Translater
30 نومبر 2024
ای وی ایم سے چناو ¿ کرانے کا سوال!
کانگریس نے ایک بار پھر بیلٹ پیپر یا ووٹ پرچیوں کی واپسی کی مانگ اٹھائی ہے ۔کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے نے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں بیلٹ پیپر سے چناو¿ کے لئے بھارت جوڑو یاترا کی طرح ملک گیر مہم چلانے کا اعلان کیا ۔اس کا نام آئین رکھشک ابھیان دیا ہے انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی ذات پات مردم شماری سے ڈرتے ہیں کہ سبھی طبقہ اپنا حصہ مانگیں گے ۔کھڑگے نے کہا مہاراشٹر چناو¿ نے دکھا دیا ہے کہ ایس سی ایس ٹی اوبی سی غریب طبقہ کے لوگ اپنی پوری طاقت لگا کر ووٹ دے رہے ہیں لیکن ان کا ووٹ فضول ہورہا ہے ۔ای وی ایم مشینوں کو لے کر کھڑگے نے طنز کیا کہ مودی جی کے گھر یا امت شاہ کے گھر میں مشین رکھنے دو ۔احمد آباد کے کسی گودام میں رکھن دو ہمیں ای وی ایم نہیں چاہیے ہمیں بیلٹ پیپر چاہیے ان کی تجویز تھی کہ جیسے راہل گاندھی کی قیادت میں بھارت جوڑو یاترا نکلی ویسے ہی مت پتر چاہیے کی مہم شروع کی جائے ۔پچھلے کچھ اسمبلی انتخابات میں ای وی ایم کو لے کر بہت سی شکایتیں آئی ہیں ۔مہاراشٹر میں تو بہت ہی ہنگامہ مچا ہے ۔ووٹر سڑکوں پر اترا ٓئے ۔ہارے امیدوار ثبوت اکٹھا کرکے چناو¿ کمیشن اور عدالتوں کے دروازہ پرجارہے ہیں ۔جہاں تک عدالتوں کا سوال ہے تو کچھ دن پہلے ہی سپریم کورٹ بیلٹ پیپروں کا استعمال کرنے سے متعلق عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ چناو¿ جیت جائیں تو ای وی ایم صحیح اور ہار جائیں تو چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے ۔جسٹس پی وی ویرالے کی سپریم کورٹ کی بنچ نے یہ رائے زنی کی تھی ۔عرضی میں پولنگ پرچی سے کرائے جانے کے علاوہ کئی اور ہدایت دئیے جانے کی درخواست کی گئی تھی ۔جب عرضی گزار کے ایل پال نے کہا کہ مفاد عامہ کی عرضی انہوں نے دائر کی ہے تو بنچ نے کہا کہ آپ کے پاس دلچسپ مفاد عامہ کی عرضیاں ہیں ۔آپ کو یہ شاندار وچار آتے کہاں سے ہیں ؟ پال نے کہا کہ وہ ایک ایسی تنظیم کے صدر ہیں جس نے تین لاکھ سے زیادہ یتیموں اور چالیس لاکھ سے زیادہ بدواو¿ں کو بچایا ہے ۔بنچ نے اس کے جواب میں کہا آپ اس سیاسی سیکٹر میں کیوں اترے ہیں اچھا کام بہت الگ ہے ۔پال نے جب بتایا کہ وہ 150 سے زیادہ دیشوں کا دورہ کر چکے ہیں تو بنچ نے کہا کہ ان دیشوں میں پرچیوں کے ذریعے ووٹ ڈالے جاتے ہیں یا وہاں ای وی ایم کا بھی استعمال ہوتا ہے اس پر پال نے کہا کہ اب دیشوں نے پرچیوں کے ذریعے چناو¿ کا طریقہ اپنایاہے جس میں امریکہ جیسے کئی ترقی یافتہ یوروپی دیش شامل ہیں ۔بھارت کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے انہوں نے کہا گڑ بڑھ ہوئی ہے اس سال 2024 جون مین الیکشن کمیشن نے 9 ہزار کروڑ روپے ضبط کئے ہیں ۔بنچ نے کہا لیکن اس سے آپ کی بات کیسے پختہ ہو جاتی ہے اگر آپ بیلٹ پیپر کی طرف لوٹتے ہیں تو کیا کرپشن نہیں ہوگا؟چندر بابو و جگن ریڈی کا ذکر کئے جانے پر بنچ نے کہا کہ جب چندر بابو نائیڈو ہارے تھے تو انہوں نے کہا تھا ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے اب ا س بار جگن موہن ریڈی ہارے تو وہ کہہ رہے ہیں کہ ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے۔ سوال نا تو ای وی ایم کا ہے اور نا سیاسی پارٹیو ں کا ہے بلکہ اصل سوال ای وی ایم ہے ۔ووٹروں کو پتہ ہونا چاہیے کہ اس نے جس کو ووٹ دیا ہے تو کیا وہ اس کو گیا ہے ۔دیش کی جنتا کا بھروسہ سب سے زیادہ اہم ہے ۔
(انل نریندر)
سماجواد و سیکولرزم آئین کا حصہ !
سپریم کورٹ نے سماج واد اور سیکولرزم الفاظ کو آئین کے بنیادی ڈھانچہ کا حصہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں آئین کی تمہید سے ہٹایانہیں جاسکتا ۔اس بارے میں دائر عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے عدالت نے کہا آئین کا آرٹیکل 368- پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کی اجازت دیتا ہے ۔تمہید بھی آئین کاحصہ ہے اور پارلیمنٹ کی یہ پاور تمہید تک پھیلی ہوئی ہے ۔آئین سے سیکولرزم اور سماج واد لفظ ہٹانے والی مانگ کی عرضیوں کو خارج کر دیا ۔ایم پی سبرا منیم سوامی ،وکیل وشنو شنکر جین اور دیگر کے ذریعے دائر عرضی کی گئی تھیں ۔غور طلب ہے کہ سال 1976 میں پاس ہوئی آئین ترمیم کے تحت سیکولرزم اور سماج واد جیسے الفاظوں کو جوڑا گیا تھا ۔چیف جسٹس سنجیو گھنہ ،جسٹس سنجے کمار کی بنچ نے کہا سماج واد اور سیکولرزم جیسے الفاظ 1976 میں آئین ترمیم کے ذریعے جوڑے گئے ان سے 1949 اپنائے گئے آئین پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اس ترمیم کے بعد تمہید میں بھارت کا خاکہ سرداری ،جمہوری ملک سے بدل کر سرداری ،سماج وادی اور سکولرزم سیکولر جمہوریت ہو گیا تھا ۔سماعت کے دوران اپنی دلیل دیتے ہوئے عرضی گزا ر وکیل وشنو کمار جین نے 9ججوں کی آئینی بنچ کو ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دیا اور آئین کی آرٹیکل 39(B) پر 9 ججوں کی بنچ کے فیصلے کا ذکرکرتے ہوئے عدالت نے سماج وادی لفظ کی تشریح پر عدم اتفاق جتایا جسے بڑی عدالت کے سابق جج جسٹس وی آر کرشنا ایئر اور چتر گندہا ریڈی نے تشریح دی تھی کہ سی جے آئی سنجیو کھنہ نے کہا ہندوستانیت کے سلسلے میں ہم سمجھتے ہیںکہ بھارت میں سماج واد دیگر دیشوں سے بہت الگ ہے ۔ہم سماج واد کا مطلب خاص طور سے ایک فلاحی اسٹیٹ فلاحی ملک سمجھتے ہیں اور اس فلاحی ملک مین اسے لوگوں کی بہبود کے لئے کھڑا ہونا چاہیے اور موقعوں میں یکسانیت برتنی چاہیے ۔بڑی عدالت نے 1994 کے ایس آر بومئی معاملے میں سیکولرزم کو آئین کی بنیادی تشبیح کاحصہ مانا یہ محض اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ نے یوم آئین پر آئین کی تمہید میں شامل سماج واد اور سیکولرزم جیسے الفاظ کی اہمیت اس کے استعمال کی تشریح کی ہے جن کا تفصیل سے تذکرہ کیا گیا ہے ۔چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ نے سماج واد اور سیکولرزم کے بارے می کہا کہ بھارت ے شہریوں سے ان دو لفظوں کو قبول کرکے اس کو مان لیا اس لئے 44 برسوں بعد ان لفظوں کو آئین کی تمہید سے بے اثر کئے جانے کا کوئی اخلاقی بنیاد نہیں دکھائی دیتا ۔سپریم کورٹ کے فیصلے نے تشریح کی ہے کہ چاہے سیکولرزم ہو یا سماج وادی یہ لفظ ہمارے آئین کی ترقی پسندی کو بنائے رکھنے میں معاون ہیں جہاں سیکولرزم شہریوں کی برابری اور مذہبی آزادی جیسے اہم اختیارات کو یقینی کرتا ہے وہیں سماج واد کے تئیں عزم ملک کے فلاحی ڈھانچے کو بنائے رکھنے میں مدد کرتا ہے ۔آج کے ماحول میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔اس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)
28 نومبر 2024
کیا شرد پوار کا سیاسی وجود ختم ؟
مہاراشٹر اسمبلی کے چناﺅ نتیجوں سے سب سے مایوس کن اشارہ اگر کسی کے لئے ہے تو وہ سیاسی چانکیہ مانے جانے والے بزرگ شرد پوار کےلئے ہیں ۔ڈھائی سال پہلے ان کی پارٹی کی ٹوٹنے نہ صرف ایم وی اے کا اقتدار چھین لیا بلکہ ان کی پارٹی ،چناﺅ نشان سے لیکر زمین تک چھین لی ۔نتیجوں نے شرد پوار کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے ۔کیوں کے سیٹیں کام زمین سب جاتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔84 سالہ شرد پوار کے لئے مہاراشٹر کا جن آدیش ان کے اب تک کے سیاسی سفر کے سب سے بڑے جھٹکے کی طرح ہے ۔بھلے ہی 5 سال پہلے شرد پوار نے اپنے سیاسی ٹیلنٹ سے کانگریس اور شیوسینا کو ساتھ لاکر ایم وی اے بنایا لیکن وہ اس بار بطور آرٹسٹ ناکام ہوئے زمین پر ان کی پارٹی این سی پی کی گھڑی نے جو پہچان بنائی اسے تو بھتیجے اجیت دادا پوار لے گئے لیکن اس عمر میں خطرناک بیماری کے چلتے پھر سے پارٹی کے لئے روح ڈالنا آسان نہیں ہے اس کے پیچھے کی وجہ ان کی سحت اور بڑھتی عمر جیسی چنوتیاں ہیں ۔شرد پوار نے اپنی وراست کے طور پر جہاں پردیش کے طور پر سیاست اجیت کے لئے چھوڑی تھی اور سیاست بیٹی سپریہ سلے کےلئے نئی صورت حال میں ان کی سیاسی زمین بنائے رکھنے کے لئے پھر سے بنیاد کھڑی کرنی ہوگی ۔اجیت دادا پوار نے بی جے پی کے ساتھ مل کر لکیر اتنی بڑی کرلی ہے کی اسے چھوٹا کرنا آسان نہیں ہوا۔مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ مہم کے دوران سوشل میڈیا پر واقعہ دھوم مچا رہا تھا وہ تھا جہاں بوڑھا آدمی چلا رہا ہے وہاں اچھا ہو رہا ہے ۔۔کم سے کم شرد پوار سے پیار کرنے والے ہر شخص کو اس لائن کا مطلب پتہ تھا اور ان کے گروپ کے امیدوار یہ سوچ رہے تھے کے وہ اپنے نیتا کے جادو سے اسمبلی میں ضرور پہنچ جائےں گے ۔یہی وجہ تھی کے جہاں این سی پی کے اتحادی سپا کے امیدوار چناﺅ لڑ رہے تھے وہاں شرد پوار کی ریلیوں کی خوب مانگ تھی ۔اس مانگ کے پیش نظر ریاست بھر میں 69 ریلیاں ہوئی انہوںنے لوگوں کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش بھی کی لیکن بعد میں بھی شرد پوار کو 86 میں سے 10 سیٹیں ہی ملی ہیں۔تو کیا اندازہ کہا جائے کے شرد پوار کا کرشما ختم ہو گیا ؟ایک بار پھر سے شرد پوار کے سیاسی دبدبے پرسوال کھڑے ہو گئے ہیں ۔اور سوال پوچھا جا رہا ہے کے کیا شرد پوار پھر سیاست میں کھڑے ہو پائےں گے ؟ ساتھ میں ہی شرد پوار اور ان کی پارٹی کی مستقبل کیا ہوگا؟ اور سب سے اہم بات یہ ہے کے مہاراشٹر کی سیاست میں شردپوار کا کرشما سب کچھ ختم ہو گیا ہے؟پچھلے 4 دہائیوں میں شرد پوار نے اپنے تجربہ اور ہنر کا استعمال کرکے سیاست میں واپسی کی ہے ۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ ہار ماننے والے نہیں ہیں ۔سپریہ سولے اور روہت پوار جیسے این سی پی (پوار گروپ)کو مستقبل میں کتنا سنبھال پائےں گے ۔اس بارے میں ایک صحافی نے کہا میں کبھی نہیں کہوں گا کے شردپوار سیاسی طور پر ختم ہو گئے ہیں ۔کیوں کے سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے کیا پتہ کوئی ایسا موقع بنے اور اشارے بنیں کے پوار صاحب پھر سے بولنگ کریں ۔
(انل نریندر)
بھاجپا ناکام،نہیں چلا گھس پیٹھ کا اشو!
مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ میں اچھی پرفارمنس کرنے والی بھاجپا جھارکھنڈ کے چناﺅی امتحان میں بری طرح فیل ہو گئی ریاست میں مبینہ گھس پیٹھ اور قبائیلیوں سے جڑا بھاجپا کے اشو کا لوگوں پر توقع کے مطابق کوئی اثر نہیں پڑ سکا ۔جھارکھنڈ میں بھاجپا کی ہار ہوئی ہے اس نے چناﺅ کے اغاز کے ساتھ ہی بنگلہ دیسی گھس پیٹھ کا اشو بنانے کی کوشش کی ۔روٹی ،ماٹی سب گھس پیٹھئے لے جائےں گے ۔یہ کہنا تھا آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کا لیکن یہ اشو بن نہیں پایا ۔وہیں ریاست بھر میں بھاجپا کے خلاف ہی اقلیتوں اور قبائلیوں ووٹوں کے پولارایزیشن کا خامیازہ بھاجپا کو بھگتنا پڑا ۔پارٹی کے برانے قبائلی چہرے اپنی کھوئی ہوئی ساق کو پانے کے لئے وسیع ہمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ۔ساتھ ہی ریاست کے وزیراعلیٰ کے لئے کوئی چہرہ پیش نہ کرنا بھی بھاجپا کے لئے نقصان دہہ ثابت ہوا ۔جھارکھنڈ میں بھاجپا کا چناﺅ پرچار مبینہ گھس پیٹھیوں اور قبائلیوں کے ارد گرد رہا ۔بھاجپا نے دعویٰ کیا تھا اگر وہ ریاست میں اقتدار میں آئی تو غیر ملکی گھس پیٹھیوں کو واپس بھیجا جائے گا ساتھ ہی ریاست کی زمین ان سے آزاد کرائیں گے ۔جب کے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی چناﺅ کمپیئن میں مرکزی نکتہ عورتیں ،نوجوان،کسان اور قبائلی شامل رہے ۔عورتوں کے لئے شروع کردہ میہّ سمان یوجنا کے فائدہ جے ایم ایم کو ملا ۔بھاجپا نیتاﺅ کے مطابق وزیراعلیٰ ہیمنت سورین سرکار کی یہ یوجنا جو محروم خواتین کو ایک ہزار روپے دیتی ہے ۔عورتیں حکمراءاتحات کے حق میں رہیں اور ان کا رجحان جے ایم ایم کی طرف رہا۔جیت کے بعد جے ایم ایم کے سی ایم ہیمنت سورین کافی خوش نظر آئے انہوںنے پارٹی کی کامیابی کا کریڈٹ اپنی بیوی کلپنا سورین کو دیا ۔انہوںنے ایکس پر بیوی کلپنا سورین اور بچوں کے ساتھ فوٹو شئیر کرتے ہوئے لکھا کے ہمارے اسٹار کمپین کا سواگت ہے جیت کے بعد ورکروں سے خطاب میں سورین نے کہا کے اس جیت میں کلپنا سورین اور ان کی ٹیم کا بڑا اشتراک ہے ۔لوک سبھا چناﺅ میں جے ایم ایم نے 5 سیٹیں جیتیں ۔اگر میں باہر ہوتا تو اور زیادہ اچھی پرفارمنس کرتا ۔اس وقت میری پتنی کلپنا سورین نے ون مین آرمی کی طرح کام کرتے ہوئے پوری ذمہ داری سنبھالی اس چناﺅ میں ہم نے ساتھ ملکر کام کیا ۔اس کے لئے پہلے ہی پورا ہوم ورک کر لیا ۔زمین پر جڑ کر کام کیا ۔ہم وہ پیغام دینے میں کامیاب رہے جو ہم دینا چاہتے تھے اسی کے ساتھ بھاجپا کے اندر یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کے جھارکھنڈ میں چناﺅ ہروانے کے لئے ذمہ داران کون ہے؟ جواب ہے آسام کے وزیر اعلیٰ شرما جنہوںنے اتنا گھٹیا پرچار کیا کے ایسے ایسے بے توکے بھاشن دئے ۔اور ایسے ایسے اشو اٹھائے جن سے پارٹی کو بھاری نقصان ہوا ۔نارتھ ایسٹ میں آج جو حالات بنے ہیں اس کے لئے بھی ہیمنت بسوا شرما ذمہ دار ہیں ۔آج کی تاریخ میں وہ بھاجپا کے لئے ایک ذمہ داری بن گئے ہیں ۔
(انل نریندر)
26 نومبر 2024
کیا پوتن نیوکلیائی ہتھیاروں کا استعمال کریں گے ؟
وہ سال 2022 کا اکتوبر کا مہینہ تھا جب امریکہ کے خفیہ حکام کے کان اچانک کھڑے ہو گئے ۔ان حکام نے روس کے فوجی حکام کی خفیہ بات چیت سن لی تھی ۔تب یہ پریشانی سامنے آئی تھی کے روس کے صدر پوتن یوکرین کے کسی فوجی اڈے کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے نشانہ بنا سکتے ہیں ۔لیکن ایسا ہوا نہیں ۔یوکرین پر روسی حملے کے 1000 سے زیادہ دن پورے ہو چکے ہیں ایک بار پھر نیوکلیائی ہتھیاروں کی بات چل پڑی ہے ۔پوتن نے اپنی نیوکلیائی پالیسی کو بدل دیا ہے اور ایسا اسلئے ہوا ہے کیوں کے یوکرین نے امریکہ سے ملی جدید مزائلوں کو روس پر داگا ہے روس کی نئی نیوکلیائی پالیسی میں کہا گیا ہے کے کوئی ایسا دیش جس کے پاس خود پرمانو ہتھیار نہ ہو لیکن وہ کسی دیش کے ساتھ مل کر حملہ کرتا ہے تو روس اسے مشترکہ حملہ مانے گا ۔یوکرین کے پاس تو پرمانو ہتھیار نہیں ہے لیکن امریکہ کے پاس ہے امریکہ اور برطانیہ روس کے ساتھ کھڑے ہیں ساتھ ہی ناٹو ممالک بھی یوکرین کو مدد دیں رہے ہیں ۔پرمانو پالیسی میں یہ بھی کہا گیا ہے کے اگر روس کو پتہ چلا کی دوسری طرف سے روس پر مزائیلوں اور ڈرون و ہوائی حملے ہو رہے ہیں تو وہ پرمانوں ہتھیاروں سے جواب دے سکتا ہے لیکن اب اس نے حملوں کے لئے امریکی مزائیلوں کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔پرمانو پالیسی میں مزید بتایا گیا ہے کے اگر کسی نے نئی تنظیم بنائی اور روس کی سرحد کے قریب فوجی بنیادی ڈھانچے کو لگایا یا روس کی سرحد کے آس پاس کوئی فوجی سرگرمی بڑھائی تو پرمانو ہتھیاروں کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔دیکھا جائے تو روس کے پاس سب سے زیادہ پرمانو ہتھیار بھی ہیں ویسے کوئی دیش اپنے ہتھیاروں کے بارے میں پوری جانکاری نہیں دیتے ہیں ۔تفصیلات دوسری ایجنسیوں کے حوالے سے ملتی ہیں ۔اس کے مطابق روس کے پاس تقریبا 5977 ہتھیار ہیں یہ امریکہ برطانیہ اور فرانس کے پاس ہتھیاروں کو ملانے کے بعد بھی ان سے کچھ زیادہ ہیں۔کچھ ڈفینس ماہرین مانتے ہیں اگر روس کو بار بار جھٹکا لگتا رہا یا اپنی ہار کا ڈر ہوا تو شاید ٹیکنکل ہتھیار بھی استعمال کرے۔حالانکہ ہو سکتا ہے ایسا کرنے کے لئے چین بھی روس کا ساتھ نہ دے ۔پوتن کی اس نئی پالیسی نے پوری دنیا کو پریشانی میں ڈال دیا ہے ۔امریکہ صدر جو بائیڈن نے بھی جاتے جاتے آگ میں گھی ڈال دیا ہے اوپر والا بہتر کریں اور سبھی فریقین کو عقل دے اور یہ پوری دنیا کو کسی پرمانو جنگ میں نہ جھونکے۔
(انل نریندر)
ٹرمپ پلان:غیر قانونی تارکین وطن کو نکالو!
نو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ملک میں بسے تارکین وطن کو نکالنے کا اعلان کیا ہے ان میں ہندوستانی بھی شامل ہیں۔بتا دیں کے امریکہ میں ڈنکی روٹ سے ہندوستانیوں کی ناجائز آمد بڑھتی جا رہی ہے امریکی بارڈر پر اس سال 30 ستمبر تک 90415 ہندوستانی پکڑے جا چکے ہیں ۔اس حساب سے ہر گھنٹے 10 ہندوستانیوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے ۔پکڑے گئے ہندوستانیوں میں 50 فیصد گجراتی ہیں ۔دوسرے نمبر پر پنجاب کے لوگ ہیں امریکی بارڈر اینڈ کسٹم نے اندیشہ جتایا ہے کے اس سال تک ہندوستانیوں کی تعداد ایک لاکھ تک پنچ جائیں گی جبکہ پچھلے سال 93 ہزار ہندوستانی پکڑے گئے تھے اس وقت تقریبا 9 لاکھ غیر ملکی غیر قانونی لوگ ہیں ۔ٹرمپ کا کہنا ہے انہیں بھی ان کے وطن بھیجا جائے گا ۔ٹرمپ کو امریکی معیشت کے مسئلے پر بھی نمٹنا ہوگا ۔9 لاکھ ناجائز طریقے سے آئے لوگوں میں ہندوستانیوں کو واپس بھیجا جائے گا ۔لیکن یہ سب ٹرمپ کے لئے آسان نہیں ہے ۔نہ ہی یہ ہونے والا ہے ٹرمپ کو امریکہ میں مقیم تارکین وطن تقریبا 30 ہزار کروڑ روپے ٹیکس کی شکل میں ادا کرتے ہیں ۔اگر انہیں نکالا گیا تو اس سے مرکزی اور ریاستی ٹیکس محصول کا نقصان ہوگا ۔ماہر امریکن معیشت کے مطابق ناجائز ہندوستانی تارکین وطن کی خرچہ کو بھی جوڑا جائے تو انہیں واپس بھیجنے سے امریکی معیشت پر برا اثر پڑ سکتا ہے اس لئے یہ شہری تقریبا 2 لاکھ کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں اور یہ امریکی معیشت میں بڑا نقصان دہہ ہو سکتا ہے ۔امیگریشن وکیل کلپنا پیڈی بتولے کے مطابق امریکہ میں آنے والے ہندوستانی دو طریقہ استعمال کرتے ہیں پہلا ناجائز دستاویز جیسے پاسپورٹ اور ویزا کے ساتھ امریکہ میں آتے ہیں اور پھر یہاں پر رکے رہ جاتے ہیں ۔2010 سے 2020 تک ایسے لوگوں کی تعداد 4 لاکھ ہے ناجائز پرواسی مردم شماری اور سوشل سروس نیٹ سے دور رہتے ہیں تاکی ان کی پکڑ نہ ہو پائے ۔دوسرا طریقہ بارڈر پار کر امریکہ میں داخل ہونا ۔میکسکو سے امریکہ میں گھسنا آسان ہوتا ہے لیکن پکڑے جانے کا خطرہ ذیادہ ہے ۔ککوڈا بارڈر میں جان کا ذیادہ خطرہ ہوتا ہے ۔ٹرمپ نے اپنی دوسری میعاد میں ایسے ناجائز پرواسیوں کو روکنے اور پہچان کرنے کے لئے بڑی تیاری کر رکھی ہے ۔اس میں کام کی جگہ پر اچانک چھاپوں کا بھی پلان بنایا ہے اور اس طرح کے پرائیویٹ کارکھانوں میں ناجائز پرواسی بلا تقرری کے کام کرتے ہیں ۔اور وہ ایک طے شدہ تنخواہ پر کام دیتے ہیں ٹرمپ نے بارڈر پر فوج لگانے کی بھی بات کہی ہیں ابھی ابھی وہا بارڈر سکیورٹی گشت ہے ۔ناجائز پروواسی امریکہ کے گھروں میں ایسے کام کرتے ہیں جو عام طور پر امریکن خود نہیں کرنا چاہتے ۔مثال کے طور پر باتھروم صاف کرنے،کھانا بنانا ،جھاڑو پوچا لگانا وغیرہ کام شامل ہیں ۔اس کے علاوہ مریضوں کی ریکھ بھال کرنا وغیرہ یہ ہندوستانی کرتے ہیں اگر ان کو نکالا گیا تو ان امریکیوں کو یہ کام خود کرنا پڑ سکتا ہے جن کی شاید ان کو ان کاموں کی عادت نہیں ہوگی ۔اس لئے ڈونالٹ ٹرمپ کا ملک سے غیر قانونی تاکین وطن کو واپس بھیجنا کتا کارگر ہوگا اس پر شبہ برقرار ہے دیکھیں عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ اپنے اس پلان پر کتنا عمل کر تے ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...