Translater

‏RSS لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏RSS لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

27 مئی 2012

دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے


بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن گڈکری اورآر ایس ایس دونوں پرگجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی بھاری پڑ گئے۔ پارٹی کو سنگھ کے چہیتی سنجے جوشی کو بھاجپا ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے پہلے باہر کا راستہ دکھانا پڑا۔ مودی کے دباؤ میں گڈکری اور سنگھ سرخم دکھے۔ پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ مودی نے صاف کہا کہ اگر ورکنگ کمیٹی میں سنجے جوشی آئے تو وہ میٹنگ سے خود کو دور رکھنے کے لئے مجبور ہوں گے۔ گڈکری نے بدھوار کی شام فون سے بات کی تھی۔ گڈکری نے کور کمیٹی کی میٹنگ میں مودی سے بات چیت کی تفصیل رکھی۔ ذرائع کے مطابق کچھ سینئر لیڈر بھاجپا نیتا مودی کی دھمکی کو قبول کرنے کے خواہش مند نہیں تھے مگر گڈکری اور آر ایس ایس کے دباؤ کے چلتے سنجے جوشی کو دو لائن کا استعفیٰ فیکس سے بھیجنا پڑا۔ دراصل مودی اور گڈکری میں سودے کی خوشبو آرہی ہے۔ مودی نے شرط رکھی کے جوشی کو باہر کرو اور گڈکری نے شرط رکھی کے مجھے دوسری میعاد دینے کیلئے آپ حمایت کریں۔ اب لگتا ہے کہ گڈکری کی دوسری میعاد ملنے میں تمام رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں۔ انہیں اب دوبارہ صدر بنانا طے ہوچکا ہے۔ گڈکری کی تین سالہ میعاد25 دسمبر کو پوری ہونے جارہی ہے۔ اس تجویز کے لئے باقاعدہ بھاجپا کے آئین میں ترمیم کی گئی جسے عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے۔ پارٹی کے سابق صدر راجناتھ سنگھ نے رسمی طور پر میٹنگ میں صدر کی میعاد میں توسیع کے لئے ایک تجویز رکھی جس کی دوسرے سابق صدر وینکیانائیڈو توثیق کردی۔ جس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مرکزی لیڈرشپ میں جلدی ہی یہ منظور کرلی گئی۔یہ نہ تو بھاجپا کے لئے اچھا اشارہ ہے اور نہ ہی آر ایس ایس کے لئے۔ قومی پارٹی کی ساکھ کو لیکر جس بھاجپا کو قومیت اور ڈسپلن کے لئے جانا جاتا تھا اب وہ بے اصولی راستے پر چلتی نظر آرہی ہے۔ بھاجپا کی بونی ہوتی لیڈر شپ اور اس پر حاوی ہوتے ریاستی نیتا سنگھ کے لئے چنوتی بن گئے ہیں۔ راجستھان میں بیک فٹ پر وسندھرا راجے ،گجرات میں نریندر مودی، کرناٹک میں بی ایس یدی یروپا سے تو چنوتی مل رہی ہے وہ بھاجپا کو کانگریس کے متبادل کے طور پر ابھر نے میں آڑے آرہی ہے۔ بھاجپا صدر گڈکری کی میعاد کو بڑھا کر سنگھ بھاجپا پر اپنی پکڑ ضرور ثابت کرنا چاہ رہی ہے لیکن وہ شعور اور وہ استقبال نہیں نظر آرہا ہے جو بھاجپا میں پہلے ہوا کرتا تھا۔ بھاجپا کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے جب بھاجپا کو سنگھ کی جانب سے مقرر کرائے گئے شخص کو ہرانا پڑا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے سنگھ کی بھاجپا پر پکڑ کمزور ہوتی جارہی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ بھاجپا کے اوپر ایسے بھی لیڈر ہیں جو چاہتے ہیں کہ سنگھ کی بھاجپا معاملوں میں دخل اندازی کم ہو۔ پورے معاملے میں جہاں نریندر مودی کی جیت ہوئی ہے وہیں آر ایس ایس کی ایک معنی میں ہار بھی ہوئی ہے۔ اس سے نریندر مودی کا عہدہ اور قد بڑھے گا اور دنیا کے سامنے انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے۔
(انل نریندر)

13 اپریل 2012

کیا نریندر مودی پردھان منتری عہدے کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں؟



Published On 13 March 2012
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ملک کے اندر تو ان کی اتنی چرچا نہیں ہورہی جتنی غیر ملکوں میں۔ امریکہ کے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار سیمون ڈینار نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی 2014ء کے عام انتخابات کے بعد پردھان منتری عہدے کے سب سے مضبوط دعویدار ہوں گے۔ بھارت میں کافی لوگ انہیں رول ماڈل کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی نظر میں وہ ملک کے سب سے اہل نیتا ہیں۔ حالانکہ ایک بڑا طبقہ آج بھی انہیں مسلمانوں کے مجموعی قتل عام کے لئے معاف نہیں کرپایا ہے۔رپورٹ میں لکھا ہے کہ نریندر مودی کو بھارت کی سیاست میں قدآور نیتا مانا جاسکتا ہے۔ مودی کی رہنمائی میں گجرات جیسے راجیہ کو اقتصادیات کی نئی اونچائیوں کو چھوا ہے۔ لیکن وزیراعلی کی ہندو راشٹریہ وادی ساکھ سے کافی لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کی رہنمائی میں کٹر مذہبی طاقتوں کو فروغ ملے گا۔ جمہوریت کی پرانی سیکولر ساکھ کو دھکا لگ سکتا ہے۔ نریندر مودی کو راجیہ میں بھرشٹاچار ختم کرنے کے ساتھ اقتصادی اور انڈسٹری ڈولپمنٹ کو نئی رفتار دینے کا سہرہ جاتا ہے۔تیزی سے آگے بڑھتی گجرات کی اقتصادی حالت میں نہ صرف ملکی کمپنیاں بلکہ بڑی تعداد میں غیر ملکی کمپنیوں نے بھی گجرات میں سرمایہ کاری کی ہے۔ مودی کے تنقید کار بھی انہیں شخصی طور پر بھرشٹ نہیں مانتے۔سال 2014ء میں ہونے والے عام چناؤ کے بعد بھاجپا کی طرف سے وزیر اعظم کے سب سے مضبوط دعویدار ہوسکتے ہیں نریندر مودی۔
شری نریندر مودی کی اس طرح کی پروجیکشن سے جہاں مسلم برادری پریشان ہے وہیں ان کی اپنی پارٹی کے کچھ لوگ بھی خوش نہیں ہیں۔غیر مقیم ہندوستانیوں کے درمیان مودی کو مل رہے وسیع سمرتھن کے چلتے سنگھ پریوار کے اندر بھی تبصرے چل رہے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ سنگھ کی غیر مقیم ہندوستانیوں میں گہری پیٹ ہے۔ امریکہ، چین اور جاپان کا انڈسٹری حلقہ مودی کے ساتھ معیشت تعلقات کو بہتر بنانے میں لگا ہے۔ حالانکہ بھاجپا اور سنگھ کا ایک بڑا طبقہ مودی کو کنارے لگانے میں لگا ہے تاکہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں مودی وزیر اعظم عہدے کے امیدوار کی شکل میں طاقتور ہوکر نہ ابھرپائیں۔ اس لئے تنظیمی سطح پرمودی کی چھوی کھلنائک والی بنانے کی بھی کوشش ہورہی ہے۔ اور کچھ حد تک مودی خود ایسی چھوی بنانے کے لئے بارود دے رہے ہیں۔مثال کے طور پر اترپردیش اسمبلی چناؤ میں پرچار نہ کرنا اور دہلی میں ہوئی قومی عہدیداروں کی میٹنگ میں نہ آنا مودی کی تنظیم مخالف سرگرمیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ بہت سے بھاجپائیوں کا کہنا ہے کہ مودی اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر سمجھنے لگے ہیں۔ مودی کے دماغ میں اب غرور آگیا ہے۔ دنیا کے سو اثر دار طاقتور کے لئے کرائے جارہے ٹائمس رسالے کے سروے میں مودی نے اوبامہ اور ولادیمیر پوتن کو پچھاڑ دیا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار یعنی وزیر اعظم عہدے کے امیدوار ہوسکتے ہیں لیکن دیش ودیش میں ہورہے سروے میں مقبولیت کے حساب سے نتیش کمار نریندر مودی سے پیچھے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Modi, Narender Modi, Nitin Gadkari, Nitish Kumar, RSS, Vir Arjun

23 مارچ 2012

گڈکری کی ہٹّی پھل پھول رہی ہے، پارٹی جائے بھاڑ میں!



Published On 23 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ادھیکش نتن گڈکری کے کام کرنے کے طور طریقوں سے زیادہ تر بھاجپا نیتا راضی نہیں ہیں۔ گڈکری کو آر ایس ایس کا نمائندہ مانا جاتا ہے۔ وہ سنگھ کے سمرتھن سے ہی بھاجپا ادھیکش بنے۔ گڈکری ایک تاجر ہیں جو بھاجپا کو اپنی نجی دکان کی طرح چلا رہے ہیں۔ تازہ بوال راجیہ سبھا کی ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر ہے۔ راجیہ سبھا میں پارٹی کے صحیح امیدواروں کو درکنار کرنے اور مبینہ طور سے پیسے کے زور پر ٹکٹ دینے کے مدعے پر منگلوار کو بھاجپا ممبر پارلیمنٹ کی میٹنگ میں جم کر بوال ہوا۔ یشونت سنہا نے ایک تاجر انشومان مشرا کو سمرتھن دینے کو لیکر سیدھے پارٹی رہنمائی پر سوال اٹھادیا ہے۔ سنہا نے کہا کہ پارٹی ودھائکوں کو ہورس ٹریڈنگ کی منڈی میں نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس میں پارٹی کا انوشاسن بھنگ ہوتا ہے اور امیج خراب ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جھارکھنڈ میں موجودہ راجیہ سبھا چناؤ میں پالیسی کو نہیں بدلا گیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ زیادہ تر ممبر پارلیمنٹ ایم ایس اہلووالیہ کو دوبارہ جارکھنڈ سے ٹکٹ دینے پر ناراض تھے۔ بتاتے ہیں کہ اہلووالیہ پر سنگھ نے ویٹو لگادیا تھا۔میٹنگ میں ہماچل سے ممبر پارلیمنٹ شانتا کمار نے کہا کہ اہلووالیہ ایوان میں ایک اثردار نیتا ہیں اور انہیں ایک اور موقعہ ملنا ہی چاہئے تھا۔ نوادہ کے ممبر پارلیمنٹ بھولا سنگھ نے کہا کہ پارٹی کا ضمیر مر چکا ہے اور وہ پیسے کے سامنے جھک رہی ہے۔ بھاولا سے ممبر پارلیمنٹ مینکا گاندھی نے مرکزی رہنمائی سے کرناٹک کے سنکٹ کو ختم کرنے اور یدی یروپا کی مانگ پر دھیان دینے کی اپیل کی۔ اہلووالیہ کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ نہ ملنے سے کانگریس اور مایاوتی کی مراد پوری ہوگئی ہے۔ اہلووالیہ یوپی اے سرکار کو تمام مدعوں پر سب سے زیادہ گھیرتے رہے ہیں جن کی وجہ سے سرکار کئی بار پریشانی میں پڑی ہے۔مایاوتی بھی چاہتی تھیں کہ اہلووالیہ کا راجیہ سبھا سے پتا صاف ہوجائے تاکہ ممبر پارلیمنٹ نہ رہنے پر ان کو (اہلووالیہ) اپنا سرکاری بنگلہ 10 گورودوارہ رقاب گنج خالی کرنا پڑے۔ گڈکری چاہتے تو اہلووالیہ کو بھیج سکتے تھے انہیں جیتنے کے لئے بس11 ووٹ کی کمی پڑ رہی تھی جسے وہ جنتا دل (یو) سے پورا کرسکتے تھے لیکن گڈکری اور سشیل نے مل کر وہ سیٹ جنتادل (یو ) کے لئے چھوڑدی ۔جس پر بہار جنتا دل (یو) ادھیکش وششٹھ سنگھ نے نامزدگی کردی جبکہ اہلووالیہ نے اس سیٹ پر گڈکری سے پہلے سے ہی بات کررکھی تھی۔ ممبر پارلیمنٹ کی میٹنگ میں سب سے نازک حالت اڈوانی جی کی تھی۔ پوری میٹنگ میں وہ ایک تماشائی بنے رہے۔
ممبر پارلیمنٹ کے بغاوتی تیور کا اثر فوراً دیکھنے کو ملا۔ کہا جارہا ہے کہ جھارکھنڈ میں جب پارٹی راجیہ سبھا چناؤ میں اپنے ودھائکوں کو کسی آزاد امیدوار کے ووٹ دینے کے لئے دباؤ نہیں دے گی بلکہ کوشش ہورہی ہے کہ بھاجپا ودھائک چناؤ کا ہی بائیکاٹ کریں۔ ادھیکش نتن گڈکری نے اترپردیش ودھان سبھا چناؤ میں ہٹلری اسٹائل سے چناؤ مہم چلائی۔ سب سے پہلے گڈکری نے سپا کے سمرتھن کے بل پر پارٹی کے قد آور نیتا اور گجرات کے مکھیہ منتری نریندر مودی کی مخالفت کے باوجود سنگھ کے پرچارک رہے سابق سنگٹھن منتری سنجے جوشی کو یوپی چناؤ پرچار کا انچارج بنا دیا۔ دوسرا گڈکری نے سبھی پارٹی نیتاؤں کی مخالفت کے باوجود بسپا سے نکالے ہوئے بابو سنگھ کشواہا اور بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں شامل کیا۔
پارٹی نے بندیلکھنڈ سے جتنے بھی تجربے کئے سوائے اوما بھارتی کے سب فیل ہوئے۔ مسلم بھتوں کے پولارائزیشنکو روکنے کیلئے اپنے سبھی فائر برانڈ نیتاؤں ورون گاندھی،یوگی ادتیہ ناتھ کو جہاں اپنے حلقے تک محدود کردیا وہیں دوسری طرف ہندووادی چہرہ مانے جانے والے نریندر مودی کو دعوت نامہ بھیجا لیکن جب ان کی ناراضگی ظاہر ہوئی تو انہیں منانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔پارٹی کی سبھی کوششوں کے بعد بھی پارٹی مسلم بھتوں کا پولارائزیشنتو نہ روک سکی بلکہ اپنی اس کوشش میں اس نے اپنے روایتی ووٹ بھی گنوا دئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پارٹی 2007ء کا بھی مظاہرہ نہ دوہرا سکی۔ چاہے معاملہ اتراکھنڈ کا رہا ہو یا پنجاب کا دونوں ہی راجوں میں بھاجپا کی حالت خراب ہوئی ۔ گڈکری جب سے ادھیکش بنے ہیں بھاجپا کا گراف گرتا ہی جارہا ہے لیکن اس میں نتن گڈکری کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ تو پارٹی کو بطور ہٹّی (دکان) چلا رہے ہیں۔جس کا واحد مقصد ہے پیسہ بنانا اور یہ کام وہ بخوبی کررہے ہیں۔ گڈکری کی ہٹّی تو پھل پھول رہی ہے ،پارٹی جائے بھاڑ میں۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, BJP, Daily Pratap, Jharkhand, Narender Modi, Nitin Gadkari, RSS, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Varun Gandhi, Vir Arjun

10 مارچ 2012

بھاجپا کیلئے نتیجے زیادہ غم خوشی کم لیکر آئے ہیں



Published On 10 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ تھوڑی خوشی اور زیادہ غم لیکر آئے ہیں۔ خوشی کی وجہ یہ ہے گووا کا نتیجہ۔ گووا میں بھاجپا اور مہاراشٹر وادی گومنتک پارٹی کو واضح اکثریت مل گئی ہے۔ بھاجپا میں پہلی بار خوبصورت ساحلوں والی اس ریاست میں 21 سیٹیں جیت کر اکیلے اپنے دم خم پر اکثریت حاصل کی ہے۔ گووا میں بھاجپا کی اس کامیابی کے لئے اصل ہیرو سابق وزیر اعلی پاٹیکر ہیں۔چناوی کمان انہیں کے ہاتھوں میں تھی۔ گووا میں میری رائے میں ایک بہت بڑا کارنامہ بھاجپا کا یہ ہے کہ اس نے اقلیتوں کی حمایت سے اقتدار حاصل کیا ہے۔ گووا کے عیسائیوں نے یہ ثابت کردیا ہے بھاجپا ان کے لئے اچھوت نہیں ہے۔ جنوبی گووا کی 17 میں سے8 سیٹیں پارٹی ان حلقوں میں جیتی ہے جہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ بھاجپا نے خود 6 عیسائی امیدوار کھڑے کئے تھے اور 2 آزاد کی حمایت کی تھی۔ سبھی آٹھوں امیدواروں جیتے ۔ پارٹی کو سب سے بڑا جھٹکا اترپردیش میں لگا ہے۔ ریاست میں چناؤ نتائج بھاجپا کو 2014 ء میں مرکز تک این ڈی اے سرکار بنانے کی امیدوں پر بڑا جھٹکا ثابت ہوئے ہیں۔ بھاجپا اترپردیش کے اسمبلی چناؤ میں بوئے گئے بیج سے مرکز میں 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں کامیابی حاصل کرنے کا اندازہ لگا رہی تھی لیکن نتیجے آئے اس سے مایوس کن اور پریشانی ہی ہاتھ لگی۔ اترپردیش پھر ایک بار تاملناڈو کی راہ پر چلا گیا ہے جہاں قومی پارٹی کا کردار بے جواز ہوکر رہ گیا ہے۔ بھاجپا اور آر ایس ایس کی چناوی لیباریٹری بنے یوپی انتخابات میں جہاں ایک ایک کرکے سبھی تجربوں کو دھکا لگا ہے وہیں پارٹی کے کئی لیڈروں کو دھول چٹانے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ ناراض ووٹروں کو منانے کا ذمہ آر ایس ایس اور صدر نتن گڈکری نے مل کر اٹھایا تھا۔ سب سے پہلے گڈکری نے سنگھ کی حمایت کی بدولت پارٹی کے بڑے لیڈر اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی مخالفت کے باوجود سنگھ کے پرچارک رہے سابق تنظیمی سکریٹری سنجے جوشی کو یوپی کے چناؤ میں سرگرم کیا۔ دوسرا نتن گڈکری نے سبھی پارٹی نیتاؤں کی مخالفت کے باوجود بسپا سے نکالے گئے بابو سنگھ کشواہا اور بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں شامل کیا۔ بڑھتی ناراضگی کے چلتے کشواہا کی ممبر شپ تو معطل کردی گئی لیکن کرپشن کے دوسرے ملزم بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں بنائے رکھا بلکہ ان کو مہوبہ سے چناؤ میدان میں اتاردیا۔ پارٹی نے بندیلکھنڈ کو لیکر جتنے بھی تجربے کئے سوائے اس میں ایک اما بھارتی کے علاوہ کوئی نہیں جیت سکا۔ مسلم ووٹروں کے پولارائزیشن کو روکنے کے لئے اپنے سبھی فائر بینڈ لیڈروں ورون گاندھی، یوگی ادتیہ ناتھ کو جہاں اپنے حلقے تک محدود کردیا وہیں دوسری طرف ہندو وادی چہرہ مانے جانے والے نریندر مودی کو دعوت تو بھیجی لیکن جب ان کی ناراضگی ظاہر ہوئی تو انہیں منانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ پارٹی کی سبھی کوششوں کے بعد بھی پارٹی مسلم ووٹوں کو بٹوانے میں کامیاب نہ ہوسکی بلکہ وہ اپنی اس کوشش میں اپنے روایتی ووٹ بھی گنوا بیٹھی جس کے چلتے پارٹی کو 2007ء کی کارکردگی کو دوہرانا تو دور رہا بلکہ اس سے بھی کم ہوگئی۔ ایودھیا میں 6 دسمبر1992ء کے متنازعہ ڈھانچہ گرنے کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کا امیدوار للوسنگھ سپا کے تیج نارائن پانڈے عرف پون پانڈے سے ہار گیا۔ للو سنگھ 1991ء سے مسلسل یہ سیٹ جیت رہے تھے۔ اترپردیش کے لئے امیدوارں کا چناؤ بھی آر ایس ایس گڈکری اور سنجے جوشی نے کیا تھا۔ انہوں نے ایسے پھسڈی امیدوار کھڑے کئے جنہوں نے نہ صرف پارٹی کی بھد پٹوائی بلکہ مقابلے میں نہ رہ کرچوتھے میدان پر رہے۔ اور بہت سے امیدواروں نے اپنی ضمانت تک گنوا دی۔ 122 ایسے امیدوار ہیں جو چار مقابلوں کی لڑائی میں جگہ تک نہیں بنا سکے۔ بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے یوپی کے اندر تبدیلی کے لئے لمبی تیاری کی تھی۔ پارٹی کے اندر پرانا روایتی رویہ رکھنے والے امیدواروں کی بجائے نئی نسل کے امیدواروں کو لانے کا تجربہ کیا گیا۔ یہ ہی نہیں گڈکری اینڈ کمپنی نے الگ سروے کرایا جس سے کہ اول امیدوار کا انتخاب ہوسکے۔ چناؤ کے بعد جو حالت بنی ہے اس میں بھاجپا کے چوتھے مقام پر قریب 122 امیدوار رہے جن میں سے زیادہ تر اپنی ضمانت بچانے کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔ کئی امیدوار تو ایسے تھے جن کو پانچ ہزار ووٹ لانے کے لالے پڑ گئے۔ اترپردیش میں بھاجپا حاشئے پر چلی گئی اور اس کے لئے ذمہ دار ہیں آر ایس ایس، نتن گڈکری اور سنجیو جوشی جیسے بڑے نیتا۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Elections, Goa, Nitin Gadkari, Punjab, RSS, Sanjay Joshi, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

09 فروری 2012

کیا جنرل سنگھ کے خلاف حکمت عملی کے تحت سازش رچی گئی؟



Published On 9th February 2012
انل نریندر
بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی عمر کے تنازعے کے پیچھے کیا اقتدار میں بیٹھے کچھ لوگوں نے سازش رچی تھی؟ کم سے کم آر ایس ایس کے مطابق تو یہ سارا تنازعہ ایک حکمت عملی کے تحت کھڑا کیا گیا ہے۔ آر ایس ایس نے اپنے اخبار آرگنائزر میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے مطابق اقتدار میں بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں نے جنرل وجے کمار سنگھ کو وقت سے پہلے ریٹائرڈ کرنے کی سازش پچھلے سال ہی تیار کرلی تھی۔ سنگھ نے اخبار آرگنائزر کے ذریعے سے فوج کے سربراہ کی کھل کر حمایت کی ہے اور ان کے خلاف سرکار کے سخت رخ کو جنرل سنگھ کی ایمانداری کا نتیجہ بتایا ہے اور کہا کہ کانگریس پارٹی کے لئے وہ ڈیفنس سودے میں آڑے آرہے ہیں۔ فوج کے سربراہ کے خلاف سرکار کے اندر اور باہر خاص طور سے کانگریس پارٹی کے اندر بیٹھے لوگوں کی سازش کا یہ دعوی ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ نے عمر کے تنازعے پر ان کی عرضی پر سرکار کو اپنا حکم واپس لینے کو کہا ہے۔ قانونی ماہرین اور واقف کار ذرائع نے اس بات کاپختہ امکان ظاہر کیا ہے کہ سرکار اپنا 30 دسمبر کا وہ حکم واپس لے لے گی جس کے ذریعے وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی نے فوج کے سربراہ کی آئینی عرضی کو مسترد کردیا تھا۔ وزیر دفاع کے ذریعے اپنی شکایت خارج ہونے پر ہی جنرل سنگھ نے 16 فروری کو سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جس کی سماعت ہورہی ہے۔ سازش کے پہلو کی بنیاد کو گناتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ اقتدار میں سینئر عہدے پر بیٹھے لوگوں نے طے کیا کہ جنرل سنگھ کی جگہ اپنا آدمی معمور کرنا چاہئے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ یوپی اے محاذ حکومت کے عہد میں بڑی تعداد میں ہوئے ڈیفنس سودوں کو اس تنازعے سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی ایمانداری سرکار کے اندر اور باہر اور کانگریس پارٹی کے ڈیفنس سودے کرنے والوں کو راس نہیں آرہی تھیں۔ 'واٹ اے شیم ڈاکٹر سنگھ 'کے عنوان سے اداریہ میں سنگھ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی خاموشی بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سنگھ نے صدر اور دیش کے سپریم کمانڈر سے درخواست کی ہے کہ انہیں مشکل کے اس دور میں وزیر اعظم کے سامنے اپنے من کی بات رکھنی چاہئے۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ جب عزت پر کیچڑ اچھالی جارہی ہو تو چپ رہنا ٹھیک نہیں ہوتا۔ جنرل وی کے سنگھ نے آواز اٹھا کر ٹھیک ہی کیا ہے۔ جس طرح کا رد عمل ان کے قدم پر سامنے آیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں ،سارا دیش ان کے ساتھ ہے۔ پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ ہماری تشویش سرکار کے فیصلے کو لیکر نہیں ہے بلکہ تشویش فیصلے لینے کے عمل کو لیکر ہے جو غلط ارادے سے لیا گیا لگتا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جنرل سنگھ کی شکایت کو سرکار نے غور کے لائق نہیں مانا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس سپریم کورٹ جانے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا تھا۔ سنگھ کے الزامات میں کتنا سچ ہے یہ تو سرکار ہی بہتر جانتی ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ معاملہ بڑی آسانی سے سلجھ سکتا تھا۔ جنرل سنگھ کی پیدائش آرمی ہسپتال میں اگر ہوئی تھی تو اس ہسپتال سے تاریخ پیدائش کیوں نہیں پوچھ سکتے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, General V.k. Singh, RSS, Supreme Court, Vir Arjun

07 اکتوبر 2011

ایک بار پھر انا ہزارے اور کانگریس آمنے سامنے



Published On 7th October 2011
انل نریندر
سماجی کارکن انا ہزارے نے سخت الفاظ میں کانگریس کو وارننگ دے ڈالی ہے ۔ سدھی رالے گن میں خطاب کرتے ہوئے انا نے کہا اگر مرکزی حکومت پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں جن لوک پال بل پاس کرنے میں ناکام رہی تو حکمراں کانگریس پارٹی کو پانچ ریاستوں میں ہونے جارہے چناؤ میں زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انا ہزارے نے حصار ضمنی چناؤ کو اپنی اس مہم کا پہلا مرحلہ قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ ہریانہ کے حصار لوک سبھا کے ضمنی چناؤ حلقے میں ووٹروں سے اپیل کریں گے کے کانگریس امیدوار کو ووٹ نہ دیں کیونکہ پارٹی جان بوجھ کر جن لوک پال بل پارلیمنٹ میں نہیں لا رہی ہے۔ حصار میں13 اکتوبر کو ضمنی چناؤ ہونا ہے۔اپنے گاؤں میں اخبار نویسوں سے خطاب میں انا نے کہا ہم لوگوں سے یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ انہیں کس کو ووٹ دینا چاہئے ہم لوگوں سے کانگریس کو چھوڑ کر کسی بھی پارٹی کو ووٹ دینے اور صاف ستھرے کردار والے امیدوار کو چننے کو کہیں گے۔ انا ہزارے نے یہ بھی اعلان کیا کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ شروع ہونے سے تین دن پہلے لکھنؤ میں چار دن کا انشن کریں گے۔ ادھر ٹیم انا نے سرکار و پارلیمنٹ پر جن لوک پال بل کے حق میں دباؤ بڑھانے کے مقصد سے گاندھی جینتی کے موقع پر دیش بھر میں بل پر ریفرنڈم کرانے کی مہم شروع کردی۔ اس عوامی ریفرنڈم میں صرف دو سوال پوچھے جارہے ہیں پہلا کیا ان کے حلقے کے ایم پی اور ان کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں انا کے جن لوک پال بل کی حمایت کرنی چاہئے یا نہیں۔ دوسرا یہ کہ اگر ان کے حلقے کے ایم پی نے پارلیمنٹ میں انا کے جن لوک پال بل کی حمایت نہیں کی تو کیا آپ اگلے چناؤ میں اس ایم پی یا اس کی پارٹی کو ووٹ دیں گے یا نہیں۔ اس مہم کے آغاز کے لئے اترپردیش کے بڑے لیڈروں کے چناؤ حلقوں کو چنا گیا ہے۔ جن میں کانگریس صدر سونیا گاندھی ، کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی، بھاجپا نیتا راجناتھ سنگھ، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی اور سپا کے ملائم سنگھ یادو شامل ہیں۔ گاندھی جینتی پر جن علاقوں میں ریفرنڈم کا آغاز کیا گیا ہے ان میں غازی آباد، کوشامبی، حمیر پور، مین پوری، رائے بریلی، امیٹھی، وارانسی، لکھنؤ اور امبیڈ کر نگر شامل ہیں۔
کانگریس میں انا کی وارننگ کا کتنا اثر پڑا یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ پارٹی نے انا پر جوابی حملہ کرنا شروع کردیا ہے۔ارلیمانی وزیر پون بنسل نے کہا آپ کسی کی گردن پر پستول رکھ کر کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی جن لوک پال بل پر غور کررہی ہے اور اس پر ممبران کے نظریات لے رہی ہے۔ بنسل نے کہا بل کو آنے والے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش کی جائے گی لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کمیٹی کتنا کام کرنے میں اہل ہے۔
کمیٹی میں سبھی پارٹیوں کے ممبر ہیں اور انہیں مختلف لوگوں سے نظریات مل رہے ہیں جو اس کے سامنے آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر کمیٹی طے وقت میں اپنی رپورٹ دینے میں کامیاب ہوگی تو اگلے اجلاس میں بل کو پیش کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے انا کے اعلان کے جواب میں کہا کہ اگر آپ کرپشن سے لڑنا چاہتے ہیں تو آپ کو سیاست میں اترنا پڑے گا۔ جمہوری طریقے سے ہی سسٹم کو درست کیا جاسکتا ہے۔ جنرل سکریٹری اور میڈیا محکمے کے انچارج جناردن دویدی نے کہا کہ انہیں دیش کے مجموعی ضمیر جس کی نمائندگی پارلیمنٹ کرتی ہے اس پر پورا بھروسہ رکھنا چاہئے اور ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے جس سے ان کے اشو کا کوئی سیاسی مفاد کے لئے بیجا استعمال کرے۔ دویدی نے کہا کہ پارلیمنٹ سے جو لوک پال بل سامنے آئے گا وہ اثر دار ہوگا اور اسے لیکر انہیں پہلے کوئی رائے نہیں بنا لینی چاہئے۔ انا ہزارے ایک منجھے اور تجربہ کار شخص ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں جمہوریت اور اس کے تقاضوں پر بھروسہ ہے۔
انا کی وارننگ اور کارروائی سے اترپردیش اور ہریانہ میں اثر ہونا فطری ہے۔ اس سے کانگریس کی پریشانی یقینی طور سے بڑھے گے تو ضرور۔ پردیش پردھان ڈاکٹر ریتا بہوگنا نے کہامجھے انا کا بیان تو معلوم نہیں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ سب کا نشانہ کانگریس کی طرف ہی کیوں ہے چناؤ تو چناؤ ہے دیکھا جائے گا۔
ٹیم انا کے اہم ساتھی اروند کیجریوال کے آبائی حلقے حصار میں بھی انا کے اعلان کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ شہر کے بنگلوں سے لیکر گاؤں دیہات کے چودھری انا کے اعلان پر غور و خوض کرنے لگے ہیں۔ ان سب کے درمیان یہ سوال بڑا ہے کہ ایماندار، اچھا، شفاف امیدوار کسے چنیں؟ دیہاتیوں کا کہنا ہے یہ معاملہ تو مشکل ہے کسے ووٹ دینا ہے۔ایسے میں اچھا برا چھانٹنا پڑے گا۔ انا 9 یا10 اکتوبر کو حصار آنے والے ہیں۔ امیدواروں پر نظر ڈالیں تو سبھی پر کچھ نہ کچھ الزام ہے۔ حالانکہ انا نے کانگریس کا بائیکاٹ کرنے کو کہا ہے لیکن حصار کے لوگوں نے امیدوار جے پرکاش کو بھی پلڑے میں رکھ لیا ہے۔ کہتے ہیں یہ امیدوار تین بار ایم پی بن چکا ہے لیکن ہر بار الگ الگ پارٹی کا ممبر بنا۔ دیگر الزام بھی لگتے رہے ہیں۔ دوسرے امیدوار ہریانہ جن شکتی کانگریس بھاجپا کے کلدیپ بشنوئی کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے پانچ ممبران اب کانگریس میں ہیں،نے الزام لگا دئے ہیں کہ یہ ان کو بیچنے کا سودا کررہے تھے۔ تیسرے امیدوار انڈین نیشنل لوک دل سے اجے سنگھ چوٹالہ ہیں۔ ان کے بارے میں دوسری پارٹی کے لوگ آمدنی سے زیادہ اثاثہ رکھنے کے معاملے میں قصوروار ہونے کی بات کہتے ہیں۔ لیکن اپنا خیال یہ ہے کہ مقابلہ اجے چوٹالہ۔ کلدیپ بشنوئی کے درمیان ہے۔ جے پرکاش تیسرے نمبر پر چل رہے ہیں۔
بھاجپا کو انا ہزارے کی کانگریس مخالفت تو راس آرہی ہے لیکن گجرات میں اپنی سرکار کے خلاف انا کے تیوروں نے اسے بغلیں جھانکنے کے لئے مجبور کردیا ہے۔ پارٹی نے حالانکہ انا اور اپنے بیچ کسی طرح کا تال میل ہونے سے صاف انکار کردیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان نرملا سیتا رمن نے کہا کہ انا اور بھاجپا دونوں ہی کانگریس کے خلاف اس لئے ہیں کیونکہ کانگریس پوری طرح سے کرپٹ ہوچکی ہے۔
انا ہزارے کی تحریک کو بھاجپا بھلے ہی سیاسی طور سے بھنانے کی کوشش کرے لیکن انا مسلسل کہہ رہے ہیں بھاجپا اور آر ایس ایس ان کی تحریک سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اب انہوں نے گجرات میں آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کی گرفتاری کی مخالفت کرکے صاف کردیا ہے کہ آنے والے دنوں میں انا ہزارے اور کانگریس کے درمیان لفظی جنگ تیز ہوسکتی ہے۔ انا کی اپیل کا پہلا ٹیسٹ حصار لوک سبھا ضمنی چناؤ میں ہوسکتا ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Congress, Corruption, Daily Pratap, Lokpal Bill, Uttar Pradesh, Vir Arjun, RSS, BJP,

13 ستمبر 2011

جن لوک پال بل کی مخالفت کس کے اشارے پر؟




Published On 13th September 2011
انل نریندر
رام لیلامیدان میں کامیاب تحریک کے بعد بدعنوانی کی لڑائی پر آگے کی حکمت عملی طے کرنے اناہزارے کے گاؤں رالے گن سدھی میں ٹیم انا کی کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ دوروزہ اس میٹنگ میں انا کے علادہ ارون کیجریوال ،پرشانت بھوشن، سنتوش ہیگڑے، کرن بیدی، میدھا پاٹیکر سمیت کور گروپ کے سبھی سینئر ممبروں نے شرکت کی۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیجریوال نے کہاکہ ’’آندولن کی طرف سے اناہزارے وزیراعظم کو خط لکھیں گے۔ ان میں ممبران پارلیمنٹ کی کارگزاری کا سالانہ لیکھاجوکھا کرانے ، خارج کرنے کاحق، واپس بلانے کا حق اور زمین تحویل بل پر اپنے خیالات ظاہر کریں گے‘‘ اس کے ساتھ ہی ہزارے نے لوگوں سے ان سبھی پارٹیوں پر نظر رکھنے کو کہا جو کہ جن لوک پال بل کی مخالفت کررہی ہیں۔ انہوں نے اس بل کی مخالفت کررہے ممبران پارلیمنٹ کاگھیراؤ کرنے کی اپیل بھی کی۔ انا نے میٹنگ میں جانے سے پہلے میڈیا سے کہاکہ ہمیں اس بل کے خلاف جانے والی سبھی سیاسی پارٹیوں اور لوگوں پر توجہ دینی چاہئے ۔جن لوک پال بل کی مخالفت کررہے ممبران اور ان کی ٹیم کے ممبروں کو نشانے بنانے والے لوگوں کو لے کر دکھ ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بل کی مخالفت کررہے سبھی ممبران کے گھروں کو ہمیں گھیرنا چاہئے۔ ہمیں یہ یقینی کرناہوگا کہ جب تک یہ بل پارلیمنٹ میں پاس نہیں ہوجاتا ہے جب تک ہم یہ تحریک ختم نہیں کرنے دیں انہوں نے خبردار کیاکہ اگر مرکزی حکومت بل کو پاس کرنے میں کوئی تاخیر کرنے کی کوشش کریں گی تو جنتر منتر پر ایک اور تحریک چھیڑیں گے۔
اس دوران مرکزی حکومت نے انا کے خلاف کئی مورچے کھول دیئے ہیں۔ ایک طرف سرکار ٹیم انا کے ممبران کو انکم ٹیکس محکمے نے نوٹس تھما دیئے ہیں۔تو دوسری طرف رام لیلا میں بیان بازی کی بنیاد پرٹیم انا کو کئی ممبران پارلیمنٹ کے ذریعہ تحریک استحقاق کا نوٹس بھی دے دیا گیاہے۔ کل تک اناکی حمایت کررہے کانگریس ممبران پروین سنگھ نے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ لوک سبھااسپیکر میرا کمار کولکھے خط میں ایرن نے کہا کہ ٹیم کی انا کی چنوتی کا مناسب جواب جنتا میں جا کر دیں گے۔ کیونکہ ان کے ارادے ٹھیک نہیں ہے۔ ٹیم انا ملٹی نیشنل کمپنیوں وکسی پارٹی کے لئے سیاسی مفاد حاصل کرنے کاکام کررہی ہے۔ جب کہ یہ لوگ جنتا کے درمیان بھی جانے کی بات کررہے ہیں۔ ایرن نے خط میں لکھاہے کہ ٹیم انا کے ممبر کرن بیدی ، ارون کیجریوال اورپرشانت بھوشن کاارادہ اورایجنڈا نیک نہ ہو کر اوچھی سیاست پر مبنی ہے۔ یہ لوگ کانگریس اور حکومت کو بدنام کرنے میں لگے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جنتا کی آواز اٹھانے کے نام پریہ لوگ اپنے یا کسی اورسیاسی صنعتی یا ملٹی نیشنل کمپنی کے ناجائز مفاد کی تکمیل کی مہم پر ہے۔یہ لوگ سماج اور انتظامیہ میں پیدا کرپشن سے دوچار عوام کی دلی خواہش کا غیراخلاقی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ادھر دلت تنظیموں نے بھی انا کے عوامی جن لوک پال بل کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔دلت تنظیم اسے بے لگام ،آئین اور پارلیمنٹ مخالف بتا کر ریاستی سطح کی مہم چھیڑنے کی تیاری میں ہے۔ اس مہم کے پیچھے منصف اور دلت ٹوڈے کے مدیر ایس کے پنجم ہیں۔پچھلے دنوں اترپردیش کے سسیگھولی تحصیل ہیڈ کوارٹر پر بام سیف، ڈاکٹر امبیڈ کر وچار منچ، انصاف دلت ایکشن فورم، ارجک سنگھ، شوشت سماج دل، یادو مہاسبھا وغیرہ تنظیموں نے ایک کانفرنس کرکے جن لوک پال کے خلاف تحریک کااعلان کیا ہے۔ مدرارکشس نے اس سلسلے میں بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ جن لوک پال بھارتیہ سورن اور درمیانے طبقے کاایجنڈا ہے جو انتہائی جدید طور پر سنگھ کی فرقہ وارایت کو ا پنے میں سمیٹے ہوئے ہیں۔
دلت ایشیا کے مدیر ایس کے پنچم نے بتایاکہ جن لوک پال سورن ہندو ایک نیتا پینترا ہے۔ جن لوک پال بھارتی آئین، پارلیمنٹ پر سورن بالا دستی کا حملہ ہے انہوں نے کہاکہ لوک پال چاہے سرکاری ہو یاسول سوسائٹی کا دونوں مندروں اور ٹرسٹوں میں پیدا کرپشن کو اپنے دائرے میں لانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ کانگریس جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ پہلے ہی ٹیم انا کو نشانے بنا رہے ہیں۔ کیجریوال کو انکم ٹیکس کانوٹس ملنے پر دگ وجے سنگھ نے کہاکہ یہ نوٹس تو انہیں2005میں جاری کیا گیا ہے۔ بقول دگ وجے ان پر نہ صرف سرکاری سروس قاعدے توڑنے کاالزام ہے۔ بلکہ سیاست میں شامل ہونے اور این جی او کے ذریعے کروڑوں روپے کمانے کاالزام ہے۔ کیجریوال نے جواب دیتے ہوئے دگ وجے کو کہاکہ اگر میں نے کروڑوں روپے کا گھپلہ کیاہے ان کی پارٹی کی سرکار ایف آئی آر درج کیوں نہیں کراتی۔ کل ملا کر کانگریس ٹیم انا کے راستے میں روڑے اٹکانے سے باز نہیں آرہی دیکھنا یہ ہے کہ ٹیم انا آگے کا راستہ کیسے طے کرتی ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Daily Pratap, Digvijay Singh, Lokpal Bill, RSS, Vir Arjun

19 جون 2011

کیا اتنے مناسب ماحول کا بھاجپا فائدہ اٹھا پائے گی؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
19 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
کسی بھی اپوزیشن پارٹی کے لئے نہ تو یوپی اے حکومت سے بہتر اور کوئی حکمراں سرکار ہوسکتی تھی اور نہ ہی اتنی خراب ہے سیاسی ماحول جتنا منموہن سنگھ سرکار نے کردیا ہے۔ کوئی بھی اپوزیشن پارٹی ایسے سیاسی ماحول کا انتظار کرتی رہتی ہے جب اتنی متنازعہ مرکزی حکومت ہو جتنی یہ حکومت ہے اس حکومت نے دیش کو کیا نہیں دیا ؟ بڑھتی مہنگائی بڑھتی قیمتیں ایک کے بعدایک گھوٹالہ اور دہشت گردی جیسے برننگ اشو پر ٹال مٹول کی پالیسی، نکسلیوں سے لڑنے کا قوت ارادی، تاناشاہی رویہ وغیرہ وغیرہ۔ کہنا کامطلب ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی وہ بڑی پارٹی ہے وہ اس سے بہتر سیاسی ماحول کی امید نہیں کرسکتی تھی۔ حود بھاجپا نیتا ارون جیٹیلی فرماتے کہ کانگریس لیڈر شپ والی مرکزی حکومت کو سیاست داں نہیں بلکہ افسر شاہی چلارہی ہے۔ آزادی کے بعد سے اتنی بدعنوان، نکمی اور کٹر حکومت جنتا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ یہ سرکار اپنے پانچ سال پورے نہیں کرپائے گی کیونکہ اب جنتا کانگریس سرکار کو پھوٹی آنکھ میں نہیں بھارہی ہے۔ یہ سخت تذکرہ اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے پردیش بھاجپا کی جانب سے منعقدہ سنگھرش کے ایک سال پروگرام میں حال ہی میں کیا تھا۔ جیٹیلی نے کہا کہ بھاجپا کو تحریک چلانے کا شوق نہیں ہے لیکن منموہن سنگھ سرکار ایک کے بعدایک سنگین غلطیاں کررہی ہے کہ بھاجپا کو سڑک پر اترنے کے علاوہ کوئی راستہ اس کے پاس نہیں تھا۔ دیش کو ایسا وزیراعظم چلارہاہے جو ایک کٹ پتلی ہے ۔ پردہ کے پیچھے اقتدار کی بھاگ دوڑ دوسرے کے ہاتھوں میں ہے ۔تاریخ میں ایسا کئی دیکھنے کو نہیں ملتا جہاں سورہے ہزاروں نہٹے لوگوں پر رات کی تنہائی میں پولیس ٹوٹ پڑتی ہے بچوں اورعورتوں پر لاٹھیاں برسائے جائے۔ آنسو گیس کے گولے چھوڑے جائے۔ ارون جیٹیلی نے اس سرکار کوہیٹ لیس چکن کہاہے کہ اس کا مطلب ہے کہ اس سرکار کا کوئی سر پیر نہیں ہے کوئی وارث نہیں ہے۔
اب منموہن سنگھ سرکار کی جو رپورٹ جیٹیلی صاحب نے پیش کی ہے وہ بہت بڑی حد تک صحیح لگتی ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب منموہن سنگھ سرکار کی بری حالت بن گئی ہے تو اس کا سیاسی فائدہ بڑی اپوزیشن پارٹی کے ناتے بھاجپااٹھاپارہی ہے۔؟ ہم نے دیکھا بھاجپااپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن کاکردار صحیح طریقہ سے نہیں نبھا پائی۔ میں یوپی اے 1- ایک کی بات کررہا ہو۔ جب بھاجپا نہیں لیفٹ پارٹیاں بڑی اپوزیشن کا کردار بہتر طریقہ سے نبھا رہی تھی۔ یوپی اے 2میں کامریٹ موجود نہیں ہے سارا اپوزیشن کادارو مدار بھاجپا پر ہوتا ہے لیکن ایمانداری سے بھاجپانیتاؤں کو سوال کرناہوگا کہ وہ کیوں نہیں حالات کافائدہ اٹھاپارہے ہیں؟کیا وجہ ہے کہ اتنا مناسب ماحول ہونے کے بعد بھی جنتا میں وہ اتنا بھروسہ پیدا نہیں کرپائی کہ جنتا انہیں مرکز میں دوبارہ سے اقتدار سونپنے کی ہمت دکھائے۔؟ اس میں کوئی شک نہیں ریاستوں میں بھاجپا کی سرکاریں اچھاکام کررہی ہے ان کی ساکھ بھی اچھی ہے اور جنتا سے کہنے کو کہہ سکتے ہیں کہ مرکز میں اچھااقتدار دیے سکتے ہیں۔ ایک بار ہمیں موقعہ ضرور دے ۔ ریاستوں میں اگر بھاجپا سرکاریں اچھاکام کررہی ہے تواس کی بنیادی وجہ ہے ہرریاست میں ایک مضبوط وزیراعلی ہے اور اسی وزیراعلی کے رہتے اس کی وجہ سے ریاست میں اچھی حکومت چل رہی ہے۔ گجرات میں نریندر مودی، مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان، اتراکھنڈ میں رمیش چند پوگھیریال اور ہماچل میں پریم کمار بھومل وغیرہ ان کی شخصیت اور ساکھ اور کارگزاری اوران کے اقتدار کی اہم خوبیاں ہیں۔ جن کی وجہ سے مرکزی لیڈر شپ ہے۔ مرکز میں تو بھاجپا لیڈر شپ نہ کے برابر ہے۔ دکھ سے کہن اپڑتا ہے کہ یہ دوسری صف کے نوجوان لیڈر آپس میں ہی ایک دوسرے کی کاٹ کرنے سے باز نہیں آتے ان کی نظرو ں میں پارٹی کی کوئی اہمیت ہے اورنہ ہی اس بات کی پرواہ وکر کیا سوچتا ہے۔ جنتا کی بات تو چھوڑوں۔ ان کے اپنے اپنے نجی ایجنڈے پارٹی ایجنڈے سے بالاتر ہے نجی خواہشات ہے اور جو ان کے آڑے آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ اتنااچھا ماحول ہونے کے باوجود جنتا میں بھروسہ نہیں کرپارہی ہے جو انہیں کرناچاہئے۔ اٹل جی اور اڈوانی کی رہنمائی میں بھاجپانے جو سنہرے دور دیکھا ان کے رہتے پارٹی ہوا کرتی تھی۔ اور ان کی اپنی ساکھ تھی ورکروں سے وہ جڑے ہوئے تھے جنتا کی نبض کو سمجھتے تھے لیکن آج کی لیڈر شپ اپنے ایئرکنڈیشنوں کے کمرے میں ہی بیٹھ کر اپنے ہی گن گان کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ لیکن سچائی بھی یہ ہے کہ آج بھارت کی عوام کو سبھی سیاسی پارٹیوں سے نیتاؤں سے بھروسہ اٹھ گیا ہے ان کی نظر میں سبھی برابر ہے یعنی ایک حمام میں سبھی ننگے ہے۔ وہ بھاجپاسے جاننا چاہتے ہیں۔ جو مسائل آج دیش کے سامنے ہے منہ پھاڑ رہے ان سے کیسے نبٹا جائے ۔ وہ جنتا چاہتی ہے کہ بھاجپا لیڈر شپ کون کونسے ایسے قدم اٹھائے گی۔ جن سے گھوٹالہ رکے۔ قیمتوں پر قابو ہو۔مہنگائی گھٹے۔ بے روزگاری گھٹے، قانون نظم سدھرے، بجلی پانی جیسے پیچیدہ مسائل جیسے حل ہو کیا جنتا ان پر زیادہ بھروسہ کرے۔ ؟یہ ہے کچھ سوال جن کا میری رائے میں بھاجپا لیڈر شپ کوجواب دینا ہوگا۔جنتا کوبتاناہوگا۔ ہمیں اقتدار میں لائے تو ان مسائل کو کیسے حل کریں گے۔ لیکن اس کے لئے سب سے پہلے بھاجپا کو اپناگھر ٹھیک کرنا ہوگا۔ اسے صحیح لیڈر شپ طے کرنی ہوگی۔ اپنی ترجیحات بتانی ہوگی۔ اب تو بھاجپا یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ آر ایس ایس ان کے کام کاج میں دخل اندازی کرتی ہے۔ جب سے آر ایس ایس کی بالا دستی موہن بھاگوت کے ہاتھ میں آئی ہے سیاست کے کچھ حد تک وہ الگ ہوگئی ہے اب سنگ روز مرے کے معاملے میں دخل نہیں دیتا ہوسکتاہے کہ بھاجپاکے کچھ لیڈروں کے میرے نظریات کچھ اچھے نہ لگیں۔ لیکن انہیں سمجھناچاہئے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ ایک طرح سے جنتا کی آواز ہے اور آج بہت سے لوگ یہ ہی چاہتے ہیں کہ بھاجپا اپناگھر ٹھیک کریں۔ تاکہ جلد سے جلد آنے والے موقعہ کاپورا فائدہ اٹھاسکے.
Tags:  Anil Narendra, Arun Jaitli, Congress, Corruption, Daily Pratap, L K Advani, Modi, RSS, Vir Arjun

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...