Translater

05 اکتوبر 2019

مہاراشر کے وزیر اعلیٰ کو سپریم کورٹ نے دیا جھٹکا

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو منگل کے روز اس وقت جھٹکالگا جب سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ چناو ¿ کے دوران داخل حلف نامہ میں جرائم معاملوں کی جانکاری نا دینے کے سبب انہیں مقدمہ کا سامنا کرنا ہوگا۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس انیرودھ بوس کی بنچ نے اپنے فیصلے میں فرنویس کے ذریعے دو التوا مجرمانہ معاملوں کی جانکاری نہ دینے کے معاملے میں بمبئی ہائی کورٹ کا حکم منسوخ کر دیا۔بنچ کا کہناتھاکہ فڑنویس کو دو التوا معاملوں کی جانکاری تھی ۔بڑی عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والے ستیش کی اپیل پر یہ فیصلہ دیا ۔عدالت نے فیصلہ میں کہا تھا کہ دیویندر فڑنویس کو ان دو مبینہ جرائم کے لئے عوامی نمائندگان کے تحت مقدمہ کا سامنا کرنے کی ضرورت نہیں ہے عدالت نے معاملے میں23جولائی کو کہا تھا کہ اس فیصلے کے بعد فیصلہ سنایا جائے گا عدالت نے اس وقت تبصرہ کیاتھا کہ فڑنویس کے ذریعے 2014کے چناو ¿ کے وقت حلف نامہ میں دو مجرمانہ معاملوں کی جانکاری نہ دینے کی بھول چوک کے بارے میں مقدمہ کی سماعت کے دوران فیصلہ ہو سکتا ہے کیا پہلی نظر میں اس معاملے میں عوامی نمائندگان کی دفع 125Aعائد ہوتی ہے یا نہیں یہ سہولت غلط حلف نامہ داخل کرنے کی سزا کے بارے میں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی امیدوار یا اس کا نامزد کنندہ کسی التوا مجرمانہ معاملے کے بارے میں نامزدگی پیپر میں کوئی غلط جانکاری دستیاب نہ کرانے میں ناکامیاب رہتا ہے یا اسے چھپاتا ہے تو ایسے شخص کو چھ مہینہ تک کی قید یا جرمانہ یا دونوں سزا ہو سکتی ہے ا ن کی دلیل تھی کہ فڑنویس نے دو التوا معاملوں کی جانکاری نہ دے کر غلط حلف نامہ داخل کیا اس کے باوجود نچلی عدالت ہائی کورٹ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پر مقدمہ چلانے کے لئے پہلی نظر میں اس میں کوئی معاملہ نہیں بنتا یہ دونوں مجرمانہ معاملے مبینہ طور پرجعلسازی کے ہیں جو فڑنویس کے خلاف 1996اور 1998میں دائر ہوئے تھے لیکن ان میں ابھی تک الزامات طے نہیں کئے گئے ہیں ۔کانگریس نے منگل وار کو سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کاعہدے پر بنے رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیںہے کانگریس کے ترجمان شکتی گوہل نے اخبار نویسوں سے کہا کہ مہاراشٹرکے وزیر اعلیٰ نے حلف نامہ میں دو مجرمانہ معاملوں کی جانکاری چھپائی اب سپریم کورٹ کے حکم کے بعد حلف نامہ معاملے میں آگے کی کاروائی چلے گی اس لئے اخلاقی اور بھاجپا منفی سمت میں چلتی ہے لیکن پھر بھی ہمارا یہ کہناہے کہ جب جرائم کا مقدمہ چلتا ہے تو انہیں (فڑنویس ) کو اخلاقی بنیاد پر وزیر اعلیٰ بنے رہنے کا حق نہیں ہے ۔گوہل کاکہنا تھا کہ اگر ملزم وزیر اعلیٰ کے عہدے پر بنارہے گا تو قانونی کاروائی میں رکاوٹ آسکتی ہے وہیں فڑنویس کے سی ایم آفس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا فڑنویس کے عوام کے نمائندے کی شکل میں رہنے یااگلا چناو ¿ لڑنے پرکوئی اثر نہیں پڑے گا 
(انل نریندر)

اب کی بار ٹرمپ سرکارنعرہ پر جے شنکر کی صفائی

وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو آخر یہ صفائی کیوںدینی پڑی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہوسٹن ریلی میں اب کی بار ٹرمپ سرکار کا وہ مطلب نہیں تھا جو کچھ حلقوںمیں نکالا جارہا ہے۔غور طلب ہے کہ 22ستمبر کو ہوسٹن میں ہاو ¿ڈی مودی ریلی میں ہندستانیوں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا تھا کہ امیدوار ٹرمپ کے اب کی بار ٹر مپ سرکار کے لفظوں کی گونج اونچی اور واضح ہے وزیر اعظم نے صدر بننے سے پہلے ٹرمپ کی چناو ¿ مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے لوگ خود کو صدر ٹرمپ کے ساتھ جوڑ پائیں ہیں۔امیدوار ٹرمپ کے لفظ اب کی بار ٹرمپ سرکار بھی ہمیں صاف سمجھ میں آئے تھے ۔بھارت میں 2014میں ہوئے لوک سبھا چناو ¿ کے دوران بھارتی جنتا پارٹی نے اب کی بار مودی سرکار کانعرہ دیا تھا اور اسے چناو ¿ میں شاندار جیت حاصل ہوئی تھی ۔مودی پروگرام ختم ہونے کے بعد کانگریس لیڈر آنند سرما نے ٹوئٹ کرکے وزیر اعظم نریند ر مودی پرٹرمپ کے لئے چناو ¿ مہم کاالزام لگایا انہوں نے لکھا کہ وزیر اعظم جی آپ نے دوسرے ملکوں کے اندرونی چناو ¿ میں مداخلت نہ کرنے کی ہندستان کی خارجہ پالیسی کے اصول کے توڑا ہے ۔یہ بھار ت کی طویل المدت پالیسی کے مفادات کے لئے ایک غیر متوقع جھٹکا ہے امریکہ کے ساتھ ہمارا رشتہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ پارٹی کو لے کر رشتہ برابر رہاہے ۔آپ کاکھول کر ٹرمپ کے لئے کھول کر پرچار کرنا بھارت اور امریکہ جیسے مختار اور جمہوری ملکوں میں درار پیدا کرنے والا ہے ۔آنند شرما نے اسے ٹرمپ کے لئے کی گئی چناو ¿ مہم قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ امریکہ بھارت کے وزیر اعظم کی حیثیت سے گئے تھے ناکہ ٹرمپ کی چناو ¿ کمپین منیجر کی حیثیت سے گئے تھے۔ واقف کاروں کا کہنا ہے وزیر اعظم کوٹرمپ کی کھل کر ہمایت نہیں کرنی چاہئے تھی ۔امریکہ کی فوکس نیوز کے تازہ سروے میں فی الحال 2020میں ہونے والے صدارتی چناو ¿ میں ٹرمپ کی مقبولیت اچھی نہیں ہے اور ملک کے زیادہ لوگ ان کے خلاف ہیں۔اگر آنے والے دنوں میں چناو ¿ ہار جاتے ہیں تو بھارت کا کیا ہوگا ؟ یاد رکھیں مودی بھارت کے وزیراعظم کے طور پر امریکہ گئے ہیںوزیر خارجہ جے شنکر نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ بھارت امریکہ کے گھریلو سیاست میں ایک آزادانہ نظریہ رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ اب کی بار ٹرمپ سرکار کا جو نعرہ دیاتھا وہ صرف بھارت امریکی فرقے کا پیار حاصل کرنے کے لئے تھا ۔واشنگٹن کے تین روزہ دورہ پر آئے جے شنکر نے اس بات کو مسترد کردیا کہ وزیر اعظم نے چناو ¿ مہم کے لئے ٹرمپ کی امیدواری کی ہمایت کرنے کے لئے ایسا کہاتھا ۔ہوسٹن ریلی میں مودی کے ذریعے استعمال کئے گئے نعرے کے مستقبل پر پڑنے والے اثر کے بارے میں ہندستانی صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایسا نہیں کہا اس پربرائے کرم اچھی طرح دھیان دیں ایس جے شنکر کے اس بیان پر کانگریس کے سینئر لیڈر راہل نے بھی تنز کسا کہ ہمارے پی ایم کی عدم صلاحیت پر پردہ ڈالنے کے لئے آپ کا شکریہ مسٹر جے شنکر ؟مودی کی چاپلوسی کر ہمایت کی وجہ سے ڈیموکریٹ پارٹی کے اندر بھارت کے لئے مشکل نظریات کھڑے ہو جائیں گے بطور وزیر خارجہ آپ انہیں (مودی) کو تھوڑی بہت ڈپلومیسی کے بارے میں سکھائیں.

(انل نریندر)

04 اکتوبر 2019

بلقیس کو دو ہفتے میں معاوضہ دیں:سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے 2002کے گجرات فسادات کے دوران اجتماعی بد فعلی کی شکار ہوئی بلقیس بانو کو دو ہفتوں کے اندر پچاس لاکھ روپئے سرکاری نوکری اور پسند کے علاقہ میں گھر مہیا کرانے کی ہدایت دی ہے ۔سپریم کورٹ نے اپریل میں یہ حکم دیا تھا لیکن بلقیس بانو نے کورٹ میں ہتک عزت کی عرضی دائر کر کے کہا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے اسے کچھ نہیں ملا اور وہ بہت ہی بے رحمانا زندگی گزار رہی ہے ۔بتا دیں کہ گجرات میں 2002کے دنگے کے بعد مارچ 2002میں بلقیس بانو اور اس کے خاندان پر حملہ کیا گیا اس وقت پانچ ماہ کی حاملہ بلقیس سے اجتماعی بد فعلی ہوئی تھی اور گھر کے سبھی سات افراد کو مار ڈالا گیا تھا ۔چیف جسٹس رنجن گگوئی ،جسٹس شرد بوبڑے ،اور جسٹس عبدالنظیر کی بنچ نے گجرات سرکار کے سوال کیا کہ سپریم کورٹ کے 23اپریل کے حکم کے باوجود اس نے ابھی تک بلقیس بانون کو معاوضہ اور نوکری اور گھر کیوں نہیں دیا ۔بنچ نے سالی سیٹر جنرل تشار مہتا سے سوال کیا کہ کیوں نہیں ابھی تک عدالت کی حکم کی تعمیل نہیں کی گئی معاملے کی سماعت شروع ہوتے ہی بلقیس بانو کی وکیل شوبھا گپتا نے عدالت سے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود گجرات سرکار نے اسے ابھی تک کچھ بھی نہیں دیا ۔مہتا نے عدالت سے کہا کہ گجرات کے متاثرہ کو معاوضہ یوجنا میں 50لاکھ روپئے کا معاوضہ دینے کی سہولت نہیں ہے اور انہوںنے کہا کہ سرکار اپریل کے اس حکم پر نظر ثانی کے لئے اپیل کرئے گی بلقیس بانوکے شوہر یعقوب رسول نے ایک خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے اپریل میںدئیے گئے فیصلے کے بعد بھی روپانی سرکار نے کسی طرح کی کوئی مدد نہیں کی ہے یہاں تک کہ ان کے پریوار سے رابطہ تک قائم نہیں کیا گیا ۔رسول کا کہنا تھا کہ سرکار کو ان لوگوں کی طرف سے دو بار نوٹس بھی بھیجا گیا لیکن اس کا جواب سرکار سے نہیں ملا مہتا نے کہا کہ اسے بانو کو نوکری دستیاب کرانے کے لئے کچھ اور وقت دیا جائے بنچ نے کہا کہ دو ہفتے کے وقت کی ضرورت نہیں ہے اس کے بعد سرکاری وکیل نے عدالت میں یہ یقین دہانی کرائی کہ دو ہفتے کے اندر متاثرہ کو معاوضے کی رقم نوکری ،اور گھر دے دیا جائے گا ۔اس سے پہلے بلقیس بانونے پانچ لاکھ روپئے کی رقم کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے بڑی عدالت میں ریاستی سرکار ایسی رقم کی ادائیگی ادا کرنے کی جو درخواست دی تھی ۔واضح ہو کہ نچلی عدالت نے قتل اور اجتماعی آبرو ریزی کے معاملے میں 11ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی ممبئی ہائی کورٹ نے بھی سزا کو برقرار رکھا تھا ۔جبکہ ریاستی حکومت نے ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کے قصوروار تین افسران کو ان کے ریٹائر منٹ کے فائدوں سے محروم کر دیا تھا ۔ایک آئی پی ایس افسر کے دو رینکوں میں تنزولی کر دی تھی ۔گودرا کانڈاور اس کے بعد ہوئے 2002کے گجرات فسادات دیش کی تاریخ میں ایک بد نما داغ ہیں جو شاید ہی کبھی بھلائے جا سکتے ہیں ۔بلقیس بانواور ان کے خاندان کے ساتھ جو کچھ برا ہوا اس میں کم سے کم بلقیس بانوکو مناسب معاوضہ تو ملنا ہی چاہیے ۔

(انل نریندر)

سوشل میڈیا پر لگام کیسے لگے؟

سوشل میڈیا کے بڑھتے بے جا استعمال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ یہ خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے انٹرنیٹ کے لئے نہیں دیش کو لے کر فکر مند ہونا چاہیے مقدمہ کچھ افراد کی طرف سے داخل عرضی پر جسٹس دیپک گپتا،جسٹس انیرد بوس،کی بنچ معاملے پر سماعت کر رہی ہے ۔جج گپتا صاحب کا کہنا تھا کہ ابھی یہ عالم ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگ آدھے گھنٹے میں AK47رائیفل بھی خرید سکتے ہیں ۔یہاں تک کہ وہ اسمارٹ فون منگانے کی سوچ رہے ہیں سوشل میڈیا(فیس بک،وائسٹ ایپ)آج مضبوط ذریعہ بن گئے ہیں اور آج کے وقت میں اس کونظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔اس کی بے شمار طاقت کی وجہ سے سائنس کی طرح کچھ لوگ اسے وردان مانتے ہیں تو کچھ ایک ناسور ۔پچھلی سماعت کے دوران عدالت نے سرکار سے پوچھا تھا کہ کیا وہ سوشل میڈیا کو آدھار سے جوڑنے کے کسی پلان پر کام کر رہی ہے ؟اس بار اس نے سرکار کو اس سلسلہ میں تین ہفتے کے اندر سخت گائڈ لائنس تیار کرنے کے لئے تین ہفتے میں ضابطہ قواعد بنانے کو کہا ہے ۔یہ بہت خطرناک صورتحال ہے ۔سوشل میڈیا پر ٹرولنگ ،کردار کشی ،افواہ اور فرضی خبروں کا سیلاب ہے وائسٹ ایپ پر بچہ چوری کی فرضی اطلاعات کی بنیاد پر دیش بھر میں لوگوں کی پٹائی اور قتل تک کر دینے کے واقعات کو انجام دے رہے ہیں ۔اس بد امنی کی ایک مثا ل ہے عدالت نے کردار کشی افواہ پھیلانے اور فرضی خبروں جیسے مسئلوں پر غور کرنے کی نصیحت مرکزی حکومت کو دی ہے ۔عدالت کے اس ریمارکس کے اس معنی میں اہم ہے کہ اس نے واضح طور پر سرکار سے کہا کہ پالیسی بناتے وقت پرائیویسی اور دیش کی سرداری کا خیال رکھا جانا چاہیے ۔عدالت نے کہا کہ یہ قومی سلامتی دہشتگردی او اطفال استحصال سے وابسطہ معاملہ ہے ۔عدالت نے کہا کہ ایسا کرنے والوں کی پہنچان کرنے کے لئے تکینک ڈیبلپ کی جائے ۔عدالت کا کہنا تھا کہ کچھ سوشل میڈیا یہ پتہ نہیں لگا پا رہی کہ ہے کسی میسج یا آن لائن مواد کا سورس کیا ہے ؟سرکار کو اس میں دخل دینے کی ضرورت ہے آخر سرکار یہ کیوں نہیں پوچھ سکتی کہ ایسے میں قابل اعتراض مواد کی سروعات کس نے کی ؟آج یہ کہہ کر نہیں بچ سکتے آج یہ تکنیک نہیں ہے ۔بنچ نے کہا کہ سرکار جب اس معاملے میں گائڈ لائنس بنائے تو لوگوں کے پرایوسی کے حق او ر اس کی ساکھ اور دیش کی سرداری کا دھیان رکھیں دیکھنا یہ ہے کہ 22اکتوبر کو اگلی سماعت میں مرکزی سرکار پالیسی بنانے کی معیاد کا اعلان کرتی ہے یا نہیں امید کی جانی چاہیے کہ سرکار ایک ٹھوس پالیسی لے کر آگے گی یا نہیں ؟

(انل نریندر) 

03 اکتوبر 2019

ہنی ٹریپ میں پھنسیں گی کئی سرکردہ ہستیاںاور صحافی

مدھیہ پردیش میں ہنی ٹریپ ریکٹ کے انکشاف نے کئی سرکردہ ہستیوں اور حکام ،تاجروں و صحافیوں کی نید اُڑا دی ہے ۔دیش کا سب سے بڑا بلیک میلنگ سیکس اسکینڈل معاملے سے وابسطہ چار ہزار فائلیں جانچ ایجنسیوں کو مل چکی ہیں ۔اور فائلوں کے ملنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے اب اس کیس میں ایک اور دلچسپ موڑ آگیا ہے ہنی ٹریپ معاملے میں دیگر ملزمان کے ساتھ گرفتار ہوئی اٹھارہ سالہ مونیکا یادو سرکار گواہ بننے کو تیار ہو گئی ہے ۔وہ اس معاملے میں اب اہم گواہ ہوں گی ۔مونیکا کے سرکاری گواہ بننے کی یہ بات تب سامنے آئی جب ایک دن پہلے ہی اس کے والد نے انسانی اسمگلنگ معاملے میں پانچ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی اندور مونسپل کارپوریشن کے چیر مین انجینر ہربجن سنگھ کی شکایت پر پولس نے مونیکا کے علاوہ آرتی دیال سویتا سوپلن جین،سویتا وجے جین برکھا ،سونی اور ایک ڈرائیور اوم پرکاش کو گرفتار کیا تھا ۔انجینر نے الزام لگایا کہ ایک ملزم خاتون نے ان سے دوستی کر ایک قابل اعتراض ویڈیو بنایا اور اس کی بنیاد پر تین کروڑ روپیہ کا ذر فدیہ مانگا پولس کے ذرائع کے مطابق اس گینگ کو شیوتا جین چلا رہی تھی ۔مدھیہ پردیش کے اس ہائی پروفائل ہنی ٹریپ اور زبردستی وصولی معاملے میں بھوپال کے کئی صحافیوں کے نام سامنے آرہے ہیں ۔معاملے میں مبینہ رول والے صحافیوں میں ہندی اخبار کا ایک ریزیڈنٹ ایڈیٹر ،نیوز چینل کا ایک کیمرہ مین ریجنل ٹی وی چینل کا مالک شامل ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ صحافی ثالثیوں کے طور پر افسروں اور ہنی ٹریپ کی اہم ملزمہ کے بیچ سودا کراتا تھا ۔میڈیا رپورٹ نے دعوی کیا ہے کہ اس معاملے میں کچھ صحافیوں کی شمولیت پر اندور سے شائع ایک ہندی اخبار کے چیف ایڈیٹر نے کہا کہ بھوپا ل میں کئی برسوں سے کچھ صحافی ایسے معاملوں میں ملوث پائے گئے ہیں ایس آئی ٹی ان کو گرفتار کی گئی عورتوں کی کال ڈٹیل سے نیتاﺅں افسروں کے ساتھ بڑے کاروباریوں سے بھی رشتہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے ان میں کئی صنعت کار بلڈر ،بازاروں کے بڑے نامی گرامی تاجر شامل ہیں ۔مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ بالا بچن سنگھ نے کہا کہ اگر ہنی ٹریپ کی جانچ میں کسی بڑے سیاست داں کا مجرمانہ کردار سامنے آتا ہے تو وہ قانونی کارروائی سے نہیں بچ سکے گا وہیں کانگریس کے ترجمان مانک اگروال کا کہنا ہے کہ یہ سب شیوراج کے عہد میں شروع ہو ا تھا معاملے میں ابھی اور کئی بے جی پی نیتا شامل ہیں ۔اب یہ پانچ سے چھ ریاستوں تک پھیل چکا ہے ۔ادھر اترپردیش سرکار کی طرف سے بنائی گئی ایس آئی ٹی ٹیم نے بدھ کی صبح اندور پہنچ کر ملزمہ مونیکا سے پوچھ تاچھ کی ہے اور اسے کسی خفیہ ٹھکانے پر لی گئی ہے ۔اور اس سے چار گھنٹے تک تفتیش کی آنے والے دنوں میں یقینی طور سے ہنی ٹریپ معاملے میں کئی سنسنی خیز خلاصہ ہونے کا امکان ہے ۔

(انل نریندر)

بہاراور یوپی میں بارش کا قہر!

بہار اوراترپردیش میں برسات نے جس طرح کا قہر ڈھایا ہے وہ کسی بڑی قدرتی آفت سے کم نہیں ہے اس سال اتنی بارش ہوئی ہے کہ پچھلے کئی برسوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔بجلی گرنے سیلاب میں ڈوبنے دیوار گرنے سے لے کر کرنٹ کی زد میں آنے کی وجہ سے اترپردیش میں 80بہار میں قریب 30لوگوں کی جانیں گئیں اور کئی شہروں میں پانی بھر جانے سے سڑک اور ریل ٹریفک سمیت باقی عام زندگی ٹھپ ہونے کی حالت یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ ترقی کے نام پر اسمارٹ سٹی بنانے ،اچھی سڑکوں اوراونچی عمارتوں کا حوالہ دینے کی حقیقت زمین پر کیا ہے ؟بہار کی راجدھانی پٹنہ میں سڑکوں پر چھ سے سات فٹ پانی بھر گیا ہے جس کی وجہ سے وزیر ممبران اسمبلی سمیت 80فیصد گھروں میں پانی داخل ہو چکا ہے ۔کوچند ہب کہے جانے والے راجیندر نگر علاقہ میں پیر کے روز ہاسٹل میں پھنسی طالبات کو نکالا گیا ۔علاقہ میں بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی بھی رہتے ہیں جو سیلاب کے سبب اپنے گھر میں پھنسے ہوئے تھے انہیں اور ان کے کنبے کو پیر کی صبح کشتی کی مدد سے بچا کر نکالا گیا پٹنہ سے گزرنے والی چاروں ندیاں سون،گنگا، گنڈک،اور پنپن خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں ۔نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی کے گھر میں پانچ فٹ پانی بھر گیا تھا بجلی بھی بند تھی ۔اور انورٹر بھی بند ہو گیا تھا جس وجہ سے بنا بجلی کے دن کاٹنے پڑے ۔این ڈی آر ایف کی ٹیم نے صبح 11بجے بمشکل طریقہ سے سشیل مودی اور ان کے پریوار کو کشتی میں بٹھا کر محفوظ جگہ پر پہنچایا گیا ۔آخر کار برسات کی وجہ سے کسی شہر کے ڈوبنے کی یہ حالت کیسے پیدا ہو رہی ہے ؟پٹنہ میں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر برسات پوری طرح رک بھی جاتی ہے تو گلی محلوں میں جمع پانی کیسے نکلے گا ؟ایسی صورت میں سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ سرکار کے پاس ایسے حالات سے نمٹنے کی کیا تیاری تھی نہ صرف عام زندگی تہس نہس ہو گئی ہے بلکہ عام آدمی کا بھی کافی نقصان ہوا ہے ۔اس کے لئے حکمراں اور انتظامیہ کی ناکامی بھلے ہی ذمہ دار ٹھہرا کر تسلی کر لی جائے لیکن اس کی جڑ میں جو غیر نا مکمل یا بے ترتیب ترقی ہے جدید ہندوستان میں وکاس کی ایسی تشریح گھڑی گئی ہے کہ قدرت کے ساتھ تال میل بگڑتا گیا اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔یہ قہر قدرتی اور ماحولیات سے چھیڑ کا ہی نتیجہ ہے ۔ہم اسمارٹ سٹی بنانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن جو شہر ہیں ان میں بنیادی سہولیات کی کتنی کمی ہے یہ سیلاب اسی کی ایک مثال ہے اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ قدرت کے ساتھ حالات کو دیکھ کر ہی ترقیاتی کام کوا نجام دیا جائے قدرت باربار یہ وارنگ دے رہی ہے کہ اگر وقت رہتے نہیں آگارہ ہوئے تو اس سے بھی خطرناک حالات پیدا ہو سکتے ہیں ۔فی الحال تو پانی اترنے اور برسات رکنے کا انتظار کیئجے اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لئے بھی تیار رہیے ۔

(انل نریندر)

02 اکتوبر 2019

امریکہ میں پہلے سکھ پولس افسر کا قتل

امریکہ کے پہلے سکھ پگڑی والے پولس افسر 43سالہ ڈپٹی سندیپ سنگھ دھاریوال کو جمعہ کے روز ہوسٹن شہر میں گولی مار کر ہلاک کرنے کا انتہائی تکلیف دہ خبر آئی ہے ۔پچھلے دنوں نریندر مودی کا ہاﺅڈی مودی پروگرام اسی شہر میں ہوا تھا واضح ہو کہ ہوسٹن کے علاقہ ہیرس کاﺅنی میں ٹریفک روکنے کے دوران ایک نوجوان نے ڈپٹی ٹریفک پولس افسر سندیپ سنگھ کو گولیوں سے بھون ڈالا ،ان کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے ایک کار روکی تھی جس میں سوار شخص نے انہیں پیچھے سے گولی مار دی متوفی دھاریوال کو ہیلی کواپٹر سے ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں بچایا نہیں جا سکا ۔اس کے تین بچے ہیں حملہ آور رابرٹ سولس کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔کرائم ٹرینڈ والے اس شخص کے خلاف پیرول کے قواعد کے خلاف ورزی کے معاملے میں بھی وارنٹ جاری ہوا تھا ۔پولس قتل کی وجہ ابھی تک نہیں جان پائی نفرت بھرے جرائم کا بھی اس واردات سے اشارہ نہیں ملا حملہ آور رابرٹ سولس اور اس کے ساتھ کارمیں موجود خاتون کو بھی حراست میں لیا ہے ۔سندیپ سنگھ نے امریکی پولس میں سکھوں کو داڑھی رکھنے اور پگڑی پہنے کا حق دلانے کے لئے کامیاب لڑائی لڑی تھی جس کی وجہ سے وہ سرخیوں میں تھے ۔ہیرس کاﺅنٹی پولس کے سنیر افسر ایڈ گوازیس نے بتایا کہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ ہم نے ایک جانباز پولس افسر کھو دیا ہے ۔پولس افسر کے یوں چھوڑ جانے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے شہر کے میر سلوشٹر ٹرنر نے بھی سندیپ کی موت پر دکھ جتایا ۔دھالیوال ایک اچھے انسان تھے اور ہمیشہ لوگوں کی مدد کے لے آگے آگے رہتے تھے ۔اور سبھی کا خیال بھائی کی طرح رکھتے تھے انہوںنے کہا ہاروئے طوفان کے دوران سندیپ لوگوں کی مدد کے لئے ٹرک میں سامان بھر کر کیلی فورنیا سے ہوسٹن آئے اور متاثرہ افراد کو سامان بانٹا دھاری وال کے قتل کی خبر سے ان کے آبائی وطن کپورتلہ کے گاﺅں دھالیوال میں دکھ کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ایس جی پی سی نے اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے قتل کو افسوس ناک بتایا تنظیم کے صدر بھائی گوند سنگھ لونگوال نے کہا کہ یہ واقعہ بیرونی ممالک میں بسے سکھوں کے لئے بھاری صدمہ ہے ۔انہوںنے قصورواروں کو سخت سزاد ئے جانے کی مانگ کی وہیں پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے سنیچر کو کہا کہ وہ خبر سے دکھی ہیں اور ایشور سے پراتھا کرتا ہوں کہ اس دکھ کی گھڑی میں سندیپ کے گھر والوں کو ہمت دے اور یہ بھی کہا کہ ایمانداری کےساتھ ڈیوٹی نبھانے کی کیا یہ سزا ہوتی ہے ؟میں دکھ کی گھڑی میں اس کے کنبے ساتھ ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ہم سندیپ کی قربانی کو سلام کرتے ہیں اور اپنی شردھانجلی پیش کرتے ہیں ۔

(انل نریندر)

ویشنو دیوی کا تیرہ کلو میٹر لمبا راستہ غیر ملکی پھولوں سے سجا ہے

نو راتروں کے دنوں میں ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کے مطابق اس سال چار لاکھ شردھالوں نے ماتا کے دربار میں پہنچیں گے اس مرتبہ تیرہ کلو میٹر لمبا صفر راستہ غیر ملکی پھولوں سے سجایا گیا ہے ۔96فٹ لمبی گفا کا داخلہ دروازہ سونے کا بنوایا گیا ہے ۔4سو رضا کاروں کی ایک فوج دن رات کام کر رہی ہے ۔سیکورٹ کے پیش نظر کٹرا اور شرائین بھون کے آس پاس بیس کیمپ بنایا گیا ہے ۔2017-18میں مندر میں 418.54کروڑروپئے کا چڑھاوا آیا تھا جبکہ 2018-19میں یہ 386.41کروڑ روپئے کا تھا ماتا ویشنو دیوی کا تیرہ کلومیٹر پیدل راستہ بھگتوں کے سواگت میں غیر ملکی پھولوں سے مہک رہا ہے ۔شرائن بورڈ نے برطانیہ ساﺅتھ افریکہ ،سری لنکا سویز لینڈ اور متحدہ عرب عمارات سے مختلف قسموں کے پھول منگائے گئے ہیں ۔ویشنو دیوی میں نو دن تک ویدک منتر اور اچارن کی ہر جگہ گونج سنائی دے رہی ہے ۔اور مہا اشٹمی کے دن یگہ کی مکمل آہوتی ہوگی ۔اس بار شرائین بورڈ کے باورچی خانوں میں برتھ رکھنے والے شردھالوں کے لئے کھانے کا خاص انتظام کیا گیا ہے جہاں روز ہزاروں بھگت پرساد لے رہے ہیں ویشنو دیوی مندر میں ستمبر 1986سے پوجا کرا رہے چیف پجاری گوپال داس شرما کے مطابق ماں کے اس مندر کی جگہ شکتی پیٹھوں کے برابر مانا گیا ہے ۔یہاں بھی ماں کی پوجا دن میں دو بار کی جاتی ہے اور آرتی کا طریقہ باقی مندرو ں نے الگ اور لمبا ہے ۔پہلے پجاری گفا کے اندر آرتی کرتے ہیں پھر بھگتوں کے سامنے آرتی ہوتی ہے ۔آرتی سے پہلے آتم شدھی کے لئے پجاری آتم پوجن کرتے ہیں ۔روایت ہے کہ یہاں ستی کا سر گرا تھا جولیجکل اسٹڈی کے مطابق یہ گفا کئی ہزار سا ل پرانی ہے اور یہ مندر ویدک یگ کا مانا گیا ہے ۔رشی وید میں بھی ترکٹ پروت پر بسے اس مندر کا ذکر ہے ۔آگے چل کر مہا بھارت میں بھی ماتا ویشنو دیوی کا ذکر ہے ۔بھگوان کرشن نے ارجن سے کہا تھا کہ کوروں پر جیت کے لئے ماتا ویشنو کا آشرواد لو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہاں قائم ماتا کی پیڑیاں ،پانڈو کی نشانی ہے ۔سب سے پہلے یہاں پوجا پانڈوں نے کی تھی ۔گفا کے سامنے سونے کے پانی سے بنا انٹری گیٹ اس سال بھگتوں کے لئے خاص توجہ کا مرکز ہے ۔2018میں کل 85.27لاکھ تیرہ یاتری آئے تھے اس سال اب تک 53.38لاکھ شردھالوں یہاں آچکے ہیں ۔یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے چھ لاکھ کم ہے ۔شاید جموں و کشمیر میں چل رہی اتھل پتھل کے سبب یہ تعداد کم ہوئی ہے ۔اس سال ریلوئے نے ویشنو دیوی کے لئے نئی ٹرین وندے بھارت ایکسپریس 3اکتوبر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے نئی دہلی سے کٹرا کا صفر صرف آٹھ گھنٹے کا رہ جائے گا۔

(انل نریندر)

تقرریوں اور تبادلوںمیں مداخلت عدلیہ کےلئے اچھی نہیں

سپریم کورٹ نے حال ہی میں کہا تھا کہ جج صاحبان کی تقرری تبادلے عدلیہ انتظامیہ کےلئے اہم ہیں ۔اور اس میں کسی بھی طرح کی مداخلت عدلیہ کے لئے اچھی نہیں ہے ۔چیف جسٹس رنجن گگوئی ،جسٹس ایس اے بوبڑے ،اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی بنچ نے جسٹس عقیل قریشی کی ترقی کے معاملے میں مرکز کو کالیجیم کی سفارشیں نافذ کرنے کی ہدایت دینے کے لئے گجرات ہائی کورٹ کے وکیلوں کی یونین کی عرضی پر سماعت کے دوران یہ رائے زنی کی تھی جسٹس گگوئی کی سربراہی والے کالیجم نے 10مئی کو جسٹس قریشی کو ترقی دے کر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کی سفارش کی تھی ۔حالانکہ بعد میں کالیجم نے جسٹس قریشی کو ترپورا ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کی سفارش کی تھی ۔بنچ نے گجرات ہائی کورٹ کے وکلاءیونین کی عرضی التوا میں رکھتے ہوئے کہا کہ تقرریاں اور تبادلے عدلیہ انتظامیہ کی تہہ تک جاتے ہیں ۔اور جہاں عدلیہ پر جائزہ ممنوع ہے عدلیہ انتظامیہ کے سسٹم میں مداخلت ادارے کے لئے اچھا نہیں ہے ۔ججوں کی تقرری کے معاملے میں مداخلت سے عدلیہ کے چلن نظام پر اثر پڑتا ہے ۔یہ ایک نئے خطرے کا اشارہ ہے اس عدالت کے کالیجم نے اپنی توثیق پچھلی دس مئی کو کر دی تھی لیکن مرکزی حکومت نے تقرری نامہ جاری نہیں کیا اور پھر کورٹ کے پوچھنے پر صلاح دی کہ انہیں کسی چھوٹے ہائی کورٹ میں بھیجا جانا چاہیے ۔کالیجم نے انہیں ترپورا ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا تھا لیکن ابھی تک حکومت نے کوئی باقاعدہ تقرری نامہ جاری نہیں کیا حالیہ دور میں ججوں کے خلاف بھی سوشل میڈیا میں تمام ایسی رائے زنی آنے لگی ہیں جو قانونی طور سے توہین عدالت ہے جہاں ایک طرف لوگوں کا دیش کی سپریم عدالت پر بھروسہ ہر سروے میں پایا گیا وہیں اس طرح کی رائے زنی جج صاحبان کے لئے ذہنی تکلیف کا سبب بن رہی ہیں ۔حال ہی میں حکومت نے کالیجم کی تین توثیقوں پر نا اتفاقی ظاہر کی اور کالیجم میں ان پر غور کر انہیں پھر تقرر کیا ۔مثا ل کے لئے جسٹس قریشی کے علاوہ جسٹس وکرم ناتھ کو پہلے کالیجم نے آندھرا پردیش کا چیف جسٹس مقرر کیا لیکن سرکار کے اعتراف پر انہیں گجرات بھیجا گیا ۔2018میں جسٹس انیرد بوس کو پہلے دہلی ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارش کالیجم نے کی لیکن سرکار کی مداخلت کے بعد انہیں جھارکھنڈ بھیج دیا گیا ۔کچھ دن پہلے عدالت نے اپنے ہی رجسٹری میں بیٹھے کچھ لوگوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت کے حکم بدل دیے جاتے ہیں ۔اور کئی ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جس میں دیش کے طاقتور لوگوں سے ملی بھگت کے تحت بنچ کو متاثرکرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ہم ایسے لوگوں کو وارنگ دیتے ہیں کہ یہ سب چلنے نہیں دیا جائے گا آج بھی سپریم کورٹ پر لوگوں کا بھروسہ بنا ہوا ہے اور یہ ضروری بھی ہے ۔

(انل نریندر)

01 اکتوبر 2019

ایران،سعودی عرب میں مذہب اور خطے میں بالا دستی کا جھگڑا

ایران کے صدرحسن روحانی نے امریکی فوج کو سعودی عرب میں بھیجنے پر تلخ انداز میں اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ غیر ملکی فوج خلیج کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے اور اسے باہر ہی رہنا چاہیے ۔روحانی کا کہنا تھا کہ غیر ملکی فوج ہمیشہ اپنے ساتھ دکھ اور درد لاتی ہے اور ہمارے خطے میں یہ صرف پریشانی ہی کھڑی کرئے گی ۔بتا دیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو کلیائی سمجھوتہ توڑنے کے بعد سے امریکہ اور ایران کے رشتوں میں کڑاوہٹ آگئی ہے ۔14ستمبر کو سعودی عرب کی دو پیٹرولیم ریفاینری میں ہوئے ڈرون حملے کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے لی تھی لیکن سعودی اور امریکہ اس کے لئے ایران کو ذمہ دار مان رہے ہیں ۔نتیجتا ٹرمپ نے سعودی عرب میں امریکی فوجی کی ٹکڑی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔در اصل سعودی عرب اور ایران کے درمیان کافی عرصہ سے ٹکراﺅ چل رہا ہے ۔دونوں دیش لمبے وقت سے ایک دوسرے کے حریف ہیں لیکن حالیہ دنوں میں دونوں کے درمیان تلخی اور بڑھی ہے ۔طاقتور پڑوسیوںکے درمیان یہ لڑائی لمبے عرصے سے علاقائی بالا دستی کو لے کر چل رہی ہے ۔دہائیوں پرانی اس لڑائی میں مرکز مذہب بھی ہے ۔دونوں ہی حالانکہ اسلامی ملک ہیں لیکن دونوں سنی اور شیعہ بالا دستی والے ہیں ۔ایران شیعہ مسلم اکثریتی والا ملک ہے وہیں سعودی سنی اکثریتی والا تقریبا پورے مشرقی وسطی میں یہ مذہبی بٹوارہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔یہاں کے دیشوں میں کچھ شیعہ اکثریت میںہیں تو کچھ سنی اکثریت حمایت اور صلح کے لئے کچھ دیش ایران کے ساتھ ہیں تو کچھ دیش سعودی عرب کی طرف دکھائی پڑتے ہیں ۔تاریخی طور سے سعودی عرب نے شاہی راج ہے سنی عرب اسلام کی سرزمین ہے اور اسلامی دنیا کی سب سے اہم ترین مقامات میں شامل ہے لہذا یہ خود کو مسلم دنیا کے لیڈر کے طور پر دیکھتا ہے ۔حالانکہ 1979میں ایران سے ہوئے اسلامی ایران سے چیلنج ملا تھا جس سے اس خطے میں ایک نئی طرح کی ریاست بنی اور ایک طرح کا انقلابی مذہبی مشینری والی حکومت سسٹم رائج ہوا ۔ان کے پاس اس ماڈل کو دنیا بھر می پھیلانے کا واضح مقصد تھا خاص کر گزرے پندرہ برسوںمیں لگاتار کچھ واقعات کی وجہ سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات میں بے حد تیزی آئی ہے ۔2003میں امریکہ نے ایران کے اہم حریف عراق پر حملہ کر صدام حسین کا اقتدار تہس نہس کر دیا تھا اس سے یہاں شیعہ اکثریتی حکومت کے لئے راستہ کھل گیا اور دیش میں ایران کا اثر تیزی سے بڑھا 2011کی پوزیشن یہ تھی کہ کئی عرب ملکوں میں بغاوت کی آوازیں اُٹھ رہی تھیں ۔جس کی وجہ سے پورے علاقہ میں سیاسی اتھل پتھل ہو گئی ایران اور سعودعی عرب نے اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے شام،بحرین،اور یمن میں اپنے اثر کو بڑھانا شروع کر دیا ۔جس سے آپسی شک و شبہات اور بڑھے اور سیاسی رقابت بھی بڑھتی رہی کیونکہ ایران کئی معنوں میں اس علاقائی جد و جہد میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے سعودی عرب اب ایران کے دبدبے کو روکنے کے لئے اتاولا ہے اور سعودی عرب کے حکمراں نوجوان جوشیلے شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان کا فوجی ہمت اس خطے میں کشیدگی کے حالات کو اور زیادہ بد تر بنا رہی ہے ۔انہوںنے پڑوسی یمن میں باغی حوثیوں کی تحریک کے خلاف جنگ چھیڑی ہوئی ہے تاکہ وہاں ایران کا اثر نہ بڑھ سکے ۔لیکن پچھلے چار سال بعد اب یہ اس کے لئے بھی مہنگا داﺅں ثابت ہو رہا ہے ۔موٹے طور پر وسطی مشرق کا موجودہ سیاسی نقشہ شیعہ سنی کی تقسیم کو دکھاتا ہے ۔سنی اکثریت سعودی عرب کی حمایت میں متحدہ عرب عمارات ،بحرین،مصر،اور جارڈن جیسے خلیجی ملک کھڑے ہیں وہیں ایران کی حمایت میں شام کے صدر بشر الا اسد ہیں جنہیں سنیوں کے خلاف حزب اللہ سمیت ایرانی شیعہ جنگجو گروپو ں کی حمایت ہے ۔کل ملا کر سعودی عرب کی دو تیل صفائی کارخانوں پر حملے نے وسط مشرق میں حالات بے حد کشیدہ بنا دیے ہیں ۔صحیح معنوں میں ان دونوں حریف ملکوں کے درمیان سرد جنگ کیطرح ہے جیسا کہ امریکہ اور سویت یونین کے درمیان کئی برسوں تک تعطل بنا رہا ۔

(انل نریندر)

پی ایم سی بینک پر پابندیاںکھاتے داروں کو پیسہ ڈوبنے کا ڈر

ممبئی کے پنجاب اینڈ مہاراشٹر کوآپریٹو بینک (پی ایم سی)پر قواعد میں خامیوں کی وجہ سے ریزرو بینک کے ذریعہ کچھ پابندیاں لگائے جانے سے گھبرائے ہوئے ہیں یہ فطری بھی ہے ۔ڈوبے قرض یعنی این پی اے کو کم دکھانے اور کئی دیگر ریگولیٹری خامیوں کے پیش نظر مرکزی بینک نے پی ایم پر کئی طرح کی پابندیاں لگا دی ہیں پہلے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ان پابندیوں کے تحت بینک کے گراہکوں کے لئے ایک ہزار روپئے تک نکالنے کی حد طے کی گئی تھی لیکن گراہکوں کے اس کے خلاف سڑکوں پر اترنے سے ریزرو بینک نے پی ایم سی گراہکوں کو راحت دیتے ہوئے اب چھ مہینے میں دس ہزار روپئے نکالنے کی اجازت دے دی ہے ۔اس فیصلے سے بینک کے ساٹھ فیصدی گراہکوں کو تھوڑی راحت ضرور ملے گی ساتھ ہی بینک پر چھ مہینے تک نیا قرض دینے پر روک لگا دی ہے ۔اس فیصلے نے گراہکوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے ۔پی ایم سی کی شاکھوں پر پہنچنے والے کھاتے داروںنے آٹو ڈرائیور سے لے کر کاروباری پینشن ہولڈر گرہستنیں اور عمر دارز لوگ شامل ہیں ۔بینک کے ہیڈ کوارٹر کے باہر آئی بزرگ عورت نے بتایا میں نے 15سو روپئے نکالے ہیں اب بینک والے کہہ رہے ہیں کہ کچھ مہینے کے بعد ہی دوبارہ پیسہ نکال سکتے ہیں میں آج ہوں کل کا کیا بھروسہ؟ایک دوکاندار نے کہا کہ میرا ساٹھ ہزار روپئے کا ای ایس آئی بینک کھاتے سے کٹ رہا ہے۔ انہوںنے آگے اس کی اجازت نہیں دی تو میرا سوئل اسکور خراب ہوگا اور میں ڈیفالٹر ہوجاﺅں گا ۔پیسے ہوتے ہوئے بھی ڈیفالٹر ہو جاﺅں گا ایک دوسرے بزرگ پیشن ہولڈر نے بتایا کہ یہ کتنا بڑا ظلم ہے ۔کھاتے میں پیسے ہوتے ہوئے بھی میں اپنے من کے مطابق پیسہ نہیں نکال سکتا ۔کیا یہ دوبارہ نوٹ بندی نہیں ہے ؟جس طرح سے بینکوں کے باہر نوٹ بندی کے دوران عوام کو گھنٹوں اپنا پیسہ نکالنے کے لئے لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑا تھا اسی طرح تقریبا آج پی ایم سی بینک کی شاخوں کے باہر دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ایک کھاتے دار نے بتایا کہ کرے کوئی بھرے کوئی ؟غور طلب ہے کہ بینک کے کھاتے داروں کے قریب 11ہزار کروڑ روپئے جمع ہیں ۔پی ایم سی کے معطل مینجنگ ڈائرکٹر جانچ شروع کرنے کا دعوی کیا ہے اور قرض دہندہ کے پاس اپنی لین داری نمٹانے کے لئے در کار نقدی ہے ۔اور عوام کی پائی پائی محفوظ ہے انہون نے یقین دلایا کہ بینک کے سبھی کھاتے اور پیسہ محفوظ ہے صرف ایک کھاتہ ایم ڈی آئی ایل موجودہ بحران کی وجہ سے گڑ بڑ ہے ۔ریزور بینک نے منگلوار کو پی ایم سی کے مینجمنٹ کو توڑ دیا تھا تھامس نے بتایا کہ سبھی قرض پوری طرح محفوظ ہیں اور گراہکوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ہمارے پاس درکار پیسہ ہے ۔بینک کے پاس ایس ایل آئی اور سی آر آر کی شکل میں چار ہزار کروڑ روپئے کی نقدی ہے بینک کی دین داری قریب 11ہزار کروڑ روپئے ہے ۔ریزو بینک کے ذریعہ ٹی ایم سی پر کارروائی کی اہم وجہ بینک کے ذریعہ اپنے ڈوبے قرض کو کم کر کے دکھانے کی ہے ۔وہیں بھاجپا کے سابق ایم پی کرٹ سومیہ اور کئی کھاتے داروں نے جمعرات کے روز پی ایم سی بینک کے سینر افسران اور ریلئر اسٹیٹ کمپنی ایم ڈی آئی ایل کے خلاف شکایت درج کرائی ہے ۔پولس نے بتایا کہ شکایت میں کھاتے داروںنے اپنے تین ہزار کروڑ روپئے لوٹنے کا الزام لگایا ہے ۔سومیہ نے ممبئی پولس کی اقتصادی کرائم برانچ میں تحریری شکایت دی ہے ۔حالانکہ ریزو بینک نے صاف کیا ہے کہ اس نے پی ایم سی کا لائسنس منسوخ نہیں کیا ہے اس کے باوجود لوگوں کا ڈر بڑھ رہا ہے ۔پہلے سے مندی کی مار جھیل رہی عوام اس سے اور زیادہ پریشان ہو رہی ہے ۔بازار میں افواہیں بھی کم نہیں لوگوں کو دوسرے بینکوں پر پابندیاں لگانے کا ڈر ستا رہا ہے ۔حالانکہ ریزرو بینک نے صاف کیا کہ کوئی بھی کمر شیل بینک بند نہیں ہو رہا ۔

(انل نریندر)

29 ستمبر 2019

بھاری ٹریفک جرمانے کو لےکر مرکز اور ریاستوں میں ٹھن گئی!

موٹر ایکٹ ترمیمی بل 2019کی سفارشیں 18ریاستوں کے ٹرانسپورٹ وزراءکے گروپ نے کی تھی لیکن جب اس پر عمل کرنے کی بات آئی تو وہی ریاستیں اب اس قانون کو نافذ کرنے سے پیچھے ہٹ رہی ہیں ۔اس کی وجہ ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرنے پر بھاری جرمانوں کو لے کر لوگوں میں بھاری ناراضگی بتائی جاتی ہے ۔وہیں مرکزی وزیر سڑک و ٹرانسپورٹ قومی شاہ راہ نتن گڈکری کا کہنا ہے کہ بھاری جرمانہ محصول اکھٹا کرنے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں میں قانون کے تیں ڈر و عزت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے بل میں بھاری جرمانہ ،جیل،اور پبلیک ٹرانسپورٹ سسٹم ،تھرڈ پارٹی بیمہ تمام سہولت میں شامل کرنے کی سفارش وزارتی گروپ نے کی تھی اگر 2016میں کیبنیٹ نے اسے منظوری دی تھی تب ریاستوں نے اس کی مخالفت نہیں کی اس کے بعد بل لوک سبھا میں پاس ہو گیا لیکن اب جب یہ قانو ن بن گیا ہے تو اس کے عمل پر انہیں اعتراض ہے ۔ریاستی سرکایں اور مرکزی سٹرک ٹرانسپورٹ و قومی شاہراہ وزارت کے درمیان اختلاف کا معاملہ اب اٹورنی جنرل کے کے وینو گوپال کے دفتر میں پہنچ گیا ہے ۔وزارت قانو کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق مرکزی وکاس کا پریورتن ٹالنے کے لئے ریاستی سرکار کے اختیارات پر اٹورنی جنرل وینو گوپا ل سے قانونی رائے مانگی گئی ہے اس کے علاوہ ریاستی سرکار کے ذریعہ جرمانہ گھٹانے کے مسئلے پر بھی رائے طلب کی ہے ۔بھاجپا حکمراں گجرات سمیت کئی ریاستوں نے بھاری جرمانے کو لے کر مچے واویلے کے درمیان ٹریفک قانون خلاف ورزی پر ایکٹ کو ٹال دیا گیا ہے ۔گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے 18جرائم کے لئے جرمانے میں کمی کا اعلان کر دیا ہے ۔روپانی کے نئے ایم وی ایکٹ کے عمل کو ٹالنے کے فیصلے کو دہلی اتراکھنڈ ،راجستھان مہاراشٹر،کرناٹک،مدھیہ پردیش ،سمیت دیگر ریاستوں نے بھی اس پر عمل کیا ہے ۔اس کے بعد نتن گڈکری کی رہنمائی والی وزارت نے وزارت قانون سے یہ پتہ لگانے کے لے قانونی رائے مانگی ہے ۔کیا ریاستی حکومتوں کے پاس پارلیمنٹ سے پاس مرکزی قانون کو لاگو کرنے کی تاریخ کو ٹالنے کا ضروری اختیار ہے یا نہیں ایم او آئی ٹی ایم کے سینر افسر بھی وزارت قانون سے جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ریاستی سرکار جرمانے کم کر سکتی ہے ؟ذرائع نے کہا کہ جرمانے کے پیچیدہ مسئلے کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزارت قانون نے معاملے پر قانونی رائے و اپوزیشن صاف کرنے کے لئے اٹارنی جنرل کی رائے مانگی ہے ۔گجرات نے جرمانہ رقم میں سے 25سے 90فیصد تک کمی کر دی ہے ۔اتراکھنڈ نے بھی بھاری کٹوتی کی ہے ۔گڈکری نے صاف کرتے ہوئے کہا کہ حادثے روکنے کے لئے سخت قانون کی ضرورت ہے ۔

(انل نریندر)

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!

مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیوتا سپنل جین کے کئی نیتاﺅ کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کی بھی تصویریں وائر ہوئی ہیں ۔ریاستی سرکار میں پوارا معاملہ ایس آئی ٹی کو سونپ دیا ہے ۔لیکن بی جے پی نیتاﺅں نے سی بی آئی جانچ کی مانگ کی تھی ۔اس درمیان ایک نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بالی ووڈ کی کئی بی گریڈ ایکٹریس بھی ہنی ٹریپ معاملے میں شامل ہیں ۔بھوپال کے ایک مشہور کلب میں ہنی ٹریپ گروہ کی مبینہ سرغنہ سویتا سپنل جین جاتی تھی اس کے ساتھ کچھ لڑکیاں بھی ہوتی تھیں کلب میں آنے والے لیڈروں افسروں سے سویتا سے دوستی کر لیتی تھی اور پھر فون پر باتیں ہوتیں تھیں ۔جن میں بڑے لوگوں کو سیکس آفر کیا جاتا ہے ۔انہیں کسی بڑے ہوٹل کے کمرے میں بلایا جاتا تھا کمرے میں پہلے سے ہی یہ لڑکیاں موجود رہتی تھیں رپورٹ کے مطابق گروہ میں چالیس میں زیادہ کال گرلس اور ایکٹریس موجود ہوتی تھیں ۔شرو عات میں تین چار مرتبہ ہوٹل جانے کے بعد نیتاﺅں کو سویتا پر بھروسہ ہو جاتا تھا ان میں سے کئی سویتا کے ساتھ واٹس ایپ پر میسج آڈیو چیٹنگ کرتے تھے ۔سیکس چیٹ کے کئی اسکرین شارٹ پولس کے پاس موجود ہیں ۔نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یا تو کال گرلس کیمرہ لے کر کمروں میں جاتی تھیں یا پھر وہاں پہلے سے کیمرہ فٹ رہتا تھا ۔پائے گئے ویڈیو میں 92ہائی کوالٹی کی ویڈیو ہیں یعنی انہیں کسی اچھے اسمارٹ فون سے یا پھر ہینڈی کیم سے شوٹ کیا گیا۔پولس کو ضبط کئے گئے لیپ ٹاپ ،موبائل فون میں چار ہزار سے زیادہ فائلیں ملی ہیں ۔ان میں کئی نیتا افسروں کے قابل اعتراض حالت میں فوٹو اور ویڈیو ہیں ۔ہنی ٹریپ معاملے کے ذریعہ دو طرح سے فائدہ اُٹھایا گیا ہے ۔پہلا کچھ وزیر اور سیکریٹری سویتا سے اتنے خوش ہوئے کہ اس کی این جی او کو کروڑوں روپئے کے سرکاری ٹھیکے دینے لگے یہ بات خود اس نے پولس کو بتائی ہے اس نے یہ بھی کہا کہ مدھیہ پردیش کے ایک سابق وزیرا علیٰ نے اسے بھوپال میں بنگلہ گفٹ میں دیا ہے رپورٹ کے مطابق کچھ خاص لوگوں کو ممبئی دہلی میں بھیج کر ماڈل اور بالی ووڈ ایکٹریس بھی دستیاب کرائی گئیں فائدہ پانے کا دوسرا ذریعہ تھا بلیک میل کرنا یعنی جب کوئی نیتا بڑی رقم دینے سے یا اپنے محکمے کا سرکاری ٹھیکہ دلوانے سے منع کرتا تھا اسے فوٹو ویڈیو دکھا کر بلیک میل کیا جاتا تھا ایک ایسے ہی معاملے کی شکایت پر یہ کیس کھلا افسروں سے لے کر سیاسی گلیاروں تک پھیلے اس کانڈ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے مدھیہ پردیش سرکار نے مخصوص تفتیشی ٹیم بنا لی اور اس نے جانچ شروع کر دی ہے ۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مدھیہ پردیش سرکار کے اندر خانے کئی مخالف آوازیں اُٹھ رہی ہیں بھاجپا وہاں کی کانگریس سرکار کو گرانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ذرایع کی مانے تو کانگریس لیڈر شپ اس کے پیچھے کا اصلی سچ جاننا چاہتی ہے ۔یہ بہت بڑا بین الا قوامی گھوٹالہ ہے جس کی پرتیں آہستہ آہستہ کھلیں گی ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...