13 جولائی 2013

جارحانہ چناوی موڈ میں آئی بھارتیہ جنتا پارٹی!

بھارتیہ جنتا پارٹی نے پیر کے روز اعلان کیا کے کانگریس وقت سے پہلے چناؤ کروا سکتی ہے اور ہم اس کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ پارٹی کی پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں نریندرمودی، راجناتھ سنگھ کو چناؤ مہم ٹیم تشکیل کرنے کے لئے اختیار دیا گیا ہے۔ نریندر مودی کی سب کمیٹی میں ہوئی میٹنگ میں آنے والے لوک سبھا چناؤ میں اچھا انتظامیہ اور ترقی کو چناوی اشو بنانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اننت کمار نے میٹنگ کے بعد کہا کہ بھاجپا جارحانہ چناوی موڈ میں آچکی ہے۔چناوی تیاروں پر نظر رکھنے اور انہیں آگے بڑھانے کیلئے مختلف کمیٹیوں کی ہر ہفتے یا دس دن میں میٹنگ ہوا کرے گی۔ بی جے پی کی کمپین کمیٹی کی کمان سنبھالتے ہی نریندر مودی نے اپنا مشن 2014ء کی حکمت عملی بنا لی ہے۔ جمعرات کو پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ سے پہلے پارٹی کی ہائی لیول کمیٹی کی میٹنگ میں اس گیم کے لئے ٹارگیٹ کے اشو طے کئے گئے۔ یہ ہیں کرپشن، سی بی آئی کا بیجا استعمال اور اقتصادی بحران۔ طے ہوا کے ان چاروں اشو کو لیکر پارٹی ریاستوں میں مہم چلائے گی۔ ان کے علاوہ دہشت گردی، دیش کا لچر سلامتی نظام و لوکل اشوز کو زور شور سے اٹھایا جائے گا۔ اگلے مہینے کانگریس کے خلاف چارج شیٹ جاری کی جائے گی۔ بھاجپا حکمراں ریاستوں کی اچھی گورننس بھی لوگوں کے سامنے لائی جائے گی۔ چناؤ مہم کی تیاری کو لیکر میٹنگ میں اڈوانی اور مودی دونوں نے کہا کہ چناؤ میں اب وقت کم بچا ہے ہوسکتا ہے کانگریس لوک سبھا چناؤ اسی سال کروا لے ،ایسے میں پارٹی کو تیاررہنا چاہئے۔ نریندرمودی نے بھی لگتا ہے کہ اپنے کام کرنے کے انداز میں تھوڑی تبدیلی کی ہے۔ اب وہ سب کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے صاف اشارے دئے ہیں کہ فیصلے لینے میں وہ اپنی نہیں چلائیں گے بلکہ پارلیمانی بورڈ اور دوسرے فورم کی رضامندی سے کام کریں گے۔ اسی کے تحت چناوی مہم سے جڑی کچھ بڑی ذمہ داریاں اوروں کو بھی سونپی ہیں۔ اڈوانی کی اور مودی کی سوچ میں حالانکہ اب کافی فرق ہے جہاں مودی بھاجپا کی سیٹیں بڑھانے پرزور دے رہے ہیں وہیں اڈوانی بی جے پی کو نئے ساتھی لانے پر زور دے رہے ہیں۔ مودی چاہتے ہیں گجرات کے ترقی ماڈل کو آگے بڑھایا جائے جبکہ اڈوانی اٹل بہاری واجپئی کوماڈل بنانا بہتر سمجھتے ہیں۔
مودی کا کہنا ہے کہ پارٹی کوجیتنے والے امیدواروں پر داؤ لگانا چاہئے۔ اڈوانی کہہ رہے ہیں کہ امیدوار جیتنے والا تو ہونا چاہئے لیکن اس کی ساکھ بھی صاف ہونی ضروری ہے۔ میٹنگ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ آر ایس ایس کی ہدایت پر پارٹی کے سبھی بڑے نیتاؤں نے اتحاد دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اجتماعی فیصلوں کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پارلیمانی بورڈ کو آگے بھی پوری طرح سے چناوی حکمت عملی سے جوڑ کر رکھا جائے گا۔ نریندر مودی کا مشن2014ء میں اترپردیش اور بہار دو اہم ریاستیں ہیں۔ مودی کے آپریشن اترپردیش اور بہار کے لئے خاص طور پر حکمت عملی طے کی جارہی ہے۔ کوشش یہ ہے کہ ہر طبقے تک پہنچ بنائی جائے تاکہ انہیں ساتھ جوڑا جاسکے۔ 120 لوک سبھا سیٹوں والے یہ دو راجیہ مشن مودی کا پہیہ بنیں گے اور نشانہ یہ بھی ہوگا کہ سیٹوں کے معاملے میں بھی کوئی بھی ریاست اچھوتی نہ رہ جائے۔
(انل نریندر)

تحریر چوک نے کرائی دوسری کرانتی!

مصر کا تحریر چوک خاموش ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ابھی پہلی کرانتی کا خمار ٹوٹا نہیں تھا کہ تحریرچوک پر د وسرا انقلاب برپا ہوگیا جب مصر کی فوج نے محمد مرسی کو صدارت سے ہٹانے کااعلان کیا تو قاہرہ کے تحریر چوک پر بھاری تعداد میں لوگ جمع ہوگئے اور خوشیاں منائیں۔ دیش کے دوسرے حصوں میں بھی بہت سے لوگوں نے جشن منایا۔ ایک سال پہلے مصر میں انہیں جمہوری لہر میں ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی نہ صرف حکمرانی چلی گئی بلکہ وہ جیل میں اپنی زندگی کا باقی حصہ گزار رہے ہیں۔ تحریر چوک پر تب بھی ایسا ہی عوامی سیلاب امڑا تھا جس کے ساتھ فوج کی طاقت جڑتے ہی مصر تاناشاہی کے چنگل سے آزادہوگیا۔ اس کے بعد پہلی بار برسوں بعد جمہوری آئین سے دیش کے صدارتی چناؤ میں محمد مرسی نے اقتدار سنبھالا تھا۔ مصر کی 80 سال کی کٹر پسند پارٹی مسلم برادر ہڈ سے مرسی کے سامنے ویسے تو چنوتیوں کا پہاڑتھا لیکن سب سے ضروری چنوتی تھی دیش کی بدحال معیشت کو فوراً پٹری پرلانا۔ ایک قابل قبول آئین بھی ترجیح تھی۔ دیش کے مختلف نظریات کو ساتھ لیکر چلانے کے لئے ایک قومی پلیٹ فارم تیار کرنا تھا۔ مرسی سے امید تھی کہ وہ قومی ایجنڈے پر مسلم برادر ہڈ کا کٹر پسند ایجنڈا حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ مرسی کو صدر کے طور پر ایک سال بھی نہیں گذرا تھا کے ان کے خلاف بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اتر آئے اور وسیع پیمانے پر ناراضگی تھی۔یہ قوت ارادی مرسی کے اقتدار کیلئے چنوتی بھی تھا اور سوال بھی۔اس لئے انہیں ہٹانے کے لئے فوجی کارروائی پر دنیا بھر میں ویسے ہی سخت ردعمل نہیں ہوا جیسا تختہ پلٹ کے بعد عام طور پر ہوتا ہے۔ لیکن فوجی مداخلت کولیکر تمام اندیشات ابھی بھی برقرار ہیں۔ 
کیا مرسی کو اس طرح ہٹانے کے پیچھے وہاں کے لوگوں کا اعتماد کھونا یا فوج نے اقتدار پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لئے عوامی ناراضگی کی دلیل کابہانا بنا لیا؟ یہی فوج تھی جس نے تین دہائی تک حسنی مبارک کی تانا شاہی کا ساتھ دیا تھا۔ جب فوج کو لگا کے پانی سر سے اوپر آچکا ہے تب جاکر اس نے مبارک سے کنارہ کیا۔ 9 کروڑ کی آبادی والے مصر میں مہنگائی اور تیل کی قلت نے جینا حرام کردیا۔ غیر ملکی کرنسی ذخیرے بھی خالی ہوگئے اور دیش کی کرنسی کی قیمت بھی مسلسل گرتی جارہی ہے۔ بجلی کٹوتی سے گھروں میں اندھیرا ہے تو لوگوں کو روزمرہ کی ضروری چیزوں کے لئے بھٹکنا پڑ رہا ہے۔ بے روزگاری کی بڑھتی فوج دیش کو آنے والے وقت میں پریشانیاں کھڑی کررہی ہے۔ مرسی یہ بھی بھول گئے کے ایک سال پہلے انہوں نے انہی وعدوں کو دیش کی تقدیر کہا تھا۔ مصر اور مشرقی وسطیٰ کے لئے ایک پائیدارحکومت اور امن کا ماحول انتہائی ضروری ہے تاکہ اس کی اقتصادی پریشانیاں دور ہوسکیں اور خطے میں پہلے سے ہی عدم استحکام کی صورتحال اور زیادہ نہ ہوجائے۔ مرسی کے زوال کا اثر کئی پڑوسی ملکوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس اندیشے سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کے مسلم برادر ہڈ چین سے اب بیٹھے گا۔ کہیں مصر میں خانہ جنگی نہ چھڑ جائے۔
(انل نریندر)

12 جولائی 2013

اتراکھنڈ میں تباہی کا تجزیہ مشکل بازآبادکاری میں برسوں لگیں گے!

چار دھام یاترا کے تحت کیدارناتھ دھام کے درشن کرنے کے لئے شردھالوؤں کو اب لمبا انتظار کرنا پڑے گا۔ اترا کھنڈ میں آبی آفت سے تباہ ہوئے کیدارناتھ مندر کو دوبارہ ٹھیک کرنے میں کم سے کم 3-4 سال کا وقت لگے گا۔ مرکزی وزیر ثقافت چندریش کماری کٹوچ نے کہا کہ مندر کو ہوئے نقصان کا تجزیہ کرنے کے لئے آثار قدیمہ ہند کے محکمے کی ٹیم سروے کیلئے جلد اتراکھنڈ جائے گا۔حالانکہ یہ ٹیم کچھ دن پہلے بھی گئی تھی لیکن خراب موسم کے چلتے وہ مندر تک نہیں پہنچ پائی۔ انہوں نے یقین دلایا کے مندر کو پرانی شکل میں لانے کے لئے محکمہ آثارقدیمہ ہر ممکن کوشش کرے گا۔ کیدارناتھ دھام میں آئی تباہی کے چلتے جان و مال کا کتنا نقصان ہوا ہے اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ ابھی تک یہ بھی پتہ نہیں چل سکا کے کتنے لوگ لا پتہ ہیں۔ خبر آئی ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے اس قدرتی آفت کے چنگل میں پھنسے کیدارناتھ مندر میں لوگ یوں ہی سوتے رہے ہوں گے چونکہ سرکار ابھی ملبے کے اندر دبی لاشوں کو نکالنے میں جلد بازی نہیں کررہی ہے۔ سائنسدانوں سے غور وخوض کے بعد یہاں سے ملبہ ہٹانے پر غور کیا جائے گا۔ سطح پر ملنے والی لاشوں کا دہا سنسکار کرنے کے بعد اب دوسرے مرحلے میں تباہ ہوئی عمارتوں میں پھنسی لاشوں کو نکال کر ان کا دہا سنسکار کیا جائے گا جس کے لئے سلیب اور لوہا کاٹنے کی مشینوں کا استعمال کیا جائے گا۔ اس کے بعد ان لاشوں کو نکالا جانا ہے جو ملبے میں دبی ہوئی ہیں۔ بابا کیدار کی یاترا کے بھروسے سینکڑوں گھروں کے چولہے جلا کرتے تھے۔ اب آفت نے ان کا یہ چولہا چھین لیا ہے۔ کئی گھروں میں کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ 16 سے17 جون کو بابا کیدارناتھ کے مندر سمیت رام باڑہ ، گوری کونڈ میںآئی قدرتی آفت نے گپت کاشی اور کالی مٹھ وادی کے جہاں سینکڑوں لوگوں کو اپنوں سے چھین لیا ہے وہیں زندہ لوگوں کے جینے کی امیدیں بھی چھین لی ہیں۔ گزر بسر کے وسائل تباہ ہوگئے ہیں۔ کئی لوگوں کے خواب پلک جھپکتے ہی چکنا چور ہوگئے۔ گپت کاشی و کالی مٹھ علاقے میں زیادہ تر دیہات کا گزربسر کیدارناتھ دھام پر منحصر تھا۔ پنڈیتائی سے لیکر دوکان اور خچر کے کام میں یہاں کے سینکڑوں لوگ برسوں سے لگے ہوئے تھے لیکن سیلاب نے سب کچھ تباہ کردیا۔ تباہی میں سینکڑوں کی تعداد میں بوجھ ڈھونے والے قلیوں اور ان کے تقریباً 2 ہزار خچر بھی لا پتہ ہیں یا مرچکے ہیں۔ غیرسرکاری انجمنوں کا دعوی ہے کہ ان میں سے کچھ سیلاب میں بہہ گئے اور کچھ ابھی پھنسے ہوئے ہیں۔ بچاؤ کرنے والے حکام کا انتظارکررہے خچروں کے ذریعے بوجھ ڈھونے والا فرقہ ریاستی سرکار کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہے اور موٹے طور پر ریاست میں بوجھ ڈھونے والے تقریباً20 ہزار لوگ ہیں جو سیاحوں کو یا تو خچروں پر یا اپنی پیٹھ پر بٹھا کر تیرتھ استھلوں تک پہنچاتے ہیں۔ 16-17 جون کو آئے آبی قہرنے اتراکھنڈ کو فوری طور پر ساڑھے آٹھ ہزار کروڑ روپے کی چپت لگا دی تھی۔ بھاری بارش اور چٹانے کھسکنے سے چمولی، رودرپریاگ اور اترکھاشی، چتوڑا گڑھ میں جان و مال کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ قدرتی آفت کے بعد ان شہروں میں نہ تو آمدو رفت کے لئے سڑک راستہ و پیدل راستہ بچا ہے اور نہ ہی پینے کا پانی ،اجالے کے لئے بجلی اور سیڑھی نما کھتیان میں لہرارہی فصلیں بھی برباد ہوگئی ہیں۔ ملک بیرون ملک کے شردھالوؤں سے گلزار رہنے والا چار دھام مارگ دکھائی تو دے رہا ہے لیکن صرف تباہی کا منظر اور ویرانگی اور مرگھٹ میں تبدیل ہوچکے کیدارناتھ دھام، گوری کنڈ، رام باڑہ میں چوطرفہ بکھری پڑی لاشیں سڑ رہی ہیں جس سے وہاں مہاماری کا اندیشہ ہے۔ آمدورفت کے راستے بند ہونے اور چھوٹے پل ٹوٹنے سے الگ تھلگ پڑے گاؤں ،قصبوں میں بھکمری جیسے حالات پیدا ہورہے ہیں۔ چاردھام کی یاترابند ہونے سے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی پر مشکل وقت آگیا ہے۔ چمولی، رودرپریاگ،اترکاشی کے اضلاع میں تو کاروباری سرگرمی ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں۔ رشی کیش، ہری دوار اور میدانی ضلعوں میں بھی لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ٹھیلی لگانے والے دوکاندار، ٹریول ایجنٹ،مندروں کے پروہت اور گاڑی ڈرائیور، ہوٹل، لانج،دھرمشالائیں وغیرہ اس یاترا میں سیاحوں کی آمد پر منحصر رہتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق اتراکھنڈ کو سیاحت سے ہونے والی آمدنی میں سے اکیلے چاردھام یاترا کا حصہ قریب 16 ہزار کروڑ روپے کا ہے۔ اب تک چلے یاترا سیزن نے4 ہزار کروڑ روپے کی کمائی مان بھی لی جائے تو یاترا رکنے سے 12 ہزار کروڑ روپے کااقتصادی کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ اگلے سال بھی اگر یاترا ایک تہائی رہ جاتی ہے تو نقصان 20 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ جائے گا۔ ایسے میں کل نقصان 32 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس کے سروے کے مطابق قریب6 ہزار لوگ بالواسطہ و غیر بالواسطہ طور پر چار دھام یاترا راستے پر کسی نہ کسی روزگار سے جڑے ہیں۔ کیدارناتھ اور بدری ناتھ کا 2 ہزار سے زیادہ کا پنڈا پروہت سماج،12 ہزار سے زیادہ کنڈی، گھوڑے، خچر سے جڑاطبقہ، ایک ہزار سے زیادہ عورتیں اور رضاکار گروپ مندر کے لئے پرساد اور مسافروں کے لئے سوینیئر بنانے والے اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ایک بڑاطبقہ ٹریول ایجنٹوں ،لانج، ہوٹل، ریستوراں سے جڑا ہے۔ یاترا پر آنے والے سب سے زیادہ اسی پر خرچ کرتے ہیں۔ چمولی ،رودرپریاگ، اترکاشی اور پتوڑا گڑھ میں قریب ڈھائی ہزارلوگ گھریلو صنعتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان صنعتوں میں آٹا چکی سے لیکر جوس بنانے کا کام ہوتا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق یاترا روڈپر قریب پانچ ہزار ہوٹل، ریزاٹ اور دھرمشالائیں ہیں۔ اس میں ہری دوار ،رشی کیش کے ہوٹل وغیرہ شامل نہیں ہیں۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ چھ ماہ تک چار دھام راستے میں ٹورازم کاروبار سے وابستہ 1 لاکھ 80 ہزار لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ تباہی نے سڑک راستہ ، پانی کی لائنیں،بجلی کے ٹرانسفارمر اور کھمبوں کو تباہ کردیا ہے۔ 950 کروڑ روپے کی لاگت سے بنی قومی شاہراہ اور دیگر سڑکوں کو بنانا ہے۔ تینوں شہروں میں 1418 پینے کے پانی کی لائن ٹوٹ گئی ہے جن کی مرمت کے لئے 284 کروڑ روپے درکار ہیں اور کل 8188 ایکڑ زرعی زمین میں 30 فیصدی کھیت کھلیانوں میں فصل چوپٹ ہوچکی ہے۔ جانور پالن کوبھی نقصان پہنچا ہے۔ تباہی کتنی خوفناک ہے اس کا صحیح اندازہ شاید لگ سکے۔ جس تباہی کے اندازے میں اتنی مشکلیں آرہی ہیں اس کی باز آبادکاری میں کتنا وقت اور پیسہ لگے گا اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ اترا کھنڈ کو قدرتی قہر سے خود کو بسانے میں سالوں لگے ہیں۔
(انل نریندر)

11 جولائی 2013

دوستی کی میٹھی میٹھی باتیں کرے اور سرحد پر جارحانہ چالیں؟

وہ کہاوت ’’چور چوری سے جائے پر ہیرا پھیری سے نہیں‘ ‘ ہمارے پڑوسی چین پر یہ کہاوت صادق آتی ہے۔ ہندوستان کے وزیر دفاع اے۔کے۔ انٹونی کے چین کے دورہ کے درمیان جمعہ کو چین اور پاکستان نے 8 معاہدے کئے۔ ان میں چونکانے والا ایک سمجھوتہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے قبضے والے ہندوستانی علاقے میں مقبوضہ کشمیر میں 18 ارب ڈالر کی لاگت سے چین 200کلو میٹر لمبی ایک سرنگ بنائے گا جو کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے ہوکر گزرے گی۔ پاک ۔ چین نے جمعہ کو جو سمجھوتے کئے ان سے دونوں ملک نہ صرف باہمی اقتصادی معاملات کو مضبوطی دینا چاہتے ہیں بلکہ توانائی کے لئے کافی کچھ درآمد پرمنحصر چین کے لئے تیل سپلائی راستہ بھی بنے گا۔ کہنے کو اس معاہدے کا مقصد چین کی توانائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اسے تیل سپلائی کے لئے راستہ دینا ہے لیکن یہ بھارت کے لئے حکمت عملی کے نظریئے سے خطرناک ہوسکتا ہے۔ پاک۔ چین اقتصادی گلیارے سے چین کا مفاد جڑا ہوا ہے۔ چینی وزیر اعظم نے کہا کہ 200 کلو میٹر لمبی سرنگ بحر عرب میں پاکستان کے گوادر بندرگاہ کے نارتھ ویسٹ چین میں شنگزیانگ میں جیل سے جڑے گی۔ حکمت عملی کے لحاظ سے اہم گوادر بندرگاہ کا کنٹرول اسی سال چین کے ہاتھ میں آیا ہے۔ اس سے اس کی بحر عرب اور مغربی ایشیا اسٹیٹ آف ہارمونز تک پہنچ آسان ہوجائے گی۔ جہاں سے دنیا کا قریب ایک تہائی تیل ٹرانسپورٹ ہوتا ہے۔ دوستی کی میٹھی میٹھی باتیں اور سرحد پر جارحانہ چالوں کے ساتھ چین کے اس نئے پینترے نے بھارت کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ مارچ میں چین کی قیادت بدلنے کے بعد صدر شی فن فنگ نے آتے ہی بھارت کے ساتھ اچھے رشتوں کی اہمیت جتائی ہے۔ کچھ ہی ہفتے بعدچین کی فوج نے حقیقی کنٹرول لائن پر ہندوستانی حد سے تمبو گاڑھ دئے۔سرحد پر کشیدگی بڑھانے کے لئے سات سال بعد ہندوستانی وزیر دفاع کے دورہ سے ٹھیک پہلے چینی فوج کے ایک جنرل نے زہر اگلتے ہوئے چین بھارت کی نیت پر سوال کھڑے کردئے۔ قابل ذکر ہے چینی فوج کے میجر جنرل لوایوان نے بھارت کی سرحد پر فوجی سرگرمیاں نہ کرنے اور اکسانے کی کسی کارروائی پر نئی پریشانی پیدا کرنے کو لیکر خبردار کیا تھا۔ ساتھ ہی بڑبولے جنرل نے بھارت پر چین کے 90 ہزار مربع کلو میٹر علاقے پر قبضے کا الزام جڑدیا۔ اس بیان کو پوری طرح سے نظر انداز نہیں کیا جاسکات۔ چین کی طرف سے جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ بتانا وہاں کے شہریوں کو اسٹامپ ویزا دینے سے لیکر تعلقات بہتر بنانے کی غرض سے دورہ پر جانے والے بھارتیہ فوج کے ایک جنرل کو ویزا سے انکار جیسے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن اب ہندوستانی سیکٹر میں 200 کلومیٹر لمبی سرنگ بنانے کا پلان بھارت کی سالمیت اور سکیورٹی پر بھاری چوٹ ہے۔ ہماری سرکار اب بھی ہندی چینی بھائی بھائی کی رٹ لگا رہی ہے۔ دو دن پہلے چینی فوجوں نے نئی حرکت کی ہے۔ چینی فوج نے لیہہ۔ لداخ سیکٹر میں نہ صرف گھس پیٹھ کی بلکہ مقامی لوگوں کو ہندی زبان دھمکایا اور چینی فوج نے قدم بڑھاتے ہوئے اس بار وہاں لگے ہائی ریزولیوشن کیمروں کو بھی توڑ دیا جنہیں بھارتیہ فوج نے چینی فوجی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے قریب ایک مہینے پہلے وہاں لگائے تھے۔
 (انل نریندر)

یوپی اے سوئم کا بلو پرنٹ تیار ہوگیا ہے

ایک طرف جہاں اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان وزیر اعظم کی امیدواری کے لئے افراتفری مچی ہوئی ہے وہیں دوسری طرف کانگریس مسلسل تیسری بار اقتدار میں آنے کے لئے خاموشی کے ساتھ اپنی چناوی تیاریوں کو آخری شکل دے رہی ہے۔ اس کے لئے پارٹی میں یوپی اے ۔III کے لئے ایک بلوپرنٹ بھی تیار کرلیا ہے۔ جھارکھنڈ میں پارٹی سرکار بنانے جارہی ہے۔ دراصل جھارکھنڈ میں کانگریس صرف سرکار ہی نہیں بنا رہی ہے بلکہ یہ آئندہ لوک سبھا چناؤ کی زمین تیار کررہی ہے۔ ایک تو ہیمنت سورین کو وزیر اعلی بنانے کے بدلے کانگریس نے جھارکھنڈ کی کل14 لوک سبھا سیٹوں میں سے10 اپنے لئے ریزرو کرالی ہیں، جس میں وہ دوسیٹیں لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی کے لئے چھوڑے گی۔ ان تینوں پارٹیوں نے 2004ء میں مل کر چناؤ لڑا تھا اور19 میں سے13 سیٹیں جیتی تھیں۔ بہار میں کانگریس دو کشتیوں میں سواری کررہی ہے۔ اگر چارہ گھوٹالے میں عدالت لالو یادو کو جیل بھیج دیتی تو پھر نتیش کمار کی جنتا دل (یو) کے ساتھ چناوی تال میل کرسکتی تھی۔ یہ بات نہیں بنی تو لالو پاسوان تو ہیں ہی۔ تاملناڈو میں ڈی ایم کے اور ترنمول کے ساتھ پھر پینگے بنانے کی ہر ممکن کوشش جاری ہے۔ حال ہی میں کانگریس نے ڈی ایم کے چیف کروناندھی کی بیٹی کو راجیہ سبھا میں لانے کے لئے اپنے چار ممبران اسمبلی کی حمایت دے دی۔ اس کے بدلے میں ڈی ایم کے نے بھی نرمی کے اشارے دیتے ہوئے کانگریس کو فوڈ سکیورٹی آرڈیننس پر پارلیمنٹ میں حمایت دینے کا وعدہ کرلیا ہے۔ کانگریسی بلو پرنٹ کے مطابق یوپی اے III کے دو حصے ہوں گے۔ پہلا کانگریس کچھ پارٹیوں کے ساتھ چناؤ سے پہلے اتحاد کرے گی اور ان کے ساتھ مل کر چناؤ لڑے گی۔ ان پارٹیوں میں این سی پی، راشٹریہ لوک دل، لوک جن شکتی پارٹی، آر جے ڈی اگر نتیش سے بات بن گئی تو جے ڈی یو کے ساتھ چناؤ لڑے گی۔ جھارکھنڈ میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ، نیشنل کانفرنس، کیرل میں یو ڈی ایف اور تاملناڈ و میں ڈی ایم کے کا چناؤ سے پہلے اتحاد ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد جو پارٹیاں اس کے ساتھ آ سکتی ہیں ان میں لیفٹ پارٹی یا ٹی ایم سی میں سے ایک اور آر جے ڈی یا جے ڈی یو میں سے ایک ہوسکتی ہے۔ تیسرا مورچہ نہ بننے کی صورت میں لیفٹ پارٹیاں سپا بسپا جیسی پارٹیوں کی اسے باہری حمایت مل سکتی ہے جیسا کے ابھی مل رہی ہے۔ ایسے میں کانگریس کی اتحادی اور حمایتی پارٹیوں کی اچھی خاصی فوج تیار ہوسکتی ہے جو چناؤ میں اس کی خراب کارکردگی کے باوجود کانگریس کو پھر سے اقتدار تک لانے میں مدد کرسکتی ہے۔ کانگریس کی حکمت عملی کے دو بڑے اشو ہیں نریندر مودی اور فوڈ سکیورٹی کارڈ۔ نریندر مودی کو زیرو کرنے کے لئے کانگریس مسلم ووٹوں کو اپنے حق میں لانا چاہتی ہے۔ مودی کے ڈر سے کانگریس کو امید ہے کہ مسلمان ووٹ اپنے آپ اس کی جھولی میں آجائیں گے۔ جس جلد بازی میں فوڈ سکیورٹی آرڈیننس کانگریس لائی ہے اس سے زیادہ تیزی سے اسے بھنانے کے لئے سرکار اور تنظیمی سطح پر اب تک کی سب سے بڑی پبلسٹی مہم چھیڑنے کی تیاری ہے۔ ان تیاریوں سے لوک سبھا چناؤ اسی سال کے آخر میں کرانے کا آثار بڑھ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات جلد ہی فوڈ سکیورٹی مہم پر ایک بڑی پبلسٹی مہم چھیڑے گی۔ اسی طرح پارٹی کے ترجمانوں کو وزیر خوراک کے۔ وی۔ تھامس اور اس قانون کی باریکیوں اور عام آدمی کو ملنے والے فائدے گنائے جائیں گے اس کے بعد پردیش اور ضلع بلاک سطح پر فوڈ سکیورٹی قانون کے بارے میں کانگریس لیڈروں کو بتایا جائے گا۔ اندازہ ہے کہ دیش کی تقریباً 67 فیصدی آبادی کو فوڈ سکیورٹی کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ دراصل کانگریس مان رہی ہے کہ بھاجپا نے جس طرح سے کٹر پسند ہندوتو کا کارڈ کھیلنے کے لئے مودی کو آگے کیا ہے اس سے دیش میں مسلم ووٹروں کو اپنی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔ کانگریس اور سرکار اس مورچے پر پہلے ہی سے سرگرم ہے لیکن مہنگائی، کرپشن جیسے اشوز پر ناکامی کی کاٹ اور سماج کے سب سے نچلے طبقے کو اپنے ساتھ جوڑنے کے لئے منریگا اور کسان قرض معافی جیسے کسی ٹرم کارڈ کی ضرورت بھی سرکار شدت سے محسوس کررہی ہے۔ اس لئے پارلیمنٹ سیشن سر پر ہونے کے باوجود حکومت آرڈیننس کے ذریعے فوڈ سکیورٹی قانون لائی ہے۔ مقصد صاف تھا کے اس کا سہرہ کسی اور کو نہ لے جانے دیا جائے۔ اپوزیشن اب اگر اس کی مخالفت کرتی ہے تو اسے کانگریس غریب تک پہنچائے گی۔ حالانکہ سرکار نے پارٹی کو صاف بتا دیا ہے کہ اسے لاگو کرنے میں ابھی وقت لگے گا اور اس کے لئے 6 مہینے در کار ہیں۔ فوڈ سکیورٹی کی جھلک غریب طبقے کو دکھا کر اسے اس بات کے لئے تیار کرسکتی ہے کے اگلی سرکار بھی یوپی اے کی بنی تب یہ ٹھیک سے لاگو ہوسکے گا۔ اس کے لئے نچلی سطح پر ورکروں کو غریبوں تک خاص طور سے یہ بات پہنچانی ہوگی کہ اگر یوپی اے سرکار نہیں بنتی تو ان کی فوڈ سکیورٹی گارنٹی کو خطرہ ہے۔
(انل نریندر)


10 جولائی 2013

ہندو دھارمک ا ستھلوں کے بعد اب بودھ نگری میں دھماکے!

دنیا کی تاریخی وراثتوں میں شمار بودھ گیا کامہا بودھی مندرایتوار کی صبح سلسلہ وار دھماکوں سے دہل گیا۔ بیشک ان میں کوئی بڑا نقصان نہ ہوا ہو لیکن اس حملے کا پیغام زیادہ حیرت زدہ کرنے والا ہے۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ دہلی پولیس اور آئی بی نے بہار سرکار کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا تھا کہ انڈین مجاہدین کے آتنکی بودھ گیا میں مہا بودھی مندر کو نشانہ بنانے کے فراق میں ہے۔ اس کے باوجود نتیش سرکار اسے لیکر سنجیدہ نہیں تھی اور پنے دھماکے کے الزام میں اکتوبر 2012ء میں دہلی پولیس کے ہتھے چڑھے آئی ایم کے آتنکیوں نے بودھ گیا میں دھماکے کی سازش کی جانکاری دی تھی۔ گرفتار دہشت گردوں نے دو ہفتے تک مہا بودھی مندر کی ٹہو لی تھی۔ ان سب کے باوجود اتنے اہم اور عالمی سطح کے پوجا استھل کی حفاظت کے پختہ انتظامات نہیں ہوسکے۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے مانا کے یہ سکیورٹی میں بڑی چوک ہے۔ بم دھماکوں میں تاریخی مہابودھی مندر اور اس کے آس پاس کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بھگوان بودھ کی 80 فٹ اونچی پرتیما بھی پوری طرح محفوظ ہے۔ مہابودھی مندر بودھوں کی عقیدت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔566 اور 486ء کے درمیان بودھ پیڑ کے نیچے ہی بھگوان بودھ کو گیان پراپت ہوا تھا۔ مندر کی تعمیر 260ء قبل مسیح سمراٹ اشوک نے کرائی تھی۔ جون 2002ء میں یونیسکو کی طرف سے اسے عالمی وراثت کا درجہ ملا۔ اسے اتفاق ہی کہئے یا پھر مہا آتما بودھ کی گیان استھلی کی علامت ، جس وقت مہابودھی مندر میں دھماکے ہوئے اس وقت مندر کمپلیکس میں کافی کم لوگ تھے۔ صبح ساڑھے پانچ بجے یومیہ پوجا کی تیاری چل رہی تھی اس حساب سے آتنکیوں نے مندر کمپلیکس میں اپنی پہنچ بنا رکھی تھی اس سے صاف ہے کے اگر مندر کے اندر بھیڑ ہوتی تو تباہی کا منظر کچھ اور ہی ہوتا۔ چار دھماکے مندر کمپلیکس کے چاروں کونوں پر ہوئے۔ ایک طرح سے پورا کمپلیکس آتنکیوں کے قبضے میں تھا۔ مندر کے ٹھیک پیچھے بھگوان بودھ کے چرن استھل ہے اور یہیں بودک ورکش کی پوجا ہوتی ہے۔ یہاں پہنچنے سے پہلے سکیورٹی ملازمین کی اجازت لینی ہوتی ہے۔ اتنی صبح کوئی شخص بودھ بھکشو کا لباس پہنے بغیر آسانی سے نہیںآسکتا کیونکہ یہ سیاحوں کا وقت نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے جس نے بم لگایا اس نے اپنا لباس کچھ اس طرح سے پہنا ہوا تھا کے کسی کو شک نہ ہو۔ مندر کمپلیکس میں داخل ہونے والے لوگوں پر نظر رکھنے کے لئے حالانکہ10 کیمرے لگے ہوئے تھے لیکن سی سی ٹی وی کے ناکارہ ہونے کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کے ان کے فوٹیج دو دنوں سے زیادہ وقت تک نہیں رکھے جاسکتے۔ یہ حملہ کس نے کروایا اور کیوں کروایا اس کا جواب فی الحال دینا مشکل ہے لیکن اندازہ لگا سکتے ہیں کے بودھ گیا میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں کی تہہ تک پہنچنے میں جانچ ایجنسیوں کو وقت لگے گا لیکن پوری دنیا میں بودھ مذہب کے اس مقدس پوجا استھل پر اس حملے نے ضرور ثابت کردیا ہے کہ ایک بار پھر ہمارا سکیورٹی سسٹم فیل ہوگیا ہے۔ میانمار میں اقلیتی روہنگیا مسلمانوں اور اکثریتی بودھوں کے درمیان ٹکراؤ کو لیکر بھارت میں گذشتہ ایک برس سے اچانک احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو خطرے کی گھنٹی بجا چکا تھا۔ گذشتہ1 سال کے دوران ممبئی سے لیکر جمشید پور دہلی تک مظاہرین نے بھی تشویشات پیدا کردی ہیں۔ اس کی حکمت عملی پہلے سے ہی طے ہوسکتی ہے۔ بودھ گیا سے جمشید پور کی دوری کچھ گھنٹوں کی ہے جہاں 2012ء میں روہنگیا مسلمانوں کی حمایت میں خونی مظاہرے ہوئے تھے ۔ اس میں تین پولیس والے زخمی ہوگئے تھے۔ ان دھماکوں کے بعد ابتدائی جانچ میں شک کی سوئی انڈین مجاہدین کی دربھنگہ موڈیول پرکی جارہی ہے کیونکہ حیدر آباد دھماکے میں بھی اسی کا ہاتھ تھا۔ 
غور طلب ہے کہ دربھگنہ موڈیول انڈین مجاہدین کا سلیپر سیل کہا جاتا ہے۔ بیرونی ممالک سے آنے والے شردھالوؤں کی پریشانی دراصل سرکار کی پریشانی ہے۔ ستمبر میں بڑی تعداد میں جاپان، تھائی لینڈ، میانمار سے آنے والے شردھالوؤں کی آمد وجہ ہے اس لئے سرکار نے مندر کی سکیورٹی بہت جلد سی آر پی ایف اور سی آئی ایس ایف کو سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک پریشانی سرکار کی خاص طور سے بودھ دھرم گورو دلائی لامہ اور ہماچل کے دھرمشالہ میں واقع منڈکی کی حفاظت کو لیکر ہے۔ دکھ سے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ممبئی حملے کے بعد دہشت گردی کے خلاف لڑائی کو لیکر بنی سنجیدگی پچھلے ایک سال سے دکھائی نہیں دیتی۔ رہی سہی کثر اس یوپی اے سرکار کی ووٹ بینک پالیسی نے پوری کردی ہے۔ سرکارنے آئی بی اور سی بی آئی میں ٹکراؤ کراکر آئی بی افسروں کا حوصلہ گرادیا ہے۔ خفیہ بیورو آئی بی کے اسپیشل ڈائریکٹر راجندر کمارکے خلاف سی بی آئی کی کارروائی کو افسوسناک بتاتے ہوئے ریٹائرمنٹ سے دو دن پہلے ہی داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے کہا تھا کہ ایسے میں دیش کی سکیورٹی بھگوان بھروسے ہے۔ ان کا اندیشہ ایک ہفتے میں ہی ثابت ہوگیا۔ سکیورٹی ایجنسیوں سے بے خوف انڈین مجاہدین کے آتنکی ایک کے بعد ایک حملہ کررہے ہیں۔ جس وقت عشرت انکاؤنٹر کے معاملے میں نتیش و مرکزی سرکار کے لوگ نریندر مودی اور وہاں کے افسروں اور آئی بی افسروں پر الزام تراشی میں مشغول تھے اسی وقت آتنکی مہابودھی مندر پر حملے کی سازش انجام دینے میں لگے تھے۔ یہ بات سیاسی پارٹیوں کے ذہن میں کیوں نہیںآتی کے دیش کی ایکتا اور سالمیت اور عزت کا معاملہ ووٹوں کی سیاست سے بڑھ کر ہے۔ مسلم ووٹروں کے چکر میں سیکولرازم کے نام پر کچھ پارٹیاں جس طرح کا گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہیں وہ دیش کے وجود اور اس کی سرداری کے لئے سنگین چنوتی ہے۔ کچھ سالوں سے بھارت کے مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اکشردھام، رگھوناتھ مندر، کاشی کا سنکٹ موچک مندر، ایودھیا کا پوتر استھل کے بعد اب بودھ گیا ہے۔ 
یہ سنگین تشویش کی بات ہے کہ آج جنتا کے بعدسکیورٹی فورسیز کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے اور اب کلچر کی وراثت مذہبی مقامات کو بھی اپنے نشانے پر لیا ہے۔ اس چنوتی کا جواب ہر طرح کی سیاست سے بالاتر ہوکر پوری سختی سے مقابلہ کیا جانا چاہئے۔ حملے کی سچائی تو جانچ کے بعد سامنے آئے گی لیکن زیادہ ضروری ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اسے ایک سبق کی طرح لیتے ہوئے سکیورٹی نظام پر خاص طور پر توجہ دیں اور آتنک واد سے لڑنے کی قوت ارادی دکھائیں۔
(انل نریندر)

09 جولائی 2013

خطرے میں کیدارناتھ مندر کا وجود

کیدارناتھ میں ہوئی تباہی تو ایک علامت بھر ہے۔ اس کے ٹھیک 6 کلّے اوپر چورباڑی گلیشیئر بڑی تباہی کے لئے کلبلا رہا ہے۔ یہ کہنا ہے چاربار گلیشیئر کے اوپر سے ہوائی جائزہ لے چکے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ایم ۔ سی۔منگٹی کا۔ ان کا کہنا ہے چورباڑی گلیشیئر بڑا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے لیکن اتنی تباہی مچا دے گا اس کا احساس انہیں بھی نہیں تھا۔زمان�ۂ قدیم سے ہمالیہ کی گود میں واقع کیدارناتھ کے چاروں طرف خطرہ منڈرانے لگا ہے۔ مسلسل بارش اور حال ہی میں سیلابی آفت کے بعد اب پراچین مندر بھی خطرے کی زد میں ہے۔ جغرافیائی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر برسات سے پہلے مندر کے بچاؤ کے ابتدائی انتظامات نہ ہوئے تو مندر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ گذشتہ16-17 جون کی آفت میں تو مندر بچ گیا لیکن مندر کو نقصان پہنچا۔ سیلابی آفت کے قہر سے مندر احاطہ قریب ڈھائی سے تین فٹ ملبے اور پتھروں سے ڈھکا ہوا ہے جبکہ پچھلے حصے میں وسیع بولڈر گھر گئے ہیں۔ مندر کے آگے حصے سے پتھر بھی نکل رہے ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ اور جغرافیائی سائنس سے وابستہ ٹیم مندر کا معائنہ کرنے نہیں جا پائی ہے۔ اگر چہ پراچین مندر کے تئیں اس طرح کا ٹال مٹول والا رویہ رہا تو برسات کے دوران مندر کو نقصان ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اتراکھنڈ میں خوفناک آفت کے بعد کانگریس صدر سونیا گاندھی نے جب100 ٹرک راحت سامان دہلی سے روانہ کیا تو اس کے ساتھ ایسا کوئی فرمان نہیں چسپاں کیا گیا تھا کے یہ راحت کا سامان صرف انہی ہی دیا جائے جو پارٹی کے ووٹر ہیں۔ اب اسے رودرپریاگ کے کانگریسیوں کی دوراندیشی ہی کہیں گے کے انہیں بغیر اعلی کمان کے احکامات کے راحت سامان وہاں بٹوادیا جہاں آفت نہیں آئی تھی۔ ایک طرف ہزاروں لوگ امداد کے لئے ترس رہے ہیں تو دوسری طرف پردیش کانگریسی اپنی ووٹ بینک کی سیاست سے باز نہیں آرہے ہیں۔ یہ بھی رپورٹ آئی ہے کہ کانگریسی لیڈروں نے قدرتی آفت سے متاثرہ علاقوں میں راحت بھیجنے کے بجائے ہیڈ کوارٹر بنائے گئے گوداموں میں رکھا اور یہ بھی خبر آئی ہے کہ راحت کے نام پر دیا جارہا سامان سڑگیا ہے۔ تلا گاؤں کی پردھان وشیشوری دیوی جمعہ کو راہل گاندھی کی یووا برگیڈ کے ذریعے دیا گیا راحت سامان کی 30-40 پیٹی لے کر اپنے گاؤں میں بانٹنے کے لئے کھولی تو اناج سے بدبو آرہی تھی ،وہ سڑ چکا تھا۔ لکسر کے ایک بڑے آڑتی کے یہاں انتظامیہ نے تقریباً1 ہزار بورے راشن کے برآمد کئے ہیں۔ پکڑے گئے بوروں میں کافی مقدار میں پمفلٹ یا پارٹی کی مہر لگی تھی۔ راحت سامان کی آڑتی کھلی سیل کررہے ہیں۔ لوک بھکمری سے مر رہے ہیں یہ لاشوں پر بھی سیاست کرنے والے اپنی جیبیں بھرنے میں لگے ہیں۔ لکسر حلقے میں تحصیل کی رہنمائی میں انتظامیہ کی ٹیم نے چھاپہ مارا اور چار بار مقامی بسپا لیڈر کی شوبھم ٹریننگ کمپنی سے راحت کوٹے کا 1 ہزار سے زیادہ غذائی سامان برآمد ہوا ہے۔ یہ سامان متاثرہ علاقوں میں تقسیم کے لئے گیا تھا لیکن راشن دوکانداروں کو جون جولائی کے کوٹے کی شکل میں دے دیا گیا۔ ایک تکلیف دہ خبر یہ بھی ہے کہ اتراکھنڈ کے آفت زدہ ضلع کا دورہ کر لوٹی خاتون و اطفال ترقی وزارت کی ٹیم نے ریاستی سرکار سے لاپتہ بچوں کی اصلی تعداد پتہ لگانے کوکہا ہے۔ ٹیم میں شامل چیئرپرسن کشل سنگھ نے وزیر اعلی سے مل کر بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال اور ہزاروں کی تعداد میں غائب بچوں کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے کو کہا ہے۔ ریاستی سرکار نے پہلے صرف1 بچے کے یتیم ہونے کی بات بتائی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ اندازے کے مطابق اتراکھنڈ میں 1200 سے زیادہ بچوں کے غائب ہونے کا اندازہ ہے۔ صحیح تعداد تو شاید ہی کبھی پتہ چلے۔ کیدار وادی میں قدرتی آفت میں مارے گئے لوگوں کو نکالنے میں دیر ہوگئی۔ وہاں اب بھی لاشیں نہیں ان کے ڈھانچے مل پائیں گے۔ ماہرین کا دعوی ہے کہ کیدار وادی میں پڑی لاشیں مہینے بھر بعدیا تو سڑ کر جانوروں کا لقمہ بن گئی ہوں گی یا پھر مٹی میں مل گئی ہوں گی، ایسے میں ان کی پہچان کرنا مشکل ہوجائے گا۔ جی ایس آئی کے سائنسداں پہلے ہی صاف کرچکے ہیں کہ تحفظ اور ماحول کے حساب سے کیدارناتھ علاقہ بیحد حساس ترین ہے لہٰذا مذہبی استھا کے ساتھ ساتھ سائنسی نظریئے سے بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ تجویز ہے کہ ہیلی کاپٹروں سے فوراً وہاں جی سی بی مشینیں بھجواکر مندر کے 60سے70 میٹر پیچھے بڑی دیوار بنائی جائے۔ جی سی بی اور دیگرمشینیں وہاں پہنچانا مشکل نہیں ہے مشینوں کو کھول کر انہیں وہاں پھر سے جوڑا جاسکتا ہے اور فوج اس طرح کے کام کو اچھی طرح سے جانتی ہے۔ وہاں دیوار بنوانے کے کام میں آئی ٹی بی پی ، بی آر او کے جوانوں کی مدد لی جاسکتی ہے۔ یہ دیش کی عقیدت سے جڑا سوال ہے ایسے میں کیدارناتھ مندر کے وجودکو آئیں چنوتیوں کو سمجھتے ہوئے اس مندر کو بچانا اتراکھنڈ اور مرکزی سرکار کی بڑی ترجیح ہونی چاہئے۔ کیدارناتھ مندر کے سائڈ میں شری کرشن کے ساتھ ہی پانچ پانڈوؤں کی بیش قیمتی مورتیاں ہیں۔ ماتا کنتی، پاروتی گنیش اور ویر بھدر ،لکشمی نارائن وغیرہ کی مورتیاں بھی ہیں جو اس وقت بغیر حفاظت کے بالکل غیر محفوظ ہیں۔ اس لئے بلاتاخیر مندر کی حفاظت کا انتظام ضروری ہے۔
(انل نریندر)

ماما بھانجے کی پھلتی پھولتی دوکان سی بی آئی نے بنیادی ملزم کو گواہ بنایا

ریل رشوت گھوٹالے میں نام آنے کے بعد سابقہ ریل وزیر پون کمار بنسل کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ جانچ ایجنسی کا کانگریس بیورو آف انویسٹی گیشن یعنی سی بی آئی نے نہ صرف بنسل کو کلین چٹ دے دی ہے بلکہ انہیں بچانے کے لئے سرکاری گواہ بھی بنا لیا ہے۔ پون بنسل کو سرکاری گواہ بنانے کی سی بی آئی چال کی جم کر مخالفت ہورہی ہے۔ جس طرح اشوانی کمار نے وزیر اعظم اور ان کے دفتر کو بچانے کے لئے سی بی آئی کے حلف نامے میں تبدیلی کی تھی ٹھیک اسی طرح مبینہ طور پر پیسے کے بدلے ریلوے بورڈ کی ممبر کی ترقی کے معاملے میں پی ایم او کے کردار کو چھپانے کے لئے بنسل بچانے کے لئے سی بی آئی نے پہلے کلین چٹ دے دی اور بعد میں سی بی آئی نے انہیں سرکاری گواہ بنا لیا۔ بنسل کے جس ملزم بھانجے وجے سنگلا نے ان کے ہی بنگلے اور فون و نام کا استعمال کرکے ریلوے بورڈمیں من چاہا عہدہ دلانے کے لئے 10 کروڑ کی سودے بازی کی ،وہی بنسل اب پاک صاف ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں سی بی آئی کی مختاری سے متعلق سوال ایسے ہی واقعات سے زیادہ جواز بن جاتے ہیں اس لئے سی بی آئی کے رویئے پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ملزمان نے بھی اس پر سخت اعتراض کیا ہے۔ ملزمان کی طرف سے پیش وکیلوں نے کہا کہ جسے ملزم بننا چاہئے تھا وہ گواہ بن کر آزاد گھوم رہا ہے۔ 10 کروڑروپے کے ریلوے رشوت کانڈ میں ملزم راہل یادو، سمیر، سدھیر اور سشیل ڈانگا کی ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران ان کے وکیل نے کہا سی بی آئی نے اس کیس میں جس دن گواہ بنایا عدالت کو اسی دن سارے ملزمان کو بری کردینا چاہئے تھا۔ سرکاری وکیل ایس کے شرما نے خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج سورن کانت شرما سے کہا کہ سی بی آئی نے بنسل کو گواہ بنایا ہے اور انہیں (یادو، سدھیر، ڈانگا) کو پھنسا رہی ہے۔ جس شخص کو ملزم بنایا جانا تھا اسے آزاد کردیا گیا۔ رشوت کانڈ کا معاملہ سامنے آتے ہیں منموہن سرکار کے کچھ وزرا نے پون بنسل کو بے قصور ثابت کردیا تھا۔ یہاں تک کہ تب پارلیمنٹ بھی ان کے معاملے پر چل نہیں پائی تھی اس لئے سی بی آئی کا قدم سمجھ میںآتا ہے کہ وہ وزیر دھنے ہیں جہاں اس کا گھر اور دفتر کرپشن کی دوکان بن جائے اور اسے پتہ تک نہ چلے ۔ اس حقیقت سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ منتری کا سگا بھانجہ اس کے گھر سے اس کے فون کا استعمال کرکے سودے بازی کو انجام دیتا تھا۔ سی بی آئی پہلی نظر میں اس حقیقت کو کیسے مسترد کر سکتی ہے کہ وزیر کی حمایت کے بغیر اتنے بڑے عہدے پر کسی کا پرموشن نہیں ہوسکتا۔ ویسے بھی بنسل کا رول طے کرنے کا کام عدالت کا ہے سی بی آئی کا نہیں۔ لیکن اگر بنسل کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں تو سارا بھانڈا پھوٹ ائے گا اس لئے انہیں و ان کے آقاؤ کو بچانے کے لئے سی بی آئی نے بنیادی ملزم کو ہی سرکاری گواہ بنا لیا۔ لیکن عدالتیں اب کرپشن کے معاملوں میں سرگرم ہوچکی ہیں اور دیش کو اس سرکار اور اس کی تفتیشی ایجنسی سے بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ سپریم کورٹ اور دیگر عدالتیں ہی کرپشن سے نمٹنے کے لئے آخری ہتھیار بچی ہیں۔
(انل نریندر)

07 جولائی 2013

یہ کیسا قدرتی آفت راحتی انتظام سامان سڑنے لگا لوگ بھوکے مرنے لگے

قدرتی آفات کے تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی اتراکھنڈ میں راحت رسانی کا سسٹم ڈھنگ سے کام نہیں کرپایا۔ ایسا نہیں کے دیش میں مدد کرنے والوں کی کمی ہے۔مدد تو بہت آرہی ہے لیکن وہ ضرورتمند لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہی ہے جو کافی پریشان ہیں جنہیں زندگی بچانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ٹرک بھر بھر کر سامان رشی کیش اور دہرہ دون پہنچ رہا ۔ کروڑوں روپے وزیر اعظم، وزیر اعلی اور مختلف ٹریجڈی فنڈ میں پہنچ رہے ہیں لیکن غذائی سامان کی صحیح تقسیم کا کوئی انتظام نہیں ہو رہا ہے اور سامان سڑنے لگا ہے۔ دوسری طرف امداد کی امیدلگائے متاثرہ لوگ فاقہ کشی کی وجہ سے مرنے پر مجبور ہیں۔ وزیر اعلی ریلیف فنڈ، چیف منسٹر ریلیف فنڈ میں پیسے کا کیا استعمال ہورہا ہے ،کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ مرکزی حکومت نے اتراکھنڈ سرکار کو 1 ہزار کروڑ روپے راحت کے لئے دستیاب کرا دئے ہیں۔ ابھی تک یہ نہیں پتہ چل سکا اس کا استعمال کس کس کام میں ہورہا ہے اور کن اسکیموں میں کیا جارہا ہے۔ اتراکھنڈ کے آفت کے شکار علاقوں میں کہیں راحت سامان پہنچ رہا ہے اور کہیں اس کا انتظار ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ اب بھی راحتی امداد سے محروم ہیں۔ ٹھیک سے دیہات کا تجزیہ نہیں کیاجاسکا اور نہ ان کی ضرورتوں کا جائزہ لیا جاسکا جنہیں ٹینٹ کی ضرورت ہے ا نہیں بسکٹ بانٹیں جارہے ہیں۔ جہاں پانی کی دقت ہے وہاں اناج بانٹا جارہا ہے۔ کئی جگہ تو انتظامیہ کا کوئی نمائندہ اب تک نہیں پہنچا۔ حال یہ ہے کہ چمولی ضلع کی نجولا وادی میں لوگ اب بھی ابلے آلو کھا کر بھوک مٹا رہے ہیں۔ رودر پریاگ ضلع میں گاؤں میں لوگ دانے دانے کو محتاج ہیں۔ لوگوں کا صبر ٹوٹ چکا ہے وہ اب گاؤں چھوڑ کر سری نگر یا دیگر مقامات پر اپنے رشتے داروں کے یہاں پناہ لینے کو مجبور ہیں۔ اتر کاشی کے قدرتی آفت سے متاثرہ تنڈا پرکھنڈ میں کئی خاندان اسکول میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ یہاں راحت کے نام پر پانی کی بوتلیں اور بسکٹ پہنچا رہا ہے جسے دیہاتیوں نے لوٹا دیا۔ راحت کی تصویر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں تک سڑک پہنچی ہے وہاں جاکر سب کچھ بانٹ دیا گیا باقی رام بھروسے۔ چمولی ضلع میں گوونددھار سے آگے لاب گڑھ کے لوگ جنگلوں میں دن رات گزار رہے ہیں۔ کالے بادلوں اور بارش ڈھائی سو گاؤں کے لوگوں کا خوف بڑھا رہی ہے جن کے پاس ابھی تک کوئی سرکاری مدد نہیں پہنچی اور وہ امدادی سامان کے لئے ترس رہے ہیں۔ان گاؤں کے لوگ خود اکٹھا کئے سامان سے جیسے تیسے زندگی کاٹ رہے ہیں۔ پتھورا گڑھ میں 15 ہزار لوگوں کے بھکمری کے دہانے پر پہنچنے کی خبر ہے۔ روزنامہ ہندی ہندوستان کے منجیت نیگی نے ایک سنسنی خیز رپورٹ شائع کی ہے۔ وہ 1 جولائی کو کیدارناتھ حالات کا جائزہ لینے پہنچے ۔ لمبا اور انتہائی مشکل سفر کرنے کے بعد جب وہ کیدارناتھ پہنچے تو انہوں نے کیا پایا انہی کی زبانی۔ ہم کیدارناتھ کے اوپر گاندھی سرور کے پاس پہنچے تھے کے بالکل خالی ہو چکے تھے۔ راستے میں آگے چل کر ساڑھے گیارہ بجے صبح ہم لوگ کیدارناتھ مندر پہنچے۔ ہم نے 22 جون اور 1جولائی کے درمیان مندر میں کوئی تبدیلی نہیں پائی۔ 22 جون کو ہم ہیلی کاپٹر سے کیدارناتھ پہنچے تھے۔ مندر کی ابھی تک صفائی نہیں ہوئی ہے اور باقاعدہ پوجا بھی شروع نہیں ہوئی ہے۔ پولیس انتظامیہ کی طرف سے مندر میں کوئی تعینات نہیں تھا۔ ہمیں ایک شخص ضرور ملا جس نے خود کو دہلی کی ایک تنظیم کا نمائندہ بتایا ،وہ لاشوں کو جلانے میں لگا تھا۔ ایک عورت جو خود رضاکار تھی ، ملی خود کو پیٹا کی ممبر بتا رہی تھی، مندر میں صفائی کی مشینیں لگی تھیں لیکن صفائی کا کام نہیں ہورہا تھا۔ این ڈی آر ایف کی طرف سے گرایاگیا کئی ٹن راشن برباد ہورہا تھا۔ اس راشن کو جانور کھا رہے تھے، ہم نے راشن کو بچایا اور اسی سے کھانا تیار کیا۔ ہم نے پیر کی رات وہیں گزاری۔ قدرتی آفت کے باوجود سرکاری راحت کے طور طریقے سے ہم واقف ہیں اس لئے ہم نے ’’شری دیواستھان سمیتی‘‘ نے طے کیا کے ہم بیشک تھوڑی مقدار میں پرخود غذائی سامان لے جائیں گے اور خود اپنے ہاتھوں سے ان گاؤں والوں کو بانٹیں گے جو پوری طرح سے تباہ ہوچکے ہیں۔ ہم نے چھوٹا مقصد رکھا۔ 500 کنبوں کو راحت پہنچائی۔ ہم نے 500 پیکٹ الگ الگ بنائے جس میں2 کلو آٹا، 1 کلو چاول ،1 کلو دال، 1 کلو چینی، چائے کی پتی، مسالے، نمک، موم بتی، ماچس کا بڑا پیکٹ تھا۔ ہمارے جانباز ورکر وجے شرما ،ملوندر سنگھ، پوجا بجاڑ سمیت 11 نفری ٹیم پیر کو پرتاپ بھون سے دوپہر 1 بجے روانہ ہوئی۔ رات ہری دوار میں ٹھہری ۔ جہاں سے ہمارے ساتھی شری وریندر گوئل کوشک وغیرہ سے بیٹھ کر اگلے دن کی حکمت عملی طے ہوئی۔ صبح جب چلے تو ہری دوار میں بارش ہورہی تھی لیکن رشی کیش تک پہنچتے پہنچتے کم ہوگئی۔ رشی کیش میں ہمارے قافلے کو روک لیا گیا اور سائٹ میں لگوا کر افسران نے کہا کہ آپ آگے نہیں جاسکتے لیکن جب وجے شرما اور ان کے ساتھیوں نے انہیں سمجھایا ہم میڈیا سے ہیں ،ہم جائیں گے ہمیں شوٹ بھی کرنا ہے اور وہ اس شرط پر مانیں کے پہلے آپ اپنے ٹرک کا وزن کراؤ۔وزن ساڑھے چار ٹن نکلا۔ پھر انہوں نے اس کی اجازت لینے کی رٹ لگائی۔5 لاکھ روپے اور پھر سبھی 11 نفری ٹیم کے نام پتے نوٹ کئے۔ جب ہماری ٹیم نے پوچھا کے آپ یہ کیوں کرتے ہو، تو انہوں نے بتایا کے آپ آگے جارہے ہو اور کچھ بھی ہوسکتا، آپ مر بھی سکتے ہو۔ کل کو ہمیں آپ کے خاندان والوں کو معاوضہ دینا پڑے تو کیسے دیں گے ، اس لئے یہ سب نوٹ ہورہا ہے۔ ہمارا قافلہ آگے بڑھا۔ قدرت کی مار جھیل رہے اتراکھنڈ کے سری نگر میں واقع بھگت سانا گاؤں کے لوگ تب حیران ہوئے جب ہماری ٹیم دہلی سے راحت لیکر ان کے گھروں تک پہنچی۔ الکنندا ،بھگیرتی کے ساحل پر بسیں اس گاؤں کی ٹریجڈی اتنی خوفناک تھی کے یہاں کے لوگوں کے مکان قریب دو دو منزل تک دلدل میں ڈوب چکے تھے۔ علاقے میں لوگ و مویشی زلزلے کی راحت کہاں کھو گئے ان کا ابھی تک پتہ نہیں چلا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے دیش کے کونے کونے سے راحت سامان ضرور آرہا ہے لیکن وہ کہاں جارہا ہے اس کا کچھ پتہ نہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس آفت میں اپنا سب کچھ اجڑنے کے بعد بھی بھکت سانا، شیو وہار ،نرسری روڈ، الکنندا مارگ کے لوگ راحت رسانی کے پیکٹ لینے میں ایمانداری نبھارہے تھے۔ اگر ایک پیکٹ دیا جارہا تھا وہ ایک پیکٹ ہی لیکر صبر کررہے تھے لیکن حیرانی کی بات یہ تھی کہ اس گاؤں کے لوگوں کی خبر گیری کے لئے کوئی نیتا یا سرکاری اعلی افسر نہیں آیا۔ حالانکہ برپی، کیدار کے قومی شاہراہ کے کھلنے کا کام ضرور شروع کیا جارہا ہے لیکن لوگوں کو پانی تک میسر نہیں ہوسکا۔ گاؤں کے لوگوں نے ہزاروں دعائیں شری دیو استھان سمیتی کو دیں اور راحت ٹیم کو دیں۔ ایک شخص نے روتے روتے بتایا کے پانی اور سیلاب اتنی تیزی سے آیا کے آنگن میں بندھی پانچ گائیوں کو بھی نہیں کھول سکا۔ عمارتیں 10-10 فٹ نیچے دھنس گئیں۔ کتنے لوگ مرے اس کا بھی ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ میں نے یہ ساری باتیں اس لئے بیان کی ہیں کے راحت سامان یا نقد عطیہ دینا کافی نہیں۔ یہ یقینی بنائیں کے وہ امداد ان ضرورتمند لوگوں تک پہنچ سکے جو اس وقت بھکمری کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
(انل نریندر)