Translater

07 ستمبر 2013

بھاڑ میں گئی جمہوریت کی پاکیزگیہم سے تو داغی ہی اچھے ہیں!

اگرہمارے دیش میں سیاست اور جرائم کی ملی بھگت توڑنے کا قابل قدر کام کیا ہے تو وہ ہے چناؤ کمیشن نہیں جس کا یہ کام ہے لیکن عزت مآب سپریم کورٹ نے یہ کام کیا ہے۔ دیش کی بڑی عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں دوہرایا ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کو تیار نہیں جس میں سزائے یافتہ ایم پی یا ایم ایل اے کی ممبرشپ سزا ملنے کے ساتھ ہی ختم کرنے کی بات ہے سپریم کورٹ نے 10جولائی کو دواہم فیصلے سنائے تھے ۔ ایک کے تحت عدالت سے قصور وار قرار اور دوسال سے زیادہ سزا پائے ایم پی اور ایم ایل اے کو نااہل قرار دیا گیاتھا جب کہ دوسرے میں جیل یا پولیس حراست سے چناؤ لڑنے پر روک لگادی گئی تھی۔ مرکزی حکومت نے دونوں ہی فیصلوں پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں نظرثانی عرضیا داخل کی گئی تھی بدھوار کو اس پر سماعت کے دوران جسٹس اے کے پٹنائک و جسٹس سدھانشو مکھ اپادھیائے کے بنچ نے قصوروار قرار ایم پی اور ممبران اسمبلی کو نااہل ٹھہرانے والے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے سے انکار کردیا۔ عدالت نے مرکزی سرکار کی عرضی خارج کرتے ہوئے کہاکہ ان کافیصلہ بلکل صحیح اور جواز پر مبنی ہے اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بنچ نے فیصلے کے خلاف سرکار کی طرف سے لائے جارہے بل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکار نے کہ ان کے فیصلے کو مانا ہے تبھی تو وہ نیا قانون لا رہی ہے۔ سرکار قانون میں وہی ضمنی شقات لارہی ہے۔ پارلیمنٹ کو قانون بنانے کا اختیار ہے ۔ عدالت نے تلخق رائے زنی کرتے ہوئے کہاکہ وہ جو قانون میں لکھا ہے صرف اسی کی تشریح کی گئی ہے۔ قانون میں ہی گمراہ کن صورت حال ہے قانون بہت ہلکے ڈھنگ سے لکھاگیا ہے یہ مخصوص قانون تھا اسے سنجیدگی سے بنایا جانا چاہئے تھا۔ عدالت عوامی نمائندگان قانون کی دفعہ 62(5) کی بات کررہی ہے۔ کورٹ کے فیصلے سے تمام سیاسی پارٹیوں میں کھلبلی مچنا فطری ہے کیونکہ دیش کی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں چوتھائی سے بھی زیادہ ممبران ایسے ہے جن پر سنگین جرائم کے مقدمے چل رہے ہیں۔اور سزا پانے کے بعد بھی ممبرشپ کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے کورٹ میں اپیل دائر کی ہوئی ہے دیش کی سست عدلیہ رفتار کو دیکھتے ہوئے انہیں معلوم ہے کہ فیصلہ آتے آتے وہ ممبرشپ کی میعاد پوری کرلے گے۔ بچاؤ کاراستہ بھی پارلیمنٹ نے خود ہی پی آر ایکٹ کے تحت سیکشن 8(4) ترمیم کر نکالا تھا جس پر عدالت نے اعتراض ظاہر کیاتھا یہ قانون بنانے میں پارلیمنٹ نے اپنے دائرے اختیار کے خلاف ورزی کی ہے ۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ جمہوریت کی دن رات وپارلیمنٹ کی وقار رٹ لگانے والی تمام پارٹیاں اس فیصلے کو کوستی نظر آئی۔ اور اسے کورٹ کی مداخلت بتاتی نظر آئی۔ دیش میں پارلیمنٹ ممبران اسمبلی کل تعداد 4835ہے جس میں ایک چوتھائی سے زیادہ قریب 1148لوگ مختلف ملزمانہ مقدمے میں گھیرے ہوئے ہیں ان میں بھی 614ایسے ہے جن پر سنگین معاملے چل رہے ہیں۔ لوک سبھا کے ہی 543 ممبران میں سے 162 کے خلاف معاملے چل رہے ہیں۔ جن میں سے 75کے خلاف انتہائی سنگین الزامات ہے یہی وجہ تھی کہ عدالت اس فیصلے سے پارلیمنٹ میں تمام پارٹیوں میں حیرت انگیز اتحاد کامظاہرہ دکھائی دیا اور بغیر وقت گنوائے نظر ثانی عرضی سرکار نے سپریم کورٹ میں دلوا دی۔ ان عزت مآب ممبران کو نہ تو ضمانت کی پرواہ ہے اورنہ ہی سیاست میں پاکیزگی لانے کی دلچسپی چاروں طرف سے الزامات کی مار جھیل رہی یوپی اے سرکار کو بھی ایوان کی اس اتحاد میں اپنے بچاؤ کاراستہ نظر آیا اور منموہن کیبنٹ نے آنا فاناً قانون میں نئی ترمیم کا مسودہ تک تیار کرا لیا۔جس میں داغیوں کو سہولت بحال رکھنے کی بات کہی گئی تھی عدالت کے تازہ جھٹکے کے بعد سرکار اور ہاؤس اس ترمیم کو لے کر کتنی ہمت دکھاتا ہے پورا دیش اس معاملے کو دلچسپی سے دیکھ رہا ہے۔ سیاست میں پاکیزگی لانے پر کون پارٹی کتنی ایمان دار ہے اس کی قلعی اس فیصلے سے کھلتی ہے تلخق حقیقت تویہ ہے کہ اس معاملے پر حمام میں سبھی ننگے ہیں۔

 (انل نریندر)

جنتا کے گھروں اورمندروںسے سونا نکالنے کا اب پلان

ایک چونکانیوالی خبر آئی ہے روپے کی گراوٹ روکنے کے لئے اٹھائے جارہے اقدامات کو ابھی تک کامیابی نہیں ملی ہے۔اسے میں سرکار کے حکمت عملی ساز اب مندروں کی پناہ میں جانے کی تیاری کررہی ہے وہ ان سے اپناسونا فروخت کرنیکے لئے کہیں گے جس سے ان کی گھروں ضرورت کو پورا کیاجاسکے ۔آر بی آئی کی پابندیوں کے چلتے گولڈ کاایمپورٹ کرنا مشکل ہوگیا ہے وہ دیش واسیوں کے سونے کی مانگ پوری کرنے کے لئے تروپتی اور شیرڈھی جیسے بڑے مندروں سے اپنا سونا بیچنے کی اپیل کرسکتی ہے۔ ریزرو بینک اس کے لئے بینکوں سے بات کررہا ہے وہ ان سے معلوم کررہا ہے کہ مندر ٹرسٹوں کو اس کے لئے کیسے منایا جائے آندھرا پردیش کا تروپتی مندر اور مہاراشٹر میں شیرڈھی سائیں بابا مندر جموں میں ویشنو دیوی مندر ، ممبئی میں سدھی ویانائک مندر،تھیرو اننت پورم پدمانابھر سوامی مندر کے پاس کافی سونا اور قیمتی دھاتیں ہے ان میں سے کئی مندروں ٹرسٹ کا اکاؤنٹ بینک ہی دیکھتے ہیں۔ ریزرو بینک کو امید ہے کہ بینک انہیں اپناسونا جمع کر نقدی میں بدلوانے کے لئے راضی کرسکتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ تھریپورتی، شری پدمانابھی مندر وغیرہ جیسے بڑے مندر اور دیش کے دوسرے امیر مندر کسی بھی حالت میں اپنی املاک کو بیجنا چاہیں گے۔ یہ ہزاروں سال سے کروڑوں اربوں لوگوں کی عقیدت کا سوال ہے جس پر سرکار کا کوئی حق نہیں ہے۔ سرکار کی نظر کیااب لوگوں کے گھروں اورمندروں سے تقریباً سترہزار ٹن سونا نکلوانے کی ہے موجودہ قیمت پر یہ 980-1000ارب ڈالر کاہوگا۔ تری مالا تروپتی دیواستھان کو ہرمہینے 80سے 100کلو گرام سونا اور یا 100سے 200کلو چاندنی چڑھاؤ میں ملتی ہے۔ ہندودیووالے لیبارٹری کمیٹی کے چیف سوامی کملا نند بھارتی نے بتایا کہ تروپتی کے پاس سونے کی اینٹیں اور سکے وزیورات کے طور پر ستر ہزار کروڑروپے کا خزانہ ہے۔
وہ سود کے لئے گولڈ بینک میں جمع کرتا ہے اس نے پچھلے سال دسمبر میں انڈین اوور سیز بینکر میں 493.70 کلو وزن کے زیورات سونے کی اینٹیوں میں بدلنے کے لئے جمع کرائے تھے۔ ٹی ٹی ڈی نے ابھی تک 35.3کلو گرام سونا آئی او بی کے پاس جمع کرایا ہے اس کا ایس بی آئی کے پاس بھی قریب 2275کلو گرام سونا جمع ہے شری پدماناتھ مندر دیش میں بھگوان وشنو کے 108 مندروں میں سے ایک ہے وہاں پائے گئے خزانہ میں سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر پینل 6 خزانہ گاہوں کا تجزیہ کررہا ہے اس میں سے پینل نے ایک بھی ابھی باکس نہیں کھولاہے اندازہ ہے اس مندر میں ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ کی ا ملاک ہوسکتی ہے۔ 
ممبئی کے شری سدھی وینائک ٹرسٹ کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ ہمارے ٹرسٹ پر مہاراشٹر سرکار کے کنٹرول ہے بارہ مہینے ایک بار نیلامی کے لئے سونا رکھتے ہیں یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سرکار اتنی گنگال ہوگئی ہے کہ اب لوگوں کے گھروں اورمندروں سے سونے نکالنے کی کالی سوچ پر اتر آئی ہے ہزاروں کروڑ روپیہ جو غیرملکی بینکوں میں سیاست دانوں اور صنعت کاروں منشیاب سپلائر ہتھیار ڈیلروں کا جمع ہے اس کو کسی کی فکر نہیں کہ اس کو واپس لانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ پہلے ہی جنتا کا آخری سہارا چھیننے پر بھی کیوں تلی ہوئی ہے؟ اس کی سخت مخالفت کی جانی چاہئے۔ 
(انل نریندر)

06 ستمبر 2013

ڈی جی ونجارا کا لیٹربم: الزام ۔درد یا دھمکی؟

گجرات کے وزیر اعلی اور بھاجپا کے امکانی وزیر اعظم عہدے کے امیدوار نریندر مودی گھر اور باہر دونوں جگہ گھر گئے ہیں۔ فرضی مڈبھیڑوں کے معاملے میں 6 سال سے بند گجرات کے اعلی پولیس افسر ڈی جی ونجارا نے منگل کو پولیس سروس سے استعفیٰ دیتے ہوئے مودی سرکار پر سنگین الزام لگائے۔وہیں دہلی میں کانگریس لیڈر اجے ماکن نے تلسی پرجا پتی فرضی مڈبھیڑ میں ہوئے ایک اسٹنگ آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے مودی کا استعفیٰ مانگا ہے۔ پہلے بار ونجارا کے لیڈر بم کی کرتے ہیں۔ ڈی جی ونجارا نے 10 صفحات پر مشتمل ایک خط ریاست کے اپر چیف سکریٹری کو لکھا ہے۔انہوں نے کہا میں مودی کوبھگوان کی طرح مانتا ہوں لیکن انہوں نے میرے ساتھ دھوکہ کیا۔ ونجارا نے نریندر مودی سرکار پر پاکستان نواز دہشت گردی سے لڑنے والے پولیس افسروں کا بچاؤ کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔1987 بیج کے آئی پی ایس افسر ونجارا کبھی مودی کے بہت قریبی مانے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنے استعفے نامے میں کہا کے مبینہ مڈبھیڑوں میں شامل پولیس افسران نے سرکار ی پالیسی پر عمل کیا ہے۔ ایسے میں ان کے بچاؤ کیلئے نہ تو مودی نے کچھ کیا اور نہ ہی امت شاہ نے۔ امت شاہ سابق وزیر داخلہ تھے اور جیل میں بند دیگر 32 پولیس افسروں کے ساتھ انہوں نے دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ وہ مودی کو دیوتا کی طرح پوجتے تھے لیکن وہ امت شاہ کی وجہ سے ان کے بچاؤ کرنے کے لئے کھڑے نہیں ہوسکے۔ غور طلب ہے کہ امت شاہ ونجارا کے ساتھ سہراب الدین شیخ اور تلسی پرجاپتی مڈبھیڑ کانڈ ملزم ہے۔ ونجارا نے پولیس افسروں پر کارروائی کیلئے نریندر مودی کو ذمہ دار مانا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے میں صاف طور پر بتانا چاہتا ہوں کے 2002 سے2007 کے درمیان پولیس افسروں اور کرائم برانچ اے ٹی ایس اور بارڈر رینج کے لوگوں نے گودھرا کانڈ کے بعد پیدا دہشت گردی کے خلاف ریاست کی سرگرم پالیسی پر عمل کیا۔ اب تک میں چپ رہا کیونکہ میرا بھروسہ مودی پر تھا میں انہیں بھگوان مانتا تھا۔ بڑے دکھ کے ساتھ کہہ رہا ہوں کے میرا یہ بھگوان ضرورت کے وقت میرے ساتھ نہیں کھڑا تھا۔ امت شاہ ان کی آنکھ اور کان بنے ہوئے ہیں۔ امت شاہ12 سال سے گمراہ کرتے ہوئے بکریوں کو کتا اور کتوں کو بکری بنا رہے ہیں۔ ونجارا کے دکھ کو ہم سمجھ سکتے ہیں۔ پچھلے چھ برسوں سے وہ اور32 پولیس افسر جیل میں سڑ رہے ہیں۔ نریندر مودی ،امت شاہ کا ان کی طرف توجہ نہ دینانہایت ہی افسوسناک ہے۔ وہ نیتا ہی کیا جوا پنے وفاداروں کی حفاظت اور ان کے دکھ سکھ کو نظر انداز کردے۔ آخر مودی امت شاہ کو ونجارا اور دیگر پولیس افسران کا مقدمہ لڑنے کے لئے اچھے وکیلوں کا انتظام کرنا چاہئے تھا۔ ونجارا نے صحیح کہا کہ وزیراعلی نریندر مودی دیش کا قرض چکانے کی بات کرتے ہیں، اچھی بات ہے یہ ہر ایک ہندوستانی کا فرض ہے لیکن دہلی کوچ کی جلدی میں جیل میں بند افسروں کے تئیں فرض کو نہ بھولیں جن کی وجہ سے ان کے نام کے آگے بہادر جڑا ہے۔ ہمیں بھول کر وہ صرف امت شاہ کی فکر میں لگے ہیں۔ ونجارا نے خط کی ایک کاپی سی بی آئی ڈائریکٹر کو بھی بھیجی ہے۔ سی بی آئی خط کو بطور ثبوت کورٹ میں پیش کرسکتی ہے ساتھ ہی امت شاہ کی ضمانت منسوخ کرنے کی اپیل بھی کرسکتی ہے۔سی بی آئی کو اندیشہ ہے کہ اگر ونجارا عشرت جہاں سمیت دیگر معاملوں میں صحیح جانکاریاں دے تو چل رہے سبھی مقدمے مضبوط ہوجائیں گے۔ ونجارا کے منہ کھولتے ہی نیتا سمیت کئی اور پولیس افسر زد میں آسکتے ہیں۔ عشرت کیس میں جانچ کررہے ایک سینئر افسر نے بتایا کے اب تک ان کے پاس جو اطلاعات آئی ہیں ان کے مطابق ونجارا جیل کی سلاخوں سے پریشان ہیں اور سرکار ان کے بچاؤ میں کچھ نہیں کرپارہی ہے۔ ونجارا کو اب احساس ہونے لگا ہے کہ سرکار ہمیں بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ یہ سی بی آئی سے خود کی کھال بچانے کے لئے مجھے اور میرے پولیس افسروں کو جیل میں بند رکھنا چاہتی ہے۔ ونجارا نے تبھی تو لکھا ہے کہ دنیا جان گئی ہے کہ گجرات میں کئی مڈبھیڑ کے معاملے کو زندہ رکھنے میں پچھلے12 سال سے ریاستی سرکار خوب سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے خط میں کہا کہ یہ سبھی مڈ بھیڑ پوری طرح سابق وزیر داخلہ کے اشارے پر کی گئی تھیں۔ سی بی آئی بھی اپنی جانچ میں اس بات کو کہہ چکی ہے۔ عشرت جہاں کیس میں امت شاہ کا رول مشتبہ ہے۔ کانگریس نے ڈی جی ونجارا کے خط پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ پورے معاملے سے ان کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے۔ دوہرے دباؤ میں مودی کو سی ڈی معاملے سے بڑھتے دباؤ سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے۔ تلسی پرجا پتی مڈ بھیڑ معاملے میں نئی سی ڈی سامنے آئی ہے جس میں دکھایاگیا ہے بھاجپا نیتاؤں نے امت شاہ کو بچانے کے لئے تلسی کی ماں سے کورے وکالت نامے پر دستخط کروائے ہیں۔ اس سی ڈی کے سامنے آنے کے بعد کانگریس نے منگلوار کو نریندر مودی سے استعفے کی مانگ کر ڈالی ہے۔حالانکہ گجرات سرکار نے ونجارا کے الزامات کو مسترد کردیا ہے لیکن اتنا آسانی سے یہ ٹلنے والا نہیں۔ یہ خط اور سی ڈی ایسے وقت آئی ہے جب نریندر مودی کو بھاجپا کے امکانی پی ایم امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی تیاری پوری ہوچکی ہے۔ دیکھیں بھاجپا اور نریندر مودی اس سے کیسے نمٹتے ہیں؟

(انل نریندر)

کیدار ناتھ مندر میں11 ستمبر7 بجے پھر پوجا شروع ہوگی!

جے بابا کیدارناتھ کی! اتراکھنڈ کے وزیر اعلی وجے بہوگنا نے بتایا کے کیدارناتھ میں 11 ستمبر صبح7 بجے سے 11 بجے تک مندر میں پوجا ہوگی۔ یہ پوجا دیوالی کو اکشردھام کے پٹ بند ہونے تک چلتی رہے گی۔ کیدارناتھ یاترا پر30 ستمبر کو ہونے والی میٹنگ میں غور کیا جائے گا۔ سچیوالیہ میں وزیر اعلی وجے بہوگنا کی رہنمائی میں منعقدہ میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مندر کمیٹی 24 لوگوں کی فہرست دے گی۔ یہ مندر کمیٹی کی جانب سے نشاندہی شدہ عہدیداران اور پجاری کیدارناتھ میں پوجا کا کام دیکھیں گے۔ ہر10 دن میں ان کی جگہ پر دوسرے لوگوں کو لگایا جائے گا۔ وزیر اعلی نے سبھی انتظامات چست درست کرنے کے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ خراب موسم سے نمٹنے کے لئے بھی تیاری پہلے ہی کرلی جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کیدارناتھ میں بجلی پانی کی سپلائی ٹھیک ٹھاک کردی گئی ہے۔ کیدارناتھ کو جوڑنے والے پل کو بھی بنا دیا گیا ہے۔ رہنے اور کھانے کا ٹھیک ٹھاک انتظام کیا جارہا ہے۔ بی ایس این ایل کے نیٹورک کو جلد بحال کردیا جائے گا۔ حالانکہ وہاں سیٹیلائٹ فون ٹیم بھی تعینات کی جائے گی۔ مندر کے آس پاس صفائی کا کام پورا کیا جاچکا ہے۔ وہاں بکھری پڑی لاشوں کو دھارمک روایات کے تحت ان کا انتم سنسکار کردیا گیا ہے۔ ستمبر میں صرف پوجا سے جڑے نشان زد لوگوں کو سرکاری ہیلی کاپٹر سے جانے کی اجازت ہوگی۔ خراب موسم کودیکھتے ہوئے دیگر لوگوں کو وہاں جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ ہیلی کاپٹر کی کمرشل پروازوں پر روک رہے گی اور بنا اجازت افراد کو روکنے کے لئے سون پریاگ، گوری کنڈ اور دیگر مقامات پر پولیس کی چوکیاں بنائی گئی ہیں۔ اب کیدارناتھ جانے کے لئے پاس لینا ضروری ہوگا۔ وزیر اعلی نے کہا قدرتی آفت سے متاثر لوگوں کو راحت پہنچانے اور تباہ حال ڈھانچے کو دوبارہ ٹھیک کرنے کے لئے جنگی پیمانے پر کام چل رہا ہے۔ کیدارناتھ میں پوجا دیش واسیوں کی دھارمک بھاونا سے جڑی ہے۔ ابھی پوجا شروع کی جارہی ہے موسم ٹھیک ہونے پر وہاں جوڑنے والے راستوں اور دیگر سہولیات کو بحال کر یاترا بھی جلد شروع کی جائے گی۔ اس دوران کیدارناتھ ٹریجڈی کے بعد عدالتیں بھی کام کرنے لگی ہیں۔ اتراکھنڈ میںآئی ٹریجڈی سے فکرمند سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ میں کوئی بھی نئے گیس بجلی گھر اسکیم پر روک لگادی ہے۔ عدالت نے ایسے پروجیکٹوں سے ماحولیات پر پڑنے والے اثر کا جائزہ لینے کے لئے ایک مخصوص کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت دی ہے۔ سپریم کورٹ نے دھاری دیوی مندر کو منتقل نہ کئے جانے سے متعلق عرضی کو خارج کرتے ہوئے مندر کومنتقل کرنے کی حمایت کی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ مقامی لوگوں کے جذبات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اپنے72 صفحات کے فیصلے میں سپریم کورٹ اتراکھنڈ سرکار اور قدرتی آفات مینجمنٹ کو تین مہینے کے اندر ایک رپورٹ داخل کرکے یہ صاف کرنے کی ہدایت دی گئی ہے کہ کیا اس کے پاس ریاست کیلئے کوئی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اسکیم ہے اور موجودہ غیر متوقع ٹریجڈی سے نمٹنے میں یہ اسکیم کیا کارگر ہے؟ جے بابا کیدارناتھ کی! ویسے سرکار کی کیدارناتھ دھام میں پوجاپر لگی روک اورساکھ پر لگے داغ کو صاف کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ سرکار کی کوشش ہے پوجا کے ذریعے پورے دیش میں یہ پیغام جائے کے دیو بھومی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوگیا ہے۔ اس کے لئے 10 جن پتھ سے بھی روزانہ حالات کا جائزہ لیا جارہا ہے اور 11 سمبر کی پوجا میں کانگریس نائب صدر راہل گاندھی بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

(انل نریندر)

05 ستمبر 2013

برے پھنسے آسارام :اب تو انہیں منتری اور معجزہ ہی بچا سکتا ہے!

نابالغ لڑکی سے آبروریزی کے معاملے میں پیر کو جودھپور کی نچلی عدالت نے آسا رام کو14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ عدالت میں پولیس کی جانب سے ریمانڈ کی میعاد بڑھانے کی مانگ نہیں کی گئی تھی۔ عدالت سے سیدھے آسارام کو جودھپور سینٹرل جیل لے جایاگیا جہاں پہلے سے تیار بیرک نمبر1 میں انہیں رکھا گیا ہے۔ یہ وہی بیرک ہے جس میں اگست2007ء میں کالے ہرن کے شکار کے معاملے میں بالی وڈ اداکار سلمان خاں کو رکھا گیا تھا۔ نابالغ لڑکی سے جنسی بدفعلی کے الزامات سے گھرے آسام رام کو وقت نے ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں پولیس قانون کی دفعات اور حوالات اور سوالوں کی جھڑی ان کا پیچھا کررہی ہے۔ چمچماتی گاڑیوں میں سواری کرنے اور شاندار آشرموں میں بسیرا کرنے والے آسا رام نے ایتوار کی رات پولیس کی حفاظت میں گزاری۔ اس رات کے تجربے آسارام تمام عمر نہیں بھول پائیں گے۔ پولیس نے آسا رام سے سخت پوچھ تاچھ کی۔ پولیس نے پوچھا آپ نے کیا کیا ہے؟ آسا رام۔ کچھ نہیں۔ پولیس: لڑکی کیوں الزام لگا رہی ہے؟ آسارام: پتہ نہیں، کسی کی سازش ہوگی۔ پولیس: اس کے والد آپ کے پرانے بھکت رہے ہیں وہ ایسا کیوں کریں گے؟ آسارام: چپ رہے، پولیس: لڑکی کو منائی کیوں بلایا گیا تھا؟ آسارام: میں نے نہیں بلایا تھا وہ خودآئی تھی۔ پولیس: اگر وہ خود آئی تھی تو آپ کی کٹیا کیسے پہنچ گئی؟ آسارام: چپ رہے۔ سارے ثبوت آسارام کے خلاف جارہے ہیں کٹیا سے ملے فورنسک ثبوت بھی آسارام کے خلاف ہیں۔ پولیس آسارام کو کٹیا پر نشاندہی کے لئے لے گئی تھی اور متاثرہ کے بیانوں کی بنیاد پر ان سے سوال کئے تھے جو متاثرہ کے بیانوں سے میل کھاتے ہیں۔ پولیس کو متاثرہ لڑکی نے کٹیا میں آسا رام کی و خودبیٹھنے کی جو جگہ اور دیگر حالات بتائے تھے وہی جگہ آسارام نے بھی بتائی۔ بدفعلی کے بڑھتے واقعات کے لئے بنایا گیا سخت قانون آسارام کی مصیبت بن سکتا ہے۔ اس معاملے میں اگر الزام ثابت ہوگئے تھے تو انہیں کم سے کم 10 سال سخت جیل کی سزا ہوگی۔ ترمیم شدہ قانون میں متاثرہ کو فوری انصاف دلانے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ نئے قانون میں بدفعلی کی تشریح کو بھی وسیع کیا گیا ہے۔ اب کسی بھی طرح کا جنسی استحصال بدفعلی مانا جائے گا۔ یہ کہہ کر بچا نہیں جاسکتا کے حقیقت میں جنسی رابطہ نہیں ہوا اس لئے جرائم بدفعلی کی زمرے میں نہیںآتا۔ ویسے آسارام کی گرفتاری کا پورا سلسلہ کم دلچسپ نہیں ہے۔ اس کہانی میں سیاسی داؤ پیچ بھی ہیں پولیسا چالاکی بھی۔ آسارام پر سرکار کے پہلے نرم گرم رخ کے پیچھے سیاسی حساب کتاب ہے۔ ریاستی حکومت آسارام پر کارروائی سے اس لئے کترارہی تھی کیونکہ اسے دہلی سے گرین سگنل نہیں مل رہا تھا۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے ،کانگریس کے ریاستی انچارج گورداس کامت کے ساتھ وزیر اعلی اشوک گہلوت کی بات چیت کے بعد ہی آسارام کی گرفتاری کا راستہ صاف ہوا تھا۔ آسا رام نے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے لئے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی پر پھنسانے کا الزام لگایا۔ کانگریس ناراض تھی۔28 اگست کو گہلوت دہلی گئے۔ وہاں مرکزی وزیر داخل سشیل کمار شندے، گورداس کامت اور دگوجے سنگھ کے ساتھ تبادلہ خیال ہوا۔ 30 اگست کو فوراً بعد آسا رام کو گرفتار کرنے کا فیصلہ ہوا۔ مدھیہ پردیش سے گرفتاری کے پیچھے بھی سیاسی حساب کتاب تھا کیونکہ وہاں بھاجپا کی سرکار ہے اس لئے گرفتاری پر سیاست نہ ہو اس لئے 31 اگست کی دیر رات آسارام گرفتار ہوئے۔ آسارام معاملے کو لیکر یوگ گورو بابا رام دیو نے کہا کہ کچھ سنتوں سے اگر غلطی ہوئی ہے تو اس کے لئے پورے سنت سماج کو قصوروار نہیں مانا جاسکتا۔ یہ ضروری ہے کہ سادھو سنتوں کو عورتوں اور لڑکیوں سے اکیلے نہیں ملنا چاہئے۔ رام دیو نے کہا کہ سنتوں نے دیش کوکئی بار راہ دکھائی ہے۔ آج کے دور میں کچھ سنتوں پر ضرور آنچ آئی ہے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کے پورا سنت سماج خراب ہوگیا ہے۔ کئی سادھو سنت روحانیت کے ساتھ ساتھ مختلف پہلوؤں پر بھی کام کررہے ہیں۔ موجودہ وقت میں سنتوں کو اپنی مریاداؤں کو پار نہیں کرنا چاہئے۔ انہیں دھیان میں رکھنا ہوگا کے عورتوں اور لڑکیوں سے جب بھی وہ ملیں تب کئی لوگ ان کے ساتھ ہوں۔ عورتوں کے ساتھ مردوں کو بھی بات چیت کے لئے بٹھایا جائے۔ بہرحال لمبے ہو گئے آسارام ۔ اب تو انہیں منتری اور معجزے کا ہی سہارا ہے۔
(انل نریندر)

بھارت کی بڑھتی فوجی طاقت:پہلے سپر ہرکیولس اب گلوب ماسٹر!

یہ خوشی کی بات ہے کہ برسوں بعد ہندوستان نے اپنی فوجی طاقت کو جدید ترین اور مضبوط بنانے کی سمت میں ٹھوس قدم اٹھائے ہیں۔ پہلے چین سے ساری فوج کی ہوائی پٹیوں پر ہنگامی حالات میں فوجیوں سے لیکر بھاری بھرکم ٹینک تک اتارنے کی صلاحیت والے تیسرے سی۔ گلوب ماسٹر ملٹری ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز کو ایئرفورس کو سپرد کردیا گیا۔ اب ہندوستانی فضائی کے بیڑے میں بھاری مالبردار یہ جہاز سی۔17 گلوب ماسٹر بھی شامل ہوگیا ہے۔ غور طلب ہے پہلاسی۔17 ایئر کرافٹ 17-18 جون کو ہنڈن ایئرفورس ہوائی اڈے پر اتراتھا۔ پیر کو منعقدہ تقریب میں ایئر چیف مارشل این اے کے براؤن نے کہا کہ اس جہاز سے اب نارتھ ایسٹ اور نارتھ سرحدوں پر بنی ہوائی پٹیوں پر 150 فوجیوں اور بھاری ہتھیاروں کو اتارنے کی غیر معمولی صلاحیت حاصل ہوگئی ہے۔ سپر ہرکیولس اور گلوب ماسٹر کی یہ جوڑی خاص طور پر چین کے خلاف بھارت کی فوجی تیاریوں کے لحاظ سے خاصی اہم ہوگی۔ جہاز کے آنے سے فوجیوں اور ٹینکوں کو جنگی مورچے پر لے جانے کی صلاحیت تو بڑھی ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ مشکل اور ہنگامی حالات میں کافی کم وقت میں جہاز فوجی دستوں ،بھاری توپوں کو محاذپر تعینات کرسکے گا۔ اس سے پہلے چین کواپنی طاقت دکھانے اور احساس کرانے کے لئے چین کی تمام وارننگ کو نظرانداز کرکے ہماری ایئر فورس نے جموں کشمیر کے اکسائچن علاقے کے دولت بیگ اولڈی ہوائی پٹی پر سپر ہرکیولس اتاردیا۔ یہ ہوائی پٹی لائن آف کنٹرول سے 9 کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔ یہ اونچائی16614 فٹ ہے۔ ہرکیولس 20 ٹن کا مال یا64 فوجیوں کو لانے لے جانے میں اہل ہے۔ اس سے 12-13 ٹن کی بکتربند گاڑیاں بھی لے جائی جاسکتی ہیں۔ اس زمرے کے جہاز اتنے اونچے علاقے میں لینڈ کرنے کا ریکارڈ ہے۔ یہ جہاز صرف دنیا کے 11ملکوں کے پاس ہیں۔ رسد آسانی سے اب پہنچ سکے گی۔ فوجیوں کے گرتے حوصلے پرروک لگے گی اور ان کا حوصلہ اور جذبہ و اعتماد بھی بڑھے گا۔ ہر موسم میں مدد کو تیار رہے گا۔ جہاز بار بار گھس پیٹھ کررہے چین کو بھی سخت پیغام ہے۔ ان دونوں جہازوں کا ہماری ایئر فورس میں شامل ہونا ان جہازوں سے ہماراسرحد پر کمیونی کیشن سسٹم بھی مضبوط ہوگا۔ 13 سال سے بند پڑی دولت بیگ اولڈی کی ہوائی پٹی کو2008ء میں ایئر فورس نے پھر سے چالوکردیا تھا۔ 1965ء میں بھارت ۔پاک جنگ کے بعد اس ہوائی پٹی کا استعمال نہیں ہوپا رہا تھا۔ ایئر فورس نے یہاں ہرکیولس اتارنے کا فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ یہ 20 ٹن سامان لے کر اڑان بھرنے میں پوری طرح اہل ہے۔ یہ جہاز جنگ کے علاوہ قدرتی آفات کے وقت بھی بہت کام کا ثابت ہوسکتا ہے۔ جون میں اترا کھنڈ میں آئے قدرتی قہر کے بعد راحت و بچاؤ کام میں ہرکیولس نے بہترین کام کیا تھا۔ اس جہاز میں اینڈرا ریڈ اور سمتوں کو پہچاننے والی تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس تکنیک کی وجہ سے یہ جہاز اندھیرے میں بھی اپنی کارروائی کو انجام دے گا۔ یہ تو ساری دنیا جانتی ہے ہندوستانی بری فوج ایئر فورس ،بحریہ کسی سے کم نہیں ہے مگر کمی ہے تو وسائل کی۔ سیاسی قوت ارادی کی۔ اگر یہ دونوں بھی پوری ہوجائیں توہم چین سے 19 نہیں اور پاکستان کی بات نہ کریں۔
(انل نریندر)

04 ستمبر 2013

شیلا دیکشت اور دہلی کانگریس سکتے میں!

دہلی اسمبلی چناؤ اس سال کے آخر میں ہونے ہیں۔ محترمہ شیلا دیکشت چوتھی بار چناؤ جیت کر پھروزیر اعلی بننے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں لیکن کانگریس کے لئے یہ کسی جھٹکے سے کم نہیں ہے کہ اس کے دو بڑے لیڈر شیلا دیکشت اور جگدیش ٹائٹلر الزامات میں گھر گئے ہیں۔ وزیر اعلی شیلادیکشت تو دہلی میں کانگریس کا چہرہ مانی جاتی ہیں اور پارٹی انہی پر داؤ لگا رہی ہے۔عدالت نے ان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ سال2008ء کے اسمبلی چناؤ سے پہلے اشتہارات میں سرکاری پیسے کے مبینہ الزام کو لیکر سابق بھاجپا دہلی پردھان ویجیندر گپتا کی شکایت پر اسپیشل جج نروتم کوشل نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں بی جے پی لیڈر ویجندر گپتا اور آر ٹی آئی رضاکار وویک گرگ نے دہلی کی وزیر اعلی کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ گپتا کی جانب سے ان کے وکیل اجے دگپال نے الزام لگایا کے شیلا دیکشت نے 2008ء کے اسمبلی چناؤ سے پہلے اشتہاری مہم پر سرکاری فنڈ سے 22کروڑ56 لاکھ روپے خرچ کئے ۔ عدالت سے مانگ کی کے وہ پولیس کو ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 409 کے تحت سرکاری ملازم کے ذریعے امانت میں خیانت ،سرکاری فنڈ کا بیجا استعمال اور کرپشن روک تھام ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دے۔ دونوں نے اپنی شکایت میں لوک آیکت موہن سرین کے اس فیصلے کو بنیاد بنایا جس میں انہوں نے شیلا کو سرکاری خزانے کا بیجا استعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اس سے پہلے پولیس نے عدالت کے حکم پر معاملے کی دو اسٹیٹس رپورٹ داخل کی تھیں۔ اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس میں شیلا کے خلاف کوئی مجرمانہ معاملہ نہیں بنتا۔ جب کوئی جرم بنتا ہی نہیں تو جانچ ایجنسی کے معاملے میں جانچ کی بھی کوئی بنیاد نہیں بنتی۔ وہیں دہلی سرکار کی طرف سے ڈائریکٹر آف پروزیکیوشن بی ۔ایس ۔جون نے کہا تھا کہ لوک آیکت نے فنڈ کے استعمال کو لیکر وزیر اعلی کی نیت پر کوئی سوال نہیں کھڑا کیا تھا اور جب لوک آیکت نے اس سلسلے میں صدر کو اپنی سفارشیں بھیجی تھیں تووہیں پر آخری فیصلہ ہوگا۔ 
بہرحال محترم جج موصوف نے ان دلیلوں کو درکنار کرتے ہوئے آئی پی اسٹیٹ پولیس کو شیلا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلی شیلا دیکشت کے حمایتی قانونی مشیر کو لیکر آگے کا راستہ بنانے کی تیاری میں ہیں۔ ادھر بی جے پی شیلا اور کانگریس پر چوطرفہ حملہ کرنے کی حکمت عملی بنا رہی ہے۔ صدر لیفٹنٹ گورنر کے یہاں جانے کے علاوہ پارلیمنٹ میں بھی معاملہ اٹھ سکتا ہے۔ وہیں معاملے میں کورٹ کا متنازعہ فیصلہ آنے کے بعد دہلی پولیس اپنا قدم طے کرے گی۔ تقریباً تین سال تک سڑکوں پر لوک آیکت کے یہاں اور کورٹ میں بھی سی ایم کے خلاف کئی مورچے پر لڑ رہے ویجندر گپتا کے حق میں آئے اس فیصلے سے بی جے پی جوش میں ہے اور مفصل فیصلہ آنے پر آگے کی حکمت عملی بنائے گی۔ قانونی سطح پر اسے دیکھا جائے تو کانگریس کو جلد اپنی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ چناؤ سر پر ہے ایسے میں یہ کانگریس کے لئے ایک بڑا جھٹکا ضرور ہے۔ کامن ویلتھ کھیلوں میں سی اے جی نے شیلاد یکشت کے رول پر سوال اٹھائے تھے۔ آئینی عہدے پر بیٹھے شخص کے لئے اپنی مقبول کے ساتھ ساکھ بچا کر رکھنا بھی ایک چیلنج ہے اس پر تو دھکا لگا ہی ہے اسی طرح ٹائٹلر کو سی بی آئی کے ذریعے جعلسازی میں چارج شیٹ کرنا بھی کانگریس کے لئے ایک بڑا درد سر ہے۔ سب سے پہلے کانگریس کی چناؤ مہم پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ ظاہر ہے بی جے پی اس موقعہ کا سیاسی فائدہ اٹھانے سے چوکے گی نہیں۔
(انل نریندر)

جب قانون کے رکشک ہی بھکشک بن جائیں تو جنتا کیا کرے؟

گوتم بدھ نگر میں گینگ ریپ کا بھوت پیچھا چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جمعہ کی رات سیکٹر 105 میں دہلی کی لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کیس میں پی اے سی کے دو جوانوں نے دبش دینے کے بہانے گھر میں گھس کر اپنے تین دوستوں کے ساتھ لڑکی سے بدفعلی کی ۔ ملزمان نے مار پیٹ کر لڑکی سے نقدی اور کریڈٹ کارڈ بھی لوٹ لئے۔ جب رکشک ہی بھکشک بن جائیں تو جنتا کیا کرے؟ پی اے سی کے دونوں جوان نیلی بتی لگی سرکاری جیپسی میں آئے تھے۔ دونوں گریٹر نوئیڈا کی 49 ویں سینا واہنی کے ڈپٹی کمانڈنٹ کے بندوقچی اور ڈرائیور ہیں۔ کوتوالی سیکٹر29 کے انچارج انسپکٹر دھرمیندر چوہان کے مطابق گریٹر نوئیڈا کے باشندے پون گوئل جمعہ کو سیکٹر105 میں واقع اپنے رشتے دار کے فلیٹ میں آئے ہوئے تھے ، ان کے رشتے دار باہر گئے ہوئے ہیں۔ دیر شام ان سے ملنے دہلی کی ایک عورت آئی تبھی سالار پور کے باشندے ارون نے اپنے دوست جیتو اور بنٹی کو فلیٹ میں مہلا کو اکیلے آنے کی جانکاری دے دی۔ بنٹی نے پی اے سی کے ڈپٹی کمانڈینٹ ستپال سنگھ کے بندوقچی بنسی رام و ڈرائیور سبھاش چودھری کو بلا لیا۔ دونوں سپاہی نیلی بتی لگی سرکاری جیپسی میں آئے اور تلاشی کے نام پر فلیٹ میں داخل ہوگئے۔ سپاہیوں نے پون گوئل پر قابو پالیا اور اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر لڑکی کے ساتھ بدفعلی کی۔ ہزاروں روپے نقدی اور ڈیبٹ کارڈ لوٹ کر بھاگ گئے۔ عورت کی شکایت پر پولیس نے اس میں شامل چاروں ملزمان سبھاش چودھری، بنسی رام، بنٹی و ارون کو گرفتار کرلیا ہے۔ نوئیڈا سٹی میں پچھلے کچھ دنوں سے آبروریزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
26 ستمبر 2012ء کو کھارچا میں 10 ویں کلاس کی طالبہ سے بدفعلی ہوئی۔ 5 جنوری 2013 کو نوئیڈا سیکٹر58 میں بدفعلی کے بعد لڑکی کو مار ڈالا گیا۔ اپریل 2013ء کو برولا کی طالبہ سے ہسپتال کے منیجر نے بدفعلی کی۔19 مئی2013ء کو بنسرک علاقے میں عورت سے کار میں اجتماعی آبروریزی کی گئی۔8 جون کو اسی علاقے میں کمپیوٹر سینٹر میں طالبہ سے ٹیچر نے یہ ہی کام کیا۔20 جولائی 2013ء کو سیکٹر 20 علاقے میں لڑکی سے اس کے پڑوسی نے برا کام کیا اور15 اگست اسی سال بادل پور علاقے میں طالبہ سے آبروریزی کی گئی۔ اترپردیش میں عورتوں پر بڑھتے جرائم سے قومی انسانی حقوق کمیشن بھی فکر مند ہے۔
ریاست میں عورتوں کے ساتھ آبروریزی اور پھر انہیں زندہ جلانے جیسے گھناؤنے واقعات کا سیلاب سا آگیا ہے۔ کمیشن نے اس کو سنجیدگی سے لیا ہے تکلیف دہ پہلو یہ ہے اترپردیش سرکار اس کرائم کے سیلاب پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ وہ کوئی کارگر قدم نہیں اٹھا پارہی ہے پچھلے دنوںیوپی کے وزیر اعلی اکھلیش یادو کے ضلع اٹاوہ میں ایک عورت کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ہوئی اور اسے زندہ جلا دیا لیکن صرف مجسٹریٹ جانچ کا حکم دے کر حکومت نے اپنے فرض کی خانہ پوری کردی۔ اترپردیش میں عورتوں پر بڑھتے جرائم کے اعدادو شمار کی تصویر بیحد کالی ہے۔ قومی جرائم ریسرچ بیورو کے اعدادو شمار کے مطابق2009 ء میں دیش بھر میں جتنے جرائم عورتوں کے ساتھ ہوئے تھے ان میں سے11 فیصد جرائم صرف یوپی میں ہوئے ہیں۔ معاملہ تب اور سنگین ہوجاتا ہے جب قانون کے محافظ ہی بھیڑئے بن جائیں۔
(انل نریندر)

03 ستمبر 2013

یہ سزا نہیں انعام ہے، ایسے معاملوں میں عمر کا نہ ملے فائدہ!


23 سالہ پیرامیڈیکل طالبہ کے ساتھ 16 دسمبر کو وسنت وہار میں چلتی بس میں اجتماعی آبروریزی کے معاملے میں پہلا فیصلہ آگیا ہے لیکن اس فیصلے سے پورا دیش مایوس اور غصے میں ہے۔ یہ سزا نہیں انعام ہے۔ جس بس میں نربھیا پر سب سے زیادہ ظلم ڈھائے گئے اور جس کی وجہ سے اس کی جان گئی اس کے قصوروار کو محض 3 سال کی سزا ملی۔ اس میں سے بھی وہ دن کاٹ دئے جائیں گے جو وہ اصلاح گھر میں گزار چکا ہے یعنی اب محض 2 سال 8 مہینے ہی قید میں رہے گا باقی کی سزا بھی اسی جگہ پر کاٹے گا۔ جیونائل جسٹس بورڈ میں نابالغ ملزم کو سنیچر کو یہ فیصلہ سنایا۔ اس ایکٹ کے تحت اس سے زیادہ وقت اصلاح گھر میں نہیں بھیجا جاسکتا لیکن متاثرہ کے رشتے دار مطمئن نہیں ہیں۔ فیصلہ سننے کے بعد متاثرہ کی ماں نے کہا کہ یہ ہی کرنا تھا تو اتنا انتظار کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہمیں بیوقوف بنایا گیا ہے۔ اس سے سندیش گیا ہے کہ نابالغ کتنا سنگین جرم کرلے وہ چھوٹ جائے گا۔ جوینائل بورڈ نے نابالغ کو آبروریزی اور قتل کا قصوروار قراردیا ہے۔ لڑکی کے دوست سے لوٹ مار اور قتل کی کوشش کے الزام سے بری کردیا ہے۔
متاثرہ کے والد کا تبصرہ تھا میں تو 29 دسمبر کو تب ہی ٹوٹ گیا تھا جب میں نے اپنی بیٹی کو کھو دیا تھا ۔پھر بھی میں نے ہمت دکھائی اور جوینائل بورڈ کی کارروائی میں یہ سوچ کر شامل ہوا کے نابالغ کو پھانسی کی سزا ملے گی۔ اب لگتا ہے یہاں لڑکی پیدا ہونا ہی ایک جرم ہے۔ ریاست یا سرکاری یا متاثرہ فریق کے فیصلے کو چنوتی بھی نہیں دے پائے گا کیونکہ ملزم جوینائل ایکٹ کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا ملی ہے۔ ہاں ملزم چاہے تو فیصلے کو چیلنج کرسکتا ہے۔ اس گھناؤنے جرم میں کل6 ملزم تھے۔ ایک کی موت ہوچکی ہے اب 4 لوگوں کافیصلہ آنا باقی ہے۔ امیدکی جانی چاہئے انہیں سخت سے سخت سزا ملے۔ سب سے تکلیف دے پہلو یہ ہے کہ 16 دسمبر کے اس واقعہ میں نابالغ لڑکے نے ہی حیوانیت کا ننگا ناچ کیا تھا۔ چلتی بس میں آبروریزی کے دوران اس نے درندگی کی ساری حدیں پار کردی تھیں۔ نابالغ لڑکے پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے یہ لڑکی کے اعضاء کو نقصان پہنچایا تھا جو اس کی موت کا سبب بنی۔ اس معاملے میں یہ بات موضوع بحث بن گئی ہے کہ ایسے سنگین و گھناؤنی حرکت کرنے والے لڑکے کو کیا صرف نابالغ کے نام پر بچہ مان لیا جائے اور اصلاح گھر میں بھیج دیا جائے یا قانون میں پھر سے ترمیم پر غور کیا جائے؟ لیکن موجودہ قانون کے تحت جوینائل جسٹس بورڈ کے سامنے اس کا معاملہ چلایا گیا۔ اس کے پیدائشی سرٹیفکیٹ کی بنیادپر واردات کے وقت اس کی عمر17 سال6 مہینے پائی گئی تھی۔ 
اس معاملے میں جے۔جے بورڈ نے مارچ کے مہینے میں اپنی جانچ شروع کی اور5 جولائی کو جانچ کی کارروائی پوری کرلی گئی۔ پولیس کے مطابق واردات کے وقت نابالغ کنڈیکٹر کی سیٹ پر بیٹھا تھااور مکیش بس چلا رہا تھا۔ نابالغ ہی آر کے پورم سیکٹر 4 کے پاس آواز لگا کر متاثرہ کو بس میں بٹھایا تھا اور اس کے بعد اس سے اس کا موبائل اور پیسے لوٹنے کے بعد اس کے فرینڈ کو بس سے دھکا دے دیا تھا۔ اس کے بعد جب بس میں منریکا بس اسٹینڈ پر پہنچی تو دوارکا جانے کی بات کہتے ہوئے متاثرہ اور اس کے دوست کو پھر بٹھا لیا۔ جب ان لوگوں نے اترنا چاہا تو اسی نابالغ نے بس کا دروازہ بند کردیا اور پھر سبھی ملزمان نے حیوانیت کی وہ داستان لکھی جسے کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ اس فیصلے سے صفدرجنگ میں متاثرہ کے علاج میں شامل ڈاکٹروں کی ٹیم بھی ناخوش ہے اور دکھی ہے۔ لڑکی کے علاج میں شامل ٹیم کے ایک سینئر ڈاکٹر نے کہا کہ لڑکی کے علاج کے دوران بھی تڑپ اٹھے تھے اور محسوس کررہے تھے کہ وہ کسی طرح سے ٹھیک ہوجائے۔ لڑکی کے ساتھ ہوئی گھناؤنی حرکت کی سزا سے کوئی صرف عمر کو ڈھال بنا کر بچ رہا ہے یہ ہم سب کے لئے شرم کی بات ہے۔ اس فیصلے پر دوبارہ نظرثانی ہونی چاہئے۔ جانی مانی نفسیاتی ماہر ارونابوٹا کا خیال ہے نابالغ اگر سنگین جرم کرتا ہے تو جرم کی بنیاد پر ہی سزا ملنی چاہئے۔
نابالغ ایسی گھناؤنی حرکتیں نہیں کرتے وہ چھوٹی موٹی شیطانیاں کرتے ہیں۔جب یہ نابالغ اتنا بڑا کرائم کرسکتا ہے جو بڑی عمر کے آدمی بھی نہیں کرتے یہ جوینائل کیسے؟ پھر سارا کچھ ایک اسکول سرٹیفکیٹ کی بنیادپر ہی طے ہوا ہے۔ کیوں نہیں اس کا ٹیسٹ کراکر صحیح عمر تعین کی جاتی۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم اس جوینائل ایکٹ میں ترمیم کرکے ایک مضبوط تاریخ بنانے میں لگ گئے۔ وہ دہلی کا شیطان تھا لیکن نابالغ ہونا اس کوبچانے میں ڈھال بن گیا۔ 
قانون کی ایڈلٹ دفعات نے کمسن ہونے پر اسے ایسی سزا سنائی کے خود بھی سزا شرمسار ہوگئی۔ یہیں ہم موقعہ گنوا بیٹھے۔ ساری تحقیقوں سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی بچہ ذہنی طور پر کرمنل ذہنیت کا ہے تو اس کو سدھارنے کی گنجائش نہ کے برابر ہوتی ہے۔ ایسے نابالغوں کی ہی کونسلنگ کیوں نہ کی جائے۔ 
اصلاح گھر سے نکلنے کے بعد بھی وہ جرم کریں گے۔ اجتماعی آبروریزی جیسی سنگین حرکت کرنے والے نابالغ ملزم کی دماغی جانچ ہونی چاہئے تھی۔ سماجی کارکن سوامی اوتار بابا جوینائل بورڈ کے ذریعے فیصلہ سنانے کے موقعے پر موجود تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کے نابالغ کے ذریعے جو بربریت آمیز حرکت کے لئے سنائی گئی سزا بہت کم ہے۔ اس سے سماج میں ایسے لوگوں کے خلاف اچھا پیغام نہیں جائے گا۔ اس سے بچوں اور عورتوں کے تئیں ہونے والے جرائم میں کمی نہیں آئے گی یہ ضروری ہے کہ ایسے سنگین معاملوں میں نابالغ کے لئے قانون میں تبدیلی لائی جائے۔
(انل نریندر)

01 ستمبر 2013

شام پر منڈراتے جنگ کے بادل اس کا مضر اثر پوری دنیا پر پڑے گا!

ایک بار پھر مشرقی وسطیٰ ایشیا میں جنگ کے بادل منڈرانے لگے ہیں وجہ ہے شام میں خانہ جنگی۔ خبر آئی ہے کہ امریکہ اور اس کے ساتھی ملکوں نے مبینہ کیمیائی حملے کو لیکر شام پر فوجی کارروائی کرنے کے لئے زمین تیار کرلی ہے۔ تازہ حالات پر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور امریکہ کے صدر براک اوبامہ کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ امریکی نائب صدر جوئے بیڈن نے یہ کہہ کر شام کے خلاف حملے کیلئے زمین تیار کردی ہے پچھلے ہفتے ہوئے مبینہ کیمیائی حملے کے پیچھے صرف شام کے صدر بشارالاسد حکومت کی فوجوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ برطانیہ نے بھی امریکی موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ کیمیائی حملے کیلئے اسد انتظامیہ کی سکیورٹی فورسز ذمہ دار ہیں۔ اس وقت شام پر حملے کو لیکر دنیا دو خیموں میں بٹی ہوئی ہے۔ امریکہ، فرانس، برطانیہ، اسرائیل ،ترکی سمیت کئی دیش سرکار کو سبق سکھانے کے لئے فوجی کارروائی کے حق میں ہیں۔ جبکہ روس ،چین ، ایران اور لبنان نے ممکنہ فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔ خیال کیا جارہا ہے بھارت پرامن ڈھنگ سے اس بحران کو سلجھانے کے حق میں ہے۔ اقوام متحدہ کی ٹیم نے بدھوار کو کیمیائی گیس حملے کے ثبوت اکٹھا کرنے کے لئے دوسری بار جانچ کی۔ٹیم پر پیر کو حملے کے بعد منگلوار کو جانچ ملتوی کردی گئی لیکن امریکہ اور اس کے ساتھی مغربی ممالک کے تیوروں کا اسی سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر جوئے بیڈن نے کہا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شام پر کیمیائی حملے کے لئے کون ذمہ دار ہے۔ امریکہ پوری طرح سے اس سے باآور ہے کہ21 اگست کو خطرناک حملے کے لئے اسد کی فوج کی ذمہ دار گردانی جاسکتی ہے۔ صدر براک اوبامہ اور میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے بے قصور لوگوں کی جان لی انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے۔ اسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ شام کے نیوکلیائی کارخانوں پر میزائلوں کی بارش کبھی بھی شروع ہوسکتی ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو دنیا میں امن کو بڑے خطرے کے دور کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ہندوستان کے لئے یہ جنگ بے موقعہ مانی جاسکتی ہے جس کا تباہ کن اثر نہ صرف ہماری لڑکھڑاتی معیشت اور حکومت کو سامنا کرنا پڑسکتا ہے بلکہ دوسروں کے لئے بھی خطرناک بن سکتی ہے۔
امریکی کارروائی کا سیدھا اثر کچے تیلوں کی قیمت پر پڑے گا جو حملے کی آہٹ ملنے کے ساتھ ہی آسمان چھو سکتی ہے لیکن پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت جو اس سال کے ابتدا سے ہی نیچے جارہی تھی پچھلے تین مہینوں سے لگتا ہے اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ مصر میں منڈراتے بحران اور کشیدگی اور لیبیا میں بے چینی اور شام میں حملے کے اندیشے سے پیٹرول کی قیمتوں میںآگ لگ سکتی ہے۔ بھارت جو 80 فیصد پیٹرولیم مصنوعات باہر سے منگاتا ہے اس کے آگے سیدھے پریشانیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کے خطرناک اثرات ہوسکتے ہیں۔ ادھر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکیمون نے کہاعالمی امن کے لئے شام سب سے بڑی چنوتی ہے۔بلا شبہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو بنائے رکھنے کے لئے شام میں امن کے لئے سکیورٹی کونسل کو اتحاد دکھاناچاہئے۔ شام کی فوج و اقتدار کی چابی اقلیتی شیعہ فرقے کے ہاتھ میں ہے اور اس کی وجہ ارب دیشوں کی اکثریت بھی موجودہ اقتدار کے خلاف کارروائی کے حق میں ہے۔ صدر اسد کے خلاف ارب دیشوں کے سنی لڑاکے ان کی مخالفت کرنے سیدھے شام پہنچ رہے ہیں۔ اگر لڑائی بڑھتی ہے تو اس کا مضراثر کئی ملکوں پر پڑ سکتا ہے۔
(انل نریندر)

لشکر بم مشین ٹنڈا کے بعد یاسین بھٹکل کی گرفتاری دوسری بڑی کامیابی!

ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں کو عبدالکریم ٹنڈا کی گرفتاری کے 15 دن کے اندر ہی ایک دوسری بڑیکامیابی ملی۔ جب ممنوعہ دہشت گردتنظیم انڈین مجاہدین کے معاون اور بم دھماکوں کے قریب40 معاملوں میں مطلوب یاسین بھٹکل اور آئی ایم کے ایک دیگر سرغنہ اسعد اللہ اختر عرف ہڈی کو بہار کے پاس رکسول میں گرفتار کرلیا۔ بہار پولیس کے اپر ڈائریکٹر جنرل روندر کمار نے بتایا کے نیپال ،بنگلہ دیش اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں پچھلے پانچ برسوں سے فرار چل رہا یاسین خفیہ ایجنسیوں اور بہار پولیس کی ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔ دونوں دہشت گردوں کو جمعرات کی شام موتی ہاری کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پڑھے لکھے آتنک وادیوں کی نئی پیڑھی کا سب سے خطرناک مانا جانے والا چہرہ یاسین بھٹکل عمر30 سال ، کا گرفتار ہونا بہت بڑی بات ہے۔ حالانکہ بھارت کے لئے ٹنڈا کی گرفتاری بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے کافی قیمتی اطلاعات ملی ہیں لیکن ٹنڈا اب ایک طرح سے بیماری اور دیگر اسباب سے پھکا کارتوس ہے لیکن بھٹکل تو زندہ اور انتہائی خطرناک کارتوس ہے۔ بھٹکل 13 ستمبر 2008ء میں دہلی کے قرولباغ، کناٹ پلیس، 12 کھمبا روڈ، انڈیا گیٹ پر بم دھماکوں میں شامل تھا۔ 19 ستمبر2008ء کو جامع مسجد کے سامنے تائیوان سے آئے سیاحوں پر فائرننگ کرائی۔ کار میں پریشر کوکر سے دھماکہ کروایا، 7 ستمبر2011ء کو دہلی ہائی کورٹ کے باہر بم دھماکے میں اس کا ہاتھ تھا۔ 3 نومبر 2011ء مغربی دہلی کے میر وہار میں بھی یاسین بھٹکل کی ہتھیار فیکٹری پکڑی گئی۔ الزاموں کی بہت لمبی فہرست ہے۔ بھٹکل کا پکڑا جانا کوئی اتفاق نہیں۔ بھارت کی مضبوط ہوتی خفیہ اور اندرونی سکیورٹی ڈھانچے کی بہتر کام کی بانگی ہے۔ویسے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ٹنڈا کے انکشاف پر ہی سکیورٹی ایجنسیوں نے دہلی ،ممبئی، پنے، بنگلورو سمیت دیگر ریاستوں میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں میں شامل رہے انتہائی مطلوب دہشت گرد یاسین بھٹکل کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ٹنڈا نے یہ اہم جانکاری دی تھی کے آئی ایس آئی سے جڑے ایک درجن سے زیادہ خطرناک آتنکی بھارت۔ نیپال سرحد سے گھس پیٹھ کر بھارت میں کوئی بڑی دہشت گردانہ کارروائی کو انجام دینے کے فراق میں ہیں اور اس کارروائی کا ذمہ یاسین بھٹکل کو دیا گیا۔ پولیس کے ذرائع کی مانیں تو بنیادی طور پر نارتھ کرناٹک کے اوڈپی ضلع کے بھٹکل قصبے کا رہنے والا یاسین بھٹکل عرف محمد احمد زرار عرف فاروق پچھلے پانچ سال سے ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے لئے درد سر بنا ہوا تھا۔ بھٹکل کی گرفتاری انڈین مجاہدین کے لئے ایک برا جھٹکا ضرور ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کے اب بھی اس کے کئی خطرناک لیڈر گرفت سے باہر ہیں جن میں سے کوئی بھٹکل کی جگہ لے سکتا ہے۔ ان میں سے کئی پاکستان میں لشکر طیبہ کے ذریعے تربیت یافتہ ہیں۔ لشکر کی کئی معنوں میں انڈین مجاہدین کو بنانے والی تنظیم ہے۔ لشکر طیبہ ہی انڈین مجاہدین کی سرگرمیوں کو دیکھتی ہے۔ لشکر کے لئے انڈین مجاہدین کا استعمال اس لئے فائدہ مند ہے کیونکہ ان میں سبھی ہندوستانی نوجوان ہیں جومقامی ساتھیوں کا استعمال کرکے دہشت گردانہ حملے کا مقصد پورا کرلیتے ہیں اور وہیں سیدھی مداخلت لشکر کی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ لشکر طیبہ کے بم ماہر کی 16 اگست کو گرفتاری کے بعد یہ دوسری بڑی بلکہ کئی معنوں میں زیادہ اہم کامیابی ہوسکتی ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...