Translater

09 ستمبر 2017

نارتھ کوریا کے ہائیڈروجن بم سے دنیا کی سانسیں تھمی

نارتھ کوریا نے ایتوار کوکہا کہ اس نے اپنے چھٹے نیوکلیائی تجربے میں ہائیڈروجن بم کا دھماکہ کیا۔چھٹا نیوکلیائی تجربہ کرکے نارتھ کوریا نے شمال مشرقی ایشیا میں نیا ڈر اور کوریائی زمیں پر تیسری عالمی جنگ کے آثار پیدا کردئے ہیں۔ ایتوار کو جس میزائل کا تجربہ کیا گیا وہ 6.3 ریختر زلزلہ کی رفتار سے بھی خطرناک ہے۔ یہ نارتھ کوریا کے نیوکلیائی ہتھیاروں کی تباہ کن طاقتوں کی ایک مثال ہے۔ یہ دھماکہ ستمبر 2016 میں کئے گئے دھماکہ سے10 گنا زیادہ طاقتور تھا۔ نارتھ کوریا کا مقصد اتنی طاقت حاصل کرنا ہے تاکہ وہ امریکہ میں کہیں بھی حملہ کرسکے۔ ماہرین کے مطابق تجربہ کے ساتھ نارتھ کوریا یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس نے اپنی نیوکلیائی صلاحیت میں بھاری اضافہ کیا ہے۔ اس دھماکہ کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دھماکہ کے بعد خطہ میں 6.3 کی رفتارکا زلزلہ آگیا جس کے جھٹکے ساؤتھ کوریا، جاپان اور روس تک محسوس کئے گئے۔ یہ لاکھوں لوگوں کی جان لے سکتا ہے۔ لگاتار میزائل اور نیوکلیائی ہتھیاروں کے تجربے کے باوجود ایسا نہیں لگتا کہ امریکی صدر کوریا کی جانب سے ہونے والے حملہ کا جواب دینے کے بجائے سیدھے کسی طرح کا حملہ کرنے پر غور کریں گے۔ حالانکہ نارتھ کوریا کے حکام اس بات سے واقف ہوں گے کہ امریکہ پر سیدھا حملہ کرنا خودکشی کرنے سے کم نہیں ہوگا۔ ستمبر 2011 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی نارتھ کوریا کے حکمراں کم جونگ اپنے کاموں سے خطروں کے کھلاڑی لگتے ہیں جیسے ۔۔۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناک میں دم کرنا،ساتھ ہی فوجی اصلاحات کے ذریعے وہ اپنے دیش کے لوگوں کی نظر میں خود کو بہتر ایڈمنسٹریٹر دکھانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ کم جونگ کا یہ اندازہ تمام نارتھ کوریائی لوگوں کے بیچ بہت مقبول ہے خاص کر ان لوگوں کے درمیان جو راجدھانی تیونگ یانگ میں رہتے ہیں۔ امریکی صدر نے لگاتار اس بات کے اشارے دئے ہیں کہ اگر نارتھ کوریا نے اپنی سرگرمیاں نہیں روکیں تو امریکہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔ جس کے برے نتائج جاپان، ساؤتھ کوریا میں مقیم کروڑوں لوگوں کو بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔آخر کار نارتھ کوریائی چیلنج پر امریکہ کے فوجی رد عمل کا نقصان اور اس کے دو اہم علاقائی ساتھیوں کے لئے قیامت سے کم نہیں ہوگا۔ اور ساتھ ہی اس سے ساؤتھ کوریا میں موجود 28500 امریکی فوجیوں کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی اس لئے یہ سمجھنا آسان ہے کہ امریکی ڈیفنس سکریٹری جیمس میٹس اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ایم آر میک ماسٹر کیونکہ فوجی کارروائی کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ اسے آخری راستہ مانتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگ کی وارننگ جیسی باتیں ایک سوچی سمجھی چال بھی ہوسکتی ہے جس کا مقصد تیونگ یانگ کو آگے کسی بھی حرکت سے روکنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی چینی لیڈر شپ نارتھ کوریا کو روکنے کا دباؤ بنانا ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نارتھ کوریا پر قابو پانے کے لئے سبھی متبادل کھلے ہیں اس میں فوجی کارروائی کے ساتھ چین پر دباؤ بنانے کی حکمت عملی بھی شامل ہے۔ حالانکہ چین نے بھی نارتھ کوریا سے کہا ہے کہ وہ اپنے نیوکلیائی پروگرام سے قدم پیچھے کھینچ ہے لیکن کم جونگ نے اسے نظرانداز کرایتوار کو تجربہ کیا ہے۔ ان سب کے باوجود نارتھ کوریا تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایسے میں نارتھ کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟ حال ہی میں نارتھ کوریا کے ساتھ اقوام متحدہ نے کئی اقتصادی پابندی بھی لگائی تھیں۔ اس پابندی کی چین نے بھی حمایت کی تھی ۔ نارتھ کوریا اور چین کے درمیان ایمرجنسی جیسی صورتحال جاری ہے۔ ٹرمپ کو لگتا ہے کہ نارتھ کوریا کے مسئلہ کا نپٹارہ چین کے تعاون سے کیاجاسکتا ہے لیکن پاکستان کی طرح چین بھی نارتھ کوریا کے معاملہ میں ڈبل گیم کھیل رہا ہے ایک طرف اس کی پوری مدد کررہا ہے اور دکھاوے کے لئے باقی دنیا سے کم جونگ ان پر کنٹرول کرنے کا ڈھونگ رچتا ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ یہ لڑائی آگے بڑھتی ہے تو پوری دنیا کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔
(انل نریندر)

ان کوڑے کے پہاڑوں سے چھٹکارہ کیسے پایا جائے

مشرقی دہلی کے غازی پور میں واقع کوڑے کے ڈھیر کے ایک حصہ کا دھنس جانا چونکانے والا واقعہ ہے۔ جمعہ کی دوپہر کوڑے کے پہاڑ کا ایک حصہ دھنسنے کے سبب پاس سے گزر رہی سڑک پر جارہی ایک کار اور ایک اسکوٹر اور دو موٹر سائیکلیں کونڈلی نہر میں گر گئیں جس سے دو لوگوں لڑکی راجکمار اور لڑکے ابھیشیک کی موت ہوگئی اور دیگر چار کو بچا لیا گیا۔ مشرقی دہلی کا یہ کوڑے کا پہاڑ مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن (ای ڈی ایم سی) کے دائرہ اختیار علاقہ میں آتا ہے۔ کوڑے کا یہ وسیع ڈھیر 15 منزلہ عمارت جتنا اونچا تھا۔ دہلی کو اترپردیش سے جوڑنے والی قومی شاہراہ ۔24 کے بغل میں یہ کوڑے کا پہاڑ برسوں سے بنا ہوا ہے۔ اس کی گندگی اور بدبو کی وجہ سے آس پاس کے قریب دو کلو میٹر تک وہاں بسے لوگ پریشان رہتے ہیں۔ لمبے عرصے سے اسے ہٹوانے یا اس کا کوئی دوسرا متبادل ڈھونڈنے کی مانگ اٹھتی رہی ہے۔ کافی درخواست کے بعد کچھ وقت پہلے حکومت نے اس کے اوپر مٹی ڈال کر گھانس وغیرہ لگا کر ایک دوسری شکل دینے کی اسکیم بنائی تھی جس پر کام بھی شروع ہوا تھا لیکن ایک تو کام کی رفتار اتنی دھیمی ہے بتا پانا مشکل ہے یہ کام کب پورا ہوگا۔ دوسرا کوڑا ڈالنابھی بند نہیں ہوا ۔اس جگہ پر روزانہ 25 ہزار ٹن کچرا ڈالا جاتا ہے۔ بارش کی وجہ سے اس کاایک حصہ دھنس گیا جس سے کافی ملبہ بغل کی نہر اور سڑک پر جا گرا۔ ملبہ کا وزن اتنا زیادہ تھا کہ سڑک سے گزر رہی کئی گاڑیاں بھی نہر میں جا گریں۔ اس معاملہ میں سب سے بڑی لاپروائی مشرقی دہلی کارپوریشن کی سامنے آئی ہے۔ ای ڈی ایم سی کو چاہئے تھا کہ کوڑے سے نمٹنے کے لئے کوئی دوسرا متبادل طریقہ اپنائے لیکن وقت رہتے اس بارے میں کچھ سوچا بھی نہیں گیا۔ امید کی جانی چاہئے کہ ایم سی ڈی انتظامیہ اور دہلی حکومت کم سے کم اب اس کی خبر لے گی۔ سرکار کو چاہئے کسی ماہرین ٹیم سے رائے مشورہ کرکے جتنا جلد ہوسکے اس کا کوئی مستقبل حل تلاش کرے، تاکہ آگے ایسے کسی واقعہ سے بچا جاسکے۔ ساتھ ہی اس حادثے میں جو لوگ مرے ہیں، ایم سی ڈی انتظامیہ،دہلی حکومت کو ان کے لئے جائز معاوضہ وغیرہ بھی دینا چاہئے۔ دہلی میں کوڑا مینجمنٹ کو لیکر کوئی انتظام نہیں ہے حالات یہ ہے کہ غازی پور میں واقع لینڈ فل سائٹ پر کوڑا ڈالنے کی میعاد قریب10 برس پہلے ہی پوری ہوجانے کے باوجود ابھی تک یہاں کوڑا ڈالا جارہا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال بھلسوا اور اوکھلا میں واقع لینڈ فل سائٹوں کی بھی ہے۔ بتادیں کہ دہلی یومیہ 10 ہزار ٹن کوڑا اکھٹا ہوتا ہے۔ 50 میٹر سے اوپر پہنچ چکی لینڈ فل سائٹوں کی اونچائی۔یہ56 ایکڑ میں پھیل چکی ہے۔ حالات سنگین ہیں ، حل بلا تاخیر نکلنا چاہئے۔
(انل نریندر)

08 ستمبر 2017

اظہار رائے کی آزادی کی ایک اور آواز خاموش کردی گئی

ایک اور صحافی اپنے نظریات کیلئے مارا گیا۔ جرنلسٹ گوری لنکیش کو منگل کے روز ان کے گھر میں گھس کر مار ڈالا گیا۔ ہم سخت الفاظ میں اس گھناؤنے قتل عام کی مذمت کرتے ہیں۔ بھارت ایک جمہوری دیش ہے جہاں ہر شخص، صحافی کو اپنی بات کہنے و لکھنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اس طرح کے قتل مہذب سماج کے سامنے موجود سنگین خطروں کی ہی نشاندہی کرتے ہیں۔ گوری لنکیش کا قتل ایم ایم کلکرنی، گووند پنسارے اور نریندر وامولکر کے قتل کی یاد دلانے والا ہے۔ 55 سالہ سینئر کنڑ صحافی گوری لنکیش ٹائمس آف انڈیا سمیت مختلف نامور اخباروں میں کام کرنے کے بعد کنڑ زبان میں چھپنے والی ایک ہفت روزہ ’لنکیش ‘ میگزین کی چیف ایڈیٹر تھیں۔ یہ میگزین ان کے والد پی لنکیش نے شروع کی تھی، جو کنڑ کے جانے مانے ادیب اور صحافی تھے۔ والد کی صحافتی وراثت کو آگے بڑھانے کا کام گوری نے ہی اپنے کندھوں پر لے رکھا تھا۔ انہیں ان کے گھر میں گھسنے کے عین پہلے نشانے پر لیکر 7-8 گولیاں داغی گئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں گوری اور ان کی میگزین ہندووادی آئیڈیالوجی کی کٹر مخالف تھی۔ میگزین میں بی جے پی سے جڑے دو نیتاؤں کے ہتک عزت مقدمے میں انہیں چھ مہینے کی جیل بھی ہوئی تھی۔ اس کے خلاف اپیل پر بڑی عدالت کا فیصلہ ابھی تک نہیں آیا ہے لیکن گوری نے اپنے ساؤتھ پنتھی احتجاج کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے نکسلیوں سے بھی تعلقات تھے۔ لیکن ان سب کے باوجود گوری کی آئیڈیالوجی کو ایک فریقی نہیں کہا جاسکتا۔ بطور صحافی انہوں نے کانگریسی لیڈروں کے کرپشن کو بھی اجاگر کرنے اور اسے ریاست گیر اشو بنانے میں کبھی قباحت نہیں کی۔ موجودہ سدارمیا حکومت کے ایک طاقتور وزیر بھی ایسے ہی ایک معاملہ میں ان کے نشانے پر آچکے ہیں۔ گوری لنکیش کے قتل کو لیکر کئی سیاسی پارٹیاں جس طرح جج کے رول میں آگئی ہیں اور آخری فیصلہ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہیں اس سے تو یہ ہی ظاہر ہورہا ہے کہ ان کیلئے دلچسپی قاتل کو پکڑنے سے زیادہ قتل کا سیاسی فائدہ اٹھانے میں ہے۔ اس میں دورائے نہیں کہ گوری لنکیش ہندو تنظیموں کی کٹر مخالف تھیں لیکن کیاان کے قتل کیلئے بھاجپا ، سنگھ اور یہاں تک کہ مودی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ یہ تو بی جے پی شکر منائے گی کے کرناٹک میں کانگریس کا راج ہے۔ اگر یہ قتل بی جے پی حکمراں ریاست میں ہوتا تو مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گوری کے قتل کی آزادانہ ،منصفانہ جانچ ہونی چاہئے اور اصل قصوروار یا قصورواروں کو سزا ملے۔
(انل نریندر)

روہنگیا مسلمانوں کی دوردشا کیلئے کون ذمہ دار

وزیر اعظم نریندر مودی نے میانمار کے دورہ پر دونوں دیشوں کے بیچ رشتوں کو اور مضبوط کرنے پر زوردیا۔ اپنے خطاب میں پی ایم مودی نے روہنگیا مسلمانوں کا بھی اشو اٹھایا ہے۔ حالانکہ انہوں نے سیدھے طور پر ذکر نہیں کیا لیکن اشاروں میں میانمار کو یہ پیغام ضرور دے دیا کہ بھارت ان کے اس مسئلہ کے حل میں ہر ممکن مدد کو تیار ہے۔ غور طلب ہے کہ بھارت میں قریب 40 ہزار روہنگیا پناہ گزیں ہے۔ بھارت نے انہیں واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حال ہی میں مرکزی مملکت داخلہ کرن ریجو نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے ڈاکومینٹ ہونے کے باوجود روہنگیا پناہ گزینوں کو بھارت میں نہیں رہنے دیا جاسکتا۔ ان پناہ گزینوں کے آتنکی کنکشن کا اندیشہ جتایا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ یہ شرنارتھی نہ صرف ہندوستانی شہریوں کے حقوق پر قبضہ کررہے ہیں بلکہ سکیورٹی کے لئے بھی چنوتی ہیں۔ میانمار میں سب سے بڑے نسلی گروپ برمن یا بیمور کے لوگوں کا دبدبہ رہا ہے۔ ساتھ ہی دیش کے کئی اقلیتی گروپوں کی لڑائی بھی چلتی رہی ہے۔ حالانکہ 2015 میں امن عمل کولیکر جنگ بندی ڈیل کا ایک ڈرافٹ تیار ہوا تھا۔ میانمار کی تذکرہ صرف اب تک فوجی حکمرانی اور آنگ سانگ سوچی کے درمیان جاری لڑائی کو لیکر ہوا کرتا تھا۔ میانمار میں سال1962 سے لیکر 2011 تک فوجی حکمرانی رہی تھی جس میں جنرل نے فوج کی کمان سنبھالی۔ اس نے حریفوں کو کچل دیا۔ دیش میں اقتدار کی منتقلی کے بعد اقلیتی گروپ روہنگیا مسلمانوں کا اشو اٹھایا۔ جنوری 2009 میں تھائی لینڈ نے اپنے ساحل پر پہنچے سینکڑوں روہنگیا مسلمانوں کو واپس بھیج دیا لیکن میانمار نے اپنے یہاں اقلیتوں کے وجود کو ہی مسترد کردیا۔ کئی روہنگیا مسلموں کو انڈونیشیا کے سمندری ساحل پر کشتیوں سے بچایا گیا۔ میانمار کا رکھائن صوبہ روہنگیا مسلموں کو لیکر ہمیشہ سے موضوع بحث رہا ہے لیکن یہاں ان کی زیادہ تعداد ہے۔ سال2012 میں مغربی رکھائن صوبہ میں تشدد ہوا اس کے بعد وسطی میانمار اور ماندلے تک تشدد پھیل چکا تھا۔ آخر روہنگیا کے خلاف ہونے والی فرقہ وارانہ تشدد کی کیا وجہ ہے؟ سب سے پہلے زیادتی اور مقامی تنازعات نے روہنگیا اور دوسرے اکثریتی فرقہ کے درمیان جھگڑے کی شروعات کی تھی۔ اس کے بعد ان لڑائیوں نے فرقہ وارانہ شکل اختیار کرلی۔ سب سے بڑا اور پہلا تشدد جون2012 میں ہوا تھا جس میں رکھائن ،بودھو اور مسلموں کے بیچ دنگے ہوئے۔ یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ تشدد کے سبب 200 روہنگیا مسلمانوں کی موت ہوئی اور ہزاروں کو دربدر ہونا پڑا۔ اس خطرناک واقعہ کی شروعات ایک نوجوان بودھ خاتون سے آبروریزی اور قتل کے بعد ہوئی تھی۔ اس کے بعد مارچ2013 کے وسط میں میانمار میں ایک سونے کی دوکان پر جھگڑے کے بعد فرقہ وارانہ تشدد میں 40 لوگ مارے گئے تھے۔ اسی طرح سے اگست 2013، جنوری 2014 اور جون 2014 میں فرقہ وارانہ تشدد ہوا جس میں کئی روہنگیا مرد ،عورتیں اور بچے مارے گئے۔ رکھائن صوبہ میں اکثر بودھوں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی رہتی ہے۔ بودھ ریاست میں اکثریت میں ہیں۔زیادہ تر مسلمان خود کو روہنگیا کہتے ہیں، یہ گروپ بنگال کے ایک حصہ میں پیدا ہوا جو جگہ اب بنگلہ دیش کے جام سے جانی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش کی سرحد سے لگے شہروں میں کئی تشدد کے واقعات ہوئے ہیں جس میں زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے۔ ایک روہنگیا انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے تشدد کا آغاز روہنگیا نے کیاتھا۔ رکھائن بودھوں نے کہا کہ روہنگیا بنیادی طور سے قصوروار ہیں۔ حالانکہ پورے دیش نے روہنگیا کو مغربی میانمار کا مذہبی اور زبانی اقلیت بتایا ہے۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کہہ چکا ہے کہ روہنگیا دنیا کے سب سے ستائی ہوئی اقلیت ہے۔ یہ ابھی تک صاف نہیں ہوا کہ اگر بھارت سے ان روہنگیا مسلمانوں کو نکالاگیا تو یہ کہاں جائیں گے؟ روہنگیا اس وقت بغیر ملک کے ہیں ، نہ میانمار انہیں قبول کرتا ہے اور بنگلہ دیش خود ہی لاکھوں روہنگیا پناہ گزینوں کا گھر بن چکا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کو جلا وطن کرنے کا اشو بھارت کی سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے جس پر عدالت نے سرکار سے جواب مانگا تھا۔
(انل نریندر)

07 ستمبر 2017

بھارت کی بڑی جیت:چین سے پاکستان پر وار

وزیر اعظم نریندر مودی کو پیر کو برکس چوٹی کانفرنس میں بیحد اہم ڈپلومیٹک کامیابی ملی۔ برازیل، روس، چین ، بھارت اور ساؤتھ افریقہ کی ممبر شپ والے برکس کے اعلامیہ میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے والوں کو جوابدہ ٹھہرانے کے ساتھ جس طرح پاکستان حمایتی دہشت گرد تنظیموں حقانی نیٹ ورک، طالبان کے ساتھ ساتھ لشکر طیبہ و جیش محمد کی مذمت کی گئی وہ ہندوستانی قیادت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔چین کے شہر شیام میں منعقدہ برکس چوٹی کانفرنس کے ڈکلریشن میں اس کا ایسے تذکرہ ہونا کئی طرح سے اہم ہے۔ یاد کریں ،برکس کے گووا کانفرنس کو جس میں دہشت گرد تنظیموں اور دہشت گردی کا ذکر کرنے کا چین نے احتجاج کیا تھا تب ان کی دلیل تھی کہ اس سب کا برکس کے مقاصد اور اس کے جذبات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ابھی چند روز پہلے ہی چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمس میں چین کے کسی ماہر نے یہاں تک کہا تھا کہ آئندہ برکس کانفرنس میں بھارت دہشت گردی کا اشو اٹھا کر کانفرنس کو اس کے ایجنڈے سے دور لے جانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ چین کی زمین سے پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والی آواز اٹھانا عام بات نہیں ہے۔ اس پر حیرت نہیں کہ برکس ڈکلریشن میں دیگر آتنکی تنظیموں کے ساتھ چین کو تنگ کرنے والی اہل حدیث پسند تنظیم ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ کا بھی ذکر کیا گیا۔ لیکن اہم بات بھارت کے نقطہ نظر سے یہ ہے کہ پاکستان چین کے اسٹیج پر بے نقاب ہوا ہے۔ 24 مسئلہ کانفرنس میں پہلے ہی جس طرح سے کھڑے ہوئے تھے اس کے پیش نظر بھی یقینی طور سے اسے بھارت کی ایک شاندار ڈپلومیٹک جیت کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ پاکستان اور چین کے رشتے فی الحال بہتر پوزیشن میں چل رہے ہیں جب بھی پاکستان کے ساتھ کوئی بین الاقوامی دباؤ بنتا ہے تو چین غیر بالواسطہ یا براہ راست طور پر اس کے بچاؤ میں آگے آجاتا ہے۔ بھارت نے کئی موقعوں پر اقوام متحدہ میں جیش محمد کے سرغنہ اظہر مسعود کو بین الاقوامی دہشت گرد اعلان کرنے کی مانگ اٹھائی تو چین نے دخل دے کر بھارت کی کوششوں میں اڑنگا لگایا۔ ایسے میں برکس کی دوسرے ممبروں کے ساتھ ساتھ چین کو بھی اگرمشترکہ بیان پر راضی ہونا پڑا ہے تو یہ ا لئے بھی اہم ہے کہ حال ہی میں بھارت اور چین کے درمیان ڈوکلام میں فوج کی تعیناتی کو لیکر کافی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جسے کافی مشقت اور صبرو تحمل سے دور کیا گیا۔ برکس ڈکلریشن میں قریب آدھا درجن آتنکی تنظیمیں ایسی ہیں جو یا تو پاکستان میں پنپ رہی ہیں یا پھر انہیں ان کی حمایت حاصل ہے۔ان میں سے لشکر ، جیش اور حقانی نیٹ ورک تو ایسے ہیں جن کی پیٹھ پر پاک فوج اور اسکی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہے۔ برکس ڈکلریشن میں پاکستان میں سرگرم آتنکی تنظیموں کا تذکرہ امریکہ کی اس نئی افغانستان پالیسی کے سامنے آنے کے بعد ہوا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد آتنک وادیوں کو پناہ دیتا ہے۔ یہ طے ہے کہ برکس ڈکلریشن پاکستان کو نئے سرے سے شرمندگی کا کام کرے گا کیونکہ یہ اس کے سب سے بڑے ہتیشی دیش چین کی رضامندی اور اس کی سرزمین سے جاری ہوا ہے۔ دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ چین کا اب آگے کیا رخ رہتا ہے؟ چین ابھی اس معاملہ پر صاف صاف کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے کہ وہ جیش سرغنہ اظہر مسعود پر اقوام متحدہ کی پابندی لگانے کا احتجاج کرنا چھوڑے گا یا نہیں؟ اگر چین ابھی بھی جیش سرغنہ کا بچاؤ کرتا ہے تو اس سے یہ ہی ظاہر ہوگا کہ وہ برکس ڈکلریشن کے تئیں ایماندار نہیں اور چینی صدر شی چنگ فنگ کے اس قول کی کاغذی اہمیت ہی ہے اور یہ ترمیم محض موضوع بحث ہے۔ بہرحال بھارت اسے اپنی ڈپلومیٹک جیت تو مان ہی سکتا ہے۔
(انل نریندر)

مودی کے دورہ سے پہلے میانمار میں فوج کی سرجیکل اسٹرائک

وزیر اعظم نریندر مودی کے میانمار دورہ سے ٹھیک پہلے ہندوستانی فوج کے اسپیشل دستے نے اروناچل پردیش میں میانمار سے لگی سرحد کے قریب ایک سرجیکل اسٹرائک کو انجام دیا۔ فوج کی اسپیشل فورس نے ناگا آتنکی گروپ این ایس سی این کے آتنک وادی کیمپ کو تباہ کردیا۔ اس کارروائی میں ایک آتنکی مارگرایا ایک زخمی ہوگیا۔ فوج کا ایک جوان بھی زخمی ہوا ہے۔ فوج کے ایک افسر نے بتایا کہ اروناچل کے لانگ ڈنگ ضلع کے دولو میں صبح کارروائی شروع ہوئی جو شام تک جاری رہی اس میں سرحد پار نہیں کی گئی۔ کچھ آتنکی بھاگ نکلے۔ فوج نے علیحدگی پسندوں کے ایک عارضی ٹھکانے کو بھی تباہ کردیا۔ وہاں سے ایک اے کے۔47 رائفل ،گولہ بارود اور ریڈیو سیٹ برآمد ہوا ہے۔ فوج کے ذرائع نے بتایا یانگ لانگ اور کنو علاقوں میں بھی پچھلے 10 دنوں سے این ایس پی این کے خلاف ایسی کارروائی کی جارہی ہے۔ یکم ستمبر کو بھی کنو کے قریب ایک انتہا پسند مارا گیا۔ ادھر دہلی میں فوج کے چیف جنرل وپن راوت نے مرکزی وزیر مملکت کرن ریجو سے ملاقات کی اور آپریشن کی جانکاری دی۔ بتادیں کرن ریجو اروناچل پردیش سے ہی نمائندگی کرتے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ اس ملاقات کے دوران این ایس پی ایل کے خلاف کارروائی کو لیکر تبادلہ خیال ہوا۔ حالانکہ جنرل راوت نے کارروائی کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا ایسے مقابلے اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ بتادیں کہ بھارت اس بات سے لگاتار فکر مند ہے کہ نارتھ ایسٹ میں سرگرم کچھ انتہا پسند گروپ کو میانمار میں پناہ مل رہی ہے جبکہ میانمار لگاتار کہتا رہا ہے کہ وہ کسی بھی انتہا پسند گروپ کو بھارت کے خلاف اپنی زمین کا استعمال نہیں کرنے دے گا۔ بتادیں جون 2015ء میں بھی 21 یونٹ کے قریب 70 کمانڈو کی ایک ٹیم نے میانمار سرحد پر رات میں کارروائی کر این ایس پی این کے اور کے وائی کے ایل گروپوں کے 38 دہشت گردوں کو مار گرایا تھا۔ این ایس پی این اور کے وائی کے ایل دونوں گروپوں نے 4 جون 2015 کو گھات لگاکر کئے گئے حملہ کی ذمہ داری لی تھی۔ یہ کارروائی وزیر اعظم کے میانمار دورہ سے ایک دن پہلے کی گئی۔ میانمار کے لیڈروں سے بات چیت میں انتہا پسند تنظیموں کی سرحد پار سے سرگرمیوں سمیت ڈیفنس اور سکیورٹی تعاون کا معاملہ بھی اٹھ سکتا ہے۔ دیکھنا یہ بھی ہوگا تمام یقین دہانیوں کے باوجود میانماران انتہا پسند عناصر کو اپنی زمین سے حملے کرنے سے روکے گا یا نہیں؟
(انل نریندر)

06 ستمبر 2017

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ڈبل گیم کو بے نقاب کیا

امریکہ میں جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ برسراقتدار آئے ہیں دہشت گردی کی حمایت کرنے والا پاکستان ان کے نشانے پر ہے۔ ٹرمپ نے دہشت گردی پر پاکستان کے دوہرے کھیل کو بخوبی بے نقاب کیا ہے۔ امریکی صدر نے اعتراف کیا ہے کہ اس خطہ (افغانستان ) میں سلامتی کو لیکر ان کے خیالات میں تبدیلی آئی ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنے فوجیوں کی مسلسل واپسی کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے کیونکہ یہ سنگین معاملہ ہے۔ افغانستان کو لیکر امریکہ کی نئی حکمت عملی میں نیا نقطہ نظر دکھائی دیتا ہے۔ ٹرمپ نے فوجیوں کی تعیناتی میں تعداد کا ذکر نہیں کیا لیکن صاف کیا کہ امریکہ بغیر کسی وقت میعاد کو مقرر کئے وہاں فوجیوں کی تعداد بڑھائے گا اور اپنے سابقہ صدور (جارج بش اور براک اوبامہ) کے مقابلہ میں ٹرمپ یہ اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ پاکستان ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ انہوں نے صاف طور سے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ پاکستان امریکہ کا حکمت عملی ساز سانجھیدار ہے جبکہ وہ یہ مانتے ہیں کہ پاکستان ، امریکہ کا ساتھی ہونے کا ڈھونگ کرتا ہے اور بدلے میں امریکہ سے بھاری اقتصادی مدد حاصل کرتا ہے۔ اس رقم کا وہ استعمال طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے آتنک وادیوں کو محفوظ پناہ گاہ مہیا کرانے میں کرتا ہے جبکہ یہی آتنکی امریکی اور افغانی فوج پرحملے کرتے ہیں۔ افغانستان۔ پاکستان کو لیکر امریکہ کی حکمت عملی میں تبدیلی کرنے کے ٹرمپ کے اعلان سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کو ملنے والی اقتصادی مدد اور تعاون اب یا تو بند ہوسکتا ہے یا شرائط کے ساتھ کم ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ نے اس بات کے بھی اشارے دئے ہیں پاکستان اب وہ امریکہ کو بھارت کے ساتھ مضبوط حکمت عملی سانجھیداری کرنے سے نہیں روک سکتا۔ صدر ٹرمپ کی پالیسی میں تبدیلی پر پاکستان میں زبردست رد عمل ہونا فطری ہی تھا۔ پاک کی قومی اسمبلی نے امریکی صدر ٹرمپ اور افغانستان میں امریکی کمانڈر زون ڈبلیو نیکولسن کے خلاف ایک رائے سے ریزولیوشن پاس کر امریکہ کو سیدھی چنوتی دی ہے۔ ٹرمپ اور نیکولسن کے پاکستان کو لیکر دشمنانہ اور دھمکانے والے بیان کو خارج کرنے والے ریزولیوشن کو قومی اسمبلی نے منظور کرلیا ہے۔ پاک حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی مدد نہ ملنے سے پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے وہ اقتصادی پالیسیاں تیار کرے اس سے پہلے نچلے ایوان میں بھی یہ ریزولیوشن اتفاق رائے سے پاس ہوگیا۔ پاکستان نے احتجاج کے طور پر امریکہ کے نگراں ڈپٹی وزیر خارجہ (ساؤتھ و وسطی ایشیا) ایلس ویلس کو گذشتہ منگل سے ہونے والے پاکستان دورہ کو بھی منسوخ کردیا ہے۔ امریکہ کے افغانستان صدر کے ذریعے بھارت سے تعاون مانگنے کو لیکر بھی پاکستان پریشان ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ ٹرمپ نے پاک کے دوہرے گیم کو بے نقاب کیا ہے۔
(انل نریندر)

شادی سے نہیں ملتا جنسی تشدد کا حق

شادی کسی کو بیوی کے طور پر جنسی مار پیٹ کرنے کا حق نہیں دیتی۔ یہ رائے زنی دہلی ہائی کورٹ نے گذشتہ دنوں ازدواجی بدفعلی کے مسئلہ پر دائر عرضیوں کی سماعت کرتے ہوئے نگراں چیف جسٹس گیتا متل و جسٹس سی ہری شنکر کی ڈویژن بنچ نے سماعت کرتے ہوئے فلپن کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شادی کسی عورت پر اس کے شوہر کے ہاتھوں مارپیٹ کرنے کا حق نہیں دیتی۔ ایک این جی او فورم اگینسٹ ٹو مین(فین) نے اس معاملہ میں فریق بننے کے لئے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔جس میں کہا گیا ہے کہ شادی عورت اور مرد کے درمیان رضا مندی اور احترام کا مکمل رشتہ ہے اس میں زبردستی جنسی رشتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اہم عرضی گزار فاؤنڈیشن کی طرف سے دلیل پیش کرتے ہوئے کولن گونزاولس نے امریکہ و نیپال کے قانون کا حوالہ دیا۔ اس پر بنچ نے کہا کہ وہ فلپن کے قانون کا حوالہ بھی دے سکتے ہیں۔ مرکزی سرکار نے اس معاملہ میں حلف نامہ دائر کرکہا تھا کہ ازدواجی بدفعلی کو جرم کے زمرے میں لانے سے شادی کا رواج لڑکھڑا جائے گا اور اس کا استعمال شوہر کو پریشان کرنے کے لئے بھی کیا جاسکتا ہے۔ ازدواجی بدفعلی کو ختم کرنے کیلئے اخلاقی و سماجی بیداری لانا ضروری ہے۔ مرکزی حکومت کے ملازم وکیل مونیکا اروڑہ نے کہا تھا کہ یہ یقینی کیا جائے کہ ازدواجی بدفعلی کو شادی کی روایت کو دھکا نہیں پہنچے گا اور اس کا استعمال عورتوں کے ذریعے شوہروں کے خلاف ایک آسان ہتھیار کے طور پر نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہمارے سامنے جہیز، ٹارچر سے متعلق قانون کا بیجا استعمال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ کہنا کہ شادی کے رشتوں میں آئی تلخی کسی گڑبڑی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی تو ازدواجی روایت ہی خطرے میں پڑ جائے گی، دراصل اس کی طاقت کو نظرانداز کرنا ہے۔ ازدواجی رشتوں میں تشدد، آبروریزی وغیرہ میں روک لگانے سے ازدواجی ادارے کی بنیاد اور مضبوط ہوتی ہے اور دیش میں ہر سال جتنی شادیاں ہوتی ہیں اس میں زیادہ تر بغیر کسی غیر متوقع واقعات کے ایک نئے کنبے کی بنیاد بنتی ہے۔ انگلیوں پر گنی جانے لائق شادیاں ہیں بری خبروں کیلئے جانی جاتی ہیں۔ سخت قانون کی ضرورت ایسی شادیوں کے کھلیائکوں سے نمٹنے کیلئے ہی پڑتی ہے۔ ان سے متاثرہ عورتوں کی تعداد چاہے جتنی بھی کم ہو لیکن شاید ہی کوئی کھلے طور پر یہ کہنے کو راضی ہو کہ انہیں دیش کے قانون کی سرپرستی نہیں ملنی چاہے۔ ایسا کوئی قانون بناتے وقت اس کے بیجا استعمال کے اندیشہ پر بھی غور کیا جائے ۔ جہیز اور گھریلو تشد انسداد قوانین کے کچھ بیجا استعمال ہوسکتے ہیں لہٰذا میریٹل ریپ انسداد قانون بناتے وقت ایسے خدشات کا دھیان رکھنا ضروری ہوگا۔
(انل نریندر)

05 ستمبر 2017

شیش محل سے سلاخوں تک گرمیت رام رحیم

سادھویوں سے جنسی استحصال معاملہ میں 20 سال کی سزا کاٹ رہے نام نہاد بابا رام رحیم کا رہن سہن اور ڈیرہ کے اندر کی دنیا کسی پرانے زمانے کے راجہ مہاراجہ سے کم نہیں ہے۔ ڈیرہ سچا سودا کے اندر غضب کا مایا جال ہے۔ وہیں اپنی کرنسی اور اپنا کاروبار ہے، ڈیرہ کی طرح بسایا گیا ہے اگر وہاں ایک بار جو بس جائے تو اسے کبھی باہر کی دنیا سے جڑنے کی ضرورت نہیں محسوس ہو۔ ڈیرہ کے اپنے پروڈکٹس ، اپنی سروسز اور سب کاروبار اپنی کرنسی میں ہوتا ہے۔نہ باہر کی کرنسی آئے اور نہ ہی باہر سے کاروبار۔ ڈیرہ سچا سودا نے دونوں ڈیروں میں اور ان میں بسی کالونیاں و اداروں کیلئے الگ سے پلاسٹک کرنسی بنوائی تھی۔ باہر سے آئے شخص کو ڈیرہ میں کچھ بھی خریدنے کے لئے روپے کو ڈیرہ کی کرنسی میں بدلوانا پڑتا تھا۔ کسی ایک جگہ سے ٹوکن لے لیتے اور پھر اس کے بعد جہاں چاہا وہاں سے کوئی بھی سامان ہی نہیں بلکہ ہوٹل میں کھانا بھی کھایا جاسکتا ہے۔ بابا رام رحیم کا رہن سہن اور ڈیرہ کے اندر بنے بنگلہ کسی فلمی دنیا کے ستارے سے کم نہیں ہے۔ بدفعل بابا نے یہاں پر مون ہاؤس ، سن ہاؤس، پریم کی علامت تاج محل نما عمارت اور پیرس کا ایفل ٹاور تک بنوا رکھا ہے۔ یہاں ہر عمارت میں سوئمنگ پول ہے۔ شاہی بیڈروم اور شاندار گیسٹ روم ہے جن میں کرایہ دیکر کسی غیر ملکی و دیسی مہمان، کسی بھی پروگرام کے وقت آ سکتے ہیں۔ کچھ عمارتوں کا استعمال صرف بابا ہی کرتا ہے۔ یہ اسی کے آنے پر کھولی جاتی ہیں۔ ڈیرہ ہیڈ کوارٹر میں بنے عالیشان ریزاٹ اور تیراواس میں سہولت کے وہ سارے انتظام ہیں جو کسی پانچ ستارہ ہوٹل میں ہوتے ہیں۔ ان انتظاموں کو دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ وہ کسی سادھو سنت کے طرح نہیں بلک راجہ مہاراجہ کی طرح ٹھاٹ باٹ کی زندگی جیتا ہے۔ 91 ایکڑ یعنی قریب4.5 لاکھ مربع گز میں بنے بابا کے اس ونڈر لینڈ کو دیکھنے کیلئے بیرونی ممالک تک سے لوگ آتے ہیں اور ان میں رکنے کے لئے وی آئی پی مہمانوں سے 25 ہزار روپے تک کرایہ لیا جاتا ہے۔ غور کیا جائے تو ڈیرہ سچا سودا کے ہیڈ کوارٹر کی پراپرٹی سرسہ ضلع میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق کچھ 935 ایکڑ زمین پر ہے اس میں اکیلے سرسہ تحصیل کی بات کریں تو 700 ایکڑ زمین ہے اور اس زمین میں سے 91 ایکڑ زمین پر بابا کی گپھا اور ڈیرہ کے تعلیمی ادارے ست سنگ بلاک، ایڈمنسٹریٹو بلاک، میڈیا سینٹر، فیکٹریاں، باغ باغیچے، ریستوران، شاہی سنیما، شاہ ستنام سپر اسپیشیالٹی اسپتال، شاہی بیٹیوں کا آشرم اور وہ عالیشان محل جس میں ڈیرہ بابا کا شاہی خاندان رہتا ہے۔ گرمیت رام رحیم نے بڑی چالاکی سے اپنی اربوں روپے کی کالی کمائی کو سفید کرلیا۔ اس کے لئے رام رحیم نے 2015 میں فلمی دنیا میں اینٹری کی۔ اپنی فلموں کا کلکشن 200 سے500 کروڑ روپے تک ہونے کا دعوی کیا۔ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ دو کو چھوڑ کر باقی فلمیں تو لاگت بھی نہیں نکال پائیں۔ باقاعدہ طور سے داڑھی بال کلر کرنے والے گرمیت نے 2015ء میں فلموں میں اینٹری کی۔ اس نے پہلی فلم ’ایم ایس جی فور ۔میسنجر‘ کے لئے دعوی کیا کہ فلم نے 100 کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبارکیا لیکن باکس آفس کے ماہرین کی مانیں تو فلم صرف 16.65 کروڑ ہی کما سکی۔ 30 کروڑ میں بنی اس فلم میں ڈیرہ مووی کو 13.35 کروڑ کا نقصان ہوا۔ ٹھیک سات مہینے بعد آئی دوسری فلم ایم ایس جی2 ۔دی میسنجر کی کمائی 300 کروڑ روپے کے دعوے کے برعکس17 کروڑ روپے کا کاروبار کرسکی جبکہ بنی تھی23 کروڑ میں۔ گرمیت نے 2016 میں اپنی اگلی فلم ایم ایس جی ۔دی ویئر لائن ہارڈ ریلیز کی۔ڈیرہ کی طرف سے کہا گیا کہ فلم پنجاب میں ہاؤس فل ہے لیکن میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فلم صرف17.60 کروڑ روپے کا کلکشن کرسکی۔ اس سال فروری میں آئی ایم ایس جی لائن ہارڈ 2 بھی بھی اڑتی کاریں اور بم کی شکل میں کام کرنے والی گھڑی کو دکھایا گیا۔ اس میں گرمیت ہندوستانی جاسوس شیر ہند کے رول میں دکھائی دیا۔ 12 کروڑ میں تیار اس فلم نے صرف 14کروڑ روپے کا کاروبار کیا جبکہ گرمیت نے دعوی کیا کہ فلم نے سات دن میں 100 کروڑ روپے کمائے۔ یہ سارا گورکھ دھندہ اپنی کالی کمائی کو سفید کرنا تھا۔ چونکانے والی جانکاریوں میں رام رحیم کو قصوروار قرار دینے کے بعد بھاگنے کی یوجنا سامنے آئی ہے۔ گرو گرام کے انسپکٹر جنرل اے کے راؤ نے بتایا کہ جیسے ہی ڈیرہ پرمکھ کو پنچکولہ کی اسپیشل عدالت نے قصوروار ٹھہرایا اس نے اپنے ساتھی سے لال رنگ کا بیگ مانگا۔ یہ بیگ سرسہ سے لایا گیا تھا۔ راؤ نے بتایا ڈیرہ مکھی نے کہا کہ بیگ میں اس کے کپڑے ہیں لیکن حقیقت میں یہ اشارہ تھاجس سے اس کے حمایتوں کو سندیش مل جائے کہ اب وہ دنگا بھڑکانا شروع کردیں۔ انہوں نے بتایا جیسے ہی بیگ گاڑی سے باہر نکالا گیا تو دو تین کلو میٹر دور سے آنسو گیس کے گولہ چھوٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ آئی جی نے بتایا کہ پہلے تو سمجھ میں نہیں آیا کہ لال بیگ مانگنا بابا کی شورش پھیلانے کا حصہ تھا۔ آئی جی نے بتایا کہ اگر سیکٹرتک مشتعل بھیڑ پہنچ جاتی تو حملہ بے قابو ہوجاتا تب پولیس نے انہیں ڈی ایس پی (کرائم) سمت کمار کی گاڑی میں بٹھایا جبکہ وہ خود دوسری گاڑی سے آئے تھے۔ تب ہم لوگ اس گاڑی میں بٹھ رہے تھے تبھی کئی برسوں سے بابا کی سکیورٹی میں لگے کمانڈو نے اسے گھیر لیا۔ کمانڈو کے پاس ہتھیار بھی تھے ۔ ان کی ٹیم کی کمانڈو کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے کمانڈوکی دھنائی کردی۔ اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ گولی نہ چلے۔ پولیس کو تشویش اس بات کی تھی کہ ڈیرہ پرمکھ کیلئے 70-80 گاڑیاں راستے میں کھڑی تھیں۔ جہاں گاڑیاں کھڑی تھیں اس راستے سے ہم لوگ نہیں جانا چاہتے تھے کیونکہ ان میں ہتھیار ہوسکتے تھے۔ ہم بابا کو ہیلی کاپٹر تک لے جانا چاہتے تھے تب روٹ بدل کر ا نہیں پولیس کی گاڑی میں بٹھایا گیا۔ سینئر پولیس افسروں کو اس بات کا شبہ ہوا کہ ڈیرہ مکھی اور اس کی گود لی بیٹی ہنی پریت سنگھ کافی دیر تک عدالت کمپلیکس کے گلیاروں میں کھڑے رہے جبکہ انہیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اصل میں وہ لوگ گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے تھوڑا وقت چاہتے تھے جس سے یہ پیغام جا سکے کہ لوگ کورٹ سے جارہے ہیں۔ ان سے یہ کہا گیا کہ وہ اب وہاں کھڑے نہیں رہیں اور بھیڑ کبھی بھی کورٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ گرمیت رام رحیم کے جن دو قریبیوں کے خلاف اسے آبروریز اعلان کئے جانے کے بعد فرار کروانے کی سازش تیار کرنے کا الزام ہے ان میں سے ایک ہنی پریت سنگھ ہے ۔ 12 گھنٹے سے زیادہ وقت تک پولیس حراست میں بابا کے ساتھ تھی۔ اسے وہ وی آئی پی کی طرح ہیلی کاپٹ سے روہتک جیل تک لے جانے اور پھر پولیس کی گاڑی نے ہی اسے مقامی ڈیرہ تک پہنچوایا تھا پھر کچھ وقت کے بعد وہ بھاگ گئی۔ ہنی پریت جو ڈیرہ افسر آدتیہ انشا کے خلاف لک آؤٹ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ہنی پریت کیسے غائب ہوئی ، اس کو بھگانے میں کیا پولیس ملازمین کا ہاتھ تھا؟ رام رحیم کو ہائی کورٹ سے ضمانت ملنا آسان نہیں ہے۔ اگر ہائی کورٹ نے اپیل خارج کردی تو سپریم کورٹ سے بھی ضمانت ملنے کا امکان ختم ہوجائے گا، کیونکہ لگاتار دو عدالتوں کے ذریعے سزا دینے کے ایک رائے سے فیصلے پر سپریم کورٹ ضمانت شاید نہ دے۔ رام رحیم کے وکیل نے کہا ہم ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے اگر ضرورت پڑی تو سپریم کورٹ بھی جائیں گے۔ وہ سبھی قانونی متبادل ختم ہونے تک کوششیں جاری رکھیں گے۔ امید ہے کہ سی بی آئی عدالت کے فیصلہ کو نا منظور کردیا جائے گا اور رام رحیم ڈیرہ کی قیادت کرنے کے لئے پھر سے لوٹ آئیں گے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق رام رحیم کا مقدمہ مشہور وکیل ہریش سالوے لڑیں گے ایسا ڈیرہ حمایتی کہہ رہے ہیں۔ تقاضے کے مطابق ڈیرہ پرمکھ کے پاس اپیل داخل کرنے کے لئے دو مہینے کا وقت ہے۔ ذرائع کے مطابق کسی طرح کی دیری نہ ہو اس لئے اپیل تیار کرلی گئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ہائی کورٹ میں داخل ہونے والی اپیل میں رام رحیم کی پیروی بھارت کے سابق سالیسٹر جنرل ہریش سالوے کریں گے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...