Translater

22 جولائی 2017

کھوئی زمین پانے کیلئے بہن جی کا سیاسی داؤں

مایاوتی نے جس طرح سے راجیہ سبھا کی ممبر شپ سے استعفیٰ دیا اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ ایسا کرنے کا من بنا کر آئیں تھیں۔ ہمیں یہ اب تک سمجھ نہیں آیا کہ بہن جی نے ڈپٹی چیئرمین (کانگریسی )کرین سے ناراض ہوکراستعفیٰ دیا ہے یا مودی سرکار سے خفا ہوکر؟ میں اس وقت راجیہ سبھا کی کارروائی اتفاق سے دیکھ رہا تھا جب مایاوتی اترپردیش کے دلتوں کے مبینہ اذیتوں کا اشو اٹھا رہی تھیں۔ انہیں بولنے سے ڈپٹی چیئرمین پی ۔کرین جو کانگریس کے ممبر ہیں ، روکنے کی کوشش کررہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ نے اپنی بات رکھ دی ہے۔ تقریر کرنے کا وقت نہیں ہے۔ شرد یادو نے بھی ان سے درخواست کی تھی کہ مایاوتی کو بولنے دیا جائے لیکن ڈپٹی چیئرمین صاحب نے اس کی اجازت نہیں دی پھر مایاوتی ناراض ہوکر ایوان سے چلی گئیں۔ مایاوتی کو صاف کرنا چاہئے کہ ان کی ناراضگی کی اصلی وجہ بی جے پی کی مودی سرکار ہے یا کانگریس کے ایم پی ڈپٹی چیئرمین پی۔ جے کورین؟ دلتوں پر حملہ کے واقعات اور خاص کر سہارنپور تشدد پر بولنے کے دوران انہوں نے اپنا آپا کھودیا ،تین منٹ ہوتے ہی کورین نے گھنٹی بجا دی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ راجیہ سبھا میں اچھا خاصا وقت گزار چکی مایاوتی کو اچھی طرح سے پتہ ہے کہ اس طرح کی گھنٹی بجتی ہی رہتی ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ وہ دلت طبقے کی نمائندگی کرتی ہیں اگر ان کے اشو کو وہ راجیہ سبھا میں نہیں اٹھا سکتیں تو انہیں وہاں رہنے کا کوئی اخلاقی اختیار نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مایاوتی نے کچھ جلد بازی میں یہ قدم اٹھایا مگر وہی جانتی ہوں گی کہ ان کے اس قدم کے پیچھے صرف وقتی جذبات نہیں بلکہ سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی ہے۔ ابھی سیشن کا دوسرا دن ہی تھا اور ان کے پاس راجیہ سبھا کے قاعدہ 267 کے تحت دلتوں پر اذیتوں کے اشو پر بحث کرانے کا نوٹس دینے کا حق تھا۔ دلتوں کے درمیان کھسکتے مینڈیٹ سے مایاوتی کا پریشان ہونا فطری ہی ہے۔ حقیقت میں 2012ء سے اترپردیش میں ان کے مینڈیٹ کو جو دھکا پہنچنا شروع ہوا تھا اس کا آخری زوال حالیہ اسمبلی چناؤ میں نظر آیا جب 403 ممبری اسمبلی میں بسپا کی صرف 19 سیٹیں رہ گئیں۔ ویسے بھی مایاوتی کی راجیہ سبھا کی میعاد اگلے سال اپریل میں ختم ہونے والی تھی۔ انہیں احساس رہا ہوگا کہ اب صرف بسپا کے بوتے پر دوبارہ وہاں نہیں پہنچ سکتیں۔ دیکھنا تو یہ ہوگا کہ ان کا استعفیٰ کیا انہیں نئے سرے سے پہلے جیسی سیاسی طاقت دے گا؟ 
(انل نریندر)

اب پاک اسکولی بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے

پاکستانی فوج نے اب ساری حدیں پار کردیں ہیں۔ اب وہ ہمارے بچوں کو بھی نشانہ پر لینے لگا ہے۔ پیر کو ایک بار پھر پاک فوج نے پونچھ اور راجوری اضلاع میں فائرننگ کی جس میں ایک سال کی بچی ساجدہ کفیل کی جان چلی گئی اور ایک ہندوستانی جوان مدثر احمد شہید ہوگئے۔ پاک فائرنگ میں ضلع راجوری کے نوشیرہ سب ڈویژن میں کنٹرول لائن سے لگے دو اسکولوں کے 217 بچے 10 گھنٹے تک پھنسے رہے۔ 15 ٹیچر بھی اسکول میں بند رہے۔ پاکستانی فوج نے منگلوار کو زبردست فائرننگ کر اسکولی بچوں کو نشانہ بنایا۔ ڈپٹی کمشنر راجوری ڈاکٹر اقبال چودھری کے مطابق چھاؤنی اسکول میں 120 بچے و سیئر اسکول میں 55 بچے قریب10 گھنٹے تک پاک گولہ باری کے چلتے اسکول کے کمرے میں قید رہے۔ گھنٹوں بعد جب فائرنگ تھوڑی کم ہوئی تو بچوں کو اسکولوں سے نکالنا شروع ہوا۔ بچاؤ ٹیم نے سبھی 217 بچوں و 15 ٹیچروں کو محفوظ نکالا۔ گرمیوں کی چھٹی کے بعد سبھی بچے سیزن میں پہلی بار اسکول گئے تھے۔ اسکول کافی اونچائی پرواقع ہونے کی وجہ سے طلبا کو محفوظ باہر نکالنے کے کام میں کافی مشکلات پیش آئیں۔ پاک کی اندھا دھند فائرننگ کے دوران بلٹ پروف گاڑیوں میں طلبا کو اسکول سے باہر نکالا گیا۔ بچوں کے ماں باپ نے بتایا جب خبر ملی بچوں کے اسکولوں پر مورٹار گولے داغ رہے ہیں تو سانسیں اٹک گئیں۔ باہر نکلنا ممکن تھا اور نہ ہی گھر میں بیٹھنا لیکن بچوں کا حال جاننا ضرور ی تھا۔ شام6 بجے بچوں کو اپنی آنکھوں سے صحیح سلامت دیکھا تو ان کے منہ میں کچھ ڈال کر خود بھی کھایا۔ والدین نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم کب تک یوں ہی موت کے سائے میں جیتے رہیں گے؟ سوال یہ ہے کہ پاکستان اتنی اوچھی حرکت آخرکیوں کررہا ہے؟ انہیں معلوم ہوگا کہ وہ اسکولوں پر فائرننگ کررہے ہیں اور اس میں بچے مارے جاسکتے ہیں۔ کیا پاکستان اب اپنی دشمنی ننھے بچوں سے نکالے گا؟ اسے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہندوستانی فوج اس گری ہوئی حرکت کا معقول جواب دے سکتی ہے لیکن ہندوستانی فوج ایسی اوچھی حرکتوں پر یقین نہیں رکھتی۔ ایسی حرکتیں کرنے سے پاکستان خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔ جب ساری دنیا کو پتہ چلے گا جان بوجھ کر، سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت پاکستانی فوج اسکولی بچوں کو نشانہ بنا رہی ہے تو اس کی پہلے سے گرتی ساکھ کو مزید بٹا لگے گا۔ پاکستانی فوج میں اگر تھوڑی سی بھی انسانیت بچی ہے تو بچوں کو نشانہ نہ بنائے لڑنا ہے تو ان سے لڑے جو اسے معقول جواب دینے میں اہل ہے۔
(انل نریندر)

21 جولائی 2017

گؤرکشا کے نام پر یہ غنڈہ گردی رکنی چاہئے

گؤرکشا کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے والوں پر دیدش میں ہو رہی تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت ہونی چاہئے. گؤرکشا ہونا چاہئے پر اس طریقے سے نہیں جس طریقے سے کچھ اراجک عنصر ہیں. وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ٹو ٹوک کہا کہگؤرکشا کے نام پر ہو رہی تشدد کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا. انہوں نے تمام ریاستوں کی حکومتوں سے بھی کہا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں. اس سے پہلے بھی وزیر اعظم کئی بار یہ رائے ظاہر کر چکے ہیں. لیکن اس کا کوئی خاص اثر ہوتا نظر نہیں آتا. بار بار انتباہ اشارہ ہے کہ صورت حال کتنی سنگین ہے. وزیر اعظم کی تنبیہ کے باوجود ملک میں کچھ لوگ گور?شا کے نام پر مار تیز کر رہے ہیں. 
گؤرکشا کو سیاسی اور فرقہ وارانہ رنگ دے کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی دوڑ سی شروع ہو گئی ہے. اس سے نہ تو بھارتیہ جنتا حصہ کو کوئی فائدہ ہو گا اور نہ ہی ہندوتو کی قیادت کریں گے. الٹا اس سے ماحول خراب ہو رہا ہے. ملک میں گوماتا کی حفاظت کا احساس ہونا چاہئے پر قانونی دائرے میں. اگر قانون اپنے ہاتھ میں لے کر گور?شا کی جاتی ہے تو ملک کی قانون پر اس کا دپربھاو پڑتا ہے. وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ گائے کی حفاظت کے لئے قانون ہے اور کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے. یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کہیں کچھ عنصر اس بہانے آپ کی ذاتی دشمنی تو نہیں نکال رہے؟ کوئی ٹرک سے گایوں اور بچھڑوں کو عام کاروبار کے تحت لے جا رہا ہے تو اس کی گھیر کر تیز ہوتی ہے تو کہیں کسی گوشت تاجر کے ساتھ بدسلوکی ہوتی ہے. یہ سب ایک ڈراونا نقطہ نظر پیش کرتا ہے. 
کل جماعتی اجلاس کے بعد جو کچھ پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہا اس کے مطابق سب سے پہلے اس موضوع پر ریاستوں کو مشاورتی بھی جاری کیا گیا ہے. اس میں ریاستوں سے کارروائی کرنے کی وہی باتیں ہیں جو وزیر اعظم اپنے بیانات میں پہلے کہہ چکے ہیں. یقیناًقانون ریاستوں کا موضوع ہے اور اس طرح کے معاملات میں قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی ریاستوں کی سطح پر ہی ہو سکتی ہے. تو کیا ریاستوں کی سطح پر کارروائی میں کوتاہی برتی جا رہی ہے؟ گایوں کی حفاظت کرنا قانونی ایجنسیوں کا کام ہے اور انہیں اپنی ڈیوٹی پر کوتاہی نہیں کرنا چاہئے. پولیس و انتظامیہ کو دراصل اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ حکومت کی گاج ان پر ہی الٹا نہ گر جائے؟ لہذا وہ اس طرح کے معاملات کو رفع دفع کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں. بھارتیہ جنتا پارٹی اور بی جے پی حکومتوں کو واضح ہدایات دینے چاہئے کہ وہ اس قسم کی جرم کو قطعی برداشت نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ ووٹ بینک کے چلتے ایسی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

ہر پوزیشن کیلئے موزوں وینکیا نائیڈو

نامزدگی کی آخری تاریخ کے ایک دن پہلے این ڈی اے نے نائب صدر کے عہدے کے لئے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو منتخب کر اس بار اپوزیشن کو چونکایا تو نہیں، لیکن اس کی جانب سے پیش چیلنج کو آسانی سے پار کرنے کا پیغام ضرور دے دیا. ویسے بی جے پی قیادت نے اس بار صدارتی انتخابات کی طرح افسوسناک نام دینے کے بجائے پہلے سے ہی بحث میں رہے وینکیا نائیڈو کو نائب صدر کے عہدہ کا امیدوار قرار دیا. نائیڈو کا 25 سال طویل پارلیمانی تاریخ اور تجربے ان کے حق میں گیا۔
دراصل راجیہ سبھا کے چار بار ممبر پارلیمنٹ اور پارلیمانی امور کے وزیر رہے وینکیا نائیڈو کو پارلیمانی تجربہ اور ایوان چلانے کی تفصیلات کا پتہ ہے. چونکہ راجیہ سبھا میں این ڈی اے کی اکثریت نہیں ہے اور اکثر اپوزیشن حکومت کے لئے ایوان چلانے سے لے کر سرکاری کام کاج میں رکاوٹ ڈالتا ہے. ایسے میں نائب صدر کے پدین راجیہ سبھا چیئرمین ہونے سے حکومت کو ایوان چلانے میں آسانی ہو گی. نائب صدر امیدوار کے لئے بی جے پی کو جنوبی کا چہرہ، آئین کی معلومات اور ہندوتو سے وابستگی کو بھی بڑے پیمانے پر بنانا تھا. جنوبی ریاستوں سے چہرہ بنانے پر رضامندی کے بعد نائیڈو اس grooves کے میں بالکل فٹ بیٹھے. نائب صدر کے عہدے کے لئے بی جے پی میں جن تین ناموں پر بحث ہوئی وہ تمام جنوبی بھارت سے تھے۔
اس میں وینکیا آندھرا پردیش سے ہیں. ان نائب صدر بننے سے پارٹی کو تلنگانہ، کرناٹک، آندھرا اور تمل ناڈو میں فائدہ ہو گا. اگلے دو سال میں کرناٹک، آندھرا اور تلنگانہ میں انتخابات ہیں. 2019 عام انتخابات کے لئے بھی ایک راستہ تیار گے. وینکیا کے نائب صدر بننے سے بہت وزارت خالی ہو گئے ہیں. وینکیا کے پاس شلر? ترقی اور انفارمیشن ٹرانسمیشن وزارت ہیں. منوہر پاریکر کے وزیر اعلی بننے کے بعد سے جیٹلی کے پاس وزارت دفاع کا چارج ہے. انل مادھو کے انتقال کے بعد ہرش وردھن وزارت ماحولیات بھی سنبھال رہے ہیں. نائیڈو جنوبی بھارت کے ان چند چنندہ رہنماؤں میں ہیں جو اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی اور ہندی میں یکساں طور پر ماہر ہیں. وہ اپنی خاص تقریر سٹائل کے لیے تو جانے ہی جاتے ہیں. ملک بھر میں اپنی شناخت بھی رکھتے ہیں. وینکیا نائیڈو کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ ان کے تمام سیاسی جماعتوں سے دوستانہ تعلقات ہیں. ایسے تعلق راجیہ سبھا کو آسانی سے چلانے میں مدد کریں گے. اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ خود وینکیا اس فیصلے سے کتنے خوش ہوں گے. کیونکہ فعال سیاست سے اب انہیں سکڑ پڑے گا. اپوزیشن نے گوپال گاندھی کو اپنا امیدوار پہلے ہی منتخب کیا تھا. سابق نوکر شاہ، سفارتی اور گورنر کے طور پر ان کی کورس کی ساکھ ہے، تصویر ہے پر وینکیا نائیڈو کہیں زیادہ فٹ ہیں۔
(انل نریندر)

20 جولائی 2017

کیا لوک سبھااور ودھان سبھائیں آدھے نمبروں میں کام کرسکتی ہیں

کولکتہ ہائی کورٹ نے ججوں کی تقرری میں ہو رہی تاخیرپر مرکزی سرکار کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اس بابت اگر ضروری قدم نہیں اٹھایاگیا تو مناسب کارروائی کی جائے گی۔ عدالت نے اس پس منظر میں سوال کیا کہ کیا لوک سبھا اور ودھان سبھاؤں کے آدھے نمبروں پر کام کرنے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے؟جسٹس ڈی۔ پی۔ ڈے کی بنچ نے کہا کہ اس کورٹ کیلئے منظور ججوں کی تعداد 72 ہے جبکہ یہ 34 جج ہیں جو کہ منظور تعداد کے 50 فیصدی سے بھی کم ہیں۔ بصد احترام جج صاحبان نے صحیح سوال اٹھایا ہے۔ پارلیمنٹ میں ان ممبران پارلیمنٹ کی حاضری کا کتنا برا حال ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ پارلیمنٹ سیشن کے دوران ممبران کی غیر موجودگی کے ٹرینڈ پرانے ہیں یہاں تک کہ کئی وزیر بھی موجود رہنا ضروری نہیں سمجھتے۔ اس کے چلتے ایوان میں پوچھے جانے والے سوال بغیر جواب رہ جاتے ہیں۔ کئی بار تو کورم بھی پورا نہ ہوپانے کے چلتے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں کئی بار ان نمائندوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایوان میں موجود رہنے کی سخت نصیحت تک دی ہے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہا کہ وہ کسی بھی ممبر کو اچانک بلا سکتے ہیں اگر وہ دیش کے باہر ہے تب بھی کسی افسر کی معرفت کسی بھی ایم پی سے بات کر سکتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے عوام کے نمائندوں، وزرا کے ذمہ بہت سارے کام ہوتے ہیں لیکن اس بنیاد پر انہیں ایوان کی کارروائی سے باہر رہنے کی فرصت نہیں مل سکتی۔ عوام کے نمائندوں کا کام ایوان کو اپنے علاقہ کے مسائل سے واقف کرانا ،ان کے حل کے لئے قدم تجویز کرنا اور دوسرے ممبران پارلیمنٹ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالوں و مسائل وغیرہ کے سلسلہ میں سرکار کی طرف کی گئی کارروائی کو جاننا، سمجھنا اس پر تبصرہ کرنا بھی ہے۔ مگر بہت سارے ایم پی ایوان میں بحث میں شامل ہونا تو دور اپنے علاقہ کے مسائل کو بھی ایوان کے سامنے رکھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ حکمراں فریق کے نمائندے اکثر اس لئے خاموشی اختیار کئے رہتے ہیں کہ کہیں ان کے سوالوں سے سرکار کے سامنے ناگزیں صورتحال پیدا نہ ہوجائے یا پھر ان کی کوئی بات ان کے سینئر لیڈروں کو ناگوار نہ گزرے۔ کولکتہ ہائی کورٹ نے صحیح سوال اٹھایا ہے جب ایوان میں آپ سبھی ممبران پارلیمنٹ کی موجودگی چاہتے ہیں تو عدالت میں پوری تعداد میں ججوں کی موجودگی کیوں نہیں؟ امید کی جاتی ہے کہ جج صاحبان کی تقرری جلد سے جلد کرائی جائے گی اور مسئلہ کا حل ہوگا۔
(انل نریندر)

وزیر اعظم کا تاریخی اسرائیل دورہ

حال ہی میں وزیر اعظم نریندرمودی کا اسرائیل دورہ کئی معنوں میں اہمیت کا حامل رہا۔ جس گرمجوشی سے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے مودی کا خیر مقدم کیا اس سے ایسا لگا کہ جیسے دو وزیر اعظم نہیں بلکہ برسوں سے بچھڑے ہوئے دو بھائی گلے مل رہے ہوں۔ پچھلے 70 برسوں میں بیشک بھارت اور اسرائیل کی دوستی رہی ہو لیکن اتنے کھلے طور سے پہلی بار نظر آئی۔ بھارت اور اسرائیل کا مل جانا دراصل دو تہذیبوں کا ملن ہے۔ یہ تہذیبیں جو قدیمی جڑوں سے جڑی ہیں جنہیں مٹانے کے لئے صدیاں بھی کم پڑ گئیں۔ یہ دونظریات کا ملن ہے اور آج کے حالات میں نہایت فائدہ مند بھی ہے۔ مسلمانوں و عربوں کی نگاہ میں اچھا بنا رہنے کے لئے کانگریس سرکاریں عرب دیشوں کی حمایت کرتی رہی ہیں اور اوپری طور سے اسرائیل کی مخالفت ظاہر کرتی رہی ہیں۔ اسرائیل کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوا کیونکہ بھارت اس سے اربوں روپے کے ہتھیار خریدتا رہا ہے۔ 70 برسوں کے بعد کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا اسرائیل دورہ یہ ظاہرکرتا ہے کہ ہماری سیاسی قوت ارادی کتنی کمزور ہے جو ہمارے گھروں میں بم برساتے رہے، سرحد پر آئے دن بزدلانہ حرکتیں کرتے رہے ، ان کے لئے ہم لال قالین بچھاتے رہے، کرکٹ کھیلتے رہے لیکن دور تناہی میں کھڑا ایک ترقی پذیر اور آئینی ترقی کی بلندیاں چھو رہا ایک دیش ہمیں چاہتا رہا ،دوستی کے ہاتھ بڑھائے کھڑا رہا لیکن ہم قباحت سے مرے رہے۔
اب تک اسرائیل سے دوری رکھنے کے پیچھے دو دلیلیں کام کررہی تھیں پہلی بھارت کے مسلمانوں کا ناراض ہونا، دوسرا عرب دیشوں سے بھارت کے رشتوں میں کشیدگی پیدا ہونا لیکن ان دونوں باتوں میں کوئی دم نہیں ہے کیونکہ نہ تو بھارت کے مسلمانوں کو اسرائیل سے کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی عرب دیشوں کو اس سے کوئی مطلب ہے۔ بھارت کس کس سے دوستی رکھتا ہے ، مودی کے اس تاریخی دورہ کے بعد بھارت عرب دیشوں کی پوزیشن وہی رہے گی جو کانگریس کے عہد میں رہی۔ ویسے تو اسرائیل کا رقبہ بھارت کا 160 واں حصہ ہی ہے مگر کچھ تکنیکی سیکٹر میں وہ امریکہ ،روس، برطانیہ، جرمنی اور فرانس ، اٹلی سے بھی آگے ہے۔ ڈیفنس ٹکنالوجی کے کچھ پہلو سے اسرائیل امریکہ سے بھی زیادہ اہل ہے۔ وہ ذرعی سیکٹر میں نئی نئی ایجادات کر سب سے ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہوگیا ہے۔ بھارت کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے وہ کھارے اور گندے پانی کو صاف کرکے کھیتی کے کام میں لانے یہاں تک کہ پینے کے پانی کے لائق بنانے کی تکنیک میں بھی ماہر ہے۔ بھارت کے کھیتوں میں 90 فیصد صاف ستھرا پانی جاتا ہے جبکہ اسرائیل میں پانی کی زبردست کمی ہے۔ بھارت کو حالانکہ اس بات پر توجہ دینی ہوگی کہ اسرائیل سے قربت سے عرب ملک ہم سے دور نہ ہوجائیں۔
(انل نریندر)

19 جولائی 2017

جی ایس ٹی کی وجہ سے مریض و گراہک پریشان

جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد پیدا ہوئے سپلائی کا بحران تاجروں کے ساتھ ہی اب عام گراہکوں کو بھی ستانے لگا ہے۔ دوا جیسی ضروری اشیاء سے لیکر کمپیوٹر اور ڈیجیٹل گجیٹس کے بازاروں میں گراہک خالی ہاتھ لوٹ رہے ہیں۔ ٹریڈرس کا کہنا ہے جی ایس ٹی ریٹ اور ایم ایس این کوڈ کو لیکر جاری کنفیوژن کے چلتے مینوفیکچرر اور ڈسٹریبیوٹر مال آگے نہیں بڑھا رہے ہیں۔ کچھ مقامات پر جی ایس ٹی کے مطابق ایم آر پی میں تبدیلی کے چلتے بھی دیری ہورہی ہے۔ کپڑا تاجروں کی ہڑتال کے چلتے کپڑے کی کمی بھی بتائی جارہی ہے جس سے کئی جگہوں پر گراہکوں کو پہلے سے زیادہ قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ جی ایس ٹی پر کنفیوژن کی وجہ سے دیش کے کئی حصوں میں شگر اور امراض قلب کے علاج کے لئے ضروری دواؤں کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ دوا کمپنیوں نے پرانے اسٹاک روک لئے ہیں اس سے دہلی ، یوپی، بہار، اترا کھنڈ وغیرہ ریاستوں کے کئی شہروں میں دوا کی سپلائی ٹھپ ہوگئی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اسے دواؤں کی کمی کے بارے میں کوئی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔ دہلی کے ایک بڑے دوا ڈسٹریبیوٹر کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیوں کی دواؤں کا اسٹاک 60 فیصدی تک کم ہوگیا ہے جبکہ دوا کمپنیوں کا کئی سو کروڑ روپے کا اسٹاک گوداموں میں بھرا پڑا ہے جسے جی ایس ٹی لاگو ہونے کے بعد سے وہ بازار میں نہیں اتار رہے ہیں کمپنیوں کو پرانے اسٹاک پر خسارہ ہورہا ہے اس لئے وہ اسے بازار میں نہیں نکال رہے ہیں۔ دوا کمپنیوں کو پرانے اسٹاک میں صرف اکسائز ٹیکس اور ویٹ پر ہی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔ٹریڈرس کو ابھی ایم ایس این کوڈ میں نہیں ملے ہیں۔ بہت سے میڈیکل اور سرجیکل سامان کے دام میں بھی فرق آگیا ہے جس سے کمپنی اور ڈسٹریبیوٹروں کو سامان کی سپلائی کرنے میں وقت لگے گا۔ مارکیٹ کے ذرائع کا کہنا ہے جہاں اسٹاک ہے وہاں ٹریڈرکی بھاری مانگ کو دیکھتے ہوئے جی ایس ٹی انوائس کی جگہ بل آف سپلائی جاری کررہے ہیں۔ جی ایس ٹی میں الجھے دوکانداروں کی دقتوں کودیکھتے ہوئے دہلی ویٹ محکمہ پہلی سہ ماہی کی ویٹ ریٹرن بھرنے کی آخری تاریخ 28 جولائی سے آگے بڑھا سکتے ہیں۔ مارکیٹ میں اس وقت جن دواؤں کی قلت ہے ان میں خاص ہیں ہیپی تائٹس بی کا انجکشن، ڈائلسس ،بلڈ پریشر کی دوائیں اور زیادہ بیمار مریضوں کی جان بچانے والی دوائیں،ٹونک ایسٹ اور میروتھینیم انجکشن، ملٹی وٹامن، ملٹی فوڈ وٹامن، کتے کے کاٹنے کی دوا و شربت ، گردے کی مریضوں کی دوا، ایلومن منڈرکس اور ٹیرا مائی سین وغیرہ دوا شوگر کی بیماری کی دوا امرل۔ایم وغیرہ وغیرہ دوائیں شامل ہیں۔
(انل نریندر)

نواز شریف پر استعفیٰ دینے کیلئے چوطرفہ دباؤ

پنامہ پیپر لیک معاملہ میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ آنے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف پر استعفیٰ دینے کا دباؤ پڑنے لگا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے بعد اب پاکستانی میڈیا نے جمہوریت کا حوالہ دیتے ہوئے شریف سے عہدہ چھوڑنے کوکہا ہے۔ پنامہ پیپر لیک معاملہ میں نواز شریف اور ان کے کنبہ کا نام سامنے آنے کے بعد پاک سپریم کورٹ کی ہدایت پر جے آئی ٹی بنائی گئی تھی۔ اس نے اپنی رپورٹ میں نواز شریف پر کرپشن سے جڑے کئی سنگین الزام لگائے ہیں۔ ان کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے جی آئی ٹی کی رپورٹ نامنظور کردی ہے۔ انگریزی اخبار دی ڈان نے اپنے اداریہ کے ذریعے نواز شریف کو عارضی طور پر ہی صحیح لیکن وزیر اعظم کی کرسی چھوڑنے کوکہا ہے۔ ادھر پنامہ پیپر لیک معاملہ کے بعد نواز شریف کے کنبہ کی لندن میں موجود املاک کی جانچ کرنے والی جے آئی ٹی نے شریف کے خلاف 15 معاملوں کو پھر سے کھولنے کی سفارش کی ہے۔میڈیا میں ایتوار کو ایک خبر میں بتایا گیا کہ جے آئی ٹی نے عدالت میں پرانے معاملوں کو پھر سے کھولنے کی درخواست کرکے نواز شریف کی مشکلیں مزید بڑھا دی ہیں۔ یہ ہائی پروفائل معاملہ 1990 کی دہائی میں شریف کے ذریعے مبینہ پیسہ جمع کئے جانے کا ہے جب انہوں نے وزیر اعظم رہنے کے دوران لندن میں پراپرٹی خریدی تھی۔ پنامہ پیپر لیک سے پچھلے سال اس بات کا انکشاف ہوا تھا اس اشو پر جانچ کرنے والی چھ نفری جے آئی ٹی نے 10 جولائی کو اپنی انترم رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کردی جس میں کہا ہے کہ نوازشریف اور ان کے بچوں کی معیار زندگی ان کی آمدنی سے زیادہ اچھی ہے۔ اس نے ان کے خلاف کرپشن کا ایک نیا معاملہ درج کرنے کی سفارش کی ۔ نواز شریف نے اس رپورٹ کو بے بنیاد الزامات کا پلندہ بتاتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ نواز شریف نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے بھی انکار کردیا ہے۔ ڈان کی آن لائن رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں بلائی گئی ہنگامی کیبنٹ کی میٹنگ میں 67 سالہ نواز شریف نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو الزامات اور قیاس آرائیوں کو پلندا بتایا۔ رپورٹ جاری ہونے کے بعد سے ہی وزیر اعظم کا استعفیٰ مانگ رہی اپوزیشن پارٹیوں کو نشانے پر لیتے ہوئے شریف نے کہا مجھے پاکستان کے لوگوں نے منتخب کیا ہے اورصرف وہ ہی مجھے عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔ شریف نے دعوی کیا کہ ان کے خاندان کے سیاست میں آنے کے بعد کمایا کچھ نہیں گنوایا بہت کچھ ۔ انہوں نے کہا جے آئی ٹی کی رپورٹ میں استعمال زبان افسوسناک ارادہ ظاہرکرتی ہے۔ جولوگ غیرضروری اور جھوٹے دعوؤں پر میرا استعفیٰ مانگ رہے ہیں انہیں پہلے اپنے گریبان میں جھانک کردیکھنا چاہئے۔
(انل نریندر)

18 جولائی 2017

یوپی اسمبلی میں دھماکو شے: سکیورٹی میں بڑی چوک

اترپردیش اسمبلی کو دہلانے کی بڑی دہشت گردانہ سازش بیشک ناکام ہوگئی ہو لیکن اسمبلی میں حکمراں لیڈر کی سیٹ کے نیچے 150 گرام پی ای ٹی این نامی دھماکو پاؤڈر کا ملنا چوکانے والا ہے۔ اس سے پورے سکیورٹی سسٹم پر سوال کھڑا ہونا فطری ہی ہے۔ سفید رنگ کے اسی طرح کے پاؤڈر سے 6 سال پہلے دہلی ہائی کورٹ کی کینٹین میں دھماکہ ہوا تھا۔ وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعہ کو اسمبلی میں اس کا انکشاف کرتے ہوئے اسے بڑی دہشت گردانہ سازش قراردیا ہے۔ انہوں نے ایوان میں کہا کہ ممبر اسمبلی، مارشل، اسمبلی کے ملازم کو چھوڑ کر کوئی بھی اور ہاوس میں نہیں آسکتا اس کے باوجود دھماکو پاؤڈر ملا ،سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس کو لیکر اسمبلی میں آئے، اس کا پردہ فاش ہونا چاہئے۔ کیا عوام کے نمائندوں کو خاص رعایت کے نام پر سکیورٹی کی چھوٹ دے دیں گے؟ کیا کسی کو چھوٹ دی جاسکتی ہے کہ وہ اسمبلی و ودھان پریشد کے 503 ممبران کی حفاظت کیلئے چنوتی کھڑی کریں؟ اترپردیش اسمبلی میں جو ہوا وہ کوئی سکیورٹی ریہرسل نہیں تھی وہ حقیقت میں دھماکو پاؤڈر تھا اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی اتنی مقدار تھی کہ اسمبلی کمپلیکس کا ایک تہائی حصہ تو اڑایا جاسکتا تھا۔ اس سے ہم یہ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ اسمبلی کے سبھی سکیورٹی گھیروں کو پار کرتے ہوئے اتنا بڑا خطرہ ایوان تک پہنچ گیا جہاں یہ دھماکو پاؤڈر صفائی کے دوران حکمراں فریق کی کرسی کے قریب پڑا ملا۔ حقیقت میں اس سے سنجیدہ ہوکر ٹھوس قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ اسے محض سکیورٹی کی لاپروائی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس دھماکو پاؤڈر کا استعمال دہشت گرد تنظیمیں کرتی ہیں اور اگر اس کی مقدار 500 گرام تک ہوتی تو یہ ایوان کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہوتی۔ اس لئے اگر اس کی جانچ این آئی اے کرے تو اس کے مقصد اور سازش کرنے والوں کے بارے میں جانکاری مل سکتی ہے لیکن رپورٹ آنے سے پہلے اسے سیاسی رنگ دینے سے انہی کا مقصد پورا ہوگا، جواترپردیش کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ سکیورٹی کسی بھی ریاستی سسٹم کا پہلا فرض ہے اور اگر وہ قانون والوں اور سرکار چلانے والوں کی سکیورٹی نہیں کر پائیں گے تو ان شہریوں کی حفاظت کیسے کریں گے جنہوں نے انہیں یہ ذمہ داری سونپی ہے۔ ظاہر ہے کہ عدیم المثال سکیورٹی کی ضرورت ہمیں ایک دو جگہ یا کچھ عمارتوں پر ہی نہیں بلکہ سبھی جگہ ہے۔ کسی بھی ایک جگہ کی چوک کسی بھی دوسری جگہ یا سبھی جگہوں کے لئے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہے اس لئے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ کو طویل المدت تجاویز کو ماننے کے ساتھ وسیع اقدامات پر بھی غور کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

ڈوکلام میں ہندوستانی اور چینی فوج آمنے سامنے

سکم کی چنبی وادی کے ڈوکلام بنجر علاقہ پر بھارت اور چین کے درمیان وسیع سطح پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان تنازعہ کی جڑ بنے ڈوکلام علاقہ میں چین کی فوج نے کافی عرصہ تک تعیناتی کی تیاری کرلی ہے۔ جواب میں ہندوستانی فوج نے بھی ڈوکلام علاقہ میں اپنی پوزیشن لمبے عرصے تک ڈٹے رہنے کی تیاری کرلی ہے۔ بھارت اور چین بھوٹان سے لگے علاقہ میں ہندوستانی فوجیوں کو ہٹانے کیلئے چین مسلسل دباؤ بنا رہا ہے لیکن وہاں تعینات ہندوستانی فوجیوں نے بھی اپنے تنبو گاڑھ لئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈوکلام میں تعینات فوجیوں کو سبھی ضروری سامان کی مسلسل سپلائی کی جارہی ہے یہ چین کو لیکر صاف اشارہ ہے کہ ہندوستانی فوج اس کے کسی بھی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گی جب تک اس کی پیپلز لبریشن آرمی کے جوان واپس نہیں لوٹتے ہندوستانی فوج بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ان حالات میں سکم سیکٹر میں قریب 10 ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع اس علاقہ میں بھارت۔ چین کی فوجوں کے درمیان کشیدگی لمبی کھنچنے کے آثار ہیں۔ تعطل کو تین ہفتے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ تنازعہ والے علاقہ میں بھارت اور چین کی فوجیں 300-300 کی تعداد میں بتائی گئی ہیں اور دونوں فوجوں کے درمیان محض 120 میٹر کی دوری ہے۔ کرنل سطح کے افسر دونوں طرف کی فوجوں کی رہنمائی کررہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بھارت کے مقابلہ چین کے فوجی اس علاقہ میں زیادہ ٹھیک نہیں ہیں۔ ہندوستانی فوج کے لئے گراؤنڈ زیرو سے سپلائی پوائنٹ محض 8سے10 کلو میٹر دور ہے، جبکہ چین کی فوجوں کے لئے یہ 60 سے70 کلو میٹر دوری پر ہے۔ چین کی فوج اس علاقہ میں نہیں رہتی ہے۔وہ قریب 60-70 کلو میٹر دور کھامبوجونگ میں رہتی ہے، لیکن متنازعہ علاقہ میں اس کا لگاتار آنا جانا رہتا ہے۔ ہندوستانی فوج کی اس علاقہ میں ہمیشہ موجودگی رہی ہے۔ دسمبر تک آسانی سے ٹکے رہنے کی تیاری میں ہے۔ دونوں طرف کی فوجوں کے درمیان کوئی فلیگ میٹنگ بھی نہیں ہورہی ہے کیونکہ یہ مانا جارہا ہے کہ فیصلہ اب سیاسی سطح پر ہونا ہے۔ اس اشو پر بھارت سرکار نے صاف کردیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے قدم پیچھے کھینچنے کو تیار نہیں ہے۔ سرکار کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی سرحد کے قریب چین کے سڑک بنانے سے بھارت کے فوجی مفادات متاثر ہورہے ہیں۔ ادھر کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے کہا کہ قومی سکیورٹی کے معاملے میں کانگریس سرکار کے ساتھ ہے مگر پارٹی ان معاملوں کو پارلیمنٹ میں اٹھائے گی۔ بھارت اور چین آمنے سامنے ہیں ،دیکھیں کون جھکتا ہے؟
(انل نریندر)

16 جولائی 2017

ہزاروں کروڑ خرچ کرنے کے باوجودگنگا کی صفائی نہیں ہوسکی

مودی سرکار کے تین سال پورا ہونے کے بعد جنتا یہ جاننا چاہتی ہے کہ زور شور سے شروع ہوئی ’نمامی گنگے ‘ یوجنا کا آخر کیا ہوا؟ کتنی صاف ہوئی گنگا؟ سرکار کے خود حقائق اور اعدادو شمار ہوں یا پھر زمینی حقیقت سب کہہ رہے ہیں کہ گنگا پہلے سے بھی زیادہ گندی ہوئی ہے۔ اسکیم کے تحت نئے گھاٹ اور شمشان گھاٹ تو بنے ہیں لیکن سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ بنانے کو لیکر کام بہت سست ہے۔ سستی کا عالم یہ ہے کہ نمامی گنگے یوجنا کے تحت 4031.41 کلو میٹر تک ایس ٹی پی بچھانے کی تجویز تھی جس میں صرف 1147.75 کلو میٹر کا نیٹ ورک ہی بچھایا جاسکا۔ یوجنا صرف 19کروڑ 81 لاکھ 3 ہزار لیٹر پانی کو صاف کرنے کی صلاحیت ہی تیار ہوئی ہے۔ وارانسی شہر میں آج بھی روزانہ نکلنے والی قریب 3 ہزار لاکھ لیٹر سیویج میں 2 ہزار لاکھ لیٹر سیویج 32 نالوں کے ذریعے سیدھے گنگا میں گر رہے ہیں۔ گنگا میں کچرا پھینکنے پرروک ہے لیکن اب بھی کچراپھینکا جارہا ہے اور جانوروں کو نہلایا جارہا ہے نتیجتاً گنگا آلودہ ہوتی جارہی ہے۔ نیشنل گرین ٹربونل (این جی ٹی) نے گنگا کو صاف بنانے کے لئے جمعرا ت کو کئی سخت احکامات جاری کئے۔ اتھارٹی نے کہا کہ گنگا میں کسی بھی طرح کا کچرا پھینکنا 50 ہزار روپے تک کا جرمانہ لگایا جائے گا۔ این جی ٹی نے ہریدوار اور اناؤ کے درمیان 500 کلو میٹر گنگا ندی کے ساحل سے 100 میٹر کے دائرے کو غیرتعمیراتی زون قراردیا ہے۔ فیصلہ کے بعد اس دائرہ میں کسی بھی طرح کی تعمیرات یا ترقیاتی کام نہیں کیا جاسکے گا ایسا کرنے والوں پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ این جی ٹی چیئرمین جسٹس سوتنتر کمار کی قیادت اولی بنچ نے گنگا صفائی کے اشو پر دوسرے مرحلہ میں کہا کہ گنگا میں کسی طرح کا کچرا ڈالنے والے کو50 ہزار روپے ماحولیاتی ہرجانہ دینا ہوگا ساتھ ہی کچرا نپٹان پلان کی تعمیراور دو سال کے اندر نالیوں کی صفائی سمیت سبھی متعلقہ محکموں سے مختلف اسکیموں کو پورا کرنے کے احکامات دئے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کو زندگی دے رہی گنگا 40 فیصد آبادی کو پانی دستیاب کراتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے اس اشو پر 108 بار سماعت ہوچکی ہے لیکن قطعی فیصلہ ابھی تک نہیں ہوسکا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم کیوں نہیں سدھر پارہے؟ 760 سے زیادہ انڈسٹریل گھرانوں سے کچرا جب تک گنگا میں گرتا رہے گاسدھار نہیں ہوسکتا۔ 6 ہزار ہیکٹیئر سے زیادہ زمین کا قبضہ کر ناجائز تعمیرات کی گئی ہیں۔ اکیلے اترپردیش میں این جی ٹی نے کہا یوپی سرکار کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہئے۔ اسے چمڑے کے کارخانوں کو مؤ سے اناؤ کے درمیان چمڑہ یونٹوں یا کسی بھی دیگر مقامات پر ایک ہفتے کے اندر منتقل کرنا چاہئے۔ این جی ٹی نے یوپی اور اتراکھنڈ حکومتوں کو گنگا اور اس کی معاون ندیوں کے گھاٹوں پر دھارمک رسومات اور دیگر عمل کے لئے گائڈ لائنس بنانے کی بھی ہدایت دی ہے۔ انڈسٹریل یونٹوں پر زیرو لکوٹ اخراج اور معاون ندیوں کی آن لائن نگرانی کے بھی احکامات دئے ہیں۔ این جی ٹی نے جمعرات کو کہا کہ سرکار نے گنگا دریا کی صاف صفائی پر پچھلے دو سال میں 7 ہزار کروڑ روپے خرچ کئے ہیں باوجود اس کے یہ سنگین ماحولیاتی اشو بنا ہوا ہے۔ این جی ٹی نے کہا مرکزی سرکار ، یوپی حکومت اور ریاست کے مقامی کارخانوں میں مارچ 2017 ء تک7304.64 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں لیکن ندی کی حالت بدسے بدتر ہوگئی ہے۔ گنگا کی صفائی پر متعلقہ سرکاریں ابھی بھی سنجیدہ نہیں ہیں۔ این جی ٹی بیشک ہدایت دے دے لیکن ان پر عمل تو سرکاروں کو ہی کرنا ہے۔ ناجائز تعمیرات، انڈسٹریل کچرہ اور چمڑہ صنعت کے ذریعے گنگا کے بیجا استعمال پر جب تک سختی سے روک نہیں لگتی گنگا صاف ہونے والی نہیں۔ گنگا کی صفائی محض آلودگی سے نہیں وابستہ ہے یہ ہماری زندگی کی لائف لائن بھی ہے۔
(انل نریندر)

قصوروار لیڈروں کو چناؤ لڑنے پر پابندی بارے سپریم کورٹ سخت

کسی جرم میں عدالت سے قصوروار ٹھہرائے گئے شخص کے چناؤ لڑنے پر تاحیات روک لگانے کے معاملے پر رخ صاف نہ کرنے پر سپریم کورٹ نے چناؤ کمیشن کو بدھ کے روز سخت پھٹکار لگائی اور اس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عدالت ہذا نے کہا کہ اسے اپنا رخ واضح کرنا چاہئے۔ وہ ایسے حساس ترین اشوز پر خاموش کیسے رہ سکتی ہے؟ جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس نوین سنہا کی بنچ نے وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے داخل مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے دوران یہ ریمارکس دئے۔ اپادھیائے نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کر قصوروار شخص کو چناؤلڑنے پر تاحیات روک لگائے جانے کی مانگ کی ہے۔ بنچ نے چناؤ کمیشن کی طرف سے پیش وکیل سے کہا وہ اس پر اپنا رخ صاف کیوں نہیں کرتے کہ وہ دو برس یا اس سے زیادہ کی سزا پائے قصوروار کے چناؤ لڑنے پر تاحیات پابندی لگائے جانے کی حمایت کرتے ہیں کہ نہیں۔ حکومت نے اپنے جواب میں کہہ دیا ہے کہ اس میں عدالت کو دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ عوامی رائے دہندگان قانون میں اس کی سہولت ہے لیکن کمیشن نے اس پر کچھ کہنے سے پرہیز کیا اس نے صرف یہ ہی کہا کہ سیاسی جرائمی کرن کو ختم کرنے کے وہ حق میں ہے۔ چناؤ کمیشن کو حالانکہ سپریم کورٹ نے ایک طرح سے مجبور کرنے کی کوشش بھی کی۔ دیکھتے ہیں کہ اگلی سماعت میں چناؤ کمیشن کیا جواب دیتا ہے؟ لیکن یہ سوال سنجیدہ ہے سزا یافتہ عوامی نمائندوں کو اپنی قید کی میعاد ختم ہونے کے 6 سال تک چناؤ لڑنے پر پابندی ہے۔ عرضی میں اسے ہی تاحیات پابندی میں بدلنے کی مانگ کی گئی ہے۔ ہماری رائے میں سیاست کو جرائم پیشہ سے آزاد کرانا ہے تو قانون میں ایسی ترمیم کرنی چاہئے۔ اگر آج اس اشو پر جنتامیں سروے کرالیا جائے تو اس کے حق میں یقینی طور سے اکثریت کھڑی ہوگی لیکن جہاں تک سیاستدانوں اور پارٹیوں کا سوال ہے وہ ایسی ترمیم نہیں چاہئیں گے ۔ دراصل اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ کوئی بھی پارٹی جرائم پیشہ سے اچھوتی نہیں ہے۔ اس کا اہم مقصد سیٹ جیتنا ہوتا ہے اور اس کے لئے جو بھی امیدوار انہیں سب سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں اسے ہی ٹکٹ دینے میں ہچکچاہٹ نہیں بھلے ہی وہ کرمنل ہو یا نہ ہو؟ ہم سپریم کورٹ کی کوششوں کی تعریف کرتے ہیں لیکن شبہ ہے کہ بڑی عدالت کی بات مانی جائے گی۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...