Translater

17 مئی 2014

کیا راہل گاندھی کانگریس کو درپیش چنوتیوں سے نمٹنے میں اہل ہیں؟

عام چناؤ میں یہ ہی لگ رہا تھا کہ کانگریس پارٹی کی بڑی دردشا ہونی طے ہے اور سب سے تشویش کی بات کانگریس کے لئے یہ ہے کہ 100 سال سے زیادہ پرانی پارٹی کا سیاسی مستقبل اور لیڈر شپ دونوں ہی بھنور میں ہیں۔ یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ اتنی پرانی تاریخی پارٹی کا یہ حشر ہوگا کہ وہ پارٹی چناؤ نتائج میں50 سے کچھ زیادہ سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی ہے۔ اس کے لئے ذمہ دار کون ہے؟ پارٹی کے لیڈروں کا ایک بڑا گروپ نائب پردھان راہل گاندھی کو بچانے کی کوشش میں لگ گیا ہے۔ یہ نیتا چاہتے ہیں کہ ہار کی ذمہ داری راہل پر نہ آئے۔ مگر یہاں سوال کس کی غلطی ہے کس کی نہیں یہ تو ہے لیکن اس سے زیادہ اہم سوال شاید یہ ہے کہ کیا راہل گاندھی سیاست میں دلچسپی رکھتے بھی ہیں یا نہیں؟ کیا وہ کانگریس پارٹی کی لیڈر شپ کو سنبھال پائیں گے؟ پچھلے 10 سال سے اوپر سونیا گاندھی نے یہ ذمہ داری سنبھال رکھی تھی اور انہوں نے تمام مشکلات کے باوجود پارٹی کو صحیح قیادت دی۔ راہل کی دلچسپی اور باتوں پر زیادہ رہتی ہے۔ بدھوار کو سونیا گاندھی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو الوداعی عشائیہ دیا۔ اتنے اہم عشائیہ سے راہل گاندھی غائب رہے۔ ان کی غیر موجودگی موضوع بحث بنی رہی اور قیاس آرائیاں ہوتی رہیں کہ راہل گاندھی بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ اجے ماکن نے راہل گاندھی کی غیر موجودگی پر صفائی دیتے ہوئے کہا راہل شہر سے باہر ہیں اور جمعرات کو لوٹ آئیں گے۔ پارٹی کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کی دلچسپی سیاست میں ہے ہی نہیں اور وہ اکثر فون پر مصروف رہتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے یہ بھی مانا ہے کہ راہل نے کانگریس کے ڈھانچے کو ہی تباہ کردیا ہے۔کانگریس کے کچھ لیڈروں کا خیال ہے کہ راہل گاندھی کی خودساختہ ٹیم نا تجربہ کاراور بنیادی سیاست سے دوری اور سینئر لیڈروں کے تئیں بد اعتمادی نے پارٹی کی یہ حالت کردی ہے۔ ایسی حالت 10 سال تک دیش کی سرکار چلانے کے باوجود ہوئی، ایک ریاست کی متنازعہ وزیر اعلی نے اس پارٹی کو بے بس کردیا جس نے اب تک سنگھ پریوار کے سب سے مقبول ترین لیڈر اٹل بہاری واجپئی کو اقتدار سے ہٹایا تھا۔ یہ ہی نہیں 2009ء میں بھی جیت درج کی اورصدر ، نائب صدر کے چناؤ بھی جیتے۔ اس سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ 2009 کے چناؤ کے بعد اترپردیش میں کانگریس کی واپسی کی زمین تیار ہوگئی تھی لیکن راہل گاندھی کے صلاحکاروں کی سوشل انجینئرنگ اور انتہائی پسماندگی کارڈ نے پہلے اسمبلی چناؤ میں سب کو چوپٹ کردیا رہی سہی کسر لوک سبھا چناؤ میں پوری کردی۔بہار سے جڑے پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر کے مطابق2009 ء میں کانگریس نے بھلے ہی اپنے دم پر وہ سیٹیں جیتیں لیکن ان کا ووٹ فیصد بڑھا اس وقت کے پردیش پردھان انل شرما کی محنت رنگ لانے لگی لیکن تبھی جگدیش ٹائٹلر کو انچارج بنا دیا گیا جس سے پردیش یونٹ میں جھگڑے بڑھ گئے اور نتیجہ کمان محبوب کوثر کو سونپی گئی جنہیں اپنے ضلع کے بارے میں جانکاری تک نہیں تھی اور نتیجہ کانگریس کو درگتی کی شکل میں بھگتنا پڑا اور لوک سبھا چناؤ سے پہلے وہ ایل جے پی میں شامل ہوگئے اور چناؤ لڑے۔ راہل گاندھی کے خود ساختہ مشیروں نے سیاسی پروگراموں کے بجائے نمبروں کا کھیل اور اشتہار و پی آر ایجنسیوں پر ورکروں سے زیادہ بھروسہ کیا۔ کلاوتی سے لیکر بھٹہ پارسول تک انہوں نے جتنی بھی مہم چلائیں انہیں سیاسی پروگراموں میں نہیں بدل سکی۔ راہل بار بار وزیر اعظم یا امیدوار بننے سے انکار کرتے رہے اس سے پارٹی کو نقصان ہوا۔دہلی اسمبلی چناؤ میں اروند کیجریوال اور ان کی عام آدمی پارٹی کو نہ صرف کمتر سمجھا گیا بلکہ اس سے نمٹنے کی کوئی حکمت عملی بھی نہیں بنی۔ اترپردیش سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق پچھلا لوک سبھا چناؤ اترپردیش میں براہمنوں اور مسلمانوں نے کانگریس کو 22 سیٹیں جتانے میں اہم رول نبھایا تھا لیکن اسمبلی چناؤ میں پارٹی میں اس بار پچھڑا واد نہ چلا بلکہ سب سے کم ٹکٹ براہمن اور مسلمانوں کو ملے۔ بلکہ ملائم سنگھ پٹی میں بھی کانگریس نے یادوامیدوار اتارے۔ جن میں زیادہ تر کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ دوسری پارٹیوں سے بلاکر ٹکٹ بانٹنے سے کانگریس ورکر گھر بیٹھ گئے بلکہ کانگریس کی براہمن سیاست سے بھی دوری بنائے رکھی۔ اترپردیش کا انچارج ان مدھو سودن مستری کو بنایا گیا جو غازی آباد اور غازی پور میں فرق نہیں جانتے تھے۔ اب راہل گاندھی، سونیا گاندھی کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈروں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ چناؤ میں اس کراری ہار سے وہ کیسے نمٹیں گے اور مستقبل میں پارٹی کو کس نے کیسے چلانا ہے؟
(انل نریندر)

مہنگائی،پیداوار میں گراوٹ نئی حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہوگا!

دیش کی صنعتی پیداوار میں مسلسل گراوٹ اور بڑھتی مہنگائی اس ماہ کے آخر تک اقتدار سنبھالنے والی نئی سرکار کے لئے اہم چنوتی ثابت ہوگی۔ مرکزی اعدادو شمار دفتر(سی ایس او) کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق صنعتی پیداوار میں مسلسل دوسرے مہینے گراوٹ رہی اور یہ گھٹ کر 0 پوائنٹ فیصدی پر آگئی جبکہ اپریل میں خوردہ مہنگائی بڑھ کر3 مہینوں میں اونچی سطح8.59 فیصدی پر پہنچ گئی۔ پچھلے سال مارچ میں صنعتی پیداوار3.5فیصدی تھی۔ لوک سبھا کے 9 مرحلوں میں چناؤ ہوئے اور جمعہ کو نتیجہ آگیا۔اور اب 21 مئی کو نریندر مودی حکومت سنبھالیں گے۔مودی کیلئے معیشت کو پٹری پر لانا ایک مشکل چنوتی ثابت ہوگی۔ سی آئی آئی کے ڈائریکٹرجنرل چندرجیت بینرجی کہتے ہیں ڈھانچہ بندی اور مینوفیکچر اسکیموں جیسے دہلی ،ممبئی انڈسٹریل کوریڈور پروجیکٹ کو تیزی سے آگے بڑھا کر پالیسی میں شفافیت لاکر سرمایہ کاروں کا بھروسہ لوٹانا ہوگا ۔ ایگزیٹ پول کے نتیجوں سے شیئر بازار میں ایک نئی تیزی ضروری آئی ہے۔ اعدادو شمار کو دیکھیں تو مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ سبزی، پھل اور دودھ کی بڑھی قیمتوں کے چلتے خوردہ مہنگائی 8.59 فیصدی کی سطح پر پہنچ گئی جو تین مہینوں میں سب سے زیادہ ہے۔ بڑھتی مہنگائی کے چلتے ریزرو بینک پر پالیسی ساز شرحوں میں رعایت نہ دینے کا دباؤ بنا رہے گا۔ ریزرو بینک کی ریپوریٹ پالیسی جائزہ میٹنگ3 جون کو ہوگی تب تک نئی سرکار وجود میں آچکی ہوگی اور ترجیحات بھی طے ہوچکی ہوں گی۔ اگر این ڈی اے کی سرکار بنتی ہے تو سب سے بڑی تبدیلی ہمیں اپنی معیشت اور اقتصادی مورچے پر دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ریزرو بینک کے گورنر رگھورام راجن اور فائننس سکریٹری اروند مایا رام نئی سرکار کے نشانے پر ہوں گے۔ایک اہم سیکٹر جہاں نئی سرکار کو آتے ہی فیصلہ کرنا ہوگا وہ ہے بینکنگ سیکٹر۔ سب سے پہلے بینکنگ سیکٹر کے اٹکے ہوئے فیصلے لینے ہوں گے۔ ریزرو بینک نے جو بھاری بھرکم غلطیاں کیں ان سے پیداوار رک گئی ہے۔ جب ڈالر کے مقابلے روپیہ مضبوط ہورہا تھا تو ہم نے ڈالر کا ریزرو اسٹاک نہ کرنے کی بھاری غلطی کی۔ تین سال سے چھ فیصد نیچے چل رہی اقتصادی ترقی شرح کے لئے ٹارگیٹ 10 فیصد ہے اگر یہ ٹارگیٹ پورا ہوتا ہے تب جاکر ترقی نظر آئے گی۔ بتادیں کہ چین میں یہ 7 فیصد سے اوپر ہے۔ دیش کے لئے تشویشناک سیکٹر ہے پیداوار یعنی مینو فیکچرنگ سیکٹر۔ اس کی گروتھ پچھلے سال سے 0.2 فیصدی سے گھٹ کر0.1 فیصدی رہ گئی ہے۔ دو سال پہلے تک یہ 7.5فیصدی تھی۔ افراط زر پالیسی میں دعوے چھ فیصد تک لانے کے تھے لیکن مارچ میں یہ 8.3 فیصدی رہی اس کے چار فیصدی رہنے پر ہی بازار میں چیزوں کے دام متوازن ہوں گے۔ دیش کا ایک بہت اہم سیکٹر ہے زراعت۔ پچھلے سال اس کی گروتھ1.4فیصد کے مقابلے اس بار 4.6 فیصدی ہے لیکن امید زیادہ ہے کیونکہ ڈی جی پی میں اس سیکٹر کی حصہ دار16.9فیصد ہے۔ میں نے کچھ اہم سیکٹروں کا ذکر کیا ہے ایسے درجنوں اقتصادی سیکٹر ہیں جہاں نئی سرکار کو نہ صرف آتے ہی توجہ دینی ہوگی بلکہ غلط پالیسیوں کو ترجیح کے مطابق صحیح کرنا ہوگا اور ان پر عمل کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

16 مئی 2014

مودی سرکارکے امکان سے افسر شاہی میں کھلبلی اور کچھ میں جوش!

مرکز میں مودی کی رہنمائی والی این ڈی اے سرکار بننے کے بڑھتے امکانات نے سینئر افسرکلاس میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک طبقے میں جہاں کھلبلی مچی ہوئی ہے وہیں دوسرے میں جوش کی لہر دوڑ رہی ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں اس اعلی افسر کلاس کی جس میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ اس میں افسر شاہ کیبنٹ سکریٹری ،پی ایم کے پرنسپل سکریٹری اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کے عہدے کے لئے ناموں پرغور و خوض شروع ہوگیا ہے۔ مختلف وزارتوں میں سکریٹریوں میں بھی گھبراہٹ پیدا ہونے لگی ہے۔ نارتھ اور ساؤتھ بلاک میں بیٹھنے والے کئی سیکریٹریوں اور افسر شاہوں نے بھاجپا کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی اور نتن گڈ کری سے ملاقات کی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ مودی سرکار کی نظر ریزرو بینک کے گورنر کے عہدے پر بھی ہے۔ نئی حکومت کے ساتھ کام نہ کرنے کے خواہشمند کئی افسروں نے بیرونی ممالک میں پوسٹنگ کے لئے بھی جوڑ توڑ شروع کردی ہے۔ کیبنٹ سکریٹری کے لئے دیش کے سب سے سینئر افسرستانوبہوریا اورنیشنل سکیورٹی ایڈوئزر کے عہدے کے لئے دو سابق خارجہ سکریٹری کپل سبل اور شام سرن کے ناموں پر غوروخوض چل رہا ہے۔ اس عہدے کے لئے خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ سنجیو ترپاٹھی اور انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر اجیت ڈومال کے نام کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ڈومال واجپئی حکومت میں انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر تھے۔ ذرائع کے مطابق مودی نے کبھی دہلی کی سیاست نہیں کی۔ لہٰذا افسروں میں نجی طور پر وہ کسی کو جانتے نہیں۔ اپنے چیف سکریٹری کے لئے وہ گجرات کے ان افسروں کو چننا چاہیں گے جن کے ساتھ ان کا پراناتعلق ہے۔ دوسری طرف دیش کی سکیورٹی ایجنسیوں میں مودی سر کار کے آنے کے امکان سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔سکیورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد نہ صرف ان کے خالی عہدوں کو بھردیا جائے گا بلکہ سالوں سے اٹکے فیصلے بھی تیزی سے عمل میں آئیں گے۔ سرحدوں کی سلامتی میں لگے آئی ٹی بی پی ،بی ایس ایف، ایس ایس بی کے ساتھ ساتھ سی آر پی ایف میں سینئر افسروں کی بھی خالی آسامیاں پڑی ہوئی ہیں۔ وہیں ممبئی حملے کے بعد تمام کوششوں کے باوجود خفیہ بیورو عملے کی بھاری کمی سے لڑ رہا ہے۔ انٹرنل سکیورٹی سے وابستہ ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ 2008 میں ممبئی حملے کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں کو مضبوط کرنے کے بڑے بڑے وعدے کئے گئے تھے۔چدمبرم کے وزیر داخلہ رہنے کے بعد اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن آہستہ آہستہ ان کوششوں نے بھی دم توڑدیا۔ حالت یہ ہے کہ پچھلے 9 مہینے سے وزارت داخلہ میں اسپیشل سکریٹری (انٹرنل سکیورٹی) کا عہدہ خالی ہے۔ سی آر پی ایف ، بی ایس ایف، آئی ٹی وی پی، ایس ایس بی میں بھی اسی طرح آئی جی ، اے ڈی جی سطح کے درجنوں عہدے خالی پڑے ہیں لیکن ان کے بھرنے کی کوئی کوشش یو پی اے سرکار نے نہیں کی۔وزیر اعظم منموہن سنگھ بار بار نکسلیوں کو انٹرنل سکیورٹی کے لئے سب سے بڑا خطرہ بتاتے ہیں لیکن نکسلیوں کے علاقوں میں موبائل ٹاور لگانے کی وزارت داخلہ کی اسکیم تین سال سے فائلوں سے نکل کر زمین پر نہیں آئی۔ سینئر افسروں کی مانیں تو سیاسی لیڈر شپ کی کمزوری اور مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھنے کی کمی اور قوت ارادی رہی ہے۔اب سب کو امید ہے کہ مودی سرکار نہ صرف اپنی قوت ارادی دکھائے گی اور حالات کو سنجیدگی سے سمجھے گی۔
(انل نریندر)

کاشی کا سیاسی رتبہ امیٹھی، رائے بریلی، الہ آباد سے بالاتر ہونے والا ہے!

نیتا ،اداکار،سیاسی حکمت عملی سازوں سے لیکر غیر ملکی میڈیا تک سب کاشی پہنچے ہوئے ہیں۔دنیا کی سب سے قریب ترین سناتن تہذیب کی اس نگری پر پڑوسی پاکستان سے لیکرچین اور امریکہ تک پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ گنگا ریتی پ چھڑی سیاست کی جنگ کا گواہ بننے کے لئے ہر کوئی بے چین رہا ہے۔غیر ملکی طالبعلموں کے لئے تحقیق کا موضوع بنی وارانسی سوشل میڈیا سے لیکر ملک و غیر ملکی اخباروں کی سرخیاں بنیں اور بن رہی ہیں۔ ادب اور کلچر کی نگری اور دیش کے وزیر اعظم کی پارلیمانی سیٹ بننے جارہی ہے۔ امیٹھی، رائے بریلی، الہ آباد، لکھنؤ جیسے مشہور شہر دیش کی سیاست کے مضبوط گڑھ رہے اس دوڑ میں اب کاشی کے مقابلے میلوں پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔15 دن کے اندربڑے روڈ شو25 سے زیادہ فلمی ستارے، سیاسی پارٹیوں کے 300 سے زیادہ قومی سطح کے لیڈر اور حکمت عملی سازوں اور گھاٹوں سے گلیوں تک ڈیرا ڈالے غیر ملکی میڈیا کی درجنوں ٹیموں نے شہر کی اس بڑی سیاسی حیثیت کی تصدیق کردی ہے۔ حالانکہ رائے بریلی ، امیٹھی، لکھنؤ ، الہ آباد کے مقابلے وارانسی کو یہ سیاسی شہرت حاصل کرنے میں 65 سال لگ گئے۔1952 ء میں شروع ہوئی کوشش 2014ء میں پروان چڑھی۔ بی ایس سی کی تعلیم حاصل کررہی لڑکی شمع کا درد ہے کہ ووٹ ہمیشہ ہندو مسلمان کے نظریئے سے اوپر اٹھ کر کیوں نہیں پڑتا؟ ہمیں امیدوار میں دیکھنا چاہئے وہ عورت کی تعلیم اور ان کی سلامتی کے لئے کیا کرسکتا ہے۔شمع بنارس کی وہ بیٹی ہے جو کٹر پنتھی اور دقیانوسی نظریئے کو توڑ کر آگے بڑھنے کو بیتاب ہے اور وہ نوجوان پیڑھی کی نمائندگی کرتی ہے۔قزاق پورہ کی ایک اور لڑکی شاہین بھی سوال کرتی ہے آخرکب لوگ مسلمانوں کو پسماندہ کہنا بند کریں گے؟شاہین آئی آئی ٹی کی تیاری میں لگی ہے وہ جینس، ٹاپ اور اسکرٹ پہنتی ہے۔ آخر کیا برائی ہے اس میں؟ کاشی کی جنتا نے نریندر مودی کے استقبال میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ اروند کیجریوال کو مایوس کیا اور نہ ہی راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کو مایوس ہونے دیا۔ اس چناؤ کے دوران تمام دباؤ کے باوجود کاشی کے شہریوں نے اپنی صدیوں سے چلی آرہی گنگا جمنی تہذیب کو نہیں چھوڑا۔کاشی ہندو یونیورسٹی میں پالیٹیکل سائنس کے شعبے کی انچارج کوشل مشر کے مطابق 1952ء میں ٹھاکر رگھوناتھ سنگھ نے جواہر لال نہرو کو خط لکھ کر وارانسی سے چناؤ لڑنے کی دعوت دی تھی لیکن نہرو جی نے الہ آباد کو ہی اپنا پارلیمانی حلقہ چنا۔ یہ سلسلہ لال بہادر شاستری سے لیکر اندرا گاندھی تک جاری رہا لیکن کامیابی نہیں ملی ۔1962ء میں رگھوناتھ سنگھ اور 1980ء میں راج نارائن بنام کملا پتی ترپاٹھی کی چناوی جنگ میں وارانسی کو سیاسی سطح پر ضرور مضبوط کیا لیکن وہ مقام نہیں مل پایا جس کا وارانسی کے لوگوں کو ملال تھا۔ 2014ء کے چناؤ میں بھاجپا سے نریندر مودی پی ایم امیدوار بننے اور یہاں سے چناؤ لڑنے کے اعلان سے شہر کی سیاسی اہمیت پھر سے بڑھ گئی۔ پروفیسر مشر کے مطابق اس چناؤ میں شہر کی تہذیب اور معاشرہ دنیا بھر میں پہنچا ہے۔ کاشی کے باشندوں کو نریندر مودی سے بہت امیدیں ہیں۔بابا وشوناتھ اور گنگا کے آشیرواد سے کاشی کے باشندوں کا خواب پورا ہونے جارہا ہے۔ کاشی کا رتبہ رائے بریلی، امیٹھی، الہ آباد اور لکھنؤ سے بھی اونچا ہونے جارہا ہے۔
(انل نریندر)

15 مئی 2014

ایک مضبوط اورپائیدارحکومت بھارت کیلئے انتہائی ضروری ہے

16 مئی کو چناؤ نتائج آنے والے ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ ووٹروں نے بھاجپا کو واضح اکثریت دے دی ہے کیونکہ دیش کو ضرورت ہے ایک مضبوط اور ایک پائیدار سرکار کی۔ جسے باساکھیوں کا سہارا نہ لینا پڑے۔ ہم نے پچھلے دس سالوں میں دیکھا ہے کہ کس طرح کانگریس کو ان کی اتحادی پارٹیوں نے نقصان پہنچایا ہے۔ کانگریس بہت کچھ کرنا چاہتی تھی لیکن اتحادیوں نے ہمیشہ کوئی نہ کوئی روڑہ ضرور اٹکا دیا ہے۔ زیادہ تر گھوٹالوں میں ساتھی پارٹیوں کا ہاتھ تھا لیکن خمیازہ کانگریس کو بھگتنا پڑا۔ ان علاقائی پارٹیوں کا مقصد پیسہ بنانا ہوتا ہے یا اپنے نجی ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ اندر خانے یہ نہیں چاہتے کے بڑی پارٹی پھلے پھولے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کمزور رہے تاکہ ان کی حمایت پر مجبور ہو۔ آج دیش ترقی چاہتا ہے۔ وہ اچھا انتظام چاہتا ہے حال ہی میں ایک سروے آیا تھا آرگنائزر اور لوک سائکو فاؤنڈیشن کے ذریعے380 پارلیمانی حلقوں میں کرائے گئے سروے میں جو اشو ابھر کر سامنے آئے اس میں زیادہ تر میں روزگار، بجلی، سڑک، ہسپتال، پانی جیسی بنیادی سہولیات کی کمی کو اپنی اہم تشویش بتایا۔ ایک بات جو سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آئی وہ تھی دیش کی ترقی اور اچھا انتظامیہ۔ یہ مودی سرکار تبھی مضبوط ڈھنگ سے دے سکتی ہے جب وہ کسی باہری حمایت پر منحصر نہ ہو۔ سب کو ساتھ لیکر چلنا ضروری ہے لیکن ان پر ہر بات کے لئے منحصر ہونا الگ بات ہے۔ دراصل یہ چناؤسرکار نہیں زندگی بدلنے کے لئے ہوئے ہیں۔ سروے کے اس دور میں اب تک کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی ایم پی نے اپنے چناؤ حلقے میں اس بات کے لئے سروے کرایا ہو کہ اس کے علاقے میں کتنے لوگوں کوپینے کا پانی دستیاب ہے؟ کھانے کا سامان سب کو مل رہا ہے یا نہیں؟ روزگار کی حالت کیسی ہے؟ اسکولوں میں تعلیم کا معیار کیسا ہے؟ ٹیچروں اور بچوں کو بنیادی سہولیات مل رہی ہیں یا نہیں؟ ہسپتال میں درکار تعداد میں ڈاکٹر ہیں، دوائیاں ہیں یا نہیں؟ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ایک ایم پی کے پاس اپنے حلقے کو لیکرپوری معلومات بھی نہیں ہوتی۔ ان کی کمی اور جنتا سے دوری کے سبب ایم پی اپنے فرائض سے بالکل لاپرواہ رہتے ہیں اور عوام سے کٹ جاتے ہیں۔ آزادی کے بعد سب سے بڑا مسئلہ بھوک رہی ہے۔ دیش میں اناج کی کمی ہو یا اناج کا ذخیرہ ہو۔اناج بارش میں سڑ جائے لیکن جنتا کو پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا اور لوگ بھوکے سوتے ہیں۔ بہت سے لوگ فاقہ کشی کا شکار ہوتے ہیں، بھوک سے مرجاتے ہیں۔ کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ بڑے دکھ کی بات ہے کہ 16 ویں لوک سبھا چناؤ مہم میں کسی نے کسانوں کی خودکشی کو اشو نہیں بنایا۔ غربت اور بدحالی کی زندگی گزارنے والے لوگوں کی تعداد خوشحال لوگوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ سرکاریں آتی ہیں جاتی ہیں لیکن لوگوں کی زندگی میں تبدیلی نہیں آتی۔ یہ چناؤ عوام کی زندگی کو بدلنے کے لئے ہوا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہو پائے گا جب نریندر مودی ایک مضبوط اور پائیدار سرکار بنا پائیں گے۔جب مودی سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے صاف کہا کہ سرکار بنانے کا بھاجپا کا کوئی پلان نہیں ہے۔بھاجپا کا کہنا ہے کہ ہم ایک مضبوط اور پائیدار سرکار بنائیں گے اور جنتا کی زندگی میں تبدیلی لائیں گے۔
(انل نریندر)

اگر سنگل نمبر پر سمٹ گئے کیجریوال تومستقبل کیا ہوگا؟

عام آدمی پارٹی کا سیاسی مستقبل ادھر میں لٹک گیا ہے۔ دہلی اسمبلی چناؤ میں جس طرح کرشماتی جیت درج کر کیجریوال اینڈ کمپنی نے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی تھی اس سے لوک سبھا چناؤ میں بھی ان سے امیدیں بڑھ گئی تھیں۔ تمام چناؤ جائزوں میں عام آدمی پارٹی کو زیادہ سے زیادہ ووٹ کاٹنے والی پارٹی کا نتیجہ اخذ کیا ہے۔ باقی تو 16 مئی کو ہی پتہ چلے گا لیکن اگر ان چناوی سرووں کی بات کی جائے تو عام آدمی پارٹی سنگل نمبر تک سمٹ سکتی ہے۔ کمار وشواس نے کل ٹی وی پر ایک انٹرویومیں کہا کہ ہم سے کئی غلطیاں ہوئی ہیں۔ ہمیں اتنی جلدی میں دہلی سرکار چھوڑنی نہیں چاہئے تھی۔ جس طریقے سے ہم نے سرکار بنانے میں چھ سات دن لئے تھے، سبھی سے صلاح مشورہ لیا تھا اسی طرح سے ہمیں دہلی سرکار چھوڑنے پر بھی لوگوں کی رائے جاننی چاہئے تھی۔ ایک طرف جو بات کمار وشواس نے کہی وہ یہ تھی کہ ہمیں اتنی زیادہ سیٹوں پر چناؤ نہیں لڑنا چاہئے تھا۔ زیادہ سے زیادہ50 سیٹوں پر چناؤ لڑتے۔ قابل ذکر ہے عام آدمی پارٹی نے تو بھاجپا اور کانگریس سے بھی زیادہ امیدوار کھڑے کر دئے ہیں۔ انگریزی میں جیسے کہا جاتا ہے ’پارٹی اسپریڈ ٹو تھم‘ نتیجہ یہ ہوا کہ اکا دکا سیٹوں کو چھوڑ کر باقی سیٹوں پر چناؤ لڑنے کی بنیادی سہولیت بھی انہیں نہیں مل پائی۔ اب عام آدمی پارٹی کے نیتا کہتے ہیں کہ ہمیں چھ فیصدی ووٹ مل جائیں تاکہ ہم قومی پارٹی کا درجہ پا جائیں۔ ویسے یہ بھی کم کارنامہ نہیں ہوگا اگر ڈیڑھ سال میں عام آدمی پارٹی کو قومی پارٹی کا درجہ مل جاتا ہے تو یہ بھی ایک کارنامہ ہی مانا جائے گا۔ دوسری طرف اگر مرکز میں مودی حکومت بنتی ہے تو عام آدمی پارٹی کے سامنے چوطرفہ چیلنج ہوگا۔ دہلی میں جلد اسمبلی چناؤ کو لیکر عام آدمی پارٹی کو نئے سرے سے حکمت عملی بنانی ہوگی۔ اس کے علاوہ اگر بھاجپا کی جانب سے جوڑ توڑ کر سرکار بنانے کی کوشش کی گئی تو ’آپ‘ کا کنبہ بکھر سکتا ہے۔ ویسے بھی پارٹی کے اندر بغاوت کی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے بانی ممبر اور قومی کونسل کے نمائندے اشونی اپادھیائے اور 2400 ان لوگوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے اور اشونی روز کیجریوال سے تلخ سوال کررہے ہیں جن کا آج تک کیجریوال نے کوئی جواب نہیں دیا۔ قومی پس منظر میں بیشک ان سوالوں کی اتنی اہمیت نہ ہو لیکن چناؤ نتائج آنے کے بعد کبھی نہ کبھی تو کیجریوال کو ان سوالوں کا جواب دینا ہی ہوگا۔ کمار وشواس اور اروند کیجریوال کے درمیان اختلافات کی خبر آرہی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر عام آدمی پارٹی کی کارکردگی اچھی نہیں رہتی تو کمار وشواس کیجریوال کے قیادت کو بھی چیلنج کرسکتے ہیں۔ پہلی بار ہی 434 سیٹوں پر امیدوار اتار کر سرخیوں میں آئی عام آدمی پارٹی کی چناؤ مہم وارانسی اور امیٹھی تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال ابتدائی دور میں گجرات ، مہاراشٹر، ہریانہ، پنجاب او ر دہلی میں ہی روڈ شو کر پائے اس کے بعد وہ وارانسی تک سمٹکر رہ گئے۔ ’آپ‘ کے سینئر لیڈر منیش سسودیہ، سنجے سنگھ،گوپال رائے بھی کیجریوال کے ارد گرد رہے۔ کسی بڑے نیتا نے دوسرے پارلیمانی حلقے میں زور شور سے چناؤ کمپین نہیں کی۔ یہاں تک کہ سبھی ’آپ‘ کے ایم ایل اے وارانسی کے اکھاڑے میں کود گئے۔چناؤ میں مالی طور سے بھی کسی بھی امیدوار کی مدد نہیں کی گئی ایسے میں تمام امیدواروں نے ووٹنگ سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دئے۔ اگر مرکز میں مودی کی سرکار بنتی ہے تو بھاجپا میں دوگنا جوش پیدا ہونا فطری ہے۔ اس بات کا اندیشہ عام آدمی پارٹی کو بھی ہے۔ جوڑ توڑ میں ماہر بھاجپا کے ایک ممبر اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عام آدمی پارٹی کے آدھا درجن ایم ایل اے بھاجپا کے اس ممبر اسمبلی کے رابطے میں ہیں۔ ویسے 16 تاریخ کو چناؤ نتیجے آنے کے بعد بھی پارٹی اپنے ممبران اسمبلی کو چناؤ کے لئے تیار کرے گی اس لئے بہت کچھ منحصرکرتا ہے 16 مئی کو آنے والے چناؤ نتائج پر ۔ کیجریوال اینڈ کمپنی کا مستقبل ان پر ٹکا ہوا ہے۔
(انل نریندر)

14 مئی 2014

ایگزٹ پول 2014: اب کی بار مودی سرکار

16 ویں لوک سبھا کیلئے چناؤ ختم ہوگیا ہے، ایگزٹ پول بھی آگئے ہیں۔ جیسی امید تھی ایگزٹ پول ویسی پوزیشن دکھا رہے ہیں۔ بی جے پی۔ این ڈی اے کو کم سے کم249 (ٹائمس ناؤ) اور سب سے زیادہ نیوز 24،ٹوڈے، چانکیے(340) دکھا رہے ہیں۔ انڈیا ٹو ڈے+ سی آئی سی آر او261-283 ،اے بی پی + نیلسن 272، سی این این ۔آئی بی این+ سی ایس ڈی ایس 270-282 ، انڈیا ٹی وی+ سی ووٹر289 ۔ ہم ان ایگزٹ پول کی پختگی کے تنازعے میں نہ پڑتے ہوئے یہ کہنا چاہیں گے کہ ایسا لگتا ہے اگلی سرکار مودی کی سرکار بننے جارہی ہے۔ نمبروں کا کھیل16 مئی کو صاف ہوجائے گا۔ یہ چناؤ کچھ باتوں کے لئے یاد رکھا جائے گا۔ تاریخ میں سب سے زیادہ مرحلوں میں ہوئے اس چناؤ میں مجھ سے کوئی پوچھے تو میں کہوں گا کہ اس میں نہ تو ذات پرستی چلی اور نہ ہی دبنگی۔ پورے چناؤ کا ایک ہی اشو تھا نریندر مودی یا ’آپ‘۔ نریندر مودی کو اقتدار میں لانے کے لئے لڑ رہے تھے یا انہیں روکنے کے لئے۔ عوام نے مودی کی کھل کر حمایت کی۔ کئی جگہوں پر تو ووٹروں کو یہ تک پتہ نہیں تھا کہ وہ جس امیدوار کو ووٹ دے کر آئے ہیں اس کا نام کیا ہے؟ جب ان سے پوچھا گیا تو یہ ہی کہا کہ ہم نے مودی کو ووٹ دیا ہے۔ کمل پر بٹن دبایا یہ کہنے میں کسی کو قباحت نہیں ہے کہ نریندر مودی نے اپنے کندھوں پر بھاجپا کی پوری مہم چلائی۔ پورے چناؤ کاذمہ مودی پر تھا ورنہ کشمیر سے کنیا کماری تک علاقائی پارٹیوں کے لئے بھی وہی اشو نہ بنتے۔ مودی پورے چناؤ میں حاوی رہے۔ اپنی حریف پارٹیوں کے دل و دماغ پر بھی اور حمایتیوں کے جذبے پر بھی۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ روایتی طور سے بھاجپا کے لئے کمزور رہے مغربی بنگال میں بھی ممتا بنرجی کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کوجم کر سب سے زیادہ تلخ حملہ بھاجپا اور مودی پر کرتی رہیں۔ دوسری طرف کانگریس نے چناؤ میں اس بار اپنے نئے پردھان راہل گاندھی پر ہی پورا داؤ لگادیا۔ کمپین میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کا بہت محدود رول رہا۔ انہوں نے کچھ ریلیوں کو ہی خطاب کیا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بھی کئی جگہ ریلیاں کیں لیکن ان کی سرگرمی پچھلے چناؤ کی بہ نسبت کم رہی۔ پارٹی مہم کی ایک خاص خوبی یہ ضرور رہی کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی صاحبزادے پرینکا واڈرا امیٹھی اور رائے بریلی حلقوں تک محدود رہنے کے باوجود دیش بھر میں اپنی چھاپ چھوڑ گئیں۔چناوی مہم کی پوری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لیتے ہوئے راہل گاندھی نے دیش کے مختلف حصوں میں 100 سے زیادہ ریلیاں اور 7 روڈ شو کئے جن میں لوگوں کی کافی سانجھے داری بھی دکھائی دی۔ ویسے کانگریس کا تو پرانا جھگڑا ہے جیتی تو راہل جیتیں گے اور ہاری تو کانگریس پارٹی ہاری۔’ بڑے بے آبرو ہوکے تیرے کوچے سے ہم نکلے‘ میں بات کررہا ہوں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی۔ سنا ہے وہ آج کل روزانہ 30 سے35 فائلیں نمٹا رہے ہیں۔ ان کی سرکاری رہائش گاہ 7 ریس کورس روڈ سے نئے بنگلے میں سامان پہنچایا جارہا ہے۔ 16 مئی کے بعد ان کا نیا بنگلہ3 موتی لال نہرو مارگ ہوگا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو تاریخ ان کے غیر ملکی دوروں اور بے بسی کے لئے یاد رکھے گی۔ ان کی میعاد میں گھوٹالوں نے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ مہنگائی بالا سطح پر پہنچی، بے روزگاری ، لاچاری بڑھی ہے۔ 81 سالہ منموہن سنگھ اور ان کے تمام وزرا اپنے اپنے دفتروں کو خالی کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

کرپٹ افسروں کے خلاف جانچ سے پہلے منظوری کی سہولت غیر آئینی

چناؤ کی ہلچل میں سپریم کورٹ کا ایک اہم دور رس فیصلہ اپنی چھاپ چھوڑنے والا ہے کیونکہ کچھ معنوں میں یہ ایک تاریخی فیصلہ ہی ہوگا۔ یہ کرپٹ افسروں سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے پچھلے منگل کو اپنا فیصلہ دیا کے کرپشن کے معاملے میں جوائنٹ سکریٹری یا اس سے اوپر کے اعلی افسر کے خلاف جانچ سے پہلے مجاز افسر سے منظوری لینے کا قانونی جواز ناجائز اور غیر آئینی ہے۔ عدالت ہذا نے کہا کہ اس میں کرپٹ شخص کو سرپرستی دینے کا ٹرینڈ ہے۔ چیف جسٹس آر ۔ ایم لوڈھا کی سربراہی والی پانچ نکاتی آئینی بنچ نے دہلی پولیس اسٹیبلشمنٹ قانون کی دفعہ6-A کے جواز پر غور کے بعد یہ فیصلہ دیا۔ بڑے عہدوں پر بیٹھ کر کرپشن میں ملوث افسروں کو بڑا جھٹکا ہے۔ دیش کی سپریم عدالت کی آئینی بنچ نے اس کوچ کو بھی ختم کردیا ہے جس کی آڑ میں اعلی افسر اپنے کرپٹ کارناموں کوڈھیٹ پن سے چھپا لیا کرتے تھے۔ عدالت نے دہلی پولیس اسپیشل اسٹیبلشمنٹ ایکٹ کی دفعہ6-A کو امتیازی اور غیر انصافی سسٹم بتایا جو نہ صرف کرپٹ لوگوں کے لئے کوچ کا کام کرتی تھی بلکہ آئین کی دفعہ 14 کی مریادا کی بھی خلاف ورزی کرتی ہے۔ اس میں قانون کی نظر میں سبھی کے لئے برابری کی گارنٹی دی گئی ہے۔ بڑے افسروں کے خلاف سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سی بی آئی کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے کی سمت میں اہم قدم تو ہے ہی اس کا اثر سرکار کی پالیسی ساز فیصلوں پر بھی دکھائی پڑ سکتا ہے۔ سرکار کی طرف سے یہ دلیل دی جارہی ہے کیونکہ جوائنٹ سکریٹری اور اس کے اپر سکریٹری پالیسی تعین کے عمل اور فیصلوں سے وابستہ ہوتے ہیں اس لئے ان کے خلاف کسی بھی طرح کی جانچ کے لئے اجازت ضروری ہے مگر سوال یہ ہے کہ جن پالیسیوں کے سبب بڑے گھوٹالوں کے راستے کھلتے ہیں اس کے لئے ذمہ دار افسروں کے خلاف بغیر کسی دباؤ کے جانچ کیوں نہیں ہونی چاہئے؟ سرکار کی یہ بھی دلیل تھی کئی بار افسروں کے خلاف شکایت کی جاتی ہے اس دلیل کو بھی بے بنیاد نہیں قرار دیا جاسکتا لیکن آخر کارتھونپی شکایتوں سے صرف سینئر افسر ہی کیوں محفوظ رہیں؟ کیا ایسے جواز اور برابری کے اختیار کی کھلی نہیں اڑاتے؟ سینئر افسروں کے خلاف جانچ میں آڑے آ رہے غیر قانونی جواز کو طے کرنے میں جس ڈیڑھ دہائی سے بھی زیادہ لمبا عرصہ لگا اچھا اشارہ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں وقت رہتے فیصلہ آگیا ہوتا تو کرپشن سے لڑنے میں کہیں زیادہ مدد ملی ہوتی۔ حقیقت میں جب تک سی بی آئی کو سیاسی دخل اندازی سے آزاد نہیں کیاجاتا یہ امید نہیں کی جاسکتی وہ غیر جانبدار ہوکر کرپشن یا دوسرے مجرمانہ معاملوں کی جانچ کر پائے گی۔ موجودہ عام چناؤ میں بھی کرپشن ایک بڑا اشو بن کر ابھرا ہے مگر لاکھ ٹک کا سوال ہے کیا نئی حکومت چاہے وہ جس پارٹی کی ہو یا محاذ کی ہو سی بی آئی کو اپنے کنٹرول سے آزاد کرنا چاہے گی۔ جس طرح سے یوپی اے نے سی بی آئی کو اپنے سیاسی حریفوں کوان کے ہر الٹے سیدھے کام میں مدد کرنے پر مجبور کیا سب جانتے ہیں۔
(انل نریندر)

13 مئی 2014

56 روزہ چناوی جنون میںسبھی پارٹیوں نے اپنا سب کچھ جھونکا!



16 ویں لوک سبھا چناؤ کے لئے پانچ ہفتے سے زیادہ وقت تک9مرحلوں کے چناوں کے لئے کمپین زور شور کے ساتھ سنیچر کو ختم ہوگئی تھی۔ یہ 56دن تک چلی ووٹ کی رسہ کشی اور اقتدار کی چابی پانے کی خاطر ووٹروں کو اس مرتبہ سیاسی جنون شباب پر رہا۔ کئی نئی چیزیں دیکھنے کو ملی، تنازعات کی جھایاں پڑی اور کبھی نہ بھولنے والے واقعات کے لئے یہ عام چناؤ یاد رکھاجائے گا۔ یہ جنونی سفر 5اپریل سے شروع ہوا تھا۔ جو کمپین کی طرف سنیچر شام کو 6 بجے تھمنے کے بعد ختم ہوگیا۔ سبھی پارٹیوں کے لیڈر سکون لے سکیں گے۔ کیونکہ اب نہ تو دھوپ میں ووٹ مانگنے کی اپیل کرنی ہوگی اور نہ کوئی ریلی اور نہ کوئی روڈ شو۔کئی معنوں میں یہ چناؤ تاریخی ثابت ہوگا۔ چوراہے پر کھڑی ہندوستان کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ آسکتا ہے۔ ویسے تو صحیح نتیجہ 16 مئی کوآئیں گے لیکن اگر شیئر بازار پر یقین کیا جائے تو این ڈی اے اقتدار میں آرہا ہے۔ ہندوستانی شیئر بازاروں نے جمعہ کے روز سارے ریکارڈ توڑ ڈالیں بازار صبح سستی کے ساتھ اور فلیٹ کھلے لیکن اس کے بعد اس نے شاندارپڑھت دکھائی۔ خبر تو یہ آئی کہ بازار کو 12مئی کے ایگزٹ پول کی آہٹ مل گئی یہ پول کرنے والی ایجنسیوں نے اپنے ڈیٹا لیک کردیئے۔ ان کے مطابق مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں سرکار بنتی دکھائی دے رہی ہیں یہ وجہ تھی تمام کمزوریوں کے باوجود بازار میں غیرمتوقع اچھال دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اور سیبی کے انڈیکس نے 650نمبروں کی چھلانگ لگائی جب کہ این ایس ای کا لفٹ بھی 198.95 نمبروں کے ساتھ اچھال کے بعد نئی بلندی پر پہنچ گیا۔ یہ چناؤ اب تک کے سب سے خرچیلے چناؤ رہے ایک اندازہ کے مطابق صرف مہم میں تیس ہزار کروڑ روپے خرچ ہوگئے اس کے پیچھے کئی وجوہات ہے میں اس کے لئے سب سے زیادہ ذمہ دار چناؤ کمیشن کو مانتا ہو ۔ چھ ہفتے میں ہوئے چناؤ خرچ میں اضافہ ہوناہی تھا اگر یہ چناؤ ایک ماہ میں کرا دیئے جاتے تو ایک تہائی خرچ کم ہوجاتا۔ بھارت کی آبادی اتنی بڑھ گئی ہے کہ سبھی امیدوار عوامی رابطے کرنے پر مجبور ہے اس لئے ٹی وی جیسے ذرائع ا بلاغ کو ترجیح دی گئی جس میں ایک ہی بار زیادہ سے زیادہ لوگوں تک چناؤ مہم ہوسکے اس بار نہ تو ہمیں پوسٹر نظر آئے اورنہ ہی پینر ایک آدھ ہورڈنگ ضرور دکھائی پڑی۔ مہنگائی کی وجہ سے دس سال پہلے جس آئٹم پر ہزار روپے خرچ ہوتے تھے اب دس ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ہیلی کاپٹروں اور گاڑیوں اور ورکروں پر بھی اسی حساب سے خرچہ بڑھا ہے۔ نریندرمودی نے پہلی بار تھری ڈی تکنیک کااستعمال کیاہے سونیاگاندھی نے تمام نیوز چینلوں پر ایک ہی وقت پر اشتہار دے کر دیش کو خطاب کیا اس بار بی جے پی کی جانب سے نریندر مودی نے ون مین شو کیا۔ ستمبر سے ہی انہوں نے اپنی چناؤی کمپین کاآغاز کردیاتھا جب تک باقی میدان میں آتے وہ فل فارم آچکے تھے اس میرتھن کمپن میں مودی نے 25ریاستوں میں 3لاکھ کلو میٹر سے زیادہ گھوم کر ریلیوں سے خطاب کیا اور 350 تھری ڈی ریلیاں ، 4827 پبلک پروگرام اور 4ہزار چائے پروگرام میں شامل ہوئے۔ یہ ایک نیا باب چناؤ کو دیکھنے کو ملا۔ وہ تھا سوشل میڈیا۔ بھارت میں جاری عام چناؤ میں سوشل میڈیا سیکٹر میں 3 فیس بک ،ٹوئٹر اور گوگل میں اہم رول نبھایا سیاسی پارٹیاں اور میڈیا کے ذریعے تو اپنی بات پہنچا رہے تھے وہی اپنا پیغام بھی ٹیلی کاسٹ کرنے کے لئے ان سوشل سائیڈ پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ بھی مقابلے میں رہے حالانکہ ان کا چناؤ پر پڑنے والا اثر بھی صحیح آئیڈیا تو 16مئی کو نتیجہ آنے کے بعد ہی لگ سکے گا چناؤ کمپن کا گرتا معیار کافی تشویش چھوڑ گیا ہے سیاست میں اخلاقیاتی ساری حدود ٹوٹی اور ذاتی اور پبلک میں چناوی مدعے بنے مودی کی بیوی سے لے کر راہل پرینکا تک نجی معاملے اٹھے۔ دگوجے سنگھ کی ذاتی زندگی بھی پبلک میں چھائی رہی اب تک چناؤ کمپن میں بھی تاریخ بنی کہ عموماً بڑے لیڈر بھی ایک دوسرے کے خلاف امیدوار اتارتے تھے اورنہ ہی ان کے گڑ میں چناؤ پرچار کے لئے زیادہ نہیں جاتے تھے لیکن اس مرتبہ سیاسی دنگل میں یہ سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے راہل کے گڑھ میں مودی برسے۔مودی کے گڑھ میں راہل برسے۔ دونوں کے گڑھ میں اس چناؤ میں عام آدمی پارٹی ایک مضبوط سیاسی پارٹی کی شکل میں ابھر کر سامنے آئی۔ وسائل کی کمی کے ساتھ پارٹی کے امیدواروں نے جم کر لڑائی اور ٹکر دی۔ اس چناؤ میں زبان کا اتنا گھٹیا طریقے سے استعمال ہوا کیا بتائیں کوئی تو مودی کی بوٹی بوٹی کررہا تھا۔ تو کوئی مودی کی مخالفت کرنے والوں کو پاکستان بھیج رہاتھا۔ کوئی کہتا تھا کہ راہل گاندھی دلتوں کے گھر میں جا کر ہنی مون بناتے ہیں اور تو کوئی کتے کے بچے سے لقب سے نوازتا رہا۔ اس چناؤمیں ریئل ٹائم کوریج کا نیادور دیکھنے کو ملا۔ پہلے لوگ اپنے شہروں میں بڑے لیڈروں کی ریلیوں میں تقریریں سننے کے لئے جایا کرتے تھے لیکن اس بار ریلیوں کے کوریج سے حالات بدلیں اور ریئل ٹائم کوریج نے ان ریلیوں کا حساب کتاب بدلا۔ اور نیتاؤں نے بھی اس کااستعمال اسی طرح کیا ایگزٹ پول کا ٹیلی کاسٹ ہوگا اس بارے میں جمعہ کو کنفوزن ضرور ہوگیا تھا چناؤ کمیشن ایم ایس برما نے کہا کہ ایگزٹ پول 16مئی سے پہلے ٹیلی کاسٹ نہیں ہوسکتے جب کہ اس دن گنتی ہوگی۔ قاعدے کے مطابق چناؤ کے تمام مرحلے کے ختم ہونے کے بعد یہ ایگزٹ پول دکھائی جاسکتے ہیں۔ ان کے اس بیان پر کچھ دیر کے لئے الجھن ضرور کھڑی ہوئی۔ بعد میں چیف الیکشن کمیشن وی ایس سمپت نے ترمیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاعدے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور پہلے کی طرح 12مئی کو آخری مرحلہ ختم ہونے کے بعد شام 5 بج کر 30 منٹ کے بعد کبھی بھی ٹیلی کاسٹ ہوسکتا ہے۔ کئی معنوں میں یہ چناؤ تاریخی بھی رہا ہے۔ موصولہ اشاروں سے نئی سرکار ممکن ہے اور دیش کو ایک نئی سمت ملے گی چناؤ کمیشن مسلسل سیاسی پارٹیوں کے نشانے پر رہا ہے ریلیوں میں چناؤ کمیشن کے ساتھ مخالف کی طرح برتاؤ کیاگیا ہے ممتا بنرجی، جے للیتا نے جہاں چناؤ کمیشن کی طاقت کو چنوتی دی وہی نریندر مودی نے اس کی غیر جانب داری پر سوال اٹھائے۔ کل ملا کر دیش کا یہ سب سے بڑا پروو امن کے ساتھ گزر گیا ہے اس کے لئے چناؤ کمیشن و سیکورٹی فورسیز مبارک باد کی ضرورت مستحق ہے۔
 (انل نریندر)

11 مئی 2014

بابا وشوناتھ کی کاشی میں چناؤ نہیں کروکشیتر کایدھ ہے(2)...

بابا وشوناتھ کے اس تاریخی شہر کاشی میں صرف چناؤ نہیں ہورہا یہاں تو کروکشیتر کا یدھ ہو رہا ہے۔ایک طرف ہے بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی تو دوسری طرف باقی امیدوار ہیں۔بنارس کی جنگ میں نام واپسی کے بعد چناوی میدان میں 42 امیدوار میدان میں ہیں لیکن42 یودھااکیلے نریندر مودی سے لڑ رہے ہیں۔ لوک سبھا کے آخری مرحلے کے لئے بھاجپا نے اپنے سارے داؤ کھیلنے شروع کردئے ہیں۔ مودی کیلئے اب آخری جنگ شروع ہوچکی ہے۔ان کے مشن272+ کی ساری امیدیں اب 12 مئی کے چناؤ پر ٹکی ہیں۔دراصل پارٹی کیلئے سب سے بڑی چنوتی اترپردیش کی باقی سیٹیں ہیں جن میں سب سے اہم بنارس ہے۔ ما گنگا اور بنارس سے پرانا ناطہ ہے اور ماں گنگا نے بلایا ہے، جیسے جملوں سے کاشی واسیوں کے دل میں جگہ بنانے والے نریندر مودی اب برانڈ بنارس کی بات کرتے نظر آئیں گے۔ بھاجپا نے گذشتہ دنوں مودی کے سپنے پر مبنی ویژن بنارس ڈاکومینٹ جاری کیا۔ نریندر مودی نے گورووار کو ممبئی، دہلی، چنڈی گڑھ کی طرز پر بنارس کو ترقی دینے کا وعدہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اس شہر کو بھی مستقل معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے۔ مودی نے کاشی سے جڑاؤ، گنگا سے لگاؤ کے ساتھ وکاس کے تئیں جھکاؤ ظاہر کرتے ہوئے ووٹروں سے سمرتھن مانگا۔ روہنیا ودھان سبھا حلقے کے جگت پور میں مودی نے کہا کہ ان کے پاس کاشی کے وکاس کا ایجنڈا ہے۔ بینیا باغ میں سبھا کی اجازت نہیں ملنے کے بعد لنکا پر صبح کیا گیا شکتی پردرشن شام کو کاشی کی سڑکوں پر کیسریا سیلاب بن کر امڑ پڑا۔بی ایچ یو کے دروازے پر واقع مالویہ کی مورتی پرشیش نوا کراپنے مرکزی چناؤ دفتر کے لئے چلے نریندر مودی کے استقبال کیلئے پوری کاشی سڑک پر اتر آئی۔ شام6.05 بجے سے بنارس ہندو یونیورسٹی سے چلا مودی کا قافلہ رات قریب سوا نو بجے بھاجپا دفتر پہنچا۔25 منٹ کا یہ راست ہ بھیڑ کی وجہ سے ساڑھے تین گھنٹے میں طے ہوپایا۔ بھلے ہی بھاجپا نے روڈ شو کی اجازت نہیں لی ہو لیکن بی ایچ یو سے مرکزی چناؤ دفتر تک چلے قافلے کے سواگت کے لئے پارٹی نے سڑک کے دونوں جانب کیسریا جوان اتار دئے۔ مودی نے روہنیا کی سبھا میں خود کو کسانوں، بنکروں، غریبوں، بے روزگاروں کے کھیون ہار کے طور پر پیش کیا۔ کٹر ہندو وادی نیتا کی چھوی کے الزاموں سیابھرنے اور گنگا جمنی تہذیب کے شہر سے دل کا ناطہ جوڑنے کا ان کا جدا انداز لوگوں کادھیان اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔ بھیڑ کے بیچ منچ پر نیتا جی سبھاش چندر بوس کے قریبی کرنل نظام الدین کے پیر چھو کر بڑوں کے سنمان کے تئیں اپنی نیک نیتی ظاہر کی تو شہنائی کے جادوگر استاد بسم اللہ خاں کی گنگا کے تئیں گہری آستھا کا بکھان کر دور کی کوڑی کھیلے۔ قریب103 سال کی عمر میں چلنے پھرنے سے معزور ہو چکے کرنل نظام الدین کو کچھ لوگ گود میں اٹھا کر منچ پر لے گئے۔ مودی نے ان کا پیر چھوکر جب آشیرواد لیا تو بھیڑ میں کھڑے لوگ چہرے کا پسینہ پوچھنے کے بجائے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔آٹھویں مرحلے کا چناؤ مکمل ہوچکا ہے اب آخری مرحلے میں پوربی اترپردیش کی 18 اوربہار کی6 سیٹوں پر چناؤ ہونا ہے۔ان سیٹوں پر بھاجپا نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔مودی نے یہاں پرپرینکا گاندھی واڈراکے بیان پر اپنے کو پچھڑی جاتی کا بتا کر اپنی پکڑ دلت اور پچھڑی جاتیوں میں بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس کا فائدہ بھی مل سکتا ہے پچھڑی جاتیاں سماجوادی پارٹی کی طرف اور دلت بہوجن سماج پارٹی کا مضبوط ووٹ بینک ہے۔ اس کی وجہ سے بھاجپا کو ہرانے کے لئے مسلم سپا یا بسپا کوایک ساتھ ووٹ کرسکتا ہے۔ بھاجپا ایک طرف نمو لہر کے سہارے بنارس سیٹ پر بھاری جیت کا دعوی کررہی ہے وہیں جاتی کی بنیاد پرووٹوں کے گنابھاگ کو بھی دیکھ رہی ہے۔ چناؤ انتظامات سے جڑے ایک سینئر نیتا نے بتایا کہ چناؤ میں جاتی سمیکرن حاوی رہے ہیں۔اس کے آگے وکاس اوربہتری کے دعوے بھی اثر نہیں کرتے۔ سینئر بھاجپا نیتا ارون جیٹلی نے کہا کہ بنارس میں جنتا کو طے کرنا پڑے گا کہ ان کا نمائندہ کون ہوگا۔ ایک طرف ہونے والے پردھان منتری نریندر مودی ہیں تو دوسری طرف مختار انصاری کے ذریعے حمایت یافتہ کانگریس امیدوار اجے رائے۔ دراصل وارانسی کی سیٹ محض ایک سیٹ نہیں ہے بلکہ دیش کے مستقبل اور پرتشٹھا کا بھی سوال ہے۔اروند کیجریوال اگر وارانسی میں ووٹروں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ میں جھولی پھیلا کر بھیک مانگنے آیا ہوں تو اس کے پیچھے ایک وجہ ہے۔دراصل کیجریوال کی ساکھ ہی نہیں عام آدمی پارٹی کا مستقبل بھی اس پر منحصر ہے۔ دوسری جانب وارانسی کے ووٹر محض ایک امیدوار کو نہیں چن رہے وہ دیش کے ہونے والے پردھان منتری کو چن رہے ہیں۔میں یہ بات اب کہہ رہا ہوں نریندر مودی کی ۔آر ایس ایس ، بھارتیہ جنتا پارٹی سبھی کا وقار کاشی پر ٹکا ہے۔وارانسی میں آر ایس ایس نے بھی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں باہر سے آئے سیوم سیوک گھر گھر جاکر ووٹ مانگ رہے ہیں اور کانگریس کے پاس ایسا پرچار کرنے کے لئے مناسب تعداد میں کارکن بھی نہیں ہیں۔ کانگریس کو تو راہل کے 10 مئی کے روڈ شو کے لئے سیوا دل کے کارکن باہر سے بلانے پڑے ہیں۔ بنارس میں ایک نجی گجرات بھی بستا ہے۔ یہاں کا چوکھمبا علاقہ گجراتیوں سے بھرا پڑا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق 400 سال پہلے گجرات سے روزگار کی تلاش میں آئے لوگ یہاں بس گئے۔ چوکھمبا علاقے میں گجراتیوں کی سب سے گھنی آبادی والی گلیوں کا جال ہے اور 50 ہزار سے زیادہ گجراتی یہاں رہتے ہیں۔ نریندر مودی یہ بھی بتانے میں چوک نہیں کرتے کے گجرات میں بسے مسلمان دیش کے سب سے مالدار مسلمان ہیں۔ مودی نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناجائز طور سے دیش میں بسے بنگلہ دیشیوں کو بھی نکال باہر کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ انہوں نے پشچمی بنگال کی مکھیہ منتری ممتا بنرجی سمیت سبھی اپوزیشن نیتاؤں پر ووٹ بینک کی راج نیتی کے چلتے بنگلہ دیشیوں کا سواگت کرنے کا الزام لگایا جس سے ممتا تلملا اٹھی ہیں اور مودی کو گالیاں دے رہی ہیں۔ وارانسی میں نیا اتہاس بننے جا رہا ہے۔ بھگوان شیو کے اس تاریخی شہر کاشی میں عام چناؤ نہیں ہورہا بلکہ کروکشیتر کی لڑائی چل رہی ہے۔ یہاں نریندر مودی بنام سب کی اس لڑائی میں ہمیں تو کوئی شبہ نہیں کہ مودی ہی بھاری بہومت سے جیت درج کریں گے اور باقی سبھی کی رن نیتی دھری دھرائی رہ جائے گی۔وہ بیشک چاہے کتنے ہی چکرویو رچیں نریندر مودی ان چکرویو کو بھید کر وجئی رہیں گے۔ باقی تو چناؤ ہے دیکھیں16 مئی کو ای وی ایم مشینوں سے کیا نتائج نکلتے ہیں۔(ختم شدہ)
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...