Translater

17 فروری 2024

بھارت رتن اور چناوی تجزیے

کرپوری ٹھاکر اور لال کرشن اڈوانی کے بعد مودی سرکار نے سابق وزرائے اعظم پی وی نرسمہا راو¿ ،چودھری چرن سنگھ اور بھارت میں سب انقلاب سب سرواہ کہے جانے والے زرعی سائنسداں ڈاکٹر سوامی ناتھ کو بھی بھارت رتن دینے کا اعلان کیا ہے ۔بھارت رتن دیش کا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے ۔چودھری چرن سنگھ دیش کے چھٹے وزیراعظم تھے ۔حالانکہ ان کی میعاد کافی چھوٹی تھی ۔28 جولائی 1979 کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف لینے کے 70د نوں بعد ہی انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا تھا ۔کیوںکہ ایوان میں اپنی سرکار کیلئے اکثریت ثابت نہیں کر پائے تھے ۔چودھری چرن سنگھ بڑے کسان لیڈر تھے ۔پی وی نرسمہا راو¿ دیش کے 10 ویں وزیراعظم تھے ۔21 جون 1991 سے 16 مئی 1996 تک وزیراعظم رہے ۔نرسمہا راو¿ کو ہندوستانی معیشت کو کھولنے کا سہرہ دیا جاتا ہے ۔انہوں نے بھارت میں بڑی اقتصادی اصلاحات کو انجام دیا ۔ڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھ کو بھارت میں سب انقلاب کا بانی ماناجاتا ہے ۔انہوں نے 1960 اور 1970 کی دہائی میں ہندوستانی زراعت میں بے حد انقلابی تکنیکوںکو آزمایا اور فوڈ سیکورٹی کا حدف حاصل کرنے میں اہم رول نبھایا ۔15 روز کے اندر ہی کرپوری ٹھاکر ،لال کرشن اڈوانی ،پی وی نرسمہا راو¿،چودھری چرن سنگھ کو بھارت کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز کو چناوی سیاست سے جوڑا جا رہا ہے ۔سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ وزیراعظم کا داو¿ پوری طرح چناوی ہے ۔چناو¿ آتے ہی کرپوری ٹھاکر یاد آگئے ۔جن اڈوانی کو رام مندر کی پران پرتیشٹھا سماروہ میں جانے تک نہیں دیا گیا انہیں بھارت رتن دے دیا گیا ۔مودی جی نے پچھلے دنوں پریوارواد پر بیان دیا اور کانگریس کو ایک پریوار کی پارٹی بتانے کی کوشش کی ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شاید مودی نرسمہا راو¿ کیلئے بھارت رتن کا اعلان کرکے یہ جتانا چاہتے ہیں کہ کانگریس صرف کنبہ پرستی کو توجہ دیتی ہے ۔بھاجپا یہ بھی دکھانا چاہتی ہے کہ نرسمہا راو¿ قابل وزیراعظم تھے لیکن سونیا گاندھی نے ان کی بے عزتی کی ۔بی جے پی جتانا چاہتی ہے کہ کانگریس صرف کنبہ پرستی کی وجہ سے جن قابل وزرائے اعظم کی بے عزتی کر رہی تھی بھاجپا انہیں کا سمان کررہی ہے ۔تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ مودی اس بار 400سیٹوں کے پار کی بات کررہے ہیں لیکن رام مندر فرقہ پرستی کے ابھار اور فلاحی اسکیموں کی ڈلیوری اور بھار ی بھرم پبلسٹی کے باوجود وہ الگ الگ فرقوں کو خوش کرنے کیلئے بھارت رتن دے رہے ہیں ۔ان کا خیال ہے بی جے پی اگر چھوٹی چھوٹی پارٹیوں سے اتحاد کی کوشش کرتی نظر آرہی ہے تو صاف ہے اسے کہیں نا کہیں چناو¿ میں جھٹکا لگنے کا اندیشہ ستا رہا ہے ۔شاید یہ گول بندی اس لئے کی جا رہی ہے کہ بھارت رتن دینے کی سہولت کی دفعہ 18(1) میں ہے ۔1954 میں اس ایوارڈ کو شروع کیا گیا تھا اور قواعد کے مطابق ایک سال میں تین ایوارڈ دئیے جاتے ہیں لیکن مودی سرکار نے اس بار دیش میں پانچ ہستیوں کو بھارت رتن دینے کا اعلان کر دیا ہے ۔تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ یہ بھارت رتن نہیں چناوی رتن ہے ۔یہ چناوی تجزیہ سادھنے کیلئے دئیے گئے ہیں ۔کرپوری ٹھاکر کو اعزاز دینے کے بعد نتیش کمار کی سرکار پلٹ گئی ۔اسی طرح چودھری چرن سنگھ کے اعلان کے بعد طبقہ ذاتی سیاست کی ہے ۔وہ کہہ رہے ہیں کہ جو لوگ کسانوں کے سب سے بڑے ہتیشی تھے ان ہماری سرکار نے دیش کا سپریم اعزاز دے دیا ۔کسانوں کو اور کیا چاہیے ۔اے سوامی ناتھ کا عزاز کرنا اور ان کی سفارشوں کو نا لاگو کرنا ایک طرح کی دوہری سیاست ہی کہی جائے گی ۔ (انل نریندر)

کسانوں کا دہلی چلو مارچ

قریب ۲سال (2020-21)کسانوں نے جب اپنی تحریک کے تحت دہلی کی سرحدوں پر ڈیرا ڈالا تھا تب تقریباً پورے ایک سال مظاہروں کے بعد سرکار کیساتھ کچھ نکتوں پر اتفاق رائے بنا اور کسان واپس چلے گئے تھے ۔مگر اب ایک بار پھر کم از کم مارجنل پرائز کی گارنٹی کیلئے قانون کی مانگ سمیت کئی دیگر مسئلوں کیساتھ کسانوں نے دہلی چلو مارچ کے نعرے کیساتھ مظاہر ہ شروع کر دیا ہے ۔فصلوں پر ایم ایس پی کی قانونی گارنٹی کے علاوہ کسانوں کی طرف سے کئی پیچیدہ اشو جوڑ دینے سے آندولن لمبا کھچنے کا اندیشہ ہے ۔روڈ جام کرنے کے بعد اب ریل جام کرنے کی بھی بات ہو رہی ہے ۔سوال یہ ہے کہ آخر کسانوں کے پچھلے آندولن کے بعد سرکار کیساتھ ہوئے معاہدہ کا کیا خاکہ تھا اور اس میں بنی رضامندی کو زمین پر اتارنے کو لیکر ایسی سنجیدگی کیوں نہیں دکھائی دی کہ کسانوںکو پھر سے سڑک پر اترنے کی نوبت آئی ۔غور طلب ہے کہ دو برس پہلے کسانوں کے تاریخی آندولن کے بعد مرکزی سرکار کو پارلیمنٹ میں پاس تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنا پڑا تھا ۔تب سرکار نے ایم ایس پی گارنٹی دینے کا وعدہ کیا تھا ۔مگر کسانوں کی شکایت یہ ہے کہ سرکار نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے اب کسانوں کے تازہ آندولن کے بعد پھر جو حالات پیدا ہو رہے ہیں اگر اسے لیکر صحیح پالیسی نہیں اپنائی گئی تو سسٹم پھر سے بدنظمی پھر سے پیدا ہو جائیگی ۔بتادیں کہ پچھلے کسان آندولن میں 750 سے زیادہ کسانوں کی جانیں گئی تھیں ۔کیا ہے کسان انجمنوں کی اہم مانگیں اس بار ؟ کسان ایم ایس پی پر قانون بنانے سوامی ناتھن کمیشنوں کی سفارشوں کو لاگو کرنے ۔سبھی فصلوں کیلئے ایم ایس پی ڈکلیئر کرنے ،اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں مبینہ طور پر کسانوں کو کچل کرمارنے کے قصورواروں پر کاروائی سمیت دیگر مانگوں کو لیکر کسان اڈیل ہیں ۔سرکار سے بات چیت ہوئی ہے وہ بے نتیجہ رہی ہے ۔کسانوں کے دو بڑی انجمنوں جوائنٹ کسان مورچہ اور کسان مزدور مورچہ نے 13 فروری کو دہلی چلو مارچ کا نعرہ دیا تھا ۔پنجاب کسان مزدور سنگھرش سمیتی کے جنرل سکریٹری سکھن سنگھ پنڈیر نے اعلان کیا تھا کہ بدھوار کو پھر پنجاب ہریانہ بارڈ ر پار کرکے دہلی میں داخل ہونے کی کوشش کی جائیگی ۔پنجاب ہریانہ کے شمبھو سرحد پر پولیس نے کسانوں پر ڈرون سے آنسو گیس کے گولے برسائے ۔ڈرون سے ایک منٹ میں آنسو گیس کے 20-25 گولے برسائے گئے ۔پولیس نے کسانوں پر ربڑ کی گولیاں بھی چلائیں ۔اب یہ آندولن سیاسی شکل لیتا جا رہا ہے ۔عآپ اور کانگریس ،سپا اور لیفٹ پارٹیوں کی حمایت سے آندولن کو اور طاقت مل گئی ہے ۔دوسری طرف چناو¿ کے عین موقع پر بی جے پی سرکار آندولن کو جلد ختم کرنے کیلئے کئی طرح سے اندرونی کوششیں میں لگی ہے ۔بی جے پی میں مارچ ختم کرانے کیلئے کئی طرح کے معاملوں پر بات ہو رہی ہے ۔آندولن کی وجہ سے نارتھ انڈیا میں لوگوں کے پریشان ہونے سے کاروباری یومیہ دفاتر جانے والوں سے لیکر دیگر عام لوگوں کو بھی پریشانی ہوگی اس سے آندولن کاریوں اور ان کے حمایتیوں اور سیاسی پارٹیوں کی حمایت کمزور ہوگی لیکن لوک سبھا چناو¿ کمپین کے دوران آندولن ایک طرف آنسو گیس کے گولے لاٹھی چارج اور دوسری طرف سے پتھر بازی ،روڈ ریل روکو سے اڈچن پیدا ہو سکتی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ جلد اس معاملے کا کوئی حل نکلے گا اور کسان گھر لوٹیں گے ۔ (انل نریندر)

15 فروری 2024

پاکستان میں کھچڑی مینڈیٹ !

کافی بے یقینی ،سیاسی نوٹنکی ،لمبی قانونی لڑائی اور تشدد کے واقعات کے درمیان آخر کار پاکستان میں اگلی حکومت بنانے کی زور آزمائش چل رہی ہے ۔پاکستان کے عام چناو¿ میں کھچڑی مینڈیٹ آنے کے بعد سیاسی پارٹیوں نے اتحادی حکومت کی تشکیل کوششوں کو تیز کر دیا ہے ۔نیشنل اسمبلی کی 265 سیٹوں میں اکثریت کیلئے کسی بھی سیاسی پارٹی کو 133 سیٹیں جیتنے کی ضرورت ہوتی ہے اتنی سیٹیں کسی بھی پارٹی کو نہیں ملی ہیں ۔پاکستان الیکشن کمیشن نے اتوار کو 265 میں سے 264 سیٹوں کے فائنل رجلٹ ڈکلیئر کر دی ہیں ۔عمران خان کی پی ٹی آئی حمایتی آزاد امیدواروں نے 101 سیٹ پر جیت درج کر 3 مرتبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ نواز 75 سیٹ جیت کر تکنیکی طور پر سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھری ہے ۔بلاول سرداری بھٹو کی پاکستان پیوپلس پارٹی کو 54 سیٹیں ملی ہیں ۔تقسیم کے دوران بھارت سے آئے اردو زبان بولنے والے لوگوں کی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی ) کو 17 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں ۔بتا دیں سرکار بنانے کیلئے کم سے کم 133 سیٹوں کی ضرورت ہوگی ۔سابق صدر اور پی پی نیتا آصف علی زرداری نے پاکستان پیوپلس پارٹی کے سامنے اپنے بیٹے و پارٹی کے چیف بلاول زرداری بھٹو کو وزیراعظم بنانے کیلئے مانگ رکھ دی ہے ۔پی ایم ایل نواز چیف و نواز شریف نے سنیچر کو پاکستان کو مشکل دور سے نکالنے کیلئے اتحادی حکومت بنانے کی اپیل کی ہے ۔دیش کی طاقتور فوج کے چیف جنرل عاصم منیر نے سنیچر کو یونیفائیڈ سرکار بنانے کی درخواست کی ہے ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اتحادی سرکار بنانے میں مدد کرنے کیلئے سابق وزیراعظم نوازشریف کی اپیل کی بھی حمایت کی ہے ۔عاصم منیر نے عام چناو¿ کے نتیجے اعلان ہونے کے بعد سنیچر کو سیاسی لیڈرشپ سے درخواست کی ہے کہ وہ ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر حکومت کرنے اور جنتا کی خدمت کرنے کیلئے سبھی ممکنہ کوششیں کریں ۔عام چناو¿ کے نتائج کے مطابق دیش معلق پارلیمنٹ کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ایک دن پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ملی جلی سرکار بنانے کی اپیل کی تھی ۔ایسا لگتا ہے کہ شریف کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔جیل میںبند سابق وزیراعظم عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے ذریعے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے جمعرات کو ہوئی پولنگ میں نیشنل اسمبلی میں 150 سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے ۔پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ایک دوسرے کے کٹر حریف نواز شریف اور عمران خان دونوں نے جمعہ کو چناو¿ میں جیت کا اعلان کیا ۔چناو¿ میں شریف کی پارٹی نے بطور پارٹی سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں کہا ہے کہ جیل میں بند عمران خان کے حمایتیوں نے سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں ۔عمران خان نے اے آئی کی مدد سے ایک ویڈیو پیغام بھیج کر کہا کہ عام چناو¿ میں جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنے کٹر حریف نواز شریف کو بے وقوف شخص قرار دیا ہے ۔ادھر چناوی نتیجوں کے بعد سنیچر کو عمران خان کو عدالت سے بڑی راحت ملی ہے ۔راول پنڈی میں دہشت گردی انسداد عدالت نے عمران خان کو 9 مئی کے دنگوں سے متعلق 12 معاملوں میں ضمانت دے دی ۔سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 13 معاملوں میں ضمانت دے دی ہے۔ (انل نریندر)

وہائٹ پیپر بنام بلیک پیپر!

کانگریس اور بی جے پی کے درمیان تازہ بیان بازی میں معیشت ایک اہم اشو بن گئی ہے ۔سال 2004 سے 2014 کے درمیان کانگریس قیادت والی یونائیٹڈ پروگریسو الائنس(یو پی اے)سرکار کے دوران اقتصادی سیکٹر میں پرفارمنس پر بھاجپا کی قیادت والی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے ایک وہائٹ پیپر جاری کیا ہے اس میں اس نے 2004 سے 2014 تک کے وقت کو ایک تباہی کا دور کہا ہے وہیں اس کا موازنہ 2014 سے لیکر 2023 کے دور سے کیا ہے ۔جسے اس نے امرت کال کہا ہے ۔وہیں این ڈی اے کے اس فیصلے کے جواب میں کانگریس نے 10 سال نا انصافی کے دور کے نام سے ایک بلیک پیپر جاری کیا ہے جسے 2014 سے لیکر 2024 کے درمیان کی بات کہی گئی ہے ۔دونوں ہی دستاویز 50 سے 60 صفحات کے ہیں اور ان میں اعداد شمار ،چارٹ کی مدد سے الزام اور دعوے کئے گئے ہیں ۔کانگریس کے مطابق اس کا دستاویز حکمراں بی جے پی کی اقتصادی ، سماجی اور سیاسی نا انصافیوں پر مرکوز ہے ۔جبکہ حکومت کا جاری وہائٹ پیپر یو پی اے سرکار کی اقتصادی غلطیوں پر روشنی ڈالنے تک محدود ہے ۔معیشت کو لیکر کانگریس کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی کا عہد بھارت میں بے روزگاری ، نوٹ بندی اور آدھے ادھورے طریقہ سے گڈ اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی ) نظام لاگو کرنے جیسے تباہ کن اقتصادی فیصلے ، امیروں اور غریبوں کے درمیان بڑھتی کھائی اور پرائیویٹ سرمایہ کاری کے کم ہونے کا گواہ رہا ہے ۔دوسری جانب بی جے پی نے ویڈ بینک لون میں اچھال ، بجٹ گھاٹے سے بھاگنا ، کوئلے سے لیکر 2G انسپکٹرم تک ہر چیز کے الاٹ مینٹ میں دھاندلیوں کی ایک سیریز اور فیصلہ لینے میں اہلیت جیسے کئی الزام کانگریس پر لگائے گئے ہیں ۔بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے دیش میں سرمایہ کاری کی رفتار دھیمی ہوئی ہے ۔مختلف تجزیہ نگاروں کی رائے سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ہی پارٹیاں ایک دوسرے کے بارے میں جو دعوے کررہی ہیں کچھ حد تک وہ صحیح باتیں بھی ہیں ۔ماہرین کہتے ہیں کہ دونوں طرف سے الزامات میں کچھ سچائی ضرور ہے ۔دونوں نے ہی برے فیصلے لئے کانگریس نے ٹیلی کام اور کوئلے میں اور بھاجپا نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی میں لیکن یو پی اے بنام این ڈی اے کے دس برسوں کا موازنہ اقتصادی اعداد شمار پر ایک نظر ڈالنے سے دونوں کی پرفارمنس کی ملی جلی تصویر سامنے آتی ہے ۔اقتصادی ترقی لیکن سچ یہ ہے کہ بھارت کی معیشت پر عالمی معاشی بحران کے مقابلے کووڈ وبا کے قہر کا اثر زیادہ تھا ۔اس لئے تعجب نہیں کہ این ڈی اے کے عہد کے دوران ایک دہائی کی جی ڈی پی اوسطاً کم رہی ۔کووڈ نے معیشت کے سامنے زبردست بحران پیدا کر دیا ۔وہ بہت بڑا تھا اس وبا نے اس دہائی کے دوران کچھ سالوں کیلئے معیشت کی رفتار دھیمی ضرور کر دی ہے ۔اس سرکار نے بنیادی ڈھانچہ کو مضبوط اور دیگر چیزوں کے علاوہ آخری پائیدان تک انتظامیہ میں بہتری لا کرکے آنے والے سالوں میں تیزی سے ترقی کی بنیاد رکھی ہے ۔ایکسپورٹ میں اضافہ شرح این ڈی اے کے مقابلے یو پی اے کے دور میں تیزی تھی یہ دونوں ہی کئی پہلوو¿ں کی وجہ سے ہے جیسے زمین ایکوائر چھوٹی فیکٹریوں کیلئے ماحولیات کی منظوری ملنے میں مشکل ،لمبے عرصے سے مینوفیکچرنگ ایکسپورٹ اضافہ کم رہا ۔حالانکہ اس کے کئی اسباب ہیں ۔ہیومن ڈولپمنٹ انڈکس پر پرفارمنس کے معاملے میں بھی این ڈی اے کی پرفارمنس یو پی اے کے مقابلے کم ہی ہے ۔اقتصادی پالیسی سازی بھی ایک لگاتار چلنے والی کاروائی ہے ۔جو الگ الگ سرکاروں کے درمیان چلتی رہتی ہے ۔جس میں سرکار اپنے سابقہ جانشینوں سے وراثت میں اچھے اور برے کام ملتے ہیں ۔کبھی کبھی ایک سرکار کے ذریعے کی گئی پہل یا قدم کو آنے والی سرکار آگے بڑھاتی ہے اور مضبوط کرتی ہے ۔کبھی کبھی سابقہ سرکار کے نتیجے کو بدل دیتی ہے ۔ (انل نریندر)

13 فروری 2024

لیو اِن ریلیشن اور یو سی سی !

ملی جلی زندگی یعنی بغیر شادی کے نوجواں جوڑوں کے ایک ساتھ رہنے پر لمبے وقت سے بحث چھڑی ہوئی ہے ۔سماج کا ایک بڑا حصہ اسے نا مناسب مانتا ہے مگر پرائیویسی کے آئینی اختیارات کے چلتے اس پر قانونی روک لگانا تنازعات سے گھرا ہوا ہے ۔اب اتراکھنڈ سرکار نے لیو اِن ریلیشن شپ کو ناجائز قرار نہیں دیا ہے مگر اس کو کسی حد تک جائز کرنے کی کوشش ضرور کی ہے ۔یونیفارم سول کوڈ بل میں اس نے ایک سہولت لیو اِن ریلیشن کو لیکر شامل کی ہے ۔اتراکھنڈ اسمبلی نے یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کو منظوری دے دی ہے۔اس نئے بل کی اہم دفعہ کے مطابق مذہب ،جنس اور سیکس کو لیکر شخص کی پسند کی پرواہ کئے بغیر ریاست کے سبھی باشندوں پر یکساں پرسنل لاءلاگو ہوگا ۔حالانکہ کچھ قبائلی فرقوں کو اس بل کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے ۔بل کے اس تقاضہ نے اس پورے بل سے زیادہ توجہ کھینچی ہے ۔بھارت کے کچھ حصوں میں اب بھی ساتھ رہ رہے بے شادی شدہ جوڑوں کو پسند نہیں کیا جاتا ۔اس طرح کے رشتوں کو عام طور پر لیو اِن ریلیشن شپ کہا جاتا ہے ۔اس نئے بل کے تحت ایک مرد ،ایک عورت جوڑے کو پارٹنرس کہا گیا ہے ۔نئے بل کے مطابق اس طرح کے جوڑوں کو اپنے لیو اِن ریلشن شپ کے بارے میں رجسٹرا ر کے سامنے باقاعدہ بیان دینا ہوگا اور خود کو رجسٹر کرانا ہوگا جو اس معاملے میں تین دنوں کے اندر اندر جانچ کریں گے اور جانچ کے دوران ضرور ی ہونے پر پارٹنرس کو اور زیادہ جانکاری یا ثبوت پیش کرنے کو کہا جاسکتا ہے ۔لیو اِن ریلیشن شپ کے بارے میں دئیے گئے بیان کو رجسٹرار ،مقامی پولیس کیساتھ شیئر کریں گے اور اگر جوڑے میں کسی ایک پارٹنر کی عمر 21 سال سے کم ہوئی تو ان کے والدین کو بھی مطلع کیا جائیگا۔اگر جانچ کے بعد افسر مطمئن ہے تو وہ ایک رجسٹرڈ میں پوری معلومات درج کریں گے اور جوڑے کو ایک سرٹیفکیٹ جاری کریں گے ۔ایسا نا ہونے پر پارٹنرس کو سرٹیفکیٹ نہ جاری کرنے کے بارے میں بھی بتایا جائیگا ۔بل کے مطابق اگر جوڑے میں ایک پارٹنر شادی شدہ ہے ۔یا نابالغ ہے ایک پھر رشتہ بنانے کیلئے زور زبردستی یا پھر دھوکہ دھڑی سے رضا مندی لی گئی ہے تو رجسٹرار لیو اِن ریلیشن شپ کے رجسٹری کرنے سے انکار کر سکتے ہیں ۔جانکاری دئیے بغیر اگر کوئی جوڑا ایک مہینے سے زیادہ وقت تک لیو اِن ریلیشن میں رہتا ہے تو اس معاملے میں تین مہینے کی انہیں جیل ،دس ہزار روپے کا جرمانہ دونوں ہو سکتے ہیں لیو اِن ریلیشن کو باعزت بنانے کے پیچھے سرکار کی منشاءسمجھی جاسکتی ہے ۔دراصل پچھلے کچھ برسوں میں بغیر شادی کے رہ رہے لورس جوڑوں میں ان بن ،علیحدگی کے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں ۔کئی لڑکیوں کی بے رحمی سے ہتھیا کر دی گئی ۔لیو اِن ریلیشن سے متعلق دفعات میں صاف ذکر ہے کہ رجسٹریشن کے بعد ساتھ رہنے والے لورس جوڑے کے رشتوں کو قانونی طور سے جائز مانا جائیگا ۔اور عورت کو وہ سبھی اختیار حاصل ہوں گے جو شادی کے بعد ملتے ہیں ۔اگر پرائیویسی کے حمایتی کچھ لوگوں کو یہ قانون اخلاقی طور پر نگرانی رکھنے کی کوشش لگ سکتی ہے ۔پرائیویسی کے حق کی حفاظت ضرور ہونی چاہیے مگر اس حق کی آڑ میں یا اس کا بیجا فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر کچھ لوگ سماج اور سسٹم کے سامنے مشکل کھڑی کرتے ہیں تو ان کو ڈسپلن میں کرنے کی ذمہ داری سے بھلا کوئی ریاست کیسے بچ سکتی ہے ۔ (انل نریندر)

ہم تو تین ہی مانگ رہے ہیں !

اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بدھ کو ایودھیا میں رام للا کی پران پرتیشٹھا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کاشی اور متھرا کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ایودھیا کا اشو جب لوگوں نے دیکھا تو نندی بابا نے بھی انتظار کئے بغیر رات میںبیری کیٹ تڑوا ڈالے اور اب ہمارے کرشن کنہیا بھی وہاں پدھارنے والے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کسی کا نام لئے بغیر کہا پانڈوں نے کوروں سے صرف پانچ گاو¿ں مانگے تھے لیکن سینکڑوں برسوں سے یہاں کی آستھا صرف تین کاشی ،متھرا ، کیلئے بات کررہی ہیں ۔یوگی آدتیہ ناتھ نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے سوال کھڑا کیا کہ سناتن دھرم کی آستھا کے تین اہم مقامات ایودھیا ،کاشی اور متھرا کا وکاس آخر کس منشاءسے روکا گیا تھا ۔یوگی آدتیہ ناتھ نے اسمبلی میں گورنر کے ایڈریس پر سپریا کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا صدیوں تک ایودھیا بری منشاءکیلئے ایک ابھیشاپ تھی اوروہ ایک منظم مقصد پر بھی جھیلتی رہی ۔لوگ آستھا اور جن بھاو¿ناو¿ں کیساتھ ایسا کھلواڑ ممکنہ طور پر دوسری جگہ دیکھنے کو نہیں ملا ہوگا ۔ایودھیا کے ساتھ نا انصافی ہوئی وزیراعلیٰ نے کہا بھارت کے اندر لوگ آستھا کی بے عزتی ہو ،اکثری سماج گڑ گڑائے تھے ۔یہ پہلی بار دیکھنے کو ملا ۔دنیا دیکھ رہی ہے آزاد بھارت میں یہ کام پہلے ہونا چاہیے تھا ۔سال 1947 میں شروع ہونا چاہیے تھا اور اس آستھا کیلئے بار بار درخواست لگتی رہی ۔انہوں نے کہا ہم نے جو کہا سو کیا ۔جو عہد کیا اس کی تکمیل بھی کی تھی ۔ہم صرف بولتے نہیں ہیں کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا ہم مانتے ہیں کہ مندر کا جھگڑا عدالت میں تھا لیکن وہاں کی سڑکوں کو چوڑا کیا جاسکتا تھا وہاں کے گھاٹوں کی تزئین کاری کی جاسکتی تھی ۔ایودھیا کے باشندوں کو بجلی سپلائی کی جاسکتی تھی وہاں صاف ستھرا نظام تو قائم کیا جاسکتا تھا۔وہاں ہیلتھ کی بہتر سہولیات دی جاسکتی تھیں۔وہاں ہوائی اڈہ بنایا جاسکتا تھا ۔سوال یہ ہے کہ بھاجپا اس مسئلے پر کیسے آگے بڑھے گی ۔اس سوال پر پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا جب ہم رام مندر کی تجویز لائے تھے تب حالات الگ تھے ۔ہم اپوزیشن پر تھے اس لئے ہمیں لمبی عدالتی کاروائی سے ہو کر گزرنا پڑا ۔اب ہم مرکز اور یوپی دونوں جگہ سرکار میں ہیں ۔ہم مسلم فریقین سے بات کرکے حل نکالنے کی کوشش کریں گے ۔یوپی سرکار جنم بھومی کو لیکر قانون بھی بنا سکتی ہے ۔عدالت جانے کا متبادل سب سے آخری ہوگا ۔شری کرشن جنم بھومی کو لیکر پرستاو¿ کو لیکر پارٹی کے نیتاو¿ں کا کہنا ہے کہ ایک بڑا عزم ہے ۔اور آنے والے کچھ برس میں یہ پارٹی کی سینئر لیڈر شپ کے اقتدار بیلنس کا پہلو بن سکتا ہے ۔ایک خیال یہ ہے کہ پارٹی کے قومی صدر کی طرف سے پرستاو¿ لایا جائے ۔دوسرا نظریہ یہ ہے کہ ریاستی یونٹ پرستاو¿ لائے جس کی توسیق نیشنل کونسل کرے ۔تیسرا خیال یہ ہے کہ دھارمک یا کلچر انجمنوں کی طرف سے اس بارے میں پرستاو¿ لا کر بھاجپا سے مانگ پوری کرنے کو کہا جائے اور پھر اس پر نیشنل کونسل کی مہر لگائی جائے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...