Translater

18 مئی 2013

انڈین فکسنگ لیگ

شروع سے ہی تنازعوں میں رہی آئی پی ایل پر بد نما داغ لگ گیا ہے۔ دہلی پولیس نے ان میچوں میں اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں راجستھان رائلس کے ایس سری سنت، اجیت چندیلا اور انکت چوہان کو ممبئی میں گرفتار کیا اور سنسنی مچا دی ہے۔ ان تینوں کو ساکیت عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پانچ دن کے لئے پولیس ریمانڈ میں بھیج دیا گیا۔ کچھ کھلاڑیوں کی بہت جلد پیسہ کمانے کی نیت انہیں ڈوبادیتی ہے۔ حالانکہ ان تینوں کو ایک بولی لگا کر راجستھان رائلس کے مالکوں نے پیسہ دے کر سیزن۔6 کے لئے خریدا تھا لیکن اس کے باوجود پیسہ کمانے کی للک میں اپنا کیریئر تو ختم کیا ہی ہے ساتھ ساتھ آئی پی ایل پر بھی داغ لگادیا۔ پہلے آپ کو بتائیں کے اسپاٹ فکسنگ ہوتی کیا ہے؟ اس میں پورے میچ فکس کرنے کے بجائے یقینی گیند اوور یا کھلاڑی کی شخصی کارکردگی کو فکس کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی اور خاص اوور میں نو بال ڈالی جائے گی۔ یہ سٹے باز سے طے کرلیا جائے گا۔ گیند ایسا کرنے سے پہلے وہ کسی طرح کا اشارہ دے گا تاکہ اس پر سٹہ لگایا جاسکے۔ کسی بھی میچ کو فکس کرنے کے لئے ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو فکس کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور اسپاٹ فکسنگ میں ایک کھلاڑی سے ہی بات بن جاتی ہے۔ اس کیس میں سری سنت کا قریبی دوست جیجو جناردھن سٹے باز چندریش پٹیل کے ساتھ رابطے میں تھا اور یہ سودہ 40 لاکھ روپے میں ہوا۔ فیصلے کے مطابق سری سنت نے پہلا اوور بغیر تولئے کے پھینکا۔ دوسرے اوور میں اس نے اپنی پینٹ میں تولیا رکھا اور سٹے باز کووقت دیا اس نے کچھ وارم اپ اور اسٹریچنگ کیا۔ اس نے اپنے اس فکس اوور میں 14 کے بجائے 13 رن دئے۔ پولیس نے فکسنگ کے ذریعے پورے واقعے کی کلیپنگ بھی دکھائی۔ ممبئی میں کھیلے گئے اس میچ میں چندیلا کو نہیں اتارا گیا۔ اس نے اپنے نہ کھیلنے کے بارے میں سٹے بازوں کو بتایا اور کہا کہ انکت یہ کام کرسکتا ہے۔ انکت چوہان سے سٹے بازوں کی 60 لاکھ روپے میں سودے بازی ہوئی۔ اس میں چندیلا نے سالیسی کا کام کیا۔ انکت کو ایک اوور میں 13 یا اس سے زیادہ رن دینے تھے۔ اشارے کے لئے انکت کو اوور سے پہلے رسٹ بینڈ موو کرنی تھی۔ اس نے پہلے اوور میں دو رن دئے اور دوسرے اوور کی پہلی تین گیندوں میں اس نے14 رن دے دئے اور پھر باقی تین گیندوں میں ایک ہی رن دیا۔ جے پور میں راجستھان رائلس اور پنے کے درمیان کھیلے گئے میچ میں چندیلا اور دلال امت کے درمیان بات چیت ہوئی۔ اس میں اپنے اسپیل کے دوسرے اوور میں 14 رن طے ہوئے اس کے لئے 14 لاکھ روپے اڈوانس دئے گئے اور 20 لاکھ روپے بعد میں دینے تھے۔ اور میں چندیلا کو1 رن دینے تھے۔ اوور پھینکنے سے پہلے وہ ٹی شرٹ اٹھا کر اشارہ دینا بھول گیا۔سٹے باز اس میچ میں سٹہ نہیں لگا سکے اس کی وجہ سے بحث ہوگئی اور چندیلا کو پیسہ واپس کرنا پڑا۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے جب سری سنت آئی پی ایل میں تنازعوں میں رہے ہیں۔ اس سے پہلے 2008ء میں تنک مزاج تیز گیند باز تھپڑ کانڈ میں پھنسے تھے۔ سنت کو ہر بھجن سنگھ نے تھپڑ مارا تھا جس کے بعد ٹی وی کیمروں میں انہیں روتا ہوا دکھایا گیا۔ آسٹریلیا کے لیوک رائٹ کو2012ء کے سیشن میں موریا شیٹن ہوٹل میں ہندوستانی نژاد امریکی شہری کے ساتھ غلط برتاؤ کے لئے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف آئی پی ایل کی دفعہ356,353 اور 454 کے تحت معاملہ درج کیا گیا۔ دہلی پولیس کمشنر نیرج کمار نے صاف کہا کہ فکسنگ میں ممبئی انڈرورلڈ کا ہاتھ ہے۔اس کے ماسٹر مائنڈ بیرونی ملک میں بیٹھے ہیں لیکن اس کے پیچھے داؤد ابراہیم کا ہاتھ ہے۔ اس کے پختہ ثبوت حالانکہ نہیں ملے ہیں۔ حال ہی میں مرے اسپیشل سیل کے انسپکٹر بدریش دت نے ایک ٹیلی فون سے اس معاملے کا سراغ پکڑا تھا۔ انہوں نے انڈرورلڈ کی مونیٹرنگ کے دوران کرکٹ میچ میں سگنل دینے کی بات سنی تھی۔ تحقیقات کی تو معاملہ کھلتا گیا۔ بی سی سی آئی نے تینوں کھلاڑیوں کو آئی پی ایل سے معطل کردیا ہے اور ان کے خلاف ڈسپلن شکنی کے تحت کارروائی کرکے 30 دن میں رپورٹ دے گی۔ انکت اور اجیت کو امپلائر ایئر انڈیا نے بھی معطل کردیا ہے۔ تینوں کھلاڑیوں پر زندگی بھر کے لئے پابندی لگ سکتی ہے۔ تینوں پر آئی پی سی کی دفعہ420 (دھوکہ دھڑی) اور 20B مجرمانہ سازش کے تحت مقدمہ درج ہوسکتا ہے۔ مکوکا بھی لگانے کا امکان ہے۔ اگر ایسا ہوا تو بغیر ضمانت انہیں لمبے عرصے تک جیل میں رہنا پڑے گا۔
(انل نریندر)

جے وی جی سی ایم ڈی 1 ہزار کروڑ کی ٹھگی میں گرفتار

ایک وقت تھا جب صحافت ایک ایماندار ،عزت دار پیشہ ہوا کرتا تھا جس کا مشن عوام کی بھلائی تھا۔ جب ہمارے سورگیہ دادا جی مہاشہ کرشن نے لاہور میں دینک پرتاپ شروع کیا تھا وہ ایک مشن تھا انگریزوں کو بھارت سے نکالنا۔ انہوں نے اپنے اس مشن پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کئی بار جیل گئے۔ کئی با ضمانتیں بھی منسوخ ہوئیں لیکن وہ اپنے مشن سے کبھی نہیں ہٹے۔ اس طرح سے پوجیہ پتا شری سورگیہ کے۔ نریندرنے جب دینک ’’ویر ارجن‘‘ شروع کیا تو ان کا مشن تھا اپنے والد کے اصولوں کو آگے بڑھانا۔ انہوں نے کبھی بھی کسی بھی لالچ کے سامنے سر نہیں جھکایا اور نہ ہاتھ پھیلایا۔ میں بھی انہی کے اصولوں پر چلنے کی کوشش کررہا ہوں۔ لیکن پچھلے کچھ دنوں سے دکھ سے کہنا پڑتا ہے میڈیا کے کچھ گروپ اورکچھ لوگ ایسے آگئے ہیں جن کا مقصد محض پیسہ کمانا ہے۔ تبھی تو ہم پا رہے ہیں کچھ لوگ منتری بنوانے کے لئے لابنگ کرکے پیسہ بٹورتے ہیں تو کچھ لوگ اپنے کالے کارناموں کو دبانے کیلئے اخبار یا ٹی وی چینل شروع کرتے ہیں اوربڑی بڑی ڈیلنگ کرتے ہیں اور یہ سودے بازی میڈیا میں عام بات ہوگئی ہے۔ اپنے روابط کے زور پر سودے کرواتے ہیں۔ کوئی چٹ فنڈ کھول کر جنتا کو لوٹتے ہیں۔ تازہ مثال جے وی جی گروپ کے ایم ڈی وجے کمار شرما کی ہے۔ اس بار ان پر ویان انفرسٹکچر و پی ایم جی ڈیولپرس اینڈ انجینئرنگ نامی کمپنیوں میں سرمائے پر موٹی سود رقم دینے کا جھانسہ دیکر کئی کروڑ روپے ہتھیانے کا الزام ہے۔ 90 کی دہائی میں جے وی جی کی 17 کمپنیوں نے لاکھوں لوگوں سے 1 ہزار کروڑ سے زیادہ روپے ٹھگے۔ راجدھانی کے الگ الگ تھانوں میں درج ٹھگی کے معاملوں میں پولیس کو اس کی تلاش تھی۔ کرائم برانچ کے ایڈیشنل پولیس کمشنر روندر یادو نے بتایا کہ وجے شرما کافی عرصے سے پولیس کی آنکھوں میں دھول جھونکتارہا۔ پولیس کے سامنے ملزم نے انکشاف کیا کے گرفتاری سے بچنے کے لئے اس نے کافی عرصے سے ہوائی اورریل سفر نہیں کیا تھا۔ پورے دیش میں وہ اپنی کار سے گھومتا تھا۔ پولیس سے بچنے کے لئے دہلی، یوپی، اتراکھنڈ، راجستھان، مہاراشٹر کے ہوٹلوں میں رہا۔ وجے نے انکشاف کیا کے اس نے 1989ء میں پہلی جے وی جی کمپنی لانچ کرنے کے بعد کئی کمپنیاں بنائیں۔ وجے نے سرمایہ کاروں کو اپنی کمپنی میں روپے لگانے کے بدلے قریب 30 فیصدی کے منافع کا جھانسہ دیا تھا۔ لاکھوں لوگوں نے اس کی کمپنی میں سرمایہ لگایا۔ قریب17 کمپنیاں کھولنے کے بعد سال1997ء میں سی بی آئی اور آر بی آئی کی سختی کے بعد وجے کمپنی بند کرکے بھاگ گیا۔ 1998ء میں دہلی پولیس کی اقتصادی کرائم برانچ نے وجے کو گرفتار کر لیا۔ 16 ماہ جیل میں گزارنے کے بعد وہ چھوٹا اور2005-06 میں الگ نام سے دوسری کمپنی بنا لی۔ کمپنی کھول کر لوگوں سے قریب500 کروڑ روپے ٹھگے اس کے بعد وجے دوبارہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا اور جیل سے چھوٹنے کے بعد وجے نے 2010 ء میں کورٹ کی تاریخوں پر جانا بند کردیا۔ وجے شرما پر 1 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ ملزم کے پاس سے ایک مرسڈیز اور32 غیر لائسنس کی پستول برآمد ہوئی ہیں۔
(انل نریندر)

17 مئی 2013

مودی بنام سبل:حساب کتاب برابر کرنے کی کوشش

امریکہ بیشک گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کوغذا نہ دے رہا ہو وہ امریکہ میں بسے گجراتی نژاد لوگوں تک اپنی پہنچ کا راستہ بنالیتے ہیں۔ مودی نے ویڈیو کانفرسنگ کے ذریعے امریکہ کے 20 شہروں میں رہنے والے ہندوستانیوں کو خطاب کیا۔ اس بار بھی نشانے پر تھے کانگریس اور یوپی اے کی سرکار۔ مودی نے پیر کو مرکزی حکومت پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمزور لیڈر دیش پر حکومت کررہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اگر دیش کے حکمراں کمزور ہوں تو کتنا نقصان ہوتا ہے۔ تنقید کرنے والے انہیں پھینکو کہہ کر نوازتے ہیں لیکن انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مودی نے کہا کہ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ چین نے اپنی فوج کو واپس اپنے علاقے میں بلا لیا۔ لیکن میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ ہندوستانی فوج نے اپنی فورس کو ہندوستانی زمین سے کیوں پیچھے ہٹایا؟ میرا مرکزی سرکار سے سیدھا سوال ہے کہ چین ہماری سرزمین میں گھس کر واپس چلا جاتا ہے یہ ایک بات ہے لیکن ہم کیوں اپنی سرزمین سے پیچھے ہٹتے ہیں۔ اس سے عام آدمی کے دل میں سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ ہمارے فوجیوں کا سر کاٹے جانے کا تصور کرسکتے ہیں اور کچھ دنوں بعد اس دیش کے وزیر اعظم کو یہاں چکن بریانی پیش کی جاتی ہے۔ اس سوال اٹھتے ہیں کہ مرکز میں کانگریس کی قیادت والی یوپی اے سرکار پر دیش کے 120 کروڑ لوگوں کا بھروسہ نہیں رہ گیا ہے۔ چین و پاکستان آنکھیں دکھا رہے ہیں غیر ملکی سرزمین پر دیش کے ثبوت سربجیت سنگھ کا قتل کردیا گیا پھر بھی سرکار چپ رہی۔ مودی نے کہا کہ لوگ اس سے بھارت کے سامنے موجود بڑی چنوتیوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ دیش کا ہر ایک اداروں سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ ہمیں لوگوں کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہوگا یہی سب سے بڑی چنوتی ہے۔ ادھر نریندر مودی نے امریکہ میں بسے تاریکین وطن ہندوستانیوں کو خطاب کیا تو ادھر وزیر مواصلات کپل سبل نے وزارت قانون کی اضافی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پہلا کام یہ کردیا کہ نریندر مودی پر انہوں نے کٹاش کیا۔ سبل نے نریندر مودی کو گھیرنے اور بھاجپا سے حساب کتاب برابر کرنے کے لئے دعوی کیا کہ وہ خود نریندر مودی کو لیکر جلد ہی ایک بڑا خلاصہ کرنے والے ہیں۔ سبل کے مطابق ان کے پاس موزوں ثبوت ہیں۔ سبل کے مطابق ان کے اس خلاصے سے مودی اور بھاجپا کا دوہرا پیمانہ آپ کے سامنے آجائے گا۔ وزیر قانون کے مطابق ان کے پاس اس سے جڑا ایک ای میل بھی موجود ہے۔ سبل اسے بڑا ثبوت بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے سامنے آتے ہی بہت کچھ اپنے آپ میں صاف ہوجائے گا۔ سمجھا جارہا ہے کہ سبل کا گجرات کے وزیر اعلی کے بارے میں یہ خلاصہ2002ء میں گودھرا میں ٹرین میں آگ سانحہ کے بعد بھڑکے فرقہ وارانہ فسادات سے جڑا ہے۔ دراصل کانگریس پارٹی پون بنسل اور اشونی کمار کے استعفے کے بعد تلملائی ہوئی ہے۔ ایسے میں اسے مودی پر سبل کے وار کا حساب کتاب برابر کرنے کے لئے دیکھا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)

سہراب الدین انکاؤنٹر کیس میں پھنسے بھاجپا کے نیتاگلاب چند کٹاریہ

سرخیوں میں چھائے رہے سہراب الدین انکاؤنٹر کیس میں سی بی آئی نے راجستھان کے سابق وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ کو ملزم بنایا ہے۔ سہراب الدین بتا دیں کہ ادے پور کے شاطر بدمعاش حمیدلال کے قتل کا بنیادی ملزم تھا۔ احمد آباد میں26 نومبر 2005ء کو پولیس مڈبھیڑ میں سہراب الدین شیخ مارا گیا تھا۔ بعد میں مڈبھیڑ کے فرضی ہونے کے الزام لگے۔ اس کے بھائی صباح الدین کی اپیل پر سپریم کورٹ نے معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپی ہے۔ ساتھ ہی کیس کی سماعت گجرات سے باہر بھی کرانے کی ہدایت دی تھی۔ سی بی آئی کی جانب سے اس معاملے میں ممبئی کی عدالت میں منگلوار کو داخل ایک مکمل چارج شیٹ میں گلاب چند کٹاریہ سمیت چار لوگوں کو ملزم بنایاگیا ہے۔ ان پر آئی پی سی کی دفعہ120(B) ،302,364-65,368 اور341-42 اور 201 دفعات لگائی گئی ہیں۔ کٹاریہ کے ساتھ جن لوگوں کے نام سی بی آئی کی چارج شیٹ میں ہیں ان میں راجستھان کے سب سے بڑے ماربل خاندان کے ممبر ومل پٹنی و این بال سبرامنیم ، جی سرینواس راؤ ہیں۔ چارج شیٹ میں سی بی آئی نے کٹاریہ کو سہراب الدین معاملے میں گجرات کے اس وقت کے وزیر داخلہ امت شاہ اور راجستھان کے ماربل کاروباری ومل پٹنی کے درمیان گھری دوستی مانی جاتی ہے۔ قابل ذکر ہے نومبر2005 میں ہوئے سہراب الدین فرضی مڈبھیڑ کے وقت راجستھان اور گجرات دونوں ریاستوں میں بھاجپا کی ہی حکومتیں تھیں۔ کٹاریہ راجستھان میں وسندھرا راجے کی سرکار میں وزیر داخلہ تھے۔ اس وقت وہ راجستھان کے ایک بڑے نیتا مانے جاتے ہیں۔ وہ میواڑ اور بانگڑ علاقے کے خاص مقبول لیڈر ہیں۔ یہاں ان کا قریب40 سال سے زیادہ کا سیاسی سفر گذرا ہے۔ فرضی مڈ بھیڑ معاملوں میں سی بی آئی کے گھیرے میں آنے والے کٹاریہ بھاجپا کے دوسرے بڑے لیڈر ہیں۔ اس سے پہلے راجندر سنگھ راٹھور راجستھان میں ہوئے بریا فرضی مڈ بھیڑ معاملے میں گرفتار ہوکر جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔ حالانکہ بعد میں نچلی عدالت نے ان کو ان الزامات سے بری کردیا لیکن یہ معاملہ ابھی راجستھان ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ سہراب الدین معاملے میں راجستھان کیڈر کے ایک اعلی پولیس افسر دنیش ایم این سمیت قریب آدھا درجن پولیس والے پہلے ہی احمد آباد کی جیل میں بند ہیں۔ اس سے پہلے گجرات سابق وزیر داخلہ امت شاہ اسی معاملے میں اپنی کرسی گنوا چکے ہیں۔ سہراب الدین نے ادے پور کے کے آر ماربل کے ڈائریکٹر ومل پٹنی سے24 کروڑ کی رنگ داری مانگی تھی۔ اس سے پریشان انہوں نے راجستھان کے اس وقت کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ سے بات کی۔ گلاب چند نے امت شاہ سے بات کی۔ بعد میں گجرات پولیس کی اے ٹی ایس کے ڈی آئی جی ، ڈی جی بنجارا کے ذریعے سہراب الدین کا انکاؤنٹر کروادیا گیا۔ اس تازہ واقعے نے راجستھان کی سیاست میں سنسنی مچا دی ہے۔ اس سال نومبر میں راجستھان اسمبلی کے چناؤ ہونے ہیں جس میں بھاجپا کی اچھی پوزیشن بتائی جاتی ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ گلاب چند کٹاریہ جیسے بھاجپا کے بڑے لیڈر کے اس کیس میں پھنسنے کا چناؤ پر کیا اثر ہوگا؟
(انل نریندر)

16 مئی 2013

دگوجے سنگھ کی سپریم کورٹ کو نصیحت :حد میں رہیں

اپنے بیانوں کے چلتے اکثر تنازعوں میں چھائے کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ نے اس بار دیش کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ عدالت کے ریمارکس کے بعد ایک طرف تو سرکار کو قانون منتری کا استعفیٰ لینا پڑا لیکن دگوجے سنگھ نے سب سے بڑی عدالت کو ہی حد میں رہنے کی نصیحت دے ڈالی۔ سپریم کورٹ کے ذریعے سی بی آئی کو پنجرے میں بند طوطا کہنے پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تبصروں سے قومی خدمات کی اہمیت گھٹتی ہے۔ دگوجے سنگھ نے کہا سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو پنجرے کا طوطا بتایا تو بنگلورو میں سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹرمنل نے خفیہ بیورو یعنی آئی بی کو چوزا کہہ دیا۔ اب عام لوگوں سے میرا یہ سوال ہے کیا ایسا کرکے ہم نے قومی اداروں کو چھوٹا نہیں کردیا ہے؟ میں آپ کا جواب چاہتا ہوں۔ کوئلہ گھوٹالہ کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاعوامی نمائندے جنتا کو جوابدہ ہوتے ہیں کورٹ کے تئیں نہیں۔ کورٹ کو لگتا ہے کہ وہ کولگیٹ رپورٹ کی جان ہی بدل گئی ہے تو انہیں حکم دینا چاہئے تھا ریمارکس کی بنیاد پر کسی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ سپریم کورٹ کے بیان کے خلاف دگوجے سنگھ کے تبصرے سے کانگریس نے کنارہ کرنا ہی بہتر سمجھا، جیسا کہ وہ اکثر کرتی آئی ہے۔ یہ اچھا ہوا ہے کہ کانگریس نے خود کو اپنے سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ کے اس بیان سے الگ کرلیا کہ سی بی آئی کو پنجرے میں بند طوطا بتانا اس ادارے کو کمزور کردینا جیسا ہے۔ یہ مضحکہ خیز ہے کہ کانگریس سکریٹری جنرل کو اس سی بی آئی کی ساکھ کی پرواہ ہے جس کے بھروسے پر بٹا لگا ہوا ہے اور جسے ہر کوئی سرکار کی کٹھ پتلی مانتا ہے۔ اگر سپریم کورٹ سی بی آئی کے پنجرے میں طوطا نہیں کہتا تو کیا جانچ ایجنسی کی ناک اونچی ہوجاتی؟ کیا دگوجے کو یہ نہیں معلوم کے سی بی آئی نے کوئلہ گھوٹالے کی جانچ میں چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں پہلے حلف نامے میں لیپا پوتی کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ اگر سپریم کورٹ نے چوکسی کا ثبوت نہیں دیا ہوتا تو سی بی آئی اپنی جانچ رپورٹ میں چھیڑ چھاڑ کئے جانے کے باوجود اطمینان سے بیٹھی رہتی۔ یہ ایک سچائی ہے کہ سی بی آئی نے اپنے دوسرے حلف نامے میں بڑی عدالت کے سامنے یہ ہی دلیل دی تھی کہ جانچ رپورٹ کے کچھ حصے ہٹانے کے بعدہی ان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس کے برعکس عدالت نے یہ پایا کہ ان حصوں کو ہٹانے سے جانچ رپورٹ کا بنیادی مقصد ہی بدل گیا ہے۔ یہاں ہم یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا تبصرہ سی بی آئی ڈائریکٹر رنجیت سنہا کے ذریعے داخل حلف نامے پر آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سابق مرکزی وزیر قانون اشونی کمار پی ای اور کوئلہ وزارت کے کچھ حکام نے کول بلاک الاٹمنٹ کی جانچ رپورٹ میں تبدیلی کی تھی۔ دگوجے سنگھ نے کیگ پر بھی رائے زنی کی ہے۔ انصاف دلانے والے اداروں پر تبصرہ عام لوگوں کے درمیان سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ ایسے میں دگوجے سنگھ کی طرف سے ایسے ریمارکس کا سامنے آنا جو کسی شخص یا ادارے کو ٹھیس پہنچاتا ہو، کسی بھی نقطہ نظر سے اس کو صحیح نہیں مانا جاسکتا۔ ہماری جمہوریت و پورا سسٹم عدلیہ، آئین سازیہ اور انتظامیہ کے آپسی تال میل پر ٹکا ہوا ہے۔ لیکن اس طرح کے تبصرے پورے سسٹم کو ہی ہلا دیتے ہیں اور سسٹم کی بنیاد پر چوٹ کرتے ہیں۔ تنقید سے کہاں معاملے کی سارا مطلب ہی بدل جاتا ہے۔ اس باریک ریکھا کو کانگریس پارٹی اور خاص کر اس کے سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ کو سمجھنا ہوگا کہ ہم نے اپنے پڑوسی ملک پاکستان کو دیکھا ہے کہ کس طرح انتظامیہ اور عدلیہ میں ٹکراؤ نے دیش کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بلا شبہ یہ کافی نہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سی بی آئی پر تلخ تنقید پر دگوجے سنگھ نے جو رد عمل ظاہرکیا ہے اس سے کانگریس نے پلڑا جھاڑ لیا ہے۔ کیونکہ اس کی قیادت والی مرکزی حکومت نہ تو جمہوریت اداروں کے وقار کے تئیں سنجیدہ نظر آتی ہے اور ان کے وقار کے تئیں سپریم کورٹ کے حکم پر سی بی آئی کی مختاری کی راہ تلاش کرنے کے لئے ایک وزارتی گروپ قائم کردیا ہے۔ لیکن اتنے بھر سے اس جانچ ایجنسی کی مختاری کے تئیں یہ قدم کافی نہیں مانا جاسکتا۔
(انل نریندر)

29 سال بعد بھی 84ء دنگا متاثرین انصاف مانگنے پر مجبور

کڑکڑ ڈوما کورٹ کے ذریعے سابق کانگریسی ایم پی سجن کمار کو بری کرنے کے بعد دہلی سمیت دیش بھر میں سکھوں میں کافی بھاری ناراضگی پائی جاتی ہے۔ سکھ فرقہ روز راجدھانی میں دھرنا اور مظاہرے کرکے انصاف مانگ رہا ہے۔ 1984ء میں سکھ مخالف دنگوں میں متاثرہ اب سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کرکے قصورواروں کو سزا دلانے کی مانگ کررہے ہیں۔ تین دہائی بعد بھی سکھ فرقے کو انصاف نہیں مل پایا۔ سکھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ عدالت سے انصاف ملنے کی امید میں ہم 29 سال انتظار کرتے رہے لیکن 84ء میں ہزاروں سکھوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ عدالت ثبوتوں کی کمی کے سبب ملزمان کو چھوڑ رہی ہے۔ تین دہائی میں مرکزی سرکار اور انتظامیہ کیا کرتی رہی ہے؟ وہ دنگوں میں شامل لوگوں کے خلاف سزا دلانے لائق ثبوت کیوں نہیں عدالت میں پیش کرتی؟ آل انڈیا سکھ کانفرنس( ببر) کے چیئرمین گرچرن سنگھ ببر نے اپنی ناراضگی اور درد کا ان الزام میں اظہارکیا ہے۔ ببر کا کہنا ہے کہ انصاف نہ ملنے تک سکھ سماج چپ نہیں بیٹھے گا۔ سینکڑوں سکھ راجگھاٹ سے سپریم کورٹ تک مارچ کررہے تھے ۔بھاری پولیس بندوبست کی وجہ سے پولیس نے مظاہرین کو شہید پارک پر ہی روک لیا۔ مظاہرین کے ایک نمائندہ وفد کو پولیس افسر اپنی گاڑیوں میں بٹھا کر سپریم کورٹ لے گئے۔ نمائندہ وفد کی قیادت سردار گرچرن سنگھ ببر و دنگوں کی ودھوا شریمتی ورجن کور اور شریمتی گورمیت کور اور شریمتی کوہلی کور نے کی۔ تنظیم کا کہنا ہے ہماری خوفناک ٹریجڈی اور اس کا احساس کرنے کے بعد براہ کرم فوری انصاف کریں کیونکہ نومبر84ء قتل عام پر سپریم کورٹ کے اب تک چپ رہنے سے دیش کے عدلیہ نظام کے تئیں ایک پوری قوم کے بھروسے کی چولیں ہل گئی ہیں۔ اس کام کو انجام دینے کے لئے اس وقت کے داخلہ سکریٹری ایم کے بلّی دہلی کے گورنر پی جی گوئی ، دہلی پولیس کمشنر سبھاش ٹنڈن، سابق مرکزی وزیر جگدیش ٹائٹلر کی سجن کمار نے فساد میں اہم رول نبھایا تھا اور یہ خوفناک حرکت انجام دی گئی۔ قتل کانڈ کی کمان دہلی کے اس وقت کے پولیس کمشنر سبھاش ٹنڈن نے اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی جس نے دہلی کے اس وقت کے سبھی بڑے پولیس افسروں کے ساتھ مل کر دہلی میں پانچ ہزار بے قصور سکھوں کی لاشوں کو ٹھکانے لگادیا تھا۔ آل انڈیا سکھ کانفرنس نے کہا کہ ہماری سپریم کورٹ سے مودبانہ اپیل ہے کہ عدالت فوراً انصاف کرے۔ ہم سکھ تنظیموں کی مانگ کی پوری حمایت کرتے ہیں۔ وہیں ہم سپریم کورٹ سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ خود ہی اس سنگین مسئلے پر نوٹس لے۔ گجرات دنگوں میں تو عدالت نے آدھا درجن معاملوں کی جانچ کرا لی ہے تو اس سے کہیں بڑے دنگے میں اب تک کوئی نوٹس نہیں لیا گیا؟ اگر وہاں بھی اقلیتیں تھیں تو یہاں بھی تو اقلیت ہی ہے پھر امتیاز کیوں؟
(انل نریندر)کڑکڑ ڈوما کورٹ کے ذریعے سابق کانگریسی ایم پی سجن کمار کو بری کرنے کے بعد دہلی سمیت دیش بھر میں سکھوں میں کافی بھاری ناراضگی پائی جاتی ہے۔ سکھ فرقہ روز راجدھانی میں دھرنا اور مظاہرے کرکے انصاف مانگ رہا ہے۔ 1984ء میں سکھ مخالف دنگوں میں متاثرہ اب سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کرکے قصورواروں کو سزا دلانے کی مانگ کررہے ہیں۔ تین دہائی بعد بھی سکھ فرقے کو انصاف نہیں مل پایا۔ سکھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ عدالت سے انصاف ملنے کی امید میں ہم 29 سال انتظار کرتے رہے لیکن 84ء میں ہزاروں سکھوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ عدالت ثبوتوں کی کمی کے سبب ملزمان کو چھوڑ رہی ہے۔ تین دہائی میں مرکزی سرکار اور انتظامیہ کیا کرتی رہی ہے؟ وہ دنگوں میں شامل لوگوں کے خلاف سزا دلانے لائق ثبوت کیوں نہیں عدالت میں پیش کرتی؟ آل انڈیا سکھ کانفرنس( ببر) کے چیئرمین گرچرن سنگھ ببر نے اپنی ناراضگی اور درد کا ان الزام میں اظہارکیا ہے۔ ببر کا کہنا ہے کہ انصاف نہ ملنے تک سکھ سماج چپ نہیں بیٹھے گا۔ سینکڑوں سکھ راجگھاٹ سے سپریم کورٹ تک مارچ کررہے تھے ۔بھاری پولیس بندوبست کی وجہ سے پولیس نے مظاہرین کو شہید پارک پر ہی روک لیا۔ مظاہرین کے ایک نمائندہ وفد کو پولیس افسر اپنی گاڑیوں میں بٹھا کر سپریم کورٹ لے گئے۔ نمائندہ وفد کی قیادت سردار گرچرن سنگھ ببر و دنگوں کی ودھوا شریمتی ورجن کور اور شریمتی گورمیت کور اور شریمتی کوہلی کور نے کی۔ تنظیم کا کہنا ہے ہماری خوفناک ٹریجڈی اور اس کا احساس کرنے کے بعد براہ کرم فوری انصاف کریں کیونکہ نومبر84ء قتل عام پر سپریم کورٹ کے اب تک چپ رہنے سے دیش کے عدلیہ نظام کے تئیں ایک پوری قوم کے بھروسے کی چولیں ہل گئی ہیں۔ اس کام کو انجام دینے کے لئے اس وقت کے داخلہ سکریٹری ایم کے بلّی دہلی کے گورنر پی جی گوئی ، دہلی پولیس کمشنر سبھاش ٹنڈن، سابق مرکزی وزیر جگدیش ٹائٹلر کی سجن کمار نے فساد میں اہم رول نبھایا تھا اور یہ خوفناک حرکت انجام دی گئی۔ قتل کانڈ کی کمان دہلی کے اس وقت کے پولیس کمشنر سبھاش ٹنڈن نے اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی جس نے دہلی کے اس وقت کے سبھی بڑے پولیس افسروں کے ساتھ مل کر دہلی میں پانچ ہزار بے قصور سکھوں کی لاشوں کو ٹھکانے لگادیا تھا۔ آل انڈیا سکھ کانفرنس نے کہا کہ ہماری سپریم کورٹ سے مودبانہ اپیل ہے کہ عدالت فوراً انصاف کرے۔ ہم سکھ تنظیموں کی مانگ کی پوری حمایت کرتے ہیں۔ وہیں ہم سپریم کورٹ سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ خود ہی اس سنگین مسئلے پر نوٹس لے۔ گجرات دنگوں میں تو عدالت نے آدھا درجن معاملوں کی جانچ کرا لی ہے تو اس سے کہیں بڑے دنگے میں اب تک کوئی نوٹس نہیں لیا گیا؟ اگر وہاں بھی اقلیتیں تھیں تو یہاں بھی تو اقلیت ہی ہے پھر امتیاز کیوں؟
(انل نریندر)

15 مئی 2013

بھارت کو چوکس رہنا ہوگا نواز شریف سے کرشمے کی امید نہ کریں

پاکستانی سیاست کا دور پورا ہوگیا ہے۔ تاریخ ایک طرح سے دوہرارہی ہے12 اکتوبر 1999ء کو کارگل جنگ کے بعد اس وقت پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے اقتدار پر فائض وزیر اعظم نواز شریف کو برخاست کرکے انہیں پہلے جیل میں ڈالا اور پھر بعد میں پاکستان چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ اب2013ء مئی میں پورا چکر گھوم گیا ہے۔ نواز شریف وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ پرویز مشرف اپنے فارم ہاؤس میں نظر بند ہیں۔ ممکن ہے نواز شریف بھی مشرف کو اب پھر سے محفوظ راستہ دیں اور مشرف پھر پاکستان چھوڑیں۔ خیال رہے کہ نواز شریف کو سری لنکا سے آرہے مشرف کے طیارے کا اغوا کرانے اور دہشت گردی پھیلانے کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں خاندان کے 40 افراد کے ساتھ سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ عرش سے فرش پر آنے اور موت کی سزا سے بچنے کے بعد نوام شریف تیسری مرتبہ پاکستان میں اقتدار سنبھال رہے ہیں۔1976ء میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ذریعے شریف خاندان کے فولادی کاروبار کو قومیانے کے واقعہ نے انہیں سیاست میں آنے پر مجبور کردیا۔ وہ پاکستان مسلم لیگ کے ممبر بنے اور پھر پنجاب صوبے کے وزیر اعلی ۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ حالانکہ گزری ایک دہائی میں ان کی زندگی میں زبردست اتار چڑھاؤ آئے لیکن پھر وزیر اعظم بن کر انہوں نے دکھا دیا کہ جیل اور جلا وطنی الگ تھلگ پڑنا صرف اقتدار کا کھیل ہے ۔سیاست میں یہ کسی کو ختم ہوا نہیں ماننا چاہئے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں تعلقات بہتر ہونے کی امید ہے۔ نواز شریف نے چناؤ منشور میں وعدہ کیا ہے کہ لاہورڈکلریشن کے مطابق انہیں بھارت کے ساتھ کشمیر ،سیاچن اور آبی معاملوں سے متعلق سارے تنازعات سلجھائیں گے۔ جیت کے بعد نواز نے کہا بھارت سے اچھے رشتے ان کی پہلی ترجیح ہوگی۔ انہوں نے نہ صرف وزیر اعظم منموہن سنگھ کو فون کیا بلکہ حلف برداری میں شامل ہونے دعوت بھی دے دی۔ انہوں نے وعدہ کیا کارگل کی سچائی کو بھی سامنے لائیں گے۔ ایک انٹرویو میں ممبئی حملے میں پاکستانی فوج کی سازش کو مانتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں کچھ لوگ ہیں جو نہیں چاہتے بھارت سے رشتوں میں بہتری آئے۔ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی ہمیشہ سے بھارت سے رشتوں کے خلاف رہی ہے۔ نواز شریف کا ان دونوں سے ہمیشہ سے ٹکراؤ رہا ہے۔ ویسے بھارت کو اتنا بھی خوش نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان کے اندرونی حالات اتنے خراب ہیں کہ نواز شریف سے کسی کرشمے کی امید نہیں کرنی چاہئے۔ حالانکہ نواز شریف کا اقتدار میں ہونا عمران خاں سے زیادہ بہتر ہے۔ ماہرین کے مطابق شریف کی ترجیح میں ملک کے اندرونی حالات، افغانستان اور فوج سے وابستہ اشو کو سلجھانا ہوگا۔ فوج سے انہیں چنوتی مل سکتی ہے۔ فوج کے ساتھ پہلے بھی ان کی ان بن رہی ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کھلی سرحدوں کے سبب طالبان کا اثر بڑھا ہے۔ بھارت کے ساتھ نواز شریف نے بہتر تعلقات بنانے کی کوشش کی ہے لیکن موجودہ حالات میں پہلے کے مقابلے فرق ہے ۔ اب پاکستان کی ترجیحات میں بھارت تھوڑا فی الحال نظر آرہا ہے۔ خستہ معیشت اور کرپشن سے پریشان پاکستانی عوام کو ان سے بہت امیدیں ہیں اور انہیں ان پر خاص توجہ دینی ہوگی۔ پاکستان کے ساتھ امریکہ کی تعلقات بگڑے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے پاکستان کی نئی سرکار کے ساتھ اچھے رشتوں کی امید جتائی ہے۔ اوبامہ نے ایتوار کو ایک بیان جاری کرکے کہا پاکستان میں انتخابات کے بعدآنے والی سرکار کے ساتھ میری انتظامیہ پاکستان کی عوام کو پائیدار محفوظ اور خوشحال مستقبل دینے کی حمایت میں برابر ساجھیداری جاری رکھے گی۔ حالانکہ اس کے باوجود امریکہ میں قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ کیا پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ جاری رکھے گا؟ نواز شریف نے چناؤ مہم کے دوران امریکہ کی کٹر پسندی کے خلاف جاری لڑائی سے پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی بات کہی تھی۔ نواز شریف طالبان کے تئیں نرم رخ بھی اختیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ نواز شریف پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے بارے میں بھی سخت رویہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے امریکی ڈرون حملے پاکستان کی سرداری کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں میڈیا ذرائع یعنی ٹی وی چینلوں اور اخباروں میں بھی پاکستانی چناؤ کی تعریف ہوئی ہے اور اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ آخر اب اگلی پاکستانی سرکار کس حد تک امریکہ کے ساتھ مل کر کٹر پسندوں کے خلاف جنگ میں مددگار ثابت ہوگی؟ نواز کے سامنے بہت سے چیلنج ہیں دیکھیں کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

یوپی سرکاراب ملکی بغاوت کا مقدمہ واپس لیگی

یوپی کی اکھلیش یادو کی سماجوادی پارٹی سرکار نے گورکھپور دھماکے میں ایک نامزد ملزم طارق قاسمی کے خلاف درج مقدمے کو واپس لینے کے احکامات دئے تھے۔ داخلہ سکریٹری سرویش چندر مشرا کے مطابق گورکھپور کے ڈی ایم اور اے ایس پی کی رپورٹ کی بنیادپر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ 22 مئی 2007ء کو گورکھپور میں ہوئے دھماکے میں 6 لوگ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ابتدائی جانچ میں سامنے آیا تھادھماکے انڈین مجاہدین اورہجی کے دہشت گردوں نے مل کر کئے۔ اسی سلسلے میں مبینہ طور سے وابستہ طارق کا سیمی پربھی گورکھپور دھماکے میں مقدمے میں نام درج کیا گیا تھا۔ پچھلی بسپا سرکار نے دہشت گردوں پر لگے مقدموں کی جانچ کیلئے آر ڈی نمیش کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا تھا سیمی کے گھروالوں کا کہنا ہے کہ نمیش کمیشن کی رپورٹ میں بارہ بنکی سے گرفتار کئے گئے قاسمی اور مجاہد کی گرفتاری پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ یہ گرفتاری پوری طرح سے شبہات کے گھیرے میں ہے۔ ویسے طارق قاسمی پر گورکھپور کے علاوہ لکھنؤ، فیض آباد کورٹ میں 23 نومبر2007ء کو ہوئے ایک دوسرے بلاسٹ میں بھی مقدمہ چل رہا ہے۔ یوپی پولیس اور اسپیشل ٹاسک فورس نے طارق اور ہجی سے متعلق خالد مجاہد کو بارہ بنکی اسٹیشن کے پاس سے دسمبر 2007ء میں گرفتار کیا تھا۔ دونوں کے پاس سے ایک کلو250 گرام آر ڈی ایکس، چھ ڈیٹو نیٹر، تین موبائل ، چھ سم کارڈ ملے تھے۔ بارہ بنکی کی اسپیشل جج کلپنا مشرا نے یوپی سرکار کو کرارا جھٹکا دیتے ہوئے ملزم مشتبہ آتنکیوں پر بارہ بنکی کیس واپس لینے سے متعلق ایک عرضی کو خارج کردیا۔ طارق قاسمی اور خالد مجاہد کے وکیل رندھیر سنگھ سمن نے بتایا کہ جج نے قاسمی و مجاہد کے خلاف درج کیس واپس لینے کی 26 اپریل کو داخل کی گئی عرضی کو خارج کردیا۔ عدالت کا کہنا ہے سرکار نے عرضی میں اپیل کی ہے کہ وہ فرقہ وارانہ بھائی چارے کے تقاضے کے پیش نظر کیس واپس لینا چاہ رہی ہے لیکن اس نے ان دونوں الفاظ کی تشریح نہیں کی۔ سرکار نے جن مقدموں کو واپسی کے لئے اپیل کی تھی ان میں ملکی بغاوت کا بھی ایک معاملہ ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد اترپردیش کے شہری وکاس منتری محمد اعظم خاں نے کہا کہ اس کے خلاف اپیل کی جائے گی اور اوپری عدالت میں جائیں گے۔ کسی بھی معاملے میں سرکار کا اپنا دائرہ اختیار ہوتا ہے اور عدالت کا اپنا۔ اگر کوئی بے قصور ہے تو اسے انصاف ملنا چاہئے۔ ایک ملزم بے قصور ہے تو ہماری رائے میں اعظم صاحب یہ فیصلہ سرکار کو نہیں کرنا ہے اور نہ ہی اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ یہ فیصلہ عدالتوں پر چھوڑ دینا چاہئے۔ آپ اپنے ووٹ بینک کی سیاست کے لئے دیش کی سلامتی سے کھلواڑ کررہے ہیں جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر یہ دونوں واقعی بے قصور ہیں تو یقینی طور سے عدالت سے بری ہوجائیں گے۔ آپ عدالتوں کے کام کاج میں دخل اندازی نہ کریں۔
(انل نریندر)

14 مئی 2013

انسپکٹربدریش اور گیتا شرما کا معاملہ خودکشی یا قتل ؟

دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے انسپکٹر بدریش دت کی گوڑگاؤں میں ہتیا کی گئی یا پھر انہوں نے خودکشی کی یہ تو تفتیش کا موضوع ہے لیکن ان کی موت سے دہلی پولیس نے اپنے ایک جانباز افسر کو ضرور گنوادیا ہے۔ سنیچر کو وہ اپنی مہلا دوست گیتا شرما کے فلیٹ میں اس کے ساتھ مردہ پایاگیا۔ اسپیشل سیل کے سابق اے سی پی راجبیر کی ٹیم میں کبھی شامل رہے اچھے نشانے باز بدریش کے بائیں کان پر ان کی ہی ریوالور سے گولی لگی تھی جبکہ گیتا کے داہنے کان پر گولی لگی تھی۔ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ بدریش قریب ایک سال سے گیتا کے ساتھ لو ان ریلیشن میں رہ رہے تھے۔ انسپکٹر بدریش دت دہلی پولیس میں سال1991ء میں بطور سب انسپکٹر بھرتی ہوئے تھے۔ بدریش انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کہے جانے والے اے سی پی راجبیر سنگھ اور بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں شریک انسپکٹر موہن چند شرما کی ٹیم کے ممبر رہے ۔ انہیں فون کال پکڑنے کا ماسٹر مانا جاتا تھا۔ وہ سیل کے ایک ایسے تیز طرار افسر تھے جنہوں نے فون پکڑنے کے ذریعے کئی دہشت گردوں اور بدمعاشوں تک پہنچ بنائی۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کو یہ تیسرا جھٹکا لگا ہے۔ اس سے پہلے بھی سیل اپنے دو افسر کھو چکی ہے۔ سیل میں اے سی پی رہے راجبیر سنگھ کو بھی گوڑ گاؤں میں ایک پراپرٹی ڈیلر نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ اس کے بعد2009ء میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں انسپکٹر موہن چند شرما شہید ہوگئے تھے۔ دہلی میں سراغ رساں ایجنسی چلانے والی گیتا شرما اور بدریش دونوں اپنے گھر والوں سے الگ رہا کرتے تھے۔ جس طرح سے دونوں ایک سال سے ایک ساتھ رہ رہے تھے اس سے سوال اٹھ رہا ہے کیا ان کے درمیان لو افیئر تھا اور وہ لو ان ریلیشن میں یہاں رہ رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے گیتا کی اپنے شوہر سے کافی پہلے سے طلاق ہوچکی تھی۔ گیتا شرما کا خاندان ممبئی میں رہتا ہے۔ اس کا ایک بیٹا بیرونی ملک میں پڑھ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق نہ تو گیتا کی اپنے گھر والوں سے بنتی تھی اور کچھ ایسی ہی بات بدریش کے بارے میں بھی سننے کو ملی ہے۔ گھر والوں سے ناراضگی کے سبب وہ اکثر گھر سے باہر رہتا تھا۔ ڈیوٹی کے بعد اس کا زیادہ وقت گیتا شرما کے پاس ہی گذرتا تھا۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ فلیٹ میں گولی چلنے کی پڑوسیوں کو بھنک تک نہیں لگی۔ بدریش دت کو ڈیوٹی پر پہنچنے میں دیری ہونے پر اس کے دفتر سے موبائل فون پر کئی کال گئیں۔ کال رسیو نہ ہونے کی صورت میں پولیس سیدھے گوڑ گاؤں کے آر ڈی میں واقع گیتا شرما کے فلیٹ پہنچی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بدریش نے اپنے رشتے کے بارے میں اپنے دفتر میں بھی سب کو بتا رکھا تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر پولیس سیدھے آر ڈی سٹی میں واقع گیتا کے فلیٹ پر کیسے پہنچتی؟ حال ہی میں گیتا شرما جعلسازی کے ایک معاملے میں21 دن تک تہاڑ جیل میں رہ کر باہر آئی تھی۔ بتایا جارہا ہے اس نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے فرضی دستاویز تیار کرکے ان پر اہمیت کی حامل معلومات مانگیں۔ آئی بی کی طرف سے بھیجے گئے دستاویز سمجھ کر اسے وہ جانکاری دے دی گئی۔ اس نے ان معلومات کو متعلقہ لوگوں تک پہنچایا۔ جب اس کے بارے میں یہ بات اجاگر ہوئی تو اسے گرفتار کرکے تہاڑ جیل بھیجا گیا۔ ویسے اسپیشل سیل کے حکام کا تنازعات سے ناطہ رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی مانی جارہی ہے کہ آئی بی اور را کی طرز پر اسپیشل سیل کے حکام پراندرونی نظر رکھنے والی کوئی مشینری نہیں ہے اس لئے بدریش کی موت قتل بھی ہوسکتا ہے۔گیتا شرما کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ مجرمانہ ذہنیت کی عورت تھی اس وجہ سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کہیں اس نے سیل کے انسپکٹرسے دوستی خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لئے تو نہیں کی تھی؟ بتایا جارہا ہے کہ سپاری دے کر مارے جانے والے ارب پتی بسپا لیڈر دیپک بھاردواج سے بھی گیتا کے تعلقات رہے۔ دیپک قتل کانڈ میں بھی اس سے پوچھ تاچھ ہوئی تھی۔ اس کے باوجو انسپکٹر بدریش سے تعلقات قائم تھے۔ بدریش کا قتل کیا گیا یا اس نے خودکشی کی اس کا خلاصہ تو آنے والے دنوں میں جانچ پوری ہونے پر ہوگا۔ فی الحال دہلی پولیس اسپیشل سیل کا ایک اوجانباز افسر کم ہوگیا۔
(انل نریندر)

ایئر ہوسٹس گتیکا خودکشی کیس میں برے پھنسے گوپال کانڈا

ایئر ہوسٹس گتیکا خودکشی کیس میں جمعہ کو ہریانہ کے سابق وزیر مملکت گوپال کانڈا اور معاون ملزم ارونا چڈھا کیس میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔ عدالت نے ان کے خلاف خودکشی کے لئے اکسانے کے علاوہ بدفعلی ، غیر فطری جنسی استحصال کے تحت مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔ روہنی کی ضلع جج ایس کے سروریہ کی عدالت نے دونوں ملزمان کے خلاف ایئرہوسٹس کو خودکشی کے لئے اکسانے، مجرمانہ سازش اور فرضی دستاویز تیار کرنے اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعات میں بھی الزامات عائد کئے ہیں۔ پولیس نے کانڈا اور ارونا کے خلاف داخل ایک ایف آئی آر میں اور چارج شیٹ میں بدفعلی کے متعلق الزام نہیں لگائے تھے لیکن ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے عدالت نے دونوں پر مندرجہ بالا الزامات کے تحت مختلف دفعات میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ پہلی نظرمیں گتیکا کے ساتھ آبروریزی اور غیر فطری جنسی استحصال ہوا۔ جسٹس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر کہا کہ اکتوبر2006 سے جون2012 کے درمیان کانڈا نے گوڑ گاؤں واقع ایم ڈی ایل آر دفتر اور دوسرے کئی مقامات پر ایئر ہوسٹس سے بدفعلی کی۔ الزامات طے کئے جانے کے سبب ضلع جج نے معاملے کو فاسٹ ٹریک عدالت کے خصوصی جج ایم سی گپتا کی عدالت میں سماعت کے لئے ٹرانسفر کرتے ہوئے دونوں ملزموں کو وہاں پیش ہونے کی ہدایت دی۔ عدالت میں سماعت کے دوران یہ خلاصہ ہوا کہ گوپال کانڈا نے گیتا سے جسمانی رشتے بنائے تھے۔ وہ کانڈا سے شادی کرنا چاہ رہی تھی اور اس کے لئے اس نے دباؤ بھی بنایا لیکن کانڈا نے بہانہ بناتے ہوئے شادی سے انکارکردیا اس سے گتیکا کو صدمہ لگا۔ وہ کانڈا سے ملنا نہیں چاہ رہی تھی جبکہ وہ اس پر واپس لوٹنے کا لگاتار دباؤ ڈال رہا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ملزم ارونا چڈھا نے 10 اگست 2012 ء کو پولیس کو دئے اپنے اقبالیہ بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اس نے گوپال کانڈا کے کہنے پر گتیکا کا کئی بار اسقاط حمل کرایا۔ اس نے پولیس کو ان جگہوں کے بارے میں بھی بتایا جہاں یہ کرایا گیا تھا۔ ارونا اسے 9 مارچ 2012ء کو لاجپت نگر میں واقع ڈاکٹر وشاکھا منجال کے کلینک پر اسقاط حمل کے لئے لے گئی تھی۔ ڈاکٹر منجال نے بھی پولیس کی پوچھ تاچھ میں اس دلیل کو قبول کیا ہے۔ عدالت نے اپنے سروے میں پایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی گتیکا کے ساتھ جسمانی تعلق بنانے کا انکشاف کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ سوسائڈ نوٹ میں یہ لکھا جانا کہ انہوں نے اس کی زندگی کو جہنم بنادیا ہے۔ یہ واقعی سیدھے طور پر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح جسمانی اذیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ گتیکا اپنے خاندان کے افراد کے درمیان یہ راز کھولنا نہیں چاہتی تھی۔ معاملے میں گوپال کانڈا اور ارونا چڈھا پر بدفعلی اور غلط حرکت کے الزام طے ہوجانے کے بعد متاثرہ کا نام و ان کی پہچان ظاہر نہ کرنے کی بھی ہدایت میڈیا کو دی گئی ہے۔
(انل نریندر)

12 مئی 2013

آخر جانا ہی پڑا پون بنسل اور اشونی کمار کو

آخر کار اپنی اور ساتھ ہی سرکار کی تمام ٹال مٹول کے بعد ریل منتری پون کمار بنسل اور وزیر قانون اشونی کمار کو وزارت سے ہٹادیاگیا۔ ان دونوں وزرا کے استعفے تب ہوئے جب سونیا گاندھی نے خود وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر جاکر ان سے اس کے لئے کہا۔ رشوت لیکر پرموشن کرنے کے معاملے میں پھنسے ریل منتری پون کمار بنسل جمعرات کی رات وزیر اعظم کی رہائشگاہ گئے اور وہاں سے نکلتے ہی اپنے استعفے کی تصدیق کردی۔ لیکن کوئلہ گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ رپورٹ میں چھیڑ چھاڑ کرنے کے سنگین الزام سے گھرے وزیر قانون اشونی کمار پی ایم کے سامنے اپنے بچاؤ کی دلیل دیتے رہے اس کے چلتے کچھ لمحوں کے لئے یہ فواہ پھیلی کے شاید اشونی کمار گئے اور دوسرے بچ گئے۔ آخر کار اشونی کمار کے بھی استعفے کی تصدیق ہوگئی۔ یہ پہلی بار ہے جب کرپشن کے الگ الگ معاملوں سے گھرے دو مرکز ی وزرا کو ایک ساتھ استعفیٰ دینا پڑا۔ اپوزیشن دونوں کا استعفیٰ مانگ رہی تھی اور اس نے اس وجہ سے پچھلے دنوں پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن بھی چلنے نہیں دیا۔ اس بائیکاٹ کے چلتے سونیا گاندھی کافوڈ سکیورٹی بل بھی پیش نہیں ہوسکا۔ ان دونوں کے استعفوں کے بعد کانگریس اور سرکار دونوں نے راحت کی سانس لی ہوگی لیکن اس کارروائی پر کچھ سوالیہ نشان ضرور لگتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں نوک جھونک کے بعد سونیا گاندھی نے پہلے تو دادا گیری دکھائی پھر گاندھی گیری دکھاتے ہوئے سشما سوراج کو شیشے میں اتارنے کی کوشش کی۔ سونیا چاہتی تھیں کہ کسی طرح سے ہاؤس کی کارروائی چلے تاکہ ان کا ڈریم بل جسے گیم چینجر بھی کانگریس کہہ رہی تھی ،پاس ہوجائے۔ لیکن سشما نے صاف کہہ دیا کے پہلے دونوں وزرا اور وزیر اعظم کا استعفیٰ ہو۔ اگر وزرا کا استعفیٰ ہوجاتا ہے تو پی ایم کے استعفے پر زور نہیں دے گی لیکن تب سرکار اپوزیشن کی بات نہیں مانیں اور نتیجتاً سونیا گاندھی کا فوڈ سکیورٹی بل اور راہل گاندھی کا ڈریم بل اراضی تحویل رہ گئے۔ممکن ہے کانگریس اعلی کمان یہ اشارہ دینا چاہتا ہو کہ وہ اپوزیشن کے دباؤ میں استعفے نہیں لے رہا ہے۔ جب پانی سر سے گذر گیا تھا اور حقائق چرمرا گئے۔ کرناٹک میں کانگریس جیت گئی تب جاکر یہ استعفے دئے گئے۔ کانگریس جب یوپی اے کی چوتھی سالگرہ کے موقعے پر ہونے والی تقریب 22 مئی کو ہے۔ اس کے سامنے جشن کے ساتھ ساتھ آتم چنتن کی بھی تمام وجوہات موجود رہیں گی۔ آنے والے عام چناؤکو دیکھتے ہوئے بھی یوپی اے کے سامنے تمام چنوتیاں ہیں۔ سب سے بڑی چنوتی ہے اس کے پاس بس ایک ہی سال بچا ہے جن میں اسے ایک طرف کرپشن و مہنگائی جیسے اشوز کو لیکر اس کی خفت ہوئی تھی اس کو بہتر بنانا ہے۔ وہیں اپنے ادھورے کاموں کو بھی پورا کرنا ہوگا۔ اگر بچے ہوئے ایک سال میں یہ کام مکمل نہیں ہوپائے تو عام چناؤ میں مقابلہ اور سخت ہوجائے گا۔ یوپی اےI- نے اپنی صاف ستھری ساکھ اور ٹھیک ٹھاک گورننس کی بات کی جاتی ہے یوپی اے کے لئے تنازعوں اور گھوٹالوں کے چلتے دوسری میعاد کسی برے سپنے سے کم نہیں رہی۔ یوپی اے II- کے سرکار کے پہلے سال کے اندر ہی یوپی اے سرکار تنازعوں میں گھر گئی اور اس کے کئی سرکردہ وکٹ گئے۔ پہلا وکٹ سریش کلماڑی کا گرا۔انہیں کامن ویلتھ گیمز گھوٹالے کی وجہ سے تہاڑ جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ ساتھ ہی کمیٹی کا بھاری بھرکم عہدہ بھی گنوانا پڑا۔ دوسرا وکٹ مہاراشٹر کے وزیر اعلی اشوک چوہان کا گرا جو آدرش گھوٹالے کی وجہ سے کرسی سے الگ ہوئے۔ پھر آیا اے راجہ کا نمبر۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کی وجہ سے ٹیلی کام وزارت تو راجہ کو گنوانی ہی پڑی ساتھ ہی تہاڑ جیل بھی جانا پڑا۔ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے سے وابستہ کچھ لوگوں کے اور دیاندھی مارن کی خاندانی کمپنیوں کے لین دین کا انکشاف ہونے کے بعد مارن کو بھی وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔ ہماچل پردیش میں ایک زمین سے وابستہ تنازعے میں عدالت کے ایک فیصلے کی وجہ سے ویر بھدر سنگھ کو بھی مرکزی وزیر کی کرسی گنوانی پڑی لیکن اس کے باوجود ویر بھدر کی رہنمائی والی کانگریس نے ہماچل اسمبلی چناؤ میں جیت حاصل کرلی جس کی وجہ سے انہیں وزیر اعلی کی کرسی مل گئی۔ کوئلہ گھوٹالے معاملے میں اپنی بھائی کی کمپنی کے نام کی سفارش کا لیٹر پی ایم اے کو لکھنے کے الزام میں وزیر سیاحت سبود کانت سہائے کو کرسی چھوڑنے پڑی اور اب پون بنسل اور اشونی کمار کا نمبر آگیا ہے اس لئے جہاں ان دونوں وزرا کا استعفیٰ صحیح سمت میں صحیح قدم مانا جائے گا لیکن کانگریس کو ابھی لمبا راستہ طے کرنا ہے جو چیلنج بھرا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ ان دونوں کے استعفے ٹل سکتے ہیں آخر کار انہیں استعفیٰ دینا ہی پڑا۔
(انل نریندر)

کرناٹک چناؤ میں نہ راہل گاندھی جیتے اور نہ ہی نریندر مودی ہارے

کرناٹک اسمبلی چناؤ میں بھلے ہی گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی سیدھے طور پر کوئی لینا دینا نہ ہو لیکن جیسی امید تھی اگر کرناٹک میں بھاجپا ہاری تو کانگریس اس ہار کا ٹھیکرا نریندر مودی پر ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ وہی ہوا بھاجپا کے وہاں چناؤ ہارتے ہی کانگریس نے ایک ساتھ ایک آواز میں مودی پر حملہ بول دیا۔ کوئی وزیر کہہ رہا ہے کہ مودی کا جہاز کرناٹک میں ڈوب گیا تو کوئی انہیں ڈوبتا ستارہ کہہ رہا ہے اور کوئی کہہ رہا ہے کہ گجرات کے باہر مودی زیرو ہیں۔ جیت کی خوشی میں کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ تو یہاں تک کہہ گئے کہ گجرات کے باہر انہیں کوئی جانتا تک نہیں۔ کانگریس نے کرناٹک میں اپنی جیت کا سہرہ یووراج راہل گاندھی کے سر پر باندھا ہے۔ اصل میں لگتا یہ ہے کہ کانگریس نے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ مودی پر اس طرح حملہ کرنا ہے جس سے یہ سندیش جائے کہ کرناٹک میں بھاجپا کی ہار کے ساتھ ہی مودی کے حوصلے کو بھی پست کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ آنے والے وقت میں مودی اتنی ہمت سے چناؤ مہم میں نہ اترسکیں۔ انہیں میدان میں آنے سے پہلے ہی ذہنی طور پر مایوس کردیا جائے۔ دراصل کانگریس کو اگر بھاجپا کے کسی لیڈر سے خوف ہے تو وہ مودی ہیں۔ وہ جانتی ہے کہ اگر مودی کے نام کا سکہ چل گیا تو پھر کانگریس کی قبر کھود سکتے ہیں اس لئے جس طرح بھی ممکن ہو مودی کے حوصلے کمزور کرتے رہو۔ اور راہل گاندھی کی پبلسٹی بھی اس طرح کرو کے وہ مودی کے سامنے اپنی کو زیادہ طاقتور دکھا سکیں۔ اس طرح کرناٹک اسمبلی چناؤ نتائج کا سہرہ کانگریس راہل گاندھی کو دے رہی ہے۔وزیر اعظم نے بھی جیت کا سہرہ راہل گاندھی کے سر باندھا ہے۔ وزیر پالیمانی امور کملناتھ نے کہا ہے کہ اس ہار کے ساتھ بھاجپا کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے۔ پارٹی کے اسٹار کمپینر نریندر مودی کی پول کھل گئی ہے۔ کرناٹک میں مودی کا جادو نہیں چلا لیکن وہاں مودی کی مقبولیت کام نہ آئی اور بھاجپا وہیں ختم ہوگئی۔ مرکزی وزیر کپل سبل نے کہا مودی خود ہی بنی بنائی ایک سنستھا ہیں وہ ہمیشہ خود کو ہیرو کہتے ہیں کرناٹک کی جنتا نے انہیں زیرو ثابت کردیا۔ اسی طرح کے خیالات سلمان خورشید نے بھی ظاہر کئے۔ کرناٹک کی حقیقت تو یہ ہے کہ اسمبلی چناؤ میں نہ راہل گاندھی جیتے اور نہ نریندر مودی ہارے۔ کرناٹک میں گجرات میں تیسری بار جیت درج کرانے کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ جب پردیش کے باہر مودی کو اپنا جلوہ دکھانے کو ملا۔ مودی نے 37 سیٹوں پر چناؤ مہم میں حصہ لیا لیکن اس میں آدھی سے کم سیٹوں پر پارٹی کو کامیابی ملی۔ راہل نے60 اسمبلی حلقوں کا دورہ کیا لیکن ان میں سے کئی سیٹوں پر کانگریس ہاری۔ بھاجپا کے سابق وزیر سدا نند گوڑا پہلے دعوی کررہے تھے کہ پارٹی کو تقریباً 65 سیٹیں اور کانگریس کو80 سیٹیں مل سکتی ہیں لیکن بعد میں وہ بھی مان گئے کہ بھاجپا کی حالت پتلی ہے۔ انہوں نے مانا کہ یدی یروپا شری رملو کے جانے سے پارٹی کو نقصان ہوا۔ پارٹی کے یہ امید تھی کہ اس کے مقبول لیڈر نریندر مودی شاید کرناٹک میں کوئی معجزہ دکھائیں اور بازی پلٹ لیں۔ لیکن حالات اتنے خراب ہو چکے تھے کہ مودی کا کرشمہ بھی بھاجپا کو نہیں بچا پایا۔ پہلے ہی اتنا غصہ تھا کہ مودی کی تقریر بھی اس کی بھرپائی نہ کرپائی۔ کرناٹک میں ملی کراری ہار کے بعد بھاجپا پارلیمانی بورڈ نے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے نتیجہ نکالا کے سرکار کی نان پرفارمینس ، یدی یروپا کی بغاوت اور وہاں سیاسی اتھل پتھل اور آخر تک جاری گروپ بندی نے ریاست میں پارٹی کی لٹیا ڈبودی۔ نتائج بتاتے ہیں کہ بھاجپا کی سرکار کو کرپشن سے زیادہ خراب گورننس ،بدانتظامی اور کام نہ ہونا ہار کا سبب بنا۔ سرکار پہلے پانچ برسوں میں اچھے انتظامیہ کے نام پر لوگوں کے توقع پر کھرا اترنے میں ناکام رہی۔ یہی وجہ ہے خاص کر شہروں میں بھاجپا کی کراری ہار ہوئی۔ دراصل اشو نہ مودی تھا نہ راہل گاندھی۔ کرپشن اور گورننس کے اشو میں یہ فرق ہے کہ کرپشن کا اثر تھوڑا دیر سے اوردرپردہ طور سے دکھائی پڑتا ہے لیکن گورننس کا عام لوگوں پر سیدھا اور فوری اثر ہوتا ہے۔ ایسے میں اچھی انتظامیہ ضروری اشو بن جاتا ہے۔ حالانکہ آگے چل کر دیکھیں گے یہ دونوں اشو ایک ہی سکے کے دو پہلو ہوجائیں گے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...