20 جولائی 2013

غریب کی تھالی سے غائب ہوتی سبزیاں، بچوں کیلئے دودھ سب مہنگا

پچھلے دنوں کچھ تابڑ توڑ اقتصادی فیصلے لیکر بیشک مرکزی سرکار نے 2014 ء عام چناؤ میں ووٹوں کی سیاست شروع کردی ہو لیکن ان قدموں سے پہلے ہی بیچاری جنتا پر مہنگائی کا نئی بوجھ پڑنا طے ہے۔ مہنگائی کی نئی سونامی کا آغاز ہوچکا ہے۔ پیٹرول کے دام 1.55 فی لیٹر بڑھ چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتے میں پیٹرول کے دام میں چوتھی بار اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے تیل کمپنیوں نے 1 جون کو75 پیسے، 16 جون کو2 روپے، 29 جون کو 1.82 پیسے فی لیٹر بڑھائے تھے۔ پورا اندیشہ ہے کہ بجلی ،کھاد، فولاد، سیمنٹ، سی این جی، پی این جی، ڈیزل کی قیمتوں میں بھی کافی اضافہ ہوگا۔ ان سب کی سب سے زیادہ مار پہلے سے ہی مہنگائی سے لڑرہی جنتا کو جھیلنی ہوگی۔ کچھ دن پہلے سرکار نے بجلی کے سامان پر درآمد کوئلے سے بڑھی لاگت کو بھی صارفین سے وصولنے کی اجازت دی تھی۔ یہ فیصلہ عام جنتا کو آنے والے وقت میں زبردست جھٹکا دینے والا ہے۔ کہنے کو سرکار نے جی ڈی پی میں اضافہ کرکے کسان ہتیشی دکھانے کی کوشش کی ہے۔لیکن بجلی اورکھادکی قیمتوں میں یقینی اضافہ اور مسلسل مہنگے ہوتے ڈیزل کے چلتے یہ کسانوں کو ہاتھوں ہاتھ رکھنے اور دوسرے ہاتھ سے لینے کی سازش لگتی ہے۔ ساتھ ہی اسے غذائی سامان بھی کافی بڑھیں گے۔ راجدھانی میں ضروری چیزوں کے مہنگی ہونے سے عام آدمی کابجٹ تو چرمرا ہی گیا ہے جس خاندان کا ماہانہ بجٹ پہلے ہی 10 ہزار ہوگیا تھا وہ اب15 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اب صارفین سبزی اور پرچون کے پاس جاکر سب سے پہلے کم دام والی چیزوں کی جانکاری لیتا ہے اور پھر کم سے کم دام والا سامان خریدتا ہے۔ عام لوگ میں دودھ کا زیادہ استعما ل ہوتا ہے ۔ اگر خاندان میں چار پانچ لوگ ہوں تو عموماً2 کلو دودھ خریدا جاتا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں دودھ کے دام چار بار بڑھے ہیں۔ قریب تین سال پہلے دودھ کے دام 20 روپے لیٹر ہوا کرتے تھے۔ اب تھیلی والا دودھ 42 روپے لیٹر اور مدر ڈیری والا دودھ 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ناشتے میں استعمال ہونے والی ڈبل روٹی جو پہلے16 روپے پیکٹ ہوا کرتی تھی اب وہ22 روپے پیکٹ ہوگئی ہے۔ چینی قریب چار سال پہلے 12 سے14 روپے ہوا کرتی تھی اب قریب42 روپے کھلی اور پیکٹ والی52 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ بازار میں دالوں کے دام آسمان چھو رہے ہیں۔ درمیانے طبقے کے زیادہ تر خاندانوں میں روزانہ اسی پر بحث ہوتی ہے کہ دال بنائیں یا سبزی۔ جن گھروں میں بچے ہیں وہاں پر راجما کی کھپت زیادہ ہے اس کی قیمت اب120 روپے کلو سے کم نہیں ہے۔ ارہر کی دال80 روپے سے کم نہیں ہے ۔اوڑد کی بھی دام اتنے ہی ہیں۔ موم کی دال85 ، مسور 75 روپے اور مٹر کے دام 50 روپے فی کلو ہیں۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ مہنگائی کم نہیں ہورہی روپیہ کمزور ہوتا جارہا ہے۔ کمزور ہوتے روپے کی قیمت عام آدمی کو چوکانی پڑے گی۔ مہنگائی اور بڑھ سکتی ہے۔ صاف ہے معیشت کے لئے آگے اور مشکل وقت آنے والا ہے۔ اس کے لئے سب سے زیادہ ذمہ دار اقتصادی بد انتظامی ہے۔ اس سرکار اور بھارتیہ ریزرو بینک سے زیادہ امید نہیں ہے۔ عام جنتا پر اور بوجھ بڑھے گا اور وہ اس کے تلے اور زیادہ دبے گی۔
(انل نریندر)

اسکول میں معصوم بچوں کی موت کا ذمہ دار کون؟

بدھوار کو جب مرکزی وزیرصحت غلام نبی آزاد بچوں کی صحت کو لیکر سرکار کی نئی اسکیم کا آغاز کررہے تھے تو اسی وقت بہار کے چھپرا ضلع میں ہائے توبہ مچی ہوئی تھی۔ چھپرا کے ایک پرائمری اسکول میں زہریلا کھانا کھانے سے 22 بچوں کی موت ہوگئی جبکہ درجن سے زائد بچے ہسپتالوں میں زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ دل دہلانے والے اس واقعہ کے فوراً بعد ایسا ہی حادثہ ریاست کے مدھوبنی کے ایک دیگر اسکول میں بھی ہوا۔ یہاں اسی طرح دوپہر کا کھانا کھاتے ہی15 بچے بیہوش ہوگئے۔ مدھوبنی کے اس حادثے میں بچوں کے کھانے میں چھپکلی ملنے کی بات کہی گئی۔ چھپرا میں بھی بچوں کے کھانے میں کیڑے مار دوا ملنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ان دونوں دل دہلانے والے واقعات میں چونکانے والی یکسانیت ہے۔ دونوں سرکاری اسکول ہیں۔ گاؤں ،قصبوں سے سب تعلق رکھتے ہیں اور پڑھنے والے بچے غریب خاندانوں سے ہیں۔ سارن کے گاؤں میں موت کا سناٹا ہے۔ اس گاؤں میں کل تک بچوں کی کلکاریاں گونجتی تھیں آج وہاں ماتم چھایا ہوا ہے۔ منگل کی دیر رات سے بچوں کی لاشیں اور انہیں دفنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ بدھوار کی شام تک مڈ ڈے میل کے شکار ہوئے تمام بچوں کی لاشیں دفنائی جا چکی تھیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جس اسکول میں وہ پڑھتے لکھتے ،کھیلتے کودتے تھے اسی اسکول کے سامنے کے میدان میں انہیں دفنایا گیا ہے۔ ایک بچے کی لاش کو تو تقریباً اسکول کے گیٹ کے باہر ہی دفنایاگیا۔ بدھوار کو دھرماستی گاؤں میں کسی کے گھر میں چولہا نہیں جلا۔ ہر گھر سے رونے بلکنے کی آوازیں آتی رہیں۔ اس واردات میں ایک اہم اسکیم کے تئیں بڑھتی جارہی مجرمانہ لاپروائی کو ہی اجاگر کیا ہے۔ وہ بچے اسکول میں پڑھنے گئے تھے لیکن ہمارے سڑے گلی نظام نے ان کے خوابوں کو پروان چڑھنے سے پہلے ہی تباہ کردیا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ مڈ ڈے میل میں مری چھپکلی ہونے یا اس کے کسی طرح زہریلا ہونے کی شکایتیں آتی رہی ہیں اور پہلے بھی کئی جگہوں پرکچھ بچوں کی کھانا کھانے سے موت ہوئی ہے اس کے باوجود تعلیم کے بنیادی حق کو بنیاد دینے والی اس اسکیم کو لیکر چوطرفہ لاپروائی برتی جارہی ہے۔ یہ تو جانچ سے ہی پتہ چلے گا کے ان بدقسمت بچوں کو دئے گئے کھانے میں کیڑے مار دوا ملی ہوئی تھی یا کوئی زہریلی شے ملی تھی۔ مگر جس طرح سے اسکول میں مڈ ڈے میل تیار کیا جاتا ہے اور بچوں کو دیا جاتا ہے اس پورے نظام میں ہی گڑبڑی ہے۔ مقصد صحیح ہو یا غلط اسکول میں دوپہر کا کھانا دیش کی غریبی سے تعلق رکھتا ہے۔ سرکار کا خیال تھا اسکولوں میں کھانا دئے جانے سے لوگ اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے لئے تیارہوسکیں گے۔ یہ بھی سوچا گیا تھا کہ بچوں کو ایسا ہی کھانا دیا جائے جو ان کی جسمانی، ذہنی فروغ کے لئے بہترین ہو۔ اس کے اندر تمام طاقت کے اجزاء شامل ہوں لیکن جیسا اپنے دیش میں رواج ہے ایسی اسکیموں کو پیچھے غریبوں یا دیش کے مفاد کی فکر کم ہوتی ہے اور سیاسی نفع نقصان اور اسکیم کے پیسے کی لوٹ کھسوٹ سے جڑی ہوتی ہیں۔ بھروسہ نہ ہو تو پتہ لگا لیجئے ان مڈڈے میل اسکیموں میں کن کی ٹھیکیداری چل رہی ہے اور اسکولوں کے ہیڈ ماسٹروں کے تال کہاں کہاں جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں غریب بچوں کی جان کی کسی کو کیا پڑی۔ جن والدین کا آنچ اجڑ گیا ہے وہ تو شاید رو دھوکر لاکھ دو لاکھ روپے کا معاوضہ لیکرچپ ہوجائیں گے۔ رہی بات دیش کے مستقبل کی تو اس کی فکر کرنے کا وقت کسی کے پاس نہیں ہے۔ معصوم بچوں کی موت پر بھی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔ سیاستدانوں کو اپنی اپنی روٹیاں سینکنے کی پڑی ہے۔ ایک طرف جہاں عام آدمی متاثرہ خاندان کے دکھ درد سے پریشان ہے وہیں سیاسی پارٹیوں کے ذریعے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مڈ ڈے میل اسکیم پر ہی سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے۔ والدین کے اندر اس بات کو لیکر دہشت ہے کہیں کھچڑی کھانے سے میرا بچہ بیمار نہ پڑ جائے۔ یہ واقعہ صرف بہار کا ہی نہیں بلکہ پورے دیش کا واقعہ بن چکا ہے۔ بہار سرکار سے لیکر بھارت سرکار کے تئیں لوگوں میں ناراضگی پھیلی ہوئی ہے۔ گاؤں سے لیکر شہر تک سبھی لوگ اس بات سے فکر مند ہیں کہ آخر اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی انتظامیہ موثر قدم کیوں نہیں اٹھا پارہا ہے۔ متاثرہ خاندان کراہتارہا اور نیتا لوگ بیان بازی کرتے رہے۔ اگر انتظامیہ کے ذریعے فوری کارروائی کی گئی ہوتی تو شاید معصوم بچوں کو بچایا جاسکتا تھا۔
(انل نریندر)

19 جولائی 2013

راہل گاندھی کو لیکر کانگریس میں شش و پنج کی صورتحال!

کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اور راہل گاندھی کے چیف سیاسی مشیر دگوجے سنگھ نے اشارہ دیا ہے کہ آنے والے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس راہل گاندھی کو وزیراعظم کے عہدے کا امیدوار اعلان نہیں کرے گی۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ اگر پارٹی اگلے سال ہونے والے عام چناؤ میں کامیاب ہوتی ہے تو پردھان منموہن سنگھ تیسری بار اس بڑے عہدے کے لئے امیدوار ہوں گے۔ دگوجے سنگھ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارے یہاں صدارتی نظام نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی چناؤ سے پہلے نہ تو وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار اعلان کرتی ہے اور نہ ہی وزیر اعظم کے عہدے کا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کانگریس راہل گاندھی کو وزیر اعظم عہدے کے امیدوار کے طور پرپیش کرنے کو لیکر کیوں ہچکچا رہی ہے اور اس کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار کون ہوگا۔ راہل گاندھی کو ابھی سے پی ایم عہدے کا امیدوار اعلان کرنے میں کانگریس کو ہچکچاہٹ نظر آرہی ہے۔ کانگریس نے دگوجے سنگھ سمیت کئی لیڈروں کے متضاد بیانوں سے پلہ جھاڑتے ہوئے کہا کہ پردھان منتری کے عہدے کے لئے پارٹی نائب صدر راہل گاندھی کی امیدواری پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں پارٹی کے جنرل سکریٹری اجے ماکن نے کہا کہ اس بارے میں ابھی طے نہیں کیا گیا ہے۔ جب بھی اس پر فیصلہ ہوگا تو آپ کو پتہ چل جائے گا۔ جب اس معاملے میں وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیواری سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگلا لوک سبھا چناؤ وزیر اعظم منموہن سنگھ، کانگریس صدر سونیاگاندھی، راہل گاندھی کی رہنمائی میں لڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کچھ لوگ جو یہ چاہتے ہیں کہ پارٹی اس معاملے میں ایک ایجنڈا رکھے ، اگر ایسے لوگوں کو پارٹی کے بنیادی کام کے طریقے کی سمجھ نہیں ہے۔ پارٹی کے کئی لیڈروں کا کہنا ہے راہل وزیر اعظم عہدے کے امکانی امیدوار ہیں۔ کانگریس نائب صدر کے طور پر وہ پارٹی تنظیم میں نمبر دو پر ہیں۔ دراصل ہمیں لگتا ہے کہ مودی بنام راہل کی بحث سے کانگریس پرہیز کررہی ہے۔ کانگریس چاہتی ہے شخصیت کی جنگ سے پارٹی کو بچانا چاہئے اور پارٹی کی فی الحال پوری توجہ نظریئے اور اشوز پر ہونی چاہئے۔ پارٹی تو آئیڈیالوجی اور اشوز کے بہانے حملہ کرے گی لیکن راہل کو اس بحث سے دور رکھنے کی کوشش کرے گی۔ پارٹی کی کمیونی کیشن ٹیم نے حال ہی میں ایک میٹنگ کی تھی اس میں کئی ترجمانوں نے کہا کہ ہمیں کوشش کرنا چاہئے کہ سیاسی لڑائی کا رخ مودی بنام راہل نہ ہو پائے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ ٹیم مودی پورے سیاسی پس منظر کو امریکی طرز پر لے جاناچاہتی ہے۔یہاں دو شخصیتوں کے بیچ لڑائی نہیں ہوسکتی بلکہ نظریہ اور اشوز کی لڑائی ہونی چاہئے۔ اپنے عہدکے آخری سال میں یوپی اے سرکار کو اگر آج کی تاریخ میں چناؤ کروانے پڑے تو ایک سروے کے مطابق کرپشن ،مہنگائی، گھوٹالے اور بڑے فیصلے لینے میں نااہلی کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ کیا نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار اعلان کیا جائے تو وہ 36 فیصدلوگوں کی پسند کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔ کانگریس کے راہل گاندھی کو13 فیصدی لوگوں نے ووٹ دیا ہے۔ منموہن سنگھ کے لئے 12 فیصدی ووٹ ملے ہیں۔تلخ حقیقت تو یہ ہے آج کی تاریخ میں راہل گاندھی کی ساکھ دھندلی ہے۔ انہیں بھاجپا سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کانگریس انہیں پی ایم امیدواری کے طور پر اعلان کرنے سے فی الحال کترارہی ہے۔
(انل نریندر)

آئی بی اور سی بی آئی کو آمنے سامنے کھڑا کرنا ملک کی سلامتی سے کھلواڑ !

جس بات کا ڈر تھا وہی ہورہا ہے۔ سیاسی داؤ پیچ میں پھنس کر ہلکان ہوئی خفیہ ایجنسی آئی بی اب خفیہ اطلاعات دینے سے توبہ کررہی ہے۔عشرت جہاں معاملے میںآئی بی کے اسپیشل ڈائریکٹر راجندر کمار سمیت کچھ افسروں کو نشانے پرلینے اور مرکزی سرکار کے اس کے بچاؤ میں پیچھے ہٹنے سے آئی بی کافی مایوس ہے۔اسی کے چلتے آئی بی نے دہشت گردانہ سرگرمیوں سے جڑی اہم خفیہ معلومات شیئر کرنا بند کردیا ہے۔ آتنکی خطرے سے متعلق صرف وہی اطلاع دیتی ہے۔دیگر ایجنسیوں کے ذریعے سے ملٹی ایجنسی سیل میں آتی ہے۔وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر کے مطابق پچھلے ایک مہینے سے انہیں آئی بی کی خفیہ وارننگ رپورٹ نہیں ملی ہے۔ آئی بی ہر دن پورے دیش میں ہوئے واقعات کی رپورٹ وزارت داخلہ و وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ دیش میں بدامنی ،جھگڑے اور دہشت گردانہ حملے کی سازش کی خفیہ رپورٹ الگ سے دیتی ہے۔ اسی خفیہ رپورٹ کی بنیادپر سکیورٹی ایجنسیاں یا ریاستی حکومتوں کو ضروری قدم اٹھانے کے لئے خبردار کیا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ کے سینئر افسر نے بتایا کہ دیش کی اندرونی سلامتی کے لئے آئی بی کی خفیہ رپورٹ بہت اہم ہے۔ اس کے بغیر دہشت گردانہ سازشوں کو نا کام کرنا مشکل ہے۔ آئی بی اور سی بی آئی جھگڑے کے پیچھے عشرت جہاں مڈ بھیڑ معاملہ ہے جس کی سی بی آئی کے ذریعے جانچ ہورہی ہے ۔ آئی بی نے عشرت جہاں کو دہشت گرد بتایا تھا جس کی وجہ سے اس کو مارا گیا ، یہ رپورٹ غلط تھی۔ آئی بی اپنی بات پر اٹل ہے اور مرکزی وزیر داخلہ عشرت کے آتنکی رشتوں کی جانکاری دینے سے منع کررہے ہیں۔ عشرت جہاں کے آتنکیوں سے رشتے کے جھگڑے کے درمیان وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے کہا کہ وہ اس بات کو نہیں بتا سکتے۔ اس کی وجہ امریکہ کے ساتھ وہ معاہدہ ہے جس کے تحت سرکار ممبئی آتنکی حملے کے بنیادی ملزم ڈیوڈ ہیڈلی سے ملی کوئی اطلاع عام نہیں کرسکتی۔ وہیں سابق داخلہ سکریٹری جی ۔کے۔ پلئی اپنے 2011ء کے بیان سے بدل گئے ہیں۔ عہدے پر رہتے ہوئے عشرت کو لشکر کا آتنکی بتانے والے پلئی اب اسے شبے کا فائدہ دینے کی بات کررہے ہیں۔ تازہ واقعات میں عشرت کے آتنکی ہونے کے بارے میں ہیڈلی کے بیان کو چھپانے کی این آئی اے کی کوششوں کو آئی بی نے ہوا نکال دی ہے۔ آئی بی کے ذریعے لیک کئے گئے 3 اکتوبر 2010 ء کو آئی این اے کے ایک دستاویز کے مطابق 2005ء میں لشکر طیبہ کے آپریشن سربراہ ذکی الرحمان لکھوی کو مزمل سے ملوایا تھا۔ لکھوی نے مزمل پر طنز کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ یہ لشکر طیبہ کے بڑے کمانڈر ہیں جس کے سارے معاملے ناکام ہوگئے ہیں اور عشرت جہاں سازش ان میں ایک تھی۔ این آئی اے کا کوئی بھی افسر اس دستاویز کے بارے میں بولنے کو تیار نہیں ہے۔ منگلوار کو گوہاٹی میں سابق داخلہ سکریٹری جی۔ کے۔ پلئی اپنے پرانے بیان سے پلٹ گئے ہیں۔ اس کے مطابق عشرت کے آتنکی ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے لیکن ساتھ مارے گئے 3 لوگ لشکر طیبہ سے ٹریننگ یافتہ آتنکی تھے اور عشرت ان کے ساتھ دیش کے کئی حصوں میں گئی تھی۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کے تینوں آتنکی عشرت کو ایک ڈھال کی شکل میں استعمال کررہے ہوں گے۔ عشرت کے آتنکی ہونے کی بات کو ٹالا نہیں جاسکتا۔ اسکی گہرائی سے جانچ ہونی چاہئے۔ یہاں دو سوال ہیں عشرت کیا آتنکی تھی؟ دوسرا کیامڈ بھیڑ فرضی تھی؟ ہم فرضی مڈبھیڑ پر توزور دے رہے ہیں لیکن عشرت کی اصلیت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی وزارت داخلہ نے مبینہ مڈبھیڑ میں ماری گئی عشرت اور اس کے تین ساتھیو ں کو لشکر کا آتنکی بتایا تھا۔ گجرات ہائی کورٹ میں اس سلسلے میں باقاعدہ ایک حلف نامہ بھی دیا تھا۔ لیکن سیاسی وجوہات سے دو مہینے بعد وزارت داخلہ نے حلف نامہ بدل کر دوبارہ داخل کیا۔ جس میں آئی بی کی معلومات کو ادھورا بتایا۔ وزارت داخلہ عشرت جہاں کو آتنکی بنانے سے مکر گئی ہے۔ آئی بی پر غلط جانکاری دینے کا الزام لگا دیا ۔ بتایا جارہا ہے کہ پچھلے ایک مہینے سے وزارت داخلہ کو آئی بی کی خفیہ وارننگ رپورٹ نہیں ملی ہے۔ ایسے میں نہ تو آتنکی سازشوں کا پتہ لگ سکتا ہے اور نہ اس سے نمٹنے کی تیاری۔ اس لئے آئی بی کا حوصلہ بنائے رکھنے کے لئے ملک کے مفاد میں سرکار کو فوری قدم اٹھانے ہوں گے۔ سی بی آئی کے کردار پر تو پہلے بھی انگلیاں اٹھی ہیں،وہ سرکار کے اشارے پر کام کرتی ہے۔ تو کیا یہ مان لیا جائے سرکار اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے ملک کے مفاد سے بھی سمجھوتہ کرنے کو تیارہے؟ اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے اس بار آئی بی کے خلاف سی بی آئی کا استعمال کررہی ہے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ سرکار دیش کی ایکتا اور سلامیت اور سکیورٹی کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔
(انل نریندر)

18 جولائی 2013

اب لڑائی بھاجپا بنام کانگریس نہیں لڑائی ہے مودی بنام کانگریس

نریندر مودی کے بڑھتے قدموں سے جہاں بھاجپا پھولی نہیں سما رہی ہے وہیں کانگریس کے ہاتھ پاؤں پھول رہے ہیں۔ بھاجپا کا برانڈ بن چکے نریندر مودی کو بھاجپا گھر گھر پہنچانے میں جٹ گئی ہے۔ اس کے لئے طے کیا گیا ہے کہ بھاجیومو(بھاجپا کا یوتھ وینگ) کے ورکر مودی کی فوٹو چھپی ٹی شرٹ پہنیں گے۔ بھاجپا یوا مورچہ کے پردھان انوراگ ٹھاکر کے مطابق اس مرتبہ ایک کروڑ نوجوانوں کو پارٹی سے جوڑنے کا نشانہ رکھا گیا ہے۔ اس کے لئے فیس بک، ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا کی مدد لی جائے گی۔ ادھر کانگریس اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ پارٹی کے حملے کا مرکز اب بھاجپا نہیں بلکہ گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی ہیں۔ مودی کو کانگریس مسلسل ایک صوبے کا وزیراعلی اور نیتا بتا کر زیادہ اہمیت دینے سے انکار کرتی رہی تھی، اب اسے مودی کے بیان کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک لائن پر کانگریس اعلی کمان پوری تیاری سے تابڑتوڑ جواب دے گی۔ اشارے صاف ہیں ،بدلے سیاسی حالات میں کانگریس مان چکی ہے اس کے لئے اہم چنوتی مودی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کانگریس اب2014 ء کی لڑائی کو پوری طرح سے سیکورلزم بنام فرقہ پرستی بنا دینے کی حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔ مودی کے ہندوتو کارڈ کھیلنے کے بعد کانگریسی متحد اور حکمت عملی کے تحت حملہ کر آنے والے لوک سبھا چناؤ میں یوپی اے سرکار کی کامیابیوں نا کامیوں کے بجائے سیکولرزم کے ارد گرد پوری سیاسی بحث کو مرکوز کرنے کی تیاری میں لگ گئے ہیں۔ گجرات اسمبلی نتائج کے بعد کانگریس مودی کو لیکر خود کو فکر مند نہیں دکھانا چاہ رہی ہے۔ یہاں تک کے بھاجپا کی جانب سے مودی کو پی ایم عہدے کا امیدوار بنانے کے لئے مسلسل اشارے دینے کے بعد بھی پارٹی اپنی پرانی حکمت عملی پرچل رہی تھی لیکن اب نریندر مودی کانگریس کے نشانے پر نمبر ون بن چکے ہیں۔ ان کی ہر بات کا جواب دیا جائے گا۔ پنے میں ایتوار کو نریندر مودی نے کانگریس پر زور دار حملہ کیا تو جواب میں پیر کو پوری کانگریس سے بھاجپا کی چناؤ مہم کے چیف پر حملہ بول دیا۔ ’کتے کے بچے‘ والے بیان پر اس بار کانگریس کے نشانے پر مودی کا سیکولرزم کا بنا برقع والا بیان ہے۔ نریندر مودی نے ایتوار کوکہا تھا کہ وہ اپنی رہنمائی والی سرکار کے کرپشن و بے قابو مہنگائی کو لیکر کانگریس گہرے سنکٹ میں پھنسی ہوئی ہے لہٰذا ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے بعد ایک بار پھر سیکولرزم والے برقع میں چھپ گئی ہے۔ لیکن اس بار اس کی دال گلنے والی نہیں ہے، لوگ جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ اس بیان کے بعد پہلے دگوجے سنگھ سے لیکر منیش تیواری نے مودی پر فرقہ پرستی کے اشو پر حملہ کیا وہیں بعد میں کانگریس ہیڈ کوارٹر میں پارٹی کے فورم سے میڈیا چیف اجے ماکن اعدادو شمار کے ساتھ گجرات کے وزیر اعلی کے خلاف ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے گجرات کو ہی پچھڑا قرار دے دیا اور دیش سے پہلے اپنے پردیش کو ٹھیک کرنے کی صلاح دی۔ دگوجے نے کہا کہ مودی پہلے اپنے سیکولرزم کو واضح کریں۔ منیش تیواری نے مودی پر تلخ حملہ کیا اور کہا سیکولرزم کے لبادے میں سبھی مذاہب کے لوگ سما جاتے ہیں جبکہ فرقہ پرستی کا برقع علیحدگی پسندی ہے۔ یہ بھارت کے بنیادی اصول سرودھرم سماج کے نظرئے اور علیحدگی پسندی کے درمیان جنگ ہے۔ مودی دیش کے بنیادی نظریئے کے لئے خطرہ ہیں۔ جیسا کے میں نے کہا کہ اب لڑائی بھاجپا بنام کانگریس نہیں بلکہ مودی بنام کانگریس بن گئی ہے۔
(انل نریندر)

بدعنوانوں کو سبق سکھانے کا ایک صحیح طریقہ یہ بھی ہے

بھارت میں کرپشن کو ختم کرنے میں سیاسی پارٹیوں اور سرکاری مشینری کی ناکامی ایک بڑی مثال شفافیت انٹرنیشنل کے سالانہ سروے کے ذریعے پھر سامنے آئی ہے۔ اس سروے میں 70 فیصد ہندوستانیوں نے مانا ہے کہ کرپشن بھارت میں پچھلے دو سالوں سے بڑھا ہے۔ 68 فیصدی ہندوستانیوں کا خیال ہے کرپشن کو لیکر سرکار کی منشا پر انہیں بھروسہ نہیں ہے جبکہ62 فیصدی لوگ بلاگ ڈھنگ سے مانتے ہیں کہ انہیں سرکاری اجازت اور خدمات کے عوض میں رشوت دینی پڑتی ہے۔ سروے میں شامل بھارت کے 86 فیصدی لوگ سیاسی پارٹیوں کو سب سے زیادہ کرپٹ مانتے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ کرپشن کی اس ہائے توبہ کے ماحول میں عام لوگوں کا تصور بدلنے کے لئے سنجیدہ کوشش کرنے کے بجائے ہماری سیاسی لیڈر شپ اس سچائی کو بے شرمی اور ہیکڑی کے ساتھ مسترد کرتی رہی ہے۔ کرپشن یعنی بدعنوانی سے کیسے نپٹیں؟ اس سوال کا جواب چین نے دیا ہے۔ ریلوے کی تاریخ میں دنیا کی سب سے بڑی کامیابیوں میں جس ایک ریل منتری کا نام درج ہے وہ ہے 2011 ء تک چین کے ریل منتری رہے لیو تھیون۔ انہیں چین کی عدالت نے کرپشن کے الزام میں قصوروار پایا اور انہیں موت کی سزا سنا دی۔ وزیرکی ساری ذاتی پراپرٹی پہلے ہی ضبط کی جاچکی ہے اور ان کے سبھی سیاسی اختیارات ضبط کئے جاچکے ہیں۔ 8 سال چین کے ریل منتری رہے تھیون کے ہی عہد میں چین نے تبت ریلوے کو اپنی منزل تک پہنچایا اور بلٹ ٹرینوں کے معاملے میں چین دنیا میں نمبر ون بن چکا ہے۔ ان کے سخت انتظامیہ کے تو قصے سنے جاتے ہیں لیکن ایک ہائی اسپیڈ ٹرین حادثے کے بعد شروع ہوئی جانچ نے نہ صرف انہیں اس حالت میں پہنچایا بلکہ چین میں ریل وزارت نام کی چیز ختم کردی گئی ہے۔ چین میں کوئی ماڈل ریاست کا سسٹم نہیں ہے۔ وہاں بھی میڈیا میں سوال اٹھ رہا ہے کہ لیوتھیون کے پاس 16 کاریں، 350 فلیٹ، 18 رکھیل ہیں۔ یہ جاننے کے لئے چین کے خفیہ محکمے کو ایک ٹرین حادثے کا انتظار کیوں کرنا پڑا؟ ایک ہمارا دیش ہے کہ ہمارے ریل منتری پر کھلے عام کرپشن کے الزامات لگے ہوئے ہیں اور جانچ ایجنسی سی بی آئی نے بنیادی ملزم کو ہی سرکاری گواہ بنا لیا ہے۔ ویسے تو دیش میں کرپشن کے معاملے آزادی کے بعد سے سامنے آنا شروع ہوئے لیکن گزرے برسوں میں حکمرانوں میں چوری اور سینہ زوری کا ٹرینڈ کھلے عام دکھائی دینے لگا ہے۔ موجودہ سرکار کی بات کریں تو کرپشن کے معاملوں میں اس کے کچھ ایک منتری جیل جا چکے ہیں اور بہت سوں کو استعفیٰ دینا پڑا۔ اس دوران ایسے بھی گھوٹالے سامنے آئے ہیں جن کی گنتی کرنا عام انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کیسے مضبوط ثبوت کے باوجود آخری دم تک سرکار ملزمان کو بچانے کی حتی الامکان کوشش کرتی ہے۔ چین میں لیوتھیون پر کرپشن اور عہدے کا بیجا استعمال کر بھاری بھرکم دولت اکھٹی کرنے اور عیاشی کے الزامات ہیں۔چین میں قتل اور کرپشن کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ افراد کے لئے پھانسی ہے مگر بھارت میں کرپشن کیلئے جتنی بھی سزا کی سہولت ہو وہ کسی بڑے شخص کو نہیں مل پاتی کیونکہ یہاں کارروائی کرنے والوں سے بچانے والوں کے ہاتھ اکثر زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔
(انل نریندر)

17 جولائی 2013

30 دن بعد بھی کیدارناتھ وادی ویران ہے!

آسمانی آفت سے آئے سیلاب اور قہر سے کیدارناتھ وادی کو تباہ ہوئے پورا ایک مہینہ ہوگیا ہے۔ ٹھیک16-17 جون کو کیدارناتھ میں تباہی ہوئی تھی۔ ایک مہینہ بعد بھی کیدارناتھ میں ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ اتراکھنڈ کے ایڈوکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ میں یہ تسلیم کیا اور کہا کہ وارننگ کے باوجود توجہ نہیں دی گئی۔ توجہ دی جاتی تو حالات ایسے نہ ہوتے۔ جسٹس اے ۔کے۔ پٹنائک کی بنچ کو سیلاب راحت کاموں پر ریاستی حکومت کی رپورٹ پرغور کررہی تھی۔ جسٹس پٹنائک نے ان کی بات سے اتفاق جتایا اور کہا کہ یاترا جون ماہ میں ہونی نہیں چاہئے۔اسے اگر مئی میں ہی روک دیا جاتا تو اس طرح جان و مال کا نقصان نہیں ہوتا۔ ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل اومیش انیال نے کہا کہ مسافروں کو نکالنے کے کام پورے کرلئے گئے ہیں۔ حالات قابو ہیں لیکن کیدارناتھ وادی ایک مردہ گھر بنی ہوئی۔ کہاں گذشتہ برس ایک معاملے میں کہا گیا تھا کہ پہاڑوں میں تعمیرات نہیں روکی گئی تو تباہی آسکتی ہے۔ آج وہ پیشین گوئی صحیح ثابت ہوئی ہے۔ حالانکہ ریاستی حکومت نے یہ نہیں بتایا کے سیلاب میں کتنے لوگوں کی موت ہوئی ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق کیدار وادی میں اب تک سینکڑوں مسافروں کی لاشیں دبی ہوئی ہیں۔ سپریم کورٹ میں ایڈوکیٹ جنرل کی باتیں سن کر جسٹس اے۔ کے۔ پٹنائک بھی غمزدہ ہوگئے اور کہا کہ گذشتہ برس کیدارناتھ یاترا پر گئے تھے اور بھگوان سے انہوں نے جو مانگا تھا وہ مل گیا۔ یاترا سے لوٹنے کے بعد گھر میں ایک پوتے نے جنم دیا اور وہ دادا بن گئے۔ کیدارناتھ میں قدرتی آفت کے چلتے کتنے لوگ مارے گئے اس کا معمہ شاید ہی کبھی سامنے آئے۔ اترا کھنڈ سرکار اس ٹریجڈی میں پانچ ہزار سے زیادہ کے لاپتہ ہونے کی بات قبول کرچکی ہے لیکن اب تک 127 لاشوں کا ہی دہا سنسکار ہو پایا ہے۔ لاشوں کی تعداد کو لیکر انتظامیہ صحیح پوزیشن نہیں بتا پارہا ہے۔ بچاؤ کے کام کے دوران کیدارناتھ میں ہی 250 سے زیادہ لاشوں کی بات انتظامیہ کی طرف سے کہی گئی تھی لیکن راحت و بچاؤ ٹیم نے وہاں لاشیں نہ ہونے کی بات کہی۔ ٹریجڈی میں لا پتہ ہوئے لوگوں کے رشتے دار اس درد کو بھول پائیں گے یہ ممکن نہیں۔ میرے ایک دوست تیجندر مان جو کرنال میں رہتے ہیں اپنی بیوی ،بھائی اور بھابی کے ساتھ16-17 جون کو کیدارناتھ میں پھنس گئے اور آج تک پتہ نہیں چلا کہ ان کا کیا ہوا۔ سنیچر کو ان کی یاد میں دہلی کے چنمے مشن میں ایک پرارتھنا سبھا ہوئی تھی۔ شریمان سے میں ملا بھی اور تسلی دی لیکن صدمہ انہیں اتنا تھا کے پیر کو خبر آئی تیجندرمان بھی چل بسے ہیں۔ ایسے درجنوں معاملے ہوں گے جہاں لاپتہ لوگوں کے رشتے دار گہری چوٹ کھائے ہوئے ہیں۔ کیدارناتھ میں اب تک کل50 لاشوں کا انتم سنسکار ہوا ہے۔ گوری کنڈ جنگل پٹی میں 43، ہری دوار میں34 کا دہا سنسکارکیا گیا۔ حالانکہ تباہی کے بعد آئے سیلاب میں 250 سے زیادہ لاشیں صرف کیدارناتھ میں دیکھی جانے کی بات پولیس کی طرف سے کہی گئی تھی۔ یہاں تک کہ کیدارناتھ سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے چشم دید گواہوں نے بھی سینکڑوں کی تعداد میں لاشیں پڑے ہونے کی بات پولیس و انتظامیہ کو بتائی تھی لیکن اب وہ لاشیں کہاں گئیں یہ معمہ ہی ہے۔ ہندی اخبار ’راشٹریہ سہارا‘ میں راجیش سینگوال کی ایک آنکھوں کی دیکھی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ پیش ہیں رپورٹ کے کچھ حصے: منداکنی (گاؤں) مدھو گنگا سے کیدارناتھ میں آئے قہر کو ایک ماہ ہونے والا ہے اس ایک مہینے میں قدرتی آفت سے تباہ ہوچکے چھوٹے بڑے قصبوں میں زندگی پٹری پر کب لوٹے گی اور یہاں کب آبادی ہوگی ؟ یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں اٹھ رہا ہے۔ کیداروادی میں شردھالوؤں کی شکل میں جانے والے شیو تیرتھ کیدارناتھ پر ہری دوار سے کیدارناتھ تک لاکھوں لوگوں کا گزربسر جڑا ہوا تھا۔ فی الحال یہاں پتھریلی زمین اور بار بار چٹانے کھسکنے کے سوائے کچھ نہیں دکھائی پڑرہا ہے۔ شری نگر سے لیکر کوہار فورٹ تک سڑکیں سنسان ہیں، بازار ویران ہیں۔ سڑکوں سے لگے گاؤں میں بھی ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ گاؤں والوں کی کوئی خیرخبر لینے والا نہیں۔ ایسے سینکڑوں گاؤں میں آج بھی بچے روتے ہوئے، عورتیں سسکتی ہوئی، بزرگ حیرانگی سے دیکھتے دکھائی پڑتے ہیں۔ شری نگر سے رودرپریاگ تک آ جارہی گاڑیوں میں سواریاں نہیں ہیں۔ وادی ویدی مندرکے مشرق میں جس پتھرپر بنا ہوا تھا وہ الکنندا کے آغوش میں ہے۔ رشی کیش، بدری ناتھ قومی شاہراہ رودرپریاگ تک چھوٹی بڑی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے کھلی ہوئی ہے مگر سڑک پر مزدوروں کے سوا اور کوئی نہیں دکھائی پڑ رہا ہے۔ رودرپریاگ کا بازار سونا پڑا ہے۔ ڈھابے اور ہوٹل والوں کا کہنا ہے 20 دن سے انہوں نے ہزار روپے کا نوٹ نہیں دیکھا ہے۔ پوری کیداروادی میں لوگ سہمے ہوئے ہیں۔ ندی کی آبی سطح بڑھتے ہی لوگ گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ آسمان سے برس رہی آفت تکلیف دہ ہے۔ اس ایک ماہ میں سڑک کی طرف جانا مشکل ہورہا ہے اچانک دھماکوں کے سبب تباہی ہوئی ہے۔ سڑک کب کھلے ہی کوئی بتاپانے کی حالت میں نہیں۔ تلواڑہ کے آگے کچھ نہیں نظر آتا۔ رائے پور کا بازار سونا ہے۔ آگے کی زندگی کے بارے میں سوچ کربھی محسوس نہیں ہوتا کبھی یہاں سینکڑوں لوگ آتے جاتے تھے۔ اس سے آگے کمیونی کیشن، بجلی ،پانی جیسی بنیادی سہولیات تو گزرے زمانے کی بات ہوگئی ہے۔ اگات منی کے انٹر کالج کے نیچے کھیتوں میں جہاں امرود کا باغ تھا وہاں آج پانی پانی نظرآتا ہے۔ وجے نگر سے آگے گنگا نگر کا برا حال ہے۔ ڈگری کالج کی عمارتوں کو بھی نقصان ہوا ہے۔ یہاں بن رہا ہاسٹل بھی تباہ ہوگیا ہے۔ بی ایڈ میں پڑھنے والے طالبعلم اب کالج نہیںآ پارہے ہیں۔ جہاں کبھی درجنوں مکان تھے وہ اپنے مکان اور سامان سب گنوا چکے ہیں۔ لوگ ترپالوں کے سہارے موم بتی میں راتیں گزارنے پر مجبور ہیں۔ چندرا پوری میں تباہی کو دیکھ کر ایسانہیں لگتا کے یہاں کبھی چار پانچ منزلہ عمارتیں رہی ہوں گی۔ ایک ماہ بعد بھی کیداروادی کے حالات جوں کے توں ہیں۔ خراب موسم کے چلتے کیداروادی میں راحت رسانی کے کام بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔بارش کے سبب سبھی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی ہیں۔ کیداروادی کے لئے گپت کاشی اور پاٹا سے ہیلی کاپٹر اڑان نہیں بھرسکے۔ ضلع انتظامیہ کے مطابق کیداروادی میں اس وقت 58 لوگوں کی ٹیمیں لگی ہوئی ہیں۔ ملبہ لگانے کا کام ابھی شروع نہیں ہوسکا۔ حالانکہ سازوسامان پہنچ چکا ہے۔ گپت کاشی میں نوڈل افسر ہرک سنگھ راوت نے بتایا کہ ان لوگوں کی ایک ٹیم گوری کنڈ بھیجی گئی ہے۔ یہ ٹیم رام باڑہ روانہ ہوگی اور وہاں لاشوں کی تلاش کرے گی۔ بارش کے سبب مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔
(انل نریندر)

16 جولائی 2013

الہ آباد ہائی کورٹ کی ذات کی سیاست پر روک لگانے کی دوررس کوشش!

ووٹ بینک کی سیاست پر عدالت نے سخت حملہ کیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے سیاسی پارٹیوں کی ذات پات کی ریلیوں پر روک لگادی ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے داغی لیڈروں پر سخت فیصلہ سنایا تھا۔ جسٹس امرناتھ سنگھ اور مہندر سنگھ دیال کی الہ آباد بنچ نے عرضی گزاروں کی اس دلیل کو مان لیا جس میں کہا گیا تھا ذات پات کی ریلیاں آئین کے خلاف ہیں اور یہ سماج کو بانٹنے کا کام کرتی ہیں۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کا اثر دیش بھر میں ہوسکتا ہے۔ اسے بنیاد بنا کر دوسری ریاستوں کی ہائی کورٹ میں بھی اسی طرح کی عرضیاں داخل کی جاسکتی ہیں۔ ایسے میں باقی ریاستوں میں ذات پات کی ریلیوں پر بھی اسی طرح کے حکم آسکتے ہیں۔ذات پات کی ریلیوں پر روک کی قومی سیاسی پارٹیوں نے کھل کر نہ صحیح لیکن اسے اپنے لئے وردان اور بڑے سیاسی فیصلے لینے کے لئے مینڈیٹ ضرور مان رہی ہیں۔ اترپردیش ، بہار، تاملناڈو، آندھرا پردیش، کرناٹک، جھارکھنڈ و مہاراشٹر میں علاقائی پارٹیوں کا زبردست دبدبہ ہے۔ چناوی سیاست میں ذات پات ہمیشہ سے ایک اہم اشو رہا ہے۔ سماجی طور پر سنگین مسئلے کی شکل میں موجودہ ذات کی علامت پارٹیاں چناؤ میں جیت یقینی بنانے کا ذریعہ بناتی ہیں۔ یوپی میں حکمراں سماج وادی پارٹی، اپوزیشن بہوجن سماج پارٹی دونوں نے کچھ مہینو ں میں براہمن ریلیوں کا انعقاد کیا۔ ان کے علاوہ سیاسی پارٹیوں نے علاقائی ریلی اور ویشے سمیلن جیسے ناموں سے کئی برادریوں کو لیکر ریلیاں کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ملائم سنگھ یادو کی رہنمائی والی سماج وادی پارٹی پسماندہ ذاتوں کا دبدبہ والی پارٹی مانی جاتی ہے۔ وہیں بسپا کی مایاوتی کی سربراہی والی درجہ فہرست ذاتوں والی مانی جاتی ہے۔ وہیں بھاجپا سورن اور ہندو کی پارٹی مانی جاتی ہے جس میں بڑی ذاتیں اور ویشوں کا زور ہے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ جیسی پارٹیاں بھی ہیں جو قبائلی سیاست کرتی ہیں۔ بہار میں نتیش کمار کی جنتا دل (یو) انتہائی پسماندہ طبقہ خاص کی حمایتی بتائی جاتی ہے۔ بہار کی ہی آر جے ڈی جس کے سپریموں لالو پرساد یادو ہیں،وہ درمیانے اور پسماندہ طبقوں کی حامی مانی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ80 لوک سبھا سیٹوں والے اترپردیش میں ذات پات تجزیوں کے چلتے گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں بھاجپا اور کانگریس دو بڑی قومی پارٹیاں حاشیے پر ہیں اور ریاست کے اقتدار میں دو علاقائی پارٹیوں سپا۔ بسپا میں بٹی ہوئی ہے۔ چاہے نام کرن ہو یا مورتیاں لگوانے کی مہم یا پبلک چھٹیوں کا اعلان۔ یوپی میں نیتاؤں نے ووٹ بینک لبھانے کا ہر جتن کیا ہے۔ منڈل کمنڈل کے دور سے پروان چڑھا یہ ابھیان اب شباب پر ہے۔ ان برادریوں کی بہتری سے بہت مطلب نہ رکھا گیا ہو لیکن علامتی ٹوٹکوں کے ذریعے ذات پات کی لو خوب جلائے رکھی۔ بھیم راؤ امبیڈ کر کو محض دلتوں کا لیڈربنانے کی مہم بیشک پرانی ہے لیکن پچھلے کچھ عرصے سے ان کو محض دلتوں کا مسیحا بنایا جارہا ہے۔ ذات کے گورو تلاشنے کا ابھیان پچھلی ڈیڑھ دہائی سے تیزی سے چلا۔ سماجی تحریکوں میں اہم کردار نبھانے والے چھترپتی شاہو جی مہاراج، نارائن گورو جوتی بابا پھولے وغیرہ کو ذات سے جوڑ کر یادکرانے کی کوشش ہوئی ہے۔ ان کے نام یادگاریں ،پارک اور مورتیاں بنائی گئیں اور کئی اسکیمیں اور ضلعوں کا نام بدلا جانا بھی ذات کو دھیان میں رکھ کر مہاپرشوں کے نام پر رکھا گیا۔ سپا سرکار نے بسپا کے راج میں بنے چھترپتی شاہو جی مہاراج ضلع کو پھر امیٹھی کا نام دے دیا۔ بسپا نے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی بھی چھتر پتی شاہو جی کے نام پر رکھ دی۔ سپا سرکار نے اسے بھی بدل دیا۔ براہمنوں کو لبھانے کے لئے بھگوان پرشورام جینتی اور سندھیوں کو لبھانے کے لئے میری چند کے نام پر چھٹی بھی ہوگئی۔ پچھڑے طبقوں کے لئے وشوکرما جینتی، ویشے سمودائے کے لئے اگرسین جینتی، کائستھوں کے لئے چترگپت جینتی کی چھٹیاں مقرر ہوئیں۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ویسے تو اترپردیش کی سیاست تک محدود ہے لیکن اس کا اثر دیگر ریاستوں پر بھی پڑے گا۔ قومی پارٹیوں کو چنوتی دے رہیں تمام علاقائی پارٹیوں کی اصلی طاقت علاقائی ذات۔ تجزیہ یا علاقائی عقیدت کے جذبات پر بنا ماحول ہے۔ دونوں ذاتی کافی اہم کردار میں ہیں۔ یوپی اور بہار میں ذات پات تجزیوں سے متاثرہ پارٹیوں نے بھاجپا اور کانگریس کو تو سکوڑ دیا ہے وہیں لیفٹ پارٹیوں کو بھی تقریباً باہر کردیا ہے۔ جنوبی کی ریاستوںآندھرا پردیش، کرناٹک، تاملناڈو و کرناٹک ،کیرل میں علاقائی پارٹیوں کی طاقت کافی حد تک ان کی لیڈرشپ کرنے والے لیڈروں کی اپنی ذات ہے۔ لوک سبھا کی300 سیٹیں ایسی ہیں جہاں ذات پات کے تجزیوں کی وجہ سے ہی علاقائی پارٹیوں کا دبدبہ ہے۔ یہ فیصلہ کتنا موثر ڈھنگ سے لاگو ہوتا ہے یہ وقت بتائے گا۔ چناوی موسم میںیہ پارٹیاں اس کا بھی کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیں گی۔ ممکن ہے ذات پات کی ریلیاں سماجی تنظیموں کی طرف سے ہوں ۔ کل ملاکر یہ ایک دوررس انتہائی اہم فیصلہ ہے لیکن اسے نافذ کرنا اتنا ہی مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

میٹرو میں بنائے گئے ایم ایم ایس پورن سائٹس پر چھائے!

دہلی میٹرونہ صرف دہلی کی شان ہے بلکہ پورے دیش کا ایک بڑا کارنامہ مانی گئی ہے۔ بیرونی ممالک سے بھارت دورہ پر آئیں بڑی بڑی شخصیتیں دہلی میٹرو میں سواری کرتی ہیں لیکن پچھلے دنوں دہلی میٹرو کی ساکھ پر داغ لگ گیا۔ دہلی میٹرو میں ویسے تو سکیورٹی معیارات کا پورا انتظام ہے لیکن کسی نے شاید یہ نہ سوچا تھا کہ ڈبوں کے اندر اس طرح کی حرکتیں بھی ہوسکتی ہیں؟ دہلی میٹرو میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے فحاشی ایم ایم ایس اور ویڈیو کلپس بنائے جانے کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق میٹرو ریل میں سکیورٹی کے پیش نظر لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں سے فحاشی ایم ایم ایس بن رہے ہیں اور انہیں پورن سائٹس پر ڈھرلے سے لوڈ کیا جارہا ہے۔ اب تک قریب13 پورن اور دیگر سائٹس پر میٹرو میں بنائے گئے ویڈیو ڈالے جاچکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان ویڈیو کلپس و ایم ایم ایس کو ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگ دیکھ بھی چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق نوجوان پریمی جوڑا پلیٹ فارم پر نہیں بلکہ چلتی ٹرینوں کے اندر بھی فحاشی حرکتیں کرنے سے باز نہیںآتے۔ ایک کلپس میں تو باقاعدہ پنجابی باغ میٹرو اسٹیشن پر حرکتیں قید ہوئی ہیں جس وقت لڑکے لڑکیوں کی بیہودہ حرکتیں دکھائیں تو اس وقت میٹرو میں کسی مسافر کے نہ ہونے کی بات سامنے آئی۔ یہ ویڈیو کلپنگ ڈھائی سے پانچ منٹ کی تھی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے معاملے کے سامنے آنے کے بعد بھی ڈی ایم آرسی نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ خیال یہ ہے یہ سلسلہ کافی عرصے سے چل رہا ہوگا لیکن میٹرو حکام کو اپنے متعلقہ محکمے کی سرگرمیوں کی بھنک تک نہ لگ سکی یا پھرمعاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اس معاملے میں منگل کے روز وومن کمیشن نے میٹرو کو نوٹس بھیج دیا ہے۔ حالانکہ واویلا کھڑا ہونے کے باوجود سی آئی ایس ایف اور میٹرو دونوں اس معاملے سے اپنا پلا جھاڑنے میں لگے ہیں۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایم ایم ایس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ معاملے کی جانچ شروع ہوگئی ہے اور ایک ایف آئی آر سائبر کرائم سیل میں درج کرائی گئی ہے۔ اس کا وقت قصورواروں کو صحیح طرح سے سامنے لانا ہے۔ حالانکہ ڈی ایم آر سی کا خیال ہے کہ یہ ایم ایم ایس سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نہیں بنائے گئے۔ میٹرو کے رابطہ عامہ کے ورکنگ ڈائریکٹر انوج دیا ل نے سی آئی ایس ایف پر الزام مڑھتے ہوئے کہا کہ وہ میٹرو ریل میں سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ ایجنسی سے کروارہے ہیں تاکہ میٹرو کے کسی افسر کو قصوروار ٹھہرایا جاسکے۔ وہیں سی آئی ایس ایف کے ترجمان ہیمندر سنگھ کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا کنٹرول میٹرو کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپ لوڈ کی گئی ویڈیو کلپ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ انہیں موبائل کے ذریعے شوٹ کیا گیا ہے۔ یہ بیحد چونکانے والا معاملہ ہے۔ تکنیک کا استعمال قومی سلامتی کے لئے ہونا چاہئے لیکن اس کا استعمال عورتوں کی عصمت پر حملہ کرنے میں ہورہا ہے۔ اس طرح کی حرکتوں سے عورتوں کے میٹرو میں سفر کرنے پر خدشات پیدا ہوں گے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ ان نوجوان جوڑوں کو روکا کیسے جائے؟ صرف سختی سے یہ کام ہوسکتا ہے اور قصورواروں کو پکڑا جائے اور سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کی حرکت نہ ہو ورنہ بدنامی ہوگی۔
(انل نریندر)

14 جولائی 2013

میں راشٹروادی ہوں،ہندو اس لئے ہندوراشٹروادی ہوں،نریندر مودی

یوں تو گجرات کے وزیر اعلی کبھی بھی تنازعوں سے اچھوتے نہیں رہے لیکن جب سے وہ تیسری بار گجرات اسمبلی چناؤ جیتے ہیں اور مرکزی اسٹیج پر آئے ہیں انہیں لیکر تنازعے اور بڑھ گئے ہیں۔ تازہ تنازعہ نریندر مودی کے ذریعے دیا گیا رائٹرز سماچار ایجنسی کو دئے گئے ایک انٹرویو کو لیکر ہے۔ بتاتے چلیں کے انہوں نے اس میں کیا کہا ہے۔ مودی کہتے ہیں کہ وہ پیدائشی ہندو ہیں اور انہیں ہندو ہونے پر فخر ہے۔ وہ ایک راشٹروادی ہیں اور ہندو ہیں، اس لئے وہ ہندو راشٹروادی ہیں۔اور یہ ہونا کوئی گناہ نہیں۔ وہ دیش بھکت ہیں اور ہر شہری کو دیش بھکت ہونا چاہے۔ انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کے کیا انہوں نے 2002 ء میں گجرات دنگوں کے دوران صحیح کام کیا تھا۔ اس پر ان کا جواب تھا کہ بالکل صحیح ۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے ذریعے بنائی گئی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے مجھے پوری طرح کلین چٹ دے دی ہے۔ اس سے پوچھا گیا ہے کہ کیا انہیں اس بات کو لیکر کوئی خفت ہوتی ہے کہ انہیں لوگ ابھی تک2002ء کے گجرات دنگوں سے جوڑتے ہیں؟ مودی نے کہا یہ جمہوری دیش ہے ہر کسی کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ میں اپنے آپ کو قصوروار محسوس کیسے کروں جب میں نے کچھ غلط کیا ہی نہیں۔ جو کچھ ہوا اس پر آپ کو دکھ ہے؟ اس سوال کے جواب میں مودی بولے اگر ہم کارچلا رہے ہوتے ہیں ہم ڈرائیور ہیںیا کوئی اور کار چلا رہا ہے اور ہم پیچھے بیٹھے ہیں تو بھی کسی’ پپی‘ (کتے کے بچے) کا پہئے کے نیچے آجانا تکلیف دہ ہوگا یا نہیں؟ایسا ہوگا چاہے میں وزیر اعلی ہوں یا نہیں میں ایک انسان ہوں۔ اگر کبھی کچھ برا ہوتا ہے تو دکھی ہونا فطری ہے۔ مودی کے اس بیان پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔
زیادہ تر تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ مودی نے کتے کے پلے کی مثال دے کر اقلیتوں کی بے عزتی کی ہے۔ انہوں نے اقلیتوں کا موازنہ کتے سے کیا ہے۔ حالانکہ مودی کے بیا ن کوتوڑ مروڑ کر پیش کیا جانے والا دیکھاجارہا ہے۔ لیکن میں مانتا ہوں کے بہتر ہوتا کے وہ اپنی بات کہنے کے لئے کوئی اور بہتر مثال دیتے۔ یہ مثال اچھی نہیں رہی لیکن جہاں تک فسادات کا سوال ہے تو یہاں پر2002ء کے فسادات کو تین چار زمروں میں دیکھا جانا چاہئے۔ پہلا کے یہ ایک ردعمل کی شکل میں فساد تھا کیونکہ27 فروری 2002ء کو سابرمتی ایکسپریس میں 59 کار سیوکوں کو زندہ جلایا گیا تھا اس کے ردعمل میں جھگڑے شروع ہوگئے اور فسادات میں کل1267 لوگ مارے گئے جن میں 740 مسلمان تھے اور 254 ہندو۔ فسادات کے بعد 27901 گرفتاریاں ہوئیں جن میں 7656 ہندو گرفتار ہوئے ۔249 مقدموں کو سزا ہوئیں۔ یہ سزا تب ممکن ہوئی جب ریاستی حکومت نے جانچ ایجنسیوں، عدالتوں کی پوری مدد کی۔ 
اب آپ اس کا موازنہ کرئیے 1984ء کے دہلی دنگوں سے۔ سورگیہ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد رد عمل میں سکھ مخالف دنگے بھڑکے۔ ان دنگوں میں پانچ ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ آج تک کوئی اہم شخص کو سزا تک نہیں ہوسکی۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ عدالت میں درجنوں جانچ ہوئیں، سپریم کورٹ نے باقاعدہ ایک جانچ کمیٹی ایس آئی ٹی بنائی ، اس ایس آئی ٹی نے مودی کو کلین چٹ دے دی۔ پھر آتی ہے بات سیاسی اشو کی۔ یوں تو مودی کو نیچا دکھانے کے لئے یہ اشو ان کے حریف ہمیشہ زندہ رکھیں گے لیکن اگر گجرات کی جنتا کی بات کریں تو فسادات کے بعد بھی مودی دو اسمبلی چناؤ جیت چکے ہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ گجرات کی عوام نے انہیں معاف کردیا ہے۔ ان سب کے باوجود اگر مودی افسوس ظاہرکررہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے لیکن جب ایجنڈا سیاسی ہے تو یہ سب بے معنی ہے۔ اشوز کو 2014ء تک زندہ رکھا جائے گا۔ 
ویسے ایک مثال دیتا ہوں۔ آپ سب نے ’شعلے‘ فلم دیکھی ہوگی۔ اس فلم میں اگر سب سے زیادہ کوئی چمکا ہے تو وہ ویلن امجد خاں۔ اس کی وجہ تھی کے ہیرو اس پر حملہ کررہے تھے۔ اس چکر میں وہ تو فلم کا ہیرو بن گیا اور تمام ہیرو نیچے آگئے۔ کہیں یہ قصہ نریندر مودی کے ساتھ نہ ہو۔ جس طرح سے چاروں طرف سے انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے کہیں یہ نہ ہو کے انہیں فائدہ ہوتا رہے اور باقی دھرے دھرائے رہ جائیں۔ شاید یہ ہی مودی چاہتے بھی ہوں گے۔ ان پر حملہ کرنے والوں کو سمجھنا چاہئے کے وہ مودی کی ہر بات پر ردعمل نہ کریں۔ انہیں زبردستی ہیرو نہ بنائیں۔ رہی بات ہندو ہونے کے فخرکی تو اس میں غلط کیا ہے۔ کیا ہندو ہونا اس دیش میں جرم ہے؟ ایسا ماحول بنایا جارہا ہے کہ اکثریتی طبقہ تو ویلن بن جائے۔ جب دیش کا وزیر اعظم کہے کہ دیش کی املاک وسائل پر پہلا حق اقلیتوں کا ہے تو وہ کونسی سیکولر ازم کی بات کررہے ہیں؟ 
بھارت میں سب برابر ہیں اور سبھی کو ایک نقطہ نظرسے دیکھا جائے چاہئے۔ ایک وقت ایک جیسا برتاؤ ہونا چاہئے۔ وسائل سبھی کے لئے برابر ہیں لیکن یوپی اے سرکار کی ووٹ بینک کی حکمت عملی نے دیش کو اندھیرے میں جھونک دیا ہے۔ عشرت جہاں انکاؤنٹر پر تو اتنی بحث ہورہی ہے لیکن اس بدقسمت پرگیا ٹھاکر کی کوئی بات نہیں کرتا جو این آئی اے کے حیوانوں کی مار سے مرنے کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ پچھلے تین چار سال میں اس بیچاری کے خلاف چارج شیٹ تک نہیں داخل ہوسکی ہے۔ اس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے ایک پرانی موٹر سائیکل کسی ثابت ہوئے مشتبہ کو بیچی تھی۔ اس سرکار کا یہ حال ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست کے چلتے انہوں نے دیش کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی این آئی اے ، آئی بی اور سی بی آئی کی جانچ کو آمنے سامنے لاکرکھڑا کیا ہے۔ بھلے ہی ایسا کرنے میں دیش کی سلامتی اور سالمیت کو کیوں نہ نقصان پہنچا رہے ہوں؟ بس کسی طرح ہندو دہشت گردی کو ثابت کرنا ہے۔
دیش کے کروڑوں اکثریتی اس سرکار کی خوش آمدی کی پالیسی سے عاجز آچکے ہیں۔ اگر مودی یہ کہتے ہیں کہ’ مجھے ہندو ہونے پر فخر ہے ‘ تو اس میں غلط کیا ہے؟
(انل نریندر)