Translater

10 اپریل 2021

دہکتے جنگل کلائیمٹ تبدیلی کانتیجہ !

اترا کھنڈ کے جنگلوں میں لگی آگ محض ایک اتفاق ہے یا پھر پہاڑوں کے گرم ہوتے موسم کا نتیجہ ہے ۔ماہرین اسے آب و ہوا تبدیلی سے دیکھ رہے ہیں ۔آگ لگنا یہ اچانک ہی نہیں ہے بلکہ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اب جنگلوں میں آگ لگنے کی وارداتیں تب ہوتی ہیں جب گرمی کا موسم انتہا پر نہیں پہونچا ہے اس لئے اس کاتعلق گلوبل وارننگ سے جڑتا ہے ۔گرمی بڑھ رہی ہے پیڑ پودے زیادہ سوخ رہے ہیں ۔زمین کا پانی خشک ہو رہا ہے ۔ٹوٹے پتے جلدی سوخ رہے ہیں اور یہ پتے بھی آگ لگنے کا سبب بنتے ہیں بھارت میں بھی اس سب کا اثر صاف دکھائی دے رہا ہے ۔2020 میں دیش کی چار ریاستوں کے جنگلوں میں اگ کے بڑے واقعات ہوئے ہیں یہ ریاست کے اتراکھنڈ ہماچل پردیش اڑیسہ اور ناگا لینڈ ہیں سینٹر فار بایو ڈاورسٹی اینڈ کنجکشن کے سینئر فیلو ڈاکٹر جگدیش کرشناسوامی کا کہنا ہے دیش کے کچھ حصوں میں موسم بہت گرم ہے پہاڑوں میں جھاڑ فانوس سونگھنے سے دیش میں ایندھن کی دستیابی ان دنوں بڑھ گئی ہے ۔اور اس کی آسانی سے جلنے اور موسم میں تبدیلی کا امکان ہے اس سال کی شروعات میں اتراکھنڈ میں سردیوں میں بارش کم ہوئی ہے ۔اور یہ پچاس کلو میٹر کی جگہ دس کلو میٹر کے دائرے میں ہو رہی ہے ہماچل علاقہ میں گلوبل وارننگ کی شرح سب سے زیادہ ہے مانسون کی بارش کی کمی وہاں کی جنگلاتی پیڑوں کو سکھا کر ایندھن میں تبدیل کرنے کے لئے کافی ہے ۔ (انل نریندر)

مافیہ مختار کا نیا پتہ بیرک نمبر 15، باندہ جیل !

مافیہ مختار انصاری کا نیا پتہ ہوگا ....بیرک نمبر 15 باندہ جیل ، 26 مہینہ کی جدو جہد کے بعد اس کی واپسی یوپی ہو گئی ہے ۔پنجاب کے کوولحل سے دس کروڑروپے کی فروتی مانگنے کے الزام میں مقدمہ درج ہونے کے بعد پنجاب پولیس اسے پروڈکشن وارنٹ پر جنوری 2019 کو یوپی سے لے آئی تھی ۔اور قریب 26 مہینے سے انصاری روپڑ جیل میں جوڈیشیل حراست میں تھا ۔یہ جیل دبنگ ممبر اسمبلی مختار انصاری کو خوب راس آئی ۔وہ یہاں پر اپنے آپ کو پوری طرح محفوظ سمجھتا تھا اور یہاں سے یوپی نہیں جانا چاہتا تھا دو سال میں آٹھ مرتبہ یوپی پولیس اسے لینے روپڑ پہونچی تھی ۔لیکن ہر بار صحت اور سکورٹی اور کورونا کی وجہ بتا کر پنجاب پولیس نے اسے سونپنے سے انکار کر دیا اور وہ ہر بار ڈاکٹر کی صلاح کا حوالہ دیتی رہی انصاری کو ڈکلریشن ، سوگر ،ریڑھ کی ہڈی سے متعلق بیماریاں ہیں ایسے میں اسے منتقل کرنا ٹھیک نہیں ہے لیکن جب یہ معاملہ سپریم کورٹ پہونچا تو پنجاب سرکار نے ملزم کو پنجاب کی جیل میں رکھنے کے لئے کئی دلیلیں رکھیں لیکن وہ ناکام رہی 21 جنوری 2021 کو محالی پولیس نے انصاری کو تاجر سے ذر فدیہ مانگنے کے الزام میں یوپی سے پروڈکشن وارنٹ لیا تھا ۔25 جنوری 2019 سے ملزم روپڑجیل میں بند تھا ۔قریب 26 مہینہ سے یوپی میں چل رہے 54 مقدموں کی سماعت ہوئی وہ ایک بار بھی عدالت نہیں پہونچا حالانکہ علاج کے لئے جیل سے باہر آتا رہتا تھا یہ معاملہ یوپی اور پنجاب حکومتوں کے درمیان سیاسی الزام تراشیوں کا سبب بھی بن گیا تھا اس لئے سپریم کورٹ کی مداخلت سے اس کی گھر واپسی ہوئی اس پر ریاست اور دیگر تھانوں میں 54 سے زیادہ معاملے درج ہیں ان میں سے زیادہ تر معاملوں میں گواہوں کے مکر جانے یا گواہی کے لئے سامنے نہ آنے کی وجہ سے معاملے ڈھیلے پڑ چکے تھے ۔لیکن 15 معاملوں میں مقدمہ چل رہا ہے ۔یوپی پولیس انتہائی جدید ہتھیاروںسے مصلحہ ہو کر قریب 60جوان اسے لانے اور ایک ایمبولینس اور دوسری 11 گاڑیوں کا قافلہ لے کر پہونچی تھی ۔900 کلو میٹر کے اس سفر میں چپہ چپہ پر سکورٹی کا انتظام تھا ۔باندہ جیل کی ایک بیرک نمبر 15 اب اس کا نیا ٹھکانہ ہوگا جیل میں حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔مختار کے گھر والے اس کی حفاظت کو لیکرپریشان ہین ۔دراصل انہیں یوپی کی بھاجپا سرکار کے مافیہ بدمعاش مخالف رخ سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے مختار اور اس کے گردوں کی کئی ناجائز پراپرٹیوں پر بلڈوزر چل چکے ہیں ان کی بیوی افشا انصاری اور بڑے بھائی غازی پور سے ایم پی افضل انصاری سپریم کورٹ سے اس کی حفاظت بڑھانے کی درخواست کر چکے ہیں کوئی کتنا بھی بڑا سرغنہ یا مجرم کیوں نہ ہو انصاف کرنا قانون کا کام ہے مختار اب یوپی کی جیل میں ہے اب وقت ہے کہ بیان بازی چھوڑ کر قانون کو اپنا کام کرنے دیا جائے ۔ (انل نریندر)

واجے سے وصولی کروانے میں مہاراشٹر کے دو وزیر!

مہاراشٹر میں پیسہ وصولی کا بونڈر سنگین رخ اختیار کرتا جا رہا ہے انل دیشمکھ کے بعد مہاراشٹر کے ایک اور وزیر انل پرو بھی وصولی کرانے کا الزام لگا ہے ۔100کروڑ روپے کی وصولی معاملے میں مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیش مکھ کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا ان کے ساتھ سیو سینا لیڈر و پارلیمانی وزیر انل پرو کی بھی مشکلیں بڑھنے والی ہیں ۔معطل سب انسپکٹر سچن واجے نے دیشمکھ پر ملازمت بنائے رکھنے کے لئے دو کروڑ روپے مانگنے کا سنسنی خیز الزام لگایا ہے انل دیش مکھ نے سیفی برہانی ٹرسٹ سے پچاس کروڑ روپے کی سودے بازی کرنے کو کہا تھا خط میں واجے نے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کے نام سے گپتا تاجر سے سو کروڑ روپے وصولنے کا ٹارگیٹ رکھنے کا بھی الزام لگایا واجے کے وکیل نے بھدوار کو اسپیشل عدالت میں پیش رکھے خط میں دعوے کئے ہیں واجے کادعویٰ ہے ،این سی پی چیف شردپوار نہیں چاہتے تھے کہ وہ پولیس میں بنے رہیں دوبارہ ملازمت جوائن کرنے پر پوار نے مجھے پھر معطل کرنے کو کہا تھا ۔اس کے عوض میں بھی دیش مکھ نے دو کروڑ روپے مانگے تھے میں نے اپنی لاچاری بتائی تو وہ بعد میں لینے کو تیار ہو گئے دیش مکھ نے کہا تھا 16050 بار ریسٹورینٹ ہیں فی بار و ریسٹورینٹ سے تین سے ساڑے تین کروڑ روپے وصول کرو میں نے انہیں بتایا قریب دو سو بار ہی ہیں میں یہ وصولی نہیں کر سکتا ۔دیش مکھ کے بنگلے سے نکلنے پر ان کے پی اے نے وزیر کی مانگ ماننے کی صلاح دی تھی بعد میں میں نے یہ جانکاری اس وقت کے پولیس کمشنر پرم ویر سنگھ کو دے دی تب انہوں نے کہا تھا کہ غیر قانونی کام مت کرنا حالانکہ کورٹ نے خط کو قبول نہیں کیا اور اسے ٹھیک سے پیش کرنے کی ہدایت دی حالانکہ واجے نے خط میں نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار سے سیدھی ہدایت ملنے کا ذکر نہیں کیا لیکن لکھا درشن تھوراوت نامی شخص نے کہا تھا کہ وہ اجیت کا قریبی ہے ۔اس نے کچھ لوگوں کے نام لئے اور کہا کہ لسٹ میں درج کاروباریوں سے سو کروڑ روپے وصولو۔ (انل نریندر)

09 اپریل 2021

وقت سے پہلے ریکارڈ توڑ گرمی !

راجدھانی دہلی میں گرمی اپنا رنگ دکھانے لگی ہے ۔اور جس وجہ سے سابقہ درجہ حرارت کو دیکھیں تو راجدھانی میں وقت سے پہلے ہی گرمی ریکارڈ توڑنے لگی ہے اور میدان تپنے لگے ہیں ۔دہلی میں این دن پہلے ہی 75 سال کا ریکارڑ ٹوٹا تو راجستھان مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ ، یوپی سمیت کئی ریاستوں میں گرم ہواو¿ں یعنی لو سے بے حال نظرآئے محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق کم مانسونی بارش کی سب سے بڑی وجہ ہے دہلی میں لوگوں کو اس بار عام گرمی سے زیادہ گرم موسم کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔فروری میں اوسط درجہ حرارت 27.9 ڈگری سیلیسی درج کیاگیا تھا ۔پچھلے 102برسوں میں صرف دو بار ہی درجہ حرارت اس سطح پر درج کیاگیا فروری کے بعد مارچ میں تپش بڑھی ہے ۔پچھلے برس اسی مہینہ میں ایک دن ایسا نہیں رہا جب زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 ڈگری پار ہو گیا ہولی کا دن یعنی 29 مارچ سب سے زیادہ گرم دن رہا اس دن درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 40.1 ڈگری رہا جو عام درجہ حرارت سے 8 ڈگری زیادہ تھا اس سے پہلے 1945 میں 31 مارچ کے دن 41.5 ڈگری تک رہا تھا جو تاریخ میں سب سے زیادہ مانا جاتا ہے ۔اس طرح سے یہ دوسرا سب سے گرم دن رہا ۔محکمہ موسمیات کے سبدرجنگ سینٹر میں زیادہ سے زیادہ 37.9 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا حالانکہ اس موازنہ پیر سے کریں تو تیز ہواو¿ں کے چلتے درجہ حرارت میں دو ڈگری گراو¿ٹ آئی اور درجہ حرارت 40.1 ڈگری تھا جو عام سے 8ڈگری زیادہ تھا ویسے دیکھا جائے تو یہ صحیح معنوں میں یہ گرمی کی شروعات ہے ۔مئی جون جلائی میں یہ درجہ حرارت کہا پہونچے گا سوچ کر ہی بے چینی ہوتی ہے دہلی کے شہریوں کو زبردست گرمی لو وغیرہ سے بچاو¿ کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔ (انل نریندر)

نوجوانوں کی موت کا اوزار ہے نشیلی چیزیں!

سپریم کورٹ نے منگل کے روز کہا کہ نشیلی چیزوں کا کاروبار کرنے والے لوگ ایسے بے قصور نوجوانوں کے لئے موت کا ذریعہ ہیں اور وہ سماج پر خطرناک اثر ڈالتے ہیں عدالت نے کہا کہ دیش میں نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ اور اس کے ناجائز کاروبار سے جنتا کے ایک بڑے حصہ خاص طور پر لڑکے لڑکیوں میں نشہ کی لت لگ جاتی ہے عدالت کا کہنا تھا کہ مسئلے نے سنگین اورخطرناک شکل اختیار کرلی ہے جسٹس ڈی وائی چندر چور اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے نومبر 2020 کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کرتے ہوئے یہ رائے زنی کی ۔عدالت نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو بھی برقرار رکھا تھا جس میں ایک کلو گرام حشیش برآمد ہونے پر ایک شخص کو نشیلی چیزیں متعلق قانون کے تحت قصوروار مانتے ہوئے 15 سال کی قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ کیا تھا ۔عدالت نے کہا ملزم کی طرف سے دی گئی دلیلوں کو ان پر غور کرتے وقت یہ دھیان میں رکھا جانا چاہیے کہ وہ شخص کسی معاملے میں یا ملزم ایک یا دو لوگوں کو مارتا ہے جبکہ نشیلی چیزوں کا کاروبار کرنے والے بہت سے معصوم لڑکوں کی موت کا ذریعہ بنتے ہیں اس کا سماج پر خطرناک اثر پڑتا ہے وہ سماج کے لئے خطرہ ہیں یہ تلخ حقیقت ہے کہ دیش میں نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ دن بدن بڑھتی جارہے اور آئے دن کوئی نہ کوئی اسمگلر پکڑا جاتا ہے لیکن ابھی تک اس کو روکنے کی کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بن پائی ہے دیش کی نوجوان پیڑی اس لعنت سے متاثر ہو رہی ہے اسے روکنا ضروری ہے ۔ (انل نریندر)

رافیل پر کانگریس - بھاجپا پھر آمنے سامنے !

رافیل جنگی جہاز سودے کو لیکر بھاجپا اور کانگریس میں پھر ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا دور شروع ہو گیا ہے تازہ تنازعہ فرانسیسی پورٹل میڈیا پارٹ کی ایک خبر کو لیکر ہے جس میں رافیل سودے میں گیارہ لاکھ یورو (یعنی موجودہ قیمت کے حساب سے 9.5 کروڑ روپے )کی دلالی کادعویٰ کیا گیا ہے ۔کانگریس نے اس رپورٹ پر مودی سے صفائی مانگی ہے وہیں بھاجپا نے الزامات کو سرے سے مسترد کر دیا ہے غور طلب ہے کہ میڈیا پارٹ میں 2019 کے لوک سبھا چناو¿ سے پہلے رافیل کمپنی کے ساتھ ہوئے آف شارٹ سمجھوتہ پر سوال اٹھاتے ہوئے رپورٹ شائع کی تھی ۔اسی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہا رپورٹ کے مطابق فرانس کی اینٹی کرپشن ایجنسی نے جانچ میں پایا ہے کہ داستہ نے ڈیفسز سالوشن کو رافیل کے پچاس ماڈل بنانے کے لئے گیارہ لاکھ یورو دئیے تھے لیکن کمپنی ان ماڈل کی سپلائی دینے میں ناکام رہی ۔دو سرکاروں کے درمیان ہوئے سودے میں دلالی کی رقم دیا جانا سنگین معاملہ ہے ۔پی ایم مودی کو اس کا جواب دینا چاہیے کانگریس نیتا سرجیوالا نے کہا کہ سودے کی شرائط میں صاف صاف لکھا ہے کہ اس میں کسی طرح کی دلال کا کوئی رول نہیں ہوگا وہیں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے رافیل سودے میں ایک دلال کو گیارہ لاکھ یورو دئیے جانے والی اس خبر پر سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ شخص جو دھرم کہتاہے اس کا پھل کرم کرتا ہے ۔اس کا پھل سامنے آجاتا ہے ۔اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا ۔انہوں نے ٹوئیٹ کیا کہ معاملے کی منصفانہ جانچ ہونی چاہیے جب کانگریس نے معاملے کی گہری جانچ کی مانگ کی تھی تو بھاجپا نے الزامات کو پوری طرح بے بنیاد قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ بڑی اپوزیشن پارٹی سکورٹی فورسز کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔فرانس کے نیوز پورٹل میں نئے انکشاف سے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے اس موقف کو صحیح ثابت کر دیا ہے ۔کہ رافیل کے سودے میں کرپشن ہوا ہے اس پر جواب دیتے ہوئے وزیرقانون روی شنکر پرساد نے الزامات کو سرے سے خارج کر دیا ۔انہوں نے رپورٹ کے پیچھے کارپوریٹ کی لڑائی کی طرف اشارہ کیا ہے اور کہا کہ سپریم کورٹ و سی اے جی پہلے ہی سودے کو کلین چٹ دے چکے ہیں روی شنکر نے بچولیوں کی شکل میں کمپنی ڈیفسز سالوشنز اور ان کے مالک صحان گپتا کا نام سامنے آنے کو مضحکہ خیز قرار دیا ۔انہوں نے کہا گپتا کو اگستہ ویسلینٹ ہیلی کاپٹر گھٹالے کے الزام میں 2019 میں ای ڈی نے گرفتا ر کیا تھا تب انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر سلمان خورشید قبول کر چکے تھے کہ وہ سوشین گپتا کے پورے خاندان سے واقف ہیں ی ہی نہیں اگستہ ویسلینٹ گھٹالے میں کانگریس کے سینئر لیڈروں کے نام بھی سامنے آچکے ہیں رافیل کو لیکر کانگریس کافی عرصہ سے تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے لیکن اسے کوئی کامیابی نہیں ملی ہے ۔پرساد نے توجہ دلائی کہ کانگریس اس معاملے کو ماضی گزشتہ میں بھی اٹھایا اور سپریم کورٹ میں اس کی ہار ہوئی یہاں تک سی اے جی نے بھی جانچ میں کچھ غلط نہیں پایا ہمارا خیال ہے کہ چونکہ پورا معاملہ فرانس سے اٹھا ہے اور اس کی جانچ جاری ہے جانچ میں کس کس کا نام آتا ہے یہ جانچ پر منحصر ہے رشوت دی گئی تو کتنی کس کو دی گئی ،پتہ نہیں اس کا خلاصہ ہوتا ہے یا نہیں ؟ (انل نریندر)

08 اپریل 2021

ووٹر لسٹ میں90ووٹ پڑے171ووٹ!

آسام کے دیما ساو¿ ضلع میں ایک پولنگ بوتھ پر بڑی لاپرواہی کا انکشاف ہوا ہے یہاں صرف 90ووٹر رجسٹرڈ ہیں لیکن کل ووٹ 171پڑے ہیں حکام نے پیر کو یہ جانکاری دی یہ پولنگ بوتھ ہاف لونگ اسمبلی حلقے میں ہے اس جگہ دوسرے مرحلے میں یکم اپریل کو ووٹ ڈالے گئے تھے ہاف لونگ نے 74فیصدی پولنگ ہوئی تھی انہوں نے بتایا اس واقعے کی روشنی میں آنے کے بعد ضلع الیکشن آفسر نے پولنگ مرکز کے پانچوں چناوی افسروں کو معطل کرکے یہاں دوبارہ ووٹ ڈلوانے کی ہدایت دی ہے دیما ہساو¿ کے پولس کمشنر و معاون ضلع چناو¿ افسر کی جانب سے معطلی کی احکامات کو دو اپریل کو جاری کیا گیا تھا لیکن یہ معاملہ پیر کو سامنے آیا فرض نبھانے میں لاپرواہی کیلئے سبھی معمور ڈیٹو افسروں کو معطل کیا حکام نے بتایا پولنگ بوتھ کیلئے ووٹر لسٹ میں 90نام تھے لیکن ای وی ایم میں 171ووٹ پڑے ایک افسر نے بتایا کہ گاو¿ں کے پردھان نے ووٹر لسٹ کی فہرست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا وہ اپنی فہرست لے کر آگیا اس کے بعد گاو¿ں کے لوگوں نے پردھان کی لسٹ کے مطابق ووٹ ڈالے حالانکہ ابھی تک یہ نہیں پتہ چل پایا کہ چناو¿ افسران نے پردھان کی مانگ کیوں قبول کر لی اور وہاں تعینا ت سیکورٹی عملے کا بھی اس میں کیا رول رہا ہے ؟ (انل نریندر)

کیرل میں کھلا لو جہاد کے خلاف مورچہ !

پچھلے کچھ برسوں سے کیرل میں ہندو تنظیم خاص طور سے لو جہاد کے خلاف آواز اٹھا رہیں تھی لیکن اب حالات بدلتے دکھائی دے رہے ہیں ویسے کیرل کا عیسائی سماج پہلے سے ہی لو جہاد کے واقعات سے متاثر رہا ہے ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کیرل میں عیسائی انجمن نے فیس بک پر ایک ویڈیو شیئر کیا ہے جس میں مبینہ طور پر لو جہاد کی جا ل میں پھنسی ایک لڑکی کی کہانی کے ذریعے اس مسئلے کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے اس ویڈیو کو میگھالیہ میں جو لکھا گیا ہے وہ کافی دلچسپ ہے اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی اپیل کی تحت اس میں کہا گیا ہے بھاجپا مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت والے ایل ڈی ایف اور کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف جہادیوں کو خوش کرنے کیلئے لو جہاد نامی دہشت گردی جائز ٹھرارہے ہیں پچھلے سال کیرل کے مالابار چرچ نے ایک بیان جاری کیا جس میں تشویش جتائی تھی کی عیسائی لڑکیوں کو لوجہاد کے ذریعے نشانہ بنایا جارہاہے سال بھر ہوگیا ہے یہ بات آج بھی وہاں کے کسی بھی گرجہ گھر میں کہیں نہ کہیںگونج رہی ہے ۔لوگ اس نظریئے کو ماننے والے نہیں جو ویڈیو میں پیش کئی گئی تصویر سے ایسے بھی کچھ لوگ ہیں جو متفق ہیں ۔ انٹر کاسٹ مزہبی شادی کے خلاف نہیں ہیں ان کی نظر میں ایسا نہیں کہا جاسکتا ایسی سبھی شادیاں لوجہاد ہیں تبدیلی مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے لیکن اس کے بعد اسمیں سے کچھ بھی سیریا یا آئی ایس آئی ایس میں لے جانا تشویش کی بات ہے پہلی بار قریب 2009میں کیرل میں لوجہاد کا لفظ سرخیوں میں آیا تھا تب کیرل ہائی کورٹ نے ریاستی حکو مت سے لو جہاد کے خلاف قانون بنانے کو کہا تھا ۔ لو جہاد کے بڑھتے ٹرینڈ کے سبب کیرل کے فرقہ وارانہ بھائی چارے اور امن کو خطرہ پیدا ہوگیا اس کے ذریعے عیسائی لڑکیوں کو نشانہ بنایا جارہاہے عیسائی فرقے میں لو جہاد کے خلاف بھی چرچہ ہے تو اپنے کو ترقی پسند ماننے والا گروپ اس کے خلاف آواز اٹھانے لگا ہے ۔حالانکہ اتر پردیش میں لو جہاد ایک ہندو مسلم مسئلے کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن کیرل میں یہ عیسائیوںمیں خاص کر سائشو مالابار چرچ کے درمیان اپنی جگہ بنا چکی ہے کیرل میں عیسائیوں آبادی کے پیش نظر یہ ٹرینڈ سیاسی نظریئے سے ساو¿تھ پنتھی پروپیگنڈے کیلئے فائدے مند ہے یہ سب مسلم فرقے کیلئے مایوس کن ہے کیرل کی آبادی میں قریب 19فیصد حصے داری رکھنے والا عیسائی فرقہ وہاں کی سیاسی پارٹیوں کیلئے اہم مقام رکھتا ہے ۔ بھاجپا نے اپنے چناو¿ منثور میں لو جہاد کے خلاف قانون بنانے کی بات کہی ہے لیکن حکمراں کمیونسٹ پارٹی کا کہنا ہے لو جہاد کا ریاست میں کوئی وجود نہیں ہے یہ سنگھ پریوا رکے دماغ کی دین ہے ۔ (انل نریندر)

ایسے الزامات کو بغیر جانچ نہیں چھوڑا جاسکتا !

پچھلے کئی دنوں سے جاری تنازع ممبئی کے سابق پولس کمشنر پرم ویر سنگھ کے الزامات کے بعد بمبئی ہائی کورٹ کے بعد سی بی آئی جانچ کے احکامات دینے کے بعد مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیش مکھ کے پیش اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں بچا تھا عدالت نے کہا کہ دیش مکھ کے خلاف سابق پولس کمشنر پرم ویر سنگھ کے الزامات نے پولس پر شہریوں کے بھروسے داو¿ں پر لگادیا ریاست کے وزیر داخلہ کے خلاف عائد الزامات بغیرجانچ کے نہین رہنے دے سکتے اور پورے معاملے میں ایک آزاد ایجنسی سے جانچ کرایا جانا ضروری ہے جس سے لوگوں کا بھروسہ قائم رہے ۔ عدالت نے کہا کہ ایسی عرضیوں پر سماعت کے دوران جج صاحبان نے کہا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی وقت کو نہیں دیکھ سکتا لیکن کئی مرتبہ وقت ہمیں بھی جانے انجانے میں ہونے سے پہلے انہیں دکھادیتا ہے سچ یہ ہے کہ پرم ویر سنگھ کے وکیل نے دلیل دی کہ پوری پولس فورس بہت پرجوش تھی اور نیتاو¿ں کی مداخلت کے سبب وہ دباو¿ میں کام کر رہی تھی اس پر بنچ نے پوچھا کہ اگر پرم ویر سنگھ کو دیش مکھ کے سیاسی قد کی جانکاری تھی تو انہیں وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج کیوں نہیں کرائی ایک دوسرے عرضی گزار جے شری پاٹل نے بنچ نے کو بتایا انہوں نے مقامی پولس کو گھر میں شکایت درج کرائی تھی لیکن اس پر کوئی ایکشن نہیں ہوا پچھلے مہینے پولس کمشنر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پرم ویر سنگھ نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو کھلا خط لکھ کر الزام لگایا تھا کہ دیش مکھ اے پی آئی (اب معطل)سچن واجے سمیت نچلے پولس افسران کو نہ صرف ہدایت دیتے ہیں بلکہ انہوں نے ممبئی کے بار اور ریستوریانت سے 100کروڑ روپئے وصول کرنے کی مانگ بھی کی تھی پرم ویر کے الزامات کے بعد ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے ایک سابق جج کی سربراہی میں ایک جانچ کمیٹی بنائی تھی ۔مگر دیش مکھ اپنے عہدے پر بنے ہوئے تھے یہی وجہ سابق وزیر اعلیٰ دیوندر فڈنویش اور بھاجپا کو ریاستی حکومت پر تنقید کرنے کا موقع مل گیا حقیت میں جب صنعت کار مکیش انبانی کے گھر کے باہر دھماکو چیزیں ملنے کے معاملے میں ایک پولس افسر کی گرفتاری ہوئی تھی تبھی سے یہ لگ رہا تھا کہ سب سے محفوظ مانے جانے والے علاقے میں قانون و نظم کا معاملہ طول پکڑ سکتا ہے لیکن سابق پولس کمشنر کے خط کے بعد دیش مکھ کے سیاسی مستقبل پر قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں مہاراشٹر کی سیاست میں انل دیش مکھ کچھ بڑے نیتاو¿ں کے درمیان اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہے جو ایک عدالت کے ذریعے چھوڑ کر وہاں کی سرکار نے خاصہ دبدبہ رکھتے ہیں لیکن اب ان کے استعفیٰ کے بعد یہ دیکھنا ہے کہ جانچ کے بعد کیسی تصویر ابھرتی ہے لیکن اور وہاں کے حالات کیا بنتے ہیں ؟ لیکن تازہ واقعات یہ بتانے کیلئے کافی ہین کہ اب ریاست کی سیاست میں اقتدار قائم رکھنے اور اسے حاصل کرنے کیلئے داو¿ں پیچ کا نیا دور پھر سے شروع ہوسکتا ہے دیکھنا یہ ہے کہ سی بی آئی جانچ کتنی دور تک جاتی ہے اس پر ادھو ٹھاکرے کی سرکار کا مستقبل ٹکا ہوا ہے ۔ (انل نریندر)

07 اپریل 2021

اس زبردست لاپرواہی کیلئے کون ذمہ دار ؟

حادثہ میں ڈھائی سال کے معصوم کرشنا نے جمع کی شام دم توڑ دیا بچے کی موت راجدھانی کے کھوکھلے سسٹم کی کاپرواہی کی ایسی تصویر ہے جسے سن کر ہر کسی ماں باپ کا کلیجہ کانپ کر رہ جائے گا ۔اسپتال کی ایمبولینس نے زندگی اور موت ک درمیان لڑتے ہوئے قریب آٹھ گھنٹے تک دہلی کے سرکار اسپتال کے چکر کاٹتا رہا کسی اسپتال کے ڈاکٹر نے علاج تو دور اس کو دیکھنے کی زہمت بھی نہیں کی وقت پر علاج نہ ہونے کے سبب معصوم کی موت ہو گئی رشتہ دار کئی بڑے اسپتالوں میں اسے لیکر دوڑ ے علاج کے لئے بیڈ نا ہونے کا کہہ کر داخل نہیں کیا گیا اس بچے کا نام کرشنا تھا اور اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اس کے باپ کا نام بھوپیس منڈل ہے جو بہار کے مدھوبنی کا باشندہ ہے ۔اس کا پریوار کچھ برسوں سے مجنوں کا ٹیلہ علاقہ میں ایک عمارت میں رہتے ہیں ۔جمع کو دوپہر دو بجے کرشنا بہنوں کے ساتھ کھانا کھا رہا اور وہ پانی پینے کے لئے اٹھا اور کھیلتے ہوئے گرل پر اگیا جہاں سے وہ تیسری منزل سے سڑک پر آگرا واردات کے فوراً بعد اس کے باپ اسے لیکر ٹروما سینٹر لے گئے وہاں ابتدائی علاج کے بعد بھی اس کی طبیعت میں کوئی بہتری نہیں آئی تو ڈاکٹروں نے اسے ایمس کے ٹروما سینٹر بھیج دیا ۔رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ قریب ڈیڑھ گھنٹے تک حادثاتی ٹروما سینٹر میں ایک فلور سے دوسرے فلور تک چکر کاٹتے رہے جہاں کہا گیا کوئی بیڈ خالی نہیں ہے اس کے بعد شام 6 بجے آر ایم ایل لے گئے لیکن وہاں بھی کسی ڈاکٹر نے ہاتھ نہیں لگایا اور مایوس ہو کر ایل این جے پی آگئے وہاں بھی کسی ڈاکٹر نے نہیں دیکھا 9 بجے ایمبولینس میں آکسیجن ختم ہو گئی اور رات 9 بجے بچے کو مردہ قرار دے دیا گیا ۔سنیچر کی دوپہر بچے کا انتم سنسکار کر دیا گیا ۔پریوار کا کہنا ہے کہ وقت پر علاج ملتا تو ان لا لاڈلا بیٹا زندہ ہوتا ۔ (انل نریندر)

ایک بار پھر نکسلی حملہ !

چھتیس گڑھ میں بیجاپور اور سکمہ کے جنگل میں نکسلیوں کے ساتھ مڈبھیڑ میں سکورٹی فورس کے کئی جوانوں کا شہید ہونا تکلیف دہ اور افسوسناک تو ہے ہی اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ گنجان علاقوں میں نکسلیوں سے مقابلہ کرنے میں ہمارے جوان اتنے خطرات کا سامنا کرتے ہیں ۔ایک جوان اب بھی لا پتہ ہے جبکہ 31 جوان زخمی ہیں نکسلیوں نے واردات کو ٹیکل گنڈہ کے جنگل میں انجام دیا تھا ۔مڈبھیڑ کے بعد نکسلیوں نے جوانوں کے ہتھیار چھینیں اور کئی شہیدوں کے جوتے اور کپڑ ے بھی اتار دئیے ۔چھتیس گڑھ میں گزشتہ دس دن میں یہ دوسرا حملہ ہے 23 مارچ کو نکسلیوں نے نارائن پور ضلع میں بس کو اڑا کر پانچ جوانوں کو مارڈالا تھا اس حملے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بدلی حکمت عملی ہر سال آٹھ مارچ کو پریکٹیکل کاو¿نٹر آفنسنگ کمپین شروع کرتے ہیں اس بار اسے جنوری سے ہی شروع کر دیا اور ہر سال دو سے آٹھ دسمبر تک بی ایل جی اے ہفتہ مناتے ہیں اس بار ہفتہ نہیں منا رہے ہیں اپریل 2010 میں چھتیس گڑھ کے دانتہ واڑا میں مڈبھیڑ میں 70 سے زیادہ جوان شہید ہونے کا واقعہ یا 2013 میں بستر کی وادی میں کانگریس کی پریورتن یاترا کے دوران قافلے پر حملہ کر کے کانگریسی لیڈروں سمیت 17لوگوں کو مارنے کے ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ سکورٹی فورس پچھلے کچھ دنوں سے نکسلی کمانڈر ہڈماکے ٹھکانہ کے بارے میں اطلاعات لے رہے تھے اس خطرناک نکسلی کمانڈر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ارم وادی میں ہوئے حملے کے علاوہ پچھلے سال سکورٹی فورس پر کئے گئے ایک حملے میں شامل تھا جس میں 17جوان شہید ہوئے تھے ۔دراصل ایسے بڑے حملوں کو انجام دینے والا سینئر نکسلی لیڈر ہڈما سکورٹی فورس کے لئے بڑا درد سر بنا ہوا ہے ۔جمع کو بیجاپور اور سکمہ کے جنگلوں میں اس کی تلا ش کے دوران نکسلیوں نے ان جوانوں کو گھیر لیا اور کئی گھنٹہ مڈبھیڑ چلی یہ نکسلی متاثرہ ضلع کے گھنے جنگل ہیں اور ان جنگلوں میں ہی نکسلی اڈے ہیں جہاں پہونچ پانا کسی کے لئے آسان نہیں ہوتا اور نا ہی کسی کے بارے میں پختہ اطلاعات ہوتی ہے ایسے میں سکورٹی فورس کے لئے خطرہ بنا رہتا ہے اور اکثر وہ حملے کا شکار ہوجاتے ہیں سوال یہ ہے کہ نکسلیوںسے نمٹنے کی حکمت عملی کارگر کیوں ثابت نہیں ہو رہی ہے ؟دہائیوں کے بعد بھی مرکزی سرکار اور ریاستی سرکاریں نکسلیوں کی کمر توڑنے میں کیوں کامیاب نہ ہو پائیں ۔حملوں میں جس طرح سے جوانوں کی جان چلی جاتی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ نکسلیوں کے خلاف چلائے جانے والی مہم میں کہیں نہ کہیں سنگین خامیاں رہ جاتی ہیں خفیہ اطلاعات اور صحیح فیصلے کے تال میل کی کمی میں ٹھوس حکمت عملی نہیں بن پاتی ہے اور جوان مارے جاتے ہیں ۔حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ اتنے برسوں میں کسی بھی سرکار نے نکسلیوں سے کسی بھی طرح بات چیت کا راستہ نہیں اپنایا بڑے حملے کے بعد نکسلیوں کے صفائے کیلئے سارا زور کاغذوں تک ہی محدود رہ جاتا ہے پوری طرح سے نکسلیوں کا صفایاآسان نہیں ہے یہ سرکاریں بھی جانتی ہیں اس لئے اس پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کے لئے مرکز اور سرکاروں کو نئے سرے سے حمکت عملی بنانے کی ضرورت ہے مارے گئے جوانوں کو ہم اپنی شردھانجلی دیتے ہیں ۔ (انل نریندر)

پانچ ریاستوں میں 475سیٹوں پر زور آزمائش !

پانچ ریاستوں کی 475 اسمبلی سیٹوں کے لئے6اپریل کو چناو¿ مکمل ہو گیا ہے ۔تملناڈو ،کریل اور پڈوچیری اسمبلی کے لئے ایک ہی مرحلے میں منگل کو ووٹ پڑے اس دن تیسرے مرحلے کے تحت آسام کی چالیس سیٹوں اور 31 سیٹوں پر بھی ووٹ ڈالے گئے ۔تملناڈو میں 234 کیرل میں 140 اور پڈوچیری میں 30 اسمبلی سیٹ کے لئے ووٹ ڈالے گئے سبھی بوتھ بہت ہی حساس تھے ۔بھاجپا کے سینئر لیڈر سوپن داس گپتا اور ترنمول وزیراشیما پاتر اور بھاجپا نیتا کرانتی گانگولی ان 205 امیدواروں میں شامل ہیں جن کی قسمت کا فیصلہ ووٹروں نے کر دیا ہے ۔اس مرحلے میں دیہی دیہات ہاو¿ڑا اور ساو¿تھ چوبیس پرگنا میں سندر پنت علاقہ ، ڈائمن عالمر بروئی پور علاقہ اولی کے کچھ حصو ں میں ووٹ ڈالے گئے ۔بھاجپا کی مہم کی قیادت وزیراعظم مودی نے کی جنہوں نے ان تینوں ضلعوں میں ریلیاں کیں ۔تملناڈو میں چناو¿ کمپین کے آخری دن وزیراعلیٰ کے پلاننگ سوامی کمل حسن وغیرہ نے پورا زور لگا دیا ۔چناو¿ میں یہ طے ہوگا کہ ریاست میں نہ ڈی ایم کے مسلسل تیسری بار جیت درج کر کے اقتدار حاصل کرنے کی ہیٹرک لگائے گی یا ٹی ایم کے ایک دہائی کے بعد اقتدار میں لوٹے گی ۔پلاننگ سوامی کی قیادت والا عملہ ڈی ایم کے محاذ تیسری مرتبہ اقتدار میں بنے رہنے کا خواہش مند ہے وہیں ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نے اپنے حریفوں کی امیدوں کو توڑنے کے لئے پورا زور لگایا ۔اسمبلی چناو¿ کمپین کے اخری دن بڑے نیتاو¿ں نے روڈ شو ار ریلیاں کیں ۔کانگریس نیتا راہل گاندھی نے وائی ناڈ ضلع اور ترو اننت پورم میں روڈ شو کیا ۔وہیں وزیراعلیٰ وجین نے بھی بڑی ریلی کی ۔کیرل میں حال ہی میں سی پی آئی ایم کی قیادت والے لیفٹ فرنٹ کی سرکار ہے ۔یہاں اکثریت کے لئے 71 سیٹیں چاہیے آسام میں منگل کو تیسرے اور آخری مرحلے میں چالیس سیٹوں کے لئے چناو¿ مکمل ہوگا جس کے لئے 337 امیدوار میدان مین ہیں ان میں این ڈی اے کے کیوینر اور وزیر ہمنت رسوشامل ہیں ۔ریاستوں میں این ڈی اے کے لئے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ چناو¿ کمپین میں شامل ہو چکے ہیں حکمراں بھاجپا 70 شیٹ پر اور اے جے پی 12 اور یوپی پی ایل 8 سیٹوں پر چناو¿ لڑرہی ہے ۔کانگریس 32 اور یو بی ایف 12 سیٹوں پر چناو¿ لڑ رہی ہے پڈوچیری میں اسبملی کی کل 31 سیٹوں پر چناو¿ ہو گیا کانگریس نے یہاں پورا ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا بھاجپا کی سبھی عوام مخالف پالیسیاں مرکزی حکمراں ریاست میں اپنے آپ لاگو ہو جائیں گی ۔کئی لحاظ سے منگل کو ہوا چناو¿ بہت اہم رہا ہے جس میں کئی سرگردہ سیاسی ہستیوں کی ساک داو¿ پر لگی ہوئی ہے دیکھیں کون کامیاب ہوتا ہے اور کون کون ہارتا ہے ۔ (انل نریندر)

06 اپریل 2021

بس کنڈیکٹر سے سپر اسٹار تک رجنی کا نت کا سفر!

فلمی دنیا میں اداکار رجنی کانت کی کامیابی کی کہانی ان کے ایکشن اور ادکاری کے سے کم دلچسپ نہیں ہے انہوں نے سلور اسکرین پر ایکشن ہیرو کی شکل میں ابھرے رجنی کانت کبھی کولی بس کنڈیکٹر کا کام کرتے تھے حالانکہ ان کے ٹکٹ کاٹنے کا اسٹائل عجیب تھا اپنی اسی انداز کے سبب لوگوں کے درمیان تیزی سے مقبول ہوئے تب دوستوں نے خاص کر ایک ڈرائیور دوست نے انہیں فلموں میں کام کرنے کیلئے ترغیب دی اس دوران بالا چندر کی شکل میں انہیں ایک تجربے کار گرو مل گیا جس وجہ سے ان کی مشکلیں آسان ہوگئیں رجنی کانت نے 1975میں بالاچند کی ہدایت میں بنی تمل فلم ہوا اپورورنگال میں کو ایکٹر کی شکل میں شروعات کی اس فلم میں کمل حسن مین کردار میں تھے لیکن ان کی پہلی اصل کامیابی 1976میں بالا چندر کی ہی فلم ایب وے اور فلم ہائینڈرو یوڈیو ملی سے کامیابی ملی اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اس کے بعد ساو¿تھ انڈیا کی سبھی زبانوں کی فلموں میں کام کرچکے تھے تامل فلموں میں انہوں نام کمایا سپر اسٹار رجنی کانت کا نام شیواجی راو¿ گائیکواڈ تھا تو 2019کا دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کے اعلان کیا تھا 70سالہ رجنی کانت سنیما کے جانے مانے فلم ہستیوں میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں سنیما سیکٹر میں ان کا سفر 50سال سے زیادہ پرانا ہے انہوں نے تمل زبانوں کے ساتھ ساتھ ہندی سنیما میں بھی خاص مقام رکھتے ہیں انہیں پدم بھوشن اور پدم وی بھوشن سمان سے نوازہ جا چکا ہے ہم اور رجنی کانت کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازے جانے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور انہیں اس کی مبار ک باد دیتے ہیں رجنی کانت نے بس کنڈیکٹر سے لیکن پھالکے ایوارڈ تک کا لمبا سفر طے کیا ہے ۔ (انل نریندر)

ایچI- بی ویزا پر پابندی ہٹی !

امریکہ میں سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعے ایچ I-بی غیر ملکی ورکر ویزا پر پابندی اب ختم ہوگئی ہے ماجودہ صدر جو بائیڈن نے ٹرمپ کے ذریعے جاری فرمان کے جواز کو 31مارچ کو ختم ہونے کے ساتھ ہی لگی پابندیاں ختم کرنے کو اپنی منظوری دے دی ہے ۔اس سے ہندوستانی انفارمیشن ٹیکنالوجی پیشواروں کو بڑی راحت ملی ہے ۔ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پچھلے سال جون میں حکم جاری کرکے ویزا سمیت کئی عارضی یا غیر ہندوستانی ویزا زمروں میں آنے والے لوگوں کو امریکہ میں روک لگائی دی گئی تھی بعد میں اس پابندی کی میعاد 31مارچ 2021تک بڑھا دی گئی تھی یہ پابندی لگاتے وقت ٹرمپ سے امریکہ میں کورونا وبا اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری کی پریشانیون کو دیکھتے ہوئے ان ویزا پابندیوں کو بڑھائے جانا ضروری بتایا تھا ۔ جبکہ مقررہ میعاد گزر جانے پر صدر جو بائیڈن 31مارچ سے آگے پابندیاں جاری رکھنے کے بارے میں کوئی نوٹیفیکشن جاری نہیں کیا تھا انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی تاریک وطن کی پالیسیوں کو سخت بتاتے ہوئے ایچ 1-بی ویزا پر پابندی ہٹانے کا وعدہ کیا تھا ۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہندوستانی پروفیشنلس کو ملے گا جو ایچ I-بی ویزا کے انتظار میں تھے بتادیں ہندوستانی آئی ٹی پیشہ وروں نے میںیہ ویزا سب سے زیادہ مقبول ہے اور ایچ بی 1ویزا غیر امریکی شہری ویزا ہے یہ کسی ملازمین کو چھ مہینے کام کرنے کیلئے جاری کیا جاتا ہے امریکہ میں کام کر رہی کمپنیوں کو یہ ویزا ایسے ٹیلنٹ ملازمین کو رکھنے کیلئے دیا جاتا ہے ۔ بہر حال صدر جو بائیڈن نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا ہے ۔ (انل نریندر)

وزیر داخلہ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں درج کرائی!

ممبئی کے سابق پولس کمشنر پرم ویر سنگھ کی عرضی پر بدھ کو ممبئی ہائی کورٹ نے سخت پھٹکار لگائی ہائی کورٹ نے پرم ویر کے وکیل سے کہا جب تک ایف آئی آڑ درج نہیں کرائی جاتی تب تک جانچ کے احکامات نہیں دیئے جائیں گے چیف جسٹس دیپانکر دت نے وکیل سے کہا کہ آپ ایسا کوئی معاملہ بتائیں جس میں بغیر ایف آئی آڑ درج کرائے معاملہ سی بی آئی جانچ کیلئے ٹرانسفر کر دیا گیا ہو جج صاحبان نے کہا اس معاملے میں آپ نے مہاراشٹرکے وزیر داخلہ دیش مکھ کے خلاف سنگین الزام لگائیں ہیں لیکن ایف آئی آر ان کے خلاف در ج نہیں کرائی بنا رپورٹ اس کی سی بی آئی جانچ کیسے کرائی جا سکتی ہے پرم ویر سنگھ کے ذریعے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر بدھ کو بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیپانکر دت اور جسٹس کون کنی کی بنچ نے سماعت کی پرم ویر کی سنگھ کی جانب سے سینئر وکیل وکرم ننکاری نے عدالت میں پرم ویر سنگھ کا لکھا خط پڑھ کر سنایا اور کہا اس خط سے پتہ چلتا ہے پولس کس دباو¿ میں کا م کر رہی ہے اور کتنی سیاسی مداخلت ہے یہ باتیں ایک تجربے کارافسر نے رکھیں ہیں ۔ اس پر عدالت نے پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ دیش مکھ کے خلاف سی بی آئی جانچ کی جانی چاہئے لیکن ایف آئی آر کہا ں ہے اس کے بغیر معاملہ سی بی آئی کو نہیں سونپا جا سکتا بتا دیں کہ پرم ویر سنگھ نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو یہ خط لکھ کر انل دیش مکھ پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے معتل پولس افسر کو سو کروڑ روپئے مہینے وصولی کا ٹارگیٹ دیا تھا اس خط کو بنیاد بناتے ہوئے پرم ویر نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی لیکن بڑی عدالت نے معاملے پر سماعت سے انکار کر دیا تھااور صلاح دی تھی کہ پہلے آپ بامبے ہائی کورٹ جائیں پرم ویر سنگھ کے وکیل وکرم ننکانی کے کہا کہ ایسے شخص پر الزام لگائے گئے ہیں جو گزشتہ 30برسوں سے پولس سروس میں ہے اس پر چیف جسٹس دت نے کہا کہ بھلے ہی آپ پولس کمشنر رہے ہیں لیکن آپ قانون سے اوپر نہیں ہیں کیا پولس افسر، وزیر اور نیتا قانون سے اوپر ہیں ؟ خود کو بہت اوپر مت سمجھئے جب آپ کو پتہ تھا کہ بوس جرم کر رہا ہے تو ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی آپ فیل ہوئے ہیں چیف جسٹس دیپانکر دت نے کہا کہ کسی بھی معاملے کیلئے ضروری ہے کہ ایف آئی آر درج ہو آپ کو اس سے کس نے روکا تھا پہلی نظر میں ہم چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر کے بغیر کسی طرح کی جانچ نہیں ہوسکتی بمبئی ہائی کورٹ اس سلسلے میںفیصلہ سنائے گا کہ سابق پولس کمشنر پرم ویر سنگھ کے ذریعے اس مفادے عامہ کی عرضی پر آگے سماعت کی جائے یا نہیں؟ (انل نریندر)

04 اپریل 2021

لاک ڈاو ¿ن کی طرف بڑھتا دیش !

دیش کی کئی ریاستوں میں کورونا وائرس کے معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس بڑھتے خطرہ کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ پورادیش خطرہ میں ہے اسی کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر ،اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں میں سختی بڑھ رہی ہے ۔اس میں نائٹ کرفیو سے لے کر کئی ضلعوں میں لاک ڈاو¿ن تک لگا دیا گیا ہے ۔اگر لاک ڈاو¿ن پھر سے لگانے کی نوبت آئی تو اس کے لئے جنتا ذمہ دار ہو گی مرکزی وزارت صحت کے ایک سروے میں دعویٰ کیاگیا ہے دیش کا ہر دوسرا شخص ماسک کے بغیر گھومتا پایا گیا ہے جبکہ کورونا سے متاثر ایک لاپروا شخص 400 سے زیادہ لوگوں کو انفیکشن پھیلا سکتا ہے بہرحال ریاستوں کے 46 اضلاع کے حکام کی میٹنگ میں ہیلتھ سکریٹری نے آگاہ کیا ہے کہ 90 فیصدلوگ ماسک پہننے کی اہمیت کو جانتے لیکن 44 فیصدی ہی ماسک کا استعمال کرتے ہیں اور بھیڑ میں بلا خوف گھومتے ہیں اس ماہ ان ریاستوں میں کل کورونا کے مریضوں کا 71 فیصد اور موتوں کو 69 فیصد حصہ رہا ہے ۔یہ مرض ایک بار پھر تیزی سے اپنے پاو¿ں پھیلا رہا ہے موت کی شرح بڑھ رہی ہے بھارت ایک سافت جمہوریت ہے جہاں عام طور پر چین جیسی سختی نہیں برتی جاتی لیکن سماج بنا سوچے سمجھے لاپرواہی ،سخصی چناو¿ ابھی تک ہے جب وہ جانے انجانے میں دوسروں کے لئے خطرہ نہ بنیں لہذا سرکار کو فوری طور پر آرڈیننس لا کر سماجی دوری کے قواعد کو سخطی سے نافذکرانا ہوگا ۔بنا ماسک کے پائے گئے شخص پر بڑا جرمانہ ہونا چاہیے ۔ممکن ہو تو ویکسی نیشن بھی آدھار کارڈ کیطرح ضرور کرنا ہوگا کیوں کہ دیش میں 60 ہزار مریض کی طوفانی رفتار سے بڑھتی وبا کے ایک دوسرے دور کو بھارت شاید ہی جھیل پائے ۔لاک ڈاو¿ن سے بچنا ہوگا۔ (انل نریندر)

انٹیلیا کانڈ نے بھاجپا کو وہ موقع دے دیا جس کی اس کو چاہ تھی !

مکیشن امبانی کے گھر انٹیلیا کانڈ اور منسکھ ہیرن کی موت کے بعد بنے حالات میں بھاجپا مہاراشٹر کی ادھو ٹھارکے سرکار پر دباو¿ بنانے کا کوئی موقع جانے دینا نہیں چاہتی ۔این آئی اے کی پوچھ تاچھ میں سچن واجے نے اگر منھ کھولا تو بھاجپا کا یہ کام اور آسان ہو جائے گا ۔پچھلے اسمبلی چناو¿ شیوسینا اور بھاجپا کے ساتھ مل کر لڑے گئے تھے لیکن نتیجے آنے کے بعد سیو سینا نے بھاجپا کو جھٹکا دے کر اپنی کٹر سیاسی حریف کانگریس اور این سی پی کے ساتھ مل کر سرکار بنا لی یہ کسک بھاجپا بھولی نہیں ہے وہ مسلسل کہتی رہی ہے کہ کھچڑی سرکار زیادہ دن نہیں چلے گی لیکن اب تک ایسا کوئی موقع نہین آیا جس سے سرکار میں کوئی بحران کھڑا ہو اتفاق ایسا رہا کہ ادھو سرکار بننے کے کچھ دن بعد کورونا پھیل گیا ۔اس مشکل گھڑی میں بھاجپا نے بھی زیادہ دباو¿ نہیں بنایا حالانکہ یہ بار بار ضرور کہہ رہی ہے کہ ادھو سرکار نے کورونا وبا کو روکنے کے لئے تشفی بخش پروگرام نہین بنایا اس وجہ سے مہاراشٹر میں کورونا قابو میں نہین آسکا ۔تازہ حالات میں مہاراشٹر میں اب سب سے زیادہ کورونا انفیکشن کے کیس آرہے ہیں لیکن انٹیلیا کیس نے بھاجپا کو وہ موقع دے دیا جس کی اسے تلاش تھی ۔بھاجپا جب جب سیو سینا سے الگ چناو¿ لڑی وہ اسے ہفتہ وصولی کی پارٹی کےطور پر بدنام کرتی رہی ہے ۔2014 کے اسمبلی چناو¿ اور بی ایم سی چناو¿ میں بھی بھاجپا نے سیو سینا پر یہ ہی الزام گھڑا بھاجپا نیتا سچن واجے پر لگے اس الزام کو ادھو سرکار پر مڑنے میں لگ گئی ہے ۔سچن واجے کا بچاو¿ خود سیو سینا نے کرکے بھاجپا کو یہ موقع دے دیا اس سے نہ صرف سیوسینا بلکہ پوری مہاراشٹر سرکار کی ساک ملیا میٹ ہوئی ہے ۔یہ بات سرکار میں شامل این سی پی اور کانگریس کے نیتابھی مان رہے ہیں پولیس کمشنر پرم ویر سنگھ کی چھٹی اس لئے دینی پڑی کہ پچھلے چناو¿ کے بعد سیو سینا کے نیتا امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی جیسے بڑے نیتاو¿ں پر جھونٹ بولنے کا الزام لگا کر اپنے رستے پہلے ہی بگاڑ چکے ہیں ۔ایسے میں سیو سینا کی مشکلیں اور بڑھیں یہ تعجب نہ ہونا چاہیے ۔ممبئی پولیس کے اے پی آئی سچن واجے کی گرفتاری کے بعد این سی پی صدر شردپوار اس معاملے میں پلہ جھاڑنے کے موڈ میں بنتے دکھائی دے رہے ہیں پوار نے سچن واجے معاملے پر پوچھے گئے سوال پر یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ وہ یہ لوکل اشو ہے ۔اور انہیں اس کی جانکاری نہیں ہے ۔لیکن پیر کو شردپوار وزیر اعلیٰ ادھو سے ملنے ان کے سرکار ی گھر گئے اور وہاں قریب 45 منٹ بات چیت کے بعد لوٹے اس کے بعد شام 4 بجے یشونت رائے چوہان این سی پی کوٹے کے سبھی وزراءکے ساتھ ملے وزیرداخلہ انل دیش مکھ پر طرح طرح کے الزام لگے ہیں یہ این سی پی کے کوٹے کے ہیں ۔اس سے اس کی آنچ این سی پی نیتاو¿ں تک پہونچ رہی ہے سیو سینا اپنے آپ کو اس سارے تنازعہ سے الگ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔مہاراشٹر سرکار کی پارٹیوں میں اختلا ف کو بھاجپا پورا فائدہ اٹھانے میں لگی ہے انہیں موقع مل گیا ہے ۔سیو سینا سے پرانا حساب کتاب برابر کرنے کا ۔ (انل نریندر)

بھاجپا امیدوار کی گاڑی میں ای وی ایم مشین !

آسام کے کریم گنج میں بی جے پی کے ایک امیدوار کی کار سے ای وی ایم ملنے کے بعد وہاں سیاسی ٹکراو¿ بڑھ گیا ہے ۔کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے چناو¿ کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ۔ای وی ایم ملنے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے ہنگامہ مچ گیا ۔معاملے کے طول پکڑنے کے بعد چناو¿ کمیشن نے اس معاملے میں چار لوگوں کو معطل کر دیا ہے ۔اورضلع چناو¿ افسر سے مفصل رپورٹ مانگی ہے حالانکہ اس معاملے میں چناو¿ کمیشن کیطرف سے وضاحت بھی آئی ہے ۔بتایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس کی گاڑی راستہ میں خراب ہو گئی تھی جس کے چلتے الیکشن افسران نے دوسرے کام میں لگی گاڑی سے لفٹ دی تھی ۔جانچ میں پتہ چلا ہے کہ وہ گاڑی پاتھر تھانلی الیکشن حلقہ سے بی جے پی امیدوار کرشن گیندو پال کی ہے پچھلی رات آسام میں جس گاڑی سے ای وی ایم مشین ملی لوگوں نے کہا یہ کار چناو¿ کمیشن کی نہیں ہے ذرائع کے مطابق ای وی ایم لے جانے والی کار پر حملہ کرنے والے نا معلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی حالانکہ ای وی ایم کو کوئی نقصان نہیں پہونچا ہے ۔ای وی ایم انتظامیہ کے قبضہ میں ہے ای وی ایم رکھنے یا لے جانے کے انتظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کانگریس نیتا پرینکا گاندھی واڈرا نے ٹوئیٹ کیا ہر بار چناو¿ کے دوران ای وی ایم کو پرائیویٹ گاڑیوں میں لے جاتے ہوئے پکڑے جانے پر کئی چیزیں ایک ہوتی ہیں۔پہلا تو گاڑی عام طور پر بھاجپا امیدوار یا ان کے ورکروں کی ہوتی ہے پرینکا نے کرونو لوجی سمجھاتے ہوئے کہا اس طرح کے ویڈیو کو ایک واقعہ کی شکل میں لیا جاتا ہے بعد میں اس پر ڈراف سین ہو جاتا ہے اس کے ساتھ بی جے پی اپنے میڈیا مشینری کا استعمال ان لوگوں پر الزام لگانے کے لئے کرتی ہے جنہوں نے ای وی ایم کو پرائیویٹ گاڑیوں میں لے جانے کے ویڈیو کا اجاگر کیا ہوتا ہے ۔حقیقت یہ ہے اسطرح کے کئی واقعات کی اطلاع دی جارہی ہے ان کے بارے میں کوئی کچھ بھی نہیں کر پارہا ہے ۔چناو¿ کمیشن کو ان شکایتوں پر فیصلہ کن طور سے کاروائی کرنے اور سبھی قومی پارٹیوں کے ذریعے ای وی ایم پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔چناو¿ کمیشن نے جمعرات کی شام کو بھاجپا امیدوار کی بیوی کی گاڑی میں ای وی ایم پائے جانے کے بعد ساو¿تھ آسام کے ایک پولنگ مرکز پر دوبارہ چناو¿ کرانے کاحکم دیا ہے ۔ساتھ ہی بیان میں کہا گیا ہے کہ حالانکہ ای وی ایم کی سیل برقرار پائی گئی تھی لیکن پھر بھی احتیاط کے طور پر اندرا اے وی پولنگ مرکز میں دوبارہ ووٹ ڈالنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔کریم گنج میں ای وی ایم مشین لے جارہے افسران کی کار خراب ہو گئی اور وہ وہاں سے گزر رہی ایک پرائیویٹ گاڑی میں پہونچ گئے جہاں پچاس سے زیادہ لوگوں نے پتھراو¿ کرنا شروع کر دیا ۔بھیڑ نے الزام لگایا کہ ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ ہو رہی تھی اسی وقت اطلاع ملنے کے بعد فارم ضلع پولیس ایس پی کے ساتھ اعلیٰ افسران کریم گنج کے ضلع افسر موقع پر 10:20 پر پہونچے اس دوران ایس پی کو معمولی چوٹ آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے ہوا میں گولی چلانی پڑی ۔کریم گنج ضلع میں ای وی ایم لنے سے اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے مشینوں پر سوال اٹھنا فطری ہے ۔چناو¿ کمشین آگے سے احتیاط برتے کہ اس طرح کا واقعہ پھر نا ہو ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...