26 اکتوبر 2018

حیرت انگیز :سی بی آئی بولی جانچ کے نام پر وصولی ہورہی تھی

مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی کے اندر رسہ کشی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے آخر اس میں ہوکیا رہا ہے؟ ادارہ میں رونما واقعات اتنی تیزی سے ہورہے ہیں اور موڑ لے رہے ہیں کہ روز نئی نئی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سی بی آئی میں نمبر ون اور نمبر دو کے افسروں کے بیچ چلے تنازع کے بعد اب دونوں کو ہی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔ ایجنسی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ایم نگیشور راؤ انترم ڈائریکٹر بنائے گئے ہیں۔ آلوک ورما نے نگیشور راؤ کو سی بی آئی کا انترم ڈائریکٹر بنانے کے سرکار کے فیصلہ کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔ ساتھ ہی خود کو چھٹی پربھیجے جانے کے سرکار کے فیصلہ کو بھی عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ عدالت جمعہ کو ان کی عرضی پرسماعت کرے گی۔ اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا کہ خلاف مقدمہ کی جانچ کررہے افسر اے کے بسی کا مفاد عامہ میں پورٹ بلیئر( کاضاپٹنی) میں تبادلہ کردیا گیا ہے۔ جان کاری کے مطابق بدھوار کو دن بھر ہلچل جاری رہی۔ سینٹرل ویجی لنس کمیشن (سی وی سی) میں ہوئی میٹنگ میں ڈائریکٹر آلوک ورما اور اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا کو چھٹی پر بھیجے جانے کی رائے ظاہر کی گئی۔ اس کے بعد ڈائریکٹر آلوک ورما کو مرکزی سرکار کے گلیاروں میں بلایاگیا اور انہیں یہ اشارہ دے دیا گیا رات میں کیبنٹ کی تقرراتی کمیٹی نے انترم آرڈر جاری کردیا ہے۔ دیر رات میں ہی سی بی آئی ہیڈ کوارٹر میں 10 ویں اور 11 ویں منزل کو سیل کردیا گیا۔ بتادیں انہی دو منزلوں میں ورما اور استھانا کے دفتر ہیں اور جانچ کی اہم فائلیں ہوتی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ دونوں افسروں سے پی ایم مودی کی ملاقات کے بعد ہی معاملہ اورگرمائے جانے سے پی ایم مودی کافی ناراض تھے۔ ڈی ایس پی دیویندر کمار کا سات دن کا سی بی آئی ریمانڈ ملنے اور ہائی کورٹ میں استھانا کی عرضی پر 29 تاریخ تک روک لگنے کے بعد سرکاری محکموں میں ہلچل تیز ہوگئی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ سی بی آئی میں ورما اور استھانا کے درمیان لڑائی میں دوسری ایجنسیوں اور کئی سرکاری محکموں کو بھی اپنی زد میں لے لیا۔ان میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ، انٹیلی جنس بیورو، سینٹرل ویجی لنس کمیشن، ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (راء) ہی نہیں بلکہ حکمراں اداروں کے کئی ویجی لنس ایجنسیاں بھی شامل ہیں۔ گجرات کیڈر کے آئی پی ایس افسر استھا نا پی ایم مودی سے نزدیکیوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ دو سال پہلے مودی ہی انہیں انترم ڈائریکٹر بنا کر سی بی آئی میں لائے تھے۔ مانا تو یہ جارہا تھا کہ ورما کے بعد استھانا ڈائریکٹر بنیں گے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ استھانا کے خلاف اتنی بڑی مہم ورما نے اپنے دم پر چھیڑی ہے اور ان پر کسی کا ہاتھ ہے؟ یہ محض اتفاق ہی ہوسکتا ہے کہ استھانا کے خلاف سی بی آئی کے ذریعے کرپشن میں ایف آئی آر ہونے کے دو دن بعد ہی اسٹرلنگ بایوٹیک کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے پانچ ہزار کروڑ روپے کے گھپلہ میں چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ منگل کو ہی خبریں آئی تھیں کہ اس کمپنی کے مالک چیتن سندیسرا نے 2016 میں ہوئی استھانا کی بیٹی کی شادی کا سارا خرچ اٹھایا تھا۔ پچھلے دنوں ای ڈی بھی تنازع میں رہا اور اس کے جوائنٹ ڈائریکٹر نے مالیاتی سکریٹری ہنسمکھ ادھیا کے خلاف سنگین الزام لگائے۔ بھاجپا ایم پی ڈاکٹر سبرامنیم سوامی بھی اکثر ای ڈی کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ منگل کی شام کو سوامی نے ٹوئٹ کر اقتدار کے گینگ آف فور پر انگلی اٹھائی ہے جو ان کے مطابق جولائی2009 سے پہلے راء ، سی بی آئی انکم ٹیکس ریزرو بینک اور ای ڈی جیسی بڑی ایجنسیوں میں اپنے لوگ بٹھانا چاہتے ہیں تاکہ اگر بھاجپا کو 2019 لوک سبھا چناؤ میں 220 سے کم سیٹیں ملتی ہیں تو کانگریس کے تئیں کسی نرم گو شخص کو پی ایم کی کرسی پر بٹھایا جاسکے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا کہ استھانا کے خلاف درج معاملہ میں دو اہم ملزم سومیش پرساد اور منوج پرساد کے والد دیویشور پرساد راء کے سینئر افسر رہے ہیں اور یہ دونوں جانچ ایجنسیوں میں اپنے روابط کے ذریعے بڑے معاملوں میں دلالی کیاکرتے تھے۔ یہ ہی نہیں ایف آئی آر میں راء کے اسپیشل سکریٹری سامنت گوئل کا بھی نام ہے۔ وہیں سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما کے خلاف اپنی شکایت استھانا لگاتار سی بی سی کو بھیجتے رہے ہیں لیکن ابھی تک سی بی سی نے دونوں سینئر افسر کے خلاف نہ تو کوئی کارروائی کی اور نہ ہی بیچ بچاؤ کا کوئی راستہ نکالا۔ اب مانا جارہا ہے کہ یہ سرکار کے ہی سینئر لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری ایک کمیٹی کرتی ہے اور اس کمیٹی میں پی ایم ، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر (اس بار سب سے بڑے اپوزیشن کے نیتا) اور دیش کے چیف جسٹس ہوتے ہیں۔ ورما کی تقرری کو اسی کمیٹی نے منظوری دی تھی اس لئے ماہرین کا خیال ہے کہ ورما کو اس طرح ہٹانا نہ صرف غلط ہے بلکہ غیر آئینی بھی ہے۔ اسی بنیاد پر ورما نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ کانگریس کا تو یہ بھی کہنا ہے کیونکہ ورما رافیل ڈیل سے متعلق دستاویزوں کی جانچ کررہے تھے اس لئے انہیں غیر قانونی طریقے سے فوراً ہٹا دیا گیا۔ سی بی آئی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ دیویندر کمار نے پٹیالہ کورٹ میں واقع سی بی آئی کی اسپیشل عدالت میں جج سنتوش سنیہی مان کی عدالت میں کہا کہ سی بی آئی اب رشوت خوری اور جانچ کے نام پر وصولی کرنے والی ایجنسی بن گئی ہے۔ عدالت نے کہا یہ بیحد چونکانے والی بات ہے کہ دیش کی سب سے اہم ترین ایجنسی مانی جانے والی سی بی آئی کو اختیار پر جانچ کے نام پر ناجائز وصولی کا گروہ چلانے جیسے الزام لگے ہیں۔ اس سے پہلے کورٹ نے سی بی آئی نے ڈی ایس پی دیویندر کمار کو 10 دن کی حراست پر دینے کی مانگ کی تھی۔ سی بی آئی کا کہنا تھا کہ دیویندر کمار کے گھر اور دفتر سے قابل اعتراض دستاویز ملے ہیں اور ان کی جانچ ضروری ہے۔ دیش کو یہ دن بھی دیکھنا پڑا ہے یہ انتہائی دکھ کی بات ہے۔
(انل نریندر)

25 اکتوبر 2018

کیا عدالتی حکم سے پٹاخے چلنے بند ہوں گے

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ 7 نومبر کو دیوالی کے موقعہ پر آلودگی اور کاروبار کے درمیان توازن بنائے رکھتے ہوئے رات8 بجے سے 10 بجے کے درمیان پٹاخہ چھوڑے جاسکتے ہیں۔ منگل کو سنائے گئے اپنے فیصلہ میں اس نے پٹاخوں کی فروخت پر بھی پوری طرح پابندی لگانے سے منع کردیا ہے لیکن اس بارے میں عدالت نے کچھ شرطیں ضرور طے کردی ہیں۔ عدالت نے صاف کیا ہے کہ پٹاخہ صرف لائسنس یافتہ کاروباری ہی بیچ سکتے ہیں۔ وہ بھی آلودگی کو کم سے کم نقصان پہنچانے والے پٹاخہ۔ ان کی آن لائن بکری پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔ عدالت نے دیوالی کے دن پٹاخہ چھوڑنے کی وقت میعاد بھی طے کردی ہے۔ دیوالی جیسے تہوار کے موقعہ پرخوشیوں کا اظہار کرنے کے لئے بہتر کھانے پینے اور روشنی کی سجاوٹ سے پیدا جگ مگ کے علاوہ کان پھوڑ پٹاخوں کا سہارا لوگوں کو کچھ دیر کی خوشی تو دے سکتا ہے لیکن اس کا آلودگی پر وسیع اثر ہوتا ہے۔ پٹاخوں کی آواز اور دھوئیں کی آلودگی سمیت لوگوں کی صحت پر پڑنے والے خطرناک اثر کے پیش نظر ان سے بچنے کی صلاح لمبے عرصے سے دی جاتی رہی ہے۔ زیادہ تر لوگ ان سے ہونے والے نقصانات کو سمجھتے بھی ہیں مگر ان سے دور رہنے کی کوشش نہیں کرتے۔ خاص کر بچوں میں بم چھوڑنے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ ہوائی راکٹ اڑانے کے لئے بوتلوں میں اسے رکھ کرمزہ لیا جاتا ہے۔ بیشک ماحولیاتی ماہرین سے لیکر کئی بیدار شہریوں نے اس معاملہ پر لوگوں کو سمجھانے سے لیکر پٹاخوں پر روک لگانے کے لئے عدالتوں تک کا سہارا لیا ہے لیکن اس میں شبہ ہے کہ ان پر پوری طرح سے روک لگانا ناممکن ہو؟مشکل یہ ہے کہ انہیں روکنے کیلئے ہمارے پاس اتنی مین پاور نہیں ہے کہ وہ گھر گھر جاکر لوگوں کو بم چھوڑنے سے روک سکے۔ ہاں بھاری بموں اور ایسے پٹاخے جو آلودگی کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں، جیسے لڑیاں ان پر پابندی لگنی چاہئے تو شاید اس میں کمی آئے گی لیکن پھر سوال یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ پٹاخوں کا کاروبار کروڑوں، اربوں روپے کا ہے اور اس میں لاکھوں لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ مالی اعتبار سے بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ اب ایکو فرینڈلی پٹاخہ بھی آگئے ہیں۔ ان سے نہ تو آواز کی آلودگی ہوتی ہے اور نہ ہی ہوائی آلودگی پر اتنا اثر پڑتا ہے۔ یہ اتنی مقدار میں دستیاب نہیں ہوتے۔ پٹاخوں کا دھواں اور شور اپنے پیچھے کئی طرح کی بیماریاں اور آلودگی کے لئے طول المدت نقصان چھوڑ جاتا ہے۔ اگر خوشی ظاہر کرنے کے لئے ایسے طور طریقوں کا سہارا لیا جائے تو بغیر کسی امتیاز کے ماحول کو وسیع نقصان سے بچایا جاسکتا ہے۔ مسئلہ تو صرف حل کا ممکن ہے لیکن سماج کو بھی سمجھنا ہوگا۔
(انل نریندر)

پیشہ ور نوجوانوں کاچناؤ میں بڑھتا کریز

جیسے جیسے چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش و راجستھان میں اسمبلی انتخابات کی تاریخیں قریب آرہی ہیں ٹکٹوں کے لئے گھمسان مچا ہوا ہے۔ چھتیس گڑھ میں پہلے مرحلہ (1 نومبر) میں مشکل سے 6-7 دن بچے ہیں۔ سنیچر کے روز بھاجپا نے چھتیس گڑھ کی 90 میں سے 18 سیٹوں پر امیدوار طے کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ بھاجپا کے ذریعے جاری کردہ فہرست کے مطابق وزیر مہلا ڈیولپمنٹ وبھاگ رمشیلا ساہو سمیت 14 ممبران اسمبلی کے ٹکٹ کاٹ دئے گئے ہیں۔ سینٹرل چناؤ کمیٹی کی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی ، پارٹی صدر امت شاہ ، وزیر اعلی ڈاکٹر رمن سنگھ و دیگر نیتا شامل ہوئے۔ کانگریس میں جہاں دعوی کیا جارہا ہے کہ پانچ ریاستوں کے چناؤ میں امیدواروں کے ٹکٹ طے کرنے میں لگی پارٹی اپنے ٹکٹ دعویداروں میں پیشہ ور نوجوانوں کی بڑی دلچسپی سے زیادہ گد گد ہے۔ ان پانچ ریاستوں میں خاص کر راجستھان، مدھیہ پردیش، تلنگانہ جیسے صوبوں سے آئی آئی ٹی گریجویٹ ،ایم بی بی ایس، ایم بی اے اور سول سروس امتحان میں انٹرویو تک دے چکے نوجوان چناؤ میدان میں اترنے کے لئے کانگریس کا ٹکٹ مانگ رہے ہیں۔ اپنی دعویداری کے حق میں راہل گاندھی کے پروفیشنل کے سیاست میں آنے کی اپیل کا حوالہ بھی دے رہے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان آر پی این سنگھ نے پیشہ وروں کے ٹکٹ مانگنے میں بڑی دلچسپی پر کہتے ہیں کہ یہ نوجوانوں میں وزیر اعظم نریندر مودی سے دلچسپی ختم ہونے کے صاف اشارہ ہیں۔ ان کے مطابق پڑھے لکھے نوجوانوں کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ کانگریس کی پالیسیاں اور آئیڈیالوجی ہی دیش کی ترقی کے لئے سب سے صحیح راستہ ہے۔ آر پی این سنگھ اسے راہل گاندھی کی سبھی سیکٹر کے پیشہ ور نوجوانوں سے سیاست میں آنے کی اپیل کا بھی کافی اثر مانتے ہیں۔ اور کہتے ہیں جہاں ممکن ہو نئے چہروں کو پارٹی ٹکٹ دینے میں پرہیز نہیں کرے گی۔ ایک دلچسپ خبر: مدھیہ پردیش کے جھابوا ضلع میں دیسی اور انگریزی شراب کی بوتلوں پر پولنگ بیداری کے میسجز چھپوائے گئے ہیں۔ ان پر قبائلی زبانوں میں لکھا ہے اس کا ہندی میں مطلب ہے ’’سبھی کو ووٹ دینا ضروری ہے۔ بٹن دبانا ہے،ووٹ ڈالنا ہے‘‘ اس کے نیچے ضلع چناؤافسر جھابوا کا حوالہ دیا گیا ہے۔ شراب کی بوتلوں پر چپکے ان اسٹیکروں سے شہر میں نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ادھر محکمہ شراب ضلع انتظامیہ ایک دوسرے پر اس کی ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔ ضلع شراب سپلائی افسر ابھیشیک تیواری نے بتایا کہ ضلع میں دو لاکھ اسٹیکر چھپوائے گئے ہیں۔ شہر کے شراب ٹھیکوں پر بوتلوں پر چپکانے کے لئے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ پوری کارروائی کلکٹر آشیش سکسینہ کی ہدایت پر کی گئی ہے۔ وہیں کلکٹر سکسینہ نے اس بات سے پلہ جھاڑتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں محکمہ شراب افسران سے ہی سوال کریں۔ 
(انل نریندر)

24 اکتوبر 2018

سی بی آئی نے اپنے نمبر 2 افسر پر کیس درج کیا

تمام جرائم کی جانچ کرنے والی دیش کی سپریم جانچ ایجنسی سی بی آئی نے ایک غیر متوقع واقعہ میں اپنے ہی نمبر2 کے افسر اسپیشل ڈائریکٹر راکیش آستھانہ کے خلاف ایف آئی آر درج کر ایجنسی میں نئی تاریخ رقم کرڈالی۔الزام ہے کہ میٹ ایکسپورٹر معین قریشی سے میٹ معاملہ میں کلین چٹ دینے کے نام پر رشوت لینے کا الزام لگا ہے۔ سی بی آئی نے اس معاملہ میں خود لیٹر جاری کر اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ دو مہینے پہلے آستھانہ نے کیبنٹ سکریٹری سے سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما کے خلاف یہی شکایت کی تھی۔ سی بی آئی نے ستیش سانا کی شکایت کی بنیاد پر 15 اکتوبر کو اپنے اسپیشل ڈائریکٹر آستھانہ کے خلاف ایف آئی آر2018 کی آر سی13(A) درج کی۔ میٹ کاروباری معین قریشی کی مبینہ ملوث سے وابستہ 2017 کے ایک معاملہ میں جانچ کا سامنا کررہے سانا نے الزام لگایا ہے کہ آستھانا نے کلین چٹ دلانے پر مبینہ طور پر مدد کی تھی۔ سی بی آئی نے بچولئے سمجھے جانے والے منوج پرساد کو بھی 16 اکتوبر کو ممبئی سے لوٹنے پر گرفتار کیا تھا۔ حالانکہ جانچ ایجنسی اس پورے معاملہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ استھانا نے بھی اسی کیس میں سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما پر دو کروڑ روپے رشوت لینے کا الزام لگا کر 24 اگست کو کیبنٹ سکریٹری کو شکایت کی تھی۔ سی بی آئی کے ترجمان ابھیشیک دیال نے بتایا کہ حیدر آباد کے باشندے ستیش بابو سانا کی شکایت پر استھانا سی بی آئی، ایس آئی ٹی کے ڈی ایس پی دیویندر کمار کے علاوہ منوج پرساد ،پرمیشور پرساد اور نامعلوم لوگوں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔ الزام یہ بھی ہے کہ دسمبر 2017 سے اکتوبر 2018 کے درمیان کم سے کم پانچ بار رشوت کی رقم لی گئی۔ قابل ذکر ہے کہ معین قریشی کیس کی جانچ استھانا کی قیادت میں ایس آئی ٹی کررہی ہے۔ سی بی آئی میں ڈائریکٹر آلوک کمار ورما کے بعد استھانا ہی دوسرے سب سے بڑے افسر ہیں۔ ذرائع کے مطابق سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما ایتوار کی دیر شام پی ایم نریندر مودی سے ملاقات کر انہیں پورے معاملہ کی جانکاری دی ہے۔ گجرات کیڈر کے آئی پی ایس افسر راکیش استھانا اس اسپیشل ٹیم کی رہنمائی کررہے ہیں جو اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر گھوٹالہ اور صنعتکار وجے مالیا کے ذریعے لئے گئے قرض میں دھوکہ دھڑی جیسے معاملہ دیکھ رہا ہے۔ کیونکہ دونوں ہی افسر ایک دوسرے پر کرپشن کے معاملوں کی جانچ میں ہیرا پھیری کرنے کا الزام لگا رہے ہیں اس لئے اگر عام لوگ دونوں کی ایمانداری کو مشتبہ سمجھیں تو اس کے لئے انہیں قصوروار نہیں قرار دیا جاسکتا کیونکہ اتنا تو تقریباً ثابت ہوتا ہی ہے کہ سی بی آئی میں بھی کرپشن چلتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کرپشن کے بڑے معاملوں کی جانچ میں سی بی آئی کا ریکارڈ بہت اچھا نہیں ہے۔ اس کیس سے جانچ ایجنسی کی ساکھ تو بگڑی ہی ہے ساتھ ساتھ اس کے بھروسے پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہورہا ہے۔ اب تک ہر کیس سی بی آئی کو دینے کی مانگ اس لئے اٹھتی تھی کیونکہ جنتا کو یہ یقین تھا کہ یہ ایک ایسی ایجنسی ہے جو منصفانہ اورصحیح جانچ کرے گی۔ اصل قصورواروں کا پردہ فاش کرے گی ۔ اگر سی بی آئی کو اپنی ساکھ بچانی ہے اور اپنا بھروسہ برقرار رکھنا ہے تو اس معاملہ کو دبانے کے بجائے اس کی تہہ تک پہنچنا ہوگا اور دیش کو بتانا ہوگا کہ سچائی کیا ہے؟ ویسے یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ دیش کی سپریم جانچ ایجنسی خود ہی اس طرح کے الزامات میں گھر جائے۔
(انل نریندر)

آتنکی فنڈ سے بن رہے ہیں مسجدیں اور مدرسے

آتنکی فنڈ سے مسجدوں اورمدارس کی تعمیر و اس کے ذریعے سے کٹر پسندی پھیلانے کی سازش کا پردہ فاش ہوا ہے۔ دراصل یہ پچھلے مہینے نیشنل جانچ ایجنسی (این آئی اے) نے راجدھانی دہلی میں لشکر طیبہ کی آتنکی فنڈنگ کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ ملزمان سے پوچھ تاچھ کے دوران پتہ چلا کہ آتنکی پیسے کا جال صرف کشمیر میں ہی دہشت گردوں کو پیسہ مہیا کرانے تک محدود نہیں ہے۔ لشکر طیبہ مساجد اور مدرسوں کے ذریعے سے دیش کے اندرکٹر پسندی پھیلانے کی سازش کررہی ہے۔ آتنکی فنڈنگ کے لئے نظام الدین سے گرفتار محمد سلمان ہریانہ کے پلول ضلع کے ایک گاؤں میں مسجد کا امام بھی ہے۔ پوچھ تاچھ میں سلمان نے قبول کیا آتنکی پیسے کا استعمال اس نے مسجد ،مدرسہ بنوانے میں بھی کیا تھا۔ اس کے بعد این آئی اے نے مسجد کی تلاشی بھی لی تھی اور کئی دستاویزات بھی برآمد کئے تھے۔ این آئی اے نے سلمان کے ساتھ ساتھ حوالہ آپریٹر دریا گنج کے محمد سلیم عرف ماما اور سرینگر کے عبدالرشید کو بھی گرفتار کیا ہے۔ سلمان، سلیم اور رشید کو گرفتار کرنے کے بعد این آئی اے نے کوچہ گھانسی رام میں حوالہ آپریٹر راجا رام اینڈ کمپنی کے دفتر پر چھاپہ بھی مارا تھا۔ چھاپہ میں 1 کروڑ 56 لاکھ روپے نقد ، 47 ہزار روپے کی نیپالی کرنسی، 14 موبائل فون،5 پین ڈرائیو برآمد ہوئے تھے۔ این آئی اے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ برآمد موبائل فون ، پین ڈرائیو اور ہاڈ ڈسک کی جانچ اور گرفتار ملزمان سے پوچھ تاچھ کے بعد آتنکی فنڈ سے آئے پیسے مسجد اور مدرسوں میں لگانے کا پتہ چلا۔ پلول کے اوٹا بڑ میں بن رہی مسجد ’خلافائے رشیدن‘ میں ٹیرر فنڈنگ معاملہ کو لیکر این آئی اے کے انکشاف سے گاؤں کے لوگ حیران ہیں۔ ان کا کہنا ہے اس میں غلط پیسہ لگا ہے اس پر بھروسہ کرنا بیحد مشکل ہے لیکن این آئی اے کی ٹیم جانچ کررہی ہے تو کچھ تو گڑ بڑ ہوگی۔ مسجد تعمیر میں لگے راج مستری آس محمد کہتے ہیں یہ مسجد 2010سے بن رہی ہے اگر اس میں آتنکی تنظیموں کا پیسہ لگا ہوتا تو یہ مسجد ادھر میں نہیں ہوتی۔ پہلے ہی بن کر تیار ہوجاتی۔ ان برسوں میں مسجد میں رک رک کر کام چلتا رہا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ وسیم اکرم کا کہنا ہے اس معاملہ جانچ این آئی اے کررہی ہے۔ جب این آئی اے کی ٹیم آتی ہے تو وہ حفاظت کے لئے پولیس مانگتی ہے تو ان کی پوری حفاظت کی جاتی ہے۔ مگر جانچ کے معاملہ میں مقامی پولیس کا ابھی تک کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لگتا ہے پاک حمایتی یہ نیٹورک مدرسوں میں جدید تعلیم کو کسی قیمت پر لاگو نہیں ہونے دینا چاہتی ہے۔
(انل نریندر)

23 اکتوبر 2018

ٹرین سے کٹ کر موت کا سب سے بڑا حادثہ

ہے رام ! دسہرہ تہوار پر خوشیاں منا رہا دیش اس وقت ماتم میں ڈوب گیا جب امرتسر ٹریک پر کھڑے ہوکر جلتے راون کو ٹرین روند کر گزر گئی۔ راون دہن دیکھ رہے 63 لوگوں کو 10 سیکنڈ میں کچلتی چلی گئی۔ 142 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے، مرنے والوں کی تعداد سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 59 بتائی گئی ہے۔ دسہرہ جیسے تہوار پر اتنا خوفناک اور دل دہلانے والا حادثہ غم میں ڈوب جانے والا ہے کیونکہ اس میں دورائے نہیں اگر مقامی انتظامیہ نے ذرا بھی چوکسی اور سمجھداری کا ثبوت دیا ہوتا تو جوش خروش سے لبریز لوگوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جاسکتا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ جس وقت یہ حادثہ ہوا اس وقت جلتے راون کے پٹاخوں کی گونج سے ریلوے ٹریک پر کھڑے راون دہن دیکھنے والوں کو ٹرین کی سیٹی سنائی نہیں پڑی۔ نتیجتاً پلک جھپکتے ہی وہ تیز رفتار سے آرہی ٹرین کی زد میں آگئے۔ چوڑا بازار پھاٹک کے پاس دسہرہ پروو کے دوران راون دہن کے وقت 6:45 بجے میدان میں بھاری بھیڑ کے سبب لوگ ٹریک پر کھڑے ہوکر پروگرام دیکھ رہے تھے تبھی جالندھر۔ امرتسر ڈی ایم یو ٹرین آگئی۔ انجن ڈرائیور نے بار بار ہارن بجایا لیکن پٹاخوں کی آواز میں یہ دب گیا۔ مرنے والوں میں بچے، عورتیں اور نوجوان بھی ہیں۔ حادثے کے وقت ٹریک پر تقریباً 200 لوگ تھے ۔ ریلوے کی تاریخ میں ایسا خطرناک حادثہ کبھی نہیں ہوا۔واردات کی جگہ پر 150 میٹر تک لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ چوڑا بازار میں حادثہ کو کیا بچایا جاسکتا تھا؟ سوال اٹھ رہے ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ ٹرین کی پٹری کے بالکل قریب راون دہن کی اجازت کیوں اور کیسے ملی؟ دوسرا سوال انتظامیہ نے میلے کے لئے حفاظت کا ضروری بندوبست کیوں نہیں کیا، تیسرا سوال ضلع مجسٹریٹ نے ٹرینوں کی رفتار دھیمی رکھنے کے لئے ریلوے کو کیوں نہیں کہا؟ سوال نمبر چار میلہ کے دوران یہ یقینی کیوں نہیں کیا گیا کہ لوگ پٹری پر نہ جائیں۔ پانچواں سوال پولیس نے منتظمین کو پختہ حفاظتی انتظامات کو سمجھایا کیوں نہیں؟ منتظمین نے چھوٹے گراؤنڈ میں راون دہن کا انعقاد کیا تھا۔ لوگ ہزاروں کی تعداد میں وہاں پہنچے، یہ پروگرام کانگریس کے نیتاؤں نے کیا تھا لیکن انتظامیہ سے اجازت نہیں لی تھی۔ دسہرہ منتظمین کے لئے قاعدے بنے ہیں۔ بیٹھے کا انتظام، پارکنگ کے علاوہ فائربرگیڈ اور ایمبولنس ضروری ہے۔ بھیڑ کے باوجود انتظامیہ نے کچھ نہیں کیا۔ پروگرام کی جگہ پر سکیورٹی انتظاموں کی جانچ کے بعد پولیس اجازت دیتی ہے لیکن وہاں پولیس میں انتظاموں کو نظرانداز کیا۔ نوجوت کور نے پہلے پی اے کو بھیڑ دیکھنے بھیجا ، اس کے بعد وہ 6 بجے پہنچیں اور 6:40 تک بھاشن دیتی رہیں۔ 6:50 پر راون کا پتلا پھونکا، اتنے میں ٹرین آگئی۔ بعد میں نوجوت کولوگوں کو قصوروار بتاتی رہیں۔ حادثہ کے بعد وہ موقعہ سے چلی گئیں۔ ڈھائی گھنٹے بعد 9:20 پر ہسپتال پہنچی، وہاں کہا کہ کرسیاں خالی تھیں ، لوگ اونچی جگہ سے ویڈیو بنانے کے لئے ریلوے ٹریک پر کھڑے ہوگئے۔ اس دردناک حادثہ میں مرنے والے لوگوں میں زیادہ تر مزدور تھے۔ اس چوڑا پھاٹک کے پاس حادثہ ہوا اس کے آس پاس مقامی لوگوں کے علاوہ یوپی ۔بہار کے مزدور زیادہ تعداد میں رہتے ہیں۔ امرتسر کے قریب ہوا حادثہ ایک بار پھر یہ ظاہر کرتا ہے کہ انتظامیہ اور ساتھ ہی دھارمک پروگرام منعقد کرنے والے سبق سیکھنے سے انکار کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہی ہوسکتی ہے لاپروائی کو نظرانداز کرنا اور ڈسپلن کی کمی کے چلتے ہونے والے حادثہ کے لئے ذمہ دار لوگوں کو کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا جارہا ہے۔ ایسے مذہبی پروگراموں میں حادثوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ کبھی بھیڑ میں کچل جاتے ہیں ،تو کبھی ٹرین سے۔ بیشک اب جانچ ہوتی رہے، معاوضے دیتے رہیں، ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرتے رہیں پر جانے والے واپس آئیں گے نہیں۔ سبھی کو سوچنا چاہئے کہ جان بوجھ کر لاپروائی کے چلتے ہونے والے ایسے حادثہ سے لوگوں کی جان ہی نہیں لے رہے بلکہ دنیا میں بھارت کی ساکھ بھی گرا رہے ہیں۔ متوفین کو ہماری شردھانجلی۔
(انل نریندر)

مالی تنگی سے پریشان چار بہن بھائیوں نے لگائی پھانسی

امرتسر ٹرین حادثہ کے غم سے ابھی ہم سنبھل نہیں پائے تھے کہ فریدآباد کے واقعہ نے ہمیں پریشان کردیا۔ غریبی اور فاقہ کشی سب سے بڑا دکھ ہے۔ دل دہلانے والی یہ واردات فرید آباد کی ہے۔ عیسائی فرقہ کے ایک کنبہ کے چار بہن بھائیوں نے دیال باغ (سورج کنج) کے ایک فلیٹ میں پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ فلیٹ سے بدبو آنے پر سنیچر کی صبح ساڑھے سات بجے پڑوس میں بنے پلے اسکول انتظامیہ نے پولیس کوجانکاری دی تو پولیس نے دروازہ توڑ کر گھر میں دیکھا کہ ایک کمرہ میں ایک خاتون کی لاش پھندے سے لٹکی تھی۔ہال میں دو پھنکوں سے دو عورتوں کی لاش لٹکی پڑی تھی جبکہ پیچھے کمرہ میں ایک لڑکے کی لاش لٹکی ملی۔ ان کی پہچان مینا، بینا، جیا اور پردیپ کی شکل میں ہوئی۔ موقعہ سے 18 اکتوبر کو لیکھا ایک خودکشی نامہ ملا ہے جس میں ماں باپ و چھوٹے بھائی کی موت اور مالی تنگی کو خودکشی کا سبب بتایا گیا ہے۔ چاروں ہی غیر شادی شدہ اور بے روزگار تھے۔ پولیس نے بتایا بنیادی طور سے کیرل کے باشندے جے جے میتھیو کئی سال سے پریوار سمیت فرید آباد میں رہ رہے تھے۔ میتھیو کی بیوی ایگنیس ہریانہ ٹورازم میں پانچ ستارہ ہوٹل راج ہنس میں کام کرتے تھے اور وہ ریٹائر ہو چکے تھے۔ اپریل میں میتھیو کی اور جولائی میں ایگنیس کی موت ہوگئی تھی۔ اگست میں ان کے بیٹے سنجو کی بھی ایک حادثہ میں موت ہوگئی تھی۔ پانچ ماہ سے پریوار کے تین افراد کی موت کے بعد چاروں بہن بھائی ڈپریشن میں تھے۔ دیال باغ میں اجتماعی خودکشی کرنے والے میتھیو خاندان میں سبھی خوش مزاج اور دل کھول کر خرچ کرنے والے تھے۔ جے جے میتھیو نے کبھی بچت کرنے کی نہیں سوچی۔اور ماضی میں کھل کر جینے کی سوچی تھی لیکن ان کی موت کے سات ماہ بعد ہنستال کھیلتا خاندان موت کے منہ میں چلا گیا۔ ان کی بیوی ایگنیس تینو بیٹیوں کو راہبہ بنانا چاہتی تھی اس لئے ان کی شادی نہیں کی تھی۔ ہوٹل راج ہنس کے اسٹاف کوارٹر میں رہنے والے میتھیو خاندان کے پڑوسی جب بچوں کی شادی کا ذکر کرتے تھے تو ایگنیس چپ کرا دیتی تھی۔ اتنا ہی نہیں پڑوسیوں نے پردیپ اور منجو کی کئی بار نوکری لگوائی لیکن وہ چھوڑ کر آگئے۔ چاروں نے خودکشی نامہ میں اپنی آخری خواہش ظاہر کی۔ ان کا انتم سنسکار براڑی دہلی کے قبرستان میں کیا جائے۔ فادر روی کوٹا نے بتایا کہ ان کے ماں باپ اور بھائی کو بھی اسی قبرستان میں دفنایا گیا تھا۔ سوسائٹ نوٹ میں لکھا ہے کہ گھر میں رکھا سنجو کا کچھ سامان بی پی مشین، چار کمبل، وہیل چیئر، کچھ نئے برتن، ڈنر سیٹ عطیہ میں دے دیں اور انورٹر فادر چرچ کے لئے رکھ لیں ۔ انہوں نے لکھا کہ برے وقت میں مدد کرنے والے سنجو کے دوستوں جوشی انکل و آنٹی ارچنا، فادر سمن، فادر روی کوٹااور ہوٹل راج ہنس کے اسٹاف نے ہماری بہت مدد کی ان سبھی کا دل سے شکریہ۔
(انل نریندر)

21 اکتوبر 2018

تیواری کا جانا ایک اصلاح پسند عہد کا خاتمہ

نارائن دت تیواری ہمارے بیچ نہیں رہے۔ تیواری جی کا جانا میرے لئے ایک بھاری نقصان ہے۔ ابھی بیمارہونے سے پہلے ہی وہ میرے نواس پراجولا جی کے ساتھ آئے تھے۔ لمبے عرصے سے بیمار چل رہے تیواری جی نے اپنی آخری سانس جمعرات 18 اکتوبر کولی۔ اتفاق دیکھئے کہ 18 اکتوبر ہی ان کی 93 ویں سالگرہ تھی وہ 18 اکتوبر 1925 ء میں پیدا ہوئے اور 18 اکتوبر 2018 کو ان کا دیہانت ہوگیا۔ این ڈی تیواری کوطویل ہندوستانی سیاست میں الگ طرح سے دیکھا جاتا تھا۔ 17 برس کی نوعمری میں کھیل کے بجائے نارائن دت تیواری نے آزادی کی لڑائی کو چنا۔ پہلے نینی تال اور بعد میں بریلی جیل میں تیواری جی نے کئی طرح کے کاموں سے برطانوی حکومت کو سیدھی چنوتی دی۔ انہوں نے اپنی پرجا سوشلسٹ پارٹی سے ممبر اسمبلی بنے اور کانگریس میں شامل ہونے کی داستان الگ ہے۔ وہ دو ریاستوں اترپردیش ۔اترا کھنڈ کے وزیر اعلی بننے والے اکیلے لیڈر تھے۔ نارائن دت تیواری کی پیدائش نینی تال کے بلوتی گاؤں میں ہوئی تھی۔ ان کے والد پون آنند تیواری سرکاری محکمہ میں افسر تھے۔ انہوں نے سول نافرمانی تحریک کے دوران نوکری سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ این ڈی تیواری کی سیاست میں اینٹری تحریک آزادی کے ذریعے تھے۔ 1947 میں آزادی کے سال میں ہی وہ الہ آباد یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے صدر چنے گئے۔ دیش آزادہوا اور تیواری بھی اترپردیش میں 1952 میں ہوئے پہلے اسمبلی چناؤ میں نینی تال سے پرجا سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر چناؤ لڑے۔ یوپی کا پہلا چناؤ تھا اورتیواری نے جیت کے ساتھ پرچم لہرایا۔ اس کے بعد سے ان کا لمبا سیاسی سفر شروع ہوا۔ وہ دو ریاستوں کے وزیر اعلی رہنے کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر بھی رہے۔ انہوں نے سال2014 میں اجولا شرما سے 88 برس کی عمر میں شادی کی تھی۔ قریب 60 سال کے سیاسی سفر میں این ڈی تیواری نے کئی طرح کے اتار چڑھاؤ دیکھے۔ ان کی نجی زندگی میں کئی ذاتی تنازع بھی پیدا ہوئے۔ تیواری جی اس وقت کی سیاست کے سب سے زیادہ نرم گو لیڈروں میں سے ایک تھے۔ اسی نرم گوئی کے سبب کئی تنازعوں سے انہوں نے کوئی ایسا دھماکہ نہیں ہونے دیا۔ وہ سیاست میں حریف اور اپنی پارٹی کے ممبران اسمبلی و نیتاؤں کو برابر عزت دیا کرتے تھے۔ حالانکہ اس طرح کی عزت کے سبب کئی دوسرے تنازع بھی پیدا ہوتے رہے ہیں۔ تیواری کے اس سیاسی طریقہ کار کے سورگیہ پردھان منتری اٹل بہاری واجپئی بھی قائل تھے۔ 2003 میں تیواری نے وزیر اعظم واجپئی کا نینی تال زور دار خیر مقدم کیا اور اس سے خوش ہوکر اٹل جی نے تیواری کو اتراکھنڈ کی ترقی کے لئے کئی طرح کی رعایتیں دی تھیں۔ آگے چل کر ان رعایتوں نے سڈکل کے قیام میں اہم ترین تعاون دیا تھا۔ یہ ہی نہیں پلاننگ کمیشن نے تیواری کیساتھ کام کرچکے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے رشتوں کا بھی فائدہ تیواری لینے سے نہیں چوکے۔ تیواری جی کے جانے کا ہمیں بہت دکھ ہے۔ بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے۔ اوم شانتی اوم۔
(انل نریندر)

جمال خشوگی کا قتل؟ سعودی شبہ کے دائرے میں

سعودی عرب کے جانے مانے صحافی جمال خشوگی سعودی عرب کے طاقتور شہزادے سلمان کے بیٹے شہزاد محمد کی پالیسیوں کی تلخ نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔ ان کی شادی ہونے والی تھی۔ اس سے وابستہ کچھ کاغذات لینے کے لئے2 اکتوبر کو وہ ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں گئے تھے۔ اس کے بعد سے ہی وہ لاپتہ ہیں۔ ترکی کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے پولیس کے مطابق 15 سعودی حکام کی مخصوص ٹیم نے خشوگی کا قتل کردیا اور انہیں اس کام کے لئے خاص طور سے اسنبول بھیجا گیا تھا۔ وہیں ریاض کا کہنا ہے کہ خشوگی قونصل خانے سے صحیح سلامت نکلا تھا۔ ’دی ٹائمس‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس نے پتہ لگایا ہے کہ ان 15 میں سے9 افسران سعودی سکیورٹی سروسز اور فوج و سرکاری وزارتوں میں کام کرتے تھے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایک مشتبہ شخص عبدالعزیز متربے 2007 میں لندن سے سعودی سفارتخانے میں سفیر تھا۔ پرنس محمد کے حالیہ غیر ملکی دوروں کے دوران وہ ان کے ساتھ تھا اور دونوں کی بہت سی تصویریں بھی سامنے آئی ہیں۔ سعودی نژاد امریکی صحافی جمال خشوگی کے لاپتہ ہونے کی خبروں کے درمیان ترکی کی حکومت حمایتی میڈیا نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ روزنامہ اخبار ’ینی صفاف‘ نے بدھوار کو خبر دی کے اسنبول میں واقع سعودی عرب کے قونصل خانے کے اندر خشوگی کے قتل سے پہلے اذیت دی گئی تھی۔ قتل کے بعد ان کے جسم کے ٹکڑے بھی کئے گئے۔ اخبار نے کہا کہ اس نے اس سے متعلق آڈیو ریکارڈنگ سنی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پہلے تو خشوگی کی انگلیاں کاٹ کر اذیت دی گئی اور پھر قتل کردیا گیا۔ اذیت کے دوران ایک ٹیپ میں اسنبول میں سعودی عرب کے ناظم الامور سفیر محمد الاوتوبی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے ’یہ کام باہر کرو آپ مجھے پریشانی میں ڈالنے جارہے ہوں‘۔ ایک دوسرے ٹیپ میں ایک نامعلوم شخص ان سے یہ کہتے ہوئے سنائی دیتا ہے کہ اگر تم سعودی عرب جانا تو چپ چاپ رہنا۔ حالانکہ اخبار نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ٹیپ کس طرح سامنے آئے اور اسے کیسے حاصل کیا گیا۔ جمال خشوگی کے معاملہ میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر خارجہ پومپیو کو سعودی شاہ سلمان سے بات کرنے کے لئے فوراً سعودی عرب بھیجا تھا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا شاہ سلمان کو اس معاملہ میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ میں نے فوراً مائک پومپیو کو سعودی عرب جا کر ان سے بات کرنے کے لئے کہا ہے۔ ادھر ترکی کا کہنا ہے ان کے حکام نے سفارتخانے کی تلاشی لی ہے۔ اس پورے معاملے میں یوروپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیف فیڈریکا موفیرینی نے کہا کہ یوروپ کو اپنے سوالوں کا جواب دینا چاہئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سعودی اور ترکی مل کر معاملہ کی مشترکہ طور پر جانچ کریں تاکہ صحافی خشوگی کی موت کی سچائی سامنے آسکے۔
(انل نریندر)