Translater

03 اکتوبر 2014

کیا گل کھلائے گی نتن یاہو۔ مودی ملاقات؟

نیویارک میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستانی وقت کے مطابق صبح6 بجے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو سے ملاقات کرنئی ہلچل مچا دی ہے۔ بھارت کا اسرائیل کے ساتھ سیاسی رشتہ تو ہے لیکن اسرائیل کے وزیر اعظم سے ملنے کی روایت نہیں رہی ہے۔مودی نے اس معاملے میں ایک نیا ٹرینڈ قائم کیا ہے۔ نتن یاہو سے ملاقات کے دوران باہمی رشتوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ڈیفنس اور تجارت سیکٹر میں تعاون کے نئے راستے تلاشے۔ اس کے ساتھ ہی اس ملاقات نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ 11 سال کے وقفے کے بعد پیر کو دونوں ملکوں کے وزیر اعظم کے درمیان ہوئی یہ پہلی ملاقات ہے۔ سمجھا جاتا ہے مغربی ایشیا میں جاری لڑائی کے معاملے میں بھارت کے موقف میں تبدیلی آئی ہے۔ غور طلب ہے کہ نتن یاہو نے پہلے ہی کہا تھا کہ بھارت کے نئے وزیر اعظم سے ملاقات کو لیکر کافی گد گد ہے اور وہ اس موقعے کا انتظار کررہے ہیں کہ یہودی ملک کے وزیر اعظم نے کہا کہ باہمی رشتوں کیلئے کافی امکانات ہیں اور نتن یاہو نے مودی کو کرشمائی لیڈر تک قراردیا ہے۔ میٹنگ اقوام متحدہ سکریٹری جنرل سے نیویارک پلیس ہوٹل میں ہوئی۔ اس دوران مودی اور مغربی ایشیا میں اسلامک اسٹریٹ کے ذریعے پیدا حالات پر بحث ہوئی۔ دونوں ہی نیتا پیلس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ 30 منٹ تک چلی میٹنگ کے دوران نتن یاہو نے مودی کو جلد اسرائیل آنے کی دعوت بھی دی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم زمین پر سب سے پرانی تہذیبوں سے واسطہ رکھتے ہیں ہم اپنی روایت پر فخر کرتے ہیں ساتھ ہی مستقبل کو لیکر کافی امید افزاء ہیں۔ نتن یاہو نے وزیر اعلی کے طور سے اسرائیل کا 2006ء میں دورہ بھی یاد کرایا۔ اس ملاقات کو سیاسی حلقوں میں بھارت اسرائیل کے بیچ رشتوں کی نئی شروعات سمجھی جارہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے بعد وزیر خارجہ سشما سوراج ، اسرائیل کے وزیر خارجہ ابک ڈول لیوریان سے ملاقات کریں گی۔ وزیر اعظم مودی نے اس ملاقات کے دوران نتن یاہو سے تجارت بڑھانے اور زرعی سیکٹر میں تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ اینٹی ٹیریرسٹ تکنیک سیکٹر میں بھی تعاون بڑھانے پر بات چیت کی ہے۔ 11 سال بعددونوں وزیر اعظم کے درمیان ہوئی میٹنگ کو سفارتی نقطہ نظر سے اہم مانا جارہا ہے۔ اس سے پہلے 2003ء میں اٹل بہاری واجپئی کے عہد میں اس وقت کے وزیر اعظم ایریل شیرون بھارت آئے تھے۔ بھارت اور اسرائیل کے بیچ کافی مضبوط رشتے ہیں اور حال ہی میں قریب 6 ارب ڈالر کا باہمی کاروبار ہے۔ اسرائیل کے آبی مینجمنٹ اور ذراعت سے متعلق سیکٹروں میں مہارت کی پیشکش بھارت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ بھارت اسرائیل دونوں کو دہشت گردی کا مسئلہ درپیش ہے۔ اسلامک اسٹریٹ (داعش) کے ابھرنے سے اسرائیل کو خطرہ ہے۔ بھارت کو بھی وہ اپنی زد میں لینا چاہتا ہے۔ بھارت کے ارب دیشوں سے بھی اچھے رشتے ہیں اور وہ رہیں گے لیکن اسرائیل سے بھی رشتوں کو آگے بڑھانا خاص کر ذراعت اور آتنک واد کے سیکٹر میں بھارت کے مفاد میں ہے۔
(انل نریندر)

02 اکتوبر 2014

کیا گل کھلائے گی نتن یاہو۔ مودی ملاقات؟

نیویارک میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستانی وقت کے مطابق صبح6 بجے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو سے ملاقات کرنئی ہلچل مچا دی ہے۔ بھارت کا اسرائیل کے ساتھ سیاسی رشتہ تو ہے لیکن اسرائیل کے وزیر اعظم سے ملنے کی روایت نہیں رہی ہے۔مودی نے اس معاملے میں ایک نیا ٹرینڈ قائم کیا ہے۔ نتن یاہو سے ملاقات کے دوران باہمی رشتوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ڈیفنس اور تجارت سیکٹر میں تعاون کے نئے راستے تلاشے۔ اس کے ساتھ ہی اس ملاقات نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ 11 سال کے وقفے کے بعد پیر کو دونوں ملکوں کے وزیر اعظم کے درمیان ہوئی یہ پہلی ملاقات ہے۔ سمجھا جاتا ہے مغربی ایشیا میں جاری لڑائی کے معاملے میں بھارت کے موقف میں تبدیلی آئی ہے۔ غور طلب ہے کہ نتن یاہو نے پہلے ہی کہا تھا کہ بھارت کے نئے وزیر اعظم سے ملاقات کو لیکر کافی گد گد ہے اور وہ اس موقعے کا انتظار کررہے ہیں کہ یہودی ملک کے وزیر اعظم نے کہا کہ باہمی رشتوں کیلئے کافی امکانات ہیں اور نتن یاہو نے مودی کو کرشمائی لیڈر تک قراردیا ہے۔ میٹنگ اقوام متحدہ سکریٹری جنرل سے نیویارک پلیس ہوٹل میں ہوئی۔ اس دوران مودی اور مغربی ایشیا میں اسلامک اسٹریٹ کے ذریعے پیدا حالات پر بحث ہوئی۔ دونوں ہی نیتا پیلس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ 30 منٹ تک چلی میٹنگ کے دوران نتن یاہو نے مودی کو جلد اسرائیل آنے کی دعوت بھی دی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم زمین پر سب سے پرانی تہذیبوں سے واسطہ رکھتے ہیں ہم اپنی روایت پر فخر کرتے ہیں ساتھ ہی مستقبل کو لیکر کافی امید افزاء ہیں۔ نتن یاہو نے وزیر اعلی کے طور سے اسرائیل کا 2006ء میں دورہ بھی یاد کرایا۔ اس ملاقات کو سیاسی حلقوں میں بھارت اسرائیل کے بیچ رشتوں کی نئی شروعات سمجھی جارہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے بعد وزیر خارجہ سشما سوراج ، اسرائیل کے وزیر خارجہ ابک ڈول لیوریان سے ملاقات کریں گی۔ وزیر اعظم مودی نے اس ملاقات کے دوران نتن یاہو سے تجارت بڑھانے اور زرعی سیکٹر میں تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ اینٹی ٹیریرسٹ تکنیک سیکٹر میں بھی تعاون بڑھانے پر بات چیت کی ہے۔ 11 سال بعددونوں وزیر اعظم کے درمیان ہوئی میٹنگ کو سفارتی نقطہ نظر سے اہم مانا جارہا ہے۔ اس سے پہلے 2003ء میں اٹل بہاری واجپئی کے عہد میں اس وقت کے وزیر اعظم ایریل شیرون بھارت آئے تھے۔ بھارت اور اسرائیل کے بیچ کافی مضبوط رشتے ہیں اور حال ہی میں قریب 6 ارب ڈالر کا باہمی کاروبار ہے۔ اسرائیل کے آبی مینجمنٹ اور ذراعت سے متعلق سیکٹروں میں مہارت کی پیشکش بھارت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ بھارت اسرائیل دونوں کو دہشت گردی کا مسئلہ درپیش ہے۔ اسلامک اسٹریٹ (داعش) کے ابھرنے سے اسرائیل کو خطرہ ہے۔ بھارت کو بھی وہ اپنی زد میں لینا چاہتا ہے۔ بھارت کے ارب دیشوں سے بھی اچھے رشتے ہیں اور وہ رہیں گے لیکن اسرائیل سے بھی رشتوں کو آگے بڑھانا خاص کر ذراعت اور آتنک واد کے سیکٹر میں بھارت کے مفاد میں ہے۔
(انل نریندر)

کیا سی بی آئی ڈائریکٹر ریٹائرمنٹ تک چھٹی پر جائیں گے؟

سی بی آئی کے ڈائریکٹر رنجیت سنہا کی مصیبتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے سنہا سے وابستہ معاملے میں وسل بلوور کے نام کا خلاصہ کرنے کے حکم کو واپس لئے جانے کی مانگ پر غور کرنے اور سنہا کے خلاف لگے الزامات کی سماعت کرنے پر رضامندی جتا دی ہے۔ این جی او سی پی آئی ایل نے سنہا کی رہائشگاہ پر آمد رجسٹر مہیا کرانے والے شخص کے نام کا انکشاف کرنے والا حکم واپس لئے جانے کی مانگ کی ہے۔ اس رجسٹر میں سنہا کے گھر پر ٹو جی اور کوئلہ گھوٹالے کے ملزمان اور ان کے قریبیوں کے ساتھ ان کی ملاقات کو دکھایا گیا ہے۔ جسٹس ایچ ایل دت کی سربراہی والی بنچ نے ٹو جی معاملے کی سماعت کے لئے مقرر خصوصی سرکاری وکیل (ایس پی پی ) آنند گروور سے رائے مانگی۔ این جی او کی طرف سے سینئر وکیل دشینت دوبے اور پرشانت بھوشن نے وسل بلوور کے نام کا خلاصہ کرنے میں اپیل کے جواز کولیکر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔ دوبے نے کہا کہ یہ سی بی آئی ڈائریکٹر کے کردار کے توہین کی کوشش نہیں ہے۔ عدالت کو ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو دیکھنا چاہئے جن کی جانچ کئے جانے کی ضرورت ہے۔ تب بنچ نے این جی او کی اس درخواست پر بھی سماعت کرنے کی رضامندی جتائی جس میں عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ وسل بلوور کو لیکر حکم واپس لیں۔ وہیں عدالت نے سی بی آئی ڈائریکٹر کے وکیل وکاس سنگھ کی اس اپیل کو نامنظور کردیا کہ دستاویزوں کے افشاں کرنے والے میڈیا کے نام کا خلاصہ کرنے سے این جی او کے انکارکرنے پر سپریم کورٹ کو آگے معاملے کی سماعت نہیں کرنی چاہئے۔ سپریم کورٹ کے سخت رویئے اور فضیحت سے بچنے کے پیش نظر ممکن ہے کہ رنجیت سنہا لمبی چھٹی پر چلے جائیں۔ سنہا اپنی اہلیہ کے ساتھ8 سے13 اپریل تک اٹلی اور ویٹیکن سٹی کے دورے پر تھے لیکن گیسٹ لسٹ میں ملاقات کرنے والوں کی اینٹری کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ وکیل پرشانت بھوشن کی جانب سے سپریم کورٹ کو سونپی گئی مبینہ گیسٹ لسٹ میں ویسے کچھ لوگوں کے نام بھی موجود ہیں جو ان کی غیر موجودگی میں سنہا کی سرکاری رہائش گاہ پر گئے اور قریب دو گھنٹے وہاں رئے۔ اس معاملے میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ مختلف جانچ ایجنسیوں کی آپسی رسہ کشی اور مقابلے کا سب سے زیادہ فائدہ کارپوریٹ سے کرانے کا اٹھا رہے ہیں۔
سی بی آئی انکم ٹیکس محکمہ اور انفورسمنٹ ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ سی اے جی کا دفتر بھی جانچ ایجنسیوں کے آپسی مقابلے سے اچھوتا نہیں ہے۔پچھلے ماہ میٹ ایکسپورٹر و اے ایم کیو کے مالک معین قریشی سے متعلق انکم ٹیکس کی فائل پانے کے لئے سی بی آئی کی ہر ممکن کوشش اسی کا نتیجہ ہے۔ انکم ٹیکس محکمے کے ذریعے سی بی آئی سے جانکاری شیئر نہ کرنے کا فیصلہ بھی رنجیت سنہا کی سر دردی بڑھا رہا ہے۔ سنہا کی لڑکی رائے پور میں رہتی ہے اور لڑکا ہالینڈ میں۔ ذرائع کے مطابق گیسٹ لسٹ میں قریب دو درجن ایسی گاڑیوں کی اینٹری ہے جن کے رجسٹریشن نمبر کی تصدیق ٹرانسپورٹ محکمہ نہیں کرپا رہا ہے۔ سی بی آئی کی اندرونی جانچ میں اب تک یہ گتھی سلجھ نہیں پائی ہے آخر کس نے پچھلے15 مہینے سے یہ گیسٹ لسٹ تیار کی اور اسے پرشانت بھوشن تک پہنچایا؟
(انل نریندر)

01 اکتوبر 2014

میڈیسن اسکوائر کا ایک تاریخی فنکشن جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا!

ایتوار کے روزنیوریاک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ایسا سماں باندھا گیا کہ امریکہ کو چھوڑیئے ساری دنیا حیرت زدہ رہ گئی۔ یہ سماں ہرمعنی میں تاریخی رہا۔ چاہے کسی بھی سیکٹر کی بات کریں یا پھر کسی بھی بڑے پیمانے کی تقریب کے انعقاد کی بات کریں،یہ اس حساب سے ایک تاریخی ہی مانا جائے گا۔ تمام لوگوں نے امریکہ میں اتنابڑا فنکشن کبھی نہیں دیکھاہوگا۔ امریکہ میں بسے ہندوستانیوں میں اتنا جوش تھا کہ پاک کے اندر 20 ہزار ہندوستانی امریکی جمع تھے اور باہر ٹائمس اسکوائر میں 40 ہزار سے زیادہ لوگ اکٹھے تھے جنہیں کسی وجہ سے ٹکٹ نہیں مل پایا۔ہسٹن کے ایک کمیونٹی اخبار میں شائع آرٹیکل میں ششیندر کمار لکھتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی میں ایسی تقریب نہیں دیکھی جہاں 20 ہزار لوگ امریکہ کی49 ریاستوں سے اس تقریب میں شرکت کیلئے پہنچے تھے۔ اس کے علاوہ تقریب کے انعقاد کرنے والوں نے 200 مقامات سے اس تقریر کو دیکھنے کا انتظام کیا ہواتھا۔ یہ کسی غیر ملکی لیڈر کی امریکی سرزمین پر شاید بڑی ریلی تھی۔ 26 ستمبر کو امریکہ گئے وزیر اعظم نریندر مودی کے کئی فنکشنوں میں میڈیسن اسکوائر گارڈن کا یہ سب سے بڑا فنکشن تھا۔ امریکہ میں مقیم ہندوستانی اسے ایک تہوار کی طرح سے لے رہے تھے۔صحابی ششیندر فرماتے ہیں کہ یہ تقریب ان لوگوں کو جواب ہے جنہوں نے مودی کو ویزہ دینے کی مخالفت کی تھی اور مودی کے خلاف امریکہ میں منفی پروپگنڈہ کیا ہواتھا۔ یہ دوسری آزادی کی تقریب جیسی تھی۔ پہلی آزادی ہمیں ایک گجراتی مہاتما گاندھی جی نے انگریزوں سے دلائی تھی۔ منفی پروپگنڈے کی بات کریں تو سینئرصحافی راجدیپ ڈیسائی نے جب جمع بھیڑ میں کچھ اپنی عادت کے مطابق مودی کے خلاف الٹے سوال پوچھے جیسے 2002ء کے دنگوں کے بارے میں، تو جنتا بھڑک اٹھی اور غصے میں آئے راجدیپ نے ایک موجود مودی حمایتی انڈین امریکن کو دھکا دے دیا۔ بس پھر کیا تھا وہاں موجود جنتا راجدیپ ڈیسائی پر ٹوٹ پڑی۔ موقعے پر بنے ویڈیو سے صاف پتہ چلتا ہے کہ دھکا مکی کا یہ سلسلہ راجدیپ ڈیسائی نے خود شروع کیا۔یہ منظر ریلی کی جگہ کے باہر کا تھا۔ مودی میڈیسن اسکوائر میں تقریرکرنے والے پہلے ہندوستانی سربراہ مملکت بن گئے ہیں۔ 20 ہزار لوگوں کی بساست رکھنے والے اس پارک کو دنیا کے سب سے پہلے تقریباتی مرکز کی شکل میں جاناجاتا ہے۔ مودی کا یہ فنکشن پورے امریکہ سمیت 80 دیشوں میں براہ راست دیکھا گیا۔مودی ایسے پہلے ہندوستانی لیڈر بن گئے ہیں جس نے گلوبل سٹی زن فیسٹیول میں سماجی پیغام دیا۔ 
میڈیسن اسکوائر میں اکٹھے زیادہ تر لوگوں میں اتنا جوش تھا جو امریکہ میں پہلے بہت کم دیکھا گیا۔ بھارت ۔ امریکہ کے درمیان ساجھیداری کا بے جوڑ نظارہ پیش کرتے ہوئے میڈیسن اسکوائر پر منعقدہ پروگرام میں 50 سے زیادہ امریکی ممبران پارلیمنٹ نے حصہ لیا جو اپنے آپ میں ایک بہت بڑی بات ہے۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب ہندوستانی امریکی فرقے کے ذریعے منعقدہ کسی پروگرام میں اتنی بڑی تعداد میں امریکی سینیٹرس نے شرکت کی۔ ان ممبران نے بیحد طاقتور سینیٹ کی خارجی امور کی کمیٹی کے چیئرمین رابرٹ مینی ڈیوز، انڈیانا کے سینیٹر ،نیو جرسی کے سینیٹر جیسی ہستیاں شامل تھیں۔ مودی کے تنقید کرنے والے بھی مانتے ہیں کہ وہ اپنا ہوم ورک کرکے جاتے ہیں۔ میڈیسن اسکوائر میں انہوں نے انڈین امریکن گروپ کوان کے مطلب کی باتیں بھی کہیں۔ ویزہ اور بھارت آنے پر پولیس تھانوں کا چکر کاٹنے تک کا مودی نے ذکر کیا اور ان قواعد میں ڈھیل دینے کی بات کہیں اور باتوں باتوں میں کہہ دیا کہ کیونکہ آپ نے سنا ہوا پڑھا بھی ہوگا کہ لوک سبھا چناؤ کے دوران دیش بھر میں اپنا جادو بکھرنے والے نریندر مودی غیر ملکی دوروں میں لوگوں کو لبھانے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ پروٹوکول توڑ کر نیویارک کی سڑکوں پر نکل کر، ریلیوں میں ہندی میں تقریر کرکے ، لوگوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے مودی نے اپنا کرشمہ امریکہ میں دکھا دیا ہے۔سب سے بڑا پیغام او وزیر اعظم نے دیا وہ یہ تھا کہ امریکہ میں ہندوستانی نژاد لوگ بھی امریکی پالیسی بنانے میں جگہ رکھتے ہیں اور وہاں موجود سبھی ہندوستانی نژاد امریکی لوگوں کو پہلی بار ایسا لیڈر ملا جس نے امریکی سرزمین پر بھارت کی اہمیت کو بتایا۔ ہر ہندوستانی امریکن کی چھاتی چوڑی ہوگئی اور انہیں پہلی بار مانیتا دلائی۔ وزیر اعظم نے نوجوانوں میں جوش بھرنے والی تقریر کی جس سے وہاں موجود سبھی لوگ ان کے قائل ہوگئے۔ جس کسی تنظیم نے میڈیسن اسکوائر میں اس پروگرام کا انعقاد کیا وہ مبارکباد کی مستحق ہے جنہوں نے ایتوار کی اس تقریب کو تاریخی بنا دیا۔
(انل نریندر)

50 سے زائد افسروں کا تبادلہ!

کسی بھی حکومت کے کامیاب ہونے میں افسر شاہی بہت بڑا تعاون دیتی ہے۔ وزیر اعظم ،وزرا پالیسیاں طے کردیتے ہیں لیکن انہیں بنیادی عمل دلانے میں افسرشاہی بہت حد تک ذمہ داری ہوگی ہے۔ مودی سرکار میں تو یہ بات اس لئے زیادہ اہم ہوجاتی ہے کیونکہ نریندر مودی اپنے وزرا سے زیادہ افسروں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جہاں مودی خارجہ پالیسی میں نئے ریکارڈ بنا رہے ہیں وہیں گھریلو مورچے پر ان کا گراف نیچے گر رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اسی افسر شاہی سے کام چلا رہے ہیں جو یوپی اے کے دور سے جمی ہوئی ہے۔ جو سکریٹری وغیرہ منموہن سنگھ سرکار میں کام کررہے تھے وہیں مودی سرکار میں ہیں۔ سیدھا سوال کیا جاسکتا ہے کہ جن کی وجہ سے منموہن سنگھ سرکار ہاری اب مودی سرکار کے لئے وہ کیسے اچھے نتائج دے سکتے ہیں؟افسر شاہی کسی جوابدہ میں یقین نہیں رکھتی۔ وہ عوام کو جواب نہیں دیتی اسی وجہ سے انہیں بنیادی سطح پر حالات میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی وہ تو صرف کتابی فارمولوں پر کام کرتے ہیں۔ جب تک مودی ایسے افسروں کو اہم عہدوں سے نہیں ہٹاتے تب تک مہنگائی جیسے برننگ اشو پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ اب جاکر مودی سرکار جاگی ہے۔ اس نے آدھی رات کے بعد اچانک 50 سے زائد سینئر افسروں کا تبادلہ کردیا ہے۔ حالیہ دنوں میں مرکز میں ایک ساتھ اتنے وسیع پیمانے پر سینئر افسروں کا تبادلہ نہیں کیا گیا تھا۔ ایسے میں یہ مرکزی سرکار کے ذریعے اٹھایا گیا بڑا قدم مانا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے جن افسروں کا ٹرانسفر کیا گیا ہے ان میں40 آئی اے ایس کے افسر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انڈین ریوینیو سروس ، انڈین پوسٹل سروس، انڈین انوارمینٹ سروس، انڈین سول اکاؤنٹس سروس کے ساتھ دیگر افسران بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی افسر مختلف وزارتوں میں جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے پر تعینات تھے۔ ذرائع کی مانیں تو اس طرح سے بڑی تعداد میں افسروں کے تبادلے اترپردیش ، تاملناڈو جیسی ریاستوں میں ہی ایک ساتھ کئے جاتے ہیں۔ چناؤ کے بعد اس بات کا بھی تذکرہ تھا کہ سیکریٹری سطح کے افسران کے وسیع تبادلے ہوں گے لیکن اسے عمل میں لانے میں 100 دن سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔ حکومت نے جہاں ان تبادلوں کو معمول کی کارروائی بتایا ہے وہیں لوگ افسروں کی کام کی اہلیت سے جوڑ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان تبادلوں کو خاص عہدوں کے لائق افسروں کا ناپایا جانا اور ان کی سابقہ یوپی اے سرکار کے ساتھ قربت کو بھی ذہن میں رکھا گیا ہے۔ پچھلے دنوں دیش کی سی وی سی پردیپ کمار نے سرکاری محکموں میں پنپ رہے کرپشن اور شکایتوں پر کارراوئی نہ کرنے کے لئے ذمہ دار افسروں کو جم کر پھٹکار لگائی تھی۔ سی وی سی نے سفارش بھی کی تھی کہ شکایتوں سے نپٹارے میں غریب آدمی پر توجہ دی جائے اور کام میں تیزی ہونی چاہئے۔ اور لاپرواہ افسروں پر سختی سے سزا دی جائے۔ اعلی افسر وقت کے ساتھ اپنے ماتحتوں کی کارروائی کو دیکھیں کہ ان تبادلوں اور سی وی سی کی سفارشوں سے مودی کی سرکار پر کیا اثر پڑتا ہے؟
(انل نریندر)

30 ستمبر 2014

جے للتا کیس میں فیصلہ’’ دیر آید درست آید‘‘

آمدنی سے زیادہ جائیداد اکٹھا کرنے کے معاملے میں تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کو ہوئی سزا دیش کی سیاست میں ایک اہم واقعہ ہے۔ جہاں جے للتا اب اپنی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی مشکل سے روبرو ہیں وہیں یہ فیصلہ عدلیہ کی تاریخ بھی بن گیا ہے۔ حالانکہ کرپشن یا دوسرے مجرمانہ معاملے میں سرکردہ شخصیتوں کے جیل جانے کی بات کوئی نئی نہیں ہے لیکن یہ پہلا موقعہ ہے جب ایک وزیر اعلی کو سزا ہوئی ہے۔ اس سے یہ پیغام ضرور جاتا ہے کہ کوئی کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ جے للتا کو آمدنی سے زیادہ جائیداد اکٹھاکرنے کے 18 سال پرانے معاملے میں 4 سال کی سزاکے اعلان سے کہا جاسکتا ہے کہ آخر کار قانون کے لمبے ہاتھ ان تک پہنچ گئے۔ ہمارے سامنے ایسے کئی معاملے آئے ہیں۔ آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو، سابق وزیر مواصلات سکھرام، ہریانہ کے سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ کو عدالت قصور وار قرار دے چکی ہے۔ڈی ایم کے لیڈر اے راجہ، کنی موجھی اور سابق وزیر مواصلات دیا ندھی مارن کا معاملہ بھی سامنے ہے۔ جے للتا کا فیصلہ جہاں عدلیہ میں لوگوں کا بھروسہ اور بڑھائے گا وہیں یہ ان لوگوں کے لئے سخت وارننگ کا بھی کام کرے گا جو سوچتے ہیں کہ عہدہ یا اس کے رسوخ کا استعمال کر وہ اپنے کرپٹ کارناموں کا نتیجہ بھگتنے سے بچے رہیں گے۔ جے للتا کے سامنے فوری چیلنج اپنی پارٹی سے ایک بھروسے مند شخص کی تلاش تھی جو ان کے نام پر ریاست کا راج چلا سکے۔ اس کام کے لئے جے للتا نے انہی پنیل سیلووم کو چنا جو پہلے بھی ایسے حالات میں ان کی پہلی پسند تھے لیکن اب پارٹی اور سرکار پر جے للتا کا ایک دبدبہ لمبے عرصے تک قائم رہے گا اس پر شبہ ضرور ہے۔ وجہ پچھلی بار جے للتا بیحد کم وقت کیلئے کرسی سے ہٹنے کے لئے مجبور ہوئی تھی لیکن اس بار عدالتی فیصلے نے پورے 10 سال کے لئے انہیں چناؤ لڑنے یا آئینی عہدہ سنبھالنے سے محروم کردیا ہے۔ اگر اوپری عدالتیں انہیں بے قصور مان لیتی ہیں تو اور بات ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو بہت برسوں تک جے للتا اقتدار سے باہر رہ سکتی ہیں۔ اب یہ اہم سوال ہے کہ جے للتا کے بغیر تاملناڈو کی سیاست کیسی رہے گی اور ان کی سیاسی زندگی کا کیا ہوگا؟ پچھلے کچھ برسوں سے جے للتا نے اپنی کافی مقبولیت بڑھائی ہے۔ سزا ہونے سے تاملناڈو کی سیاست میں نئے تجزئے بنے گے۔ 
سال2016ء میں امکانی اسمبلی چناؤ میں انا ڈی ایم کے کے امکانات پر بھی اس فیصلے کا اثر پڑے گا۔ ان کے حریف ڈی ایم کے اور اس کے نیتاکروناندھی ان حالات کا فائدہ ضرور اٹھانا چاہیں گے لیکن ان کی پارٹی میں بھی اتحاد نہیں ہے اور خاندان بری طرح سے بٹا ہوا ہے۔ پھر اب تک یہ پارٹی بھی اپنے نیتاؤں کے گھوٹالوں میں مسلسل گھرے رہنے سے ہلکان ہوئی ہے۔ اب ریاست کی سیاست میں بھاجپا بھی اس لئے نئے موقعے دیکھ سکتی ہے۔ حالیہ لوک سبھا چناؤ میں تاملناڈو سے ایک سیٹ جیتنے اور ووٹ فیصد بڑھنے سے بھاجپا گدگد ہے۔ بہرحال سیاست میں نفع نقصان کا تو تجزیہ چلتا ہی رہے گا اہم بات یہ بھی ہے کہ فیصلہ کرپشن کے خلاف جاری لڑائی کا ایک اہم مقام ہے۔ خاص کر سزا یافتہ عوامی نمائندوں کی ممبری ختم کرنے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی کرپرشن پر حملہ ہونے کی جو امید لگائی گئی تھی جے للتا کا معاملہ اس امید کے پورا ہونے کا اب تک کی سب سے بڑی مثال ہے۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جے للتا حمایتی رو دھوکر یہ جتانے کی کوشش میں لگے ہیں کہ ان کے نیتا کے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔ کچھ توڑ پھوڑ اور تشدد پر آمادہ عناصر کو صحیح پیغام دینے کی ضرورت ہے۔ انصاف میں 18 سال کی تاخیر ایک مضر نتیجہ ہے جبکہ کبھی نچلی عدالتوں سے سزا پائے لیڈر اوپری عدالتوں سے راحت پا جاتے ہیں وہ تو اس کا بھی سیاسی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس فیصلے کی زد میں حالانکہ لالو یادو اور رشید مسعود جیسے لیڈر بھی آئے لیکن اس کے چلتے کسی بھی ریاست کے بڑے سیاستداں کو عہدہ چھوڑنا پڑے۔ جے للتا کے معاملہ میں پہلی بار ہوا ہے حالانکہ جس جے للتا کے معاملے کو انجام تک پہنچانے میں18 سال لگے اس سے عدلیہ کی کارروائی کی لیٹ لطیفی پر سوالیہ نشان لگتے ہیں۔ ایسے وقت انصاف ہر شخص اور عام آدمی کا حق ہے لیکن نیتاؤں کے معاملے میں اگر جلدی نپٹارہ ہوجائے تو سیاست میں صفائی کو تقویت مل سکتی ہے۔ ہمارے پالیسی سازوں کو سمجھنا ہوگا کے آج عوام بیدار ہوچکی ہے اور وہ اچھی سے دیکھ اور سمجھ رہی ہے کہ کس طرح اثردار لوگوں کے معاملے میں قانونی کارروائی الگ ڈھنگ سے آگے بڑھتی ہے اور عام لوگوں کے معاملے میں دوسری طرح سے۔

(انل نریندر)

راہل کی قیادت پر اٹھتے سوالوں سے کانگریس الجھن میں مبتلا!

بڑے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ عام چناؤ میں مایوس کن نتائج سے لگے دھکے سے کانگریس پارٹی اتنے دن گزرنے کے بعد بھی سنبھل نہ پائی۔ محاسبہ یا غورو فکر کرنے کی ضرورت تھی وہ نہیں کیا گیا۔آج بھی کانگریس پارٹی بے جان لیڈر شپ میں نظر آرہی ہے۔کانگریس لیڈر شپ میں راہل گاندھی کا رول انتہائی اہم ہے۔ محترمہ سونیا گاندھی اب اتنی سرگرم عمل نہیں ہیں شاید اپنی صحت کی وجہ سے وہ اب پارٹی کے کام کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں دیکھ رہی ہیں۔سارا دارومدار انہوں نے اپنے صاحبزادے اور پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی پر چھوڑ رکھا ہے۔ ان کا یہ حال ہے کہ مودی سرکار کے خلاف یوتھ کانگریس کی ناراض ریلی میں راہل گاندھی کی ناراضگی صرف پوسٹر اور بینروں میں ہی دیکھنے کو ملی۔ دراصل راہل گاندھی ریلی سے غائب رہے۔ ایسا کرکے راہل گاندھی ایک بار پھر کانگریس کو آگے بڑھاکر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی سے ایک بار پھر کانگریس کے اندر ان کی سیاسی سرگرمی کو لیکر سوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران لوک سبھا میں دیش میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کو لیکر مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے و ہ لوک سبھا اسپیکرکی ویل میں آگئے تھے۔ مگر جب اس اشو پر بحث کا وقت آیا تو انہوں نے بولنا ہی مناسب نہیں سمجھا۔ راہل گاندھی کی غیر موجودگی سے کانگریس پارٹی میں ایک طرح سے الجھن کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ مہاراشٹر اور ہریانہ کے چناؤ میں کیا راہل گاندھی کانگریس کی طرف سے پرچار کریں گے؟ اس سوال پر کانگریس پارٹی کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کیا کریں؟ پارٹی صدرسونیا گاندھی کی گھٹتی مقبولیت اور راہل گاندھی کی بے تکی سیاست سمجھ سے باہر ہے۔ دیش کی یہ سب سے پرانی پارٹی بری طرح سے بے جان لیڈر شپ کے جال میں پھنستی جارہی ہے۔ حالت تو یہ ہوگئی ہے کہ سارا دارومدار اب ریاستوں کے وزرائے اعلی پر آگیا ہے۔ حالات اتنے خراب ہیں کہ پارٹی کے پاس نہ تو مغربی بھارت کی اہم ریاست مہاراشٹر میں اور نہ ہی شمالی ہندوستان کی ریاست دہلی سے لگے راجیہ ہریانہ میں پارٹی کے پاس کوئی اسٹار کمپینر نہیں بچا ہے۔ کانگریس پارٹی کی بدقسمتی یہ ہے کہ نہ تو لوک سبھا میں اور نہ ہی راجیہ سبھا میں پارٹی لیڈر شپ نے ایسے لیڈروں کو اپوزیشن کا لیڈر بنادیا ہے ج بنیادی ورکروں یا عوام سے ملتے ہی نہیں اور نہ ہی ان کی وکروں پر پکڑ ہے۔ لوک سبھا میں کرناٹک کے ایم پی ملکا ارجن کھڑگے کو اپنا لیڈر بنایا ہے اور ان کا شمالی ہندوستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ شری کھڑگے کو اپوزیشن لیڈر کا درجہ دینے سے بھی مودی سرکار نے صاف انکا کردیا ہے۔ شاید سرکار اس بات پر راضی ہوسکتی تھی کہ اگر لوک سبھا میں سب سے بڑی پارٹی کے سب سے سینئر لیڈر کو لیڈر اپوزیشن کے عہدے پر بٹھانے کے لئے کوشش کرتی یہ اہلیت مسٹر کملناتھ میں ہے جو مہاراشٹر میں آتے ہیں اور 1980ء مسلسل چناؤ جیتتے آرہے ہیں۔ آج سینئر کانگریسیوں سے لیکر سڑک پر ورکر راہل گاندھی کی سیاسی سوجھ بوجھ اور نیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔نہرو۔ گاندھی خاندان کانگریس پارٹی کے لئے بہت اہم ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے جب راہل گاندھی پارٹی میں دلچسپی نہیں رکھتے تو پارٹی کا مستقبل باعث تشویش بنتا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

28 ستمبر 2014

مہاراشٹر میں گٹھ بندھنوں کا طلاق!سبھی خوش ہیں

وینٹی لیٹر پر چل رہے بھاجپا۔ شیوسینا گٹھ بندھن آخر کار اپنی آخری سانس لے لی ہے۔ بھاجپا نے اپنے سب سے پرانے سہیوگی شیوسینا سے 25 سال پرانا ناطہ توڑ لیا ہے ادھر کانگریس اور این سی پی کا 15 سال پرانا رشتہ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ مہاراشٹر میں ودھان سبھا چناؤسے تین ہفتے پہلے دونوں گٹھ بندھنوں کا ٹوٹنے کا مطلب ہے کہ اب بھاجپا شیوسینا ، کانگریس اور این سی پی یہاں اب الگ الگ لڑیں گی۔ بھاجپا شیوسیناگٹھ بندھن ٹوٹنے کے اشارے تبھی مل گئے تھے۔ جب بھاجپا کے قومی صدر امیت شاہ نے اپنا پہلا ممبئی کادورہ کیا تھا بھاجپا گٹھ بندھن کے ٹوٹنے کااعلان پردھان منتری کے امریکہ روانہ ہونے سے پہلے نہیں ہوناچاہئے تھا۔ تاکہ مودی پر ٹوٹنے کاالزام نہ لگے۔ جیسے ہی مودی طیارے پر امریکہ کے لئے بیٹھے ویسے ہی بھاجپا نے گٹھ بندھن ٹوٹنے کا اعلان کردیا۔ بھاجپا کے ذرائع کے مطابق بھاجپا نے شیوسینا کے ساتھ اپنا پچیس سال کا گٹھ بندھن ٹوٹنے کا اعلان آنا فانا میں نہیں کیا بلکہ پوری تیاری کے بعد توڑا ہے پارٹی کے ذرائع کے مطابق بھاجپا نے شیوسینا سے پیچھا چھڑانے سے پہلے چناؤکے بعد این سی پی اور مہاراشٹر نونرمان سینا( راج ٹھاکرے) سے سمرتھن کاپختہ ا رادہ کرلیا ہے۔ گزشتہ ایک پکھواڑے سے جاری رسہ کشی کے دوران بھاجپا چناؤ کے بعد ضرورت پڑنے پر این سی پی اور مہاراشٹر نونرمان سینا سے سمرتھن کے امکانات پر غور کررہی ہے۔ دونوں ہی طرف سے کامیاب پیغام ملنے کے بعد ہی شیوسینا بھاجپا کے سمبندھنوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی این سی پی نے بھی کانگریس سے دامن چھڑا کر اکیلے چناؤ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بہرحال اب ہریانہ اور مہاراشٹر ودھان سبھا چناؤ کے پہلے اپنی اپنی فہرست جاری کرنے میں اور اپنے دم خم پرچناؤ لڑنے کے لئے میدان میں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر میں ہریانہ کی طرح ہی پردھان منتری نریندر مودی ہی پارٹی کاچہرہ ہوں گے۔ ویسے اپناماننا ہے کہ ہریانہ کے بعد مہاراشٹر میں اپنے سب سے پرانے وچاروالی پارٹی شیوسینا سے گٹھ بندھن توڑ کر بڑا جوکھم اٹھایا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھاجپا اپنے سیہوگی دلوں کو ساتھ لے کر نہیں چل سکتی۔ پہلے جدیو پھرکلدیپ بشنوئی کی پارٹی اور اب شیوسینا اس سے عام خیال یہی بن رہا ہے کہ جیسے ہی بھاجپا اپنے آپ کو تھوڑا مضبوط مان لیتی ہے ویسے ہی یہ ا پنے سیہوگی دل کو دھکا دے دیتی ہے۔ اس حساب سے اگلا نمبر سوالیوں کا ہے۔ بھاجپا نے ابھی تک مہاراشٹر میں ان کی طرف سے چیف منسٹر کون ہوگاطے نہیں کیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پہلے سورگیہ پرمود مہاجن نے مہاراشٹر میں پارٹی کو سینچا اور سنوارا۔ پھر سورگیہ گوپی ناتھ منڈے نے ان دونوں کے جانے کے بعدمہاراشٹر میں بھاجپا قیادت صفر کے برابر ہے لیکن مود مہاجن نے یونہی نہیں شیوسینا کے ساتھ گٹھ بندھن کیاتھا وہ جانتے تھے کہ شیوسیناکیڈرپارٹی ہے اور ہند و تو دونوں پارٹیاں اگر آپس میں ہی لڑگئی تو دونوں کابٹوارہ ہوجائے گا لیکن بھاجپا کو لگتا ہے کہ مودی کی شبیہ کا ان کو فائدہ ہوگا۔ بھاجپا گٹھ بندھن کی ٹوٹنے کا ٹھیکرا شیوسینا پر پھوڑ رہے ہیں۔ سیٹوں کے بٹوارے اور مکھیہ منتری پر بھی اودھو ٹھاکرے کی وجہ سے 25 سال پرانا گٹھ بندھن ٹوٹا۔ بھاجپا ذرائع کے مطابق پارٹی کے سینئر نیتاؤں نے اودھو ٹھاکرے کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر چناؤ کے لئے کافی پہلے ہی رن نیتی تیار کرلی تھی۔ نئی دہلی میں بھا جپا پارلیمنٹری بورڈ اور چناؤ سمیٹی میں بیٹھکوں میں پہلے ہی مہاراشٹر کی سبھی 288سیٹوں کے لئے امیدوار طے کرلئے تھے۔ چناؤ سے پہلے سروے آنے اور بھاجپا کی قیادت کا دماغ خراب کردیا۔
مہاراشٹر نونرمان سینا کے راج ٹھاکرے کو اسی کاانتظار تھا بھاجپا بھی اگر راج سے بات کرتی ہے تو لوک سبھا چناؤ کی طرح اودھو ٹھاکرے شکوہ نہیں کرسکیں گے۔ یہ سنگم شیوسینا کے لئے بڑا جھٹکا ہوگا۔ آنجہانی شیوسینا پرمکھ بال ٹھاکرے نے اودھو ٹھاکرے کو جاں نشین اعلان کیاتھا ان دن سے وہ لگاتار اگنی پریکشا سے گزررہے ہیں۔ ان کی آلوچنا ہوئی۔ پارٹی میں بغاوت کا دور چلا۔ ان تمام جھٹکے اور جھنجھٹوں کو جھیلتے ہوئے اودھو نے مہاراشٹر کی سیاست میں پیر ٹکائے رکھا۔ 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں شیو سینا نے 18 سیٹیں جیت کر اتہاس رچا۔لیکن اس جیت کا سہرا اودھے کو نہیں نریندر مودی کو ملا۔ اس کے بعد اودھے کی امیدوں کو پنکھ لگ گئے۔ اور وہ مہاراشٹر کا مکھیہ منتری بننے کاسپنا دیکھنے لگے۔ 1995 میں جب شیوسینا بھاجپا کی پہلی بار سرکار بنی تھی اس وقت بابری مسجد کاڈھانچہ ڈھائے جانے کے بعد دنگے کا اثر تھا۔ کیونکہ تب تک شیوسینا مراٹھی مانس کے آگے بڑھ کر ہند تو مدعے پر لوٹ آئی تھی۔ مودی لہر کے چلتے اس بار مہاراشٹر میں کانگریس این سی پی کے خلاف ماحول بنا ہوا ہے۔ لیکن اس بار بڑے دوست کا کندھا نہیں ہے۔ نئی سیاسی اتھل پتھل کے چلتے اودھے کے سامنے پھر صلاحیت ثابت کرنے کی چنوتی ہے اودھو بال ٹھاکرے اپنے پتا کے مرنے کے بعد ہمدردی پر بھروسہ کررہے ہیں۔ دوسری طرف بھاجپا کے سامنے خود کو شیوسینا سے بڑا ثابت کرنے کی چنوتی ہے۔ حالانکہ دونوں دلوں نے چناؤ بعد پھر سے ایک جٹ ہونے کا متبادل کھلا رکھا ہے۔ دوسری طرف ودھان سبھا چناؤ سے ٹھیک پہلے این سی پی کے گٹھ بندھن ٹوٹنے کے بعد کانگریس مکھیہ منتری پرتھوی راج چوہان کی ایمان دارانہ شبیہ کو مدعا بنانے کی تیاری کررہی ہے۔ کانگریس کے علاوہ مہاراشٹر میں کسی پارٹی کے پاس مکھیہ منتری عہدہ کے امیدوار نہیں ہے اس لئے پارٹی بدعنوانی سے پاک سرکار کاوعدہ کرکے لوگوں کو ووٹ دینے کی اپیل کرے گی۔ کانگریس کے رن نیتی کا رگٹھ بندھن ختم ہونے سے زیادہ پریشان نہیں لگتے۔ وہ مانتے ہیں کہ این سی پی کاساتھ چھوٹنے سے کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا۔ دونوں پارٹیاں اگر مل کر چناؤ لڑتی تو انہیں بھاجپا شیوسیناگٹھ بندھن ٹوٹنے سے ستہ وردھی ووٹ بٹنے کافائدہ مل سکتا تھا۔ لیکن اکیلے چناؤ لڑنے پر بھی کانگریس کا مظاہرہ اچھا رہے گا۔ کانگریس چناؤ میں سماج وادی پارٹی سمیت دوسری دھرم نیربیکش پارٹیوں کے ساتھ تال میل کرسکتی ہے۔ تاکہ سیکولر ووٹوں کابٹوارہ نہ ہو۔ بھاجپا شیوسینا گٹھ بندھن سے سیہوگی دلوں پر اثر پڑسکتا ہے۔ اس سے مہاراشٹر کے ووٹوں کابٹوارہ تو ہوگا ہی سہیوگی دلوں میں بھی نراشا ہوگی۔ پہلے جنتا دل یو پھر ایم جے سی اور اب شیوسینا کہیں نریندر مودی لہر پر بھاجپا زیادہ امید تو نہیں لگا رہی ہے۔یہ سبھی مانتے ہیں کہ مودی لہر کا گراف تیزی سے گر رہا ہے۔ مزے دار بات یہ ہے کہ چاروں دل گٹھ بندھن ٹوٹنے سے خوش ہے۔ 
انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...