Translater
23 مئی 2023
نریندرمودی کیلئے اپوزیشن کی چنوتی !
کرناٹک میں سدارمیاں اور ان کی حکومت کے وزراءکی حلف برداری تقریب میں اپوزیشن کے کئی بڑے نیتا نظر آئے اور ان کی یہاں موجودگی درج کراکر اپوزیشن اتحا د کا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسٹیج پر ایک ساتھ 16پارٹیوں کے لیڈر موجو دتھے۔ اور سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کامیابی کے انداز میں ہاٹھ اٹھاکر اپنے اتحاد کی پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ حلف برداری تقریب میں کانگریس ملکارجن کھڑگے ،راہلی گاندھی ،پارٹی جنرل سیکریٹری پرینکا واڈرا اور تین مکھیہ منتیر اشوک گہلوت ،بھوپیش بگھیل ،سکھوندرسنگھ کانگریس کے کئی سینئر لیڈ شامل تھے ان کے علاوہ این سی پی چیف شردپوار ،بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بہار کے نائب وزیر علیٰ و آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو ،تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اسٹالن اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین وغیرہ موجود رہے ۔ واضح ہو کہ نتیش کمار پچھلے کئی ماہ سے اپوزیشن کے ان لیڈروں سے ملتے رہے ہیں۔ کچھ خاص معنیٰ ہیں۔ تلنگا نا ،دہلی ،مغربی بنگال ک،اتر دیش ، اڑیشہ، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر سمیت 20لوک سبھا سیٹو ں میں اکیلئے بی جے پی کے پاس 133سیٹیں ہیں۔یہاں اپوزیشن اتحاد کامیاب ہوتا ہے کہ بی جے پی کو بڑا نقصان ممکن ہے۔ 2019کے لوک سبھا چناو¿ میں بی جے پی کی بڑی نے مرکز سیاست میں حریف پارٹیوںمیں حیثیت کم ہوئی ہے اس لئے حالیہ وقت میںاپوزیشن اتحاد کولیکر مسلسل بات چیت چل رہی ہے۔ 2019کے لوک سبھا چناو¿ میں بھاجپا کو قریب 38فیصد ووٹ ملے تھے اور اس کی وبنیاد پر وہ 303سیٹیں لانے میں کامیاب رہی تھی۔ اور دوسرے نمبر پر کانگریس کو صرف 20سیٹیں ملی تھی ۔ اور 20فی صد ووٹ ملے تھے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بہار میں یہ سبھی تجزیہ پوری طرح مہا گٹھ بندھن کے حق میں ہے ۔ دیش بھر میں اگر اپوزیشن اتحاد بن بھی جائے تو یہ بی جے پی کو ہرانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔کیوںکہ اپویزشن اتحاد کے باوجود بھی بی پی کو 210سیٹیں ملنا یقنی ہے ۔ بی جے پی اس صورت میں نمبر و ن ہوگی۔ کانگریس اوراس صورت نمبر دو پر رہے گی۔ اور اسے 80سے 90سیٹیں ممل سکتی ہیں۔کئی سیٹوں پر بی جے پی کانگریس کا سیدھا مقاملہ ہے اس مرتبہ عام اڈمی پارٹی بھی لاک سبھا چناو¿ میں اپنی موجودگی درج کرا سکتی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نتیش کی محنت کتنا رکنگ لاتی ہے یہ ابھی کہنا مشکل ہے ۔اس سال ریاستومیں ہونے والے چناو¿ اپوزیشن اتحاد کی ایک طرح سے پریکشا ہے اس پر بہت کچھ منحصر کرے گا۔
(انل نریندر)
آرڈیننس کو بھی چنوتی دی جاسکتی ہے؟
مرکزی سرکار کی طرف سے دہلی حکومت کے اختیارات معاملوںمیں آرڈیننس لایا گیا ہے جس سے ایل جی کے پاس وہ سبھی اختیارات ہوںگے جو سپریم کورٹ سے تاریخی فیصلے کے بعد دہلی حکومت کو ملے تھے ۔ اب آگے کیا ہوگا کیوں کہ دہلی حکومت نے مرکز کی آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے ۔اب معاملہ آگے کس شکل میں بڑھے گا فی الحال کہانہیں جا سکتا ۔ لیکن کچھ پرانے معاملوںپر نظر دالیں تو یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے ٹکراو¿ کے حالات میں کیا ہو سکتا ہے ۔سرخیوںمیں چھائے ایس سی ایس تی ایکٹ معاملے کے تحت درج معاملے میں پیشگی ضمانت کی سہولت کو ختم کرنے کیلئے مرکزی حکومت کے قانون کو سپریم کورٹ نے 10فروری 2020کو بحال رکھا تھا۔ اس ترمیمی ایکٹ کو ایکٹ 2018کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس کو اس نے جائز ٹھہرا یا تھا۔ دراصل 20مارچ 2018کو سپریم کورٹ نے ایس سی ایس ٹی کے گرفتار ی سہولت کو ختم کردیا تھا۔ اور پیشگی ضمانت کی سہولت دے دی تھی۔ ساتھ ہی ایف آئی آر سے پہلی شروعاتی جانچ کی سہولت رائج کردی تھی اس فیصلے کے بعد مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے تبدیلی کردی اور پہلے کے قانونی تقاضوں کو بحال کردیا ۔اس قانونی ترمیم کے تحت مرکزی حکومت نے پیشگی ضمانت کی سہولت کو ختم کر دیا تھا۔اس کے لئے مرکزی سرکار کے قانون ترمیم کو چنوتی دی گئی تھی۔ جس پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا اور مرکز کے قانون کو بر قرا ر رکھا ۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ایم ایل لاہوٹھی بتاتے ہیں کہ دہلی سرکار کو آرڈیننس کو چیلنج دینے کا حق ہے کوئی بھی آر ڈیننس یا قانون جوڈیشل اسکروٹنی کے دائرے میں ہے ۔ جب بھی کوئی آر ڈیننس یا قانون ایوان میں بنتا ہے تو اسے سپریم کورٹ دیکھتی ہے کہ وہ قانون یا آرڈیننس آئین کے تقاضوں کے دائرے میں ہیں یانہیں؟ تما م ایس مثالیں ہیں جب مرکزی حکومت کے قانون کو چیلنج کیا گیا ہے ۔کئی بارہ جوڈیشل اسکروٹنی میں ٹکا ہے اور کئی بار نہیں ٹک پایا۔ سپریم کورٹ کے وکیل جیاننت سنگھ بتاتے ہیں سپریم کورٹ جب بھی کوئی فیصلہ دیتے ہیں تو وہ آئین کی تشریح کرتی ہے آئین میں کو آرٹیکل یا سہولت ہے اس کے مطابق ہی سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سناتی ہے ۔ موجودہ معاملے میں بھی دفعہ 239AAکے تحت جو آئینی سہولت ہے اس کو سپریم کورٹ کے ان جج صاحبا ن کی بنچ نے تشریح کی اور مفصل غور خوض کے بعد ہی فیصلہ دیا ہے کہ ایل جی کو تین امور کو چھوڑ کر باقی معاملوںمیں وہ دہلی سرکار کی صلاح کوماننے کیلئے پابند ہیں ۔ اب دیکھتے ہیں کہ مرکزی حکومت اس نئے آر ڈیننس میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...