Translater

21 اپریل 2012

اکیلی شیلا دیکشت ہی ہار کی ذمہ دار نہیں ہیں



Published On 21 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کی ہار کا ذمہ دار کون ہے؟ ویسے کانگریس میں پوسٹ مارٹم کرنے کا کوئی چلن نہیں ہے اور ہار کے بعد شاید ہی کسی کو ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ ہمارے سامنے اترپردیش، پنجاب کے اسمبلی انتخابات کے نتیجے ہیں۔ اتنے دن گزرنے کے بعد بھی ہار کی ذمہ داری طے نہیں ہو پارہی ہے۔ دہلی میں اکیلے وزیراعلی محترمہ شیلا دیکشت کو ذمہ دار ماننا صحیح نہیں ہے۔ بیشک دہلی میونسپل کارپوریشن کو تین حصوں میں بانٹنا شیلا جی کا نظریہ تھا اور اس حدتک ہار کیلئے وہ ذمہ دار ہوسکتی ہیں لیکن دہلی سے تمام کانگریسی ایم پی دہلی سرکار کے وزیر و ممبران اسمبلی بھی اس کے لئے کم ذمہ دار نہیں ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں ممبران پارلیمنٹ کی ۔ سب سے زیادہ خراب حالت نئی دہلی پارلیمانی حلقے کی رہی ہے جہاں سے مرکزی وزیر اجے ماکن کی پسند کے لوگوں کو ٹکٹ دئے گئے۔ اس حلقے میں 32 وارڈ نہیں اور کانگریس کو صرف 7 وارڈوں پر جیت حاصل ہوسکی ہے یہاں سے کانگریس کے تین باغی جیتنے میں بھی کامیا ب رہے۔ بھاجپا نے یہاں سب سے زیادہ32 سیٹوں پر اپنا پرچم لہرایا۔ مغربی دہلی کے ایم پی مہابل مشرا کے علاقے میں کانگریس کی ٹکٹوں کے لئے گھماسان ہوااور نتیجہ یہ نکلا کے 10 سیٹیں ہی کانگریس کومل سکیں۔ بی جے پی 19 پر کامیاب رہی ایس پی1،آر ایل ڈی 2 سیٹوں پر قابض ہوئی۔ کئی داغی بھی جیت گئے۔مرکزی وزیر کرشنا تیرتھ کو ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران اپنے ممبران اسمبلی کی مخالفت جھیلنی پڑی اور کانگریس نے ان کے علاقے میں بھی خراب مظاہرہ کیا ہے۔ یہاں کانگریس 11 سیٹیں جیت پائی ، بی ایس پی کو سب سے زیادہ6 سیٹوں پر کامیابی ملی۔ پردیش پردھان اور نارتھ دہلی سے ممبر پارلیمنٹ جے پرکاش اگروال کو فری ہینڈ ملا لیکن ان کی پوزیشن بھی کافی مشکل بھری رہی۔وہ12 امیدواروں کو ہی جتا سکے۔ کانگریس کے بھاری بھرکم وزیر کپل سبل چاندنی چوک سے ہلکے ثابت ہوئے۔ کانگریس کو14 سیٹیں ملیں بھاجپا کو21 سیٹیں ملیں جبکہ شعیب اقبال کی آر ایل ڈی کو3 سیٹیں مل سکیں۔ بی ایس پی کو1 اور 1 آزاد امیدوار کے کھاتے میں گئی۔ حالانکہ وزیر اعلی کے بیٹے سندیپ دیکشت بھی آدھے نمبروں سے بھی پاس نہیں ہوسکے15 سیٹیں ہی جتا سکے لیکن باقی ممبر پارلیمنٹ سے ان کی کارکردگی بہتر رہی۔ بی جے پی نے ایسٹ دہلی سے18 سیٹیں جیتیں۔ کانگریس سے صرف3 زیادہ لیکن3 باغیوں نے کھیل بگاڑ دیا۔ اب بات کرتے ہیں دہلی سرکار میں کانگریس وزراء کی ۔ سبھی 6 وزرا کی کارکردگی خراب رہی۔ سب سے برا حشر کانگریس کے سینئر وزیر ڈاکٹر اے کے والیہ کا رہا۔ ان کے اسمبلی حلقے لکشمی نگر کے چاروں وارڈ کشن گنج ، لکشمی نگر، شکر پور، پانڈو نگر میں کانگریس ہار گئی۔ سرکار کے دوسرے وزیر ہارون یوسف بھی اپنے اسمبلی حلقے بلیماران کے تین وارڈوں میں پارٹی کو جتا نہیں پائے۔ ان کے وارڈ بلیماران، رام نگر، قصاب پورہ میں پارٹی امیدوار ہار گئے جبکہ واحد وارڈ عید گاہ روڈ میں پارٹی لاج بچا سکی۔ رماکانت گوسوامی کی راجندر اسمبلی حلقے میں تین وارڈ راجندر نگر، اندرپوری، نرینا میں پارٹی امیدوار ہار گئے جبکہ پوسا وارڈ میں ہی کانگریس جیتی۔ یہ ہی حال وزیر بہبود پروفیسر محترمہ کرن والیہ کا رہا۔ ان کے اسمبلی حلقے مالویہ نگر کے تین وارڈ مالویہ نگر، صفدر جنگ انکلیو، حوض خاص میں کانگریس امیدوار ہار گئے جبکہ ایک سیٹ حوض رانی میں پارٹی جیت پائی۔ راجکمار چوہان کا بہرحال ریکارڈ برابری پر چھوٹا۔ ان کے اسمبلی حلقے منگولپوری کے چار وارڈ میں سے دو منگولپوری ایسٹ اور منگولپوری میں پارٹی امیدوار جیتے ہیں جبکہ روہنی ساؤتھ، منگولپوری ویسٹ میں ہار گئے۔ ہار جیت کے ریکارڈ میں وزیر اروندر سنگھ لولی کا ریکارڈ بہتر مانا جاسکتا ہے۔ ان کے اسمبلی حلقے گاندھی نگر کے چار میں سے تین وارڈ دھرم پورہ، گاندھی نگر، رگھوبر پورہ میں پارٹی امیدوار جیتے جبکہ آزاد نگر میں پارٹی کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح جمنا پار وکاس بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نریندر ناتھ اپنے چاروں وارڈ ہار گئے ہیں تو دہلی اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر یوگانند شاستری چار میں سے دو اور سینئر ممبر اسمبلی مکیش شرما کے تین وارڈوں میں کانگریس کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف بی جے پی کے سینئر ممبران اسمبلی کی کارکردگی ٹھیک مانی جاسکتی ہے۔ اپوزیشن کے لیڈر پروفیسر وجے کمار ملہوترہ تین ، جگدیش مکھی دو، ڈاکٹر ہرش وردن کے دو وارڈوں میں بی جے پی کے امیدواروں نے فتح حاصل کی ہے۔ اس لئے اکیلے شیلا دیکشت کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے۔ اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں۔ اسمبلی چناؤ ڈیڑھ سال بعد ہونے ہیں اگر کانگریسی ممبران پارلیمنٹ، وزراء اور ممبر اسمبلی کا یہی حال رہا تو انجام بھگتنے کے لئے کانگریس اعلی کمان کو تیار رہنا ہوگا۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Elections, MCD, Sheila Dikshit, Vir Arjun

اگنی۔5 کا تجربہ: جے ہند، جے بھارت



Published On 21 March 2012
انل نریندر
فوجی طاقت کے فروغ کی سمت میں ہندوستان نے ایک اور قابل فخر تاریخ بنائی ہے۔ ہندوستان نے جمعرات کو نیوکلیائی صلاحیت سے آراستہ پانچ ہزار کلو میٹر دوری تک مار کرنے والے انٹر کونٹی نینٹل بیلسٹک میزائل اگنی۔5 کے کامیاب تجربے کے ساتھ ہی جہاں میزائل کے سیکٹر میں بادشاہت قائم کرکے پوری دنیا میں بھارت کا ڈنکا بجا دیا ہے وہیں اس نے تاریخ بھی بنا ڈالی ہے۔ اڈیشا کے ساحل کے قریب انروہیل جزیرے سے صبح آٹھ بج کر سات منٹ پر داغی گئی اس میزائل نے مقررہ خلائی مارگ (ٹریجیکٹری پاتھ) کا سوفیصد اختیار کرتے ہوئے جب 20 منٹ بعد اپنے نشانے کو پورا کردکھایا تو ڈیفنس سائنسداں خوشی سے اچھل پڑے۔ اس کامیاب تجربے کے ساتھ ہی بھارت امریکہ ،روس ،فرانس اور چین کے ساتھ چنندہ ممالک کے گروپ میں شامل ہوگیا ہے جن کے پاس آئی سی بی این صلاحیت ہے۔اس میزائل کے کامیاب تجربے سے ہندوستان میں ٹیچنگ سمیت چین، مشرقی یوروپ، مشرقی افریقہ اور آسٹریلیا ساحل کے نشانوں کونشانہ بنان یکی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔ اگنی ۔5 کا کامیاب تجربہ یونیفائڈ میزائل ڈولپمنٹ پروگرام میں بھارت کی لمبی چھلانگ کو ظاہرکرتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ میزائل خصوصیات والی ہے۔ فی الحال صرف امریکہ ،روس ،فرانس اور چین کے پاس آئی سی بی این کو بنانے کی صلاحیت ہے بھارت نے اپنی سب سے طاقتور اور پہلی آی سی بی این کا کامیاب تجربہ کیا۔ پڑوسی چین کا میڈیا بوکھلا گیا ہے۔ ایک چینی اخبار نے اگنی۔5 کے تجربے کے بعد پہلے رد عمل میں لکھا ہے کہ بھارت کو اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اور نیوکلیائی ہتھیاروں کے معاملے میں بھارت چین کے آگے کہیں نہیں ٹھہرتا۔ چین کی بوکھلاہٹ ہمیں سمجھ میں آتی ہے۔ اگنی۔5 میزائل کی کئی خوبیاں بے مثال ہیں۔ ایٹمی وار ہیڈ سے مسلح یہ میزائل کسی بھی جنگ کی بازی پلٹنے کی طاقت رکھتی ہے۔ دو اور تجربوں کے بعد اسے2014-15 تک فوج میں شامل کیا جائے گا۔ اس میزائل کی رینج کو ضرورت کے مطابق بڑھایا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی میزائل بیڑے میں یہ پہلا میزائل ہے جو بھارت کو ضرورت پڑنے پر چین کے حصوں تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حالانکہ اگنی۔5 ابھی چین کی ڈاک فین ۔31 کا چھوٹا جواب ہی ہے کیونکہ یہ چینی میزائل دنیا کے کسی بھی حصے پر حملہ کرسکتی ہے لیکن اس سے بھارت کم سے کم جوابی کارروائی تو کرسکتا ہے۔ اگنی۔5 بھارت کی سب سے تیزی سے تیار ہوئی میزائل ہے۔ اسے محض تین سال میں تیار کیا گیا ہے۔ اس کو نایاب بنانے کے لئے بھارت نے مائیکرو نیڈیگیشن سسٹم، کاربن کمپوزٹ میٹریل سے لیکر مشن کمپیوٹر و سافٹ ویئر تک زیادہ چیزیں بیرونی تکنیک سے تیار ہیں۔ اتفاق سے 1975ء میں 19 اپریل کو ہی بھارت نے آریہ بھٹ سیٹیلائٹ کو لانچ کیا تھا اور خلاء میں اپنی کامیابی کا ستارہ بلند کیا۔ اس میزائل کے کامیاب تجربے نے بھارت کے دشمنوں کے چہروں پر شکن ڈال دی ہے۔ اب ہم پر کوئی پڑوسی حملہ کرنے سے پہلے دس بار سوچے گا۔ تمام سائنسدانوں کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد۔
Agni Missile, Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun

19 اپریل 2012

ایم سی ڈی چناؤ کی جھلکیاں


Published On 20 March 2012
انل نریندر
اس بارکے میونسپل چناؤ میں کئی دلچسپ قصے سامنے آئے ہیں۔دہلی کے اس ایم سی ڈی چناؤ میں لوگوں نے نوجوانوں اور بزرگوں سبھی کو چونکا دیا ہے۔ بات اس بھروسے کی ہے لوگوں کو جس پر یقین ہوا اسی کے سر پر سہرہ باندھ دیا۔ سب سے بزرگ لیڈروں میں مانے جانے والے کانگریس کے رمیش دتہ کو ایک بار پھر جیت کا تاج پہنا دیا وہیں دوسری طرف محض21 سال کے دو نوجوان لڑکوں کوبھی اپنا لیڈر چنا۔ ترکمان گیٹ سے منتخب ہوکر آئے آل محمد اقبال محض 21 سال اور ایک مہینے کی عمر میں سب سے نوجوان کونسلروں میں سے ایک ہیں۔ آل محمدراشٹریہ لوکدل کے امیدوار تھے وہیں 21 سالہ بسپا امیدوار پونم پریرا بھی سب سے کم عمر امیدوار رہیں۔ وہ منگولپوری ویسٹ وارڈ سے کامیاب ہوئیں۔ پچھلے کئی برسوں سے دہلی کی سیاست میں سرگرم رمیش دتہ سب سے بزرگ کونسلر ہیں۔ اس بار چناؤ میں انہیں دل کا دورہ بھی پڑا لیکن ہرگھر سے واقف رمیش دتہ کا اتنے برسوں سے لوگوں کے ان کے تئیں پیار میں کوئی کمی نہیں آئی۔
بات اگر مسلم کونسلروں کی کریں تو میونسپل چناؤ میں سیاسی پارٹیوں کا مسلم امیدواروں پر لگایا داؤں کامیاب رہا۔ اس بار سب سے زیادہ مسلم کونسلر کانگریس سے چن کر آئے ہیں اس کے علاوہ راشٹریہ لوکدل سے 3 ، بھاجپا۔بسپا اور سپا سے بھی1-1 کونسلر چن کے آیا ہے۔ اس بار چناؤ میں خاص بات یہ رہی کہ مسلم آبادی والے علاقے قصاب پورہ کی سیٹ بھاجپا کے کھاتے میں گئی وہیں اوکھلا اسمبلی حلقے کے وارڈ نمبر 206 سے سپا نے بھی اپنا کھاتہ کھول کر ایم سی ڈی میں اپنی موجودگی درج کرا دی۔ تینوں میونسپل کارپوریشنوں میں سب سے زیادہ 7 مسلم امیدوار مشرقی دہلی سے کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کے بعد نارتھ دہلی سے6 اور ساؤتھ دہلی میونسپل کارپوریشن میں سب سے کم3 مسلم امیدوار ہی کامیاب ہوئے۔ کل ملاکر 16 مسلم امیدواروں کے سر بندھا جیت کا سہرہ۔ ایک اہم پہلو اس چناؤ میں یہ بھی رہا کہ آزاد امیدوار کافی تعداد میں جیتے ہیں ان کی تعداد24 ہے۔ آزاد امیدواروں میں زیادہ تر کانگریس اور بھاجپا کے باغی امیدوار شامل ہیں جنہیں پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا اور وہ آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوگئے۔ لیکن انہوں نے اپنی جیت درج کراکر اپنے کو ضرور ثابت کردیا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اس میں سے کچھ امیدوار پھر سے پارٹی میں واپس آسکتے ہیں۔ اس چناؤ میں باغیوں نے پارٹی امیدواروں کو ہروانے میں اہم کردار نبھایا ہے۔ ساؤتھ دہلی کی بات کریں تو یہاں کی منریکا سیٹ سے کانگریس کے باغی امیدوار پرمیلاٹوکس چناؤ جیت گئی ہیں۔ گیتا کالونی سے باغی ہوئے بنسی لال نے اپنی سیٹ نکال لی ہے۔ نہرو وہار سے بھاجپا کے شیوکمار شرما اس لئے ہار گئے کیونکہ ان کے خلاف پانچ باغی کھڑے ہوگئے تھے۔ بغاوت کے چلتے کھجوری سیٹ بھی بھاجپا کے ہاتھ سے نکل گئی۔ اس سیٹ سے بھاجپا کے چودھری رام ویر سنگھ کونسلر تھے۔ اس بار ان کا ٹکٹ کاٹ کر ڈاکٹر انل گپتا کو دے دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا چودھری رام ویر دوسری پارٹی سے چناؤ لڑ گئے اور بھاجپا کا ووٹ بٹ گیا۔ مغربی دہلی سے آزاد امیدوار پونم بھاردواج کامیاب ہوئیں۔ وویک وہار سے آزاد پریتی کامیاب ہوئیں۔ مہیپال پور سے بھاجپا کے باغی کرشن سہراوت بھی بازی جیت گئے۔نوادہ سیٹ سے کانگریس کے باغی نریش بلمان چناؤ جیتے، انہوں نے کانگریس کے امیدوار کو ہرادیا۔ بھاجپا کونسلر رہے وجے پنڈت کے کہنے کے باوجود ٹکٹ نہ ملنے پر انہوں نے اپنی اہلیہ سیما پنڈت کو راشٹریہ لوکدل کے ٹکٹ سے چناؤ لڑایا اور وہ بھی چاؤ جیت گئیں۔ بھاجپا کے سابق کونسلر پروین راجپوت بغی ہوکر چناؤ جیت گئے۔ بندا پور سیٹ سے کانگریس کے باغی راج راگھو چناؤ جیت گئے۔ باہری دہلی میں بھاجپا کے باغی پشپا وجے وہار سیٹ سے کامیاب ہوئیں انہوں نے پارٹی کی امیدوار سریتا کو ہرایا۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ میں کانگریس کی ہار کی ایک اور وجہ بسپا ،ایم سی پی سمیت سپا کی بھی دھاک رہی۔
ایم سی ڈی چناؤ کے پچھلے چناؤ میں بسپا نے17 سیٹیں جیت کر زور دار شروعات کی تھی اور درجنوں دیگر سیٹوں پر کانگریس امیدواروں کی ہار یقینی کی۔ اس مرتبہ بسپا نے 15 سیٹیں جیتی ہیں تو گھڑی چناؤ نشان والی این سی پی نے بدرپور سیٹ پر قبضہ کرلیا۔ این سی پی کے سابق ممبر اسمبلی رام ویر سنگھ ودھوڑی کا گڑھ کہے جانے والے اس علاقے نے ان کی پارٹی نے6 سیٹیں جیتی ہیں۔ اس میں بدرپور کی جیت پور، میٹھا پور، مولڑبند اور بدپور کی سیٹ شامل ہے۔ یہاں سے بسپا کے رام سنگھ نیتا جی ممبر اسمبلی ہیں۔ این سی پی نے ہرکیش نگر اور مہرولی کی سیٹوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ حد تو یہ ہے کہ اس علاقے میں کانگریس کے امیدوار تیسرے، پانچویں مقام پر پہنچ گئے۔ دہلی میں تیسرا مورچہ تیار ہورہا ہے؟ چناؤ نتائج تو اسی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ کل ملا کر حالت یہ ہے کہ چھوٹی پارٹیوں کے امیدوار چناؤ جیت گئے ہیں جنہیں قومی پارٹیوں نے نظر انداز کردیا تھا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ بھاجپاکی اس چناؤ میں 36 سیٹیں کم آئی ہیں۔2007 ء کے چناؤ میں بھاجپا نے 174 سیٹیں جیتی تھیں۔ یہ زیادہ اہم ہے کہ ہارنے والی کئی سیٹیں وہ سیٹیں ہیں جو پوروانچل کے لوگوں نے جیتی تھیں چاہے وہ آزاد ہوں یا کسی چھوٹی پارٹیوں کے ٹکٹ پر چناؤ لڑے ہوں۔ ایسے لوگوں میں شامل ہیں۔
پوروانچلیوں کے اکثریت والے علاقوں سنگم وہار ویسٹ سے آزاد امیدوار کلپنا جھا ، جنوبی دہلی سے این سی پی کی شیکھا شاہ جیت گئی ہیں۔ سکراوتی سیٹ سے پوروانچل پس منظر کے ستندر رانا آزاد چناؤ جیت گئے ہیں۔ یہاں یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ دلشاد کالونی سے سابق کونسلر رام نارائن دوبے نے کانگریس کے چودھری اجیت سنگھ کو ہرایا ہے جو شیلا دیکشت کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ کانگریس نے اس سیٹ کو جیتنے کے لئے سبھی طریقے اپنائے۔ پوری طاقت جھونک دی تھی۔ اسی طرح نئی سیما پوری سیٹ پر بھاجپا ورکر سنیل جھا نے سیٹ نکال لی جبکہ پولنگ سے پہلے تک اس سیٹ سے کانگریس کے امیدوار وید پرکاش بیدی کو مضبوط مانا جارہا تھا۔ بھاجپا کے انتہائی رسوخ ذرائع کا کہنا ہے جو بھی آزاد اور چھوٹی پارٹیوں کے پوروانچلی جیتے ہیں وہ کچھ وقت پہلے تک بھاجپا سے وابستہ رہے ہیں مگر پارٹی کی طرف سے نظر انداز کئے جانے پر انہوں نے دوسری طرف رخ کیا۔ بھاجپا نہ انہیں اب کوئی سنمان دے رہی ہے اور نہ ہی پوروانچل کے بڑے نیتاؤں کو پارٹی میں مناسب اہمیت مل رہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Elections, MCD, Vir Arjun

بھاجپا کی جیت نہیں ووٹ تو مہنگائی اور کرپشن و گھوٹالوں کے خلاف ہے



Published On 19 March 2012
انل نریندر
دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت نے ایم سی ڈی کو تین ٹکڑوں میں بانٹنے کی جو چال چلی تھی وہ الٹی پڑ گئی ہے۔ بھاجپا نے تینوں کارپوریشنوں میں کانگریس کوہرادیا ہے۔ نارتھ ایسٹ میں بھاجپا اکثریت میں آگئی ہے جبکہ جنوبی دہلی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں یہ ہی کہوں گا کہ یہ کانگریس کے خلاف ایک منفی ووٹ ہے۔ اس میں بھاجپا کے کارناموں کے سبب ووٹ نہیں پڑا یہ تو لوگوں کا کانگریس سے غصے کی علامت کا ووٹ ہے۔ جنتا مہنگائی، کرپشن، گھوٹالوں سے تنگ آچکی ہے اور چونکہ دہلی میں سرکار بھی کانگریس کی ہی ہے اور مرکز میں بھی اسی پارٹی کی حکومت ہے اس لئے جنتا نے کانگریس کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے پارٹی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ یہ ووٹ شیلا دیکشت کی حکومت کے خلاف بھی ہے اور ساتھ ہی منموہن سنگھ حکومت کے بھی ہے۔ شیلا جی نے تو سوچا تھا کہ ایم سی ڈی کو تین حصوں میں بانٹ کر بی جے پی کو ہمیشہ کے لئے کمزور کردیں گی لیکن ان کا داؤ الٹا پڑ گیا اور ان کی پوزیشن خراب ہوئی ہے۔ کچھ لوگ اسے شیلا دیکشت کے خلاف ریفرنڈم بھی مان رہے ہیں۔کانگریس کہہ سکتی ہے کہ ہمارے اندر بہت پھوٹ تھی اور باغیوں نے ہمیں ہروادیا لیکن پھوٹ تو بھاجپا میں بھی آپ سے زیادہ تھی ، باغی تو وہاں بھی کھڑے تھے آپ کے تو کئی سرکردہ لیڈروں کو دھول چٹا دی گئی۔ لیڈر اپوزیشن جے کشن شرما نجف گڑھ سے ہار گئے۔ پچھلے تین بار سے کونسلر رہے کانگریس کے سینئر لیڈر چودھری اجیت دلشاد کالونی سے ہار گئے۔ تین بار کونسلر رہیں کانگریس کی انیتا ببر تلک نگر سے بی جے پی کی امیدوار ریتو ووہرا سے ہار گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ دونوں کانگریس اور بی جے پی کے باغی زیادہ تر ہارے لیکن انہوں نے ووٹ کاٹنے کا کام کیا ہے۔ مشرقی دہلی کا چناؤ کانگریس کے لئے خاص اہمیت اور وقار کا سوال تھا اس لئے شیلا دیکشت، سندیپ دیکشت ، جے پرکاش اگروال، ڈاکٹر اشوک والیہ، اروندر سنگھ لولی سبھی کا وقار داؤ پر تھا۔ محترمہ شیلا دیکشت نے خود تو ہار پر کچھ رائے زنی نہیں کی لیکن ان کے صاحبزادے اور مشرقی دہلی سے ممبر پارلیمنٹ رہے سندیپ دیکشت نے مہنگائی اور ٹو جی جیسے گھوٹالوں کو ہار کا سبب مانا ہے۔ انہوں نے کہا سی اے جی کی رپورٹ اور انا ہزارے کی تحریک سے ایسا ماحول بنا کے لوگوں کو لگا کہ کانگریس ہی ساری غلطیوں کے لئے ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے لوکل اشوز کو سامنے رکھا جبکہ پورے دیش اور دہلی میں ایسا ماحول تھاکہ بی جے پی نے مہنگائی اور ٹوجی گھوٹالے پر توجہ دی۔ کانگریس کے وزیر راجکمار چوہان بیان دیتے ہیں کہ اگر مہنگائی بڑھی ہے تو تنخواہیں بھی بڑھی ہیں۔ یہ بیان جنتا کو پسند نہیں آیا۔ پوری چناؤ مہم میں بھاجپا نے کہیں بھی ایم سی ڈی میں پچھلے پانچ سال کے اپنے ریکارڈ پر ووٹ نہیں مانگا۔ اس نے مرکزی سرکار اور شیلا سرکلار کو نشانے پر رکھا۔ اس سے بھی یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر بھاجپا جیتی ہے تو اپنے کارناموں سے نہیں بلکہ مرکز اور دہلی میں کانگریس کی سرکاروں کے خلاف منفی ووٹ پڑنے سے جیتی ہے۔ کیونکہ ان انتخابات میں مقامی سرکردہ لیڈر بھی اثر رکھتے ہیں اس لئے جنتا نے کئی مقامات پر دونوں بڑی پارٹیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امیدوار کی شخصیت کو ووٹ دئے۔ تبھی تو 37 آزاد امیدوار جیت کر آئے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن میں بھاجپا کی جیت کا سہرہ نوجوان پردیش صدر وجیندر گپتا کے سر بندھتا ہے۔ انہوں نے جی توڑ محنت کی ہے۔ اس کامیابی سے کافی خوش پارٹی صدر نتن گڈکری نے کہا کہ یہ نتیجے کانگریس کی عوام مخالف جذبے کا نتیجہ ہیں۔ پکا ثبوت اور ان کی پارٹی آنے والے دہلی اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ میں بھی کامیاب ہوگی۔ دہلی اسمبلی کا چناؤ تقریباً18 ماہ بعد ہونا ہے اور لوک سبھا کے انتخابات 2014ء میں ہونے ہیں۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مرکزی حکومت اب بھی جاگے گی؟ یہ چناؤ ایک طرح سے مرکز کی پالیسیوں ، کارگزاریوں اور گھوٹالوں پر تھا۔
اس حکومت کو جنتا کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور اپنی عوام مخالف پالیسوں پر گامزن رہی ہے۔ جنتا کے پاس اپنا احتجاج کرنے کا ایک واحد ہتھیار اپنا ووٹ ہے اور اس نے کانگریس کے خلاف ووٹ دے کر اپنی ناراضگی اور تبدیلی کے جذبے کو صاف طور سے ظاہر کردیا ہے۔ باقی ان چناؤ نتائج کا تجزیہ تو کئی دنوں تک چلتا رہے گا۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Elections, MCD, Vir Arjun

آخر کون ہے یہ نرمل بابا؟



Published On 19 March 2012
انل نریندر
لوگوں کی پریشانیوں کو دور کرنے کا دعوی کرنے والے نرمل سنگھ نرولا عرف نرمل بابا آج کل سرخیوں میں چھائے ہوئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ نرمل بابا جھارکھنڈ کے سابق اسمبلی اسپیکر و لوک سبھا کے ایم پی اندر سنگھ نام دھاری کے سالے ہیں۔ 1950ء میں پیدا ہوئے نرمل جیت سنگھ سکھ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے۔ شری نام دھاری کے مطابق انہوں نے نرمل جیت کی بہن سے 1964 ء میں شادی کی تھی۔ اس وقت نرمل جیت کی عمر14-15 سال تھی۔پٹیالہ کے سائنا گاؤں کے باشندے نرمل بابا کا خاندان 1947ء میں دیش کی تقسیم کے وقت بھارت آگیا تھا۔بابا شادی شدہ ہیں اور ان کا ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے۔ نرمل جیت سنگھ نرولا عرف نرمل بابا پر اب قانونی شکنجہ کستا جارہا ہے۔ مظفر پور سمیت میرٹھ اور بھوپال میں بابا کے خلاف شکایت درج کرائی گئی ہے۔ بابا جی مجھے گاڑی دلا دیجئے، بابا جی میں نے جو بھی منت مانگی ہے وہ بھی پوری کردیجئے، بابا جی میرا ورک ٹارگیٹ پورا کرنے کا آشیرواد دیں، مجھے اچھا گھر دلا دیں، اچھی نوکری دلا دیں وغیرہ وغیرہ کچھ اس طرح کی فرمائشیں دیش کے 36 چینلوں پر صرف ایک شخص (نرمل بابا) سے پورا کرنے کو کہا جاتا ہے۔
نرملا بابا کے انٹرنیٹ پر 30 لاکھ سے زائد پرستار ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر اشتہارات کے ذریعے سے بابا جی کی مقبولیت کافی بڑھی ہے۔ کالا پرس رکھنے کے بابا کے ٹپ سے ان کی بکری کافی بڑھ گئی ہے۔ اکیلے رانچی کالے پرس کی بکری اب تقریباً ہر مہینے115 کی ہورہی ہے۔ 10 روپے کے نئے نوٹ کی گڈی باہر 1200 روپے میں بکنے لگی ہے۔ بابا کے سماگم میں فرضی واڑہ ، پہلے بکنگ کرانی پڑتی ہے۔ رجسٹریشن فیس 2000 روپے فی شخص ہے، دو برس کے اوپر کے بچوں کا بھی پورا پیسہ لگتا ہے، سماگم میں حصہ لینے کے لئے پنجاب نیشنل بینک نے پے فی کا سسٹم شروع کیا ہے تاکہ پروسیس جلد ہوسکے۔ اس لئے چالان ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کئے جاسکتے ہیں۔ مظفر پور کے صدرتھانے علاقے نہلاد پور پتاہی کے باشندے وکیل سدھیر اوجھا نے بابا پر دھارمک بھاوناؤں کو ٹھیس پہنچانے اور دھوکہ دھڑی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سی جی ایم کورٹ میں مجرمانہ مقدمہ (دفعہ420,406,295 ) درج کرایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ بابا نے اپنے بھکتوں سے مذہب کے نام پر ان کی کمائی کا 10 فیصدی حصے کا لالچ دیکر لینے کا کام کیا ہے۔اس سے بابا نے تقریباً 235 کروڑ روپے اپنے دو کھاتوں میں جمع کرالئے۔ کورٹ نے شکایت پر نوٹس جاری کردیا ہے۔فرسٹ جوڈیشیل سزا افسر انجولا بھارتی کو جانچ کا حکم دیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت2 مئی کو ہے۔ اسی طرح میرٹھ اور بھوپال میں بھی بابا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ نرمل بابا کے کھاتے میں کروڑوں روپے ہیں۔ بات یہ سمجھ میں نہیں آتی کے بابا نے ایک ساتھ اتنے سارے لوگوں کو بیوقوف بنایا یا پھر ان میں کوئی ایسی معجزاتی طاقت ہے جو لوگوں کو متوجہ کرتی ہے؟ ایسا نہیں لگتا کہ انہوں نے زبردستی کسی سے پیسے اینٹھے ہیں؟ لوگوں نے اپنی مرضی سے پیسے دئے ہیں۔ معاملے کی جانچ شروع ہوگئی ہے۔ دیکھیں کے بابا کی اصلیت کیا ہے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Nirmal Baba, Vir Arjun

18 اپریل 2012

طالبانی حملے سے کانپ گیا افغانستان



Published On 18 March 2012
انل نریندر
طالبان نے کابل میں افغانستانی پارلیمنٹ اور کئی ممالک کے سفارتخانے پر حملہ کرکے یہ اشارہ دیا ہے کہ طالبان پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکا ہے۔ یہ حملہ طالبان کی طاقت کا احساس تو کراتا ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتا ہے کہ افغانستان کا مستقبل اندھیرے میں ہے۔ طالبان کے ارادے نہایت خطرناک ہیں۔ اسامہ بن لادن کی برسی سے17 دن پہلے طالبان نے دنیا کو چیلنج کیا ہے۔ خودکش حملہ آوروں نے ایتوار کو افغانستان کی راجدھانی کابل میں امریکہ، برطانیہ ، جرمنی اور روس کے سفارتخانوں پرحملے کئے اور ساتھ ہی نیشنل اسمبلی میں گھسنے کی بھی کوشش کی۔ اس کے علاوہ تین شہروں میں بھی حملے ہوئے۔ کل 11 مقامات پرحملے کئے گئے ان میں48 لوگ مارے گئے جن میں19 آتنک وادی بھی شامل ہیں۔ آتنک وادیوں میں راکٹ ،دستی بم ، مشینی بندوقوں سے فائرنگ کی۔ دن کے تین بجے شروع ہوئی یہ گولہ باری کچھ جگہوں پر شام تک چلتی رہی۔ 2001 کے بعد اسے کابل میں اب تک کا سب سے بڑا حملہ بتایا جارہا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملوں کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا یہ آغاز ہے حملے کی تیاری ایک ماہ سے جاری تھی۔ آنے والے وقت میں اور حملے ہوں گے۔ان حملوں کے پیچھے حقانی گروپ کا ہاتھ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ 1994ء میں سرگرم اس گروپ کو پاکستان سے چلایا جاتا تھا۔ امریکہ کئی بار پاکستان کو حقانی نیٹ ورک پر لگام دینے کی ہدایت دے چکا ہے۔ گروپ کی کمان مولوی ذکاء الدین حقانی اور اس کے بیٹے سراج الدین حقانی کے ہاتھوں میں ہے۔ تنظیم طالبان سے ملی ہوئی ہے۔حقانی گروپ پر اس لئے شبہ کیا جاتا ہے کیونکہ گذشتہ ستمبر میں امریکی سفارتخانے کو اسی نے نشانہ بنایا تھا۔ دراصل پچھلے دنوں امریکی حکام کی طالبان کے ساتھ بات چیت پٹری سے اترجانے کے بعد سے ہی افغانستان میں حملوں کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ 2014ء میں امریکہ اور اس کی ساتھی فورسز افغانستان سے کوچ کرنے کی تیار میں ہیں۔تشویش کا موضوع یہ ہے کہ تقریباً 1 لاکھ25 ہزار نیٹو فوجیوں کی موجودگی کے باوجود حامد کرزئی حکومت راجدھانی کابل کی سلامتی میں اہل نہیں نظر آتی۔
ظاہر ہے کہ طالبان کا حوصلہ اس لئے بھی بڑھا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ امریکہ اور اس کی ساتھی ممالک کی فوجیں افغانستان میں چند دنوں کی مہمان ہیں۔ جاتے جاتے امریکی فوجی بھی ایسی حرکتیں کررہے ہیں جس سے آگ اور زیادہ بھڑکے۔ قرآن شریف کو جلانا، ایک امریکی فوجی کے ذریعے 16 بے قصور افغانیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے سے بھی طالبان کو تقویت اور عوامی حمایت ملی ہے۔ پچھلے دنوں حامد کرزئی نے غیر ملکی فوجیوں کو دیہی علاقوں کو خالی کرشہر میں اپنے کیمپوں میں لوٹ جانے کو کہا تھا۔ کابل کی مانگ اب یہ بھی ہے کہ امریکی فوجی افغانستان سے واپسی کی تیاری پہلے ہی شروع کردیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کرزئی کس وجہ سے ایسا کررہے ہیں۔ افغانستان کے موجودہ پس منظر سے ہمیں تشویش ہونی چاہئے کہ یہ راحت رسانی کی تازہ کارروائی سے ہندوستانی سفارتخانہ اچھوتا رہا ہے لیکن یہ صحیح وقت ہے جب بھارت حکومت اس پر سنجیدگی سے غور کرے کے افغانستان کی باز آبادکاری میں وہ جو اربوں روپے خرچ کررہا ہے اس سے بھارت کو کیا ہاتھ لگنے والا ہے؟
Afghanistan, Anil Narendra, Daily Pratap, Taliban, Vir Arjun

جرم کی دنیا میں خواتین کی بڑھتی سرگرمی



Published On 18 March 2012
انل نریندر
راجدھانی دہلی اور این سی آر میں کرائم کی دنیا میں خواتین کی سرگرمی تشویش کا موضوع بنتا جارہا ہے۔ ایک وقت تھا جب جرم کی دنیا میں مرد بگ باس ہوا کرتے تھے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے ایسی خبریں آرہی ہیں کے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اب اس علاقے میں صرف مرد ہی سرغنہ نہیں رہا عورتیں بھی کودتی جارہی ہیں۔ وجے وہار تھانہ پولیس نے جمعہ کو کمپیوٹر کی مدد سے گھر میں نقلی نوٹ چھاپ کر انہیں سپلائی کرنے والی ایک خاتون کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم خاتون کی پہچان 22 سالہ الکا گروور کی شکل میں ہوئی ہے۔ اس کے پاس سے 25 ہزار800 روپے کے نقلی نوٹ و چھپائی میں استعمال سامان بھی ضبط کیا گیا ہے۔ اس کے دو فرار ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔ خاتون دہلی سے پنجاب تک یہ نقلی نوٹ سپلائی کیا کرتی تھی۔ پولیس ڈپٹی کمشنر بھولا شنکر نے بتایا کہ جمعہ کو خبر ملی تھی کے وجے وہار سی بلاک کے ایک گھر میں نقلی نوٹ چھاپے جارہے ہیں۔
پولیس نے چھاپہ مار کر گھر سے 500 روپے کے 46 ،100 روپے کے 27 ،50 روپے کے دو نقلی نوٹ برآمد کئے۔شوہر کے جیل میں ہونے کی وجہ سے عورت کی اقتصادی حالت بیحد خراب تھی۔ اس کے بچے پنجاب کے اسکول میں پڑھتے ہیں وہ جیل میں جب اپنے شوہر سے ملاقات کرنے گئی تو وہاں اسے تیجندر اور ونود ملے۔ اس کی اقتصادی حالت کے بارے میں جانکارکر اسے اپنے گروہ میں شامل کرلیا۔ اور یہیں سے شروع ہوا اس کے گھر میں نقلی نوٹ چھاپنے کا دھندہ۔ چھان بین کررہی پولیس نے جب نوٹ ضبط کئے تو اس کے نقلی ہونے کا اسے بھی یقین نہیں ہوا۔ دراصل ان نوٹوں کو بنانے میں بہترین کوالٹی کے کاغذ کا استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ واٹر مال اور سکیورٹی دھاگا بھی نوٹ میں ہونے کی وجہ سے اس کے نقلی ہونے کا کسی کو شبہ نہیں ہوتا تھا۔
کچھ دن پہلے خبر آئی کے دہلی میں شراب اسمگلنگ میں ایک عورت لیڈی ڈان کو گرفتار کیا۔ باہری دہلی پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ روہنی علاقے میں لیو ان ریلیشن میں رہنے والا ایک جوڑا شراب کی اسمگلنگ کے دھندے کو انجام دے رہا ہے۔ دیررات پولیس نے چھاپہ ماری کر شیوانی ، برج موہن اور ونود نامی لڑنے کو گرفتار کرلیا۔ ذرائع کے مطابق شیوانی اور برج موہن لیو ان ریلیشن میں رہتے تھے۔ برج موہن اور ونود ہریانہ سے دیسی شراب لانے کا کام کرتے تھے پھر عورت کے اشارے پر اسے لیلا ،جانی واکر وغیرہ مہنگی برانڈ کی بوتلوں میں بھرا جاتا تھا اور اسمگلنگ پر شک ہونے پر اس کے لئے شیوانی خود ہی گراہک ڈھونڈنے اور ڈلیوری کرنے کا کام کیا کرتی تھی۔
لاکھوں کی تعداد میں برآمد شراب کی بوتلوں کو پولیس نے ضبط کیا ہے۔ پوچھ تاچھ میں پتہ چلا ہے کہ بھاری مقدار میں برآمد شراب ایم سی ڈی چناؤ میں بانٹی جانی تھی۔ ان دونوں قصوں کے علاوہ بھی جرم کی دنیا میں خواتین کی بڑھتی سرگرمی کے قصے سامنے آئے ہیں۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ ناجائز دھندوں میں اب عورتیں بھی بڑھ چڑھ کر شامل ہونے لگی ہیں۔
Anil Narendra, Crime, Criminals, Daily Pratap, Vir Arjun, Women in Crime

17 اپریل 2012

پاکستان میں ہندو جہنم کی زندگی بسر کرنے پر مجبور



Published On 17 March 2012
انل نریندر
پچھلے ہفتے ہندی کے روزنامہ 'ویر ارجن' میں ایک قاری کا خط شائع ہوا۔ اس میں بڑے جذباتی انداز میں پاکستان سے آئے ہندوؤں کی حالت بیان کی گئی ہے۔ میں قارئین کے لئے شری رمن گپتا، روہتاش نگر، شاہدرہ کا خط قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں تاکہ ہم پاکستان میں رہ رہے ہندوؤں کی حقیقی حالت کوسمجھ سکیں اور جان سکیں کے وہاں وہ کیسے زندگی بسر کررہے ہیں۔ رمن گپتا لکھتے ہیں ''چاہے کچھ بھی کرو صاحب ہمیں واپس پاکستان نہ بھیجو۔ وہاں ہم پر ظلم ڈھایا جاتا ہے، بہو بیٹیوں کی عصمت کو روندا جاتا ہے، ہمیں دشمن کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، وہاں ہماری زندگی جہنم ہوگئی ہے۔ہم پر رحم کیجئے صاحب، ہم پاکستان نہیں جانا چاہتے۔'' یہ فریاد ان 27 ہندو خاندانوں کی ہے جو پاکستان سے پریشان اور مایوس ہوکر بھارت میں پناہ لینے کیلئے آئے ہوئے ہیں۔ غازی آباد پولیس نے انہیں 16 دسمبر کو کڑاکے کی سرد رات میں 12.15 منٹ پر غازی آباد کے ڈاسنا دیوی مندر سے زبردستی بسوں میں ٹھوس کر واپس دہلی کے مجنوں کے ٹیلے پر بھیج دیاہے۔ ایک طرف تو ہمارے دیش کی حکومت مسلمانوں کو مختلف طرح کے ریزرویشن اور اپنا سرکاری پیسہ اور ہندوؤں کے مندروں کے پیسے کی طرح طرح کی اسکیمیں چلا کر اقتصادی مدد کررہی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئے تقریباً چار کروڑ مسلمان دراندازوں کو راشن کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس بنا کر دے رہی ہے۔ ان کا ووٹر لسٹ میں نام تک چڑھا رہی ہے جبکہ مسلم دراندازوں کی وجہ سے کئی ضلع مسلم اکثریتی بن چکے ہیں۔ یہ جن علاقوں میں رہتے ہیں وہاں کے ہندوؤں کا انہوں نے جینا مشکل کردیا ہے۔ آئے دن وہاں دنگے ہوتے ہیں، ہندوؤں کی بہو بیٹیوں کا اغوا کر ان کے ساتھ زبردستی اور جبراً تبدیلی مذہب کیا جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں تو ہندواپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ ان دراندازوں کو دیش سے باہر نکالنے کیلئے بھارت کو سپریم کورٹ اور حکومت ہند کو بار بارکہا جاچکا ہے لیکن سرکار کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس کے برعکس پاکستان سے بھارت میں پناہ گزیں بھارت بھکت 27 ہندو خاندانوں کو کسی بھی قیمت پر مرنے کے لئے پاکستان واپس بھیجنے پر آمادہ ہے۔ یہ ہندو بھارت کو اپنا دیش، یہاں کے ہندو دھرم کو اپنا مذہب مانتے ہیں۔ بھارت ماتا کے یہ پتر اپنی بھارت ماتا کی گود کے لئے ترس رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کے بھارت اور پاکستان کا بٹوارہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی بنیاد پر کانگریس کے بڑے نیتاؤں کی رضامندی سے ہوا تھا۔ شری رمن گپتا کا یہ خط میں نے اس لئے پیش کیا تاکہ ہم پاکستان میں رہ رہے بچے کچے ہندوؤں کا دکھ درد سمجھ سکیں۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن ظہرہ یوسف نے ایک خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کو اسلام آباد سے فون پر بتایا کے ہندو فرقہ ڈرا ہوا نہیں ہے۔۔۔ بلکہ ناراض ہے اور لاچار محسوس کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان صوبہ سندھ میں ہندو لڑکیوں کی زبردستی تبدیلی مذہب اور زرفدیہ کے لئے اغوا کیا جارہا ہے۔ حال ہی میں جبری تبدیلی مذہب کا ایک معاملہ ہائی کورٹ میں آیا ہے جس میں ایک نوجوان خاتون نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے پاس واپس لوٹنا چاہتی ہے۔ انسانی حقوق رضا کار نے کہا کہ ہندو فرقے کے لوگ زبردستی تبدیلی مذہب کو ختم کرنے کیلئے قانون لانے کی مانگ کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی کل 17 کروڑ کی آبادی میں 5.5 فیصد ہندو لوگ ہیں۔ ان میں90 فیصدی سندھ میں رہتے ہیں جبکہ باقی پنجاب اور بلوچستان میں آباد ہیں۔ پاکستان میں کچھ سیاسی پارٹیاں اور ہندو تنظیم سندھ صوبے میں ہندو فرقے کی لڑکیوں کے اغوا اور ان کی تبدیلی مذہب کے خلاف سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق رضاکار کلب ، یوتھ ہندو فارم پاکستان اقلیتی کمیشن، عوامی جمہوری پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان ہندو پریشد نے ایتوار کو ان واقعات کے احتجاج میں کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ بھی کیا تھا۔ ان سبھی نے الزام لگایا ہے کہ میر پور مٹھیلو شہر میں ایک ہندو لڑکی ٹوئنکل کماری کا اغوا کا اس کا زبردستی مذہب تبدیل (ہندو سے اسلام) کرا دیا گیا۔ پاکستان ہندو پریشد کے کنوینر رمیش کمار بکوانی نے کراچی سے ٹیلیفون پر بتایا کہ دیش میں ہندوؤں کے لئے ماحول محفوظ نہیں ہے۔ ہندوؤں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ ہندوؤں کے اغوا کے واقعات کی تعداد 2007ء کے بعد سے بڑھی ہے ہر ایک برس ہمارے پاس تقریباً50 ہندو لڑکیوں کی تبدیلی مذہب کی شکایتیں آتی ہیں۔ حکومت ہند کو پاکستان سرکار سے یہ اشو ہٹانے چاہئیں ۔جہاں بھارت میں اقلیتوں کے لئے ان کی سلامتی کے لئے موزوں قانون ہیں تو پاکستان پر ایسا کرنے کے لئے کیوں نہیں دباؤ بنایا جاسکتا؟ رہا سوال بھارت میں پاکستان سے آئے ہندوؤں کو ہندوستان میں رہنے کی اجازت تو دی ہی جانی چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Pakistan, Pakistani Hindu, Vir Arjun

اس راہ سے تو ممتا کی ساکھ اور مقبولیت تیزی سے گھٹے گی



Published On 17 March 2012
انل نریندر
مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی ضد اور اکڑ پن سے اب سب اچھی طرح واقف ہوچکے ہیں۔ لگتا ہے کہ وزیر اعلی بننے کے بعد تو ان میں غرور اور تانا شاہی کے اندازمیں اضافہ ہوا ہے۔ اب تو وہ اپنے خلاف بنا کارٹون بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی کا کارٹون فارورڈ کرنے کے الزام میں جادو پور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو گرفتار کرلیا گیا۔ یہ کارٹون دنیش ترویدی کو وزیر ریل کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ مکل رائے کو نیا ریل وزیر بنانے کے سلسلے میں بنایا گیا تھا۔کیمیاوی مضمون کے پروفیسر امبکیش مہاپاترا کی گرفتاری سے کولکاتہ میں ناراضگی پھیل گئی ہے اور مارکس وادی اور دانشور طبقے نے کہا کہ پولیس کی کارروائی بالکل کچلنے والی ہے اور اظہار آزادی کے جمہوری حق پر واضح حملہ ہے۔ بعد میں علی پور کی عدالت نے پروفیسر کو ضمانت پر چھوڑدیا ہے۔ پروفیسر مہاپاترا نے الزام لگایا کہ کارٹون فارورڈ کرنے کے سبب جمعہ کی رات ترنمول کانگریس کے 15 حمایتیوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ پروفیسر کا کہنا ہے وہ اپنی سلامتی کو لیکر خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ وہیں اسمبلی میں بڑی اپوزیشن پارٹی مارکسوادی پارٹی نے الزام لگایا کے ریاستی حکومت اخباروں پر پابندی لگا کر جمہوریت اور ان کے زندگی بسر کرنے کے حق پر حملہ کررہی ہے۔ وہیں سابق وزیر ریل دنیش ترویدی نے کارٹون تنازعے پر کہا کارٹون جمہوریت کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا میرا خیال ہے کارٹون جمہوری صحت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ کارٹون آپ کی ساکھ کو خراب نہیں کرسکتے۔ مارکسوادی پارٹی کے سینئر لیڈر عبدالرزاق ملا نے سنیچر کو الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اخباروں پر لگام لگا کر جمہوریت اور ان کے روز مرہ کی زندگی کے حق پر حملہ کررہی ہے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے فرمان جاری کیا ہے کہ سرکاری لائبریریوں میں صرف چنندہ اخبار ہی رکھے جائیں۔ سرکار مخالف اخباروں کے لئے لائبریری میں کوئی جگہ نہیں۔ ملا نے اسٹوڈینٹس ہال میں مارکسوادی پارٹی (مالے) لبریشن کی جانب سے منعقدہ سمینار میں کہا کہ وزیر اعلی کے ذریعے جمہوری حقوق پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وہیں کانفرنس میں مدعو کوی نوارن بھٹاچاریہ نے کارٹون بنانے والے کے خلاف کارروائی کو ریاستی حکومت کی منمانی اور اس کی تاناشاہی کہا۔ ماہر تعلیم سنندا سانیال نے پروفیسر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ممتا بنرجی نے ریاست میں تبدیلی اقتدار کا نعرہ اچھال کر اقتدار ہتیانے میں کامیابی حاصل کی۔ سچائی تو یہ ہے کہ ریاست میں کہیں بھی تبدیلی کی جھلک نہیں دکھائی پڑ رہی ہے۔ یہ تکلیف دہ اور بدقسمتی اور قابل مذمت ہے۔ ممتا دھیرے دھیرے فاسسٹ ہوتی جارہی ہیں۔ ہمارا خیال ہے کے ممتا بنرجی میں اپنے خلاف کسی طرح کی تنقید یا طنز برداشت کرنے کی قوت کم ہوتی جارہی ہے۔ جمہوریت میں کارٹون بنانا کوئی جرم نہیں اور ایسا کرنا پریس کی آزادی پر حملہ کرنا ہے۔ جس راہ پر ممتا چل رہی ہیں اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ بہت تیزی سے مقبول ہوجائیں گی اور ان کی بنی ساکھ ملیامیٹ ہوجائے گی۔ لیفٹ لیڈروں سے ان کو اتنی نفرت ہے کے وہ اب بھی ٹھیک سے فیصلہ نہیں کرپارہی ہیں کے کیا ٹھیک ہے کیا غلط؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Trinamool congress, Vir Arjun, West Bengal

15 اپریل 2012

یہ شا ہ رخ کی بے عزتی نہیں ہندوستان کی بے عزتی ہے



Published On 15 March 2012
انل نریندر
پتہ نہیں امریکہ محکمہ امیگریشن کے حکام کو شاہ رخ خاں سے کیا شخصی بیر ہے کے جب بھی وہ امریکہ جاتے ہیں ان سے بدسلوکی کی جاتی ہے۔ شاہ رخ کو ایک بار پھر امریکہ میں لمبی ذلالت کا شکار ہونا پڑا۔ پرسوں کنگ خان، صنعت کار مکیش انبانی کی اہلیہ نیتا انبانی اور کچھ دیگر لوگوں کے ساتھ نیویارک ہوائی اڈے پہنچے۔ دراصل شاہ رخ پلے یونیورسٹی کی دعوت پر امریکہ گئے تھے۔ذرائع کے مطابق نیتا اور دیگر لوگوں کو تو فوراً جانے دیا گیا لیکن شاہ رخ کو روکے رکھا گیا۔ قریب دو گھنٹے کے بعد ہندوستانی کونسل جنرل کی مداخلت پر شاہ رخ کو امیگریشن کلرینس مل سکی۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آتا کہ بار بار ہی شاہ رخ کو امریکی امیگریشن محکمہ اپنا نشانہ بناتا ہے؟ اس سے پہلے بھی ایک بار 2009 میں نیوجرسی ایئرپورٹ پر شاہ رخ کو روکا جاچکا ہے۔ شاہ رخ نے تب کہا تھا کہ مجھے اس لئے روکا گیا کیونکہ میرے نام میں خان جڑا ہوا ہے۔ تب کہا گیا تھا شاہ رخ کا نام ان کے (امریکی سسٹم میں) درج نہیں تھا۔ ایسے میں شاہ رخ کو امیگریشن کلیرینس دینے کے لئے سینئر حکام کی منظوری ضروری تھی۔ اگر عام الفاظ میں کہا جائے تو امریکی امیگریشن کی فہرست میں شاہ رخ کا نام نہیں ہے۔ ان کے نام کے آگے شاید یہ درج ہے کہ آنے والا شخص جب بھی آئے اس کی تلاشی لو اور روک کر گھنٹوں تک سوال جواب کروں اور اس کو بے عزت کریں۔ نہیں تو جب ایک بار ایک شخص کو روکا جائے اور سوال جواب کئے جائیں اور جب اس سب سے تسلی ہو تو پر وہی قصہ ہر بار کیوں دوہرایا جاتا ہے؟ شاہ رخ خان کسی بھی طرح سے امریکہ کے لئے کوئی سکیورٹی تھریٹ نہیں ہوسکتے۔پھر بھی ہربار جان بوجھ کر ان کو ذلیل کرتے ہیں۔ شاہ رخ خان نہ صرف ہندوستان میں ہی بلکہ ساری دنیا میں ایک سپر اسٹار کی شکل میں جانے جاتے ہیں۔ پھر آپ کی ییل جیسی نامور یونیورسٹی نے آپ کو خاص طور سے مدعو کیا۔ ان سب کے باوجود آپ اس شخص کو ذلیل کررہے ہیں آخر کیوں؟ دراصل امریکہ کی نظر میں ہندوستانیوں کی کوئی عزت نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو 2009 ء میں سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی دہلی میں ایک امریکی ایئرلائنس کے ملازمین کے ذریعے تلاشی نہ لی جاتی۔ پچھلے سال بھی ان کی دو بار امریکہ میں تلاشی لی گئی۔ دھماکوجانچ کے نام پر مسٹر کلام کی جیکٹ اور جوتے اتروائے گئے تھے۔2010ء میں امریکہ میں ہندوستانی سفیر میرا شنکر کو میسیپی ہوائی اڈے پر تلاشی سے گزرنا پڑا تھا کیونکہ انہوں نے ساڑی پہن رکھی تھی۔
2002ء اور 2003ء میں تو کمال ہی ہوگیا تھا جب سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈیز کو واشنگٹن ہوائی اڈے پر نہ صرف روکا گیا بلکہ انہیں کپڑے اتروا کر تلاشی دینی پڑی تھی۔ یہ شاہ رخ خاں کی ذاتی بے غرتی نہیں بلکہ یہ پورے ہندوستان کی بے عزتی ہے۔ شاہ رخ کو تو قسم کھا لینی چاہئے وہ بار بار ذلیل ہونے سے بہتر ہے کہ وہ مستقبل میں امریکہ جانے سے گریز کریں۔ اگر اس نامرد حکومت ہند میں دم ہے تو کسی بڑے امریکی افسر کو اندرا گاندھی ہوائی اڈے پر روک کر کپڑے اتروا کر تلاشی لیں؟ لیکن کیا ہمارے میں اتنی ہمت ہے؟
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Shah Rukh Khan, USA, Vir Arjun

کیا دہلی این سی آر تیز زلزلہ سہہ سکے گی؟



Published On 15 March 2012
انل نریندر
انڈونیشیا کے پاس سمندر میں آئے دو زبردست زلزلوں سے بدھوار کو ہندوستان سے لیکر آسٹریلیا تک زمین کانپ اٹھی۔ دوپہر بعد آئے زلزلے کے بعد ہند مہا ساگر خطے کے تمام ملکوں میں سونامی کا خوف طاری رہا۔شکر ہے کہیں بھی سونامی نہیں آئی۔ انڈونیشیا کے سوماترا جزیرے کے پاس ان جھٹکوں کی رفتار 8.5 اور 8.2 ریختر اسکیل پر ناپی گئی۔ اس کا مرکز بندا اسیہا سے 435 کلو میٹر دور سمندری سطح سے 33 کلی کی گہرائی میں تھا۔ سال2004ء میں اس علاقے میں آئے زلزلے کے بعد آئی سونامی لہروں نے ہندوستان سمیت کئی ملکوں میں قہر برپا کیا تھا جس میں دو لاکھ سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان دو زلزلوں کا اثر ہندوستان پر بھی پڑا۔ کولکاتہ، بھوبنیشور و دہلی تک پڑا۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ بھگوان نہ کرے اگر دہلی این سی آر میں اتنا خطرناک زلزلہ آیا تو کیا ہوگا؟ 5 مارچ کو این سی آر میں صرف4.9 ریختر اسکیل کا زلزلہ آیا تھا۔تبھی پورے علاقے میں دہشت پھیل گئی تھی۔ دہلی کے للیتا پارک حادثے کی جو رپورٹ حکومت کے سامنے جسٹس (ریٹائرڈ لوکیشور پرساد)نے پیش کی ہے اس میں صاف بتایا گیا ہے کہ مشروم کی طرح بنے این سی آر میں عمارتیں غیر منظورتعمیرات اور عمارت میں بغیر ماہرین کی دیکھ بھال کے توڑ کر اضافے سے زلزلے سے متاثر زون چار والی دہلی خطرے میں ہے۔ نہ صرف تعمیراتی قواعد کو سختی سے لاگو کرنے کی ضرورت ہے بلکہ پرانی عمارتوں کے خطرے کو پرکھنے والی اسٹڈی و ری ڈولپمنٹ کی سخت ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق انجینئرنگ کے ذریعے بنائے گئے نقشوں کے بغیر مکانوں کے خطرے کے علاوہ پانی کے ٹینک، بڑھتی آبادی اوربغیر کنکریٹ کے ستون کے مکان زلزلے کی حالت میں بہت خطرناک ہیں۔ دہلی میں 1639 ناجائز کالونیاں ہیں۔ ان ناجائز اور ریگولر کالونیوں کی عمارتیں محفوظ نہیں ہیں۔تعمیرات میں انجینئرنگ قواعد کی تعمیل نہیں ہوئی۔مکانوں میں بغیر اسٹرکچر کے ایک کے بعد ایک دوسری منزل بنائی جارہی ہے اس سے مکان کمزور ہوتا جارہا ہے۔
مشرقی دہلی تو ریت پر کھڑی ہے۔ ماہرین نے صاف کہا ہے کہ مضبوط عمارتوں کے لئے ضروری ہے عمارتی کورٹ کی تعمیل اور ڈیزائن سطح پر ہو۔تعمیرات میں استعمال سامان کی کوالٹی عمدہ ہو اور سپر ویزن ٹھیک ہو۔اتنا ہی نہیں پرانے مکان میں نئی منزل یا کوئی دیگر تبدیلی بغیر ماہر کے کی جاتی ہے تو وہ خطرناک ہے۔ اتنا ہی نہیں کرپشن مٹانے اور سکیورٹی کے لئے عمارت تعمیر کی کئی سطح پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کئے جانے کی صلاح دی گئی ہے۔زلزلہ ماہرین بتاتے ہیں کہ این سی آر میں ریختر اسکیل میں 8 سے اوپر کا زلزلہ آیا تو حالات بہت خراب ہوں گے۔ مردم شماری 2001ء کے گھروں کے سروے میں استعمال سامان کو بنیاد بنا کر این ڈی ایم اے کے حساب سے 92 فیصدی مکان ایسے ہیں جو روایتی طریقے سے بنے ہوئے ہیں پچھلے دو برسوں میں ہندوستان کے بڑے علاقوں میں چار سے پانچ درمیانی ریختر اسکیل کا زلزلے آچکے ہیں اور آراضی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر قدرتی وسائل سے زیادہ کھلواڑ کا سلسلہ جاری رہا تو خطرہ اور بڑھے گا۔ ضروری یہ ہے کہ ماہرین کی پیش کردہتجاویز پر جلد سے جلد عمل کیا جائے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi, Earthquake, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...