Translater

10 نومبر 2012

یہ گینگ آف ناگپور بھاجپا کو چلنے نہیں دے گا


نتن گڈکری معاملے کو لیکر آر ایس ایس اور بھاجپا کی اندرونی کھینچ تان ٹکراؤ کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دراصل اشو یہ نہیں رہا کہ گڈکری قصوروار ہیں یا نہیں ، انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے یا نہیں۔ اشو یہ ہے کہ آر ایس ایس ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک آزاد سیاسی پارٹی کی طرح چلنے بھی دے گی یا نہیں؟ اس سلسلے میں مجھے ایک پرانی کہاوت یاد آرہی ہے۔ کافی وقت پہلے کی بات ہے کہ سنگھ کے چیف شاید وہ گوروگولویکر تھے، نے کہا تھا کہ بھاجپا سنگھ کے لئے گاجر کی پنگی ہے۔ جب تک بجے بجاؤ اور نہ بجے تو کھا جاؤ۔ آج ٹھیک یہ ہی حالت بھاجپا اور سنگھ کے درمیان نتن گڈکری کو لیکر دکھائی پڑتی ہے۔ پارٹی پر ایک بار پھر سنکٹ دکھائی پڑنے لگا ہے اس کے لئے وہ کسی اور کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتی۔ موجودہ حالات میں سیاسی طور سے گڈکری کا بچاؤ کرنا کتنا مشکل ہوگیا ہے یہ اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ان کے ایک بے تکے بیان نے پارٹی کے لئے بونڈر کھڑا کردیا ہے۔ پہلے محض رام جیٹھ ملانی مخالفت کررہے تھے لیکن اب تو بھاجپا میں کھلی بغاوت دکھائی پڑتی ہے۔ بھاجپا لیڈر شپ کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ کانگریس نہیں ہے جہاں گاندھی پریوار کا فیصلہ آخری ہوتا ہے۔ یہاں سنگھ کا فیصلہ آخری ہوتا ہے۔ سبھی تو الزامات کے باوجود آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت، نتن گڈکری کو زبردستی کلین چٹ دینے پرتلے ہوئے ہیں۔ اگرچہ سنگھ کا کوئی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ مالی تکنیک کی بنیاد پر یہ ثابت کردے کے نتن گڈکری نے کوئی مالی گڑ بڑی نہیں کی ہے تو اسکا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ گڈکری پاک صاف ثابت ہوگئے ہیں۔ مالی مبصرین تکنیکی بنیاد پر کارپوریٹ گڑبڑیاں نکالتے و چھپاتے ہیں جبکہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بیلنس شیٹ بنانے کے لئے کیسے کیسے ہتھکنڈے اپناتے ہیں یہ سب کو پتہ ہے، اس لئے سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر گڈکری کا کھاتہ صحیح ہے تو وہ ان کی سرکاری ایجنسیوں کی جانچ رپورٹ کا انتظارکرنے سے کیوں گھبراتے ہیں۔اگر گڈکری اور آر ایس ایس میں اتنی ہی خود اعتمادی ہوتی تو اسے خود صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر جانچ ایجنسیوں کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے تھا۔ آخر یہ ہی الزام تو بھاجپا اور آر ایس ایس ملزم کانگریسی لیڈروں پر لگاتے آئے ہیں۔ ہمیں شری لال کرشن اڈوانی، جسونت سنگھ، یشونت سنہا کی مشکل سمجھ سکتے ہیں۔ بھاجپا لیڈرشپ نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کو لیکر رسوئی گیس اور ہیرالڈ ہاؤس تنازعہ اور رابرٹ واڈرا معاملے اٹھانے کی زبردست تیاری کررکھی تھی۔ پارٹی کے نیتاؤں نے جگہ جگہ اس کا اعلان بھی کیا ہے مگر اب گڈکری کے خلاف بنے ماحول سے اپوزیشن کے حملوں کی دھار خود کند پڑ سکتی ہے کیونکہ گڈکری کے خلاف پارٹی کے اندر بھی بغاوت چھڑ گئی ہے لہٰذا پارٹی کی حالت اور کمزور ہوئی ہے۔
ذرائع کی مانیں تو کانگریس پارٹی بھی نہیں چاہتی کہ پارلیمنٹ اجلاس سے پہلے گڈکری عہدہ چھوڑیں۔ یوپی اے سرکار کام کاج اور ساکھ بدلنے کے لحاظ سے پارلیمنٹ کے اجلاس کو لیکر کافی امیدیں لگائے ہوئے ہے۔ سرکار کے حکمت عملی ساز ہر حال میں سیشن کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں تاکہ بجٹ اجلاس تک ماحول کچھ بہتر ہوسکے۔ کیبنٹ میں توسیع کا بھی یہی مقصد ہے۔ 
یہ تو اب صاف ہوچکا ہے کہ نتن گڈکری کو سنگھ کا خاص آشیرواد حاصل ہے۔ ناگپور کی خاص ہدایت کے چلتے ہی مہاراشٹر کے علاقائی سطح کے لیڈر گڈکری اچانک پارٹی کے سینئر عہدے پر تین سال پہلے بٹھا دئے گئے تھے ۔ ان کے طریقہ کار کو لیکر پارٹی کے اندر پہلے دن سے ہی جھگڑا تھا۔ پھر بھی سنگھ کی خواہش کو دیکھ کر انہیں صدر کے طور پر دوسری میعاد دینے کی تیاری بھی پوری ہوچکی ہے۔ اس کے لئے پارٹی نے پچھلے دنوں اپنے آئین میں ضروری ترمیم تک کر ڈالی تھی تاکہ گڈکری کے راستے کی یہ تکنیکی پریشانی دور ہوجائے۔ جنتا اکثر یہ سوال پوچھتی ہے کہ بھاجپا۔ کانگریس کی اتنی قابل رحم حالت ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ایک متبادل کے طور پر پیش کیوں نہیں کرپاتی؟ موجودہ ماحول میں آج کوئی بھی یہ کہنے کو تیار نہیں ’بھاجپا کو لاؤ دیش بچاؤ‘ آخر کیوں؟ اس کی میری رائے میں ایک بہت بڑی وجہ ہے سنگھ کی دخل اندازی۔ سنگھ ۔بھاجپا کو چلنے نہیں دیتا۔ کم سے کم ایک سیاسی پارٹی کے ڈھنگ سے نہیں تبھی تو ایک صنعت کارکا اس بے شرمی سے بچاؤ کیا جارہا ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ سنگھ بھی اب لالچ میں پڑ گیا ہے اور گڈکری اس کاذریعہ بن گئے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ 6 ریاستوں میں شاندار حکومت چلانے کے باوجودبھاجپا آج کانگریس کا متبادل نہیں بن پا رہی ہے۔ بلاشبہ الزام لگانے سے محض گڈکری یا کوئی قصوروار نہیں ہوسکتا لیکن آپ کس کس کو سمجھائیں گے گڈکری کے پورتی گروپ کو لیکر جو تمام الزامات ان پر لگ رہے ہیں وہ بے بنیاد ہیں؟ اخلاقیات کا تقاضہ تو یہ کہتا ہے کہ سیاست کے اعلی عہدوں پر بیٹھے لوگ سنجیدگی سے الزام لگانے کے باوجود بے قصوروثابت ہونے تک اپنا عہدہ چھوڑ دیتے ہیں۔ بھاجپا میں اس کی روایات بھی ہے۔ خود لال کرشن اڈوانی نے حوالہ کانڈ میں نام آنے پر ایسا ہی کیا تھا۔ مدن لال کھرانہ، اوبامہ بھارتی نے بھی یہ ہی کیا تھا۔ اس کھینچ تان میں سنگھ بے نقاب ہوگیا ہے۔ سنگھ کے دباؤ میں سشما سوراج، ارون جیٹلی جیسے بڑبولے لیڈر بھاجپا نیتا میدان میں اترے لیکن اڈوانی نے ان میں شامل نہ ہوکر اپنی مخالفت جتا دی تھی۔ یہ ہی نہیں سنگھ کا نظریاتی چہرہ بھی سامنے آگیا ہے۔ 
آخر ایسی کیا وجہ تھی کہ آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کو گڈکری کو بچانے کے لئے خود میدان میں کودنا پڑا؟ آر ایس ایس نے تو ایسا پہلے کبھی نہیں کیا؟ ہمارا خیال تو اب یہ ہے کہ بھاجپا کو اگر بطور ایک سیاسی پارٹی آگے چلنا ہے تو آر ایس ایس کی دخل اندازی پوری طرح سے ختم کرنی ہوگی۔ آر ایس ایس کا قیام سیاست کرنے کے لئے نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ کام کرے جس کے لئے وہ اپنے وجود میں آئی تھی۔ اس گینگ آف ناگپور سے پنڈ چھڑانا ہی ہوگا۔
(انل نریندر)

09 نومبر 2012

کرشمائی اوبامہ نے اپنا جلوہ پھر دکھایا


براک اوبامہ نے بدھ کے روز اپنے ریپبلکن پارٹی حریف مٹ رومنی کے خلاف شاندار جیت درج کی ہے اور اقتصادی تشویشات کے درمیان دوسری بار امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے۔ بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات کے حمایتی اوبامہ پہلے سیاہ فام امریکی ہیں جو وائٹ ہاؤس تک پہنچے تھے۔ وہ انتہائی تلخ اور مہنگی چناؤ مہم کے بعد آسانی سے جیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ سخت مقابلے میں کافی کم ووٹوں سے ہونے والے فیصلے کے قبل از وقت جائزوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے اوبامہ کو ورجینیا، مشیگن، وسکانسن، کولارائیڈو، لوبا، اوہیو اور نیوہیمپ شائر میں پہلے مرحلے کے مقابلے کے بعد کافی ووٹ ملے۔ انہیں 535 الیکٹرول کالج میں سے303 ووٹ ملے جبکہ رومنی کو محض206 ہی ووٹ مل سکے۔ چناؤ سے پہلے آئے جائزوں میں کانٹے کی ٹکر بتائی جارہی تھی۔ امریکی میگزین والااسٹریٹ جنرل نے تو پولنگ ہونے سے پہلے ہی پیشگوئی کردی تھی کہ مٹ رومنی جیت رہے ہیں۔خود مٹ رومنی نے اپنی جیت کی تقریر بھی تیار کرلی تھی لیکن جب یہ فیصلہ آیا کہ اوہیونے براک اوبامہ کو چناہے، تب پاسا پلٹنا شروع ہوگیا۔ ٹھیک ایک منٹ کے اندر پوری دنیا جان گئی کہ51 سال براک حسین اوبامہ اب چار سال کے لئے پھر سے وائٹ ہاؤس اور دنیا کے سب سے اہم ترین ملک کا تاج سنبھالیں گے۔ ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی کے ساتھ اس قریبی مقابلے میں بازی انہی کی ریاستوں نے پلٹ دی جنہیں جیت ہار طے کرنی تھی لیکن اوہیو، فلوریڈا، ورجینیا کے چناؤ میں ہار جیت صرف ایک دو فیصد ووٹ کے فرق سے ہوئی۔ مقبولیت کے ووٹ بھی اوبامہ کی بڑھت ایک فیصدی رہی۔ براک اوبامہ کی یہ دوسری جیت افریقی ۔لاطینی امریکہ، ایشیائی شہری گورے درمیانے طبقے کے ووٹ سے آئی۔امریکی سیاست کے روایت کے مطابق بوسٹن میں رومنی نے ہار قبول کرلی تھی اور اوبامہ کو مبارکباد دی۔ ہارنے کے بعد مٹ رومنی نے دیش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک پیغام میں کہا ’’دیش نے کسی اور لیڈر کو چنا ہے اور میں اپنی بیوی اور آپ سب کے ساتھ مل کر نئے صدر اور امریکہ کے لئے دعا کرتاہوں، دیش ایک مشکل دور سے گذر رہا ہے۔ یہ وقت پارٹی لائن کے مفادات اور سیاسی نعروں کا نہیں ، میں امریکہ میں بھروسہ رکھتا ہوں، امریکی عوام میں بھروسہ رکھتا ہوں، میں نے اس لئے چناؤ لڑا کیونکہ میں امریکہ کے لئے فکر مند ہوں۔ اب چناؤ ختم ہوگئے ہیں لیکن ہمارے اصول ابھی برقرار ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے اصول ہی ہمارے لئے راہ عمل ہوں گے۔‘‘ 
امریکہ میں صدارتی چناؤ کو لیکر کانٹے کی ٹکر میں دراصل اوبامہ شروع سے ہی فائدے میں دکھائی دے رہے تھے۔ فائدہ یہ تھا کہ وہ امریکہ کے موجود صدر ہیں اور امریکی عوام اپنے کمانڈر انچیف کو ہٹانے کیلئے تاریخی طور سے مایوس رہی ہے۔ووٹر کبھی کبھی کسی اہم شخصیت پر داؤ کھیلتے ہیں اور اس کے لئے ووٹروں کو راضی کرنا ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی کے لئے ایک مشکل کام رہا۔ رومنی کو ایک ایسے صدر کے خلاف لڑائی لڑنے تھی جو خراب امریکی معیشت کے باوجود مقبول بنا ہوا تھا۔ حقیقت میں اگر ہم امریکی صدارتی چناؤ پر نظر ڈالیں تو دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے اب تک صرف تین صدور کو ہی چناؤ میں ہار ملی ہے۔ یہ تینوں صدر ہیں رونالڈ ریگن، جمی گارٹر(1980) ، جارج ایچ ڈبلیو بش(1992)، اس میں سے دو کے پاس ویسے بھی کوئی مینڈیٹ نہیں تھا۔ کوئی صدر ریچرڈ نکسن کے ماتحت نائب صدر تھے اور نکسن کے استعفے کے بعد وہ صدر بن گئے۔ وہ کبھی مینڈیٹ کا مقابلہ نہیں کرپائے کیونکہ انہوں نے قومیت کے لئے کبھی کوئی چناوی عمل کامقابلہ نہیں کیا۔ سابق نائب صدر جارج ایچ ڈبلیو بش اپنے سابق باس صدر رونالڈ ریگن کے حمایتیوں پر منحصر تھے اور یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ انہیں کرشمائی بل کلنٹن کا ایسے وقت میں سامناکرنا پڑا جب سرد جنگ کا خاتمہ ہوا ہی تھا اور ایک نئی معیشت میں ٹیکنالوجی سیکٹر کی شروعات ہوئی تھی۔ صرف جمی کارٹر ہی ایک واحد ایسے صدر تھے جن کے پاس حقیقت میں حمایت کی بنیاد تھی۔ لیکن رونالڈ ریگن کے ہاتھوں وہ آخر کار ہار گئے جو جنگ کے بعد سب سے کرشمائی صدر تھے۔اوبامہ نے نہ تو جمی کارٹر ،نہ جارج بش یا گرالڈفورڈ کا مقابلہ کیا۔اوبامہ کسی سابق باس کے بل پر کبھی منتخب نہیں ہوئے۔ وہ ایک کرشمائی اور ایک اچھے مقرر ہیں اور تمام امریکیوں کے مسلسل پسندیدہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں انہیں ہرانا اتنا آسان نہیں تھا۔ ہم صدر براک اوبامہ کو مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں بھارت اور امریکہ کے آپس میں رشتے اور مضبوط ہوں گے۔
(انل نریندر)

گؤہتیا روکنے کیلئے مسلم سماج کی پہل


گؤ ہتیاپر پابندی لگانے کے لئے ہمارا سادھو سماج تو اکثر جدوجہد کرتا ہی رہا ہے لیکن جب ہمارے مسلمان بھائی اس کا بیڑا اٹھائیں تو اچھا لگتا ہے اور ان کا شکرگذار ہونا چاہئے۔ ایسا ہی ایک واقعہ سہارنپور میں ہوا۔ سہارنپور ضلع میں روزانہ بڑھ رہے گائے کاٹنے کے واقعات سے پریشان دیوبند کے بنہیڑا گاؤں کے مسلم سماج کے لوگوں نے حال ہی میں وہاں پنچایت بلا کر گائے کاٹنے والوں کے خلاف کئے گئے فیصلے پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔دیہاتیوں نے گرام پردھان راؤ افضل کی رہنمائی میں گاؤں میں ہی گائے کشی کے لئے لے جارہے دو اسمگلروں کو گائے کے ساتھ دبوچ لیا اور ان کی زبردست دھنائی کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کردیا۔ پکڑے گئے 9 اسمگلروں نے پوچھ تاچھ کے دوران اپنا نام جانی ولد باؤ ، گلاب ولد ہریا، باشندہ کپوری گووند پور بتایا ہے۔ گائیوں کو وہ بھاما پور گاؤں سے خرید موضع بنہیڑا میں بیچنے کے لئے لائے تھے اور گاؤں کے ہی ایک شخص نے ان کو بیچنے کے لئے سودا بھی کرلیا تھا لیکن پنچایت کے فیصلے کے پیش نظر اس شخص نے فوراً اس کی اطلاع دیہاتیوں کو دے دی جس سے وہ پکڑے گئے۔ گرام پردھان راؤ افضل، راؤ آشورانا، راؤ شفاقت، راؤ اسلم، راؤ نیک محمد، ڈاکٹر فرمان علی، کلبیر ،دیانند، سریندر پردھان اور راؤ غلام جہاں وغیرہ نے بتایا کہ یہ دونوں اسمگلر گاؤں کے جس شخص کو گائے بیچنے آئے تھے اس نے جرمانے کے ڈر سے انہیں اس کی خبر دے دی۔جس کے بعد انہیں دبوچ لیا گیا۔ ضلع میں مسلسل بڑھ رہی گائیوں کی کٹائی کے واقعات پر مکمل پابندی لگانے کے مقصد سے حال ہی میں موضع بنہیڑا میں 20 گاؤں کے لوگوں کی مہا پنچایت میں اتفاق رائے سے یہ فیصلہ لیاگیا اگر کوئی گائے کی قربانی کرتا پکڑا گیا تو اس کی پٹائی کے ساتھ ساتھ اس پر 10 ہزار روپے جرمانہ بھی لگایا جائے گا۔ مہا پنچایت کے لوگوں نے مسلمانوں کو اپنی گائے نہ بیچنے کی اپیل بھی کی تھی۔ ادھر موضع بنہیڑا کے بعد اب علاقے کے گھاتمپور کے مسلمانوں نے بھی پنچایت بلا کر گائیوں کی قربانی کے خلاف اپنا مورچہ کھولتے ہوئے ان کا سماجی بائیکاٹ کرنے اور گائیوں کی اسمگلنگ کو پکڑوانے میں پولیس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گاؤں سے مدرسے میں سرپنچ ایوب حسن کی صدارت میں ہوئی پنچایت میں فیصلہ لیا گیا کہ مسلم سماج کے لوگوں کو گائے کشی روکنے کے ساتھ ساتھ گائے کشی کرنے والوں کا پتہ چلنے پر اس کی اطلاع فوراً پولیس کو دینے کا کام کریں گے۔ پنچایب میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص گؤ کشی کرنے والے کی مدد کرے گا تو اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ جہاں ہم مسلم سماج میں گؤ کشی روکنے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہیں وہیں یہ بھی کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ سڑکوں پر آوارہ گائے کو صحیح او محفوظ رکھنے کے لئے انہیں بھر پیٹ کھانے کیلئے چارہ دینے کا انتظام کریں یا کررہے ہیں کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم بھی گؤ ماتا کی حفاظت میں اپنا یوگدان دیں۔
(انل نریندر)

08 نومبر 2012

الہ آباد ہائی کورٹ نے دی بہن جی کو بڑی راحت


پیر کا دن بسپا چیف مایاوتی کے لئے انتہائی خوشی کی خبر لے کر آیا۔پیر کو ان کو ایک بڑی راحت مل گئی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے سرخیوں میں چھائے تاج کوریڈور معاملے میں بہن جی کے خلاف دائر آدھی درجن عرضیوں کو خارج کردیا۔ قابل ذکر ہے کہ 2002ء میں اس وقت کی وزیر اعلی مایاوتی پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے آگرہ میں واقع تاج محل کے پاس غلط طریقے سے کئی تعمیرات کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس معاملے میں175 کروڑ روپے کی مالی دھاندلی کا الزام بھی لگا تھا۔اس معاملے کو لیکر 2005 ء میں سی بی آئی نے مایاوتی کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ اس معاملے میں بہن جی کے قریبی ساتھی نسیم الدین صدیقی بھی زد میں آگئے تھے۔ 2007ء میں اترپردیش کے گورنر ٹی راجیشور نے مایاوتی کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دینے سے انکا کردیا تھا۔ انہوں نے اپنے حکم میں لکھا تھا کہ اس معاملے میں مقدمہ چلانے لائق حقائق نہیں دکھائی پڑتے۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا۔ اس نے یہ ہی کہا تھا کہ عرضی گذار ہائی کورٹ میں اپنی درخواست لگائے۔2009ء میں لوک سبھا چناؤ کے دور میں 6-7 لوگوں نے ہائی کورٹ میں مایاوتی کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دئے جانے کے لئے عرضیا ں دائر کی تھیں لیکن پیر کو ہائی کورٹ نے ان سب کو مسترد کردیا۔ 
جسٹس امتیاز مرتضیٰ ، جسٹس اشونی کمار سنگھوی کی ڈویژن بنچ نے مقدمہ چلائے جانے کی اجازت نہ ملنے پر مایاوتی اور نسیم الدین کو کلین چٹ دے دی۔ سابق وزیر اعلی کی جانب سے سینئر وکیل سنتوش مشرا نے بنچ کے سامنے بحث کی تھی۔ فیصلہ آنے کے بعد سنتوش مشرا نے میڈیا سے کہا کچھ لوگ سیاسی اسباب کے سبب جان بوجھ کر بسپا سپریمو مایاوتی کو بدنام کرنے کے لئے پھنسانا چاہتے تھے۔ میڈیا میں بھی غلط ڈھنگ سے اسے175 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کہا گیا جبکہ جانچ میں پایا گیا کہ مایا حکومت نے تاج کوریڈور تعمیر کے لئے محض17 کروڑ ہی جاری کئے تھے۔ ایسے میں اربوں روپے کا گھوٹالہ کیسے کہا جاسکتا ہے۔ مشرا نے یہ بھی جانکاری دی کہ عدالت کے سامنے یہ بھی سچائی آئی کہ تاج کوریڈور کی فائل میں وزیر اعلی کے طور پر مایاوتی نے دستخط نہیں کئے تھے اور اس کی توثیق وزیر اعلی کے اس وقت کے سکریٹری پی ایل پنیا نے کی تھی، جو اب کانگریس کے ایم پی ہیں۔ مشرا نے دعوی کیا کہ لکھنؤ بنچ کے فیصلے سے مایاوتی کے خلاف سیاسی سازش کرنے والوں کا جھوٹ سامنے آگیا ہے۔ حالانکہ پیر کو کچھ عرضی گذاروں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں ضرور جائیں گے۔ 
عدالت کے فیصلے کے بعد لکھنؤ سے لیکر دہلی تک کئی مقامات پر بسپا حمایتیوں نے پٹاخے چھوڑ کر خوشی منائی اور خوشی منائیں بھی کیوں نہ؟ بہن جی کو بڑی راحت ملنے کے ساتھ ساتھ جو تلوار کچھ لوگوں نے ان پر لٹکائی ہوئی تھی اس سے بھی کچھ حد تک نجات ملے گی لیکن بہن جی کی مشکلیں ابھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوئیں۔ اس معاملے میں ایک بار پھر دکھایا گیا کہ سیاسی مفادات کے لئے حریفوں کو حیران پریشان کرنے کے لئے حکمراں فریق کس ڈھنگ سے سی بی آئی کا بیجا استعمال کرتا ہے۔ بہرحال تاج کوریڈور معاملے میں تو مایاوتی کو فوری راحت ضرور مل گئی ہے لیکن ان کی پریشانی کم ہوتی نہیں دکھائی دے رہی ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی سی بی آئی کو ان کے خلاف اثاثے سے زیادہ پراپرٹی جمع کرنے کے معاملے کی جانچ کی اجازت دے رکھی ہے۔
(انل نریندر)

لوک آیکت کے اختیارات اور وسائل کاسوال


چیف ویجی لنس کمشنر (سی وی سی) کی مانیں تو کرپٹ لوگوں کو سزا دینے کے معاملے میں سرکاری ایجنسیاں پھسڈی ثابت ہوئی ہیں۔ ان کا صاف کہنا ہے کہ اس معاملے میں ہمارا ریکارڈ ایک دم قابل رحم ہے۔ اس میں انتظامیہ کے تئیں جنتا کا بھروسہ اٹھتا جارہا ہے۔ سی وی سی کمشنرشری کمار نے گیارویں آل انڈیا لوک آیکت کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے سنیچر کو کہا کہ کرپشن میں ملوث راکھشس کا اگر خاتمہ کرنا ہے تو ہمیں (سرکاری جانچ ایجنسیوں) آپس میں ہاتھ ملانا ہوگا۔ کرپشن کے خلاف موجودہ طریقہ کار کا ذکر کرتے ہوئے سی وی سی کا کہنا تھا کہ کرپشن کے مورچے پر ہم الگ الگ کام کررہے ہیں۔ بمشکل ہم تال میل قائم کرتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کرپٹ کو سزا دلاپانا ایک بہت مشکل کام ہوگیا ہے۔ ہماری رائے میں کرپشن سے کارگر ڈھنگ سے نمٹنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم نگرانی اور جانچ مشینری کو مضبوط کریں اس لئے لوک آیکتوں کا یہ کہنا واجب ہے کہ انہیں مزید اختیار دئے جائیں۔ ہر بار لوک آیکتوں کی کانفرنس میں یہ مانگ اٹھتی رہی ہے لیکن سرکار میں بیٹھے سیاستداں اس کی ہر بار ان سنی کر دیتے ہیں۔
دراصل سیاسی پارٹیوں کی اس بات میں زیادہ دلچسپی ہے کہ حریف پارٹیاں اور اپوزیشن لیڈروں پر لگے کرپشن کے الزامات کا اس طرح سے سیاسی فائدہ اٹھایا جائے۔ لیکن ایسے ہر معاملے کی وقت سے جانچ پوری ہو اور اسے نتیجے تک پہنچایا جائے، ایسا نظام بنانے کے تئیں وہ لاچار اور غیر ذمہ دار نظر آتے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ اتنے برسوں کے بعد بھی ابھی تک دیش کے صرف17 راجیوں میں ہی لوک آیکت بن پایا ہے۔ جہاں لوک آیکت ہیں بھی ایک دو ریاستوں کو چھوڑ کر ان کے اختیارات اور وسائل بیحد محدود ہیں۔ ایسے میں ان کا رول محض سفارشی بن کر رہ جاتا ہے۔ لوک آیکت کو سب سے زیادہ اختیار کرناٹک میں حاصل ہے۔ اس کے اچھے نتیجے بھی سامنے آئے ہیں۔ وہاں کے لوک آیکت رہنے کے دوران جسٹس سنتوش ہیگڑے نے بیلاری کھدان معاملے میں مفصل رپورٹ دی اور کئی افسروں کے خلاف سیاسی طور پر کئی طاقتور لوگ بھی کارروائی کے دائرے میں آگئے ہیں۔ پورے دیش میں ایک جیسا لوک آیکت قانون بنے اور اسے ادارے کو مناسب اور طاقتور بنایا جائے وقت کا تقاضہ ہے لیکن موجودہ سیاسی ماحول میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ لوک آیکت ایک نام کا ادارہ بن کر رہ جائے گا۔
(انل نریندر)

07 نومبر 2012

گڈکری جیسے دوست ہوں تو بھاجپا کو دشمنوں کی ضرورت نہیں


ایسا لگتا ہے کہ اب زبان نے بھی بھاجپا صدر نتن گڈکری کا ساتھ دینا چھوڑدیا ہے۔ پورتی گروپ کی مشتبہ سرگرمیوں کا معاملہ ابھی چل ہی رہا ہے کہ گڈکری نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کرلیا ہے۔ ہوا یوں کہ بھوپال میں ایک مقامی جریدے اوجسونی کے ذریعے قائم قومی ایوارڈ تقریب میں ایتوار کو خطاب کرتے ہوئے گڈکری صاحب نے انٹیلی جنسی کی بنیاد پر عقل کوناپنے کے پیمانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر داؤد ابراہیم اور سوامی وویکانند کی آئی کیو کو دیکھا جائے تو یکساں پائی جاتی ہے لیکن ایک نے اس کا استعمال گناہ کے لئے کیا ہے تو دوسرے نے سماج، دیش بھگتی اور روحانیت کے پھیلاؤ میں کیا ہے۔ انہوں نے کیونکہ یہ سب کچھ آن ریکارڈ کہا تو ٹی وی والوں نے اس کا ٹیلی کاسٹ کردیا۔ یہ بیان آتے ہی ہنگامہ مچ گیا۔ چاروں طرف سے گڈکری اور بھاجپا کو گالیاں پڑنے لگیں۔ نتن گڈکری کو تب جاکر احساس ہوا کے میں نے غلط مثال دے ڈالی اور انہوں نے صفائی بھی پیش کی۔ گڈکری نے کہا میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ اگر کسی نے اپنی ذہانت کا صحیح استعمال کیا ہے تو وہ وویکانند ہیں اور نہیں تو پھر وہ برا آدمی ہے اس میں کوئی موازنہ نہیں ہے۔ میرے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ لیکن گڈکری کی صفائی کسی کو ہضم نہیں ہورہی ہے۔ گڈکری کا یہ بیان ہماچل میں پولنگ کے ایک بعد آیا ہے اور گجرات اسمبلی چناؤ سے پہلے گڈکری سے پریشان بھاجپا کے اندر بغاوت کا موقع مل گیا۔رام جیٹھ ملانی کی جانب سے کی گئی کھلی نکتہ چینی کے بعد ان کے صاحبزادے مہیش جیٹھ ملانی نے گڈکری پر سیدھا حملہ بول دیا۔ مہیش جیٹھ ملانی نے خط لکھ کر کہا جب تک گڈکری پردھان ہیں میرے لئے اخلاقی اور ذہنی طور پر پارٹی میں کام کرنا مشکل ہوگا۔ رام جیٹھ ملانی پہلے ہی گڈکری سے استعفیٰ مانگ چکے ہیں۔ کبھی بھاجپا کے تھنک ٹینک رہ چکے گووند آچاریہ نے کہا گڈکری شاید حالیہ واقعات سے کافی پریشان ہو گئے ہیں۔ انہوں نے آگے جوڑا جاکی رہی بھاونا جیسی۔۔۔ پارٹی ترجمان راجیو پرتاپ روڑی نے ضروری گڈکری کے بچاؤ کی کوشش کی لیکن بھاجپا کا کوئی بڑا لیڈر یا سنگھ کی جانب سے ان کے بچاؤ میں کوئی سامنے نہیں آیا۔ بھاجپا ہیڈ کوارٹر میں موجود بھاجپا کے ایک سینئر لیڈر نے یہ ضرور کہا ’وناش کالے وپرت بدھی‘ پہلے بھی کچھ تبصروں کے سبب تنازعوں میں رہے گڈکری کا تازہ بیان سے انہوں نے خود ہی ہٹ وکٹ کر لی۔ ان حالات میں جہاں یہ طے تھا کہ گڈکری کو دوسری میعاد ضرور ملے گی۔ بھاجپا نے تو اپنے آئین میں بھی ترمیم کرلی تھی لیکن اب گڈکری کو دوسری میعاد ملنا بہت مشکل لگتا ہے۔ سنگھ نے بھی اپنے آپ کو گڈکری کی حمایت سے الگ کرلیا۔ اپنا دامن بچانے کے لئے آر ایس ایس نے پہلے ہی ان کی پیٹھ سے ہاتھ ہٹا لیا تھا۔ غور طلب ہے گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی نے بھی سوامی وویکا نند کے نام کی ریلی سے چناوی مہم شروع کی۔ ایسے میں وویکا نند نام داؤد سے جوڑنا جہاں کانگریس کو بڑا موقعہ دے دیا ہے وہیں مودی اور پارٹی کے لئے پریشانی کھڑی کردی ہے۔ بیان کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیواری نے کہا کہ یہ بھاجپا کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مہان وچارک کا موازنہ ایک جرائم پیشہ یا مافیہ سرغنہ سے کیسے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بھاجپا سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا۔ وہیں کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے چٹکی لیتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ اب گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اور اور ان کے ہمنوا کیا کریں گے؟ کانگریس لیڈرجگدمبیکا پال نے کہا کہ سوامی وویکانند کا موازنہ خطرناک جرائم پیشہ شخص داؤد سے کرنا صحیح نہیں ہے۔ کل کو اگر کوئی نتن گڈکری کے موازنہ ممبئی حملوں کے مجرم اجمل قصاب سے کردے تو انہیں یہ کیسا لگے گا؟
(انل نریندر)

دہلی کے شہریوں ہوشیار! یہ سردی کی دھند نہیں خطرناک دھنواں ہے


پچھلے کئی دنوں سے دہلی کے آسمان میں چھائے دھنویں نے ایک طرح کے کہرے کی چادر پھیلا رکھی ہے۔ اس نے دہلی والوں کی صحت بگاڑ دی ہے۔ اگر یہ کہرہ ہوتا تو تشویش کی بات نہیں تھی لیکن یہ کہرہ نہیں ہے جسے آپ اور میں سردیوں کا کہرہ سمجھ رہے ہیں وہ کوئی عام کہرہ نہیں۔ وہ کہرے کی شکل میں ایسڈ کی چادر ہے۔ دراصل دہلی کی سڑکوں پر دوڑتی گاڑیوں کو بھی اس کہرے سے دقت ہورہی ہے کیونکہ سڑک پر دھند کی وجہ سے دکھائی دینے کی دوری کافی کم ہوجاتی ہے۔ یقیناًیہ ایک دھنواں ہے جس میں خطرناک کیمیکل اور دھول وغیرہ شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ دہلی پر یہ خطرناک چادر کیسے چھا گئی ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ آندھرا پردیش اور تاملناڈو کے ساحلی علاقوں سے گذرے سمندری طوفان ’نیلم‘ کی وجہ سے دہلی سمیت شمالی بھارت کے علاقے میں اس کا اثر ہوا ہے لیکن سب سے بڑی وجہ آلودگی ہے۔ دہلی میں بڑھتی آلودگی ایک بار پھر تشویش کا باعث بنتی جارہی ہے کیونکہ دہلی میں آلودگی کی سطح زیادہ ہے ایسے میں کہرے کے ساتھ دھول کے ذرات نے مل کر ماحولیات میں گرد کی چادر بنادی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کے آنکھوں میں جلن سے لیکر دمے جیسی مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔ سینٹر فار سائنس اینڈ انوارمینٹ کے ماہرین کے مطابق دہلی میں ہوائی آلودگی دوبارہ بننے لگی ہے۔ 2001ء میں جب سی این جی پروگرام چالو ہوا تھا تو رہائشی علاقوں میں ریسی پریبل سسپینڈ پریکولیٹ کا سالانہ تناسب سطح 149 مائکرو گرام سی کیوبک میٹرتھا۔ 2008 میں یہ 209 تک پہنچا تھا۔ کاربن مونوآکسائڈ جو کہ زیادہ تر علاقوں میں اب تک اسٹینڈرڈ لیبل سے کم رہتا تھا اس میں بھی اضافہ پایا گیا ہے۔ سینٹرل پالوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق دہلی میں 2011 کے مقابلے اس سال کاربن مونو آکسائڈ کی سطح 1584.7 کے مقابلے 1772.9 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر درج کی گئی ہے۔ کیمیائی ذرات کی مار جھیل رہے دہلی کے شہریوں کے لئے ماہرین نے کچھ احتیاطی قدم برتنے کی صلاح دی ہے۔ ان کا کہنا ہے دھنویں سے ایسے ذرات ہیں جو ہوا میں نچلی سطح پر آجاتے ہیں۔یہ آلودگی پاٹیکل پی ایم10 اور پی ایم2.5 زیادہ چھوٹے ذرات نچلی سطح پر آجاتے ہیں۔ماحول میں پھیلے پاٹیکل کے چھوٹے چھوٹے ذرات گاڑیوں اور صنعتی کارخانوں کے پاور پلانٹ و لکڑیوں کے جلنے سے نکلتے ہیں۔یہ ٹھوس اور رقیق ذرات کی ملی جلی شکل ہے۔ یہ آدمی کے بال سے بھی 100 گنا تک باریک ہوتے ہیں۔ حال ہی میں راجدھانی میں ان کی مقدار 500 اوسطاً مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر ہے۔ نچلی سطح پر آنے سے یہ سانس کے مریضوں کے لئے خاصی پریشانی کھڑی کرتے ہیں کیونکہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے یہ سیدھے سانس کی نلی سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتے ہیں یہ بھی وارننگ دی گئی ہے کہ اگر ان دنوں بارش ہوگی تو ایسٹڈ ریم کا خطرہ ہے۔ بہتر ہوگا کہ اس دھنویں کے رہتے بارش سے بچا جائے۔ امید کرتے ہیں یہ دھنواں جلد ختم ہوجائے۔
(انل نریندر)

06 نومبر 2012

سبرامنیم سوامی کے چکرویو میں پھنستے سونیا ۔راہل گاندھی


جنتا پارٹی کے چیف ڈاکٹر سبرامنیم سوامی اکثر کانگریس پارٹی پر الزام لگاتے رہتے ہیں لیکن کانگریس نے انہیں کافی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تازہ الزام پر کانگریس پارٹی پھنستی نظر آرہی ہے۔ یہ الزام اس لے بھی زیادہ سنگین ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ سیدھے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور ان کے صاحبزادے راہل گاندھی پر لگے ہیں۔ ابھی تک سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا پر الزامات کا سلسلہ رکا نہیں تھا کہ ڈاکٹر سوامی نے ایک نیا مورچہ کھول دیا ہے۔ انہوں نے نیشنل ہیرلڈ اخبار چلانے والی کمپنی ایسوسی ایٹ جنرل لمیٹڈ کو تحویل میں لئے جانے پر سوال کھڑے کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر سوامی نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ سونیا۔ راہل نے ایک کمپنی کی شروعات کی تھی جسے ’ینگ انڈیا‘ کا نام دیا گیا اور اس میں ہر ایک کا شیئر38 فیصدی تھا۔ اس کمپنی نے ایسوسی ایٹڈ جنرل کو تحویل میں لے لیا جس کا قیام ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے کیا تھا یہ کمپنی نیشنل ہیرلڈ اور قومی آواز شائع کیا کرتی تھی۔
سوامی نے کہا ایسوسی ایٹڈ جنرل کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے بغیر جانچ پڑتال کئے 90 کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض دے دیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت یہ ناجائز ہے کیونکہ سیاسی پارٹیاں کاروباری ایشوز کے لئے قرض نہیں دے سکتیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کے سبب ’ینگ انڈیا‘ نے بورڈ میں ایک ریزولیوشن لاکر صرف50 لاکھ روپے میں قرض ختم کردیا۔ ایسوسی ایٹڈ جنرلس کے شیئروں کی منتقلی کے ذریعے ینگ انڈیاکو بیچ دیا گیا جو اخبار یا میگزین نکالنے والی کمپنی نہیں ہے۔ کانگریس نے پہلے تو سوامی کے الزامات پر خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن جب دباؤ بڑھتا گیا تو پارٹی کے ترجمان و میڈیا انچارج جناردن دویدی نے 90 کروڑ روپے کا قرض لینے کی بات تو قبول کرلی لیکن ساتھ ساتھ صفائی دی کہ قانون کی تعمیل کرتے ہوئے اخبار کو درست کرنے کی کارروائی میں شروعات میں مدد کرنے کے ارادے سے ایسوسی ایٹڈ جنرلز کی مدد کر کانگریس پارٹی نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے انڈین نیشنل کانگریس نے سود سے مستثنیٰ قرض کے طور پر یہ مدد دی تھی جس کے عوض میں پارٹی کو کوئی کاروباری فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ جناردن دویدی نے کہا کانگریس کا مقصد پارلیمانی جمہوریت پر مبنی سماجی قوم کے پرامن اور آئینی راستوں سے بھارت کے لوگوں کی بھلائی اور ترقی ہے جس میں اخباروں ،سیاسی ،اقتصادی اور سماجی حقوق کی یکسانیت ہو اور جس کا مقصد عالمی امن اور بھائی چارگی ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس کے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ ان مقاصد اور ان کی سیاسی سرگرمیوں میں مدد کے لئے اس نے نیشنل ہیرلڈ اور دیگر اخباروں اشاعت اور ایسوسی ایٹڈ جنرلز لمیٹڈ کی مدد کی تھی جس کا قیام1937 میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے کیا تھا جس نے ہماری آزادی تحریک میں اہم رول نبھایا تھا۔ میں نے قارئین کے سامنے ڈاکٹر سوامی کا الزام بھی بتایا ہے کانگریس پارٹی کے ترجمان کا جواب بھی بتایا ہے تاکہ آپ خود فیصلہ کر سکیں کہ معاملہ دراصل کیا ہے؟ شری جناردن دویدی نے یہ تو قبول کرلیا ہے کہ کانگریس پارٹی نے90 کروڑ روپے کا قرض بیشک دیا۔ بیشک مقصدکچھ بھی رہا ہو لیکن اتنا تو طے ہوگیا ہے کہ 90 کروڑ روپے کا قرض دیا گیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کیا یہ قانونی خلاف ورزی نہیں ہے؟ ڈاکٹر سوامی کہتے ہیں یہ خلاف ورزی ہے۔ اخبار کو سود سے پاک 90 کروڑ روپے کی کانگریس کی منظوری کے بعد سوامی چناؤ کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔انہوں نے عرضی دیکر کانگریس کی منظوری منسوخ کردینے کی مانگ کی ہے۔ کہا ہے کہ سیاسی پارٹی کے طور پر کانگریس چندے سے اکٹھا کردہ پیسہ قانوناً کسی کمپنی کو قرض کے طور پر نہیں دے سکتی۔ سوامی نے کہا کانگریس پارٹی نے گائڈ لائنس کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے۔ آر پی اے کی دفعہ292A سےC میں سیاسی پارٹیوں کے ذریعے کسی کمپنی کو سود یا بے سود قرض دینے کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ انکم ٹیکس قانون کے مطابق کوئی بھی سیاسی پارٹی کسی کمپنی کو قرض نہیں دے سکتی۔ 
کانگریس نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا یہ طے کون کرے گا کسی پارٹی کے سیاسی پروگرام کون کون سے ہیں؟ ہمارے مفادی سیاسی کام ہم خود طے کریں گے۔ ہم دوسروں کو اپنے سیاسی کام طے کرنے کا حق نہیں دے سکتے کیونکہ اب معاملہ چناؤ کمیشن کے پالے میں ہے وہی طے کرے گا کہ اس معاملے میں قانون اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں؟ ایک دوسرا سوال جو اٹھ رہا ہے وہ ہے ’ینگ انڈین‘ کو لیکر کانگریس کی صفائی کے باوجود اپوزیشن اس ’ینگ انڈیا‘ کمپنی کو لیکرسوال اٹھا رہی ہے جس میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے76فیصدی شیئر ہیں۔
کانگریس نے کہاینگ انڈین ایسوسی ایٹڈ جنرلز لمیٹڈ کو تحویل میں نہیں لیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ جنرلز ابھی باقی ہے کیونکہ مخالفین کی دلیل ہے کہ اگر کانگریس نے اس کمپنی کو بچانے کے لئے 90 کروڑ روپے کا قرض دیا تو اس کے شیئر اس ینگ انڈیا کمپنی کو کیسے مل گئے جس میں سونیا راہل کے38-38 فیصدی شیئر ہیں۔ اگر یہ کمپنی کانگریس کی ہی ہے تو شیئر پارٹی کے نام کیوں نہیں؟ سوامی الزام لگا رہے ہیں کہ نیشنل ہیرلڈ دہلی میں واقع 1600 کروڑ روپے کی پراپرٹی پر قبضہ کرنے کی نیت سے یہ قرض دیا گیا ہے۔ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر کسی ادارے کی منظوری ختم کرنے کے بارے میں پہلے بھی آواز اٹھائی گئی ہے جب خود کو غیر امداد یافتہ ادارہ بتانے والے بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ کے ذریعے آئی پی ایل کو قرض دینے پر اس کی مانیتا رد کردی گئی تھی۔ تو اس کے بارے میں امتیاز کیو برتا جارہا ہے؟
(انل نریندر)

04 نومبر 2012

سینڈی کا فائدہ براک اوبامہ کوہوگا یا پھرمٹ رومنی کو؟


امریکہ میں آئے بڑے ریتیلے طوفان سینڈی نے امریکہ کے گنجان آبادی والے مشرقی ساحل پر بھارتی تباہی کا منظر اور ملبہ چھوڑدیا ہے۔ اسکے سبب70 سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں،قریب 40 لاکھ امریکی شہری ابھی تک بجلی اور مواصلاتی سسٹم کی بحالی کے بغیر بدحالی کے دور سے گذر رہے ہیں۔ تباہی والے علاقوں میں لوٹ مار کے واقعات بھی ہونے لگے ہیں۔ نیویارک اور نیو جرسی کے آس پاس کے علاقوں میں ابھی تک پانی بھرا ہوا ہے اور تباہی سے گری عمارتوں کے ملبے سے لاشیں نکل رہی ہیں۔ نیویارک ٹائمس کے مطابق 37لاکھ50 ہزار سے زیادہ لوگوں کو مسلسل تیسرے لوگ بھی بجلی کے بغیر رہنا پڑا جبکہ وہیں آنے والے منگل6 نومبر کو ہونے والے راشٹرپتی چناؤ ملتوی نہیں ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان چناؤ میں بڑتے طوفان سینڈی کا سیاسی اثر کیا ہوگا؟ کیا اس سے صدر براک اوبامہ کو فائدہ ہوگا یا ان کے سیاسی حریف ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی کو؟ حالات بہتر کرنے کی کوششیں جنگی سطح پر جاری ہیں۔ دونوں امیدواروں نے اپنی چناؤ مہم پھر سے شروع کردی ہے۔ اوبامہ نے بدھوار کو سینڈی سے متاثرہ شہر نیوجرسی کا دورہ کیا جبکہ مٹ رومنی نے چناوی ریلیوں کے ساتھ ساتھ اپنی چناوی مہم دوبارہ سے شروع کردی ہے۔ اوبامہ نے نویہا ،بولانڈو و وسکاسن میں چناؤ مہم شروع کرنے کا پلان بنایا۔ اوبامہ نے نیوجرسی کے جزیرے برکس ٹائم پر طوفان سے متاثرہ عوام سے کہا ہم آپ کے لئے یہاں آئے ہیں ہم بھولے نہیں ، ہم یہ یقینی بنائیں گے کے آپ کو سنبھلنے اور بسانے کے لئے ضروری مدد ملے۔ ان کا کہنا تھا جب تک وہ کام پورا نہیں ہوجاتا تب تک ہم یہیں رہیں گے۔ طوفان سے متاثرہ 13 ریاستوں میں فوج اور ہوائی نیشنل گارڈ کے قریب 10 ہزار جوانوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ نیویارک شہر میں زیادہ تر بسیں چلنے لگی ہیں۔ سب وے بھی کھل گئے ہیں۔ سینڈی کے باوجود یہاں صدارتی چناؤ اپنے شباب پر ہے۔ دراصل امریکہ میں چناؤ6نومبر کو ہونے ہیں اسی دن امریکہ میں الیکشن ڈے منایا جاتا ہے۔ امریکی صدارتی چناؤ پر گہری نگاہ رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے امریکہ میں طوفان سینڈی بھلے ہی کافی قہر برپا گیا ہے لیکن صدر براک اوبامہ کو دوبارہ جیت دلانے میں یہ اہم رول نبھانے والا ہے۔ اوبامہ نے اس طوفانی بحران کا جس طرح سے سامنے کیا ہے ،راحت بچاؤ کے کاموں کو لیکر جو تیزی دکھائی اس کا اثر لوگوں میں ہونے لگا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اے بی نیوز کی طرف سے کئے گئے ایک سروے میں اوبامہ کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ سروے میں شامل ہر 10 میں سے8 لوگوں نے کہا اوبامہ نے اس خطرے سے نمٹنے میں بہت بڑھیا کام کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی کی حمایت کررہے لوگوں میں سے دو تہائی نے اوبامہ کے کام کی تعریف کی۔ ابھی بھی ہزاروں لوگ کیمپوں میں اپنے گھر جانے کا انتظار کررہے ہیں۔ انہیں یہ نہیں پتہ کہ ان کے گھر بچے بھی ہیں یا نہیں۔ بجلی کے بغیر سردی میں ٹھٹھر رہے لوگوں کی تعداد اب70 لاکھ ہے۔ اس طوفان کے سبب امریکہ کو قریب 15 سے20 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سینڈی امریکہ کی تاریخ کی سب سے زیادہ اقتصادی تباہی مچانے والی قدرتی آفت مانی جارہی ہے۔ابھی تک تو راحت رسانی کی وجہ سے اوبامہ کو فائدہ ہوا ہے لیکن سردی میں ٹھٹھر رہے لاکھوں لوگوں کو بجلی پانی جلد نہ ملا تو اس کا خمیازہ بھی اوبامہ کو چناؤ میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ طوفان سینڈی کے آنے سے پہلے اوبامہ اور مٹ رومنی کے درمیان کانٹے کی ٹکر چل رہی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سینڈی کا نفع نقصان کس کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔
(انل نریندر)

کرکٹ شائقین کی آڑ میں آتنکیوں کو نہ گھس پیٹھ کرادے آئی ایس آئی


بھارت ۔ پاکستان کرکٹ میچ کا منورنج پانچ سال بعد پھر محسوس کیا جاسکے گا۔ فیلڈ سے باہر دونوں کی جگہ کٹر حریف ان پڑوسی ملکوں کے درمیان محدود اووروں کی یہ گھریلو سیریز اگلے ماہ دسمبر میں شروع ہوگی۔ فی الحال انگلینڈ کی ٹیم بھارت کے دورہ پر ہے۔ یہ یہاں ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے کے بعد کرسمس کی چھٹیوں کے لئے اپنے وطن روانہ ہوجائے گی اس کے فوراً بعد بھارت۔ پاک سیریز شروع ہوگی۔ اس سیریز کے ختم ہونے کے بعد انگلینڈ کی ٹیم پھر بھارت لوٹے گی اور یہاں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلے گی۔ غور طلب ہے کہ بی سی سی آئی نے جولائی میں پاکستان کے ساتھ دوبارہ کرکٹ رشتے بحال کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔ اس وقت سنیل گواسکر اور کیرتی آزاد جیسے سابق کرکٹروں نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی۔ گواسکر نے پاکستان کے ساتھ دوبارہ کرکٹ تعلقات شروع کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھایا تھا۔گواسکر نے یہ بھی کہا تھا کہ انگلینڈ اور پاکستان سے مسلسل سیریز کھیلنے پر ٹیم انڈیا کو آرام کا وقت نہیں مل سکے گا۔ 2008ء میں ممبئی پر ہوئے 26/11 کے آتنکی حملوں کے بعد پاکستان کے ساتھ کرکٹ رشتوں کو بھارت نے ختم کردیا تھا۔ پاکستان کی ٹیم آخری بار بھارت کے دورہ پر 2007 ء میں آئی تھی اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کوئی باہمی سیریز نہیں کھیلی جاسکی۔ قابل ذکر ہے 2009ء میں پاکستان کے دورہ پر گئی سری لنکا کی ٹیم پر لاہور میں آتنکی حملہ ہوا تھا۔ اس کے بعد پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کا کھیل رک گیا اور کسی بھی ٹیم نے ابھی تک پاکستان کا دورہ نہیں کیا ہے۔ شیو سینا چیف نے دو دن پہلے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو مہاراشٹر میں کھیلنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے جمعرات کو پارٹی کے اپنے اخبار ’سامنا‘ میں لکھا ہے کے یہ تو اچھا ہوا کہ پاکستانیوں کے ساتھ جن مقامات پر میچ کھیلا جائے گا اس میں کوئی مہاراشٹر ریاست کی کوئی جگہ شامل نہیں ہے۔ ٹھاکرے نے لکھا ہے کہ پاکستانیوں سے کرکٹ کا دھرم یدھ ہوگا۔ کھیلے جانے والے شہروں میں بھی پاکستانیوں نے آتنکی حملے تو کئے ہی ہیں اور دہلی میں تو پارلیمنٹ پر پاکستانیوں نے ہی خنجر گھونپا ہے۔ ہم اپنے فیصلے پر اٹل ہیں کے پاکستانیوں کو کسی بھی حال میں مہاراشٹر کی مقدس سرزمین پر قدم نہیں رکھنے دیں گے۔ بھارت سرکار نے ہند۔ پاک کرکٹ سیریز کو منظوری تو دے دی لیکن پاک کرکٹ شائقین کو ملٹی سٹی ویزا دئے جانے پر وزارت داخلہ شش وپنج میں ہے۔ جوائنٹ سکریٹری کی رہنمائی میں کام کرنے والی ایک خصوصی کمیٹی طے کرے گی کہ پاکستان سے آنے والے کرکٹ شائقین کو ایک ہی شہر کا ویزا دیا جائے یا ان سبھی شہروں کا جہاں میچ کھیلے جانے ہیں۔ پھر اس خطرے سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی موقع کا فائدہ اٹھا کر کہیں کھیل شائقین کی آڑ میں آتنکیوں کو نہ گھسا دے؟ بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے مرکزی سرکار کو چوکس کیا ہے کہ اس امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آئی ایس آئی مسلسل بھارت میں آتنکی حملے کے فراق میں رہتی ہے۔ خفیہ ذرائع کے مطابق کرکٹ میچ کے دوران سب سے زیادہ خطرہ انڈین مجاہدین اور شمال مشرقی میں سرگرم انتہا پسند تنظیموں سے ہے کیونکہ ان لوگوں سے پاکستانی دہشت گرد تنظیم لشکرطیبہ ، حزب المجاہدین اور حرکت الجہاد اسلامی جیسی تنظیموں سے مدد ملتی رہی ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...