Translater

22 ستمبر 2018

مہلاؤں کو تین طلاق سے نجات

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں تین طلاق بل پاس نہ ہو پانے کے بعد اب مرکزی حکومت نے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے۔ کل تین ترامیم کے ساتھ کیبنٹ نے تین طلاق (طلاق بدت) کو قانونی شکل دینے کے لئے مرکزی حکومت نے آرڈیننس پاس کردیا ہے۔ اب مارچ 2019 تک اسے ہی قانون کی طرح برتا جائے گا۔ کچھ وقت پہلے مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں اس سلسلہ میں جو بل پاس کرایاتھا اس کے کچھ پہلوؤں پر تنازعہ تھا۔ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے تین طلاق پر سماعت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی بتایا تھا اور پارلیمنٹ کو اس پر قانون بنانے کے لئے کہا تھا لیکن لوک سبھا میں پاس ہونے کے باوجود راجیہ سبھا میں یہ بل اٹک گیا تو مرکزی سرکار اب اس بارے میں آرڈیننس لے آئی ہے اور چھ مہینے میں اسے پارلیمنٹ میں پاس کرانا ضروری ہوگا۔ مسلم انجمنوں اور کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے آرڈیننس میں کچھ ترمیم کی گئیں ہیں۔ جیسے تین طلاق کے معاملہ میں گرفتاری تبھی ہوگی جب اس کی شکایت بیوی یا کوئی اور خونی رشتے دار کرے گا۔ ایسے ہی عورت اگر چاہے تو سمجھوتہ کا بھی متبادل کھلا ہے۔ اس کے تحت بیوی کا موقف سننے کے بعد مجسٹریٹ میاں کو ضمانت دے سکتا ہے۔ کل ملاکر اس کے تقاضوں کو توقع کے مطابق لچیلا بنایا گیا ہے۔ جو بل سرکار نے لوک سبھا میں پاس کروایا تھا اس میں سہولت یہ تھی کہ کیس کوئی بھی درج کرکے بغیر وارنٹ کے گرفتاری ہوسکتی تھی۔ یہ غیر ضمانت جرم تھا جس میں سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ان تقاضوں کو لیکر پوری اپوزیشن نے مانگ کی تھی کہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے تاکہ ہر پہلو پر غور ہوسکے۔ جب زیادہ تر مسلم ممالک نے ایک ساتھ بول کر دی جانے والی تین طلاق کو اپنے یہاں ختم کردیا ہے تب بھارت میں اس کے برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ آزادی کے بعد ہمارے یہاں ہندو خواتین کو تو شادی یا جانشینی وغیرہ سے جڑے قانونی حق دئے گئے ہیں لیکن مسلم عورتوں کو اس سے ری ایکشن کے ڈرکی وجہ سے الگ رکھا گیا ہے۔بھلے ہی مسلم خواتین کے لئے قانون کی طرح یہ آرڈیننس بھی میل کا پتھر ثابت ہونے والا ہے۔ اس کے گھناؤنے جرم بنائے جانے سے ڈر بھی قائم ہوگا جیسے کیس درج ہوتے ہی تین طلاق دینے والے کو جیل ہوجائے گی تو متاثرہ کو گزارہ بھتہ کون دے گا؟ شوہر کی پراپرٹی قرق کرنے کا راستہ ضرور کھلا ہے لیکن یہ بھی گزارہ بھتہ کی ذمہ داری طے کرنے کے لئے ہی جتنا لمبا ہے اور گھماؤ دار ہے۔ ایسے میں متاثرہ کی تکلیف اور بڑھ جائے گی اور اسے الگ طرح کی اذیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جدید دنیا میں اور وہ بھی ایک جمہوری نظام میں شہریوں کے لئے الگ الگ قاعدوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ویسے بھی ایسے قواعد کی تو قطعی نہیں جو مسلم خواتین کو استحصال کا شکار بناتے ہیں۔ ایسے میں اس پر عام رائے بنانے کی کوشش بہتر رہے گی۔
(انل نریندر)

نہ میں کسی کی بوا ، نہ کوئی میرا بھتیجہ

بہن جی طویل عرصہ کے بعد لکھنؤ میں اپنی رہائش گاہ پہنچیں۔ اس کے بعد ہی بہن جی نے دھماکہ کردیا۔ مایاوتی نے اپنے نئے بنگلہ کے لئے بھاجپا کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا نہ وہ مجھے پھنساتے اور نہ ہی میرے پاس بنگلہ آتا۔ دھماکہ کرتے ہوئے بہن جی نے کہا کہ ان کی پارٹی اتحاد کے خلاف نہیں ہے لیکن اتحاد میں سنمان جنک سیٹیں ملنے پر ہی اتحاد ہوسکتا ہے۔ اس طرح انہوں نے دو ٹوک کہہ دیا کہ ان کی پارٹی قابل قبول سیٹیں ملنے پر ہی چناؤ سے پہلے بننے والے کسی گٹھ بندھن کا حصہ بنے گی۔ کانگریس کی قیادت میں کچھ اپوزیشن پارٹیاں آنے والے لوک سبھا اور پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے لئے بھاجپا کے خلاف مہا گٹھ بندھن بنانے کی کوششیں کررہی ہیں۔ جہاں اس بیان سے بی جے پی نے تھوڑا راحت کی سانس لی ہوگی وہیں بہوجن سماج کے اس بدلے رخ نے کانگریس کی دھڑکن ضرور بڑھا دی ہوگی۔ مایاوتی نے ایک تیر سے کئی وار کئے اور کہا نہ میں کسی کی بوا ہوں اور نہ کوئی میرا بھتیجہ بات صرف احترام کی ہے۔ جو ہمارا احترام کرے گا، ہم اس کا احترام کریں گے۔ کانگریس حکمت عملی ساز مانتے ہیں کہ مدھیہ پردیش میں بھاجپا کو ہرانے کے لئے بسپا کا ساتھ ضروری ہے اس لئے پردیش کانگریس صدر کملناتھ نے بسپا کے ساتھ تال میل کو لے کر تبادلہ خیالات بھی شروع کردئے تھے لیکن مایاوتی کے موجودہ رخ سے کانگریس حیران ہے۔ بسپا کے مدھیہ پردیش میں چار ممبر اسمبلی ہیں۔2013 کے چناؤ میں پارٹی کو ساڑھے چھ فیصدی ووٹ ملا تھا کیونکہ بھاجپا مجوزہ گٹھ بندھن سے پریشان ہے یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے وزیر اعظم اور بھاجپا دونوں کے نشانے پر اپوزیشن گٹھ بندھن ہے۔ وزیر اعظم مہا گٹھ بندھن کو لیڈر شپ کا پتہ نہیں پالیسی واضح نہیں اور یقینی کرپشن کے طور پرتشریح کررہے ہیں تو بھاجپا صدر امت شاہ اسے ڈھکوسلہ بتا رہے ہیں۔ لوک سبھا کی80 سیٹوں والے اترپردیش کا سیاسی تجزیہ بتاتا ہے کہ اگر بسپا اور سپا ایک ساتھ مل کر چناؤ میدان میں اترتی ہیں تو بھاجپا کا یہاں پتا صاف ہوسکتا ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ دہلی کے تاج کا راستہ اترپردیش سے ہوکر ہی جاتا ہے۔ بھاجپا اگر یوپی میں پچھڑتی ہے تو لگاتار دوسری بار لوک سبھا کا چناؤ جیتنے کا اس کا سپنا پورا نہیں ہوپائے گا۔مایاوتی تجربہ کار سیاسداں ہیں جو اتحاد کے حق میں تو ہیں لیکن بارگنگ کرنے کے لئے اکھلیش یادو پر دباؤ بنانا چاہتی ہیں۔ وہ لوک سبھا میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں اس لئے چاہتی ہیں تاکہ اگر موقعہ ملے تو دہلی کے تاج پر گدی نشیں ہوسکیں۔ لوک سبھا میں معلق پوزیشن میں وزیر اعظم کے عہدہ کے لئے اپنا دعوی مضبوط کرسکیں۔ حالانکہ انہیں بھی بھیم آرمی کے نام سے تیزی سے ابھرتی دلت طاقت کا بھی ڈر کہیں نہ کہیں ستا رہا ہوگا۔ بھاجپا کو روکنے کے لئے سپا۔ بسپا دونوں سیٹوں کے بٹوارے پر نرم رخ رکھتی ہیں تو مہا گٹھ بندھن ٹھوس شکل لے سکتا ہے۔
(انل نریندر)

21 ستمبر 2018

مودی سرکار15-20 صنعت کاروں کیلئے کام کررہی ہے

کانگریس صدرراہل گاندھی نے پیر کو مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں وزیر اعظم نریندر مودی و ان کی سرکار اور بھاجپا پر جم کر تنقید کی۔مودی جی کی سرکار محض 15-20 بڑے صنعتکاروں کے لئے کام کررہی ہے۔ راہل نے یہاں تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کے روڈ شو کے بعد بھوپال دسہرہ میدان میں پردیش بھر سے آئے کانگریسی ورکروں سے بات چیت کرتے ہوئے رافیل سودے اور بینکوں کے این پی اے نوٹ بندی ، جی ایس ٹی وغیرہ کو لیکر مرکزی حکومت پر الزامات لگائے۔ راہل گاندھی نے این پی اے کا تذکرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پچھلے سال مودی سرکار نے دیش کے 15 فیصد صنعتکاروں کا ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کا قرض معاف کیا۔ وہ پانچ ہزار روپے کے قرض دار کسان کو چور کہتے ہیں لیکن ہزاروں کروڑ روپے کا قرض واپس نہیں کرنے والے وجے مالیا، نیرو مودی، میہل چوکسی ان کے دوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے بارہ لاکھ کروڑ روپے کا این پی اے ہے آپ کا پیسہ مالیا جیسوں کی جیب میں جارہا ہے۔ گاندھی نے رافیل سودے میں مودی پر سیدھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس کا ٹھیکہ ہندوستان ایرونوٹیکلس لمیٹڈ سے چھین کر اپنے دوست صنعتکار انل انبانی کو دے دیا۔ انبانی پر بینکوں کا 45 ہزار کروڑ روپے کا قرض ہے۔ کانگریس نے مودی سرکار پر صنعتکاروں کو بچانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پچھلے تین چار سال کے دوران یہ دیکھا گیا ہے کہ صنعتکاروں کے خلاف جہاں بھی جانچ شروع ہوتی ہے سرکار مداخلت کر معاملہ کو جلد بند کرادیتی ہے۔ کانگریس ترجمان جے رام رمیش نے پیر کو نئی دہلی میں پیرس کانفرنس میں کہا کہ مودی سرکار جس ڈھنگ سے صنعتکار گوتم اڈانی کو بچا رہی ہے دنیا جانتی ہے۔ رمیش نے کہا کہ ڈی آر آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق اڈانی گروپ پر بجلی کے سازو سامان کی خرید میں 6600 کروڑ روپے کی دھاندلی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ڈی آر آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سازو سامان کو ان کی لاگت سے 6600 کروڑ روپے زیادہ قیمت پر خریدہ گیا ہے۔ اڈانی گروپ کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے لیکن دباؤ اور سرکار کے بڑے افسران نے کہہ دیا کہ جانچ رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ لگائے گئے کوئی بھی الزام صحیح نہیں ہے۔ ڈی آر آئی کے ذریعے اس کی جانچ 2014 سے کی جارہی تھی۔ اسی طرح گجرات میں بھی اڈانی کو بچانے کی کوشش ہوئی ہے۔ وہاں اڈانی گروپ نے 2007 میں ریاستی سرکار کے ساتھ سمجھوتہ کیا تھاکہ وہ 2.40 پیسے فی یونٹ کی شرح سے بجلی دستیاب کرائے گا۔ بعد میں کمپنی معاہدے سے مکر گئی اور مدد مانگنے لگی۔ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو عدالت نے کہہ دیا جو معاہدہ ہوا ہے اسی بنیاد پر بجلی دینی ہوگی لیکن ریاستی حکومت عدالت کے فیصلے کے خلاف کمپنی کو راحت دینے پر رضامند ہوگئی ہے۔ رمیش نے کہا کہ گجرات سرکار کے اس فیصلے سے اگلے 30 سال تک بجلی سیکٹر کی تین کمپنیوں کو 1لاکھ70 ہزار کروڑ روپے کا فائدہ ہوگا اور بینکوں کو ہر سال اس کے سبب 18 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔
(انل نریندر)

کانگریس گوا میں کرناٹک جیسا داؤں چلنے کی فراخ میں

گوا کے وزیر اعلی منوہر پریکر کے مسلسل بیمار رہنے اور بار بار ہسپتال میں بھرتی ہونے کے چلتے ریاست میں سیاسی اتھل پتھل تیز ہوگئی ہے۔ ریاست میں بھاجپا کی اتحادی پارٹیوں نے بھی سی ایم بدلنے کی مانگ کی ہے جس وجہ سے عدم استحکام کے حالات بن گئے ہیں۔ اس موقعہ کا فائدہ اٹھانے کے لئے کانگریس نے پیر کو ہلچل تیز کردی۔ اس کے 16 میں سے14 ممبر سرکار بنانے کا دعوی پیش کرنے راج بھون گئے۔ حالانکہ گورنر مردلا سنہا سے ان کی ملاقات نہیں ہوسکی کیونکہ وہ شہر (پنجی) سے باہر ہیں۔ اس کے بعد ممبران اسمبلی سرکار بنانے کا میمورنڈم حکام کو سونپ کر لوٹ آئے۔ کانگریسی ممبران اسمبلی نے الزام لگایا کہ وزیر اعلی پریکر سمیت تین وزیر بیمار ہیں۔ سرکار ندارد ہے ،کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔ ایسے میں سرکار بنانے کے لئے ہمیں مدعو کیا جانا چاہئے۔ ہمارے پاس این سی پی ممبر اسمبلی سمیت 17 ممبران کی حمایت ہے اور اکثریت ثابت کردیں گے۔ 40 نفری ممبر اسمبلی میں کانگریس کے16 جبکہ این سی پی کا1 ممبر ہے۔ دوسری طرف حکمراں اتحاد کی پوزیشن یوں ہے بی جے پی 14، مہاراشٹر گومنتک پارٹی (این جی پی) 3، گوا فارورڈ پارٹی 3 اور آزاد 3 ہیں۔ گوا میں کانگریس کے سرکار بنانے کے دعوی کے بعد بی جے پی حرکت میں آگئی ہے۔ اسے اندیشہ ہے کانگریس کرناٹک والا داؤ گوا میں اگر کھیلتی ہے تو اسے دقت ہوسکتی ہے۔ اہم یہ ہے کہ گوا میں سی ایم پریکر کی جگہ کس اور کو وزیر اعلی بنانے کا فیصلہ ابھی بی جے پی کے لئے آسان نہیں ہے۔ ایسے میں بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ بھلے ہی پریکر ہسپتال میں ہوں لیکن وزیر اعلی بدلنے کے لئے جلد بازی نہ کی جائے۔ اگر بدلنا ہی پڑے تو پہلے ساتھیوں کو اس کے لئے تیار کیا جائے۔ اس وقت بی جے پی سرکار کے اکثریت میں ہونے کی وجہ 3-3 ممبران والی پارٹیوں کے علاوہ 3 آزاد ممبران ہیں۔ پارٹی کو لگ رہا ہے بیمار پریکر کی جگہ کسی اور کو وزیر اعلی بنایا جاتا ہے تو پارٹی کے اندر اسمبلی بھنگ کرنے کے امکانات پر غور ہوسکتا ہے۔ اس سے پہلے کانگریس کے داؤ سے اب گورنر کے لئے بھی کانگریس کو موقعہ دئے بغیر اسمبلی بھنگ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ حالانکہ بی جے پی نیتاؤں کا کہنا ہے کہ گوا میں سرکار کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن جس طرح سے پارٹی نیتاؤں کے گوا میں جو دورہ شروع ہوئے ہیں اس سے اشارے ملنے لگے ہیں کہ خود بی جے پی وہاں کے حالات کو لیکر مطمئن نہیں ہے۔ پارٹی کرناٹک میں کانگریس کے کھیل کو بھول نہیں سکتی۔ اسے یہ بھی ڈر ستا رہا ہے کہ کہیں کانگریس بی جے پی سے ہاتھ ملائی پارٹیوں میں سے کسی کو وزیر اعلی عہدہ کی پیشکش نہ کردے۔ اگر ان میں سے کسی بھی پارٹی کے 3 ممبران کانگریس کو حمایت دینے کو تیار ہوجاتے ہیں تو وہاں کے سیاسی حالات بدل سکتے ہیں۔ اسی حالات سے بچنے کے لئے پارٹی کو لگ رہا ہے کہ منوہر پاریکر کے بیمار ہونے کے باوجود ان کی جگہ اور کسی کو وزیر اعلی بنانے کا اعلان نہ کیا جائے جب تک پارٹی کے اندر اور اتحادیوں میں پورا اتفاق رائے نہ بن جائے۔
(انل نریندر)

20 ستمبر 2018

بابا رام دیو کو غصہ کیوں آیا

سرخیوں میں چھائے یوگ گورو بابا رام دیو آج کل پھر سرخیوں میں ہیں۔ عام طور پر اقتدار کے ساتھ رہنے والے بابا رام دیو کبھی کبھی حکمراں پارٹیوں کو آگاہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی انہیں غصہ آجاتا ہے۔ سوامی رام دیو نے ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے یوتھ کانکلیو پروگرام میں یہ کہہ کر سنسنی پیدا کردی کہ وہ آل پارٹی اور آزاد ہیں ۔ جب ان سے پوچھا گیا کیا وہ 2019 کے چناؤ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کمپین نہیں کریں گے تو انہوں نے کہا کہ بھلا کیوں کروں گا، نہیں کروں گا۔ حالانکہ اسی پروگرام میں انہوں نے یہ بھی کہا کالا دھن، کرپشن اور سسٹم میں تبدیلی سے جڑے اشوز پر ان کا مودی جی پر بھروسہ تھا۔ یہ بھروسہ ابھی ہے یا نہیں پوچھے جانے پر کہا کہ ان اشو پر فی الحال انہوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ بابا رام دیو نے ایتوار کو مودی سرکار کو خبردار بھی کیا۔ کہا کہ بڑھتی قیمتیں قابو نہیں کی گئیں تو مہنگائی کی آگ مودی سرکار کو بہت مہنگی پڑے گی۔ یوگ گورو نے کہا کافی لوگ مودی سرکار کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہیں لیکن اب کچھ لوگ اصلاح کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا پیٹرول۔ ڈیزل سمیت دیگر چیزوں کی قیمتیں نیچے لانے کے لئے مودی جی کو قدم اٹھانے ہوں گے۔ پیٹرول ڈیزل ، جی ایس ٹی کے دائرہ میں لاکر سب سے کم سلیب میں رکھنا چاہئے۔ محصول کے نقصان کی بھرپائی کے لئے اوربھی ٹیکس لگ سکتے ہیں۔ آنے والے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے لئے کمپین کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا میں کیوں کروں گا؟ میں نہیں کروں گا۔ میں سیاست سے الگ ہو چکا ہوں۔ میں آزاد ہو اور سبھی پارٹیوں کے ساتھ ہوں۔ انہوں نے کہا مودی کی تنقید کرنا لوگوں کا بنیادی حق ہے لیکن انہوں نے اچھے کام بھی کئے ہیں۔ سوچھتا مہم چلائی، دیش میں کوئی بڑا گھوٹالہ نہیں ہونے دیا وغیرہ وغیرہ۔ یہ بابا کا نیا انداز ہے اور سیاسی طور پر نئی پوزیشن لگتی ہے۔ 2019 کے عام چناؤ کے نزدیک آنے سے پہلے وہ نریندر مودی کی این ڈی اے سرکار سے ایک طرح سے دوری بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ پہلی بار نہیں جب بابا کو مودی سرکار پر غصہ آیا ہو۔ دسمبر2016 میں ٹی وی سے بات چیت میں بھی انہوں نے این ڈی اے سرکار کے راج گورو کہے جانے پر اسے ماضی گزشتہ کی بات بتایا تھا۔ حال ہی میں بھاجپا صدر امت شاہ ان سے بھی ملے تھے۔ دراصل بابا اب پوری طرح سے کمرشلائز ہو چکے ہیں۔ داؤ پر ہے ہزاروں کروڑ کا کاروبار۔ بابا کی کمپنی پتنجلی آیوروید کا کاروبار ہزاروں کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ حال ہی میں نیویارک ٹائمس نے ’’دی بلینیئر یوگی بی ہائنڈ مودی راج‘‘ نام سے ایک مفصل رپورٹ شائع کی تھی۔ اس میں بابا رام دیو کہتے ہیں کہ 2025 تک ان کا اور ان کے گروپ کی مصنوعات کی بکری کو 15 ارب تک پہنچانے کا ہے۔ یہ موجودہ مالی سال میں 1.6 ارب ڈالر تک ہے۔ لگتا ہے کہیں نہ کہیں بابا رام دیو مودی سرکار سے ناراض ہیں۔ ان کا کوئی پروجیکٹ کلیر نہیں ہورہا ہے اسی وجہ سے رام دیو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ وہ جب کلیئر ہو جائے گا تو پھر گنگان کرنے لگیں گے۔ بابا اپنے اسٹیٹ کو بڑھانے کے لئے راج نیتی کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

فوج کی بڑی کامیابی، ایک ہفتہ میں 17 آتنک وادی مارے

جموں و کشمیر کے پلگام ضلع میں سنیچر کو سکیورٹی فورسز نے گھیرا بندی اور تلاشی آپریشن کے دوران ہوئی مڈ بھیڑ میں حز ب المجاہدین اور لشکر طیبہ کے پانچ آتنک وادیوں کو مار گرانے میں بھاری کامیابی حاصل کی ہے۔ ہمارے بہادر جوانوں نے ایک ہفتہ میں 17 آتنک وادیوں کو مار گرایا ہے۔ یہ اپنے آپ میں زبردست کارنامہ ہے۔ پلگام ضلع کی تلاشی میں پچھلے سال کیش وین پر حملہ کر پانچ ملازمین اور دو بینک گارڈوں کو قتل کرنے والا آتنکی بھی مارا گیا ہے۔ سکیورٹی فورس کی کارروائی میں کچھ مقامی شرپسندوں نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ اس دوران سکیورٹی فورس نے ہوا میں گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ اس میں ایک پتھر باز مارا گیا جبکہ 10 پتھر باز زخمی ہوگئے۔ وادی میں پچھلے ایک ہفتے میں فوج کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ فوج نے کشمیر کے مختلف حصوں میں 17 آتنک وادیوں کو مار گرایا ۔ مڈ بھیڑ کے چلتے بارہمولہ اور قاضی کنڈ کے درمیان ٹرین سروس معطل کردی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساؤتھ کشمیر کے چار ضلعوں میں انٹر نیٹ سیوا بند کردی گئی ہے۔ جموں و کشمیر کے بلدیاتی چناؤ کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ چار مرحلوں میں ہونے والے چناؤ کیلئے ووٹوں کی گنتی 20 اکتوبر ہوگی۔ چناؤ کمشنر شالین چھابڑا نے بتایا کہ چناؤ 8،10، 13 اور 16 اکتوبر کو کرائے جائیں گے۔ ووٹنگ کا وقت صبح7 بجے سے دوپہر 2 بجے تک رہے گا۔ریاست کی بڑی پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ نے آئین کی سیکشن 35(a) کا حوالہ دیتے ہوئے بلدیاتی چناؤ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے کہا تھا ایک چناؤ جس میں لوگوں کی حصہ داری نہیں ہے اسے مرکز چناؤ کی طرح دیکھ رہا ہے تو اس میں ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ہم نے لوگوں کو چناؤ میں حصہ نہ لینے یا پھر اس کا بائیکاٹ کرنے کو نہیں کہا ہے ، ہم نے صرف اتنا کہا کہ ہماری پارٹی اس میں حصہ نہیں لے گی۔ پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے اپنی پارٹی کی جانب سے ایک میٹنگ کے بعد ریاستی پنچایت چناؤ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ محبوبہ کی دلیل تھی کہ پردیش میں سیکشن 35(a) کو لیکر ایک بڑی بے یقینی اور شش و پنج کا ماحول ہے۔ایسے میں اگر ان حالات میں سرکار کوئی بھی چناؤ کراتی ہے تو نتیجوں کے بعد اس کا بھروسے پر سوال کھڑے ہوں گے۔ آنے والے دن سکیورٹی فورس کے لئے چیلنج بھرے ہوں گے ساتھ ہی جموں و کشمیر کے عوام کے لئے بھی یہ ایک موقعہ ہوگا جمہوریت کو مضبوط کرنے کا اور اپنے مفادات کی حفاظت کرنے کے لئے اپنی پسند کے نمائندوں کو چننے کا۔
(انل نریندر)

19 ستمبر 2018

جہیز قانون میں ترمیم !سارے پاور پھر دہلی پولیس کے پاس

سپریم کورٹ نے بدھوار کو اپنے ہی ایک فیصلہ کو پلٹتے ہوئے جہیز ٹارچر روکنے کے لئے بنی آئی پی سی کی دفعہ 498A کے تحت سیدھی گرفتاری کا اختیار برقرار رکھا ہے۔ جہیز ٹارچر کے معاملوں میں پتی اور اس کے پریوار والوں کو جو تحفظ ملا ہوا تھا اب وہ ختم ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جہیز قانون کا بیجا استعمال روکنے کیلئے پچھلے برس جاری گائڈ لائنس میں ترمیم کرتے ہوئے جہیز ٹارچر کی شکایتوں کی جانچ کے لئے فیملی ویلفیئر کمیٹی تشکیل کرنے اور اس کمیٹی کی رپورٹ آنے تک گرفتاری کرنے کی ہدایت منسوخ کردی تھی۔ یعنی اب اگر پولیس کو گرفتاری کی درکار بنیاد لگتی ہے تو وہ ملزم کو گرفتار کر سکتی ہے۔ اپنے ہی فیصلہ کو پلٹتے ہوئے سپریم کورٹ نے گرفتاری کا حق پولیس کو دیکر اپنی حدود کی تشریح کردی ہے۔اب پولیس ہی فیصلہ کرے گی کہ شکایت صحیح ہے یا نہیں؟ ایک سال پہلے 2017 کے جولائی میں جسٹس اے کے گوئل اور جسٹس یو یو للت نے یہ مانتے ہوئے کہ جہیز کی فرضی شکایتیں بہت آرہی ہیں اور اس کی وجہ خاندان کے بوڑھوں اور رشتے داروں کوبھی پریشان کیا جاتا ہے اور گرفتار کیا جاتا ہے، فیصلہ دیا تھا کہ اب جہیز کی شکایت آنے پر ایک ویلفیئر کمیٹی جانچ کرے گی اور جانچ کرنے والی کمیٹی کے نتیجوں پر پولیس گرفتار کرے گی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، اے ایم خان ولکراور ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے تازہ فیصلہ ’نیائے فار‘ نامی این جی او کی عرضی پر دیا ہے۔ بنچ نے بھلے ہی جہیز ٹارچر کے معاملہ میں سیدھے گرفتاری کی سہولت کو پھر سے نافذ کردیا ہو لیکن عدالت عظمیٰ نے ساتھ ہی یہ بھی مانا کہ جہیز ٹارچر قانون کا بیجا استعمال ہوتا ہے۔ پتہ نہیں یہ حال میں آئے ایس سی ایس ٹی قانون کے بعد کا اثر ہے یا پھر مہلا حقوق انجمنوں کا لیکن عدالت انسانی حقوق کا حوالہ دیکر ان قوانین کو کمزور کرنے سے بچتی نظر آرہی ہے جنہیں سماجی انصاف کے لئے بنایا گیا ہے۔ شاید عدالت کو یہ احساس ہورہا ہے کہ سماجی انصاف کی ضرورت اور اس کے حق میں کھڑی تحریکیں اور اس کے فیصلے کی تنقید اور احتجاج کرسکتی ہیں اس لئے یہ معاملہ آئین سازیہ کے پالے میں ہی ڈالنا مناسب ہے۔ حالانکہ عدالت نے یہ کہا ہے کہ جہیز قانون کا بیجا استعمال روکنے کے لئے آئی پی سی کی دفعہ 41A اور پیشگی ضمانت کی رعایت پہلے سے موجود ہے اس فیصلے کے تحت اب جہیز کی شکایت کی سچائی جانچنے والی فیملی ویلفیئر کمیٹیوں کی مداخلت ختم ہوجائے گی۔ یہ پولیس ہی فیصلہ کرے گی کہ شکایت صحیح ہے یا غلط؟ پولیس کے اس حق کا پہلے بھی بیجا استعمال ہونے کا خطرہ تھا تبھی تو فیصلہ بدلا گیا تھا۔ اب پھر سے یہ حق پولیس کے پاس آگیا ہے۔
(انل نریندر)

آبروریزی کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں!

دیش میں جس رفتار سے آبروریزی کے واقعات ہورہے ہیں وہ ہمارے سماج کیلئے نہ صرف شرم کی بات ہے بلکہ ایک زبردست چنوتی بھی ہے۔ انہیں کیسے روکا جائے؟ یہ تشویش اس لئے بھی بڑھتی جارہی ہے کہ ہماری پولیس بھی شروعاتی لاچاری اور سیاست کی غیر سنجیدگی میں کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے۔ آئے دن آبروریزی کے واقعات سے دل بیٹھ جاتا ہے۔ ہریانہ کے ریواڑی میں ایک ہونہار طالبہ کے ساتھ 56 مرتبہ آبروریزی کی واقعات حیرت میں ڈالنے والی ہے۔ جس ریاست کی بیٹیاں کھیل کی دنیا میں اپنا اور دیش کا پرچم لگاتار لہرارہی ہیں اس ریاست میں بیٹیوں کی حفاظت کا یہ عالم ہے کہ کچھ لڑکے بس اڈے سے ایک لڑکی کا اغوا کرتے ہیں ،پھر اس کے ساتھ غیر انسانی درندگی کرنے کے کچھ گھنٹے بعد اسی بس اڈے پر اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ جس شخص کے ٹیوب ویل کے پاس اس واردات کو انجام دیاگیا اس شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ہریانہ کی ایس آئی ٹی نے اتوار کی دیر رات واردات کے سازشی اور بنیادی ملزم نبھو کو گرفتار کرلیاہے۔ واردات میں شامل دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے ، وہ ابھی گرفتار نہیں کئے جاسکے۔ ریواڑی کے ایس پی راجیش دگل کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ میوات کی ایس پی نازنین بھسین نے بتایا کہ وہ دیگر ملزمان پنکج جین جو فوج کا جوان ہے اور منیش کی تلاش جاری ہے۔ اس معاملہ میں اب تک تین گرفتاریاں ہوچکی ہیں۔ ایس پی بھسین کا کہنا ہے نبھو نے ہی سازش رچی تھی۔ لڑکی کے رشتے داروں نے میڈیا سے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثے سے ان کو گہرا دھکا پہنچا ہے۔ متاثرہ کی ماں نے انصاف کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ایسی درندگی کرنے والے ملزمان کو پھانسی پر لٹکا دینا چاہئے۔ انہوں نے انتظامیہ کے ذریعے مالی مدد لوٹانے کی بھی بات کہی۔ پریوار نے انتظامیہ کے ذریعے دئے گئے دو لاکھ روپے کا چیک لوٹانے کا فیصلہ کیا، ہمیں اس چیک کی ضرورت نہیں ہے ،کیا یہ قیمت ہماری بیٹی کی عزت کی لگائی جارہی ہے؟ ہمیں روپے پیسے نہیں بس انصاف چاہئے۔ ہم نے قانون کے لمبے ہاتھوں کے بارے میں سنا ہے لیکن پولیس اب تک کیا کررہی ہے؟ ملزمان کو واردات کے اتنے دن بعد بھی نہیں پکڑا جاسکا۔ جن تین ملزمان پنکج، منیش،نشو کا نام ایف آئی آر میں درج ہے متاثرہ کے ہی گاؤں کے رہنے والے ہیں اور اس کے خاندان کو اچھی طرح سے جانتے تھے۔ اس درمیان ہسپتال میں بھرتی متاثرہ لڑکی کی حالت میں بہتری آئی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ متاثرہ نے کھانا پینا شروع کردیا ہے۔ حالانکہ وہ صدمے میں ہے جس سے نکلنے کے لئے وقت لگے گا۔ سخت سزا کے باوجود آبروریزی کے واقعات بڑھے ہیں لیکن انہیں سنجیدگی سے لینے کے بجائے ان پر سیاست شروع ہوجاتی ہے نتیجتاً بنیادی مسئلہ وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے۔ ایسے واقع کے لئے ملزمان کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے۔
(انل نریندر)

18 ستمبر 2018

بھگوڑے مالیا کا سنسنی خیز بیان

بھارت سے بھاگ کر لندن میں رہ رہے بھگوڑہ صنعتکاروجے مالیا نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے بارے میں جو بیان دیا ہے اس سے سیاسی طوفان آنا ہی تھا۔ ہمارے دیش کی سیاست خاص کر اس چناوی ماحول میں جو حالت ہے اس میں کسی پر الزام لگانا کہ اپوزیشن اسے کھلنائک ثابت کرنے میں لگ جاتی ہے ۔ مالیا نے لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ویسٹ منسٹر کورٹ میں حوالگی کی سماعت پوری ہونے کے بعد سنسنی خیز الزام لگایا کہ دیش چھوڑنے سے پہلے وہ سیٹلمنٹ آفر لیکر مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی سے ملا تھا۔ میں نے بتایا کہ پارلیمنٹ میں یہ ملاقات ہوئی تھی اور یہ بھی بتایاتھا کہ میں لندن جا رہا ہوں لیکن ہماری کوئی باقاعدہ ملاقات نہیں تھی۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے فیس بک بلاک پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ مالیا کا یہ دعوی غلط ہے۔2014 سے اب تک میں نے مالیا کو کوئی اپائمنٹ نہیں دیا ، وہ راجیہ سبھا کے ممبر تھے کبھی کبھی ایوان میں بھی آتے تھے۔ ایسے ہی ایک موقعہ کاانہوں نے بیجا استعمال کیا۔ میں ایوان سے نکل کر اپنے کمرہ میں جا رہا تھا اسی دوران وہ ساتھ ہولئے۔ چلتے چلتے کہا کہ میں سیٹلمنٹ کی پیشکش کررہا ہوں۔ انہوں نے بات آگے بڑھانے سے روکتے ہوئے میں نے کہا کہ میرے ساتھ بات کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے، یہ پیشکش بینکوں کے سامنے رکھیں۔ کانگریس نیتا پی ایل پنیا نے ارون جیٹلی کی صفائی کے بعد راہل گاندھی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایک مارچ 2016 کو بجٹ سیشن کے دوران ارون جیٹلی وجے مالیا کو بات چیت کرتے ہوئے میں نے دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا مالیا اور وزیر خزانہ کے درمیان پارلیمنٹ میں لمبی بات چیت ہوئی تھی اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سی سی ٹی وی کیمرہ میں چیک کیا جاسکتا ہے۔ اگر جھوٹ نکلا تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ پنیا نے الزام لگایا کہ مالیا جیٹلی سے صلاح مشورہ کے بعد ہی لندن بھاگے۔ بی جے پی نے پی ایل پنیا کی اس بات کو سرے سے مسترد کردیا ہے۔ پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں ارون جیٹلی اور وجے مالیا کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے ہوئے دیکھا۔ بی جے پی کی پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ارون جیٹلی 1 مارچ کو پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں گئے ہی نہیں تھے۔ میں نے دونوں فریقین کی دلیلیں پیش کردی ہیں۔ یہاں سوال دو تین ہیں۔ پہلا مالیا لندن بھاگنے سے پہلے جیٹلی سے ملے تھے؟ اگر ملے تھے تو کیا انہوں نے کوئی سیٹلمنٹ کی پیشکش کی تھی؟ کیا مودی سرکار نے مالیا کو لندن بھاگنے میں مدد کی تھی؟ راہل گاندھی و پنیا کا دعوی ہے کہ یہ ملاقات ہوئی تھی بھلے ہی وہ رسمی تھی یا نہیں سی سی ٹی وی فوٹیج سے اسے چیک کیا جاسکتا ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی اس پورے معاملے میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے رول پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ راہل نے جمعرات کو کہا جیٹلی نے ایک مالی مجرم کو دیش سے بھاگنے سے کیوں نہیں روکاجیٹلی بتائیں مالیا کے لندن جانے کی جانکاری ملنے کے بعد بھی انہوں نے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو مطلع کیوں نہیں کیا۔ کیا خود اس بارے میں فیصلہ کرلیا؟ یا انہیں اوپر سے آرڈر ملا تھا۔ معاملے میں پی ایم کے رول سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ جیٹلی بتائیں کیا ڈیل ہوئی؟ کانگریس نے پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں ہوئی جیٹلی اور مالیا کی 15-20 منٹ کی بات چیت کے جواب کی شکل میں ایم پی پی این پنیا کو پیش کیا ہے۔ بتادیں پہلی مارچ کو پنیا کے مطابق مالیا اور جیٹلی میں قریب 15-20 منٹ تک بات چیت ہوئی اور اگلے ہی دن مالیا 2 مارچ کو لندن بھاگ گیا۔ جیٹلی اتنے دنوں تک اس ملاقات پر کیوں خاموشی اختیار کئے رہے؟ پارلیمنٹ میں بھی بحث میں جیٹلی نے اس ملاقات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ وجے مالیا کے خلاف 24 اکتوبر 2015 کو لک آؤٹ نوٹس جاری ہوا تھا۔بھاجپا ایم پی سبرامنیم سوامی نے ٹوئٹ کیا کہ یہ نوٹس کی بلاگ سے رپورٹ میں شفٹ کیا گیا جس کی مدد سے مالیا 54 لگیج کے ساتھ آرام سے لندن بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ بھگوڑہ قرار مالیا کے لک آؤٹ نوٹس جاری ہونے کے باوجود لندن کی فلائٹ پکڑنے میں کامیاب ہونے کا بھی اب راز کھل گیا ہے۔ دراصل سی بی آئی نے مالیہ کے لک آؤٹ نوٹس کو گرفتاری کی کیٹگری سے بدل کر محض اطلاع دینے والے زمرے میں شامل کرلیا تھا۔ اس کے چلتے کنگفشر ایئر لائنس کے سابق مالک دہلی کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر گھنٹوں تک دیکھے جانے کے باوجود فلائٹ پکڑنے سے نہیں روکا گیا اور لندن بھاگنے میں وہ کامیاب رہا۔ جانچ ایجنسیوں کے پاس موجود ریکارڈ کے مطابق 9 ہزار کروڑ روپے کے بینک جعلسازی کے ملزم وجے مالیا نے 2 مارچ 2016 کی صبح لندن جانے والی جیٹ ایئرویز کی دو ٹکٹیں خریدی تھیں۔ 2 مارچ کی رات میں ہی وہ اپنی خاتون دوست پنکی لال وانی کے ساتھ فلائٹ نمبر 9w-122 کی ایگزیکٹو کیٹگری میں بیٹھ کر لندن چلا گیا۔ مالیا تب راجیہ سبھا کے ایم پی تھے اس وجہ سے ملے سفارتی پاسپورٹ کے سبب اسے جہاز اور ہوائی اڈہ پر خاص مسافر کا درجہ ملا تھا۔ روانگی سے پہلے قریب ایک گھنٹے تک دونوں نے ایئر پورٹ کے پریمیم پلازا لاؤنج میں آرام کیا تھا۔ ایئر پورٹ پر تعینات امیگریشن افسران کے پاس مالیا کو روکنے یا گرفتاری کا حکم نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اس دوران کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر یہ طے ہونے کے باوجود مالیا مالی مجرم ہے جس نے 9 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا ہے اسے بھگانے میں مدد کس کے کہنے پر ہوئی؟ آخر کس کے حکم پر سی بی آئی نے بدلہ لک آؤٹ نوٹس سرکولر؟ ان سوالوں کا جواب دیش چاہتا ہے۔ الزام درالزام سے کام چلنے والا نہیں ہے۔ ٹھوس جواب و ثبوت چاہئیں۔
(انل نریندر)

اس لئے نہیں کم ہوسکتیں پیٹرول ۔ڈیزل کی قیمتیں

پیٹرول۔ ڈیزل کے دام یومیہ بڑھنے سے عام لوگ پریشان ہیں لیکن لگتا نہیں مرکزی سرکار یا ریاستی حکومتیں اس میں کسی طرح کی راحت دینا چاہتی ہیں۔ اس کی وجہ ہے بڑھی ہوئی آمدنی۔ ایس بی آئی ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق بڑھے داموں سے 19 ریاستوں کو 2018-19 میں 22702 کروڑ روپے کی فاضل کمائی ہوگی۔ یہ تجزیہ سال میں کچے تیل کی اوسط قیمت 75 ڈالر فی بیرل ،ڈالر کی قیمت72 روپے مان کر کی گئی ہے۔ قیمت بڑھنے کے ساتھ ویٹ کی شکل میں وصولی بڑھنے سے ریاستی حکومتوں کی کمائی بھی بڑھ جاتی ہے۔ مرکز کی ایکسائز ڈیوٹی طے ہونے کے باوجود کمائی 2014-15 میں 99 ہزار کروڑ روپے بڑھ کر 2017-18 میں 2.29 لاکھ کروڑ ہوگئی ہے۔ منگلوار کو دہلی میں پیٹرول کی قیمت 88.87 روپے اور ڈیزل کی قیمت 72.57 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ دونوں کے دام 14 پیسے بڑھے ہیں۔ اب تو اس میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ اپریل سے منگلوار تک پیٹرول 9.95فیصد اور ڈیزل 13.3فیصد مہنگا ہوا۔ مرکزی وزیر پیوش گوئل نے بتایا کہ سرکار پیٹرول۔ ڈیزل کے دام کو کنٹرول میں رکھنے کولیکر جو رخ اپنا رہی ہے وہ مناسب ہے کیونکہ ان ایندھنوں کا مصنوعات ٹیکس میں کٹوتی سے سرکاری خسارہ بڑھے گا اور مسائل کم ہونے کے بجائے پیچیدہ ہوجائیں گے انہوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب تمام اپوزیشن اور جنتا ایندھن کے دام میں تیزی کو لیکر ایکسائز ڈیوٹی میں کٹوتی کی مانگ کررہی ہے۔ ظاہر ہے نہ تو مرکزی سرکار اور نہ ہی ریاستی سرکاریں ایندھن کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے یا گھٹانے میں کوئی دلچسپ نہیں رکھتیں۔ بیشک راجستھان اور آندھرا نے ویٹ میں کٹوتی کر کچھ راحت دے دی ہے ۔ چار ریاستوں میں اسمبلی چناؤ میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا اشو ضرور اچھلے گا اس لئے ممکن ہے ووٹوں کی خاطر شاید ریاستی حکومتیں معمولی راحت دے دیں۔ مالی سال میں ڈیزل۔ پیٹرول پر ایکسائز ٹیکس یا منافع دیگر اشو میں 3 لاکھ 43 ہزار کروڑ روپے کی رقم ملی تھی۔ اسی طرح ریاستی حکومتوں کو ویٹ کی شکل میں 2 لاکھ 10 ہزار کروڑ روپے ملے تھے۔ کل ملاکر مرکز کا ریاستی سرکاروں پر دباؤ ہے کہ وہ ویٹ میں کمی کریں۔ مرکزی سرکار اور ریاستی سرکاریں قیمتیں گھٹا سکتی ہیں تاوقتیکہ ایسا کرنے کا ان کا کوئی ارادہ ہو ان کی نظروں میں پیٹرول۔ ڈیزل کے بڑھتے دام کوئی چناوی اشو نہیں ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ آخر بھارت کی جنتا کے پاس چپ رہنے کے علاوہ کوئی متبادل ہے ہی نہیں؟ روپیہ اور کمزور ہورہا ہے، کچے تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور اس سے پیٹرول۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اور اضافہ ہوگا۔ اس کے لئے تیار رہنا ہوگا۔
(انل نریندر)

16 ستمبر 2018

سپر ہٹ مقابلے ،ایشیا کپ کا آغاز

ابو ظہبی میں سنیچر کوایشیا کپ 2018 شروع ہوگیا ہے۔ ٹورنامنٹ 28 ستمبر تک چلے گا۔ ہندوستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ کی پہلی ونر ہے۔ اس مرتبہ ٹیم انڈیا کے کپتان روہت شرما ہیں۔ میچ روبن اورناٹ آؤٹ بنیاد پر ہوں گے۔اس میں حصہ لے رہی کچھ 6 ٹیمو ں کے دوگروپ میں بانٹا گیا ہے۔ گروپ اے میں بھارت ، پاکستان اور ہانگ کانگ ہیں۔ گروپ بی میں سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان ہیں۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں بھارت اور پاکستان میں ٹکر کرکٹ میدان پر ہو اس کی دلچسپی شباب پر ہوتی ہے۔ موجودہ چمپئن بھارت اور سابق چمپئن پاکستان کا میچ بدھوار کو ہوگا۔ کیونکہ مقابلہ متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں ہوگا لہٰذا پاکستان اور بھارت دونوں کو ہی کرکٹ شائقین کی حمایت ملے گی۔ انگلینڈ کے حالیہ دور میں ٹیم انڈیا کی پرفارمینس اچھی نہیں رہی۔ ٹیم انڈیا کے انگلینڈ دورہ سے پہلے وراٹ کوہلی کی پرفارمینس سرخیوں میں رہی تھی۔ پچھلے دورہ میں وہ بری طرح ناکام رہے تھے۔ بطور بلے باز اپنی چھاپ چھوڑنے میں بیشک وراٹ کامیاب رہے ہوں اور ان کا بلہ خوب چلا ہو لیکن بطور کپتان کوہلی بری طرح سے انگلینڈ کے دورہ میں فلاپ ثابت ہوئے۔ کوہلی کا یہ تجزیہ صحیح ہے کہ 1-4 کی ہار کے دوران لائس ٹیسٹ کے علاوہ باقی ٹیسٹ میں انگلینڈ کی ٹیم پوری طرح سے ان پر دباؤ نہیں بنا سکی لیکن میزبان ٹیم نے اہم موقعوں پر بہتر کرکٹ کھیلا ۔ سیریز سے ثابت ہوا کہ کوہلی صرف بھارت میں ہیں نہیں بلکہ دنیا میں اپنے ہم پلہ کھلاڑیوں سے کہیں آگے ہیں۔ کوہلی کا بیڈ لک یہ رہا کہ پانچوں ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے ٹاس گنوائے۔ انگلش سیریز میں بطور کپتان وراٹ کوہلی نے کئی غلطیاں کیں۔ ایس بیسٹن کے ٹیسٹ میں انگلینڈ ایک وقت 87 رن پر 7 وکٹ کھو کر بہت مشکل میں تھا مگر سیم کیرون نے خوشی میں پھولے بلے بازوں کے ساتھ بھارت کے لئے 194 رن کا ٹارگیٹ طے کردیا۔ کپتان کوہلی نے تب تک آر اشون کو اٹیک سے ہٹا کر اپوزیشن ٹیم پر پریشر بنانے کا موقعہ گنوایا۔ ساؤتھ کیپمٹن کے چوتھے ٹیسٹ میں پہلی پاری میں انگلینڈ کے دوسرے دن86 رن پر 6 وکٹ نکل گئے لیکن کرن کے 76 رن سے اس نے 246 کا ٹوٹل کھڑا کردیا۔ کرن اشون کی غیر موجودگی میں کوہلی کے پاس پلان بی موجود نہیں تھا جس کا انگلینڈ نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سرکردہ اور سابق کپتان سنیل گواسکر کو لگتا ہے کہ وراٹ کوہلی کو انگلینڈ میں ملی ہار سے تکنیکی پہلوؤں کے بارے میں بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔ انہوں نے جب سے کپتانی سنبھالی ہے تب سے دو سال ہی ہوئے ہیں اس لئے کبھی تجربہ کاری کی کمی دکھائی دیتی ہے کبھی کوتاہی۔ انگلینڈ کی سیریز میں اگر مہندر سنگھ دھونی کپتان ہوتے تو شاید سیریز کا نتیجہ بہتر ہوتا۔ بطور کوہلی کو دھونی سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوہلی اس ناکام دورہ میں بطور کپتان فیل ہوئے تو قصور تو کوچ روی شاستری و سلیکٹروں کا بھی ہے۔خیر جو گزر گیا وہ بات گئی اب تو ساری نگاہیں ایشیا کپ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ وراٹ کوہلی کو آرام دیا گیا ہے۔ اس کپ کے لئے امباتی رائیڈو، منیش پانڈے، کیدار جادھو، مہندر سنگھ دھونی، دنیش کارتک، اکشرپٹیل، خلیل احمد کو ٹیم میں شامل کر نوجوانوں کو بھی موقعہ ملا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ایشیا کپ 2018 میں بھی ٹیم انڈیا روہت شرما کی کپتانی میں کپ جیتنے میں کامیاب ہوگی۔ ٹیم انڈیا کو بیسٹ آف لک۔ پاکستان سے مقابلہ دلچسپ ہوگا۔
(انل نریندر)

ہیڈ کانسٹیبل کا قتل قابل مذمت واقعہ ہے

راجدھانی دہلی میں بدمعاشوں کے حوصلے مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ اب تو وہ پولیس ملازمین پر بھی حملے کررہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے ان بدمعاشوں کو اب وردی کا بھی خوف نہیں رہا۔ چکی سے آٹا لینے بائک سے جارہے دہلی پولیس کی ہیڈ کانسٹیبل (حولدار ) رام اوتار کو منگل کی رات بدمعاشوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ وہ ڈیوٹی سے رات ساڑھے نو بجے گھر پہنچے تھے۔ پولیس کے مطابق رام اوتار آبائی طور پر راجستھان کے کرولی ضلع کے برودالا گاؤں کے رہنے والے تھے۔گھر میں بیوی ،10 سال کی بیٹی اور 5 سال کا بیٹا ہے۔ رام اوتار رات ساڑھے نو بجے آٹا لینے کے لئے گھر سے نکلے تھے۔ راستے میں انہیں دو تین مشتبہ لڑکے کھڑے دکھائی دئے۔ انہوں نے ان سے وہاں کھڑے ہونے کی وجہ پوچھی۔ تبھی ایک بدمعاش نے طمنچہ نکال کر انہیں گولی مار دی۔گولی ان کے پیٹ میں لگی۔ موقعہ پر پہنچی پولیس انہیں اپولو اسپتال لے کر گئی جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ سال 2003 میں دہلی پولیس میں ان کی تقرری ہوئی تھی۔ وہ تیز طرار پولیس ملازم تھے۔ حالیہ دنوں میں پولیس ملازمین کے ساتھ جرائم کے واقعات بڑھے ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب بدمعاشوں کے حوصلہ کتنے بلند ہیں۔ پچھلے چار برسوں میں دہلی پولیس کے 9 جوان ڈیوٹی کے دوران بدمعاشوں کے شکار ہوئے۔ 7 جنوری 2015 کو نریلہ میں کانسٹیبل کو ان کے گھر کے سامنے بدمعاشوں نے سرپر گولی مار کر ہلاک کردیا۔ 12 دسمبر 2016 کو بیگم پور علاقہ میں اے ایس آئی جتیندر اور اس کی مہلا دوست کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔30 اپریل 2017 کو میاں والی میں اے ایس آئی وجے کا قتل ہوا۔ 9 جولائی 2017 کو کانسٹیبل پرمندر کو بدمعاشوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ 2017 میں ہی 15 اکتوبر کو ہیڈ کانسٹیبل راجیش کو بدمعاشوں نے موت کے گھاٹ اتاردیا۔ 29 مئی اسی سال پی سی آر میں تعینات ای ایس آئی سدھار کا قتل ہوا اور 11ستمبر اسی سال مادی پور میں کانسٹیبل رام اوتار کو گولی مار دی گئی۔ بائیک سوار بدمعاشوں نے ایک مہلا انسپکٹر سے دن دہاڑے اس کا پرس لوٹ لیا۔ شاہدرہ کے جی ٹی بی انکلیو میں سڑک سے کار ہٹانے کے لئے کہنے پر کچھ لوگوں نے ایک اے ایس آئی کی پٹائی کردی۔ یہ ساری واردات ظاہر کرتی ہیں کہ کس حد تک ان بدمعاشوں کے حوصلہ بڑھ چکے ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کہ آخر ان جرائم پیشہ میں قانون کا ڈر کیوں ختم ہوتا جارہا ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن خاص بات یہ ہے کہ دہلی پولیس اور ہماری عدالتوں کو یہ یقینی کرنا ہوگا جرائم کرنے پر کسی بھی صورت میں جرائم پیشہ بچ نہ پائیں اور ان کے کئے کی سزا ضرور ملے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ دن دور نہیں جب دہلی کی سڑکیں محفوظ ہوں گی اور اپنی ڈیوٹی نبھا رہے پولیس ملازم بھی محفوظ رہیں گے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...