Translater

26 اکتوبر 2013

مہنگائی کرپشن بے روزگاری اہم نہیں اہم ہے تو جذبات!

ہمارے سیاستداں چناؤ کے موقعے پر سبھی طرح کے ہتھکنڈے اپناتے ہیں یہ سبھی جانتے ہیں کانگریس پارٹی 2014ء میں اقتدار میں دوبارہ آنے کے لئے ایڑی چوٹے کے دم کے ساتھ سبھی طریقے اپنانے میں ماہر ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور زمرہ جوڑ دینا چاہئے وہ ہے جذباتیات۔ جذباتی باتیں کرکے بھولی بھالی عوام کوا پنی طرف کھینچنے کی کوشش بھی اکثر کی جاتی ہے۔ کانگریس کے یووراج راہل گاندھی لگتا ہے اب اس جذباتی ٹرینڈ کا سہارا لینا چاہ رہے ہیں۔ شخصی طور سے راہل سے دیش کے نوجوانوں کو بہت امیدیں ہیں۔ وہ مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری و قانونی نظام بجلی ،پانی ،پیاز کے بڑھتے دام جیسے برننگ اشوز کو نظرانداز کرکے جذبات کا سہارا لینے پر اتر آئے ہیں کیونکہ کچھ معنوں میں اس طرح کا حملہ کاؤنٹر پروڈیکٹنگ بھی ہوسکتا ہے۔ کھیڑلی (الور) میں راہل نے بغیر نام لئے بھاجپا پر فرقہ پرستی کو فروغ دینے کا الزام لگایا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہہ دیا کے اس پارٹی کی نفرت کی سیاست دیش کے تانے بانے کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اندیش جتایا کے ان کو دادی اور والد کی طرح مارا جاسکتا ہے۔ راہل مہاتما گاندھی اور چاچا سنجے گاندھی کا نام جوڑنا شاید بھول گئے۔ انہوں نے اپنی دادی اندرا گاندھی اور والد راجیو گاندھی کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود تشدد اور دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں اس لئے وہ ان سبھی بچوں اور ماتاؤں کے درد کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو فساد اور دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں۔ تشدد کا جذبہ غصے کی وجہ سے بڑھتا ہے اور اس طرح کا غصہ بھاجپا عام لوگوں کے دلوں میں بھر کر لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑوانا چاہتی ہے۔ گجرات،کشمیر، مظفر نگر میں دنگے بھڑکا دیں گے۔ اس کے پہلے شروع میں بھی انہوں نے اپنی تقریر میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کا قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کے والد اور دادی کے قتل کے بعد ان کے لئے بھی خطرہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا پنجاب کا ایک ممبر اسمبلی حال ہی میں ان کے دفتر میںآیا اور ان سے کہا اگر وہ 20 سال پہلے ملے ہوتے تو اس نے غصے میں کانگریس نائب صدر کا قتل کردیا ہوتا۔ راہل جی سے ہم سوال کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں بتائیں کے ان کی دادی اور والد یعنی اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل میں کس طرح ان لوگوں کا کہیں سے بھی رول جو مبینہ طور پر نفرت پھیلانے کی سیاست کرتے ہیں؟ یہ تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ راہل گاندھی کو بھاجپا فرقہ پرست نظر آتی ہے لیکن اس طرح کے بے تکے غلط الزامات لگانے سے وہ خود کو ہلکا ثابت کررہے ہیں۔ اندرا جی کو کس نے مارا اور کیوں مارا ،یہ ساری دنیا جانتی ہے۔ اس طرح راجیو گاندھی کا قتل لبریشن ٹائیگرنے کیا۔آج اسی کی حمایتی ڈی ایم کے آپ کی حکومت کی اہم ساتھی ہے۔ راہل کبھی کبھی تو چونکانے والی باتیں بول جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے یہ سنسنی خیز دعوی کیا کہ مظفر نگر فسادات میں متاثرہ کنبوں کے نوجوانوں سے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے رابطہ قائم کرلیا ہے۔ راہل کو یہ انتہائی اہم خفیہ جانکاری کس نے دی؟ وہ یوپی اے سرکار کا تو حصہ ہے نہیں؟ ایک وقت تھا جب راہل گاندھی کی ریلیوں میں بھیڑ ہوا کرتی تھی اور لوگ انہیں سنجیدگی سے سنا کرتے تھے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے وہ ہلکی باتیں کرنے لگے ہیں جن کا شاید ہی عوام پر کوئی اثر پڑے۔
(انل نریندر)

عام آدمی پارٹی پر کہاں سے ہورہی ہے ڈالروں کی بارش؟

دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو کہا ہے کہ وہ یہ پتہ لگائے کہ عام آدمی پارٹی کے کھاتوں میں کہاں کہاں سے ڈالر کی بارش ہورہی ہے؟ عام آدمی پارٹی کے کھاتوں کی جلد جانچ کریں کے اس کے قیام کے بعد اس کے پیسے کے ذرائع کہاں سے ہیں اور اگر اس نے غیرملکی اثاثہ قانون کی خلاف ورزی کی ہو تو کارروائی کرکے مطلع کریں۔ جسٹس پردیپ نند راج یوگ اور جسٹس وی راؤ کی ڈویژن بنچ نے سرکار کو 26 نومبر 2012ء کے بعد کی میعاد میں کھاتوں میں جمع رقم کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ ڈویژن بنچ نے مرکزی سرکار کو10 دسمبر تک مفصل رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے مرکزی سرکار کے وکیل سے کہا ہے عرضی میں لگائے گئے الزامات کہ پیسے کی بارش کی اس حقیقت کی جانچ کی جائے کے کیا پارٹی کو فوراً کانسٹی ٹیوشن ریگولیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرکے پیسہ ملا ہے؟ بنچ میں وکیل ایم ایل شرما کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کررہی تھی۔ عرضی میں پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال ،منیش سسودیا، شانتی بھوشن ان کے بیٹے پرشانت بھوشن کو فنڈ دینے والی غیر ملکی کمپنی فورڈ فاؤنڈیشن کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج کرنے کے احکامات دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ عرضی میں ان سبھی پر قانون کی خلاف ورزی کر غیرملکی پیسہ لینے و پارٹی مہم پر خرچ کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ عدالت نے مرکزی سرکار کی جانب سے پیش سرکاری وکیل رچا کپور کی اس دلیل کو خارج کردیا جو اس عرضی میں اٹھائی گئی تھی۔ ان پر پہلے ہی جانچ ہوچکی ہے۔ عرضی کا نپٹارہ ہوچکا ہے۔ رچا کپور نے مرکزی سرکار کی طرف سے پیش رپورٹ میں کہا تھا کہ ٹیم انا کی سول سوسائٹی کے اکاؤنٹ کی مرکزی سرکار نے جانچ کرائی تھی اور اس بارے میں پہلے ہی کورٹ میں رپورٹ داخل کی جاچکی ہے اور وہ رپورٹ ایسی ہے ایک پی آئی ایل میں داخل کی گئی تھی۔ یہ حکم اس رپورٹ داخل کرنے کے بعد آیا ہے۔ عدالت نے مرکزی رپورٹ کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے کہا کہ ’آپ‘ پارٹی کی تشکیل کے بعد آپ کے ایک بار پھر کھاتوں کی جانچ کریں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ’آپ‘ پارٹی دہلی اسمبلی چناؤ مہم میں کانگریس اور بھاجپا سے ایک قدم آگے چل رہی ہے پیچھے نہیں۔ پیسے کی تو کیجریوال کو کوئی کمی نہیں ہے۔ ڈالروں کی بارش ہورہی ہے۔ این آر آئی کھل کر کیجریوال کی تن ، من ،دھن سے مدد کررہے ہیں۔ اب تو کیجریوال یہ دعوی کررہے ہیں کہ وہ دہلی کے اگلے وزیر اعلی ہوں گے۔ عام آدمی پارٹی کی جانب سے گزشتہ دنوں ایک سروے کرایا گیا۔یوگیندر یادو جو سروے معاملوں کے ماہر ہیں ،دعوی کیا ہے انٹرنل سروے کی بنیاد پر ’آپ ‘ کو دہلی کی 70 سیٹوں میں سے45-48 سیٹیں مل سکتیں ہیں۔ وہ کانگریس اور بی جے پی سے 17 سیٹوں پر آگے ہیں۔ 12 سیٹوں پر برابری کا مقابلہ ہے۔ 12 سیٹوں پر آ پ اور کانگریس ،بی جے پی سے کچھ پیچھے ہے۔ سروے نے یہ بھی دعوی کیا ہے اروند کیجریوال 76 فیصد ووٹ کے ساتھ دہلی کے وزیر اعلی کے عہدے کے لئے مضبوط دعویدار ثابت ہوئے ہیں جبکہ شیلا دیکشت 30 فیصدی ووٹ کے ساتھ نمبر دو پر ہیں اور وجے گوئل تیسرے نمبر پر 23 فیصدی لوگوں کی پسند رہے ہیں۔ سروے میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے آپ پارٹی کو سب سے زیادہ نوجوانوں اور درمیانے طبقے کی حمایت حاصل ہے۔
(انل نریندر) 

25 اکتوبر 2013

ہرش وردھن کے سامنے بڑی چنوتی بھاجپا کو متحد کر چناؤ لڑوانا!

کئی دنوں کی جدوجہد کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے دہلی کے اسمبلی چناؤ میں سی ایم امیدوار کا فیصلہ کر ہی لیا ہے۔ بھاجپا پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ کے بعد ڈاکٹر ہرش وردھن کو بھاجپا کی جانب سے سی ایم اِن ویٹنگ اعلان کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد مکھیہ منتری کی امیدواری کو لیکر ہائی وولٹیج ڈرامے کا ہرش وردھن کے نام کے ساتھ ڈراپ سین ہوگیا۔اسمبلی چناؤ کیلئے ووٹنگ سے ٹھیک42 دن پہلے ڈاکٹر ہرش وردھن کے سر پر بندھے کانٹوں کے اس تاج اور پردیش پردھان وجے گوئل کو منانے کے پیچھے کی کہانی کچھ کم دلچسپ نہیں ہے۔ وجے گوئل آخری لمحے تک یہ رٹ لگائے ہوئے تھے کہ وہ اس عہدے کے لئے سب سے موزوں دعویدار ہیں۔ وہ کسی بھی قیمت پر ہٹیں گے نہیں اور انہوں نے طرح طرح کی دھمکیاں بھی دیں اور پارٹی پر دباؤ بھی بنایا لیکن آخر کار نریندر مودی ،ارون جیٹلی اور آر ایس ایس کے سامنے انہیں اپنی ضد کو ترک کرنا پڑا۔ اس پورے ڈرامے میں سب سے زیادہ کرکری پارٹی صدر راجناتھ سنگھ کی ہوئی۔ انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ڈاکٹر ہرش وردھن کے نام پر متفق ہونا پڑا۔ ڈاکٹر ہرش وردھن ایک صاف ستھری ،ایماندار ساکھ کے لیڈر ہیں۔ ان کا اب تک کا ریکارڈ اچھا ہے۔ مسلسل چار بار اسمبلی چناؤ جیتنے والے ڈاکٹر ہرش وردھن 1993ء میں جب مدن لال کھرانہ کی کیبنٹ میں وزیر صحت تھے تو آپ نے ہی دہلی میں پلس پولیوپروگرام کی شروعات کر ساری دنیا میں نام کمایا تھا۔ اقوام متحدہ تک نے اس مہم کی تعریف کی تھی۔ ان کے مقابلے بیشک وجے گوئل ایک بہت وفادار اور سرکردہ لیڈر ہیں جو اپنا مقصد پورا کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کادم لگاکر میدان میں اترتے ہیں لیکن ان کی ساکھ ڈاکٹر صاحب جیسی نہیں ہے۔جب اسمبلی چناؤ اورلوک سبھا چناؤ کرپشن اور گھوٹالوں کے خلاف لڑا جانا ہے تو لیڈر بھی صاف ستھرا ہونا چاہئے تو ہی بہتر رہتا ہے۔ اس لئے ایک صاف ستھری اور ایماندار ساکھ کی شخصیت ڈاکٹر ہرش وردھن کا انتخاب کیا گیا۔ ڈاکٹر ہرش وردھن کے لئے یہ عہدہ کانٹوں کے تاج سے کم نہیں ہے۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج گروپ میں بٹی بھاجپا کو متحدہ کرنا ہوگا۔سب سے پہلا چیلنج تو ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر ہونا ہے۔ وجے گوئل نے اپنی ٹیم تک بنا لی ہے۔ ضلع پردھان سے لیکر بلاک صدر تک ان کے آدمی چنے جاچکے ہیں۔ وہ چاہیں گے ان کے وفاداروں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ ملے۔ بھاجپا کی سینئر لیڈر شپ کا خیال ہے کہ لگتا ہے تین بار پارٹی کی ہار کے بعد ڈاکٹر ہرش وردھن4 دسمبر کو ہونے والے چناؤ میں اس بار پارٹی کی قسمت بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کی مانیں تو جس طرح اس بار بھاجپا نے پردیش صدر وجے گوئل کو پیچھے کرکے ڈاکٹر ہرش وردھن کو آگے بڑھایا ہے اسی طرح پہلی بار 2008ء میں اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے پارٹی نے پروفیسر وجے کمار ملہوترہ کو امیدوار اعلان کیا تھا۔ تب ہرش وردھن پردیش صدر ہوا کرتے تھے لہٰذا جو موقعہ انہیں پچھلی بار نہیں مل پایا اس بار پارٹی نے انہیں موقعہ دے دیا۔ 1993 ء میں دہلی میں بنی بھاجپا کی پہلی سرکار میں وزیر صحت بنائے گئے ہرش وردھن کے ساتھ کام کرچکے ان کے ساتھی اور اپوزیشن کے ساتھی بھی ان کی انتظامی سوجھ بوجھ کے قائل ہیں۔ حالانکہ بھاجپا کے نیتا ذاتی طور پر یہ کہہ رہے ہیں یہ اعلان کچھ اور پہلے کیا جانا چاہئے تھا۔ دہلی میں بھاجپا کی جیت کے لئے بیشک ماحول ٹھیک ہے لیکن دو باتیں اہمیت رکھیں گی۔ سب سے پہلے تویہ کہ بھاجپا جیت کے لئے پارٹی جتانے والے، کام کرنے والے، صاف ستھری ساکھ والے امیدواروں کو چناؤ میدان میں اتارے۔ ایسے میں یہ دیکھنا اہمیت کا حامل ہوگا کہ خود ہرش وردھن ٹکٹوں کے بٹوارے میں کتنا رول ادا کرپاتے ہیں؟ دوسری بات یہ ہے پارٹی کے سینئر لیڈروں کے بیچ طویل عرصے سے کھینچ تان چلی آرہی ہے۔ اندرونی رسہ کشی تو ضرور ہوگی۔ ایسے میں پورے کنبے کو ایک ساتھ لیکر مضبوطی سے کانگریس سے مقابلہ کرنے کی چنوتی بھی ان کے سامنے ہوگی۔ ووٹروں کو پولنگ مرکزوں میں ووٹ ڈالنے کے لئے پہنچانا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ شاید یہ مسئلہ اس بار نہ آئے کیونکہ آر ایس ایس ہرش وردھن کی پوری حمایت کررہا ہے۔ ہرش وردھن کے نام کے اعلان پر وزیر اعلی شیلادیکشت نے تو فی الحال کوئی رائے زنی نہیں کی لیکن ’آپ‘ پارٹی کے صدر اروند کیجریوال بولنے سے نہیں کترائے اور انہوں نے ہرش وردھن کو منموہن سنگھ بتاتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ہے کیا دہلی بھاجپا میں ہرش وردھن ۔منموہن سنگھ ہیں؟ انہوں نے کہا کرپٹ کانگریس نے مرکز میں سنگھ کو اپناچہرہ بنایا اور کرپٹ بھاجپا نے اب دہلی میں ہرش وردھن کو اپنا چہرہ بنایا ہے۔’آپ‘ پارٹی کے ترجمان منیش سسودیا نے کہا 2010ء میں ہرش وردھن نے شیلا دیکشت کی تعریف کی تھی اور کہا تھا دہلی کے شہری نے انہیں بطور وزیر اعلی پا کر خوش نصیب ہیں۔ اب وہ ان کے خلاف چناؤ کیوں لڑ رہے ہیں؟ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ایک بار ڈاکٹر ہرش وردھن کے بارے میں کہا تھا کہ عام لوگوں کی خدمت کے لئے اپنے نرسنگ ہوم و تجربے کا استعمال کرنے میں انتظامی مقصد کے ساتھ سیاست میں شامل ہوئے ہیں و ہ یقیناًکامیاب رہیں گے۔
(انل نریندر)

100 سال پرانا پرکھا ہوا دوست روس!

آج کل وزیر اعظم منموہن سنگھ روس اور چین کے دورہ پر گئے ہوئے ہیں۔وزیر اعظم کے طور پر شایدان کا یہ آخری دورہ ہوگا کیونکہ کولمبو میں ہورہی کامن ویلتھ ممالک کی چوٹی کانفرنس میں سیاسی اسباب کے سبب ان کے شامل ہونے پر خدشہ مانا جارہا ہے۔ ادھر عام چناؤ کے محض چھ مہینے باقی ہیں۔ اس کے بعد کس کی سرکار بنے کی، کون وزیر اعظم بنے گا اس کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے لیکن روس کا دورہ کئی معنوں میں اہمیت کا حامل رہا۔ روس ہمارا پرکھا ہوا دوست ہے ، جس نے ہماری ضرورت پڑنے پر ساتھ دیا۔ وہ امریکہ سمیت سبھی مغربی ممالک کے اثر میں نہ آتے ہوئے اپنا نقطہ نظر رکھتا ہے۔وہ ان کی دھونس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں پر قائم رہتا ہے۔دونوں ملکوں کے نمائندہ وفد کے درمیان پیرکو ماسکو کے کرملن پیلس میں چوٹی مذاکرات ہوئے۔ قریب90 منٹ سے زیادہ چلی اس ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ یہ منموہن اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ پانچویں اور دونوں کے درمیان 14 ویں سالانہ ملاقات تھی۔ اس میں دہشت گردی سے نمٹنے میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ بیان میں ڈیفنس اینرجی، وسیع تکنیکی صنعت اور سرمایہ کاری خلا اور سائنس تعلیم ،کلچر اور سیاحت کے سیکٹر میں تعاون بڑھانے کی بات کہی گئی ہے جس کی تعریف کی جانی چاہئے۔ صدر پوتن نے دفاعی تعاون میں خاص کر پانچویں پیڑھی کے جنگی جہاز اور کثیر المقصد ٹرانسپورٹ جہاز کو مشترکہ طور سے بنانے کا بھی ذکر کیا۔ قابل ذکر ہے کہ بھارت کی فوجی تیاری و ہتھیار ،جہاز اور ٹینک وغیرہ میں بہت زیادہ روسی سازو سامان کا استعمال ہوتا ہے۔ پوتن نے اس موقعے پر دونوں ملکوں کے بیچ 100 برس سے زیادہ پرانی دوستی کی علامت کا تحفہ دے کر وزیر اعظم منموہن سنگھ کو حیرت میں ڈال دیا۔ یہ تحفہ کچھ پینٹنگ اور سکوں کی شکل میں تھا۔ سال1890-91ء کے درمیان بھارت کے ان شہروں کے دورہ کرنے والے نیکولس دوم نے یہ آرٹ ورک تیار کیا۔ یہ بھارت کے مہاراجاؤں پر بنائی گئی پینٹنگ ہیں۔ پوتن نے 16 ویں صدی کے مغل دور کے کچھ سکے بھی منموہن سنگھ کو پیش کئے۔ روس سے ہمارا دفاعی تعاون بہت پرانا ہے اور وقت کا پرکھا ہوا دوست ہے۔ اس رشتے میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آگئی ہے اور روس اب ڈیفنس سازوسامان کا محض سپلائر ہی نہیں بلکہ ہمارا سانجھیدار بن کر مشترکہ طور سے پیداواری میں لگا ہوا ہے۔ دونوں دیش مل کر جنگی جہازوں کی پانچویں نسل تیار کررہے ہیں اور ایسے ٹرانسپورٹ جہازوں پر کام ہورہا ہے جن کا استعمال کئی طرح سے کیا جاسکتا ہے۔ تاملناڈو میں کنڈن کلم ایٹومک بجلی گھر میں دو اور بھٹیاں لگانے کے فیصلے پر منموہن سنگھ اور پوتن نے افسران کو ہدایت دی کے وہ کنڈن کلم پروجیکٹ کی ذمہ داری سے جڑے ان اشوز کو جلد سے جلد سلجھایا جائے جس کے سبب ریئکٹر کی تیسری اور چوتھی یونٹ پر کام رکا ہوا ہے۔ آج کے عالمی پس منظر میں بھارت اور روس کا ایک ساتھ ہونا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ کی بالادستی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اکیلے کسی دیش کے لئے اس کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ ہاں اگر روس، چین اور بھارت تینوں مل کر کام کریں تبھی کچھ حد تک امریکہ کے دبدبے کا مقابلہ ہوسکتا ہے۔ اسی نقطہ نظر سے وزیر اعظم کا دورۂ روس اور چین اہمیت کا حامل ہے۔
(انل نریندر)

24 اکتوبر 2013

سنت شوبھن سرکار کے آگے یوں ہی نہیں جھکے نریندر مودی!

بھاجپا کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی کو اس چناوی موسم میں تھوڑا سوچ سمجھ کر کوئی بھی بیان دیناچاہئے۔ بیان دے کر کسی بھی اشو پر پلٹنا نہ تو ان کو زیب دیتا ہے اور نہ ہی وزیراعظم امیدواری کو۔ تازہ مثال ڈونڈیا کھیڑا میں سونے کی کھدائی معاملے کی ہے۔ چنئی میں گذشتہ جمعہ کو ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا تھا کہ دنیا ہمارے بے تکے کام پر ہنس رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کسی کو خواب آیا اور سرکار نے کھدائی کا کام شروع کردیا۔ چوروں اور لٹیروں نے بھارت کے پیسے کو بیرونی بینکوں میں جمع کررکھا ہے جو 1 ہزار ٹن سونے سے زیادہ ہے۔ اگر آپ (سرکار) یہ پیسہ واپس لاتی ہے تب آپ کو سونے کے لئے کھدائی کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مودی کے تبصرے سے سنت شوبھن سرکار خاصے ناراض ہوگئے ہیں۔ ان کے ماننے والے اوم جی نے اس بیان کے خلاف مودی کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا ہے’ پریہ نریندر بھائی آپ کا کانپور کی سرزمین پر خیر مقدم ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ نے مرکزی سرکار اور محترمہ سونیا گاندھی پر حملے کرنے کی جلد بازی میں سنتوں کے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ ہم رگھوونشی ہیں ۔شوبھن سرکار رگھوونشی شرومنی ہم اپنے وچن پر اٹل ہیں۔ہم اس اشو سمیت سبھی معاملوں پر آپ سے بحث کرنا چاہتے ہیں‘۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ پیر کو اپنے رخ پر پلٹتے ہوئے نریندرمودی نے ٹوئٹ کر شوبھن سرکار کی تعریف کے پل باندھ دئے۔ انہوں نے لکھا ہے سنت شوبھن سرکار کے تئیں برسوں سے لاکھوں لوگوں کی شردھا وابستہ ہے۔ میں ان کی تپسیا اور قربانی کو پرنام کرتا ہوں۔ اتنا ہی نہیں مودی نے کانپور سے بھاجپا ممبر اسمبلی ستیش موہانا کو خاص طور پر سنت شوبھن کے پاس بھجوایا۔ ستیش ماہانا مودی کی طرف سے اناؤ کے بکسر کے واقع آشرم میں شوبھن سرکار سے ملے۔ انہوں نے سنت کو بتایا کے نریندر مودی کا نظریہ ان کے وقار پر ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ سنت کے چیلے سوامی اوم جی کے مطابق ملاقات کے دوران سنت نے مودی کو معاف کردیا۔ شوبھن سرکار کے خواب کے آگے سرکارہکی ہی نہیں پوری سیاست ہی سرخم ہے۔ بھاجپا کے پی ایم اِن ویٹنگ نریندر مودی کے تیور محض چار دنوں میں ہیں بابا کے سیاسی تیروں کے آگے ڈھیلے پڑ گئے۔ بابا کے اعلان پر کانگریس۔ سپا سے لیکر بسپا تک کی زبان ان کے خلاف اب تک نہیں ہل پائی۔ دراصل یہ اثر بابا کی شخصیت سے کہیں زیادہ اس حلقے میں ان کے اثر کا ہے جو پارٹیوں کے ووٹ پر چوٹ کرسکتا ہے۔ اناؤ ،فتحپور، رائے بریلی کی حدود آپس میں ملتی ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں بابا کے چمتکار کے قصے مشہور ہیں۔ کانپور میں کئی گاڑیوں پر شوبھن سرکار کے نعرے لکھے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں چناوی آہٹ نے سیاست دونوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی بابا کا جھنڈا اٹھانے پر مجبور کردیا ہے۔ اناؤ لوک سبھا سیٹ پر فی الحال کانگریس سے انو ٹنڈن ہیں۔ بابا کی ڈوڈیا کھیڑا میں سونے کے خواب کے پہلے خط کوانہوں نے ہی سرکار تک پہنچایا تھا۔ فتح پور کی سیٹ سپا کے پاس ہے جبکہ راہئے بریلی کی سیٹ سونیا کے پاس ہے اس لئے کانگریس بھی چپ ہے سپا اور بسپا کے نمائندے بھی سنت کے چکر لگا رہے ہیں۔ اس لئے کوئی بھی سیاسی پارٹی آج کی تاریخ میں سنت شوبھن سرکار سے پنگا مول نہیں لینا چاہتی۔ شاید اسی سیاسی مجبوری کے چلتے نریندر مودی کو یو ٹرن لینا پڑا۔
(انل نریندر)

سونیا بیمار راہل پر بھار،پرینکا کو بناؤ امیدوار!

سونیابیمار راہل پر بھار،پرینکا کو بناؤامیدوار کا نعرہ دینے والے یوپی کے دو کانگریسی ورکروں کو یہ نعرہ بہت مہنگا پڑا۔ پردیش کانگریس کمیٹی نے دونوں عہدیداران کو معطل کردیا ہے۔ الزام ہے کہ دونوں نے الہ آباد میں سونیا کو بیمار بتانے والے اور پھولپور سے پرینکا گاندھی واڈرا کو امیدوار بنانے کی مانگ کرنے والی ہورڈنگس لگائی تھیں۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نرمل کھتری نے پارٹی کی الہ آباد یونٹ کو ہدایت دی کے سکریٹری حسیب احمد اور سریش چند دوبے کو فوراً معطل کریں۔ ان دونوں لیڈروں کے نام ہورڈنگ پر تھے۔ انہوں نے کہا کچھ باہری لوگ اس طرح کی حرکتوں میں لگے ہوئے ہیں اور وہ پارٹی چیف سونیا گاندھی کو بیمار بتانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا سونیا گاندھی بہتر طریقے سے پارٹی کا کام کاج چلا رہی ہیں لیکن کچھ لوگ ان کی اور پارٹی کی ساکھ خراب کرنا چاہتے ہیں۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہورڈنگ اسمبلی چناؤ کے دوران بھی لگائی گئی تھیں لیکن اس وقت انہیں نظر انداز کردیا گیا۔غور طلب ہے پھولپور پارلیمانی حلقے سے دیش کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرونے چناؤ لڑا تھا۔ دراصل کانگریس کی سب سے بڑی پریشانی نریندر مودی کے مقابلے ’کراؤڈ پولر‘ یعنی ’بھیڑ اکھٹی کرنے والے ‘چہرے کی رہی ہے۔ مودی کی ریلی میں دن بدن بھیڑ بڑھتی جارہی ہے۔ وہ جہاں بھی جاتے ہیں لاکھوں کی تعداد میں لوگ انہیں سننے آتے ہیں۔ سونیا گاندھی اب صحت کی وجہ سے پارٹی کی گھٹتی مقبولیت کے سبب اتنی بھیڑ اکھٹا نہیں کرپارہی ہیں۔ کانگریسیوں نے اسمبلی چناؤ میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کے بجائے نائب صدر راہل گاندھی کی مانگ زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستوں میں راہل گاندھی کو زیادہ ریلیاں کرنے کے پروگرام بن رہے ہیں۔ راہل بولتے ہیں اس سے پبلسٹی میں مدد ملتی ہے۔ دراصل راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں راہل کی زیادہ ریلیوں کا تذکرہ ہے۔ راہل کی ڈیمانڈ کے بارے میں کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ بھاجپا کو زیادہ تلخ انداز سے کوسنے کی ضرورت ہے۔ 
حالیہ دنوں میں راہل نے جہاں بھی ریلیاں کی ہیں وہاں ان کے تیور جارحانہ دکھائی دئے۔ راہل نے اب علاقائی مسائل کو لیکر جس طرح کی مسالے دار تقریر شروع کی ہے اس سے ریلیوں میں لوگ کافی دیر تک بیٹھے رہتے ہیں۔ راہل کی ریلیوں کے امکانی امیدواروں اور چناؤ مہم میں لگائے گئے لیڈروں کی طرف سے زیادہ مانگ ہورہی ہے۔ ابھی راہل کی ریلیوں کے پروگرام بن رہے ہیں وہ چھوٹے مقامات پر بھی جارہے ہیں اور بڑی جگہوں اور شہروں میں بھی۔ چھوٹی جگہوں کے پروگرام دیہات اور قبائلیوں کو ذہن میں رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ ابھی راہل ایک دن میں دوریلیاں کررہے ہیں لیکن مانگ کودیکھتے ہوئے ان کی تعداد تین ریلیاں یومیہ ہوجائے گی۔ چناؤ والی ریاستوں کے ایک انچارج جنرل سکریٹری نے کہا کہ کیونکہ اس بار ٹکٹ تقسیم میں راہل گاندھی کی شرائط چلی ہیں اس لئے انہوں نے باآور کیا ہے کہ وہ اپنی ریلیاں کرنے میں ریاستی یونٹ کومایوس نہیں کریں گے۔ سونیا کی ڈیمانڈ نہ کے برابر ہے اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کو تو کوئی بلاکر راضی نہیں۔ پرینکا کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔
(انل نریندر)

23 اکتوبر 2013

آخر کب تک ہم یوں ہی مرتے رہیں گے؟

جموں کے سرحدی علاقوں میں پاکستان نے جنگ والے حالات بنا دئے ہیں اور اب یہ حالت بن گئی ہے کہ مسلسل گولہ باری کی وجہ سے لوگ جان بچانے کے لئے گھر چھوڑ کربھاگ رہے ہیں۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ کا بھی صبر کا باندھ ٹوٹ گیا ہے انہوں نے سخت تیور اپناتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تو ہمیں اسے جواب دینا چاہئے۔ اگر پاکستان سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے تو مرکزی سرکار کو دوسرے متبادل تلاشنے ہوں گے۔عمر کا کہنا تھا کہ آج گاؤں سنسان ہورہے ہیں ۔ لوگ اپنے کھیت اور گھر چھوڑ رہے ہیں۔ بچوں نے اسکول جانا بند کردیا ہے۔ وجہ یہ ہے پاکستان جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے۔ عمر نے پاکستانی رینجرز اور فوجیوں کی گولہ باری کی زد میں دیہاتیوں کی دیکھ بھال کی خاص ذمہ داری تارا چند (نائب وزیر اعلی) کو دی ہے۔ پاکستان نے جنگبندی کی خلاف ورزی کا آٹھ سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ 140 بار جنگبندی کی خلاف ورزی ہوئی۔ اس سال گذشتہ آٹھ برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔14 اگست کو پونچھ میں کنٹرول لائن اور جموں سانبا اور کٹھوا میں روز فائرننگ ہورہی ہے۔ عمر عبداللہ نے سرحد پر بگڑے حالات کے لئے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو سیدھا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا گذشتہ دنوں نیویارک میں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور نواز شریف کی ملاقات کے بعد ہی گولہ باری تیز ہوئی ہے۔ اس کے لئے نواز شریف کہیں نہ کہیں ذمہ دار ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو پھر حالات پر ان کا کوئی بس نہیں چل پارہا ہے۔ وزیر اعلی نے کہا نیویارک میں ملاقات میں دونوں وزرائے اعظم نے طے کیاتھا کہ فوجی تنازعوں کو دور کرنے کے لئے ڈی جی ایم او سطح پر معاملے پر غور ہو۔ اس متبادل کو اپنایا جانا چاہئے۔ اگر اس سے حل نہیں نکلتا تو دوسرے متبادل اپنانے کے لئے مرکزی حکومت تیار رہے۔ شہری علاقوں پر مسلسل فائرننگ سے ایسے حالات بن گئے ہیں جس میں سرداری ہی مانو دشمنوں کے ہاتھ لگ گئی ہے۔ پاکستان سے بات چیت کی رٹ لگانے والے عمر عبداللہ اب دوسرے متبادل کی بات کررہے ہیں۔اسی سے حالات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جب نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تھا تب انہوں نے بھارت کے ساتھ بھائی چارے کی بات کہی تھی لیکن ہم نے اس کالم میں آگاہ کیا تھا کہ نواز شریف پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اٹل بہاری واجپئی لاہور گئے تھے تب بھی انہی میاں نواز شریف نے دوستی کی باتیں کہی تھیں لیکن ان کے قول اور فعل میں بہت فرق ہے۔ دراصل پاکستانی فوج و دیگر جہادی طاقتوں کو معلوم ہے کہ امریکہ میں 2014ء میں افغانستان چھوڑنا ہے اور وہ پاکستان کی مدد کے بغیر ایسا شاید نہ کرسکے۔ تبھی بار بار پاکستان امریکہ سے کشمیرمعاملے میں ثالثی کی بات کرتاہے۔ ادھر بھارت میں کیونکہ عام چناؤ قریب ہیں اور یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ منمو ہن سنگھ سرکار ہاتھ میں چوڑیاں پہنے ہوئے ہے اسی لئے وہ مسلسل سرحد پر دباؤ بنا رہا ہے۔ خود نواز شریف کی حکومت کے ابھی پاکستان میں پاؤں جمے نہیں کہ وہ کشمیرکے اشو کو ہر حالات میں زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ بھارت کی یوپی اے سرکار نے ہمارے بہادر جوانوں کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔ پاکستان کو معقول جواب دینے کی انہیں اجازت نہیں ہے۔ میں ایک سینئر فوجی افسر سے بات کررہا تھا تو انہوں نے کہا کہ یقین کریں کہ ہندوستانی فوج ہر لحاظ سے اہل ہے اور ہم پاکستان کو معقول جواب دے سکتے ہیں لیکن ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہم نہ تو لائن آف کنٹرول پار کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کے علاقے میں گھس کر ان کے فوجی کیمپوں اور جہادیوں کیمپوں پر حملہ کرسکتے ہیں۔ ہمیں یہ لڑائی اپنی سرزمین پر ہی لڑنی پڑ رہی ہے۔ اسی کمزور اور بزدل سرکاری پالیسی کا پاکستان فائدہ اٹھاتا ہے۔ جب بھی ہم کوئی ٹھوس جوابی کارروائی کرنے کی بات کرتے ہیں تو پاکستان ایٹمی بلیک میلنگ پر اتر آتا ہے لیکن اس دھمکی کے سبب ہم کب تک یوں ہی مرتے رہیں گے۔ سرحد کے حالات صاف اشارہ دے رہے ہیں کہ ہمارا پڑوسی کوئی خطرناک فیصلہ کرچکا ہے جسے عملی جامہ پہنانے کیلئے یہ تمام سازشیں چل رہی ہیں۔ سانبہ کے آتنکی حملے کی ساری پلاننگ 20 ستمبر کو لاہور کی سلوا مسجد میں رچی گئی جس میں پاکستان کا ایک برگیڈیئر سمیت چار سینئر فوجی شامل تھے۔ جموں میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں پاکستانی فوج براہ راست ذمہ دار ہے۔ پاک فوج نواز شریف و جہادی مل کر کام کررہے ہیں اور اسکا مقابلہ بھارت نہیں کرپا رہا ہے۔ ویسے اس سرکار سے ہمیں کوئی امیدنہیں۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا ہم دوستی کی باتیں کرتے رہیں گے اور وہ ہمیں مارتے رہیں گے۔ جب مرکز میں اقتدار تبدیلی ہوتی ہے تو شاید صحیح متبادل سامنے آئے۔
(انل نریندر)

آخر کار ڈاکٹر ہرش وردھن کو بطور وزیر اعلی پروجیکٹ کرنے کا فیصلہ ہوہی گیا!

پچھلے کئی دنوں سے دہلی میں بی جے پی میں وزیراعلی کی امیدوار ی کو لے کر گھمسان مچا ہوا ہے۔ راجدھانی میں تمام تجزیئے اور حالات معقول ہونے کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کا دہلی کے اقتدار پر قابض ہونے میں ایک بڑی مشکل وزیرا علی کی امیدواری کا پروجیکٹ نہ ہونا ۔ اس کی وجہ سے پارٹی کے اندر زبردست لڑائی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ پارٹی ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر آپسی گروپ بندی میں اس طرح الجھتی جارہی تھی کہ پارٹی کے ورکروں کو بھی ڈر ستانے لگا کے کہیں ہاتھ میں آئی بازی کانگریس پھر سے چھین نہ لے جائے اور پارٹی کے سرکردہ لیڈر وزیراعلی کے لئے ہی لڑتے نہ رہ جائیں۔ سارا جھگڑا پردیش پردھان وجے گوئل نے کھڑا کررکھا تھا۔ وہ اس بات کے لئے اڑ گئے تھے کہ پردیش صدر ہونے کے ناطے انہوں نے پچھلے کچھ مہینوں میں بہت محنت کی ہے۔ پارٹی کو کھڑا کردیا ہے اور تمام سرووں میں انہیں بی جے پی کے وزیر اعلی کے طور پر پروجیکٹ کیا جارہا ہے۔ اسی لئے وہ ہی سی ایم امیدوار ہونے چاہئیں۔ انہوں نے تمام طرح کے دباؤ اور دھمکیاں بھی دے ڈالیں۔ اگر انہیں وزیر اعلی پروجیکٹ نہیں کیا تو پارٹی کو بھاری نقصان ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ پارٹی اعلی کمان ڈاکٹر ہرش وردھن کو سی ایم امیدوار پروجیکٹ کرنا چاہتا ہے۔ آر ایس ایس بھی ہرش وردھن کے حق میں ہے۔ اس پورے واقعے کو کانگریس مزے سے دیکھ رہی تھی اور اسے امید تھی کہ یہ معاملہ الجھا ہی رہے گا اور اس سے بی جے پی کو نقصان ہوگا لیکن لگتا ہے اب معاملہ سلجھتا دکھائی دے رہا ہے۔ پیر کو پارٹی اعلی کمان کے ذریعے وزیر اعلی کی امیدوار کی شکل میں اپنا نام اعلان نہ ہوتے دیکھ کر باغی تیور اپنائے بھاجپا کے پردیش صدر وجے گوئل کے تیور پارٹی کے قومی صدر راجناتھ سنگھ کے سمجھانے کے بعد فی الحال ڈھیلے پڑ گئے ہیں۔ دہلی میں بی جے پی کا سی ایم امیدوار کون ہوگا اس کا بھلے ہی ابھی اعلان نہ ہوا لیکن تقریباً طے ہوگیا ہے کہ ڈاکٹرہرش وردھن ہی امیدوار ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ اسمبلی چناؤ میں محض ڈیڑھ مہینے پہلے بی جے پی کو یہ فیصلہ کیوں کرنا پڑا؟ اس کے پیچھے دو وجہ ہیں۔ پہلا عام آدمی پارٹی کا اثر کم کرنا ،دوسرا صاف ستھری ساکھ کے لیڈرکو پارٹی کے چہرے کی شکل میں پیش کرنا۔ بی جے پی مان رہی ہے کہ اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی سیدھے کانگریس کو فائدہ پہنچائے گی۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کی لڑائی میں بی جے پی پچھڑتی لگ رہی تھی۔ اس کی ایک وجہ دہلی بی جے پی کا کوئی چہرہ نہ ہونا مانا جارہا ہے۔ اور یہ پیغام جارہا تھا کہ مرکز کی طرح دہلی میں بھی نیتاؤں میں آپسی رسہ کشی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ جس طرح نریندر مودی کے مرکز میں آنے سے سارے لیڈر لائن پرآگئے ہیں اب نہ تو کوئی دوسری لائن کے لیڈرنہیں ہیں۔ اب پہلی لائن میں ویسے ہی ڈاکٹر ہرش وردھن کا فیصلہ ہونے سے اب دہلی بی جے پی میں گھمسان ختم ہونے کا امکان دکھائی پڑنے لگا ہے۔ بی جے پی کے لیڈروں نے وجے گوئل کے سامنے صاف کردیا کہ اگر ان کے حمایتیوں کی طرف سے ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش ہوتی ہے تو ان کا دہلی بی جے پی صدر بنے رہنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔ حالانکہ پارٹی کا خیال ہے کہ گوئل کوئی منفی قدم نہیں اٹھائیں گے لیکن گوئل نے اعلان کردیا ہے کہ وہ سی ایم کے امیدوار کی دوڑ میں نہیں ہیں۔ ڈاکٹر ہرش وردھن صاف ستھری ساکھ کے مقبول لیڈر ہیں۔ اگر ان کا نام فائنل ہوتا ہے تو دہلی بی جے پی کے لئے اچھا قدم ہوگا۔
(انل نریندر)

22 اکتوبر 2013

دگی سوائے: ڈوبتے سورج کو کوئی نہیں پوچھتا،چڑھتے سورج کو سبھی کرتے ہیں نمن!

ڈوبتے سورج کو کون پوچھتا ہے سبھی چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ سورج نکل رہا ہے اسے پوجو۔ گوالیار میلہ کمپلیکس میں راہل گاندھی کی ریلی میں پچھلی جمعرات کو اسٹیج سے جب کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے یہ کہا ایک بار تو اسٹیج پر بیٹھے سبھی لیڈراور ریلی کی جگہ پر موجود پارٹی ورکر حیران رہ گئے۔ صوبے کے سابق وزیر اعلی نے ڈوبتا سورج کس کے لئے کہا یہ سمجھ مشکل نہیں تھا۔ چڑھتے سورج کو لیکر انہوں نے باقاعدہ اسٹیج پر راہل گاندھی کے بغل میں بیٹھے جوتر ادتیہ سندھیا کی طرف اشارہ کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے اپنے نام کے اعلان کے بعد بھی مائک پر بولنے سے منع کردیا۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اسٹیج پر سبھی لیڈروں کو اکٹھا کر جو ایکتا دکھائی جارہی ہے اس میں کہیں نہ کہیں دراڑ پڑی ہوئی ہے۔ مدھیہ پردیش اسمبلی چناؤ میں کانگریس نے اپنے وزیر اعلی کے امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا لیکن جوتر ادتیہ سندھیا کو راستی چناؤ کمیٹی کا چیئرمین بنا کر جس طرح چناوی ریلی میں پروجیکٹ کیا جارہا ہے اس سے ریاستی پارٹی کے ورکروں اور عام جنتا کو یہ پیغام مل چکا ہے کہ کانگریس چناؤ کے بعد اگر اقتدار میں آئی تو جوتر ادتیہ سندھیا وزیر اعلی ہوں گے۔ سندھیا کو لیکر راہل گاندھی نے تقریباً 8 مہینے پہلے ہی فیصلہ کرلیا تھا۔ حالانکہ ریلی سے پہلے کچھ مقامی لیڈروں نے یہ بھی بتایا کے اسٹیج پر بھلے ہی ایکتا دکھائی جارہی ہو لیکن اندر خانے تلخی بنی ہوئی ہے۔ ایک سابق ممبر اسمبلی کے مطابق سندھیا کے نام پر کملناتھ ستیہ برت چترویدی ،دگوجے سنگھ و بھریا متفق ہوں گئے ہیں وہ ابھی ایک ساتھ ہیں لیکن دگوجے سنگھ اور اجے سنگھ سندھیا کو ابھی قبول نہیں کرپارہے ہیں۔ اجے سنگھ ،ارجن سنگھ کے بیٹے ہیں۔ کہا تو یہ جارہا ہے کہ جوتر ادتیہ سندھیا خود بھی صوبے کی سیاست میں اینٹری نہیں کرنا چاہتے وہ مرکز کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ بہرحال گوالیار کی چناؤ ریلی میں دگوجے سنگھ اپنی اس ناراضگی کو جتانے میں قباحت نہیں کرپائے۔ بار بار مائیک پر اعلان کرنے کے بعد جب آخر میں دگوجے بولنے آئے تو بولے میں جب مکھیہ منتری تھا تب بھی سونیا جی اور راہل جی کے سامنے نہیں بولتا تھا لیکن بال ہٹ کے سبب اٹھنا پڑا، ان کا اشارہ سندھیہ کی طرف تھا۔ مائک چھوڑتے وقت دگی راجہ اپنے دل کی بات کہنے سے نہیں چوکے اور کہا ڈوبتے سورج کو کوئی نہیں پوچھتا،چڑھتے سورج کو سبھی نمن کرتے ہیں۔ انہوں نے باقاعدہ سندھیا کی طرف ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا۔ کانگریس کے اندر بھلے ہی دراڑ ہو لیکن سندھیا کا نام آنے پر کانگریس کی چناوی جنگ میں فائدہ مل رہا ہے۔ ویسے مدھیہ پردیش و چھتیس گڑھ میں وزیر اعلی کا دعویدار اعلان نہ کرنے کی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنے کے لئے کانگریس لیڈر شپ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ان ریاستوں میں بھاجپا اور وزراء اعلی کو آگے کر چناؤ لڑ رہی ہے تاکہ سرکار کے خلاف ناراضگی کے نقصان کو وزراء اعلی کی مقبولیت سے کم کیا جاسکے۔ کانگریس کے ایک سینئرلیڈر نے قبول کیا کہ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں شیو راج سنگھ چوہان اور رمن سنگھ شخصی طور پر مقبول ہیں لیکن ان کی سرکار اور وزراء کے خلاف کافی ناراضگی ہے۔ تمام مہم کے باوجود کانگریس دونوں وزرائے اعلی کے خلاف ماحول بنانے میں کامیابی نہیں حاصل کرپارہی ہے۔ کانگریس کو اس کا یقینی نقصان ہورہا ہے۔ حکمت عملی ساز مانتے ہیں کہ پارٹی اگر وزیر اعلی کے دعویدار کو آگے کرے تو پارٹی نقصان کی بھرپائی کرسکتی ہے۔
(انل نریندر)

سی بی آئی کھولے گی راڈیا ٹیپ کی سچائی معاملہ محض ٹو جی اسپیکٹرم تک محدود نہیں!

ایک وقت تھا جب کارپوریٹ دنیا میں لابسٹ نیرا راڈیا کی طوطی بولا کرتی تھی۔ پنجابی نژاد ہندوستانی شوہر کے یہاں 1959 ء میں نیروبی کینیا میں پیدا نیرا خاندان سمیت 70 کی دہائی میں لندن جا کر بسی تھی۔ وہیں اس کی پڑھائی ہوئی ، وہیں ان کی گجراتی نژاد صنعت کار جگن راڈیا سے شادی ہوئی۔ شادی ناکام رہنے اور طلاق کے بعد وہ90 کی دہائی میں بھارت آگئیں۔ یہاں انہوں نے پہلی ملازمت سہارا ایئر لائنس میں کی۔ کچھ وقت بعد وہ سنگاپور کے کے۔ایل۔ایم اور یو کے ایئرلائنس کی نمائندہ بن گئیں۔اسی کے ساتھ نیرا راڈیا کی اقتدار کے گلیاروں میں پکڑ بنتی چلی گئی۔ 2001 ء میں نیرا نے پی آر دھرم ویشنوی کمیونی کیشن نام کی کمپنی بنائی اور جلد ہی ٹاٹا کی سبھی کمپنیوں کا کام انہیں مل گیا۔ اس سے ان کی حیثیت بھی بڑھ گئی اور لیڈروں، افسر شاہی تک ان کی پکڑ بن گئی۔2008 میں انہیں جانی مانی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ مکیش امبانی کی کمپنیوں کا کام بھی ملنے لگا۔ 2008ء میں نیرا راڈیا کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک شکایت ملنے پر محکمہ انکم ٹیکس نے ان کے ٹیلی فون کر سرویلنس میں ڈال دیا۔ بات چیت میں ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ اور سابق وزیر مواصلات اے۔ راجہ کا ذکر آنے سے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جانچ شروع کردی لیکن ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے سے سیدھے وابستگی نہ ہونے کے سبب راڈیا کو کلین چٹ مل گئی۔ بات چیت افشاں ہونے پر کئی نام سامنے آئے جن میں رتن ٹاٹا، مکیش امبانی، اے ۔راجہ اور بڑی صحافی برکھا دت وغیرہ شامل ہیں۔ بات چیت افشاں ہونے پر رتن ٹاٹا نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر اسے روکنے کی مانگ کی۔ وہیں ایک این جی اونے ٹیپ میں درج بات چیت میں مجرمانہ سازش والے حصوں پر کارروائی کے لئے مطالبہ بھی کیا۔ اس پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو پوری بات چیت کی تفصیل پیش کرنے کوکہا۔ سی بی آئی نے رپورٹ میں بات چیت کے دوران 14 معاملوں میں مجرمانہ پہلوکی توثیق کی۔ عدالت نے کہا صنعتی گھرانوں کے لئے رابطہ ذرائع کا کام کرنے والی نیرا راڈیا کی افسروں ،صنعتکاروں ، نیتاؤں کے ساتھ ریکارڈ کی گئی بات چیت پہلی نظر میں گہری سازش کا پتہ چلتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اسکے ساتھ 6 اشو کی جانچ کے احکامات بھی دئے جو ذاتی مفاد کے لئے بدعنوانی کے طریقے اپنانے سے متعلق ہے۔ جسٹس جی ایس سنگھوی کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ابتدائی طور پر بات چیت میں سرکاری افسران اور پرائیویٹ صنعتکاروں کی ملی بھگت گہری سازش دکھائی پڑتی ہے اور نیرا راڈیا کی بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ بااثر لوگ ذاتی فائدہ اٹھانے کیلئے بدعنوانی کے طریقے اپناتے ہیں۔ ٹیلی فون ٹیپوں کا تجزیہ سپریم کورٹ کے ذریعے مقرر کمیٹی نے کیا ہے۔ عدالت نے جانچ کا حکم دیتے وقت حالانکہ ان چھ معاملوں کاتذکرہ نہیں کیا جن کی جانچ سی بی آئی کرے گی لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا کہ سی بی آئی کوا ن میں مجرمانہ سازش کے حصے ملے تھے۔ بڑی عدالت نے کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کہا تھا راڈیا کے لیڈروں اور صنعتی گھرانوں اور دوسرے اشخاص سے ہوئی بات چیت کی تفصیل سے قومی سلامتی سے وابستہ معاملوں کے بارے میں بھی اشارے ملتے ہیں۔ سی بی آئی کو دو ماہ کے درمیان جانچ پوری کرنے کو کہا گیا ہے۔ اگلی سماعت16 دسمبر کو ہوگی۔ نیرا راڈیا کے فون کی 180 دن کی ریکارڈنگ حکومت کے پاس ہے۔ 9 سالوں میں نیرا راڈیا نے 300 کروڑ روپے کی اسٹیٹ یوں ہی نہیں کھڑی کرلی؟ امید کی جاتی ہے کہ سی بی آئی سب معاملوں کی باریکی سے جانچ کرے گی اور ان سبھی کے رول کو بے نقاب کرے گی جو اس کانڈ سے جڑے ہیں جن میں کئی بڑے میڈیا والے بھی شامل ہیں۔
(انل نریندر)ایک وقت تھا جب کارپوریٹ دنیا میں لابسٹ نیرا راڈیا کی طوطی بولا کرتی تھی۔ پنجابی نژاد ہندوستانی شوہر کے یہاں 1959 ء میں نیروبی کینیا میں پیدا نیرا خاندان سمیت 70 کی دہائی میں لندن جا کر بسی تھی۔ وہیں اس کی پڑھائی ہوئی ، وہیں ان کی گجراتی نژاد صنعت کار جگن راڈیا سے شادی ہوئی۔ شادی ناکام رہنے اور طلاق کے بعد وہ90 کی دہائی میں بھارت آگئیں۔ یہاں انہوں نے پہلی ملازمت سہارا ایئر لائنس میں کی۔ کچھ وقت بعد وہ سنگاپور کے کے۔ایل۔ایم اور یو کے ایئرلائنس کی نمائندہ بن گئیں۔اسی کے ساتھ نیرا راڈیا کی اقتدار کے گلیاروں میں پکڑ بنتی چلی گئی۔ 2001 ء میں نیرا نے پی آر دھرم ویشنوی کمیونی کیشن نام کی کمپنی بنائی اور جلد ہی ٹاٹا کی سبھی کمپنیوں کا کام انہیں مل گیا۔ اس سے ان کی حیثیت بھی بڑھ گئی اور لیڈروں، افسر شاہی تک ان کی پکڑ بن گئی۔2008 میں انہیں جانی مانی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ مکیش امبانی کی کمپنیوں کا کام بھی ملنے لگا۔ 2008ء میں نیرا راڈیا کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک شکایت ملنے پر محکمہ انکم ٹیکس نے ان کے ٹیلی فون کر سرویلنس میں ڈال دیا۔ بات چیت میں ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ اور سابق وزیر مواصلات اے۔ راجہ کا ذکر آنے سے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جانچ شروع کردی لیکن ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے سے سیدھے وابستگی نہ ہونے کے سبب راڈیا کو کلین چٹ مل گئی۔ بات چیت افشاں ہونے پر کئی نام سامنے آئے جن میں رتن ٹاٹا، مکیش امبانی، اے ۔راجہ اور بڑی صحافی برکھا دت وغیرہ شامل ہیں۔ بات چیت افشاں ہونے پر رتن ٹاٹا نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر اسے روکنے کی مانگ کی۔ وہیں ایک این جی اونے ٹیپ میں درج بات چیت میں مجرمانہ سازش والے حصوں پر کارروائی کے لئے مطالبہ بھی کیا۔ اس پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو پوری بات چیت کی تفصیل پیش کرنے کوکہا۔ سی بی آئی نے رپورٹ میں بات چیت کے دوران 14 معاملوں میں مجرمانہ پہلوکی توثیق کی۔ عدالت نے کہا صنعتی گھرانوں کے لئے رابطہ ذرائع کا کام کرنے والی نیرا راڈیا کی افسروں ،صنعتکاروں ، نیتاؤں کے ساتھ ریکارڈ کی گئی بات چیت پہلی نظر میں گہری سازش کا پتہ چلتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اسکے ساتھ 6 اشو کی جانچ کے احکامات بھی دئے جو ذاتی مفاد کے لئے بدعنوانی کے طریقے اپنانے سے متعلق ہے۔ جسٹس جی ایس سنگھوی کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ابتدائی طور پر بات چیت میں سرکاری افسران اور پرائیویٹ صنعتکاروں کی ملی بھگت گہری سازش دکھائی پڑتی ہے اور نیرا راڈیا کی بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ بااثر لوگ ذاتی فائدہ اٹھانے کیلئے بدعنوانی کے طریقے اپناتے ہیں۔ ٹیلی فون ٹیپوں کا تجزیہ سپریم کورٹ کے ذریعے مقرر کمیٹی نے کیا ہے۔ عدالت نے جانچ کا حکم دیتے وقت حالانکہ ان چھ معاملوں کاتذکرہ نہیں کیا جن کی جانچ سی بی آئی کرے گی لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا کہ سی بی آئی کوا ن میں مجرمانہ سازش کے حصے ملے تھے۔ بڑی عدالت نے کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کہا تھا راڈیا کے لیڈروں اور صنعتی گھرانوں اور دوسرے اشخاص سے ہوئی بات چیت کی تفصیل سے قومی سلامتی سے وابستہ معاملوں کے بارے میں بھی اشارے ملتے ہیں۔ سی بی آئی کو دو ماہ کے درمیان جانچ پوری کرنے کو کہا گیا ہے۔ اگلی سماعت16 دسمبر کو ہوگی۔ نیرا راڈیا کے فون کی 180 دن کی ریکارڈنگ حکومت کے پاس ہے۔ 9 سالوں میں نیرا راڈیا نے 300 کروڑ روپے کی اسٹیٹ یوں ہی نہیں کھڑی کرلی؟ امید کی جاتی ہے کہ سی بی آئی سب معاملوں کی باریکی سے جانچ کرے گی اور ان سبھی کے رول کو بے نقاب کرے گی جو اس کانڈ سے جڑے ہیں جن میں کئی بڑے میڈیا والے بھی شامل ہیں۔
(انل نریندر)

20 اکتوبر 2013

سوامی شوبھن سرکار کا 1000ٹن کا سنہرا خواب

ایک سادھو شوشوبھن سرکار کو خواب میں انیسویں صدی کے راجہ راؤ رام بخش سنگھ نظر آئے راجہ نے شوبھن سرکار کو خواب میں بتایا کہ اتر پردیش کے ناؤ ضلع کے ڈوڈیا کھیڑا قلع کے کھنڈر میں 1ہزار ٹن سونا دبا ہوا ہے سادھو نے یہ خواب مرکزی وزیر چرن داس مہنت کو سنایا اور مہنت کے کہنے پر ہندستانی آثار قدیمہ کے محکمہ سروے اور جغرافیائی سروے نے اس خزانے کو حاصل کرنے کیلئے کھدائی کرنا شروع کردی سوامی شوبھن سرکار نے پھر ایک اور خواب دیکھا ہے انہوں نے اس بار کارنپور سے فتح پور مندروں کے آثاروں کے نیچے بڑا خزانہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے سرکار نے اپنے ایک نمائندے سوامی اوم کو ڈی ایم اجے کمار سے ملنے بھیجا ہے تاکہ اعظم پور نامی اس گاؤں سے بھی کھدائی ہو سکے سوامی اوم کا دعویٰ ہے کہ اس جگہ 25سو ٹن سونا ملے گا جب سے یہ خبر آئی ہے سارے دیش کی نگاہیں اناؤ کے ڈانڈیا کھیڑا ضلع پر لگ گئی ہے اناؤ ہیڈ کوارٹر سے ڈانڈیا کھیڑا گاؤں 60کلو میٹر دور ہے اس گاؤں میں راجہ رام بخش سنگھ کی ریاست تھی ہ اپنے عہد میں 25راجہ تھے ایک مقامی سنت شوبھن سرکار کا دعویٰ ہے کہ ان کے خواب میں راجہ راؤ رام بخش سنگھ آتے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ قلع کے 20میٹر نیچے سونے کا ذخیرہ ہے اس کو نکالا جائے تو دیش کے کام آئے گا۔س دوران اتنے سونے کی خبروں سے آس پاس کے گاؤں میں کافی دلچسپی پائی جاتی ہے لوگ یہ حساب لگانے لگا ہے کہ اس خزانے کا 20فیصدی حصہ بھی لگا دیا گیا تو اس گاؤں کی تصویر ہی بدل جائے گی اس علاقے سنت شوبھن سرکار کی خاص اہمیت کی کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ان کو کسی طرح کا لالچ نہیں ہے لوگوں کو پکا یقین ہے کہ شوبھن سرکار کی پیشن گائی صحیح ثابت ہو گی ۔پی ایموں ہدایت پر وزیر مملکت چرن داس مہنت نے ڈوڈیا کھیڑا کا دعویٰ کیا تھا عوامی جذبات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے کھدائی کرانے کی سفارش کی تھی ۔اس کی سنہرے سپنے کا تذکرہ جب زیادہ بڑھا تو اس میں سیاست دانوں نے بھی اپنی دلچسپی لینی شروع کردی علاقے کے لوگوں نے سپا چیف ملائم یادو سے درخواست کی ہے کہ وہ کھدائی کے موقعے پر وہ یہاں موجود رہیں تو اچھا ہوگا ۔ویسے ابھی کھدائی شروع ہو گئی ہے دعویداروں کی لمبی فہرست بن گئی ہے ،خزانے کا دعوایدارخود کو وارث بتا رہے ہیں اسی طرح کے ایک دعویدار نے اپنا سرٹی فکیٹ بھی دکھا دیا جس میں انہیں راجہ کا جانشین بتایا تھا تاریخی حقائق کے مطابق راجہ کے محل کے نقشے میں نارنگی کے پیڑ کے نیچے خزانہ ہونے کی بات دکھائی گئی تھی انگریزی جنرل ہوم گرانٹ نے 10مئی 1857کو راجہ کا ڈوڈیا کھیڑا درگ توڑ دیا تھا اس کے بعد راجہ صاحب اپنی سسرال کال کا نکڑ اور پھر بنارس چلے گئے یہاں کے نگوا گاؤں میں کرائے پر رہے راجہ کو جب گرفتار کیا گیا تو اس کے پاس بنارس کے خزارنے میں 4ہزار طلائی سکے تھے 18اکتوبر کو ضلع مجسٹریٹ وجے کرن آنندنے راجہ راؤ رام بخش سنگھ کے کھنڈر ہو چکے قلعے میں پہلا پھاوڑا چلاتے ہوئے کھدائی کی رسمی شروعات کی اور کھدائی کا کام چالو ہوگیا اب آگے دیکھنا ہوگا کھدائی میں کیا نکلتا ہے ۔

یوپی بہار میں چلی نریندر مودی کی ہوا

آج کل چناوی سروے کی باڑھ آگئی ہے لیکن ایک سروے ایسا آیا ہے کہ جو لوک سبھا 2014کے چناؤ کیلئے اہم ثابت ہو سکتا ہے یہ تو ہم جانتے ہیں۔کہ یوپی بہار کے نتائج ہی طے کرتے ہیں کہ دیش پر کون کون سی پارٹی راج کرے گی دہلی کی گدی کا راستہ یوپی بہار سے ہوکر جاتا ہے اکنومک ٹائمز نے ان دونوں ریاستوں کا ایک سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اتر پردیش اور بہار میں بی جے پی جنتاکی حمایت مل رہی ہے یوپی بہار سے ملاکر 120لوک سبھا کی سیٹیں ہیں یہ سپورٹ بڑھی تو اس سے کوئی بھی پارٹی سیاسی اکھاڑوں میں کلین سویپ کر جائے گی دیش بھر میں کون راج کرے گا یہ طے کرنے کی صلاحیت کرنے والے راجیوں میں اکنومک ٹائمز کی طرف سے کرائے ایک بڑے وسیع سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے اس میں 8500ووٹوں کی رائے شامل کی گئی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کی پی ایم انویٹنگ نرنیدر مودی کی یوپی بہار میں مقبولیت پر عوام کے بیچ پارٹی کی مقبولیت بڑھی ہے پھر بھی 120لوک سبھا سیٹ والی ان دو ریاستوں میں پارٹی کو ایک تہائی سے تھوڑی زیادہ سیٹیں ملتی نظر آتی مل رہی ہیں اے سی نیلسن ریسرچ کی طرف سے 4سے 26ستمبر کے درمیان کرائے گئے اس سروے کے مطابق ان دونوں ریاستوں میں یوپی میں 27بہار میں 17سیٹیں مل سکتی ہیں یعنی دونوں ریاستوں میں 44سیٹیں مل سکتی ہیں یہ اعدادوشمار بی جے پی کیلئے اچھے تو ہیں لیکن کافی نہیں ہیں حالانکہ بی جے پی کیلئے راحت کی بات ہے کہ نریندر مودی کا ایک بڑا فیکٹر اچھا ثابت ہو رہا ہے جس سے جو بڑی تصویر سامنے آرہی ہے اس کے حساب سے مودی کو یوپی میں چنوتی دینے والے ملائم سنگھ اکھلیش یادو بہا رمیں نتیش کمار کے دبدبے میں کمی آسکتی ہے یوپی میں بی جے پی ؂27سیٹیں حاصل کرکے سب سے بڑی پارٹی بن سکتی ہے یہ اعدادو شمار پچھلے دو مرتبہ لوک سبھا کے چناؤ میں ملی سیٹوں کا تقریبا تین گنا ہے یوپی میں بی جے پی سبھی مخالف پارٹیوں کی بنیاد میں سیند لگاتی دکھائی پڑ رہی ہے یہاں اسے 28فیصدی ووٹ ملتے نظر آرہے ہیں 2009میں 17فیصدی ووٹ ملے تھے سروے کے مطابق سماج وادی پارٹی کا ووٹ شیئر 5فیصد گراوٹ کے ساتھ 18فیصدی تک آسکتا ہے ایسے میں لوک سبھا سیٹوں کی تعداد 16تک سمٹ سکتی ہے یہاں بسپا اور کانگریس کو بھی نقصان ہوتا نظر آ؂رہا ہے مودی کے حق میں اپر کاسٹ کا یگجا ہونا بسپا کی حمایت بنیا دکو گھٹا سکتا ہے حالانکہ کور دلت ووٹ پکا ہونے سے اس کی سیٹیں پچھلی بار کی طرح 20یا اس کے آس پاس رہی سکتی ہیں مودی زیادہ تر ووٹروں میں مقبول ہورہے ہیں جس سے دیگر پارٹیوں کے امکانات مدھم ہورہے ہیں یہ ایک سروے ہے اور ابھی لوک سبھا چناؤ میں ابھی وقت ہے لیکن طے ہے کہ یوپی بہار میں بی جے پی کی پوزیشن پچھلے لوک سبھا چناؤ کےء مقابلے کہیں بہتر نظر آرہی ہے ابھی تو مودی کی کئی ریلیاں ہوں گی ابھی کلائمیکس آنا باقی ہے ۔
انل نریندر

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...