Translater

06 مارچ 2026

جنگ تم شروع کرو گے ختم ہم کریں گے!

یہ وارننگ دی تھی آیت اللہ علی خامنہ ای نے شہید ہونے سے پہلے ۔انہوں نے ایک بار نہیں بار بار یہ خبردار کیا تھا اور ساتھ ہی کہا تھا کہ اگر امریکہ -اسرائیل ایران پر حملہ کرتا ہے تو ہم منھ توڑ جواب دیں گے ۔ایسا جواب دیں گے جس کا امریکہ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا ۔اتنا ہی نہیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی آگاہ کیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ ہوگا تو جوابی کاروائی پورے مشرقی وسطیٰ کے ملکوںمیں امریکی فوجی اڈوں پر بھی ہوگی ۔اور یہ علاقائی جنگ میں بدل جائے گی اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم چار دن میں ایران کو گھٹنوں پر لادیں گے ۔اور نیا اقتدار قائم کردیں گے اب جنگ کے 7-8 دن گزر چکے ہیں اب وہی ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ 4-5 ہفتے کھچ سکتی ہے ۔دراصل امریکہ پھنس گیا ہے طالبان اگر 20 سال بعد بھی لڑائی کے بعد بھی زندہ رہا تو اس کے پیچھے اس کی حکمت عملی اور افغانستان کے جغرافیائی حالات تھے ۔ایران بھی امریکہ کے لئے ایسی ہی چیلنج پیش کرنے والاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار نہیں کیا ہے لیکن یقینی جانیے اگر امریکی فوجی ایران میں داخل ہوتے ہیں تو ویتنام اور افغانستان کی طرح اسے ذلیل ہو کر بھاگنا پڑ سکتا ہے ۔دہائیوں سے خلیجی ملکوں کو امریکی سیکورٹی کو لے کر بھرم بنا ہوا تھا لیکن آسمان سے برستی ایرانی میزائلوں نے اس بھروسہ کو توڑ دیا ہے ۔ایران نے خلیج کے ملکوں ، یو اے ای ،سعودی عرب اور کویت بحرین میں جم کر میزائلیں برسائی ہیں اور امریکی اڈوں کو تباہ کیا ہے ۔ایرانی حملوں کا مقصد اور پیغام صاف تھا کہ جو دیش امریکی فوج کو حملے کے لئے اپنی زمین دے رہے ہیں انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ایران کے وزیرخارجہ عباس افراہیمی نے کہا کہ تہران نے اس علاقہ میں دشمنوں کے فوجی اڈوں پر حملے کرکے شروعات کی ہے وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ اگلے 4-5 ہفتوں تک اور چل سکتی ہے ۔جس سے مشرقی وسطیٰ میں اور تباہی پھیلنے کے اندیشات بڑھ گئے ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ کے قتل کے بعد مشرقی وسطیٰ کے کئی ملکوں میں صورتحال امریکی ٹھکانوں پر تابڑ توڑ ایرانی حملے ہورہے ہیں اس میں سعودی عرب میں امریکی سفارتخانوں قطر کے العدید ایئر بیس ،بحرین میں امریکی ایئر فورس کے پانچوے بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور دبئی کے کئی ہوٹلوں اور اہم ترین فوجی عمارتوں پر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ اب جنگ پورے مشرقی وسطیٰ میں پھیل چکی ہے ۔امریکی سعودیہ کے اکنامک مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے وہاں کی سب سے بڑی آرامکو ریفائنری پر بم برسائے ہیں۔ یہ حملے اتنے خطرناک ہیں کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارتخانوں کو بند کر دیا ہے ۔اس کے علاوہ امریکہ نے اسرائیل سے اپنے شہریوں کو نکالنے کو لے کر ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں ۔امریکہ اور اسرائیل نے پہلے ہی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا تھا اور ٹرمپ کو امید تھی کہ سر کاٹنے سے سسٹم گر جائے گا لیکن ہوا الٹا ۔سڑکوں پر بغاوت نہیں ،خامنہ ای کے لئے لاکھوں لوگ ماتم کرتے نظر آئے ۔سڑکوں پر بغاوت نہیں بلکہ ایرانی سرکار کی حمایت کرتے نظر آئے اور انتقام لینے کے ارادے دکھائی دئیے ۔اقتدار ڈہا نہیں بلکہ ایران نے پورے مشرقی وسطیٰ کو ہلا دیا ۔اب ٹرمپ بھی سمجھ گئے ہیں کہ جنگ لمبی چلے گی ۔کچھ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ کی تیاری ایران پچھلے 40 سال سے کررہا تھا ۔اور وہ لمبی لڑائی لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہیں دوسری طر ف امریکی فوجیوں کے باڈ ونگ امریکہ پہنچنے لگے ہیں ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ اب یہ جنگ کیا رخ اختیار کرتی ہے ؟ اشارہ صاف ہے کہ یہ آگ اور پھیلنے والی ہے اور تباہی ہوگی ۔ (انل نریندر)

03 مارچ 2026

آیت علی خامنہ ای کی شہادت!

میں سب سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنی شردھانجلی پیش کرنا چاہتا ہوں ۔دنیا آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو یاد رکھے گی ۔ان کی بہادری کی مثال شہادت کو ہر ذکر میں چھائی رہے گی ۔وہ یہ جانتے تھے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے نشانہ پر ہیں اور ان پر کسی بھی لمحے حملہ ہوسکتا ہے پھر بھی وہ تہران چھوڑ کر نہیں بھاگے نہ تو کسی بنکر بین شیلٹر میں گئے اور نہ ہی کسی خفیہ جگہ پر ۔وہ اپنے دفتر میں کا م کرتے ہوئے انہوں نے شہادت کو گلے لگانا چنا۔وہ اپنے دیش کے لئے قربان ہو گئے لیکن دشمن کے سامنے پیٹھ نہیں چھپائی ۔بیشک ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو خامنہ ای کو مار کر وینر ہونے کا دعویٰ کررہے ہوں لیکن انہوں نے خامنہ ای کا قتل کرکےبڑا خطرہ مول لے لیا ہے ۔خامنہ ای کی شہادت نے سارے ایران و اسلامی دنیا کو امریکہ اور اسرائیل کے خلا ف کھڑا کر دیا ہے اس کے نتیجے سامنے آنے بھی لگے ہیں ۔کویت یو اے ای ،قطر، بحرین پر ایرانی میزائلیں گررہی ہیں ۔یو اے ای تو اس آرٹیکل لکھنے تک 167 میزائلیں برسا چکا تھا ۔ایرانی پلٹوار کا قہر سب سے زیادہ یو اے ای پر ٹوٹا ۔یو اے ای کے وزارت دفاع نے کہا ایران کی جانب سے دیش کے کئی حصوں میں اب تک 165 بیلسٹک میزائل ،کروز میزائل اور 541 ایرانی ڈرون سے حملہ کیا جاچکا ہے ان میں سے 506 کو ہوا میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا جبکہ 35 دیش کے علاقہ میں گری ۔دبئی خاص طور پر نشانہ پر ہے کیوں کہ یہاں امریکی کمپنیوں کے ہیڈ کوارٹر ہیں اور ایران امریکہ کی اقتصادی طاقت کو بھاری نقصان پہنچاتا ہے ۔اس لئے وہ ایسی جگہوں پر حملہ کررہا ہے جہاں امریکہ کی سب سے بڑی کمپنیاں موجود ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب کیسے گئے ؟ یہ سوال سب پوچھ رہے ہیں کیا کوئی موساد - سی آئی اے کا سلیپر ایجنٹ تھا جس نے پختہ جانکاری تھی کہ خامنہ ای اس وقت کہاں ہوں گے اور میٹنگ میں کون کون ہوگا ؟ بغیر کسی پختہ جانکاری کے یہ حملہ ممکن نہیں تھا ۔پھر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم کیا کررہے تھے ۔وہ اس میزائل یا کروز بموں کو انٹڑ سیپٹ کیوں نہیں کرسکا ۔کیا امریکہ نے ایران کے راڈار حملے سے پہلے ہی جام کر دئیے تھے ۔اسرائیل کے ایک ایف -35 فائٹر جیٹس نے ایران ایئر ڈیفنس کو ٹوہ لیتے ہوئے تہران میں اڈے بیت رہبری پیلیس پر 2000 کلو کے 40 بنکر بسر بم گرائے ۔یہ لیزر - گائیڈ دی ٹرینر ہیں یعنی پیلس کے اندر گراؤنڈ میں بھی چھپے خامنہ ای کو مار گرایاجاسکا ۔اسرائیلی فوج نے ریم پیج ڈیلیزا کروز میزائلوں سے بھی حملہ کیا ۔حملے میں وزیر دفاع عامر ناصر زادہ ،آرمی چیف عامر اور ریویوشنری گارڈس کے چیف محمد پاک پور سمیت تقریباً 40 اعلیٰ افسر اور مذہبی پیشوا مارے گئے ۔ذرائع کے مطابق ان سے تقریباً 15 لوگ خامنہ ای کے پیلیس میں ایک میٹنگ کے لئے جمع ہوئے تھے ۔امریکہ اور اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران میں نظام یعنی عہد بدلے ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ اپنے اس مقصد میں کتنا کامیاب رہتا ہے ۔فی الحال تو ایران کی بدلے کی کاروائی سے بچنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ایران تہران نے بڑی جوابی کاروائی میں کویت، قطر ،بحرین میں امریکہ کے کئی بڑے ملیٹری اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغی ہیں ان میں بھاری نقصان کی خبر آئی ہے۔ سعودی عرب جارڈن میں بھی حملے کی خبر ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای نے مرنے سے پہلے ہی دوسری لائن کھڑی کرکے گئے تھے ۔ایران میں حملے کے فوراً بعد ہی جوابی کاروائی شروع کر دی ہے ۔دیکھیں یہ جنگ آگے کتنی بڑھتی ہے ۔کہیں یہ تیسری جنگ عظیم کی شکل تو نہیں لیتی ؟ (انل نریندر)

مٹ جائیں گے ،پر جھکیں گے نہیں!

جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں یہ جذباتوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ایرانی عوام نے یہ ثابت کر دکھا دیا ۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی ...