Translater

20 اکتوبر 2023

خوف کی وہ داستاں جس نے دیش کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاتھا!

حیوانیت ،بے رحمی اور ظلم کی حدیں پار کرنے والے نٹھاری کانڈ پر پیر کی صبح 308 صفحات کا فیصلہ سناتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے سی بی آئی جانچ پر سنگین سوال کھڑے کئے ہیں ۔جسٹس ایس اے این رضوی اور جسٹس اشونی مشرا کی بنچ نے کہا کہ نٹھاری کانڈ کی جانچ کیلئے ذمہ دار ایجنسی کا رویہ عوام کے ساتھ دھوکہ سے کم نہیں ہے ۔یہ معاملہ اس لئے بھی تشویش کا باعث ہے کیوں کہ معصوم بچوں ،عورتوں کو غیرانسانی طریقے سے مارا گیا ۔ثبوت اکٹھا کرنے کے بنیادی تقاضوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے ،مرکزی خاتون واطفال ترقی وزارت کے ذریعے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی منظوری کے باوجود انسانی اعضاءریکیٹ کی جانچ نہیں کی گئی ۔نوکر کو راکشش بنا کر پھنسانے کا آسان طریقہ چنا گیا ۔نٹھاری کانڈ نے پورے دیش کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔نوئیڈاکے سیکٹر 31- میں واقع کوٹھی ڈی 05- میں رہتا تھا مہیندرسنگھ پندھیر اور اس کا نوکر سریندر کوہلی بنیادی طور سے وہ پنجاب کا رہنے والے پندھیر سال 2000- میں دہلی آیا تھا اور بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا ۔2003 میں وہ کوہلی سے ملا اور اسے نوکر رکھ لیا ۔اسی کے بعدبیوی بچے اسے چھوڑ کر چلے گئے ۔پندھیر اپنی کوٹھی پر کال گرل بلاتا تھا ۔ایک بار کوہلی نے وہاں آئی اےک کال گرل سے تعلق بنانے کو کہا تو اس نے کچھ ایسا کہہ دیا کہ جس سے کوہلی بھڑک گیا اور اس کو مار کر اس کی لاش نالے میں پھینک دی ۔ادھر 8فروری ،2005 کو 14 سالہ ایک لڑکی رمپا ہلدار کے غائب ہونے کی رپورٹ لکھائی گئی ۔اگلے ہی مہینے یعنی مارچ 2005 کے کچھ بچوں کو کوٹھی ڈی 5- کے پیچھے نالے میں ایک پلاسٹک بیگ ملا جس میں لاش کے ٹکڑے تھے ۔پولیس نے کسی جانور کا ڈھانچہ بتا کر معاملہ رفعہ دفعہ کر دیا ۔بہرحال ہنگامہ بڑھا تو جانچ سی بی آئی کو سونپ دی گئی اس کے بعد 19 لڑکیوں کے ڈھانچے ملے ۔سی بی آئی نے پندھیر اور کوہلی کو گرفتار کر لیا ۔جانچ میں پتہ چلا سبھی قتل کوہلی نے کئے ہیں وہ صبح 9.00 بجے سے شام 4.00 بجے کے درمیان ڈرائنگ روم میں قتل کرتا تھا پھر لاش کو سیڑھیوں سے باتھروم میں لے جا کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا تھا پھر کچھ ٹکڑوں کو پکا کر کھاتا بھی تھا اس کے بعد باتھروم صاف کرتا تھا ۔کوٹھی کے پیچھے سے کئی کپڑے اور جوتے بھی برآمد ہوئے تھے ۔18سال بعدبھی 18 معصوموں اور ایک عورت کو انصاف نہیں مل سکا ۔ان سبھی سے بدفعلی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔جسم کے اعضاءاور اس کے ڈھانچے نالے اور جھاڑیوں میں ملے تھے ۔جانچ یوپی پولیس سے سب سے بڑی ایجنسی سی بی آئی تک پہونچی ۔خود کے قبول نامہ پر سریندر کوہلی اور منیندر سنگھ پندھیر ملزم بنائے گئے ۔ٹرائل کورٹ نے پھانسی کی سزا دی تھی لیکن الہ آباد ہائی کورٹ نے دونوں کو ثبوتوں کی کمی کے چلتے بری کر دیا ہے ۔یہ سوال ابھی بھی جواب مانگ رہا ہے کہ معصوموں کا قتل کس نے کیا ۔بے رحمی سے لاشوں کے ٹکڑے کس نے کئے ۔بدفعلی جیسی گھناو¿نی حرکت کس نے انجام دی۔شیطان کو تھے ۔پورے دیش کو جھنجھوڑ کر رکھنے والے اس معاملے کی شروعات میں پولیس نے جو مایوس کن رویہ دکھایا اور پھر جانچ ایجنسیوں کا کیسا رخ رہا ہے اسے جنتا کے بھروسہ کے ساتھ کھلواڑ نہیں تو کیا مانا جائے ۔انصاف ہونا ہی کافی نہیں ہوتے دکھانا بھی چاہیے ۔نٹھاری کے معصوموںکے ساتھ جو جرم ہوا اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس کا مجرم کوئی ہے ؟ (انل نریندر)

ورلڈ وار کا خطرہ منڈرانے لگا ہے !

حماس کے حملے نے مغربی ایشیا ہی نہیں بلکہ دنیا کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔اب اسرائیل بدلا لے رہا ہے ۔اگر دوسری طاقتیں بھی اس جنگ میں کود جاتی ہیں لیکن ایسا ہو پائے گا ؟ دنیا کی بڑی طاقتوں کو تحمل برتنا چاہیے اور زمینی حالات جیسے بن رہے ہیں ان سے ورلڈ وار کی تشویش بڑھنا فطری ہے ۔مسئلہ تو زیادہ سنگین ہو گیا ہے جب غزہ کے ایک ہسپتال پر زبردست بمباری ہوئی ہے اور اس بمباری میں 500 سے زیادہ بے قصور افراد جاں بحق ہو گئے ہیں اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں وہیں اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملہ حماس نے کیا ہے ان کی میزائل غلطی سے اسپتال پر جا گری ۔وہیں حماس اور باقی اسلامی ملکوں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت غزہ کے اہلی ہسپتال پر حملہ کیا ہے ۔حماس کے لیڈر اسماعیل ہنیہ نے حملے کے لئے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس نے اسرائیل کو اس کی جارحیت کو سرپرستی دی ہے ۔ہنیہ نے یہ بھی کہا کہ اسپتال میں ہوا قتل عام دشمن کی ظالم اور اس کی ہار کے احساس کو ظاہر کرتا ہے ۔سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،بحرین ،مصر ،اردن اور ترقی نے بھی اسرائیل کا غزہ شہر میں الاہلی عرب اسپتال پر بمباری کا الزام لگایا ہے ۔حالانکہ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ ان اموات کے لئے غزہ میں سرگرم کٹر دہشت گرد ذمہ دار ہیں اور پوری دنیا جانتی ہے کہ غزہ کے اسپتال پر حملہ کرنے والے غزہ کے ہی کٹر دہشت گرد ہیں نہ کہ اسرائیل اسرائیل ڈیفنس فورسز ادھر ایران نے اسرائیل اور اس کی حمایت کرنے والے ملکوں کو زبردست وارننگ دے دی ہے ۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے منگلوار کو کہا اگر غزہ پر اسرائیل کے جنگی جرائم نہیں رکے تو پھر دنیا بھر کے مسلمان اس جنگ میں اتریں گے ،کوئی بھی دنیا بھر کی مسلم افواج اور ایران کی فورسز کو روک نہیں سکے گا۔مانا جاتا ہے کہ حماس اور حزب اللہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو ایران کو درپردہ حمایت دیتا ہے ۔ایران کے وزیرخارجہ حسین امیر بحوللہ حیان نے کہا کہ اسرائیل اگر غزہ میں زمینی کاروائی کرتا ہے اسے نتیجے بھگتنے ہوں گے ۔آنے والے وقت میں ایران کی طرف سے وسیع پیمانے پر کاروائی ہو سکتی ہے ۔دوسری طرف امریکہ ،برطانیہ ،جرمنی ،فرانس ،آسٹریلیا ،کنیڈا،پولینڈ ،اسپین اور یوروپی یونین سمیت دیگر ملکوں نے اسرائیل کی حمایت کی ہے ۔انہوں نے اسرائیل پر حماس کے حملے کو بربریت آمیز بتایا ہے ۔اسرائیل اور حمایت ،حزب اللہ کی جنگ جارحانہ ہوتی جا رہی ہے ۔اس درمیان دنیا بھر کے نیتا اسرائیل پہونچنے لگے ہیں ،جرمنی کے چانسلر اولاف اسرائیل گئے ہیں ۔امریکی صدر جو بائیڈن بھی اسرائیل جا چکے ہیں ۔فرانس کے صدر ایمونل میکرون بھی اسرئیل جا چکے ہیں اس کے علاوہ برطانیہ کے وزیراعظم رشی سنگ بھی اسرائیل جانے والے ہیں ۔ادھر حماس دہشت گرد گروپ کی مصلحہ برانچ القسم بریگیڈ نے کہاہے کہ غزہ میں 200/250 اسرئیلی یرغمال اس کے قبضے میں انہیں 7اکتوبر کے حملے کے بعد پکڑا گیا تھا ۔یرغمالوں میں امریکہ اور مغربی ممالک کے شہری بھی ہیں ۔اگر چھوٹی سی بھی چنگاری اور لگی تو یہ تیسرے ورلڈ وار کی شروعات نہ ہو جائے ۔ (انل نریندر)

19 اکتوبر 2023

تہاڑ جیل پہنچ گئے سنجے سنگھ!

شراب کی متنازعہ پالیسی نے بالآخر AAP ایم پی سنجے سنگھ کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔ تفتیشی ایجنسی کی درخواست پر عدالت نے انہیں 27 اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ عدالت نے انہیں 16 کتابیں جیل لے جانے کا حکم دیا ہے۔ اجازت دے دی گئی ہے اور انہیں جیل نمبر 2 میں جگہ دی گئی ہے۔ شراب گھوٹالہ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے راؤ کی اس بیان پر سخت نکتہ چینی کی۔ خصوصی جج اے کے ناگپال نے سنجے سنگھ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا۔ کہ اگر آپ کو اس معاملے میں کچھ کہنا ہے تو کہنے میں ہچکچاہٹ نہ کریں۔ عدالت نے زبانی کہا کہ یہ بیان قابل قبول نہیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کی پیشی کا حکم ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دیا جائے گا۔ عدالت نے یہ تبصرہ سماعت کے دوران اس وقت کیا جب سنجے سنگھ نے کہا کہ انہوں نے اڈانی کے خلاف گھوٹالوں کی جانچ کے لیے ای ڈی سے شکایت کی تھی، لیکن جانچ نہیں ہوئی۔ عدالت نے اس پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے مودی اور اڈانی کے خلاف یہی بیانات دینے ہیں تو میں اب سے کروں گا۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اپنا پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔ گیا اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ ملزمین کا آمنا سامنا ہو سکے، لیکن اس دوران ای ڈی نے صرف ایک شخص کا سامنا کیا اور اس سے 8 دن تک روزانہ 2 سے 3 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی اور اس میں بھی کوئی سوال نہیں پوچھا گیا۔ معاملے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی ایجنسیوں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو 10,000 روپے کیوں بھیجے۔ اس نے والد سے ادھار لیے گئے اور بچے کے علاج کے لیے دیے گئے ایک لاکھ روپے کے بارے میں پوچھا۔ سنجے سنگھ کے وکیل نے کہا کہ ای ڈی نے ان کے موکل کے خلاف رائے قائم کرنے کے لیے 8 دن کی اجازت مانگی تھی۔ اس دوران دہلی ہائی کورٹ نے شراب گھوٹالہ میں ای ڈی کے ذریعہ گرفتار سنجے سنگھ کی درخواست پر ای ڈی کو جواب دیا۔ ریمنڈ کو فیصلہ کس نے دیا؟ جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ نے ای ڈی کو نوٹس جاری کیا اور اسے اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ وہ کیا تھا؟ لارجر بنچ نے کیس کی فوری سماعت کی اجازت دے دی۔ ای ڈی نے کہا کہ نچلی عدالت نے سنجے سنگھ کو عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے اور جواب داخل کرنے کے لیے دو دن کا وقت دیا جانا چاہیے۔ عدالت نے ای ڈی کو حکم دیا۔ درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ (انیل نریندر)

حماس سرنگوں!

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں زیر زمین سرنگوں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنا رہا ہے جسے حماس نے تیار کیا ہے۔ چیلنج دو سرنگوں کا ہے جو اسرائیل پر حملے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ غزہ کی بالائی تہہ پر عام شہری رہتے ہیں۔ اس کے نیچے ایک اور تہہ ہے جسے حماس استعمال کرتی ہے۔ ہم فی الحال اس دوسری تہہ میں ہیں۔ غزہ میں زیر زمین پرت کو نشانہ بنانا۔ یہ بنکر عام شہریوں کے لیے نہیں ہیں، یہ صرف حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے ہیں جو خود کو اسرائیلی راکٹوں سے بچانے اور اپنی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے ہیں۔ , اسرائیل پر حملے جاری غزہ میں سرنگوں کے نیٹ ورک کے سائز کا تجزیہ کرنا مشکل ہے۔ اسرائیل حماس کی سرنگوں کو غزہ میٹرو کہتا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پورے غزہ میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے غزہ میں 100 کلومیٹر طویل سرنگیں تباہ کر دی ہیں تاہم حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ میں 500 کلومیٹر طویل سرنگیں بنائی ہیں اور اسرائیلی حملے میں صرف 5 فیصد سرنگیں تباہ ہوئیں۔ اس رپورٹ کے مطابق لندن میں زیر زمین میٹرو کا پھیلاؤ صرف 400 کلومیٹر ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ زمین سے اوپر ہے۔ 2005 میں اسرائیلی افواج اور یہودی باشندوں نے غزہ سے انخلا کیا جس کے بعد سرنگ کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ لیکن 2 سال بعد حماس نے غزہ پر قبضہ کر لیا اور پھر سرنگوں کا جال تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا۔ حماس کے اقتدار میں آتے ہی اسرائیل اور مصر نے اپنی سرحدوں کے پار سامان اور لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔ جواب میں حماس نے سرنگوں پر توجہ دینا شروع کر دی۔ حماس کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس 500 کلومیٹر لمبی سرنگیں ہیں۔ 2006 میں یہودی اسرائیل کی سرحد عبور کرنے والی ایک سرنگ کے ذریعے اسرائیل میں گھس آئے۔ فوجیوں کو مار ڈالو۔ ایک فوجی کو اغوا کر کے 5 سال تک قید رکھا گیا۔ 2013 میں اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے اپنے ایک محافظ کے ذریعے ان سرنگوں کو تباہ کرنے کی مہم شروع کی تھی۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے 18 میٹر گہری اور 1.6 کلومیٹر لمبی سرنگ دریافت کی۔ اگلے سال اسرائیل نے 30 سرنگیں تباہ کیں لیکن دہشت گردوں کے حملے میں 4 فوجی بھی مارے گئے۔ غزہ کے اندر سرنگوں کا مقصد عام سرنگوں سے مختلف ہے۔ وہ جینا چاہتے ہیں، ان کا انتظام ہے تاکہ وہ اپنی زندگی گزار سکیں، ان کے لیڈر وہاں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی ہے۔ نقل و حمل کے علاوہ یہ سرنگیں رابطے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، ان میں بجلی بھی ہے اور ریل ٹیکسیوں کی سہولت بھی ہے، آپ ان میں پیدل جا سکتے ہیں۔ حماس نے سرنگیں کھودنے کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ اس نے یہ فن شامی جنگجوؤں سے سیکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ غزہ میں سرنگیں زمین سے 30 میٹر نیچے ہیں۔ اور ان میں داخل ہونے کے لیے وہ کمروں سے گزرتے ہیں۔ گھروں، سرنگوں، مساجد، سکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر داخل ہو سکتے ہیں۔ (انیل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...