Translater

16 مئی 2015

کراچی میں شیعوں کا قتل عام!

دہشت گردی کی صنعت چلا رہے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ بم دھماکوں نسلی تشدد کیلئے خطرناک اس شہر کی سڑکوں پر دن دھاڑے قتل عام نے چونکادیا ہے۔ کراچی میں اسماعیلی شیعہ فرقے کے لوگوں کے قتل عام نے ایک طرف جہاں اقلیتوں کے خلاف تشدد کی مثال پیش کی ہے تو دوسری طرف یہ کراچی شہر کی اس بدامنی کوبھی دکھاتا ہے جس کی وجہ سے کراچی کو دنیا کے سب سے تشدد زدہ شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شیعہ افراد کو لے جارہی بس رکوا کر بدمعاشوں نے جس طرح قریب 50 لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا اور درجن بھر کو زخمی کردیا ، وہ رونگٹے کھڑے کردینے والا واقعہ ہے۔بے رحمی کی حد یہ ہے کہ بس میں سوار عورتوں تک کو نہیں بخشا گیا اور سبھی متوفین کو سرمیں ہی گولیاں ماری گئیں۔ کٹر سنی دہشت گرد گروپ لمبے عرصے سے شیعہ اور اسلام کے دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سال تقریباً ہر مہینے شیعوں کے خلاف تشدد کی وارداتیں ہورہی ہیں۔ پاکستان کے اس بڑے قتل عام کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے لی ہے۔ ابھی کچھ وقت پہلے غیر ملکی سفارتکاروں کو لے جارہے ایئر فورس کے ہیلی کاپٹر کو بھی مار گرانے کا دعوی اسی تنظیم نے کیا تھا۔ اس طرح کی وارداتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ نواز شریف کی سرکار کے ہاتھ سے حالات نکلتے جارہے ہیں۔ میاں نواز شریف کی سلطنت اسلام آباد تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے اور وہ بھی پاکستانی فوج کی بدولت۔ یہ پاکستان میں سب سے بڑے شیعہ مخالف قتل عام میں سے یہ ہے۔ اس سے پہلے جنوری میں ایک شیعہ مسجد میں ہوئے دھماکے میں60 لوگ مارے گئے تھے۔ دراصل پاکستان نے اپنے آپ کو کٹر مذہبی جدوجہد کی لیباریٹری بنا لیا ہے اور یہاں جتنی طرح کے کٹر پسند گروپ ہو سکتے ہیں اتنے ہیں۔
اسی کٹر پسندی کے چلتے پہلے احمدیہ فرقے کو غیر اسلامی قرار دیا گیا اور اب ان کا قتل عام شروع ہوگیا ہے۔ اب احمدیہ اپنی عبادتگاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔ اگر ان کے پاس قرآن شریف پایا گیا یا قرآن کی آیات بھی ان کے پاس ملیں تو انہیں توہین مذہب قانون کے تحت سزا مل سکتی ہے۔ پاکستان کے نوبل انعام یافتہ اور دانشور عبدالسلام کا اپنے ملک میں کوئی نام نہیں لیتا کیونکہ وہ احمدیہ ہیں۔ آج جو پاکستان میں حالات ہیں اس میں دہشت گرد گروپ وہاں کی سرکار ، فوج، آئی ایس آئی کی آتنکی نرسری کی ہی دین ہیں۔بھارت کو کمزور کرنے افغانستان میں اپنی بالادستی بڑھانے کیلئے ان عناصر کا استعمال اسے خوب راس آتا ہے۔ پاکستان میں شیعہ فرقے کے لوگ 20 فیصدی ہیں۔ ان میں سے پاکستان کے بڑے سیاستداں صنعت کار ،افسران وغیرہ بھی ہیں۔سیاست میں بھٹو خاندان شیعہ ہے۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح بھی شیعہ تھے۔ پاکستان سرکار کی مشکل یہ ہے کہ وہ ان دہشت گرد گروپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جن کے تار و اثر مذہبی نیتاؤں سے جڑے ہیں۔مذہبی کٹر پسندی کی جو آگ پاکستان نے اپنے یہاں سلگا رکھی ہے اسی میں شیعہ اقلیتوں کی بلی چڑھ رہی ہے۔
(انل نریندر)

سعودی عرب میں شاہی نظام میں بھاری ردو بدل!

سعودی عرب میں زبردست اقتدار کا کھیل جاری ہے۔ وہاں شاہ عبداللہ کا عہد ختم ہوگیا ہے۔شاہ عبداللہ کا 23 جنوری کو انتقال ہوگیا تھا۔ ان کی جگہ79 سالہ شاہ سلمان سعودی عرب کے نئے بادشاہ بنے ہیں۔ شاہ سلمان نے پہلا کام یہ کیا کہ شاہ عبداللہ کے چہیتوں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے کو شروع کرتے ہوئے انہوں نے اپنے سوتیلے بھائی مکرن بن عبدالعزیز بن سعاد کو شہزادے کے عہدے سے ہٹا دیا۔ ان کی جگہ اپنے بھتیجے اور وزیر داخلہ محمد بن نائف کو نیا شہزادہ مقرر کردیا۔نئے شہزادے محمد بن نائف شاہ سلمان کے بھتیجے ہیں۔ امریکہ کے لیونس اینڈ کلارک کالج سے تعلیم یافتہ ہیں لیکن ڈگری نہیں لے سکے۔ وہ 1985 سے1988 تک ایف بی آئی سکیورٹی کورس کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسکاٹ یارڈ کی اینٹری ٹیریرزم یونٹ میں 1992 سے1994 تک ٹریننگ لی ہے۔ یہ اپنے والد نائف بن عبدالعزیز اسعود کے 10 بچوں میں دوسرے نمبر کے ہیں۔ والد نائف کنزرویٹیو وزیر داخلہ تھے۔ اکتوبر 1975 سے وزیر خارجہ کی ذمہ داری نبھا رہے سعود الفیصل کی بھی چھٹی کردی گئی ہے۔75 سالہ فیصل کی جگہ امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر عدیل الزبیر کی تقرری کی گئی ہے۔ زبیر اس ذمہ داری کو نبھانے والے شاہی خاندان سے باہر کے پہلے شخص ہیں۔ سرکاری تیل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو خالد الفلاحی کو وزیر صحت بنایا گیا ہے حالانکہ1995 سے وزیر تیل 79 سالہ علی النیمی ابھی بھی اپنے عہدے پر ہیں۔ شاہ عبداللہ کے 61 سالہ بیٹے پرنس مطیب نیشنل گارڈ کے چیف بنے ہوئے ہیں۔ مکرن کی برخاستگی سے شاہ عبداللہ عہد کا آخری بچا اعلی افسر ہٹ گیا ہے۔ مکرن 69 سالہ اس راج شاہی کے بانی عبدالعزیز بن سعود کے آخری بیٹے ہوتے جو حکومت کرتے۔ اب نائف دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے دیش سعودی عرب کی قیادت کرنے والوں کی قطار میں دوسری پیڑھی یا عبدالعزیز کے پوتوں میں سے پہلے شخص بن گئے ہیں۔ سعودیہ میں ردوبدل کا یہ فیصلہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں مزید مضبوطی لا سکتے ہے۔ نئے وارث نائف کا امریکہ کے ساتھ شاہی خاندان کے دیگر ممبران کے مقابلے زیادہ گہرا تعلق ہے۔ یہ شہزادے کے ساتھ نائب وزیر اعظم ،وزیر داخلہ اور سیاسی و سکیورٹی کونسل کے چیف بھی ہوں گے۔ وہ اسلامی کٹر پسندوں کے خلاف اپنے سخت موقف کے لئے بھی جانے جاتے ہیں۔ 2009ء میں ان پر القاعدہ نے قاتلانہ حملہ کیا تھا لیکن وہ حملے میں بال بال بچ گئے۔ شاہ سلمان نے انتظامیہ کو اور آسان بنانے کے لئے اپنے جانشین کی عدالت کا انضمام شاہی عدالت میں کردیا ہے۔ سرکاری سعودی پریس ایجنسی نے کہا کہ شہزادہ محمد بن نائف کی تجویز کی بنیاد پر شاہ سلمان نے شہزادے کی عدالت کو شاہی عدالت کے ساتھ جوڑنے کا فیصلہ لیا۔ سرکار کی تشکیل نو میں وسیع تبدیلی کی گئی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اس تبدیلی کی وجہ سے سعودی عرب کے حالات بگڑ رہے ہیں۔ یمن میں فوجی آپریشن بھی فیل ہوگیا ہے۔ کل ملاکر سعودی عرب کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

زمین کا بگڑتا مزاج، اوپر والا خیر کرے!

نیپال میں منگل کے روز آئے زلزلے کے تیز جھٹکے کو سائنسدانوں نے 25 اپریل کے تباہ کن زلزلے کے ’آفٹر شاک‘ قرار دیا ہے۔کوئی بڑا زلزلہ آنے کے چار پانچ مہینے تک اس طرح کے جھٹکے پر جھٹکے لگتے رہتے ہیں۔ آفٹر شاک عام طور پر کم ریختر اسکیل کے ہوتے ہیں لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہ تیز بھی ہو جاتے ہیں۔ منگل کو آیا۔7.3 ریختر اسکیل کا تیز جھٹکا آفٹر شاک تھا۔مگر عام جھٹکے سے زبردست تھا۔ دراصل دنیا بھر کے موسم کا مزاج بدلتا نظر آرہا ہے۔ بھارت میں اس سے اچھوتا نہیں ہے۔ اپریل سے جون کے درمیان آنے والے آندھی طوفان یوں تو بھارت میں عام بات ہے مگر اپریل میں بہار میں آئے طوفان کی تیز رفتار تشویش بڑھانے والی ہے۔ موسم کے مزاج اور نیپال میں آئے زلزلے کا سیدھے طور پر اب تک تال میل قائم نہیں ہوسکا ہے۔ مگر نیپال میں آئے زلزلوں نے اس بات پر سوچنے پر مجبور ضرور کردیا ہے پچھلے17 دن میں نیپال میں 102 بار زلزلے کے جھٹکے آچکے ہیں جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ آب و ہوا تبدیلی پر آئی پی سی سی کی رپورٹ میں تجویز ظاہر کی گئی ہے ۔ طوفان جیسی قدرتی آفات نہ صرف بڑھیں گی بلکہ ان کا دوبارہ سے عروج تیز ہوگا۔ اپریل ۔ مئی مہینے میں آئے آندھی طوفان اسی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے بھارت کے اترپردیش ، بہار سمیت دیش کے کئی حصوں میں اور عالمی سطح پر امریکہ و چلی وفجی میں بار بار اس طرح کے واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ماہرین کی مانیں تو ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے تھے لیکن اب یہ قیامت خیز شکل اختیار کرنے لگے ہیں۔موسم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بہار میں طوفان کے جو واقعات ہوئے ہیں دراصل یہ ٹھنڈر اسٹارم ہے۔ یعنی اچانک بجلی کڑکنے کے ساتھ پیدا ہونے والی آندھی طوفان۔ یہ سمندری طوفانوں سے مختلف ہیں۔ یہ جب بنتے ہیں جب زیادہ گرم اور نرم ہوائیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ افسوسناک یہ ہے کہ دور دراز کے علاقوں میں کیونکہ نگرانی آلات نہیں ہوتے اس لئے اس قسم کے طوفانوں کی رفتار آندھی کا صحیح طرح سے تجزیہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ انڈین اور یوریشین پلوٹو کی بے چینی کبھی بھی شمالی ہندوستان کو چین سے نہیں رہنے دے گی۔ ماہرین کے مطابق انڈین پلیٹ یوریشین پلیٹ کے نیچے واقع ہے۔ انڈین پلیٹ سالانہ چار کلو میٹر کی رفتار سے جگہ بدل رہی ہے جبکہ یوریشین پلیٹ دو کلو میٹر کی رفتار سے۔ انڈین پلیٹ جموں و کشمیر سے شروع ہوتی ہے اور ہماچل پردیش، نیپال، بہار، شمال مشرقی ریاستوں کو ہوتے ہوئے انڈومان نکوبار تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے درمیان چھوٹی ٹکر تو ہمیشہ ہوتی رہتی ہے لیکن جب بڑی ٹکر ہوتی ہے تو اس کا اثر وسیع ہوتا ہے۔ اس ٹکر کا سب سے زیادہ اثر ہمالیہ پہاڑ کے آس پاس کے علاقوں میں ہی پڑے گا۔ انڈین اور یوریشین پلوٹو کے درمیان آپسی ٹکراؤ کافی بڑھ گیا ہے۔ اس کا اثر دکھائی بھی دینے لگا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ اب بڑے زلزلوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ اوپر والا خیر کرے۔ جس طریقے سے نیپال میں زلزلے آرہے ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ نیپال کو بہت زیادہ تباہی ہوگی۔ قدرتی آفت کے سامنے آدمی کتنا بے بس ہے۔
(انل نریندر)

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو جج نے دی دھمکی!

مدراس ہائی کورٹ میں ایک عجیب و غریب معاملے کی اطلاع ملی ہے۔ مدراس ہائی کورٹ کے کنٹروورشل جج سی۔ ایس کرنن نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سنجے کے کول کے خلاف توہین عدالت کا معاملہ دائر کرنے کی دھمکی دے کر ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔کرنن نے کول کے خلاف درج فہرست ذاتوں و قبائلیوں کے مظالم ازالہ قانون کے تحت بھی معاملہ دائر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ چیف جسٹس کول کو بھیجے دو خطوں میں جسٹس کرنن نے توہین عدالت کا معاملہ داخل کئے جانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ درج فہرست و جن جاتی مظالم ازالہ ایکٹ کے تحت ان کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے لئے قومی انسانی حقوق کمیشن میں بھی جائیں گے۔ جسٹس کرنن نے یہ بھی کہا کہ وہ سول ججوں کے انتخاب کے سلسلوں میں چیف جسٹس کے انتظامی احکامات پر خود کارروائی کرتے ہوئے روک لگا رہے ہیں۔16 اپریل کو لکھے خطے میں انہوں نے چیف جسٹس کی تقرری کئے جانے والے ججوں کے معاملے میں بھی خامیاں پائی گئی ہیں۔ نومبر2011 ء میں جسٹس کرنن نے یہ الزام لگا کر ہنگامہ کھڑا کردیا تھا کہ ساتھی جج صاحبان نے انہیں بے عزت کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا دلت ججوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور جب بھی وہ اپنے عزت و وقار پر زور دیتے ہیں تو ان کی امیج کو ٹھیس پہنچائی جاتی ہے۔جسٹس کرنن نے پچھلے سال جنوری میں ججوں کے انتخاب کو لیکر ہائی کورٹ کی کولیجیم کے خلاف رائے زنی کرکے تنازعہ کھڑا کردیا تھا۔ ہائی کورٹ کیلئے 12 ججوں کے سلیکشن کے لئے اپنائے گئے طریقہ کار پر سوال اٹھائے جانے والی ایک مفاد عامہ عرضی پر ڈویژن بنچ کی سماعت کئے جانے کے دوران جسٹس کرنن عدالت کیبن میں پہنچ گئے اور کہا تھا کہ کارروائی منصفانہ نہیں ہے۔ سال2013ء میں انہوں نے ایک حکم دیا تھا کے اگر کوئی جوڑا جائز عمر میں جنسی استحصال میں شامل ہوتا ہے تو اسے جائز شادی مانی جائے گی اور انہیں میاں بیوی مانا جاسکتا ہے۔ پیر کو عزت مآب سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ نے کورٹ کے چیف جسٹس سنجے کشن کول کے اختیار کو مبینہ طور پر کمتر جانتے ہوئے جسٹس کرنن کے ذریعے پاس انترم حکم پر روک لگا دی۔چیف جسٹس ایم۔ ایل ۔ دوت کی سربراہی والی ڈویژن بنچ نے نچلی عدالت کے افسران کی تقرری سے متعلق معاملے میں جسٹس کرنن کے احکامات کے بارے میں کہا کہ 30 اپریل 2015 کے انترم آدیش روک لگے گی۔ عدالت نے کہا کہ ہم جسٹس کو جنہوں نے مدراس ہائی کورٹ میں التوا خود کی عرضی سے اپنے آپ کی وابستگی مانتے ہوئے سارے معاملے پر خود کارروائی کی۔ اس عرضی کی سماعت یا اس میں کوئی ہدایت دینے سے گریز کرتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس سے متعلق سبھی دیگر معاملوں میں تاملناڈو کے ایگزیکٹو جوڈیشیل افسران کے سلیکشن اور تقرری کے سلسلے میں ہائی کورٹ کے ذریعے شروع کی گئی کارراوئی کو پورا کرنے میں کوئی بھی شخص یا افسر یا جسٹس اس عرضی کا نپٹارہ ہونے تک مداخلت نہیں کرے گا۔
(انل نریندر)

14 مئی 2015

جے للتا ہائی کورٹ سے بے داغ ثابت ہوکر بری

کرناٹک ہائی کورٹ نے تاملناڈو کی سابق وزیر اعلی جے للتا کو آمدنی سے زیادہ اثاثے کے معاملے میں بری کردیا ہے۔ اس فیصلے سے محترمہ جے للتا اور ان کی پارٹی کو سیاسی سنجیونی مل گئی ہے۔غور طلب ہے کہ آمدنی سے زیادہ اثاثے کے معاملے میں18 سال کی قانونی لڑائی کے بعد پچھلے سال بینگلورو کی خصوصی عدالت نیجے للتا اور ان کے تین قریبی افراد کو چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ عدالت نے جے للتا پر100 کروڑ اور دیگر پر10 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی لگایا تھا۔ ٹرائل کورٹ سے اثاثے کے معاملے میں جیل کی سزا بھگت رہی جے للتا کو اپنے کانوں پر بھروسہ نہیں ہوا ہوگا جب کرناٹک ہائی کورٹ نے منٹوں میں ہی انہیں بری کرنے کا اعلان کردیا۔ اس فیصلے کو لیکر جتنی گد گد جے للتا رہی ہوں گی اس سے زیادہ بے چین ڈی ایم کے جیسی مقامی پارٹیوں سے لیکر بھاجپا یا کانگریس نہیں رہی ہوگی۔ چناؤ کی آہٹ سن رہے تاملناڈو کے سیاسی مستقبل کا دارو مدار کچھ حد تک اس فیصلے پر ٹکا ہوا تھا۔ ہائی کورٹ اگر نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتی تو اماں کے سیاسی بدائی کا ماحول بن جاتا۔ کیونکہ لمبے وقت تک وہ چناؤ لڑنے کا حق کھو بیٹھتیں لیکن اب نہ صرف انہیں جیل سے نجات ملی ہے بلکہ کرپشن کی سیاہی سے بھی انہیں چھٹکارا مل گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ بنگلورو کی خصوصی عدالت نے جب ستمبر2014 ء میں انہیں آمدنی سے زیادہ اثاثہ معاملے میں 4 سال جیل اور 100 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، تو انہیں وزیر اعلی کی کرسی چھوڑنی پڑی تھی اور ان کی جگہ ان کے وفادار پنیر سیلوم وزیر اعلی بنے۔ یہ فیصلہ دیش کی سیاست ک علاوہ عدالتی تاریخ کا بھی ایک حیرت انگیز واقعہ تھا۔ کرپشن یا دوسرے مجرمانہ معاملوں میں سرکردہ سیاستدانوں کے بھی جیل جانے کی کئی مثالیں ہیں لیکن پہلی بار ایک وزیر اعلی کو سزا سنائی گئی تھی۔ پھر جے للتا کو وزیر اعلی کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ 14 سال پہلے بھی جے للتا کو کرپشن کے ایک دوسرے معاملے میں سپریم کورٹ کے حکم پر وزیر اعلی کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ البتہ تب وہ 6 مہینے بعد ضمنی چناؤ جیت کر پھر وزیر اعلی بن گئی تھیں۔ جے للتا اب پورے دم خم سے اقتدار میں واپسی کریں گی اس میں تو کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسی اقتدار میں پھر سے وزیر اعلی کی کرسی سنبھالیں گی یا نئے چناؤ کا اعلان کر اس فیصلے کا بھر پور سیاسی فائدہ اٹھانے کا خطرہ لیتی ہیں۔ اس بار کرسی سنبھالنے کے ساتھ وہ اپنے حریف کروناندھی کے پانچ بار وزیر اعلی بننے کے ریکارڈ کی برابری کر لیں گی لیکن جے للتا کے اس انوکھے ریکارڈ کی برابری کون کر پائے گا جس میں کرپشن سے دو بار ہائی کورٹ سے سزا پانے اور دیش کی سب سے بڑی عدالت کے حکم کے بعد وزیر اعلی کی کرسی گنوانے کے بعد ان کی شاندار واپسی ہوئی ہے۔ اب جے للتا کی واپسی سے تاملناڈو میں ترقیاتی کام پھر سے پٹری پر لوٹ سکیں گے۔ مرکزی سیاست میں بھی میڈم کے پس منظر میں آنے سے تجزیئے بدلیں گے۔ اس فیصلے کے بعد جے للتا کی طوفانی واپسی کے اشارے ہیں۔
(انل نریندر)

جے جے بل میں ضروری ترمیم

دیش میں گھناؤنے جرائم کرنے والے 16 سے18 سال کے لڑکوں کے خلاف اب بالغوں کی طرح عام عدالت میں مقدمہ چلانے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ جمعرات کو لوک سبھا میں جوئینائل جسٹس(کیئر اینڈ پروڈکشن آف چلڈرن) یعنی جے جے ترمیم بل پاس کرکے پورے دیش میں لڑکوں سے وابستہ قانون میں ایک نئی تبدیلی کا راستہ کھل گیا ہے۔ اب یہ بل دیش میں موجودہ جے جے قانون 2000 کی جگہ قابل تسلیم ہوگا۔ اس بل میں عدالت سنگین اور گھناؤنے جرائم کو صاف طور پر تشریح اور زمرے وار کیاگیا ہے۔ سرکار اس بات کو خاص طور پر بیان کیا ہے کہ اس نے یہ یقینی کرن کیلئے کافی توازن قائم کیا ہے بے قصور بچوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ لڑکے انصاف(لڑکوں کی دیکھ بھال اور تحفظ ) بل 2014ء کو حکومت کی جانب سے سیکشن7 کو ہٹائے جانے پر متفق ہونے کے بعد منظوری دے دی گئی۔ سب سیکشن7 کہتاتھا کہ کوئی بھی شخص جس نے16 سے18 سال کی عمر میں کسی گھناؤنے جرائم یا سنگین جرم کو انجام دیا ہے اور وہ 21 سال کی عمر پوری کرنے کے بعد پکڑا جاتا ہے تو اس ایکٹ کے تقاضوں کے تحت اس پر بالغ ہونے کی شکل میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ خواتین و اطفال ترقی وزارت نے اگست2014ء میں لوک سبھا میں جے جے ترمیم بل پیش کیا تھا۔ جسے بعد میں متعلقہ وزارت کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا گیا تھا۔ جس نے قانونی طور پر لڑکے کی عمر18 سال رکھنے کی سفارش کی تھی۔ حالانکہ حکومت نے کمیٹی کی سفارشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے گھناؤنے معاملوں میں لڑکے کی عمر گھٹا کر16 سال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
غور طلب ہے کہ دہلی میں ہوئے نربھیا کانڈ کے بعد جے جے قانون میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔ اس کو لیکر سیاسی پارٹیں سے لیکر سماج میں الگ الگ رائے سامنے آئی۔ جہاں بچوں کے مفادات کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں اس ترمیم کے خلاف تھیں لیکن حکومت نے سماج کے لڑکوں میں گھناؤنے جرائم کے بڑھتے ٹرینڈ کو دیکھتے ہوئے اس سمت میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ کانگریس کے ایم پی ششی تھرور اور آر ایس پی کے ممبر ایم کے پریم چندرن جیسے لیڈروں نے عمر کی حد گھٹائے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے نئے قانون کے غلط استعمال اور اس کے تحت بچوں کی حقوق کی خلاف ورزی ہونے کا اندیشہ جتایا تھا۔ حالانکہ بل کو آگے بڑھاتے ہوئے خواتین و اطفال ترقی وزیر نے دلیل دی تھی کہ سرکار نے قانون میں ترمیم کرتے وقت پورا خیال رکھا ہے کہ بے قصور بچوں کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔ نئے قانون کی ضرورت کو صحیح مانتے ہوئے وزیر مینکا گاندھی نے کہا قومی کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2013ء کے قریب 28 ہزار لڑکوں نے مختلف جرائم کئے اور ان میں سے 3887 نے مبینہ طور سے گھناؤنے جرائم کو انجام دیا۔ نربھیا کانڈ میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح اس لڑکے نے گھناؤنا جرم انجام دیا۔ وہ اس کیس میں ماسٹر مائنڈ تھا اور نابالغ ہونے کی وجہ سے ضروری سزا پانے سے اس لئے بچ گیا کہ وہ نو عمر ہے۔ ہم سرکار کے ان قوانین کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر کوئی لڑکابڑے جرائم کو انجام دیتا ہے تو اسے سزا بھی ویسی ہی ملنے چاہئے۔
(انل نریندر)

13 مئی 2015

میڈیا کو دھمکانے پر اتر آئی کیجریوال حکومت

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اپنی حکومت کے اس متنازعہ سرکلر کو لیکر اپوزیشن پارٹیوں کے نشانے پر آگئے ہیں جس میں کسی بھی ہتک عزت خبر کیلئے میڈیا کے خلاف کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔ اس پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس اور بھاجپا نے ان پر پاکھنڈی اور غیر جمہوری ہونے کا الزام لگایا ہے۔ دہلی حکومت نے اپنے سبھی حکام سے کہا ہے کہ وہ پرنسپل سکریٹری (ہوم) کے پاس شکایت درج کرائیں۔ اگر انہیں پتہ چلتا ہے کہ کسی خبر سے وزیر اعلی یا حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ تاکہ ان کے خلاف آگے کی کارروائی کی جائے سکے۔ ڈائریکٹوریٹ انفورمیشن اینڈ پبلسٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر، جنہیں بھوشن کی طرف سے 6 مئی کوجاری سرکلرمیں کہا گیا ہے بغیر حقائق کے ایسی خبریں جس سے وزیر اعلی یا حکومت کے کسی افسر کی ہتک عزت ہوتی ہے تو اس کی شکایت داخلہ سکریٹری کو بھیجیں۔ سرکلر کے مطابق وہ اپنے سطح پر جانچ کرکے پروسیکیوشن ڈائریکٹر کی صلاح لے کر معاملہ محکمہ قانون کو قطعی جانچ کیلئے بھیجے گا۔ یہاں سے سیکشن 199(2) میں مقدمہ فائل کرنے کیلئے منظوری لے گا۔ پروسیکیوشن ڈائریکٹر کی منظوری کے بعد ہوم ڈپارٹمنٹ وکیل کو آئی پی سی کی دفعہ199(2) می شکایت کیلئے بھیجے گا۔ قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلی اروند کیجریوال پر بھی آئی پی سی کی دفعہ499 و500 کے تحت مرکزی وزیر نتن گڈکری نے شکایت کورٹ میں کی تھی۔ وہاں سے تو شریمان کیجریوال اس معاملے کو اظہار آزادی کی خلاف ورزی بتا رہے ہیں۔ کانگریسی لیڈر پی۔ سی ۔چاکو نے کہا کہ اب سرکار کی تنقید ہورہی ہے یا میڈیا ان کی سرکار کے غلط کرتوت کو اجاگر کررہا ہے تو وزیر اعلی اس پر اعتراض جتا رہے ہیں۔ یہ وزیر اعلی کے غیر جمہوری رویئے کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح کی رائے ظاہر کرتے ہوئے بھاجپا نے کہا جہاں کیجریوال اظہار آزادی کے بارے میں باتیں کرتے ہیں وہیں سب کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں۔ بھاجپا ترجمان جی۔ وی ۔ایل نرسنگھ راؤ نے کہا کہ یہ بے کنٹرول اظہار آزادی چاہتے ہیں لیکن دوسرے سبھی کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں۔ یہ پاکھنڈی کی ایک تھیوری ہے۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے پردھان اجے ماکن نے کہا یہ عجب بات ہے کیجریوال چناؤ سے پہلے جو بھی بولا کرتے تھے اس کے برعکس ہر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ایسا پہلی بار نہیں ہورہا ہے۔ میڈیا پر لگام لگانے کی کوشش آپ کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب سرکار بنی تو پہلے ہی دن میڈیا کی سکریٹریٹ میں اینٹری پر پابندی لگا دی گئی۔ حالانکہ گنے چنے اپنے مرضی کے میڈیا ملازم کی اینٹری ضروری کرائی گئی ہے۔ پردیش بھاجپا صدر ستیش اپادھیائے نے کہا کہ میڈیا پر حملہ بھاجپا برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا اروند کیجریوال کو جمہوری و آئینی اداروں اور میڈیا کی آزادی میں کوئی یقین نہیں ہے۔ کیجریوال ایک انارکسٹ تانا شاہ ہیں اور چناؤ بعد ان کا یہ نظریہ کھل کر سامنے آرہا ہے۔ اپادھیائے کا کہنا ہے بھاجپا میڈیا کی آزادی کو ہر حالت میں برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔ اس کیلئے اس نے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ سے مل کر کیجریوال کے اس قدم پر احتجاج درج کرایا ہے اور ’آپ‘ سرکار کے اس فیصلے کے خلاف بھاجپا وسیع آندولن چھیڑے گی۔ ادھر صدر پرنب مکھرجی نے ماسکو کے دورے کے دوران کہا بھارت میں ایک آزاد آئین اور کئی آئینی ادارے ہیں جو پارلیمانی جمہوریت کی دیش میں کامیابی جھلکاتے ہیں۔ پرنب مکھرجی نے کہا اس لئے ہمارا فیڈرل سسٹم کامیاب ہے۔ میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون مانا گیا ہے اور اس کی آزادی کو ہر حال میں برقرار رکھا جانا چاہئے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی کی سرکار ایسا کوئی کام نہیں کرے گی جس سے میڈیا کی آزادی پر حملہ ہو۔
(انل نریندر)

نواز شریف تحریک طالبان کے نشانے پر تھے

پاکستان کے قبضے والے کشمیر (پی او کے) میں پچھلے دنوں ایک ہیلی کاپٹر گرانے کی خبر آئی۔ ویسے ہیلی کاپٹر کو گرانے کی خبر اتنی بڑی نہیں ہوتی کیونکہ ہیلی کاپٹر گرتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن یہ سنسنی خیز خبر ہے کیونکہ اس میں دو سفیر سوار تھے۔ پاک طالبان نے سفارتکاروں سمیت11 غیر ملکیوں کو لے جارہے پاکستانی فوج کے اس ہیلی کاپٹر کو مارگرانے کا دعوی کیا ہے۔ اس حادثے میں فلپین، ناروے کے سفرا سمیت کم سے کم 5 دیگر کی موت ہوگئی۔ تحریک طالبان نے کہاکہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اس کے نشانے پر تھے۔ حالانکہ پاکستانی فوج نے اس حادثے کے پیچھے دہشت گردوں کا ہاتھ ہونے سے انکار کیاہے۔ حادثے میں ناروے کے سفیر لیف ایچ لارسن اور فلپن کے سفیر جیمینگو ڈی لوشینیریو جونیئر کی موت ہوگئی۔ ملیشیائی اور انڈونیشیاکے سفیروں کی بیویاں اور پاکستانی فوج کے دو پائلٹ بھی اس حادثے میں مارے گئے۔ مرنے والوں میں پائلٹ ٹیم کا ایک ممبر بھی شامل ہے۔ اس ایم آئی 17- ہیلی کاپٹر میں 6 پاکستانی 11 غیر ملکی سوار تھے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے گلگت ۔بلتستان علاقے میں یہ ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوکرنلتار وادی کے ایک اسکول کی عمارت میں جیسے ہی گرا تو اس میں آگ لگ گئی۔ پاک طالبان نے اس حادثے کی ذمہ داری لی ہے۔ پی ٹی پی کے چیف ترجمان محمد خراسانی کے بیان کے مطابق ہیلی کاپٹر کو جہاز بھیدی مزائل سے مار گرایا گیا۔ ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کو نشانہ بنانے کیلئے تحریک طالبان نے ایک خاص منصوبہ بنایا تھا لیکن وہ بچ گئے کیونکہ وہ ایک دوسرے ہیلی کاپٹر پر سوار تھے۔ ٹی ٹی پی کے دعوے کی فوری تصدیق نہیں ہو پائی۔ گلگت ۔بلتستان کا علاقہ دہشت گردوں کا مضبوط گڑھ نہیں مانا جاتا۔ پاک فوج نے بھی حادثے میں دہشت گردوں کا ہاتھ ہونے سے انکار کیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوا نے ڈان کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے سبب حادثے کا شکار ہوا نہ کہ کسی مزائل کا۔ قابل ذکر ہے پاک فوج کے تین ہیلی کاپٹرایم۔ آئی17- پاکستان کے قبضے والے کشمیر (پی او کے) میں کئی سفارتکاروں کو لے جارہے تھے۔ یہاں وزیر اعظم نواز شریف نے ایک تقریب سے خطاب کرنا تھا، دو ہیلی کاپٹر محفوظ اتر گئے لیکن تیسرا حادثے کا شکار ہوگیا۔ وزیر اعظم نواز شریف اس علاقے میں دو پروجیکٹوں کا افتتاح کرنے والے تھے اور ان کا جہاز بھی اڑان بھر چکا تھا۔ حادثے کے بعد اسے اسلام آباد موڑ دیا گیا۔ مگر تحریک طالبان نے جہاز بھیدی مزائل سے ہیلی کاپٹر کو گرایا ہے۔ وہ دعوی کررہے ہیں کہ یہ تو ایک تشویش کا موضوع ہے ا س کا مطلب تو یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی شہری جہاز بھی محفوظ نہیں ہے تو ہیلی کاپٹر سے لیکر کمرشل جیٹ سبھی ٹی ٹی پی کے نشانے پر ہیں۔ بدقسمتی دیکھئے پاکستان کے ذریعے دئے گئے ہتھیاروں کا ان کے خلاف ہی استعمال ہورہا ہے۔
(انل نریندر)

12 مئی 2015

ہائی کورٹ سے سلمان کو انترم راحت پر تنازعہ

ہٹ اینڈ رن معاملے میں اداکار سلمان خان کی سزا پر بامبے ہائی کورٹ کی طرف سے روک لگانے اور انہیں بیل دینے پر بھاری تنازعہ ہوگئے ہوا ہے. کچھ کہہ رہے ہیں کہ پیسوں کے دم پر سلمان کو کچھ گھنٹوں میں ہی بیل مل گئی تو کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ وہ ایک اداکار ہیں اس لئے ان کوترجیح بنیاد پر ضمانت مل گئی. اگر پیسے کے دم پر بھی عدالتیں چلتیں تو آج نہ تو سنجے دت جیل میں ہوتے اور نہ ہی سبرت رائے سہارا ایک سال سے تہاڑ میں رہتے؟بیشک کے پیسے کا کھیل ہوا پر وہ قانونی تیاری پر خرچ ہوا ہوگا. ہائی کورٹ میں جو بھی ہوا وہ قانون کے دائرے میں ہوا. ایسا نہیں ہوا کہ قانون کو طاق پر رکھ کر ضمانت دی گئی. ڈیڑھ گھنٹے تک بحث جاری رہی. جج صاحب نے سرکاری وکیل سے پوچھا :جب بیل کی سماعت ہو رہی ہے تو جیل کیوں بھیجا جائے؟304(2 ) یعنی غیر ارادتا قتل کی دفعہ کیوں لگائی گئی دوسرے معاملات میں تو ایسا نہیں کیا جاتا۔ دفاع کے حق کی دلیلیں ٹرائل کورٹ نے اس دلیل پر غور ہی نہیں کیا کہ کار میں سنگر کمال خان موجود تے. پروسیکوشن نے آج تک کبھی بھی کمال خان کی گواہی نہیں لی. پروسیکوشن کے اکلؤتے گواہ روندر پاٹل جو واقعہ کے وقت سلمان کے پولیس باڈی گارڈ تھیے گواہی دینے کو مائل نہیں تھے. ان پر زور ڈال کر کہلوایا گیا کہ سلمان کار چلا رہے تھے. ٹرائل کورٹ نے کہا ہے کہ واقعہ کے وقت سلمان نشے میں تھے اور کار چلا رہے تھے لیکن اس کے پیچھے کے دلیل تسلی بخش نہیں ہیں. ٹرائل کورٹ نے ٹائر پھٹے ہونے کی ہماری دلیل بھی نہیں سنی. ادھر سرکاری وکیل کے دلیل کچھ یوں تھے ۔ حادثہ کے واقعہ کے بعد پولیس نے کمال خان کا بیان درج کیا تھا لیکن برطانوی شہری ہونے کی وجہ سے وہ ٹرائل کورٹ میں سماعت کے دوران گواہی کے لئے دستیاب نہیں ہوئے. روندر پاٹل نے ہی واقعہ کی شکایت درج کرائی تھی. پولیس نے ان کے بیان بھی تھے. 31 اکتوبر 2007 کو موت سے پہلے چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے بھی ان کی گواہی ہوئی تھی. سلمان کو پتہ تھا کہ نشے میں تیز رفتار سے گاڑی چلانا خطرناک ہو سکتا ہے اس کے باوجود انہوں نے ایسا کیا. بلڈ ٹیسٹ سے بھی کنفرم ہے کہ سلمان کے خون میں شراب کی مقدار طے لمٹ سے زیادہ تھی. میں نے ڈیفنس اور پرسیکیوشن کی دلیلوں کو مختصر میں اس دیا ہے تاکہ قارئین یہ سمجھ سکیں کہ بامبے ہائی کورٹ میں پوری بحث ہوئی اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سلمان کی کورٹ کی سماعت تک گرفتاری پر روک لگی. یہ روک تب تک ہے جب تک بامبے ہائی کورٹ میں سماعت نہیں ہوتی. قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ نے کیس میں کوئی فیصلہ نہیں دیا. سلمان کی پانچ سال کی سزا پر اس وقت تک کی روک لگائی ہے جب تک وہ سماعت نہیں کرتے. کیس میں فیصلہ آنا باقی ہے. سلمان خان کے وکلاء4 نے پوری تیاری کر رکھی تھی. سلمان خان کو ضمانت دلانے کے لئے ان کے وکلاء4 کی فوج نے جمعہ کو بامبے ہائی کورٹ میں پوری تیاری کے ساتھ اتری تھی. اگر کسی وجہ سے ہائی کورٹ سے ضمانت نہیں ملتی تو سپریم کورٹ میں اپیل کے لئے ان کے وکیل تیار تھے. بدھ کو ممبئی ہائی کورٹ نے سلمان کو پانچ سال کے قید کی سزا سنائی تھی. لیکن وکلاء کے ہنر وقت کے انتظام کی وجہ سے سلمان کو شام ہوتے ہوتے ہائی کورٹ کے جسٹس تھپسے کی ڈویژن سے دو دن کے لئے عبوری ضمانت مل گئی. ایک ہی دن میں سزا پانے اور ضمانت ملنے کے واقعات سے قانون کے علم کورس تعجب میں ہوں لیکن سلمان کے حق میں بدھ کو ہائی کورٹ میں دلیلیں دینے والی سات وکلاء کی ٹیم جمعہ کو ہی پوری تیاری کے ساتھ ان کے لئے عام ضمانت حاصل کرنے اتری . تھی۔ جب ہائی کورٹ میں ضمانت پر بحث چل رہی تھی تو ہریش سالوے دہلی میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے تیار بیٹھے تھے. اگر ہائی کورٹ سے ضمانت نہ ملتی تو سپریم کورٹ اسی دن ضمانت کی عرضی ہریش سالوے لگا دیتے. سلمان نے اپنے ڈیفنس میں وکلاء کی فوج کھڑی کر دی اور وہ تمام طرح کے دفاع کے لئے تیار تھے. آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سلمان نے وکلاء پر لاکھوں خرچ کر دیے پر یہ کوئی غیر قانونی تو نہیں ہے؟ اگر آدمی کے پاس پیسہ ہے تو وہ اپنے دفاع میں سب کچھ کرتا ہے. ہاں جو کچھ کریں قانون کے دائرے میں کریں. سلمان کو یہ جو انترم راحت ملی ہے وہ قانونی دائرے میں ہے. چونکہ وہ فلم اسٹار ہیں اس لیے ان کے خلاف درپرچار ہو رہا ہے. ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ اس کیس میں متاثرین کے لئے معاوضے کا مسئلہ سلمان کو جیل بھیجنے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے. اس حادثے میں عبداللہ الرؤف شیخ کو اپنی ٹانگ کھونی پڑی تھی. شیخ نے کہا کہ گزشتہ 13 سالوں میں کوئی بھی شخص مجھ سے ملنے نہیں آیا. میرے لئے معاوضہ مجرم کو سزا دلانے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے. وہیں حادثے سے جان گنوانے والے نور اللہ محبوب شریف کی بیوی نے کہا کہ ہم 10 لاکھ کے معاوضے کا کیاکریں گے اس کی جگہ میرے بیٹے کو نوکری دی جاتی تو کافی فائدہ ہو گا. سنجے دت کے لئے عام عوام میں اتنی ہمدردی نہیں تھی جتنی سلمان کے لئے ہے. ہزاروں غریب بے سہارا لوگ سلمان کے لئے دعا مانگتے نظر آئے. یہ اس لئے کہ سلمان غریبوں بے سہاروں کے مددگار ہیں. ان کی دعائیں بھی تو کام آئی ہوں گی.

انل نریندر

گرمی شباب پر: بجلی ہاف پانی صاف

دہلی میں گرمی نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ہے. جمعرات کو پالم اسٹیشن میں اس سیزن کا سب سے زیادہ درجہ حرارت44.2ڈگری سیلسیس درج کیا گیا. یہ نارمل سے 4 ڈگری سیلسیس زیادہ ہے. موسم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے مقابلے میں مئی مہینے کے ابتدائی دنوں میں ہی تیز گرم ہوائیں چلنے لگی ہیں. اس سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سے بھی زیادہ ریکارڈ ہوا جو پہلے نہیں ہوا تھا. پورے شمالی ہندوستان میں مرکزی پاکستان سے گرم ہوائیں آ رہی ہیں. ابھی شمال مغربی سمتوں سے ہوائیں چل رہی ہیں. راجستھان اور دہلی جیسے ریاستوں میں اور ان کے ارد گرد کے علاقوں میں حرارت لہر کی حالت بنی ہوئی ہے. دہلی میں درجہ حرارت بڑھنے کی بنیادی وجہ ہے کہ راجستھان گرم ہوائیں یہاں آ رہی ہیں. آنے والے دنوں میں دارالحکومت شہریوں کو بڑھتی ہوئی تپش اور جھلسانے والی گرمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. گرمی کے غضب کا اثر عام آدمی کے زندگی پر پڑتا نظر آ رہا ہے. گرمی بڑھنے سے آگ زنی کے واقعات میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے. بدھ کو قریب چھوٹی بڑی قریب علیحدہ جگہوں پر نصف درجن سے زیادہ آگ زنی کے واقعات ہوئیں. محکمہ موسمیات کی مانیں تو ایک ہفتے کے دوران دہلی شہریوں کو گرمی سے کوئی خاص راحت ملنے والی نہیں ہے. اپریل ماہ کے آخر تک پارا نارمل ہونے کی وجہ سے گھروں میں ابھی تک پنکھے کے سہارے کام چل رہا تھا وہیں مئی ماہ شروع ہونے کے ساتھ ہی پارا مکمل طور پر رفتار پکڑنے لگا ہے. مسلسل چار سے پانچ دنوں سے بڑھی گرمی نے لوگوں کو ٹھنڈک میں رہنے کے لئے مجبور کر دیا ہے. گھروں میں لگے اے سی ہی نہیں بلکہ دفتروں کے اے سی کی فریقوینسی تیز ہو گئی ہیں اور اسی کے ساتھ بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی شروع ہو گئی ہے. دہلی کے نارتھ ایسٹ ویسٹ ساؤتھ اور وسطی ڈسٹرکٹ میں صارفین لوڈ شیڈنگ سے پریشان ہونے لگے ہیں. مغربی دہلی سمیت کچھ علاقوں میں جہاں ایک بار سے پریشان ہونے لگے ہیں. مغربی دہلی سمیت کچھ علاقوں میں جہاں ایک بار میں نصف سے دو گھنٹے تک کی بجلی کٹوتی کی جا رہی ہے وہیں جمنا پار کے شاہدرا علاقے میں 24 گھنٹے میں 15 بار سے زیادہ پاور کٹ کیا جا رہا ہے. اس سے ذاتی بجلی کمپنیاں دہلی حکومت کے اس حکم کی بھی دھجیاں اڑ رہی ہیں جس میں ایک بار میں ایک گھنٹے سے زیادہ پاور کٹ نہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی. گرمی کا رنگ پانی کی سپلائی پر بھی پڑنے لگا ہے. حکومت کے تمام وعدے اور تیاریوں کی پول کھلنے لگی ہیں. کہیں پانی نہیں آ رہا ہے تو کہیں گندہ پانی آ رہا ہے. کہیں پانی کا وقت کم کر دیا گیا ہے کہیں بل سے زیادہ آ رہا ہے تو کہیں بغیر پیسے کے ٹینکر تک نہیں آ رہی ہے. سنگم وہار اور دیولی میں مہینے میں ایک بار پانی دیا جا رہا ہے. ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ یہاں ٹیوبویل اور پرائیویٹ ٹینکر کے بھروسے پانی ملتا ہے. تقریبا ہر محلے میں ٹیوبویل تو ہیں لیکن اس پر پرائیویٹ لوگوں کا قبضہ ہے. مہینے میں ایک بار پانی دیتے ہیں اور 800 سے 1000 روپے وصول کرتے ہیں. دہلی کے شہریوں گرمی فل: بجلی ہاف پانی صاف.
انل نریندر

11 مئی 2015

Discrimination against the Blacks in the US

Nation-wide agitations are now-a-days on against police atrocities over minorities in the US.  In the past days huge violence broke out in Baltimore city against the US police in which twenty police officers were seriously injured. Rioters set fire to around one and a half dozen buildings. The city had to be put under curfew. The matter was related to the death of a 25 year old black youth named Prodi Grow in the police custody. The US police had arrested him on 12th April. He died in the police custody on 19th April. The present violence was its reaction, which burst out as anger against the police. Demonstrations in various cities of US are on against the police in support of the activists. So far the so-called world leader US was not worried since the demonstration was peaceful, but it worried when it became violent on Monday.  It has drawn the attention of entire world towards the violation of human rights in the US. Huge anger had broken out in minorities against the US police after the death of a black youth named Michael Brown in the police firing in Ferguson in August last year. A black was also subjected to the police atrocities in New York. US, the Protector of human rights is now itself the victim of apartheid. It is worried for religious freedom and safety of minorities in India, but not for what is going on there. It is bent upon preaching others. Six police officers have to be suspended due to current incidents, but the anger of blacks has not stopped. Baltimore is hardly 60 kms away from the US capital Washington. Process has been started for presidential elections in the US. The US Presidential candidate Hillary Clinton has called to set out the imbalanced criminal judiciary of the US and emphasized over the ending of the massive capturing age. Hillary has called at such a time when the tension is continuously growing due to the killing of black youths by the police officers. The US President Barak Obama has himself said that the discrimination and feeling of weakness due to the killings of the black citizens by the police has given a rise to the demonstrations in the country. Obama said that opportunities to an average black citizen in his life in comparison to his counterpart are worse i.e there is discrimination with the blacks in the US. Cases of the police atrocities against the minorities may become a major issue in the coming presidential elections. Moreover there is a question of the prestige of the US on international level and therefore the US cannot ignore it, nor deny the apartheid.

-        Anil Narendra

David Cameron once again forms Govt. in the United Kingdom

The United Kingdom went on polls on Thursday. The Conservatives lead by David Cameron has registered a thumping win in the polls. Prime Minister David Cameron had contested for the second term. Voters in large number came out of the house due to the good weather. Initially the polling was slow but gradually there were queues at the polling centres. Indians including 15 lakh migrants and 6,15,000 students of Indian origin had a greater role. Britain has the election process like India wherein the party securing maximum votes is declared winner instead of better vote percentage. Polling experts also failed here as they had professed of a hung parliament in 650 member House of Commons. Magical figure of 326 members was needed to get majority in 650 member House of Commons which has been achieved by the party of David Cameron. Results of 649 seats out of 650 seats have been declared. Leader of the 331 seat winning Conservative Party, David Cameron is formally meeting Queen Elizabeth on Friday evening to form the government. Major opposition party (LAB) has got 232 seats. Scottish National Party (SNP) has registered historical victory by winning 50 seats out of 59 seats. Liberal Democratic Party (LDP) has won 8 seats while others have got 23 seats. 20 year old Mahori Black has been elected as the youngest Member of Parliament. For the first time a people’s representative of such an age in Britain has been elected in the history of 350 years. 10 Members of Parliament of the Indian origin have been elected to the House of Commons. Last time Cameron had formed a coalition government, now he can form it alone. It is clear the British have supported his policies. Public has seriously taken his proposal to get referendum done for quitting the European Union. The opposition party was clearly opposing the referendum proposal of Cameron. It appears that the British are in favour of the referendum. Now Cameron will have to fulfil his commitment in which he had committed to get the referendum done by the end of 2017. An important factor in these polls is the thumping success of Scottish National Party (SNP). It is believed that voters of the Indian origin had an important role in this win. This party had an important election issue for the return of Indian students in Scottish Universities. Party is demanding the freedom of Scotland from the very beginning. A referendum was also done on this issue nine months ago in which the public had voted to remain the part of United Kingdom by 55 per cent as against 45 per cent. Now if the referendum is done again, the Scotland may decide to depart. There are so many challenges before Cameron. It is good he is in majority. It may help him in handling them. Congratulations to David Cameron.

-        Anil Narendra

10 مئی 2015

برطانیہ میں پھر ایک بار کیمرون حکومت

جمعرات کو برطانیہ میں عام انتخابات ہوئے. اس الیکشن میں ڈیوڈ کیمرون کی کنزریویٹوپارٹی نے شاندار جیت درج کی ہے. وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون دوسری مدت کے لئے انتخاب لڑے. موسم خوشگوار ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں ووٹر گھروں سے نکلے. پولنگ سے پہلے ہلکی پھلکی پولنگ شروع ہوئی لیکن آہستہ آہستہ پولنگ مراکز میں بھیڑ لگ گئی. برطانیہ میں 15 لاکھ تارکین وطن اور 6 , 15 ہزارہندستانی نڑاد طلبا سمیت ہندوستانیوں کا اہم کردار رہا۔ برطانیہ میں ہندوستان کی طرح ہی الیکشن نظام ہے جس میں زیادہ مت فیصد کے بجائے زیادہ ووٹ بٹورنے والی پارٹی کو فتح سمجھا جاتا ہے. انتخابی پنڈت یہاں بھی فیل رہے کیونکہ انہوں نے 650 رکنی ہاؤس آف کامنس میں معلق پارلیمنٹ کی پیشن گوئی کی تھی. 650 رکنی ہاؤس آف کامنس میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے 326 ممبران پارلیمنٹ کا جادو ئی نمبر چاہئے تھا. جسے ڈیوڈ کیمرون کی پارٹی نے پار کر لیا ہے. 650 میں سے 649 نشستوں کے نتائج آ چکے ہیں. 331 نشستیں جیتنے والی کنجرویٹو پارٹی کے سربراہ ڈیوڈ کیمرون نے جمعہ کی شام ہی ملکہ الزبتھ سے مل کر حکومت بنانے کی باقاعدہ تیاری کر رہے ہیں. بڑی اپوزیشن پارٹی؛ ایل اے بی کو 232 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں. اسکاٹ لینڈ کی 59 سیٹوں میں سکواٹش نیشنل پارٹی؛ این این پی نے تاریخی مظاہرہ کرتے ہوئے 50 نشستیں جیتیں ہے. لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی؛ نے آٹھ جبکہ دوسرے کے اکاؤنٹ میں 23 نشستیں آئی ہیں. 20 سال کی ماہری بلیک سب سے نوجوان رہنما ایم پی چنی گئیں. 350 سال کے تاریخ میں پہلی بار برطانیہ میں اتنی کم عمر کی کوئی عوامی نمائندہ چنی گئی ہے. بھارتی نزادکے 10 ایم پی انتخابات جیت کر ہاؤس آف کامنس پہنچے ہیں. پچھلی بار کیمرون نے مخلوط حکومت بنائی تھی اس بار اکیلے اپنے دم پر سرکاربن سکتی ہے. صاف ہے کہ برطانیہ کے عوام نے ان کی پالیسیوں کی حمایت کی ہے. برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کو لے کر ریفرنڈم کروانے کے ان کی تجویز کو بھی عوام نے سنجیدگی سے لیا ہے. کیمرون کے ریفرنڈم کے مخالف پارٹی جم کر مخالفت کر رہی تھیں. اس جیت سے لگتا ہے کہ برطانیہ کے عوام ریفرنڈم کرانے کے حق میں ہے. اب کیمرون کو اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا جس میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ 2017 کے عوام آخر تک ریفرنڈم کروائیں گے۔ اس الیکشن میں ایک اہم نتیجہ سکواٹش نیشنل پارٹی؛کی بے مثال کامیابی ہے. اس جیت میں مانا جا رہا ہے کہ ہندوستانی نڑاد ووٹروں کی اہم کردار رہی. اس پارٹی کا ایک اہم انتخابی مسئلہ تھا سکواٹش یونیورسٹیوں میں ہندوستانی طالب علموں کی واپسی. پارٹی شروع سے ہی اسکاٹ لینڈ کی آزادی کا مطالبہ کر رہی ہے. نو ماہ پہلے اس مسئلے پر ایک ریفرنڈم بھی ہوا تھا. اس میں عوام نے 45 کے مقابلے 55 فیصد کی حمایت سے یونائیٹڈکنگڈم کا حصہ بنے رہنے کا ووٹ دیا تھا. اب ان کی شاندار جیت سے کیمرون کے لئے این این پی سے نمٹنا ایک چیلنج ہوگا. اب اگر پھر سے ریفرنڈم ہوتا ہے تو بلاٹلیڈ الگ ہونے کا فیصلہ کر سکتا ہے. کیمرون کے سامنے کئی چیلنج ہیں. یہ اچھی بات ہے کہ وہ مکمل اکثریت میں ہیں. اس سے انہیں اس سے نمٹنے میں مدد ملے گی. ڈیوڈ کیمرون کو مبارکباد۔

انل نریندر

داعش کا امریکی سرزمیں پر پہلا حملہ

امریکہ کے ٹیکساس میں پیغمبر صاحب پر منعقد ایک کارٹون مقابلے میں فائرنگ کا واقعہ سامنے آیاہے. دہشت گرد تنظیم اسلامی اسٹیٹ نے اس حملے کی ذمہ داری لی ہے. منگل کو ایک متنازعہ کارٹون مقابلہ منعقد کیاجا رہا تھا. اسلامی اسٹیٹ کا یہ امریکی کی دھرتی پر ہونے والا پہلا حملہ ہے اور اس نے اس ملک میں اور زیادہ سخت حملے کرنے کی دھمکی بھی دی ہے. دنیا بھر میں انتہا پسند گوروپوں پر نظر رکھنے والے ایس آئی ٹی ای انٹیلی جنس گروپ کے مطابق دہشت گرد گروپ نے شام کی بنیاد پر اپنے امام بمان ریڈیو اسٹیشن پر کہا کہ خلافت کے دو جنگجوؤں نے امریکی ٹیکساس کے گارلیڈ میں ایک نمائش پر حملہ کیا. حملے میں دو بندوقچی مارے گئے. امریکہ میں ہونے والا یہ حملہ ایک ایسا حملہ ہے جس اسلامک اسٹیٹ نے اپنا تعلق کا اعلان کیا ہے. ایس آء ی ٹی نے کہا کہ اسلامی اسٹیٹ کے دیگر جنگجوؤں کی طرف سے نشانہ بنایا جائے گا جو کہ شدید اور سخت ہوگا اور تم دیکھو گے کہ اسلامی اسٹیٹ کے جنگجو تمہیں کیا نقصان پہنچاتے ہیں. دعوے میں اگرچہ اس کا اشارہ نہیں دیا گیا ہے کہ اسلامی اسٹیٹ یہ ناکام حملے کے لئے دونوں پھنکس کے حملہ آوروں سے کس طرح سے سمپرک بنایا اور انہیں ہدایت کی. دی واشنگٹن پوسٹ نے ایک افسر کے حوالے سے کہا کہ دونوں مسلح افراد کی شناخت ایلٹن سمپسن اور 34 سالہ نادر صوفی کے؂ شکل پر کی گئی. اس میں کہا گیا ہے کہ نادر اور ایلٹن کمرے میں ساتھ ساتھ رہتے تھے. سردن لائسینٹر کے مطابق امریکی فریڈم ڈیفنس انیشیٹو؛ اسلام مخالف نظریے کو پھیلانے والا ایک اہم تنظیم ہے. ناقدین نے نمائش کو اسلام مخالف بتایا. یہ واقعہ پیرس کی سکویڈ میگزین شارلے ایبدو کے دفتر پر حملے کی طرح ہی ماناجارہاہے جس میں 12 صحافیوں کو جان گنوانی پڑی تھی. پیغمبر صاحب کا کارٹون بنانے سے ناراض دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا. امریکی شہر گارلیڈ میں پیغمبر صاحب کا کارٹون بنانے کامقابلہ ویسے بھی کیس بڑے وبال کو دعوت دینے جیساتھا. غنیمت رہی کہ ہنگامہ اتنا بڑا نہیں ہوا. دو مسلح افراد نے مقابلہ سائٹ کے باہر سکیورٹی کے حملے سے اپنے مقصد میں ناکام رہے. ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ کسی بھی مذہب یا مذہبی پیشوا یا پیغمبر کا مذاق اڑانے والی مقابلے کو منعقد کرنے کا کیا تک ہے ۔ ہمیں کسی بھی مذہب کا مذاق بنانے کا حق نہیں ہے. سب مذاہب کی عزت کرنا سیکھنا چاہئے. آزادی کیا ہے اس کادائرہ کہاں تک ہونا چاہئے اس کے بارے میں کافی بحث ہو چکی ہے. عام سمجھ یہ ہے کہ آپ کو اپنی چھڑی وہیں تک گھمانے کی آزادی ہے جہاں یہ میری ناک کو نہیں چھوتی. امریکہ کے لئے اس سے بڑی تشویش یہ ہونی چاہئے کہ اگر یہ حملہ واقعی ہی اسلامی اسٹیٹ نے کروایا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں یہ دہشت گرد تنظیم اور بڑے حملے کرے گی۔ جہاں ہم اس حملے کی مذمت کرتے ہیں وہیں یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ ایسی بیہودہ مقابلہ کی اجازت ہی نہیں دی جانی چاہئے تھی. کسی کو بھی دوسرے مذہب کا مذاق اڑانے کا حق نہیں ہے.
  • انل نریندر

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...