Translater

16 مارچ 2024

ہریانہ میں قیادت کی تبدیلی !

لوک سبھا چناو¿ سے عین پہلے ہریانہ میں بھاجپا اور جن نائک جنتا پارٹی کا اتحاد ٹوٹنا ان چونکا دینے والے غیر متوقع فیصلوں کی کڑی میں نیا باب ہے جو پچھلے کافی عرصے سے بھاجپا کی مرکزی لیڈرشپ کا طریقہ کار بن گیا ہے ۔چاہے راجستھان ہو ،بہار ہو یا مدھیہ پردیش ، مختلف ریاستوں میں اپوزیشن پارٹیوں کے نیتا جس طرح بھاجپا کے تئیں راغب ہو رہے ہیں وہ بھاجپا کی چناوی تیاری اور سنجیدگی کو دکھاتا ہے ۔تازہ واقعہ ہریانہ کا ہے ۔ہریانہ کی سیاست میں منگل کے دن کی شروعات بھاجپا و جن نائک پارٹی اتحاد میںدرار اور وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹرکے استعفیٰ کے خبر کے ساتھ ہوئی ۔دوپہر تک کھٹر باہر ہو گئے ۔ریاست بھاجپا صدر و کروکشیتر سے ایم پی کو نیا وزیراعلیٰ اعلان کر دیا گیا ۔اس سے ایک دن پہلے ہی نریندر مودی نے کھٹر کی جم کر تعریف کی تھی ۔اس کے باوجود بھاجپا لیڈر شپ نے انہیں کیوں بدلا یہ سوال بحث کا موضوع بناہوا ہے ۔اسمبلی پارٹی کی میٹنگ میں خود منوہر لال کھٹر نے اگلے وزیراعلیٰ کیلئے نائب سنگھ سینی کے نام کی تجویز رکھی ۔ہریانہ میں یہ واقعہ وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعے گروگرام کے ایک پروگرام میں ہریانہ کی ترقی کیلئے کھٹر اور ان کے نظریہ کی تعریف کرنے کے ایک دن بعد ہوا۔گروگرام کے پروگرا م میں وزیراعظم نے دوارکہ ایکسپریس وے ،ہریانہ ڈویژن کے آغاز میں بتایا کہ کیسے وہ اکثر کھٹر کی موٹر سائیکل پر پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر روہتک سے گڑ گاو¿ں ،اب گوروگرام تک سفرکرتے تھے ۔چھوٹی سڑکیں تھیں لیکن آج پورو گوروگرام علاقہ ایکسپریس وے سمیت کئی اہم قومی شاہراہوں سے جڑ گیا ہے ۔جو وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر کی ترقی پسند ذہنیت کو دکھاتا ہے ۔آج وزیراعلیٰ کی قیادت میں ہرہریانہ کے باشندے کے مستقبل محفوظ ہے ۔ہریانہ کے باشندوں کا مستقل بے شک محفوظ ہو لیکن خود کھٹر صاحب کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کا اپنا مستقبل 24 گھنٹے میں بدلنے والا ہے ۔اس پورے واقعہ میں اگر کوئی پھنسی ہے تو وہ جن نائک پارٹی کے صدر و سابق نائب وزیراعلیٰ دشینت سنگھ چوٹالہ ہیں ۔اتحاد میں ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو مات دینے کے لئے چل رہے شہ مات کے کھیل میں آخر کار جن نائک پارٹی نیتا اور سابق نائب وزیراعلیٰ دشینت سنگھ چوٹالہ بھاجپا کے چکرویوہ میں پھنستے چلے گئے ۔جچپا کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے آناً فانًا میں منوہر لال کھٹر نے استعفیٰ دے کر پورا کھیل ہی پلٹ دیا۔نا تو سرکاری طورر سے اتحاد توڑنے کا الزام لگا اور نہ ہی جن نائک پارٹی کا ساتھ الٹے پانچ ممبران اسمبلی کو بھاجپا نے کھینچ لیا ہے ۔اور دشینت کے لئے اپنی پارٹی کے ہی ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ساڑے چار سال پہلے بنی پارٹی پر اب بحران کے بادل چھائے ہوئے ہیں ۔بھاجپا کے ہریانہ امور کے انچارج بلپ دیو میں ایک سال پہلے ہی صاف کر دیا تھا چناو¿ میں بھاجپا جن نائک پارٹی کے ساتھ نہیں چلے گی ۔باوجود اس کے دشینت چوٹالہ بھاجپا ہائی کمان کے رابطے میں رہے اور اتحاد میں کھٹ پٹ چلتی رہی ۔سب سے بڑا سیاسی بحران دشینت چوٹالہ کے سامنے آنے والا ہے ۔حالانکہ وہ اعلان کر چکے ہیں کہ ریاست کی دسوں سیٹ پر وہ اپنے امیدوار اتاریں گے ۔اتحاد توڑنے کے بھاجپا کے پاس اور بھی کئی پہلو تھے ۔ (انل نریندر)

چناو ¿ سے ٹھیک پہلے سی اے اے نافذ کرنے کا سوال!

شہریت ترمیم قانون (سی اے اے) لائے جانے کے قریب ۴ سال بعد پیر کے روز مرکزی وزارت داخلہ نے اسے نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ۔جب یہ قانون بنایا گیا تھا تب اس کے خلاف کافی لمباپر امن احتجاج ہوا تھا ۔شاید اسے نوٹیفائی کرنے میں اتنی دیری کے بعد لانے کے پیچھے ایک دلیل یہ ہو سکتی ہے کہ سرکار چاہتی تھی کہ دوبارہ اس مسئلے پر دیش میں اس طرح کے حالات نہ بنیں جیسے چار سال پہلے بنے تھے ۔مرکزی سرکار کے اس فیصلے پر پورے دیش سے ملے جلے رد عمل آرہے ہیں ۔لیکن سب سے تلخ رد عمل مغربی بنگال اور آسام سے آیا ہے ۔جب 2019 میں قانون بنا تھا اس وقت بھی دو نوں ہی ریاستوں میں اس کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے ۔مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے تلخ رد عمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ سی اے اے بنگال میں دوبارہ تقسیم اور دیش سے بنگالیوں کو نکالنے کا کھیل ہے ۔ترنمول کانگریس کے علاوہ لیفٹ پارٹیوں نے بھی اسے چناوی لالی پوپ قرار دیا ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ اگر شہریت قانون کے ذریعے کسی کی شہریت جاتی ہے تو میں اس کی سخت مخالفت کروں گی ۔اور سرکار کسی بھی قیمت پر ایسا نہیں ہونے دے گی ۔ممتا نے کہا یہ بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔ان کا سوال تھا کہ یہ قانون سال 2020 میں پاس کیا گیا تھا تو اب سرکار نے چار سال بعد لوک سبھا چناو¿ سے عین پہلے اسے نافذ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا ؟ وہیں نارتھ 24 پرگنا سمیت دوسرے اضلاع میں پھیلے متوا فرقہ نے اس پر خوشی جتائی ہے ۔اور جشن منایا ہے ۔متوا فرقہ کے لوگ لمبے عرصے سے اس کی مانگ کررہے تھے ۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا جائز ہے کہ ممتا بنرجی ریاست میں سی اے اے اور این آر سی لاگو ہونے کی پہلے سے ہی مخالفت کرتی رہی ہیں ۔اور ان کی دلیل متوا فرقہ کے لوگ پہلے سے ہی ہندوستانی شہری ہیں اگر نہیں تو انہوں نے اب تک چناو¿ میں بی جے پی کو ووٹ کیسے دیا تھا۔ایسے میں ان کو دوبارہ شہریت کیسے دی جا سکتی ہے ۔پردیش کانگریس صدر ادھیر رنجن چودھیر نے بھی اس قانون کو نافذ کرنے کے وقت پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخر اسے چناو¿ سے پہلے کیوں لاگو کیا گیا ۔صاف ہے اس کا مقصد چناوی فائدہ اٹھانا ہے اور دوسری طرف سی پی ایم کے سیکریٹری محمد سلیم نے اسے وزیراعظم نریندر مودی اورممتا بنرجی کے درمیان ملی بھگت کا نتیجہ بتایا ہے ۔اخباری نمائندوں سے بات چیت میں ان کا دعویٰ تھا کہ ممتا محض دکھاوے کے لئے اس قانون کی مخالفت کررہی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ مرکز نے مذہبی بنیاد پر پولارائزیشن کرنے کے لئے چناو¿ سے ٹھیک پہلے اس قانون کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ الیکٹرول بانڈ سے پیدا دھماکوں حالات سے جنتا کا دھیان ہٹانے کیلئے اس قانون کو لایا گیا ہے ۔ادھر بی جے پی صدر سکان مجندار کہتے ہیں کہ مرکزی حکومت نے ہمیشہ اپنے وعدے پورے کئے ہیں اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے لوک سبھا چناو¿ سے پہلے ہی سی اے اے لاگو کرنے کابھروسہ دیا تھا ۔اب یہ وعدہ پورا ہو گیا ہے ۔اس قانون سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔چناوی فائدہ یا نقصان جو بھی حساب کتاب ہو یہ امید کی جانی چاہیے کہ سبھی فریق اس مسئلے پر سنجیدگی اور تحمل بنائیں رکھیں گے ۔اور مظاہرے بے شک کریں لیکن قانون و انتظام کو بھنگ نہ کریں ۔ (انل نریندر)

14 مارچ 2024

تو اس لئے 400 پار کا نعرہ !

بھاجپا نیتا آئے دن 400 پار کا نعرہ دیتے ہیں ۔ا س نعرے کے پیچھے اصل مقصد کیا ہے اس کے پیچھے قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں ۔اب ایک بھاجپا کے ہی ایم پی نے اس کے پیچھے کی حکمت عملی کا انکشاف کر دیا ہے ۔بھاجپا ایم پی اننت کمار ہیگڑے نے اتوار کو کہا کہ تمہید سے سیکولرزم لفظ کو ہٹانے کیلئے بھاجپا آئین میں ترمیم کرے گی ۔انہوں نے لوگوں سے لوک سبھامیں بھاجپا کو دو تہائی اکثریت دینے کی اپیل کی ہے تاکہ دیش کے آئین میں ترمیم کی جا سکے ۔ہیگڑے نے کہا سال بھر پہلے اسی طرح کا بیان دیا تھا ۔اب بھاجپا کو آئین میں ترمیم کرنے کیلئے کانگریس کے ذریعے اس میں جوڑی گئی غیر ضروری چیزوں کو ہٹانے کیلئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی ۔انہوں نے یہاں ایک ریلی میں کہا کہ بھاجپا اس کے لئے 20 سے زیادہ ریاستوں میں اقتدار مین آنا ہوگا ۔کرناٹک سے چھ بار لوک سبھا ممبر ہیگڑے نے کہا کہ اگر آئین میں ترمیم کرنا ہے تو کانگریس نے آئین میں غیر ضروری چیزوں کو زبردستی بھر کر خاص طور سے ایسی دفعات لاکر جن کامقصد ہندو سماج کو دبانا تھا آئین کو بنیادی طور پر توڑ مروڑ دیا گیا ہے یہ سب بدلنا ہے تو اس حال میں اکثریت کے ساتھ ممکن نہیں ہے ۔انہوں نے کہا اگر ہم سوچتے ہیں کہ یہ کیا جاسکتا ہے کیوں کہ لوک سبھا میں کانگریس نہیں ہے ۔اور وزیراعظم نریندر مودی کے پاس لوک سبھا میں بھلے ہی دو تہائی اکثریت ہے اور چپ رہیں تو یہ ممکن نہیں ہے ۔ہیگڑے نے کہا مودی نے کہا کہ اب کی بار 400 سے پار کیوں ؟ ہیگڑے کے اس بیان پر سنگین تشویش ظاہر کرتے ہوئے کانگریس نے اسے دیش کے سیکولرزم جمہوری ڈھانچے پر حملے کی کوشش قرار دیا ہے ۔کانگریس کے صدر ملکا ارجن کھڑگے نے ایکس پر پوسٹ کیا مودی سرکار بھاجپا اور آر ایس ایس خفیہ طور سے تانا شاہی لاگو کرنا چاہتی ہے تو بھارت کے لوگوں پر اپنی منووادی ذہنیت کو تھوپے گی ۔اور ایس سی ایس ٹی اور او بی سی کے اختیارات چھین لے گی ۔کوئی چناو¿ نہیں ہوگا زیادہ سے زیادہ دکھاوٹی چناو¿ ہوں گے ۔اداروں کی آزادی میں کٹوتی کی جائے گی ۔اظہار رائے کی آزادی پر بلڈوزر چلایا جائے گا۔بھاجپا ہمارے سیکولر تانے بانے اور کثیر تہذیبی وراثت میں ایکتا کو تباہ کر دے گی۔ سنگ پریوار کے ان غلط ارادوں میں کانگریس کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔راہل گاندھی نے کہا نریندر مودی اور بھاجپا کا آخری مقصد بابا صاحب کے آئین کو ختم کرنا ہے ۔انہیں انصاف ،برابری ،شہری حقوق اور جمہوریت سے نفرت ہے ۔سماج کو بانٹنا میڈیا کو غلام بنانا ، اور اظہار رائے کی آزادی پر پہرہ بٹھانا ۔اپوزیشن کو مٹانے کی کوشش کر و ہ بھارت کی عظیم جمہوریت کو ایک گھناو¿نی تانا شاہی میں بدلنا چاہتے ہیں ۔ویسے بھاجپا کی کرناٹک یونت نے شوشل پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا ہے ۔آئین پر ہیگڑے کے تبصرے ان کے ذاتی خیالات ہیں اور پارٹی کے رخ کو میل نہیں کھاتے ۔بھاجپا دیش کے آئین کو بنائے رکھنے کے لئے اپنے عزم کو دہراتی ہے اور ہیگڑے سے ان کے تبصرے کے سلسلے میں وضاحت مانگے گی ۔ (انل نریندر)

ارون گوئل نے استعفیٰ کیوں دیا؟

لوک سبھا چناو¿ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے میں اب کچھ دن ہی باقی رہ گئے ہیں لیکن اس سے پہلے الیکشن کمشنر ارون گوئل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔وزارت قانون کے ذریعے جاری نوٹیفکیشن میں اس بات کی جانکاری دی گئی کہ صدر جمہوریہ نے الیکشن کمشنر کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے ۔یہ 9 مارچ سے نافذ العمل ہو گیا ہے ۔گوئل کی میعاد ۵دسمبر، 2027 تک تھی اور چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کے ریٹائر ہونے کے بعد وہ اگلے سال فروری میں ممکنہ طور پر چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ سنبھالتے اسی کے ساتھ چناو¿ کمیشن نے اس وقت صرف چیف الیکشن کمشنر ہی بچے ہیں ۔چناو¿ کمیشن میں 2 الیکشن کمشنر اور ایک چیف الیکشن کمشنر ہوتے ہیں ایک چناو¿ کمشنر کے عہدے کی میعاد سے پہلے ہی خالی تھا تو اب ارون گوئل کے جانے سے صرف چیف الیکشن کمشنر راجیو کما ر ہی بچے ہیں ۔فوری طور پر یہ پتہ نہیں چل پایا کہ گوئل نے استعفیٰ کیوں دیا ۔ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب چناو¿ کمیشن چناوی تیاریوں کے جائزہ کیلئے دیش بھرمیں دورہ کررہا تھا اور کچھ دنوں میں لوک سبھا چناو¿ کا اعلان ہونے کی امید ہے ۔لوک سبھا کے چناو¿ کی تیاریوں کے سلسلے میں ارون گوئل نے حال ہی میں تملناڈو ،اڈیشہ ،بہار ،اتر پردیش اور مغربی بنگال کے دورہ کئے تھے ۔مغربی بنگال کے دورہ سے لوٹنے کے بعد گوئل نے چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کی رہنمائی میں چناو¿ کمیشن کے ذریعے بلائی گئی پریس کانفرنس میں حصہ نہیں لیا تھا تب ایک افسر نے کہا تھا کہ صحت کے اسباب سے گوئل اس میں شامل نہیں ہو سکے ۔چیف الیکشن کمشنر اور چناو¿ کمشنروں کی تقرری پر بنے نئے قانون کے مطابق وزیر قانون کی سربراہی میں دو مرکزی سیکریٹریوں والی ایک تلاش کمیٹی پانچ ناموں کا انتخاب کرے گی ۔پھر ایک سلیکشن کمیٹی ناموں کو قطعی شکل دے گی ۔وزیراعظم کی سربراہی والی سلیکشن کمیٹی میں ان کے (پی ایم) کے ذریعے نامزد ایک مرکزی وزیر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر یا ہاو¿س میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹیوں کے نیتا شامل ہوں گے ۔اپوزیشن پارٹیوں نے لوک سبھا پارٹیوں کی تاریخوں کے اعلان سے پہلے چناو¿ کمشنر ارون گوئل کے استعفیٰ کو لیکر طرح طرح کے سوال داغ کر سیاسی گرمی بڑھا دی ہے ۔استعفیٰ کے پیچھے سرکار کے دباو¿ کو لیکر چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار سے ان کے اختلافات کی خبروں کے بیچ اپوزیشن پارٹیوں نے چناو¿ کمیشن کی غیر جانبدار رول کو لیکر بھی سوال کھڑے کئے ہیں ۔کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے سرکار سے جواب مانگا ہے ۔ارون گوئل نے مودی سرکار یا چیف الیکشن کمشنر جس کے ساتھ اختلافات کے سبب اتنا بڑا قدم اٹھایا ۔جبکہ ان کی میعاد ابھی چار سال باقی تھی ۔او ر چناو¿ کمشنر بننے کی لائن میں تھے ۔کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے نے اور سینئر لیڈر راہل گاندھی نے تو گوئل کے استعفیٰ کی خبر آنے کے فوراً بعد سنیچر کی رات ہی سوا ل اٹھائے تھے ۔ایسو سی ایشن فار ڈیموکریٹک فار کے نیتا نے کہا کہ ارون گوئل کے استعفیٰ سے پتہ چلتا ہے کہ اندر خانے وہ کس دباو¿ میں کام کررہے تھے ۔کانگریس کا کہنا تھا کہ کیا حقیقت میں آزادانہ کام کرنے کی کوشش میں چناو¿ کمشنر یا مودی سرکار کے ساتھ اختلافات یا شخصی اسباب سے استعفیٰ دیا گیا ہے ۔ٹی ایم سی کے ترجمان نے کہا کہ بنگال کے اپنے دورہ کے درمیان میں چھوڑ کر استعفیٰ دینے کے پیچھے اس اچانک معمہ کی وجہ کیا ہے ؟ استعفیٰ کے سبب کا جلد ہی خلاصہ ہوگا ۔ (انل نریندر)

12 مارچ 2024

بہار میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ساتھ ہوں گے؟

بہار کے اورنگ آباد میں 2 مارچ کو وزیراعظم نریندر مودی کے سامنے نتیش کمار نے جو کہا اس پر خوب بحث ہو رہی ہے ۔نتیش نے مودی سے کہا تھا کہ ادھر ہم غائب ہو گئے تھے ہم پھر آپ کے ساتھ ہیں ۔ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ اب ہم ادھر ادھر ہونے والے نہیں ہیں ۔ہم کہیں گے کہ ہم آپ ہی کے ساتھ ہیں اس لئے ذرا تیزی سے یہاں والے کام سب ہو جائیں ۔نتیش کی اس بات پر وزیراعظم مودی سمیت اسٹیج پر موجود زیادہ تر لوگ ہنس رہے تھے ۔اور بھیڑ سے بھی قہقہہ لگانے کی آوازیں آرہی تھیں ۔لوگوں نے یہ توجہ نہیں دی کہ نتیش کس کام کو تیزی سے کرنے کی مانگ کررہے تھے ؟ بہار کے وزیراعلیٰ کی کرسی پر سال 2005 سے نتیش کمار جمے ہوئے ہیں ۔لیکن سال 2020 کے اسمبلی چناو¿ ں میں ان کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ کو محض 42 سیٹیں ملیں تھیں ۔نتیش اور ان کی پارٹی جے ڈی یو اس کے پیچھے ایل جے پی کے چراغ پاسوان کو بڑی وجہ مانتے ہیں ۔چراغ پاسوان نے 2020 اسمبلی چناو¿ میں این ڈی اے میں رہ کر بھی جے ڈی یو کے خلاف اپنے امیدوار اتارے تھے اس سے جے ڈی یو کو سیٹوں کا بڑا نقصان ہوا تھا ۔جانکاروں کے مطابق انہیں اکڑ میں نتیش کمار کا سب سے بڑا درد چھپا ہوا ہے ۔اسی کو بہتر کرنے کی کوشش میں وہ جنوری میں مہا گٹھبندھن کو چھوڑ کر این ڈی اے میں واپس آئے تھے ۔نتیش نے اسی ارادہ کو ذکر اور خان باد میں بھی مودی کے آگے کیا تھا ۔مانا جاتا ہے کہ اب نتیش کی پارٹی کا گرتا گراف انہیں ستا رہا ہے ۔بہار کے سیاسی گلیاروں میں یہ بات چیت ہونے لگی ہے کہ نتیش کمار ریاستی اسمبلی بھنگ کر اسی سال ہونے والے لوک سبھا چناو¿ کے ساتھ اسمبلی کا چناو¿ بھی کروانا چاہتے ہیں بہار کی پچھلی سرکار میں نتیش کمار کے ساتھی اور نائب وزیراعلیٰ رہے آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ نتیش کمار اسمبلی بھنگ کرنا چاہتے تھے ۔ماہرین کے مطابق مہا گٹھ بندھن سرکار کے دوران کیب نیٹ کی آخیر میٹنگ میں نتیش کمار بہار کی اسمبلی کو بھنگ کرنے کا پرستاو¿ لے کر آئے تھے جسے آر جے ڈی اور باقی ساتھی پارٹیوں نے مسترد کر دیا تھا ۔دراصل اسمبلی بھنگ کر چناو¿ کرانے میں فائدہ صرف نتیش کمار کو ہوسکتا ہے ۔ہو سکتا ہے ان کی کچھ سیٹیں بڑھ جائیں لیکن اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔آر جے ڈی ہی سب سے بڑی پارٹی بنے اور کانگریس جوں کے توں لیفٹ پارٹی اپنی کامیابی کو دہرا لیں ۔مانا جاتا ہے پٹنہ میں اپوزیشن کی جن وسواس مہا ریلی میں این ڈی اے کے اندر سیاست پر بھی اثر ڈالا ہے ۔نتیش کمار کے دل میں یہ ہو سکتاہے کہ ساتھیوں کے سہارے ان کی اسمبلی سیٹوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے لیکن نتیش دو دہائی سے بہار کے اقتدار پر قابض ہیں اور ماناجاتا ہے کہ ریاست میں ان کے خلاف منفی اثر سے ساتھی پارٹیوں کو نقصان ہو سکتا ہے ۔مانا جاتا ہے کہ نتیش کمار کے مہا گٹھ بندھن چھوڑنے کے پیچھے ایک بڑی وجہ تھی اس لئے نتیش کمار اسی شرط پر این ڈی اے میں واپس ہوئے تاکہ بہار اسمبلی بھنگ کر لوک سبھا کے ساتھ ریاست کے چناو¿ کرانے میں کچھ مشکلیں آسکتی ہیں ۔مثلاً اتنے کم وقت میں دونوں چناو¿ ممکن نہیں ۔موجودہ اسمبلی کی میعاد میں ابھی ڈیڑھ دو سال بچے ہیں اور بہت سے ممبر اسمبلی ابھی سے چناو¿ کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے ہیں ۔ (انل نریندر)

ہر شہری کو سرکاری فیصلے کی نکتہ چینی کا حق!

جموں کشمیر سے آرٹیکل 370- ہٹانے کی نکتہ چینی کرنے اور پاکستان کے یوم آزادی پر اس کے شہریوں کو مبارکباد دینے کے ملزم ایک پروفیسر کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ نے منسوخ کر دیا ہے ۔بڑی عدالت نے کہا وقت آگیا ہے کہ پولیس مشینری کو تقریر اور اظہار رائے کی آزادی کے نظریہ کے بارے میں بیدار اور اسے واقف کر ا یا جائے ۔مہاراشٹر پولیس نے واٹس ایپ مسج پوسٹ کرنے پر پروفیسر جاوید احمد حجام کے خلاف کوہلا پور میں آئی پی سی کی دفعہ 153 اے کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی ۔ان واٹس ایپ مسج میں پروفیسر جاوید نے لکھا تھا کہ ،جموں کشمیر کے لئے 5 اگست کالا دن ہے ۔14 اگست پاکستان کی یوم آزادی پر مبارکباد ۔جسٹس ابھے ایس موقع کی بنچ نے کہا کہ اگر ایک شہری 14 اگست پر پاکستان کے شہریوں کو مبارکباد دیتا ہے تو اس میں کچھ غلط نہیں ہے ۔بنچ نے مزید کہا کہ 75 سے زائد برسوں سے ہمارا دیش جمہوری ملک ہے ۔اور لوگ جمہوری اقدار کی اہمیت کو جانتے ہیں اس لئے یہ نتیجہ نکالنا ممکن نہیں ہے کہ یہ لفظ مختلف مذہبی گروپوں کے بیچ نفرت یا دشمنی یا دیش کے جذبات کو بڑھاوا دیں گے ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ دیش کے ہر شہری کو سرکار کے ہر فیصلے کی نکتہ چینی کرنے کا حق ہے ۔ساتھ ہی کہا کہ بھارت کے کسی شخص کا دوسرے ملکوں کے شہریوں کو ان کے یوم آزدی پر نیک خواہشات دینے میں کچھ غلط نہیں ہے ۔بڑ ی عدالت نے آرٹیکل 370- کو منسوخ کئے جانے کی نکتہ چینی کرنے کے معاملے میں ایک پروفیسر کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرتے ہوئے یہ رائے زنی کی سپریم کورٹ نے اس معاملے کے سلسلے میں بمبئی ہائی کورٹ کے حکم کو بھی منسوخ کر دیا ۔مہاراشٹر پولیس نے جموں کشمیر میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے سلسلے میں واٹس ایپ پر پیغام پوسٹ کرنے کے لئے پروفیسر جاوید احمد حاجم کے خلاف کوہلا پور کے تھانے میں یہ معاملہ درج کیا گیا تھا ۔ان کے خلاف فرقہ وارانہ نفرت کو بڑھاوا دینے کے الزام لگائے گئے تھے ۔پروفیسر حاظم نے اپنے واٹس ایپ مسجز میں کہا تھا کہ بھارت کا آئین آرٹیکل 19(1) (A) کے تحت تقریر میں اظہار رائے کی آزادی کی گارنٹی دیتا ہے اس کے تحت ہرشہری کو آرٹیکل 370- کو منسوخ کرنے کی کاروائی اور اس معاملے میں سرکار کے فیصلے کی نکتہ چینی کرنے کا حق ہے ۔انہیں یہ کہنے کا اختیار ہے کہ وہ سرکار کے اس فیصلے سے نا خوش ہیں۔بنچ نے کہا کہ اگر بھارت کا کوئی شہری 14 اگست کو پاکستان کے شہریوں کو نیک خواہشات پیش کرتا ہے تو اس میں کچھ غلط نہیں ہے ۔پاکستان 14 اگست کو اپنا یوم آزادی کی شکل میںمناتا ہے ۔لہذا یہ عدالت ہائی کورٹ کے 10 اپریل 2023 کے فیصلے اور ایف آئی آر کو منسوخ کرتی ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...