Translater

31 دسمبر 2011

ایران پر حملہ کرنے کیلئے امریکہ تیار ہے


Published On 31st December 2011
انل نریندر
ایران اور امریکہ کے رشتے دراصل تب سے زیادہ خراب ہوئے ہیں جب سے ایران نے امریکی ڈرون جہاز گراکر اس کا کھلا مظاہرہ کیا۔ ایرانی ٹی وی نے دکھایا ہے کہ کس طرح ایرانی فوجی افسر آرکیو 170 سے ٹنیل ڈرون کا معائنہ کررہے ہیں۔ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے ایرانی صدر مسٹر احمدی نژاد سے اپیل کی کہ وہ ڈرون کو لوٹادیں لیکن ایران اس کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس کے بعد آیا یوروپی یونین کے ایران پر پابندی کا معاملہ۔ یوروپی یونین نے ایران کے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کی وجہ سے 180 ایرانی افسران اور کمپنیوں پر تازہ پابندیاں لگانے کا فیصلہ کرلیا۔ یوروپی یونین کے وزراء خارجہ کی حال میں برسیلز میں ہوئی میٹنگ میں ایران کے توانائی سیکٹر کو نشانہ بنا کر کچھ دیگر قدموں پر بھی اتفاق رائے ہوا۔ یہ پابندی اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے بعد لگائی جارہی ہے جس میں ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو نیوکلیائی ہتھیاروں کے فروغ سے جوڑا گیا تھا۔ برطانیہ نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ لندن سے ایران کے ساتھ سبھی سفارتی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا اگر اس کے نیوکلیائی پروگرام پر پابندی لگانے کے ارادے سے اس کے تیل درآمدات پر بین الاقوامی برادری نے روک لگائی تو وہ اسٹیٹ آف ہامرزکو بند کردے گا۔ ایران کی طرف سے یہ وارننگ دیش کے نائب صدر رضا رحیمی نے دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مغربی ممالک نے ایران کے تیل درآمدات پر پابندی لگائی تو پھر خلیجی ملکوں کو ایک بھی بوند تیل اسٹیٹ آف ہامرزنہیں کھلے گا۔ ایران دنیا کا چوتھا سب سے بڑا تیل سپلائی کرنے والا ملک ہے۔ تیل کی بکری سے ایرانی حکومت کو پیسہ اور پیسے سے سیاسی طاقت ملتی ہے اور ساتھ ہی نیوکلیائی پروگرام کو جاری رکھنے کے لئے ضروری مدد بھی ملتی ہے۔ بین الاقوامی برادری کو بھی ایران کی اس حکمت عملی کے بارے میں واقفیت ہے۔ اسی کے جاری رہتے یوروپی یونین کے وزراء خارجہ نے ایران کے تیل برآمدات پر پابندی لگانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ حالانکہ اسٹیٹ آف ہرمزبند کرنا ایران کے لئے آسان نہ ہوگا۔ خلیج میں ایران کے علاوہ اور بھی ممالک کے فوجی تعینات ہیں۔ایران کی دھمکی پر امریکہ نے سخت جوابی رد عمل ظاہر کیا ہے۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ آف ہرمز نہ صرف اس علاقے کی سلامتی اور استحکام کے لئے اہم ہے بلکہ یہ ایران سمیت خلیجی ملکوں کی معیشت کی زندگی کی ایک ریکھا بھی ہے۔ امریکہ کیلئے یہ راستہ بہت اہم ہے کیونکہ اسی راستے سے امریکہ تیل لے جاتا ہے۔ امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ وہ اس کو برداشت نہیں کرے گا۔ ہرمز خلیج اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں بہرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کو بحر ہند سے جوڑتا ہے۔ ایران کی دھمکی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی فوج کے پانچویں بیڑے کے ترجمان نے کہا کہ ہم لوگ غلط نیت سے اٹھائے گئے کسی بھی قدم سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ تیل کے آمدو رفت کو جاری رکھنے کے لئے امریکہ خلیج میں اپنا جنگی بحری بیڑہ رکھتا ہے۔ اس سے پہلے امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے کہا تھا کہ ایرانی دھمکی کا اہم مقصد ان کے نیوکلیائی پروگرام کے اصل اشو سے توجہ ہٹانا ہے۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Iran, USA, Vir Arjun

کئی معنوں میں تاریخی رہا سال 2011


Published On 31st December 2011
انل نریندر
سال 2011 کئی معنوں میں تاریخی سال رہا۔2011 میں جو کچھ ہوا وہ آزاد بھارت کی تاریخ میں شاید پہلے کبھی ہوا ہو۔ اگر اس سال کو گھوٹالوں کے پردہ فاش ہونے کا سال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایک طرف گھوٹالے تو دوسری طرف بڑھتے کرپشن کے خلاف جن آندولن ،کرپشن کے خلاف مضبوط لوکپال کی مانگ کو لیکر سماج سیوی انا ہزارے کی غیر سیاسی تحریک نے یقینی طور سے دیش کی سیاست کو اس سال سب سے زیادہ متاثر کیاہے۔حکومت ہی نہیں دوسری پارٹیاں بھی انا کو ملی وسیع حمایت کے آگے بونی نظر آئیں۔ انا کے دباؤ کا ہی نتیجہ تھا کہ سرکار پارلیمنٹ میں لوکپال بل پیش کرنے پر مجبور ہوئی۔ اس کو سال کے بڑے واقعات میں سوامی رام دیو کا کالے دھن کے خلاف چلایا جارہا آندولن بیشک ابھی تک رنگ نہیں لاسکا لیکن اس نے ایک ماحول بنانے میں تو مدد کی۔4 جون کی وہ یاد بھی برسوں تک رہے گی جب پولیس نے رام لیلا میدان پر پرامن طور پر دھرنا دے رہے رام دیو حمایتیوں کو اتنی بے رحمی سے پیٹا کہ ایک بھکت راج بالا تو اس مار سے چل بسی۔ مغربی بنگال اسمبلی چناؤ میں ترنمول کانگریس کی جیت اس سال کی ایک بہت بڑی گھٹنا تھی۔ ممتا بنرجی نے صوبے میں 34 برسوں سے کمیونسٹ راج کا خاتمہ کرکے تاریخ ہی بدل دی۔کامریڈوں کو اقتدار سے باہر کا راستہ دکھا دیا۔ تاملناڈو میں کرناندھی اینڈ کمپنی کا بوریا بستر سمیٹ دیا۔ کروناندھی کے لئے تو سال2011 نہ بھولنے والا سال رہا۔ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ان کی پارٹی کے اے راجہ تہاڑ پہنچے، رہی سہی کثر کروناندھی کی بیٹی کنی موجھی کے تہاڑ جیل پہنچ سے پوری ہوگئی۔ کامن ویلتھ گیمس کے انعقاد کی کامیابی کا سہرہ سرکار کو نہیں ملا کیونکہ ممبر پارلیمنٹ اور کھیل آرگنائزننگ کمیٹی کے چیئر مین سریش کلماڑی کو کرپشن کے معاملے میں جیل جانا پڑا۔ ٹو جی گھوٹالے میں تو کئی نامی گرامی لیڈر، افسرتہاڑ جیل گئے۔ تہاڑ وی آئی پی جیل بن گئی۔ جنتا پارٹی کے نیتا سبرامنیم سوامی نے ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے کردار کو عدالت میں چنوتی دی ہے۔ چدمبرم جنہوں نے مضبوطی سے اپنا کام شروع کیا تھا سال ختم ہوتے ہوتے وہ ایک بہت کمزور ،لاچار اور منہ لٹکائے وزیر داخلہ ثابت ہوئے۔ ابھی تو عدالت میں جاری کارروائی کا نتیجہ سامنے آنا ہے۔کیش فار ووٹ معاملے میں راجیہ سبھا ایم پی امرسنگھ و بھاجپا کے سابق ایم پی مہاویر بھگوڑا اور پھگن سنگھ کلستے کو تہاڑ جیل جانا پڑا۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے کالی کمائی اور کرپشن کو لیکر ملک گیر دورہ کیا۔راجستھان میں بھنوری دیوی کا معاملہ سارے سال سرخیوں میں رہا۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی طاقت کا پہلی بار اس بار احساس ہوا۔ مشرقی وسطیٰ کے کئی ملکوں میں عوامی انقلاب کا آغاز ہوا اور کئی ملکوں میں تبدیلی اقتدار ہوئی۔ یقینی طور سے سال 2011ء سوشل میڈیا کے لئے میل کا پتھر رہا۔ فیس بک کے لئے تو وہ بیحد خاص تھا۔ سوشل میڈیا کی شکل میں عام آدمی کے ہاتھوں میں آئی اس توپ کا دھماکہ 2011ء میں سنائی دے چکا ہے۔ اور آنے والے برسوں میں یہ اور طاقتور ہوگی۔ کل ملاکر کئی معنوں میں گذرا یہ سال اہمیت کا حامل رہا۔ میں اپنی اور اپنے تمام ساتھیوں کی جانب سے آپ کو نئے سال کی نیک خواہشات پیش کرتا ہو اور اوپر والے سے پرارتھنا کرتا ہوں کہ سال2012 سب کے لئے منگل مے رہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Happy New Year, Roundup 2011, Vir Arjun

30 دسمبر 2011

لوکپال بل کا یہ حشر ہوگا سبھی کو معلوم تھا


Published On 30th December 2011
انل نریندر
حقیقت تو یہ ہے کہ لوکپال بل کو لیکر نہ تو منموہن سرکار سنجیدہ تھی اور نہ ہی اپوزیشن۔ ہمیں تو لگتا یہ ہے کہ حکومت اور کانگریس پارٹی لوکپال بل کو صرف لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پیش کرنا چاہتی تھی۔ پاس ہو جاتا تو بھی ٹھیک تھا نہ ہوتا تو بھی ٹھیک تھا۔ زور زبردستی سے لوک سبھا میں اس کو پاس کروالیا لیکن آئینی درجہ دلوانے میں وہ نا کام رہی۔ ادھر اپوزیشن کا کبھی بھی ارادہ اسے پاس کرانے اور آئینی درجہ دلانے کا نہیں تھا اس لئے اس نے بحث میں حصہ تو لیا لیکن ووٹنگ کے وقت بٹن نہیں دبایا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور مارکسوادی پارٹی کو لوکپال کے موجودہ خاکے پراعتراض تھا اور اس نے لوکپال کی بنیادی شکل میں کچھ ترامیم چاہیں لیکن حکومت ان ترمیمات کو نہیں مانی اس لئے اپوزیشن نے بل کی حمایت میں ووٹ نہیں دیا۔ کانگریس اب یہ کہہ رہی ہے کہ ہم نے تو لوکپال بل پاس کروادیا ہے لیکن بھاجپا نے حمایت نہ کر اپنے آپ کو بے نقاب کرلیا ہے۔ بھاجپا کا کہنا ہے کہ ایسے بے اثر لوکپال بل کی حمایت کرکے ہمیں اپنی ناک تھوڑی ہی کٹوانی تھی۔ ہم ایسے کھوکھلے لوکپال بل کی حمایت کیسے کرسکتے ہیں؟ کانگریس کامقصد موثر لوکپال لانے کا نہیں تھا وہ تو بس پارلیمنٹ میں اسے پیش کرنا چاہتی تھی تاکہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں اس کا پارٹی کوفائدہ ملے تاکہ وہ عوام کے درمیان یہ کہہ سکے دیکھو ہم تو لوکپال لے آئے لیکن بھاجپا نے بٹن نہیں دبایا اور اپنے آپ کو بے نقاب کرلیا ہے۔ لوک سبھا میں جس طرح سرکار کی اس بل کو آئینی درجہ دینے کی کوشش میں کرکری ہوئی اس سے بھی زیادہ کرکری راجیہ سبھا میں ہوسکتی ہے۔ اس ایوان میں تو اپوزیشن کا بول بالا ہے۔ کانگریس اور ان کی ساری ساتھی پارٹیوں کی تعداد 99 بنتی ہے۔ 8 نامزد ہوتے ہیں اور 6 آزار ہوتے ہیں تو اگر ان کو بھی ملالیں تو تب بھی کانگریس کو ہار کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اپوزیشن کے کل ممبروں کی تعداد131 ہے اور ان میں ایسی پارٹیاں ہیں جو کسی بھی حالت میں حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتیں اس لئے راجیہ سبھا میں بھی سرکار اس بل کو آئینی درجہ نہیں دلوا سکتی۔ اس پورے معاملے کو کیسے دیکھا جائے؟ ایک نکتہ نظر سے سوائے دو تین نکات کے باقی میں تو کامیابی مل رہی ہے۔ جو کام پچھلے 40 سالوں میں نہیں ہوسکا وہ پہلی بار یہاں تک پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ٹھیک ہے کہ جس مقصد سے انا ہزارے نے اپنی تحریک چلائی تھی اس کا بھی مقصد پورا نہیں ہوا۔ لوک سبھا میں نمبروں کے کھیل میں اگنی پریکشا کے بعد سرکاری لوکپال کی تصویر بدل چکی ہے۔ ترمیمات کے ساتھ راجیہ سبھا کی مہر کا جنتا کو بے صبری سے انتظار ہے۔ لوکپال اب نہ تو آئینی ادارہ ہوگا اور نہ ہی اس کے ذریعے لوک آیکت کی تقرری ریاستوں کے لئے ضروری ہوگی۔ لوکپال میں ممبران کے خلاف شکایت پر کارروائی کو لیکر لوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا چیئرمین کی رپورٹ کے تقاضوں پر سخت احتجاج کے بعد سرکار نے اسے واپس لے لیا۔ بدلے ہوئے تقاضوں کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف کسی شکایت کی جانچ شروع کرنے کیلئے 9 نفری لوکپال میں اب دو تہائی ممبروں کی رضامندی ضروری ہوگی۔ پہلے اس کے لئے تین چوتھائی ممبروں کی منظوری کی بات کہی گئی تھی۔ لوکپال بل کا ٹکراؤ کا سب سے بڑا نکتہ رہا لوک آیکت کی تقرری میں ریاستوں کے اختیارات پر قبضے کا۔ صوبوں میں لوک آیکت کے قیام کی پابندی ختم کر اسے متبادل بنانے کی بات بھی سرکار کو ماننی پڑی۔ لوکپال کے دائرے سے مسلح افواج کو بھی باہر کردیا گیا ہے۔ گویا 40 برسوں سے دیش کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہا لوکپال پر اب زیادہ اپوزیشن ٹکراؤ کے موڈ میں نظر نہیں آرہی ہے۔ وہ تو بھلا ہو انا ہزارے اور ان کے انشن کی تحریک کا کہ بدعنوانی پر پہلی بار عام آدمی کے تیور چڑھے اور لوکپال قانون عوام کی آواز کا حصہ بن گیا۔اب سرکار لوکپال بل راجیہ سبھا میں پاس کرانے کے بجائے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا سکتی ہے۔ یہ راستہ بھی سرکار کے لئے آسان نہ ہوگا کیونکہ ایک تو وہ آئینی طور طریقوں کا سوال کھڑا ہوتا ہے اور دوسرے سرکار کی اتحادی پارٹیوں کی ناراضگی بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یہ عجب ہے کہ خود حکمراں سرکار میں سانجھیدار سیاسی پارٹی لوکپال کے موجودہ شقوں سے متفق نہیں۔ ترنمول کانگریس کو اب لگ رہا ہے کہ یہ بل ریاستوں کے اختیارات پر قبضہ کرنے والا ہے۔ لوکپال کو آئینی درجہ نہ حاصل ہوپانے کیلئے مخالف پارٹیوں میں ناراضی پیدا ہورہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمراں فریق کو پہلے اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ کیا ان کی ساتھی پارٹیاں پوری طرح اس مسئلے پر ان کے ساتھ ہیں؟ لوک سبھا میں بحث کے رنگ دیکھ کر تعجب ہوا کے دیش کی بنیاد کھود رہے کرپشن کے خاتمے کو لیکر ہمارے جمہوری نظام کے سپریم ادارے اتنی کشیدگی میں کیوں ہیں؟ ایسی دلیلیں گڑھی جارہی ہیں۔ ایک اثر دار لوکپال ہماری جمہوریت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جو توانائی کرپشن کے خاتمے کے انتظام ڈھونڈنے میں لگنی چاہئے اسے انا کی سول سوسائٹی کو نشانہ بنانے میں کیوں خرچ کی گئی۔ یہ بھی تعجب ہوا کہ سخت ہدایات جاری کرنے کے باوجود حکمراں پارٹی کے دو درجن سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ کیسے عین موقعے سے لوک سبھا سے غائب ملے اور اپنی ہی سرکار کی کرکری کروانے کے لئے ذمہ دار بنے۔ ان میں خود کانگریس کے قریب ڈیڑھ درجن ایم پی شامل ہیں۔ دیش جس اشو پر جل رہا ہے اس پر ہمارے نمائندے کیا اتنے غیر ذمہ دار ہیں کہ اسے لوک سبھا میں لوکپال بل پاس ہوجانے کا دباؤ کہیں یا پھر غیر متوقع حمایتیوں کی بھیڑ نہ جٹانے پانے کا اثر۔ بدھوار کو انا ہزارے نے اپنا انشن بیچ میں ہی توڑدیا۔ یہ ہی نہیں انہوں نے30 دسمبر سے ممبران پارلیمنٹ کے گھروں پر اپنا مجوزہ دھرنا اور جیل بھرو تحریک بھی ملتوی کردی۔ تحریک سے اس طرح پیچھے ہٹنے کو ٹیم انا کا حوصلہ ٹوٹنے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ انا ممبئی میں تین دن کے انشن پر بیٹھے تھے۔ حالانکہ انہیں پہلے ہی سے بخار کی شکایت تھی لیکن وہ اپنے انشن کے فیصلے پر اڑے رہے۔ اس کے بعد کئی بار ان کی حالت کافی بگڑی اور ڈاکٹروں اور ساتھیوں نے ان کا انشن ختم کرانے کیلئے صلاح دی تھی لیکن وہ انکار کرتے رہے۔ بدھ کی شام انا نے اسٹیج پر آکر لوگوں سے خطاب کیا اور اسی دوران اپنا انشن توڑنے کا اعلان کیا۔ انا نے کہا ''سنسد میں جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔ اب ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے ہم اب نیا پروگرام بنائیں گے اور ریاستوں میں جا کر کرپشن کے خلاف عوامی بیداری مہم چلائیں گے۔ لوگوں کو بتایا جائے گا کہ موجودہ حکومت نے کس طرح دیش کی جنتا کے ساتھ دھوکہ کیا ہے''۔ لوکپال بل کا یہ حشر ہوگا اس کا ہمیں پہلے ہی سے اندازہ تھا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Congress, Daily Pratap, Lokpal Bill, Manmohan Singh, Parliament, Vir Arjun

بھاگوت گیتاپر پابندی کی تلوار ہٹی


Published On 30th December 2011
انل نریندر
روس میں مقیم ہندوؤں نے ایک بڑی قانونی لڑائی جیت لی ہے۔ روسی صوبے سائبیریا کے شہر تومس کی ایک عدالت نے ہندو دھرم گرنتھ شری مد بھاگوت گیتاکے روسی ایڈیشن پر پابندی عائد کرنے سے متعلق دائر عرضی کو خارج کردیا۔عدالت کے اس فیصلے سے روس سمیت دنیا بھر کے ہندوؤں اور ہندوستانیوں میں خوشی کی لہر دوڑنا فطری ہی تھی۔ فیصلے سے خوش روسی ہندو کونسل کے چیئرمین اور اسکون کے لیڈر سادھو پریہ داس نے بتایا کہ چھ مہینے تک چلے قانونی داؤ پیچ کے بعد ہم جیت گئے۔ جسٹس نے گیتا پر پابندی عائد کرنے کے لئے دائر عرضی میں کہا گیا تھا کہ بھاگوت گیتا کے روسی زبان کے ایڈیشن میں تہذیبی تلخی بڑھانے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے تئیں نفرت پھیلائی گئی ہے اور گیتا کے روسی ایڈیشن کو ایک مشتعل مواد میں شامل کیا جائے۔ اس کو عدالت نے نہ مانتے ہوئے عرضی کو خارج کردیا۔ اسکون کی طرف سے دلیل دی گئی تھی کہ بھاگوت گیتا ہندو دھرم کی ایک مقدس کتاب ہے اور اس مترجم ایڈیشن میں بھکتی ویدان سوامی پربھو پت کی اپنی رائے ہیں۔ اسکون کے ممبران نے الزام لگایا کہ روس کا آرتھوڈکس چرچ عدالتی معاملے میں پیچھے ہے اور وہ ہماری سرگرمیوں پر پابندی چاہتا ہے۔ فیصلے پر وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے کہا کہ ہم اس حساس مسئلے پر ذمہ دارانہ طریقے پر اس حل کی قدر کرتے ہیں اور معاملے کے خاتمے کا خیر مقدم بھی۔ ان کا کہنا ہے بھارت روس میں اپنے سبھی دوستوں کی تعریف کرنا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے یہ نتیجہ ممکن ہوسکا ہے اور اس معاملے میں اتحاد یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اور روس کے لوگوں کو ایک دوسرے کی تہذیب کی گہری سمجھ ہے اور ہمارے معاشرے کی سانجھہ اقدار کی اہمیت کو کم کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہمیشہ خارج کریں گے۔ہم روس کی عوام اور روس کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس بلا وجہ کی بحث کو ختم کرنے میں انہوں نے ہماری مدد کی ۔جے شری کرشن۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Russia,

29 دسمبر 2011

مایاوتی کو رائٹ آف کرنا بھاری بھول ہوگی



Published On 29th December 2011
انل نریندر
اترپردیش اسمبلی چناؤ کی تاریخوں کے اعلان سے یوپی کی تمام اپوزیشن پارٹیوں میں جوش آگیا ہے۔ سب اپنی اپنی ہانکنے میں لگ گئے ہیں۔ حکمراں بہوجن سماج پارٹی کو تو انہوں نے مان لیا ہے کہ وہ آنے والے چناؤ میں منہ کی کھا جائیں گی۔لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ مایاوتی کو ایک خاتمہ فورس مان کر چلنا سمجھداری ہوگی۔ اندازے بھلے ہی مایاوتی سرکار کے بارے میں انتظامیہ مخالف ماحول کے لگائے جارہے ہوں لیکن بنیاد پر بسپا اتنی کمزور نہیں ہے جتنی اسے کانگریس، سپا اور بھاجپا مان کر چل رہی ہیں۔ مایاوتی نے اپنی چناؤ تیاریاں ایک سال پہلے سے ہی شروع کردی تھیں۔ صوبے کی سبھی403 سیٹوں پر بسپا نے اپنے امیدوار ڈیڑھ سال پہلے ہی طے کردئے تھے یہ الگ بات ہے کہ بہن جی نے ان میں سے کچھ کو بعد میں بدلا ہے۔ کانگریس ، سپا اور بھاجپا کوتو اپنے امیدوار فائنل کرنے میں ہیں بھاری دقتیں آرہی ہیں اور ان میں بغاوت کی حالت بنی ہوئی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بہن جی اس بار ووٹروں کے سامنے اپنی کسی ناکامی کا بہانا نہیں بنا پائیں گی۔معجزہ پیش کرتے ہوئے ووٹروں نے 2007 کے چناؤ میں بسپا کو206 سیٹیں دے کر واضح اکثریت دلا دی تھی۔ اسی کے دم پر مایاوتی حکومت نے اپنی میعاد پوری کی ہے۔ جبکہ ان سے پہلے تین سرکاریں نہ صرف اپنی میعاد پوری کرپائیں بلکہ بھاجپا کی حمایت پر ٹکی رہیں۔ اس بار مایاوتی کو پورے پانچ سال تک کام کرنے کی کھلی اجازت ملی ہوئی تھی اس لئے وہ ووٹروں سے اپنے کام کی بنیاد پر ہی ایک اور موقعہ پانے کی اپیل کریں گے۔ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے بیشک راہل گاندھی اپنے مشن 2012 کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ۔ یوپی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کانگریس کی زیادہ پوزیشن ہوائی ہے۔2009 کے لوک سبھا چناؤ میں21 سیٹوں پر کامیابی مل جانے سے کانگریس یہ خوش فہمی میں بیٹھی ہے کہ یوپی کے ووٹر آنے والے 1989 سے پہلے کی مضبوط مینڈیڈ پوزیشن میں لادیں گے لیکن کانگریس اس سچائی کو نظر انداز کیسے کرسکتی ہے کہ 2009کے لوک سبھا چناؤ کے بعد جتنے بھی اسمبلی کے ضمنی چناؤ ہوئے ہیں ان میں کانگریس ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ کہیں دوسرے نمبر پر رہی تو کہیں تیسرے نمبر پر۔ شاید یہ جانتے ہوئے کہ پارٹی نے اجیت سنگھ کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ان سے چناوی تال میل کیا اس تال میل سے اجیت سنگھ کی پارٹی کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ کانگریس کی پوزیشن تو وہیں کی وہیں رہنے کا امکان ہے۔ مایاوتی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مسلسل کانگریس پر حملے کررہی ہے۔دراصل وہ چاہتی ہیں کہ ووٹروں کو لگے کہ مقابلہ بس بسپا اور کانگریس کے درمیان ہے۔ بھاجپا اور سپا دونوں کو جان بوجھ کر مایاوتی نظر انداز کررہی ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اصل ٹکر بسپا اور سپا کے درمیان ہوگی۔ پچھلے چناؤ میں بسپا کو206 ، سپا کو2 ، بھاجپا کو51، کانگریس کو22 راشٹریہ لوک دل کو 10 سیٹیں ملی تھیں۔ ملائم کو کمزور کرنے کے لئے مایاوتی اسی حکمت عملی پر چل رہی ہیں۔ مسلمان ووٹ یکمشت کسی کو نہ ملے۔ سپا سے ٹوٹ کر یہ یا تو ان کے ساتھ آیا تھا یا پھر کانگریس کے ساتھ چلا جائے۔ ویسے اس بار پیس پارٹی بھی اپنے دم خم کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ یقینی طور سے وہ مسلمان ووٹوں پر منحصر کرے گی۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اس مرتبہ مسلم ووٹ یکمشت کسی پارٹی کو شاید ہی ملیں۔ جہاں تک بسپا کے پختہ ووٹ بینک کا سوا ل ہے ہمیں نہیں لگتا کہ یہ کہیں اور جانے والا ہے۔''سرو جن ہتائے سرو جن سکھائے'' کا بہن جی کا نعرہ بھلے ہی بڑی ذاتوں کو راغب کرنے کے اندیشے سے اس بار اتنا کامیاب نہ رہے۔ دلت اور انتہائی پسماندہ طبقات آج بھی ان کے ساتھ ہیں کیونکہ مقابلہ کثیر پارٹی ہوگا اس لئے جس کو بھی مسلم ووٹ یکمشت ملے گا وہی جیت جائے گا۔ لیکن ایک دو علاقے ہیں جہاں ضرور بسپا کمزور پڑرہی ہے۔ پہلا تو ان کی پارٹی میں زبردست کرپشن ہے، جس کے چلتے مایاوتی کو بہت سے وزرا اور موجودہ ممبران اسمبلی کے ٹکٹ اور کرسیاں چھیننی پڑی ہیں۔ اس سے انہیں نقصان ہوسکتا ہے۔ بسپا اپنی سرکار کی بدعنوانی کو معاملوں کی قراردے کر ہلکا کرنے کی کوشش میں ہے لیکن انا کی تحریک کا اتنا اثر ضرور ہوا ہے کہ آج پورے دیش میں ایک بدعنوان مخالف ماحول بن گیا ہے۔ بابا رام دیو بھی اس بار یوپی میں دبا کر پرچار کریں گے۔ اس کا خمیازہ کانگریس کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ کل ملاکر بہوجن سماج پارٹی بیشک آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے سرکار اپنے بوتے پر نہ بنا سکے لیکن اس میں ہمیں تو کوئی شبہ نہیں بسپا یوپی اسمبلی چناؤ2012 میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئے گی۔
Ajit Singh, Anil Narendra, Baba Ram Dev, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Daily Pratap, Mayawati, RLD, Samajwadi Party, Vir Arjun

ماتا ویشنودیوی کی بڑھتی مہما:ایک کروڑ افراد کریں گے درشن



Published On 29th December 2011
انل نریندر
ماتا ویشنو دیوی کی آستھابڑھتی جارہی ہے۔حالانکہ یہ سفر آسان نہیں لیکن اس سے ماتا کے بھکتوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ شمالی ہندوستان کا یہ یقینی طور سے سب سے بڑا تیرتھ استھل بن گیا ہے۔2011 میں یہاں شردھالوؤں کی تعداد ایک کروڑ کو پار کر گئی۔ حالانکہ ویشنو دیوی بور ڈ کو پچھلے سال یہ تعداد پارکرنے کی امیدتھی لیکن یہ تعداد87 لاکھ افراد کے ریکارڈ پر ہی تسلی کرنا پڑی لیکن اس سال یہ تعداد 31 دسمبر تک ایک کروڑ تک پار کرلے گی۔ یہ تب ہے جب اس وقت کشمیر کے ساتھ ساتھ کٹراور ویشنودیوی میں کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہے۔ سال کے آخری ہفتے میں اتنی بھیڑ تو ہوتی ہے شردھالوؤں کے لئے رہنے کی جگہ کم پڑ جاتی ہے۔بیشک بورڈ نے سارے راستے بھاری انتظام کئے ہوئے ہیں لیکن پہاڑی علاقہ ہونے کے سبب انتظامی مشکلیں تو آتی ہی ہیں۔ بھاری سردی، بارش کے سبب پھسلن بھی ماتا کے بھکتوں کے قدم نہیں روک پا رہی ہے۔ یہ اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ ابھی بھی یومیہ 15 سے16 ہزار شردھالو درشن کے لئے آرہے ہیں۔ ویسے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے حکام کو سردی کی چھٹیوں میں اس بھیڑ میں اضافہ ہونے کی امید ہے اور اسی امید کے ساتھ یہ بھی امید بندھ گئی ہے کہ اس یاترا کا نیا ریکارڈ بنے گا۔ ویسے تو یہ ریکارڈ پچھلے سال ہی بن جاتا لیکن پچھلے سال وادی میں بدامنی ، پتھر بازی وغیرہ کے واقعات سے شردھالو بہت ڈرے ہوئے تھے اور یہ نہیں سمجھ پائے کہ کشمیر وادی کے حالات کا کٹڑا ویشنو دیوی پر اثر نہیں پڑتا۔ پھر کئی بار یہ وارننگ بھی دی گئی کہ ویشنو دیوی آتنکیوں کے نشانے پر ہے۔ اس وارننگ نے بھی شردھالوؤں کے بڑھتے قدموں کو روکا۔ لوگوں نے اپنی طے یاترا منسوخ کردیں۔ لیکن اس سال ایک کروڑ شردھالوؤں کی تعداد پار کرنے سے شرائن بورڈ میں کافی جوش ہے اور ہونا بھی چاہئے مسافروں کی سہولت میں ہمیشہ بہتری پر گامزن شرائن بورڈ نئی نئی اسکیمیں لا رہا ہے ان میں ایک ہے کٹڑا بیس کیمپ۔کٹڑا بیس کیمپ سے لیکر ویشنو دیوی بھون اور بھون سے لیکر بھیرو وادی تک ٹرالی کی اسکیم پرکام چل رہا ہے۔ اس سے ان مسافروں کو سہولت ہوجائے گی جو عمر یا بیماری کی وجہ سے پہاڑ پر نہیں چڑھ سکتے۔ اس کے ساتھ ہی کٹڑا سے لیکر بھون تک کے13 کلو میٹر کے راستے پر سہولیات کو بڑھایا جارہا ہے۔ دراصل بڑھتی بھیڑ کے سبب ہر بار شرائن بورڈ کے انتظامات کم پڑ جاتے ہیں۔ خاص کر گرمیوں کی چھٹیوں، نوراتروں میں بھیڑ کے سبب بورڈ کے افسران کو ہر بار شرمندہ ہونا پڑتا ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ شرائن بورڈ کی تمام کوششوں کے باوجود بھکتوں کی شکایتیں اب بھی برقرار ہیں۔ سب سے زیادہ شکایتیں بھکتوں کی پوتر گپھا کے اندر ماتا کی پنڈیوں کے درشن ملنے کے وقت پر منحصر ہیں۔ بھاری بھیڑ بھاڑ کے سبب پنڈت انہیں اتنا بھی وقت ماتا کے دربار کے سامنے نہیں دیتے کہ وہ اپنے دل کی مراد سامنے رکھ سکیں۔ اس لئے کچھ بھکت تو گپھا میں گھستے ہی اپنی مراد مانگنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن پنڈوں کو بھی قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ جب بھکتوں کی بھیڑ اتنی زیادہ ہوجائے گی تو انہیں جلد بازی کرنی ہی پڑتی ہے۔ کچھ برس پہلے سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں ماتا ویشنو دیوی قیام بورڈ کے سرکاری ادارہ ہونے کا دعوی کرنے والی ایک خصوصی اجازت عرضی کو خارج کردیا۔ اس کے بعد اب ویشنو دیوی قیام بورڈ ایک غیر سرکاری تنظیم بن گئی ہے اور اس کے خلاف کوئی بھی عرضی نہیں داخل کی جاسکتی۔جے ماتا دی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Jammu Kashmir, Mata Vaishno Devi, Vir Arjun

28 دسمبر 2011

لندن پیرس سے بھی زیادہ ٹھنڈ دہلی میں


Published On 28th December 2011
انل نریندر
دہلی کے شہریوں کو لگ رہا تھا کہ اس سال دہلی میں سردی اتنی نہیں پڑے گی جتنی پڑتی ہے۔ لیکن دیر سے ہی صحیح جب ٹھنڈ اپنے رنگ میںآئی تو اس نے سارے ریکارڈ توڑ دئے۔ گذرتے سال میں اگر آپ لندن ،پیرس یا نیویارک گئے ہوں تو اپنی یادیں تازہ کرلیں۔ اس سال نیا سال منانے کے لئے آپ کو لندن، پیرس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ دہلی میں لندن، پیرس و نیویارک سے زیادہ سردی ہے۔ وہاں گئے بغیر آپ دہلی میں ہی یوروپ کا مزہ اٹھا سکتے ہیں۔ دراصل سورج غروب ہوتے ہی اپنی دہلی بھی انہی شہروں کی طرح ٹھنڈی ہوتی جارہی ہے۔ قومی راجدھانی دہلی میں ایتوار کو کم از کم درجہ حرارت 2.9 ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔ پچھلے 10 سالوں میں دہلی میں سردی کا یہ ریکارڈ ہے۔ دہلی کا کم از کم درجہ حرارت لندن اور پیرس سے بھی کم ہوگیا۔ ان دونوں شہروں میں کم از کم 4 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت رہا۔ یہ اور بات ہے کہ وہاں کا زیادہ تر درجہ حرارت دہلی کی بہ نسبت کم ہوتا ہے۔ لندن میں یہ 7 اور پیرس میں11 ڈگری سیلسیس رہا اس کی وجہ وہاں کی راتیں تو سرد ہیں لیکن دن میں یہ راحت ملنے والی نہیں۔ دہلی میں تو کم سے کم تھوڑی راحت ہے کہ دن کا درجہ حرارت یہاں 19 سے 20 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہتا ہے۔ ہاں دہلی کے شہریوں کے لئے تھوڑے سکون کی بات یہ ضرور رہی کہ ان دنوں کہرے کا زور اتنا نہیں جتنا گذشتہ برسوں میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ دن میں سوریہ دیو کے درشن ہوجاتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ دن کا درجہ حرارت زیادہ ہے یعنی دن میں مزے کی دھوپ سینکئے اور تیار ہوجائے رات میں لندن پیرس کا مزہ اٹھانے کے لئے ۔ یہ سلسلہ اور کتنے دن چلتا ہے دیکھئے۔ دلچسپ اور عجب بات تو یہ ہے کہ نارتھ انڈیاکے میدانی علاقے میں پہاڑوں سے بھی زیادہ سردی پڑ رہی ہے۔ مثال کے طور پرراجستھان کے چورو میں ایتوار کو درجہ حرارت 1.4 ڈگری تھا۔ ہریانہ کے جھجھر میں 0.3 اور حصار میں 0.0 تھا جبکہ امرتسر میں یہ 0.6 رہا۔ ادھر ہماچل کے شملہ میں 6 ڈگری درجہ حرارت تھا۔ نینی تال میں بھی 6 ڈگری اور مسوری میں 4.3 رہا۔اگر ہم یوروپ کی بات کریں تو روم میں 8، لندن میں 7، پیرس میں 5، برلن میں 2 ڈگری سیلسیس رہا۔ موسم کی بھی عجب بازی گری ہے جہاں کرسمس میں برف کی امید ہوجاتی ہے وہاں درجہ حرارت اوپر چڑھ رہا ہے۔ اس کے برعکس ہریانہ کے جھجھر کے کھیتوں میں برف کی دو سینٹی میٹر موٹی پرت جم گئی تھی۔ تقریباً پورے شمالی ہند میں مسلسل سرد ہواؤں سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔سردی کی وجہ سے 131 لوگ مر چکے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی ٹھنڈ سے کوئی راحت ملنے کی امید نہیں ہے۔ ماؤنٹ آبومیں تو ٹھنڈ نے تو 75 سال پرانا ریکارڈ توڑدیا ہے۔ یہاں درجہ حرارت0 سے 4.3 ڈگری نیچے آگئے۔ اس سے یہاں مکانوں کی کھڑکیوں ، کاروں اور شیشوں ، پیڑ کی پتیوں اور جھیل میں برف کی چادر چڑھ گئی ہے۔ لداخ کے لیہہ میں بھی اس موسم کا سب سے سرد ترین دن رہا یہاں0 سے18.2 ڈگری درجہ حرارت نیچے رہا۔ گلمرگ ،پہلگام میں کم از کم درجہ حرارت0 سے8.4 اور 7.4 ڈگری سیلسیس نیچے رہا۔ اترپردیش میں کانپور سب سے ٹھنڈا رہا جہاں درجہ حرارت0.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ پچھلے 24 گھنٹے میں آگرہ میں کم از کم درجہ حرارت1 ڈگری رہا جو عام 7 ڈگری سے کم تھا۔ راجدھانی لکھنؤ کا درجہ حرارت2.9 ڈگری، فیض آباد میں 3.3 ، گورکھپور میں 4.9 ڈگری سیلسیس رہا۔ کیا یہ گلوبل وارمنگ کا اثر ہے؟ اس حساب سے وہ دن بھی آسکتے ہیں جب دہلی میں برف پڑنے لگے گی۔
Anil Narendra, Cold Wave, Daily Pratap, India, London, Paris, Vir Arjun

کیا پاکستان میں آیا سیاسی بھونچال تھمے گا؟


Published On 28th December 2011
انل نریندر
پاکستان کی سیاست نہایت خطرناک دور سے گذر رہی ہے۔ لڑائی اب زرداری یعنی کہ چنی ہوئی سرکار بنام ایک طرف جنرل کیانی ، احمدشجاع پاشاتو دوسری طرف انصاف پارٹی کے عمران خاں کے بیچ چھڑ گئی ہے۔پہلے بات کرتے ہیں زرداری بنام کیانی جنگ کی۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ملک کی فوج کو دو ٹوک وارننگ دے دی ہے کہ فوج خود کو ملک میں اقتدار کا دوسرا مرکز نہ مانے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری سرکار کے خلاف تختہ پلٹ کی سازش رچی جارہی ہے۔ گیلانی نے جمعرات کو ملک میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لئے ناکام رہی فوج کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ ان کا کہنا ہے2008 میں ممبئی حملوں کے بعد ہماری سرکار دیگر اداروں کے ساتھ کھڑی رہی تھی۔ ان کا اشارہ فوج اور آئی ایس آئی کی طرف تھا۔ خبر یہ ہے کہ پاکستان حکومت طاقتور فوجی سربراہ جنرل اشفاق کیانی اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کو ہٹانے پر بھی اب سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ اخبار دی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سرکار کیانی اور پاشا سے نا خوش ہے اور یہ اب کھلا راز ہے۔ کیانی کو تین سال کی سروس میں توسیع دی گئی ہے۔ پاشا کے عہدے کی میعاد پچھلے سال ایک سال کے لئے بڑھائی گئی تھی۔ گیلانی نے یہ بھی مانا کوئی بھی ادارہ دیش کے نظام کے اندر دوسرے سسٹم کی طرح نہیں ہوسکتا۔ اس دیش کا ہر ادارہ وزیر اعظم کے تحت آتا ہے۔ ایسا دعوی کوئی نہیں کرسکتا کہ وہ سرکار کے کنٹرول سے باہر ہے۔ ہم منتخبہ اور پاکستان کی عوام کے چنے ہوئے نمائندے ہیں۔ گیلانی کا صاف اشارہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی طرف تھا ادھر سیاسی مورچے پر پاکستان کے سابق کرکٹر اور تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ عمران خاں نے لاہور ، قصور اور پاکستان کے دیگر شہروں کے بعد اب کراچی میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ عمران نے پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے پاس ایک عظیم الشان ریلی میں ایک بار پھر حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی اور بڑی اپوزیشن پارٹی مسلم لیگ نواز پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اگلے عام چناؤ میں کسی امیدوار کو اس وقت تک ان کی پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملے گا جب تک وہ اپنی جائیداد کے بارے میں اعلان نہیں کرتی یا کرتا۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ پاکستان کو فلاحیت اور اسلامی ملک بنائیں گے۔ ان کی ٹیم میں کسی سفارشی کو جگہ نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ان کی سرکار کی پالیسیاں90 فیصد جنتا کے لئے ہوں گی جن کے تحت ہیلتھ اور تعلیم اور انصاف مفت میں ملے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا زرداری اب زیادہ دنوں کے مہمان نہیں ہیں۔ نواز شریف کو للکارتے ہوئے عمران نے کہا کہ وہ میرے ساتھ میچ کھیلنا چاہتے ہیں تو جلدی کریں۔ ایسا نہ ہو کہ انہیں کسی ٹیم میں بھی جگہ نہ ملے۔ ان کے مطابق وہ آصف زرداری کے ساتھ بھی میچ کھیلنا چاہتے تھے لیکن وہ اب بوڑھے ہوگئے ہیں۔ عمران کو جیسی عوامی حمایت مل رہی ہے اس سے کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل وہ ایک بڑے سیاسی کھلاڑی بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی پہلی بار خفیہ میموگیٹ دستاویز کی اصلیت کو مانتے ہوئے اسے فوج کے ساتھ ہی قومی سلامتی کے خلاف سازش قرار دے کر اس پورے معاملے کی گہری جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا میں شائع خبروں میں کہا گیا ہے کہ کیانی نے یہ تبصرہ سپریم کورٹ میں دائر اپنے جواب میں کیا ہے۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا نے الگ سے دئے گئے جواب میں کہا کہ وہ خفیہ میمو گیٹ کے بارے میں بھی منصور اعجاز کی طرف سے دئے گئے ثبوتوں سے مطمئن ہیں۔ کیانی نے کہا کہ خفیہ میموگیٹ کی سچائی سامنے آنی چاہئے جو کہ امریکی فوج کو بھیجا گیا تھا۔ جی او نیوز چینل نے کیانی کے حوالے سے کہا کہ اس پورے معاملے میں پاکستان کی سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ خفیہ میموگیٹ کا مقصد ان فوجیوں کے حوصلے کو متاثر کرتا تھا جو جمہوریت ،آزادی اور قومی سلامتی کے لئے قربان کررہے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں آیا بھونچال اب تھمنے والا نہیں لگتا۔ سیاست کے نظریئے سے آصف زرداری ،گیلانی کی سرکار بہت کمزور وکٹ پر ہے؟ اسے ایک طرف عمران خاں سے خطرہ ہے تو دوسری طرف نواز و دیگر سے۔ کٹر پسند پارٹیاں بھی اس کے امریکی پریم سے ناراض ہیں۔ دوسری طرف جنرل کیانی اور جنرل پاشا ہر حالت میں زرداری کو ہٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ حالانکہ کیانی یہ بھی کہہ رہے ہیں ان کا تختہ پلٹ کا کوئی ارادہ نہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ پاکستان میں جمہوری نظام کو تو برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن زرداری کو ہٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔
Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, General Kayani, Pakistan, Vir Arjun

27 دسمبر 2011

لو بچھ گئی ہے 5 ریاستوں میں چناوی بساط


Published On 27th December 2011
انل نریندر
دیش کی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے والی اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں بچھ گئی ہے چناؤ کی بساط۔ سنیچر کو چناؤ کمیشن نے پانچوں ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے۔ اترپردیش میں پانچ مرحلوں میں چناؤ ہوں گے۔ یہاں 4-8-11-15-19-23 اور 28 فروری کو چناؤ ہوگا جبکہ اتراکھنڈ اور پنجاب میں ایک ہی مرحلے میں 30 جنوری کو پولنگ ہوگی۔ گوا میں 3 مارچ اور منی پور میں28 جنوری کو پولنگ کرایا جائے گا۔ پانچ ریاستوں کے چناؤ کی گنتی ایک ہی دن4 مارچ کوہوگی۔ چناؤ کمیشن کے ذریعے طے کردہ پانچ ریاستوں کی تاریخوں سے کانگریس پارٹی تو خوش ہوگی۔ اسے مرکزی حکومت کے ذریعے اعلان کردہ حالیہ عوام کو لبھانے والی اسکیموں کا فائدہ ملنے کی امید ہے اور سردی کا موسم ہونے کے چلتے ساگ سبزی اور دوسری غذائی چیزوں کے دام کم ہوجانے کا بھی فائدہ اسے ملتا نظر آرہا ہے۔ منی پور اور گوا جیسے چھوٹے راجیوں میں اسے اقتدار مخالف مینڈیڈ کا سامنا کرنا ہے۔ وہیں پنجاب ،اتراکھنڈ میں وہ حکمراں پارٹیوں کی اکیلی متبادل بن کر سامنے آسکتی ہے یعنی اقتدار مخالف ووٹوں کا اسے براہ راست فائدہ ملے گا۔ اگرچہ منی پور، گوا میں حکومت ہونے پر اسے نقصان ہوتا ہے تو اس کی کچھ حد تک بھرپا ئی وہ پنجاب اور اتراکھنڈ میں کر سکتی ہے۔ منی پور ،گوا کے مقابلے میں یہ دونوں ریاستیں زیادہ سیاسی اہمیت نہیں رکھتیں۔کانگریس صدر تو یہاں تک کہہ چکی ہیں کہ پنجاب، اتراکھنڈ میں ان کی پارٹی اقتدار میں آئے گی۔ اصل سوال تو اترپردیش کا ہے۔ یہاں کسی طرح کھوئی ہوئی اپنی زمین واپس حاصل کرنے کی کوشش میں لگی دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا کی چناوی تیاریاں باقی ریاستوں سے پچھڑی ہوئی ہیں۔ خاص طور سے پنجاب اتراکھنڈ میں جہاں دونوں پارٹیوں کا سیدھا مقابلہ ہے یہاں دونوں پارٹیاں ابھی تک اپنے امیدواروں کا انتخاب تک نہیں کرسکیں۔ دراصل چناوی کلینڈر کے لحاظ سے پنجاب ،اتراکھنڈ میں پہلے چناؤ ہونے تھے لیکن سبھی نے بھانپ لیا تھا کہ اترپردیش میں بھی وقت سے پہلے چناؤ ہوسکتے ہیں یہ ہی وجہ ہے ریاست کی دو بڑی پارٹیاں بسپا اور سپا ہوں یا پھر بھاجپا کانگریس سبھی نے اپنی پوری طاقت اترپردیش میں جھونک دی تھی۔ روڈ شو سے لیکرریلیاں ، الزام تراشیاں، داؤ اور ریاست کی بسپا و مرکزکی کانگریس سرکار کے درمیان عوامی فائدے والے اعلانات کی جنگ قریب تین مہینے پہلے ہی سے چھڑ گئی تھی۔ اترپردیش میں28 فروری تک چلنے والے چناؤ کا اثر مرکزی بجٹ کے پروگراموں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ دراصل گوا چناؤ کے سبب تین مارچ تک نافذ چناؤ ضابطے کے دوران ہی بجٹ اجلاس رہے گا اور 29 فروری تک دونوں ریل اور بجٹ پاس کرنا ضروری ہوتا ہے لہٰذا مرکز کو چناؤ ضابطے کی آنچ سے بچنے کیلئے متبادل راستوں کو تلاشنا ہوگا جس میں ممکنہ ریاستوں کے لئے اعلانات کے چلتے یا برعکس حالات میں ریل اور عام بجٹ پیش کرنے کا وقت یا تاریخ بدلنے کے امکان سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی نے ریاست میں چناؤ کی تاریخوں میں تبدیلی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے جنوری میں اتراکھنڈ میں کڑاکے کی ٹھنڈ ہوتی ہے دوسرا30 جنوری کو شہیدی دوس ہوتا ہے ، اس دن چناؤ کرانا ٹھیک نہیں ہیں۔ اتراکھنڈ میں30 جنوری کو ہی پولنگ ہے جبکہ وہاں کی اسمبلی کی میعاد12 مارچ تک ہے۔ اترپردیش کی موجودہ اسمبلی کی میعاد 20 مئی 2012 ء، پنجاب اسمبلی کی 14مارچ، اتراکھنڈ کی 12 مارچ، منی پور کی 15 مارچ اور گوا اسمبلی کی میعاد14 جون تک ہے۔ عام طور پر اتراکھنڈ کے چناؤ فروری اور ماچ کے پہلے ہفتے میں کرائے جاتے ہیں لیکن اس مرتبہ جنوری میں ہی کرائے جارہے ہیں۔ کانگریس نے یوپی میں ساری طاقت جھونکی ہوئی ہے۔ پارٹی کے دونوں سینئر لیڈر سونیا گاندھی ، راہل گاندھی اسی صوبے سے ممبر پارلیمنٹ ہیں اس لئے جم کر محنت کررہے ہیں۔مغربی اترپردیش میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے پارٹی نے راشٹریہ لوک دل سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ مسلم ووٹوں کو گھیرنے کیلئے پارٹی نے ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن کا کارڈ بھی کھیلا ہے۔ پچھلی بار کانگریس کو12 فیصدی مسلمانوں نے ووٹ دیا تھا اس مرتبہ یہ تعداد بڑھنے کی امید ہے۔ بنکروں کے لئے موٹا اقتصادی پیکیج، کسانوں کے لئے دو بڑی سنچائی اسکیموں کا اعلان مرکزی حکومت کرچکی ہے اس کا فائدہ بھی اسے ملنے کی امید ہے۔ ایسے میں اسے بڑی ذاتوں خاص کر براہمنوں کو بسپا سے توڑنے میں کامیابیملنے کی امید ہے۔ پارٹی کے دونوں پردیش اور ودھان منڈل کے نیتا براہمن ہیں۔ ریتا بہوگنا جوشی اور پرمود تیواری ٹھاکر نیتا کی شکل میں پردیش کے انچارج ہیں۔ دگوجے سنگھ کانگریس کے ایک طبقے کی یہ مراد پوری کردی ہے کہ جلد ہی چناؤ ہوں۔ اس کا اعلان چناؤ کمیشن نے کرکے پورا کردیا ہے۔
ہر برسر اقتدار پارٹی کو اقتدار مخالف فیکٹر کو بنیادی طور سے نمٹنا ہوتا ہے۔ کچھ حد تک بہوجن سماج پارٹی کو بھی نقصان ہوسکتا ہے۔ بہن جی کے ذریعے کافی موجودہ ممبران اسمبلی کو ٹکٹ کاٹنے سے پارٹی میں بغاوت کی پوزیشن بنی ہوئی ہے۔ بسپا کی بنیاد غریب اور کمزور دلت طبقہ ہے۔ اسے آج بھی اس کا پختہ ووٹ مانا جاسکتا ہے۔ کرپشن ، پارک، مورتیاں بنانا بھی بسپا کے خلاف چناوی اشو ہوں گے۔ سپا سپریموں ملائم سنگھ یادو کی پارٹی پہلے سے اچھی پوزیشن میں ہے۔ ان کے نوجوان بیٹے اکھلیش یادو ایک نوجوان لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے دوروں سے پارٹی کے لئے اچھا ماحول بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی اچھی دھاک جمائی ہے۔ مسلم ووٹوں پر اب بھی ملائم سنگھ کی پکڑ برقرار ہے ، راجپوت بھی ان کے ساتھ ہیں۔ بسپا کا مقابلہ ملائم سنگھ ہی کرسکتے ہیں۔ ایسی ہوا بنا کر سپا کو فائدہ ملنے کی امید ہے۔ ملائم کی ملنسار ساکھ حریفوں کو بھاری پڑ سکتی ہے لیکن ان کی تاریخ ان کے خلاف ضرور رہے گی۔ پارٹی تھانے چلاتی ہے، یہ ساکھ ابھی تک ٹوٹنے نہیں پائی۔ مسلمان ووٹوں کا بٹوارہ طے ہے۔ کانگریس ۔ بسپا میں یہ ووٹ بٹے گا۔ ملائم یہ نہیں مان کر چل سکتے کے مسلم ووٹ ایک طرفہ انہیں ملے گا۔ رہی بات بھاجپا کی پارٹی کو امید ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن کے اشو پر ان کے حق میں مخالف ووٹ جائے گا اور سورن ووٹ کا پولارائزیشن ہوگا۔ انا ہزارے کی تحریک کا سب سے زیادہ فائدہ اسے ہی ملنے کی امید ہے۔ راجناتھ سنگھ ، کلراج مشر، اڈوانی کے دوروں سے سرکار مخالف ماحول جوڑنا ہے۔ بھاجپا کو امید ہے کہ چناؤ میں پارٹی کو اس کا فائدہ ضرور ملنے والا ہے لیکن ریاست میں مقامی لیڈروں کی اپنی رسہ کشی پارٹی کو بھاری پڑ سکتی ہے۔ کل ملاکر اب جب پولنگ کی تاریخیں اعلان ہوچکی ہیں سبھی کی ریاست کی سیاست میں تیزی آئے گی۔ کانگریس کے لئے جہاں اترپردیش سب سے بڑی چنوتی ہوگی وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے پنجاب ، اتراکھنڈ میں اپنی سرکاروں کو دوبارہ سے برسر اقتدار لانا ہوگا۔ ویسے اتراکھنڈ میں آج تک کوئی حکمراں پارٹی پھر سے اگلی مرتبہ جیت کرنہیں آئی۔ کیا پتہ اس مرتبہ یہ تاریخ بھون چندر کھنڈوری بدل دیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Goa, Manipur, Punjab, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

سی بی آئی کا سرکار کے چنگل سے نجات پانے کا خواب ٹوٹا


Published On 27th December 2011
انل نریندر
سی بی آئی کے مستقبل کو لیکر حکومت و ٹیم انا اور اپوزیشن آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سی بی آئی پر انا ہزارے کی مانگ مسترد کردی گئی ہے۔ حکومت نے اسے لوکپال کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ سی بی آئی کا کوئی آزادانہ مقدمے میں سیدھے طور پر استعمال کے لئے لوک پال کے دائرے میں نہیں رکھا گیا ہے۔ لیکن لوکپال کرپشن سے جڑے کسی معاملے کی جانچ کی سفارش سی بی آئی سے کرسکتا ہے۔ سی بی آئی آزادانہ پینل قائم کرے گا۔ جس میں وزیراعظم اپوزیشن لیڈر، چیف جسٹس شامل ہوں گے۔ سی بی آئی میں ایس پی و ا س سے اوپر کے اعلی افسروں کی مقرر ایک کمیٹی کرے گی۔ اس میں سی بی سی کمشنر، ہوم سکریٹری، محکمہ پرسنل کے سکریٹری شامل ہوں گے۔ سی بی آئی جانچ کے لئے جانچ ڈائریکٹر کا عہدہ بنایا گیا ہے۔ لوکپال کے مجوزہ خاکے میں سی بی آئی میں گہری مایوسی ہے۔اس سے جانچ ایجنسی کی سرکار کے چنگل سے نجات پانے کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوکپال کے ذریعے سونپے گئے معاملوں میں چارج شیٹ کے لئے پہلے اجازت لینے کی سہولت سے اس کی موجودہ آزادی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ راحت کی بات صرف اتنی ہے کہ تقرری کے عمل میں وزیر اعظم ، اپوزیشن لیڈر اور ہندوستان کے چیف جسٹس کے شامل ہونے سے سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے کا وقار بڑھ گیا ہے۔ ایک افسر کے مطابق ایجنسی کی مختاری کی بات بے معنی ہے۔ سی بی آئی کے حکام کوترقی یا معذولی سے لیکر چھوٹے چھوٹے خرچ تک کے لئے سرکار کا منہ تاکنا پڑے گا۔ ایسے میں جانچ ایجنسی سے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے بنائے گئے لوکپال کے خاکے پر 6 اعتراضات درج کرائے گئے ہیں۔ اسے لیکر سی بی آئی ڈائریکٹر خود وزیر اعظم سے ملے تھے۔ لیکن ان 6 اعتراضات میں تھے ایک پوری اور ایک ادھوری خامی دور کی گئی ہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری میں وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور آئینی ادارے کے چیف کو شامل کرنے کی مانگ پوری کی گئی لیکن ایف آئی آر اور چارج شیٹ داخل کرنے کی مختاری میں جانچ ایجنسی کو سمجھوتہ کرنے کے لئے مجبور کیا گیا ہے اس کے تحت لوکپال کے ذریعے سونپے گئے معاملوں میں سی بی آئی چارج شیٹ کرنے کے لئے آزادنہ ہوگی۔ سی بی آئی کاکہنا ہے جانچ ایجنسی(پولیس یا سی بی آئی) کے افسر معاملے کی چھان بین کرتے ہیں اور چھان بین کی بنیاد پر تفتیشی افسر اپنی قطعی رپورٹ عدالت میں پیش کرتا ہے ۔ یہ رپورٹ چارج شیٹ یا کلوزر رپورٹ دونوں میں سے کچھ بھی ہوسکتی ہے۔ آئی او چھان بین کی بنیاد پر یہ طے کرتا ہے کہ چارج شیٹ ہوگی یا کلوزر رپورٹ۔ لیکن لوکپال بل کی دفعہ20(7) میں یہ سہولت شامل کی گئی ہے کہ اس رپورٹ کو کورٹ میں پیش کئے جانے سے پہلے لوکپال کے سامنے رکھا جائے اور وہ طے کرے گا معاملے میں کیا کرنا ہے۔جبکہ لوکپال سے وابستہ شخص پولیس افسر نہیں ہوگا اور اسی طرح یہ سی آر پی سی کی دفعہ173 کے تقاضوں کے برعکس ہوگا۔ سی بی آئی کے مطابق اسے اقتصادی اور انتظامی مختاری کی ضرورت ہے۔ سی بی آئی ابھی بھی سرکار پر اقتصادی اور انتظامی طور پر منحصر ہے۔ اسی سبب لوگوں میں یہ خیال ہے کہ سی بی آئی کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔ لوکپال بل میں اس کے بارے میں کوئی بھی سہولت نہیں ہے۔ کل ملاکر لوکپال کے موجودہ اور مجوزہ ڈرافٹسے سی بی آئی میں گہری مایوسی ہے اور اس سے جانچ ایجنسی کے سرکار کے چنگل سے نجات پانے کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔
Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Lokpal Bill, Vir Arjun

25 دسمبر 2011

نو سال بعد امریکی عراق سے کھسکے


Published On 25th December 2011
انل نریندر
صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے چھیڑی گئی جنگ کے 9 سال بعد امریکہ کی آخری فوجی ایتوار کی صبح عراق کی سرحد پار کرکویت میں داخل ہوا اور اس کے ساتھ ہی امریکہ کا عراق پر حملہ ایک طرح سے ختم ہوگیا ہے۔ ایک سادہ تقریب میں اپنے فوجی بیڑے کو اتارنے کے ساتھ ہی پچھلے 9 سال سے جاری امریکی فوجی کارروائی کا خاتمہ ہوگیا۔ بدقسمتی دیکھئے کہ جب امریکی فوجیوں کی آخری ٹکڑی عراق چھوڑ رہی تھی اس وقت عراقی فوجی بیرکوں میں سو رہے تھے۔ جن فوجیوں نے 9 سال تک امریکی اتحاد کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر 'دہشت گردی کے خلاف لڑائی ' لڑی تھی انہوں نے شکر منایا کہ امریکی ان کے دیش سے چلے گئے۔ اب امریکی سفارتخانے پر 100 کے قریب سینک ہی بچے ہیں۔ ایک وقت تھا جب عراق میں 505 ٹھکانوں میں تقریباً1 لاکھ70 ہزار فوجی تھے۔ سارجنٹ ہومان آسٹن نے کویت میں اپنی گاڑی سے نکلنے کے بعد کہا کہ عراق سے نکلنا اچھا لگا۔ سابق صدر جارج بش دوئم کے ذریعے 'وار آن ٹریرر اینڈ ڈسٹکشن آف ماسک آف ماسک ڈسٹکشن کمپین' میں قریب ساڑھے چار ہزار قریبی اور ایک لاکھ عراقی لوگوں کی جانیں گئیں۔ اس کے ساتھ ہی اس خطرناک جنگ نے امریکہ کو دیوالیہ بنوادیا اور امریکہ کے خزانے سے800 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ 17.5 کروڑ عراقی بے گھر ہوگئے۔ امریکی فوجیوں کی واپسی کے ساتھ ہی عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی، تشدد اور سیاسی عدم استحکام کی پریشانی ستا رہی ہے۔ امریکہ اپنی پیٹھ ٹھونک رہا ہے۔ امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے کہا کہ امریکی اور عراقی لوگوں کے خون بہانے کے بعد آخر کار عراق کے خود پر حکومت کرپانے اور اپنی سلامتی یقینی کرنے کا مقصد پورا ہوگیا ہے۔ صدام حسین کو تو پھانسی پر لٹکادیا گیا لیکن نتیجہ کیا نکلا؟پہلے سے زیادہ عدم استحکام ہوگیا ہے اور آج دیش میں سیاسی ٹکراؤ کے حالات بنے ہوئے ہیں۔ عراق میں آج بھی سنی ۔شیعہ لڑائی ، نازک اقتدار میں سانجھیداری، بدعنوانی اور کمزور معیشت کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے۔ القاعدہ نے عراق کے فالوجا کو اپنا گڑھ بنا لیا ہے اور وہاں امریکی فوج کی واپسی کا باقاعدہ جشن منایا گیا۔ لوگوں نے امریکی جھنڈے جلائے اور اپنے بدعنوانی رشتے دارو ں کی تصویریں ہوا میں لہرائیں۔ صدر براک اوبامہ نے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کو بتایا کہ واشنگٹن اپنے فوجیوں کی واپسی کے بعدبھی اس کا رائل پارٹنر بنا رہے گا۔ آج تک ہمیں یہ نہیں سمجھ میں آیا کہ بش نے آخر عراق پر حملہ کیوں کیا؟ کہا گیا تھا کہ عراق میں صدام کے پاس تباہی کے ہتھیار ہیں اور ان پر قبضہ کرنا ضروری ہے لیکن 9 سال میں امریکہ ایک بھی ایسا ہتھیار یا فیکٹری نہیں دکھا سکا جس سے یہ الزام ثابت ہوتا۔ نہ تو عراق میں کوئی نیوکلیائی ہتھیار ملا اور نہ ہی وہاں کی عوام کو'' نجات'' ملی۔ اس کے برعکس' حملہ آور فوج' کے خلاف عراق میں بغاوت تب تک جاری رہی جب تک آخری غیر ملکی فوجی نے خاموشی سے ملک نہیں چھوڑا۔ کیا امریکہ کو یہ ڈر تھا کہ جاتے ہوئے فوجیوں پرباغی حملہ کردیں گے؟ حقیقی معنی میں امریکہ یہ جنگ جیت نہیں پایا اور نہ ہی اسے سیاسی کامیابی ملی۔ جو امریکہ کے حق میں کھڑے تھے وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے۔ نئے حکمراں جو درپردہ طور سے امریکہ کی مدد سے اقتدار میں آئے تھے زیادہ دنوں تک امریکہ کے مشورے سے بندھے ہوئے نہیں رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عراق کو امریکہ نے گنوا دیا ہے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ واشنگٹن کبھی بھی بغداد کو جیت نہیں سکا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عراقیوں نے غیر ملکی قبضے کے خلاف لڑائی چھوڑدی ہے۔ کیا یہ مانا جائے کے امریکی فوجی مہم کا بھی وہی حشر ہوا جو ویتنام میں ہوا تھا۔ بیشک آج امریکہ دعوی کرے اس نے یہ جنگ جیت لی ہے لیکن حقیقت یہ ہے امریکہ یہاں بھی جنگ ہارگیا ہے۔ کم سے کم وہ مقصد پورا نہیں کرسکا جس کے لئے وہ عراق گیا تھا۔ عراق کے سامنے شاید آج سب سے بڑی چنوتی دیش میں عدم استحکام لانے کی ہے۔ سیاسی استحکام اور اقتصادی مضبوطی اور یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ امریکی فوجی مہم کے سبب پورے مشرقی وسطیٰ میں کٹر واد کو بڑھاوا ملا ہے۔ القاعدہ کو پاؤں پھیلانے کا موقعہ ملا ہے پھر شیعہ، سنی ، کرد لڑائی تیز ہوئی ہے۔ آج عراق میں اقتدار کے کئی مرکز بن گئے ہیں۔دیکھا جائے تو جنگ کے بعد عراقی قوم پرستی کے نام پر کچھ بھی نہیں بچا ہے بلکہ بٹا ہوا سماج چھوڑ کر امریکی بھاگ گئے ہیں۔ امریکی اپنے پیچھے 30 کرور ڈالر کے ہتھیار عراقی فوج کے ممکنہ استعمال کے لئے بھی چھوڑ گئے ہیں کیونکہ انہیں افغانستان واپس امریکہ لے جانے کا خرچ بہت زیادہ ہوسکتا تھا۔ امریکی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صدر براک اوبامہ نے اپنا وعدہ نبھایا ہے۔ اوبامہ نے چناؤ مہم کے دوران انہوں نے عراق جنگ کے خلاف آپریشن چلایا تھا اور 2012 ء کے صدارتی چناؤ کا سامنا کرنے سے کافی پہلے ہی انہوں نے یہ وعدہ نبھادیا۔ امید ہے کہ عراق میں اس خطرناک فوجی آپریشن کے خاتمے سے امریکی معیشت پر بھی مرہم لگے گی۔ اور اس پر جو بوجھ تھا وہ بھی کم ہوگا۔ امریکی تاریخ میں یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ امریکہ نے عراقی فوجی آپریشن میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ جارج برش جونیئر ہیرو تھے یا ویلن؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Iraq, Labels: America, Obama, USA, Vir Arjun

پاکستان کے ستائے ہندو کنبوں کو ہندوستان میں پناہ کیوں نہیں؟


Published On 25th December 2011
انل نریندر
گذشتہ ہفتے راجیہ سبھا میں پاکستان میں ستائے ہندو کنبوں کا بھارت آنااور یہاں کی شہریت لینے کا معاملہ اٹھا۔قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں بسے ہندوؤں پر وہاں بہت مظالم اور سختیاں ہورہی ہیں۔ آئین کے اندر اپنی سلامتی کو لیکرکافی پریشان ہیں۔ یہ ہندو کنبے ہندوستانی ویزا پر بھارت آئے تھے۔ لیکن اب یہ چاہتے ہیں کہ اپنے دیش میں ہی رہ جائیں۔ اس لئے انہوں نے سرکار سے ہندوستانی شہریت مانگی ہے۔ دہلی ہائیکورٹ میں اس مانگ کو لیکر ایک عرضی بھی دائر ہوئی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے ان 151 پاکستانی ہندوؤں کو پاکستان واپس بھیجنے پر فی الحال روک لگا دی ہے۔ ان کے ویزا تین مہینے پہلے ختم ہوگئے تھے۔ عدالت نے سرکار سے پوچھا ہے کہ انہیں بھارت کی شہریت کیوں نہ دی جائے؟ سرکار کے پاس فروری تک کا وقت ہے اس سوال کا جواب دینے کا۔ لیکن کیونکہ بھارت سرکار کی اس معاملے میں کوئی طے شدہ پالیسی نہیں ہے اور وہ کیس ٹو کیس ہی فیصلہ کرتی ہے اس لئے ان ڈرے کنبوں میں سرکار کے فیصلے کولیکر خدشہ بنا ہوا ہے۔ ہماری رائے میں تو سرکار کو ایسے معاملوں سے نمٹنے کے لئے کوئی ٹھوس نیتی بنانی چاہئے۔ ہندوستانی نژاد دیش واسی جو بیرونی ملک میں رہتے ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب کے کیوں نہ ہوں ،اگر وہ بھارت واپس آکر بسنا چاہتے ہیں تو انہیں ایسا کرنے دینا چاہئے۔ ہو یہ رہا ہے کہ یہ کسی ٹھوس پالیسی کی کمی میں چھوری چھپے غلط راستوں سے واپس آجاتے ہیں اور یہاں ہی رہنے لگ جاتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ایسا پہلے بھی دیکھنے کو ملا ہے۔ جب1971ء کی بنگلہ دیش جنگ کے بعد لاکھوں بنگلہ دیشی ہندو جنہیں شبہ تھا پاکستانی فوج ان کا قتل عام کرے گی۔ افغانستان میں طالبان کے قہر سے بچنے کیلئے سینکڑوں سکھ پریوار بھارت آئے ہیں۔ تبت میں چینی مظالم سے بچنے کے لئے لاکھوں بودھ بھارت آ بسے ہیں۔ ایسے میں پاکستان سے آئے ہندو کنبے بھارت میں کیوں نہیں بس سکتے۔ ہم بھارت سرکار کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ آج کی تاریخ میں لاکھوں کی تعداد میں بنگلہ دیشی مسلمان بھارت میں آکر بس گئے ہیں۔ یہ سب غیر آئینی طریقے سے بسے ہوئے ہیں ان کے راشن کارڈ بھی بن گئے ہیں شناختی کارڈ بھی بن گئے ہیں اور بھارت سرکار میں اتنی ہمت نہیں کہ انہیں باہر نکال سکے۔ کئی مرتبہ عدالتوں میں بھی یہ معاملہ اٹھا ہے لیکن ہر بار دو چار بنگلہ دیشیوں کو نکالنے پرکارروائی رک جاتی ہے۔ ہماری سرکار سے درخواست ہے کہ قسمت کے مارے ان 151 ہندوکنبوں کو جو پاکستان سے اجڑ کر آئے ہیں انہیں بھارت میں بسنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی پھر سے شروع کرسکیں۔ بھارت سرکار نے حالیہ برسوں میں بیرونی ممالک میں بسے ہندوستانی نژاد لوگوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔ سرکار کی منسٹری آف اوور سیز انڈینز کو پہل کرنی ہوگی کیونکہ وہ ہی سب سے رابطے میں ہے اورا نکا دکھ درد سمجھتی ہے۔ وزارت ک ایسی پالیسی بنانی ہوگی جس سے بیرونی ممالک میں بسے ہندوستانی اپنی سرزمین سے ہمیشہ جڑے رہیں اور جب وہ واپس آکر یہاں سیٹل ہونا چاہیں تو انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بہت سے غیر ہندوستانی بیرونی ممالک میں کسی نہ کسی مجبوری کے چلتے ہی جاتے ہیں۔ ہمیں اپنے ہندو، سکھ، مسلم و دیگر کسی بھی مذہب سے وابستہ ہندوستانیوں کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Pakistan, Pakistani Hindu, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...