Translater

15 اگست 2014

مودی کاخواب تو پورا ہوا پر عوام کے سپنے ؟

اس سال 15 اگست یعنی یوم آزادی تقریب ہر سال سے منفرد ہوگی یہ ایک معمولاتی نہیں ہے۔ عام طور پر15 اگست کو دیش بھر میں ایک چھٹی کی طرح سے دیکھا جاتا ہے۔ وقت گزرتا گیا اور اس کی اہمیت کم ہوتی گئی۔بس وہی لال قلعہ کی سفیل سے وزیر اعظم کی تقریر۔ پچھلے10 سالوں سے ہم سردار منموہن سنگھ کی تقریریں سن سن کربور ہوگئے تھے لیکن اس سال تھوڑا فرق ہے کیونکہ آج 15 اگست کو نریندر مودی اپنی زندگی کی پہلی یوم آزادی تقریر کریں گے۔مسٹر مودی کو طویل انتظار کرنے کے بعد یہ موقعہ آیا ہے۔ 15 اگست کو لال قلعہ کی سفیل سے دیش کے نام اپنی تقریر میں کیا کہتے ہیں، کیا نئے اعلان کرتے ہیں دیش کے لوگ بے صبری سے انتظار کررہے ہیں۔ مودی کی این ڈی اے سرکار کے سامنے چیلنج منہ پھاڑ کر کھڑے ہوئے ہیں۔ 26 مئی کو وزیر اعظم کی حلف برداری کے بعد مودی کی یہ دیش کی عوام کے نام پہلی اہم تقریر ہوگی اور ظاہر سی بات ہے کہ اس موقعہ پر وہ اپنے کارناموں کو گنانا چاہیں گے۔ ٹیم مودی نے یہ صاف کردیا ہے کہ وہ ٹوئنٹی ۔ٹوئنٹی نہیں بلکہ وہ ٹیسٹ کے لئے اتری ہے۔ایک طاقتور اور خوشحال بھارت اور اچھے دنوں کیلئے بہر حال کچھ انتظار کرنا ہوگا۔ کام شروع ہوچکا ہے مہنگائی، بجلی پر اٹھ رہے سوالات کے تشفی بخش جوابات کا انتظار ہے۔ مودی سرکار کا دعوی ہے کہ حکومت نے اس سمت میں کام شروع کردیا ہے اور ایک برس میں اچھے دنوں کی مضبوط آہٹ سنائی پڑنے لگے گی۔ لوک سبھا چناؤ کے بعداقتدار میں آئے مودی کو 10 سال کی یوپی اے سرکار کی ناکامیوں اور مسائل سے بھی لڑنا پڑ رہا ہے۔ منموہن سرکار نے اتنے گڈھے کھود دئے ہیں کہ انہیں بھرنے میں وقت لگے گا۔ دیش کے سامنے کرپشن ایک بڑا چیلنج ہے۔ مودی سے عوام کوامید ہے کہ وہ اس پر کچھ لگام لگائیں گے۔ سابقہ حکومتوں کے دوران گھوٹالوں سے دیش کی کافی کرکری ہوچکی ہے۔ سرکاری دفاتر میں کرپٹ طریقے اپنائے بغیر کام نہیں ہوتا ایسے میں حکمرانی سسٹم کو شفاف بنانا ہوگا۔ مودی نے اس سمت میں کچھ اہم قدم اٹھائے ہیں اور کچھ کی ضرورت ہے۔ جرائم اور خراب قانون و نظام نے بھی عوام کا جینا مشکل کردیا ہے۔آبروریزی عورتوں کے خلاف جرائم مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ مہنگائی کی بڑھتی سطح سے عام آدمی پریشان ہے۔ گرہستنوں کو گھر چلانا مشکل ہورہا ہے۔ عواممیں مہنگائی کو لیکر ہائے توبہ مچی ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ مودی سرکار ابھی تک اس مورچے پر کامیاب ہوتی نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ کچھ ضروری چیزوں کے دام تو پہلے سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ بڑھتی افراط زر کے ساتھ ہی اقتصادی ترقی میں کمی سے مہنگائی سے دیش لڑرہا ہے۔بھارت میں 15 سے29 برس کی عمر کے28 کروڑ نوجوانوں کی آبادی ہے ہر طرح کے سروے بتا رہے ہیں بھارت میں بے روزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مودی سے سب سے زیادہ توقعات اگر کسی طبقے کو ہے وہ نوجوان ہیں۔ مودی نے اپنی چناؤ کمپین میں سب سے زیادہ اسی طبقے کو راغب کیا تھا اور بڑی بڑی امیدیں جگائی ہیں۔ مودی نوجوانوں کو کہتے رہے ہیں کہ وہ اپنے سنہرے مستقبل کیلئے انہیں ووٹ دیں۔ اس طبقے نے چناؤ میں کھل کر ووٹ دیا اور اب مودی کے اپنے وعدے پورے کرنے اور نوجوانوں کے خوابوں کی تعبیر کرنے کا وقت آگیا ہے۔ دیکھیں کہ وہ آج لال قلعہ سے اپنی تقریر میں اس برننگ اشو کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ نوجوانوں کیلئے اگلے دو تین برس کافی اہم ہوں گے کیونکہ اس میعاد میں ان کے مستقبل کی سمت طے ہونی ہے۔ دیش کے کئی حصوں میں نکسلی مسئلہ منہ پھاڑے کھڑاہے۔ یہ مسئلہ مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ دوسری طرف سرحد پار سے دہشت گرد وں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ پاکستان کے ذریعے مسلسل سرحد پر فائرنگ ہورہی ہے۔ ہمارے جوان مر رہے ہیں یا زخمی ہورہے ہیں۔ اس بات کا اطمینان ہے کہ حال ہی میں مودی کشمیر گئے تھے اور وہاں سے انہوں نے پاکستان کو کھری کھوٹی سنائی۔ دیش کے اندر انڈین مجاہدین جیسی آتنک وادی تنظیموں کی سرگرمیاں چنوتی ہے۔ ان دونوں تینوں مسائل سے لڑنے کے لئے مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت ہے۔ مودی نے دہشت گردی اور نکسلواد کا سامنا کرنے کے لئے عدم برداشت کی حکمت عملی اپنانے کی بات کہی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے خواتین پر جس طرح سے حملے اور جنسی جرائم ہورہے ہیں ، ان کے خلاف ٹھوس کارروائی کی سخت ضرورت ہے۔ صرف بیان بازی سے کام نہیں چلے گا فوراً کارروائی اور انصاف کی سمت میں کچھ ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے۔ دیش میں صرف دو ریاستیں ہیں جہاں ابھی 24 گھنٹے بجلی ملتی ہے ایک گجرات اور دوسرا کسی حد تک چھتیس گڑھ ہے۔ ہماچل میں بھی بجلی کی اتنی پریشانی نہیں ہے۔ دیش کے ہزاروں گاؤں ایسے ہیں جہاں بجلی پہنچتی ہی نہیں گاؤں تو دور دیش کی راجدھانی دہلی میں بجلی کٹوتی میں جنتا کے ناک میں دم کردیا ہے۔ دیش کی تقریباً سبھی ریاستوں میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت قابل رحم ہے۔ ضلع ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ زیادہ تر میں دواؤں کی سپلائی نہیں ہے۔ مجبوری میں لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور انہیں وہاں لٹنا پڑتا ہے۔ میں نے دیش کی کچھ برننگ پریشانیوں کا اس لئے تذکرہ کیاکیونکہ وزیر اعظم سمجھیں گے کہ عوام کی ان سے کیا کیا توقعات ہیں۔15 اگست یعنی آج مودی جی دیش کوخطاب کریں گے ہم اپنے سبھی دیش واسیوں کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جلد ہی اچھے دن آئیں گے۔
(انل نریندر)

14 اگست 2014

عدلیہ کی مختاری بھی بنی رہے اور آئین کے مطابق سسٹم ہو!

پچھلے کچھ دنوں سے بڑی عدالتوں کے ججوں کی تقرری کو لیکر ایک بحث چھڑی ہوئی ہے۔ حکومت چاہتی ہے ججوں کی تقرری کیلئے جو موجودہ سسٹم ہے جیسے ہم کولیجیم کہتے ہیں ، اس میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں۔ سرکار کا ارادہ ہے کہ موجودہ سسٹم کو بدل کر ایک جوڈیشیل کمیشن کے ذریعے تقرریاں کی جائیں۔ سلکشن کرنے والوں میں صرف جج نہ ہوں بلکہ عدلیہ کے باہر سے بھی نامور شخصیات کو بھی لیا جائے۔ ابھی تک جو سسٹم ہے یعنی کالیجیم میں عدلیہ کے بڑے عہدوں یعنی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان کی تقرری و تبادلے کا تعین کرنے والا ایک فورم ہے۔ یہ عمل 1998 سے نافذ العمل ہے۔ حکومت نے کالے قانون کو بدلنے کیلئے قانون میں ترمیم کرنے کی تجویز بھی پارلیمنٹ میں پیش کردی ہے۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے پیر کے روز کالیجیم سسٹم ختم کر تقرری کا نیا نظام نافذ کرنے کے لئے قومی جوڈیشیل تقرری بل لوک سبھا میں پیش کیا۔ انہوں نے کمیشن کوآئینی درجہ دینے کے لئے آئینی ترمیم بل بھی پیش کیا۔ پرساد نے بل پر عام رائے بنانے کے لئے سبھی پارٹیوں کو خط بھی لکھا ہے۔ اس ترمیمی بل کے مطابق بھارت کے چیف جسٹس این جے اے سی کے چیف ہوں گے۔ عدلیہ کی نمائندگی سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں کے ذریعے کی جائے گی۔ دو جانی مانی ہستیوں کا چناؤ بھارت کے چیف جسٹس، وزیراعظم، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر یا نچلے ایوان میں سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کے کولیجیم کے ذریعے کیا جائے گا۔ یہ نظریہ موجودہ مودی سرکار کے سامنے نہیں آیا ہے۔ یوپی اے سرکار بھی کچھ ایسا ہی ارادہ رکھتی تھی اور اس نے اپنی طرف سے پہل بھی کی تھی جس سے وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائی۔ اس تبدیلی کی تجویز کی سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس آر۔ ایس لوڈھا نے مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے موجودہ کولیجیم سسٹم اچھی طرح سے کام کررہا ہے اور اس پر سوال اٹھانے سے پہلے لوگوں کا عدلیہ پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ چیف جسٹس لوڈھا نے یہ کہہ کر بحث کو اور طول دینے کا کام کیا ہے کہ عدلیہ کو بدنام کرنے کے لئے گمراہ کرنے والی مہم چلائی جارہی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہان کا اشارہ کس طرف ہے لیکن شاید وہ ان انکشافات کے سلسلے میں اپنی بات کہہ رہے تھے جو سپریم کورٹ کے ہی سابق جج مارکنڈے کاٹجو کی طرف سے کیا جارہا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے مارکنڈے کاٹجو ایک کے بعد ایک ایسے انکشافات کررہے ہیں جو عدلیہ کی ساکھ پراثر ڈالنے والے ہیں۔ ان کی مانیں تو سپریم کورٹ کے کئی سابق جج کرپٹ ساکھ اور مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث ججوں کے خلاف ویسی کارروائی نہیں کی جیسے انہیں امید تھی۔ حالانکہ ان کے انکشافات پر یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ آخر وہ اتنے دنوں کے بعد پرانے معاملوں کو کیوں اچھال رہے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ ان کے الزامات کو بے بنیاد بھی نہیں مانا جاسکتا۔ یہ بھی صحیح ہے کئی قانون داں نئے مجوزہ سسٹم کو صحیح نہیں مان رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ موجودہ کولیجیم سسٹم آئین میں ججوں کی تقرری کو لیکر بنایا گیا تھا۔ ان کی دلیل ہے کہ آئین کی دفعہ124 اور 217 کے مطابق بڑی عدالتوں میں ججوں کی تقرری بھارت کے چیف جسٹس ، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر سینئر ججوں کی صلاح پر صدر محترم کریں گے یعنی سرکار کی صلاح پر ہی یہ تقرریاں وہ کریں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ تقرری کرنے کا اختیار حکومت کا ہے اور جج صاحبان اس میں صلاح دے سکتے ہیں۔ دوسری طرف بہت سے قانون داں نئے مجوزہ سسٹم کو صحیح نہیں مان رہے ہیں۔ اس کے پیچھے کچھ ٹھوس بنیاد بھی ہے۔ ایک بنیاد تو مارکنڈے کاٹجو دستیاب کرا رہے ہیں اس کے علاوہ یہ بھی سامنے آچکا ہے کہ ماضی گذشتہ میں کئی اہل ججوں کو سپریم کورٹ میں سلیکشن نہیں مل سکا اور کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کیوں ہوا۔ چیف جسٹس کا نظریہ کچھ بھی ہو اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کولیجیم سسٹم کی خامیاں سامنے آچکی ہیں۔ اس کی جگہ پر ایک جوڈیشیل کمیشن کی تشکیل کی جو پہل کی جارہی ہے اس سلسلے میں یہ خیال رکھا جانا چاہئے کہ ججوں کی تقرری کے معاملے میں سرکار کا رول زیادہ نہ ہو پائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے توایک خامی سے دوسری خامی کی طرف بڑھنے والی بات ہوگی۔ جب ہم تمام جمہوری اداروں کی صاف گوئی اور جوابدہی کی مانگ کرتے ہیں تو جج بھی اس میں شامل ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ عدلیہ کی مختاری بنی رہے اور آئین کے مطابق سسٹم بھی بنا رہے۔
(انل نریندر)

ماڈل نے ڈی آئی جی پر لگائے آبروریزی کے سنگین الزام!

ممبئی کے اعلی پولیس افسر سنیل پارسکر پر ایک ماڈل کے ذریعے آبروریزی کا الزام لگنا چونکانے والی بات ہے۔ جب ایک محافظ ہی شیطان بن جائے تو اوپر والا ہی عوام کو بچائے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ معاملے کی سچائی کیا ہے؟ کیا ماڈل کے الزامات میں سچائی ہے یا اپنا کوئی الو سیدھا کرنے کے لئے بدلہ لینے کی خاطر ماڈل نے زبردستی سینئر پولیس افسر پر اتنے سنگین الزام لگائے ہیں؟ اب یہ معاملہ ایک نئے رنگ میں دکھائی پڑنے لگا ہے۔ سچائی کیا ہے یہ تو پوری طرح جانچ کے بعد ہی سامنے آ پائے گی۔ ماڈل سے آبروریزی کے الزامات کا سامنا کررہے ڈی آئی جی سنیل پارسکر کا کچھ دن پہلے ہی شیو سینا نے بیان دیکر بچاؤ کیا تھا اور اب اس معاملے میں نیا موڑ آگیا ہے۔شکایت کنندہ ماڈل کے سابق وکیل رضوان صدیقی نے کرائم برانچ کو بتایا کہ انہیں جب لگا کہ وہ یہ سب پبلسٹی پانے کے لئے کررہی ہے تو میں نے ان کا آگے مقدمہ لڑنے سے منع کردیا تھا۔ وکیل رضوان صدیقی نے سی سی ٹی وی فٹیج اور بات چیت کی آڈیو ریکارڈنگ اور چیٹ میسج کی تفصیلات کرائم برانچ کو سونپ دی ہے۔ سی سی ٹی وی فٹیج میں دکھائی پڑ رہا ہے بات چیت کے دوران ماڈل وکیل سے ڈی آئی جی پارسکر کو پھنسانے کولیکر سازش رچنے کو کہہ رہی ہے۔ پوری بات چیت میں آبروریزی یا چھیڑ چھاڑ کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔ فٹیج میں ماڈل وکیل سے صاف صاف کہہ رہی ہے کہ اس معاملے میں ڈی آئی جی کولیکر تنازعہ کھڑا کرنا ہے کیونکہ اسے ایک ریئلٹی شو کا حصہ بننا ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ کہتی نظر آرہی ہے کہ پولیس افسر کو بدنام کرنا ہے۔ رضوان ں صدیقی کا کہنا ہے کہ میں ماڈل کو ڈھائی سال سے جانتا ہوں، انہیں ایک بڑے رئلٹی شو می جانا تھا اس لئے انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ کوئی بڑی کنٹروورسی کھڑی کرنی ہے تاکہ پبلسٹی مل جائے۔ انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ ان کے ساتھ آبروریزی ہوئی۔ ماڈل کا کہنا تھا کہ وہ ایک رئلٹی شو میں جانا چاہتی ہے لیکن انہیں لگتا ہے کہ ان کی جگہ پونم پانڈے سلیکٹ ہو جائیں۔ جانچ سے وابستہ ایک پولیس افسر نے نیوزایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا سنیل پارسکر اور ماڈل کے بیچ ہوئے ای میل کے تبادلے کو دیکھنے کے بعد یہ ضرور لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان تعلقات تو تھے۔ ای میل کی کہانی کے مطابق25 سالہ ماڈل پارسکر سے ناراض تھی۔ اس نے ذکرکیا کہ انہوں نے اس کی کاروباری حریف پونم پانڈے سے ملاقات کی ہے۔ پولیس افسر نے پارسکر اور ماڈل کے درمیان جون میں ہوئے ای میل کے تبادلے ے حوالے سے بتایا حالانکہ پہارسکر نے جواب میں بتایا کہ وہ پونم پانڈے نامکی کسی عورت سے نہیں ملے اور نہ ہی اس سے کوئی بات کی ہے۔ ماڈل نے آئی پی ایس افسر پر آبروریزی کا الزام لگاتے ہوئے نارتھ ایسٹ ممبئی کے مالوانی پولیس تھانے میں مقدمہ درج کرایا۔ ماڈل کے ذریعے درج کرائی گئی ایک ایف آئی آر میں اس نے سنیل پارسکر پر کئی سنگین الزام لگائے۔ معاملے کی جانچ چل رہی ہے، کیس کی اصلیت کیا ہے یہ تو جانچ پوری ہونے پر ہی پتہ چلے گا کیا واقعی ماڈل کے الزامات میں دم ہے یا پھر ایک بے قصور پولیس افسر کو بلا وجہ بدنام کرنے کی سازش ہے۔
(انل نریندر)

13 اگست 2014

کیا این ڈی اے پر بھاری پڑے گی لالو۔ نتیش کانگریس کی نئی دوستی؟

سیاست میں نہ تو کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے وہ ہے مفاد۔ حالات کے مطابق نئے نئے تجزئے بنتے بگڑتے ہیں۔ تازہ مثال بہارمیں لالو پرساد یادو اور ان کے کٹر حریف رہے نتیش کمار پیر کو دو دہائی کے بعد ایک دوسرے کے قریب آگئے اور دونوں نے ایک ساتھ اسٹیج شیئر کیا۔ آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو اور جے ڈی یو لیڈر نتیش کمار نے نہ صرف ریلی کو خطاب کیا بلکہ گرمجوشی سے گلے بھی ملے۔ دل میں بھلے ہی ہچکچاہٹ رہی ہو لیکن چہرے کے تاثرات ملاقات کے تئیں پرامید کامیابی کے اشارے دیتے ہوئے دونوں نے ایک دوسرے کو باہوں میں لیااور کئی منٹ تک اسی انداز میں فوٹو کھنچوائے۔ دل کی ساری کڑواہٹ دور کرنے کا پیغام دیا۔ اس طرح سے بہار کی سیاست میں قریب دو مہینے سے جاری یکساں آئیڈیالوجی لیکن برعکس سمت والے آر جے ڈی اور جنتا دل(یو) کے اتحاد کی مہم پروان چڑھ گئی۔ ایل جے پی چیئرمین اور مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کے علاقے حاجی پور کے جمال پور گاؤں میں پیر کو ضمنی چناؤ کے سلسلے میں منعقدہ ریلی میں دونوں لیڈروں نے مرکزی سرکار کو جم کر کوسا۔ دونوں نے ریلی میں مہا گٹھ بندھن کا آغاز کرتے ہوئے بھاجپا کے خلاف لڑائی کا بھی اعلان کیا اور یہ مہا اتحاد کا تجربہ اسمبلی کے ضمنی چناؤ میں کامیاب رہا تو دیگر ریاستوں میں بھی اس کا فروغ ہوگا اور قومی شکل لیکر بھاجپا کو سخت مقابلہ پیش کرے گا۔ بہار میں 10 سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہونا ہے۔ یہ مہا گٹھ بندھن اس ضمنی چناؤ کولیکر ہی بنا ہے۔ لوک سبھا چناؤمیں بہار میں بھاجپا کی قیادت والی این ڈی اے سے کراری شکست کھانے کے بعد نتیش کمار اور لالو پرساد نے 20 برسوں کے بعد سیاسی مجبوری کے تحت پرانی دشمنی بھلا کر ہاتھ ملایا ہے۔فی الحال 21 اگست کو ریاست کی 10 اسمبلی سیٹوں پر جنتادل (یو) آر جے ڈی اور کانگریس اتحاد کی این ڈی اے کے خلاف اگنی پریکشا ہوگی۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ لالو ، نتیش کے ایک ساتھ آنے کا سیاسی مطلب کیا ہے؟ لوک سبھا چناؤ کے اعدادو شمار پر نظر ڈالیں تو ان او بی سی لیڈروں کا ووٹ بینک ایک ساتھ ہونے کی صورت میں این ڈی اے پر بھاری پڑتا ظاہر ہوتا ہے۔ 2014ء کے عام چناؤ میں بہار میں بھاجپا اور اس کی ساتھی ایل جے پی اور دوسری پارٹی کو قریب39 فیصدی ووٹ ملا۔ اس کے مقابلے میں آر جے ڈی، کانگریس، این سی پی اتحاد کو 30 فیصد ووٹ اور جنتا دل (یو) اور بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی اتحاد کو 17 فیصد ووٹ ملے۔ پچھڑے فرقے کے ان سرکردہ لیڈروں کو اب ایک ساتھ آنے سے موٹے طور پر ووٹوں کی یہ بنیاد47 فیصدی بیٹھتی ہے۔ حالانکہ کٹر مخالفوں کے ایک ساتھ آنے سے اسمبلی انتخابات میں بھی اس ووٹ بینک کے بنے رہنے پر سوال ضرور کھڑا ہوتا ہے؟21 اگست کو بہار میں 10 سیٹوں پر چناؤ ہونے والے ہیں ان میں بھاگل پور، بانکا، چھپرا، حاجی پور،موہنیا ، مٹکیا گنج، جالے، دربھنگہ، وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ آر جے ڈی اور جنتادل (یو) 4-4 سیٹوں پر جبکہ کانگریس2 سیٹوں پر چناؤ لڑ رہی ہے۔ سنیچر کو بی جے پی کی نیشنل اسمبلی کی میٹنگ میں پارٹی کے نئے پردھان امت شاہ ، نتیش ، لالو، کانگریس مہا اتحاد پر تلخ تبصرہ کیا ہے اور اسے سیاسی طور پر مسترد کردیا ۔ امت شاہ کے بیان سے اشارہ ہے کہ اسی چناؤ میں بی جے پی نے بھلے ہی لوگوں کی چنوتی قبول کی ہے ساتھ ہی یہ اشارہ بھی دے دیا ہے کہ پارٹی اس چناؤ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ بہار کی سیاست میں طوفان لانے کا ارادہ رکھتے ہوئے لالو۔ نتیش اتحاد کو حاجی پور میں عوام نے وہ گرمی نہیں دکھائی جس کی امید تھی۔ ان دونوں لیڈروں کے اس غیر متوقعہ ملن میں مشکل سے دو ہزار لوگوں کی بھیڑ اکھٹی ہوئی اور میدان خالی نظر آیا۔ بہار کے بھاجپا لیڈروں کی مانیں تو جانتا نے لالو پرساد۔ نتیش کمار اور کانگریس اتحاد کو سرے سے خارج کردیا ہے۔ بھاجپا ودھان منڈل کے لیڈر سشی کمار مودی کے مطابق گلے ملنے سے لالو ۔ نتیش کے پاؤں نہیں پھولیں گے۔ اگر لالو نے منڈل کا جھانسہ دیکر15 سال تک بہار کو یرغمال بنائے رکھا تو نتیش کمار نے سیکولر ازم کابہانہ بنا کر جنگل راج ۔2 کی مہم تیار کرلی ہے۔ دونوں کی سیاسی مجبوری پیدا کرنے کیلئے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ان کا ملن بھرت ملاپ نہیں بلکہ بھرت ۔دریودھن کا ملاپ ہے۔ ریلی کو سپر فلاپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو ماہ سے جنگل راج ۔2 کا ٹریلر چل رہا تھا آج جنتا نے سامنے دیکھ لیا ہے۔ ترقی کو پٹری سے اتار کر تباہی کی طرف لے جانے کا ٹریک ریکارڈ رکھنے والی طاقتوں نے نتیش کمار سے ہاتھ ملا لیا ہے۔
(انل نریندر)

کھرکھودا گینگ ریپ تبدیلی مذہب میں نیا موڑ، آخر سچائی کیا ہے؟

تھانہ کھوکھودا علاقے کے گاؤں سرابہ کی ایک لڑکی کے ساتھ ہوئی اجتماعی آبروریزی و تبدیلی مذہب کے معاملے میں جنگ سڑک سے لیکر پارلیمنٹ تک پہنچ گئی ہے وہیں اس معاملے میں روز ایک نئی کہانی سامنے آرہی ہے۔ اترپردیش سرکار نے مرکز کو جو رپورٹ بھیجی ہے اس میں لڑکی کے اغوا کی بات کیوں نکال دی گئی ہے جبکہ معاملے کا خلاصہ کرنے کا دعوی کرتے ہوئے پولیس نے لڑکی کا زبردستی تبدیلی مذہب سے انکارکیا ہے۔ جمعہ کو میرٹھ کے ایس ایس پی نے آناً فاناً میں بلائی پریس کانفرنس میں اجتماعی آبروریزی تبدیلی مذہب کی کہانی مسترد کرنے کیلئے کریم نام کے ایک کردار کو جوڑا تو متاثرہ کے وکیل نے لڑکی کے کورٹ میں دئے گئے بیان کی تصدیق شدہ کاپی میڈیا کو دستیاب کرادی۔ پولیس کے مطابق جہاں کریم اسے آپریشن کرانے کیلئے لے گیا تھا وہیں لڑکی نے کورٹ میں دئے اپنے بیان میں کہا کہ اس کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ہوئی۔ کورٹ میں دئے گئے بیانوں میں جہاں اجتماعی آبروریزی میں شانو نام کے ایک لڑکے کی اینٹری ہوئی ہے تو پولیس نے کلیم کو اس کانڈ میں نئے شکار کے طور پر پیش کردیا۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ دونوں ہی شخص ابھی تک نہ تو ایف آئی آر میں تھے اور نہ ہی ان کے رول پر پولیس نے کوئی جانچ کی تھی۔ اس طرح یہ معاملہ پیچیدہ ہوگیا ہے کیونکہ پولیس نے تبدیلی مذہب کی تھیوری کو مسترد کردیا۔ کریم کو سامنے لاکر اغوا کی تھیوری بھی مسترد کردی۔ پولیس جسے بنیادی ملزم بتا رہی تھی وہ ثناء اللہ حرف حافظ نام کا شخص، کورٹ میں دئے گئے بیان کی بنیاد پرصرف اس کے پرائیویٹ حصے سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا اور اجتماعی آبروریزی و اغوا میں ساتھ رہنے والا ایک ساتھی ملزم ثابت ہوتا ہے۔ تبدیلی مذہب کے اس معاملے میں متاثرہ لڑکی کا اغوا نہیں ہوا تھا۔ جس دوران اس کے اغوا کی بات کہی جارہی تھی اس وقت وہ میرٹھ میڈیکل کالج میں بھرتی تھی۔ اس بات کی تصدیق لڑکی کے بیان و میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں سے ہوچکی ہے۔ یہ ثبوت اس رپورٹ میں شامل ہیں جو ریاستی سرکار نے جمعہ کو مرکز کو بھیجی ہے۔ جمعہ کو لکھنؤ کے میڈیکل سینٹر میں ہوم سکریٹری کمل سکسینہ نے کہا کہ لڑکی کے والد نے پہلے 31 جولائی کو گمشدگی کی اطلاع دی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کی بیٹی 20 جولائی سے لاپتہ ہے۔ ہوم سکریٹری نے بتایا کہ لڑکی کے والد نے اس کے بعد3 اگست کو مقدمہ درج کرایا کہ ان کی بیٹی 23 جولائی سے لا پتہ ہے۔ اس میں اغوا کا اندیشہ ظاہر کیاگیا ہے۔ سکسینہ کا کہنا ہے کہ لڑکی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ کریم نام کے ایک شخص کے ساتھ 23 جولائی کو میرٹھ میڈیکل کالج میں بھرتی ہوئی تھی جہاں اس کا آپریشن ہوا اور وہ کچھ دنوں تک ہسپتال میں بھرتی رہی۔ ہوم سکریٹری نے بتایا جانچ پڑتال میں سامنے آیا ہے کہ لڑکی غلط نام سے کھرکھودا کے باشندے کریم کی بیوی بن کر ہسپتال میں داخل ہوئی تھی۔اس متاثرہ لڑکی نے قبول کیا ہے کہ ہسپتال میں لڑکی کے ساتھ کریم کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا۔ ایسے میں اگر اس کا اغواہوا ہوتا تو وہ شور شرابہ کر سکتی تھی۔ پولیس نے یو ٹرن لیتے ہوئے میڈیا کے سامنے دعوی پیش کیا کہ لڑکی کو نہ تو مدرسے میں اور نہ ہی مظفر نگر میں لایا گیا تھا بلکہ وہ خود کریم کے ساتھ میرٹھ کے لالہ لاجپت رائے میڈیکل کالج گئی تھی جہاں اس کا آپریشن کر اس کی فیلو پن ٹیوب نکالی گئی کیونکہ وہ حاملہ تھی اور بچہ فیلو پن یو ٹیوب یعنی بچے دانی میں پھنسا ہوا تھا جس سے اس کی جان خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ سوال اٹھتا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کی کونسی کہانی سچی ہے؟ اگر نئی کہانی سچ ہے تو پھر اب تک جیل بھیجے گئے ملزم کیا بے قصور ہیں؟ تبدیلی مذہب کے کاغذات تیار کرنے میں جیل بھیجے گئے وکیل اور نوٹری کو بھی جیل بھیجا جاچکا ہے۔ کریم نام کا شخص کون ہے اور اسکا متاثرہ لڑکی سے کیا رشتہ ہے؟ پولیس کی کہانی سامنے آنے کے بعد اس کانڈ کا سب سے اہم دستاویز متاثرہ کا کورٹ میں دیا گیا بیان ہے جس کی بنیاد پر قانونی طور پر الزام طے ہوتے ہیں کیونکہ عدالت مانتی ہے پولیس کو دئے گئے بیان دباؤ میں یا بہلا پھسلا کر یا پھر پولیس کی من گھڑت کہانی ہوسکتی ہے۔ کھرکھودا کے اس معاملے میں سچائی کیا ہے؟ شاید عدالت کی سچائی کو سامنے لا سکے۔
(انل نریندر)

12 اگست 2014

امریکہ کی عراق میں مداخلت مجبوری بن گئی ہے!

تین سال بعد امریکہ مسلسل خراب ہوتے ماحول کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر عراق جنگ میں کود پڑا ہے۔ اس نے اربل کے قریب شمالی عراق میں آئی ایس آئی ایس کے آتنکی کے خلاف جمعہ کو دو ایف جنگی ۔18 جہازوں نے 500 پاؤنڈ وزن کے لیزر بم گرائے۔ اس حملے میں 55 آتنک وادی مارے گئے 60 زخمی ہوئے۔ امریکی حملے کی وجہ یہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے لڑاکو نے موصول کے پاس عیسائی آبادی والے سب سے بڑے شہر قراقوش پر قبضہ کرلیا ہے۔ سنجار کی پہاڑیوں پر 48 گھنٹے سے 30 ہزار خاندان بھوکے پیاسے پھنسے ہوئے ہیں۔ اس میں25 ہزار بچے ، عورتیں شامل ہیں۔ 70 بچوں کی موت تو بھوک پیاس کی وجہ سے اور دم گھٹنے سے ہوچکی ہے۔500 مردوں کا قتل کردیا گیا ہے۔ آتنکیوں کے حملوں سے بچنے کے لئے ایک لاکھ عیسائی پہاڑی میں چلے گئے ہیں۔ اوبامہ کے اعلان سے پہلے ہی امریکی جنگی جہاز الرٹ ہوچکے تھے۔ اس کے C-17 اورC-130 جہاز 20060 لیٹر صاف پانی اور 8 ہزار کھانے کے پیکٹ گرا چکے تھے۔ دراصل آئی ایس آئی ایس کے آتنکی کرد علاقے کی راجدھانی اربل تک پہنچ گئے ہیں۔ یہاں نہ صرف امریکی قونصل خانہ ہے ساتھ ہی یہاں امریکہ کا زونل سب سے بڑا فوجی اڈا بھی ہے۔ اربل میں امریکہ کے ایک ہزار لوگ جن میں امریکی فوجی مشیر ڈپلومیٹ و ان کے کنبے والے موجود ہیں، اس لئے امریکہ نے دوہرے مقصد سے یہ حملے کئے ہیں۔ پہلا تو عیسائیوں سے راحت پہنچانا ہے دوسرا اپنے اڈے و موجود امریکی شہریوں کو بچانا ہے۔ کرد علاقے میں 45 ارب بیرل تیل کا ذخیرہ ہے جسے بچانا ضروری ہے۔ قارئین کو یاد کرادیں کہ آئی ایس آئی ایس آخر ہے کیا؟ شام و عراق میں اسلامی حکومت قائم کرنے کیلئے جہاد چھیڑنے والی یہ کٹر سنی تنظیم پہلے اسلامک اسٹیٹ آف شام اینڈ عراق کے نام سے جانی جاتی تھی۔ شام سے لیکر عراق کے فاضولا تک قریب ایک ہزار کلو میٹر کے علاقے پر قبضہ جمانے کے بعد اس کا سرغنہ ابو برق البغدادی نے خود کو مسلمانوں کا خلیفہ اعلان کردیا اور اس تنظیم کا نام بدل کر اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کردیا ہے۔ آئی ایس خاص طور پر شیعوں اور یہودیوں سے نفرت کرتی ہے جنہیں وہ نقلی مسلمان مانتی ہے۔ بغدادی صاف کہہ چکا ہے اس کا نشانہ شیعوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کا خاتمہ کرکے کٹر سنی ملک قائم کرنا ہے۔ یہ نجف اور کربلا کو بھی نیست و نابود کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔ تنظیم اس سے پہلے بھی کئی تباہ کن واردات انجام دے چکی ہے۔ ابھی تک عراقی اور شامی فوج پر حملہ کرتاتھا لیکن حال ہی میں اس نے کردوں پر بھی حملے شروع کردئے ہیں۔ امریکہ کے حملے سے بوکھلائے ابوبرق البغدادی نے جمعہ کو ایک پیغام بھیجا۔ اس میں لکھا ہے یہ پیغام امریکہ کیلئے ہے۔ سنی تمہاری طرف سے جو بھی لڑ رہے ہیں وہ تمہیں عراق اور شام میں کوئی فائدہ نہیں دینے والے ہیں۔جلد ہی تمہارا سامنا سیدھے اسلام کے بندوں سے ہوگا جنہوں نے خود کو اس دن کے لئے تیار کر رکھا ہے، ہم تم سے جنگ لڑیں گے۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے عراق کے کئی شہروں میں قابض آئی ایس آئی ایس کے ٹھکانوں پر حملے کا فیصلہ اس لئے صحیح ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے شمالی عراق میں پھنسے ہزاروں لوگوں کی جان خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ یہ تعجب ہے کہ آئی ایس آئی ایس عراق کے سبھی مذہبی گروپوں پر یہاں تک کہ شیعوں کا بھی قتل عام کررہی ہے لیکن عالمی برادری ایک لفظ بھی بولنے کو تیار نہیں ہے، کسی طرح کی کارروائی کرنا تو دور کی بات ہے۔ اقوام متحدہ بھی اس قتل عام پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ امریکہ ابھی تک مشکل میں تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ عراق کی صورتحال کیلئے وہ ہی ذمہ دار ہے۔ کچھ عرصے تک عراق میں فوجی مداخلت کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑی تھی۔ ٹھیک ویسی ہی افغانستان میں چکانی پڑ رہی ہے۔ یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ 2011 ء میں امریکی فوج عراق کو جس حالت میں چھوڑ کر وہاں سے گئی تھی آج عراق تقریباً اسی حالت میں پہنچ گیا ہے۔ امریکہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی پھر سے عراق میں مداخلت کرنی پڑ رہی ہے۔ اسی برس امریکہ افغانستان سے بھی نکلنا چاہتا ہے۔ تو کیا افغانستان اور عراق میں امریکی مداخلت سے جو نقصان ہورہا ہے ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں عراق میں جو جنگ لڑی جارہی ہے اس میں تیزی آئے گی اور دیکھنا یہ ہوگا امریکہ کس حد تک اس میں کودنے کو تیار ہوگا؟
(انل نریندر)

دہلی میں ای رکشہ کے فائدے نقصان اور حل ضروری!

اس میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی کہ ای رکشہ چلنے سے دہلی کی جنتا کوفائدہ تو ہوا لیکن ان سے ہونے والے نقصان کو ختم کرنے کیلئے سخت قواعد بنانے کی ضرورت ہے۔ایک ای رکشہ پر ڈرائیور کے ساتھ 4 سے5 (کبھی کبھی) اس سے زیادہ لوگ سوار ہوتے ہیں لیکن خراب کوالٹی والے رکشہ اتنا بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتے اور ایسے میں سڑک حادثوں کا خطرہ بنا رہتا ہے۔ کئی رکشہ والے تو پورے کنبے کو(7-8 لوگوں کو) بھی بٹھا لیتے ہیں۔ اب تو یہ مال کی ڈھلائی میں بھی استعمال ہونے لگے ہیں۔ ای رکشہ چلانے پر کہیں بھی روک نہیں ہے۔ مین روڈ پر یہ ٹریفک جام کرتے ہیں تو تنگ گلیوں میں چلنے سے وہاں بھی ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ای رکشہ کا فی الحال کوئی رجسٹریشن نہیں ہے اور نہ ہی انہیں چلانے کے لئے ڈرائیور کو لائسنس لینا ضروری ہے۔ ان کے روٹ بھی طے نہیں ہوتے۔ زیادہ تر ای رکشہ منمانی ڈھنگ سے اپنی مرضی سے مختلف روٹوں پر چلتے ہیں اور اس سے ٹریفک قواعد کی کھلے عام خلاف ورزی ہوتی ہے۔ کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ چالان نہیں ہوسکتا۔ ای رکشہ کا بیمہ بھی نہیں ہوتا۔ ایسے میں سڑک حادثے میں بیمہ کمپنی سے کلیم نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری طرف ای رکشہ سے کئی فائدہ بھی ہوئے ہیں۔ ان میں تیز لائٹ بھی نہیں ہوتی ۔ خاص طور پر میٹرو اسٹیشن کے آس پاس علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو اسٹیشن پہنچانے میں بھی یہ دوڑ رہے ہیں۔ جس دوری کے لئے سائیکل رکشہ 30-40 روپے ،آٹو رکشہ80 روپے لیتا ہے ، اسی دوری کے لئے ای رکشہ 10 روپے فی سواری سے کام چل جاتا ہے۔ حالانکہ کبھی کبھی دوسری سواریوں کے بیٹھنے کے لئے انتظام بھی کرنا پڑتا ہے۔ دہلی میں 1 لاکھ سے زیادہ ای رکشہ چلتے ہیں۔ فی الحال ان پر عدالت نے عارضی روک لگائی ہوئی ہے مگر ان رکشاؤں کے بند ہونے سے 1 لاکھ پریواروں کی روزی روٹی خطرے میں پڑ گئی ہے جن کی پرورش اس کی آمدنی پر منحصر ہے۔60 ہزار سے 1 لاکھ روپے میں ملنے والے اس ای رکشہ کو خرید کر یا فائننس کراکر بڑی تعداد میں دہلی کے بے روزگار کام پر لگ گئے ہیں۔ دعوی یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ای رکشہ کے چلنے کے بعد بے روزگاری کم ہونے میں مدد ملی ہے۔ کل ملا کر ہم دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے سے متفق ہیں۔ بغیر قاعدے قانون کے ای رکشہ چلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت کا کہنا ہے بغیر رجسٹریشن ، بیمہ، ڈرائیونگ لائسنس کے رکشہ چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جسٹس بی۔ڈی۔ احمد اور جسٹس سدھارتھ مردل کی ڈویژن بنچ کے سامنے مرکزی سرکار کی طرف سے کہا گیا ہے کہ 50 ہزار رکشہ مالکوں کی روزی روٹی کا سوال ہے تو عدالت نے جواب میں کہا دوسری طرف ای رکشہ میں بیٹھنے والے لوگوں اور سڑک پر چلنے والے لوگوں کی زندگی کا بھی سوال ہے جو ان رکشاؤں کی وجہ سے خطرے میں پڑتی ہے۔ مرکزی سرکار نے سماعت کے دوران ڈرافٹ گائڈ لائنس بھی پیش کی ہیں جس کے تحت بتایا گیا ہے کہ ای رکشہ کو موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت لایا جارہا ہے۔ ای رکشہ کی زیادہ سے زیادہ اسپیڈ25 کلو میٹر فی گھنٹہ رکھی گئی ہے۔ ساتھ ہی زیادہ سے زیادہ سواری 4 ہونی چاہئے اور لوڈ50 کلو رکھنے کی بات ہے۔ وزارت ٹرانسپورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گائڈ لائنس کو پوری طرح تیار کرنے میں دو مہینے لگیں گے۔ تب تک ان کو چلانے پر لگی پابندی ہٹنی چاہئے۔ اب دیکھتے ہیں مسئلے کا کیا حل نکلتا ہے؟
(انل نریندر)

10 اگست 2014

ڈاکٹر کملا بینی وال کی برخاستگی پر مچا وبال!

ا س میں کوئی شک نہیں کہ مودی سرکار اب کانگریس کے خلاف حملہ آور موڈ میں آگئی ہے۔ اس کی ایک مثال ہے میزورم کی گورنر کملا بینی وال کی برخاستگی۔ کانگریس اسے بدلے کی بھاؤنا بتا رہی ہے تو سرکار نے صفائی دی ہے کہ انہیں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہٹایا گیا ہے۔ بینی وال کی مدت کارمحض دو مہینے بچی تھی۔ پہلے انہیں گجرات سے ہٹایا گیا اور اب انہیں میزورم سے برخاست بھی کردیا گیا ہے۔ اپوزیشن نے شکروار کو پہلے سنسدمیں اس مدعے کو اٹھانے کے بارے میں سوچا لیکن وزیر قانون روی شنکر پرساد نے سنسد کے باہر اپوزیشن لیڈروں کوبینی وال کی فائل کے اہم حصے دکھادئے۔ان پر سنگین الزام لگے ہیں۔ عزت مآب راشٹرپتی پرنب مکھرجی نے فائل پر ہاتھ سے لکھا ہے کہ پیش ثبوتوں سے میں مطمئن ہوں اور انہیں دیکھنے کے بعد میں انہیں برخاست کرنے کی سفارش کو منظور کرتا ہوں۔ بینی وال دراصل راجستھان کی کانگریسی نیتا رہی ہیں۔وہ پچھلے45 سال سے وہاں کانگریس کی ہر سرکار میں منتری رہی ہیں۔انہوں نے کسانوں کو سستی شرح پر زمینوں کی الاٹمنٹ میں جھوٹا حلف نامہ دے کر ایک ایکڑ زمین ہتھیالی۔ جے پور میں اس حلف نامے میں بینی وال نے لکھا ’میں 14 سے 16 گھنٹے اس زمین پر محنت کرتی ہوں ‘ جبکہ اس دوران وہ راجستھان کی منتری رہیں۔ معاملے میں مقامی کورٹ نے پولیس کوجانچ کے احکامات دئے تھے اور معاملہ عدالت میں چل رہا ہے۔ اب جب وہ گورنر نہیں رہیں ممکن ہے کہ عدالت اس کیس میں انہیں سمن کرے۔گجرات میں گورنر رہتے ڈاکٹر کملا نے سرکار جہاز کا نجی سفر کیلئے استعمال کیا۔ وہ 2011 سے2014 کے درمیان 63 بار راجیہ کے سرکاری جہاز سے گئیں۔ ان میں 63 بار تو جے پور کا سفر تھا اور 9 بار دہلی۔ اس پر 8.5 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نریندر مودی سے ان کے زبردست اختلافات تھے۔ مودی نے انہیں ہٹانا تو تھا ہی ،بس موقعہ مل گیا اور انہوں نے اپنا داؤں چل دیا۔جب ڈاکٹر کملا گجرات کی گورنرتھیں تو مودی سے مشورہ کئے بنا اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاتے ہوئے اگست2011ء میں جسٹس اے۔مہتہ کو گجرات کا لوک آیکت بنایا۔ ریاستی سرکار نے اسے ہائی کورٹ پھر سپریم کورٹ میں چنوتی دی۔ حالانکہ بعد میں مہتہ نے خود ہی عہدہ سنبھالنے سے انکار کردیا۔ لوک آیکت تقرری تنازع کے بعد گجرات سرکار نے نیا ایکٹ پاس کیا۔ اس میں لوک آیکت کی تقرری کے لئے مکھیہ منتری کی صدارت میں پانچ ممبری کمیٹی کا بندوبست کیا گیا،ڈاکٹر کملا نے اسے منظور نہیں کیا۔ گجرات سرکار نے ایک ہی ایکٹ میں ووٹنگ کو لازمی کرنے اور خواتین کو50 فیصد ریزرویشن کی منظوری دی لیکن ڈاکٹر بینی وال نے ایکٹ کو لوٹادیا۔ ریاستی سرکارکو کہا کہ الگ الگ قانون لائیں۔ ڈاکٹربینی وال صدر جمہوریہ کی نمائندہ کم اور کانگریس کے سیاسی ایجنڈے کو بڑھانے میں زیادہ لگی رہیں۔ اس کے علاوہ جولائی میں گجرات کے چیف سکریٹری نے مرکز کو بینی وال کے خلاف شکایتوں کی لمبی فہرست بھیجی تھی۔ ہمارا آئین گورنروں کی تقرری اور برخاستگی کی طاقت صدر جمہوریہ ہند کو دیتا ہے۔ آج کانگریس اپنے ہی چنے گئے صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کی طاقت پر سوال کھڑا کررہی ہے۔صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کی نہ تو نیت پر شک کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی سیاسی قابلیت پر۔ جب وہ کملا بینی وال کے خلاف پیش ثبوتوں کو دیکھنے کے بعد لکھتے ہیں کہ میں مطمئن ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ ثبوتوں میں اتنا دم ہے کہ کملا بینی وال کی برخاستگی شخصی بدلے کی بھاونا سے کی گئی کارروائی نہیں ہے۔ جیسا میں نے کہا کہ نریندر مودی کو بہانا چاہئے تھا اور جب انہیں یہ مل گیا تو انہوں نے اپنا داؤ چل دیا۔المیہ دیکھئے کہ جس مبینہ انداز کو لیکر بھاجپا سپریم کورٹ گئی تھی کانگریس کے ذریعے این ڈی اے گورنر کی برخاستگی کو لیکر آج وہ کانگریس اسی سپریم کورٹ کے فیصلے کی دہائی دے رہی ہے۔ مودی سرکار کو پورا حق ہے کہ وہ ڈاکٹر کملا بینی وال کو برخاست کرے۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ آج کانگریس اسے سنسد میں نہیں سنسد کے باہر رونے کا ناٹک کررہی ہے۔
(انل نریندر)

اگر جرم کے مطابق سزا ہوگی تو نابالغ مجرموں پر لگام لگے گی!

مودی سرکار کی تعریف کرنی ہوگی کہ نابالغ مجرموں کو سزا دینے کے معاملے میں بدلاؤ کرنے کی اس نے اچھا شکتی دکھائی ہے اور اس حساس مدعہ پر ضروری بدلاؤ کرنے کی قواعد کی ہے۔ نابالغ نوجوانوں کے ذریعے کئے جارہے سنگین مجرمانہ واقعات پر قابو پانے کیلئے کیندر سرکار نے جوئینائل جسٹس ایکٹ میں بدلاؤ کیلئے جو منظوری دی ہے اس کا سواگت کیا جانا چاہئے۔ گذشتہ کچھ وقت سے نابالغ مجرموں کی شمولیت جس طرح سنگین وارداتوں میں سامنے آرہی ہے اس سے پورا دیش فکرمند ہے۔ کیبنٹ کے فیصلے کے بعد جب سنسد سے یہ پاس ہوجائے گا تو موجودہ قانون میں یہ بدلاؤ آئے گا۔ جوئینائل جسٹس بورڈ نابالغوں کے جرم کی سنگینی دیکھ کر یہ طے کرے گا کہ انہیں سدھار گرہ بھیجا جائے یا عام عدالت میں ان کا معاملہ چلے گا۔ ابھی جو قانون ہے اس میں 18 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کو ان کے جرم کی سزا سدھار گرہ میں رہ کر بھگتنی پڑتی ہے۔جوئینائل جسٹس ایکٹ میں بدلاؤ کی یہ پہل دراصل وقت کی مانگ ہے۔ دہلی گینگ ریپ معاملہ ہمارے سامنے ہے۔ اس گھناؤنی واردات کا ماسٹر مائنڈ اس لئے آسانی سے چھوٹ گیا(تین سال کی سزا)کیونکہ وہ موجودہ قانون کے تحت نابالغ تھا۔میرا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ جب نابالغ ایسے سنگین جرم کو پلان کرسکتا ہے جو ایک بڑا آدمی بھی نہیں کرسکتا، تو وہ نابالغ کیسے کہا جاسکتا ہے؟ عمر کے حساب سے سزا نہیں ملنی چاہئے بلکہ جرم کی سنگینی کو دیکھ کر۔ سچائی یہ ہے کہ سالوں سے سنگین جرائم میں نابالغوں کی شمولیت کی شرح چونکانے والی حد تک بڑھی ہے۔ یہی نہیں جرم کو انجام دینے میں اب ان کی عمر آڑے نہیں آتی بلکہ سنگین جرائم میں ان کی سنگینی کئی بار پیشہ ور مجرموں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ خود سپریم کورٹ کہہ چکا ہے کہ نابالغوں کے ذریعے انجام دئے جانے والے سنگین اور کم سنگین جرائم کے درمیان فرق کرنا چاہئے۔ خواتین کے خلاف جس طرح جرائم بڑھ رہے ہیں اس پر فوری روک لگانا بہت ضروری ہے۔ممکن ہے بڑوں کی غلط صحبت میں آنے کے بعدمجرمانہ ذہنیت کے نابالغوں کو اس بات کا علم بھی کہیں نہ کہیں ہوتا ہے کہ کم عمر ان کے جرم کی سزا کم کرنے میں معاون ہوگی۔ سرکار کے ذریعے پیش ترمیم کے لاگو ہونے کے بعد اب جوئینائل جسٹس بورڈ جرم کی سنگینی کا تجزیہ کرتے ہوئے نابالغ مجرموں کو بھی بالغ مجرموں کی عدالت کے تحت پیش کرنے کی سفارش کرسکے گا۔آئینی نقطہ نظر سے یقینی طور پر یہ ایک اچھا قدم ہے۔ وقت کے مطابق جوئینائل جسٹس ایکٹ کو بدلنا چاہئے لیکن کوشش یہ بھی ہونی چاہئے کہ یہ بدلاؤ اتنا بھی سخت نہیں ہونا چاہئے کہ نابالغ مجرموں کے سدھرنے کے امکانات ہی ختم ہوجائیں۔ قانون میں بدلاؤ کی قوت ارادی دکھاتے ہوئے بھی سرکار نے اس معاملے کی حساسیت کا پورا خیال رکھا ہے کیونکہ نئے قانون میں بھی جرم کی سنگینی جوئینائل جسٹس بورڈ ہی طے کرے گا۔ ایسے میں اس شک کا بھی کوئی آدھار نہیں ہے کہ حقیقی قانون سخت ہوگا یا نابالغوں کو سدھرنے کا موقعہ نہیں دے گا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ صرف قانون بدلنے سے نابالغ کے جرائم میں کمی نہیں آئے گی،اس کیلئے سماج کو بھی بدلنا ہوگا،انہیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...