Translater

07 دسمبر 2024

سکھبیر بادل پر جان لیوا حملہ

سری اکال تخت صاحب کے ججوں نے سکھبیر بادل کو مذہبی سزا دے کر بڑا اعلان کیا ہے، جنہیں سری اکال تخت صاحب میں تنکھیا قرار دیا گیا تھا، اور اس وقت کی کابینہ میں شامل وزراء کو۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور آنجہانی لیڈر پرکاش سنگھ بادل کو دیا گیا۔ نے فقرِ قوم کا اعزاز واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ان کے بیٹے سکھبیر بادل کو بھی مذہبی سزا دی گئی۔ دراصل یہ معاملہ گرمیت سنگھ رام رحیم سے متعلق ہے۔ سری اکال تخت صاحب کے جتھیدار گیانی رگھوبیر سنگھ نے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ سری اکال تخت صاحب سے بننے والی پارٹی مسائل سے ہٹ کر بات کرنے لگی ہے۔ درحقیقت، جس وقت پنجاب میں گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کے واقعات ہوئے، اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل تھے۔ سری اکال تخت صاحب کے جتھیدار گیانی رگھوبیر سنگھ نے کہا، سکھبیر سنگھ بادل نے اس جرم کا اعتراف کیا ہے کہ اس نے جتھیدار صاحبان کو اپنی رہائش گاہ پر بلایا اور گرمیت رام رحیم پر معافی کے لیے دباؤ ڈالا۔ اس کام میں آنجہانی وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل بھی شامل تھے۔ کور کمیٹی کے ارکان بشمول سکھبیر سنگھ بادل اور 2015 میں کابینہ کے رہنما 3 دسمبر کو دوپہر 12 بجے سے 1 بجے تک باتھ رومز کی صفائی کریں گے۔ اس کے بعد وہ لنگر گھر میں غسل کرے گا اور خدمت کرے گا۔ بعد ازاں سری سکھمنی صاحب کی تلاوت ہوگی۔ سکھبیر سنگھ بادل دربار صاحب کے باہر نیزہ لے کر بیٹھیں گے۔ انہیں اپنے گلے میں ایک تختی پہننا ہو گی جس میں انہیں تنخائیہ قرار دیا جائے گا۔ اسی دوران جب سکھبیر سنگھ بادل دربار صاحب کے باہر لانس لے کر بیٹھے تھے تو ان پر جان لیوا حملہ ہوا۔ بدھ کی صبح خالصتان کے حامی دہشت گرد نے سکھبیر کو مارنے کی کوشش کی۔ سادہ کپڑوں میں تعینات پولیس کے اے ایس آئی کی چوکسی کی وجہ سے وہ محفوظ رہا۔ اے ایس آئی جسبیر سنگھ نے دہشت گرد کا ہاتھ پکڑ کر پستول اٹھالیا۔ جس کی وجہ سے گولی دیوار سے ٹکرا گئی اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔ پولیس اہلکاروں نے دہشت گرد نارائن سنگھ چوڑا کو موقع پر ہی پکڑ لیا۔ دریں اثناء سی ایم بھگونت مان نے بادل پر حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ڈی جی پی سے رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ بنیاد پرست تنظیم دل خالصہ سے وابستہ چوڑا گورداسپور کے ڈیرہ بابا نانک کا رہنے والا ہے۔ اس کے ببر خالصہ انٹرنیشنل (BKI) اور خالصہ لبریشن فورس (KLF) سے بھی روابط ہیں۔ شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر بادل دوسرے دن صبح 9 بجے گولڈن ٹیمپل کے دروازے پر وہیل چیئر پر اکال تکش کی طرف سے توہین کے الزام میں سزا کے طور پر۔ وہ بیٹھ کر پہرہ دے رہے تھے۔ دہشت گرد چودہ کئی گھنٹوں تک ادھر ادھر دندناتے رہے۔ تقریباً 9.30 بجے وہ موقع پا کر سکھبیر کے سامنے آیا اور اپنی جیب سے پستول نکال لیا۔ اس سے پہلے کہ وہ فائرنگ کرتا، اے ایس آئی جسبیر نے اسے پکڑ لیا۔ اس جھگڑے کے دوران چودہ نے ایک گولی چلائی جو دیوار میں جا لگی۔ بادل کو زیڈ پلس سیکیورٹی حاصل ہے۔ اس حملے کے پیچھے ابتدائی تحقیقات کے دوران، پولیس کو ببر خالصہ انٹرنیشنل (BKI) اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی ISI سے معلومات ملی ہیں۔ ایک سینئر افسر نے کہا کہ سکھبیر پر یہ حملہ علیحدگی پسندی کے ارادے کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا، تاکہ نہ صرف ریاست کا امن خراب ہو سکے۔ بلکہ حملے کے ذریعے بنیاد پرست خالصتانی اور علیحدگی پسند نظریہ کو غالب ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ -انل نریندر

بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کی کوشش

مہاراشٹر کے سولاپور ضلع کے مالشیراس اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے دیہاتیوں کا ایک گروپ بیلٹ پیپر کے ذریعے دوبارہ پولنگ پر اصرار کر رہا تھا، لیکن پولیس انتظامیہ کی مداخلت کے بعد انہوں نے منگل کو اپنا منصوبہ منسوخ کر دیا۔ اس سیٹ سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے جیتنے والے امیدوار، این سی پی-ایس پی نے یہ سنسنی خیز جانکاری دی۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ انہوں نے گاؤں والوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ ووٹ ڈالنے کے اپنے منصوبے پر آگے بڑھے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل، سولاپور ضلع کے مالشیرس علاقے کے مرکاڑواڑی گاؤں کے رہائشیوں نے بینر لگائے تھے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ 3 دسمبر کو دوبارہ پولنگ ہوگی۔ اس کے لیے انہوں نے بیلٹ پیپرز بھی چھاپے تھے اور چاہتے تھے کہ بیلٹ پیپر سے دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔ تاکہ انہیں ای وی ایم کے نتائج سے ملایا جاسکے۔ یہ گاؤں مالشیراس اسمبلی حلقہ کے تحت آتا ہے۔ یہاں سے این سی پی امیدوار اتم جانکر نے بی جے پی کے رام ستپوتے کو 13,147 ووٹوں سے شکست دی۔ الیکشن کے نتائج کا اعلان 23 نومبر کو ہوا اور جنک اس سیٹ سے جیت گئے۔ عام طور پر صرف ہارنے والا امیدوار ہی ای وی ایم کے نتائج کو چیلنج کرتا ہے۔ یہاں جیتنے والے امیدوار کے ووٹروں نے ای وی ایم کے نتائج کو چیلنج کیا؟ مارکواڑی کے باشندوں نے دعویٰ کیا کہ جانکر کو ان کے گاؤں میں ستپوتے سے کم ووٹ ملے، جو ممکن نہیں تھا۔ مقامی لوگوں نے ای وی ایم پر شک ظاہر کیا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ مالشیرس کے سب ڈویژنل افسر (ایس ڈی ایم) نے انڈین سول ڈیفنس کوڈ کی دفعہ 163 (قبل ازیں 144) کے تحت پولیس کی گرفتاری جاری کی ہے تاکہ کچھ مقامی لوگوں کے دوبارہ پولنگ کے منصوبے کی وجہ سے کسی بھی تنازعہ یا امن و امان کی صورتحال سے بچا جا سکے۔ علاقے میں 2 سے 5 دسمبر تک امتناعی احکامات نافذ کر دیے گئے۔ منگل کی صبح گاؤں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی کیونکہ کچھ گاؤں والوں نے بیلٹ پیپر کے ساتھ دوبارہ پولنگ کے انتظامات کیے تھے۔ ڈی ایس پی نارائن شرگاؤںکر نے کہا کہ ہم نے گاؤں والوں کو قانونی طریقہ کار کی وضاحت کی اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایک ووٹ بھی ڈالا گیا تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ماہر نے بتایا کہ پولیس انتظامیہ کے رویہ کو دیکھتے ہوئے گاؤں والوں نے ووٹنگ کا عمل روکنے کا فیصلہ کیا۔ "تاہم، ہم دوسرے طریقوں سے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے،" انہوں نے کہا۔ ہم سب اس معاملے کو الیکشن کمیشن اور عدلیہ تک لے جانے کی کوشش کریں گے اور جب تک ہمیں انصاف نہیں مل جاتا ہم نہیں رکیں گے۔ اس سے قبل مقامی رہائشی رنجیت نے دعویٰ کیا تھا کہ ووٹنگ کے دن گاؤں میں 2000 ووٹر تھے اور ان میں سے 1900 نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ گاؤں نے ماضی میں بھی ہمیشہ جانکر کی حمایت کی ہے، لیکن اس بار ای وی ایم کے ذریعے کی گئی گنتی کے مطابق، جانکر کو 843 ووٹ ملے، جب کہ بی جے پی کے مہیوتے کو 1003 ووٹ ملے۔ یہ ممکن نہیں ہے اور ہمیں ای وی ایم کے ان اعداد و شمار پر بھروسہ نہیں ہے، اس لیے ہم نے بیلٹ پیپرز کے ذریعے دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا تاکہ ای وی ایم میں دھاندلی کو بے نقاب کیا جاسکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر کے دیگر گاؤں میں بھی اس طرح کے ووٹنگ کے منصوبے چل رہے ہیں۔ یہ ای وی ایم کی بھروسے کو ظاہر کرتا ہے۔

05 دسمبر 2024

مہاراشٹر میں ای وی ایم پر بڑھتا واویلا !

مہاراشٹر میں ای وی ایم مشینوں اور ان کے ذریعے نکلے اسمبلی چناو¿ نتائج پر واویلا بڑھتا ہی جارہا ہے ۔اب تو مہاراشٹرکے کئی جگہوں پر جنتا اور امیدوار سڑکوں پر اتر آئے ہیں ۔راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے چیف شردپوار نے الزام لگایا ہے کہ مہاراشٹر میں پوری چناوی مشینری کو کنٹرول کرنے کے لئے اقتدار اور پیسے کا بیجا استعمال جو ہوا ہے وہ پہلے کبھی کسی اسمبلی یا قومی چناو¿ میں نہیں دیکھا گیا ۔پوار نے یہ بیان 90 برس سے اوپر کی مدھو سماج سیوی باندہ اٹھاو¿ سے ملاقات کے دوران کیا ۔بابا اٹھاو¿ مہاراشٹر میں حال ہی میں ہوئے اسمبلی چناو¿ میں مبینہ طور سے ای وی ایم کے بیجا استعمال کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں ۔سما ج سدھارک جوتیوا پھولے کے گھر اپنا تین روزہ مظاہر ہ کیا ۔شردپوار نے کہا دیش میں حال ہی میں ہوئے چناو¿ ہیں اور لوگوں میں انہیں لے کر بے چینی ہے۔بابا اٹھاو¿ کا آندولن اسی بے چینی کی نمائندگی کرتا ہے ۔لوگوں میں یہ آہٹ ہے کہ مہاراشٹر میںحال ہی میں ہوئے چناو¿ میں اقتدار کا بیجا استعمال اور بھاری تعداد میں پیسے کا استعمال ہوا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔مقامی سطح کے چناو¿ میں ایسی باتیں سننے کو ملتی تھیں لیکن پیسے کی مدد سے پوری چناوی مشینری پر قبضہ اور اقتدار کا بیجا استعمال پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔لوگ سورگیہ سماج وادی وچارک جے پرکاش نارائن کو یاد کر رہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ کسی کو آگے آکر قدم اٹھانا چاہیے ۔قدم اٹھا لیا گیا ہے ۔مہاراشٹر میں ہار کا سامنا کرنے والے اتحاد مہاوکاس اگھاڑی کے امیدواروں نے اپنے اپنے حلقوں میں ای وی ایم اور ووٹر ویریفکیشن پیپر آڈٹ ٹول یونٹوں کے ویریفکیشن کی مانگ کا فیصلہ لیا ہے ۔کئی ہارے ہوئے امیدواروں نے سپریم کورٹ کے ای وی ایم کی ویریفکیشن کے فیصلہ کی بنیاد پر چناو¿ کمیشن میں ای وی ایم کی کنٹرول یونٹ پر پھر گنتی کرانے کی اپنی مانگ کی عرضی دائر کر دی ہے ۔شوشل میڈیا میں دعویٰ کیا جارہا ہے درجنوں ہارے ہوئے امیدواروں نے پھر سے گنتی کی اپیل دائر کر دی ہے۔اکیلے بارامتی سے ہارے ہوئے امیدوار پوار کے بھتیجے نے بھی 9 لاکھ روپے فیس جمع کر دی ہے ۔مہاراشٹر میں کئی اور دیگر درجنوں امیدواروں نے بھی ایسا ہی کیا ہے ۔جمہوریت میں شکایتوں کی ویریفکیشن ہونا ضروری ہے اور چناو¿ کمیشن کو اس میں پورا تعاون کرنا چاہیے ناکہ خانہ پوری کرکے چھٹکارہ پانے کی کوشش کرین ۔ممبئی کے شیو سینا ایک ممبر اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ ڈالے گئے ووٹ اور ای وی ایم میں گنے گئے ووٹ کی تعداد میں غلطیاں ہیں ۔ممبر اسمبلی نے کہا کہ سبھی امیدواروںنے ای وی ایم کے طریقہ کار پر شبہ جتایا ہے ۔مراٹھی کے ایک اخبار لوک نیتی نے 95 اسمبلی حلقوں کی ایک فہرست باقاعدہ چھانپی ہے جہاں پر چناوی دھاندلی کے الزام لگ رہے ہیں ۔ووٹوں کی مش چیک کاالزام رہے ہیں ۔چناو¿ کمیشن نے ان الزامات کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ چناو¿ کمیشن ہر سوال کا جواب دے گا ۔دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ۔ (انل نریندر)

کیا کانگریس سخت فیصلے لینے میںاہل ہے ؟

پہلے ہریانہ ،اب مہاراشٹر میں اسمبلی چناو¿ میںزبردست ہار کے بعد کانگریس نے اس کی وجوہات پر منتھن کیا اور مانا کہ آپسی رسہ کشی اورتنظیمی کمزوری کے ساتھ ساتھ کسی کی جوابدہی واضح نا ہونے سے پارٹی کی یہ درگتی ہوئی ہے ۔ساتھ ہی ای وی ایم پر بھی شبہ کا اشو بھی اٹھا ۔کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں پرستاو¿ پاس کر الزام لگایاگیا کہ آزاد اور منصفانہ چناو¿ آئینی مینڈیٹ ہے ۔لیکن چناو¿ کمیشن کا جانبدارانہ طریقہ پر سنگین سوال اٹھ رہے ہیں ۔پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ سماج کے کئی طبقوں میں مایوسی اورخدشات بڑھے ہین ۔پارٹی صدر ملکا ارجن کھڑگے نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب پرانا ڈھرا نہیں چلنے والا ہے ۔پارٹی نیتاو¿ں کو بغیر سوچے سمجھے ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنے سے باز آنا ہوگا ۔ہمیں فوراً چناو¿ نتیجوں سے سبق لیتے ہوئے تنظیمی سطح پر اپنی کمزوریوں اور خامیوں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔یہ نتیجے ہمارے لئے صاف پیغام ہیں ۔کھڑگے نے لوک سبھا چناو¿ میں بہتر پرفارمنس سے کانگریس کے حق میں بنے ماحول کے باوجود ہریانہ اور مہاراشٹر میں ہار کو تعجب خیز بتایا اور کہا کہ صرف 6 مہینے پہلے نتیجے آئے تھے اس کے بعد ایسے نتیجے کیا اسباب ہیں ۔ہم ماحول کا فائدہ نہیں اٹھاپاتے؟ ملکا ارجن کھڑگے ،ہریانہ مہاراشٹر ،چھتیس گڑھ ،مدھیہ پردیش اورراجستھان سے تبدیلی کی شروعات کرسکتے ہیں۔اگر وہ صحیح معنون میں کانگریس تنظیم کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔راہل گاندھی ،پرینکا گاندھی اور خود کھڑگے بیشک ماحول تیار کریں اس کا فائدہ تبھی ملے گا جب کانگریس تنظیم اس منفی ہوا کو بھنا سکے گی۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ان تین نیتاو¿ں کو چھوڑ کر باقی کانگریسی اب محنت کرنے کے عادی نہیں رہے اور زمین پر اترنے کو تیارنہیں ہیں اور جنتا کے جذبات سے کٹ چکے ہیں ۔ہائی کمان کے قریبی لوگ چاہے من چاہے ٹکٹوں کا بٹوارہ کرتے ہیں یہ بھی کہا جاتا ہے ٹکٹوں کی فروختگی ہوتی ہے ۔پارٹی کو اس سے چھٹکارہ دلانا ہوگا وہ تنظیم منتری ہی کیا جو آج تک ضلع صدر بلا ک صدر ،بوتھ صدر تک نہیں بنا سکے ؟ چھتیس گڑھ اور راجستھان میںہار کے قریب چھ مہینے گزر چکے ہیں لیکن پارٹی ابھی تک ان ریاستوں میں جواب دہی طے کرتے ہوئے تبدیلی نہیں کر پائی ہے ۔دونوں ریاستوں میں پردیش کانگریس صدر اپنے اپنے عہدوں پر بنے ہوئے ہیں۔ہماچل پردیش ،اڈیشہ میں پارٹی پردیش ورکنگ کمیٹی کو بھنگ کر چکی ہے لیکن کافی کوششوں کے نام پر پردیش کانگریس کے اندر گروپوں میںرضامندی نہیں بن پارہی ہے ایسے میں پارٹی جوابدہی طے کرنے کی ہمت رکھتی ہے تو اسے پارٹی کے اندر کافی مخالفت کاسامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ پردیش مشینری تبدیلی کے لئے تیار نہیں ہے ۔مہاراشٹر میں بھی پارٹی کے نئے پردیش کانگریس صدر کی تقرری کرتے ہوئے انچارج کو بھی بدلنا ہوگا۔پردیش صدر نانا پٹولے اور پردیش انچارج رمیش نتھلا دونوں کے خلاف اندر اندر ناراضگی ہے ۔ہریانہ چناو¿ نتائج کو دو ماہ سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے پارٹی نے ابھی تک ہار سے کوئی سبق نہیں لیا ہے ۔آپسی گروپ بندی کی وجہ سے پارٹی اسمبلی میں نیتا تک اتنے دنوں کے بعد طے نہیں کرپائی ۔کانگریس کا اوپر سے نیچے تک اوور ہال کرنا ضروری ہوگا لیکن سوال ہے کہ کیا ملکا ارجن کھڑگے جی ایسا کر سکتے ہیں؟ (انل نریندر)

03 دسمبر 2024

کیااسارائیل اور حزب اللہ جنگ رک گئی ہے !

7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر آتنکی حملے کے چلتے پورے مغربی ایشیا میں بے چینی پھیلانے کے بعد قریب 14 مہینے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کی پہل پر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے۔اسرائیل حماس کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہی شمالی سرحد پر حملہ شروع کیا تھا ۔امریکہ اور فرانس کے مشترقہ بیان میں کہا گیا تھا کے اس سمجھوتے سے لبنان میں جار ی جنگ رکیں گی ۔اور اسرائیل پر بھی حزب اللہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے حمکے کا خطرہ ٹل جائے گا ۔جنگ بندی کے کوششیں آخر رنگ لائیں اور دنیا نے چین کا سانس لیا حالانکہ یہ جنگ بندی کتنی دیر تک چلیں گی اس پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے ویسے تو جنگ بندی کی کوشش کئی مہینے سے چل رہی تھی ۔لیکن نتن یاہو نہیں مان رہے تھے اب جب حزب اللہ نے اسرائیل کے حوش ٹھکانے لگا دئے تو نتن یاہو جنگ بندی پر مجبور ہو گئے ۔اور اس میں کئی شرطیں طے ہوئی ہیں ۔پہلی وجہ بتائی گئی ہے کے اسرائیلی کیمپ فورسیس کو حزب اللہ سے دور رکھنے اور اران کے بڑھتے خطرے کو فوکس کرنے کی ضرورت تھی ۔دوسرے اسرائیل ان کی فوجی کارروائیوں میں ہتھیار اور جنگ کی ساز سامان وصولی میں تاخیر کو مانا ہے یعنی اسرائیل کے پاس ہتھیاروں کا زخیرہ ختم ہو گیا اور پھر سے سپلائی کو پورا کرنے کے لئے وقت چاہئے ۔اسی وجہ سے جنگ کے میدان سے حزب اللہ کو کنارے کر حماس کو الگ تھلگ کرنا یہ یوں کہا جائے حزب اللہ نے اسرائیل کو ٹھکانے لگا دیا ہے اور اس نے اپنے وجود کو بچانے کے لئے گٹنے ٹیک دئے ہیں ادھر لبنان میں حزب اللہ کے چیف نعیم قاسم نے بتایا کے اس سمجھوتے سے حزب اللہ نے میدان جیت لیا ہے اور لبنان کے لوگوں نے حزب کے کام کی تعریف کی ہے انہوںنے کہا ہم جیتے کیوں کے دشمن کو حزب اللہ کو تباہ کرنے سے روک دیا ہے ۔دوسرے کیوں کے جاریت کو ختم کرنے سے نیوکلیائی ہتھیار کے استعمال سے بھی روک دیا ہے۔فلسطین کے لئے ہماری حمایت جاری رہے گی ہم نے بار بار کہا کے ہم جنگ نہیں چاہتے ہیں اور غزہ کی حمایت کرنا چاہتے ہیں اور اگر اسرائیل جنگ تھوپتا ہے تو ہم اس کے لئے تیار ہیں ۔لبنان کا کہنا ہے کے اکتوبر 2023 سے لیکر اب تک 3961 لبنانی شہری مارے گئے ہیں ۔اسرائیل کی جانب سے جاری سرکاری تعداد کے مطابق حزب اللہ کے ساتھ بھی جنگ میں اس کے 82 فوجی 47 شہری مارے گئے ہیں ۔ادھر اسرائیلی فوج نے کہا اس کی جنگی جہازوں نے ایک روکٹ زخیرہ پر حزب اللہ کی سرگرمیوں کا پتا لگانے کے بعد جنوبی لبنان پر گولہ باری کی اور یہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد پہلا حملہ تھا اس سے سوال اٹھ رہا ہے کے کیا اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ رکی ہے؟ویسے اس جنگ بندی کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے اور امید کی جانی چاہئے یہ سلسلہ آگے بڑھے اور حماس اور اسرائیل میں بھی جنگ بندی ہو جائے اور یہ جنگ رک جائے۔ (انل نریندر)

مہاراشٹر میں سرکار تشکیل میں پھنسا پینچ!

مہاراشٹر چناﺅ کے نتیجے آئے8 دن ہو چکے ہیںاور 25 نومبر تک سرکار کی تشکیل ہونا ضروری تھی ۔مگر ایسا نہیں ہوتا تو قائدے کے مطابق صدر راج لگ سکتا تھا ۔لیکن اتنے دن گزر جانے کے بعد مہایوتی اتحاد نہ تو سرکار بنانے کا دعویٰ پیش کر سکا اور نہ ہی سی ایم طے کر سکا ۔مہاراشٹر کا اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا؟ممکن ہے ایک دو دن میں یہ طے ہو جائے ۔پینچ کہا پھنسا ہے؟مہاراشٹر میں سرکار کے قیام سے پہلے مہایوتی میں وزیراعلیٰ اور محکموں کے بٹوارے پر رضا مندی نہیں پن پائی ۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے گھر پر جمعرات کو دیر رات 3 گھنٹے میٹنگ ہوئی لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو پایا ۔بتایا جاتا ہے سارا پینچ ایکناتھ شندے کو لیکر پھنسا ہے ان کے حامی کہتے ہیں کے مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ ایکناتھ شندے کی قیادت میں لڑا گیا تھا اس لئے ان کو ہی وزیراعلیٰ کی کرسی ملنی چاہئے ۔وہیں بھاجپا نیتا کا خیال ہے مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ میں بھاجپا سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے تو وزیراعلیٰ اسی کا ہونا چاہئے۔قائدے سے یہ بات ٹھیک ہے سب سے بڑی پارٹی کا ہی وزیراعلیٰ ہوتا ہے ۔اسمبلی چناﺅ میں ایکناتھ شندے نے محنت تو بہت کی ہے اور ان کی کئی اسکیمیں رنگ لائی ہیں ۔ان کی قیادت میں ہی چناﺅ لڑا گیا تھا تو وزیراعلیٰ کے عہدے پر ان کا حق بنتا ہے لیکن بھاجپا تیار نہیں ہے ۔ایکناتھ شندے ناراض ہوکر اپنے گاﺅں چلے گئے ۔اور وہاں بیٹھے ہوئے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ادھر بھاجپا میں بھی کس کو وزیراعلیٰ بنانا ہے اس پر الجھن کی حالت بنی ہے ۔ایک گروپ دویندر فڈنویس کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتا ہے کیوں کے ان کو آر ایس ایس کی بھی حمایت ہے لیکن بھاجپا کے اندر ایک گروپ اس کی مخالفت کر رہا ہے اور کہنا ہے کے ایک برہمن کو وزیراعلیٰ بنایا تو او بی سی ،مراٹھا ووٹر ناراض ہو جائے گا ۔سماجی تجزیہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔اس لئے کسی دیگر مراٹھا نیتا کی تلاش جاری ہے لیکن بی جے پی قیادت کی گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہے ۔ایکناتھ شندے کو پوری طرح سے بھاجپا لیڈر شپ نظر انداز نہیں کرنا چاہتی اس کی خاص وجہ پچھلے ڈھائی سال سے ایکناتھ شندے نے مہاراشٹر کی کمان سنبھالی ہوئی ہے ان کے پاس کئی ایسی جانکاریاں ہوگی جن کے پتہ چلنے سے بھاجپا لیڈر شپ کو نقصان ہو سکتا ہے اگر شندے کے خلاف لیڈر شپ کے پاس فائل تیار ہے تو شندے کے پاس بھی سارے کارناموں کی فائل ہوگی۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کے مرکز میں شیو سینا (شندے گروپ)کے ساتھ ایم پی ہیں جو بھاجپا سرکار کو حمایے دیں رہے ہیں ۔کہیں اس جھگڑے میں وہ اپنی حمایت واپس نہیں لے لیں اور مرکزی حکومت کمزور ہو جائے ۔کل ملاکر ہمیں لگتا ہے ترپ کے پتے ایکناتھ شندے کے ہاتھ میں ہیں ۔دیکھیں اونٹھ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...