Translater

22 اپریل 2017

وزیر اعظم نریندر مودی کے دونوں ہاتھوں میں لڈو

بابری مسجد مسماری معاملہ میں سی بی آئی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عزت مآب سپریم کورٹ نے اب بھاجپا کے سینئر لیڈروں شری لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت دوسرے کئی بھاجپا نیتاؤں کے خلاف مقدمہ چلانے کا جو حکم دیا ہے وہ ایک بڑا فیصلہ تو ہے ہی ساتھ ساتھ اس کے نفع نقصانات بھی وسیع ہیں۔ عدالت نے مانا ہے کہ کیس میں پہلے ہی کافی دیر ہوچکی ہے اس لئے اب روز سماعت کرکے اسے دو سال کے اندر نپٹانا ہوگا۔ معاملہ کورائے بریلی سے لکھنؤ اسپیشل کورٹ منتقل کردیا گیا ہے۔ بڑی عدالت اب تک ہوئی تاخیر پر کتنی سنجیدہ ہے یہ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سماعت پوری نہ ہونے تک اس سے وابستہ کسی بھی جج کا نہ تو تبادلہ ہوگا اور نہ ہی بغیر کسی ٹھوس وجہ کے سماعت نہ ٹالے جانے جیسے انتظامات بھی ساتھ ساتھ کردئے ہیں۔ 13 ملزمان میں سے 3 کا دیہانت ہوچکا ہے اس لئے مقدمہ 10 کے خلاف ہی چلے گا ان میں سے بھی ایک یوپی کے اس وقت کے وزیر اعلی ابھی راجستھان کے گورنر ہیں اس لئے ان کے خلاف فی الحال مقدمہ ان کے عہدے سے ہٹنے کے بعد ہی چلایا جائے گا۔ سپریم کورٹ اس معاملہ کو لیکر کافی سنجیدہ ہے۔ خیال رہے 6 دسمبر 1992ء کو ہزاروں کی تعداد میں کار سیوکوں نے ایودھیا پہنچ کر بابری ڈھانچہ گرادیا تھا جس کے بعد دیش بھر میں فرقہ وارانہ دنگے ہوئے تھے۔ بابری مسماری کے بعد دو ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔ ایک ان گمنام کارسیوکوں کے خلاف جنہوں نے متنازعہ ڈھانچے کو گرایا تھا اور دوسری اشتعال انگیز بیانات دینے اور نفرت پھیلانے کے الزام میں بی جے پی، شیو سینا، وشو ہندو پریشدکے سینئر لیڈروں کے خلاف بابری ڈھانچہ ڈھائے جانے کے پیچھے دلیل یہ تھی کہ یہ رام مندر کو توڑ کر بنائی گئی ہے اور یہ وہاں موجود ہے جہاں بھگوان رام کا جنم ہوا تھا۔ اس طرح یہ ہندو عقیدت کا سوال بن گیا ہے۔25 برسوں سے لٹکا یہ معاملہ اگر آگے بھی سلجھ نہ پایا تو عوام میں الجھن برقرار رہے گی اور فرقہ وارانہ کشیدگی بنی رہے گی۔ اس لحاظ سے یہ ملکی مفاد میں ہی ہے کہ یہ تنازعہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل ہوجائے۔ زمین جائیداد کا معاملہ الگ ہے اور سپریم کورٹ نے اسے آپسی بات چیت سے سلجھانے کی صلاح سبھی فریقین کو دے دی ہے۔ بیشک سی بی آئی نے مقدمہ کرانے کی صلاح تو دے دی ہے لیکن 25 سال پرانے اس معاملہ کے ثبوت اور دستاویزات اکھٹے کر اسے دلیل کے ساتھ رکھنا اس کے لئے چنوتی ہوگی۔ اسی طرح معاملے میں مرکزی سرکار کو بھی اپنا موقف رکھنا ہوگا۔ اس نے ایودھیا میں رام مندر تعمیر کو بھلے ہی اپنی ترجیحات میں رکھا ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس معاملہ میں عدالت کی ہدایت کے مطابق چلے گی کیونکہ سینئر عدالت نے بابری مسجد معاملہ میں بھاجپا کے سینئر لیڈروں کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ چلائے جانے کی ہدایت دینے کے ساتھ مقدمہ کی روز سماعت کرنے اور پوری کارروائی دو سال میں ختم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایسے میں، مرکزی سرکار کے لئے یہ امتحان کی گھڑی ہے کہ سی بی آئی کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اس معاملہ کو وہ کس طرح اس کی قانونی جواز تک پہنچاتی ہے؟ کچھ لوگ سی بی آئی کے ذریعے مقدمہ چلانے کی ٹائمنگ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ تب آیا ہے جب اگلے صدارتی چناؤ کی کارروائی شروع ہونے والی ہے۔ آر جے ڈی لیڈر لالو پرساد یادو نے تبصرہ کیا ہے کہ یہ سب اڈوانی کے نام کو راشٹرپتی کے عہدے کی امیدواری سے کاٹے جانے کے لئے پی ایم کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ بھلے ہی مجرمانہ معاملہ چلتا رہنے کے دوران چناؤ لڑنے پر روک نہیں ہے لیکن لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے نیتاؤں کے لئے مجرمانہ ساش کا مقدمہ زبردست جھٹکا مانا جاسکتا ہے۔ دراصل یہ دونوں بزرگ لیڈر جولائی میں ہونے والے صدارتی چناؤ کی امیدواری کے دور میں شامل ہیں۔ ان قیاس آرائیوں کو تب تقویت ملی جب بھوبنیشور میں بھاجپا کی قومی ایگزیکٹو کی میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی جوشی کورات کے کھانے پر مدعو کیا تھا لیکن وزیر مالیات ارون جیٹلی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم سے کسی صدر کے چناؤ لڑنے کے امکانات ختم نہیں ہوتے۔ حالانکہ پارٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے ان نیتاؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے اس لئے اخلاقی بنیادپر صدر کے عہدے کے امیدوار کے لئے نیتاؤں کے نام کی بحث کے امکانات مدھم پڑ گئے ہیں۔ آئینی ماہر سبھاش کشیپ نے کہا کیونکہ ان نیتاؤں پر محض مجرمانہ سازش کا الزام ہے اس لئے ان کے چناؤ لڑنے پر کسی طرح کی روک نہیں لگائی جاسکتی۔ سابق ایڈیشنل سالسٹر جنرل سدھارتھ لوتھرا کہتے ہیں کہ معاملہ کو اب صرف اخلاقیات کی کسوٹی پر دیکھنا ہوگا۔ قانون میں کہیں بھی چناؤ لڑنے پرروک نہیں ہے، لیکن معاملہ اخلاقیات کا ہے۔ کسی کے خلاف فوجداری کیس اگر التوا میں ہے تو چناؤ لڑنے پر روک نہیں ہے، اتنا ہی نہیں اگر کوئی صدر یا گورنر چن بھی لیا جاتا ہے تو اسے آئین کے سیکشن 361 کے تحت چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ یعنی اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں چل سکتی۔ سوال صدر کے عہدے کے چناؤ کا ہے اور یہاں اخلاقیات کا سوال اہم ہے کیونکہ ایسے عہدے کے لئے ان لوگوں کو چناؤ میں نہیں لانا چاہئے جن کے خلاف دو فرقوں میں نفرت پھیلانے والے اشتعال انگیز بیانات و بابری ڈھانچہ کو گرانے کی سازش کا الزام ہے۔ انہوں نے کہا صدر کے عہدے کا وقار ہے اور ان الزامات کے خلاف اس عہدے کے لئے چناؤلڑنا اخلاقیات کے خلاف ہے۔ شکایتی کوئی شخص نہیں ہے بلکہ سی بی آئی کی اپیل پر سپریم کورٹ نے یہ حکم پاس کیا ہے۔ ایسے میں کورٹ نے جب سازش کے الزامات کے معاملہ میں بھی ٹرائل چلانے کی بات کہی ہے تو اب صدر کی امیدواری کی قیاس آرائیوں پر روک لگنا ہی بہتر متبادل ہوگا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دونوں ہاتھوں میں لڈو دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ صدی میں 90 کی دہائی میں سب سے بڑا سیاسی اشو رام مندر تھا۔ اب اگلے دو سال تک پھر سے مرکزی سیاست کا مرکز ایودھیا اشو ہی ہوگا۔ فیصلے کے بعد اس مسئلہ کے نئے سرے سے گرمانے کے آثار ہیں کیونکہ یومیہ سماعت ہوگی اور سپریم کورٹ کے ذریعے فیصلے کے لئے طے دو سال کا وقت ٹھیک اگلے لوک سبھا چناؤ کے دوران اپریل سال2019ء میں ختم ہوگا ایسے میں بھی رام مندر اشو 2019ء کے لوک سبھا چناؤ کے دوران پھر سے سب سے بڑا اشو بن سکتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں۔
(انل نریندر)

21 اپریل 2017

مالیہ کے خلاف برطانیہ میں قانونی کارروائی شروع

بینکوں کا 9 ہزار کروڑ روپیہ کا قرض نہ چکانے و جعلسازی کے الزام میں گھرے بھگوڑے ہندوستانی کاروباری وجے مالیہ کو لندن میں گرفتار کرلیا گیاساتھ ہی ضمانت بھی مل گئی۔ حکومت ہند کی حوالگی کی درخواست پر لندن پولیس یعنی اسکاٹ لینڈ یارڈ نے منگلوار کو گرفتار کر ویسٹ مسٹر کی عدالت میں پیش کیا لیکن تین گھنٹے بعد ہی انہیں ضمانت مل گئی۔ عدالت میں ان کی حوالگی کے معاملی کی سماعت ہوگی۔ ہندوستانی بینکوں کے9 ہزار کروڑ روپیہ سے زیادہ کی دینداری کاسامنا کررہے مالیہ بھارت میں مطلوب مجرم قرار دے دئے گئے ہیں اور پچھلے دو ماہ سے لندن میں رہ رہے ہیں۔ وجے مالیہ کو سخت شرطوں پر ضمانت ملی ہے۔ عدالت نے انہیں تقریباً 5.36 کروڑ روپے کی ضمانت پر رہا کیا ہے۔ معاملہ کی اگلی سماعت17 مئی کو ہونی ہے اور تب تک مالیہ کو برطانیہ کی حوالگی قواعد کی سختی سی تعمیل کرنی ہوگی۔ اس طرح انہیں اس وقت تک موجودہ پتہ پر ہی رہنا ہوگا جسے انہوں نے عدالت میں درج کرایا ہے۔ لندن میں مالیہ کے خلاف کارروائی بھارت کے ذریعے ڈپلومیٹک دباؤ کا نتیجہ ہے۔ وجے مالیہ کی حوالگی کے معاملہ میں برطانوی حکومت نے اپنے وعدے پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ دراصل پچھلے سال نومبر میں بھارت کے دورہ پر آئی برطانیہ کی وزیر اعظم ٹیریزا نے اس معاملہ میں تعاون کرنے کا یقین دلایا تھا۔ اسی کے بعد برطانوی حکومت نے مالیہ کی ہندوستان کو حوالگی کی مانگ کو قبول کرتے ہوئے وہاں کے آئین کے مطابق معاملہ کو مقامی کورٹ میں ٹرانسفر کیا تھا۔ وجے مالیہ کو بھارت واپس لانے کیلئے بھارت سرکار کو لمبی جدوجہد کرنی ہوگی۔ یہ تو اس کڑی کا پہلا قدم ہے۔ حوالگی کی کارروائی کافی پیچیدہ و لمبی ہے۔ برطانیہ نے بھارت کو حوالگی کے معاملہ میں سیکنڈ کیٹیگری کے ملکوں میں رکھا ہوا ہے۔ اس کے تحت حوالگی کی کارروائی سخت اور لمبی ہے۔ برطانیہ کے ساتھ بھارت کے قریب 10 بھگوڑے جرائم پیشہ کی حوالگی کے معاملہ پہلے ہی التوا میں پڑے ہوئے ہیں۔ بھارت کو صرف وجے مالیہ کا ہی انتظار نہیں ہے بلکہ کئی ایسے لوگ ہیں جو برطانیہ میں رہ رہے ہیں۔ کئی معاملوں کو برطانوی حکومت خارج کر چکی ہے۔ 
حال ہی میں جو 10 حوالگی کی درخواستیں التوا میں ہیں ان میں خاص ہے للت مودی، بی سی سی آئی میں مالی گڑبڑی کے ملزم۔ 2009ء سے برطانیہ میں رہ رہا موسیقار ندیم سیفی گلشن کمار کے قتل کی سازش کا ملزم ہے ،کی حوالگی کا بھارت کیس ہار چکا ہے۔ سٹہ باز سجیو چاولہ جو میچ فکسنگ معاملہ میں ساؤتھ افریقی کرکٹر ہینسی کرونیے سے کروڑوں روپے کے لین دین و ان کے علاوہ راجیش کپور، اتل سنگھ، راجکمار پٹیل، جتیندر کمار وغیرہ وغیرہ معاملے التوا میں ہیں۔ فی الحال تو اتنا ہی اکتفا کیا جائے کہ برطانیہ میں مالیہ کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہوگئی ہے۔
(انل نریندر)

کیا صرف جینیرک دواؤں سے ہی ہیلتھ سیکٹر سدھرجائے گا

وزیر اعظم نریندر مودی کے سورت میں دئے گئے اس بیان کا خیر مقدم ہے کہ جنتا کو سستی دوا دستیاب ہو اور اس کے لئے ان کی حکومت کام کررہی ہے۔ آج کے وقت میں جن کے پاس زیادہ پیسہ نہیں ہے اس خاندان میں کوئی بیماری آجائے تو وہ علاج کے بوجھ کے تلے دب جاتا ہے۔ دوائیوں اور دیگر میڈیکل سازو سامان جن میں ہسپتال بھی شامل ہے،کے دام اتنے زیادہ ہیں کہ مریضوں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ دیش میں سستی دوائیں دستیاب ہیں لیکن مریضوں تک ان کی پہنچ نہیں ہے۔ دوا کمپنیاں اور زیادہ تر ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے سستی جنیرک دواؤں پر برانڈڈ دوائیں حاوی ہورہی ہیں۔ نجی کمپنیاں جنیرک اور برانڈڈ دونوں ہی طرح کی دوائیں بناتی ہیں مگر جینیرک دواؤں کی مارکنگ نہیں ہوتی اور منظم طریقے سے اسے مریضوں تک پہنچانے سے روک دیا جاتا ہے۔ اگر حکومت اس سلسلے میں قانون بناتی ہے تو یقینی طور سے عام جنتا کو اس کا فائدہ ملے گا۔دوا دکانوں پر سستی جینیرک دوائیں ملتی ہیں نہیں، ان کی دلیل ہے کہ مریض خریدتا ہی نہیں۔ مریض اس لئے نہیں خریدتا کیونکہ ڈاکٹر لکھتے ہی نہیں۔ جب ڈاکٹر لکھیں گے ہی نہیں تو کیمسٹ کے پاس ڈیمانڈ نہیں آتی۔ جینیرک وہ دوا ہے جسے اس کی بنیادی سالٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ دوائیں جن کے پیٹنٹ ختم ہوچکے ہوتے ہیں ایسی دوائیں جو صرف ایک سالٹ سے بنی ہوں۔ امریکہ یا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق جس دوا کا پیٹنٹ ختم ہوچکا ہو مگر بھارت کے سلسلہ میں پیٹنٹ اشو نہیں ہے۔ ادھر پچھلے دس سال میں آئی کچھ نئی دواؤں کو چھوڑدیا جائے تو دیش میں تمام دوائیں پیٹنٹ کے بغیر ہی بن رہی ہیں حالانکہ نریندر مودی سرکار نے قریب 700 دواؤں کو سستا کیا ہے لیکن کم ہی ڈاکٹر ہیں جو اس فہرست کی دوا لکھتے ہیں۔ ڈاکٹروں، ہسپتالوں اور دوا بنانے والوں کی ملی بھگت کی وجہ سے عام آدمی کے علاج کے نام پر اتنا استحصال ہورہا ہے جس کا پہلے شاید کبھی تصور نہ کیاگیا ہو۔ پچھلے تین دہائی سے ہیلتھ سروس کے بڑھتے نجی کرن اور کمرشلائزیشن کے سبب ڈاکٹروں نے برانڈڈ دباؤ کا پرچہ چلا رکھا ہے۔اس سے دوا کمپنیوں کی آمدنی بڑھی ہے اور ڈاکٹروں کا کمیشن بھی بڑھا ہے جبکہ عام آدمی رشتہ داروں کی بیماری میں اپنا گھر بار گروی رکھ رکھا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم کا یہ کہنا معاملہ کے لئے امید پیدا کرتا ہے کہ دیش کے ڈاکٹرجینیرک دوائیں لکھیں۔ اس کے لئے جلد قانون بنے گا۔ اس قانون کو جتنی جلدی سامنے لایا جائے اتنا ہی اچھا ہے۔ صرف قانون بنانے سے ہی سب کچھ ٹھیک نہیں ہوجائے گا بلکہ ایسا مانا جاسکتا ہے اب تک یہ کمیشن اور تحفوں کی عادت ڈاکٹروں کی دور نہیں ہوتی تب تک سستی دواؤں کی امید رکھنا مشکل ہے۔
(انل نریندر)

20 اپریل 2017

کلائمکس پر پہنچتا دہلی میونسپل چناؤ

دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں مشکل سے تین دن باقی بچے ہیں۔ ایتواریعنی 23 اپریل کو ووٹ پڑیں گے۔ دہلی میں ہونے والے میونسپل چناؤ میں 1.10لاکھ سے زائد رائے دہندگان پہلی مرتبہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔اس لحاظ سے اس بار میونسپل چناؤ میں نوجوان ووٹروں کی سانجھے داری کافی اہم مانی جارہی ہے۔ بلدیاتی اداروں کے لئے حال ہی میں کی گئی حد بندی کے بعد یہ پہلا ایم سی ڈی چناؤ ہے۔110639 ووٹروں میں سے جو پہلی بار اپنی رائے دہی کا استعمال کریں گے میں سے24825 ایسے ووٹر ہیں جو ابھی ابھی 18 سال کے ہوئے ہیں۔میونسپل چناؤ کے آخری دنوں میں پارٹی کے اسٹار کمپینروں کی طاقت بھی دکھائی دینے لگی ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی سمیت کئی بڑے نیتا اپنی اپنی پارٹیوں کے لئے راجدھانی آنے والے ہیں۔ ایتوار کو بھی سبھی پارٹیوں نے چھٹی کے دن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی بڑی ریلیاں اور جلسوں کا اہتمام کیا۔ دہلی کانگریس صدر اجے ماکن ،سابق وزیر جے رام رمیش سمیت کئی دیگر کانگریسی ہستیوں نے الگ الگ علاقوں میں ریلیوں سے خطاب کیا۔ وہیں دہلی بھاجپا پردھان منوج تیواری نے صوفی گلوکار ہنسراج ہنس اور ہیما مالنی کو ساتھ لیکر الگ الگ علاقوں میں کمپین کی جبکہ عام آدمی پارٹی کے امیدواروں نے پد یاترائیں اور عوامی رابطہ کمپین چلائی۔ چناؤ کمپین کے آخری دنوں میں پارٹیوں کی اسکیم پوری طاقت جھونکنے کی ہے۔ اس میں بھاجپا کی جانب سے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی سمیت کئی مرکزی وزراء، بڑے نیتا شامل ہونے والے ہیں۔ بھاجپا اپنے اسٹار کمپینروں کی پوری ٹیم اتاردی ہے وہیں کانگریس نے بھی کمپین کے لئے90 اسٹار کمپینروں کی فہرست تیار کی ہے۔ ان میں پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ و نوجوت سنگھ سدھو وغیرہ شامل ہیں۔ ادھر دہلی اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے بھی ایم سی ڈی چناؤ میں لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے دہلی سے تعلق رکھنے والی کئی نامور ہستیوں کو خط لکھا ہے۔ ان میں فلم اسٹار اکشے کمار، پریتی زنٹا کے ساتھ ساتھ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے دو تین بڑے کھلاڑیوں سے بھی چناؤ کمیشن نے رابطہ قائم کا ہے اور ان سے ایک اپیل ریکارڈ کرانے کی گزارش کی ہے۔ الیکشن کمیشن پہلی بار اس طرح کی پہل ایم سی ڈی چناؤ میں کررہا ہے پہلے لوک سبھا اور ودھان سبھا چناؤ میں ایسا ہوا کرتا تھا۔ وہ دن لد گئے جب کمپین کے لئے آٹو رکشہ یا سائیکل رکشہ لیکر علاقو ں میں کمپین چلا کرتی تھی اب تو ایم سی ڈی کے سبھی وارڈوں میں ای۔ رکشہ کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ ان میں فلمی گیت یا دیش بھکتی گیت بجاتے ہوئے رکشہ آج کل پوری دہلی میں کمپین کرتے گھوم رہے ہیں۔ ان سے امیدواروں کو فائدہ ہورہا ہے تو رکشہ والوں کی بھی کمائی ہورہی ہے۔ کچھ سال پہلے تک حال یہ رہا تھا کہ ایم سی ڈی یا دیگر چناؤ کے لئے امیدواروں کو آٹو رکشہ کرائے پر لینا ہوتے تھے یاسائیکل رکشہ کمپین کے لئے اتارنا پڑتا تھا لیکن ایم سی ڈی چناؤ میں اب کمپین کا طریقہ بدل گیا ہے ان رکشاؤں کے تینوں طرف امیدواروں کے پوسٹر لگے ہوئے دکھائی پڑتے ہیں اور آگے پیچھے لاؤڈ اسپیکر بندھے ہوئے نظر آتے ہیں، اندر ایک شخص بیٹھا ہوا کمپین کا سسٹم بجا رہا ہے۔ چناؤ ضابطے کے مطابق ایک وارڈ میں دو گاڑیوں سے کمپین چلائی جاسکتی ہے۔ان رکشاؤں سے کمپین کا فائدہ یہ ہے کہ یہ سبھی گلی کوچوں میں گھوم آتے ہیں۔ 600 سے زائد یومیہ کرائے سے12 گھنٹے کمپین کرتے ہیں۔ بتادیں تینوں ایم سی ڈ ی میں2012 میں بھاجپا کی اکثریت تھی۔ نارتھ دہلی میں بھاجپا کے 59 ، کانگریس 29 و دیگر 16 کارپوریٹر جیتے تھے۔ ساؤتھ دہلی میں بھاجپا،44، کانگریس 26 اور 34 دیگر پارٹیوں کے کونسلر تھے۔ ایسٹ دہلی میں 39 بھاجپا، 19 کانگریس و 6 دیگر کارپوریٹر چن کر آئے تھے۔دیکھیں ایتوار کو ہونے والے چناؤ میں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے۔
(انل نریندر)

اپوزیشن پارٹیوں کی ایکتا بنی ای وی ایم مشین

ای وی ایم تو اپوزیشن اتحاد کا اشو بن گیا ہے۔ ای وی ایم مشین کے ذریعے مبینہ طور پر غلط ووٹ پڑنے پر حریف پارٹیاں پارلیمنٹ سے لیکر سڑکوں تک ایک ساتھ نظر آئیں۔ الیکشن کمیشن اور صدر کے یہاں جاکر بھی اپوزیشن پارٹیوں کے نمائندہ وفد نے اتحاد دکھایا۔ ای وی ایم کے خلاف بولنے کی شروعات کرنے والی مایاوتی نے اشو کو پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا جس پر جم کر ہنگامہ ہوا۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال تو آئے دن اس مسئلے کو اٹھاتے رہتے ہی ہیں اب تو مایاوتی کی حریف رہی سماجوادی پارٹی کے نیتا اکھلیش یادو نے بھی اپنی آواز اٹھادی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پارٹی کی ورکنگ کمیٹی میں اس کا ذکر بھی کیا۔بھوبنیشور میں پارٹی کی قومی ایگزیکٹو کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ای وی ایم سمیت ایوارڈ واپسی کے اشو پر بھی حریف پارٹیوں کو جم کر تردید کا نشانہ بنایا۔ حریف پارٹیوں کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اپوزیشن پارٹیوں کی فیکٹری کی اپج ہے جو ٹھہر نہیں سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد صرف سرکار بدلنا نہیں بلکہ سماج کو بدلنا ہے۔ای وی ایم سمیت ایوارڈ واپسی کے اشو پر انہوں نے کہا کہ کچھ اشو زبردستی بنائے جاتے ہیں ان کا مقصد وہ اشو قطعی نہیں ہوتا ہے ۔ای وی ایم بھی ایسا ہی اشو ہے اس سے پہلے گرجا گھروں پر حملے ،ایوارڈ واپسی کو اشو بنایا گیا تھا۔ پی ایم نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ایوارڈ واپسی والے کہاں ہیں؟ ایسے اشو زیادہ وقت تک نہیں ٹک سکتے۔ جہاں تک چناؤ کمیشن کا سوال ہے اس کی پوزیشن کبھی کبھی کنفیوز ضرور کر دیتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے مرکزی سرکار سے درخواست کی ہے کہ وہ پیپر ٹریل مشینوں کے بروقت خرید کے لئے فوری پیسہ جاری کریں تاکہ 2019ء کے لوک سبھا چناؤ میں ان مشینوں کواستعمال میں لایا جاسکے۔ زیدی نے یہ بھی کہا توہین عدالت کی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے چناؤ کمیشن کو وہ وقت و میعاد بتانے کی ہدایت دی ہے جس کے اندر وی وی پی اے ٹی کے پوری سسٹم کو عمل میں لایا جائے گا۔ سی ای سی نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ موجودہ ماحول سے ان کا مقصد کیا ہے؟ لیکن لگتا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے ای وی ایم کے بھروسہ پر سوال اٹھانے کا حوالہ دے رہے تھے۔ دیش کی 16 پارٹیوں نے حال ہی میں زیادہ شفافیت لانے کے لئے پرچی والے سسٹم کو پھر سے شروع کرنے کی اپیل کی تھی۔ اپنے خط میں زیدی نے یہ یاد دلایا کہ وہ سرکار کو پہلے ہی مطلع کر چکا ہے کہ وی پی اے ٹی کی سپلائی کے لئے آرڈر فروری2017ء تک نہیں دیا گیا تو ستمبر 2018ء تک وی پی اے ٹی کی سپلائی مشکل ہوجائے گی۔چناؤ کمیشن کو 2019ء کے لوک سبھا چناؤ میں سبھی پولنگ مرکزوں کو کور کرنے کیلئے 16 لاکھ سے زیادہ پیپر ٹریل مشینوں کی ضرورت ہوگی۔ اس پر3174 کروڑ روپے کی لاگت آنے کا امکان ہے۔
(انل نریندر)

19 اپریل 2017

راجیہ رانی ایکسپریس حادثہ آتنکی سازش تو نہیں

میرٹھ ۔لکھنؤ راجیہ رانی ایکسپریس سنیچر کی صبح قریب 8 بجے رامپور سے دو کلو میٹر پہلے ہی کوسی ندی پل کے پاس تیز دھماکے سے پٹری سے اتر گئی۔ حادثہ میں ٹرین کے 12 ڈبے پٹری سے اتر گئے اس میں سے ایک کوچ پلٹ کر یکدم الٹا ہوگیا۔ اس سے مسافروں میں کہرام مچ گیا۔ حادثہ میں 65 مسافر زخمی ہوگئے۔ غنیمت رہا کہ ٹرین کی سپیڈ کم تھی ورنہ کئی جانیں جا سکتی تھیں۔ابتدائی جانچ میں پٹری ٹوٹنے کی بات سامنے آرہی ہے۔ حادثہ اتنا زبردست تھا کہ تقریباً 280 کلو میٹر ریلوے ٹریک تباہ ہوگئی۔ اس سے قریب 260 میٹر کے دائرے میں ریل ٹریک کے سلیپر بھی پوری طرح سے ڈیمیج ہوگئے۔ حادثہ کی وجہ تو جانچ کے بعد ہی پتہ لگ سکے گی لیکن حادثہ میں ایک بار پھر سوال کھڑا کردیا ہے کہ کہیں یہ کوئی آتنکی سازش تو نہیں ہے۔ رامپور کا ریلوے اسٹیشن ہو یا پھر سی آر پی ایف سینٹر، آتنک وادیوں کے نشانے پر ہیں۔ کئی بار اس کو لیکر انٹیلی جنس بیورو الرٹ جاری کرچکی ہے۔ 31 دسمبر 2007 ء کو بھی سی آر پی ایف گروپ سینٹر پر بھی آتنکی حملہ ہوچکا ہے۔ اس کے ملزم یہاں کورٹ میں پیشی پر آتے ہیں۔ لہٰذا کہیں نہ کہیں رامپور دہشت گردوں کے نشانے پر ہے وہیں ماضی گزشتہ میں کانپور میں ریل پٹری کاٹ کر ٹرین پلٹ دی گئی تھی۔ سکیورٹی ایجنسیوں کی جانچ سے صاف ہوا ہے کہ اس واردات کو دہشت گردوں نے انجام دیاتھا۔ اس کے بعد چندوسی میں یہی واقعہ دوہرانے کی کوشش کی گئی اب رام پور میں راجیہ رانی ایکسپریس پلٹنے کی بات سامنے آرہی ہے لہٰذا سوال اٹھنا لازمی ہے کہ یہ آتنکی سازش تو نہیں ہے؟ کانپور حادثہ میں پکڑے گئے مشتبہ نے پوچھ تاچھ میں بتایا تھا کہ یوپی میں آئی ایس آئی کے ممبر سرگرم ہیں جو ریل حادثے کریں گے۔ اب رامپور کے پاس ہوئے ریل حادثہ نے پھر سے آئی ایس آئی کی طرف شک کی سوئی گھما دی ہے حالانکہ حکام کا کہنا ہے جہاں راجیہ رانی اتری ہے وہاں پر ڈاؤن لائن کا ایک ٹکرا الگ ملا ہے۔ پہلی نظر میں جانچ میں پٹری ٹوٹنے کا حادثہ مانا جارہا ہے۔ یوپی پولیس نے کہا ہے کہ جہاں حادثہ ہوا ہے وہاں ریل ٹریک کا 3 فٹ حصہ غائب ہے۔ ایسے میں توڑ پھوڑ کے اندیشہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ موقعہ واردات کا دورہ کرنے والے رامپور کے ایس پی نے کہا کہ پٹری ٹوٹی ہوئی ملی ہے اور اس کا کچھ حصہ زمین میں دبا ہوا تھا، توڑ پھوڑ کے اندیشہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ حادثہ کے بعد جانچ اور پھر کارروائی کیلئے ضابطہ ہدایت کے علاوہ ریلوے کچھ سدھرنے کا نام نہیں لے رہا ہے کیونکہ برج گھاٹ میں ریل پٹری سے اترنے کے بعد کئی حادثے ہوچکے ہیں۔ وزیر ریل سریش پربھو نے وہی ٹکا سا جواب دے دیا ہے حادثہ کے اسباب کا پتہ لگانے کے لئے جانچ کے احکامات دے دئے گئے ہیں اور کسی بھی چوک کے ذمہ دار کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
(انل نریندر)

اڈیشہ کی جنتا نے مودی کو سرآنکھوں پر بٹھایا

مشن اڈیشہ کو لیکر بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایگزیکٹیو میٹنگ اڈیشہ سمیت کور منڈل زون میں پارٹی کے اثر کو بڑھانے کے خاکہ پر تبادلہ خیال ہوا۔ قابل ذکر ہے کہ پارٹی ابتدائی طور پر اڈیشہ میں جانی جاتی تھی لیکن اس بار فضا بدل گئی تھی پانچ ریاستوں میں پارٹی کی اہم ترین جیت کا اثر صاف نظرآیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا بھوبنیشور میں جو روڈ شو ہوا اس میں وارانسی کے روڈ شو کی بھی یاد دلا دی تھی۔ لوگوں کا سیلاب امڑ پڑا اور وزیر اعظم کی پوری گاڑی پھولوں سے بھر گئی۔ لو گ مودی زندہ باد، مودی زندہ باد کے آسمان چھوٹے نعرے لگا رہے تھے۔ اس روڈ شو کو بھاجپا کی بڑھتی طاقت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے اور بھوبنیشور نے اس کی کامیابی میں نہ صرف نوین پٹنائک حکومت کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ پورے دیش کے اپوزیشن ایک بار پھر سے بیک فٹ پر آگئی ہے۔ روڈ شو میں بھاجپا کے تئیں یہ جوش پچھلے دنوں کی یوپی لہر کو ظاہر کررہا ہے۔ ادھر قومی ایگزیکٹیو کی میٹنگ اس وقت ہوئی جب بھاجپا نے اترپردیش۔ اتراکھنڈ میں زبردست جیت درج کی ہے ساتھ ہی گووا اور منی پور میں سرکار بنانے میں کامیاب رہی ہے۔پارٹی کی حکمت عملی صاف ہے اڈیشہ میں پٹنائک مخالف لہر کا فائدہ اٹھانا اور ریاست میں بھی بھاجپا کی حکومت لانا اور ساتھ ہی اس کے ساتھ 2019ء کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں جیت کے لئے بھی ابھی سے تیاری میں لگ جانا۔ مودی سرکار کے اگلے مہینے (مئی میں) تین سال پورے ہونے جارہے ہیں۔ اس موقعہ پر حکومت نے دیش کی جنتا کو اپنے کارنامہ بتانے کی تیاری شروع کردی ہے۔ ہر سال کی طرح سبھی مرکزی وزیر دیش بھر میں جا جا کر اپنی کیبنٹ کے کاموں کو تو بتائیں گے ہی ساتھ ساتھ بتائیں گے کہ روزگار، ٹرانسپورٹ، سروس سیکٹر کو بھی فروغ دینے کے لئے سرکار نے اگلے دو سال کا روڈ میپ بھی تیار کرلیا ہے۔ پانچ ریاستوں میں ملی جیت کو پارٹی صدر امت شاہ نے پریوار واد ، ذات پرستی اور خوش آمدی کی سیاست کو عوام کے ذریعے مسترد کئے جانے کا مطلب ہے کہ اب پالیٹکس آف پرفارمنس (کارکردگی کی سیاست) کا وقت آگیا ہے۔ جسے سب کو قبول کرلینا چاہئے۔ بھاجپا کو دیش کے سبھی صوبوں میں مضبوطی کے ساتھ قائم کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ بھاجپا کے عروج کے دور کو بھارت کے سنہرہ دور سے جڑ کر دیکھا جانا چاہئے اور دنیا میں بھارت کو سب سے اعلی مقام دلانے کے بعد ہی بھاجپا کا عروج کا دور آسکتا ہے۔ بتادیں کہ اڈیشہ میں حال ہی کے بلدیاتی چناؤ میں بھاجپا نے207 ضلع پریش سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ کانگریس 60 ضلع پریشد سیٹیں ہی جیتنے میں کامیاب رہی۔ حکمراں بیجو جنتا دل حالانکہ بڑھت بنائے رکھنے میں کامیاب رہی ہے اور اس نے 473 سیٹیں حاصل کی ہیں۔
(انل نریندر)

18 اپریل 2017

لات،گھونسے برستے رہے، نہیں چھوڑاصبر کا دامن

کشمیر وادی میں سی آر پی ایف جوانوں کے ساتھ بدتمیزی اور تشدد کے تین ویڈیو وائل ہونے کے بعد دیش بھر میں عام لوگوں میں غصے کی لہر دوڑنا فطری ہے۔ پہلے ویڈیو میں ایک کشمیری نوجوان کے سر پر زبردست حملہ کرتے ہوئے دکھایاگیا ہے تو دوسرے میں ایک لڑکا جوان کے ذریعے ہاتھ میں پکڑے ہیلمٹ کو پیر مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے، تیسرے ویڈیو میں کچھ لڑکوں کے ذریعے جوانوں کو الٹے سیدھے لفظ کہتے اور ان کا مذاق اڑاتے اور انہیں لات گھونسوں سے مارتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ تینوں ویڈیو میں حملہ آور ’بھارت واپس جاؤ ‘ کے نعرے لگا کر بدسلوکی کررہے ہیں لیکن جوان ہاتھوں میں رائفلیں ہونے کے باوجودکوئی جوابی کارروائی کئے بغیر انہیں خاموش کراتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان ویڈیو میں نہ صرف جہاں یہ دکھایا گیا کہ گمراہ کشمیری نوجوانوں کے کس حد تک حوصلے بڑھ چکے ہیں، وہیں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ہمارے جوان بے عزتی کا گھونٹ پیتے ہوئے کن مشکل حالات کا سامنا کررہے ہیں۔بدقسمتی یہ ہے اس سب کے باوجود عدالتوں سے لیکر سیاسی پارٹیوں کی جانب سے انہیں ہی صبر سے کام لینے کی نصیحت دینے سے باز نہیں آتیں۔باقی باتیں چھوڑ بھی دیں تو خود حفاظت کا حق تو سب کو ہے۔ عدالت بھی اس اصول کو مانتی ہے۔ اگر آپ پر حملہ ہو تو آپ جوابی حملہ کرسکتے ہیں لیکن ہمارے بیچارے جوانوں سے تو یہ بھی حق چھین لیا گیا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر سرکار کی پالیسی کیا ہے؟ کیا اس طرح ہمارے بہادر جوان بے عزت ہوتے رہیں گے ،پٹتے رہیں گے؟ یہ تشفی کی بات ہے کہ کھیل دنیاسے جڑے نام اب کھل کر جوانوں کی سلامتی پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔ ہندوستانی کرکٹر ویریندر سہواگ اور گوتم گمبھیر نے کشمیر وادی میں ضمنی چناؤ کے دوران سی آر پی ایف جوانوں پر حملہ پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ گمبھیر نے جمعرات کو ٹوئٹ کیا ’ہماری فوج کے جوانوں کو لگے ہر طمانچہ کے بدلے کم سے کم 100جہادیوں کی جانیں جانی چاہئیں جسے آزادی چاہئے وہاں سے فوراً چلا جائے‘۔ سہواگ نے لکھا ہے یہ ناقابل قبول ہے۔ ہمارے سی آر پی ایف کے جوانوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جانا چاہئے، اس پرروک لگنی چاہئے۔ بدتمیزی کی حد ہے۔ اولمپک میڈل ونر پہلوان یوگیشور دت نے فوج کی تنقید کرنے والوں پر نشانہ لگاتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ سیلاب سے بچاؤ ، پھر پتھر کھاؤ جب کچھ لوگوں کو پریشانی نہیں ہے اب فوج نے مارا نہیں بس ہاتھ پیرے باندھ دئے تو پریشانی کی حالت ہوگئی ہے۔ جموں و کشمیر میں فوج کے جوانوں کے ساتھ کشمیری نوجوانوں کے ذریعے کئے گئے بدتمیزی کے برتاؤ کے خلاف احتجاج میں بالی ووڈ بھی کھڑا ہوگیا ہے۔ فلم اداکار انوپم کھیر، فرحان اختر، کمل ہاسن، رندیپ ہڈا نے سی آر پی ایف جوانوں کی حمایت کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہوئے بیجا برتاؤ کی سخت مذمت کی ہے۔ فرحان اختر نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے: فٹیج میں دکھائی دے رہا ہے کہ ہمارے جوانوں کو تھپڑ مارا جارہا ہے اور پیٹا جارہا ہے یہ تکلیف دہ ہے۔ ان کا صبر لائق تحسین ہے لیکن ایسا کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہئے۔ ساؤتھ انڈین سپر سٹار کمل ہاسن نے لکھا ہے :بھارت کو یونیفائڈ کرے اور مرے فوجیوں کی بے عزتی کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے۔ انوپم کھیر نے ویڈیو پوسٹ پر لکھا ہے کہ ایک پرامن شخص کی شکل میں میں فوج کے صبر کی تعریف کرتا ہوں لیکن پھر بھی کہتا ہوں کہ ہمارے فوجیوں سے پنگا نہ لیں۔بلا شبہ ہمارے فوجیوں کو ناگزیں حالات کا سامنا کرنا آنا چاہئے لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔پھر بھی کشمیر وادی میں تعینات جوانوں کو ہر حال میں صبر کا مظاہرہ کرنے کی نصیحت دی جاتی رہی ہے اور اس کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے کہ بھارت مخالف عناصر کا حوصلہ کس طرح اپنی حدیں پار کرگیا ہے تو پھر فوج اور سکیورٹی فورس کا اقبال ختم ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ اچھاہوگا کہ کشمیر میں سنگین ہوتے حالات کو لیکر سچ کا سامنا کیا جائے اور وہ بھی پورے عزم کے ساتھ۔
(انل نریندر)

ڈونلڈ ٹرمپ، براک اوبامہ نہیں ہیں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جمعرات کو افغانستان کے اتھن ضلع میں جو بڑا بم گرایا گیا تھا اس کی گونج افغانستان ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں سنائی پڑی۔ ٹرمپ نے آئی ایس کے ٹھکانوں پر جو بم گرایا اس سے ساری دنیا کو یہ پیغام بھی دے دیا گیا کہ براک اوبامہ عہد کے کم سے کم مداخلت کی پالیسی اب ختم کردی گئی ہے۔ ٹرمپ نے اوبامہ انتظامیہ کی کچھ پالیسیوں میں تبدیلی کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ مثلاً انہوں نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو ایک بار پھر دہشت گرد گروپوں کے خلاف ڈرون حملوں کا اختیار دے دیا ہے۔ اس سے پہلے یہ اختیار امریکہ کے ڈیفنس محکمے کے پاس تھا اور سی آئی اے صرف خفیہ جانکاریاں اکٹھا کرنے کے لئے ڈرون کا استعمال کرتی تھی۔ اب سی آئی اے پینٹاگان یا وائٹ ہاؤس کی اجازت کے بغیر بھی ڈرون حملہ کرسکتی ہے ۔قابل غور ہے کہ اوبامہ انتظامیہ کے آخری 8 مہینوں میں ڈرون حملے بند تھے۔ امریکہ اب پھر سے خارجہ پالیسی کو جارحانہ انداز میں واپس لے آیا ہے۔ افغانستان کی سطح پر دیکھیں تو یہ پیغام ساری دنیا میں پہنچ ہی گیا ہوگا کہ ناظرین تک جنگ سے لڑتے رہے اس سندیش کو امریکہ نے اپنے حال پر نہیں چھوڑدیا۔ پچھلے کافی عرصے سے یہ قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ جلد ہی طالبان اور اسلامک اسٹیٹ جیسی تنظیم افغانستان پر قابض ہوجائیں گی۔ امریکہ نے بتادیا ہے کہ ایسی حالت میں وہ تماشائی بن کر نہیں بیٹھے گا۔ ساتھ ہی شام اور روس کو بھی یہ سندیش بھیج دیا ہے کہ آئی ایس سے لڑائی صرف انہی کے بھروسے نہیں چھوڑی گئی ہے۔ امریکہ اس سے اپنے ڈھنگ سے نپٹے گا۔ اسی کے ساتھ ایک اور سندیش چین اور نارتھ کوریا کے لئے بھی ہے۔ خبر ہے کہ نارتھ کوریا ایک اور نیوکلیائی تجربہ کرنے جارہا ہے۔ امریکہ نے جہاں یہ پیغام دیا ہے کہ اس بار وہ معاملے میں چین کے بھروسے چھوڑ کر خاموش نہیں بیٹھے گا ادھر نارتھ کوریائی فوج کے سی ایم نے جمعہ کو کہا کہ اگر امریکہ نے کوئی بھڑکاؤ کارروائی کی تو وہ نڈر ہوکر جواب دے گی۔ فوج نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی اور بلیک میل کے راستے پر اتر آئے ہیں۔چین کے وزیر خارجہ وانگ چی نے بھی جمعہ کو کہا کہ نارتھ کوریا کو لیکر کسی بھی لمحہ جنگ چھڑ سکتی ہے۔ انہوں نے امریکہ کو بھی وارننگ دی ہے کہ کسی جنگ میں کوئی ونر نہیں ہوتا۔ چین نے نارتھ کوریا کو بھی نیوکلیائی تجربہ کرنے کو لیکر آگاہ کیا ہے۔ اتنا تو طے ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ براک اوبامہ نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...