Translater

05 نومبر 2016

وائٹ ہاؤس کی ریس آخری دور میں

دنیا کے سب سے طاقتور ملک کیلئے سب سے طاقتور صدر یعنی امریکہ میں صدارتی چناؤ اب تین یا چار دن دور رہ گیا ہے۔ 8 نومبر کو امریکہ کے صدر کے لئے چناؤ ہونا ہے۔ امریکی صدارتی چناؤ کیلئے ریپبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے۔ حالانکہ کے مئی کے بعد پہلی بار اپنے حریف اور ڈیموکریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن پر ڈونالڈ ٹرمپ نے 1 فیصدی نمبر کی تازہ سروے کے مطابق بڑھت بنا لی ہے۔ ایف بی آئی کی جانب سے ہلیری کے خلاف جانچ شروع کرنے سے شاید پانسہ پلٹ جائے کیونکہ اب تک ہلیری ہی آگے چل رہی تھیں لیکن ان کے ای۔ میل اسکنڈل نے ان کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور وہ یہ چناؤ ہار بھی سکتی ہیں۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار صدارتی عہدے کے لئے چناوی حکمت عملی کا اسٹینڈرڈ اس حد تک گراہے۔تین بحثوں میں بھی اس کی واضح چھاپ دکھائی دی۔ اب چناؤ کے بعد امریکہ جو تاریخ رقم کرے گا وہ پہلی بار ہی ہوگی۔ اگرچہ ہلیری کلنٹن چناؤ میں کامیاب ہوتی ہیں تو وہ امریکی تاریخ کی پہلی خاتون صدر ہوں گی اور دوسری جانب اگر ڈونلڈ ٹرمپ چناؤ میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ سب سے کم سیاسی تجربے والے صدر ہوں گے۔ چناؤ کے آخری مرحلوں میں کبھی کبھی ایسا جھٹکا لگتا ہے جس سے جیتی ہوئی بازی ہار جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ ہلیری کلنٹن کے ساتھ بھی ہو ا ہے۔صدارتی چناؤ کی ریس میں شروع سے ہی وہ لیڈ کررہیں تھیں لیکن انہیں ایف بی آئی نے ایسا جھٹکا دیا جس سے نکل پانا اب مشکل لگ رہا ہے۔ چناؤ کے کچھ دن پہلے ہلیری کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں کیونکہ ان کی معاون اور ان کے شوہر سابق صدر بل کلنٹن نے جس طرح سے لیپ ٹاپ کا مشترکہ استعمال کیا اس میں6 لاکھ50 ہزار سے زائد ای میل ملے ہیں۔ ایف بی آئی ان کی جانچ کرنے والی ہے۔ ایف بی آئی کو ان ای میل کی جانچ کرنے کے لئے ضروری سرچ وارنٹ بھی مل گیا ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے بھی ہے کہ ٹرمپ حمایتی کھلے عام دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر ہلیری کامیاب ہوتی ہیں تو ان نتیجوں کو نہیں مانیں گے اور بغاوت کریں گے۔ امریکن صدارتی چناؤ میں روسی صدر ولادیمیرپوتن کا مبینہ دخل بھی ایک اشو بن گیا ہے۔ ڈیموکریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کا الزام ہے کہ پوتن اس چناؤ میں اپنے اور روس کے دوست ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ الزام ہے کہ روس کے ہیکروں نے پوتن کی ہدایت پر ڈیموکریٹک نیشنل پارٹی کے اس میل کو لیک کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پارٹی خفیہ طور پر ہلیری کے مخالف بنے سینڈرس کو امیدواری نہیں دینا چاہتی۔ اس کے علاوہ وکی لکس کے ذریعے ہلیری کے امریکی خارجہ سکریٹری رہتے اپنے نجے سرور سے سرکاری ای میل کرنے کے خلاصے بھی روسی ہیکروں کے ہاتھ لگنا مانا جارہا ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ نے محض پوتن کو مضبوط اور پختہ فیصلہ لینے والا لیڈربتاکران کی تعریف کی ہے۔بلکہ اس کے جواب میں روس کے صدر نے بھی ٹرمپ کی تعریف کی تھی۔ ہلیری کے حمایتی مانتے ہیں کہ اگر ٹرمپ کامیاب ہوتے ہیں تو امریکی مفاد میں لئے گئے کئی فیصلے پلٹ دیں گے، خاص طور پربندوق اور دوا لابی کے دباؤ میں ٹرمپ دیش کی پالیسیوں کے ساتھ بڑے سمجھوتے کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ روس کے ساتھ پہلے ہی سے رشتے بڑھانے کی بات کر چکے ہیں۔ اس سے شام اور عراق کی مہم کمزور پڑ سکتی ہے۔ ڈیموکریٹک اس بات سے بھی فکر مند ہیں کہ اگر ٹرمپ کو میکسیکو دیوار بنانے یا مساجد پر نگرانی کی پہل کی کو امریکہ کو دنگے کی آگ میں جھونک دیں گے۔ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کیونکہ خاص طور سے ایک تاجر ہیں اس لئے انہیں عالمی امور ،نیٹو یا دیگر عالمی امور کی واقفیت کم ہے۔ اوبامہ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف انہوں نے حال ہی میں امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں و ساتھیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایشیا میں اقتدار تجزیئے سے جو جگہ خالی ہوگی اسے چین سے بھرا جاسکتا ہے۔ ہلیری یا ٹرمپ کوئی بھی کامیاب ہو امریکہ نئی تاریخ رقم کرے گا۔
(انل نریندر)

دنیا کے بڑے گھوٹالوں میں سے ایک وقف پراپرٹی

پچھلے کچھ عرصے سے وقف پراپرٹی پر تنازعہ سرخیوں میں ہے۔ وقف بورڈ ہے کیا؟ میں نے شری فیروز بخت احمد کے اس مضمون کو پڑھاجس کے مطابق وقف کی تاریخ تقریباً 1 ہزار برس پرانی ہے۔ وقف کا مطلب ہے ایسا پیسہ ۔ پراپرٹی جس کو غریب مسلمانوں، بیواؤں، طلاق شدہ خاتون، بے سہارابچوں وغیرہ کے اوپر خرچ کیا جائے۔ قرآن شریف میں صاف طور پر بیان کیا گیا ہے’ تمہاری مال و دولت میں غریبوں کا حصہ بھی ہے جو کو دینا تمہارا فرض ہے۔‘(سورۃ۔26 :آیت 19 ) اسی طرح سے ایک جگہ پر قرآن پاک میں لکھا ہے ’اگر تم اللہ کے قریب اچھے بندوں کی فہرست میں رہنا چاہتے ہو تو اپنی کمائی میں سے غریبوں کو عطیہ دو، جتنا ہو سکے زیادہ دو تاکہ اللہ بھی اسے دیکھے۔‘ (سورۃ۔3 : آیت 86) وقف دو طرح کا ہوتا ہے ایک تو وقف اللہ کے لئے دی جانے والی زمین، پراپرٹی دوسرا ہے وقف علاولادیعنی اپنے اولاد کے لئے زمین یا اثاثہ وغیرہ۔ وقفِ اللہ میں بادشاہوں ، نوابوں ،سرمایہ داروں وغیرہ نے ہمیشہ سے ہی اپنی پسماندہ قوم کے لئے زمین و جائیداد چھوڑی ہے۔ وقف جائیداد سے مدرسے و تعلیمی ادارے و پبلک ڈسپنسری، یتیم خانے، سرائے، پارک، مساجد، خانخاہیں، امام باڑہ وغیرہ وقتاً فوقتاً پر دئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ کے چاروں طرف مغل بادشاہوں سے لیکر دیگر خوشحال لوگوں نے بری جائیدادیں اللہ کے نام پر وقف کردی ہیں جس کی وجہ سے درگاہ کے آگے کا پورا بازار اس کی جائیداد ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں دنیا کے سب سے بڑے گھوٹالوں میں سے ایک ہے وقف کی املاک کا زبردست گھوٹالہ۔ جس میں 375 لاکھ روپے کی زمین جو ریکارڈ میں درج گھوٹالے بازوں کے حوالے کی جاچکی ہے۔ بھارت میں وقف بورڈ کی تقریباً 6 لاکھ ایکڑ زمین ہے اور تقریباً 14.5 لاکھ رجسٹرڈ جائیداد ہیں جس کا دل کھول کر تیا پانچا کیا جاچکا ہے یا کیا جارہا ہے اور آگے بھی کیا جاتا رہے گا۔ بیچارہ عام مسلمان وقف کے چکر میں یہ بھی نہیں سوچ پاتا کے یہ مذہبی معاملہ ہے اور اس کا حل بھی ٹھیک طریقے سے کیا جارہا ہے۔ اس بیچارے کو کیا معلوم کے اس کے بھولے پن کی آڑ میں کیا خطرناک کانڈ ہورہا ہے۔ اگر اتنی وسیع جائیداد کو ٹھیک ڈھنگ سے استعمال میں لایا جائے تو ہندوستانی مسلمانوں و مسلم سماج کی کایا پلٹ ہوسکتی ہے۔ اس کے وارے کے نیارے ہوسکتے ہیں۔ تقریباً 4 لاکھ کروڑ کی جائیداد کا محض کرایہ بھی ڈھنگ سے جمع کیا جائے تو مسلم طبقے کے سبھی بچوں کی انجینئرنگ، میڈیکل وغیرہ پروفیشنل تعلیم کا خرچہ آرام سے نکل سکتا ہے لیکن اس سسٹم کو صحیح کون کرے؟
(انل نریندر)

04 نومبر 2016

کیا ہم پاکستان کے ساتھ جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں

جموں و کشمیر سرحد پر ان دنوں خوفناک لڑائی چل رہی ہے۔ سرجیکل اسٹرائک سے بوکھلائی پاکستانی فوج اور جہادی تنظیم اب شہری عوام پر گولہ باری کرنے لگے ہیں۔ گاؤں کے گاؤں خالی ہورہے ہیں۔ ایک دن میں 8 شہریوں کا مارا جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ حالت کتنی سنگین ہے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ پچھلے20 برسوں میں یہ پہلا واقعہ ہے جہاں ایک دن میں اتنے شہری مارے گئے ہیں۔ پاکستان کی بوکھلاہٹ کا اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ بھارت کے ذریعے 29 ستمبر کی رات سرجیکل اسٹرائک کے بعد پاکستان کے ذریعے جنگ بندی کی 63 بار خلاف ورزی ہوچکی ہے جس میں 12 عام شہری موت کے شکار ہوئے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ہمارے جوان اس کا منہ توڑ جواب نہیں دے رہے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے مسلسل سرحد پار سے ہورہی فائرنگ کا بی ایس ایف کی طرف سے بھی معقول جواب دیا جارہا ہے۔ پچھلے11 دنوں میں پاکستان لگاتار جنگ بندی توڑ رہا ہے۔ بی ایس ایف نے پاکستان کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے 11 دنوں میں پانچ ہزار مورٹار داغے ہیں جبکہ35 ہزار سے زیادہ گولیاں چلائی گئیں ہیں۔ بی ایس ایف نے پاکستانی فائرننگ کے جواب میں 3 ہزار لانگ رینج کے مورٹار اور 2 ہزار شارٹ رینج کے مورٹار داغے ہیں۔ لانگ رینچ کے موٹار کی رینچ 5سے6 کلو میٹر جبکہ شارٹ رینج 900 میٹر تک ہوتی ہے۔ ا س کے علاوہ بی ایس ایف نے ایم ایم جی ، ایل ایم جی اور رائفل جیسے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔38 ہزار سے زیادہ گولیاں داغی گئی ہیں۔ بی ایس ایف کے مطابق زیادہ تر کراس بارڈر فائرننگ جموں کے سیکٹر میں ہورہی ہے۔ پاکستانی رینجرز خاص کر رات میں فائرننگ کررہے ہیں۔یہ فائرننگ آتنکی گھس پیٹھ کرانے کی کوشش بھی ہے۔ بی ایس ایف کی جوابی کارروائی میں اب تک کم سے کم 15 پاکستانی فوجیوں کے مارے جانے کا دعوی کیا جارہا ہے۔ 19 اکتوبر کے بعد مسلسل جاری پاکستانی فائرننگ میں بی ایس ایف کے 3 جوان بھی شہید ہوئے ہیں۔ پاکستان میں 11 دنوں کے اندر بین الاقوامی سرحد پر 63 بار جنگ بندی توڑی ہے۔ بی ایس ایف کے اے ڈی جے (ویسٹرن سیکٹر) ارون کمار نے بتایا کہ بھارتی فوجیں بھی پاکستانی فوج کو کرارا جواب دے رہی ہیں۔ پاک گولہ داغنے کے ساتھ مورٹار سے گولے برسا رہا ہے۔ کئی گاؤں میں تو کچھ گھروں کے اندر 100 کے آس پاس گولے گرنے کی بات سامنے آئی ہے۔ بستیوں پر غیر اعلانیہ حملے کا جواب دینا مشکل ضرور ہوتا ہے ۔ سرکار کی طرف سے لگاتار اعلی سطحی میٹنگوں میں حالات کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ہمارے سامنے سوال اب یہ ہے کہ ایسا کب تک چلے گا۔ تصور کیجئے جن لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر الگ رہنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے ان پر کیا بیت رہی ہوگی؟ کیونکہ گاؤں میں زیادہ تر کسان ہیں اس لئے ان کی فصلیں بھی تباہ ہورہی ہیں۔ مویشیوں کے لئے مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔ کیا ہم آہستہ آہستہ بھرپور جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
(انل نریندر)

اترپردیش اسمبلی چناؤ میں وکاس کا اشو حاشیے پر

سماجوادی پارٹی کی اندرونی رسہ کشی یا نورا کشتی کہیں ، نے صوبے میں فی الحال چناؤ میں وکاس کے اشو کو حاشیے پر لادیا ہے۔ پچھلے دو مہینے میں سپا کی اندرونی کھینچ تان سرخیوں میں ہے۔ چناؤ اتنے قریب آنے کے باوجود اب بھی چاچا بھتیجہ، والد بیٹا کی باتیں زیادہ ہورہی ہیں۔ اسمبلی چناؤ جیسے جیسے قریب آرہا ہے سیاسی پارٹیوں کا نظریہ بھی بدل رہا ہے۔ یوپی میں پارٹیاں بھلے ہی وکاس کے اشو پر چناؤ میں اترنے کا دم بھر رہی ہوں لیکن جس طرح صوبے کی سرگرمیاں جاری ہیں اسے دیکھتے ہوئے صوبے میں ذات ،مذہب اور جذباتی اشو پر ہی سیاسی گھمسان کے آثار زیادہ نظر آرہے ہیں۔ وکاس کا اشو لگتا ہے ایک بار پھر حاشیے پر رہنے کا امکان ہے۔ 2017ء میں یوپی کا اقتدار حاصل کرنے کی کوششوں میں کوئی پارٹی کثر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ چناؤ میں کامیابی کے معنی صرف یوپی کے اقتدار پر قابض ہونے تک محدود نہیں ہیں۔ سبھی پارٹیاں جانتی ہیں کہ اس چناؤ میں جیت سے نہ صرف راجیہ سبھا میں اس کی طاقت بڑھے گی بلکہ 2019ء کے لوک سبھا چناؤ کے لئے بھی بڑی بنیاد ہوگی۔ خاندانی رسہ کشی کا شکار سماجوادی پارٹی کے لئے جہاں آنے والا اسمبلی چناؤ سخت امتحان ہے وہیں بھاجپا کے لئے بھی یہ کم اہم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ایم مودی سمیت ان کے وزراء کی پوری فوج ماحول تیار کرنے میں لگ گئی ہے۔ کانگریس اور بسپا بھی پیچھے نہیں ہیں۔ راہل گاندھی نے کسان یاترا سے چناؤ مہم کا آغاز توکردیا۔ مایاوتی بھی ووٹروں کو اپنے پالے میں لانے کے لئے میدان میں اتر پڑی ہیں۔ وکاس کی بات کرنے والی پارٹیاں جس طرح سے ذات اور مذہبی تجزیوں کا فائدہ اٹھانے میں لگی ہیں اس وکاس کا اشو حاشیے پر رہے کے پورے آثار ہیں۔ بھگوا خیمہ جہاں پھر سے رام مندر، کامن سول کوڈ اور تین طلاق جیسے اشو کو زندہ کرکے ہندوتو کارڈ کھیلنے میں لگا ہے وہیں سپا، بسپا اور کانگریس برادریوں کی گول بندی اور خاص کر مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہیں۔ دو مہینے پہلے تک چناوی تیاریوں میں سپا دیگر پارٹیوں کے مقابلے کافی آگے چل رہی تھی۔ چناؤ سروے میں بھی اس کی پوزیشن بہتر بتائی جارہی تھی مگر یکدم نیچے آگئی۔ خاندانی لڑائی نے سپا کی ہوا فی الحال نکال دی ہے۔ جہاں دوسری پارٹیاں اپنی اپنی پارٹیوں کے ووٹروں پر پکڑ مضبوط کرنے میں لگی ہوئی ہیں وہیں سپا کے نیتا آپس میں ایک دوسرے سے نمٹنے میں الجھے ہوئے ہیں۔ چناوی مہم کے ذریعے دونوں سماجوادی پارٹی اور صوبے میں وکاس کا اشو کافی پیچھے چلا گیا ہے۔ حالانکہ وزیر اعلی اکھلیش یادو اب بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ چناؤ وکاس کے اشو پر ہی لڑیں گے۔
(انل نریندر)

03 نومبر 2016

شیوراج کی سرجیکل اسٹرائک پر سیاست

بھوپال جیل سے فرار سمی کے 8 دہشت گردوں کو پولیس نے 8 گھنٹے بعدہی انکاؤنٹر میں مار دینے کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ پھیلنی بھی تھی کیونکہ یہ معمولی واقعہ نہیں تھا۔ایسے خطرناک دہشت گردوں کے پہلے بار جیل سے بھاگنے اور پھر انکاؤنٹر میں مارے جانے کی کارروائی تو ہونی تھی۔ سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ پولیس نے ان دہشت گردوں کا فرضی انکاؤنٹر کرکے مار گرایا ہے؟ سوال یہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ ایک ساتھ جیل سے اتنی تعداد میں آتنک وادی کیسے بھاگے؟10 کلو میٹر دور تک کیسے پہنچے؟ ایک ہی جگہ سبھی کیسے مل گئے؟ انہوں نے جینس اور جوتے، گھڑیاں کہاں پہنیں؟ پولیس کا دعوی ہے کہ ان کے پاس 3 چاقو اور دیسی کٹے ہی ملے؟ یہ سوال اپنی جگہ صحیح بھی ہے۔ جس طرح یہ سمجھنا مشکل ہے کہ پہلے بھی جیل سے فرار ہو چکے سمی کے یہ خطرناک دہشت گردوں کو ان کے شاطرساتھیوں کے ساتھ ایک ہی بیرک میں کیوں رکھا گیا؟ یہ ان کی بیوقوفی یا مجبوری ہوسکتی ہے، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ سمی کے دہشت گرد تھے۔بننور سے ملی اطلاع کے مطابق مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے بھاگنے کے بعد پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ میں مارے گئے ممنوعہ گروپ سمی کے 8 دہشت گردوں میں سے 4 کافی عرصے تک بجنور میں رہ رہے تھے اور بم بنانے کی کوشش میں دھماکہ ہونے پر فرار ہوگئے تھے، جس جیل میں سمی کے خونخوار آتنک وادی قید ہوں اس کا سکیورٹی انتظام اتنا لچر کیسے تھا کہ ایک ہی سکیورٹی گارڈ کو گلا کاٹ کر آتنکی چادروں کو باند کر جیل پھلانگ گئے۔ بھولنا نہیں چاہئے کہ محض تین برس پہلے مدھیہ پردیش کے ہی کھنڈوا کی جیل سے سمی کے کچھ آتنک وادی ٹھیک اسی طرح فرار ہوگئے تھے جس میں7 افراد مڈبھیڑ میں مارے گئے، تین مشتبہ دہشت گرد بھی تھے۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن پارٹیاں اس مڈ بھیڑ پر سوال اٹھا رہی ہیں لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جیل سے فرار ہونے کے بعد یہ آتنک وادی کئی گھنٹوں تک بھٹکتے رہے جس سے اس اندیشے سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی بڑی واردات کو انجام دے سکتے تھے۔ سمی کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ جسے ستمبر2001ء میں امریکہ میں ہوئے آتنکی حملے کے بعد دہشت گرد تنظیم کی شکل میں پابندی لگائی گئی تھی۔ سال2008ء میں اسے کچھ ڈھیل ضرور دی گئی تھی مگر اس کے بعد اس کا نام دیش بھر میں ہوئے کئی آتنکی حملوں اور واقعات میں آتا رہا ہے اور اس پر پھر سے پابندی پوری طرح سے لگادی گئی تھی جو اب بھی لاگو ہے۔ حالانکہ پتہ نہیں چل سکا کہ مڈ بھیڑ کی نوبت کیوں آئی؟ کیا وہ ہتھیار سے مسلح تھے اگر تھے تو کیا ان کے پاس بم ،بندوق تھیں؟ ان سوالوں کا جواب جتنی جلدی آئے اتنا ہی اچھا ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک مشتبہ آتنک وادیوں کی موت پر سیاسی روٹیاں سینکنے سے بچا نہیں جاسکتا۔ ویسے ایسے واقعات پر کسی بھی طرح کے سیاسی الزام تراشی کرنے سے بہتر ہے کہ پہلے قومی سلامتی ایجنسی (این آئی اے) جسے جانچ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، کی رپورٹ کا انتظارکیا جائے۔ دیش سے بھاگے مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ ہوئی مڈ بھیڑ کی سچائی کچھ بھی ہو لیکن یہ صاف ہے کہ وہ بہت خطرناک تھے۔ اس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پابندی کے دور میں ہی سمی نے خود کو نہ صرف انڈین مجاہدین میں تبدیل کر لیا تھا بلکہ دائرہ بھی بڑھا لیا تھا۔بھوپال میں ڈھیر کئے گئے8 میں 3 کچھ برس پہلے اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ سنسنی خیز طریقے سے کھنڈوا جیل سے فرار ہوئے تھے۔ وہاں سے بھاگنے کے بعد انہوں نے دیش کے کئی حصوں میں کئی آتنکی وارداتوں کو انجام دیا تھا۔ انہوں نے بم دھماکے کئے، بینک لوٹے،اور دہشت گردی انسداد دستے کے پولیس ملازمین کو قتل کیا۔ وہ جہادیوں کی بھرتی کررہے تھے۔ قومی سطح پر کئی نیتاؤں کا قتل کرنے کے فراق میں تھے۔ یہ بھی صاف ہے کہ انتہائی محفوظ مانی جانے والی بھوپال سینٹرل جیل میں ایسے خطرناک دہشت گردوں پر جتنی اور جس طرح کی نگرانی رکھی جانی چاہئے تھی وہ نہیں رکھی گئی۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر دہشت گردوں کو عدالت سزا دے سکتی ہے لیکن سزا کٹے گی تو جیل میں ہے۔ ایسے میں بھوپال سینٹرل جیل کا یہ واقعہ خوف پیدا کرنے والا ہے۔
(انل نریندر)

باز نہیں آنے والے دہلی کے شہری

اس سال امید کی جارہی تھی کہ شاید پٹاخے،بم وغیرہ کم چھوڑے جائیں گے اور دہلی کی آب و ہوا اتنی آلودہ نہیں ہوگت لیکن ایسا نہیں ہوا۔ راجدھانی میں دیوالی پر آلودگی کی سطح پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہلی والے پٹاخے چھوڑنے کو لیکر بیدار نہیں ہوئے۔ خود کی صحت سے کھلواڑ کرنے پر آمادہ ہیں۔ اس دیوالی پر راجدھانی میں آلودگی کا گزشتہ تین برسوں کا ریکاڈر بھی ٹوٹ گیا جبکہ گوروگرام، فرید آباد میں بھی عام طور سے 6 گنا زیادہ آلودگی درج کی گئی۔ نوئیڈا اور غازی آباد میں بھی آلودگی عام دنوں کے مقابلے قریب تین گنا زیادہ درج کی گئی۔ اس آلودگی کے چلتے پیر کی صبح دہلی ۔ این سی آر کے کئی مقامات پر آلودگی ذرات 100 سے200 میٹر کے درمیان میں درج کئے گئے۔ حالت اس قدر بے قابو ہورہی ہے کہ دہلی کے زیادہ تر حصوں میں رات 2 بجے تک پٹاخوں کی آواز گھونچتی رہی۔ کہیں سے بھی کسی کارروائی کی بات سامنے نہیں آئی۔ اس سے صاف ہے کہ سپریم کورٹ کے رات10 بجے کے بعد پٹاخے چھوڑنے پر پابندی کو عمل میں لائے جانے کیلئے انتظامیہ کی طرف سے کوئی پہل نہیں ہوئی۔ دیوالی پر دہلی میں آلودگی سطح میں قریب21 گنا اضافہ ہونے کے بعد مرکز نے پنجاب، دہلی، ہریانہ، راجستھان اور اترپردیش کو سمن بھیجا ہے۔ 4 نومبر کو ان ریاستوں سے وابستہ سکریٹریوں کو پرالی جلانے پر پابندی کو موثر طور سے نافذ نہ کرنے کے سلسلے میں بلایا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں کھلے میدان میں ٹھوس کچرا جلانا، دہلی میں گاڑیوں کے ایندھن سے آلودگی ابخارات قومی راجدھانی میں سڑک کے کنارے اور تعمیراتی کام سے دھول اور دہلی کی پڑوسی ریاستوں میں پرالی جلانا آلودگی بڑھنے کے اہم اسباب ہیں۔ ان سب کے درمیان یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آب و ہوا کو صاف رکھنے کی ذمہ داری ہم سبھی کی ہے۔ ہرجگہ دیوالی کے دوران پٹاخے نہ جلانے کی اپیل کی جارہی تھی تو کیوں دہلی والوں کو اس کا ایک بار بھی خیال نہیں آیا کہ وہ جو کررہے ہیں اس سے سبھی کی صحت متاثر ہوتی ہے؟ لگتا ہے کہ انہیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں کہ صبح جب وہ سیر کرنے نکلیں تو انہیں صاف آب و ہوا ملے؟ کیا انہیں یاد نہیں کہ آلودگی کی وجہ سے 80 لوگوں کی روزانہ جان جاتی ہے؟ کیا وہ دہلی ہائی کورٹ کے اس ریمارکس کو بھول گئے کہ آلودگی کی وجہ سے لوگوں کی عمر پانچ سال کم ہورہی ہے۔ ہاں اطمینان یہ ضرور رہا کہ اس دیوالی، دسہرہ کے سیزن میں دہلی پولیس کا کردار لائق تحسین رہا۔ کوئی بھی دہشت گردانہ واقعہ نہیں ہوا اور چائنیز سامان کی فروغ میں 60 فیصد کمی آئی۔ اس دیوالی پر جوانوں کی بہادری پر بہت سے لوگوں نے سلام کیا۔
(انل نریندر)

02 نومبر 2016

پاکستان نے جنگ جیسے حالات پیدا کردئے ہیں

ہندوستان کے ذریعے کی گئی سرجیکل اسٹرائک کے بعد پاکستانی فوج بوکھلا گئی ہے۔ پاکستان نے ساری حدیں پار کردی ہیں اور سرحد پر جنگ جیسے حالات پیدا کردئے ہیں۔ سرحدی دیہات میں مسلسل گولہ باری سے حالات بگڑتے جارہے ہیں۔ پاکستانی فوج کی فائرننگ کی آڑ میں بھارت میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر بربریت کی ساری حدیں پار کردی ہیں۔ انہوں نے جموں وکشمیر کے ماگھت سیکٹر میں مڈ بھیڑ میں شہید ہوئے ہندوستانی جوان مندیپ سنگھ کی لاش بری طرح چھلنی کردی۔ڈیفنس ماہرین پاکستان کی بارڈر ایکشن ٹیم (بیٹ) کو اس وحشیانہ و بزدلانہ حرکت کا ماسٹر مائنڈ مان رہے ہیں۔ بیٹ پاکستانی فوج کا اسپیشل دستہ ہے جس میں فوجیوں کے ساتھ پاکستانی خفیہ آئی ایس آئی ٹریننگ یافتہ دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ یہ بھارت ۔ پاک سرحد پر چھاپہ مار جنگ میں اسپیشل سروس گروپ کے ساتھ کام کرتا ہے۔ آئی ایس آئی سرکاری خیمے کی اہم اطلاعات اکھٹا کرنے کیلئے بھی اس کی مدد لیتی ہے۔ پاک دہشت گردوں نے جمعہ کو لائن آف کنٹرول پر حملہ کیا۔ کپواڑہ کے بھبل سیکٹر میں دراندازی کررہے دہشت گردوں سے مڈ بھیڑ میں فوج کا ایک جوان مندیپ سنگھ شہید ہوگیا۔ ایک آتنکی بھی مارا گیا۔ آتنکوادیوں نے بھاگنے سے پہلے شہید فوجی کی لاش کو چھلنی کر اس کا سر بھی کاٹ دیا۔ اس دوران پاک فوج کی چوکی سے دہشت گردوں کو کور فائر دیا جارہا تھا حالانکہ ہندوستانی فوج نے شہید کا سر کاٹے جانے کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن کہا کہ اس بربریت کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ سرجیکل اسٹرائک کے ٹھیک چار مہینے بعد پاکستان نے یہ حرکت کی ہے۔ مسلسل جنگ بندی توڑنا پاکستان کو بھاری پڑ رہا ہے۔ بی ایس ایف کے ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل ارون کمار نے بتایا ہے کہ بھارت کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ میں 15 پاکستانی رینجر مارے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا وزارت داخلہ راجناتھ سنگھ نے پاکستان کو 10 گنا طاقت سے جواب دینے کا حکم دے رکھا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورس فائرنگ کی آڑ میں دہشت گردوں کو بھیج رہی ہے۔ سرحد پار بھی بھاری نقصان جھیل رہے پاک رینجرز بوکھلاہٹ میں ہیں اب وہ سکیورٹی فورسزکو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے فراق میں ہیں۔ ڈیفنس ذرائع کے مطابق سانبا سیکٹر میں پاکستان کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔ دراندازی بھی ناکام ہے۔ دراندازی نہ ہونے سے بوکھلائی پاک فوج اب شارپ شوٹر کی مدد لے رہی ہے۔ بھارت کی زبردست جوابی کارروائی سے ہمیں امید تھی کہ شاید پاکستان اب اپنی حرکتوں سے باز آئے؟ لیکن ایسا ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن پڑوسی دیش اس سے سبق لینے کو تیار نہیں ہیں۔ اپنی سرحد پر فوج کی تعیناتی بڑھادی ہے اور جنگ جیسے حالات پیدا کردئے ہیں۔
(انل نریندر)

عدلیہ اور ایڈمنسٹریٹیوسروس آمنے سامنے

کولیجیم کی سفارشوں کے باوجود مرکزی سرکار کی طرف سے ہائی کورٹ ججوں کی تقرری میں تاخیر پر سپریم کورٹ نے زبردست ناراضگی ظاہر کی ہے ۔ اس ناراضگی کو کچھ حد تک سمجھا جاسکتا ہے۔ ہمارے یہاں کی عدالتوں میں ججوں کی کمی اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ اس وجہ سے مقدموں کی سماعت میں برس اور دہائیاں لگ جاتی ہیں۔مرکز سے خفا سپریم کورٹ نے جمعہ کو یہاں تکپوچھ لیا کہ کیا حکومت دیش میں جوڈیشیل سسٹم پر تالے جڑنا چاہتی ہے؟ کیا اس کا ارادہ پورے عدلیہ سسٹم کو تباہ کرنے کا ہے؟ عدلیہ اور انتظامیہ کے موجودہ ڈیڈ لاگ کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ کولیجیم سسٹم پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو اصولی طور پر منظور کرنے کے باوجود سرکار عام طور پر اسے ماننے کو تیار نہیں دکھائی پڑتی۔ سرکار نے تقرری سسٹم کے دستاویز پر رضامندی نہ بھرنے کے سبب کولیجیم کی طرف سے 9 ماہ پہلے بھیجے گئے 77 ناموں میں سے ابھی تک18 نام ہی منظور کئے ہیں۔ سپریم کورٹ بار بار سرکار کوآگاہ کررہا ہے کہ کارروائی دستاویز پر اگر رضامندی نہیں بنتی تو کیا سرکار تقرریوں کو روکے رکھے گی؟ دراصل مرکزی سرکار نے جوڈیشیل تقرریوں میں شفافیت کیلئے پچھلے سال کولیجیم سسٹم کی جگہ جوڈیشیل تقرری کمیشن بنایاتھا لیکن سپریم کورٹ نے اسے اس بنیاد پر مسترد کردیا کہ جج چننے کے نظام میں سرکار کا رول جوڈیشیری سے زیادہ ہوجائے گا کیونکہ سپریم کورٹ کسی کو جواب طلب کرسکتی ہے اور اسے پھٹکار لگا سکتی ہے۔ اس لئے آئے دن کوئی نہ کوئی اس کی پھٹکار کے نشانے پر ہوتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آ ئینی اداروں کے مقابلے اس کی جوابدہی کم ہوجاتی ہے؟ اسے سوال کرنے کے ساتھ سوال سننے کا بھی حق چاہئے اور ان کا جواب بھی دینا چاہئے۔ وہ اس سے اچھی طرح باآور ہیں کہ جج صاحبان کی تقرری کے معاملے میں ڈیڈ لاگ کی ایک وجہ میمورنڈم آف پروسیجر کو قطعی شکل نہیں دیا جانا بھی ہے۔ میمورنڈم آف پروسیجر ججوں کی تقرری عمل سے متعلق ہے اور اس کی ضرورت اس لئے بھی پڑی کیونکہ ججوں کی تقرری سے متعلق آئینی ترمیم قانون کو خارج کرنے کے بعد خود سپریم کورٹ نے یہ مان لیا کہ کولیجیم سسٹم میں کچھ خامیاں ہیں اور ان خامیوں کو درست کرنے کیلئے اس نے ہی سرکار کو میمورنڈم آف پروسیجر بنانے کی ہدایت دی تھی جب سرکار نے اسے اس حساب سے تیار کردیا کہ ججوں کی تقرری کی عمل شفاف بنے تو سپریم کورٹ کو اس کے قواعد پر کوئی اعتراض نہ ہو تب سے یہ معاملہ لٹکا پڑا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ججوں کی موجودہ تعداد ضرورت سے 60 فیصدی کم ہے جو مقدموں کے فیصلوں میں دیری کی بڑی وجہ ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پہلے جج زیادہ تھے اور ان کے لئے عدالتوں میں چیمبر نہیں تھے۔ آج ججوں کی کمی کے سبب عدالتوں میں تالے لگے رہتے ہیں۔ ابھی مدراس ، کیرل، چنڈی گڑھ اور جھارکھنڈ کی ہائی کورٹس میں 26 ججوں کی تقرری جلد ی سے جلدی ہونی ہے، لیکن سرکار اس پر زیادہ سنجیدگی نہیں دکھارہی ہے۔ صاف طور پر موجودہ سرکار اور جوڈیشیری کے رشتے اسی طرح بگڑ رہے ہیں، جس طرح سے اندرا گاندھی کے عہد میں بگڑ گئے تھے اور اس کا کتنابڑا خمیازہ دیش کو بھگتنا پڑا تھا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں فریق مل بیٹھ کر رضامندی سے اس مسئلے کو نپٹائیں۔ اس معاملے میں اٹارنی جنرل کے ذریعے عدالت کو دی گئی یقین دہانی کے بعد کیا امید کریں کہ ججوں کی خالی پڑی اسامیوں کو پر کرنے کی سمت میں سرکار بلا تاخیر قدم اٹھائے گی۔
(انل نریندر)

01 نومبر 2016

پاکستان کا پرانا پینترا پہلے جاسوسی پھر سینا جوڑی

جموں و کشمیر میں سرحد پار سے مسلسل جاری فائرننگ کے درمیان جمعرات کو دہلی میں واقع پاکستان ہائی کمیشن کے ایک افسر کو جاسوسی کرنے کے الزام میں پکڑا گیا۔ بھارت میں پاکستانی اور پاکستان میں ہندوستانی جاسوس کا پکڑا جانا کوئی نئی واردات نہیں ہے۔ ہر دو چار مہینوں میں ایسے واقعات ہو ہی جاتے ہیں لیکن دونوں دیشوں کے درمیان کشیدگی کے چلتے ایسی سرگرمیاں بیحد خطرناک ہوسکتی ہیں۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ جب پاکستان کے کسی ڈپلومیٹ کو جاسوسی کے الزام میں دیش سے باہر نکالا گیا ہو۔ پہلے بھی پاک حکام اور ملازمین کو سسونا نان گراٹا یعنی دیش میں ناجائز شخص کے تحت واپس بھیجا جاچکا ہے۔ تاریخ میں کئی معاملے درج ہیں جب پاکستان نے ردعمل میں پاک حکام کو واپس بھیجا۔ راجدھانی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں کام کررہے ڈپلومیٹ محمود اختر کو جاسوسی کے الزام میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ راجستھان کے دو باشندوں کے ساتھ سرحد اور جی ایس ایف سے متعلق انتہائی خفیہ دستاویزات کی سودے بازی کررہا تھا۔ یعنی صاف ہے کہ اڑی حملے کے بعد ہندوستانی سکیورٹی فورسز کی کنٹرول لائن کے پار آتنکی کیمپوں پر کی گئی سرجیکل اسٹرائک کی کارروائی اور ڈپلومیٹک سطح پر پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کے باوجود اسی پڑوسی ملک کے بھارت کے خلاف سازش رچنے والی آتنکی مشینری کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ لگتا ہے یقینی طور سے یہ باعث تشویش بات ہے کہ ان کے ساتھ ہی کچھ ہندوستانیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن کے کردار کے بارے میں جانچ سے پتہ چلے گا۔ ظاہر ہے کہ سرحد پر دراندازی کی سرگرمیاں مقامی لوگوں کی ملی بھگت کے بغیر نہیں ہو سکتیں۔ پاک فوج اور آئی ایس آئی اس کام کو بخوبی انجام دیتی ہیں۔ آئی ایس آئی کی سرگرمیوں کو چلانے کیلئے پاکستانی ہائی کمیشن کے افسروں سے لیکر غیر سرکاری سطح پر لوگ سرگرم رہتے ہیں۔ دیش بدر کیا گیا پاکستانی ڈپلومیٹ افسر محمود اختر بلوچستان میں تعینات پاک فوج کا حولدار بتایا جاتا ہے۔ اس کی کام کی صلاحیت کو دیکھ کر اسے آئی ایس آئی نے اپنے کام میں لگایا تھا۔ آئی ایس آئی کی یہ خاصیت رہی ہے اور اسی کے بوتے پر وہ دہشت گردی کو ایک ہتھیار بنا کر کئی ملکوں میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔ دیش کی سلامتی سے جڑے اس معاملے میں مرکز کی سخت پالیسی کے چلتے اس بات کیلئے ضرور باآور ہوا جاسکتا ہے کہ اس سازش میں جو لوگ بھی شامل ہوں گے وہ بخشے نہیں جائیں گے۔ پچھلے تین برسوں کے دوران46 پاکستانی ایجنٹوں کو دیش کے مختلف حصوں سے گرفتار کیا جاچکا ہے۔ تازہ معاملہ اس لئے بھی سنگین ہے کیونکہ پہلی بار اتنے واضح طور پر پاک ہائی کمیشن کا بھارت کے خلاف کردار اجاگر ہوا ہے ورنہ ابھی تک یہ علیحدگی پسندوں کو پناہ دینے اور ان کی میزبانی کرنے تک محدود رہا ہے۔
(انل نریندر)

اس بار سردی اور کہرہ زیادہ پڑنے کا امکان

راجدھانی دہلی میں پیر کو موسم کا مزاج بدلہ نظر آیا۔ ہوا کی نمی رفتار کے ساتھ ساتھ آلودگی کی سطح میں بھی جہاں کچھ کمی نظر آئی وہیں کم از کم درجہ حرارت پچھلے دنوں کے مقابلے زیادہ درج ہوا۔ گلوبل وارمنگ کے خلاف مہم کے درمیان ستمبر2016 ء نے زیادہ تر درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ ناسا نے منگلوار کو کہا کہ پچھلے ماہ 136 برسوں میں سب سے گرم دن یعنی ستمبر رہا۔ اس کا کہا ہے کہ اس سے پہلے 2014ء کا ستمبر سے زیادہ رہا تھا لیکن اس سال 2014ء کے مقابلے 0.004 ڈگری درجہ حرارت رہا لیکن اس بڑھوتری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ویسے راحت کی تھوڑی بات یہ ہے کہ مانسون دیری سے آنے اور اچھی بارش کے چلتے اس بار دہلی کے شہریوں کو سردی اور کہرہ زیادہ ستائے گا۔ موسم کے واقف کاروں کے مطابق نومبر کے دوسرے ہفتے سے ہی گھنا کہرہ درج ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ سردی بھی زیادہ پڑ سکتی ہے۔ امریکی ادارہ ایکیوویدر کے سینئر موسم ماہر ایلیکسن ساسموسکی کے مطابق پچھلے کچھ برسوں سے بھارت کے مختلف حصوں میں عام طور سے زیادہ بارش ہورہی تھی۔ اس بار سبھی مقامات پر اچھی بارش ہوئی ہے۔ اس کا اثر سردی پر بھی صاف دکھائی دے گا۔ پہاڑوں پر اچھی برف پڑنے کا امکان ہے۔ دہلی میں پیر کو آسمان صاف رہا۔ نارتھ کی طرف سے آنے والی ہواؤں کے چلتے کم از کم درجہ حرارت تقریباً18 ڈگری سیلسیس رہا۔ اس سے صبح شام ٹھن محسوس کی گئی ہے۔ ادھر ایئر پالوشن پر کام کرنے والے سی اے سی کے سینئر تحقیق رساں وویک بھٹ اپادھیائے کے مطابق سردی میں وایومنڈل میں موجود آلودگی کے ذرات کافی عرصے تک ہوا میں پھنسے رہتے ہیں۔ رات کے وقت ہوا میں آلودگی کی سطح کافی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس برس اگر کہرے و ٹھنڈ میں اضافہ ہوتا ہے تو لوگوں کو آلودہ ہوا سے بھی لڑنا پڑے گا۔ ناسا کی طرف سے جاری کی گئی تصاویر کے مطابق ہریانہ و پنجاب میں بڑے پیمانے پر دھان کی پرالی جلائی جارہی ہے اس سے نکلنے والا دھنواں اگلے کچھ ہفتے میں دہلی کی ہوا میں آلودگی سطح کو پانچ گنا سے زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ ناسا کے ویب فائر میپ میں لال رنگ کے نشانوں کو دکھایاگیا ہے جس میں پرالی کے جلائے جانے کے مقامات پر پتہ چلتا ہے۔ 6 اکتوبر سے پہلے تک لال نشان نارتھ پنجاب کی سرحد سے لگے علاقوں میں مرکوز تھے، لیکن اب اس کا فروغ دہلی سے ملحق علاقوں تک پھیل گیا ہے۔ دہلی سرکار نے پڑوسی ریاستوں کو فصلوں کے کچرے کو جلانے پر لگام کسنے کے لئے مناسب قدم اٹھانے کیلئے خط لکھا ہے۔ اس وقت صبح اور شام کے وقت گلابی ٹھنڈ کا احساس ہونا شروع ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں گراوٹ لگ رہی ہے اور سردی نے ایک طرح سے دستک دے دی ہے۔
(انل نریندر)

30 اکتوبر 2016

دیش کی سرکشا کرتے جوانوں کیلئے ایک دیپک ضرور جلائیں

دیوالی کے اس خاص جشن کو منانے کیلئے لوگ بہت بیتابی سے انتظار کرتے ہیں۔ یہ بہت ہی اہم تہوار ہے خاص طور پر گھر کے بچوں کیلئے۔ بھارت ایک ایسا دیش ہے جس کو تہواروں کی بھومی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ بھگوان رام کے 14 سال کا بنواس کاٹ کراپنے گھر ایودھیا لوٹنے کی خوشی میں منایا جاتا یہ تہوار ملک بیرون ملک میں دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ دیوالی ایک ایسا تہوار ہے جسے روشنی کا جشن یا لڑیوں کی روشنی کی شکل میں بھی جانا جاتا ہے جو کہ گھر میں لکشمی کے آنے کا سنکیت ہونے کے ساتھ ساتھ برائی پر اچھائی کی جیت کا پرتیک ہے۔ اسرووں کے راجا راون کومار کر پربھو شری رام نے دھرتی کو برائیوں سے آزادکرایاتھا۔ لیکن کیاصحیح معنوں میں راون مارا گیا؟ نہیں راون تو آج بھی زندہ ہے۔ آج کل کے راون ایسے ایسے برے افعال کررہے ہیں جن کا ذکر کرنا بھی مشکل ہے۔ خیر ہم بات کررہے تھے دیوالی کی۔ بازروں کو دلہن کی طرح شاندار طریقے سے سجایاجاتا ہے۔ ان دنوں بازاروں میں خاصی بھیڑ رہتی ہے۔ خاص طور پر مٹھائیوں، ڈرائی فروٹ وغیرہ کی دوکانوں پر۔ بچوں کے لئے یہ دن نئے کپڑے، کھلونے، پٹاخے اور تحفوں کی سوغات لیکر آتا ہے۔ دیوالی آنے کے کچھ دن پہلے ہی لوگ اپنے گھروں کی صاف صفائی کے ساتھ دیوں سے لڑیوں سے گھر کو روشن کرتے ہیں۔ دیوی لکشمی کی پوجا کے بعد شروع ہوتا ہے آتش بازی کا دور۔ موجودہ حالات ایسے بن گئے ہیں کہ اس بار لوگ ہندوستانی سامان کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لوگ چین کی بنی لڑیوں ،پٹاخوں وغیرہ کا بائیکاٹ کرکے ہندوستانی سامان کو پسند کررہے ہیں۔ ہم نے بھی اپنے گھر کیلئے ہندوستان میں بنی لڑیاں منگائی ہیں۔ یہ اچھی کوالٹی کی ایل ای ڈی بلبوں سے بنائی گئی ہیں اور زیادہ مہنگی بھی نہیں ہیں۔ ویسے کہا تو یہ جاتا ہے کہ اس دن لوگ بری عادتوں کو چھوڑ کر اچھی عادتوں کو اپناتے ہیں لیکن حقیقت میں حالات مختلف ہیں۔جوئے کی رسم سالوں سے چلی آرہی ہے اور دیوالی کے دنوں میں یہ زوروں پر چلتی ہے۔ برائی کو بھگانے کے لئے ہر طرف چراغوں کی روشنی اس لئے کی جاتی ہے تاکہ دیوی دیوتاؤں کا استقبال ہو۔ دیوالی کے دو ہفتے پہلے سے ہی بچوں کے ذریعے اسکولوں میں کئی ساری سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں۔
دیوالی پانچ دنوں کا ایک لمبا جشن ہے۔ پہلے دن کو دھن تیرس، دوسرے دن کو چھوٹی دیوالی، تیسرے دن کو دیوالی یا لکشمی پوجا، چوتھے کو گوور دھن پوجا اور پانچویں کو بھیا دوج کہتے ہیں۔ ہم آپ سب کو دیوالی کی مبارکباد دیتے ہیں اور محفوظ دیوالی منانے کی گزارش کرتے ہیں۔ ہماری سرحدوں پر دیش کے اندر ہماری سکیورٹی کرتے جوانوں کو دیوالی پر ضرور یاد کریں۔ ان کے لئے ایک دیا ضرور جلائیں۔
(انل نریندر)

ڈی این ڈی ٹول فری

قومی راجدھانی خطہ کے لاکھوں مسافروں کو دیوالی کی سوغات دیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے دہلی۔ نوئیڈاڈائریکٹ (ڈی این ڈی) فلائی وے کو ٹول فری کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ ہائیکورٹ نے 9.2 کلو میٹر لمبے اور 8 لین والے اس فلائی وے پر ٹول ٹیکس کی وصولی پر روک لگادی ہے۔ کورٹ کا حکم فوری طور سے لاگو ہوگیا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ ڈی این ڈی بننے میں 408 کروڑ روپے کا خرچ آیا تھا۔ تعمیر کرنے والی کمپنی خود مان رہی ہے کہ 31 مارچ 2014ء تک 810.18 کروڑروپے کی کمائی ہوچکی ہے لیکن یہ بھی کہا جارہا ہے کہ 300 کروڑ کی وصولی ابھی باقی ہے۔ پیسہ وصولتے رہنے کے باوجود لاگت کیسے بڑھتی جارہی ہے؟ کمپنی کا یہ حساب سمجھ سے باہر ہے۔ جسٹس ارون ٹنڈن اور جسٹس سنیتا اگروال کی بنچ نے کہا کہ ٹول برج کمپنی نے لاگت وصول کرلی ہے لیکن قرار کی شرطوں کے مطابق 100 میں بھی اس کی بھرپائی نہیں ہوگی۔ غلط قرار کا خمیازہ عوام نہیں بھگت سکتی۔ بتادیں کہ فیڈریشن آف نوئیڈا ریزیڈینٹس ایسوسی ایشن نے 2012ء میں اپیل دائر کی تھی۔ چار سال تک چلی لمبی سنوائی کے بعد بنچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا اپیل کنندہ نے کہا تھا کہ نوئیڈا اتھارٹی نے ایسا قرار کیا ہے جس کی وجہ سے کمپنی غیر قانونی وصولی کررہی ہے۔ چارسال میں 70 سنوائی کے دوران عدالت نے محسوس کیا کہ ٹول کی لاگت سے کہیں زیادہ پیسہ وصولہ جاچکا ہے اس لئے اب عوام سے اور ٹیکس لینے کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ یہ ایک طرح کی غیر قانونی وصولی ہے کیونکہ دیش میں ہر جگہ ٹول پلازہ ہیں اور ان کے خلاف عوام کا غصہ بھی ہر جگہ ہے۔ کبھی زیادہ ٹیکس وصولنے کو لیکر پرتشدد مظاہرے کبھی بد انتظامی کو لیکر گھنٹوں جام تو کبھی سڑکوں کے گھٹیا رکھ رکھاؤ آئے دن ہوتے رہتے ہیں لیکن ڈی این ڈی ٹول کا قضیہ اس معنی میں انوکھا ہے کہ جس ٹول کے بننے میں 408 کروڑ روپے خرچ آیا ، اب کمپنی کی دلیل ہے کہ وہ لاگت بڑھ کر 31 مارچ تک 2168 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ گڑ بڑ گھوٹالہ اسی نقطہ پر ہے کہ پیسہ وصولتے رہنے کے باوجود لاگت کیسے بڑھتی جارہی ہے؟ پورے تنازع کی اصلی جڑ ٹول ٹیکس نیتی کی خامی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب سرکار سڑک ، ہائی وے جیسے بنیادی ڈھانچے کے لئے ٹیکس وصولتی ہے تو کچھ سڑکوں کے لئے الگ ٹیکس کیوں؟ اب معاملہ سپریم کورٹ کے پالے میں آگیا ہے۔ سپریم کورٹ نوئیڈا ٹول برج کمپنی لمیٹڈ کی اس اپیل پر سنوائی کے لئے راضی ہوگیا ہے جس میں ڈی این ڈی پر گاڑیوں سے ٹول لینے پر پابندی الہ آباد ہائی کورٹ نے لگائی ہے۔ سپریم کورٹ پر اب سب کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں اور یہ اہم ہے کیونکہ وہاں سے نکلا فیصلہ دیش کے باقی ٹول پلازہ کے لئے نظیر بنے گا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...