Translater

10 دسمبر 2011

۲جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں پھنستے پی چدمبرم


Published On 11th December 2011
انل نریندر
مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کے ستارے آج کل گردش میں چل رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے یوپی اے سرکار اور کانگریس پارٹی کی فضیحت مسلسل جاری ہے۔سی بی آئی کی عدالت نے نامور وکیل ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی اس عرضی کو منظور کرلیا جس میں چدمبرم کے خلاف ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں دو گواہوں سے پوچھ تاچھ کے لئے مانگ کی گئی تھی۔ عدالت نے دونوں گواہوں کو پیش کرنے کی اجازت دے دی لیکن یہ بھی کہا پہلے ڈاکٹر سوامی خود گواہی دیں گے اگر ان کی گواہی میں دم ہوا تو آگے کی کارروائی ہوگی۔ سوامی کی تسلی بخش گواہی کے بعد ہی دونوں گواہوں کی پیشی ہوگی۔ ایک گواہ شری کھلر جو وزارت خزانہ میں جوائنٹ سکریٹری ہیں اور دوسرے گواہ ایس سی اوستھی جو سی بی آئی میں جوائنٹ ڈائریکٹر ہیں۔ قابل غور ہے کہ وزیر داخلہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے وقت وزیر خزانہ تھے۔ سوامی کے مطابق ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں ہوئی بے قاعدگیوں کی پوری واقفیت چدمبرم کو تھی۔ وہ چاہتے تو گھوٹالہ رک سکتا تھا۔ دراصل اس وقت کے مالیات سکریٹری ڈاکٹر ڈی سبا راؤ کی جانب سے 6 جولائی 2008 ء کو لکھے ایک خط کے آؤٹ ہونے کے بعدہی سے چدمبرم پر سیاسی حملے تیز ہوگئے ہیں۔سبا راؤ کے خط سے چدمبرم اور سابق ٹیلی کمیونی کیشن وزیر اے راجہ کی اسپیکٹرم الاٹمنٹ اور اسپیکٹرم استعمال چارج ، قیمت کا تعین سمیت تمام پہلوؤں پر بحث کی تصدیق ہوتی ہے۔ خط میں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور اس وقت کے وزیر خزانہ کے درمیان تفصیل سے ہوئی بات چیت کا بھی ذکر ہے۔ ڈاکٹر سوامی کا دعوی ہے کہ چدمبرم پر عائد الزامات کے بارے میں ان کے پاس کافی ثبوت ہیں اور وہ عدالت میں انہیں ثابت کرسکتے ہیں۔ اس وقت کے وزیر خزانہ چاہتے تو ٹوجی اسپیکٹرم لائسنس پانے والی کمپنیوں کی اکویٹی فروخت کئے جانے کو روک سکتے تھے لیکن انہوں نے اس کی رضامندی دے دی تھی۔ یہ بات 5 نومبر 2008ء کو اے راجہ کو لکھے خط سے پتہ چلتی ہے۔ راجہ کا یہ نوٹ سوامی کو سونپے گئے 400 دستاویزات کا حصہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس نوٹ کے سامنے آنے سے چدمبرم کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں چدمبرم کے کردار کو لیکر یہ دوسرا بڑا سنسنی خیز انکشاف ہے۔ اس سے پہلے کیبنٹ سکریٹریٹ کو وزارت مالیات کی جانب سے بھیجے گئے اس نوٹ سے واویلا کھڑا ہوچکا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ چدمبرم وزیر مالیات رہتے ہوئے چاہتے تواس گھوٹالے کوروک سکتے تھے۔ عدالت کے حکم کے بعد وزیر داخلہ پی چدمبرم ایک بار پھر نشانے پر آگئے ہیں اور ان کے استعفے کی مانگ کو لیکر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ ہوا جس سے کارروائی ٹھپ رہی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے ان کے عہدے پر رہتے ٹوجی اسپیکٹرم جانچ متاثر ہوگی۔ اپوزیشن کے مطالبہ کو درکنار کرتے ہوئے وزیر قانون سلمان خورشید نے کہا دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات میں چدمبرم یا سرکار کے خلاف کوئی بات نہیں ہے۔
پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ کرنے کے لئے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے خورشید نے کہا اپوزیشن نہیں چاہتی کہ سرکار مہنگائی کے مورچہ پر اپنے کارناموں کو بتائے۔ خود پی چدمبرم نے جمعرات کو کسی بھی طرح کا رد عمل دینے سے انکارکردیا۔ اخبارنویسوں کے ذریعے بار بار پوچھے جانے پر بھی وہ خاموش رہے۔ جہاں تک کانگریس پارٹی کا سوال ہے بیشک جنتا میں تو پارٹی چدمبرم کا ساتھ دے رہی ہے لیکن اندر خانے وہ سمجھ رہی ہے کہ چدمبرم پھنستے جارہے ہیں۔ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے میں پھنسنے کے علاوہ ان کے چناؤ کو بھی چیلنج کا ایک معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس کا فیصلہ بھی جلد آسکتا ہے۔ اگر 17 دسمبر کو سی بی آئی عدالت میں جج او پی سینی سوامی کی دلیلوں سے متفق ہوگئی تو دونوں گواہوں کو پیش ہونے کا حکم دیا جائے گا۔ ڈاکٹر سوامی کے پاس چدمبرم کو پھنسا نے کے دستاویز ہونے کا دعوی پختہ ہوسکتا ہے اگر چدمبرم کے خلاف کوئی بھی کارروائی ہوئی تو سرکار اور پارٹی کو انہیں بچانا مشکل ہوسکتا ہے۔ اگلے کچھ دن نہ صرف چدمبرم کیلئے مشکل بھرے ہیں بلکہ وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کے لئے بھی یہ چیلنج بھرے ثابت ہوسکتے ہیں۔
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Subramaniam Swamy, Vir Arjun

پاکستان میں زرداری کے مستقبل کولیکر قیاس آرائیاں


Published On 10th December 2011
انل نریندر
پاکستان میں افواہوں کا بازار ایک بار پھر گرم ہوگیا ہے۔ وجہ اس بار یہ ہے کہ اچانک پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اپنا علاج کرانے کے لئے دوبئی چلے گئے ہیں۔ پاکستانی حکام حالانکہ کہہ رہے ہیں صدر صاحب اپنے معمول کے چیک اپ کے لئے دوبئی پہلے سے ہی طے شدہ پروگرام کے مطابق گئے ہیں اور جلد واپس آجائیں گے۔ لیکن سیاسی مبصرین کا کچھ اور ہی کہنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خفیہ خط تنازعہ اور نیٹو حملے کے بعد زرداری پاکستانی فوج کے دباؤ میں آکر استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ امریکی میگزین 'فارن پالیسی' نے دعوی کیا ہے اوبامہ انتظامیہ کے حکام نے بتایا ہے پاکستانی فوج کی طاقتور جنرل کے بڑھتے دباؤ کے سبب علاج کے لئے وہ دوبئی گئے۔ زرداری واپس نہیں آئیں گے اور وہیں سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ سوال یہاں یہ بھی کیا جارہا ہے کہ دوبئی میں کونسا علاج ہوتا ہے۔ دوبئی میں تو کوئی ایسا میڈیکل سینٹر ہی نہیں جہاں امراض قلب کا کوئی خاص علاج ہوتا ہے۔ اگر انگلینڈ یا امریکہ کی بات ہوتی تب بھی سمجھ میں آنے والی تھی لیکن دوبئی میں تو ویسے ہی میڈیکل سہولیات ہوں گی جیسی اسلام آباد میں ہیں۔ دوبئی علاج کرانے کی بات گلے سے نہیں اترتی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیرونی ممالک میں تعینات پاکستانی سفارتکاروں کو وطن بلایا جارہا ہے ۔اسی درمیان ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے پاکستانی فوج کے ڈاکٹروں کے ذریعے پوری طرح صحت یاب قرار دئے جانے کے بعد زرداری علاج کے لئے دوبئی روانہ ہوئے۔ اخبار 'نیو انٹرنیشنل' کا کہنا ہے مسلح فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (اے ایف آئی سی) کے ڈاکٹروں نے جانچ کے بعد زرداری کو پوری طرح تندرست پایا تھا۔ صدر کے ترجمان بابر نے حالانکہ اس بات سے انکار کیا کہ اے ایف آئی سی میں زرداری کی ڈاکٹروں نے کوئی طبی جانچ کی تھی۔
پاکستانی صدر اور فوج کے رشتے بد سے بدتر ہوگئے ہیں۔ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی میں مارے جانے کے بعد فوج نے سرکار پر انگلی اٹھائی تھی۔ ان حالات میں فوجی تختہ پلٹ کے اندیشہ کو لیکر زرداری نے امریکہ سے مدد مانگنے کے لئے ایک خفیہ خط پاکستان کے امریکہ میں معمور سفیر حسین حقانی کے ذریعے سے بھیجا تھا۔ اس میں انہوں نے پاکستانی فوج کی برھتی طاقت اور ان کے تختہ پلٹ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ امریکہ سے ان کی سرکار کو بچانے کی مدد مانگی گئی تھی۔ اس خط کے افشا ہونے سے فوج اور زرداری میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ رہی سہی کثر 26 نومبر کو ناٹو فوج کے ذریعے پاکستانی چوکی پر ہوئے حملے نے پوری کرڈالی اس میں24 پاکستانی فوجیوں کی موت ہوگئی تھی۔ ناٹو حملے کے احتجاج میں مسلسل مظاہرے ہورہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں اور جنتا دونوں میں سرکار کے خلاف نارضگی بڑھتی جارہی ہے اس سے بھی زرداری پر استعفیٰ دینے کیلئے دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔بدھوار کو زرداری کے بیٹے بلاول بھٹو اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان ہوئی ملاقات نے بھی کچھ گڑ بڑ ہونے کے اشارے دئے ہیں۔ ہوسکتا ہے یہ سب قیاس آرائیاں ہوں اور زرداری جلد دوبئی سے وطن لوٹ آئیں۔ لیکن اتنا طے ہے پاکستان کے سیاسی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اور کوئی معجزہ ہی انہیں بچا سکتا ہے اور مستقبل قریب میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, Pakistan, Vir Arjun

09 دسمبر 2011

اور اب سرکار کا نشانہ سوشل سائٹس پر


Published On 9th December 2011
انل نریندر
مرکزی وزیر مواصلات کپل سبل کو تنازعات میں گھرے رہنے کی عادت سی ہوگئی ہے۔ پہلے انا ہزارے معاملے میں، پھر بابا رام دیو معاملے میں اور اب سوشل نیٹ ورکنگ کو لیکر وہ سرخیوں میں آگئے ہیں۔ کپل سبل نے اب گوگل ، یاہو، مائیکرو سافٹ و فیس بک جیسی سوشل سائٹوں پر فحاشی و قابل اعتراض اور توہین آمیز میٹر ڈالنے پر روک لگانے کا عہد کیا ہے۔ سبل کا کہنا ہے ان پر وزیراعظم منموہن سنگھ ، کانگریس صدر سونیا گاندھی و کچھ مذہبی فرقوں کے خلاف قابل اعتراض میٹر ڈالے ہوئے ہیں جنہیں فوراً ہٹانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا سرکار ان سوشل ویب سائٹوں پر کسی طرح کی سینسر شپ نہیں لگانا چاہتی لیکن قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کیلئے ایک کنٹرول سسٹم نافذ کرنا چاہتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا اگر ان ویب سائٹوں نے ایسا نہیں کیا تو حکومت کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ ان کا یہاں تک کہنا تو ٹھیک ہے کے ایسی پبلک ویب سائٹوں پر سب کو قابل قبول پیمانوں کو اپنانا چاہئے اور فحاشی کو بڑھاوا نہیں دیا جانا چاہئے لیکن ان پر کسی طرح کی پابندی کی مخالفت کررہے ہیں مذہبوں کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ اور فرقہ وارانہ نفرت پر روک لگانے کا ایک علیحدہ معاملہ ہے خاص طور پر بھارت کے حالات کو دیکھتے ہوئے ان سوشل سائٹوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسی فحاشی چیزیں روکنے میں وہ پختہ انتظام کریں۔ لیکن جہاں تک سوال وزیر اعظم یا کانگریس صدر کے خلاف ان ویب سائٹوں پر ڈالے جانے والے میٹر کا ہے وہ تو اس بارے میں کسی طرح سے روک لگانا شاید ہی سرکار یا کانگریس کے مفاد میں ہو۔ انٹرنیٹ ہی صحیح معنوں میں جمہوری طریقہ ہے جو بلا مفاد میڈیا مشینری ہے اور تنخواہ دار صحافیوں سے مستثنیٰ ہے ۔ فیس بک جیسی ویب سائٹ کے استعمال کرنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور کئی ملکوں میں لوگ اس کا کثیر تعداد میں استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں اس پر کنٹرول کیسے ہوگا؟ دیش کے کچھ علاقوں یا گلیوں یا محلوں میں چل رہی انٹر نیٹ سیوا کو روک سکتے ہیں لیکن دنیا کے اتنے ملکوں کے لئے یکساں فلٹر کی میکنزم بہت مشکل ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ میں کئی کارناموں کی بنیاد رکھی ہے۔ مصرکے حالات کی تفصیلات تو اسی کی ایک دین ہے۔شاید انہی وجوہات سے یوپی اے سرکار ان ویب سائٹوں سے خوفزدہ ہے۔ نیوز چینلوں کو سرکاری کنٹرول میں لانے کی بات تھمی نہیں کہ سوشل نیٹ ورکنگ کا واویلا شروع ہوگیا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ دیش کو اطلاعات دینے والی سرکار آخر چاہتی کیا ہے؟ کیا سرکار کی ساکھ صرف میڈیا کے ہی سبب بگڑی ہے؟ کیا ٹوجی گھوٹالہ، کامن ویلتھ گھوٹالہ،لوک پال کے معاملے میں ٹیم انا سے دھوکہ جیسے برننگ اشوز پر کیا سوشل نیٹ ورکنگ کی وجہ سے سرکار کی کھنچائی ہوئی ہے؟ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ کیا سوشل نیٹ ورکنگ پر کنٹرول سے سرکار پاک صاف ہوجائے گی؟ کیا اسے تب جنتا کلین چٹ دے دے گی؟ کپل سبل نے کہا کہ کانگریس کے بڑے نیتاؤں کی تصویریں بھی سائٹ مالکوں کو دکھائی گئی تھیں کیا انہیں ہٹوانے کے لئے دباؤ ڈالا گیا تھا؟ ویسے اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر دیش ایسا دباؤ ڈالتا ہے اور یہ بھی نہیں کہ سوشل سائٹ ان پر غور نہیں کرتیں۔ ایک رپورٹ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ کچھ ملکوں میں گوگل نے اسے بھیجی گئی شکایتوں میں سے 80 سے100 فیصدی تک کو تیزی سے دور کیا ہے اور سائٹ سے میٹر کو ہٹا دیا۔ لیکن بھارت میں یہ 23فیصدی رہا اس لئے کہ بھارت میں ایسی شکایتیں تھیں جسے گوگل قابل اعتراض نہیں مانتا۔ ظاہر ہے کہ زیادہ تر شکایتیں اپنی سرکار کے خلاف کئے گئے تبصروں کو لیکر کی گئیں ہوں گی۔ پچھلے دو سال میں منموہن سرکار کے خلاف کرپشن اور گھوٹالوں کی باڑھ سی آگئی ہے۔ سرکار کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔ ان خبروں نے نوجوان چٹکیوں کی شکل میں سوشل میڈیا میں جگہ بنائی ہے۔ بھارت میں فیس بک، گوگل، ٹوئیٹر وغیرہ کے دس کروڑ سے زیادہ ممبر ہیں۔ آپ کے پاس نہ تو ان کی نشاندہی کرنے کے وسائل ہیں اور نہ ہی ایسا کرنا آپ کے مفاد میں ہوگا۔ چین کی حکومت یہ غلطی کافی وقت سے کرتی آرہی ہے۔ بھارت سرکار کو ہرگز ایسا کرنے کی کوششوں سے بچنا چاہئے۔ سوشل سائٹ چاہ کر بھی اپنے یہاں کسی قابل اعتراض مواود کوا س کی اشاعت سے پہلے روک نہیں سکتی۔ نہ ہی انہیں اس کی اشاعت کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ ہاں ان سے یہ توقع ضرور ہے کہ وہ اپنے ضمیر سے یا کسی اتفاق رائے یا رہنما اصول کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسے میٹر کو خود ہی ہٹا دے۔ سرکار کے اپنے کارناموں پر زیادہ توجہ دینی چاہئے اور ایسی حرکتوں سے باز آنا چاہئے جس سے سوشل سائٹوں پر اس کے خلاف غلط پروپگنڈہ ہو۔ یہ سینسر شپ ہے بیشک کپل سبل جو بھی کہیں اور سینسر شپ دیش کو برداشت نہیں۔ کانگریس پہلے بھی یہ کہہ کر اپنے ہاتھ جلا چکی ہے۔ امید ہے کپل سبل تاریخ سے سبق لیں گے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Facebook, Google+, Twitter, Vir Arjun

روس میں ولادیمیر پوتن کی مقبولیت کا گرتا گراف


Published On 9th December 2011
انل نریندر
مخائل گورباچیف کی اصلاحاتی پالیسیوں وا قتصادی اصلاحات کے سبب اور برسوں سے دبی سیاسی مخالفت کی چنگاری کی وجہ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک سوویت روس کا بٹوارہ ہوگیا اور بڑی سوویت ایمپائر 15 آزاد ضمنی ریاستوں میں بٹ گئی۔ ان حالات میں 31 دسمبر1999ء کو اچانک صدر بورس یلتسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جس سے ولادیمیر پوتن دیش کے نگراں صدر بن گئے۔ فروری2000ء میں طویل لڑائی کے بعد روسی لیڈروں نے چیچن باغیوں کو شکست دیتے ہوئے راجدھانی گروزنی پر اپنا حق جمالیا۔ پوتن کے اس قدم سے ان کی مقبولیت میں بھاری اضافہ ہوا۔ 26 مارچ2000ء کو پوتن نے صدارتی چناؤ جیت لیا۔ اس کے بعد انہوں نے اقتدار کی لامرکزیت بحال کرنا شروع کردی۔ صوبائی گورنروں اور کاروباری گھرانوں کی بڑھتی طاقت پر روک لگائی۔ اگرچہ اقتصادی نکتہ نظر سے روس نے پوتن کے عہد میں کوئی خاص ترقی تو نہیں کی لیکن ولادیمیر پوتن نے سوویت کے خاتمے کے بعد روس کو پہلی بار سیاسی پائیداری کا ماحول ضرور فراہم کیا۔ اسی وجہ سے پوتن مارچ2004ء میں پھر روس کے صدر بنے۔ گذشتہ ہفتے روس میں پارلیمانی چناؤ ہوئے۔ اس میں بھی وزیراعظم ولادیمیر پوتن کی یونائیٹڈ رشیا پارٹی کو زبردست جھٹکا لگا۔ پارلیمنٹ کے نچلے ایوان ڈوما میں تازہ اعدادو شمار کے مطابق اسے 50فیصد ووٹ بھی نہیں ملے ہیں البتہ 450 ممبری ہاؤس میں اسے238 سیٹوں کی معمولی اکثریت ضرور حاصل ہوگئی ہے مگر پہلے کی طرح اتنی اکثریت نہیں کہ جس کی طاقت پر وہ اپنی خواہش سے کوئی آئین میں ترمیم کرا سکے۔ چار سال پہلے64 فیصد ووٹ اور 315 سیٹوں سے اگر موازنہ کریں تو صاف ہے کہ پوتن اور ان کی پارٹی کی مقبولیت کافی گھٹی ہے۔ دوسری طرف کمیونسٹ پارٹی کا ووٹ فیصد 11 سے بڑھ کر 20 کے آس پاس پہنچ گیا ہے اس پر بھی یہ دلیل کے مخالف پارٹیوں اور یوروپی چناؤ مشاہدین نے چناؤ میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ ڈوما چناؤ میں دھاندلیوں کا الزام لگاتے ہوئے پیر کو روس کی راجدھانی ماسکو میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین دیش میں پچھلے12 برسوں سے چلے آرہے پوتن کی ایک واحد عہد کی مخالفت کررہے تھے۔ مظاہرین نے پوتن بغیر روس اور انقلاب جیسے نعروں سے ماسکو کی پرانی سبیلوں کو گنجاکر رکھ دیا ہے۔ ڈوما چناؤ میں روس کی دوسری سب سے بڑی اور اپوزیشن پارٹی بن کر ابھری روسی کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل گیترادی کگنوف نے پیر کو اخباری نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ ان کی پارٹی چناؤ میں بڑے پیمانے پر ہوئی دھاندلیوں کو لیکر فکر مند ہے سبھی اعدادو شمارکی جانچ کررہی ہے۔بدقسمتی سے امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی چناؤ کے منصفانہ ہونے پر سوال اٹھا دئے ہیں۔ جسے روس کے سب سے بڑے طاقتور لیڈر ولادیمیر پوتن شاید ہی برداشت کریں۔ان چناؤ نتیجوں کا اثر اگلے سال مارچ میں ہونے والے صدارتی چناؤ پر بھی پڑ سکتا ہے جس میں پوتن کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ پوتن دو بار سے زیادہ صدر نہیں رہ سکتے اس لئے انہوں نے2008ء میں دمیتر میدوف کو صدر بنوادیا اور خود ان کے وزیر اعظم بن گئے۔ تب تھی دنیا جانتی تھی کہ اصلی طاقت تو پوتن کے ہی پاس ہے۔
پچھلے کچھ عرصے سے پوتن امریکہ کی لائن پر نہیں چل رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے اسی وجہ سے امریکہ انہیں پسند نہیں کررہا۔ حالانکہ پوتن کا وہ کرشمہ تو نہیں رہا جو پہلے کبھی تھا لیکن آج بھی وہ اکیلے نیتا نظرآتے ہیں جو روس کے وقار کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ روس کو امریکہ کو جواب دینے کے لئے پوتن جیسا نیتا چاہئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس پارلیمانی چناؤ کے نتیجوں سے لیکر اگلے صدارتی چناؤ تک ولادیمیر پوتن کیسے اپنی گرتی مقبولیت کو بچا پاتے ہیں اور پھر صدر بنتے ہیں؟ روس کے مفاد میں تو ہے کہ روس ایک مضبوط ملک بن کر پھر دنیا میں اپنی جگہ بنائے لیکن بھارت اور غیر مغربی ممالک کے لئے بھی ایک مضبوط روس فائدے مند ہوگا۔ ایسا کرنے کے لئے فی الحال پوتن سے بہتر کوئی اور روسی نیتا نہیں دکھائی دے رہا۔ پوتن کو اپنی غلطیوں پر غور کرنا چاہئے اور انہیں سدھارنے کی کوشش کرنی ہوگی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Russia, Valadimir Putin, Vir Arjun,

08 دسمبر 2011

ایف ڈی آئی پر رول بیک یا ہولڈ بیک پوزیشن واضح نہیں



Published On 8th December 2011
انل نریندر
ایف ڈی آئی پر سرکار کی پوزیشن ابھی تک صاف نہیں ہے۔ دراصل منموہن سنگھ سرکار کی نیت صاف نہیں لگتی۔ پہلے تو ممتا بنرجی سے کہہ دیا کہ آپ اس کوروکنے کا اعلان کردو لیکن جب اپوزیشن اس بات پر اڑ گئی کہ سرکار کو اعلان کرنا چاہئے تاکہ ایک اتحادی پارٹی کو تو وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج، بھاجپا کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی، مارکسی ایم پی سیتا رام یچوری سمیت اپوزیشن کے لیڈروں سے تبادلہ خیال کر بتایا کہ ملٹی برانڈ ریٹیل میں 51 فیصدی ایف ڈی آئی کا فیصلہ روک لیا گیا ہے۔
سبھی پارٹیوں کے اتفاق رائے کے بعد ہی اس پر آخری فیصلہ کیا جائے گا لیکن تازہ خبر ہے کہ بدھوار کو ہوئی آل پارٹی میٹنگ میں اس پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ یعنی کل ملاکر سرکار نے اسے واپس لیا ہے یا اسے ٹالے رکھا ہے۔ ارون جیٹلی نے منگلوار کو کہا بھاجپا کو ایف ڈی آئی کے مسئلے پر رول بیک پر کوئی ڈھیل نہیں دی جائے گی۔ جیٹلی نے کہا ایف ڈی آئی سے کسانوں ،چھوٹے دوکانداروں اور عام لوگوں کے مفادات پر صرف غیر ملکی کمپنیوں کو ہی فائدہ ہوگا۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا بی جے پی اصلاحات کے حق میں ہے لیکن ایسی اصلاحات نہیں چاہئے جس میں مفادات کو نظر انداز کیا جائے۔ اس پرستاؤ کے پیچھے غیر ملکی دباؤ لگ رہا ہے اور ہم کسی بھی صورت میں اس کی حمایت نہیں کریں گے کیونکہ اس سے بھارت کے بازار چین میں بنے سستے سامان سے لد جائیں گے۔ ادھر سی پی ایم نے کہا کہ فیصلہ روکنے سے کوئی حل نہیں نکلے گا۔ پارٹی تب تک اس کی مخالفت کرتی رہے گی جب تک اسے واپس نہیں لیا جائے گا۔ مارکسوادی جنرل سکریٹری پرکاش کرات نے ایک پریس کانفرنس میں کہا سرکار کی منشا پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے بعد اسے لاگو کرنے کی ہے لیکن اسے پورا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سرکار پہلے اس ریزولوشن کو منسوخ کرے تبھی پارلیمنٹ چل پائے گی۔
ایف ڈی آئی کا پرستاؤ ہولڈ ہو یا بولڈ دونوں ہی صورت میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی یہ شخصی ہار ہے اور وہ ایک بار پھر بری طرح سے بے نقاب ہوگئے ہیں۔ اپنے اتنے برسوں کے عہد میں بطور وزیر اعظم منموہن سنگھ صرف دو مسئلوں پر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا چکے ہیں پہلا تھا امریکہ سے نیوکلیائی سمجھوتہ، دوسرا یہ ایف ڈی آئی کا ریزولوشن ۔ وزیر اعظم بار بار کہتے رہے ہیں کہ یہ تجویز کسی بھی حالت میں واپس نہیں ہوگی۔
اگر ایسا ہوا تو سرکار کی ساکھ پر دھبہ لگے گا۔ سیاسی حلقوں میں یہ عام اشارہ دیا جارہا ہے کہ منموہن سنگھ سرکار نے ریٹیل میں ایف ڈی آئی کا فیصلہ امریکی دباؤ میں لیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتیہ ملٹی نیشنل لابی اسی مسئلے پر کام کررہی ہے تاکہ چالاکی سے چال کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں وزیر تجارت آنند شرما اس معاملے کو لاگو کرنے کے لئے ایک ایسی طاقت کی شکل میں کام کررہے ہیں جس کا اس معاملے پر ایک خاص لابی سے رشتہ ہے۔ ایف ڈی آئی پر کیبنٹ کے فیصلے کے اعلان کرنے کے فوراً بعد چنئی روانہ ہوگئے انہوں نے اپنے اسٹاف کو ایک خاص ملٹی نیشنل کمپنی سے رابطہ قائم کرنے کو کہا ہے۔اور ساتھ ہی اس فیصلے کی حمایت میں کسانوں کا رد عمل جاننے کے لئے ایک پروگرام منعقد کرنے کو بھی کہا ہے۔یہ سب اس وقت پتہ چلا جب ایک ٹی وی چینل نے اگلے ہی دن پنجاب کے کچھ کسانوں کی باتیں دکھائیں جو اس فیصلے کو لیکر اپنی خوشی ظاہر کررہے تھے۔ ان کسانوں نے سبزیوں کے دام مارکیٹ کی بہ نسبت زیادہ ملنے کے لئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی تعریف بھی کی تھی۔جنتا میں یہ پیغام جارہا ہے کہ منموہن سنگھ اور ان کے وزیر امریکہ اور ہندوستانی صنعتکاروں کے لئے کام کررہے ہیں۔وہ ان کے مفادات کو دیش کے جنتا کے مفادات سے اوپر دیکھ رہے ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ اس مسئلے پر منموہن سنگھ کیا آخری فیصلہ کیا ہوتا ہے۔ رول بیک یا ہولڈ بیک۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, FDI in Retail, UPA, Congress, Pranab Mukherjee, Mamta Banerjee,

کیا ایران نے امریکہ کے جدید ڈرون جہاز کو مار گرایا ہے؟



Published On 8th December 2011
انل نریندر
کیا ایران نے امریکہ کے سب سے جدید بغیر پائلٹ جہاز آر کیو170 ڈرون کو مار گرایا ہے۔ایران نے ایتوار کو دعوی کیا تھا کہ اس نے امریکہ کے اس جہاز کو مشرقی حصے میں مار گرایا ہے۔ نیویارک ٹائمس کے مطابق امریکی خفیہ جہازوں کے بیڑے میں آر کیو170 سب سے جدید تکنیک والا جنگی جہاز ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ ان جنگی جہازوں کی تعیناتی حال ہی میں کی گئی تھی اور اس نے ہی ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے اوپر سے پرواز کی شروعات کی تھی لیکن پاکستان کا ایئرڈیفنس سسٹم اسے پکڑ نہیں پایا تھا۔ یعنی پاکستانی راڈار اس کا پتہ نہیں کرسکے۔امریکہ کو اب یہ پریشانی ستا رہی ہے کہ ایران امریکی تکنیک تک جزوی پہنچ بنانے میں اہل ہوگیا ہے۔ امریکہ کو اس بات کا ڈر ہے کہ اس کے انتہائی جدید ڈرون جہاز میں لگے آلات کا ایران کو پتہ چل جائے گا۔ اس میں کیا تکنیک اپنائی گئی ہے اس کی ایران کو جانکاری ہوجائے گی۔ حالانکہ ابھی تک ایرانی حکومت نے اس گرائے گئے جہاز کی کوئی تصویر جاری نہیں کی ہے۔ غیر مصدقہ خبروں کا دعوی ہے کہ ایک سائبر اٹیک کی وجہ سے یہ جہاز گرایا گیا۔ اس کا کیا مطلب ہوسکتا ہے یہ سمجھ میں نہیں آیا۔ ہوسکتا ہے آنے والے دنوں میں اس کا پتہ چلے۔ دوسری طرف امریکی افسر اب بھی ماننے کو تیار نہیں کہ اس ڈرون جہاز کو ایران گرانے میں اہل ہے۔ امریکی ڈیفنس محکمہ پینٹاگان کے ایک افسر نے کہا کہ ہمارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس جہاز کو دشمن نے مار گرایا ہے۔ لیکن اگر ایران نے واقعی اسے مارگرایا ہے تو یہ ایک معمولی بات نہیں ہے۔ اور امریکہ کے ڈیفنس محکمے کے لئے بھاری جھٹکا ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ ایران اتنا اہل ہوگیا ہے کہ وہ امریکی تکنیک کابھی پتہ لگا سکے؟نیویارک ٹائمس کے مطابق امریکی خفیہ جہازوں کے بیڑے میں آر کیو170 سب سے جدید تکنیک والا جہاز ہے۔ یہ وہی جہاز ہے جس نے اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں واقع اڈے کی نگرانی کی تھی بلکہ اسی کے ذریعے سے وائٹ ہاؤس میں صدر براک اوبامہ نے اپنے دفتر میں بیٹھ کر لادن کے خلاف نیوی سیلس کی ساری کارروائی دیکھی تھی۔
اسی جہاز میں ایسے جدید ترین ویڈیو کیمرے لگے ہوئے ہیں جو اسامہ کے براہ راست حالات پہنچا رہے تھے۔ ممکن ہے ایران کے خفیہ ایٹمی ٹھکانوں یا میزائلوں کی تلاشی کے مشن پر اس ڈرون کو لگایا گیا ہو حالانکہ امریکہ کی رہنمائی والی انٹر نیشنل سکیورٹی اسسٹنٹ فورس نے ایک بیان میں کہا کہ ایران جس ڈرون کا ذکر کررہا ہے وہ ایک امریکی چھان بین کرنے والا جہاز ہو سکتا ہے جو پچھلے ہفتے مغربی افغانستان سے اڑا تھا۔ آئی ایس اے ایف نے کہا کہ ڈرون جہاز کو چلانے والے اس پر سے کنٹرول کھو بیٹھے تھے۔ اس نے ڈرون جہاز یا اس کے کھونے کی وجہ کے بارے میں حالانکہ کچھ نہیں بتایا۔ اس جہاز کو ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ادھر امریکہ کے ایک دوسرے اخبار لاس اینجلس ٹائمس کے مطابق امریکی خفیہ حکام نے بتایا کہ پچھلے مہینے تہران کے قریب ایک فوجی ٹھکانے پر دھماکہ اور امریکہ ،اسرائیل اور دیگر ملکوں کے بھی خفیہ آپریشن کا حصہ تھا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, FDI in Retail, UPA, Congress, Pranab Mukherjee, Mamta Banerjee,

07 دسمبر 2011

دیو صاحب کے دیہانت سے ایک دور کا خاتمہ ہوگیا


Published On 7th December 2011
انل نریندر
سدا بہار اداکار دیو آنند اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ 65 سال تک پردے پر اجلے رومانس کا خالق چلا گیا۔ ہر فکر کو دھوئیں میں اڑانے والے دیو آنند کا لندن میں دیہانت ہوگیا۔ آپ کی عمر85-88 برس تھی۔ وہ کہا کرتے تھے میں اس دنیا سے جب رخصت ہوجاؤں تو کام کرتے ہوئے جاؤں اور ویسے ہی انہوں نے کیا ۔ وہ آخری وقت تک اپنے کام میں مشغول تھے۔ کام کرنے کی طاقت دیو صاحب میں غضب کی تھی۔ انہوں نے100 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ ان سے جب کسی نے پوچھا کہ آپ کے جواں رہنے کا راز کیا ہے، تو کہتے تھے میں نئے زمانے کی سوچ کے ساتھ چلتا ہوں۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ان کی کئی فلمیں وقت سے آگے کی تھیں۔ مثال کے طور پر 'گائڈ، ہرے رام ہرے کرشنا' اپنے وقت سے کافی آگے کی تھیں۔ جب دیو آنند بھارتیہ سنیما میں آئے تو ان کی خوبصورتی سے اور اپنے انداز سے وہ بالی ووڈ میں چھا گئے۔ وہ اتنے ہینڈ سم تھے کہ جوان لڑکیاں ان کی ایک جھلک پانے کیلئے ترستی تھیں۔ ایک زمانہ تھا جب ہیرو کی خوبصورتی بہت زیادہ اہم ہوا کرتی تھی۔ آج تو شکل صورت پر کوئی اتنا توجہ نہیں دی جاتی۔ دیو آنند بلا شبہ ہندوستانی سنیما کے انتہائی ہینڈسم اداکاروں میں سے ایک تھے۔ وہ کہتے تھے کہ خواب ضرور دیکھو، لیکن انہیں پورا کرنے کا معدہ بھی ہونا چاہئے۔ انہوں نے کبھی اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ ان کی فلم ہٹ ہے یا فلاپ۔ فلم کی باکس آفس میں ناکامی نے انہیں نئی فلم بنانے سے کبھی نہیں روکا۔ پاکستان سے آئے دیو صاحب نے بہت معمولی نوکری سے اپنی زندگی بسر کرنا شروع کی۔ پھر ایسے چھائے کہ 50 سال سے زیادہ تک راج کرتے رہے۔چار سال پہلے جب اس سدا بہار اداکار دیو آنند کی سوانح حیات لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچی تو شاید کسی کو اس بات کی حیرانی ہوئی ہوگی کہ انہوں نے اس کا نام 'رومانسنگ ود لائف' رکھا۔ اس میں انہوں نے اپنی زندگی کے کامیابی کے ہر پہلو کو پیش کیا۔ سدا بہار اداکار دیش کے پہلے اسٹائل آئی کان کیمرے کی دنیا کے تئیں اتنے طلسم نہیں تھے بلکہ اس رومانس کے کینوس کو ناکام پریمی سے لیکر ہر دلعزیزی کی سترنگی شخصیت کے مالک تھے۔ تبھی تو ان کے بعد کی پیڑھی کے اداکار رشی کپور کہتے ہیں کہ دیو آنند میرے والد کی عمر کے تھے لیکن ان کے جینے کا انداز میرے بیٹے رنبیر کپور کی عمر کا تھا۔ان میں ہمیشہ جوان رہنے کا کریز تھا۔ ان کی ہی فلم کے ایک مشہور گانے کی طرز پر کہیں توہر صورت میں زندگی کا ساتھ نبھانے کا صبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جسے انہوں نے کبھی نہیں چھوڑا بلکہ آخری دم تک اسے نبھایا۔ امیتابھ بچن نے اپنی شردھانجلی میں کہا کہ ان کے بعد ان کی جگہ دوبارہ بھری نہیں جاسکتی۔دیو صاحب کی کبھی بھی اپنی پرانی فلموں کو نہیں دیکھتے تھے۔ ان کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ہر طبقے کے شخص سے بات کرتے تھے۔ ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے تھے۔ ایمرجنسی کے دوران انہوں نے سیاست میں جانے کا من بنایا تھا۔ اس دوران ان کی مقبولیت آسمان پر تھی اگر وہ چناؤ لڑتے تو ضرور جیت جاتے لیکن سیاست سے ان کا دل مایوس ہوگیا تھا۔ دیو صاحب جاتے جاتے ہمیں یہ ہی سکھا گئے کہ آپ کو جو پسند ہو اسی طرح زندگی بسر کرو۔ وہ ہی کرو جس میں آپ کو سب سے زیادہ مزہ آتا ہے۔ اپنے پیار سے سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر وہ سچا ہے تو لوگ آپ کا ساتھ دیں گے۔ آپ کو وہ عزت ملے گی جس کے آپ حقدار ہیں۔ دیو آنند کی آخری خواہش تھی کہ میرے مردہ جسم کو میرے دیش مت لے جانا، میں چاہنے والوں کی آنکھوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہنا چاہتا ہوں۔ الوداع سدا بہار دیو صاحب۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Dev Anand, Vir Arjun

چین کے تئیں بھارت کواپنی پالیسی بدلنی ہوگی


Published On 7th December 2011
انل نریندر
ہندوستان اور چین کے درمیان رشتے ہمیشہ سرد گرم ہوتے رہے ہیں۔ ہندوستان سے ہی چین میں بودھ دھرم کی تبلیغ اور فروغ ہوا تھا۔1949ء میں چین کی کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی اور دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کا قیام عمل میں آیا۔ بھارت نے شروع سے ہی چین کے تئیں دوستی اور بھاری چارگی کا اظہار کیا ہے۔ بھارت ایک ایسا پہلا غیر کمیونسٹ ملک تھا جس نے چین کی کمیونسٹ سرکار کو تسلیم کیا تھا اور اقوام متحدہ نے بھی چین کو منظوری دلانے کی کوشش کی تھی۔1954 میں چین اور بھارت کے درمیان ایک آٹھ سالہ معاہدہ ہوا جس کے تحت بھارت نے تبت سے اپنے فاضل ملکی اختیارات کو چین کو سونپ دیا۔ اس کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے درمیان پنچ شیل اصولوں کی تعمیل کی گئی۔ 1957ء میں دونوں ملکوں کے درمیان تبت کو لیکر رشتے خراب ہونا شروع ہوگئے۔ 31 مارچ 1959ء کوتبت میں چینی دمن کی وجہ سے وہاں کے دھرم گورو دلائی لامہ نے بھارت میں سیاسی پناہ لی۔ اس کی کشیدگی 1962ء میں ہند۔ چین جنگ کی شکل میں ہوئی۔آج بھی دلائی لامہ اور ان کے ماننے والوں کو لیکر بھارت چین میں کشیدگی بنی ہوئی ہے۔ دلائی لامہ کو لیکر چین اب کچھ زیادہ ہی جارحانہ رخ اپنائے ہوئے ہے۔ پچھلے دنوں کولکتہ میں ایک پروگرام ہوا تھا جہاں دلائی لامہ کو آنا تھا۔ اس پروگرام میں گورنر ایم کے نارائنن اور وزیر اعلی ممتا بنرجی کو بھی شرکت کرنی تھی۔ چین نے مغربی بنگال سرکار کو باقاعدہ ایک خط لکھا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ گورنر اور وزیر اعلی اس پروگرام میں نہ جائیں۔ یہ مانگ نہیں مانی۔ گورنر اس پروگرام میں شامل ہوئے اور وزیر اعلی اپنی ماں کی بیماری کی وجہ سے اس میں شامل نہیں ہو پائیں لیکن ان کے نمائندے کے طور پر ایم پی ڈیریک اوبراؤن شامل تھے۔ ہندوستان نے اس بات کی مخالفت درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے کہ چین نے مغربی بنگال سرکار کو آخر ایسا خط کیوں لکھا؟ کچھ ہی دن پہلے چین نے نئی دہلی میں بودھ دانشوروں کی کانفرنس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے دلائی لامہ کو خطاب کرنا تھا۔ جب چین کی ضد نہیں مانی گئی تو اس نے سرحدی تنازعے پر مجوزہ بیٹھک میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ چین بھارت کے اندرونی معاملوں میں دخل اندازی سے باز نہیں آتا۔ اس نے زیادہ ہی جارحانہ رخ اپنا لیا ہے۔ مثلاً دیش کی ایک ریاستی حکومت کے سربراہوں کو کیا کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے یہ سیدھے طور پر کسی غیر ملکی حکومت کو نہیں بتانا چاہئے۔ چین دراصل اپنے آپ کو امریکہ کی طرح ایک بڑی طاقت ماننے لگا ہے اور اپنی ہر ضد کو منوانا چاہتا ہے۔ حکومت ہند بھی کچھ حد تک چین کے سامنے گھٹنے ٹیکتی نظر آرہی ہے تبھی تو حال میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھارت سرکار سے کہا کہ وہ اپنی چینی پالیسی کو واضح کرے۔ ممبئی میں ایک ریلی میں خطاب کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ بھارت کو تھوڑا اور عزم کے ساتھ چین سے پیش آنا چاہئے کیونکہ یہ دیش کو متنازعہ حصہ کہتا ہے اور کئی حصوں پر بھارت کی سرداری پر سوال بھی کھڑے کرتا ہے۔ عمر سنیچر کو ممبئی میں ایک پریس کانفرنس میں بول رہے تھے۔ کچھ ہی گھنٹے پہلے عمر عبداللہ کے والد فاروق عبداللہ نے نئی دہلی میں کہا تھا کہ بھارت کو یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ وہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کو نہ تو پاکستان سے اور نہ ہی کشمیر سے واپس لے سکتا ہے۔ بیٹے عمر نے کہا کہ اگر سچ مچ آپ کو یقین ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو کارگل جنگ کے دوران کنٹرول لائن کو کیوں نہیں پارکیا؟ اگر آپ جنگ کے وقت بھی کنٹرول لائن کا احترام کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ آپ نے اس علاقے کو واپس پانے کی امید چھوڑ دی ہے۔ عمر نے نئی دہلی سے گذارش کی کہ چین اور پاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں میں ہمیشہ معذرت گذار ہونے کا رویہ چھوڑدیں۔ انہوں نے کہا میری دہلی خواہش ہے کہ چین کے ساتھ پیش آتے وقت بھارت کو تھوڑا اور سختی دکھانی چاہئے۔ ایسا لگتا ہے کشمیر کو متنازعہ حصہ قراردینے میں چین کو ذرا بھی جھجک نہیں ہے جبکہ ہم سے ایک چین کی پالیسی کو تعمیل کرنے اور تبت و تائیوان کی طرز پر سوال نہ کھڑے کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ہم متحد چین کی پالیسی کی تعمیل کریں جبکہ چین متحد بھارت کی پالیسی کی تعمیل نہیں کررہا ہے۔ چین اور پاکستان دونوں کے ہی ساتھ اپنے رشتوں میں ہم عرصے سے فراخ دلی اپنا رہے ہیں جبکہ واقعی اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ چین کے ساتھ تھوڑا سخت ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ ہماری سرداری کو لیکر چین پر سوال کھڑا کرتاہے تو ہمیں بھی کئی حصوں میں اس کی سرداری (جن میں تبت بھی شامل ہے) پر سوال کھڑے کرنے کا حق ہے۔
Aksai Chin, Anil Narendra, China, Daily Pratap, Dalai Lama, India, Mamta Banerjee, Vir Arjun, West Bengal

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...