Translater

17 جنوری 2015

کیجریوال کو ٹکر دینے میں کیرن بیدی ہرصورت میں اہل!

ٹیم انا کے ممبر رہے عام آدمی پارٹی کے چیف اروند کیجریوال سے دلی اسمبلی چناؤ میں سخت مقابلے کا سامنا کررہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے ترپ کا اکا پھینکتے ہوئے انا ہزارے کی اہم یودھا رہیں کیرن بیدی کو جمعرات کے روز اپنی جماعت میں شامل کرلیا ہے۔ سیاست میں آنے سے انکارکرتی رہیں کیرن بیدی آخر مان ہی گئیں اور بھاجپا میں شامل ہوگئیں۔ پارٹی نے انہیں باقاعدہ طور سے سی ایم امیدوار تو اعلان نہیں کیا ہے لیکن جس طرح سے امت شاہ اور ارون جیٹلی جیسے لیڈروں کی موجودگی میں بھاجپامیں شمولیت اختیار کی اس سے صاف اشارہ ہے کہ بی جے پی کی سرکار بنانے کی صورت میں وزیر اعلی وہی ہوسکتی ہیں۔حالانکہ پارٹی صدر امت شاہ اس سوال کو یہ کہہ کر ٹال گئے کہ اس کا فیصلہ پارٹی پارلیمانی بورڈ کرے گا۔ اتنا کہا کہ بیدی اسمبلی چناؤ ضرور لڑیں گی لیکن کہاں سے لڑیں گی یہ ابھی طے نہیں ہوا ہے۔ دہلی کی زبردست چناوی لڑائی میں پھنسی بھاجپا نے کیرن بیدی کو اپنے پالے میں لاکر یقینی طور سے ایک ماسٹر اسٹوک لگایا ہے۔ ابھی یہ صاف ہے کہ کیرن بیدی نئی دہلی سیٹ پر کیجریوال کے سامنے اتریں گی یا نہیں لیکن ان کی بھاجپا میں موجودگی ہی کیجریوال سے ٹکر کیلئے معجزاتی چہرہ تلاش رہی پارٹی کے لئے کیرن بیدی بڑی راحت ہے۔ بھاجپا ہیڈ کوارٹر میں ارون جیٹلی، امت شاہ اور ڈاکٹر ہرش وردھن کی موجودگی میں بھاجپا کی ممبر شپ اختیار کرتے ہوئے کیرن بیدی نے کہا ان کے پاس 40 سال کا انتظامی تجربہ ہے اور وہ اس تجربے کو دہلی کو دینے آئی ہیں۔ دہلی کو ایک مضبوط اور پائیدار سرکار کی ضرورت ہے دہلی میں بہت سی برائیاں ہیں مجھے تجربہ ہے، مجھے کام کرنا اور کام کروانا بھی آتا ہے۔ ہم دہلی کو ہندوستان کا دل بنائیں گے۔ کیرن بیدی کے بھاجپا میں جانے کی قیاس آرائیاں کافی عرصے سے لگتی رہی تھیں اب جاکر پارٹی کو اس میں کامیابی ملی ہے تو اس کے پیچھے یقیناًنریندر مودی اور امت شاہ کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ وزیر اعظم سے مل کر بھاجپا میں اینٹری کرنے پہنچی بیدی سے صاف طور پر کہا کہ ان کو پارٹی میں لینے سے پیچھے نریندر مودی کی اہم نصیحت رہی ہے۔ اب تک بھاجپا کو اس بات سے پریشانی ضرور ہورہی تھی کہ اروند کیجریوال کی اس دلیل پر وہ مسلسل مجبور ہوتی تھیں کہ کیا مودی دہلی کے مکھیہ منتری بنیں گے۔ جہاں کیرن بیدی کے آنے سے بھاجپا مضبوط ہوگی وہیں دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ بھاجپا کی دلی یونٹ میں جو گروپ بندی ہے کیا وہ ختم ہوجائے گی؟ اندر خانے کئی سرکردہ لیڈر کیرن بیدی کی مخالفت کریں گے اور اپنی کرسی کھسکتی دیکھ ان میں بے چینی بھی ہوگی۔ اسی سلسلے میں ’آپ‘ اپنی طرف سے بھاجپا کے وزیر اعلی عہدے کے لئے ان کے ممکنہ امیدواروں کا نام اچھالا کرتی تھی جن کے چہرے کیجریوال کے سامنے پھیکی پڑتے تھے اور کیجریوال کی طرح کرشمائی اور دبنگ نہیں لگتے تھے۔ اب چہروں کی لڑائی میں مودی ۔ شاہ ۔ بیدی بنام کیجریوال میں بھاجپا کا پلڑا بھاری ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اور آپ کے سامنے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں بھاجپا آگئی ہے۔ دہلی کی جنتا کی نظر میں کیرن بیدی کی ساکھ قابل اور مقبولیت کسی لحاظ سے کیجریوال سے کم نہیں ہے۔ ان کا خاتون ہونا بھی بڑا پلس پوائنٹ ہے۔ اپنی سابق ساتھی رہیں کیرن بیدی اگر کیجریوال کے چٹھے کھولنے لگیں تو کیجریوال کو جواب دینا بھاری پڑے گا۔ کہہ سکتے ہیں کہ چہرے کی لڑائی میں پچھڑ رہی بھاجپا نے کیرن بیدی کو لاکر اپنی پوزیشن نہ صرف بیلنس کی ہے بلکہ وہ یہ داؤ دہلی میں اسے فیصلہ کن بڑھت بھی دلا سکتا ہے لیکن جیسا میں نے کہا کہ بیدی کے آنے سے بھاجپا کے دہلی کے سینئر لیڈروں کے سینے پر سانپ ضرور لوٹ رہا ہوگا جو باہر سے تھونپے گئے سی ایم امیدوار کی دعویداری کو روکنے میں اندر خانے ایڑی چوٹی کا زور لگا سکتے ہیں۔ کل ملاکر بی جے پی کا یہ ماسٹر اسٹوک ہے۔
(انل نریندر)

شیلا دیکشت عہد ختم ماکن کی پاری شروع!

کانگریس پچھلے اسمبلی چناؤ اور اس کے بعد عام چناؤ میں ہوئی اپنی کراری شکست کے صدمے سے ابھی باہر نہیں نکل پا رہی ہے۔ دہلی کے ان کے لیڈروں کی آپسی بحث پارٹی کو اس بار دہلی اسمبلی چناؤ میں اور بھی پریشانی میں ڈال سکتی ہے۔ منگل کے روز دہلی کی الیکشن کمپین کمیٹی کے چیئرمین اجے ماکن اور سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت کے درمیان ہوئی لفظی جنگ سے پارٹی کیلئے نئی مشکلیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ جہاں ماکن نے یہ کہہ کر شیلا پر تلخ تبصرہ کیا ہے کہ دہلی میں شیلا کا دور ختم ہوگیا ہے وہیں شیلا دیکشت نے بھی ماکن کو یہ کہہ کر چیلنج دے دیا کہ انہیں نئی دہلی سے چناؤ لڑنا چاہئے۔ کانگریس پارٹی اعلی کمان نے دہلی اسمبلی چناؤ میں اپنی مخالف پارٹیوں پر آخری حملہ کردیاہے۔ پارٹی نے پردیش کی کمان چناؤ لڑنے کیلئے اجے ماکن کو سونپ دی ہے۔ ان چناؤ میں اب ماکن پارٹی کا چہرہ ہوں گے۔ یہ کانگریس کا صحیح وقت پر صحیح فیصلہ مانا جائے گا۔ چناوی جنگ میں ماکن کے شامل ہونے کے بعد کانگریس کی تکڑی میں پردیش پردھان اروندر سنگھ لولی، مکیش شرما کے علاوہ اجے ماکن شامل ہوگئے ہیں۔ اعلی کمان نے ایسے وقت میں ماکن پر اعتماد ظاہر کیا ہے جب پارٹی کی پوری زمین کھسک چکی ہے۔ ماکن کو 2001 ء میں شیلا دیکشت سرکار میں ٹرانسپورٹ اور بجلی وزیر بنایاگیا تھا۔ انہیں بجلی تقسیم کمپنیوں کے نجی کرن اور دہلی میں ٹرانسپورٹ سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ذمہ داری دی تھی۔ انہوں نے 2004ء کے لوک سبھا چناؤ میں نئی دہلی کی سیٹ پر بھاجپا کے جگموہن کو ہرایا تھا۔ 2009ء میں انہوں نے پھر اسی سیٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ پچھلے چناؤ میں وہ بھاجپا امیدوار مناکشی لیکھی سے ہار گئے۔ اب پارٹی نے ایسے وقت پر ماکن پر اعتماد جتایا ہے جب ان کے پاس کوئی کرشمائی چہرہ نہیں ہے۔ اجے ماکن اگر اسمبلی چناؤ میں کانگریس کو8 سے زیادہ سیٹیں جتا سکیں گے تو اعلی کمان کا فیصلہ صحیح مانا جائے گا۔ چناؤ لڑنے کی تیاری میں لگے کئی لیڈر ماکن کو چیئرمین بنائے جانے کی مخالفت بھی کررہے ہیں۔ ان کو شکایت ہے کہ ماکن جب دہلی اور مرکزی سرکار میں وزیر تھیتو پارٹی کے لوگوں سے بھی نہیں ملتے تھے۔ کانگریسیوں کے فون تک نہیں سنتے تھے۔ اپنے لوگوں نے بھی اسی طرح کی پوری چناؤ مہم کے دوران بھی ان پر سوال کھڑے کئے تھے ماکن کو اب نئے سرے سے ان پر دھیان دینا ہوگا۔اسی درمیان کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے یہ صحیح بات ہے کہ پارٹی کے سامنے بڑی چنوتی ہے لیکن اعلی کمان سے وابستہ لوگوں کے فون دہلی کے لیڈروں تک پہنچ رہے ہیں۔ ماکن کی صلاحیت پر کسی کو شبہ نہیں ہے۔ وہ سبھی کو ساتھ لیکر چل سکتے ہیں اور پارٹی کو صحیح سمت دیں گے۔ اجے ماکن ایک منجھے ہوئے سیاستداں ہیں اور تجربہ کار بھی ہیں۔ پارٹی اعلی کمان نے کیا انہیں دہلی کی لیڈر شپ سونپنے کا صحیح فیصلہ کیا ہے؟
(انل نریندر)

16 جنوری 2015

جان کیری کی پاکستان کو ہدایت و نصیحت!

ہندوستانی بری فوج کے سربراہ دلبیر سنگھ سہاگ نے نئی دہلی میں اس بات کی وسیع تفصیلات رکھی ہیں کہ پاکستان ن میں دہشت کا ڈھانچہ ابھی تک برقرار ہے۔ ٹھیک تقریباً یہی بات اسلام آباد میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی کہیں ہے۔انہوں نے دو ٹوک کہا ہے کہ پاکستان کی نواز شریف سرکار کو ان سبھی دہشت گرد گروپوں سے لڑنا ہوگا جو افغانستان ۔ بھارت اور امریکی مفادات کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے دہشت گرد تنظیموں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بن چکے پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کے ان کے طریقے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سخت ہدایت دی ہے۔ اب تک اچھی بری دہشت گردی کی پالیسی پر چل رہے پاکستان سے امریکہ نے دو ٹوک کہا ہے کہ بھارتیہ برصغیر میں امن قائم کرنے کیلئے وہ لشکرطیبہ، طالبان اور حقانی نیٹ ورک سمیت سبھی دہشت گرد تنظیموں پر نکیل کسے۔ بھارت کے دورے کے بعد اسلام آباد گئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ یہ سبھی دہشت گرد تنظیمیں خود پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت اور دنیا کے لئے بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ کیری نے خاص طور پر لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کا ذکر کیا۔ پیشاور حملے کے بعد طالبان پر کارروائی کا ارادہ تو پاکستان سرکار نے دکھا یا ہے لیکن مندرجہ بالا دونوں گروپوں کے تئیں اس کا دوہرا رویہ برقرار ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان کئی معنوں میں اہم رہا۔اس کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ ابھی ابھی امریکہ نے پاکستان کیلئے50 کروڑ ڈالر کی امداد کا پیکیج منظور کیا ہے اور کچھ دنوں پہلے ہی پاکستانی فوج کیلئے ایک ارب ڈالر کی امداد کا پیکیج بھی منظور کیا گیا تھا۔ امریکی عوام اور اقتدار کے گلیارے میں پاکستان کو اقتصادی مدد دئے جانے کی کافی مخالفت ہوئی تھی۔ مدد کے لئے شرائط طے کرنے کی خاطر کیری نے قانون میں ترمیم کی تھی۔ جس کے ایک تجویز کرداؤں میں خود جان کیری بھی تھے۔ اس قانون کے مطابق ہر سال دہشت گردی کی لڑائی میں پاکستان کے کام کاج کا جائزہ لینے کے بعد ہی پاکستان کو مالی مدد دی جاسکتی ہے۔ امریکہ میں پاکستان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ پاکستان سرکار دوہرا کھیل کھیل رہی ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی اور اندر خانے یہ کارروائی محض دکھاوا ہے۔ پاکستان کے اس دوہرے کھیل کے تئیں عالمی برادری کو چوکس کرنے میں بھارت کامیاب رہا ہے اس لئے جان کیری نے پاکستان کو سبھی دہشت گرد گروپوں کو پست کرنے کی اس کی ذمہ داری کے تئیں آگاہ کیا ہے اور یاد دلایا کہ بھارت سے بہتر رشتے رکھنا خود اس کے فائدے میں ہے۔ اس سلسلے میں فرانس میں حال ہی میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا ذکر کرکے کیری نے صاف پیغام دیا ہے کہ اب دنیا دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ ہم امیدکرتے ہیں کہ دونوں امریکہ اور پاکستان اس دوہرے کھیل کو ختم کریں گے اور حالات کو سنجیدگی سے لیں گے۔
(انل نریندر)

دہشت گردی کے پیروکار اکالیوں اور بھاجپا کا راستہ الگ الگ ہوگا!

پنجاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اکالی دل کے درمیان جیسے تلواریں کھینچتی دکھائی دے رہی ہیں اور دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں لگی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے جلد یہ اتحاد ٹوٹنے والا ہے۔ اکالی دل کے چیئرمین سکھبیر سنگھ بادل نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھاجپا حکمراں ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش میں نشیلے سامان کی کھیتی اور اس کی پیداوار کو بند کرنے کا چیلنج دیا ہے۔ بادل یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسمگلنگ کر پنجاب لائی جارہی ممنوعہ منشیات کے اشو وہ پاکستان کے سامنے اٹھائے۔یہ ہی نہیں بلکہ پچھلی تین دہائیوں میں بھارت دہشت گردی کا کس قدر شکار ہوا ہے اور اس میعاد میں دیش کو زبردست اور وسیع نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اب بھی دہشت گردی کی وارداتوں کے اندیشے میں دیش کی خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیاں ہائی الرٹ پر ہیں۔ ایسے میں اب تک ہمارے سیاستدانوں کو یہ بات سمجھ میں آجانی چاہئے تھی کہ موقعہ پرستی ،علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کے تئیں دکھائی گئی تھوڑی سی بھی نرمی دیش اور سماج کے لئے خطرناک ہوسکتی ہے لیکن افسوس دہشت گردی کا لمبا دور دیکھنے والے پنجاب کی اکالی سرکار اپنے ذاتی سیاسی مفادات کیلئے دہشت گردوں کی پیروی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ وزیراعلی پرکاش سنگھ بادل نے کئی ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام ریاستوں کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ان کی جیلوں میں بند 13 دہشت گردوں کو رہا کیا جائے۔ صاف ہے کہ یہ کوشش سیاسی فائدے کے لئے پنجاب میں موجود مفاد پست عناصر کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن دہشت گردوں کی رہائی کی مانگ ہورہی ہے اس میں وہ دہشت گرد بھی شامل ہیں جنہوں نے پنجاب کے سابق وزیر اعلی بے انت سنگھ کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی ہوئی ہے اور جن کا جیل میں سرنگ کھود کر فرارہوئے ایک ساتھی 10 سال بعد تھائی لینڈ میں پکڑا گیا ہے۔ صاف ہے کہ بادل سرکار آگ سے کھیلنے کی کوشش کررہی ہے۔ بادل کا ڈرگس معاملے میں بھی موقف سمجھ سے باہرہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم نے ریڈیو سے خطاب میں پنجاب میں تیزی سے پاؤں پھیلاتی منشیات کے مسئلہ کا تذکرہ کیا تھا جو بات اکالی دل کو ناگوار گزری ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے وزیر محصول وکرم سنگھ مجیٹھیا سے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے چار گھنٹے سے زیادہ وقفے تک پوچھ تاچھ کی۔ ان پر 6 ہزارکروڑ روپے کی نشے کی اسمگلنگ کرنے والے گروہ کے ساتھ مبینہ کالی کمائی کو سفید کرنے کے معاملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔دیگر ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں کامیابی کا ذائقہ چکھنے کے بعد بھاجپا پنجاب میں 2017ء میں ہونے والے اسمبلی چناؤ کے پیش نظر بڑے رول کا من بنا چکی ہے۔117 سیٹوں والی اسمبلی میں اکالی دل اب تک بھاجپا کو چناؤ لڑنے کیلئے 23 سیٹیں دیتا رہا ہے۔ آنے والے چناؤ میں بھاجپا یہاں اکیلے اترنے کا من بنا چکی ہے۔ بھاجپا اکالی دل کی وہی حالت ہے جیسے مہاراشٹر اسمبلی چناؤ کے پہلے بھاجپا۔ شیو سینا کی تھی۔بھاجپا اور ان کے نیتاؤں کا کہنا ہے کہ وہ پنجاب میں اکالی دل کے ساتھ یا بغیر کچھ بڑا فیصلہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ جیسا کہ اشارے مل رہے ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اگلا اسمبلی چناؤ بھاجپا اپنے دم پر ہی لڑے گی۔
(انل نریندر)

15 جنوری 2015

سری لنکا کے سابق صدر کا الٹا پڑا داؤں!

سری لنکا کے سابق صدر مہندرا راج پکشے نے 6 سالہ تیسری میعاد کے لئے جیت کی امید میں طے وقت سے دو سال پہلے ہی صدارتی چناؤ کرانے کا فیصلہ لے لیا تھا لیکن وہ اس وقت حیران رہ گئے جب سابق وزیر صحت میتری پالا سری سینا چناؤ کرانے کے فیصلے کے ایک دن بعد ہی سرکارسے استعفیٰ دے کر صدارتی چناؤ کیلئے امیدوار بن گئے اور راج پکشے چناؤ ہار گئے اور اقتدار سری سینا کے ہاتھ میں آگیا۔ مہندرا راج پکشے کو لگتا ہے کہ اپنے ایک دہائی طویل اقتدار کے خلاف لوگوں میں پنپ رہی ناراضگی اور اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی کا اندازہ نہیں لگا پائے۔ تمل لبریشن ٹائیگرز آف تمل الم یعنی (لٹے) کے خلاف کی گئی زبردست فوجی کارروائی کے بعدتمل اکثریتی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو لیکر راج پکشے عالمی برادری کے نشانے پر تھے۔ مگر25 برس پہلے چلی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد ہوئے 2009 ء کے صدارتی چناؤ میں سنہالی اکثریتی عوام کے دم پر راج پکشے دوسری مرتبہ صدارتی چناؤ جیتنے میں کامیاب رہے۔ سری لنکا میں آئے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔مہندرا راج پکشے کواپنی سیاسی طاقت پر اتنا بھروسہ تھا کہ انہوں پنے طے میعاد سے دو سال پہلے ہی صدارتی چناؤ کرانے کا فیصلہ کیا لیکن چناؤ کے سارے حالات اس وقت بدل گئے جب ان کے وزیر سری سینا نے پالہ بدل لیا اور سری سینا بھی راج پکشے کی طرح ہی دیہی بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ سنہالی ہیں۔ انہوں نے لٹے کے خلاف لڑائی کے آخری دور میں فوجی مینجمنٹ میں خاص رول نبھایا تھا ۔کل ملاکر ایک صاف ستھری ساکھ کے لیڈر ہیں اس سے وہ راج پکشے کے ووٹ بینک میں سیندھ لگانے میں کامیاب ہوئے ۔سری لنکا میں راج پکشے کے ہار سے تاملناڈو کی پارٹیاں خوش ہیں۔ تمل راج پکشے کو2009ء میں تملوں کے خلاف جنگ کا قصوروار مانتے ہیں۔ ڈی ایم کے چیف ایم کروناندھی نے کہا ان کی پارٹی جنگی جرائم کے الزامات کی بین الاقوامی جانچ کرے گی۔ مانا جارہا ہے سری سینا کی کامیابی سے بھارت اور سری لنکا کے رشتوں میں مضبوطی آئے گی۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے مبارکبادی پیغام میں کہا کہ میں سری لنکا کے نئے صدر میتری پالا سری سینا کو مبارکباد دیتا ہوں اور چاہوں گا کہ جنہوں نے پر امن اور جمہوری طریقے پر چناؤ کو ممکن بنایا ہے وہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ راج پکشے کے دوسرے عہد میں کنبہ پرستی ،کرپشن کا دور دورہ تھا۔ حالت یہ تھی دیش کی پانچ بڑی وزارتیں راج پکشے اور ان کے بھائیوں کے پاس ہوا کرتی تھیں جن کی دیش کے بجٹ میں 78 فیصدی حصے داری ہوتی ہے۔لیکن بڑھتی مہنگائی، بیروزگاری جیسے اشو پر لوگوں کی ناراضگی ان کے عہد کیلئے آخری کیل ثابت ہوئی ہے۔ سری سینا کے صدر بننے سے بڑی تبدیلیاں سری لنکا کی خارجہ پالیسی میں دکھائی پڑ سکتی ہیں۔ نئے صدر کی کامیابی میں تمل ووٹوں کا اہم اشتراک رہا ہے اس لئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سری سینا کی سرکار تمل مفادات کا بھی مناسب خیال رکھیں گے۔ کل ملا کر سری لنکائی مینڈیٹ کا یہ پیغام ہے کہ اکثریتی بالا دستی اور فوجی طاقت کے سہارے خود کو محفوظ نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ حوصلہ افزا تبدیلی کی علامت ہے۔
(انل نریندر)

اس طرح سے دلدل میں پھنسی کانگریس باہر نہیں نکل سکتی!

عام چناؤ میں کراری ہار کے بعد کانگریس ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں اپنے اچھے دنوں کی امید کررہی تھی لیکن اس کے بعد دیگر اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا اور ایک ایک کرکے ساری ریاستیں کانگریس کے سارے قلعہ مسمار ہوگئے ووٹ فیصد بھی گھٹا اور سیٹیں بھی۔ اس شرمناک کارکردگی کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ کانگریس لیڈر شپ اس مسئلے پر سنجیدہ ہوگی اور ان اشوز پر سنجیدگی سے محاسبہ کرے گی جس کی وجہ سے اتنی پرانی پارٹی عرش سے فرش پر آگئی ہے۔ منگلوار کو پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ پارٹی ہیڈ کوارٹر میں قریب پونے چار گھنٹے تک چلی جس میں زبردست تبادلہ خیالات ہوئے لیکن نتیجہ وہی دھاک کے تین پات نکلا۔ پارٹی کے گرتے گراف کو دیکھتے ہوئے قومی چیئرپرسن محترمہ سونیا گاندھی کو خود پارٹی کی اتری ہوئی گاڑی کو پھرسے سنبھالنے کی کوشش سے جڑنا پڑا۔ مگر کانگریس لیڈر شپ بنیادی سوال پر ابھی توجہ نہیں دے رہی ہے وہ ہے پارٹی کے پالیسی ساز فیصلوں میں عوامی رائے عامہ۔ آزادی کے قریب سات دہائی بعد بھی فیصلے اوپر سے ہی تھونپے جاتے ہیں چاہے پردیش پردھان کی تقرری کا معاملہ ہو یا ضلع پردھان کا فیصلہ اعلی سطح سے ہی ہوتا ہے۔ سبھی تنظیمی فیصلوں پر اختیار گاندھی خاندان یا اس کے کسی قریبی شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ٹکٹ بٹوارے سے لیکر وزارتوں تک کا بٹوارہ گاندھی پریوار کرتا ہے۔ نچلی یونٹوں یہاں تک کہ پردیش یونٹ تک کو کئی بار کچھ خبر نہیں ہوتی اور فیصلہ لے لیا جاتا ہے۔ کانگریس میں چاپلوسوں کا راج قائم ہوچکا ہے۔ باضمیر زمینی لیڈروں اور ورکروں کی کوئی بات نہیں سنی جاتی۔ وزیر اعظم نریندر مودی ، امت شاہ کے وجے رتھ کے سامنے سست پڑی کانگریس کو آکسیجن دینے کے لئے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے امید کی جارہی تھی لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ مودی سرکار کے خلاف اور اپنی مضبوطی کیلئے کانگریس کی سپریم باڈی سی ڈبلیوسی میں کوئی کارگر حکمت عملی نہیں بن سکی اور لمبی چوڑی میٹنگ بغیر کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچے ختم ہوگئی۔ مرکز کی مودی سرکار کے خلاف جارحانہ مہم چلانے اور پھر پارٹی کو پھر سے نئی طاقت کے ساتھ کھڑا کرنے کی تجویز ورکنگ کمیٹی کے ممبروں کے سامنے آئی۔ اس پر اتنے تضاد سامنے آئے کہ میٹنگ بغیر کسی تجویز کو پاس کئے ختم کرنی پڑی۔ پارٹی کی مضبوطی اور ووٹ بینک بڑھانے کیلئے ایک تجویز آئی تھی کہ تنظیم کی ممبر شپ بڑھانے کے لئے دوسری پارٹیوں کی طرز پر کانگریس کو بھی آن لائن ممبر شپ فارم منگوانے چاہئیں لیکن اس کے مضر اثرات ہونے کے دوسرے نیتاؤں کی اتنی دلیلیں آئیں کے اسی بھی زیر غور فہرست میں ڈال دیا گیا۔ اسی طرح جب آراضی تحویل قانون میں تبدیلی کو لیکر احتجاج کرنے کی بات آئی تو کچھ ممبران کا کہنا تھا اس پر زیادہ جارحانہ رویہ دکھانا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ کچھ کسان ایسے بھی ہیں جو چار گنا معاوضے کے بدلے خوشی خوشی اپنی زمین سرکار کو دینے کو راضی ہیں۔ اس کے بدلے زیادہ تر ممبر کسانوں کی پیداوار کا صحیح دام دلوانے، بیج کھاد وغیرہ کے مسئلے کو ڈھنگ سے اٹھانے کے حق میں دکھائی دئے۔ یہاں تک کہ راہل گاندھی کو کانگریس کی باگ ڈور سونپنے کی مانگ میٹنگ میں اس لئے نہیں اٹھی کیونکہ کافی ممبر اس کے خلاف آواز اٹھا سکتے تھے۔ کل ملا کر میٹنگ لیپا پوتی کرکے ہی ختم ہوگئی۔اس طرح تو دلدل میں پھنسی کانگریس باہر نہیں نکل سکتی۔
(انل نریندر)

14 جنوری 2015

دہلی میں بجا چناؤ کا بگل!

وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں بھاجپا کی مقبولیت کا بڑا امتحان اگلے ماہ دہلی میں ہوگا، جب دہلی اسمبلی کی 70 سیٹوں کے لئے 7 فروری کوووٹ ڈالے جائیں گے اور 10 کو نتیجے آئیں گے۔ قریب ایک سال سے صدر راج سے کام چلا رہی راجدھانی میں اہم مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان مانا جارہا ہے لیکن پیرکو دہلی چھاؤنی بورڈ کے چناؤ کے اشارے مانیں تو لوگوں نے کانگریس کو پوری طرح خارج نہیں کیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے جب چناؤ کمیشن نے چناؤ کی تیاری کیلئے سب سے کم وقت دیا ہے۔ پچھلے چناؤ میں کمپین کیلئے40 سے60 دن ملے تھے لیکن اس بار 25 دن میں ہی امیدواروں کو عوام کا دل جیتنا ہوگا۔ آج کے حالات کے مطابق ’عام آدمی ‘پارٹی نمبر ون پر چل رہی ہے۔ وہ سبھی 70 سیٹوں پر اپنے امیدوار اعلان کرچکی ہے۔ اس کے امیدواروں نے کئی دن پہلے ہی اپنی کمپین شروع کردی تھی اور دوسری طرف بھاجپا نے ابھی تک تو نہ یہ اشارہ دیاہے کہ اگر وہ چناؤ میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کا وزیر اعلی کون ہوگا اور نہ ہی ایک بھی امیدوار کا نام اعلان کیا ہے۔ بھاجپا کے اندر اتنی گروپ بازی ہے کہ نریندر مودی اور امت شاہ کو خود کمان سنبھالنی پڑے گی اور ہریانہ ، مہاراشٹر کی طرز پر چناؤ لڑنا ہوگا۔ بھاجپا کیلئے دہلی میں وہ ماحول نہیں ہے جو لوک سبھا چناؤ کے وقت ہوا کرتا تھا۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ حال ہی میں نریندر مودی کی رام لیلا میدان میں ہوئی ریلی میں مشکل سے 25-30 ہزار لوگ شامل ہوئے تھے اور ان کی تقریر میں بھی دم نہیں تھا۔ رہی سہی کثر مودی نے اروند کیجریوال پر سیدھا حملہ کرکے انہیں ہیرو بنا دیا ہے۔ دہلی کے جنتا بی جے پی سے مایوس ہے کیونکہ 1 سال کے قریب صدر راج میں اس کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ بجلی، پانی، لچر قانون و انتظام، کرپشن ہیلتھ اور بے روزگاری وغیرہ کسی بھی مورچے پر مرکزی سرکار کامیاب ہوتی نہیں دکھائی دی۔ پچھلے ایک سال میں لوک سبھا چناؤ میں مہنگائی سب سے بڑا اشو بن کر ابھرا تھا جو آج بھی لوگوں کے لئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ روز مرہ کی ضرورت کی چیزیں خاص طور پر سبزیوں کے دام تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہم بجلی کی بات کریں تو عام آدمی پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد بجلی کے بل 50 فیصدی تک کم کردئے گئے تھے۔ حالانکہ اروند کیجریوال کے استعفے کے بعد بجلی کے بلوں پر ملنے والی سبسڈی کو ہی ختم کردیا گیا ہے۔ حالانکہ مرکز نے اب 400 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو سبسڈی دینا شروع کردی ہے لیکن پانی کی سپلائی کے محاذ پر دہلی ہر روز 172 ایم جی ڈی پانی کی قلت سے دور چار ہے۔ دوارکا جیسے علاقوں میں یہ مسئلہ بہت ہی مشکل بنا ہوا ہے جہاں لوگوں کو پرائیویٹ ٹینکروں سے پانی خرید کر کام چلانا پڑ رہا ہے۔2013ء میں دلی میں جرائم گراف 99فیصد تک بڑھ گیا ہے جبکہ صرف 30 فیصدی تک معاملے ہی حل ہوپائے۔ 2014ء میں یہاں آبروریزی کے دو ہزار سے زیادہ معاملے درج ہوئے ہیں جو 2013ء کے مقابلے 30 فیصدی زیادہ ہیں۔ ہر طرح کے جرائم بڑھے ہیں۔ حالانکہ شاید ہی دہلی چناؤ پر اس کا اثر پڑے لیکن بی جے پی کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے میں ہوئے چھاؤنی نگرپالیکا چناؤ میں زبردست ہار ایک اشارہ ضرور مانا جائے گا ۔ وارانسی میں سبھی بی جے پی حمایتی امیدوار ہار گئے ہیں اس کے علاوہ آگرہ میں بھی بی جے پی کو زبردست جھٹکا لگا ہے جہاں پارٹی کے چناؤ نشان پر چناؤ لڑا گیا تھا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دہلی کی عوام کو کھلے طور پر ووٹنگ کرنی چاہئے جس پارٹی کو بھی چاہیں وہ مکمل اکثریت دیں۔دہلی میں پھر معلق اسمبلی نہیں ہونی چاہئے۔ 1993ء سے ریاست کا درجہ ملنے کے بعد یہاں ہمیشہ ہی مکمل اکثریت والی ایک مضبوط حکومت رہی ہے اس نے ہر بار اپنی پانچ سال کی میعاد پوری کی ہے۔ صرف پچھلے اسمبلی چناؤ میں دہلی میں سہ رخی مقابلہ دیکھنے کو ملا ہے اور نتیجوں میں ایک معلق اسمبلی سامنے آئی۔ اس کا مضر نتیجہ جنتا کو سہنا پڑا۔ امید کرتے ہیں کہ 7 فروری کو ہونے والے چناؤ میں دہلی کے شہری بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور ایک پارٹی کو واضح اکثریت دلائیں گے۔
(انل نریندر)

دنیا کی سب سے کم عمرکی موسٹ وانٹڈ خاتون کی کہانی!

فرانس میں سہ روزہ دہشت گرد حملے میں 10 صحافیوں سمیت20 لوگوں کی ہلاکت کے بعد پیرس میں حفاظت کے سخت انتظامات کردئے گئے ہیں۔ اس میں 800 فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ فرانس کے صدر فرانسس اولاندو نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات کیبنٹ کی میٹنگ میں بتائی ہے۔ پیرس میں زیادہ موتیں جرمنی کی چانسلر اینجلا مارکل برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سمیت بڑے لیڈروں کے ساتھ ہزاروں لوگوں نے حصہ لیا۔ سپر اسٹور میں مارے گئے سیاہ فام دہشت گرد کی گرل فرینڈ حیات بوتھو ابھی بھی فرار ہے۔ دہشت کے اس چہرے کو88 ہزار سکیورٹی جوان ڈھونڈ رہے ہیں۔ حیات بوتھو سن کی عمر26 سال ہے۔ اس وقت دنیا کی سب سے کم عمر دہشت گرد خاتون بن گئی ہے۔ پیرس کے دہشت گردانہ حملے میں شامل 32 سال کے امیدی کولی بیلی کی بیوی ہے۔ امیدی تو دونوں کواچی بھائیوں کے ساتھ مڈبھیڑ میں مارا گیا مگر حیات پورے ملک کی سکیورٹی فورسز کو چکما دینے میں کامیاب رہی۔ اس کے بارے میں متضاد رپورٹیں آرہی ہیں کہ وہ ایک سپر مارکیٹ میں یرغمال بنائے جاتے وقت امیدی کے ساتھ تھی وہیں سے یرغمالوں کے درمیان سے بچ نکلی ہے۔ دوسری طرف وہ ترکی ہوکر شام بھاگ گئی ہے۔2 جنوری کو استنبول کیلئے اس کا ٹکٹ تھا۔ جمعرات کو وہ شام پہنچی تھی۔1988ء میں پیدا حیات سات بھائی بہنوں میں ایک تھی۔1994ء میں اس کی ماں کی موت ہوگئی تھی۔ باپ محمد ایک ڈلیوری ڈرائیور تھا۔ بچوں کی پرورش اس نے ہی کی ہے اس لئے بچوں کو ایک چیئرسینٹر میں بھیجا۔ الجزائر نژاد حیات اپنا سر نیم ایسا رکھتی ہے جس سے اس کی پہچان فرانسیسی ہو۔ اس نے کوریئر کمپنی میں نوکری کی ہے۔ اسی نوکری کے دوران وہ امیدی سے ملی تھی۔ 2009ء میں دونوں نے مذہبی رسم و رواج سے شادی کرلی۔ مگر شادی کا یہ طریقہ فرانس کے قانون میں تعلیم نہیں ہے۔ حیات اب برقعہ میں نظر آئی۔ اس نقاب نے اس کی نوکری گنوادی کیونکہ فرانس میں برقعہ پہننے پر ممانیت ہے۔ اسلام میں اس کا رجحان امیدی سے رشتے کے بعد ہی بڑھا۔ اس نے کئی کتابیں پڑھیں اور جہادی سرگرمیوں کی معلومات حاصل کی تھیں۔2010ء میں القاعدہ سے وابستہ ایک دہشت گرد ڈجمیل وفل سے بھی ملی تھی۔ اس کا دعوی تھا کہ وہ افغانستان میں اسامہ بن لادن سے ملا تھا۔ ایک جنگل میں برقعہ میں نشانے بازی کرتے ہوئے اس کی ساری تصویری اسی دوران کی ہیں۔ حال ہی میں ملیشیا گھوم کر آئی تھی۔ اس کا شوہر امیدی نوجوان العمری سے ہی کرمنل تھا۔ 10 بہنوں کے درمیان وہ اکیلا بھائی تھی۔17 سال کی عمر سے ہی ڈرگس اور ڈکیتی کے کارناموں میں اس کا نام درج ہے۔ 2001ء میں جیل گیا تھا اور قید کے دوران ہی اس نے اسلام قبول کیا۔ وہیں شریف کواچی کے رابطے میں آیا۔ فرانس کے چیف وکیل فرانسکوز مالس نے بتایا کہ کواچی کی بیوی روزانہ حیات سے500 بار فون کیا کرتی تھی۔ حیات اپنے والد سے ایک سال پہلے ہی ملی تھی۔ حج کیلئے مکہ جانے کے وقت تین دن پہلے ٹی وی پر اس کی تصویریں آنے سے پہلے پڑوسیوں کو بھی اس کی سرگرمیوں کا ایسا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ یہ ہے فرانس کی انتہائی مطلوب دہشت گرد حیات خاتون کی کہانی۔
(انل نریندر)

13 جنوری 2015

جموں و کشمیر میں جم کر ووٹ گورنر رول کیلئے نہیں پڑے تھے!

جموں و کشمیر میں جمعہ کے روز گورنر رول نافذ کردیا گیا ہے۔ ریاست میں کوئی بڑی پارٹی سرکار بنانے میں کامیاب نہیں رہی۔ ایسے میں مرکزی حکومت نے گورنر رول نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جموں و کشمیر میں صدر راج نافذ نہیں ہوتا یہاں گورنر رول نافذ ہوتا ہے۔ گورنر این۔ این ووہرا نے اس کی باقاعدہ طور پر انتظامی کمان سنبھال لی ہے۔ گورنر رول نافذ ہونے سے جموں میں خاص طور سے مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ سیاسی پارٹیوں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ حالانکہ گذشتہ ماہ ہوئے اسمبلی چناؤ میں صوبے کے تین زون میں ریکارڈ طور پولنگ ہوئی تھی۔ اس کے باوجود سیاسی پارٹیوں کے اپنے اپنے مفادی ایجنڈے کی وجہ سے اتحادی سرکار نہیں بن پائی۔ ہر پارٹی گورنر رول کو لیکر ایک دوسرے پر الزام تراشی میں لگی ہے۔ غور طلب ہے کہ ان اسمبلی چناؤ میں 87 ممبری اسمبلی میں پی ڈی پی کے 28 منتخب ممبر اسمبلی کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تھی۔ اس کے بعد بھاجپا دوسرے نمبر پر25 ممبروں کے ساتھ سامنے آئی۔ نیشنل کانفرنس کو15، کانگریس کو12 اور دیگر کو 7 سیٹیں ملی تھیں۔ گورنر رول کی پوزیشن بڑے ہی ڈرامائی ڈھنگ سے بنی جسے لیکر عمر عبداللہ پر پی ڈی پی نے سنگین الزام لگائے ہیں۔ پی ڈی پی کے ترجمان نعیم اختر کا کہنا ہے کہ سیاسی بحران کیلئے عمر عبداللہ ہی ذمہ دار ہیں۔ ادھر عمر کا کہنا ہے چناؤ نتیجے آئے تین ہفتے ہونے والے تھے باوجود اس کے پی ڈی پی سرکار بنانے کیلئے آگے نہیں آئی۔ اس درمیان پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون کا کہنا ہے کہ گورنر رول سے بہتر ہے پھر سے چناؤ ہوں۔ معلوم ہوکہ کانگریس والے اتحاد نے پی ڈی پی کو بغیر شرط حکومت بنانے کے لئے اپنی حمایت دینے کا بھی اعلان کیا لیکن وہ شش و پنج میں مبتلا پی ڈی پی فیصلہ نہیں لے پائی۔ ادھر قومی دھارا سے وابستہ لیڈروں کا کہنا ہے کہ گورنر رول کے تجربے ملازمین کے لئے کبھی اچھے نہیں رہے اس لئے ضروری ہے کہ یہاں جمہوری سرکار قائم ہو۔ جموں و کشمیر میں بیشک کسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملی لیکن ریاست کے لوگوں کے ذریعے تمام طرح کے خطرات کے بیچ بھاری پولنگ ریاست کے گورنر رول کے لئے نہیں بلکہ نئی سرکار کیلئے کی تھی لیکن دور رس بین الاقوامی اہمیت رکھنے والے اس مینڈیٹ پر کامیاب ہوئی بڑی پارٹیوں کے سیاسی مفاد اور اپنی توقعات حاوی رہیں۔ پی ڈی پی اور بھاجپا دونوں نے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا اور ریاست کو مرکزی رول میں جھونک دیا۔ جیسا میں نے کہا کہ دیش کئی ریاستوں سے الگ جموں و کشمیر میں اس طرح سے نافذ گورنر رول کو صدر راج نہیں مانا جاتا اور ایسا جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ92 کے تحت کیا جاتا ہے۔ اس دفعہ کے تحت گورنر خود ہی ریاست میں گورنر رول نافذ کرسکتے ہیں اور اس کی میعاد6 مہینے ہی ہوتی ہے۔ بعد میں صدر راج نافذ کردیا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں ایک پائیدار اور اچھا انتظامیہ کی سخت ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں فریکچر مینڈیٹ آنے کے بعد جب اتحادی سرکار نہیں بن رہی تو گورنر رول ہی سب سے بہتر فی الحال متبادل ہے اور گورنر رول کے لئے تینوں ہی پارٹیاں ذمہ دار ہیں۔
(انل نریندر)

رام رحیم، آسا رام باپو، رامپال، قانونی شکنجے میں!

آج کل پھر ان باباؤں کاتذکرہ اخباروں کی سرخیاں بن رہا ہے۔ رامپال ، رام رحیم اور منوہر لال کی لیلاؤں کا ایک ایک کرکے پردہ فاش ہورہا ہے۔تازہ معاملہ ڈیرہ سچا سودا کے چیف رام رحیم کا ہے۔ اپنے بھکتوں کو نامرد بنانے کے معاملے میں سی بی آئی نے ڈیرہ سچا سودا کے چیف گورمیت رام رحیم سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی ہے۔ خیال رہے کہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ڈیرے کے پرانے انویائی ہنسراج چوہان کی عرضی پر اس معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی مانگ کی تھی۔ عرضی میں الزام لگایا گیا تھا رام رحیم کے ڈیرے کے اندر تقریباً 400 افراد کو نامرد بنایا گیا۔ اس کام کیلئے خاص طور سے ڈاکٹررکھے گئے ہیں اور گورمیت رام رحیم ان کی مدد سے اپنے حامیوں کو نامرد بناتا ہے۔ 400 لوگوں کو ایشور سے ملانے کے نام پر نامرد بنانے کے الزام کی سی بی آئی جانچ کو رکوانے کے لئے رام رحیم نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی لیکن جج نے 24 دسمبر کو ہائی کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرنے سے منع کردیا اور رام رحیم کی عرضی کو مسترد کردیا۔ ایک شردھالو لڑکی سے آبروریزی کے ملزم آسا رام باپو کو سپریم کورٹ سے بھی راحت نہیں ملی ہے۔ انہیں فی الحال جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔ آسا رام دسمبر2013 ء سے ہی جودھپور جیل میں بند ہیں۔ ایک نابالغ لڑکی سے اگست2013ء میں آسا رام پر الزام لگا تھا کہ اس کے کتھا واچک نے اس کے ساتھ جودھپور کے آشرم میں آبروریزی کی تھی۔آسام رام نے اپنی بیماری کا حوالہ دیکر جودھپور جیل سے ضمانت پر رہائی کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اس کے بعد عدالت میں عرضی گذار کی صحت کی جانچ ایمس ہسپتال میں کرانے کا حکم دیا تھا۔ ایمس کے میڈیکل بورڈ نے عدالت کو اپنی رپورٹ سونپی ہے جس میں اس نے کہا آسا رام کو فی الحال آپریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ روہتک کی عدالت نے کرونکا میں قتل کے معاملے میں ضمانت نہیں ملنے کے بعد دھوکہ دھڑی معاملے میں پہلے ہی ضمانت عرضی دینے والے رام سنگھ نے بھی اپنی ضمانت سے منع کردیا ہے۔ اس کے بعدرامپال کی ضمانت عرضی خارج ہوگئی۔ اگلی پیشی21 جنوری کو ہوگی۔ خیال رہے کہ سال2006 ء میں کروندھا آشرم کے تنازعے کے بعد کملا نامی عورت نے بھی عدالت میں عرضی دائر کر کہا تھا کہ کروندھا ستلوک آشرم کے مالک رامپال نے دھوکہ دھڑی سے اس کی زمین پر قبضہ کرلیا ہے۔ اس پر پولیس نے معاملے میں رامپال پر مقدمہ درج کیا تھا۔ رامپال کے وکیل نے اس معاملے کو خارج کرنے کی اپیل دائر کی تھی جسے عدالت نے خارج کردیا تھا۔ مذہب کے نام پر ان باباؤ نے جو گورکھ دھندہ چلایا ہوا ہے اس کا پردہ فاش ہونا چاہئے۔ پچھلے دنوں عدالت نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ان ڈیروں کی باریکی سے جانچ ہونی چاہئے اور پولیس انتظامیہ یہ پتہ کرے کے ان ڈیروں میں کتنے اور کس قسم کے ہتھیار چھپا رکھے ہیں۔ خیال رہے رام پال کے ستلوک آشرم سے کئی دنوں تک پولیس اور رامپال کے ماننے والوں میں لڑائی چلتی رہی۔ اگر یہ بابا بے قصور ہیں تو عدالت میں اپنا موقف پیش کریں جس سے وہ بے قصور ثابت ہوں گے لیکن تب تک تو یہ ملزم ہی ہیں۔
(انل نریندر)

11 جنوری 2015

قلم سے ڈرنے والے ان جہادیوں کی بربریت آمیز و قابل مذمت حرکت!

اسلام کا لفظی مطلب ہے ’امن‘ لیکن اس سرزمیں پر سب سے زیادہ خون خرابہ اسلام کے نام پر اس کے کٹر پسندوں کے ذریعے کیا گیا۔ اسلام کے خود ساختہ جہادیوں نے ایک بار پھر پیغمبرؐ کی توہین کا بدلہ لینے کیلئے فرانس کی راجدھانی پیرس میں 10 نہتے صحافیوں کو موت کی نیند سلادیا۔ ابھی دنیا پاکستان کے پیشاور آرمی اسکول کے بچوں کے قتل عام کے واقعے کو نہیں بھول سکی تھی کہ پیرس میں بھی ایسا ہی واقعہ ہوگیا۔ فرانس میں اب تک کے سب سے بڑے آتنکی حملے میں دہشت گردوں نے چارلی ایبدو میگزین کے دفتر پر فائرننگ کی جس میں جریدے کے مدیر سمیت 10 صحافی اور دو پولیس والے مارے گئے۔ پہلی بار کسی ایک وادات میں اتنے صحافی ہلاک ہوئے۔ حملے میں 20 لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ’’چارلی ایبدو‘‘ ایک ہفت روزہ جریدہ ہے۔ یہ طنز اور کارٹون کے لئے مشہور ہے۔ سال2006ء میں اس میں پیغمبر ؐ کا کارٹون شائع ہوا تھا اس کے بعد سے ہی میگزین کے مدیر کو دھمکیاں مل رہی تھیں۔ فرانس کی مسلم تنظیموں نے اس کے خلاف مقدمہ بھی درج کرایا تھا لیکن وہ ہار گئے تھے۔ عدالت نے اظہار آزادی کے نام پر میگزین کے حق میں فیصلہ سنا دیا تھا۔ اسی ہفتے میگزین نے دہشت گرد تنظیم آئی ایس کے چیف البغدادی کا بھی کارٹون شائع کیا تھا۔ چارلی ایبدو اپنے قیام سے ہی تنازعات میں رہی ہے۔ میگزین میں شائع کارٹون رپورٹ اور چٹکولوں کو لیکر کئی بار مظاہرے بھی ہوئے اور تشدد آمیز واقعات بھی ہوئے۔ یہاں تک کہ میگزین کے مدیر اسٹفن کاربن چیئرکو جان سے مارنے تک کی دھمکی دی گئی تھی لیکن ان سب سے بے پرواہ میگزین ’چارلی ایبدو‘ اپنی پالیسی کے مطابق مختلف اشوز پر کارٹون اور رپورٹ شائع کرتی رہی۔ چارلی ایبدو کے 47 سالہ مدیر کاربن چیئر شاندار کارٹونسٹ ٹو تھے ہیں بلکہ اکسانے والے اشو اٹھانے کے بھی ماہر تھے۔انہوں نے ایک میگزین ’لامونڈ ‘ کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ حملے سے نہیں ڈرتے۔ یہ بھلے ہی بڑھا چڑھا کر کرنے والا دعوی لگتا ہو لیکن انہوں نے کہا میں جھکنے کے بجائے مرنا پسند کروں گا۔ سال2011ء میں میگزین کے دفتر پر پیٹرول بم حملے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ یہ فرانس کے مسلمانوں کا کام نہیں ہے بلکہ یہ کچھ بیوقوفوں کا کام ہے۔ ان کے بیان کے بعد القاعدہ نے انہیں زندہ یا مردہ پکڑنے کا فتوی جاری کیا تھا۔ چارلی ایبدو میگزین پر حملہ کرنے والے دو بھائیوں نے پوری کارروائی کا بڑی باریکی سے پلان بنایا تھا۔ ان کے نشانے پر میگزین کے مدیر سمیت4 نامور کارٹونسٹ تھے۔ انہوں نے باقاعدہ ان کارٹونسٹوں کے قتل سے پہلے ان کا نام پوچھ کر ان کی تسلی کی۔ ان کارٹونسٹوں کا نام پیغمبر ؐمحمد کے کارٹون تنازعے سے وابستہ تھا۔ فرانس میڈیا میں آئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے جب بندوقچی فائرننگ کرتے ہوئے میگزین کے دفتر میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیگر اسٹاف سے چارلی ایبدو کے مدیر اسٹفن کابن چیئر عرف شارب ، جارج بولئے وغیرہ کا نام پوچھا جہاں پر ایڈیٹوریل کی میٹنگ ہورہی تھی وہاں بھی بندوقچیوں نے باقاعدہ نام سے ان کارٹونسٹوں کے بارے میں پوچھا اور پھر گولی ماری۔ غور طلب ہے کہ ان کارٹونسٹوں کوقتل کرنے سے پہلے ہی القاعدہ نے دھمکی دے رکھی تھی۔القاعدہ کا الزام ہے کہ یہ کارٹونسٹ اسلام اور پیغمبر کا مذاق اڑاتے ہیں اس قتل عام سے پوری دنیا حیرت میں ہے۔ وہیں کچھ سال پہلے کارٹونسٹ کا سر قلم کرنے والے کو51 کروڑ روپے کا انعام دینے سے سرخیاں بٹورنے والے اترپردیش کے سابق وزیر یعقوب قریشی نے بدھ کے روز ایک اور متنازعہ بیان دے دیا۔
کچھ سال پہلے ڈینمارک کے ایک اخبار میں پیغمبر محمدؐ کا اعتراض آمیز کارٹون چھاپنے سے مسلم فرقے میں سخت ناراضگی پیدا ہوگئی تھی۔ اب قریشی نے کہا متنازعہ کارٹون بنانے والا تو مرچکا ہے لیکن پیرس کی میگزین میں پیغمبرؐ کا اعتراض آمیز بنانے والے کارنوٹسٹ کے قاتل کو 51 کروڑ کا انعام دینے کو تیار ہیں۔ویسے اپنا خیال ہے کسی بھی مذہب یا اس کے بھگوان کا مذاق نہیں اڑایا جانا چاہئے۔ شخصی آزادی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ آپ کسی دوسرے مذہب کا مذاق اڑائیں۔ بلا شبہ میگزین کی غلطی تھی اور اس کے عمل کو اس کے جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا پڑے گا کہ آج کے اس دور میں دماغی جارحیت کا جواب گولی سے دینا کہیں بھی جائز نہیں ہے۔ کمیونی کیشن کے اس دور میں اس اخبار کی حرکتوں کے خلاف ایک رائے عامہ کھڑی کی جاسکتی تھی اس کے صحافیوں کا بائیکاٹ اور دوسرے مذہبوں کی عزت نہ کرنے والا قرار دیا جاسکتا تھا۔ بہت سے ایسے راستے تھے لیکن نہتے لوگوں پر اچانک گولیوں کی بوچھار کرنا ایک بزدلانہ حرکت ہے۔ آخر ان حملوں کے پیچھے کون ہے ان کے ارادے کیا ہیں؟ حملے میں پہلے القاعدہ کا نام سامنے آیا آئی ایس کٹر پسندی اور دہشت کا نیا نام ہے جس نے شام اور عراق میں اپنی یکساں حکومت قائم کرلی ہے۔ اس حملے کے بعد ایران سے آیا رد عمل تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ وہاں کے میڈیا کا ایک طبقہ مانتا ہے کہ یہ حملہ فرانس کے ذریعے شام میں ایک مضبوط اپوزیشن کا ساتھ دینے اور آئی ایس کے خلاف بین الاقوامی اتحادی فوج کے ذریعے کئے گئے ہوائی حملوں کے احتجاج میں کیا گیا ہے۔ 
مذہبی کٹر پسندی کو آتنکی منصوبوں سے جوڑنے کے اس خطرناک کھیل کی مخالفت ہونی چاہئے۔ دراصل آزاد خیالی سے نہ لڑسکنے والے لوگ ہی کٹر پسندی اور تشدد کا سہارا لیتے ہیں جس کی مخالفت ہونی چاہئے۔ اگر یہ احتجاج کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ تشدد کی ذہنیت کے تئیں ہے اس لئے بات یہ ہے کہ بنیادی تقاضوں میں اصلاح کی ضرورت ہے اور اپنے علیحدہ سے مذہبی روایات اور بھروسوں کو برداشت کرنے اور ان کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک مغرب اور اسلامی دنیا یہ نہیں سیکھتی تب تک ایسے واقعات کو روکناناممکن ہے۔ صحافی ساتھیوں کی موت سے غمزدہ چارلی ایبدو کے صحافی اور کئی کارٹونسٹ میگزین کا نیا شمارہ لا رہے ہیں۔ حقیقت میں اظہار آزادی پر ہوئے حملے کی پرزور مخالفت کی جانی چاہئے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...