Translater
05 نومبر 2022
ٹو -فنگر ٹیسٹ پر لگی روک !
سپریم کورٹ نے آبروریزی کے معاملے میں غیر آئینی جسمانی جانچ کے استعمال کو غلط بتایا ۔ جسٹس دھننجے چندر چوڑ و جسٹس ہیما کوہلی کے بنچ نے خبردار کیا ہے کہ 2013سے ممنوع اس طرح کی جانچ کرنے والے لوگوں کو فوراً قصور وار ٹھہرایا جائے گا۔ آبروریزی کے ایک معاملے میں قصور ثابت کرنے والے کو بحال کر تے ہوئے اس بنچ نے پیر کو کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ یہ جانچ ٹو فنگر ٹیسٹ ہوتا ہے بنچ نے آبروریزی کے ملزم کو برے کرنے کے ہائی کورٹ کے حکم کو پلٹ دیا اور ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔سیشن عدالت نے ملزم کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔عدالت نے میڈیکل کالج میں اسٹڈی کتابوں کی جانچ اور اس طریقے کو ہٹانے کا حکم دیا ہے عدالت نے کہ آبروریزی متاثرہ کی جانچ کی غیر آئینی جارحانہ طریقہ جنسی استحصال والی عورت سے پھر سے اس طرح کا طریقہ ٹھیس پہنچاتا ہے ۔بنچ نے کہا کہ اس عدالت نے باربار آبروریزی جنسی استحصال کے الزامات کے معاملوںمیں غیر سائنسی جسمانی جانچ کے استعمال کو روک دیا ہے یعنی ٹو فنگر ٹیسٹ پر روک لگا دی اور کہا کہ اس نام نہاد ٹیسٹ کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے ۔اس کے بجائے اور یہ عورتوں کو پھر سے اذیت پر اذیت پہنچاتا ہے ۔ یہ جانچ نہیں کی جانی چاہئے کیوں کہ یہ ایک غلط روایت پر مبنی ہے ۔جنسی زیادتی سہ چکی عورت کا آبروریزی نہیں کی جاسکتی ۔ یہ عورت کی گواہی اور جنسی تاریخ پر منحصر کر تا ہے بنچ نے مرکزی ہیلتھ وزارت کو یہ یقینی بنانے کی اجازت دی ہے کہ اس طرح کی جانچ نہیں ہونی چاہئے ۔سپریم کورٹ نے 2013میں اس رواج کو غیر آئینی مانا تھا ۔ اور کہا تھا کہ یہ جانچ نہیں ہونی چاہئے اور عدالت نے 2014میں آبروزیری متاثرین کی جانچ کے سلسلے میں نئی گائڈ لائن تیار کی تھی اس میں سبھی اسپتالوں سے فورینسک اور میڈیکل جانچ کیلئے اسپیشل سیل بنانے کی بات کہی تھی۔ بڑی عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ نام نہاد ٹو فنگر ٹیسٹ کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے اور یہ عورتوں کو پھر سے متاثر کرتا ہے یہ غلط تصور پر مبنی ہے کہ ایک مسلسل جنسی استحصال کے شکا ر خاتون کی آبروریزی نہیں کی جاسکتی ہے ۔ سچائی سے آگے کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔عدالت نے تلنگانا ہائی کورٹ کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے یہ حکم دیا ہے ۔
(انل نریندر)
بد عنوانی کا برج !
وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز موربی پل گرنے والی جگہ کا دورہ کیا اور اسپتال میں جاکر زخمیوں سے بھی ملے وزیر اعظم نے کہا کہ حادثے سے جڑے سبھی پہلوو¿ں کی پہچان کرنے کیلئے وسیع جانچ کی ضرورت ۔ قصور واروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ مودی کی یقین دہانی کے بعد بے شک کچھ گرفتاریوں ہوئی ہے لیکن اپوزیشن پارٹیوں نے سرکار آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کئی سوال پوچھے ہیں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے منگل کے روز کہا کہ موربی پل حادثہ گجرات میں پھیلے کرپشن کا نتیجہ ہے اور اسے کرپشن کا پل قرار دیا ۔وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل استعفیٰ دیں ۔انہوں نے کہا کہ پل حادثے سے جو حقائق سامنے آ رہے ہیں اس سے صاف ہو رہا ہے کہ یہ بہت بڑے کرپشن کا معاملہ ہے جس کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ ایک گھڑی بنانے والی کمپنی کو پل بنانے کا ٹھیکہ دے دیا گیا جب اس کمپنی کو پل بنانے کا کئی بھی تجربہ نہیں ہے ۔ ایف آئی آر نہ تو کمپنی کا نام ہے اور نہ کمپنی کے مالک کا ۔کانگریس نیتا دگ وجے سنگھ نے کہا کہ یہ انسانی کرتو ت نہیں ہے بلکہ یہ سرکار کی تیار کردہ آفت ہے ۔اور گجرات کے وزیر اعلیٰ کو اس کے لئے جنتا سے معافی مانگی چاہئے اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینی چاہئے ۔ اتنے سارے لوگوں کو پل پر کیوں جانے دیا گیا؟ جواب دہی طے ہونی چاہئے ۔حادثے پر ترنمول کانگریس نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم گجرات کے وزیر اعلیٰ کی مذمت کریںگے جیسا کہ انہوں نے 2016میں مغربی بنگال میں ہوئے اسی طرح کے واقعے کو لیکر سرکار کی مذمت کی تھی ۔ اسمبلی چناو¿ کے دوران کولکاتا میں بن رہا فلائی اوور گر گیا تھا ۔ وزیر اعظم نے اس وقت کہا تھا کہ یہ حادثہ ہے ہیڈ آف گوڈ نہیں ہینڈ آف فروڈ ہے ایسی سرکار کو اقتدار میں بنے رہنے کا کئی حق نہیں ۔ کیا مودی جی اب گجرات سرکار کو اس ہینڈ آف فراڈ پر کچھ تبصر ہ کریںگے؟ پولیس نے بتایا ہے کہ بے قصور لوگوں کی موت کے سبب بنے جھولتے پل کی مرمت کا کام اناڑی ٹھیکیدار کو دیا تھا اس نے کمزور اور جنگ آلود کیبل تک نہیں بدلے اس وجہ سے وہ لوگوں کا بوجھ نہیں سہ پایا ۔پولیس نے موربی کی عدالت میں گرفتار ملزمان کی پیشی کے دوران ایک فارنسک رپورٹ کا حوالہ دیکر پولیس نے بتایا کہ پرانے پل کی مرمت کا ٹھیکہ جس ٹھیکدار کو دیا گیا تھا وہ اس کام کو کرنے کے قابل نہیں تھا۔ پل کی خانہ پوری مرمت اور پینٹ تو کر دیا گیا لیکن اس کے زنگ آلود کیبل نہیں بدلے ۔بچاو¿ مدعی کے دعوے کے بعد عدالت نے گرفتار ملزمان کو سنیچر تک پولیس حراست میں بھیج دیا ۔اس میں اوریوا کمپنی کے دو منیجر شامل ہیں کمپنی نے جن دو لوگوں کو آگے ٹھکہ دیا تھا انہیں بھی پولیس ریمانڈ پر بھیجا گیا ہے ۔چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ایم خاں نے پانچ ملزمان کو عدالتی حراست میں بھیج دیا ۔پولیس نے ا ن سبھی پر غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔
(انل نریندر)
03 نومبر 2022
رام رحیم کا سیاسی دبدبہ !
کیا رام رحیم اب بھی ہر یانہ پنجاب کی سیاست کو متاثر کرنے والا بڑا سیکٹر ہے؟ کیا ان کی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ؟ یہ تمام سوال اس وقت اٹھ رہے ہیں جب ہریانہ میں ایک اسمبلی سیٹ پر ضمنی چناو¿ سے پہلے رام رحیم پیرول پر جیل سے باہر آگئے ۔ اس کے بعد سیاسی تنازعہ کھڑا ہونا ہی تھا۔ بی جے پی کو اس مسئلے پر بیک فٹ پر آنا پڑا ۔ مانا جا رہاہے کہ سیاسی مجبوری اور رام رحیم کی طاقت سے سبب بی جے پی نے سمجھوتہ کیا ہے۔ ڈیرا چیف گرمیت رام رحیم کو 2017میں سی بی آئی کورٹ نے جنسی استحصال کے معاملے میں 20برس کی سزا سنائی تھی اس وقت سے وہ جیل میں ہیں حالاںکہ جیل میں بھی ان کے دبدبے کی خبریں آتی رہی ہیں ۔ شروع میں جب جیل ہوئی تب رام رحیم اور ان کے حمایتیوں سے ان بن کی خبریں آئیں لیکن بعد میں پارٹی نیتاو¿ں نے کئی موقعوں پر ان کا سامنا کیا ۔اور کئی بار وہ جیل سے بھی نکلا جب جیل گیا تھا تو ہریانہ میں جھگڑا ہوا تھا اس کے بعد کچھ مہینے تک خاموشی رہی لیکن بعد میں وہ بموقع بہانو ں سے وہ جیل سے نکل رہا ہے۔ اس سال فروری میں اسے 20دنوں کی پیرول دی گئی تھی تب مانا جا رہا تھا کہ پنجاب کے چناو¿ کے سبب یہ پیرول دی گئی ۔جون کے مہینے میں رام رحیم کو 30دن کی پیرول ملی تھی اب 40دن کی پیرول ملی ہے اس مرتبہ وہ ریاستی سرکا رکی مرضی سے جیل سے باہر آگیا ہے ۔ باہر آنے کے بعد وہ بھلے ہی اترپردیش کے باغپت میں ہے مگر اس سے آن لائن ست سنگھ میں ہر یانہ کے کئی لیڈر آشرواد لینے آ رہے ہیں ۔ ریاست میں ایک سیٹ پر ضمنی چناو¿ کے علاوہ بلدیاتی چناو¿ بھی ہیں ایسے میں اس کے ست سنگھ میں کئی نیتاو¿ں کا جڑنا اور اپنے لئے آشرواد مانگنا تنازعہ کھڑا کر رہا ہے ۔ سیاسی حریفوں نے اس پیرول کی شرائط کو خلاف ورزی مانا ہے وہ کافی مقبول ہے اور اس کے زیادہ تر ماننے والے غریب دلت ہیں جو اس کو احترام میں اسے پیتا جی بلاتے ہیں ان کے لئے رام رحیم کی کوئی بات ایک آدیش کی طرح ہوتی ہے جسے وہ پوری نیک نیتی کے ساتھ مانتے ہیں۔ہریانہ پنجاب میں اس کے ڈیروں کی تعدا د تقریباً 20ہزار ہے اور اس کے 6کروڑ ماننے والے ہیں۔زیادہ تر کی وابستگی ہر یانہ و پنجاب سے ہے ۔ماننے والے صرف رام رحیم کے ست سنگھ اور دوسرے دھارمک پروگراموں میں شامل ہوتے ہیں ۔بلکہ چناو¿ میںکس پارٹی کی حمایت کرنی ہے ان کےلئے ایک حکم ہے جس کی وہ تعمیل کرتے ہیں ۔ پنجاب کے مالوا اور ہر یانہ کی 40سے 50اسمبلی سیٹوں پر اس کے ماننے والے سیدھے طور پر چناو¿ پر اثر ڈالتے ہیں ۔چناو¿ میں کسے ووٹ دینا ہے اسے لیکر رام رحیم کا مو قف بدلتا رہا ہے ۔اس کا سیاسی ونگ چناو¿ سے پہلے تمام علاقوں میں لوگوں سے ان کی رائے لیتا ہے اور پھر اس کی جانکاری رام رحیم کو دی جاتی ہے ۔چناو¿ سے ٹھیک پہلے اس سیاسی ونگ کے ذریعے لوگوں تک اطلاع پہنچائی جاتی ہے کہ انہیں کسے ووٹ دینا ہے ۔
اس لئے اہم ہیںہماچل اور گجرات کے چناو ¿!
ہماچل پردیش اسمبلی چناو¿ کیلئے 12نومبر کو پولنگ ہوگی ،گجرات اسمبلی چنا و¿ کی تاریخوں کا اگلے کچھ دنوں میں اعلان ہو جائے گا۔ سبھی پارٹیاں پوری طاقت سے چناو¿ کمپین میں لگیں ہیں۔بی جے پی کیلئے ہماچل پر دیش اور خاص کر گجرات کا چناو¿ محض دو ریاستوں کے اسمبلی چناو¿ نہیں ہیں بلکہ یہ 2024کے لوک سبھا چناو¿ کے لحاظ سے بھی اہم ہیں۔ ہماچل پر دیش اور گجرات دونوں ہی ریاستوں میں بھاجپا اقتدار میں ہے ہماچل میں اب تک کا ٹرینڈ ہے کہ وہاں ہر چناو¿ میں اقتدار بدل جاتا ہے ۔گجرات میں بی جے پی اس مرتبہ مسلسل چھٹی مرتبہ اقتدارمیں آنے کی کوشش کرے گی۔ ہماچل اور گجرات میں بی جے پی کے اقتدار میں ہونے کی وجہ سے اسمبلی چناو¿ میں سرکا ر کے کاموں کی آزمائش ہوگی۔بی جے پی مسلسل دعویٰ کرتی رہی ہے اس کی سرکار نے لوگوں کیلئے بہت کام کیا ہے ۔بی جے پی ہر بار ڈبل انجن کی سرکار کا ذکر کرنا نہیں بھولتی اپنی کمپین میں یہ ضرور کہتی ہے کہ ڈبل انجن کی سرکار کا لوگوں کو ڈبل فائدہ ملتا ہے ۔گجرات اور ہماچل پردیش کے اسمبلی چناو¿ اس ڈبل انجن کی سرکاروں کے کام کا بھی امتحان ہوگا۔ گجرات وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست ہے گجرات کے ہر کونے میں انکی کی تصویر لگے پوسٹر نظر آتے ہیں ظاہر ہے کہ بی جے پی گجرات اسمبلی چنا و¿ صرف مودی کے نام پر ہی لڑ رہی ہے ۔ ایسے میں گجرات میں پھر سے اقتدار میں واپسی بی جے پی کیلئے محض ایک جیت کا سوال نہیں ہوگابلکہ یہ ان کے سب سے بڑے نیتا مودی کی امیج کا بھی سوال ہوگا۔ پچھلے اسمبلی چناو¿ میں بی جے پی نے گجرات کی کل 182سیٹوں میں سے 99سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی کانگریس نے 77سیٹیں جیتی بی جے پی کے سامنے اس مرتبہ ایک طرف کانگریس دوسری طرف عام آدمی پارٹی کی چنوتی ہوگی۔ موربی برج کا گرنا بھی اپوزیشن کے ہاتھ چناو¿ سے پہلے اچھا اشو ہے ۔بی جے پی تو چاہے گی کہ ان کی تعداد پچھلے کے مقابلے بڑھے اس مرتبہ گجرات میں دہلی اور پنجاب میں حکمراں عام آدمی پارٹی بھی میدان میں ہے اور وہ زبردست چناو¿ کمپین کر رہی ہے ۔ ہماچل پردیش اسمبلی چنا و¿ میں بی جے پی ریاستی سرکا ر کے ساتھ ہی مرکزی سرکا ر کے کاموں کا ذکر بھی کر رہی ہے ۔ مرکزی سرکارکی اسکیموں کا فائدہ اٹھانے والوں سے پارٹی رابطے میں ہے بھاجپا کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لئے ایک بڑا ووٹ بینک بن گیا ہے ۔بی جے پی نے ہماچل پردیش کی کل سیٹوں میں پچھلے اسمبلی چناو¿ میں 44سیٹوں پر جیت درج کی تھی ۔ بی جے پی اس بار ہماچل پردیش کے اقتدار بدلنے کے ٹرینڈکو توڑنے کی کوشش کررہی ہے ۔بی جے پی کی پرفارمنس بھی یہی دکھائے گی کہ ڈبل انجن کے سرکار کا واقعی لوگوں پر اثر ہوتا ہے ۔ یہ چھپا نہیں کہ ویسے اسی سال کی شروعات میں اتراکھنڈ میں بی جے پی نے اس ٹرینڈکو توڑا ہے ۔ وہاں بھی ہماچل کی طرح ہر چنا میں اقتدار بدلتا رہتا تھا اس بار بی جے پی اقتدار میں واپسی ان دونوں ریاستوں کے چناو¿ نتائج کے دور رس اثر ہوںگے ۔ ان کا سیدھا اثر 2024لوک سبھا چناو¿ پڑ سکتا ہے ۔
(انل نریندر)
01 نومبر 2022
پاکستان کی اندرونی حالت میں طوفان!
پاکستان اس وقت سیاسی اتھل پتھل کے دور سے گزرہا ہے ۔ایک طرف سابق وزیر اعظم عمران خان اپنا حقیقی آزادی لانگ مارچ کر رہے ہیں تو دوسری طرف پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوا کی میعاد میں توسیع کو لیکر زبردست تنازعہ چھڑا ہواہے ۔سابق وزیر اعظم عمران خاں نے اپنے ورکروں کے ہجوم کے ساتھ لاہور کے مشہور لیبرٹی چوک سے اپنا حقیقی آزادی لانگ مارچ شروع کیا ان کی مانگ ہے کہ دیش میں جلد چناو¿ کرائے جائیں جبکہ سرکار کا کہنا ہے کہ چناو¿ اپنے وقت پر اگلے سال اکتوبر میں ہی کرائے جائیںگے ۔اس لانگ مارچ کو شہباز کی موجودہ سرکار اور پاک فوج کے ساتھ عمران کے ٹکراو¿ کے طور فیصلہ کن جنگ مانا جا رہا ہے ۔مارچ 4نومبر کو اسلا م آباد پہنچے گا۔ ادھر جنرل باجوا کو بطور فوج چیف توسیع دینے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ باجوا کو سروس میعاد میں توسیع کی پیشکش کی گئی تھی۔لیکن انہوں نے منع کر دیا تھا۔ عمران کی پارٹی تحریک انصاف پر اس بارے میں گمراہ کن بیان دینے کا ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ان پر دباو¿ ڈالا گیا لیکن انہوں نے فیصلہ نہیں بدلا ۔وہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خاں نے اس سال مارچ میں فوج کے چیف قمر جاوید باجوا کو بے میعاد توسیع دینے کی پیشکش کی تھی جسے منظور نہیں کیا گیا ۔میڈیا سے بات چیت میں فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل بابر افتخار اور ڈی جی آئی ایس آئی نے سابو گھر کے مسئلے پر اس پر تحریک انصاف کی طرف سے گمراہ کن سیاسی بیان دینے اور ارشد شریف کی موت سے جڑے واقعات پر مفصل بات کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ باجوا کو بے میعادی توسیع دینے کی پیشکش میرے سامنے کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے نامنظور کر دیا تھا اور آگے کہا کہ آپ کو اپنی رائے رکھنے کا اختیار ہے لیکن اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ کا فوجی چیف ملک دشمن ہے تو ماضی گزشتہ میں ان کی اتنی تعریف کیوں کی گئی اور یہ پیشکش کیوں کی گئی تھی۔ اگر آپ زندگی بھر اس عہدے پر رہنا چاہتے ہیں تو رہیئے ۔ انہوں نے کہا آپ بھی ان سے چھپ چھپ کر کیوں ملتے ہیں؟آپ رات میں ہم سے غیر آئینی خواہشات رکھتے ہیں یہ آپ کا حق ہے لیکن پھر دن کے اجالے میں آپ جو کہہ رہے ہیں وہ مت کہیے ،آپ کی بات میں کھلے طور پر تضاد ہے اور ملک دشمن اور غیر جانبداری کی باتیں اس لئے بنائی گئیں کیوں کہ فوج نے غیر قانونی کام کرنے سے انکار کردیا ۔ادھر عمران خاں نے ایک بیان میں کہا کہ میں نواز شریف کی طرح دیش چھوڑ کر بھاگنے والا نہیں جو خاموش رہے وہ لندن جاکر مذمت کرنے لگے ۔میں یہیں جیو¿ںگایہی مروںگا۔ اگر سرکار سوچتی ہے کہ اسے مان لیںگے تو چن لیںدیش کوئی بھی قربانی دے سکتا ہے ۔لیکن چوروں کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایس آئی کے ڈی جی کان کھول کر سن لیں کہ میں اپنے دیش کے اداروں کو بچانے کیلئے چپ ہوں میں اور بھی بہت کچھ کہہ سکتا ہوں لیکن ہمارے اداروں کو نقصان پہنچے گا۔ اسلئے ابھی چپ ہوں ۔
(انل نریندر)
کانگریس کی کمان نہرو-گاندھی پریوار سے آزاد !
کانگریس پارٹی میں ایک نئے دور کی شروعات ہو گئی ہے 24سال بعد غیر گاندھی شخص نے گانگریس صدر کے عہدے کی کمان سنبھالی ہے ۔آخر کار وہ بد نما الزام بھی کانگریس سے ہٹ گیا ہے کہ پارٹی میں صرف نہرو -گاندھی خاندان کی ہی بالا دستی ہے اور پارٹی میں کوئی جمہوریت نہیں ہے اب کوئی یہ تو نہیں کہہ سکتا ہے کہ کانگریس میں غیر گاندھی پریوار کو آگے نہیں آنے دیا جاتا ۔کانگریس کے نئے منتخب صدر ملکا رجن کھڑگے کو بدھوار کے روز باقاعدہ طور پر منتخب خط سونپا گیا اور اسی کے ساتھ انہوں نے عہدہ سنبھال لیا ۔ کھڑگے نہ کہ کانگریس کے نئے صدر کی حیثیت میں ذمہ داری سنبھالنے کے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی کو توڑ دیا گیا اس کے سبھی ممبران ،جنرل سیکریٹریوں اور انچارجوں نے نئی ٹیم بنانے کیلئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا ۔کانگریس کے نئے صدر ملکا جن کھڑگے نے بدھوار کو 47ممبری اسٹئرنگ کمیٹی بنائی جس میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ، پارٹی کی سابق صدر سونیا گاندھی و راہل گاندھی شامل ہیں۔ تنظیمی کانگریس جنرل سیکریٹری سے ملی اطلاع کی بنیاد پر کمیٹی کے ممبروں میں سینئر پارٹی لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا ،اے کے انٹونی ،امبیکا سونی ،آنند شرما،کے سی وینو گوپال اور دگ وجے سنگھ شامل ہیں ۔اس موقع پر سونیا گاندھی نے کہا کہ وہ کانگریس کی انترم صدارت کی ذمہ داری کھڑگے کو سونپ کر راحت محسوس کر رہی ہیں اور ان کے سر سے بڑا بوجھ اتر گیا ہے ۔میں کھڑگے جی کو بدھائی دیتی ہوں اور سب سے زیادہ اطمینا ن اس بات کی ہے کہ جنہیں صدر چنا ہے وہ ایک تجربہ کار اور وہ زمین سے جڑے نیتا ہیں ۔ ایک معمولی ورکر کی شکل میں کام کرتے ہوئے اپنی محنت اور لگن سے اپنی اس اونچائی تک پہنچے ہیں۔ سونیا نے اپنے عہد میں تعاون کیلئے کانگریس لیڈوں اور ورکروں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ایک طرف سونیا گاندھی اور دوسری طرف راہل گاندھی کے ساتھ کھڑے کھڑگے کو کانگریس صدر کا سرٹفیکیٹ سونپا گیا تو ان کے چہرے پر ذمہ داری کا احساس صاف جھلک رہا تھا ۔ ان کا چہر ہ خاموش اور آنکھوں میںسوال تھے اس صا ف ہے کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں اور چنوتیوں کا احساس تھا۔کھڑگے نے اسے وقت یہ ذمہ داری سنبھالی ہے جب پارٹی اپنی تاریخ سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہے ۔اس لئے کہ راجستھان اور چھتیس گڑ ھ میں ہی پارٹی کی سرکار ہے ۔لوک سبھا میں پارٹی کے پاس 53اور راجیہ سبھا میںصر ف 31ممبر ہیں۔ کھڑگے کے سامنے سب سے پہلی چنوتی پارٹی میں خود کا دبدبہ قائم کرناہے ۔ کھڑگے نے ادے پور میں نو سنکلپ لاگو کرنے کے اعلان سے بزرگ نیتاو¿ں کی ناراضگی بڑھ سکتی ہے ۔کانگریس ورکنگ کمیٹی میں پرینکا گاندھی کو چھوڑ کر سبھی کی عمر 50برس سے زیا دہ ہے ۔ کھڑگے خود بھی 80سال کے ہیں ان کے سامنے چنوتیوں کا پہاڑ کھڑا ہے ۔چوںکہ پارٹی میں اتحاد پیدا کرنا گجرات ،ہماچل اسمبلی چناو¿ ،2023میں کرناٹک سمیت 9ریاستوں میں چناو¿ ہوںگے ۔ کرناٹک ان کی آبائی ریاست ہے ایسے میں کرناٹک چناو¿ میں ہار جیت کو صدر کے طور پر ان کی پرفارمنس سے جوڑ کر دیکھا جائے گا۔ سرپر کھڑے ہماچل اور گجرات میں بھی کانگریس کیلئے اچھا پر درشن کریں یہ بھی ان کیلئے چنوتی ہوگی۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...