Translater
16 جنوری 2021
پی ایم وزراءکو پہلے ٹیکہ لگوانے سے بڑھے گا بھروسہ !
کورونا ویکسین کو لیکر بھی کھینچ تان شروع ہوچکی ہے مرکزی سرکار کے ذریعے دہلی اور مغربی بنگال میں مفت ویکسینیشن پر رائے پور میں وزیر اعلیٰ بھوپیش بھگیل نے دیگر ریاستوں کے لوگوں کا بھی معاملہ اٹھا یا ان کا کہنا تھا مرکزی سرکار دیش کے صرف تین کروڑ لوگوں کو ہی کورونا ویکسین کا ٹیکہ لگانے کی بات کر رہی ہے دیش میں 135کروڑ لوگوں میں سے صرف 3کروڑ کو ہی ویکسین لگے گی اس کو لیکر ناراضگی ہے کہ 132کروڑ لوگ کہا جائیں گے ؟مرکزی حکومت کو اس بارے میں صفائی دینی چاہئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیروں کو پہلے ٹیکہ لگوانے سے ہی ویکسین کا بھروسہ اور جنتا میں اس کے طئیں بھروسہ بڑھے گا مرکزی کیبنیٹ میں 70وزیر ہیں پہلے فیس میں کیبنیٹ کو ویکسین لگوا کر دیش کی جنتا کے سامنے مثال پیش کرنی چاہئے کیونکہ بیرونی ممالک میں کئی وزراءاعظم اور سرکار کے سربراہ مملکت نے سب سے پہلے ٹیکہ لگا کر مثال پیش کی ہے حالانکہ پی ایم کے اس بیان پر بھی وزیر اعلیٰ بگھیل نے عدم اتفاق ظاہر کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پہلے ہیلتھ ورکروں کو ویکسین لگنی چاہئے پی ایم چاہتے ہیں کہ پہلے فرنٹ لائن ویرئرس کو پہلے ویکسین لگے ورنہ اسکے لئے نیتاو¿ں کی قطار لگ جائے گی اگر ریاست میں ہیں تو وزیر اعلیٰ سے لیکر ان کی پوری کیبنٹ ٹیکہ لگوائیں ۔یہ عوام کی ڈیمانڈ ہے کہ پہلے کورونا کی زد میں آئے لوگوں کو ویکسین لگانے کی بات ہورہی ہے یہ سبھی باتیں اپنی جگہ صحیح ہیں اس سے پہلے ریاست کے وزیرصحت نے فیس 3میں ٹیسٹ کے بغیر کے ویکسین کے استعمال پر سوال کھڑے کئے تھے بغیر ٹسٹ کے ریاست کو ویکسین کی سپلائی نہ کی جائے مقرر آئینی تقاضوں کو توڑتے ہوئے ٹیسٹ سے پہلے ویکسینیشن کی جلد بازی کرنا مناسب نہیں مانا تھا۔
(انل نریندر)
جب تک قانون واپس نہیں تب تک گھرکو واپسی نہیں !
کسان لیڈروں نے تین زرعی قوانین پر روک لگانے کے سپریم کور ٹ کے فیصلے کا خیر مقدم تو کیا ،لیکن ساتھ ہی کہا کہ جب تک قانون واپس نہیں لیئے جاتے تب تک وہ اپنی تحریک ختم نہیں کریں گے ۔قریب 40احتاجی کسان انجمنوں کی نمائندگی کر رہے سینکت مان مورچہ نے اگلے قدم پر غور کرنے کے بعد کہا کہ سپریم کورٹ نے زرعی قوانین پر روک لگائی ہے ،ان کی تحریک پر نہیں کسان لیڈروں نے کہا کہ سپریم کو رٹ کی طرف سے مقرر کسی بھی کمیٹی کے سامنے کسی بھی کاروائی میں حصہ نہیں لینا چاہتے وہ26جنوری کو پریڈ بھی نکالیں گے اور 13جنوری کو لوہڑی پر قانون کی کاپیاں بھی جلائیں سپریم کورٹ نے زرعی قوانین پر عمل پر روک لگادی ہے لیکن ساتھ ساتھ کسانوں سے بات چیت کیلئے ایک چار ممبری کمیٹی بھی بنائی اس پر کسانوں نے صاف کہہ دیا ہے کی یہ کمیٹی سرکار اور اس کے تینوں قوانین کی حمایتی ہے اور اس کے ممبر زرعی قوانین کی وکالت پبلک طور سے کرتے رہے ہیں ۔ہم ایسی کمیٹی کے سامنے بات چیت کیلئے نہیں جائیں گے ۔ کسان نیتا بلویر سنگھ راجیو وال نے کہا کہ قانون واپسی تک ہماری تحریک جاری رہے گی ۔ کسان انجمنوں نے26جنوری کے احتجاج پر بھی اپنے موقف ملکر رکھا ہے کسانوں کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ پر ہم پر امن ریلی نکالیں گے ۔کورٹ کو بھی اس معاملے میں گمراہ کیا ہے ہم صاف کردیں کہ ہم پر امن آندولن کر رہے ہیں ۔ اور کسی بھی طرح کی تشدد قبول نہیں کریں گے کسانوں نے کہا قوانین کے عمل پر روک انترم راحت ہے لیکن یہ ہل نہیں ہے کسان انجمن اس قدم کی مانگ نہیں کررہے تھے کیونکہ قوانین کو تو کبھی بھی لاگو کیا جاسکتا ہے یہ صاف ہے کئی طاقتوں نے کمیٹی کی تشکیل کو لیکر عدالت کو گمراہ کیا ہے کمیٹی میں شامل ہونے والے لوگ وہ ہیں جو ان قوانین کے حمایتی مانے جاتے ہیں ۔اور لگاتار ان قوانین کی وکالت کرتے رہے ہیں سینکت کسان مورچہ نے ایک بیان میں کہا ہم اس کمیٹی کی کاروائی میں حصہ نہیں لیں گے ایسی کوئی عرضی کورٹ میں نہیں دی گئی ہے جس میں کوئی کمیٹی بنانے کو کہا گیا ہو آگے کہا کہ زرعی قوانین پر عارضی روک لگائی ہے جو کبھی بھی اٹھائی جاسکتی ہے اس کی بنیاد پر آندولن ختم نہیں کیا جاسکتا یہ سبھی کسان مخالف قوانین کی حمایت میں ہیں سرکار اور سپریم کورٹ کسی سے بات کرنا چاہے تو کر لے لیکن کسان ان سے بات نہیں کریں گے ۔ کسان لیڈر ابھیمنیو کوہڑ اور مورچہ کے سینئر لیڈر ہریندر لوکھوال نے بھی کہا کہ ہمارا مظاہرہ زرعی قوانین کو واپسی کو لیکر ہے جب تک قوانین واپس نہیں ہوتے تب تک گھر واپسی نہیںہوگی کسان مورچہ نے الزام لگایا کہ کسانوں کی لگاتار ہورہی موت کے سلسلے کو دیکھ کرسرکار اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے ۔کسانوں کے دہلی کے سرحدوں سمیت دیش کے دیگر حصوں میں بھی موت ہورہی ہے اب تک یہ تعداد 120تک پہونچ گئی ہے یہ محذ تعداد ہی نہیں اس کے نہ ہونے سے کسانوں کو کافی نقصان بھی ہورہا ہے ۔
(انل نریندر)
15 جنوری 2021
ڈرا میچ جیت سے کم نہیں !
دل اور میدان میں چوٹ لگنے کادرد سہہ کر بھی ہندوستانی یودھاو¿ں نے سڈنی ٹیسٹ میچ ڈرا کراہی لیا یہ نتیجہ کسی جیت سے کم نہیں ہے ۔یہ کھلاڑیوں کے اس جنون اور ہمت اور صبر کی علامت بنا جو مشکل سے مشکل حالات میں بھی جڑنا جانتا ہے ۔ بلند حوصلے کے ساتھ چتویشر پجارہ(77رن)اور رشبھ پنت(97رن)کی ساجھیداری سے آغاز کیا وہیں ہنوما وہاری (23)ناٹ او¿ٹ نشوں کے کھینچاو کے باجود ثابت کردیا ہے کہ وہ دوڑ نہیں سکتے ہیں تو کیا وہ کریچ پر جمے تو رہ سکتے ہیں ۔روی چندرن اشون (39)رن کے ساتھ انہوں نے 259گیندوں کا سامنہ کیا اور ناٹ آو¿ٹ 62رن جوڑا پولین تبھی لوٹے جب کپتان ٹمپین نے تسلیم کرلیا کہ وہ اب جیت نہیں سکتے لیکن دل چسپی کی وساد پر پہونچے اس میچ میں ڈرا ہونے کے بعد چار میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر کرلی اب برسبین نے کل پندرہ جنوری سے شروع ہونے والا چوتھا اور آخری ٹیسٹ میچ فیصلہ کن ہوگا پنت کی شاندار پاری کے بعد وہاری اور اشون نے جس طرح وکٹ پر ڈٹے رہنے کا جذبہ دکھایا لمبے وقت تک یاد رہے گا ۔ وہ کافی دیر تک ڈٹے رہ کر ریکارڈ بنانے کے دوران چوٹل ہونے پر بھی انہوں نے ہارنہیں مانی اس مظاہرے کے بعد اب آخری ٹسٹ میچ میں حوصلے کے ساتھ ٹیم انڈیا اترے گی یہ صحیح ہے کہ ٹیم کے کئی سینئر کھلاڑی چوٹل ہوگئے ہیں لیکن اس کے باوجود ٹیم انڈیا کا حوصلہ کوئی نہیں توڑ پائے گا ۔
(انل نریندر)
گرفتاری آخری متبادل ہونا چاہئے !
آلہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم ترین فیصلے میں کہا ہے کہ ایک شخص جس کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اس کی گرفتاری پولس کیلئے آخری متبادل ہونا چاہئے جن معاملوں میں ملزم کو گرفتار کرنا ضروری ہے یا حراست میں پوچھ تاچھ ضروری ہے ان معاملوں میں گرفتاری ہونی چاہئے بدھوار کو ایک معاملے میں رائے زنی کرتے ہوئے جسٹس سدھارتھ نے بلند شہر کے باشندے سچھ سینی نام کے ایک شخص کو مشروط پیش کی ضمانت دے دی جس کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس ملزم کے خلاف ایف آئی آر ہے اسے گرفتار کرنے کو لیکر پولس کےلئے کوئی یقینی میعاد طے نہیں ہے عدالت نے کہا ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اپنی خواہش سے گرفتاری کرسکتی ہے عدالتوں نے بار بار کہا ہے پولس کیلئے گرفتاری آخری متبادل ہونا چاہئے اور یہ غیر معوملی معاملوں تک محدود ہونا چاہئے جہاںملزم کی گرفتاری یا حراست میں پوچھ تاچھ ضروری ہے تو بے دلیل اور اندھا دھند گرفتاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے عدالت نے اپنے حکم میں جگیندر کمار کے معاملے کا بھی ذکر کیا جس میں سپریم کورٹ نیشنل پولس کمیشن کی تیسری رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ بھارت میں پولس کے ذریعے گرفتاری اور پولس میں کرپشن کے اہم ذرائع میں سے ایک ہے رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے کہ کم و بیش قریب 60 فیصد گرفتاریاں یاتو غیر ضروری ہوتی ہیں یا نا مناسب ہوتی ہیں ۔ اور اس طرح کی نا مناسب پولس کاروائی جیل کے خرچوں پر 43.2فیصد کا بوجھ ڈالتی ہیں نجی آزادی ایک بیش قیمت بنیادی حق ہے اور بہت ہی انتہا ہونے پر ہی اس میں کٹوتی ہونی چاہئے عدالت نے کہا خاص حقائق اور خاص معاملے کے حالات کے مطابق کہ ملزم کی گرفتاری ہونی چاہئے ۔
(انل نریندر)
پارلیمنٹ سے پاس زرعی قوانین پر سپریم کورٹ نے لگائی روک!
سپریم کورٹ نے اہم فیصلے میں تینوں زرعی قوانین کے عمل پر انترم روک لگادی ہے ۔عدالت نے منگل کے روز دہلی کے سرحدوںپر ڈٹے کسانوں اور مرکزی سرکار کے درمیان تعطل دور کرنے کیلئے چار نفلی کمیٹی بھی بنائی ہے جو دو مہینے میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو سونپے گی کمیٹی کی پہلی میٹنگ دس دن میں دہلی میں ہوگی چیف جسٹس ایس اے بوبڑے ،جسٹس اے ایس بو پننا اور جسٹس وی رام سبرامنیم کی بینچ نے صاف کہا کہ زرعی قوانین کے تحت کسی بھی کسان کو زمین سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور ان کے زمین کی حفاظت کی جائے گی ساتھ ہی قانون پا س ہونے سے پہلے کم از کم مارجنل پرائز یعنی ایم ایس پی تھی وہ اگلے حکم تک جاری رہے گی عدالت ان قوانین کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کر رہی تھی اس کا کہنا تھا کہ کوئی بھی طاقت ہمیں کمیٹی کی تشکیل سے نہیں روک سکتی ہے یہ کمیٹی اس لئے بنا رہے ہیں تاکہ ہمارے پاس سچی تصویر ہو یہ کوئی حکم نہیں جاری کرے گی یا سز ا نہیں دے گی صرف ہمیں رپورٹ سونپے گی اور عدلیہ کی کاروائی کا حصہ بنے گی بنچ نے کہا کہ ہم قوانین کے جواز اور شہری کو لیکر فکر مند ہیں ۔ سماعت کے دوران سرکار کی طرف سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال و سالی سیٹر جنرل تشار مہتا نے مورچہ سنبھالا مگر زرعی قانون کو چیلنج کرنے والے وکیل نہیں آئے شاید یہ دوسری بار ہوا ہے کہ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ سے پاس شدہ قانون پر روک لگائی ہے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ کسی قانون پر تب تک روک نہیں لگائی جاسکتی جب تک وہ بنیادی حقوق یا پھر آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی نہ کرتا ہو کسی قانون کو تبھی روکا جا سکتا ہو کہ جب اس نے آئینی حیثیت کے قیام کی صلاحیت نہ ہو۔ کسی عرضی گزار نے ایسے اشو نہیں اٹھایا ہے اس پر بنچ نے کہا کہ اٹارنی جنرل ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ کورٹ کے پاس کسی آئینی ایکٹ کے تحت قانون ملتوی کرنے کی پاور نہیں ہے وہ اپنی موجودہ اختیارات کے مطابق ایک مقصد کیلئے مسئلے کی ہل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ معاملی ایک طرح سے نرالہ ہے اور لوگوں کی چنتا اس سے جڑی ہے اس لئے انترم روک لگانی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ تینوں قوانین کے عمل پر روک اس لئے ہے کمیٹی کسانوں نے سرکار سے بات چیت کر مسئلہ کا ہل نکالے بلکہ قانون کے عمل پر روک لگانا ہی ایک واحد خانہ پوری نہیں ہے ہم قانون کو معطل رکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ بے میادی نہیں ہوگا۔ ہم پختگی چاہتے ہیں سینئر وکیل ہریش شالوے نے کہا کہ قریب 4سو کسان انجمنوں کی نمائندگی کرنے والے وکیل دشینت دوبے ،ایچ ایس پھلکا،اور کالن گونزالوس سماعت میں موجود نہیں ہیں انہیں کسانوں کی انجمنوں سے مشورہ کر کے بتانا تھا۔کمیٹی کو لیکر ان کی کیا رائے ہیں ؟اس پر چیف جسٹس آف انڈیانے کہا کہ ہم کمیٹی اپنے مقاصد کیلئے بنا رہے یہں جس سے سمجھ سکیں کہ زمینی حالات کیا ہیں؟عدالت کی یہ تشویش واجب ہے کہ ٹھنڈ اور بارش جیسے ناگزیر حالات میں بھی دہلی کی سرحدوں پر ہزاروں کسان بے خوف ڈٹے ہوئے ہیں ۔ اور ساٹھ سے زائد کسان ٹھنڈ سے مر چکے ہیں یا خودکشی کر چکے ہیں اس مسئلے کا ہل نکالنا چاہئے لیکن ابھی ہمیں کوئی فوری ہل نکلتا نہیں نظر آرہا ہے۔
(انل نریندر)
14 جنوری 2021
ڈرگس کی اسمگلنگ سے نارکو ٹیریرزم کو بڑھاوا!
دہشت گردی فنڈنگ کے سارے ذرائع آہستہ آہستہ بند ہوتے جارہے ہیں ۔حوالات سے پیسوں کو ٹرانسفر کرنے میں ماہر پاکستان کو اب اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو چلانے کے لئے بھارت میں پیسہ بھیجنے میں دکت آرہی ہے ایسے میںبھارت میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے پڑوسی دیش کی خطرناک جاسوسی ایجنسی آئی ایس آئی نے نارکو ٹیریریزم کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے اس کے پیچھے دوہری سازش ہے ۔پیسہ اکٹھا کرکے دیش میں دہشت گردی پھیلائی جائے گی اور نشہ دے کر نوجوان پیڑی کو تباہی کے راستہ پر بھیجا جائیگا ۔دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے اسی ماہ اس سازش کو بے نقاب کرکے کشمیر سے تین اور خالستان حمایتی دو دہشت گردوں کو دبوچہ ہے یہ بات ان آتنکیوں سے پوچھ گچھ میں سامنے آئی ہے ۔کہ ڈرگس سے پیسہ اکٹھا کرنے کا کھیل پاکستان مقبوضة کشمیر پی او کے میں چل رہا ہے ۔یہ پیسہ دیش میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے میں استعمال کیا جانا تھا نشہ افغانستان میں تیار کیا جاتا ہے ۔وہاں سے اسے پاکستان اور پھر پی او کے لایا جاتا ہے وہاں سے کشمیر کے راستے پنجاب اور دیش کے دوسرے علاقوں میں بھیجا جارہا ہے ۔دہلی پولیس کے سینئر حکام نے بتایا 7دسمبر کوپکڑے گئے گرجیت سنگھ عرف بھورا ،شبیر احمد ،محمد یعقوب پٹھان اور ریاض نے یہ انکشاف کیا ہے ان کی سازش ہندو اور رائٹ ونک کے نیتاو¿ں کا قتل کرنا تھا ۔اس کے لئے تین کشمیری آتنکی دو کلو ہیروئین اور کچھ نقدی دہلی میں خالستان حمایتی دہشت گردوں کو دینے آئے تھے آئی ایس آئی نارکو ٹیریریزم کے ذریعے بھارت میں دہشت گردی کا پیڑ دوبارہ ہرا کرنا چاہتا ہے ۔پنجاب میں خالستان حمایتیوں کی مدد کرنے کے لئے انہیں ہیروئن اور دوسری ڈرگس مہیا کرا کر پھر سے دہشت گردی کو سرگرم کرنے کی کوشش ہے ۔اس سازش کا انکشاف ہونے کے بعد دہلی پولیس اور چوکنی ہے ۔اسپیشل سیل کے پولیس ڈپٹی کمشنر پرمود سنگھ کشواہا نے بتایا دہلی پولیس نے نارکو ٹیریرزم کے پہلے معاملے کا خلاصہ کیا ہے ۔ اور دوسری ایجنسیاں بھی اس کے خلاف مسلسل کاروائی میں لگی رہتی ہیں ۔انہوں نے کئی ماہ کے دوران ایک ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ کی ہیروئین ضبط کی ہے ۔تازہ تین بار کی کاروائی نے این سی بی نے 160کلو ہیروئن پکڑی ۔راجدھانی سے اس سال 844نشہ اسمگلروں کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا اس نے 695معاملے بھی درج کئے ہیں ۔اس میں نارگو ٹیریریزم کا ایک ہی معاملہ تھا اس سازش کا ہر حالت میں پردہ فاش ہونا چاہیے اور اس کو روکنے کی ہر ممکن کاروائی سخت کرنے کی ضرورت ہے ۔این آئی اے سمیت سبھی متاثرہ ریاستوں کی خفیہ ایجنسیوں پولیس اس پر خاص دھیان دے رہی ہے آتنک واد کو بڑھاوا دینے کے ساتھ ساتھ ہمارے نوجوانوں میں بھی نشہ کی عادت بڑھانے کے لئے آئی ایس آئی کی بہت خطرناک چال ہے ۔
(انل نریندر)
زرعی قوانین پر عمل پر روک سپریم کورٹ کو ہی لگانی پڑی
سپریم کورٹ نے تینوں زرعی قوانین کےخلاف کسان تحریک کو تقریباً 52دن ہو رہے ہیں ۔مرکزی سرکار اور کسان انجمنوںکے درمیان آٹھویں دور کی بات چیت نا کام رہی ایسے میں سب کی نگاہیں سپریم کورٹ پر لگی تھیں ۔شاید وہ ہی کوئی راستہ نکالے سپریم کورٹ نے ان زرعی قوانین کے خلاف کسانوںکو منانے میں ناکام رہی مرکزی حکومت کو جم کر پھٹکار لگائی چیف جسٹس ایس اے بووڑے کی بنچ نے کہا کہ سرکار اپنا موقف صا ف کرے کہ وہ قوانین پر عمل روک پائیگی یا نہیں ؟ مگر اگر سرکار ایسا نہیں کرے گی تو خود عدالت اس پر روک لگا دے گی ۔آخر کار اس نے منگل کے روز تینوں زرعی قوانین کو مسئلے کے حل تک ہولڈ پر رکھا ہے ۔اور کمیٹی چار نفری کمیٹی بنا دی ہے جو سبھی فریقین کی بات سن کر فیصلہ کرے گی ۔واضح ہو کہ بڑی عدالت نے مرکزی سرکا ر سے کہا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کسی کے خون کی چھینٹیں ہم پر پڑیں ۔قانون کے عمل پر آپ روک لگائیں ورنہ ہم یہ کام کریں گے ۔عدالت نے یہاں تک کہا تھا کہ ان قوانین کو ٹھنڈے وستے میں ڈالنے میں کیا دکت ہے ۔عدالت نے کسانوں کے خلاف اور اس کے حق میں دائر سبھی عرضیوں پر ایک ساتھ سماعت کی ۔سرکار نے عدالت کو بتایا تھا کہ سبھی فریقین سے بات چیت جاری ہے ۔اس لئے ابھی قوانین پر ابھی روک لگانا صحیح نہیں ہوگا ۔سرکار کے وکیل کی اس دلیل پر چیف جسٹس بووڑے ناراض ہو گئے اور کہا کہ ہم بہت مایوس ہیں ۔کہ پتہ نہیں سرکار اس مسئلے کو کیسے ڈیل کررہی ہے ؟ وہ اب تک ناکام رہی ہے مرکزی سرکار کی طرف سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل کے کے وینیو گوپال نے جب کہا کہ کسان یونینوں نے سرکار کی کئی تجاویز کو مسترد کر دیا اس پر جسٹس بوبڑے اور جسٹس ووپنہ اور جسٹس سبرامنیم کی بنچ نے کہا سرکار جس طرح سے اس معاملے کو دیکھ رہی ہے اس سے ہم بے حد مایوس ہیں ۔سرکار کو ذمہ داری کا ذرا بھی احساس ہے تو اسے زرعی قوانین کو فی الحال نافذ نہیں کرنا چاہیے ۔عدالت نے یہ بھی حیرانی ظاہر کی کہ آخر سرکار تعطل ختم ہونے تک تینوں قوانین پر عمل کیوں نہیں روک رہی ہے ؟ اس پر سرکار وکیل نے کہا کہ قوانین پر روک نہیں لگائی جا سکتی کسی بھی فریقین نے نہیں کہا کہ قانون غیر آئینی ہے کئی ریاستوں کی یونینوں نے مظاہرے میں حصہ نہیں لیا زرعی قانون کے سبب ہڑتال ہوئی اور آپ کو اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔چیف جسٹس نے کہا ہمیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ کوئی شخص کسی دن کچھ ایسا کرے گا جس سے امن وامان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔نئے قوانین کےخلاف احتاج اگر لمبا چلتا ہے تو ہو سکتا ہے کسی دن تشدد بھڑک جائے اور جان مال کا نقصان ہو مگرکچھ غلط ہو تا ہے تو ہم میں سے ہر ایک کے لئے ہر ایک ذمہ دار ہوگا ۔بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مرکزی سرکار مسئلے کا حل نکالنے میں اہل نہیں ہے آپ نے بغیر مشورہ کئے بنا ایسا قانون بنایا جس کا نتیجہ احتجاجی مظاہروں کی شکل میں سامنے آیا کئی ریاستیں احتجاج میں اتر آئی ہیں ۔اس لئے آپ کو تحریک کا حل نکالنا ہی ہوگا ۔ایسی بات کم دیکھنے کو ملی ہے جب سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کو اس طرح کی پھٹکار لگائی ہو جنتا سپریم کورٹ سے انصاف کی امید رکھتی ہے ۔
(انل نریندر)
13 جنوری 2021
کنگنا رنوت پر دیش سے بغاوت کا مقدمہ!
فلم اداکارہ کنگنا رنوت جمعہ کو اپنی بہن رنگولی چندیل کے ساتھ ممبئی کے باندرہ پولس اسٹیشن میں بیان درج کروانے پہونچی تھی اس دوران پولس نے ان سے 2گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی تھی دونوں کے خلاف عدالت کے حکم پر 17اکتوبر 2020کو باندرہ پولس اسٹیشن میں ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا کنگنا رنوت کو پوچھ تاچھ کیلئے تین مرتبہ طلب کیا جا چکا ہے لیکن بھائی کی شادی کی وجہ سے وہ پیش نہیں ہوپائیں تھیں اگر ان کے خلاف پختہ ثبوت ملتے ہیں تو انہیں گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے ایکٹریس پر ہندو مسلم کے نام پر پھوٹ ڈالنے کے الزام لگے ہیں کنگنا کے خلاف اسی طرح سے ایک معاملے میں چمبور (کرناٹک)میں ایک ایف آئی آر ہوئی تھی ان پر کسانوں کی بے عزتی کرنے کے الزام لگے تھے ۔اس سے پہلے 25نومبر کو ممبئی ہائی کورٹ نے کنگنا اور ان کی بہن رنگولی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دونوں کو 8جنوری کو باندرہ پولس اسٹیشن میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا کنگنا نے ویڈیو میں کہا تھا کہ میں نے جب سے دیش کے مفاد میں بات کہ ہے تو میرے اوپر ظلم کئے جارہے ہیں پریشان کیا جارہا ہے یہ پورا دیش دیکھ رہا ہے اس سے پہلے انہوں نےایک ویڈیو جاری کر دعویٰ کیا کہ انہیں اپنے خیالات ظاہر کرنے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے تھانے میں جانے سے پہلے کنگنا نے ٹویٹر پر ایک ویڈیو ڈالا جس میں دعویٰ کیا کہ اہم مسئلوںپر اپنے رائے رکھنے کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور میرا گھر غیر قانونی طریقے سے توڑ ا گیا جب میں کسانون کے مفاد میں بات کرتی ہوں تو میرے خلاف تقریباً روز مقدمہ درج کئے جا رہے ہیں۔ اور مجھے ذہنی و جسمانی طور سے ٹارچر کیا جارہا ہے ۔
(انل نریندر)
راہل سے ڈرتے ہیں دہلی کے حکمران !
شیوسینا نے نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی سرکار کے خلاف کھڑا ہونے کیلئے راہل گاندھی کو اتارتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ دہلی کے حکمران کانگریس لیڈر سے ڈرتے ہیں شیو سینا کے منھ بولے اخبار سامنا کے ایک اداریہ میں کہا گیا ہے یہ اچھی بات ہے کہ راہل گاندھی ایک بار پھر سے پارٹی کے صدر بننے جا رہے ہیں کہا گیا ہے دہلی کے حکمرانوں کو راہل گاندھی سے ڈر لگتا ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو غیر ضروری طور سے گاندھی پریوار کو بدنام کرنے میں سرکار ی مہم نہ چلائی گئی ہوتی اخبار لکھتا ہے کوئی چاہے کہ وہ اکیلے رہیں ،ان سے تانا شاہ کو ڈر لگتا ہے اور اکیلا یودھا زیادہ بااثر ہوگا تو یہ ڈر 100فیصد بڑھ جاتا ہے ۔کانگریس کے ہونے والے صدر راہل گاندھی ہیں یہ سب کو تسلیم کرلینا چاہئے بھاجپا کے پاس نریندر مودی کا متبادل نہیں ہے اور کانگریس کے پاس راہل گاندھی کا متبادل نہیں ہے راہل گاندھی کمزور لیڈر ہیں اور ان کا خوب پروپیگنڈہ کیا گیا لیکن اب بھی وہ کھڑے ہیں اور سرکار پر تیزی سے حملے کر رہے ہیں ۔ شیوسینا کے ذریعے راہل گاندھی کی تعریف سے پہلے سنجے راوت نے کانگریس قیادت والی یو پی اے کو بڑھانے کی اپیل کی تھی ۔ شیو شینا کے ایم پی راوت نے کہا تھا کہ اپوزیشن کو تانا شاہ کے روے کے خلاف متحد ہونا چاہئے اور مودی والی سرکار کے سامنے ایک بڑا چیلینج پیش کر نا چاہئے ۔
(انل نریندر)
پیٹرول ۔ڈیزل کے داموں میں اضافہ مہنگائی کو اور بڑھائے گا
پچھلے کچھ برسوں سے پیٹرول ڈیزل کے قیمتوں میں ٹھہراو¿ نہیں آپارہا ہے ۔حال یہ ہے ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ صبح صبح پتہ چلے کہ آج سے پھر پیٹرول ڈیزل کے دام بڑھ گئے ہیں گزشتہ مہنہ تک جب پیٹرول ڈیزل کے داموں میں اضافہ نہیں کیا گیا تو ایسا لگنے لگا پورے دیش میں کورونا وبا کے دور میںخستہ حال مالی حالت میں اس سے تھوڑی سہولت ہوگی مگر بدھوار سے مسلسل دو دن پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ایک بار پھر لوگوں کی چہرے پر پریشانی کی لکیریں دکھائی دینے لگی ہیں بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کے داموں میں تیزی کو دیکھتے ہوئے آگے بھی اس اضافے کے جاری رہنے کے آثار ہیں اس میں کٹوتی کو فی الحال ایک ہی صورت بنتی نظر آرہی ہے کہ سرکار پیٹرولیم مصنوعات پر ایکسائز ٹیکس گھٹانے کا اعلان کرے وزارت پیٹرولیم نے اس بارے میں وزارت مالیات سے بھی درخواست کی ہے کہ ممکن ہے کہ پہلی فروری 2021کو پیش ہونے ولاے بجٹ میں کچھ اعلان ہو ادھر تیل پروڈکٹس کو دیش کی طرف سے فروری سے کچے تیل پیداوار میں کٹوتی کے پلان کو دیکھتے ہوئے تیل اور مہنگا ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے سرکاری تیل کمپنیوں نے دہلی میں پیٹرول کو 23 پیسے اور ڈیزل کو 26پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا ہے۔پیٹرول کی ریٹیل قیمت ریکارڈ 84.20روپئے لیٹر تک پہونچ گئی ہے ڈیزل 74.30روپے فی لیٹر ہے پچھلے دو دنوں میں پیٹرول 49 پیسے بڑھ کر اپنے ریکارد قیمت سطح پر پہونچ گیا جبکہ ڈیزل 51پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا اس کے پہلے چار اکتوبر 2018کو پیٹرول 84روپے اور ڈیزل 75.45لیٹر کی سطح پر تھا لیکن حالیہ دنوں میں کچے تیل کی قیمت نے اور اضافہ دیکھتے ہوئے ابھی 54روپے ڈالر فی بیرل سے نیچے ہے لیکن کئی بین الاقوامی ایجنسیوں نے اندازہ لگایا ہے کہ سعودی عرب و دیگر تیل مصنوعات پیدا کرنے والے ملکوں کی طرف سے کچے تیل کی پیداوار کو گھٹانے سے کچا تیل فروری مارچ 2021تک 65ڈالر فی بیرل پہونچ سکتا ہے در اصل پیٹرول اور ڈیزل کے دام میں ٹھہراو¿ کسی گزرے زمانے کی بات ہوچکی ہے ۔ کبھی بین الاقوامی مارکیٹ میں کچے تیل کی قیمتوں میں تیزی تو کبھی ایکسائزڈ ٹیکس میں اضافے کے نام پر آئے دن اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اس کا اثر صرف گاڑیوں میں کھپت کے خرچ میں اضافے پر ایندھن سے چلنے والے صنعتوں یا کارخانوں پر نہیں پڑتا بلکہ اس کا سیدھا اثر پوری مارکیٹ پر پڑتا ہے ڈیزل سے چلنے والی خاص کر مال ڈھولائی کرنے ولی گاڑیوں میں سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے یا لے جانے میں زیادہ خرچ ہوتا ہے تو اس کے اثر میں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے پچھلے قریب 10مہینوں کے دوران مکمل لاک ڈاو¿ن اور آہستہ آہستہ اس میں ڈھیل ملنے کے باوجود یہ سچ ہے کہ بازار اب بھی اپنی صحیح رفتار نہیں پکڑ سکا یہ کسی سے چھپا نہیں کہ بڑی تعداد میں صنعتیں یا چھوٹے دھندے یا تو بند ہوگئے ہیں یا انہوں نے مزدوروں کی چھٹنی کردی ہے آج اس نتیجے میں ہم آبادی کے ایک بڑے حصے میں بے روزگاری بڑھی ہے ،آمدنی یو تو ختم ہوگئی یا اس میں آہستہ آہستہ کمی آئی ہے اس کا سیدھا اثر لوگوں کے گھریلو بجٹ پر پڑا ہے ۔ آج ایک درمیانہ طبقے اور مزدوری کرنے والے کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں مل پاتی ایسی صورت میں پیٹرول ڈیزل کا مزید بوجھ ان کی کمر توڑ دے گا ۔
(انل نریندر)
12 جنوری 2021
پاک نے آخر مانا بالا کوٹ میں 300آتنکی مرے تھے!
پاکستان نے آخر مان ہی لیا ہے کہ 26فروری 2019کو بالا کوٹ ایئر اسٹرائک میں 300آتنکی مارے گئے تھے ۔پاکستان کے سابق سفارت کار آغا ہلالی نے ایک ٹی وی شو میں اعتراف کیا کہ 26فروری 2019کو بالا کوٹ پر ہندوستان کی جانب سے کئے گئے ایئر اسٹرائک میں 300آتنکی مارے گئے تھے ۔یہ اعتراف اس سابق سفارتکار کا ہے جو معمولاتی شکل میں ٹی وی بحث میں پاکستانی فوج کی حمایت لیتے ہیں اور ان کا یہ اعتراف پاکستان کے اس دعوے کے بالکل برعکس ہے جس سے عمران سرکار نے کہا تھا ایئر اسٹرائک میں ایک شخص کی بھی موت نہیں ہوئی ۔ہلالی نے کہا تھا بھارت نے بین الاقوامی سرھد پار کرکے جنگ جیسا کام کیا اور اس میں کم سے کم 300آتنکی مارے گئے تھے ۔ہمارا ٹارگیٹ ان سے الگ تھا ہم ان کے بڑے افسران کو نشانہ بنایا مگر ہمارے ذریعے اٹھایا گیا قدم پوری طرح صحیح تھا کیوں کہ وہ فوج کے آدمی تھے ۔ہم نے اس وقت کہا تھا کہ کاروائی میں کوئی مرا نہیں ہے جو بھی کہیں گے ہم اس کو جواب دیںگے ۔ہلالی پاکستان نیوز چینل پر بحث میں بول رہے تھے ان کا سنسنی انکشاف مسلم لیگ نواز کے لیڈ رعیاض صاد ق کے تبصرہ کے بعد آیا ۔بتا دیں کہ صادق نے اکتوبر 2020میں دیش کی قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قرییشی نے ایک میٹنگ میں بتایا تھا کہ اگر پاکستان نے وینک کمانڈر ابھی نندن بردھمان کو رہا نا کیا ہوتا تو بھارت رات نو بجے پاکستان پر حملہ کر دیتا صادق نے کہا تھاکہ جب قریشی ایڈرس پر لیڈروں کی میٹنگ میں یہ جانکاری دے رہے تھے پاکستانی فوج کے چیف قمر باجوا کے پیر کانپ رہے تھے ۔
(انل نریندر)
لشکر کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی پر پاک کی تازہ پینترے بازی!
پاکستان نے ایک بار پھر مالی کاروائی ٹاسک (ایف ٹی ایف) سے بچنے کے لئے دکھاوا کیا ہے اور اس نے ممبئی حملے کے گنہگار اور ممنوعہ آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کا کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی کو پاکستان میں گرفتار کیا گیا اس مرتبہ اس پر اپنے دوا کے کاروبار سے جمع کئے گئے پیسوں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں خرچ کرنے کے الزام میں پکڑا گیا ۔ لکھوی کو 2008میں اقوام متحدہ نے انٹرنیشنل دہشت گرد قرار دے دیا تھا ۔دراصل ایف اے ٹی ایف کے ذریعے بلیک لسٹ کئے جانے سے بچنے کے لئے پاکستان وقتاً فوقتاً ایسی پینترے بازی کرتا رہتا ہے ۔اس ادارے میں اپنی ساک بہتر کرنے کی کوشش میں بے شک لکھوی کی گرفتاری کی گئی ہو وہ پاک حکمرانوں کی قلعی کھولتی ہے ۔اس پر الزام ہے کہ اس نے ایک پرائیویٹ ایجنسی کے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے پیسہ اکھٹا کیا ہے دوسری طرف پاک ایف اے ٹی ایف کے سامنے پچھلے دو سال سے یہ گواہی دے رہا ہے کہ اس نے آتنکی فنڈنگ روکنے کا ہر ممکن راستہ بند کر دیا ہے ۔ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فروری 2021کی میٹنگ میں اس بارے میں صفائی دینی ہوگی اور پاکستان کو یہ بتانا ہوگا کہ ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ پر پاکستانی عدالت میں مقدمہ التوا میں ہے وہ کس طرح سے آتنکی فنڈنگ کررہا تھا ۔الزام بین الاقوامی برادری کے اس اندیشوں کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ پاک میں آتنکی فنڈنگ روکنے کو اب تک کوئی پختہ قدم نہیں اٹھائے گئے ہیں ۔غور طلب ہے کہ ایف ٹی اے ایف نے جون 2018میں پاکستان کو گرہ لسٹ میں شامل کیا تھا ۔ممبئی آتنکی حملے کے معاملے میں چھ سال جیل میں رہنے کے بعد لکھوی 2015میں ضمانت پر آیا اور گھوم رہاتھا حالانکہ اس کی اس گرفتاری کا ممبئی حملے کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ سب کچھ دکھاوے کے لئے کیا جاتا ہے اس بار بھی پاکستان نے ایسا ہی کیا ۔جیل میں گرفتار دہشت گردوں کو آرام دہ سہولیات مل رہی ہیں ۔اس سے پہلے ممبئی آتنکی حملے کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کو آتنکی فنڈنگ کے معاملے میں سزا دینے کا پہلے بھی ناٹک کر چکا ہے ۔بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان میں حافظ سعید اور ممبئی حملے میں گرفتار ذکی الرحمن لکھوی کو سزااور جیش محمد کے سرغنا مسعود اظہر کے خلاف جاری وارنٹ محض دکھاوا ہے ۔یہ کاروائی غیر قانونی لین دین پر نظر رکھنے والی فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس کی فروری میں ہونے والی میٹنگ کو دیکھتے ہوئے کی گئی ہے ۔وزار ت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو نے کہا کہ اس کاروائی کے وقت کا اشارہ صاف ہے کہ پاکستان دکھاوے کے لئے کررہا ہے پاکستان کی دہشت گرد انسداد عدالت نے لکھوی کو 15سال کی سزا سنائی ہے اس سے پہلے حافظ سعید کو بھی ایک معاملے میں سزا سنانے کا ناٹک کر چکا ہے ۔
(انل نریندر)
تاکہ پاگل ٹرمپ نیوکلیائی حملہ نہ کر سکے!
امریکی پارلیمنٹ کمپلیکس (کیپٹل ہل )میں تشدد کے بعد موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی کے رپبلکن ایم پی نے بھی ڈیموکریٹ نمائندوں کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے ان پر مقدمہ چلانے کی مانگ کی ہے ۔یہ اگلے ہفتہ پارلیمنٹ میں آسکتا ہے ۔اس درمیان ٹرمپ کے قریبی چار اوروزراءنے احتجاج میں استعفیٰ دے دئیے ہیں ۔ان میں وزیرتعلیم ٹرانسپورٹ وزیر اور وزیرصحت وغیرہ شامل ہیں ۔یہ تینوں وزیرخاتون ہیں جبکہ وزیرتعلیم دی ووس نے کہا کہ یہ حملہ میرے لئے مایوس کن رہا ٹرانسپورٹ ایلن چاو¿ نے کہا کہ وہ تشدد سے بے حد دکھی ہیں ۔ایسے ہی میکیسہ نے کہا میں مانتی تھی کہ وبا کے چلتے ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار منتقلی تک مجھے وزار ت صحت میں معاون وزیر رہنا چاہیے تھا لیکن جھگڑوں کے بعد میرا ضمیر جاگ گیا ادھر ڈیموکریٹ ممبران کے ذریعے مقدمہ چلانے کی بات کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر حکام نے بھی 25ویں ترمیم کے ذریعے (دفعہ 4)ٹرمپ کو کیبنیٹ سے ہٹانے کے امکان پر غور خوض کیا نائب صدر مائک پینس نے ٹرمپ سے تعلقات خراب ہونے کے بعد بھی ترمیم سے انکار کیا ۔ادھر ایوان نمائندگان کی چیئرمین نینسی پیلوسی نے کہا کہ اگر ٹرمپ نہیں ہٹائے گئے تو نچلا ایوان ان کے خلاف دوسرا مقدمہ لانے پر غور کرے گا امریکی پارلیمنٹ کی نمائندہ ایوان کی اسپیکر پیلوسی نے امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیرمین مارک میشلے سے بات کی انہوں نے ممبران کو خط لکھ کر بتایا کہ ملاقات کا مقصد پاگل موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کہیں بھی فوجی کاروائی یا نیکلائی حملہ کرنے سے روکنے کے لئے دستیاب متبادل پر تبادلہ خیال کرنا تھا ۔ٹرمپ کی میعاد ختم ہونے میں ایک ہفتہ سے کم وقت بچا ہے لیکن کیپٹل ہل میں تشدد کے بعد ڈیموکریٹ اور رپبلکن پارٹی کے صدر کی صفائی کے بعد بھی انہیں ہٹانے کو لیکر غورکر رہے ہیں ۔پلوسی نے اخباری نمائندوں سے کہا میں نائب صدر پینس اور کیب نیٹ کے دیگر لیڈروں کے فیصلہ کا انتظار کر رہی ہوں ۔اور ٹرمپ کو کچھ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ٹرمپ کے قریبی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا صدر کو تشدد کے اپنے رول کو تسلیم کر لینا چاہیے ۔اور ٹرمپ کو سمجھانا چاہیے ان کا قدم پریشانی کھڑا کرنے والا ہے مسئلے کا حل نہیں ایسے ہی ایک اور قریبی سارامینیوس اور کانگریس ممبر ارن بھلو مینئیور نے بھی ٹرمپ پر مقدمہ چلانے کی مانگ کی ۔ٹرمپ حمایتیوں کی تشدد کو امریکہ کی تاریخ میں کالا دن بتاتے ہوئے منتخب صدر جو بائیڈن نے کہا کہ موجودہ صدر کے ذریعے جمہوریت کی خلاف ورزی کے سبب حالات بگڑے ہیں اور جھگڑے کا واقعہ اور کوئی احتجا ج نہیں بلکہ بدامنی تھی ۔اس میں مظاہرین نہیں تھے وہ بنائی گئی بھیڑ کے تھے ۔وہ دیش کے امریکی کام میں دخل اندازی مانا جاتا ہے ۔ہم نے یہ سب کبھی نہیں دیکھا لیکن یہ سچ نہیں ہے ۔
(انل نریندر )
10 جنوری 2021
کورونا ختم نہیں ہوا برڈ فلو کی نئی آفت آگئی !
کورونا وائر س کا خطرہ ابھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوا تھا کہ دیش میں اب نئی بیماری پھیل گئی ہے جسے برڈ فلو کہتے ہیں ۔ اس بیماری سے کئی ریاستوں میں دہشت کا ماحول بن گیا ہے اب تک پانچ ریاستوں میں یہ پھیل چکا ہے ان میں راجستھان ہریانہ ہماچل مدھی پردیش اور کیرل وغیرہ شامل ہیں شکر ہے دہلی اس سے بچا ہوا ہے مرکزی وزیر پشو پالن سنجیو بالیان نے بتایا کہ یہ اےوین انفلونزا پرندوں سے انسانوں میں پھیل سکتا ہے لیکن راحت کی بات یہ ہے کہ ابھی ایسا کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملا لیکن ایوین انفلونز ا کا بھی کوئی علاج نہیں ہے ان ریاستوں میں ہزاروں کی تعدادمیں مرغیوں کی موت ہونے کے بعد سرکار نے صورتحال پر قابو پانے کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں خاص بات یہ ہے کہ برڈ فلو کے چلتے ہماچل میں دوسری ریاستوں سے آئے پرندوں کے مارے جانے کی بھی خبر ہے اور دہلی میں کافی تعداد میں کوو¿ں کی موت ہوئی ہے ہماچل میں تو مچھلی مرغا انڈوں کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی ہے اس طرح اس بیماری کو ریاستی سرکار نے قدرتی آفت اعلان کردیا ہے ہماچل سرکار کا یہ قدم کورونا کے ابتدائی معاملوں کے سامنے آنے کے بعد فوری ایکشن جیسا ہے تشویش کی بات یہ ہے محذ تین مہینے پہلے 30ستمبر 2020کو دیش کو برڈ فلو کی بیماری سے نجات ڈکلیر کیا گیا تھا لیکن جس طرح سے ساو¿تھ انڈیا سے لیکر نارتھ کی ریاستوں میں برڈ فلو کے مریض سامنے آئے ہیں وہ یہ دکھاتے ہیں کہ کسی طرح کی لاپرواہی سے حالات خراب ہوسکتے ہیں ۔ ویسے برڈ فلو وائرس کا انفیکش عام طور پر انسانوں میں نہیں ہوتا یہ پرندوں اورجانوروں کے ذریعے انسانوں میں پہونچ سکتا ہے سرکار کو اسے روکنے کیلئے جلد سے جلد قدم اٹھانے ہونگے ہوسکے تو اس کیلئے قومی سطح ایک گائیڈ لائنس یا بلٹین جاری کیا جانا چاہئے جن ریاستوں میں معاملے زیادہ سنگین ہیں وہ الگ سے کچھ اسپتالوں کو مریضوں کے لئے تیار کرنے اور اس بیماری سے نمٹنے والے اسپیشل افسران اور ملازمین کی تعیناتی سے حالات پر قابو پا یا جاسکتا ہے ۔اس سے جنتا میں ڈر بھی نہیں پھیلے گا اور یقینی طور پر یہ وقت ہم سبھی کیلئے چنوتی بھرا ہے کورونا ابھی قائدے سے ختم بھی نہیں ہوا ہے لیکن دوسری بیماری برڈ فلو کے پیر پھیلانے سے دشواریاں فطری طور سے بڑھتی دکھائی دے رہی ہےں۔صحت کے محاذ پر برڈ فلو ایک چنوتی ہے اس سے مرغی مچھلی پالن کاروبار پر بھی اثر پڑناطے ہے اس وقت قومی کمرشیل مشن گائڈ لائن کی تعمیل کرتے ہوئے یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ایوین انفلئنزہ کا انفیکشن اور نہ پھیلے۔
(انل نریندر)
اب ایک اور نربھیا جیسا کانڈ!
اتر پردیش کے بدایوں میں 50سالہ آنگن واڑی مددگار خاتون کی گینگ ریپ کے بعد قتل کے واقعہ کی بربریت نے ایک بار پھر نربھیا کانڈ کی یاد تازہ کردی ہے ۔ یہ واردات حیران کرنے والی تو ہے ہی ہے لیکن پولس کا رویہ زیادہ ٹال مٹولی اور پریشان کرنے والا ہے دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ بد قسمت آنگن واڈی معاون استانی (مددگار)جس کی آمدنی سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ مندر میں پوجا کرنے گئی تھی جہاں مہنت او ر اس کے چیلوں نے عورت کے ساتھ ظلم زیادتی کرتے ہوئے بربریت کی ساری حدیں پار کردیں بتایا جاتا ہے کہ 7سال پہلے اس مندر میں آیا مہنت تنتر منتر کرتا تھا اور وہ عورت ذہنی طور سے بیمار شوہر کی صحت یابی کے لئے اس کے پاس آتی جاتی تھی ۔اتوار کی شام وہ عورت جب گاو¿ں کے مندر میں پوجا کرنے گئی جب کافی دیر تک گھر نہیں لوٹی تو گھر کے لوگ پریشان ہوگئے بعد میں رات 11:30مندر کا پجاری اور دیگر دو لوگوں کے ساتھ بری طرح زخمی حالت میں اس عورت کو گھر کے پاس ڈال کر بھاگ گئے اس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا جس کی وجہ سے آخر اس کی موت ہوگئی صرف اتنے پر ہی نہیں معاملہ ختم ہوتا بلکہ پولس کو فوراً حرکت میں آکر معاملہ کی تفتیش کرنی چاہئے تھی۔ لیکن اس نے توجہ نہیں دی اس کی اس لاپرواہی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ رات میں ہی رشتہ داروں کی شکایت کے بعد بھی پولس اگلے دن پہونچی اور رپورٹ تک نہیں درج کی گئی ۔ حالانکہ پوسٹ مارتم رپورٹ میںبھی عورت سے اجتماعی آبرو ریزی اور گھناونے طریقے اس کے قتل کے الزامات کی تصدیق ہوئی ہے رپورٹ کے مطابق اس کے پوشیدہ اعضاءپر بری طرح سے زخمی تھے اور لوہے کی چھڑسے گہری چوٹ پہونچائی گئی تھی اور اس کا ایک پیر توڑ دیا گیا تھا مانا پولس کی یہی بے توجہی و لاپرواہی مجرمانہ سے کم نہیں ہے بتایا جاتا ہے خبر پھیلنے پر اس نے طاقت کے ساتھ انتم سنسکار کردیا ۔پولس کا یہی رویہ ہاتھرس کے واقعہ میں بھی دیکھا گیا تھا حالانکہ لاپرواہی برتنے کے الزام میں تھانے کے انچارج کو معطل کردیا گیا اور وزیر اعلیٰ نے معاملے کی ایس آئی ٹی جانچ کے احکامات دیئے ہیں ۔ لیکن ویکاش دوبے انکاو¿نٹر ،غازی آباد کے پترکار وکرم جوشی کے قتل بلیا میں راشن کی دوکان کے لائسنس کے معاملے میں قتل میں ارو بدایوں جیسے کئی معاملے سامنے آئے ہیں ۔ جس سے مقامی پولس کے لا پرواہی کے رول کی نشان دہی کرتے ہیں پولس اور انتظامیہ کی لاپروہی کی وجہ سے جرائم پیشہ کے بڑھتے حوصلے ایسے ریاست کی تصویر پیش کر رہے ہیں جہاں ریاست کو جرائم سے پاک کرنے کا دعویٰ بڑھ چڑھ کر کیا جاتا ہے ۔ عورتوں کی حفاظت اور عزت کی دوہائی دیکر بہت سے قوانین نافذ کئے جار ہے ہیں مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ دن رات اتر پردیش میں عورتوں کی زندگی غیر محفوظ اور پریشان کن ہوتی جارہی ہے سماجی سطح پر حالات ایسے ہوچکے ہیں کہ مندر جیسی پوتر عبادت گاہیں کو عورت نے سب سے محفوظ جگہ مانا ہوگا جہاں بھی اس کے خلاف ایسا گھناونا جرم ہوا اس سے جینے کا حق چھین لیا گیا بدایوں کی دردناک واردات یہ بھی بتاتی ہے نربھیا جیسی وردات کے بعد بھی سماج میں کچھ نہیں بدلا اور پھانسی جیسی سخت سزا جرائم پیشہ میں جنسی جرائم کے تئیں خوف پید اکرنے میں ناکام رہی ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...