Translater

19 نومبر 2011

پیٹرول کے دام پر سرکاری دلیلوں کا پردہ فاش



Published On 19th November 2011
انل نریندر
محض 15 دن میں پیٹرول کی بڑھی قیمتیں واپس ہونا اگر معجزہ نہیں تو حیرت انگیز ضرور ہے۔ پچھلے33 مہینوں میں یہ صرف دوسرا موقعہ ہے جب پیٹرول کی خوردہ قیمتوں میں کٹوتی کی گئی ہے اور پیٹرو مصنوعات پر آخر کنٹرول کس کا ہے؟ کانگریس پارٹی اس کا پورا فائدہ لینے کے چکر میں ہے۔ کیا اترپردیش میں چناوی مہم کا آغاز کرکے کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کو مرکزی سرکار ہر طرح سے حمایت دے رہی ہے؟ یہ ہی وجہ ہے کہ راہل کی مہم شروع کرنے کے ایک دن بعد ہی حکومت کو تیل کمپنیوں نے راحت دیتے ہوئے پیٹرول کی خوردہ قیمت میں 2.25 روپے تک کی کٹوتی کردی ہے۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہونے جارہا ہے شاید سرکار نے سوچا ہوگا کہ دباؤ کم کیا جائے پھر پبلک کی ناراضگی بھی سرکار کے لئے بھاری پڑ رہی تھی۔ جنتا کے ساتھ سرکار کی اتحادی پارٹیاں خاص کر ترنمول کانگریس کا دباؤ بھی ایک وجہ ضرور رہی۔سوال یہ ہے کہ آخر پیٹرول کے داموں پر کنٹرول کس کا ہے؟ یوپی اے سرکار سے جب قیمت بڑھانے کی وضاحت مانگی گئی تو اس کے نمائندے کی شکل میں وزیر مالیات پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ پچھلے سال جون میں ہوئے ڈی ریگولیشن کے بعد پیٹرول کی قیمتیں طے کرنے کا حق پوری طرح سے تیل مارکٹنگ کمپنیوں کے پاس چلا گیا ہے۔ خود وزیر اعظم نے بیرون ملک سے اس بارے میں رائے زنی کی تھی۔ پیٹرول تو پیٹرول ہے آہستہ آہستہ ساری چیزوں کی قیمتیں طے کرنے کا کام بھی پوری طرح سے بازار پر چھوڑنا ان کی حکومت کی ترجیح ہے۔ یہ ہی نہیں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یہاں تک کہا تھا کہ بڑھے ہوئے پیٹرول کے دام کم نہیں ہوں گے؟ ایسے میں یہ معجزہ آخر کیسے ہوگیا۔ تیل مارکٹنگ کمپنیاں پیٹرول کے دام حالیہ اضافے کی سطح سے تھوڑا نیچے لانے کو تیار ہوگئیں؟ ان کمپنیوں کے علاوہ اعلی افسروں کا کہنا ہے کہ ایسا انہوں نے بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے روپے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے کیا ہے۔ ان دونوں رجحانات کو غور سے دیکھیں تو لگے گا کہ اس فیصلے کے حق میں اس سے زیادہ لچر دلیل اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ ڈالر کے مقابلے روپیہ فی الحال پچھلے33 مہینوں میں سب سے نچلی سطح پر چل رہا ہے لہٰذا او ایم سی منیجروں کے لئے اس مورچے پر کچھ کرنے کی کوئی جگہ نہیں بنتی۔ کچے تیل کی قیمتیں روزانہ گھٹتی بڑھتی رہتی ہیں۔لیکن اس بازار کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پچھلے 15 روز میں ہندوستان کے لئے اس کی اوسط قیمت108 سے بڑھ کر110 فی بیرل ہوگئی ہے۔ ظاہر ہے پیٹرول کی قیمتیں بازار کے کسی رجحان کے تحت نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کے چلتے نیچے آئی ہیں اور سرکار نے ایسا کرکے اپنے آپ کو بے نقاب کردیا ہے۔ بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کی دلیل بے جواز لگتی ہے۔جون2010 میں پیٹرول قیمت ڈی کنٹرول کئے جانے کے بعد سے قیمتوں میں تقریباً 23 روپے کا اضافہ ہوا ہے اس لئے یہ کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہی لگتی ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو پچھلے ڈیڑھ سال میں پیٹرول کی قیمتوں میں 13 بار اضافہ کیا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ چوطرفہ دباؤ کو دیکھتے ہوئے یوپی اے سرکار بوکھلا گئی ہے۔ اس دباؤ کو دیکھ کر کانگریس اعلی کمان اور سرکار نے دیر سے ہی آتم منتھن تو کیا لیکن مہنگائی کے مسئلے پر پہلے ہی پارٹی کی کرکری ہوچکی ہے۔ ایسے میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اسے اسمبلی چناؤ میں کہیں نقصان نہ پہنچادے، ان حالات کو دیکھتے ہوئے مرکزی سرکار حرکت میں آگئی ہے اور اس نے پیٹرول کمپنیوں پر قیمت کم کرنے کا دباؤ بنایا۔ ویسے یہ سب ناٹک تھا کیونکہ انڈین آئل کے چیئرمین پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ اگر سرکار کہے گی تو ہم قیمتیں کم کرنے کو تیار ہیں۔ کل ملا کر سرکار کی دلیل کی ایک جھٹکے میں ہوا نکل گئی ہے کہ سرکار کا پیٹرو مصنوعات کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ سرکار نے پیٹرول کی قیمتوں میں یہ کمی صرف ووٹروں کو خوش کرنے کے خاطر کی ہے اور چناؤ ختم ہوتے ہی تیل کمپنیوں کو خوش کرنے کے لئے قیمتوں میں دوگنا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Petrol Price, Prime Minister, Trinamool congress, UPA, Vir Arjun

ایک غلطی کی اتنی بڑی قیمت؟



Published On 19th November 2011
انل نریندر
ٹائمس ناؤ ٹی وی چینل کو کبھی یہ اندازہ نہ رہا ہوگا ایک چھوٹی سی غلطی کا اتنا بڑا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا۔ ہوا یوں کہ ٹی وی چینل ٹائمس ناؤ نے ایک خبر کے ساتھ غلطی سے کسی دوسرے جسٹس کے نام کے ساتھ پریس کونسل کے سابق چیئرمین پی بی ساونت کی فوٹو دکھا دی۔ لہٰذاپی بی ساونت نے چینل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا۔ ممبئی ہائی کورٹ نے چینل کو ہدایت دی کہ وہ100 کروڑ کا ہرجانہ ادا کرے۔ 20 کروڑ روپے نقد جمع کرانے اور 80 کروڑ روپے کی بینک گارنٹی دینے کو کہا گیا ہے۔ پیر کے روز سپریم کورٹ نے ممبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں مداخلت سے انکار کردیا۔ممبئی ہائی کورٹ کے حالیہ حکم میں ٹائمس ناؤ چینل سے کہا گیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس پی بی ساونت کو100 کروڑ روپے کا ہرجانہ دئے جانے کے نچلی عدالت پر سماعت سے پہلے 20 کروڑ روپے نقد اور 80 کروڑ روپے بینک گارنٹی جمع کرے۔ پریس کونسل کے چیئرمین مارکنڈے کاٹجو نے ٹائمس ناؤ چینل کے معاملے میں ہائی کورٹ اور ممبئی ہائی کورٹ کے احکامات کوسخت قراردیا اور ان پر پھر سے نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ قومی پریس دوس پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ٹائمس ناؤ چینل کے معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات کے سلسلے میں میرا ایک بیان ہے ان احکامات کے تئیں پورے احترام کے ساتھ میرا خیال ہے کہ وہ غلط ہے اور اس پر دوبارہ غور کئے جانے کی ضرورت ہے۔ چینل کی غلطی کو بھول اور انسانی غلطی بتاتے ہوئے انہوں نے کہا اس میں کوئی غلط نیت ظاہر نہیں ہوتی اور غلطی تکنیکی گڑ بڑی کی وجہ سے ہوئی۔ انہوں نے کہا ’’ہم سبھی انسان ہیں‘‘ اور ہم سب غلطی کرتے ہیں۔ میرے خیال میں مناسب حکم یہ ہوتا کہ ٹی وی چینل کو مستقبل میں ہوشیار رہنے کی سخت وارننگ دے دی جاتی۔ کاٹجو نے کہا ان کا بااحترام نظریہ یہ ہے کہ 100 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا جانا غلطی کے حساب سے بہت زیادہ ہے۔ قانونی کتاب میں تناسب کے اصول اچھی طرح سے واضح ہیں۔ کوی رحیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ایک بار بھگوان وشنو سو رہے تھے تو رشی بھرگو وہاں آئے اور انہوں نے وشنو کے سینے پر زور سے لات ماردی۔ وہ (بھگوان) جاگے اور اس کا جواب دینے کے بجائے انہوں نے بھرگو سے پیار سے پوچھا کہ کہیں ان کے پیر میں چوٹ تو نہیں لگ گئی۔ کاٹجو نے کہا ’’بھگوان وشنو سرو شکتی مان تھے پھر بھی انہوں نے جوابی کارروائی نہیں کی۔ میں بھارت میں سبھی ججوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مہان کوی کے دوہے کو یاد رکھیں‘‘۔
ہم جسٹس مارکنڈے کاٹجو کے نظریات سے متفق ہیں اور ان کی رائے کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ ٹائمس ناؤ سے غلطی ہوئی ہے جان بوجھ کر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا نہیں ہونی چاہئے تاکہ ادارہ ہی بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائے۔ٹائمس ناؤ تو شاید اس جھٹکے کو جھیل جائے لیکن درجنوں چینل ایسے ہوں گے جو اتنا بھاری بھرکم جرمانہ نہیں سہہ پائیں گے۔ کل کواخباروں کا بھی نمبر آسکتا ہے۔ کیا ایک طریقے سے یہ پریس کا گلا گھونٹا تو نہیں ہے؟
Anil Narendra, Bombay High Court, Daily Pratap, Justice Katju, Supreme Court, Times Now, Vir Arjun

18 نومبر 2011

یوپی کی سیاسی شطرنج میں مایاوتی کا زبردست داؤ



Published On 18th November 2011
انل نریندر
اترپردیش کی سیاسی شطرنج میں پہلی چال راہل گاندھی نے چلی۔ اب بہن جی نے اس کا کرارا جواب دیا ہے ۔بسپا سپریموں نے اترپردیش کو چار حصوں میں بانٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ہفتے بھر کے اندر اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں ایک پرستاؤ پاس کرکے مرکز کو بھیج دیا جائے گا۔ اترپردیش کی پہلے ہی تقسیم ہوچکی ہے جس سے اترانچل بنا۔ شاید اسی کو ذہن میں رکھ کر بہن مایاوتی نے یہ سیاسی داؤ چلا ہے۔ اب مغربی اترپردیش پوروانچل،بندیل کھنڈ اور اودھ علاقے کو موجودہ اترپردی سے الگ کردیا جائے گا۔ کیبنٹ کی میٹنگ کے بعد مایاوتی نے اس اہم فیصلے کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر امبیڈکر چھوٹی ریاستو ں کی تشکیل کے حمایتی تھے۔ بسپا سرکار نے 2007 ء میں ہی مرکز سے اترپردیش کو چار ریاستوں میں بانٹنے کی سفارش کی تھی۔ اسمبلی چناؤ کی آہٹ کے درمیان یوپی کے بٹوارے کا سوال اچھال کر بہن جی نے ایک ماسٹر اسٹروک کھیلا ہے۔ اترپردیش کی تقسیم ہو یا نہ ہو لیکن جب اسمبلی چناؤ سرپر ہیں ایسے میں ریاستوں کی تشکیل کا اشو اچھال کر مایاوتی نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں اترپردیش میں بسپا کو گھیرنے کی مہم میں لگی اپوزیشن خاص طور سے سپا کانگریس کے لئے مشکل کھڑی ہوگی۔ یوپی میں بڑی اپوزیشن پارٹی سماج وادی پارٹی ہے۔ پچھلے پانچ سالوں سے سڑکوں پر بسپا کے خلاف مورچہ سنبھالے ہوئے ہے۔ اس نے اس مدت کے دوران بسپا حکومت کے کام کاج کو اشوبنائے ہیں۔ ریاستی تشکیل کا اشو اچھالنے کے پیچھے سپا کی جارحیت بھی بسپا کی لیڈر شپ کے ذہن میں رہی ہوگی۔ پوروانچل، بندیل کھنڈ اور مغربی اترپردیش کے لوگ طویل عرصے سے علیحدہ ریاستوں کی مانگ کررہے ہیں۔ سپا اترپردیش کی مزید تقسیم کے خلاف ہے۔ بسپا اس اشو کو خوب ہوا دے گی۔ ایسے میں پوروانچل ، بندیل کھنڈ اور مغربی اترپردیش میں سپا کو اب بسپا پر ہلا بولنے سے زیادہ وہاں کے لوگوں کو سمجھانے میں وقت ضائع کرنا پڑے گا۔ آخر کار وہ ریاست کی تقسیم کے کیوں خلاف ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں اترپردیش میں ملی غیر متوقع کامیابی کے بعد کانگریس ریاست میں اپنی واپسی کی امید لگانے لگی ہے۔ سال2009ء کے بعد سے راہل گاندھی نے ایک طرح سے اترپردیش میں ڈیرا ڈالا ہوا ہے۔ پارٹی کی کوشش ہے کہ یوپی میں اپنے روایتی ووٹ بینک دلت، براہمن، مسلم کو کیش کرلے۔پردیش میں کانگریس کمزور ہونے پر دلت ووٹ بینک پورا کا پورا بسپا میں منتقل ہوچکا ہے۔ پچھلے چناؤ میں براہمنوں نے بسپا کا ساتھ دیا۔
بھاجپا کو ہرانے کے لئے مسلمانوں نے بھی بسپا کا ساتھ دیا۔ بسپا جانتی ہے کانگریس کے اس ووٹ بینک میں سیندھ لگانے کا مطلب اس کا کمزور ہونا ہے۔ اسی طرح کانگریس پوروانچل ،بندیل کھنڈ کی بد حالی کو اشو بنا کر بسپا کو گھیر رہی ہے۔ کانگریس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ یہ کہہ کر بھی اترپردیش کے بٹوارے کی حمایت نہیں کرسکتی کیونکہ تلنگانہ کا مسئلہ اس کے لئے ابھی درد سر بنا ہوا ہے۔تلنگانہ کے علاوہ بھی دیش میں کئی ریاستوں کی تقسیم کی مانگیں اٹھتی رہی ہیں۔ اگر یوپی کا بٹوارہ ہوتا ہے تو اس کا بڑا رد عمل ہونے کا خطرہ ہے۔تقسیم کا سلسلہ کہاں رکے گا یہ کہنا مشکل ہے۔بہن جی کے اس دعوے سے راہل گاندھی کا یوپی مشن نئی الجھنوں میں ضرور پھنس جائے گا۔ حالانکہ کانگریس کہہ چکی ہے اس کی پالیسی یہی ہے کہ چھوٹی ریاستوں کے لئے نئی ریاست کمیشن کی تشکیل کی جائے لیکن صرف ایک جملے سے ''ہاتھی'' اس بھاری بھرکم داؤ کا شاید ہی مقابلہ کر پائے۔
بسپا کیبنٹ نے ریاستی تشکیل کے ریزولیوشن کو بھلے ہی اپنی منظوری دے دی ہو لیکن اس میں کوئی شک نہیں یہ بات صاف ہونے والی ہے کہ سرکار اسے پاس بھی کرا لے گی لیکن یہ کوشش ریاستی تشکیل کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ آئینی نظام کے مطابق ریاست کی تشکیل مرکز کی طرف سے ریزولیوشن پاس ہونے پر ہی ہوسکتی ہے اس لئے ان ریاستوں کی تشکیل کا راستہ بہت لمبا ہے اور یہ تشکیل اسی صورت میں ہوگی جب مرکز پرستاؤ پاس کرے۔ آئین کی دفاع تین کے مطابق کسی نئی ریاست کی تشکیل یا کسی ریاست کی تقسیم یا ریاستوں کے کچھ حصوں کو آپس میں بدلنے کا حق صرف مرکز کے پاس ہی ہے۔ کسی بھی ریاست کے ذریعے بھیجے جانے والی تقسیم کی تجویز ماننے کے لئے مرکز پابند نہیں ہے۔ کسی بھی ریاست کی تقسیم کے لئے نہ تو ریاستی کمیشن بنانے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ریاستی حکومتوں کی منظوری کی۔ اگر کسی ریاست کی تقسیم کو کرکے نئی ریاست بنانا ہے تو مرکز کو کیبنٹ کی منظوری کے پرستاؤ کو راشٹرپتی کو بھیجنا ہوتا ہے۔ راشٹرپتی اسے ریاست میں یا راجیوں کو بھیجتے ہیں جن کی تقسیم ہوتی ہے۔ متعلقہ اسمبلیوں کو ایک یقینی مدت میں اپنی رائے صدر کو بھیجنی ہوتی ہے۔ اگر کسی اسمبلی کے ذریعے اس پرستاؤ کی مخالفت کی جاتی ہے تو اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ صدر کی منظوری کے بعد مرکز کو اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پاس کرانا ہوتا ہے اور اس کے بعد ہی اسے پھر صدر کو بھیجا جانا ہوتا ہے۔ صدر کی منظوری کے بعد ہی ریاست کی تقسیم کرکے نئی ریاست کی تشکیل ہوسکتی ہے۔
اترپردیش کو بانٹنے کی تجویز بیشک نئی نہیں ہے لیکن اس مسئلے پر مایاوتی نے تیزی دکھا کر جس طریقے سے اسے پاس کرنے کا عزم دکھایا اس سے اس نے تمام پارٹیوں کواس سے اس نے تمام پارٹیوں کو بیک فٹ پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں حالانکہ یہ سوال بھی کررہی ہیں کہ ریاست کو بانٹنے کی یہ پہل انہوں نے ابھی کیوں کی ہے۔ کیونکہ چناؤ سر پر ہیں لیکن ہمیں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی سیاست میں نہ پڑ کر ریاست کی بہتری کی سمت میں سوچنا چاہئے۔حمایتیوں کی دلیل ہے کہ بڑی ریاست میں ایک حصے کی آواز پورے صوبے تک نہیں جا پاتی۔ اسی وجہ سے انتظامیہ کیلئے کئی بار پریشانی کھڑی ہوجاتی ہے۔ ریاست کی تقسیم سے یہ انتظامی مسئلہ تو ختم ہوگا لیکن مقامی مسائل کی ہلکی گارنٹی بھی ہوگی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عوامی سہولیات اور ترقی کی گارنٹی کے لئے جس سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے اس پر آج کوئی بات کرنا نہیں چاہتا۔ سوال یہ بھی ہے کیا آزادانہ طور سے ان مجوزہ ریاستوں کے پاس سبھی قسم کے تمام وسائل بچے رہ جائیں گے جس پر اترپردیش کھڑا ہے؟ جس طرح سے باقی نئی چھوٹی ریاستیں بنی ہیں ان کے سیاسی تجربات تو دراصل کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ تلنگانہ جیسے اشو کو کانگریس نے سیاسی فائدے کے لئے کھلے عام اٹھایا لیکن جب سامنا کرنے کی باری آئی تو وہ پس و پیش میں الجھا دئے گئے۔ ہرسیاسی پارٹی کی یہ ہی ٹریجڈی ہے کہ علاقے کے اہم وراثتوں کے راج تلک کی باتوں کو ترقی کی قیاس آرائی کے انتظام کا نام دے دیا جائے لیکن چاہے یہ سیاسی داؤ ہی کیوں نہ ہو۔ مایاوتی نے بڑی چالاکی سے ایک بحث چھیڑ دی ہے اور چناؤ کی لکھنؤسے نکل کر دہلی کی سیاست فی الحال گرم ہے۔ ووٹ کی سیاست میں خطرہ لینے سے سب ڈرتے ہیں لیکن نیت میں کھوٹ کے سوال پر سبھی لوگ بحث کو تیار ہیں ۔کیا اس کی سیاسی پارٹیوں میں سچ مچ کوئی اخلاقی ہمت ہے تو اترپردیش میں سچائی کے ساتھ جا سکیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ سرکاریں اس وقت سیاسی مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کرتی ہیں لیکن یہ مناسب نہیں کہ کسی ریاست کی تشکیل کا فیصلہ صرف چناوی فائدے کے لئے کیا جائے۔ اگر سبھی سیاسی پارٹیاں متفق ہوں تو مرکزی حکومت کو چاہئے کہ اس مسئلے کے حل کے لئے ایک دوسرا ریاستی تشکیل کمیشن بنانے کا فیصلہ لے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Mayawati, Rahul Gandhi, Uttar Pradesh, Vir Arjun

17 نومبر 2011

راہل نے کیا یوپی میں شہ مات کے کھیل کا آغاز




Published On 17th November 2011
انل نریندر
ماننا پڑے گا کہ اس مرتبہ کانگریس کے یووراج جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے اپنے مشن 2012ء یوپی مہم کا آغاز بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ اس مرتبہ اس مہم کے پیچھے پورا ہوم ورک کرکے میدان میں چھلانگ لگائی گئی ہے۔ سیاروں کی حالت بھی بدلی ہے اور شروع میں ہی اچھا آغاز ہوگیا ہے۔پھر سیاست میں ٹوٹکوں کی خاص اہمیت ہوتی ہے۔ یہ بات راہل گاندھی کو بھی ا ب سمجھ میں آنے لگی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ مشن2012ء کے لئے انہوں نے اس بزرگ کی سرزمین کو چنا جہاں سے ان کے بزرگوں کو ہار کبھی جھیلنی نہیں پڑی تھی۔ پھولپور کانگریس کے لئے ایک ایسی سیٹ تھی جہاں سے جواہر لعل نہرو نہ صرف زندگی بھر جیتے بلکہ ان کے نام پر کانگریس نے یہ سیٹ کافی وقت تک برقرار رکھی۔ یہ ہی نہیں پھولپور سے ہی راہل بسپا سپریموں اور اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی کے لئے دلت،براہمن تجزیوں کو پلیتا لگانے کا سندیش دینے میں کامیاب ہوتے دیکھے جا سکیں گے کیونکہ1957کے لوک سبھا چناؤ میں جب یہ سیٹ دو رہنما والی تھی تب اس سیٹ پر پنڈت جواہر لال نہرو اور مسریادین جیتے تھے۔مسریادن دلت برادری کے تھے۔ پھولپور کو اپنی مہم کیلئے چننے کا ایک پیغام یہ بھی ہے ترقی کی دوڑ میں اترپردیش اتنا پچھڑ گیا ہے۔ راہل نے اپنی تقریر میں اس حقیقت کو بخوبی اچھالا۔ پہلی مرتبہ ہم نے راہل گاندھی کو ایک اینگری ینگ مین کی ساکھ اور تیوروں میں دیکھا۔ پیر کو جھونسی کی ریلی میں جارحانہ تیور وں میں راہل نظر آئے اس سے طے ہے کہ اسمبلی چناؤبڑے سنسنی خیز ہونے والے ہیں۔ راہل نے مایاوتی سرکار کو آزادی کے بعد کی سب سے کرپٹ اور لٹیری حکومت کی تشبیہ دے ڈالی۔ ان کے ایک بیان سے بہرحال ضرور ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ انہوں نے نوجوانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کب تک آپ لوگ مہاراشٹر جاکر بھیک مانگو گے؟ کب تک دہلی ، پنجاب میں مزدوری کرتے رہو گے؟ آپ کی وزیر اعلی تو یہاں جیب بھرنے میں لگی ہیں۔ اس حکومت کو اب اکھاڑ پھینکئے۔ راہل نے کہا کہ نیتا جب تک غریب کے گھر جاکر گندے کنویں کا پانی نہیں پیئے گا اس کا پیٹ نہیں خراب نہیں ہوگا وہ غریبوں کے قریب نہیں سمجھا جاسکے گا۔ جو غریبوں کی حالت سمجھتا ہے غصہ اسے ہی آتا ہے۔ ایک وقت ملائم اور مایا کو بھی غصہ آیا کرتا تھا لیکن اب ان کا غصہ مر چکا ہے۔ انہیں صرف اقتدار کی فکر ہے۔ اترپردیش میں غریب 20 سال بعد بھی وہیں کا وہیں ہے۔ بجلی پیداوار کم ہوئی ہے۔ غنڈہ گردی اور کرائم تیزی سے بڑھے ہیں۔ سوچتا ہوں کیوں نہ سیدھے لکھنؤ پہنچ جاؤں اور آپ کی لڑائی لڑوں۔ موجودہ وزیر جیبیں بھر رہے ہیں۔ سپا حکومت میں غنڈے تھانے چلاتے تھے۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں سب کو غذا کا حق اور مضبوط لوک پال بل یوپی اے سرکار لائے گی۔
راہل گاندھی نے اپنی ماں سونیا گاندھی کے ساتھ مل کر اترپردیش میں کانگریس کو پھرسے زندہ کرنے کا کام کیا تھا جس کے سبب لوک سبھا میں اس کو سب سے زیادہ سیٹیوں والی ریاست میں 2009ء میں 22 سیٹیں ملی تھیں۔ اس جیت کو اگر اسمبلی سے تجزیہ کرکے دیکھا جائے تو کانگریس کو آنے والے چناؤ میں قریب100 سیٹیں جیتنی چاہئیں لیکن راہل کا مشن 2012ء کا راستہ آسان نہیں ہے۔ بیشک جو باتیں انہوں نے کہی ہیں وہ کافی حد تک صحیح ہیں اور ان کی سراہنا ہونی چاہئے۔ کسی نے تو کہنے کی ہمت دکھائی ہے لیکن جو پوزیشن 2009 ء میں ممکن دکھائی دے رہی تھی وہ 2011ء کے گذرتے گذرتے ناممکن معلوم پڑ رہی ہے کیونکہ منموہن سنگھ سرکار اپنے دوسرے عہد میں سامنے آئے کرپشن کے معاملوں اور جان لیوا مہنگائی کے سبب کانگریس کے لئے ناراضگی بٹور رہی ہے۔ راہل کا یہ کہنا کہ آپ کب تک مہاراشٹر میں بھیک مانگو گے ۔ میری رائے میں انہوں نے صحیح الفاظ کا انتخاب نہیں کیا تھا۔ بہتر ہوتا وہ کہتے کب تک یوپی کے نوجوان مہاراشٹر میں نوکریوں کے لئے بھٹکیں گے؟ نوکری مانگنا بھیک مانگنے کے برابر نہیں ہے۔ جو بات کانگریس کو سب سے زیادہ ستائے گی وہ ہے وہاں پر لچر کانگریس تنظیم۔ راہل گاندھی کی دھواں دھار تقریر پر بسپا کے ساتھ ساتھ جس طرح دیگر پارٹیوں نے بھی رد عمل ظاہر کرنے میں دیر نہیں لگائی ا سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ کانگریس کی اس ریلی کو سیاسی یا چناوی فائدہ مل سکے گا۔ اگر اترپردیش میں کچھ بھی ٹھیک نہیں اور یہاں تک کہ وہاں مافیا راج جیسے حالات ہیں جیسا کہ راہل نے کہا تو پھر ان کی یوپی یونٹ نے اس کے خلاف کوئی مہم کیوں نہیں چھیڑی؟ ریاست میں کانگریس کی سرگرمیوں سے تو ایسا احساس نہیں ہوتا کہ حالات اتنے خراب ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ راہل گاندھی اترپردیش انتظامیہ کی خامیوں کے خلاف رہ رہ کر آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ دورے بھی کرتے رہے ہیں لیکن ان کی اپنی پارٹی نے عام جنتا کے درمیان ان کا پیغام پہنچانے کی کوئی سنجیدہ کوشش شاید ہی کی ہو۔ راہل کی اس ریلی سے بیشک سیاسی ہلچل مچ گئی ہے لیکن ایک اکیلی ریلی سے یوپی کے سیاسی تجزیئے شاید ہی بدل پائیں؟ شہ مات کا یہ کھیل ابھی تو شروع ہوا ہے آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Mayawati, Rahul Gandhi, Vir Arjun

گرتی ساکھ کو بچانے کیلئے گہلوت نے اٹھایا سخت قدم




Published On 17th November 2011
انل نریندر
پچھلے کئی دنوں سے راجستھان میں اشوک گہلوت کی کانگریس سرکار تنازعوں سے گھری ہوئی ہے۔ نرس بھنوری دیوی کا لاپتہ ہونا اور بھرت پور میں ہوئے فسادات۔ دونوں باتیں ہی اشوک گہلوت کے لئے بھنور جیسی بن گئی ہیں۔ کانگریس پہلے ہی دلدل میں پھنسی تھی۔ کرپشن ، کالی کمائی کی واپسی ، جن لوک پال بل جیسے اشو کانگریس کو پریشان کررہے ہیں۔ اب راجستھان کے ان دونوں اشوز میں پانچ ریاستوں خاص کر اترپردیش میں ہونے والے انتخابات کے لئے کانگریس کو بیک فٹ پر لادیا ہے۔ اس لئے اشوک گہلوت بھی بھنور میں ہیں۔ پہلے بھرت پور کے قریب گوپال گڑھ کے دنگوں پر راجستھان سرکار میں راج دھرم کا پالن ٹھیک طرح سے نہیں کیا۔ پولیس کے مظالم کے سبب راجستھان حکومت سرخیوں میں رہی۔ ان دنگوں میں 9 لوگ مارے گئے تھے۔ مسلم فرقے میں بھی بھاری ناراضگی تھی۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ چاہے بھنوری دیوی کا معاملہ رہا ہو یا بھرت پور دنگوں کا ، دونوں معاملوں میں انتظامیہ کی بدانتظامی تھی۔ معاملہ دہلی دربار تک بھی پہنچ گیا اور گہلوت کو کئی بار دہلی آنا پڑا۔ ڈیڑھ مہینے میں وہ 15 بار دہلی کے چکر لگا چکے ہیں۔ انہوں نے موقعے کی نزاکت سمجھی اور بغیر کسی دیر کے دونوں ہی معاملوں کو سی بی آئی کے حوالے کردیا۔ کیونکہ بھنوری کانڈ میں راجستھان سرکار کے ایک سے زیادہ وزیر کے شامل ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے گہلوت نے فٹا فٹ سبھی وزرا سے استعفے لے لئے اور کیبنٹ کے سبھی افراد نے اپنے استعفے وزیر اعلی کو کیبنٹ کی میٹنگ میں سونپ دئے۔گہلوت جلد ہی کانگریس اعلی کام کی ہدایت لے کر نئی کیبنٹ بنائیں گے۔ وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے شانتی دھاریوال نے میٹنگ کے بعد بتایا کہ سبھی وزرا نے گہلوت کی لیڈر شپ پر بھروسہ جتاتے ہوئے ایک رائے سے یہ فیصلہ لیا ہے کہ وزیراعلی دہلی میں کانگریس ہائی کمان کے سامنے کہہ سکیں کہ پوری ٹیم ان کے ساتھ ہے۔ دھاریوال نے کہا سرکار کو کوئی خطرہ نہیں ہے استعفیٰ دینے کے لئے گہلوت نے نہیں کہا تھا۔ طویل عرصے سے ریاست کی سیاست میں بے یقینی کا ماحول بنا ہوا تھا۔ پارٹی ہائی کمان کی بھی ہدایت تھی۔ ایسے میں ہم نے گہلوت کی طاقت بڑھانے کے لئے اجتماعی طور سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا۔ دراصل بھنوری معاملے میں مہیپال مدیرنا کے ملزم ہونے کے بعد سے ہی کیبنٹ میں ردو بدل کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی تھیں۔ پچھلے دنوں وزیر کھدان رام لال جاٹھ کے کردار پر اٹھے سوال سے بھی گہلوت پریشان تھے حالانکہ دونوں بھنوری سیکس اسکینڈل اوربھرت پور دنگوں میں اشوک گہلوت کسی بھی طرح ملوث نہیں تھے لیکن سرکار کے سربراہ کی حیثیت سے وہ ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گہلوت نے صحیح قدم اٹھایا ہے۔ گرتی ساکھ کو بچانے کے لئے یہ کچھ حد تک ضروری بھی تھا۔
Anil Narendra, Ashok Gehlot, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Rajassthan, Rajasthan High Court, Vir Arjun

16 نومبر 2011

ڈاکٹر کلام کی نیویارک ہوائی اڈے پر بے عزتی




Published On 16th November 2011
انل نریندر
امریکہ کی عادت سی بن گئی ہے پہلے ہندوستانیوں کی بے عزتی کرتا ہے پھر واویلا مچنے پر معافی مانگ لیتا ہے۔ میں امریکی ہوائی اڈوں پر ہندوستانیوں سے ہو رہی بدتمیزیوں کی بات کررہا ہوں۔ بھارت کے سابق صدر اور دنیا کے جانے مانے سائنسداں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو کون نہیں جانتا۔ سابق صدر ہونے کے ناطے بھی امریکہ کو ان کے پروٹوکول کی جانکاری ہے لیکن جس طرح کا برتاؤ ہونا چاہئے یہ امریکی انتظامیہ کو جاننا چاہئے۔ واضح ہو کہ ڈاکٹر کلام پچھلے ماہ ستمبر میں کئی تقریبات میں شرکت کے لئے امریکہ گئے تھے۔ واقعہ 29 ستمبر کا ہے جب وہ نیویارک سے ہندوستان لوٹ رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق پہلے تو ہوائی اڈے پر ان کی تلاشی لی گئی اور پھر جب طیارے میں بیٹھ چکے تھے تو سکیورٹی افسر طیارے کے اندر آئے اور کلام کو دوبارہ تلاشی دینے کی بات کہی۔ ایئر انڈیا کے حکام نے اس کی مخالفت کی لیکن افسران ان کی تلاشی لینے پر اڑے ہوئے تھے جس کی ڈاکٹر کلام نے مخالفت تک نہیں کی۔ ان کے جوتے اور جیکٹ جانچ کیلئے لے گئے۔ بعد میں لوٹائے گئے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے جب ڈاکٹر کلام کی امریکی حکام نے جانچ پڑتال کی ہو۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے اپریل 2009 میں بھی ڈاکٹر کلام امریکی حکام کی جانچ پڑتال کا شکار ہوئے تھے۔ اس وقت ان کا نام ہندوستان کے ان لوگوں میں شامل تھا جنہیں سکیورٹی جانچ سے چھوٹ ملی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر کلام کے علاوہ ہندوستان کے سفیر ، وزیر اور فلم دنیا سے وابستہ لوگ بھی سکیورٹی کے نام پر اس بیہودگی کا شکار ہوچکے ہیں۔ ستمبر2010ء کو امریکہ میں ہندوستان کی سفیر میرا شنکر کا امریکہ کے جیکسن انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر سکیورٹی ایجنٹوں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ایسی جگہ تلاشی لی جس سے سر شرمندگی سے جھک جاتا ہے۔سفارتکار ہونے کے ناطے انہیں اس طرح کی تلاشی سے گزرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن کہا گیا ہندوستانی سفیر نے ساڑی پہنی تھی اس لئے ان کی تلاشی لی گئی۔ دسمبر 2010ء میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سفیر ہردیپ پوری کو ہوائی اڈے پر سکیورٹی کے نام پر پگڑی اتارنے کو کہا گیا۔ سکھ مذہب سے وابستہ پوری نے جب ایسا کرنے سے منع کردیا تو انہیں کچھ وقت کے لئے حراست میں لے لیا گیا۔ اگست2009 ء میں بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کو امریکہ کے نیویارک ہوائی اڈے پر حراست میں لے کر ان سے گھنٹوں پوچھ تاچھ کی۔ جون2003ء میں ہندوستان کے وزیر دفاع جارج فرنانڈیز کی امریکہ کے ڈکلس ہوائی اڈے پر تلاشی لی گئی تھی۔ ذرائع کا دعوی تھا انہیں کپڑے اتارنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ دراصل ہمیں لگتا ہے امریکی حکومت یہاں بھی دوہرے پیمانے اپنا رہی ہے۔ اپنے سکیورٹی ملازمین سے کہتی ہے آپ اپنا کام کرو بعد میں ہم معافی مانگ لیں گے۔ اگلی مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا اور ہم پھر معافی مانگ لیں گے۔ اس کا جواب تو یہ ہے کہ ہمارے ہوائی اڈوں پر بھی سکیورٹی افسران سے کہا جائے کہ امریکیوں کی باریکی سے تلاشی ہو، چاہے وہ کسی بھی عہدے پر کیوں نہ ہو۔ ضرورت پڑنے پر ان کے کپڑے، جوتے وغیرہ سب اترواکر جانچ کریں۔ خواتین کے ہاتھوں سے پورے جسم کو چھوکر تلاشی لی جائے تب امریکیوں کو سمجھ آئے گا۔

کنگ فشر ایئرلائنس کی بد حالی کیلئے وجے مالیا ہی ذمہ دار




Published On 16th November 2011
انل نریندر
پچھلے مہینے 28 تاریخ کو مجھے اور میری اہلیہ کو دہرہ دون جانا تھا۔ ہم نے ایک مہینے پہلے کنگ فشر ایئر لائنس کی دہرہ دون فلائٹ کے لئے اپنا ٹکٹ بک کرالیا تھا، پیسے بھی دے دئے تھے۔ فلائٹ کے دن سے کچھ دن پہلے ہی ہمارے ٹریول ایجنٹ نے ہمیں مطلع کیا کہ کنگ فشر نے اپنی دہرہ دون پرواز کو اچانک منسوخ کردیا ہے۔ ہمارا دہرہ دون جانا ضروری تھا لحاظہ ہمیں اپنی کار سے جانا پڑا۔ اس کے کچھ دن بعد کنگ فشر ایئر لائنس کی حالت معلوم پڑ گئی۔ ہم اکیلے ہی اس پریشانی کے حامل نہیں تھے۔ کنگ فشر نے گذشتہ ایتوار کو اپنی 40 پروازیں منسوخ کردیں۔ اس طرح ایئر لائنس ابھی تک 250 اڑانیں منسوخ کرچکا ہے جس سے ہزاروں مسافروں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اب پتہ چلا ہے کہ کنگ فشر ایئر لائنس تقریباً دیوالیہ ہوچکی ہے اور اگر اس کو باہری اقتصادی امداد نہ ملی تو وہ ڈوب جائے گی۔ 100 سے زیادہ پائلٹوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کنگ فشر ایئر لائنس کے مالک صنعت کار وجے مالیااب حکومت پر دباؤ بنا رہے ہیں کہ وہ اس کی مالی مدد کرے تبھی ایئر لائنس بچے گی۔ یہ وہی مالیا ہیں جو دنیا میں اپنے اسٹائل کے لئے جانے جاتے ہیں۔ شیشے سے شیشہ ٹکرانا، نئی گاڑیاں چلانا اور ہواؤں سے باتیں کرنا اچھا ہے ان کا نام وجے دینا ناتھ مالیا نہیں ہے اور نہ ہی وہ اگنی پتھ پر چلنے کے عادی ہیں۔ان کا پورا نام ہے ڈاکٹر وجے مالیا اور وہ ہر سال خوبصورت ماڈل کو علیحدہ سے انٹرڈیوز کرانے کیلئے دنیا کی پوشیدہ جنتوں میں لے جایا کرتے تھے۔ پھر ان کے ذریعے ایک کلنڈر تیار کرتے جو عام تاریخوں ، تہواروں والے کلنڈروں سے کہیں الگ ہوتا ہے اتنا کے لوگ اس کے پیچھے پاگل ہوجاتے ہیں۔ دراصل پلے بوائے وجے مالیا کو تیل چاہئے اور انہیں قرض دینے والوں کو پیسہ۔ مالیا صاحب کے سامنے سنہرہ چیلنج ہے۔ خیر ان کی پارٹیوں اور پارٹیوں میں آنے والی ماڈل ان کی کاریں، ان کا گھر اور شراب خانے .... کیا کہنے۔ مالیا رفتار کے شوقین ہیں ان کے پاس 250 ونٹیج کاریں ، 1 بوئنگ طیارہ727 ، دو کارپوریٹ جیٹ اور 3-4 دیگر جہاز ہیں۔ گاڈ سرسوت بھرم وجے مالیا صنعت کار وٹھل مالیا کے بیٹے ہیں۔ وہ یونائیٹڈبریوریز(یو بی )اور کنگ فشر ایئر لائنس کے چیئرمین ہیں ۔یوبی گروپ دنیا کی دوسری سب سے بڑی شراب بنانے والی کمپنی ہے۔ وجے ایف 1- ٹیم فورسیز انڈیا آئی پی ایل ٹیم بنگلور رائلز چیلنجرس انڈین فٹبال لیگ ٹیم کے ایسٹ بنگال فٹبال کلب کے مالکانہ حق بھی رکھتے ہیں۔ فوربیس نے ان کی نجی املاک 40 ارب کروڑ ڈالر ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔ مالیا نے دو شادیاں کی ہیں۔ ان کی پہلی بیوی کا نام ہے سمیرا جن سے ایک بیٹا ہے سدھارتھ مالیا ہے اور بعد میں انہوں نے ریکھا سے شادی کی جن سے انہیں دو بیٹیاں لینا اور تانیہ ہوئیں۔
کچھ کا کہنا ہے کنگ فشر بند ہوجائے تو انہیں تعجب نہ ہوگا۔ یہ کمپنی بازار سے پیسہ نہیں کما پارہی ہے کیونکہ کوئی اسے قرض دینے کو تیار نہیں ہے۔ جن کمپنیوں نے کنگ فشر کو اپنے ہوائی جہاز دئے تھے وہ واپس لے سکتے ہیں۔ کنگ فشر نے مرکزی حکومت سے کمپنی کو بحران سے نکالنے کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مدد کیلئے یقین نہیں دلیا ہے۔ لیکن کسی بھی طرح سرکاری مدد کیلئے جم کر مخالفت بھی ہورہی ہے۔ بجاج آٹو کے چیف راہل بجاج نے کسی بھی طرح کی سرکاری مدد پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں کو سرکاری مدد نہیں ملنی چاہئے۔ کھلے بازار کے سسٹم میں جو مر رہے ہیں انہیں مرنے دینا چاہئے۔ ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں بجاج نے کہا ''میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں پرائیویٹ سیکٹر کا شخص ہوں۔ سرکار کے ذریعے پرائیویٹ کمپنیوں کو بحران سے نکلنے کا پیکیج دئے جانے کی دلیل مجھے سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ بینک بھی کنگ فشر کمپنی میں اور پیسہ لگانے کو تیار نہیں ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیئرمین نے سی بی آئی کی سربراہی میں 13 بینکوں کے فیڈریشن نے بھی کمپنی سے کہا ہے کہ وہ اپنی طرف سے اور زیادہ سرمایہ کاری کریں۔ ساتھ ہی بینکوں کو مزید مالی تفصیلات مہیا کرائے۔ مالی تفصیلات کی جانچ پڑتال کے لئے بینکوں نے کمیٹی بنائی ہے۔ ان سبھی بینکوں کا کنگ فشر میں کل 23.4 فیصد حصہ ہے جو تقریباً 7700 کروڑ روپے کا ہے۔ بھاجپا نیتا یشونت سنہا نے کہا کنگ فشر ایئر لائنس بند ہو یا پھر کسی اور کمپنی میں مل جائے، کمپنی کو سرکاری مدد نہیں ملنی چاہئے۔ کنگ فشر ایئر لائنس پہلے ہی دن سے خصارے میں چل رہی ہے پھر بھی وجے مالیا کی فضول خرچی اور بربادی کم نہیں ہوئی۔ آج اگر کنگ فشر کی یہ حالت ہے تو اس کے لئے صرف ڈاکٹر وجے مالیا ہی ذمہ دار ہیں۔ ان کے عیش و آرام اور شان و شوکت کے لئے پبلک کا پیسہ نہیں ڈوبایا جاسکتا۔ اگر سرکار کو کچھ کرنا ہی ہے تو پہلے ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کے بارے میں سوچے جو آج بھی بے روزگاری ،لاچاری کی زندگی جینے پر مجبور ہورہے ہیں۔ کنگ فشر چلے یا نہ چلے اس پر آنسو بہانے کی ضرورت نہیں۔ ویسے صنعت کار کچھ بھی کہیں لیکن پردھان منتری سے کچھ بھی کروانا ناممکن نہیں مانا جاسکتا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Kingfisher, Vijay Mallaya, Vir Arjun

15 نومبر 2011

سردار پورہ مقدمے میں فیصلے کا خیر مقدم ہے




Published On 15th November 2011
انل نریندر
کافی جدوجہد اور قانونی داؤ پیچ اور طویل انتظار کے بعد آخر کار گجرات میں گودھرا سابرمتی ایکسپریس میں ہوئے آگ سانحہ کے بعد بھڑکے فرقہ وارانہ فسادات سے وابستہ معاملے میں پہلا فیصلہ آگیا ہے۔ محسانا ضلع کے سردار پورہ گاؤں میں ہوئے اس دنگے میں 37 لوگ مارے گئے تھے۔ اس قتل عام میں خصوصی عدالت نے 31 ملزمان کو قصوروار قراردیا ہے اور انہیں عمر قید سنائی ہے۔ قصورواروں کو قتل ،فساد اور اقدام قتل کی کوشش سمیت18 دفعات کے تحت سزا سنائی گئی۔ جسٹس ایس سی شریواستو کی عدالت نے اپنے ایک ہزار صفحات پر مبنی فیصلے میں 42 ملزمان کو بری کردیا ہے۔ ان میں سے 11 کو ثبوتوں کی کمی کے سبب چھوڑا گیا ہے۔ دیگر 31 کو شبہ کا فائدہ ملا ہے۔ اس معاملے میں کل 76 ملزمان تھے ان میں ایک نابالغ بھی ہے جبکہ دو کی موت ہوچکی ہے۔ دنگا متاثرین کی جانب سے لڑ رہے ریاست کے سابق ڈائریکٹر جنرل آر بی شری کمار نے کہا کہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ دیش میں اس سے پہلے فرقہ وارانہ فسادات کے مقدمے میں تاریخ میں اتنے لوگوں کو کبھی ایک ساتھ سزا نہیں ہوئی تھی۔ ایسا تو بھاگلپور اور بیسٹ بیکری معاملوں میں بھی نہیں ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) گودھرا فسادات کے بعد 9 معاملوں کی جانچ کررہی ہے۔ یہ پہلا معاملہ ہے جس میں فیصلہ آیا ہے۔ ایس آئی ٹی کے سربراہ آر کے راگھون نے بتایا کہ یہ فیصلہ تسلی بخش ہے ، میں اس سے خوش ہوں۔ یہ میرے افسران کی کڑی محنت کا پھل ہے۔
سردار پورہ میں ہوا دنگا گجرات میں ان بڑے 9 فسادات میں شامل ہے جن میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور سپریم کورٹ نے جن کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی بنائی تھی۔ ان دنگوں کا آغاز27 فروری 2009 کو گودھرا میں ایودھیا سے آرہی سابرمتی ایکسپریس ٹرین میں کارسیوکوں پر قاتلانہ حملے کے بعد ہوا تھا جس میں 59 لوگ مارے گئے تھے۔ فسادات کا داغ گجرات سرکار خاص کر وزیر اعلی نریندر مودی کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ آج بھی انہیں ان دنگوں کے لئے ہر جگہ جواب دینا پڑتا ہے۔ دراصل گودھرا اور اس کے بعد ہوئے فسادات کو لیکر اتنی سیاست ہوئی کبھی تو ایسا لگنے لگاتھا کہ شاید ہی متاثرین کو انصاف ملے۔ الزام در الزام گواہوں کا مکرنا، غائب ہونا، گواہی کا سلسلہ ایسا چلا کہ اصل اشو تو بیچ میں ہی دب گیا۔ اس فیصلے کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ عدالت نے قتل اور اقدام قتل، فسادات اور دیگر الزامات کو تو صحیح پایا مگر عدالت نے مجرمانہ سازش کے الزامات کو مسترد کردیا۔ اس فیصلے کے بعد ایس ٹی ایف کی کارگذاری کو لیکر سوال اٹھنا فطری ہی ہے۔ مجرمانہ سازش کو ثابت نہ کرپانا اس کی ناکامی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس فیصلے کو نفع نقصان کی شکل میں لینے کے بجائے انصاف کی شکل میں دیکھنا چاہئے۔ اس فیصلے سے یہ تو ثابت ہوجاتا ہے کہ سماج میں گھناونے تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی صاف ہوا ہے کہ انصاف میں بھلے ہی دیر ہو اندھیر نہیں۔ وقت ضرور لگا لیکن آخر کار انصاف ملا۔ امید ہے دنگوں سے وابستہ سبھی معاملوں کا نپٹارہ جلد ہوگا تاکہ اس بابا کا خاتمہ ہوسکے۔
Anil Narendra, Court, Daily Pratap, Godhra, Gujarat, Vir Arjun

قصاب کو پھانسی کی پیروی کرنے والا پاکستان




Published On 15th November 2011
انل نریندر
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے ممبئی حملوں کے قصوروار اجمل عامر قصاب کو گذشتہ جمعرات آتنکی مانتے ہوئیاسے پھانسی پر چڑھائے جانے کی وکالت کی۔17 ویں سارک کانفرنس کے دوران قصاب سے پلہ جھاڑتے ہوئے رحمان ملک نے کہا اس کی سرگرمیوں سے پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ نان اسٹیٹ ایکٹر ہے اس لئے اسے پھانسی ملنی چاہئے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں دھماکے پر بھی رائے زنی کرتے ہوئے ممبئی حملے جیسے آتنکی واقعات دونوں ملکوں کے رشتوں کو خراب کررہے ہیں ۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آیا کہ رحمان ملک نے ایسی بات کیوں کی؟ پاکستان کے قول اور فعل میں ہمیشہ فرق رہا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ ممبئی حملے کے پیچھے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا یہ بات امریکہ اور اب برطانیہ جیسے ممالک نے بھی مانی ہے۔ ممبئی حملے کی سازش رچنے والے جماعت الدعوی کو پاکستان نے آتنکی تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔
مالدیپ میں ہوئی سارک کانفرنس کے دوران پاکستان نے دہشت گردی سے لڑنے کے لئے چاہے کتنی ہی بڑی باتیں کیوں نہ کہی ہوں ، ہمیں اسے سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئے۔ ذرائع کے مطابق سارک کانفرنس کے کچھ ہی دن پہلے پاکستان کے وزارت داخلہ نے جو 31 ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست جاری کی تھی اس میں جماعت الدعوی کا نام ندارد تھا۔ یہ تنظیم بیحد خطرناک ہے۔ جنوبی ایشیا کی سب سے خطرناک آتنکی تنظیم لشکرطیبہ کا سرپرست مانے جانی والی جماعت الدعوی کو امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دباؤ میں ممنوع قراردیا گیا تھا۔26 نومبر2008 کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے میں اس تنظیم کا ہاتھ مانے جانے کی یہ بات بھارت اور امریکہ دونوں نے ہی اس تنظیم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اپنے ریزولوشن1267 کے ذریعے اس پر پابندی لگادی تھی۔ اس چوطرفہ دباؤ کے چلتے پاکستان نے 7 دسمبر2008 کو اسے ممنوع قراردیا تھا۔ اہم بات یہ رہی ہے کہ پاکستان نے اس تنظیم کے چیف حافظ محمد سعید کے خلاف کبھی بھی سنجیدگی سے کوئی کارروائی نہیں کی۔ دکھاوے کے لئے سعید کو نظربند کردیا گیا اور عدالت نے ثبوتوں کی کمی کے سبب اسے چھوڑدیا۔ کیونکہ ممبئی حملے میں بڑی تعداد میں امریکی شہری مارے گئے تھے اس لئے ایف بی آئی نے بھی اس کی پڑتال میں اہم کردار نبھایا تھا۔ بھارت اور امریکہ دونوں نے ہی پاکستان کو اس کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم کئے تھے۔ اب رحمان ملک صاحب کہہ رہے ہیں کہ حافظ سعید کو حکومت نے نہیں بلکہ دیش کی بڑی عدالت نے چھوڑا ہے۔ آئی ایس آئی نے اس مقدمے میں بھی اپنی نیت کا مظاہرہ کردیا ہے۔ سرکاری فریق نے مقدمے کے دوران آتنکی حملوں میں شامل ہونے کی اطلاعات دیں ثبوت نہیں۔ عدالت ثبوت کی بنیاد پر کارروائی کرتی ہے، اطلاعات کی بنیاد پر نہیں۔ یہ دلیل مضحکہ خیز نہیں تو اور کیا ہے۔ بھارت نے اس کے خلاف پاکستان کو پختہ ثبوت فراہم کرائے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ آج تک پاک سرکار یا اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے کسی بھی غیر ملکی جانچ ایجنسی کو حافظ محمد سعید سے پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
26/11 ممبئی حملے کے پیچھے آئی ایس آئی اور لشکر کا ہاتھ تھا یہ بات اب سبھی مانتے ہیں ۔میں نے پچھلے دنوں اسی کالم میں بی بی سی کے ایک پروگرام کا ذکر کیا تھا۔ پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک ک یاد داشت تازہ کرنے کے لئے پھر سے ذکر کررہا ہوں۔ بی بی سی تو ایک غیر جانبدار آزاد ایجنسی ہے۔ جس کے بھروسے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ بی بی سی نے دو حصوں م میں ایک پروگرام نشر کیا جسے 'سیکٹریٹ پاکستان' کا نام دیا گیا تھا۔پروگرام کے پہلے حصے میں امریکی صدر براک اوبامہ کے مشیر رائے سی آئی اے افسر برسرڈیل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پاکستان سے آئے آتنکیوں نے 26 نومبر2008 کو ممبئی کے کئی اہم مقامات پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت اوبامہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تھے حالانکہ انہوں نے حلف نہیں لیا تھا ۔ رڈیل نے کہا میں نے پاکستانی صدر سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ دوہرا کھیل کھیلنا بند کریں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان برسوں سے امریکی اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ ایسا کررہا ہے۔ اس کے آگے بھی ایسا ہی کرتے رہنے کا اندیشہ ہے۔ رڈیل کا کہنا ہے کہ حملوں میں ہر جگہ لشکرطیبہ کی چھاپ نظر آتی ہے۔ حملوں کی شروعات سے ہی لگنے لگا تھا کہ لشکر کی کرتوت ہیں۔ آگے کہتے ہیں کہ ایک بار جب آپ لشکر سے ان حملوں کو جوڑتے ہیں تو آپ اسے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے بھی جوڑیں گے۔ پروگرام کے دوسرے حصے میں کہا گیا ہے سی آئی اے کو یہ جانکاری ملی تھی ۔ممبئی کے حملے میں آئی ایس آئی براہ راست طور پر شامل تھی۔
پاکستان کے وزیر داخلہ کے اس بیان کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا کہ قصاب کو پھانسی پر چڑھا دو۔ ممکن ہے کہ رحمان ملک نے سوچا ہو کہ ایسا بیان دینے سے وہ دنیا اور بھارت کو خاص طور پر گمراہ کرسکتے ہیں، بیوقوف بنا سکتے ہیں۔ ایسے بیان دینے سے پاکستان دودھ کا دھلا نہیں ہوجاتا۔ سب کو معلوم ہے کہ کس طرح سے ان تنظیموں پھولنے پھلنے کا پورا موقع اور ہر ممکن مدد آئی ایس آئی اور پاکستان کی فوج کررہی ہے۔ اس کی نیت کا اندازہ تو اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے تو پاکستان نے اجمل قصاب نام کے کسی شخص کو اپنا شہری ماننے سے ہی انکار کردیا تھا۔ آج تک اس حملے میں مارے گئے اپنے دیش کے آتنک وادیوں کی لاشیں تک نہیں لیں۔ اتنا ہی نہیں اس نے تو کارگل جنگ کے دوران درانداز بن کر اپنے فوجیوں تک کی لاشیں نہیں لیں۔ بھارت کو ہی ان کی آخری رسوم ادا کرنی پڑیں تھیں۔ رحمان ملک نے یہ بھی کہا ہے اگر پاکستان کو یہ پتہ نہیں چل پایا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں رہ رہا تھا تو اس میں تعجب کیسا؟ ٹریننگ یافتہ آتنک سرغنہ لادن کو پتہ تھا کیسے اور کہاں چھپا جائے۔ ذرائع کا خیال ہے یہاں تو خود پاکستان ہی جنوبی ایشیا کی اس سب سے خطرناک آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کے رہنما حافظ سعید کو سرپرستی دے رہا ہے۔ بھارت اب رحمان ملک یا ان کے آقاؤں کی چال بازیوں میں نہیں پھنسے گا۔ بہت ہوچکا ہے۔
Anil Narendra, Bhullar, Daily Pratap, Human Rights Commission, Martyres, Sikh Terrorist, Supreme Court, Terrorist, Vir Arjun

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...