Translater

02 مئی 2014

اب کانگریس کا فوکس چناؤ بعد مودی کو روکنا ہے!

کانگریس نے ایک طرح سے اس لوک سبھا چناؤ2014ء میں اپنی ہار مان لی ہے۔ یہ ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کیونکہ کانگریس نے چناؤ کے بعد سرکار کے بارے میں رونما واقعات پر اب اپنی زیادہ توجہ دینی شروع کردی ہے۔ کانگریس نے صاف کردیا ہے کہ اگر وہ چناؤ ہارگئی تو وہ بھاجپا کا کھیل بگاڑنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔اس کے لئے چناؤ بعد بننے والے تیسرے مورچے کی سرکار کو باہر سے حمایت دینے سے لیکر اس میں شامل ہونے تک کے تمام متبادل کو کھلا رکھا ہے۔ کانگریس لیڈر مودی کو چناؤ بعد بھی وزیر اعظم بننے سے روکنے کے لئے پوری کوشش کرے گی۔ کانگریس کے لیڈروں کے بیانوں سے صاف ہوگیا ہے ۔ذرائع کی مانیں اگر این ڈی اے 220 سے230 سیٹوں پر سمٹ جاتی ہے تو کانگریس غیر این ڈی اے پارٹیوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی حکمت عملی پر کام کرے گی بشرطیکہ اس صورت میں کمانگریس کے پاس بھی 100 سے120 سیٹیں ہوں۔ کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی کو 140 کے آس پاس سیٹیں ملتی ہیں تو وہ204 کی طرح این ڈی اے مخالف اتحاد کی قیادت کرنے کے رول میں آسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس علاقائی پارٹیوں کو اس طرح کے اشارے بھی دے رہی ہے کہ انہیں مودی کی لیڈر شپ سے کہیں زیادہ توجہ کانگریس کی قیادت میں ملے گی۔ ذرائع نے کہا اگر کانگریس کنگ میکر کے رول میں نہیں آتی ہے تو بھی پی ایم عہدے کو لیکر اس کا موقف لچیلا ہے۔ وہ خود کو علاقائی پارٹیوں کے لئے بھاجپا سے بہتر متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ کپل سبل ،مہاراشٹر میں پرتھوی راج چوہان اور یوپی میں سلمان خورشید نے یہ ہی بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی ہے۔ پارٹی کے لوگ مانتے ہیں کہ اگراین ڈی اے225 سیٹوں تک سمٹ گیا تو بھی باقی اکثریت حاصل کرنے کے لئے اسے مودی کو میدان سے ہٹانا ہوگا کیونکہ ان کے نام پر جے للتا بھلے ہی متفق ہوجائیں لیکن ممتا اور مایاوتی کسی بھی حال میں رضا مند نہیں ہوں گی کیونکہ یوپی اور بنگال میں یہ دونوں ہی ہیں۔ جہاں تک مسلم ووٹروں کا سوال ہے کسی بھی حال میں انہیں نظرانداز نہیں کرسکتیں جبکہ سپا ۔ لیفٹ تو کبھی بھی بھاجپا کا ساتھ نہیں دینے والے ہیں اور نتیش نے تو مودی سے تازہ دشمنی لے لی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کانگریسی سرکردہ لیڈر مسلم اکثریتی علاقوں میں اس بات کا اشارہ کررہے ہیں کہ اگر وہ کانگریس کو ووٹ نہیں دے سکے یا نہ دینا چاہیں تو وہ ایسی پارٹی ایسے امیدوار کی حمایت کریں جو بھاجپا کو روک سکتے ہیں اور کسی بھی حال میں چناؤ بعد بھاجپا سے ہاتھ ملا سکیں۔ بہرحال ایک دلچسپ رپورٹ بہار کے بارے میں شائع ہوئی ہے دربھنگہ: ہم بہاری لڑکے اب کسی اودھو یا راج ٹھاکرے کے ذلالت سہنے والے نہیں۔ ہمارا ضمیر تو کانپ جاتا ہے۔ ہماری روح کانپ جاتی ہے جب ہم ممبئی یا مہاراشٹر میں امتحان دینے کی بات آتی ہے۔ یہ ہی نظریہ بہار سمیت ان ریاستوں کے لڑکوں کا ہے جو علاقائی واد کے شکار ہیں لیکن اب مودی کی لہر ایسے نوجوانوں میں بھی بھروسہ اور امید جگا رہی ہے تبھی تو دربھنگہ کے راج میدا ن میں مودی کی تقریرسننے کے بعد نوجوان کہتے ہیں کہ ہمیں بہار میں ہیں ترقی کے مواقع ملیں تاکہ ہمیں ممبئی یا کسی اور جگہ کا رخ نہ کرنا پڑے۔ مرکز میں تو ہمیں ایک طاقتورپی ایم چاہئے جو ترقی کرسکے اور ہمارے لڑکوں کی امید کو پورا کرسکے اس لئے مودی کو بھی ایک موقعہ دینے میں ہرج کیا ہے؟ نوجوانوں نے کہا کہ اس بار ہم امیدوار نہیں نریندر مودی کا منہ دیکھ رہے ہیں۔ لڑکوں کو امید ہے کہ مودی ترقی کو سبھی ریاستوں میں پہنچائیں گے تاکہ نوجوانوں کا مستقبل بہتر ہو ہم اس اندھیرے کی کال کوٹھری سے باہر نکلیں۔مودی نوجوانوں کے ہیروں ہیں اور اگر انہوں نے ووٹ مودی کو دیا تو کانگریس کی ساری اسکیمیں دھری رہ جائیں گی۔
(انل نریندر)

نتیش کی حکمت عملی اور لالو رابڑی کی ساکھ داؤ پر لگی!

بہار میں تین مرحلوں میں پولنگ ہونے کے بعد چناوی تصویر بہت کچھ صاف ہوگئی ہے۔ 20 سیٹوں پر ابھی پولنگ ہونا باقی ہے۔ ان میں سے7 سیٹوں پر 7 مئی کو ووٹ پڑیں گے۔ یہ سیٹیں ہیں سیہور، سیتامڑی،مظفر پور، مہاراج گنج، سارنگ، حاجی پور اور اجیارپور۔ بہار اس مرتبہ کثیر ذات پرستی اوریکدم ترقی کے ساتھ کئی فیصلے کرنے جارہا ہے۔ ذات پرستی کا کارڈ چلا تو لالو پرساد یادو کو فائدہ اور ترقی کا کارڈ چلا تو نریندر مودی۔اگرداؤ پر ہے تو وہ نتیش کمار کی حکمت عملی، جہاں سے بھاجپا پوری طرح سے نریندر مودی لہر پر منحصر ہے۔ وہیں لالو نے ایم وائی تجزیوں کو پٹری پر لانے کی پرزور کوشش کی ہے تو نتیش کمار کی پارٹی جنتادل (یو) یہاں ووٹوں کے پولارائزیشن کو لیکر پھنسی ہوئی ہے۔ بہار میں چائے اور پان کی دوکان سے لیکرریل گاڑی میں مونگ پھلی بیچنے والوں تک کے لئے فی الحال یہ ہی ٹائم پاس ہے۔ لیکن کون کہاں سے جیتے گا اس سے زیادہ بحث نتیش کمار اور جنتادل (یو ) حکمت عملی پر ہورہی ہے۔ جے ڈی یو کے بھاجپا سے الگ ہونے کے نتیش کے فیصلے کی تنقید ہورہی ہے جسے اقلیتی ووٹوں کے لئے نتیش اور ان کی پارٹی نے بازی کھیلی۔ وہ طبقہ نتیش سے زیادہ لالو پرساد یادو پر بھروسہ کرتا لگ رہا ہے۔ ایسے میں جنتادل(یو) زیادہ تو حلقوں پر تیسرے کھلاڑی کے طور پر مانی جارہی ہے۔ آج بہار کی دو اہم سیٹوں کی بات کررہا ہوں۔ بہار کی سارنگ پارلیمانی سیٹ پر سابق وزیر اعلی رابڑی دیوی میدان میں ہیں انہیں لالو پرساد یادو کی پارلیمانی وراثت سنبھالنے کے لئے ایک بار پھر اگنی پریکشا کے دور سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ جب چارہ گھوٹالے میں پھنسنے کے بعد لالو پرساد پہلی بار جیل گئے تھے تو انہوں نے چولہا چوکا سنبھالنے والی اور سیاست کی اے بی سی ڈی نہ جاننے والی اپنی بیوی رابڑی دیوی کو ریاست کے وزیر اعلی کی کرسی سونپ دی تھی۔ ٹھیک اسی طرح چارہ گھوٹالے میں سزا ہونے کے بعد لالو کے چناؤ لڑنے پرپابندی لگی تو انہوں نے اپنی سیٹ سے رابڑی کو چناؤ میدان میں اتاردیا۔ وہیں یہاں لالو سے پچھلے دو چناؤ ہارنے والے راجیو پرتاپ روڑی کو بھاجپا نے پھر سے رابڑی دیوی کے خلاف میدان میں اتاردیا ہے۔ 1996ء میں روڑی پریوار کامیاب ہوئے اور واجپئی سرکار میں وزیر بنے۔فی الحال پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری کا ذمہ سنبھالنے والے نمو کے نورتن میں شامل روڑی کو چناؤ جیتنے پرمرکز میں اہم وزارت ملنے کاپروپگنڈہ زور شور سے کیا جارہا ہے۔رابڑی روڑی کے علاوہ تیسریامیدوار جنتا دل(یو) کے سلیم پرویز ہیں جو پچھلی بار بسپا سے جڑے تھے۔ تب کامیاب ہوئے لالو یادو کو2 لاکھ74 ہزار ووٹ اور جبکہ روڑی کو2 لاکھ22 ہزار ووٹ ملے تھے۔ اب ہم چلتے ہیں بہار کی دوسری اہم سیٹ حاجی پور۔ سب کو چونکاتے ہوئے اچانک بھاجپا اور این ڈی اے کے جہاز پر سوار لوک جن شکتی پارٹی کے نیتا رام ولاس پاسوان حاجی پور سے اپنے اور پرایوں کے جھگڑے میں الجھے ہوئے ہیں اور اسی سے اپنی جیت کا راستہ تلاش رہے ہیں۔ کل تک جو آر جے ڈی ورکر اور حمایتی پاسوان کا جھنڈا اٹھا رہے تھے آج وہ ان کے خلاف مورچہ لگائے نظر آرہے ہیں۔ پاسوان کے خلاف ایک طرف موجودہ ایم پی اور جنتادل(یو ) کے امیدوار 93 سالہ رام سندر ہیں تو دوسری طرف کانگریس کے امیدوار سنجیو ٹوہنی بھی خم ٹھوک رہے ہیں۔ تذکرہ تو یہ بھی ہے کہ بہار کی سیاست کے دو مخالف مکھیہ منتری نتیش کمار اور آر جے ڈی چیف لالو یادو پاسوان کے خلاف اندر خانے ہاتھ بھی ملا لیں تو کوئی تعجب نہ ہوگا۔ اصل لڑائی بہار میں مودی بنام لالو بنام نتیش ہے اور داؤ پر زیادہ ساکھ لالو اور نتیش کمار کی لگی ہے۔
(انل نریندر)

01 مئی 2014

کنفیوز کجریوال کولگتے جھٹکے پر جھٹکے!

اروند کیجریوال کو دسمبر میں جوغیر متوقع شاندار کامیابی ملی تھی اور جنتا نے ان سے جو امیدلگائی ہوئی تھی وہ اب آہستہ آہستہ ہوا ہوتی جارہی ہے۔ خود کیجریوال جس ارادے سے دہلی کے وزیر اعلی کے کرسی کو لات مار کر وارانسی پہنچے اور قومی سیاست میں دھماکہ کرنے کا وہ خواب ٹوٹتا نظر آرہا ہے۔ پچھلے دنوں کیجریوال اینڈ کمپنی کو دوہرا جھٹکا لگا پہلا وارانسی سے اور دوسرالکھنؤ سے۔ پہلے وارانسی کی بات کرتے ہیں مختار انصاری کے چناوی میدان سے ہٹنے کے بعد وارانسی سیٹ سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ مسلم ووٹوں کو اپنی طرف کھینچنے کیلئے اروند کیجریوال نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا۔ ان کی ساری امیدیں ان مسلم ووٹوں پر لگی ہوئی تھیں۔ ’آپ‘ حمایتی امید لگا بیٹھے تھے کہ اروند کیجریوال کی صاف ستھری ساکھ کے علاوہ قومی ایکتا دل کے حمایتیوں کا کانگریس کے مقابلے کیجریوال کے تئیں نرم رخ ہے اور یہ بڑی تعداد میں ان کی طرف آجائیں گے اور نریندر مودی کے خلاف چناؤ میں ان کی حمایت کریں گے لیکن منگل کے روز کانگریس امیدوار اجے رائے کو اپنی حمایت کا اعلان کردیا۔ کانگریس کے قومی نیتاؤں سے لمبی بات چیت کے بعد قومی ایکتا دل کے زونل پردھان محمد سلیم کے مکان پر اخبار نویسوں سے بات چیت میں قومی ایکتا دل کے قومی صدر و سابق وزیر افضال انصاری نے کانگریس کو حمایت دینے کا اعلان کردیا اور کہا کہ ہم نے سانجھہ امیدوار کے اشو پر سبھی سیاسی پارٹیوں کو خط لکھا مگر کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ مجبوراًمودی کو بنارس میں رکنے کے لئے میں نے چناوی میدان سے قومی ایکتا دل کے امیدوار مختار انصاری کو چناؤ میدان سے ہٹا لیا۔ ان کا فیصلہ بڑا فیصلہ تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کانگریس کے قومی سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ سمیت کانگریس کے بڑے لیڈروں نے مجھ سے رابطہ قائم کیا۔ دوسرا جھٹکا کیجریوال کو تب لگا جب عام آدمی پارٹی کے بانی ممبر اور قومی کونسل کے نمائندے اشونی اپادھیائے اور 2400 دیگر پارٹی کے ممبران نے پارٹی چھوڑ دی۔ اپادھیائے نے الزام لگایا کہ جس نظریئے کو لیکر عام آدمی پارٹی بنی تھی اور جس سے راغب ہوکر تمام لوگ پارٹی سے جڑے تھے، وہ کہیں کھو گئی ہے اور عام آدمی خود کو ٹھگا محسوس کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی کے چلتے پارٹی کے 8 وارڈ کے کنوینر 40 مقامی امیدواروں سمیت 2400 ورکروں نے باقاعدہ پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اپادھیائے نے آپ کے بانی ممبر منیش سسودیا، یوگیند یادو، میدھا پاٹکر، ویرا سانیال، اور شازیہ علمی پر سنگین الزام لگاتے ہوئے اروند کیجریوال سے 22 سوال پوچھے۔ انہوں نے پوچھا کہ جن لوک پال بل کے لئے کیجریوال نے جان بوجھ کر غیر آئینی راستے کو کیوں چنا؟ دہلی لوک آیکت کو کیوں مضبوط نہیں کیا گیا؛ اس کے علاوہ ریفرنڈم کرائے بغیر وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ کیوں دیا؟ اپادھیائے نے کانگریس سے سانٹھ گانٹھ کا الزام لگاتے ہوئے کہا آپ نے کرپشن مخالف اور اقتدار مخالف رجحان والے ووٹ بانٹنے کے لئے 455 امیدوار کھڑے کئے ہیں جبکہ بھاجپا نے410، کانگریس نے اس سے بھی کم امیدوار کھڑے کئے ہیں، اس کے لئے پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ انہوں نے دعوی کیا کہ سسودیا کے کبیر فاؤنڈیشن کا رجسٹریشن 2007ء میں ہوا تھا پھر انہوں نے2005ء میں فورڈ فاؤنڈیشن سے 44 لاکھ اور 2006 ء میں 32 لاکھ روپے کیسے حاصل کئے؟ اپادھیائے نے یہ بھی سوال کیا کیجریوال کی پارٹی راجستھان میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کو زمین گھوٹالے کے معاملے میں کلین چٹ دینے والے یدھویر سنگھ کو حصار لوک سبھا سیٹ سے امیدوار بنایا؟ لگتا ہے کہ کیجریوال آج کل کنفیوز ہوگئے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے پہلے انہیں لوگوں کی رائے لینی چاہئے تھی، دو دن بعد کہتے ہیں کہ امبانی اڈانی کو جیب میں لیکر گھومنے والوں نے ان کی سرکار گرائی۔ کیجریوال کرپشن اور کالی کمائی کی مخالفت تو کرتے ہیں لیکن ووٹروں سے کہتے ہیں کہ اپوزیشن پارٹی رشوت میں کمبل، ساڑی وغیرہ دیں گے وہ لے لو لیکن ووٹ جھاڑو کو ہی دینا۔ آگے سنئے کہتے ہیں کہ کانگریس میں سودے بازی ہوگئی ہے اس لئے کانگریس مودی پر اور بھاجپا گاندھی خاندان کے خلاف نہ تو ان کے حلقوں میں کمپین کررہی ہے اور نہ ہی کچھ بول رہے ہیں لگتا ہے کہ کیجریوال نہ تو ٹی وی دیکھ رہے ہیں اور نہ ہی نیوز پیپر۔ جھٹکے پر جھٹکے لگنے سے لگتا ہے اروند کیجریوال بوکھلا گئے ہیں۔
(انل نریندر)

تین سابق وزیر اعلی و بیٹا اور وزیر اعلی کی بیوی اترا کھنڈ سے چناوی میدان میں!

عام طور پر اتراکھنڈ میں عام چناؤ میں کانگریس اور بھاجپا کے درمیان ہی مقابلہ ہوتا آرہا ہے۔ اس بار بھی ہے لیکن چناؤ سے ٹھیک پہلے لیڈر شپ تبدیلی اور ستپال مہاراج پارٹی بدلنے سے بنے حالات سے وزیر اعلی ہریش راوت کی ساکھ اور سرکار دونوں داؤ پر لگی ہیں۔ اترا کھنڈ لوک سبھا کے لئے 7 مئی کو پولنگ ہوگی اس بار کا چناؤ 2004 اور2009 سے زیادہ دلچسپ ہے کیونکہ بھاجپا نے اپنے سابق وزرائے اعلی میجر جنرل (ریٹائرڈ) بھوون چندر کھنڈوری کو پوڑی پارلیمانی حلقے سے کوشیاری کو نینی تال سے اور ڈاکٹر رمیش پوکھریال کو ہری دوار سے چناؤ میدان میں اتارا ہے۔بھاجپا پردیش میں اپنی سیکنڈ لائن تیار کرنا چاہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان دنوں سینئر لیڈروں کو چناؤ میدان میں اتارنے کے پیچھے ارادہ صاف ہے کہ اگر پردیش بھاجپا کے تینوں سینئر لیڈر کامیاب ہوتے ہیں تو ان تینوں کی سیدھی مداخلت پردیش کی سیاست میں کم ہوجائے گی۔ اس سے پردیش میں گروپ بندی پر لگام لگے گی۔ ریاست کی پانچ سیٹوں پر کانگریس اور بھاجپا کے امیدواروں پر ترقی کو نظرانداز کرنا اور ذات پات کو بڑھاوا دینے سمیت کئی طرح کے الزام لگائے جارہے ہیں۔ اس بار چناؤ میں ایک بڑااشوقریب ایک سال پہلے 15-16 جون کو اتراکھنڈ میں آئی قدرتی آفت سے نمٹنے میں ناکامی بھی ہے۔ کانگریس کے وزیر اعلی وجے بہوگنا کو اسی لئے کرسی چھوڑنی پڑی۔ اس کے بعد قدرتی آفت سے متاثرہ لوگوں کا درد کم نہیں ہوا۔ یہ چاہے پہاڑ کے ہوں یا میدانی علاقوں کے ہوں۔ لوک سبھا چناؤ کے پیش نظر کانگریس کے سینئر لیڈر شپ نے وجے بہوگنا کو وزیر اعلی کی کرسی سے ہٹایا۔ تاکہ یہ پیغام جاسکے کہ قدرتی آفت کے بعد راحت رسانی میں کوتاہی برتنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ مگر ہریش راوت بھی متاثرین کی باز آبادکاری سے متعلق ٹھوس قدم نہیں اٹھا پائے جس وجہ سے ان کی پریشانی کم ہوسکے۔2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں قدرتی آفت سب سے بڑا اشو ہے اس کا جواب ووٹر دونوں کانگریس اور بھاجپا سے مانگ رہی ہے۔ اب بات کرتے ہیں کچھ اہم سیٹوں کی۔ پوڑی گڑھوال پارلیمانی سیٹ بھوون چندر کھنڈوری کے لئے نئی نہیں ہے وہ یہاں سے چار بار ایم پی رہ چکے ہیں۔ بھگت سنگھ کوشیاری نینی تال سے چناؤ لڑ رہے ہیں ، کانگریس نے 2009ء میں کامیاب رہے اپنے ایم پی کی۔سی بابا کو پھر سے میدان میں اتارا ہے۔ اگر بابا پھر کامیاب ہوتے ہیں تو ان کی ہیٹ ٹرک ہوگی۔ کوشیاری حال ہی میں راجیہ سبھاکے ممبر بنے اور پہلی بارلوک سبھا کا چناؤ لڑ رہے ہیں۔سابق وزیر اعلی ڈاکٹررمیش پوکھریال نشنک ہری دوار سے چناؤ میدان میں ہیں اور پہلی بار لوک سبھا کا چناؤ لڑ رہے ہیں۔ یہ سیٹ کانگریس کے لئے بیحد اہم ہے کیونکہ یہاں سے وزیر اعلی ہریش راوت کی اہلیہ رینوکا راوت چناؤ میدان میں ہیں۔ سال2009ء میں چناؤ میں یہیں سے ہریش راوت کامیاب ہوئے تھے۔ ہری دوار میں عام آدمی پارٹی کے ریاست کے سابق ڈی جی پی کنچن چودھری بھٹاچاریہ بھی چناؤ میدان میں اترے ہیں جبکہ بسپا سے حاجی محمد اسلام اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔وزیر اعلی کی بیوی رینوکا راوت کو یہاں سے لڑنے سے ہری دوار وی آئی پی سیٹ ہو گئی ہے جبکہ کانگریس کے امیدوار کے طور پر دوسری بار میدان میں اترے سابق وزیر اعلی وجے بہوگنا کے لڑکے ساکیت بہوگنا کے لئے بھی اس بار سخت چنوتی ہے۔ جیسا میں نے کہا کہ اس چناؤ میں نہ صرف ہریش روات ان کی پارٹی کا مستقبل داؤ پر لگا ہے بلکہ ان کی سرکار کی عمر بھی16 مئی کے چناؤ نتائج پر منحصر کرے گی۔ بہرحال تین سابق وزیر اعلی، وزیر اعلی کی بیوی و سابق وزیر اعلی کا بیٹا چناؤ میدان میں ہے۔ کل ملا کر اتراکھنڈ لوک سبھا چناؤ دلچسپ بن گیا ہے۔
(انل نریندر)

30 اپریل 2014

آج کا چناؤ وی آئی پی مرحلہ کہا جاسکتا ہے!

16ویں لوک سبھا کے لئے پولنگ کے ساتویں مرحلے میں ووٹ تو89 سیٹوں پر پڑرہے ہیں لیکن یہ کئی معنوں میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس مرحلے میں کانگریس صدرسونیا گاندھی، بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی، پارٹی صدر راجناتھ سنگھ،سابق پردھان لال کرشن اڈوانی، نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ، جنتادل (یو) کے شرد یادو، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، جیسی مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کا مستقبل داؤ پر ہے۔ان 89 سیٹوں میں سے سب سے زیادہ سیٹیں کانگریس کے قبضے میں ہیں۔بھاجپا کے پاس اس وقت 19 سیٹیں ہیں جن میں سے15 سیٹیں تو گجرات کی ہیں اس طرح بھاجپا کے پاس گجرات کو چھوڑ کر کل 4 سیٹیں ہیں۔ یہیں سے بھاجپا کو اچھی امید ہے اور اپنے مقررہ نشانے تک پہنچنے کے لئے یہ مرحلہ اس لحاظ سے بھاجپا کے لئے اہم ہے۔ اس مرحلے میں گجرات کی سبھی 26 سیٹوں پر ایک ساتھ پولنگ ہورہی ہے۔ جس سیٹ پر سب کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں وہ ہے ودودرہ،جہاں سے نریندر مودی میدان میں ہیں۔ یہاں ان کا مقابلہ کانگریس کے لیڈر مدھو سودن مستری سے ہے۔ اس مرحلے میں جن دیگر سیٹوں پر ووٹ پڑرہے ہیں وہ 9 ریاستوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس میں آندھرا پردیش کی17 سیٹیں بھی شامل ہیں۔یہ سبھی سیٹیں آندھر کا بٹوارہ کر بنائے گئے تلنگانہ ریاست میں آتی ہیں۔ اسی دن تلنگانہ کے لوگ اپنی نئی ریاست کے ممبران اسمبلی کو بھی چنیں گے۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ سے کانگریس کو بہت امیدیں ہیں۔ اترپردیش کی14 سیٹوں پر جہاں کانپور سے بھاجپاکے لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کا سخت مقابلہ مرکزی وزیر کوئلہ سری پرکاش جیسوال سے ہے تو وہیں رائے بریلی سے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو اپنی جیت کے ووٹ کے فرق کو بڑھانے کی چنوتی ہے۔ پنجاب کی سبھی13 سیٹوں پر پولنگ ہے۔ امرتسر میں کانگریس نے سابق وزیر اعلی امرندر سنگھ کو بھاجپا کے سرکردہ لیڈر ارون جیٹلی کو اتارا ہے۔ کیپٹن کی بیوی اور مرکزی وزیر پرنیت کور، محترمہ امبیکا سونی کی قسمت داؤ پر ہے۔ مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلی اوما بھارتی اور فلم اداکارہ ونود کھنہ ، پریش راول کی قسمت کا فیصلہ بھی30 اپریل کو ہوگا۔ ادھر بہارمیں سابق وزیر اعلی رابڑی دیوی، جنتا دل (یو) پردھان شرد یادو اور لوک جن شکتی پارٹی کے پردھان رام ولاس پاسوان کی بھی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔ بہار کی ان9 سیٹوں سے ریاست کے لوگوں کا موڈ بھی پتہ چلے گا۔ نتیش کمار بنام نریندر مودی کے اثر کا بھی ٹیسٹ ہوگا اور یہ بھی پتہ چلے گا کہ آر جے ڈی چیف لالو یادو کا سیاسی اثر اس ریاست میں اب بھی ہے یا نہیں۔ ہاں وہیں مغربی بنگال کی 9 سیٹوں میں شری رامپور سیٹ پر مشہور موسیقار بپی لہری کا مقابلہ ترنمول کانگریس کے کلیان بینرجی سے ہے۔ ان کے علاوہ صحافی پائنیر کے مدیر چندن مترا بھی ہاوڑہ سے چناؤ میدان میں ہیں۔ دیکھنا یہاں یہ بھی ہوگا کہ لیفٹ پارٹیوں کا رخ کیا ہوتا ہے۔ حال ہی میں سابق وزیر اعلی بدھ دیب بھٹاچاریہ بھی ہیں کیا ان کا اپنے ووٹروں کو یہ اشارہ تھا کہ آپ بھاجپا امیدوار کو ووٹ سے دے سکتے ہیں جہاں آپ کو لگے کیالیفٹ امیدوار ترنمول کانگریس کو ہرا نہیں سکتے۔ حالیہ دنوں میں ترنمول لیڈر ممتا بنرجی اور نریندر مودی کے درمیان تلخ بیان بازی کا دور چلا۔ اس کا پولنگ پر کتنا اثر پڑتا ہے یہ بھی دیکھنا ہوگا۔ کل ملا کر بیشک 543 میں سے89 سیٹوں پر آج ووٹ پڑ رہے ہیں یہ سبھی کے لئے اہم ہیں جن میں کئی سیاسی سرکردہ ہستیوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔
(انل نریندر)

سرینگر، لداخ اور بہار میں سخت مقابلہ ہے!

جموں و کشمیر کی وقاری لوک سبھا سیٹ پر آج یعنی30 اپریل کو ووٹ پڑیں گے۔ میدان میں ہیں مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے یہاں سے حامد کارا کو بھاجپا نے فیاض احمد بٹ اور عام آدمی پارٹی نے ڈاکٹر رضا مظفر کو میدان میں اتارا ہے۔یہاں سے کل 14 امیدوار میدان میں ہیں ان میں سے8 آزاد ہیں۔کبھی کوئی چناؤ نہیں ہارنے والے ڈاکٹر فاروق عبداللہ جو صبح پانچ بجے اٹھ کراپنے کشمیری لباس اور(فیرن) پہن کر پورا دن کشمیری زبان میں تقریریں کرتے ہیں، چناوی ریلیوں کے دوران فاروق عبداللہ دفعہ370 کے حق میں نعرہ ضرور لگاتے ہیں۔اپنی ہر ریلی میں پی ڈی پی کے چیف مفتی محمد سعیداور بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی پرتنقید کرنے سے نہیں چوکتے۔ بھاجپا کی جانب سے پہلے عارف امیدوار تھے لیکن پارٹی کے چناؤ منشور میں370 کو ختم کرنے کے تذکرے کے بعدرضا نے اپنا ٹکٹ واپس کردیا۔ حالانکہ رضا نے اپنا پرچہ بھی داخل کردیا تھا لیکن کچھ ہی گھنٹوں کے بعد پارٹی نے اپنا امیدوار بدل دیا۔ جموں کشمیر کے اس لوک سبھا چناؤ میں نوجوانوں کا کردار اہم رہے گا۔ صوبے میں کل69 لاکھ33 ہزار 118 ووٹوں میں سے 56.1 فیصد 18 سے39 برس کے ووٹر ہیں۔ سرینگر عبداللہ خاندان کا مضبوط قلعہ ہے۔ فاروق صاحب کو یہاں سے ہرانا مشکل ہے ۔ جموں و کشمیر میں دیش کی سب سے بڑی سیٹ لداخ ہے جہاں 1.73 مربع میٹر علاقے والے اس پارلیمانی حلقے میں بہت کم امیدوار ہیں ۔نیشنل کانفرنس اور کانگریس کا یہاں اتحاد ہے۔ کانگریس کے ٹی سریش سیفل چناؤ لڑ رہے ہیں۔ ان کا اہم مقابلہ بھاجپا کے تھپسن بھیوانگ سے ہے ان دونوں کے علاوہ سید محمد کاظم ، غلام رضاآزاد امیدوار چناؤ لڑرہے ہیں۔ لداخ میں7 مئی کو چناؤ ہونا ہے۔6-7 پولنگ بوتھ لداخ میں ایسے ہیں جہاں پولنگ پارٹی کو ہیلی کاپٹر سے پہنچنا پڑتا ہے۔ جموں و کشمیر سے اب رخ کرتے ہیں بہار کا جہاں چناوی حکمت عملی بدلی ہوئی ہے۔ آج یعنی 30 اپریل کو چناؤ ہونے جارہے ہیں۔ چناؤ کچھ ان پرانے بڑے یودھاؤں کی جنگ دلچسپی کا گواہ بننے جارہی ہیں۔ بہار لوک سبھا پارلیمانی چناؤ کے دنگل میں پرانے یودھا ایک دوسرے کی کم از کم نبض پکڑ کر نتیجے کو اپنے حق میں کرنے کوجگت میں لگے ہوئے ہیں۔ ریاست میں دربھنگہ، جھانجھر پور، سمستی پور،یودھاؤں کی کڑی ٹکر ہے۔مدھو بنی لوک سبھا سیٹ پر اس بار بھاجپا کے سابق مرکزی وزیر حکم دیو نارائن یادو اور آر جے ڈی امیدوار عبدالباری صدیقی سے مقابلہ ہے۔ جے ڈی یو نے آر جے ڈی کے ودھان پریشد میں نیتا رہے غلام غوث کو امیدوار بنایا ہے۔ مگر جے ڈی یو کے ووٹوں کی بھرپائی بھاجپا، ایل جے پی، سپا، سے اتحاد کرنے میں لگے ہیں تو دوسری طرف آر جے ڈی کے امیدوار کو کانگریس کا ساتھ ہے۔ مدھو بنی سے کانگریس کے ڈاکٹر شہزاداحمد چناؤ لڑ رہے ہیں۔ دربھنگہ لوک سبھا چناؤ میدان میں بھاجپا کے کیرتی آزاد کا آر جے ڈی کے علی اشرف فاطمی کے درمیان جنگ دلچسپ گواہ بنی ہے۔1999ء کی چناوی جنگ میں کیرتی آزاد نے علی اشرف کو پٹخنی تو دی لیکن2004ء میں لوک سبھا چناؤ میں علی اشرف فاطمی نے کیرتی آزاد کودھول چٹا دی۔ عام آدمی پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر پربھات رنجن داس بھی اس سیٹ کے لئے زور لگا رہے ہیں۔ اتحاد سے الگ ہونے کے بعد جنتادل (یو) کے ٹکٹ پر سنجے جھا کی موجودگی اور نئے تجزیئے بنا سکتی ہے اور یہ چناؤ فیصلہ کن رہنے والے ووٹوں میں سیند کی وجہ سے اس سیٹ پر مقابلہ سہ رخی بن گیا ہے۔نتیش کمار اور نریندر مودی دونوں کی ہی کچھ حد تک ساکھ داؤ پر لگی ہے۔
(انل نریندر)

29 اپریل 2014

پھر مسلم خوش آمدی! ڈوبتے کو تنکے کا سہارا

عام چناؤکے چھ مرحلے پورے ہوجانے کے بعد اچانک کانگریس کو مسلمانوں کی یاد آئی ہے۔چناؤ میں پیچھے چھوٹ چکی پارٹی کو اب ان کو4.5 فیصد ریزرویشن کا وعدہ ڈوبتے کو تنکے کے سہارے کے برابر ہے اور سنجیونی کی تلاش کے برابر ہے اسے اتنے دن گزر جانے کے بعد مسلم فرقے کو یہ بتانے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟چناؤ منشور جاری کرنے کے قریب مہینے بھر بعد اس ضمنی اعلان کی منشا کیا ہے۔مسلم ووٹوں کو متاثر کرنا۔ بنیادی چناؤ منشور میں پارٹی نے پسماندہ مسلمانوں کو ریزرویشن کافائدہ دینے کی بات کہی ہے لیکن ضمنی چناؤ منشور میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو دیگر پسماندہ طبقات کے تحت دئے جانے والے ریزرویشن میں پسماندہ مسلمانوں کو چار فیصدی کا کوٹا ملے گا۔ اس اعلان سے کچھ سوال ضرور اٹھیں گے۔ پہلی بات یہ ہے کہ آخر اب جب کچھ مرحلوں کی پولنگ باقی ہے کانگریس کو پسماندہ مسلمانوں کی یاد کیوں آئی؟دوسرا بڑاسوال یہ ہے اگر پسماندہ مسلمانوں کے مفادات کی اتنی ہی فکرتھی تو پچھلے دس سالوں میں اقتدار میں رہنے کے دوران کانگریس نے اس کے لئے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا۔ اگرچہ اس بارے میں کانگریس کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے ہی اس کی سہولت تو تجویز کی تھی لیکن عمل نہیں کیا جاسکا۔ کانگریس ترجمان اور وزیر قانون کپل سبل نے کہا کہ پسماندہ مسلمانوں کو ریزرویشن کامعاملہ سپریم کورٹ میں التوا میں ہے جب تک بڑی عدالت میں اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں آجاتا پارٹی کچھ بھی نہیں کرسکتی۔ مسلمانوں سمیت سبھی اقلیتوں کو ترقی ملے اس سے کسی کو انکار نہیں لیکن مشکل یہ ہے کانگریس کا یہ کارڈ چناوی فائدے کیلئے ارادہ ظاہر ہوتا ہے۔ چناؤ سے پہلے بھی سونیا گاندھی کی شاہی امام سے ملاقات، مسلم فرقے کو کانگریس کے لئے ووٹ کرنے کی اپیل یہ دیش سن چکا ہے۔مسلم خوش آمدی کی سیاست صرف کانگریس کرتی ہے ایسا بھی نہیں ہے کہ چناوی دور میں اروند کیجریوال کی توقیر رضا سے اور بھاجپا پردھان راجناتھ سنگھ کی کلب صادق سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ ریزرویشن کے اندر ریزویشن کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ یہ معاملہ عدلیہ کے سامنے زیر سماعت ہے ایسے میں وعدہ کئے جانے کے باوجود فی الحال اس پر عمل کرپانا مشکل ہے۔ ایسے میں اس ضمنی وعدے کایہ ہی مطلب ہے کہ اگر پسماندہ مسلمانوں کو اس وعدے پر بھروسہ ہوجائے تو ممکن ہے کہ کانگریس کو اس کا کچھ فائدہ ہو پائے گا لیکن ریزرویشن کی امید کافی کم لگ رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ نہ صرف بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا کی جانب سے سخت احتجاج کیا جارہا ہے بلکہ پسماندہ مسلمانوں کی طرف سے کوئی حوصلہ افزا ردعمل بھی سامنے نہیں آیا ہے۔ ہمیں شبہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان اب کانگریس کے حسین سپنے دکھانے کے جھانسے میں آئے گا۔ مرکز میں دس سال سے اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس نے ان کی بہتری کے لئے تمام قدم اٹھانے کی پوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کیا۔ اب جب پولنگ کے چھ مرحلے پورے ہوچکے ہیں اور کچھ ہی باقی ہیں ہمیں شبہ ہے مسلم فرقہ کانگریس کے اس وعدے کو سنجیدگی سے نہیں لے گا۔جیسا کہ میں نے کہا ’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ‘ کے برابر ہے یہ ضمنی اعلان نامہ۔
(انل نریندر)

کانپور اور سنگم نگری الہ آباد میں زبردست مقابلہ!

اترپردیش کی صنعتی راجدھانی کی شکل میں مشہور کانپور لگتا ہے اپنی پہچان کھوتا جارہا ہے۔بند ہوتی ملیں، مزدوروں کی ہجرت روکنے کی کوشش کسی نے نہیں کی۔لال املی،ایلیگن مل، جے کے جوٹ مل جیسی کئی نامی گرامی کپڑا ملیں ہیں جن میں تیا کپڑے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اپنی کوالٹی کا لوہا منواتی رہی ہیں۔ اب یہ سب بند ہو چکی ہیں۔کانپور سے اس بارچناؤ میں بی جے پی نے اپنے سرکرد ہ لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کو میدان میں اتارا ہے۔ مقابلے میں ہیں کانگریس کے مرکزی وزیر سری پرکاش جیسوال جو بڑے قد والے لیڈر ہیں اور حکومت کے کوئلہ منتری ہیں، وہ دعوی کرتے ہیں جتنی ترقی پچھلے 15 برسوں میں کانپور میں ہوئی ہے اتنی کبھی نہیں ہو پائی۔ امید ظاہرکرتے ہیں کہ چوتھی بار یہاں کی جنتا انہیں ایم پی چنے گی اور بھاجپا کے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کے امیدوار بنائے جانے سے کانپور کا چناؤ کافی دلچسپ بن گیا ہے اور کانٹے کا مقابلہ ہے۔ بسپا نے سلیم احمد کو میدان میں اتارا ہے۔ حالانکہ پچھلی باربھی پارٹی نے انہیں امیدوار بنایا تھالیکن بعد میں ٹکٹ سکھدا مشرا کو دے دیا گیا۔عام آدمی پارٹی نے مسلم ووٹ میں سیند لگانے کے لئے ڈاکٹر محمود حسین رحمانی کو میدان میں اتارا ہے حالانکہ ڈاکٹر رحمانی پہلی مرتبہ لوک سبھا کا چناؤ لڑ رہے ہیں۔ سپا نے پہلے کمیڈین راجو شریواستو کو امیدوار بنانے کا اعلان کیا لیکن مقامی پارٹی یونٹ کا ساتھ نہ ملنے کی بات کر انہوں نے میدان چھوڑدیا تھااس کے بعد پارٹی نے سرندر موہن اگروال کو میدان میں اتارا۔ پچھلے چناؤ میں وہ چوتھے مقام پر تھے۔ڈاکٹر جوشی کی ایک بڑی مشکل ان کی اکھڑ مزاجی ہے۔ یہاں پارٹی ورکروں کو یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ ان کا قد کتنا بڑا ہے۔ وہ یہ بتانا بھی نہیں بھولتے کہ وہ اٹل جی اور اڈوانی جی کو بھی کیسے صلاح دیتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر جوشی کو یہ پسند نہیں کہ بغیر اجازت لئے پارٹی کے لیڈر ٹھیٹ کانپوریہ انداز میں ان کے کمرے میں گھس آئیں۔ سری پرکاش جیسوال کے لئے سب سے بڑی چنوتی یہ ہے کہ ملائم سنگھ کے اثر کے چلتے یہاں مسلم ووٹ بینک کا ایک بڑا حصہ سپا میں جانے سے روکنا ہے۔ عام آدمی پارٹی امیدوار ڈاکٹر محمود رحمانی جانے مانے آنکھوں کے ماہر ہیں لیکن وہ کسی بھی ووٹ بینک میں سیند نہیں لگا پارہے ہیں۔ ڈاکٹر جوشی کو جہاں مودی لہر کا فائدہ ملے گا وہیں جیسوال کو ناراضگی و کوئلہ گھوٹالے سے پیداحالات کا مقابلہ کرنا ہے لڑائی ان دونوں کے درمیان ہے۔ اب بات کرتے ہیں سنگم نگری الہ آباد کی۔ آزادی کی لڑائی کے دوران سیاست کا مرکز رہا آنند بھون اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ الہ آباد دیش کو مسلسل سیاسی طاقت دیتا رہا ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے ساتھ ہی لال بہادر شاستری، سورگیہ وشواناتھ پرتاپ سنگھ، سورگیہ ہیموتی نند بہوگنا ،چھوٹے لوہیا، جنیشور مشرا اور بھاجپائی لیڈرڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کی ساکھ اسی شہر سے بڑھی ہے۔ صدی کے مہا نائک امیتابھ بچن نے بھی اسی علاقے سے سیاست کا سبق سیکھا ہے۔ ایسے میں دھورندروں کے سبب ہی الہ آباد پارلیمانی سیٹ برسوں تک وی آئی پی سیٹ رہی۔برسوں پہلے یہ درجہ چھن گیا۔ اس بار چناؤ مقابلہ سپا کے ریپتی رمن سنگھ، بھاجپا کے شیام چرن گپتا، کانگریس کے نند شیو پال اور عام آدمی پارٹی کے آدرش شاستری اور الہ آباد سے دو بار ایم پی رہے ریپتی رمن سنگھ کی پارٹی میں مضبوط پکڑ ہے اور انتظامیہ کے حلقوں میں کافی دھاک رہی ہے۔حلقے کا کوئی بھی ایسا گاؤں نہیں جہاں کے لوگ انہیں پہچانتے نہ ہوں۔ ریپتی کا دعوی ہے کہ انہوں نے پچھلے دس برسوں میں الہ آباد میں کئی ترقیاتی کام کئے ہیں اور ووٹر انہیں سرپر بٹھاتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں سے وہ مسلسل تین چناؤ جیتنے کا ریکارڈ بھاجپا نیتا ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی ہی بنا پائے۔ ان کی وجہ سے ہی یہ سیٹ بھاجپا کا گڑھ بنی رہی لیکن ریپتی رمن سنگھ نے ’’انڈیا شائننگ‘‘ کے دور میں انہیں ہرایا۔ ریپتی بھی لگاتار دو چناؤ جیت چکے ہیں اور یہاں سے اب ان کے تیسری بار جیتنے کا امکان ہے۔ بھاجپا امیدوار شیام چرن گپتا کو دومہینے پہلے تک جو سپا میں تھے،مودی لہر اور پرانے روابط پر انہیں بھروسہ ہے۔ دعوی تو یہ بھی کرتے ہیں کہ ریپتی رمن سنگھ کے تمام سپہ سالاروں کے رابطے ان سے اب بھی ہیں۔ بسپا کی کراری دیوی پٹیل سابق ضلع پنچایت پردھان رہی ہیں اور بسپا کیڈر کی مضبوط لیڈر ہیں۔ 2004ء میں پھولپور سے امیدوار تھیں اور نمبر دو پر رہیں۔ کانگریس کے نند گوپال گپتابسپا سرکار میں مایاوتی کے قریبی رہے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ وہ کسی کے لئے بھی پریشانی کھڑی کرسکتے ہیں لیکن مرکز میں ناراضگی فیکٹر اور پارٹی کی حالت اتنی مضبوط نہیں سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے پوتے اور کانگریسی لیڈر انل شاستری عام آدمی پارٹی کے امیدوار ہیں۔ ان کے نا م پرکیجریوال کوووٹ ملنے کا سہارا ہے۔کائستھ ووٹروں سے بھی حمایت کی امید ہے۔ کل ملا کر الہ آباد میں کانٹے کے مقابلے میں ریپتی رمن سنگھ کو ہرانا مشکل لگ رہا ہے۔
(انل نریندر)

27 اپریل 2014

مودی کے نامی نیشن روڈ شو سے بوکھلائی ’آپ‘ و کانگریس پارٹی!

بھاجپا کے پردھان منتری پد کے امیدوار نریندر مودی کے جمعرات کو وارانسی میں ہوئے روڈ شو سے کانگریس اور ’آپ‘ پارٹیاں بوکھلا گئی ہیں۔انہیں یقین ہی نہیں ہورہا کہ اتنا عظیم شو کیسے ہوا؟مودی کے نامی نیشن بھرنے کے وقت میں مانو سارا وارانسی ہی امڑ پڑا ہو۔بھاری جن سیلاب کے چلتے الدہیا چوک سے ضلع مجسٹریٹ آفس پہنچنے میں مودی کو قریب دو گھنٹے لگے۔دو گھنٹے کی دیری سے شروع ہوئے اس روڈ شو میں دو لاکھ سے زیادہ لوگ شامل ہوئے۔ سڑکوں پر مکان ،دوکان کی چھتوں پر بھاری جن سیلاب مودی کے سمرتھن میں نعرے لگاتا نظر آیا۔ مودی 2:15 منٹ پرنامی نیشن آفس سے نکلے۔ اس سے پہلے نامی نیشن داخل کرنے کے لئے مودی کو مجسٹریٹ کے یہاں قریب آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا۔ان سے پہلے معراج خالدنور نام کے آزاد امیدوار کھڑے تھے۔اصول کے مطابق انہیں پہلے موقعہ دیا گیا۔اپنا نامی نیشن بھرنے والا معراج وہی شخص ہے جو ماضی میںآتنکی لادن جیسا چہرہ مہرہ بنا کرلالو یادو و پاسوان کے ساتھ چناؤ پرچار کر چکا ہے اور اپنے آ پ کو اوسامہ کہتا ہے۔ مودی نے روڈ شو سے پہلے کوئی بھاشن نہیں دیا جس سے وہاں گھنٹوں سے انتظار کررہی بھیڑ کو تھوڑی مایوسی ہوئی۔ اس سے ایک دن پہلے یعنی بدھوار کو عام آدمی پارٹی کے کنوینراروند کیجریوال نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ اپنا نامی نیشن پتربھرا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ کیجریوال کے روڈ شو میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا اور مودی کے شو میں لاکھوں میں۔ اس سے آپ پارٹی بوکھلا گئی اور دونوں کانگریس اور ’آپ‘پارٹی بیک فٹ پر آگئیں۔پہلے بات کرتے ہیں ’آپ‘ پارٹی کی۔’آپ‘ ذرائع کی مانیں تو کیجریوال کے روڈ شو کے بعد مودی کے روڈ شو سے پارٹی کے والنٹیروں جوش کی بھاری کمی آئی ہے۔ اپنے کنوینر اروند کیجریوال کے روڈ شو کے ذریعے بھاجپا پر دباؤ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن مودی کے روڈ شو میں امڈی لاکھوں کی بھیڑ نے کیجریوال کیمپ پر چوطرفہ دباؤ بڑھا دیا ہے۔’آپ‘کے حکمت سازوں کو فکر اس بات کو لیکر ستانے لگی ہے کہ اگر مودی کے روڈ شو کا اثر جلد ہی ختم نہیں ہوا تو کیجریوال کے لئے بڑی مشکل ہوسکتی ہے۔ یہی بات کانگریس پارٹی کے سپوکس مین آنند شرما نے مودی کے روڈ شو کو کوڈ آف کنڈیکٹ کی کھلی خلاف ورزی بتاتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو جن117 لوک سبھا سیٹوں پر چناؤ ہورہا تھا ان میں ووٹروں کو متاثر کرنے کی بھاجپا نے کوشش کی اور اس روڈ شو کا انعقاد کیا۔کانگریس کے ایک پرتندھی منڈل نے باقاعدہ چناؤ کمیشن سے اس کی شکایت بھی کی۔ہمیں دکھ ہوا کہ کانگریس ایسی بے تکی حرکتیں کررہی ہے۔ پہلی بات تو ہر امیدوار اپنے نامی نیشن کے وقت لاؤ لشکر کے ساتھ ہی جاتا ہے چاہے چناؤ ایم پی کا ہو یا سرپنچ کا یا ودھایک کا۔ دوسری بات ایک دن پہلے اروند کیجریوال کا روڈشو ہوا۔سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی دن جمعرات کو جس وقت مودی اپنا روڈ شو کررہے تھے اسی وقت لکھنؤ میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی لکھنؤ سے کانگریس امیدوار ریتا بہوگنا جوشی کے لئے روڈ شو کر پرچار کررہے تھے۔اگر مودی دو شی ہیں توکیجریوال اور راہل بھی کم دوشی نہیں ہیں۔دوشی صحیح معنوں میں اگر کوئی ہے تو وہ چناؤ کمیشن ہے۔ اس بار چناؤ پرکریا لگ بھگ سوا مہینے لمبی ہے۔نامی نیشن بھرنے کی تاریخیں چناؤ کمیشن طے کی ہیں نہ تو اسے کسی پارٹی نے کیا ہے اور نہ ہی کسی امیدوار نے۔ چناؤ کمیشن کو اچھی طرح معلوم تھاکہ ووٹنگ کے دنوں میں نامی نیشن کی تاریخیں بھی ہیں اس سے پارٹیاں یا امیدواروں کا کیا دوش ہے کہ ادھر نامی نیشن کا روڈ شو چل رہا ہے تو ادھر ووٹنگ ہورہی ہے۔کانگریس اسی دن لکھنؤ میں راہل گاندھی کے روڈ شو کو کیوں نہیں دیکھتی۔ چناؤ کمیشن کو چاہئے کہ مستقبل میں وہ چناؤ سرگرمیوں اور تاریخوں میں ترمیم کرے۔ مستقبل میں وہ یہ کرسکتی ہے کہ جس دن ووٹنگ ہوگی اس د ن نامی نیشن نہ بھراجائے۔ نامی نیشن بھرنے کی تاریخ اور ووٹنگ کی تاریخ ایک دن نہیں ہونی چاہئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیا چناؤ کمیشن ایسا کرے گا۔ اسے ایسا کرنے میں کوئی مشکل ہوگی؟ لیکن اگر مستقبل میں اس کا دھیان رکھا جائے تو ایسے تنازعوں سے بچا جاسکے گا۔ ویسے آخر میں چلتے چلتے قارئین کو بتا دیں کہ سٹہ بازار لوک سبھا چناؤ 2014ء کے بارے میں کیا داؤ لگا رہا ہے۔ سٹہ بازار میں سب سے زیادہ فائدے میں بھاجپا چل رہی ہے۔ سٹوریئے مان کر چل رہے ہیں کہ ان چناؤ میں بی جے پی کو 240 سیٹیں مل جائیں گی اور وہ کچھ علاقائی پارٹیوں کی مدد سے این ڈی اے کی سرکاربنا لے گی۔ سب سے خراب حالت ’آپ‘ پارٹی کی ہے۔ اسے سٹے باز صرف4-5 سیٹیں دے رہے ہیں۔ دلچسپ یہ ہے کہ جس دن کیجریوال دہلی میں سی ایم بنے تھے اس دن سٹے باز مان رہے تھے کہ وہ لوک سبھا میں30 سیٹیں جیت سکتے ہیں۔دہلی کی صرف ایک سیٹ پر ہی آپ کی بڑھت مانی جارہی ہے باقی سبھی سیٹوں پر بی جے پی جیت رہی ہے۔ہریانہ میں 10 میں 6 سے7 سیٹیں بی جے پی کو دے رہے ہیں۔سینٹر فار میڈیا کے ذریعے کرائے گئے ایک دیگر سروے میں گذشتہ پانچ سالوں میں ہندوستان میں مختلف چناوؤں کے دوران 150000 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم خرچ کی گئی ہے۔
(انل نریندر)

پنجاب میں اکالی۔ بھاجپا بنام کانگریس بنام ’آپ‘ پارٹی! پنجاب کی امرتسر لوک سبھا سیٹ اس وقت پنجاب کی سب سے ہاٹ سیٹ بنی ہوئی ہے۔ امرتسر سیٹ پروقار کی لڑائی ہے جہاں ایک جنگی ہیرو اور سینئر سیاستداں اپنی سیاسی زندگی کے لئے میدان میں ہے تو دوسری جانب ایک رسوخ دار نیتا اس دگج کوشکست دینے کے لئے کمر کسے ہوئے ہے۔پنجاب کی اس سیٹ پر سبھی کی نگاہیں ہیں جہاں 30 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ گورو کی اس نگری میں سیاسی ماحول گرمانے لگا ہے۔ بادل صاحب کے ذریعے آشواسن دینے کے بعد بھی بھاجپا کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی کو خود پسینہ بہانا پڑ رہا ہے۔ 61 سالہ ارون جیٹلی کے لئے یہ پہلا چناؤ ہے جس میں وہ سیدھے چناؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بھاجپاکی لیڈرشپ میں این ڈی اے کے اقتدار میں آنے پر انہیں دہلی میں بڑا کردار مل سکتا ہے۔ شاید جیٹلی نے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ شرومنی اکالی دل۔ بھاجپا سرکار کے سات سال کے اقتدار اور موجودہ سانسد نوجوت سنگھ سدھو کی کارکردگی کو لیکر اقتدار مخالف لہر کے پس منظر میں انہیں امرتسر سیٹ پراتنے بڑے مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔کانگریس نے ان کے مقابلے میں اپنے پنجاب کے سب سے بڑے طاقتور امیدوار کیپٹن امرندر سنگھ کو اتارا ہے۔کانگریس نے کیپٹن کے روپ میں اپنا ترپ کا پتا کھیل کر یہاں مقابلہ کڑا بنادیا ہے۔ امرتسر میں کہیں کہیں آپ پارٹی کا اثر بھی دکھ رہا ہے۔ پچھڑی جاتیوں کا ووٹ جو کبھی کانگریس اور بسپا کے درمیان بٹتا تھااس بار اس کا جھکاؤعام آدمی پارٹی کی جانب لگ رہا ہے۔ویسے اس علاقے میں 23 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں جن میں بسپا کے پردیپ بلیا ایک ہیں۔ لیکن اہم مقابلہ جیٹلی و کیپٹن میں ہی ہے۔ بادل خاندان کے دو سورماؤں کے درمیان بھٹنڈہ میں کڑا مقابلہ ہونے جارہا ہے۔ ایک موجودہ ممبر پارلیمنٹ میں میدان میں خم ٹھوک رہا ہے تو بادل پریوار سے الگ ہوئے کنبے کے ایک دیگرممبر بھی بھٹنڈہ کی ہائی پروفائل سیٹ پر اپنی قسمت آزمانے اترے ہیں۔یہ سیٹ برسر اقتدار اکالی دل کا مضبوط قلعہ مانی جاتی ہے جہاں ایک امیدوار کے داخلے نے چناوی جنگ کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔اس سیٹ سے موجودہ ممبر پارلیمنٹ اکالی دل کی ہر سمرن کور اور ان کے دیور منپریت سنگھ بادل ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ سابق فائننس منسٹر اور پیپلز پارٹی آف پنجاب کے سنستھاپک منپریت کانگریس کے ٹکٹ پر چناؤ میدان میں ہیں۔ منپریت ماکپا اور شرومنی اکالی دل (برنالہ) کے سمرتھن سے اپنے چچیرے بھائی اور پردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر سکھبیر بادل کی پتنی ہرسمرن کور پر حملہ کرنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔پاکستان کی سرحد سے لگا گورداس پور پارلیمانی علاقہ فلم اور سیاست کے زبردست گھال میل کی وجہ سے ہاٹ سیٹ بن گیا ہے۔ فلمی دنیا میں لمبی وقت تک بادشاہت چلانے والے فلم اسٹار ونود کھنہ ایک بار پھر سے بھاجپا کے امیدوار ہیں۔ ان کا سامنا پنجاب پردیش کانگریس کے ادھیکش اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ پرتاپ سنگھ باجوا سے ہے۔ ان کے درمیان کئیدلوں میں رہ چکے سچا سنگھ چھوٹے پور عام آدمی پارٹی کی ٹوپی پہن کر میدان میں ہیں۔ ونود کھنہ اور پرتاپ سنگھ باجوا دونوں کو لیکرسب سے زیادہ غیر یقینی کی بات یہ ہے کہ وہ جیتنے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔ علاقے سے دوری بنانے اور اسے چھوڑ دینے کا الزام جھیل رہے ونود کھنہ نے کچھ دنوں پہلے پٹھان کوٹ میں ایک کوٹھی خرید لی ہے۔ ان کی چناوی مہم اسی کوٹھی سے چل رہی ہے۔ کانگریس کیلئے پرتشٹھا کا سوال بن گئی ہے آنند پور صاحب کی سیٹ۔پانچواں تخت ہونے کی وجہ سے آنند پور صاحب سکھوں کااہم مذہبی مقام ہے۔ کانگریس نے پارٹی میں اہم رول نبھانے والی امبیکاسونی کو اکالی دل کے پریم سنگھ مجوماجرا کے مقابلے کھڑا کرکے دلچسپ نوعیت بنادی ہے۔ اس سیٹ پرگذشتہ چناؤ میں کانگریس کے رنجیت سنگھ نے اکالی دل کے سکریٹری دلجیت چیما کو ہرایا تھا۔سورگیہ سنجے گاندھی سے لیکر اب تک گاندھی پریوار کے سب سے قریبی لوگوں میں سے ایک شریمتی سونی کے لئے نہ صرف اس بار مقابلہ تگڑا ہے بلکہ کچھ حد تک ان کی اور ان کی پارٹی کے لئے پرتشٹھا کا سوال بھی بن گیا ہے۔پنجاب کی سنگرور سیٹ پر کامیڈین کلاکار بھگونت مان کے میدان میں اترنے سے مقابلہ دلچسپ اور تکونا ہوگیا ہے۔وہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار ہیں۔ اس سیٹ پر کانگریس اور اکالی دل۔ بھاجپا گٹھ بندھن کے درمیان کانٹے کی ٹکر رہتی تھی۔ کانگریس کے راہل گاند ھی برگیڈ کے وجے اندر سنگلا کومیدان میں اترا ہے تو شرومنی اکالی دل نے اپنے سینئر نیتا سکھدیو سنگھ ڈھنڈسا کوسنگلا کے خلاف میدان میں اتارا ہے۔ سنگرور لوک سبھا سیٹ دو ضلعوں سنگرور اور برنالہ میں بٹی ہوئی ہے۔30 اپریل کو پنجاب کی 13 سیٹوں گورداس پور، امرتسر، کھدور صاحب، جالندھر، ہوشیارپور، آنند پور صاحب، لدھیانہ، فتحپور صاحب ، فرید کوٹ، فیروز پور، بھٹنڈہ، سنگرور و پٹیالہ میں ووٹ پڑیں گے۔مشن مودی272+ کے لئے پنجاب کے یہ چناؤ اہم ہیں۔ (انل نریندر)

پنجاب میں اکالی۔ بھاجپا بنام کانگریس بنام ’آپ‘ پارٹی!
پنجاب کی امرتسر لوک سبھا سیٹ اس وقت پنجاب کی سب سے ہاٹ سیٹ بنی ہوئی ہے۔ امرتسر سیٹ پروقار کی لڑائی ہے جہاں ایک جنگی ہیرو اور سینئر سیاستداں اپنی سیاسی زندگی کے لئے میدان میں ہے تو دوسری جانب ایک رسوخ دار نیتا اس دگج کوشکست دینے کے لئے کمر کسے ہوئے ہے۔پنجاب کی اس سیٹ پر سبھی کی نگاہیں ہیں جہاں 30 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ گورو کی اس نگری میں سیاسی ماحول گرمانے لگا ہے۔ بادل صاحب کے ذریعے آشواسن دینے کے بعد بھی بھاجپا کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی کو خود پسینہ بہانا پڑ رہا ہے۔ 61 سالہ ارون جیٹلی کے لئے یہ پہلا چناؤ ہے جس میں وہ سیدھے چناؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بھاجپاکی لیڈرشپ میں این ڈی اے کے اقتدار میں آنے پر انہیں دہلی میں بڑا کردار مل سکتا ہے۔ شاید جیٹلی نے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ شرومنی اکالی دل۔ بھاجپا سرکار کے سات سال کے اقتدار اور موجودہ سانسد نوجوت سنگھ سدھو کی کارکردگی کو لیکر اقتدار مخالف لہر کے پس منظر میں انہیں امرتسر سیٹ پراتنے بڑے مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔کانگریس نے ان کے مقابلے میں اپنے پنجاب کے سب سے بڑے طاقتور امیدوار کیپٹن امرندر سنگھ کو اتارا ہے۔کانگریس نے کیپٹن کے روپ میں اپنا ترپ کا پتا کھیل کر یہاں مقابلہ کڑا بنادیا ہے۔ امرتسر میں کہیں کہیں آپ پارٹی کا اثر بھی دکھ رہا ہے۔ پچھڑی جاتیوں کا ووٹ جو کبھی کانگریس اور بسپا کے درمیان بٹتا تھااس بار اس کا جھکاؤعام آدمی پارٹی کی جانب لگ رہا ہے۔ویسے اس علاقے میں 23 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں جن میں بسپا کے پردیپ بلیا ایک ہیں۔ لیکن اہم مقابلہ جیٹلی و کیپٹن میں ہی ہے۔ بادل خاندان کے دو سورماؤں کے درمیان بھٹنڈہ میں کڑا مقابلہ ہونے جارہا ہے۔ ایک موجودہ ممبر پارلیمنٹ میں میدان میں خم ٹھوک رہا ہے تو بادل پریوار سے الگ ہوئے کنبے کے ایک دیگرممبر بھی بھٹنڈہ کی ہائی پروفائل سیٹ پر اپنی قسمت آزمانے اترے ہیں۔یہ سیٹ برسر اقتدار اکالی دل کا مضبوط قلعہ مانی جاتی ہے جہاں ایک امیدوار کے داخلے نے چناوی جنگ کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔اس سیٹ سے موجودہ ممبر پارلیمنٹ اکالی دل کی ہر سمرن کور اور ان کے دیور منپریت سنگھ بادل ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ سابق فائننس منسٹر اور پیپلز پارٹی آف پنجاب کے سنستھاپک منپریت کانگریس کے ٹکٹ پر چناؤ میدان میں ہیں۔ منپریت ماکپا اور شرومنی اکالی دل (برنالہ) کے سمرتھن سے اپنے چچیرے بھائی اور پردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر سکھبیر بادل کی پتنی ہرسمرن کور پر حملہ کرنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔پاکستان کی سرحد سے لگا گورداس پور پارلیمانی علاقہ فلم اور سیاست کے زبردست گھال میل کی وجہ سے ہاٹ سیٹ بن گیا ہے۔ فلمی دنیا میں لمبی وقت تک بادشاہت چلانے والے فلم اسٹار ونود کھنہ ایک بار پھر سے بھاجپا کے امیدوار ہیں۔ ان کا سامنا پنجاب پردیش کانگریس کے ادھیکش اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ پرتاپ سنگھ باجوا سے ہے۔ ان کے درمیان کئیدلوں میں رہ چکے سچا سنگھ چھوٹے پور عام آدمی پارٹی کی ٹوپی پہن کر میدان میں ہیں۔ ونود کھنہ اور پرتاپ سنگھ باجوا دونوں کو لیکرسب سے زیادہ غیر یقینی کی بات یہ ہے کہ وہ جیتنے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔ علاقے سے دوری بنانے اور اسے چھوڑ دینے کا الزام جھیل رہے ونود کھنہ نے کچھ دنوں پہلے پٹھان کوٹ میں ایک کوٹھی خرید لی ہے۔ ان کی چناوی مہم اسی کوٹھی سے چل رہی ہے۔ کانگریس کیلئے پرتشٹھا کا سوال بن گئی ہے آنند پور صاحب کی سیٹ۔پانچواں تخت ہونے کی وجہ سے آنند پور صاحب سکھوں کااہم مذہبی مقام ہے۔ کانگریس نے پارٹی میں اہم رول نبھانے والی امبیکاسونی کو اکالی دل کے پریم سنگھ مجوماجرا کے مقابلے کھڑا کرکے دلچسپ نوعیت بنادی ہے۔ اس سیٹ پرگذشتہ چناؤ میں کانگریس کے رنجیت سنگھ نے اکالی دل کے سکریٹری دلجیت چیما کو ہرایا تھا۔سورگیہ سنجے گاندھی سے لیکر اب تک گاندھی پریوار کے سب سے قریبی لوگوں میں سے ایک شریمتی سونی کے لئے نہ صرف اس بار مقابلہ تگڑا ہے بلکہ کچھ حد تک ان کی اور ان کی پارٹی کے لئے پرتشٹھا کا سوال بھی بن گیا ہے۔پنجاب کی سنگرور سیٹ پر کامیڈین کلاکار بھگونت مان کے میدان میں اترنے سے مقابلہ دلچسپ اور تکونا ہوگیا ہے۔وہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار ہیں۔ اس سیٹ پر کانگریس اور اکالی دل۔ بھاجپا گٹھ بندھن کے درمیان کانٹے کی ٹکر رہتی تھی۔ کانگریس کے راہل گاند ھی برگیڈ کے وجے اندر سنگلا کومیدان میں اترا ہے تو شرومنی اکالی دل نے اپنے سینئر نیتا سکھدیو سنگھ ڈھنڈسا کوسنگلا کے خلاف میدان میں اتارا ہے۔ سنگرور لوک سبھا سیٹ دو ضلعوں سنگرور اور برنالہ میں بٹی ہوئی ہے۔30 اپریل کو پنجاب کی 13 سیٹوں گورداس پور، امرتسر، کھدور صاحب، جالندھر، ہوشیارپور، آنند پور صاحب، لدھیانہ، فتحپور صاحب ، فرید کوٹ، فیروز پور، بھٹنڈہ، سنگرور و پٹیالہ میں ووٹ پڑیں گے۔مشن مودی272+ کے لئے پنجاب کے یہ چناؤ اہم ہیں۔
(انل نریندر)پنجاب کی امرتسر لوک سبھا سیٹ اس وقت پنجاب کی سب سے ہاٹ سیٹ بنی ہوئی ہے۔ امرتسر سیٹ پروقار کی لڑائی ہے جہاں ایک جنگی ہیرو اور سینئر سیاستداں اپنی سیاسی زندگی کے لئے میدان میں ہے تو دوسری جانب ایک رسوخ دار نیتا اس دگج کوشکست دینے کے لئے کمر کسے ہوئے ہے۔پنجاب کی اس سیٹ پر سبھی کی نگاہیں ہیں جہاں 30 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ گورو کی اس نگری میں سیاسی ماحول گرمانے لگا ہے۔ بادل صاحب کے ذریعے آشواسن دینے کے بعد بھی بھاجپا کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی کو خود پسینہ بہانا پڑ رہا ہے۔ 61 سالہ ارون جیٹلی کے لئے یہ پہلا چناؤ ہے جس میں وہ سیدھے چناؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بھاجپاکی لیڈرشپ میں این ڈی اے کے اقتدار میں آنے پر انہیں دہلی میں بڑا کردار مل سکتا ہے۔ شاید جیٹلی نے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ شرومنی اکالی دل۔ بھاجپا سرکار کے سات سال کے اقتدار اور موجودہ سانسد نوجوت سنگھ سدھو کی کارکردگی کو لیکر اقتدار مخالف لہر کے پس منظر میں انہیں امرتسر سیٹ پراتنے بڑے مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔کانگریس نے ان کے مقابلے میں اپنے پنجاب کے سب سے بڑے طاقتور امیدوار کیپٹن امرندر سنگھ کو اتارا ہے۔کانگریس نے کیپٹن کے روپ میں اپنا ترپ کا پتا کھیل کر یہاں مقابلہ کڑا بنادیا ہے۔ امرتسر میں کہیں کہیں آپ پارٹی کا اثر بھی دکھ رہا ہے۔ پچھڑی جاتیوں کا ووٹ جو کبھی کانگریس اور بسپا کے درمیان بٹتا تھااس بار اس کا جھکاؤعام آدمی پارٹی کی جانب لگ رہا ہے۔ویسے اس علاقے میں 23 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں جن میں بسپا کے پردیپ بلیا ایک ہیں۔ لیکن اہم مقابلہ جیٹلی و کیپٹن میں ہی ہے۔ بادل خاندان کے دو سورماؤں کے درمیان بھٹنڈہ میں کڑا مقابلہ ہونے جارہا ہے۔ ایک موجودہ ممبر پارلیمنٹ میں میدان میں خم ٹھوک رہا ہے تو بادل پریوار سے الگ ہوئے کنبے کے ایک دیگرممبر بھی بھٹنڈہ کی ہائی پروفائل سیٹ پر اپنی قسمت آزمانے اترے ہیں۔یہ سیٹ برسر اقتدار اکالی دل کا مضبوط قلعہ مانی جاتی ہے جہاں ایک امیدوار کے داخلے نے چناوی جنگ کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔اس سیٹ سے موجودہ ممبر پارلیمنٹ اکالی دل کی ہر سمرن کور اور ان کے دیور منپریت سنگھ بادل ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ سابق فائننس منسٹر اور پیپلز پارٹی آف پنجاب کے سنستھاپک منپریت کانگریس کے ٹکٹ پر چناؤ میدان میں ہیں۔ منپریت ماکپا اور شرومنی اکالی دل (برنالہ) کے سمرتھن سے اپنے چچیرے بھائی اور پردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر سکھبیر بادل کی پتنی ہرسمرن کور پر حملہ کرنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔پاکستان کی سرحد سے لگا گورداس پور پارلیمانی علاقہ فلم اور سیاست کے زبردست گھال میل کی وجہ سے ہاٹ سیٹ بن گیا ہے۔ فلمی دنیا میں لمبی وقت تک بادشاہت چلانے والے فلم اسٹار ونود کھنہ ایک بار پھر سے بھاجپا کے امیدوار ہیں۔ ان کا سامنا پنجاب پردیش کانگریس کے ادھیکش اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ پرتاپ سنگھ باجوا سے ہے۔ ان کے درمیان کئیدلوں میں رہ چکے سچا سنگھ چھوٹے پور عام آدمی پارٹی کی ٹوپی پہن کر میدان میں ہیں۔ ونود کھنہ اور پرتاپ سنگھ باجوا دونوں کو لیکرسب سے زیادہ غیر یقینی کی بات یہ ہے کہ وہ جیتنے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔ علاقے سے دوری بنانے اور اسے چھوڑ دینے کا الزام جھیل رہے ونود کھنہ نے کچھ دنوں پہلے پٹھان کوٹ میں ایک کوٹھی خرید لی ہے۔ ان کی چناوی مہم اسی کوٹھی سے چل رہی ہے۔ کانگریس کیلئے پرتشٹھا کا سوال بن گئی ہے آنند پور صاحب کی سیٹ۔پانچواں تخت ہونے کی وجہ سے آنند پور صاحب سکھوں کااہم مذہبی مقام ہے۔ کانگریس نے پارٹی میں اہم رول نبھانے والی امبیکاسونی کو اکالی دل کے پریم سنگھ مجوماجرا کے مقابلے کھڑا کرکے دلچسپ نوعیت بنادی ہے۔ اس سیٹ پرگذشتہ چناؤ میں کانگریس کے رنجیت سنگھ نے اکالی دل کے سکریٹری دلجیت چیما کو ہرایا تھا۔سورگیہ سنجے گاندھی سے لیکر اب تک گاندھی پریوار کے سب سے قریبی لوگوں میں سے ایک شریمتی سونی کے لئے نہ صرف اس بار مقابلہ تگڑا ہے بلکہ کچھ حد تک ان کی اور ان کی پارٹی کے لئے پرتشٹھا کا سوال بھی بن گیا ہے۔پنجاب کی سنگرور سیٹ پر کامیڈین کلاکار بھگونت مان کے میدان میں اترنے سے مقابلہ دلچسپ اور تکونا ہوگیا ہے۔وہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار ہیں۔ اس سیٹ پر کانگریس اور اکالی دل۔ بھاجپا گٹھ بندھن کے درمیان کانٹے کی ٹکر رہتی تھی۔ کانگریس کے راہل گاند ھی برگیڈ کے وجے اندر سنگلا کومیدان میں اترا ہے تو شرومنی اکالی دل نے اپنے سینئر نیتا سکھدیو سنگھ ڈھنڈسا کوسنگلا کے خلاف میدان میں اتارا ہے۔ سنگرور لوک سبھا سیٹ دو ضلعوں سنگرور اور برنالہ میں بٹی ہوئی ہے۔30 اپریل کو پنجاب کی 13 سیٹوں گورداس پور، امرتسر، کھدور صاحب، جالندھر، ہوشیارپور، آنند پور صاحب، لدھیانہ، فتحپور صاحب ، فرید کوٹ، فیروز پور، بھٹنڈہ، سنگرور و پٹیالہ میں ووٹ پڑیں گے۔مشن مودی272+ کے لئے پنجاب کے یہ چناؤ اہم ہیں۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...