27 مئی 2017

پاکستان کو ہندوستانی فوج کا کرارا جواب

پاکستان کو اس کے پاپ کی سزا مل گئی ہے۔ ہندوستان کے جوانوں کی بے عزتی کرنے والے بربر پاکستان کی ناک کٹ گئی ہے۔ سرحد پارسے تباہی کے گولے برسانے والے پاکستان نے موت کے گولے برسادئے۔ہندوستانی فوج نے نوشیرا میں پاکستان کی مٹی پلید کردی ہے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی ٹوپوں نے تابڑتوڑ گولے داغ کر پاکستان کی کئی چوکیوں کو نیست و نابود کردیا ہے۔ خبر ہے اس حملہ میں پاکستان کے کئی فوجی مارے گئے۔ صرف30 سیکنڈ میں پاکستان کی تیرھویں کردی گئی۔ سیکنڈ در سیکنڈ پاکستان کی چوکی پر ہندوستان کے گولے برسے۔ محض 24 سیکنڈ میں ایک کے بعد ایک قریب درجن بھر گولے داغے گئے اور سب نشانے پر گرے۔ سرحد پر خونی سازش رچنے والے پاکستان کو اس بار بھارت سے ایسا جواب ملا کہ اس کو یہ مار کئی دنوں تک یاد رہے گی۔ میجر جنرل اشوک نرولا نے بتایا کہ ان چوکیوں سے آتنک وادی گھس پیٹھ کیا کرتے تھے۔ 6 مئی کو پاکستانی فوج نے آتنک وادیوں کے ساتھ مل کر ایل او سی پار کرکے گشت کررہے ہندوستانی جوانوں پر حملہ کیا تھا اور اس حملہ میں دو جوان شہید ہوئے تھے۔ اس کے بعد شہید جوانوں کی لاشوں کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ اس کا بدلہ لیتے ہوئے ہندوستانی فوج نے 9 مئی کو پاکستان کے نو شیرہ میں اس کی چوکیوں کو تباہ کردیا تھا اسے دوسرا سرجیکل اسٹرائک بتایا جارہا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان انہی چوکیوں کے ذریعے آتنک وادیوں کو ہندوستانی سرحد میں داخل کراتا ہے۔ کشمیر کے پہاڑوں پر برف پگھلنے لگی ہے اور اس موسم میں دہشت گردوں کی دراندازی تیز ہوجاتی ہے اس لئے کہا جارہا ہے کہ اس حملہ کے بعد دراندازی پر کچھ لگام لگے گی۔ سرکار اور فوج دونوں پر جوابی کارروائی کا دباؤ یا پورے دیش میں دو جوانوں کا سر قلم کرنے سے ناراضگی تھی۔ کشمیر میں امن قائم رکھنے کے لئے حکومت نے ایسی فوجی کارروائی کو ضروری بتایا ہے۔ مگر حقیقت میں اس حملہ سے پاکستان کی شہ پر ہونے والی آتنک وادی سرگرمیوں پر کتنی لگام لگے گی دیکھنے کی بات ہے۔ ہندوستانی فوج کی طرف سے 10 چوکیاں تباہ کرنے سے متعلق ویڈیو دکھائے جانے کے فوراً بعد پاکستان نے ہندوستانی دعوے کو مستردکردیا ہے حالانکہ اس سے ایسے کسی واقعے پر رضامندی کی بھی امید نہیں کی جاسکتی۔ ستمبر میں ہوئے سرجیکل اسٹرائک کو بھی اس نے اسی طرح سے مسترد کردیا تھا۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ پاک فوج نے کنٹرول لائن پر کافی آتنکی کیمپ قائم کئے ہوئے ہیں۔ 50 سے اوپر ٹریننگ کیمپ چل رہے ہیں۔ پاکستانی فوج ہندوستانی فوجیوں کا دھیان بٹا کر اور گاؤں والوں پر دباؤ بنا کر دہشت گردوں کو ہندوستانی سرحد میں داخل کرانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ اگر ہندوستانی فوج ان کیمپوں کو تباہ کرنے میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو کافی حد تک سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردانہ گھس پیٹھ پر لگام کسی جاسکتی ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت کی اس کارروائی کے بعد کنٹرول لائن پر کشیدگی بڑھے گی۔ پاکستان بھارت کی اس فائرننگ کی کارروائی کو بھلے ہی مسترد کرے مگر وہ اس کا بدلہ لینے کی بھی سوچ رہا ہوگا چانچہ بھارت کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ خبر ہے کہ پاکستان نے لائن آف کنٹرول کے قریب اپنی بارڈر ایکشن ٹیم کے کمانڈو کو تعینات کیا ہے جن کا مقصد گشت کررہے ہندوستانی جوانوں پر گھات لگاکر حملہ کرنا ہے۔ بتادیں کہ ماضی میں بھی یہ فورس ہندوستانی جوانوں کی لاشوں کے ٹکڑے کرنے اور ان کے سر کاٹنے میں ملوث رہی ہے۔ بین الاقوامی اسٹیج پر پاکستان بے نقاب ہوچکا ہے لیکن وہ اپنی کرتوت سے باز نہیں آرہا ہے ایسے میں بھارت کے محض سبق سکھانے کی وارننگ دینے یا کنٹرول لائن پر مٹھی بھر چوکیوں کو تباہ کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ آج کے حالات میں جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوسکتی لیکن آتنک وادی سرگرمیوں پر روک لگانے کے لئے بھارت کو نظریاتی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ بھارت کو پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے کنٹرول لائن پر جاری300سے اوپر آتنکی کیمپوں کو تباہ کرنے اور پاکستان کے منصوبوں پر چوٹ کرنے کے لئے باقاعدہ قدم اٹھانے چاہئیں۔ سرکار کا قدم اس معنی میں قابل تعریف ہے کہ اس نے فوج کو ایکشن لینے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے یعنی کے پاکستان کے لئے یہ سندیش بالکل صاف ہے کہ سدھر جاؤ۔
(انل نریندر)

جادھو کو پاک نے طالبان سے کروڑوں میں خریدا تھا

کلبھوشن جادھو کے معاملہ میں پاکستان کا بڑا جھوٹ پکڑا گیا ہے اور پاکستان کو بے نقاب کرنے والا اور کوئی نہیں بلکہ انہی کی خطرناک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہی ایک سابق افسر ہے۔ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب نے اعتراف کیا ہے کہ جادھو کو پاکستان سے نہیں بلکہ ایران سے پکڑا گیا تھا اور انہیں وہاں سے لا کر بلوچستان میں فرضی گرفتاری دکھائی گئی تھی۔ پاکستان نے دعوی کیا تھا کہ اس کے سکیورٹی فورسز نے پچھلے سال تین مارچ کو بلوچستان سے جادھو کو گرفتار کیا تھا جو مبینہ طور پر ایران سے وہاں آئے تھے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا سبب بنے کلبھوشن جادھو کے لئے طالبان اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے درمیان کروڑوں ڈالر کی سودے بازی ہوئی تھی۔ پچھلے سال فروری میں پہلے طالبان نے ایک سنی کٹر پسند تنظیم کی مدد سے جادھو کو ایران سے اغوا کیا اور آئی ایس آئی کے ہاتھوں بیچ دیا۔ پاکستان کی اس سازش کی جانکاری پکی ہوجانے کے بعد بھارت نے ڈپلومیٹک سطح پر ایران کے ساتھ اس سچائی کو اجاگر کرنے کی کوشش شروع کردی۔ذرائع کے مطابق طالبان کے ایک گروپ نے سنی کٹر پسند گروپ کے ساتھ مل کر جادھو کا اغوا کیا تھا۔ ابھی یہ تصدیق نہیں ہو پائی ہے کہ یہ اغوا پاکستانی فوج یا آئی ایس آئی کے اشارے پر کیا گیا۔ طالبان نے اسے انجام دے کر سودے کی پیشکش کی۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ سودے بازی ڈالروں میں ہوئی تھی۔ ایران کی خفیہ ایجنسی وزارت انٹیلی جنس اینڈ سکیورٹی کی جانچ میں اجاگر ہوئے ان حقائق کو بھارت کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر پاکستان میں ایران کے سفیر محمد رفیع نے 10 مئی کو کوئٹہ میں جانکاری دی تھی کہ ان کی حکومت نے پاکستان سے جادھو کی پوچھ تاچھ کی اجازت مانگی لیکن اس نے توجہ نہیں دی۔ ایران میں چناؤ کے بعد اس معاملہ میں آگے کی کارروائی ہونے کا امکان ہے۔ سابق کیبنٹ سکریٹری اور امریکہ میں بھارت کے سفیر رہے نریش چندرا نے جادھو کے اغوا کی بات کو صحیح ٹھہرایا ہے۔ چندرا کے مطابق یہ ایک بری وجہ ہے کہ آئی سی جے نے بھی جادھو کی گرفتاری کے پاکستانی دعوے پر سنگین سوال کھڑے کئے۔ چندرا نے کہا کہ جادھو کے خلاف جاسوسی کے پختہ ثبوت نہ ہونے کی بات پاکستان کے پی ایم نواز شریف کے خارجی معاملوں کے مشیر سرتاج عزیز نے صاف طور پر کہی ہے۔ وہیں سرتاج عزیز نے پچھلے سال دسمبر میں پاک پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ جادھو کے خلاف پختہ ثبوت نہیں ہیں۔ پاک فوج کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر اغوا کرکے جادھو کو پھانسی پر لٹکانا چاہتی ہے۔
(انل نریندر)

26 مئی 2017

اوراب مانچسٹر میوزک کنسرٹ پرآتنکی حملہ

منگل کو صبح سویرے 3 بجے برطانیہ کے شہر مانچسٹر جو واقعہ رونما ہوا اس نے برطانیہ کو ہی نہیں پورے یوروپ کو دہلا دیا ہے۔ بہت سوں کی نظریں کریز کے ساتھ کہیں لگی ہیں اور اچانک آتنکی حملہ ہوجائے تو یہ دور تک اور دیر تک اثر چھوڑنے والا ہوسکتا ہے۔ مانچسٹر ایرینا میں مشہور پوپ گلوکارہ رینا گرینڈ کے کنسرٹ کے دوران ہوئے اس فدائی حملہ میں 22 لوگوں کے مرنے اور متعدد لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر آئی تھی۔ مرنے والوں اور زخمیوں کی تعداد سے ظاہر ہے کہ حملہ کے پیچھے ارادہ زیادہ سے زیادہ قہر برپا کرنا اور بڑے پیمانے پر دہشت پھیلانا تھا۔ اس حملہ کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم آئی ایس نے لی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ لندن میں 2005ء کے آتنکی حملہ کے بعد یہ برطانیہ میں اب تک کا سب سے بڑا خوفناک دہشت گردی کا واقعہ ہے کیونکہ اس کا نشانہ دیش کے نوجوان تھے۔ اس نے احساس دیا ہے کہ دہشت گردی پر چاہے جتنی دماغ پچی کرلی جائے اور اس کا نئے نئے انداز میں دکھائی دینا رکا نہیں۔ پہلے جب بھارت آتنکی واردات کی بات کرتا تھا تو ترقی یافتہ مانے جانے والے دیش اسے زیادہ توجہ نہیں دیا کرتے تھے لیکن اب جب دہشت گردوں نے پاؤں پھیلائے تو امریکہ کے ساتھ یوروپ کو بھی اپنا نشانہ بنانے سے نہیں چوک رہے ہیں۔ مانچسٹر میں ہوئے دھماکہ کے بعد ایک بار پھر سوال اٹھ رہا ہے کیا دہشت گردوں سے نمٹنے میں ترقی یافتہ دیش بھی اہل نہیں ہیں؟ پچھلے 10 سال میں یوروپ کے الگ الگ ملکوں میں 60 بڑے دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں۔مانچسٹر دھماکہ میں مارے جانے والوں میں بچوں اور لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ 24 سالہ ایریانا گرینڈے ان کے بیچ بہت مقبول ہیں۔ بتایا جارہا ہے وہاں 60 فیصد بچے بغیر ماں باپ کے آئے تھے۔ ان میں سے کچھ نے پاس کے ہوٹل میں پناہ لی جبکہ کئی لاپتہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ بہت سے خاندانوں کی زندگی تباہ ہوگئی ہے۔ اس حملہ کی سیدھی ذمہ داری بھلے ہی کسی نے نہ لی ہو لیکن حملہ کے بعد اسلامک اسٹیٹ کے حمایتیوں کا آن لائن جشن تو کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر اسے شام اور عراق میں ہوئے ہوائی حملوں کا بدلہ بھی بتایا جارہا ہے۔ مانچسٹر جیسے واقعات اس سماج پر حملہ ہیں جو دقیانوسیت سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے، کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے، اپنی ضمیر کا استعمال کرتا ہے۔ یہ اس آزاد خیالی پر حملہ ہے جو کٹر پسندی اور دہشت گردی کو ممنوع قرار دیتی ہے۔ یہ خوفناک اور چوکس کرنے والا حملہ ہے کیونکہ اسی جذبہ اور خیال کی توسیع ہے جو کبھی اسی طرح کے دہشت گردی ، تو کبھی مذہبی کلچر تھا۔ خودساختہ ٹھیکیدار کی شکل میں الگ طرح کی کٹر پسندی کی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ اس بحران کی گھڑی میں ہم مانچسٹر کے ساتھ ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ نے شریف کو دو دن میں ڈبل جھٹکا دیا

سعودی عرب میں اسلامی کانفرنس کے دوران پاکستان کو الگ تھلگ کردیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی بے عزتی ہوئی۔ انہیں اس کانفرنس کے دوران دہشت گردی پر بولنے کاموقعہ ہی نہیں ملا جبکہ وہ کافی تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ بتایا جارہا ہے شریف نے سعودی کانفرنس کے لئے اپنی فلائٹ کے دوران دو گھنٹے لگا کر لمبی تقریر تیار کی تھی۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں ان دیشوں کے لیڈروں کو بھی بولنے کا موقعہ دیا گیا جو دہشت گردی سے فی الحال زیادہ متاثر نہیں ہیں جبکہ نواز شریف کو پوری طرح نظر انداز کیا گیا۔ اتنا ہی نہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار بھی اپنی تقریر میں نواز شریف یا پاکستان کا ذکر تک نہیں کیا۔ شریف کے سامنے ہی ٹرمپ نے بھارت کو دہشت گردی سے متاثر دیش بتایا۔ انہوں نے سیدھے طور پر یہ تو نہیں کہا کہ بھارت کس طرح کی دہشت گردی سے متاثر ہے لیکن عالمی سطح پر ان کی طرف سے بھارت کا نام نہ لینے کے کئی ڈپلومیٹک معنی نکالے جارہے ہیں۔ بھارت لگاتار یہ کہتا آرہا ہے کہ وہ پاکستان حمایتی دہشت گردی سے متاثر ہے اور ٹرمپ نے ایک طرح سے اس کی اس بات کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کو یہ بات اتنی ناگوار گزری کے دیر شام اسلام آباد میں پاکستان کے فوجی چیف قمر جاوید باجوا نے امریکی سفیر ڈیول ہیل سے ملاقات کر صفائی دی کہ دہشت گردوں کی حمایت کے لئے پاکستان کی سرزمیں کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ گھریلو سطح پر کئی محاذ پر کشیدگی جھیل رہے نواز شریف کے لئے یہ صرف پریشانی کی بات نہیں ہے کہ ٹرمپ نے ان سے الگ باہمی ملاقات نہیں کی بلکہ ان کی پریشانی کی وجہ یہ بھی ہے کہ ٹرمپ نے ساؤتھ ایشیا ملکوں میں صرف افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی۔ ڈپلومیٹک سطح پر مانا جارہا ہے کہ ٹرمپ نے اس ملاقات کے ذریعے پاکستان اور روس کو یہ اشارہ دے دیا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی موجودگی اور مقبول کرے گا۔ دراصل حالیہ مہینوں میں پاکستان، چین اور روس کی مدد سے افغان امن بات چیت میں طالبان کے گھسانے کی بھی توقع کررہا ہے۔ پاکستان کی یہ چال افغانستان میں بھارت کے رول کو ختم کرنے کے لئے جاری ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو دو دن میں دوسرا جھٹکا دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کے سامنے پیش اپنے سالانہ بجٹ تجاویز میں کہا کہ پاکستان کو دی جانے والی فوج امداد قرض میں بدلی جانی چاہئے۔ حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس مسئلے پر قطعی فیصلہ وزارت خارجہ پر چھوڑدیا ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ امریکی اقتصادی مدد گرانڈ کی شکل میں دی جائے نہ کہ سبسڈی کے طور پر۔ ٹرمپ نے درپردہ طور سے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کچھ دیش دہشت گردی کو پال رہے ہیں۔وہ دنیا بھر میں کٹر پسندوں کو بڑھاوا دینے میں اپنی سرزمیں کا استعمال کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

25 مئی 2017

روحانی کی جیت، ایران نے کٹر پسندی کو مسترد کیا

ایران میں حسن روحانی کی صدارتی چناؤ میں دوبارہ کامیابی واقعی ہی ایک بڑا کارنامہ ہے۔ صاف ہے کہ صدر کے طور پر اپنے پہلے عہد میں روحانی نے ایران کو اصلاح پسندی کی طرف لے جانے اور مغربی ملکوں سے میل جول بڑھانے کے جو قدم اٹھائے تھے ووٹروں نے ان کی حمایت کی ہے۔ حسن روحانی کی کامیابی تقریباً طے تھی۔ سارے سروے انہیں آگے دکھا رہے تھے حالانکہ یہ اس معنی میں ایران کا بڑا واقعہ ہے کہ روحانی ایک ہی بار میں قریب 57 فیصدی ووٹ پاکر منتخب ہوگئے۔ ایران کے آئین کے مطابق اگر چناؤ میں کسی بھی امیدوار کو 50 فیصدی سے زیادہ ووٹ نہیں ملتے تو اگلے ہفتے دوسرے دور کا مقابلہ ہوتا ہے۔ ایران میں 1985ء سے ہی ہر ایک صدر کا دوبارہ چناؤ ہوتا ہے۔ خامنہ ای خود دوبارہ دوسرے عہد کیلئے منتخب ہوئے تھے۔ یہ روحانی کی پالیسیوں کی عوام کے درمیان وسیع حمایت کی علامت تو ہی ہے لیکن جمہوریت کے مضبوط ہونے کا بھی اشارہ دیتا ہے۔ چناؤ جیتنے کے بعد صدر روحانی نے کہا کہ ان کا دوبارہ چنا جانا بتاتا ہے کہ رائے دہندگان نے کٹر پسندی کو مسترد کیا ہے اور وہ باہری دنیا سے اور زیادہ روابط چاہتے ہیں۔ سرکاری ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ اپنی تقریر میں کہا کہ ایران نے دنیا کے ساتھ بات چیت کا راستہ چن لیا ہے یہ راستہ تشدد اور کٹر پسندی سے بالکل الگ ہے۔ اب چناؤ ختم ہوگئے ہیں۔ مجھے ہر ایک ایرانی شہری کے تعاون کی ضرورت ہے۔ ان کی بھی جو میری اور میری پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں البتہ دوسرے عہد میں روحانی کے سامنے چنوتیاں بھی زیادہ بڑی ہوں گی۔ ایک تو یہ ہی کہ پابندی ہٹا لئے جانے پر بھی ایران کے عام لوگوں پر اس کا بہتر اثر ابھی تک نہیں دیکھا گیا۔ معیشت بدحال اور بے روزگاری کا مسئلہ بھی پیچیدہ ہے۔ ایسے ووٹروں کے بڑے حصے نے بھلے ہی اصلاح پسند مذہبی پیشوا کو صدر چنا ہو لیکن سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اس بار روحانی کو شاید ہی اسی طرح آزادی دیں، کیونکہ روحانی سے ہارے ہوئے ابراہیم رئیسی خامنہ ای کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ روحانی کو بڑی چنوتی امریکہ سے بھی ملے والی ہے جہاں اب صدر براک اوبامہ نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ پچھلے دنوں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہوا معاہدہ منسوخ کرنے تک کی بات کہیں تھی۔ 68 سالہ روحانی اصلاح پسند نظریات کے دائی ہیں۔ کٹرپسند اسلامی قانون والے ایران میں شخصی آزادی کو بڑھانے کے لئے کام کرنے کی وجہ سے جنتا کا رجحان ان کی طرف بڑھا ہے۔ روحانی دیا کے دوسرے ملکوں کے ساتھ ایران کے رشتے بہتر بنانے کے حمایتی ہیں۔انہوں نے جب اقتدار سنبھالا تو ایران اقتصادی پابندیوں کو جھیل رہا تھا۔ روحانی کے پہلے عہد میں امریکہ اور ایران کے درمیان جو نیوکلیائی سمجھوتہ ہوا جو دنیا میں اس کے الگ تھلگ پڑنے کے دورپر رہتے ہوئے سنجیونی ثابت ہوا۔ اسی سمجھوتے کے سبب امریکہ اور ایران کے ساتھ آپسی تعلقات بہتر ہوئے اور اس سے دیش کو ہر سطح پر فائدہ ملا۔ روحانی نے بہت حد تک ایران کی معیشت کو بہتر کیا ہے۔ یہ دنیا کے دیشوں کے ساتھ رشتے بہتر کرنے کی ایماندارانہ کوششوں سے ہی ممکن ہوا ہے۔ روحانی بھارت کے دوست مانے جاتے ہیں اور دوبارہ سمجھوتہ دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار رشتوں کی مثال ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ایران نے بھی مورچہ کھول دیا ہے۔ ایران نے پاکستان کے بلوچستان علاقہ میں مورٹار بھی داغے۔ پاکستانی میڈیا نے اس کی تصدیق کی۔ بتا دیں اسی مہینے کے پہلے ہفتے میں ایران پاکستان کو دھمکی بھرے الفاظ میں اپنے یہاں سبھی دہشت گردی کے اڈوں کو تباہ کرنے کی نصیحت دی تھی۔ ایران نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ایسا نہیں کرتا تو پھر ایران کی فوج پاکستان میں گھس کر دہشت گردوں کے اڈوں کو تباہ کردے گی۔ غور طلب ہے کہ اپنے 10 بارڈرگاڈس کی دہشت گردوں کے ذریعے قتل کے بعد ایران نے دہشت گردی کے خلاف حملہ آور رخ اختیار کرلیا ہے اور پاکستان کے آتنکی ٹھکانے ایران کے شانے پر ہیں کیونکہ ایران سے پابندی ہٹنے کے بعد نئی دہلی اور ایران نے کئی معاہدے کئے ہیں اس لئے یہی امید ہے کہ روحانی کے دوسرے عہد میں دونوں دیش ان سمجھوتوں کو آگے بڑھائیں گے۔ ہم صدر روحانی کو ان کی شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

کوئلہ کی آنچ میں پہلی بار ملوث سرکاری افسر

کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالہ میں کل درج 28 مقدموں میں یہ تیسرا معاملہ ہے جس میں عدالت نے فیصلہ سنایا ہے حالانکہ اس سے پہلے دو معاملوں میں کمپنیوں کے حکام سزا سنائی گئی مگر یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی سرکاری بابو پر بجلی گری ہے۔ جمعہ کو اسپیشل سی بی آئی جج بھارت پراشر نے سابق کوئلہ سکریٹری ایم ۔ سی ۔ گپتا اور اس وقت کے ڈائریکٹر کے۔ سی سمرایہ اور کمپنی کے ایم ایس پی ایل کے منیجرپون کمار اہلوالیہ کو قصوروار ٹھہرایا۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں کل 28 کول کھدان الاٹمنٹ معاملوں کی جانچ شروع ہوئی ہے۔ اس میں سی بی آئی سب سے پہلے 2004 ء سے 2010ء کے درمیان کے معاملوں کی جانچ کررہی ہے۔ اس کے بعد 1993ء سے 2004ء تک کے معاملوں کی جانچ کی جائے گی۔ سی بی آئی کی اسپیشل عدالت نے ایس سی گپتا کو دو سال کی قید کی سزا سنائی تھی اور اس کے بعد اہیں ضمانت بھی مل گئی۔ گپتا کے علاوہ دیگر ملزمان کو بھی دو سال کی سزا سنائی گئی۔ ان پر ایک لاکھ کا جرمانہ بھی لگایا گیا۔ حالانکہ کورٹ کی طرف سے سبھی قصورواروں کو ضمانت بھی دے دی گئی۔ تینوں سرکاری افسران کے علاوہ ایک پرائیویٹ فرم کمل اسپنج اینڈ پاور لمیٹڈ پر ایک کروڑ روپے کا جرمانہ بھی لگایا اور فرم کے منیجنگ ڈائریکٹر پون کمار اہلووالیہ کو تین سال کی سزا اور 30 لاکھ روپے کے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ سزا اسپیشل سی بی آئی عدالت سے ملی ہے اور بچاؤ فریق کے پاس اوپری عدالتوں میں اپیل کرنے کا متبادل ہے مگر ایک وقت دیش کی سیاست کو ہلا کر رکھ دینے والے اس گھوٹالہ میں یہ فیصلہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس معاملہ میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کا نام بھی اچھالا گیا تھا۔ ملزمان کا کہنا تھا کہ کوئلہ کھدان الاٹمنٹ کے وقت کوئلہ منتری کی ذمہ داری بھی پردھان منتری نبھا رہے تھے اس لئے انہیں بھی ملزمان کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ مگر سی بی آئی اپنی تفتیش سے اس نتیجے پر پہنچی کے متعلقہ معاملوں میں کوئلہ سکریٹری نے وزیر اعظم کو اندھیرے میں رکھا تھا۔ ایسے گھوٹالوں میں عام طور پر سیاست اس قدر چھا جاتی ہے کہ باقی پہلو نظر انداز ہوجاتے ہیں خاص کر افسر شاہی اور نجی کاروبار ی گھوٹالوں کا فائدہ تو سب سے زیادہ اٹھاتے ہیں لیکن سسٹم کے ہاتھ ان تک پہنچے اس کے پہلے ہی یہ کافی دور جاچکے ہوتے ہیں۔ یہ معاملہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ نہ صرف افسر شاہی کی سب سے اونچے پائیدان پر بیٹھے افسران بلکہ پرائیویٹ کاروباری بھی سزا کے دائرے میں لائے گئے ہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ اس فیصلے کے بعد سرکاری وسائل سے جڑے سبھی گھوٹالے بازوں میں خوف پیدا ہوگا۔
(انل نریندر)

24 مئی 2017

مسلمانوں کوکوسنے والے ٹرمپ پہلے دورہ پر سعودی عرب پہنچے

اپنے چناؤ کمپین اور صدربننے کے بعد مسلمانوں کو کوسنے والے اور پوری دنیا میں ملامت کی علامت بنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے غیر ملکی دورہ میں سعودی عرب گئے۔ ٹرمپ کا سعودی دورہ دومعنوں میں نکتہ چینی کرنے والوں کے نشانے پر آیا۔ ٹرمپ مسلمانوں کو نہ صرف سب سے زیادہ کوسنے والے امریکی صدر ہیں بلکہ چناؤ کمپین کے دوران 9/11 آتنکی حملے میں سعودی عرب کے کچھ شہریوں کا بھی ہاتھ بتا چکے ہیں۔ صدر بننے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے سرکاری دورہ کے لئے سعودی عرب کو چن کر سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ ٹرمپ امریکہ کے پہلے صدر ہیں جنہوں نے سعودی عرب کو اپنے پہلے غیر ملکی دورہ کے لئے چنا۔ اب تک زیادہ تر صدر اپنے پہلے دورہ میں کینیڈا اور میکسیکو جاتے رہے ہیں۔ ٹرمپ اپنی چناوی کمپین کے دوران اسلام پر حملہ آور رہے تھے۔ سعودی عرب ایک اسلامی ملک ہے ایسے میں آخر ٹرمپ نے سعودی عرب کو کیوں ترجیح دی؟ فروری2016ء میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ 9/11 حملہ میں سعودی عرب کے لوگ بھی شامل تھے۔ صدر بننے سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کس نے تباہ کیا تھا؟ وہ عراقی نہیں تھے اس کے پیچھے سعودی عرب تھا۔ ہمیں دستاویزات کو کھولنا ہوگا۔ کمپین کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایک راجہ کے بچاؤ میں اپنا بھاری اقتصادی نقصان کررہا ہے ، اب وہی ٹرمپ صدر بننے کے بعد سعودی عرب میں شاہی خیر مقدم قبول کررہے ہیں۔آخر ایسا کیا ہوگیا کہ جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے سب سے مقدس دیش ہے وہ انہیں راس آرہا ہے؟ یہی نہیں انہوں نے صدر بننے کے بعد 7 مسلم اکثریتی ملکوں کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ اچانک سے ٹرمپ کا رویہ کیوں بدل گیا؟ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عبدیل الازبیر نے انگریزی میگزین ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ سے کہا تھا کہ چناوی کمپین کے دوران کئی باتیں کہی جاتی ہیں اور میں اس بارے میں صدر ٹرمپ کو لیکر کچھ بھی نہیں سوچتا۔ زبیرنے ٹرمپ کے پہلے غیر ملکی دورہ کیلئے سعودی عرب کو چننے پر کہا وہ اسلامی دنیا سے رشتے مضبوط کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور وہ ایک اچھی سانجھے داری چاہتے ہیں۔ امریکی صدر نے ریاض میں 200 سے زیادہ مسلم ملکوں کے لیڈروں کو خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کی میزبانی کیلئے دل کھل کر تعریف کی لیکن صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر کا استعمال عرب اور مسلم دیشوں کو سخت سندیش دینے کے لئے بھی کیا۔ انہوں نے صاف کیا یا تو کٹرپسندی کو بڑھاوا دینے والی آئیڈیالوجی سے اب نکلو یا پھر آنے والی کئی پیڑھیوں تک اس کے ساتھ لڑتے رہو۔ ٹرمپ عام طور پر تلخ زبان کے لئے جانے جاتے ہیں لیکن اس بار وہ اپنے طریقے کے برعکس بیحدنرم گو انداز میں رہے۔ ٹرمپ نے سعودی عرب کے علاقائی حریف ایران کی بار بار تنقید کی اور اس سے خلیج کے عرب دیشوں کے لیڈر ضرور خوش ہوئے ہوں گے۔ اپنے سابقہ جانشین صدر براک اوبامہ کی طرح موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں انسانی حقوق کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ حالانکہ انہوں نے عورتوں پر زیادتیوں کی تنقید ضرور کی ۔ خلیجی خطے میں سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی تقریر کو لیکر کئی طرح کے رد عمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے یاد دلایا کہ سعودی عرب دنیا میں دہشت پھیلانے کا سب سے بڑا قصوروار ہے اور آپ ایک طرف اسلامی کٹر پسندی کی بات کرتے ہیں دوسری طرف کٹر پسندی پھیلانے والے سعودی عرب کی گود میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی ثابت کردیا کہ وہ امریکی ہتھیار لابی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ریاض پہنچنے کے پہلے د ن ہی امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان کل 380 ارب ڈالر کے معاہدے ہوئے۔ اس دوران سعودی شاہ سلمان نے ٹرمپ کو ملک کے سب سے اعزاز ترین شہری ایوارڈ سے بھی نوازا۔
(انل نریندر)

چناؤ کمیشن :ای وی ایم پر آر پار کی لڑائی

الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر پچھلے کچھ عرصے سے زبردست تنازعہ چھڑا ہوا ہے۔ کئی اپوزیشن پارٹیوں نے اس کے بھروسے پر سوال اٹھایا ہے۔ کچھ نے تو چناؤ میں اپنی ہار کا ٹھیکرا ان ای وی ایم مشین پر پھوڑ دیا ہے۔ سنیچروار کو چناؤ کمیشن نے جارحانہ تیور اپناتے ہوئے اس مسئلہ پر اوپن چیلنج کا داؤ کھیلتے ہوئے اس پر آر پار کی جنگ چھیڑدی ہے۔ چناؤ کمیشن نے سیاسی پارٹیوں کو چنوتی دی ہے کہ وہ 3 جون سے ثابت کرکے دکھائیں کہ ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے یا اس کے ذریعے کسی خاص امیدوار یا پارٹی کے حق میں چناؤ نتیجے موڑے جاسکتے ہیں۔ یہ کھلی چنوتی 5 دن تک رہے گی۔ الیکشن کمیشن نے سخت انداز میں کہا کہ ای وی ایم کو لیکر جس طرح سے بے بنیاد خبریں سامنے آرہی ہیں اس سے چناؤ کمیشن دکھی ہے۔ حالانکہ الزام لگانے والوں کے خلاف کیا چناؤ کمیشن کیس کرے گا یا کوئی رپورٹ دے گا اس پر حکام نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پھر کہا کہ اب آنے والے چناؤ میں وی وی پی ڈی کا استعمال ہوگا اور سبھی ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کے بعد تصدیق کے لئے سلپ ملے گی۔ ای سی نے یہ بھی کہا کہ کئی ای وی ایم کے علاوہ سلپ کے ایک حصے کی گنتی ہوگی لیکن یہ کل ووٹ کا کتنا حصہ ہوگی ابھی طے ہونا باقی ہے۔ اس سے پہلے چناؤ کمیشن نے ای وی ایم کو لیکر سبھی پارٹیوں کی دلیل سننے کے لئے 12 مئی کو آل پارٹی میٹنگ بلائی تھی۔ اس میں چناؤ کمیشن نئی ای وی ایم سے وابستہ تمام سوالوں اور اندیشات کو سنا تھا۔ سبھی سیاسی پارٹیاں 3 جون سے ای وی ایم ہیکنگ کی چنوتی میں شامل ہوسکیں گی۔ سبھی پارٹیاں اپنے زیادہ سے زیادہ 3 نمائندوں کو (ا ن میں کوئی بھی ماہرہو سکتا ہے) اس میں حصہ لینے کے لئے بھیج سکتی ہیں۔ بیشک کوئی بھی ایکسپرٹ ہوسکتا ہے لیکن اس کا ہندوستانی ہونا ضروری ہے۔ ای وی ایم چیلنج کے لئے 4 گھنٹے کا وقت ملے گا لیکن اس دوران مدر بورڈ سے چھیڑ چھاڑ کی اجازت نہیں ہوگی۔چیلنج دو مرحلوں میں ہوگا۔ پہلے فیز میں سیاسی پارٹیوں کو چھوٹ ہوگی کہ وہ پانچ ریاستوں میں ہوئے چناؤ میں کن ہی 4 پولنگ اسٹیشنوں سے ای وی ایم مشین منگا کر ثابت کریں کہ اس میں گڑ بڑی ہوئی ہے۔ دوسرے مرحلہ میں چناؤ کمیشن کی حفاظت میں ای وی ایم کو ہیک یا ٹیمپر کرنے کی بھی چنوتی ہوگی۔ چیلنج سے پہلے مشینیں کھول کر سبھی پارٹیوں کے نمائندوں کو دی جائیں گی لیکن چیلنج کے بعد ایسا کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔چیلنج کے دوران سبھی پارٹیوں کے ایکسپرٹ ای وی ایم پر لگے کئی بٹنوں کو ایک ساتھ دبا کر، کسی وائرلیس یا بلو توتھ ڈیوائز کا ایکسٹرنل ڈیوائز کا استعمال کرسکتے ہیں۔ ہم چناؤ کمیشن کے چیلنج کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اب ان سیاسی پارٹیوں کو ثابت کرنا چاہئے کہ ای وی ایم ٹیمپر یا چھیڑی نہیں ہے۔ آئے دن الزام لگانے کے بجائے آر پار کی لڑائی لڑیں۔
(انل نریندر)

23 مئی 2017

راشٹرپتی چناؤ:اپوزیشن پر بھاری این ڈی اے

راشٹرپتی چناؤ کا وقت (25 جولائی سے پہلے) جیسے جیسے قریب آرہا ہے ، اپوزیشن اس عہدے کے لئے مشترکہ امیدوار طے کرنے کے لئے زیادہ سرگرم ہوچکی ہے۔ اس سمت میں کانگریس صدر سونیا گاندھی، راشٹریہ جنتا دل چیف لالو پرساد یادو، ترنمول کی چیف ممتا بنرجی جیسے سرکردہ لیڈر جٹ گئے ہیں۔ سونیا گاندھی نے فون پر ممتا، ملائم سنگھ یادو، مایاوتی اور لالو پرساد یادو سے بات کی ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے دہلی میں سونیا گاندھی سے ملاقات کی اور کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے سپاچیف اکھلیش یادو و جنتا دل (یونیفائڈ) شرد یادو سے فون پر بات کی۔ اپوزیشن اتحاد میں کئی اڑچنیں ہمیں دکھائی دے رہی ہیں جن میں سب سے بڑی اڑچن یہ سامنے آئے گی کہ جہاں وہ اپوزیشن پارٹیوں کے عرصے سے آمنے سامنے رہی ہیں وہ ایک پالے میں آکرچناؤ لڑنے کو کیسے تیار ہوں گی؟ پھر چاہے بنگال میں ممتا ۔ لیفٹ ہوں ، تاملناڈو میں ڈی ایم کے۔ انا ڈی ایم کے ہوں، یوپی میں سپا ۔ بسپا ہوں یا پھر اڑیسہ میں بی جے ڈی۔ کانگریس ہو۔ دراصل اپوزیشن لیڈر مانتے ہیں کہ ایسے میں چناؤ لڑنا بھلے ہی ٹیڑھی کھیر ہو لیکن جولائی میں ہونے والے صدارتی چناؤ میں این ڈی اے کے سامنے اکھٹا ہوکرکسی امیدوار پر اتفاق رائے بنانا تعلقات کے اعتبار سے آسان ہے۔ اسے مستقبل (2019 لوک سبھا) میں اتحادبنانے کے امکان سے بھی جوڑ کردیکھا جارہا ہے۔ چلئے ایک نظر راشٹرپتی چناؤ کے لئے نمبروں پر ڈالتے ہیں۔ بھاجپا کی رہنمائی والے این ڈی اے( 23 پارٹیوں کے ایم پی اور ریاستی ایوانوں میں عوامی نمائندوں سمیت)کے پاس الیکٹرول کالج ہیں، میں تقریباً 48.64 فیصدی ووٹ ہیں۔ اس کے برعکس ریاست یا مرکز میں سیاسی تجزیوں کی بنیاد پر کانگریس کی رہنمائی والے اپوزیشن کے ساتھ جانے والا 23 پارٹیوں کا ووٹ شیئر 35.47 فیصدی بیٹھتا ہے۔ حال ہی میں پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی چناؤ میں اترپردیش ، اتراکھنڈاور منی پور میں بھاجپا کو ملی جیت نے راشٹرپتی چناؤ سے جڑے الیکٹرول کالج میں 5.2 فیصدی ووٹ کا فائدہ ہوا ہے۔ پنجاب اور گووا میں بھاجپا اتحاد کے ممبران اسمبلی کی تعداد میں کمی ضرور آئی لیکن اترپردیش ، اتراکھنڈ، منی پور میں پارٹی کے ممبران اسمبلی کی تعداد بڑھی ہے۔ راشٹرپتی چناؤ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے سبھی ایم پی اور ایم ایل اے ووٹ دیتے ہیں۔ ان ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو ملا کر یہ راشٹرپتی کے عہدے کے چناؤ کا الیکٹرول کالج بنتا ہے۔اس کے کل 784 ایم پی اور 4114 ایم ایل اے ہیں۔ اس کالج میں ووٹ کی ویلیو قاعدے کے مطابق الگ الگ ہوتی ہے۔اس کے مطابق ہر ایم پی کے ووٹ کی ویلیو 708 ہے جبکہ ایم ایل اے کے ووٹ کی ویلیو متعلقہ ریاست کی اسمبلی کی ممبر شپ نمبر اور اس ریاست کی آبادی پر منحصر ہوتی ہے۔ اس طرح یوپی کے ہر ایم ایل اے کے ووٹ کی حیثیت سب سے زیادہ 208 ہے وہیں سکم کے ہر ایم ایل اے کے ووٹ کی ویلیو سب سے کم 7 ہے۔ راشٹرپتی کے عہدے کے لئے 109888 ووٹوں کی ویلیو ہوتی ہے۔ اس میں چناؤ جیتنے کے لئے 5.39 لاکھ ووٹ چاہئیں۔ فی الحال بھاجپا کے پاس 4.57 لاکھ ووٹ ہیں۔ اس لحاظ سے این ڈی اے کو چناؤ میں اپنے امیدوار کو جتانے کے لئے صرف 92 ہزار ووٹوں کی ضرورت پڑے گی۔ اصولی طور پر بات کریں تو کانگریس کی رہنمائی والے اپوزیشن کے چھ پارٹیوں کو اپنے پالے میں کرنے میں کامیاب رہنے پر حکمراں گروپ اور اپوزیشن کے درمیان مقابلہ کانٹے کا ہوسکتا ہے۔ اکثریت کے اعدادو شمار کو پار کرنے کے لئے این ڈی اے کو صرف ایک پارٹی یا زیادہ سے زیادہ چھوٹی پارٹیوں کی حمایت کی ضرورت ہوگی کیونکہ بھاجپا مرکز میں اقتدار میں ہے، لہٰذا اس کے پاس چناوی نتیجے اپنے حق میں کرنے کے لئے کافی گنجائش ہے۔ اپوزیشن کی راہ مشکل لگتی ہے۔
(انل نریندر)

جادھو کیسا ہے کہاں ہے،کیا سربجیت کو بھی بچایا جاسکتا تھا

بھارت کو کلبھوشن جادھو کیس میں بین الاقوامی عدالت سے بھلے ہی فوری طور پرراحت مل گئی ہو لیکن جادھو کی اصلی پوزیشن کیا ہے اس پر خدشات ابھی بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے ابھی تک جادھو کی صحت یا اس کی جگہ کے بارے میں کوئی خبر نہیں لی ہے۔معاملہ کو صاف کرنے کے بجائے پاکستان اب یہ کہہ رہا ہے کہ بین الاقوامی کورٹ نے جادھو کو سفارتی پہنچ کا حکم نہیں دیا ہے اور نہ ہی وہ یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس نے فیصلہ آنے تک صرف جادھو کو پھانسی پر روک لگانے کو کہا ہے۔ یہ کہتے ہیں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے خارجی امور کے مشیر سرتاج عزیز۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان جادھو کے ٹھکانے اور اس کے بارے میں ٹھوس ثبوت پیش کرے۔ پاکستان اگر ایماندارہے اور اس کی نیت صاف ہے تو اسے پروف آف لائف ہونا چاہئے۔ پاکستان میں جادھو کے پتے کے بارے میں کیا بھارت سرکار کے پاس کوئی خبر ہے، وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے کہا کہ پاکستان سرکار نے آج تک کلبھوشن جادھوکے بارے میں کوئی خبر نہیں دی اور نہ ہی یہ بتایا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ میں ویسے ہی سوچ رہا تھا کہ کیا ہم سربجیت کو بھی بچا سکتے تھے؟ ماہرین اور وکیلوں کا کہنا ہے کہ سربجیت کے کیس میں بھی کئی ایسی خامیاں تھیں جن کی بنیاد پر پاکستان کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جاسکتا تھا۔ بین الاقوامی کورٹ میں جانے کے بھارت کے پاس پختہ بنیاد تھی۔ سربجیت کے وکیل کی غیر موجودگی میں سپریم کورٹ نے اسے پھانسی کی سزا دے دی۔ وکیل کے لاپتہ ہونے پر دوسرا وکیل کرنا چاہئے تھا۔ پاک سپریم کورٹ میں سربجیت کیس کا ایک واحد گواہ بیان سے مکر گیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ زبردستی بیان لیا گیا، فرضی ثبوت پیش کئے گئے۔ پاک عدالت کو ان کی بنیاد پر سماعت دوبارہ شروع کرنی چاہئے تھی۔ جادھو کی طرح سربجیت کو بھی جھوٹے الزامات میں پھانسی دی گئی۔ دونوں پر جاسوسی اور دہشت گردی کے واقعات میں شامل ہونے کا الزام لگایا گیا۔ جادھو کی طرح سربجیت کی رہائی کی مانگ سرخیوں میں رہی تھی۔ جادھو کی پھانسی کے بعد سربجیت کی بہن دلبیر کور کا درد جھلک اٹھا۔ انہوں نے کہا کہ اگراس وقت کی یوپی اے سرکار سربجیت کے کیس کو بھی آئی سی جے میں لے جاتی تو آج وہ بھارت میں ہمارے درمیان ہوتا۔ کٹر پسندیوں کے ڈرسے سوئیڈن میں رہ رہے سربجیت کے وکیل اویس شیخ نے کہا کہ آئی سی جے کی فیصلے سے جادھو کی رہائی کا راستہ کھلے گا۔ شیخ کا کہنا ہے کہ جادھو کی طرح سربجیت بھی دونوں دیشوں کے درمیان دشمنی اورسیاست کا شکارہوا۔ سربجیت کا بچاؤ کرنے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں اور انہیں دیش چھوڑنا پڑا تھا۔
(انل نریندر)

21 مئی 2017

ابھی تو ایک لڑائی جیتی ہےجنگ جیتنا باقی ہے دوستو

کلبھوشن جادھو معاملے میں بھارت نے پہلی لڑائی جیت لی ہے ۔ جاسوسی کے الزام میں گرفتار جادھو کی پھانسی پر بین الاقوامی عدالت (آئی سی جے )نے پاکستان کو اپنے آخری فیصلہ آنے تک روک لگانے کا جو حکم دیا ہے،اس سے سابق بحریہ فوجی کو انصاف دلانے کی سمت میں بھارت کی کو ششو ں کو ایک بڑی کامیابی کی شکل میں دیکھاجانا چاہئے ۔آئی سی جے نے اپنے فیصلے میں اس بات کا خاص طور پر نوٹس لیتے ہوئے پاکستان کو صاف ہدایت دی ہے کہ اسے اس کے فیصلے پر کی گئی کارروائی کی رپورٹ بھی دینی ہوگی بیشک عالمی عدالت میں بھارت نے جو اپیل کی تھی یہ اس کا عارضی فیصلہ ہے ۔لیکن اس فیصلے نے پاکستان کے ہاتھ ایک حد تک باندھ دےئے ہیں کم سے کم جب تک آئی سی جے کا قطعی فیصلہ نہیں آتا ۔کلبھوشن جادھو کو سزائے موت نہیں دے سکتا آئی سی جے میں بھارت نے پاکستان کی پیش کردہ ہر دلیل کی کاٹ پیش کی عدالت نے پاکستان کی جم کر کھینچائی کی ہے اور اسکی تمام دلیلوں کو مسترد کردیا بھارت شروع سے ہی ہے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ یہ معاملہ ویانہ معاعدہ کے تحط آتا ہے ۔جس کی تصدیق آئی سی جے نے کردی ہے اور صاف کردیاہے جادھو کو سفارتی مدد حاصل کرنے کا پوار حق ہے ۔بھارت ویانہ کنشن کی دلیل دے رہاتھا تو وہیں پاکستان کا کہنا تھا کہ جاسوسی اور دہشت گردی کے معاملے میں یہ حق نہیں دیا جاسکتا ۔پاکستان دکھاوے کیلئے بھلے ہی یہ کہہ رہاہو جادھو کو اپنی پھانسی کے خلاف اگست تک اپیل کرنا کا وقت ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی طرح کے قاعدے قانون کو نہیں مانتا ۔اس کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ جادھو کی مبینہ گرفتاری کے بعد بھی باقاعدہ طور سے بھارت کو اس بارے میں کوئی جانکای نہیں دی ہے ایسے میں اس کے انصاف نظام پر کیسے بھروسہ کیاجاسکتاہے ؟جادھو کے معاملے میں فیصلہ وہاں کی فوجی عدالت نے ایک طرفہ مقدمے سے سنا یا ہے ۔اس عدالت کی کارروائی کی کسی کو جانکاری نہںے دی ایک طرح سے دیکھیں تو عدالت نے ہندوستان کی ابتدائی دلیلوں کو منظور کرلیا او رپاکستان کی ساری دلیلیں مسترد کردی لیکن اس کے ساتھ ہی یہی بھی سچائی ہے کہ عدالت نے صاف کردیاہے کہ ابھی معاملے میں کیسا صحیح ہے اور کیا غلط ہے وہ ابھی اپنی رائے نہیں دی رہی ہے ۔ بس ایک انترم فیصلہ دے رہی ہے جادھو معاملے میں پاکستان پوری طرح پھنس گیا ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف بین الاقوامی دباؤ اور گھریلو سیاست کے نشانہ کے درمیان تناؤ میں رہیں گے،لیکن اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج موقوف کیا رہتاہے ؟بھارت اب اسلام آباد میں اپنے ہائی کمشنر کے ذریعہ جادھو سے ملنے کیلئے جلد سے جلد کوشش کرنے والا ہے پاکستان اصل میں اب دو دھاری پر کھڑا ہے ۔ آئی سی جے کے بعد وہ زیادہ دن تک گمراہ نہیں کرسکتا فیصلہ نہ ماننے پر امریکہ اور دوسرے ملکوں کا دباؤپڑے گا حالانکہ فیصلے کے بعد پاکستانی فوج نے ابھی تک کوئی سرکاری بیان نہیں دیاہے وہاں کے مخالف اور میڈیا شریف حکومت کی تنقیدکررہے ہیں ۔پاک اخبار ڈون سے بات کرتے ہوئے جسٹس اشفاق عثمانی نے بتایا یہ فیصلہ خطرناک ہے کیونکہ یہ آئی سی جے کے دائرے اختیار میں نہیں تھا پاکستان نے بڑی غلطی کی ہے کہ وہ کورٹ میں چلاگیا اور اسے وہاں نہیں جانا چاہئے تھا اور اس نے ایک طرح سے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے ۔لندن میں مقیم ایک اور وکیل بیرسٹر راشد عالم نے کہا کہ پاکستان کی تیار ی بے حد خراب تھی اور اس نے نویں منٹ کا صحیح ڈنگ سے استعمال نہیں کیا پاکستان کے پاس کے یہی وقت تھا لیکن اس نے 40 منٹ بر باد کردیا اگر وکیلوں کی بات کریں تو 61سالہ ہندوستانی وکیل ہریش سالوے کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے انھوں نے 15لاکھ فیس لینے والے وکیل سالوے نے دیش کی ساکھ کی خاطر صرف ایک روپے میں کیس داخل کیا کلبھوشن کے معاملے میں ویانہ معاعدے کی دھجیاں اڑانے والے پاکستان کو اس وقت خیال آیا جب اس کے سفارتخانے کے دو اسٹاف ممبر وں کو افغانستان کی خفیہ ایجنسی نے حراست میں لے لیا پاک نے افغانستان پر 1961کی ویانہ معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا اور بھارت نے بیشک اس اہم جنگ میں ایک لڑائی جیتی ہے لیکن ابھی آخری جنگ جیتنا ضروری ہے اگر جادھو کیس میں پاک آئی سی جے کے فیصلے پر عمل نہیں کرتا تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ بھارت کے پاس اس صورت میں کیا متبادل ہے ؟ایسی صورت حال میں بھارت کے پاس سیکورٹی کونسل میں جانے کا متبادل ہوگا اور اقوام متحدہ کے چاٹر کی دفعہ 94میں صاف لکھا گیا ہے کہ سبھی ممبران کو ان سبھی معاملے میں آئی سی جے کے احکامات کی تعمیل کرنی ہوگی جس میں وہ فریق ہے اگر کوئی پارٹی یا فریق فیصلہ پر عمل کرنے میں ناکام رہتا ہے تودوسرا فریق یاپارٹی سیکورٹی کونسل میں اپنا موقوف رکھ سکتا ہے لیکن ایسے فیصلے حقیقت میں تبھی عمل در آمد ہوتے ہیں جب متعلقہ دیش اس کو ماننے کیلئے رضامندی دیں ۔آئی سی جے کے فیصلہ پر پاک بری طرح بوکھلا یا ہواہے پاک محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عالمی عدالت کا فیصلہ ابھی عارضی ہے اس نے سنجید گی سے معاملے پر غور نہیں کیا پاکستان اس فیصلے کو نہیں مانے گا کیونکہ یہ دیش کے مفادات کے مطابق نہیں ہے انھو ں نے کہا بھارت اصلی چہرہ چھپا رہا ہے ۔اسی درمیان پاکستانی وکیلوں اور پاک پیلز پارٹی نے یہ کہہ کر سرکار کی زبردست تنقید کی ہے کہ وہ حقائق کو پیش کرنے میں ناکام رہی ہے ۔جیسا میں نے کہا کہ کلبھوشن جادھو کی اس جنگ میں فی الحال بھارت نے پہلی لڑائی جیتی ہے ،ابھی جنگ جیتنا باقی ہے دوستو!
(انل نریندر)