹر نپر تلوار ملے۔ مکان میں داخل ہونے کا ایک دروازہ تھا جو باہر سے بغیر چابی کے نہیں کھلتا تھا۔ آروشی اور اسکے والد ڈاکٹر راجیش کے کمروں کے بیچ میں دیوار کا ایک حصہ تین چار فٹ کا پلائی ووڈ کا بنا ہوا تھا۔ پوچھ تاچھ میں ڈاکٹر تلوار کئی موقعوں پر مسلسل دکھائی دئے۔ تفتیش کے دوران انہوں نے ڈاکٹر تلوار سے ان کی گولف اسٹک مانگ کر سی ایس ایف ایل بھیجی۔ اس کی جانچ رپورٹ میں دو گولف اسٹک اور ایک دوسری سے زیادہ مختلف تھی۔ خاص بات یہ ہے ان میں سے ایک گولف اسٹک کا حصہ آروشی اور ہیمراج کو آئی چوٹوں سے اور خونی دھبوں سے میل کھاتا تھا۔ ڈاکٹر راجیش کے ڈرائیور امیش نے بتایا کے انہیں دونوں اسٹک کو اس نے ہیمراج کے کمرے میں رکھا تھا۔ کول کے مطابق وہ موقعے پر پہنچے تو باہر کا لوہے کا دروازہ ہٹایا جاچکا تھا۔ ساری جانچ و حالات کے بعد انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کے دونوں کا قتل نوکر کرشنا اور راجکمار اور وجے منڈل سمیت کسی باہری شخص نے نہیں کیا تھا۔ دعوی کیا کہ ثبوت کی بنیاد پر دونوں کا قتل راجیش و نپر تلوار نے مل کر کیا تھا۔ کول نے عدالت کو یہ بھی بتایا جس بیڈ پر آروشی کی لاش پڑی تھی اس کی چادر میں کہیں بھی سلوٹ نہیں تھی۔ انہیں تعجب ہوا کے آروشی کا گلا کاٹنے سے خون کی بوچھار کے باوجود چادر پر کوئی دھبہ نہیں تھا۔ اس سے صاف ہے واردات کی جگہ پر چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ کول نے عدالت کو یہ بھی بتایا آروشی کے بستر سے لگی دیوار پر خون کے ہلکے دھبے تھے۔ ابھی تو اے ایس پی کول کا بیان درج ہوا ہے۔ کیس تو اب چلے گا۔ حالات کے مطابق ڈاکٹرراجیش اور ڈاکٹر نپر تلوار ملزم دکھائی پڑتے ہیں باقی تو عدالت کی آگے کی کارروائی میں سی بی آئی کتنا اور کچھ ثابت کرسکتی ہے اس پر منحصر کرے گا۔
(انل نریندر)

19 اپریل 2013

دہشت گردی سے لڑنے کی بھارت سرکار کی کوئی حکمت عملی ہے اور نہ ہی قوت ارادی

دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ ہم ایک بار پھر کہتے ہیں کہ امریکہ میں بوسٹن میراتھن دھماکوں کے کچھ گھنٹوں بعد کرناٹک کے بینگلورو شہر میں بم دھماکے اس کا ثبوت ہیں کے بینگلورو کے بھاجپا دفتر کو نشانہ بنا کر جمعرات کو کئے گئے دھماکوں میں 11 پولیس والوں سمیت کم سے کم16 افراد زخمی ہوگئے۔5 مئی کو ہونے والے اسمبلی چناؤ کی وجہ سے اس دھماکے اور مقام کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ دھماکے کا ٹائم بھی اشارہ کرتا ہے چناؤ کی وجہ سے بھاجپا دفتر میں ورکروں اور ٹکٹ کے متلاشیو ں کی بھیڑ ہوگی۔ حالانکہ چناؤ کو دیکھتے ہوئے بھاجپا دفتر کے پاس خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ بم کو ایک وین اور کار کے بیچ میں کھڑی موٹر سائیکل پر لگایا گیا تھا۔ دھماکہ آئی ڈی کے ذریعے کیا گیا۔ دھماکے میں امونیم نائٹریٹ استعمال ہوا تھا۔ کیا17 اپریل کی تاریخ آتنک وادیوں کے لئے کوئی خاص اہمیت رکھتی ہے، کیا اسے اتفاق ہی سمجھیں کے ٹھیک تین سال پہلے17 اپریل 2010ء کو اسی شہر بنگلورو کے چننا سوامی اسٹیڈیم کے باہر شام4 بجے دو دھماکے ہوئے تھے جن میں 7 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اس سے پہلے اسی شہر میں 25 ستمبر 2005ء اور10 مئی 2008 اور 25 جولائی 2009ء کو آتنک وادی دھماکے کر چکے ہیں۔ اسے اس دیش کی بدقسمتی ہی مانا جائے گا کہ آتنکی واردات پر سیاست ہوتی ہے۔ دھماکے کے فوراً بعد کانگریس کے سینئر لیڈر شکیل احمد نے ٹوئٹر پر کہا کہ بھاجپا دفتر کے باہر جو آتنکی حملہ ہوا ہے اس سے انہیں چناوی فائدہ ہوگا۔ بھاجپا صدر راجناتھ سنگھ نے کہا کہ آتنکی کارروائی میں کسی سلیپرسیل کا ہاتھ ہے جو آتنک واد کے خلاف لڑائی میں مرکز کی کوششوں کی کمی کا نتیجہ ہے ۔ کانگریس سکریٹری جنرل جناردن دویدی نے اپنے نئے تبصرے میں کہا دہشت گردی سے جڑی کوئی بھی واردات قومی اور کچھ حد تک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ آتنک واد کو کانگریس پارٹی اس نظریئے سے دیکھتی ہے یہ پورے دیش کے لئے ایک چیلنج ہے اور اسے سیاسی نفع نقصان سے نہیں جوڑ کر دیکھنا چاہئے۔ امریکہ نے ایک بھی آتنکی حملہ برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے جس سے وہ پچھلے 12 سالوں سے لڑ رہا ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں دہشت گردی دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے تو اس کے پیچھے بھارت سرکار کی قوت ارادی اور ادھوری تیاری ہے۔ جہاں بھارت سرکار کے ذریعے دہشت گردی سے نمٹنے کی تیاری ادھوری ہے یہ حال کے واقعات سے مورچے پر سرکار کی چنوتیاں اور بڑھنے کا اندیشہ بھی ہے۔ این سی ٹی سی بنانے کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنا ہے۔ اس قومی ایجنسی کی تجویز پچھلے ایک سال سے ریاستی حکومتوں اور مرکز میں تنازعوں کی وجہ سے لٹکی ہوئی ہے۔ ایک نیٹ گریٹ بنانے کی تجویز بھی آئی ہے۔ اس کے تحت بینک کھاتوں، فون نمبر، پین کارڈ، ووٹر کارڈ سمیت 21 خدمات پر آن لائن نظر رکھنے کا منصوبہ تھا لیکن اب تک اس پر عمل نہیں ہوسکا۔ دہشت گرد عموماً ایسے بموں میں امونیم نائیٹریٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ ابھی تک سرکار اس کی بکری پر روک لگانے میں ناکام رہی ہے۔ آتنکی حملے کو روکنے کے لئے سب سے زیادہ موثر بچاؤ ہے خفیہ ایجنسیاں اور مخبر۔ ایسا نہیں کے امریکہ میں دہشت گردوں نے پچھلے12 سالوں میں حملہ کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن وہاں کی خفیہ ایجنسیاں ، مخبر اتنے چوکنا ہیں کہ وہ حملہ ہونے سے پہلے ہی اس کو ناکام بنادیتے ہیں۔ ہمارے یہاں دیش میں40 ہزار لوگوں پرایک خفیہ ملازم مشتمل ہے جو اوسطاً10 ہزار سے کم ہے۔ہماری خفیہ ایجنسیوں میں ملازمین کی کمی بھی ایسے واقعات کو رکونے میں ناکامی کا سبب ہے۔ این آئی اے بیشک بنی لیکن اس میں بڑھیا افسروں کی بھرتی نہ ہونا اور ریاستوں کو جانچ کا اختیار نہ ہونا، مقامی پولیس کا تعاون نہ ملنا ان اسباب سے یہ دہشت گردی کے خلاف 2008ء میں بنی ایجنسی محض خانہ پوری میں لگی ہوئی ہے۔ جہاں تک ماحول کی بات ہے پارلیمنٹ پر حملے کے سازشی افضل گورو کو پھانسی کے بعد سے ہی کسی دہشت گردی کے واقعے کے بارے میں پیش گوئی کی جاچکی تھی۔ ادھر بھلر کی پھانسی کو لیکر ماحول خراب ہورہا ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کے اس بار بنگلورو میں دھماکہ کرناٹک۔ بھاجپا دفتر کے سامنے ہوا۔ یہ جگہ کسی مسجد، اسکول، بازار، بس، ٹرین، میٹرو یا جلوس کی جگہ کہیں بھی ہوسکتا تھا۔ اصل فکر تو اس بات کی ہے کہ ہم سب دہشت گردی کے نشانے پر ہیں۔ امریکہ کی طرح بھارت نے حملے سے بچنے کے لئے کوئی ٹھوس کارگر پالیسی نہیں بنائی ہے اور نہ ہی اس سے نمٹنے کی قوت ارادی ہے۔ ذہنی طور سے ہمیں تیار رہنا ہوگا کہ اس طرح کے بم دھماکے ہوتے ہی رہیں گے۔

 (انل نریندر)

اقتدار میں آنے پر سپا مبینہ غنڈوں کو سبق سکھائیں گے:مایاوتی

اترپردیش میں قانون انتظام کے حالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں اور اکھلیش یادو سرکار کی کرکری ہوتی جارہی ہے۔ اب جنتا یہاں تک کہنے لگی ہے کہ اس سے تو اچھی مایاوتی سرکار تھی کم سے کم غنڈوں میں تو خوف تھا۔ مایاوتی نے پردیش سرکار کے خلاف تلخ تیور دکھاتے ہوئے خبردار کیا کہ بسپا کو اقتدار ملا تو قانون توڑنے اور دلتوں کو ستانے والوں کو ایسا سبق سکھایا جائے گا کہ وہ یاد رکھیں گے۔ قانون و انتظام کو پوری طرح چوپٹ قراردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپا سرکار کے ایک سال کے عہد میں ہی جنتا پریشان ہونے لگی ہے۔ سپا کے غنڈے بدمعاشوں اور شرارتی عناصر کا راج چل رہا ہے۔ ڈاکٹرا مبیڈکر کی 122ویں جینتی پر لکھنؤ کے گومتی نگر میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر سماجک پریورتن استھل پرمنعقدہ شردھانجلی میں بہن جی نے کہا کہ سپا نے جن بے زمینوں کو سرکاری زمین پٹے پر دی تھی سرکار بدلتے ہی سپا لیڈروں نے اس پر قبضہ کرنا شروع کردیا اور فصل کاٹ لی۔ مایاوتی نے کہا بسپا کی سرکار بننے پر دلتوں اور پسماندہ کی زمین پر قبضہ کرنے والے سپا کے غنڈوں کو سبق سکھایا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا سپا کے ایک سالہ عہد میں سب سے زیادہ فساد ہوئے۔مایاوتی اکیلی نہیں جو سپا سرکار کو نشانہ بنا رہی ہیں ، اترپردیش اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سوامی پرساد موریہ نے کہا صوبے میں اس وقت چل رہی سپا سرکار گونگی بہری اور اندھی ،تماش بین حکومت ہے اور وہاں سرکار تو مافیہ چلا رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ غنڈوں پر کارروائی کی جگہ سرکار ان کی سرپرستی کررہی ہے۔ صوبے میں قانون و انتظام نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور ریاست میں قانون و انتظام کا حال تو یہ ہے کہ بلند شہر میں بدفعلی کی شکار لڑکی کو حوالات میں بند کرنے کے معاملے میں خفت جھیل چکی یوپی پولیس سدھرنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور وہ ملزمان پر کارروائی کے بجائے متاثرہ لڑکی کے والد کو اٹھاکر لے گئی اور انہیں بیان بدلنے کے لئے پیٹا گیا۔ ڈی آئی جی مراد آباد امرندر کمار نے ملزم تھانیدار، دروغہ اور مہلا کانسٹیبل کو معطل کردیا ہے۔ یہ ہی نہیں اپنے سیاسی حریفوں کو کس طرح اذیت دی جارہی ہے ،بدلے کی کارروائی کی جارہی ہے، اس کی تازہ مثال ممبر پارلیمنٹ جیہ پردہ سے برتاؤ ہے۔ناجائز طور پر لال بتی لگانے کے الزام میں رامپور کے اے آر ٹی او کیلاش چندر پرتاپ یادو نے جیہ پردہ پر پانچ ہزار روپے جرمانہ لگایا ہے۔ انہوں نے کہا اگر ایک ماہ کے اندر جرمانہ کی رقم جمع نہیں کرائی گئی تو رامپور میں گھر میں کھڑی کار ضبط کرلی جائے گی۔ سماجوادی پارٹی کے سابق لیڈر اور لوک منچ کے کنوینر امرسنگھ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس بے عزتی کے پیچھے سپا کیبنٹ کے وزیر اعظم خاں ہیں۔ انہوں نے اعظم کو وزارت سے برطرف کرنے کی مانگ کرتے ہوئے کہا جب تک وہ کیبنٹ میں رہیں گے عورتوں کے ساتھ بدسلوکی نہیں رک سکتی۔ قابل ذکر ہے اے آر ٹی او نے پولیس فورس کی موجودگی میں ایم پی جیہ پردہ کے کیمپ دفتر کے باہر کھڑی گاڑی سے لال بتی اتار لی۔ اتنا ہی نہیں ناجائز طور سے لال بتی لگانے پر گاڑی کا چالان بھی کردیا۔صوبے کی اکھلیش سرکار کو سبھی مورچوں پر ناکام قرار دیتے ہوئے ریاست کی جنتا نے کافی توقعات سے اکھلیش کو ووٹ دیا تھا لیکن اس نے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ پنیا کا کہنا ہے وزیراعلی مرکز کے پیسے کو ریاستی حکومت کے نام پر خرچ کر جنتا کو گمراہ کررہے ہیں۔ آج پردیش کی جنتا پوری طرح غیر محفوظ ہے اور خوف اور دہشت کے سائے میں جینے پر مجبور ہے۔ سپا ہمیشہ سے ہی غنڈہ گردوں کی سرپرست رہی ہے۔ آج سپا ورکروں نے صوبے میں جو غنڈہ گردی پھیلا رکھی ہے وہ کسی سے چھپی نہیں ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے موجودہ سرکار اسے روکنے میں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

(انل نریندر)

18 اپریل 2013

12 سال بعد پھر لوٹا امریکہ میں آتنک واد

9/11 کے آتنکی حملے کے بعد امریکہ میں کوئی اور آتنکی حملہ نہیں ہوسکا اور یہ بات امریکی حکام بڑے فخر سے کہا کرتے تھے اور فخر ہونا بھی چاہئے کیونکہ عالمی دہشت گردی سے بچنا آج کل ناممکن ہے۔12 12 سال بعد دہشت گردوں نے امریکہ میں واپسی کرتے ہوئے بوسٹن شہر میں دوہرے بم دھماکوں کی واردات کو انجام دیا ان دھماکوں نے امریکہ کو پھر ہلا کر رکھ دیا اور9/11 کی یاد تازہ کردی۔ اس بار بوسٹن میراتھن کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکہ میرتھن کی فنش لائن کے قریب ہوا۔ جس میں تین لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ176 لوگ زخمی ہوگئے۔ جن میں دو درجن سے زیادہ افراد کی حالت نازک بتائی جاری ہے۔ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔کئی لوگوں کے ہاتھ پاؤں خراب ہوگئے۔ 116 سال پرانی میراتھن ریس میں 23 ہزار لوگ حصہ لے رہے تھے جن کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے لاکھوں لوگ سڑک کے دونوں طرف موجود تھے۔ مرنے والوں میں 8 سالہ بچی مارٹن رچرڈ ہے۔ دھماکوں کے لئے پریشر کوکر بم کا استعمال کیا گیا۔ 9/11 کے بعد امریکی حکومت نے اپنے دیش کو محفوظ رکھنے کے لئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی۔ ذرا سابھی شبہ ہونے پر مشتبہ کی جانچ شروع ہوجاتی اور ہوائی اڈوں پر عدیم المثال سکیورٹی انتظامات کردئے گئے۔ یہ سکیورٹی امریکہ کی تاریخ میں بہت ہی نایاب قسم کی تھی اور اس کی وجہ سے 9/11 کے بعد آتنکی امریکہ پر دوبارہ حملہ نہیں کرپائے۔ اس لئے لگتا یہ ہے کہ اس حملے کے پیچھے القاعدہ جیسی بین الاقوامی تنظیم کا ہاتھ نہیں ہے اور یہ کام امریکہ میں ہی بیٹھے ہوم گرین ٹیررسٹوں کا ہوسکتا ہے۔بم دھماکوں کا وقت اور موقعہ بھی خاص طور پر چنا گیا۔ بوسٹن میراتھن صرف ایک کھیل ہی نہیں بلکہ وہ بوسٹن کی پہچان بھی ہے اور اس بار کا سب سے بڑا فیسٹول بھی تھا۔ 1997ء سے مسلسل منعقد کی جارہی یہ میراتھن دنیا کی دوسری سب سے بڑی میراتھن دوڑوں میں سے ایک ہے جس میں ہزاروں لوگ حصہ لیتے ہیں۔ یہ دوڑ پیرینٹس ڈے کے موقعہ پر منعقد ہوتی ہے۔انٹر نیٹ سے جہاں بہت سے فائدے ہوئے ہیں وہیں ان جدید ترین ویب سائٹوں نے دہشت پھیلانے والوں کے لئے بھی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا راستہ کھول دیا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کا ایک نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ آج گھر بیٹھ کر نیوکلیائی بم کیسے بنانا ہے اور چھوٹی خطرناک بم کیسے بنانے ہیں، کی جانکاری مل جاتی ہے اور امریکہ میں ٹیکنالوجی بہت اڈوانس ہوچکی ہے اس کے علاوہ فریڈم آف اسپیچ کی آزادی نے امریکہ میں طرح طرح کے طریقوں اور نظریات کو پنپنے کا موقعہ ملا ہے۔ ا نٹرنیٹ نے خطرناک مواد کے پھیلاؤ کے لئے کئی راستے بھی کھولے ہیں۔ دنیا میں بڑھتی دہشت گردی کے اسباب میں ایک بڑی وجہ انٹرنیٹ بھی شامل ہے۔ بوسٹن میراتھن کی جگہ پر حملہ کرنا ایک روایت پر حملہ کرنا ہے جس کا اثر پوری دنیا میں ہوگا۔ ہم متاثرہ لوگوں کے دکھ میں ساتھ ہیں اور مرنے والے خاندانوں کو کہنا چاہئیں گے آپ کے دکھ میں ہم بھی برابر کے شریک ہیں مگر ایسے بربریت اور بزدلانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

 (انل نریندر)

سی بی آئی نہ تو کبھی آزاد تھی اور نہ ہی ہوگی

چلئے آج ہم بات کرتے ہیں سی بی آئی کی اس پر دباؤ کی اور اس کی کارگذاری کی۔ سی بی آئی نے اپنا شاندار آغاز 1941ء میں اسپیشل پولیس ادارے کی شکل میں کیا تھا۔ لیکن یہ مکمل وجود میں یکم اپریل 1963ء کو آئی تھی۔ آج یہ دیش کی سب سے اڈوانس تفتیش رساں ایجنسی ہے۔ سی بی آئی سبھی طرح کے معاملوں کو دیکھتی ہے اور معاملے صرف کرپشن تک محدود نہیں ہیں بلکہ اقتصادی اور سیاسی اور مجرمانہ معاملے بھی دیکھتی ہے۔جرائم کے کئی راون نما چہرے ہوتے ہیں اس لئے سی بی آئی نے مناسب اہلیت حاصل کرنے کے علاوہ اپنے ساتھ اوزاروں کو بھی شامل کیا ہے۔ آج کی تاریخ میں سی بی آئی کے پاس تقریباً8200 مقدمے ہیں۔ جن میں222 کیس 20 سال سے اور 1571 کیس 10-12 سال سے زیر تفتیش ہیں۔ اگر ہم سیاستدانوں کے بڑے معاملوں کی بات کریں تو حال میں مایاوتی،ملائم سنگھ یادو، جگموہن ریڈی، کنی موجھی، ایم کے اسٹالن، قابل غور ہیں۔ راجہ بھیا اور وی آئی پی ہیلی کاپٹر خرید گھوٹالے بھی ہیں جنہیں سی بی آئی دیکھ رہی ہے۔ سی بی آئی کے طریق�ۂ کار پر سب سے زیادہ سوال پچھلی دو تین دہائیوں سے اٹھ رہے ہیں۔ ہندوستانی سپریم کورٹ نے ونت نارائن معاملے میں جس طرح سی بی آئی پر سوال اٹھائے تھے اور اس کو لیکر گائڈ لائنس جاری کی تھیں اس سے لگا تھا کہ اب سب ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا لیکن پھر حالات ویسے ہی رہے۔ سی بی آئی پر الزام ہے کہ وہ سرکار کے دباؤ میں کام کرتی ہے۔ یہ تقریباً نیتاؤں کے معاملے میں تو صاف دکھائی پڑتا ہے۔ لالو پرساد یادو ملائم سنگھ یادو، جگموہن ریڈی اور مایاوتی سمیت کئی لیڈروں کی جانچ کے طریقے کے بارے میں سی بی آئی کے رول پر سوالیہ نشان لگتے رہے ہیں۔ ایک بھی معاملے میں سی بی آئی نے کورٹ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں پیش کیا جس کی بنیاد پر ان لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے بھیجا جاسکے۔ سی بی آئی کا اکثر موازنہ ہم امریکہ کی جانچ ایجنسی ایف بی آئی سے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس اس طرح کی کوئی جانچ ایجنسی نہیں ہے۔ برطانیہ میں بھی اسکاٹ لینڈ یارڈ ہے لیکن یہ بھی مقامی پولیس کی طرح ہے۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کی تقرری امریکہ کے صدر کرتے ہیں۔ڈائریکٹر 10 سال کے لئے مقرر ہوتا ہے اور وہاں کی عدلیہ کے تئیں جوابدہ ہوتا ہے اس کی تقرری کے لئے ایک اسکریننگ کمیٹی ہوتی ہے جو ممکنہ ڈائریکٹر کے انتخاب کی خانہ پوری کو طے کرتی ہے۔ یہ طریقہ بے حد شفاف اور بہت مشکل ہوتا ہے۔ جن لوک پال کے حق میں آواز اٹھانے والوں کی مانگ ہے کہ سی بی آئی کو اس کے دائرے میں لایا جائے لیکن مرکزی حکومت سمیت کئی یوپی اے اتحادی پارٹیاں اس کے خلاف ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ سی بی آئی ایک آزاد ایجنسی ہے اور یہ ایف بی آئی کی طرح آزادانہ طور پر کام کرتی ہے۔ وہیں جن لوک پال کی حمایتی بھاجپا کی دلیل ہے کہ سی بی آئی کہنے کو تو آزاد ہے لیکن اسکی جوابدہی بھارت سرکار کے ماتحت نہ ہوکر لوک پال کے ماتحت ہونی چاہئے۔ گذشتہ 2 برسوں پہلے سی بی آئی پر کنٹرول کو لیکر انا گروپ و یوپی اے میں ٹکراؤ بنا ہوا تھا لیکن مرکزی سرکار نے اپنا لوک پال بل میں سی بی آئی کو آزاد رکھا ہے اور اسے لوک سبھا میں پاس کروالیا لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ یہ بل راجیہ سبھا میں گر گیا۔ تبھی سے یہ معاملہ ادھر میں لٹکا ہوا ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ سی بی آئی کے موجودہ سسٹم تضاد ہے ۔ ایک طرف تو اسے حکمراں سرکار کا پٹھو کہا جاتا ہے اور دوسرے لہجے میں اسے کانگریس بیورو آف انویسٹی گیشن تک کہہ دیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کر متنازعہ اور اعلی سطحی مجرمانہ معاملوں میں جنتا کی طرف سے ہی نہیں بلکہ اسے سرکار کا پٹھو کہنے والے لیڈروں کی بھی پرزور مانگ ہوتی ہے کہ کیس سی بی آئی کے سپرد کردیا جائے۔ سی بی آئی کے 50 سال یعنی کسی بھی ایک زندگی کا آدھا پڑاؤ ہے لیکن آج بھی اس کی آزادی پر سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں۔ سی بی آئی کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو ایک بھی سفید پوش نیتا کی جانچ کو اس نے آخری انجام تک نہیں پہنچایا۔ سبھی جانچیں لٹکی ہوئی ہیں جبکہ مقدموں کو درج کئے ہوئے برسوں گذر چکے ہیں۔ ڈی ایم کے لیڈر اسٹالن اور اعلی گیری کے یہاں چھاپے نے تو صاف کردیا کہ سی بی آئی کا استعمال کب اور کیسے کیا جاتا ہے۔ سپا چیف ہو یا بسپا چیف دونوں کی گردن سی بی آئی کے پھندے میں پھنسی ہوئی ہے اور وہ بھی مانتے ہیں کہ اگر مرکزی سرکار سے الگ ہوئے تو سی بی آئی ان کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ سی بی آئی کے طریقہ کار پر بڑا سوال اس کی تیار ہونے والی سالانہ رپورٹ ہے اس میں دعوی کیا گیا ہے ہر برس کی طرح ان کے یہاں درج معاملوں کو انہوں نے اپنے انجام تک پہنچایا ہے اور قصوروار لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا۔ لیکن یہ ہی دعوی جب سفید پوشوں کے خلاف درج معاملوں میں آتا ہے تو سی بی آئی کی سالانہ رپورٹ کی جانچ کا گراف زیرومیں چلا جاتا ہے۔ 2011ء میں سی بی آئی 47 فیصد معاملے اور2012 میں70 فیصد معاملوں میں چارج شیٹ داخل کر لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا ہے لیکن پچھلے 20 سالوں میں اس کا گراف کبھی بھی 70 کو پار نہیں کرسکا کیونکہ 30 فیصد معاملے سفید پوش لیڈروں سے جڑے ہوئے ہیں جن کو پورا کرنے کی منشا شاید اس کی نہیں ہے۔ یہ ہی 30 فیصد درج معاملے سی بی آئی کے طریق�ۂ کار پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔ سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جوگیندر سنگھ فرماتے ہیں سی بی آئی نہ تو کبھی آزاد تھی اور نہ ہی ہوگی کیونکہ دیش میں کوئی بھی سرکار نہیں چاہتی کہ سی بی آئی آزادانہ طور پر کام کرے۔
(انل نریندر)

17 اپریل 2013

بھاجپا کو نتیش سے آر پار کی لڑائی لڑنی ہوگی

بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتادل (یو) کا17 سال پرانا رشتہ لگتا ہے اب ٹوٹنے کے دہانے پر ہے جس طریقے سے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے ایتوار کو نئی دہلی میں اپنی پارٹی کے دوروزہ اجلاس میں گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی پر حملہ بولا ہے اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ نتیش بہت آگے بڑھ گئے ہیں وہاں سے ان کا لوٹنا اور بھاجپا کو آنکھیں دکھانا ممکن نہیں ہے۔ جنتا دل کے دو روزہ اجلاس میں نہ صرف نریندر مودی ہی نتیش کے نشانے پر تھے بلکہ بھاجپا کومودی کو نشانہ بنا کر جم کر کھری کھوٹی سنائی گئی۔ ان کی تقریر سے ایسا لگ رہا تھا کہ جنتادل (یو ) کی میٹنگ مودی کے احتجاج کے لئے بلائی گئی ہے۔ نتیش کمار ایک طرف بھاجپا کے ساتھ اتحاد بنا کر اپنی سرکار چلا رہے ہیں تو دوسری طرف جب وہ نریندر مودی پر اتنا بڑا حملہ کرتے ہیں تو ایک طرح سے بی جے پی پر حملہ کررہے ہیں۔ جس انداز میں نتیش نے مودی پر حملہ بولا ہے ایسا لگا کہ وہ کانگریس کے لیڈر کے طور پر مودی پر حملہ کررہے ہیں۔ نتیش نے جنتادل (یو) کو کانگریس کی بی ٹیم بنا کر رکھ دیا ہے۔ آج وہ کانگریس کے خیمے میں جانے کو بیتاب ہیں اور بہانا نریندر مودی کو بنا رہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ نتیش نے ایک طرح سے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی ہے۔ اگر بھاجپا بہار کی جنتادل (یو) سرکار میں رہتی ہے تو جس کا اب بہت امکان ہے کے دونوں کو نقصان ہوگا اور صرف کانگریس کو فائدہ ہوگا لیکن کانگریس کے لئے بھی نتیش سے کھلا اتحاد کرنا آسان نہیں ہوگا۔ برسوں سے کانگریس کے سب سے بڑے وفاداروں میں لالو پرساد یادو رہے ہیں بیشک وہ آج بہار کی سیاست میں اتنی اہمیت نہ رکھتے ہوں لیکن یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بالکل ہی بے جان ہوگئے ہیں۔ ان کا اور رام ولاس پاسوان کا کانگریس کیا کرے گی؟ نتیش کمار اور لالو پرساد کا ایک خیمے میں ہونا ناممکن لگتا ہے لیکن سیاست میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ بھاجپا ترجمان مناکشی لیکھی نے پیر کو نتیش پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا بھاجپا کو نتیش کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکھی نے تو نتیش پر زوردار حملہ بولا ہے اور گجرات کے 2002 ء کے دنگوں کے لئے سیدھے انہیں بھی ذمہ دار ٹھہرادیا۔ لیکھی نے دو ٹوک کہا کے بھاجپا میں سبھی سیکولر ہیں اور2002ء میں نتیش جی بھی ہماری سرکار میں ریل منتری ہوا کرتے تھے۔ ایسے میں ہمارے مکھیہ منتری کے بارے میں کہیں ان کی باتوں کو ہم خارج کرتے ہیں۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے سیکولر ساکھ کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کی مانگ کولیکر بھاجپا سے سیدھا ٹکراؤ لینا مہنگا ہوسکتا ہے۔ اگر جنتا دل (یو) کے سینئر لیڈروں کی مانیں تو خود ہی جنتا دل (یو) بھاجپا کے ساتھ اتحاد توڑنے کی بات پر دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔ پارٹی نیتاؤں کے مطابق نتیش نے کچھ افسروں اور ہوا ہوائی لیڈروں اور کانگریسی لیڈروں کے اثر میں آکر جو سیکولرزم کے نام پر بیان بازی شروع کی ہے اس سے پارٹی کے سورن جاتیوں کے ووٹ تو ناراض ہیں ہی ساتھ ہی نتیش کی سوشل انجینئرنگ کے ذریعے پسماندہ طبقات کے ووٹروں میں جو سیند لگائی تھی وہ بھی ان سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ نتیش کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آج بھی اقلیتوں میں لالو یادو کی مقبولیت کافی حد تک برقرار ہے۔ پھر اقلیتوں کو اب گارنٹی سے کوئی نہیں لے سکتا۔ وہ اس پارٹی کی حمایت کریں گے جو انہیں سب سے زیادہ فائدہ مند لگے گی جو ان کے مفادات کو آگے بڑھائے گی۔ یہ کانگریس ہو سکتی ہے۔ نتیش یہ کیوں مان کر چل رہے ہیں کہ مودی کو کوسنے سے اقلیتیں ان کے ساتھ آجائیں گی؟ نتیش کو جہاں مودی کی مخالفت میں بھاجپا کی کھٹاس محسوس ہورہی ہے وہیں ان کی اپنی پارٹی کا احتجاج بھی جھیلنا پڑ رہا ہے۔ بھاجپا کے قریبی مانے جانے والے راجیہ سبھا کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق نتیش نے سیکولرزم کا راگ چھیڑ کر پارٹی کے سامنے وہی صورتحال پیدا کردی ہے جو کبھی1977ء میں پارٹی کے سامنے جنتا پارٹی نے آر ایس ایس اور جن سنگھ کی دوہری ممبر شپ کو لیکر معاملہ اٹھایا تھا۔ اس وقت بھی اسی اشو پر پارٹی نے آخر کار سرکار سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ نتیش بھی اسی تجربے کو دوہرا رہے ہیں۔ ممکن ہے سیاسی تجزیہ کاروں کی مانیں تو لوک سبھا میں اگر نتیش بھاجپا سے الگ ہوکر میدان میں اترنے کا کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو اس کا سیدھا فائدہ بھاجپا اور این ڈی اے کو ہوسکتا ہے۔ نتیش کے ہاتھ کچھ زیادہ لگے اس میں شبہ ہے۔ اب فیصلہ بھاجپا کو کرنا ہے۔ کیا وہ نتیش کی بہار سرکار میں بنے رہ کر نتیش کو ہی مضبوطی دیتی رہے گی یا پھر الگ ہوکر پارٹی کو مضبوط کرے گی۔
(انل نریندر)

زیادہ سیٹوں کو متاثر کرے گا سوشل میڈیا

سوشل میڈیا کی اہمیت مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ جہاں آپسی رابطے کا یہ ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے وہیں اس کی اہمیت سیاست میں بھی بڑھتی نظر آنے لگی ہے۔ وسنت وہار گینگ ریپ کیس میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح فیس بک اور ٹوئٹر پر پورے دیش ہی نہیں دنیا میں بیداری پیدا کرنے کا کام کیا ہے۔ حالانکہ اس کا مثبت اثر بھی کافی سامنے آیا ہے ۔’آئی آر آئی ایل نالج فاؤنڈیشن‘ اور انٹرنیٹ اینڈ موبائل ایسوسی ایشن آف انڈیا کے ایک تازہ جائزے میں دعوی کیا گیا ہے جس میں سوشل میڈیا دیش کی 160 لوک سبھا سیٹوں کے نتیجوں پر تجزیہ کرے گا۔سوشل میڈیا مہاراشٹر میں سب سے زیادہ26 لوک سبھا سیٹوں کو متاثر کرے گا اسکے بعد گجرات17 کا نمبر آتا ہے۔ ان پارلیمانی سیٹوں کے نتیجوں پر سوشل میڈیا کا سب سے زیادہ اثر پڑ سکتا ہے جہاں فیس بک یوزرس کی تعداد پچھلے لوک سبھا چناؤ میں کامیاب امیدواروں کی جیت کے فرق سے زیادہ ہے یا جہاں کل ووٹروں میں 10 فیصدی سے زیادہ فیس بک یوزر ہیں۔ مطالعے کے مطابق سوشل میڈیا اترپردیش کی 14، کرناٹک کی 12، تاملناڈو12، آندھرا 11 اور کیرل کی10 سیٹوں کو متاثرکرے گا۔ راجدھانی کی7 اور مدھیہ پردیش کی 9 سیٹوں کے نتائج پر اس کا اثر پڑنے کا امکان ہے۔ ہریانہ، پنجاب ، راجستھان میں5-5 سیٹیں جبکہ بہار ، چنڈی گڑھ ، جموں و کشمیر، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کی 4-4 سیٹوں پر اثر پڑنے والا ہے۔ سوشل میڈیا زبردست اثر ڈالنے کے لئے عوام نے سیدھے جڑنے کی کوشش کرے گا یا اپنی ساکھ کو مقبول بنانے کی کوشش کرے۔ آنے والے چناؤ میں سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ جائے گا۔ پچھلے دنوں گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی دہلی آئے تھے۔ بھاجپا کو دئے چناوی منتروں میں سے ایک سوشل میڈیا کی بڑھتی اہمیت کے بارے میں بھی منتر دیا تھا۔ مودی نے اپنے چناوی نسخوں و تجاویز میں کہا کہ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کو11 کروڑ ووٹ ملے تھے اگلے چھ مہینے میں دیش میں موبائل اورا نٹرنیٹ کا استعمال کرنے والے لوگ14 کروڑ ہوجائیں گے۔ ان کو اپنی طرف بھاجپا لائے آج کی پوزیشن یہ ہے کہ نریندر مودی سوشل میڈیا کی 11 بڑی ویب سائٹوں پرنہ صرف موجود ہے بلکہ پوری سرگرمی کے ساتھ اپنی بات رکھ رہے ہیں۔دنیا کی سب سے مقبول سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک پر مقبولیت کے معاملے میں نریندر مودی مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی سے آگے ہیں۔ فیس بک پر مودی کے سرکاری پیج کو 1490818 لوگوں نے پسند کیا جبکہ 125629 لوگوں نے ان کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ مودی کا پیج سب سے زیادہ امریکہ میں دیکھا جاتا ہے۔ مائیکرو ڈائلنگ ویب سائٹ پر بھی نریندر مودی بیحد سرگرم ہیں جہاں ان کے 1459356 فال اوور ہیں۔ مودی کی مقبولیت کا پتہ اس بات سے لگتا ہے کہ انہوں نے اب تک 2276 بار ٹوئٹ کیا ہے۔
(انل نریندر)

16 اپریل 2013

ٹیم راجناتھ کی پہلی چنوتی کرناٹک اسمبلی چناؤ

بھارتیہ جنتا پارٹی کے نئے صدر راجناتھ سنگھ اور ان کی نو تشکیل ٹیم کے لئے سب سے پہلا چیلنج کرناٹک اسمبلی چناؤ ہے جو5 مئی کو ہونے والے ہیں۔ ان اسمبلی چناؤ میں 110 سیٹیں جیت کر ریاست میں پہلی بار یا یوں کہیں جنوبی ہندوستان میں بھاجپا کی سرکار بنانے میں کامیاب رہی پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں آنا آسان نہیں دکھائی پڑتا۔ اسمبلی چناؤ کئی اسباب سے اور قومی اہمیت رکھتے ہیں۔سب سے پہلے تو یہ 2014ء کے عام چناؤ سے پہلے ہورہا ہے۔ اس کے نتائج سے اندازہ لگایا جاسکے گا کہ ہوا کا رخ کس طرف ہے۔ خاص کر اس لئے بھی کیونکہ اس چناؤ میں نہ صرف دونوں بڑی پارٹیوں کانگریس۔ بی جے پی آمنے سامنے ہیں بلکہ ممکنہ تیسرے مورچے (دیوگوڑا ، یدیرپا) جیسے بڑے لیڈر میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ چناؤ سے یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ دیش کے سامنے جو کرپشن اور دیگر برننگ اشو ہیں ان پر ووٹروں کا کیا ردعمل ہے۔ بھاجپا کے لئے یہ چناؤ اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ وہ جنوبی ہندوستان میں اپنے اثر کو بچائے رکھ سکتی ہے یا نہیں اور ساتھ ہی اپنی ٹیم اور چناوی چہروں کی وجہ سے ان کو فائدہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ بھاجپا کے مرکزی لیڈر مان رہے ہیں کہ پچھلی بار کی طرح 110 سیٹیں جیتنا اس بار مشکل ہیں۔ بغیر کسی بڑے تنازعے کے اپنی ٹیم کو بنانے میں کامیاب راجناتھ سنگھ کی ٹیم کے لئے یہ چنوتی بڑی مشکل ہونے جارہی ہے۔ نئی ٹیم کی تشکیل کے بعد سب سے پہلے چنوتی کرناٹک کی آئی ہے۔ یہاں زبردست چناوی دنگل ہورہا ہے۔ بی جے پی کے لئے کانگریس ہی نہیں بلکہ پارٹی سے نکالے باغی نیتا یدی یروپا بھی چنوتی پیش کرنے جارہے ہیں۔ ساؤتھ انڈیا میں کرناٹک ایک ایسی پہلی ریاست ہے جہاں بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب رہی تھی۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلی بار حالانکہ کانگریس کے مقابلے بی جے پی کو تقریباً 1 فیصدی ووٹ ملے تھے لیکن اس کے باوجود بی جے پی نے 110 سیٹیں جیتیں اور وہ سرکار بنانے میں کامیاب رہی۔ یدی یروپا کے جانے کے بعد پارٹی خود ہی یہ بھروسہ نہیں کر پا رہی ہے کہ وہ کرناٹک میں مسلسل دوسری سرکار بنانے میں کامیاب ہوگی۔ یدی یروپا کے جانے سے پارٹی کو بھاری نقصان ہونا طے لگتا ہے۔ اس کے پاس کرناٹک میں کئی ایسے لیڈر ہیں جو نہ صرف چناؤ میں ورکروں کی کامیاب رہنمائی کرسکتے ہیں بلکہ پارٹی کو جیت بھی دلا سکتے ہیں۔ کرناٹک میں بی جے پی نیتا و نائب صدر سدانند گوڑا بھی مان رہے ہیں کہ پارٹی کو اس بار ریاست میں پھر کامیابی ملے گی۔ کرناٹک اسمبلی چناؤ کے لئے بی جے پی نے اندرونی سطح پر جو سروے کروایا ہے اس کے مطابق پارٹی 224 اسمبلی سیٹوں میں سے محض80 سیٹوں پر ہی خود کو مضبوط مان رہی ہے لہٰذا بی جے پی نے 80 سیٹوں کو اپنے ذہن میں رکھا ہوا ہے۔ بھاجپا کے مرکزی لیڈر مان رہے ہیں اگر اتنی سیٹیں پارٹی نے جیت لیں تو جوڑ توڑ کر سرکار بنانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔ بھاجپا نے تقریباً50 سیٹیں بی زمرے میں رکھی ہیں جن میں کانٹے کا مقابلہ ہے اور یہ کسی بھی طرف جا سکتی ہیں۔ ٹیم راجناتھ کے لئے پہلا چیلنج کرناٹک میں اپنی پارٹی کو کامیابی دلانا ہے۔ یہ نریندر مودی کی مقبولیت کا اتناسوال نہیں جتنا راجناتھ سنگھ کی ساکھ کا ہے۔
(انل نریندر)

راجستھان اسپورٹس کونسل کاسنگھ یا جماعت سے تعلق ہے یا نہیں؟

راجستھان کھیل پریشد ان دنوں اپنے ایک فرمان کو لے کر سرخیوں میں چھائی ہوئی ہے۔ اس نے راجستھان سرکار سے کھیل ایوارڈ پانے والے کھلاڑیوں سے ایک حلف نامہ مانگا ہے جس میں بتانے کو کہا گیا ہے کہ کیا ان کا تعلق آر ایس ایس یا جماعت اسلامی سے ہے یا نہیں؟ اس فرمان کو لیکر جمعہ اور سنیچر کو بھاری ہنگامہ ہوا اور ریاست میں کئی جگہ مظاہرے ہوئے۔ اصل میں ریاستی کھیل پریشد نے جمعہ کو سوا دو کروڑ روپے کی انعام رقم بانٹنے کے لئے کھلاڑیو ں کو بلا لیا۔ اس دوران اس نے ایک حلف نامہ بھرنے کو کہا جس میں صاف کرنا تھا کہ ان کا تعلق آر ایس ایس اور جماعت اسلامی سے تو نہیں ہے۔ اس کو لیکر کھلاڑیوں نے ہلکا پھلکا احتجاج درج کرایا لیکن آگے کی کارروائی جاری رہی۔ اس کی اطلاع جیسے ہی باہر نکلی تو احتجاج ہونا شروع ہوگیا۔ ریاست کے وزیر کھیل مانگی لال چورسیا کا کہنا ہے کہ یہ قاعدہ 1986 ء نافذ ہے ، سرکار اس کی تعمیل کررہی ہے لیکن راجستھان کھیل کونسل کے سابق صدر ایس ایم ماتھر نے اس طرح کے کسی قاعدے سے انکار کیا۔ اس اشو کو گرمانے کے بعد ریاستی حکومت اور کھیل کونسل کے بیانوں میں بھی فرق آگیا ہے۔ اس حلف نامے کی بابت پوچھے جانے پر کھیل کونسل کے اعلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ تو ریاستی حکومت کے احکامات کی تعمیل کررہی ہے۔ اس پورے معاملے میں اس کی طرف سے کسی طرح کی پہل نہیں کی گئی تھی لیکن حکومت نے اس طرح کے کسی حکم کے بارے میں بات سے صاف انکار کردیا ۔ سیکولرازم کتنی ابن الوقت ہوچکی ہے راجستھان کھیل کونسل کی اس مانگ سے پتہ چلتا ہے کہ اس پر بھی قطعی تعجب نہیں کہ سنگھ اور جماعت اسلامی کی طرف سے اعتراض جتائے جانے کے باوجود راجستھان کو کانگریس سرکار اپنے اس فیصلے کو صحیح ٹھہرانے میں اڑی ہوئی ہے جس کے تحت کھلاڑیوں سے 10 روپے کے اسٹامپ پیپر پر یہ لکھوایا گیا کہ وہ مذہبی یا ممنوع تنظیموں کے ممبر نہیں ہیں۔ اگر کانگریس چاہتی ہے کہ ہندوؤں کی سب سے بڑی تنظیم اور مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت سے تعلق رکھنا یا اس کا ممبر یا حمایتی ہونا کوئی جرم ہے یا سیکولرزم کے خلاف ہے تو پھر انہیں ممنوع کیوں نہیں قراردیا جاتا۔ اس سے بھی بہتر یہ ہوگا کہ کانگریس دھارمک سماجی مانی جانے والی ان تنظیموں کی کوئی فہرست جاری کردے اس کی نظر میں جو فرقہ وارانہ ہوں۔ سیکولرزم کے بہانے اغراز پر مبنی سیاست کو ثابت کرنے کا سلسلہ تو تبھی سے شروع ہوگیا تھا جب ایمرجنسی کے دوران آئین میں ترمیم کرکے اس کی تشریح میں سیکولرزم لفظ جوڑدیا گیاتھا۔ دیش کے آئین میں سیکولرزم جیسے لفظ کو شامل کرنے اور اس کی تشریح اس شکل میں کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کی توہین سبھی مذاہب و پنتھوں و اپاسنا کے طریقوں کے تئیں غیر جانبداررہنا ہے۔ آج کانگریس نے یہ حالت بنا دی ہے کہ سیکولرزم اکثریتوں کی مخالفت میں اقلیتوں کی خوشامدی کے طریقے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ سیاسی پارٹیاں جب چاہتی ہیں تب سیکولرزم کی من چاہی تشریح لوگوں کے سامنے رکھ دی جاتی ہے۔ ان میں وہ سیاسی پارٹیاں شامل ہیں جن کا چنتن اور پالیسیاں فرقہ وارانہ ہیں۔ ہماری رائے میں راجستھان کھیل پریشد کا یہ فرمان پوری طرح ناجائز ہے جسے فوراً واپس لینے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)


14 اپریل 2013

سال سے 84 کے دنگے کے متاثرین کو انصاف نہیں ملا

29 سال پرانے پل بنگش گورودوارہ فساد معاملے میں کانگریسی لیڈر جگدیش ٹائٹلر کو تین سکھوں کے قتل کے معاملے میں سی بی آئی کی کلین چٹ اور مجسٹریٹ عدالت کے ذریعے کلوزر رپورٹ کو منظور کرنے والے حکم کو بدھ کے روز سیشن عدالت نے مسترد کردیا۔ اس طرح1984ء میں ہوئے29 سال پرانے دنگوں کے معاملے میں ٹائٹلر ایک بار پھر پھنستے نظر آرہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے پرانے معاملے میں ٹائٹلر کوتین بار راحت ملی ہے اور تین بار دوبارہ مقدمے کی جانچ کے احکامات دئے جاچکے ہیں۔ سی بی آئی ہر بار پختہ ثبوت نہ ہونے کی دلیل پیش کرتی ہے۔ بدھوار کو کڑکڑ ڈوما عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج انورادھا شکلا بھاردواج نے سی بی آئی کی اس کلوزر رپورٹ کو مسترد کردیا جس میں جگدیش ٹائٹلر کو کلین چٹ دی گئی ہے۔ عدالت نے کہا سی بی آئی امریکہ میں مقیم ان تین لوگوں کا بیان درج کرنے کو مجبور ہے جن کے بارے میں ایک گواہ نے کہا تھا کہ وہ بھی موقعہ واردات پر موجود تھے۔عدالت کا کہنا ہے کہ جس وقت گواہ کابیان درج کیا جارہا تھا ،چاہے وہ سچ ہے یا جھوٹ، جانچ ایجنسی کا تقاضہ تھا کے ان لوگوں کے بیان درج کرتی یا کم سے کم ان سے پوچھ تاچھ کرلیتی۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہم جانتے ہیں سی بی آئی کو اختیار ہے کہ وہ اس نتیجے پرپہنچ سکتی ہے کہ گواہ جھوٹے تھے اور بھروسے کے لائق نہیں تھے اور اس طرح وہ اشو پر اپنا نظریہ رکھ کر کلوزر رپورٹ داخل کرسکتی تھی لیکن جانچ ایجنسی کو ان گواہوں کے بیان درج نہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور اسی طرح ایجنسی نے عدالت کو گواہوں کے بھروسے کے بارے میں اپنا نظریہ طے کرنے سے روکا۔ عدالت میں اس فیصلے کے بعد عرضی گذار لکھوندر کور نے امید ظاہر کی ہے کہ انہیں انصاف ملے گا۔عدالت کے باہر حکم کی جیسے ہی اطلاع ملی باہر کھڑے فرقے کے لوگوں نے جشن منانا شروع کردیا۔ قابل غور ہے کہ 1984ء میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کرنے کے بعد دنگا بھڑک گیا تھا۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق تقریباً3 ہزار سکھ اس فساد کے شکارہوئے اوردیگر متعلقہ سکھ تنظیموں کے مطابق مرنے والے سکھوں کی تعداد5 ہزار سے زیادہ ہے۔ اتنا بڑا دنگا ہونے کے باوجود ہمیں سب سے زیادہ حیرانی ہماری عدالتوں پر ہے۔ سپریم کورٹ آئے دن گجرات فسادات جن میں مرنے والو ں کی تعداد تقریباً950 تھی، دہلی کے84 دنگوں میں مرنے والوں کی تعداد3 ہزار سے زیادہ ہے۔ سپریم کورٹ نے گجرات دنگوں کے سلسلے میں کل 9 معاملوں کی جانچ کرنے کی ذمہ داری اسپیشل ٹاسک فورس کو سونپی۔ ان میں سے6 معاملوں کا فیصلہ آچکا ہے۔ ان دنگوں کے لئے سابق وزیر مایا کوڈنانی ،بجرنگ دل لیڈر بابو بجرنگی سمیت ایک ہی کیس نرودا پاٹیہ کو اسپیشل کورٹ نے سزا دی ہے۔ درجنوں افسر جن میں سینئر افسران بھی شامل ہیں ، کو سزا ہوچکی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ نے آج تک 84 کے خوفناک شرمناک دنگوں پر ایک بھی جانچ کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا؟ کیوں ؟ بس وزیر اعلی نریندر مودی کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ گذشتہ29 برسوں سے انصاف کے لئے جدوجہد میں لگی لکھوندر کور جیسی تقریباً تین دہائی سے انصاف کے لئے لڑ رہیں سیاسی تنظیمیں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے سلسلے میں قانونی انتظام کی بے چارگی کی ایک کڑی ہے۔ گجرات فسادات کے بعد مودی حکومت نے جانچ میں عدالتوں کی جانچ کمیشنوں کی ہر ممکن مدد پر 1984 کے دنگوں میں آج تک کسی کی جوابدہی طے نہیں ہوئی ہے۔ چار پانچ غنڈے قسم کے کرمنلوں کو سزا کروا کر معاملہ رفع دفع کردیا گیا۔ ایک بھی کانسٹیبل سے لیکر پولیس کمشنر تک کسی کے خلاف نہ تو جانچ ہوئی اور نہ ہی سزا۔ جگدیش ٹائٹلر قصوروار ہیں یا نہیں یہ تو پتہ نہیں لیکن وہ تنگ آچکے ہوں گے۔ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کو اپنے ہاتھوں میں لے لے اور اپنی نگرانی میں نئے سرے سے اسپیشل ٹاسک فورس بنوائے تاکہ یہ معاملہ ایک بار جڑ سے ہی ختم ہوجائے۔ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے اور قصوروار چاہے جو بھی ہوں، کو سزا ملے۔ جو سی بی آئی پہلے ہی تین بار کلوزر رپورٹ دے چکی ہے اس سے جانچ کیسے ہوگی، اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
(انل نریندر)

بلند شہر کے قانونی محافظ خود ہی قانون کے بھکشک بنے

اترپردیش میں بگڑتے لا اینڈ آرڈر کی ایک اور مثال سامنے آئی ہے۔ بلندشہر میں پولیس نے ایک نابالغ آبروریزی کا شکار کے ساتھ جو برتاؤ کیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہوگی۔ یہ تشفی اور راحت کی بات ہے کہ سپریم کورٹ نے پولیس کے غیر انسانی برتاؤ کے اس واقعے کا خود ہی نوٹس لیا ہے۔ اس واردات کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کا جواب سارا دیش جانناچاہتا ہے۔ آخر پولیس ایک10 سالہ بچی کو جیل میں کیسے ڈال سکتی ہے؟ غور طلب ہے کہ بلندشہر میں ایک 10 سالہ بچی کے ساتھ ایک دبنگ نے آبروریزی کی اور اس پر الٹے چوری کا الزام جڑدیا گیا۔ جب اس کی ماں اسے لیکر تھانے پہنچی تو پولیس نے ماں کو بھگادیا اور بچی کو ہی حوالات میں بند کردیا۔ اس نے اس کے ساتھ آبروریزی کے معاملے پر توجہ دینے بھی ضروری نہیں سمجھی۔ اس واقعہ کی میڈیا رپورٹ کے بنیاد پر سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیا اور اترپردیش سرکار سے اس بارے میں جواب مانگا۔ اس کیس میں یہ سوال اور سنگین ہوجاتا ہے کہ یہ واقعہ اس تھانے میں ہوا ہے جس کا انچارج ایک خاتون تھی۔ کیا اس سے زیادہ غیر انسانی اور تکلیف دہ بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ آبروریزی کا شکار بچی کی مدد کرنے کے بجائے اسے جیل میں ہی ڈال دیا جائے؟ اگر مہلا تھانوں میں بھی ایسی حرکتیں ہوں گی تو سماج پولیس پر کیسے بھروسہ کرے گا؟ سپریم کورٹ نے جب یوپی سرکار سے جواب مانگا تو آناً فاناً میں ریاستی سرکار سرگرم ہوئی اور قصوروار پولیس والوں کو معطل کردیا۔ پولیس محکمے کی لاپرواہی اور بدعنوانی اور غیر حساسیت کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں لیکن اس واردات نے ثابت کردیا ہے کہ اسے قانون کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔ آخر بلند شہر کے پولیس ملازمین نے اس لڑکی کو حوالات میں بند کرتے ہوئے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ وہ قانون کی محافظ ہے یا بھکشک ہے؟ وہاں موجود پولیس ملازمین نے انہیں ملزمان سے کچھ پیسہ دلانے کا بھی لالچ دیا اور شکایت درج کرنے کو بھی کہا لیکن جب انہوں نے انکار کردیا تو انہیں گالیاں دی گئیں اور الٹے متاثرہ بچی کو حوالات میں بند کردیا۔ ایک ٹی وی چینل کے صحافی نے اس معاملے کو اجاگر نہ کیا ہوتا تو بچی اور اس کے گھر والوں کو کن کن اذیتوں کا سامنے کرنا پڑتا، اندازہ لگائیے۔ پولیس کا یہ رویہ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس سے جن کمزور طبقوں کے لئے انصاف یقینی فراہم کرنے کی امید کی جاتی ہے وہ کس طرح سماجی طور سے رسوخ دار لوگوں کے مفاد میں کام کرتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے اترپردیش میں دلتوں اور کمزور طبقات کے خلاف سماجی بد امنی بڑھتی جارہی ہے۔ اکھلیش یادو کی سرکار کو اسے روکنے کے لئے بلا تاخیر قدم اٹھانے ہوں گے۔
(انل نریندر)