Translater

10 جنوری 2015

شاید اب سامنے آئے سنندا کی موت کی اصل کہانی!

سنندا پشکر کی پراسرار موت کا معاملہ اب قتل کے الزام میں درج ہونے کے بعد سابق مرکزی وزیر ششی تھرور کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ سنندا پشکر کے رشتے داروں کو لگنے لگا ہے کہ قاتل جلد قانون کے شکنجے میں ہوگا۔ جموں کے باشندے سنندا کے بھائی اشوک کمار کا کہنا ہے کہ اب انہیں انصاف کی امید بندھی ہے اور دعوی کیا کہ اب ششی تھرور کی اصلیت سامنے آئے گی۔ سنندا کے بھائی کا دعوی ہے کہ ان کی بہن کی موت کے پیچھے ششی تھرور کا ہاتھ ہے۔ سنندا پشکر کی موت کے تقریباً ایک سال بعد پولیس نے نامعلوم لوگوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ ایمس میں 29 دسمبر کو جو قطعی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو سونپی تھی اس کے مطابق پشکر کی موت اتفاقی نہیں تھی۔ اس کی وجہ زہر تھا۔ اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ دہلی پولیس کمشنر بی ۔ ایس۔ بسی نے بتایا کہ پشکر کو انجکشن کے ذریعے زہر دینے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ زہر کی مقدار کا پتہ لگانے کے لئے وسرا کی جانچ کیلئے بیرون ملک بھیجا جائے گا کیونکہ یہ جانچ بھارت میں ممکن نہیں ہے۔ رپورٹ میں پہلی بار انجکشن سے زہر کی بات سامنے آئی ہے۔ میڈیکل بورڈ نے تو پہلی رپورٹ میں بھی سنندا کی موت زہر سے ہونے کی بات کہی تھی۔ اس رپورٹ کو دہلی پولیس نے اس وقت نہیں مانا تھا۔ تب بورڈ نے دہلی پولیس پر تعاون نہ دینے کا بھی الزام لگایا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ 17 جنوری2014ء کو پانچ ستارہ لیلا ہوٹل میں سنندا کی پر اسرار حالات میں موت ہوگئی تھی۔ اس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اور ششی تھرور وزیر ہوا کرتے تھے۔ اس وقت بھی پولیس پر دباؤ تھا کہ وہ کارروائی آرام سے کرے۔ تب یہ بات سامنے آئی تھی کہ تھرور کی پاکستانی دوست صحافی مہر ترار سے قریبی رشتوں کی وجہ سے سنندا اور تھرور کے رشتوں میں اکثر ٹکراؤ رہتا تھا۔ سنندا کا قاتل تلاشنے میں پولیس بھلے ہی بیرون ملک میں فورنسک جانچ کی بات کررہی ہو لیکن ششی تھرور کا کہنا تھا میں یہ سن کر حیرت میں ہوں کہ دہلی پولیس نے میری بیوی کی موت معاملے میں نامعلوم لوگوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں جس طرح سے اس معاملے کی جانچ ہوئی اس سے میں بے چین ہوں، میں پولیس کو پورا تعاون دوں گا۔ کانگریس کے ترجمان راشد علوی نے پولیس سے منصفانہ جانچ کرنے کی مانگ کرتے ہوئے 1 سال بعد قتل کا مقدمہ درج کرنے پر سوال کھڑا کیا ہے۔ سنندا پشکر کی موت کا معاملہ ایسے سوالوں سے گھر چکا ہے کہ اب صرف تیز رفتار و بھروسے مند جانچ ہی دہلی پولیس کے کیس میں دم لا سکتی ہے۔ ششی تھرور نے یہ بھی الزام لگایا ہے ان کے کچھ سابق ملازمین کو مہرہ بنا کرانہیں پھنسانے کی کوشش ہورہی ہے۔ دراصل اس معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ معاملہ سیاسی رنگ لیتا جارہا ہے۔اس لئے دہلی پولیس کے سامنے یہ بھی چیلنج ہے کہ وہ نیتاؤں کی بیان بازیوں سے جانچ کو نہ صرف متاثر نہ کرے بلکہ عام آدمی کے درمیان اس بھروسے کو قائم رکھے کہ دہلی پولیس معاملے کی تہہ تک جائے گی اور سنندا کے قاتل یا قاتلوں کا پردہ فاش کرے گی۔
(انل نریندر)

بھارت میں 7 ہزارسال پہلے ہی اڑتے تھے جہاز!

تاریخ میں بھلے ہی رائٹ بندھوؤں کا نام دنیا کا پہلا جہاز اڑانے والوں کی حیثیت سے درج ہو جنہوں نے1904ء میں پہلا جہاز اڑا یا تھا مگر بھارت میں تو7 ہزار سال پہلے ہی جہاز اڑا کرتے تھے۔ یہ جہاز نہ صرف ایک ملک سے دوسرے ملک تک جانے کی صلاحیت رکھتے تھے بلکہ ایک سیارے سے دوسرے سیارے تک جانے کی بھی صلاحیت تھی۔ یہ دعوی کیپٹن آنند جے بوداس نے ہندوستان سائنس کانگریس میں کیا ہے۔ کانگریس میں ایتوار کو ویدوں میں قدیم جہاز تکنیک سے وابستہ متنازعہ اسٹڈی میں یہ دعوی کیا گیا۔ پائلٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے ریٹائرڈ پرنسپل کیپٹن آنند جے بواس کے مطالعے کو لیکر کچھ سائنسدانوں نے نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ تجربہ ان ثبوتوں کی اہمیت کو نظر انداز کرتا ہے جن پر 102 سال پرانی انڈین سائنس کانگریس کا قیام عمل میں آیا تھا۔وگیان کانگریس نے کلچر کے ذریعے سے قدیم سائنس موضوع پر بحث کے دوران کیپٹن بوداس نے ویدک گرانتھوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا کہ قدیم ہندوستان میں جہاز رانی تکنیک موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ رشی وید میں قدیم جہاز رانی تکنیک کا ذکر ہے۔ مہارشی بھاردواج نے 7 ہزار سال پہلے ایسے جہاز کی موجودگی کی بات کہی تھی جو ایک دیش سے دوسرے دیش جاسکتا تھا۔ یہ ہی نہیں وہ ایک بر صغیر سے دوسرے برصغیر یہاں تک کہ ایک سیارے سے دوسرے سیارے تک بھی جانے میں اہل تھا۔ انہوں نے جہاز رانی تکنیک کے سلسلے میں97 کتابیں لکھی ہیں۔ رامائن میں راون کے پشکر جہاز کا ذکر ہے جس میں اس نے سیتا کا اغوا کر لنگا لے گیا تھا۔ یہ جہاز نہیں تھا تو اور کیا تھا؟ قدیم ہندوستان میں جہاز بہت ہی بڑے ہوا کرتے تھے۔ جہاز کا ڈھانچہ60X60 فٹ ہوتا تھا اور کئی معاملوں میں تو یہ 200 فٹ سے بھی اونچا ہوتا تھا۔ ویدک جہازوں میں چھوٹے چھوٹے 40 انجن ہوا کرتے تھے۔ راڈار سسٹم بھی تھا جسے اسپاکرکا رہسے کہا جاتا تھا۔بوداس کے بیان پر بحث چھڑنا فطری تھا۔ مرکزی وزیر جہاز رانی پرکاش جاوڑیکر نے کہا کہ میں آج بھی صبح کی شروعات سنسکرت میں خبریں دیکھ کر ہی کرتا ہوں۔ ساری پرانی چیزیں کام کی نہ ہوں لیکن بہت سی چیزیں بیکار بھی نہیں ہیں۔ ویدیانک کلچر میں موجود علم انسانیت کی بہتری کے لئے استعمال کریں۔ جب ہم نئی تحقیق سے دنیا بھر کوحیرت میں ڈالنے والی ایجادات دے سکتے ہیں تو یہ کام ہم کیوں نہیں کرسکتے۔مرکزی وزیر سائنس و تکنالوجی ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ریاضی اور پیتھاگورس تھیورم کی تلاش بھارت میں ہوئی تھی لیکن اس کا سہرہ دوسرے لوگوں کو ملا۔ سابق مرکزی وزیر ششی تھرور کا کہنا تھا کہ ہندوتو برگیٹ کی بے تکی باتوں کے چلتے قدیم ہندوستانی سائنس کی اصلی کامیابیوں کو مسترد نہیں کیا جانا چاہئے۔ ہرش وردھن کا مذاق اڑانے والے جدید نظریات کے حامیوں کو جان لینا چاہئے کہ وہ صحیح نہیں ہیں۔ ایک دوسرے اخبار نے دعوی کیا ہے کہ ہندوستانیوں نے سرجری کے لئے 20 طرح کے تیز اور101 طرح کے اوزار بنائے تھے۔ سرجری کے بعد کھال کی اصلی رنگت لوٹانے کے لئے آپریشن کے بعد ایک علاج ہوتا تھا جو آج کے سرجیکل کے دور میں عام استعمال میں نہیں ہے۔
(انل نریند)

09 جنوری 2015

ایک بار پھر امریکہ کا دہشت گردی پر دوہرہ چہرہ بے نقاب!

پاکستان سے بھارت میں ہورہی دہشت گردانہ وارداتوں سے نظریں پھیرتے ہوئے یا اسے نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر امریکہ نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی پر اپنا سرٹیفکیٹ دے کر پاک کے لئے اقتصادی مدد بڑھانے کا راستہ صاف کردیاہے۔ امریکی صدر براک اوبامہ کے دورۂ ہند سے دو ہفتے پہلے واشنگٹن کے اس موقف کی سخت مخالت بھارت میں آتنک واد کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی پیٹھ تھپتھپانے پر بھارت کو کوئی تعجب نہیں ہوا ہے۔ امریکہ دہشت گرد تنظیموں اور خاص کر القاعدہ ، لشکر طیبہ اور جیش محمد کو سرٹیفکیٹ دینے کے فیصلے سے امریکہ خود بے نقاب ہوگیا ہے۔اس کے دوہرے پیمانے کا بھی ثبوت ہے۔ تعجب نہیں کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ہونے والے دورۂ اسلام آباد تک امریکی صدر براک اوبامہ نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر رقم دینے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے پاکستان کے ڈھونگ کو مانیتا دے کر امریکہ ایک بار پھر مغالطے کا شکار ہوگیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ امداد پاکستان ۔ بھارت کے خلاف استعمال کرے گا امریکی صدر کے مجوزہ دورۂ ہند سے پہلے سابق وزیر خارجہ جان کیری کا پاکستان کو القاعدہ اور لشکر ،جیش جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا سرٹیفکیٹ جاری کرنا پاکستانی دہشت گردی کی نت نئی سازشیں جھیل رہے بھارت کے جلے پر نمک چھڑکنے جیسا ہے۔امریکہ اپنی ہی ان رپورٹوں کو نظر انداز کررہا ہے جن میں صاف کہا گیا ہے پاکستان دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا اڈہ ہے اور اپنی سرزمیں پر دہشت گردی کی نرسری چلا کر صرف بھارت کے لئے نہیں بلکہ عالمی امن کے لئے بھی سنگین چیلنج بن رہا ہے۔امریکہ پاکستان کو جن دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑائی لڑتے دیکھ رہا ہے وہ تو وہاں پر خوب پھل پھول رہے ہیں۔ کم سے کم لشکر طیبہ اور جیش محمد تنظیموں کے بارے میں تو یہ پکا کہا جاسکتا ہے کیونکہ امریکہ یہ نہیں جانتا کہ لشکر اور جیش محمد ہندوستان کی سکیورٹی کے لئے سب سے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ امریکہ اپنے مفاد کے لئے کسی بھی دوست کو نظرانداز کرسکتا ہے کیونکہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کی تیاری میں لگا ہے اور اس میں اس کو پاکستان کی مدد کی ضرورت پڑے گی۔ اس لئے وہ پاکستان میں پھل پھول رہے بھارت مخالف دہشت گرد تنظیموں کو نظرانداز کررہا ہے اور الٹا ان جہادی تنظیموں کو ہی بڑھاوا دے رہا ہے۔ بھارت کے خلاف اپنی سرزمیں سے جنگ چھیڑرہے آتنکیوں کو پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے کیونکہ بھارت میں ہوئے 26/11 حملے کا ماسٹر مائنڈ حافظ سعید اور1993ء میں ممبئی سیریل بلاسٹ کا خطرناک سازشی داؤد ابراہیم پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی سرپرستی میں ہی دنوں دن نہ صرف پھل پھول رہا ہے بلکہ سرحدی علاقوں تک پہنچ کر بھارت کو شورش اور کمزور کرنے کی ہر سازش میں جٹے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسالگتا ہے کہ امریکہ کااصلی ایجنڈا دنیا میں ہتھیاروں کی دوڑ بنائے رکھ کر ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانا زیادہ ہے اور دہشت گردی سے لڑنا کم۔
(انل نریندر)

اندرونی سلامتی پر بے تکی بیان بازی!

دیش پر دہشت گردی کا خطرہ زبردست طریقے سے منڈرا رہا ہے۔شمالی سرحد پر پاکستان جنگ جیسے حالات پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ بھارت کے سرحدی دیہات کے باشندوں کو ہر پل موت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس میں کئی جانیں جا چکی ہیں اور ادھر پاکستان کی آتنکی کشتی کو لیکر کانگریس اور بھاجپا کے درمیان سیاسی بیان بازی شروع ہوگئی ہے۔ کانگریس نے مرکز کی بھاجپا سرکارپر اس معاملے کو زبردستی سنسنی خیز بنانے کا الزام لگایا ہے۔ میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے ترجمان اجے ماکن کا کہنا ہے کہ مودی سرکار اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہی ہے۔ معاملے میں اب تک کئی پہلو سامنے آچکے ہیں اور ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ثابت ہو سکے کہ گجرات کے پوربندر ساحلی سمندری سرحد میں مشتبہ کشتی ایک بڑے آتنکی حملے کا حصہ تھی۔انہوں نے ہندوستانی ساحلی فورس کی کارروائی پر بھی سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کسی طرح کی برآمدگی نہیں ہوئی ہے۔ سرکار سے اس آپریشن کے بارے میں اور مشتبہ کشتی کے پیچھے شامل آتنکی تنظیم کا نام کا انکشاف کرنے کی مانگ کی ہے۔ کیا یہ کشتی ماہی گیروں کی تھی، جسے آتنکی کشتی بتادیا گیا ہے؟ وہیں کانگریس کے الزامات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے بھاجپا کے ترجمان سمبت پاترا نے کہا کانگریس ایک بار پھر پاکستان کو آکسیجن دے رہی ہے۔ جب26/11 آتنکی حملہ ہوا تھا اس وقت بھی کانگریس نیتا عجیب وغریب بیان دے رہے تھے۔سنگھ کی طرف اشارہ کررہے تھے۔ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر معاملہ سامنے آیا تو آتنک وادیوں کی موت پر سونیا جی آنسو بہا رہی تھیں، ایسا خود ان کے لیڈر سلمان خورشید نے کہا تھا۔ کانگریس ۔ بھاجپا میں جس طرح الزام در الزام کا سلسلہ جاری ہے وہ کسی بھی نقطہ نظر سے صحیح نہیں ہے اور یہ الزام تراشیوں کا سلسلہ یہ ہی بتا رہا ہے کہ ہمارے دیش میں کس طرح اندرونی سلامتی کے معاملے میں مفادات کی سیاست کرنے سے کوئی نہیں بچتا۔سب سے سنگین بات یہ ہے کہ ایسا جانتے ہوئے بھی کیا جاتا ہے کہ اس سے ان عناصر کو ہی شے ملے گی جو بھارت کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔یقینی طور سے یہ الزام تراشی سنگین ہے۔ ایسے نازک دور میں جب پاکستان چوطرفہ بھارت پر حملہ کرنے میں لگا ہوا ہے وہ آتنک وادیوں کو کھلے عام پناہ دئے ہوئے ہے تو ہندوستانی سکیورٹی فورس کی کارروائی پر سوال اٹھانا ملک دشمن طاقتوں کو ہی بڑھاوا دینے جیسا ہوگا۔ تھوڑی دیر کیلئے اگر اس دلیل کومان بھی لیا جائے کہ اس کشتی سے آتنکیوں کا کوئی تعلق نہیں تھا تو بھی ان کی حرکتیں مشتبہ ضرور رہی ہوں گی اس بات کو تسلیم کرنے میں کسی کو قباحت نہیں ہونی چاہئے۔ سمندر کے درمیان اپنے کو دھماکے سے اڑا لینے کا واقعہ کسی خودکش آتنکی گروپ کا ہی کام ہے۔ایک نشیلی چیزوں سے بھری کشتی کو ڈرگس اسمگلر اٹھانے سے رہے؟ چاہے بری ہو یا بحری خودکش دستوں کو پکڑنا تقریباً مشکل ہوتا ہے اس لئے کانگریس کا یہ کہنا آتنکیوں کو پکڑنا چاہئے تھا ، بچکانا دلیل لگتی ہے۔ دیش کی سلامتی ہماری سکیورٹی فورس کے حوصلے کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس طرح کی بے تکی بیان بازی سے بچنا چاہئے۔
(انل نریندر)

08 جنوری 2015

کنٹروورشیل فلم ’’پی کے‘‘ پر منڈراتے سنکٹ کے بادل

فلم پرڈویوسر راج کمارہیرانی کی فلم ’’پی کے‘‘ پر تنازعہ بڑھتا جارہا ہے۔ ہندوستان کے مختلف شہروں میں اس فلم کے خلاف دھرنے مظاہرے اور سنیماہال میں توڑپھوڑ ہورہی ہے۔ اترپردیش ہائی کورٹ کی لکھنؤ پنچ فلم کے خلاف دائرایک مفاد عامہ کی عرضی پر مرکزی حکومت سے معلومات طلب کی ہے۔ کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اپنا موقف رکھیں یہ حکم جسٹس امتیاز مرتضیٰ اور جسٹس ریتوراج اوستھی کی بنچ نے ہندو فرنٹ فار جسٹس کی جانب سے مفاد عامہ کی عرضی پر جاری کی ہے۔ جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ فلم’’پی کے‘‘ میں مذہب خاص کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے متعلق مناظر دکھائے گئے ہیں اور کہاگیا ہے کہ فلم سنسر بورڈ نے غیرقانونی طریقے سے اس فلم کی ریلیز کی اجازت دی ہے اور مانگ کی گئی ہے کہ اس کے دکھانے پر روک لگائی جائے اوراس کے ریلیز کیلئے سرٹیفکیٹ کو بھی منسوخ کیا جائے ۔میں نے فلم’’پی کے‘‘ دیکھی ہے اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے بہت سے لوگوں کو فلم ایک اچھی مزاحیہ لگی ہے تبھی تو یہ ریکارڈ توڑ بزنس کررہی ہے۔19دسمبر کو ریلیز ہونے کے بعدیہ اب تک یہ تین سوکروڑ روپے کماچکی ہے۔ اب تک کاریکارڈ عامر خاں کی فلم ’’دھوم 3‘‘ کا تھا جو 271.82 کروڑروپے کاروبار کرچکی تھی۔ میرا خیال ہے یہ فلم تفریح کے لئے بنائی گئی ہے۔ا س میں پیسے کمانے کے لئے ہندو مذہب ، ریتی رواج ، اقدار اور روایت کااشو کامذاق بنایا گیا ہے۔ فلم کے بارے میں یہ کہناسبھی مذہبوں کے پیشواؤں کو نشانے پر لیتی ہیں یہ صحیح نہیں ہے کہ دوسرے مذہبوں کواس طرح سے نہیں کریدتی ہے جس طرح سے ہندو مذہب کو نشانہ بنالیتی ہے کیا وجہ ہے کہ جب مذہبی پیشواؤں کاتذکرہ اسی اسٹیج پر جب فلموں میں ہوتا ہے تو چوٹ ہمیشہ ہندو مذہب کے روایت پر ہی ہوتی ہے اس سے پہلے ایک فلم ’’او مائی گوڈ‘‘ بھی اسی لائن پر تھی میں فلم کے کئی مناظر کی مثال دے سکتا ہو۔ فلم میں شیوجی کی توہین کی گئی ہیں۔ساتھ ہی سناتن دھرم کی کہانیوں میں اس طرح گھٹیا انداز اور مذاق کا موضوع کبھی فلم میں نہیں دکھائی جاتے تھے جس میں ہاتھ جوڑ کر اپنے پرکھوں کی دہائی دی ہو اور جو ’’پی کے‘‘ کے ڈر سے مارے چھپتا پھیرے ’’پی کے‘‘ کا یہ کہنا گنیش اور کرتکیہ اتنے چھوٹے بھی نہیں ہے بالکل اعتراض آمیز ہے ۔ گنیش اور کرتکیہ دونوں ہی سناتن دھرم کے رادھے دیوتا ہے اس فلم میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے لوگ ڈر اور لالچ کے لئے مندر جاتے ہیں امید بڑھ گئی ہے اور اسی پر جیتے ہیں اور زندگی کے مشکل سفر کو پار کرتے ہیں لوگ مندر اسی امید کے خاطر جاتے ہیں تاکہ ان کی زندگی پر کوئی پریشانی نہ آئے اس لئے نہیں کہ وہ ڈر یا لالچ کے مارے ہوتے ہیں۔ ایک پتھر پر جا کر مورتی بنا کر مندروں میں دیوی دیوتاؤں کا مذاق اڑانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پوری فلم تقریبا ڈھائی گھنٹے کی ہے اور 90 فیصد فلم مندر کے سادھو سنتوں اور مورتیوں کا مذاق اڑایا گیا ہے جب کہ صرف کچھ دیر کے لئے دوسری باتیں کی گئیں ہیں ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسکلاں رام مندر ناسک میں عامر خاں کو لیٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے وہ مندر والوں نے منع کردیاتھا پھر فلم کے پروڈیوسر مندر کے ترسٹ کو 25ہزار روپیہ ڈان میں دیا ہے جب جاکر یہ سین شوٹ ہوسکا۔ اسی طرح ایک سین میں عامر خاں ایک چرچ میں جاتا ہے اوراپنے ساتھ پوجا کی تھالی اور ایک ناریل لے جاتا ہے جسے وہ یسومسیحی کی مورتی کے سامنے پھوڑنا چاہتا تھا۔یہ سین جے پور کے اول سینٹس چرچ میں شوٹ ہواتھا۔ چرچ والوں نے عامر خاں کو چرچ کے اندر ناریل پھوڑنے کے لئے صاف منع کردیاتھا۔ پھر سمجھوتہ یہ ہوا کہ وہ تھالی اور ناریل کے ساتھ چرچ میں جائے گا لیکن ناریل نہیں پھوڑیگا اگر آپ سین کو غور سے دیکھیں تو ناریل کو چرچ کے اندر پھوڑتے نہیں دکھایا گیا بس پھوڑنے کاایکشن کیاگیا ہے اوردلچسپ بات یہ ہے کہ پروڈیوسر راج کمار ہیرانی ممبئی سے ایک جیسس کا کراس بنا کر لایا تھا جو اس نے اس شخص کو تحفہ میں دے دیا ہے پیسہ دے کر شوٹ کرنے والے ہیرانی اور عامر خاں یہ فلم صرف پیسہ کمانے کے لئے بنائی ہے جوطبقہ آج فلم کے حمایت میں کھڑا ہے وہ بتائے کہ اگر اس فلم میں مسلم سماج یا عیسائی سماج کے تئیں کوئی حصے ہوتے تو کیا وہ اس فلم کو چلنے دیتے یا اس فلم کو ٹیکس فری کردیا جاتا اور بغیر ایڈیٹ کے چلنے دیا جاتا؟ جو لوگ’’پی کے‘‘ کے خلاف کھڑے ہیں اور سماج کی اظہار آزادی کے لئے بڑا خطرہ مان رہے ہیں وہ ایک بات بتادیں کہ بھارت میں سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی کتابوں پر پابندی کیوں لگا رکھی ہیں؟ کیا یہ اظہار آزادی کے خلاف ورزی نہیں ہے؟ اس سے بھی آگے جا کر جب مصنفہ تسلیمہ نسرین نے بھارت میں رہنے کی پناہ مانگی تھیں توانہیں بھارت میں رہنے تک اجازت نہیں ملی تب بھی بھارت کی آزاد خیالی کوکوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح سلمان رشدی کو 2010میں جے پور کے ادب فیسٹول میں آنے سے روک دیا گیاتھا۔ اور زبردست احتجاج کی وجہ سے وہ کولکتہ بھی نہیں جاسکیں۔، سینسر بورڈ نے اس فلم میں دوبارہ کسی بھی کاٹ چھانٹ سے صاف انکار کردیا ہے کہ لیکن کتنی فلمیں ہے جن کی ریلیز کو بھی پابندی لگائی گئی تھیں۔ حال ہی میں جنوبی ہندوستانی فلم ’’شیوم‘‘ کے چار منٹ کے مناظر سینسر بورڈ نے ہٹائے ہیں جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح مسلم ٹیچروں کے ذریعے ہندو مندروں کو توڑا گیا ہے کیونکہ فلم اس مناظر پر مسلم سماج کااعتراض تھا۔’’پی کے‘‘ فلم کی مخالفت تو مسلم مذہبی پیشوا بھی کررہے ہیں۔ لیکن یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ محض پیسے کمانے کے لئے یہ فلم والے ہندوؤں کی مذہبی آستھاؤں کو ہی نشانہ بناتے ہیں مجھے تویہ عامر خاں اب تک سب سے خراب فلم لگی ہے۔ جیسا کے میں نے کہاں اس بارے میں اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے۔

(انل نریندر)

07 جنوری 2015

مایاوتی ’’دلت ‘‘کی نہیں ’’دولت‘‘ کی بیٹی!

بہوجن سماج پارٹی میں ان دنوں حاشیے پر ڈالے گئے کبھی مایاوتی کے بیحد بھروسے مند افراد میں شمار جگل کشور نے بہن جی پر پیسہ لیکر ٹکٹ دینے کا الزام لگایا ہے۔بسپا سے سبھی طرح کی ذمہ داریوں سے ہٹاتے ہی راجیہ سبھاایم پی جگل کشور نے پارٹی کی چیف کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ مایا دلت کی نہیں دولت کی بیٹی ہے۔ پارٹی میں کوئی کام بغیر پیسے کے نہیں ہوتا۔ چناؤ میں ٹکٹ بھی جیب ڈھیلی کرنے پر ہی ملتا ہے جیسا امیدوار ویسی قیمت۔ اسمبلی چناؤکیلئے 50 لاکھ سے 2 کروڑ روپے تک لئے جاتے ہیں۔جگل کشور کا کہنا ہے میں نے اس وصولی کی مخالفت کی تو مجھے پارٹی کی تمام ذمہ داریوں سے آزادکردیا گیا۔ مایاوتی کی برادری سے تعلق رکھنے والے جگل کشور کی اہمیت اسی سے سمجھی جاسکتی ہے کہ وہ بہار اور دہلی کے انچارج ہوا کرتے تھے۔ اس سے پہلے وہ گورکھپور، فیز آباد، دیوی پاٹن اور بستی منڈل کے چیف کو آرڈینیٹر بھی رہے ہیں۔ حالانکہ لوک سبھا چناؤ سے ٹھیک پہلے ان سے یہ ذمہ داری چھین لی گئی تھی۔ جگل کشور کے اس الزام کے جواب میں بہن جی نے کہا جگل کشور اپنے بیٹے کیلئے اسمبلی کا ٹکٹ مانگ رہے تھے۔ میں نے طے کیا ہوا ہے پارٹی میں کنبہ پرستی نہیں چلے گی۔ انہیں منع کیا گیاتو پارٹی مخالف سرگرمیوں میں لگ گئے۔وہ اپنا راستہ الگ اپنارہے ہیں۔ اب ان سے کوئی بات نہیں کرے گا۔ یہ بات مایاوتی نے ایتوار کو پارٹی کے عہدیداران کی میٹنگ میں کہی تھی۔ مئی میں بسپا کے مشرقی اترپردیش کے زونل کوآرڈینیٹر عہدے سے اور سنیچر کو دہلی اور بہار کے پارٹی انچارج کے عہدے سے ہٹائے گئے جگل کشور نے یہ بھی دعوی کیا اگر منصفانہ جانچ ہو تو بسپا کے کئی ممبر اسمبلی مایاوتی کے ذریعے ٹکٹ بیچے جانے کی گواہی دے کر انہیں بے نقاب کرسکتے ہیں۔ مایاوتی کو دنیا کی سب سے امیر ترین سیاستداں بتاتے ہوئے کشور نے کہا پچھلے کچھ عرصے سے ’’دلت مشن‘‘ کو کنارے کر کے ’’منی مشن‘‘ شروع کردیا گیا ہے۔لکھنؤ، نوئیڈا اور دہلی میں بہوجن پریرنا کیندروں کے قیام میں بڑے پیمانے پر گڑبڑیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دلتوں کے خون پسینے کی کمائی سے بنے ان کیندروں کو بعد میں ٹرسٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ خود مایاوتی اور ان کے بھائی آ نند اور قریبی وفادار ستیش چندر مشر اس کے ٹرسٹی بن گئے ہیں۔مایاوتی پر پہلے بھی ایسے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ویسے بسپا اکیلی نہیں ہے جس پر ٹکٹوں کو فروخت کرنے کا الزام لگا ہے۔ دونوں کانگریس اور بھاجپا پر بھی ایسے ہی الزام لگے ہیں۔ ہندوستان کی سیاست میں اب پیسے کا دبدبہ بڑھ چکا ہے۔ بغیر پیسے کے اب کچھ نہیں ہوتا۔ بسپا پچھلے کچھ دنوں سے ہندوستان کی سیاست میں تھوڑا حاشیے پر چلی گئی ہے۔ مایاوتی سے پارٹی کے ایم پی اور سابق ایم پی اب سنبھل نہیں پا رہے ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی کو نئے سرے سے اپنے ووٹ بینک کو جوڑنے کی سنجیدہ کوشش کرنی ہوگی تاکہ اترپردیش کے اگلے اسمبلی چناؤ میں وہ ایک سیاسی طاقت کی شکل میں ابھر سکے۔
(انل نریند)

اوبامہ کے دورے سے پہلے حملوں کی خطرناک آتنکی سازشیں!

پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم امریکی صدر براک اوبامہ کے دورۂ ہند سے پہلے دیش میں بڑا حملہ کرنے کی فراق میں ہے۔ اسی کے چلتے سرحد پر پاکستان کی طرف سے مسلسل فائرنگ جاری ہے۔ خفیہ رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد سمیت کل 8 مقامات پر آتنکی حملہ کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں۔اس سازش میں پاک فوج بھی ان جہادی تنظیموں کا ساتھ دے رہی ہے۔ معلوم ہو کہ براک اوبامہ 26 جنوری کو ہندوستانی یوم جمہوریہ تقریب میں شرکت کرنے کیلئے تشریف لارہے ہیں۔ پاکستان کی اسی پالیسی کا ایک نتیجہ تھا 26/11 جیسے دہشت گرد حملے کی سازش ۔ 1 جنوری کی صبح سویرے ہندوستانی ساحلی دستوں نے پوربندر گجرات سے365 کلو میٹر دور ہندوستانی سمندری سرحد میں گھس پر ایک پاکستانی کشتی کو روکا۔ اس میں دھماکو سامان تھا۔ ساحلی گاڈ کی گھیرا بندی کی وجہ سے کشتی میں سوار چاروں دہشت گردوں سے دھماکہ کر کشتی کو اڑالیا جس سے یہ سمندر میں ڈوب گئی۔ بڑھتے دہشت گردانہ خطرے کے باوجود نریندر مودی سرکار پچھلے 7 مہینوں میں دہشت گردانہ منصوبے کو روکنے میں فی الحال کامیاب رہی ہے۔ سکیورٹی ماہرین اس کا سہرہ ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل اور زبردست جوابی کارروائی کو دیتے ہیں۔ کراچی سے دھماکو سامان سے لدے جہاز کے چلنے کی چھوٹی خفیہ اطلاع کی تصدیق کر کے ساحلی دستوں کو ٹھوس کارروائی کے لائق تفصیل مہیا کرانا اس کی تازہ مثال ہے۔ عرب ساگر میں موجودسینکڑوں جہازوں کے درمیان دہشت گرد اور دھماکو سامان سے بھری کشتی کی پہچان کر اسے روکنے کی کامیابی حیرت کی بات ہے۔ ہم سکیورٹی ایجنسیوں اور خفیہ ایجنسیوں کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہیں۔ اندرونی سلامتی سے وابستہ وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ مودی سرکار کے آنے کے بعددہشت گردی کے خطرے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ پنے اور بینگلورو میں سمی کے دہشت گردوں کو کم طاقت والے دھماکوں کے علاوہ کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ جموں و کشمیر میں بھی فوج کے کیمپ پر حملے کے علاوہ لشکر کے منصوبے کامیاب نہیں ہوپائے۔ گجرات کے ساحل کے قریب پاکستانی کشتی سے آرہے آتنکی منصوبوں کو ناکام کرنے میں برا رول ممبئی حملے سے ملے سبق کا بھی ہے۔ 26/11 کے بعد دیش کی سمندری سرحد پر نگرانی کے لئے وسیع انتظامات کئے گئے۔ ہندوستان نے پچھلے چھ برسوں میں بحریہ اور ساحلی دستوں کے 51 اسٹیشنوں کو جوڑا ہے ساتھ ہی ہندوستانی آبی لائن پر36 راڈاروں کا نیٹ ورک بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر ساحلی پولیس مرکز بنائے گئے ہیں۔ انسانی اطلاعاتی مشینری کو مضبوط کرنے کیلئے بحریہ اور ساحلی فورس کے ساتھ ہی جہاز رانی وزارت نے ساحلی علاقوں میں ہندوستانی ماہی گیروں سے جانکاری حاصل کرنے کا بھی انتظام چست درست کیا ہے۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی فورس کیلئے آنے والے دن چنوتی بھرے ہیں۔ امریکی صدر براہ اوبامہ کے دورۂ ہند پر یہ جہادی تنظیمیں اپنی حرکتوں سے باز آنے والی نہیں ہیں۔ ہمیں پوری تیاری رکھنی ہوگی۔
(انل نریندر) 

06 جنوری 2015

پینسٹھ سالہ ’’یوجنا آیوگ‘‘ اب ’’نیتی آیوگ‘‘!

پچھلے65 سال سے تنازعات میں رہے یوجنا آیوگ کی وداعی کا فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے اعلان کے ساتھ ہی کردیا تھا۔ اس لئے یوجنا آیوگ (پلاننگ کمیشن)کے خاتمے کے بارے میں کسی کو حیرت نہیں ہوئی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مارچ1950 ء میں تشکیل پلاننگ کمیشن نے ابتدائی دہائیوں میںیقینی طور پر بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی ترقی کے اشوپر بہتر کام کیا لیکن اپنے قیام کے کچھ بحران دور میں وہ اپنی اہمیت کو گنوانے لگا تھا۔ وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو اس کے قیام کا احساس اس وقت کے سوویت یونین کی پانچسالہ پلاننگ سسٹم سے ہوا تھا۔لیکن نہرو کے زمانے میں محض پلان بنانے کی ذمہ داری ہی اس کمیشن کو ملی تھی۔اس ادارے نے اپنے قیام کے بعد کافی برسوں تک ایسے اہم ایجنڈے کو لیکر بلندی کی اونچائیاں چھوئیں ۔ یہ مرکزی حکومت کی وزارتوں اور ریاستوں تک فنڈ مختص کرنے اور فراہم کرنے والا ایک طاقتور ادارہ بن گیا۔ ریاستوں کے وزرائے اعلی اس کے دروازے پر دستک پر دستک دیتے رہنا عام ٹرینڈ بن گیا تھا۔ یوجنا آیوگ ریاستوں پر ایک یکساں مرکزی حکمرانی کی طرح کنٹرول کر رہا تھا اور اس کی پالیسیوں اور پلاننگ کو متاثر کررہاتھا۔ بھارت کے فیڈرل سسٹم میں ریاستوں کا اہم رول ہوتا ہے مگر حالت یہ تھی کہ منتخب وزرائے اعلی تک کو اپنی ریاستوں کے مفادات کے لئے پلاننگ کمیشن کے سامنے سر خم کرنا پڑتا تھا۔بیشک یوجنا آیوگ نے 12 ویں پنچسالہ منصوبے پر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے طور طریقے میں بھی تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ حالت یہ ہوگئی تھی کہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان آپسی ٹکراؤ کا سبب بن گیا تھا۔ یوجنا آیوگ (پلاننگ کمیشن) کا نام بھی وزیر اعظم نے بدل دیا ہے۔ اب اس کا نام نیشنل انسٹی ٹیوشن فار ٹرانسفارمنگ انڈیا(نیتی آیوگ) نام کے اس ادارے میں مختلف سیکٹروں سے پانچ ماہرین ممبر ہوں گے۔ چار مرکزی وزرا بھی اس میں شامل ہوں گے۔ بہرحال دیکھنے کا اصلی اشو یہ ہے کہ نئے ادارے کے وجود میں آنے سے اس کے طریقہ کار اور ترقی کی سمت میں کیا فرق دکھائی پڑتا ہے؟ نئے ادارے کو شکل دینے کے اشو پر پچھلے مہینے وزرائے اعلی کے ساتھ میٹنگ میں وزیر اعظم نے ٹیم انڈیا کے جذبے پرزوردیا۔ نریندرمودی کی یہ بات وزیر اعلی کو بہت بھا گئی کہ ترقیاتی اسکیمیں بنانے میں ریاستوں کو زیادہ رول ملنا چاہئے۔ اس کے باوجود نئے ادارے کے ڈھانچے اور دائرہ کار کو لیکر وزرائے اعلی میں رضامندی نہیں بن پائی تھی۔ کئی اپوزیشن وزرائے اعلی چاہتے تھے کہ یوجنا آیوگ ختم کرنے کے بجائے اس کے دائرہ کار اور طریقہ کار میں تبدیلی لائی جائے۔ نتیجتاً نیتی آیوگ کا آغاز تنازعات کے بیچ ہی ہورہا ہے۔ اس کے چیئرمین جہاں وزیر اعظم خود ہوں گے وہیں اس کے وائس چیئرمین کے لئے دنیا میں ماہراقتصادیات کو تلاش کیا جارہا ہے۔مودی کی اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر ریاست کو اپنی خاص دشواریوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور ترقی کا ایک خاکہ ہر کسی کو راس آجائے یہ ممکن نہیں ہے۔ اس لئے نیتی آیوگ میں ہر ریاست کی نمائندگی اور اس کے پیچیدہ مسائل کو الگ طریقے سے حل کرنے کے اقدام اٹھائے گا۔ نیتی آیوگ میں ٹیم انڈیا کی جھلک تو ملتی ہے لیکن صرف نام بدلا ہے یا کام کا انداز بھی۔۔۔ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا؟
(انل نریندر)

پاکستان بھارت کوضمنی جنگ کی طرف جھونک رہا ہے!

نئے سال کے موقعہ پر جب ساری دنیا میں نیا سال آنے کی خوشیاں منائی جارہی تھیں تب پاکستانی فوجی جموں و کشمیر میں ہمارے فوجیوں پرگولیوں کی بوچھار کررہے تھے۔جموں و کشمیر چناؤ میں علیحدگی پسندوں کو ٹھینگا دکھا کر کشمیری عوام کی چناؤمیں شاندار حصے داری اور وادی میں جمہوریت کی مضبوط ہوتی جڑوں سے پریشان پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اپنی کشمیر پالیسی میں لگتا ہے بڑی تبدیلی لارہی ہے۔ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں نے سرکار کو خبردار کیا ہے کہ اس کامیاب چناؤ کے بعد ریاست میں ایک مضبوط اور پائیدار حکومت نہیں بن پائی تو پاکستان کی طرف سے وادی میں نئے پیچیدہ حالات خراب کرنے میں مدد ملے گی۔انٹیلی جنس بیورو کے قریب ترین ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 1987ء کے چناؤ میں دھاندلی کے الزامات اور جمہوریت کے ناکام تجربے نے پاکستان کو وادی میں دہشت گردی کی جڑیں جمانے کا موقعہ دے دیا تھا۔ اب اتنی مشقت کے بعد2014ء میں آزادانہ اور منصفانہ اور زبردست جوش کے ساتھ ہوئے چناؤ نے کشمیر وادی میں نئی امید کی کرن پیدا کی ہے۔دہشت گردی اور علیحدگی پسندی سے تنگ آچکے لوگوں نے پھر سے گولی کی جگہ ووٹ کا سہارا لیا ہے۔ یہ ہندوستانی جمہوریت اور چناؤ کمیشن و خفیہ ایجنسیوں کی بڑی کامیابی ہے اب اگر ریاست اور مرکزی سرکار کو دھوکے کا احساس ہوا تو پھر ووٹ کی جگہ گولی لانے کی پاکستان ہر ممکن کوشش کرے گا۔ پاکستان کی پالیسی صاف ہے کہ وہ نہ خود چین سے رہنا چاہتا ہے اور نہ ہی اوروں کو رہنے دینا چاہے گا۔ یا تو اس نے مان لیا ہے کہ سرحد پر کشیدگی برقرار رکھ کر وہ اپنے مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے میں کامیاب ہوسکتا ہے یا پھر اسے یہ نہیں سجھ میں آرہا ہے کہ بھارت سے کیسے نمٹا جائے؟ سچ تو یہ ہے کہ سرحد پار رہ رہ کر فائرنگ کرنا ایک نہایت ہی پاگل پن اور بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف سرحد پر مسلسل فائرنگ اور دوسری طرف26/11 جیسا دہشت گردانہ حملے کو دوہرانے کی خطرناک سازش ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان لگتا ہے بھارت کو ایک بڑی جنگ کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ یہ تو ہندوستانی ساحلی دستوں نے دہشت گردانہ حملے کی سازش کو ناکام کردیا ہے اور اس ماہی گیر کی بورڈ کو جس میں دہشت گرد گولہ بارود بھرا ہوا تھا، نے مجبور ہوکر اپنی کشتی کو اڑادیا نہیں تو پتہ نہیں کیا ہوتا؟ لائن آف کنٹرول اور جموں وکشمیر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود بار بار خطرناک حملے ہورہے ہیں۔ان سے صاف مطلب نکلتا ہے بھارت کو پاکستان کے ساتھ ایک اور جنگ لڑنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ متبادل سامنے رکھنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ ان میں سے کسی بھی متبادل کا استعمال کرنے کے ساتھ بھارت کو پاکستان کی طرف سے چھیڑی جانے والی بھرپور لڑائے کا سامنا کرنا ہوگا۔ حالانکہ اگر بھارت ۔ پاک میں مکمل جنگ ہوتی ہے تو دونوں ملکوں کو بھاری نقصان اٹھانا ہوگا لیکن سمجھ میں نہیں آرہا ہے پاکستان اپنی حرکتوں سے باز کیوں نہیں آرہا ہے؟ بھارت کے سامنے اس کے علاوہ اور کوئی متبادل نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے ذریعے چھیڑی گئی غیر اعلانیہ جنگ کا منہ توڑ جواب دے۔ اس معاملے میں صبر کا ثبوت دینے کا اب کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے۔
(انل نریندر)

04 جنوری 2015

امت شاہ کو کلین چٹ سے بوکھلا گئے مبینہ سیکولر نیتا!

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر امت شاہ کو سہراب الدین شیخ اور تلسی پرجا پتی کے فرضی مڈ بھیڑ معاملے میں سی بی آئی عدالت نے بری کر ایک بڑی راحت دی ہے۔یہ فیصلہ امت شاہ کے سیاسی کیریئر کے لئے ایک اہم فیصلہ ہے۔ صدر بننے کے بعد سے ایک کے بعد ایک سیاسی کامیابیوں کے درمیان قانونی مورچے پر ملی راحت سے امت شاہ نے بڑی راحت محسوس کی ہوگی۔ سی بی آئی کورٹ نے منگلوار کو امت شاہ کو راحت دیتے ہوئے کہا کہ گواہوں کا جو بیان درج کیا گیا وہ اتنا مضبوط نہیں ہے کہ شاہ کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکے۔ عدالت نے مانا کہ سی بی آئی اس معاملے میں سبھی کال ریکارڈ نہیں جٹا سکی۔اس کی جانچ بات چیت کے بنا ہی چلتی رہی۔ اسپیشل سی بی آئی جج ایم ۔ بی۔ گوسوامی نے کہا کہ سی بی آئی اس کیس میں رباب الدین شیخ ، نعیم الدین اور دیگر کے بیانوں پر ہی بھروسہ کرتی رہی، پر ان کے بیان اس معاملے میں امت شاہ کو پھنسانے کیلئے مناسب نہیں ہیں۔ جج نے آگے کہا کہ اس معاملے میں اے ڈی جی پی کا بیان، کہ انہوں نے بیٹھک میں غیر قانونی ہدایات کو ماننے سے انکارکردیا، بھی شاہ کو پھنسانے کیلئے پورا نہیں ہے۔ الزام تھا کہ امت شاہ کے گجرات کے وزیر داخلہ رہتے سہراب الدین اور تلسی پرجاپتی کی سازشاً فرضی مڈ بھیڑ میں ہتیا کردی گئی تھی۔حالانکہ گجرات کی پولیس اور سرکشا ایجنسیاں شروع سے ہی کہہ رہی تھیں کہ دونوں ہی قانون و انتظام کیلئے خطرہ تھے۔ پولیس کے ساتھ مڈ بھیڑ میں ان کو مار گرایا گیا تھا لیکن کانگریس اور غیر ملکی پیسوں سے این جی او چلانے کے الزاموں سے گہری تیستاسیتلواڑ جیسے لوگ نریندر مودی اور امت شاہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چوک رہے تھے۔ مودی کو تو موت کا سوداگر کہہ کر ان کو مسلموں کا دشمن اور فرقہ پرستی کی علامت ٹھہرانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی گئی۔ کورٹ کے فیصلے کے بعد ان سب کا جھوٹ سامنے آگیا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد یہ طے ہوگیا ہے کہ مودی اور شاہ پر جو بھی الزام لگائے گئے وہ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت سیاسی مفاد میں لگائے گئے تھے۔ ایک بار پھر ان مبینہ سیکولر نیتاؤں کا جھوٹ اجاگر ہوا ہے لیکن یہ لوگ باز آنے والے نہیں۔ سہراب الدین کے خاندان نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کی بات کہی ہے تو کانگریس ،کمیونسٹ پارٹی ، ترنمول کانگریس اور آپ نے امت شاہ کو کلین چٹ ملنے کے لئے جانچ ایجنسی کو کمزور پیروی کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اس پر مودی سرکار کے دباؤ میں کام کرنے کا الزام لگایا۔ کانگریس نیتا سنجے نروپم نے کہا کہ جو بھاجپا سی بی آئی پر یہ الزام لگاتی تھی کہ وہ کانگریس کی گود میں بیٹھی ہے وہی بھاجپا آج سی بی آئی کا غلط استعمال کررہی ہے۔جس سی بی آئی نے امت شاہ پر فرضی مڈ بھیڑ کا معاملہ چلایا تھا اس کے وکیل نے معاملے پر محض 15 منٹ ہی بحث کی۔ وہیں وکیل دفاع نے تین گھنٹے تک بحث کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرکار کی جانب سے سی بی آئی کے وکیل کو خاموش رہنے کی ہدایت تھی۔ ماکپا نیتا سیتا رام یچوری نے بھی سی بی آئی کی ساکھ پر شک جتایا۔ ٹی ایم سی ممبر پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ ہم تو پہلے سے ہی کہہ چکے ہیں کہ سی بی آئی کا ساکھ ختم ہورہی ہے۔ وزیر مال ارون جیٹلی نے خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ بنا کسی ثبوت اور بنیاد کے امت شاہ کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ ایسا یو پی اے سرکار کے دباؤ میں سی بی آئی نے کیا تھا۔ اس کا خلاصہ سی بی آئی فائل میں کی گئی نوٹنگ سے صاف ہے۔اس میں کہا گیا تھا کہ امت شاہ پر چارج شیٹ داخل کرنا ضروری ہے تاکہ نریندر مودی کو اس معاملے میں پھنسایا جاسکے۔ حالانکہ مخالف اب سی بی آئی پر کیس کمزور کرنے کا الزام لگا رہے ہیں جبکہ معاملہ یوپی اے سرکار کے وقت ہی جانچ ایجنسی کو دیا گیا تھا۔ اس نے باریکی سے جانچ پڑتال کر عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔ قانون نے اپنا کام کیا ، کم سے کم کانگریس کو تو سی بی آئی پر سوال داغنے کا حق نہیں ہے۔ اس کی سرکار کے وقت سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو کئی بار کڑی پھٹکار لگائی۔ یہاں تک کہ اسے عدالت نے ’پنجرے میں بند طوطا‘ تک کہا۔
(انل نریندر)

امریکی تاریخ کی سب سے زیادہ لمبی جنگ ختم!

امریکہ اور نیٹو نے آخر کار افغانستان میں13 سال سے طالبان کے خلاف اپنی مہم کو گذشتہ ایتوار کو سرکاری طور سے ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ ایتوار کو ایک تقریب میں اینٹر نیشنل سکیورٹی اسسٹنٹ فورس (آئی ایس ایف) کے کمانڈر جنرل جان کیمپ ویل نے فوجی تنظیم کے جھنڈوں کو اتارکر مہم کے خاتمے کا اعلان کیا۔ امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 11 ستمبر2001 ء میں ہوئے آتنک وادی حملے کے بعد امریکہ کی رہنمائی میں ناٹو نے طالبان سرکار کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا تھا۔ یکم جنوری2015ء سے اب افغانستان میں ایک بین الاقوامی مشن کے تحت آئی ایس اے ایف کے صرف12500 فوجی افغان حفاظتی فورس کی تربیت اور مدد کے لئے رکے رہیں گے جن میں11 ہزار امریکی فوجی ہیں۔ قریب 50 دیشوں کے فوجیوں نے جب2001ء میں افغانستان میں جنگ شروع کی تھی تو آئی ایس اے ایف بنائی گئی تھی۔
افغان جنگ میں مبینہ طور پر ساڑھے تین ہزار بین الاقوامی فوجی مارے گئے تھے جس میں دوتہائی امریکی فوجی تھے۔ سال 2011ء میں بین الاقوامی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر سب سے زیادہ 1 لاکھ40 ہزار ہوگئی تھی جس میں 1 لاکھ 1 ہزار امریکی فوجی تھے۔ امریکہ اور ناٹو فوجیوں کے ہٹنے کے بعد افغانستان سرکار کے خلاف طالبان کے حملے بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ویسے بھی گذشتہ ایک سال سے طالبانیوں کے حملے بہت بڑھ گئے ہیں۔ 13 سالوں میں افغان جنگ میں جتنے بین الاقوامی فوجی مارے گئے اس سے زیادہ پچھلے10 مہینے میں طالبانیوں کے حملے سے افغان حفاظتی فورس کے جوان مارے گئے ہیں۔افغان طالبان نے یہ اعلان کرکے آنے والے دنوں میں ٹکراؤ کے نئے اندیشوں کو ہوا دی ہے کہ غیر ملکی فوجوں کے جانے کے بعد افغانستان میں خالص اسلامی سسٹم لاگو کرے گا۔ ایتوار کو بین الاقوامی امدادی تحفظاتی فورس کے فوجی مشن کو ختم کرنے کے اعلان پر طالبان نے کہا کہ ناٹو بل ہار گئے ہیں اور بیتے13 سالوں میں کچھ حاصل کئے بنا ہی انہوں نے اپنا جھنڈا لپیٹ لیا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ باقی بچے حملہ آوروں کو کھڈیڑ کر ایک خالص اسلامی ریاست کا قیام کریں گے۔ ایسے میں یہ سب سے بڑا سوال ہے کہ کیا افغانستان میں پھر سے طالبان کا قبضہ ہوگا؟ لگاتار جنگ نے افغانستان کی معاشیات کو پنگو بنا دیا ہے۔ طالبان حملے نے اس کے اس سنکٹ کو اور بڑھا دیا ہے۔غنیمت یہ ہی ہے کہ پاکستان کے پیشاور میں واقعہ آرمی اسکول پر حملے کے بعد سے طالبان طاقتوں کے خلاف پاک سینا گمبھیر ہوئی ہے۔ ابھی تک تو یہ تھا کہ پاکستان کی فوج افغانستان کے خلاف چھپی جنگ کیلئے طالبانیوں کو مدد دے رہی تھی۔ گذشتہ20 سالوں سے افغانستان میں بغاوت اور قتل عام کے لئے پاکستانی فوج ہی ذمہ دار رہی۔ پاک سینا لشکر اور دیگر خونخوار جہادی تنظیموں کے ذریعے بھارت کے خلاف جس طرح سے خونی کھیل کو انجام دے رہی تھی ٹھیک ویسا ہی کھیل وہ طالبان آتنک وادیوں کے ذریعے افغانستان میں کھیل رہی تھی۔ اگر افغانستان میں طالبان مضبوط ہوتا ہے تو اس کا بھارت اور پاکستان دونوں پر اثر پڑے گا۔ افغان سرکار اور بھارت سرکار کو آنے والے دنوں میں اور چوکس رہنا ہوگا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...