Translater

09 فروری 2013

ہیٹ ٹرک بنانے کے بعد نریندر مودی کا پہلا دورۂ دہلی

وزیراعلی نریندر مودی گجرات میں چناؤ کی ہیٹ ٹرک بنانے کے بعد پہلی بار دہلی آئے۔ انہوں نے بھارت کے نئے ایجنڈے کا ٹریلر دکھا دیا۔ بدھوار کو دہلی میں اپنی چمک بکھیر کر صاف کردیا ہے کہ دیش کی کمان تھامنے کی ان کی پختہ تیاری ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے شری رام کالج آف کامرس میں اپنی تقریر میں انہوں نے گجرات کے ترقی کے ماڈل کوپیش کرتے ہوئے صاف پیغام دیا کے وکاس کی اونچی اڑان اور نوجوان ہی بھارت کی تقدیر بدلیں گے۔ انہوں نے جس انداز میں تقریر کی اس سے یہ نہیں لگا کے یہ وہی مودی ہیں جن کی سیاسی پہچان ایک جارحانہ ہندوتو وادی لیڈر کی شکل میں بنی ہوئی ہے۔ ایک دور میں وہ بات بات پر ہندوتو سیاست کے حق میں کوئی نہ کوئی منفی تبصرہ ضرور کیا کرتے تھے لیکن اب وہ اپنا سیاسی چہرہ پورے طور پر بدلنے کو تیار ہے وہ چاہتے ہیں کہ قومی سطح پر ان کی پہچان وکاس پرش کے طور پر ہو کیونکہ ان کی قیادت میں گجرات سرکار نے وکاس کا ایک نیا ماڈل دیش کے سامنے پیش کردیا ہے۔ کئی مہینوں سے نریندر مودی نے بدلی حکمت عملی کے مطابق اپنی توجہ نوجوانوں کو رجحانے پر لگادی ہے۔ جس ہال میں طالبعلم مودی کو سننے کے لئے اٹھے ہوئے تھے اس میں تل رکھنے کی جگہ تک نہیں بچی تھی۔ حالانکہ میڈیا کی دلچسپی کے چلتے وہ اس پروگرام کے ذریعے دیش بھر کے لوگوں تک پہنچ بنانے میں کامیاب رہے۔ مودی کا پیغام بالکل صاف تھا انہوں نے کہا انڈیا بڑے چیز کرسکتا ہے اور دیش کے نوجوان اس کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے سیدھے طور پر نہیں کہا لیکن ان کا مطلب تھا کے مودی دیش میں یہ تبدیلی لانے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے پچھلے مہینے ہوئی وابرینڈ گجرات سمٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہادیش کے جی ڈی پی کا 50 فیصدی تک چھت کے نیچے تھا اور آدھے بازوکا کرتا پہننے اور گلے میں بلیک اسٹیل کے ساتھ وہ ٹریڈ مارک اسٹائل میں دکھائی دئے۔ پانی سے آدھے بھرے گلاس کے ساتھ وہ خطاب کے لئے مائک کی طرف بڑھے۔ اس ہال میں موجود لوگوں میں تھوڑی کاناپھوسی ہوئی، حالانکہ جلد ہی یہ صاف ہوگیا کے جسے لوگ پرائم منسٹر مانتے ہیں انہوں نے گلاس کیوں پکڑا تھا۔ مودی نے کہا کچھ لوگ اسے آدھا بھرا کچھ آدھا خالی کہیں گے ۔ حالانکہ اسے دیکھنے کا میرا ایک تیسرا ہی نظریہ ہے۔یہ گلاس آدھا پانی آدھا ہوا سے بھرا ہے۔ وہ اس سے یہ اشارہ دینا چاہتے تھے کہ مایوسی سے بھرے دیش میں انہیں پوری امید ہے۔ انہوں نے طلبہ سے کہا لوگ انڈیا میں جنم لینے کو ایک شراپ کے طور پردیکھتے ہیں۔ نوجوان پڑھائی پوری کرتے ہیں دیش چھوڑنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ وہ اسے الگ طریقے سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کے انہیں قوانین اور اسی آئین اور انہیں قواعد اور انہیں افسروں اور انہی لوگوں اورفاصلوں کے ساتھ ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ مجھے بھروسہ ہے کہ ہم چیزوں کو بدل سکتے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں نے دنیا بھر میں بھارت کی تصویر بدلی ہے۔ مودی کے ان جملوں پر خوب تالیاں بجیں۔ بدلے بدلے نئے انداز والے مودی کا جادو طلبا پر ضرور دکھائی دیا۔ نریندر مودی کی جیت کے بعد پہلے دورے میں سیاست بھی جھلکی۔ حالانکہ شری رام کالج آف کامرس کے طلبا کو خطاب کرنے آئے تھے لیکن انہوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے بھی رسمی ملاقات کرکے گجرات کے ساتھ ہو رہی ناانصافیوں کو دور کرنے کی سیاسی چال بھی چل دی۔ گجرات اسمبلی چناؤ جیتنے کے بعد مودی کی وزیر اعظم سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مرکز کے ذریعے نظر انداز کئے جانے کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ مرکز گجرات کی التوامیں پڑی کئی یوجناؤں پر فیصلہ نہیں لے پارہا ہے جس سے پردیش کی ترقی متاثر ہورہی ہے۔ وزیر اعظم سے ملنے کے بعد نریندر مودی نے بھاجپا کے سینئر لیڈر ڈاکٹرمرلی منوہر جوشی سے بھی ملاقات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جوشی سے آشیرواد لینے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق آدھے گھنٹے چلی ملاقات میں ان سے آگے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوا۔ مودی نے اس سے پہلے پچھلے دنوں بھاجپا پردھان راجناتھ سنگھ سے دو گھنٹے تک بات چیت کی تھی اور مودی کا پہلا دہلی دورہ کامیاب رہا۔ انہوں نے اپنے آپ کو ایک وکاس پرش کی طرح پروجیکٹ کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔ 
(انل نریندر)

زور شور سے لابنگ کرتی والمارٹ کمپنی

بھارت آنے کے لئے لابنگ پر مچے واویلے کے باوجود امریکی خوردہ مارکیٹ کمپنی والمارٹ اپنی عادتوں سے مجبور ہے اور اپنی حرکتیں کرنے سے باز نہیں آرہی ہے۔ کمپنی کی طرف سے امریکہ میں لابنگ سرگرمیوں پر لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کی حکمت عملی اب بھی جاری ہے۔ جبکہ بھارت اس معاملے کی جانچ میں لگا ہوا ہے۔ اکتوبر ۔ دسمبر 2012ء کی سہ ماہی میں بھارت براہ راست ایف ڈی آئی اور دیگر مسئلوں پر لابنگ کے لئے والمارٹ نے14.8 لاکھ ڈالر (قریب 8 کروڑ روپے) خرچ کئے۔ جولائی، ستمبر سہ ماہی میں لابنگ پر پیسہ خرچ کیا گیا۔ اعدادو شمار کے سامنے آنے کے بعد دیش میں اسے لیکر کافی ہائے توبہ مچی تھی۔ اسی دوران حکومت نے ملٹی برانڈ خوردہ میں51 فیصدی ایف ڈی آئی کی اجازت دے دی تھی۔ امریکی کمپنیوں کو ہر سہ ماہی میں لابنگ سرگرمیوں پر خرچ کی گئی رقم کی جانکاری امریکی پارلیمنٹ کو دینی ہوتی ہے۔ امریکہ میں لابنگ قانون جائز ہے۔ امریکی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں داخلے اور دیگر مسئلوں کو لیکروالمارٹ نے 2012ء میں 61.3 لاکھ ڈالر (تین کروڑ روپے) جھونکے ہیں۔ یہ رقم اپنے حق میں پالیسیاں بنوانے کے لئے امریکی ممبران پارلیمنٹ پر خرچ کی ہے۔ والمارٹ کی جانب سے جاری اس لابنگ پر پچھلے دنوں سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہونے کے بعد والمارٹ پر لگے الزامات کی جانچ کے لئے مرکزی کیبنٹ نے ایک نفری کمیٹی بنانے کو منظوری دے دی ہے اور جانچ کا دائرہ بھی بڑھا دیا ہے۔ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں بنی یہ کمیٹی والمارٹ کی لابنگ پر آئی میڈیا رپورٹوں کے علاوہ اس بات کی بھی جانچ کرے گی کے کمپنی نے کسی ہندوستانی قانون کی خلاف ورزی تو نہیں ہے۔ کمیٹی کو تین چار مہینے کے اندر اپنی رپورٹ دینی ہے۔ پچھلے مہینے امریکی سینیٹ کو والمارٹ نے بھارت سمیت کئی ملکوں میں اینٹری کے لئے لابنگ پر خرچ کی گئی رقم کی تفصیل دی تھی جس کے بعد دیش میں یہ معاملہ طول پکڑ گیا اور اپوزیشن نے کئی دنوں تک پارلیمنٹ میں خوب ہنگامہ کیا۔ کارپوریٹ معاملوں کے وزیر مملکت سچن پائلٹ کا کہنا ہے کہ پارلیمانی وزیر (کملناتھ) نے پارلیمنٹ کو والمارٹ پر لگے الزامات کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی بنانے کا یقین دلایا تھا۔ دیش کے خوردہ سیکٹر میں داخلے کے لئے لابنگ کا سہارا لینے کے الزامات کے علاوہ یہ کمیٹی دیش میں والمارٹ کی باقی سرگرمیوں کی بھی جانچ کرے گی۔ والمارٹ پچھلے کئی برسوں سے بھارتیہ خوردہ سیکٹر میں درپردہ ایف ڈی آئی کی اجازت ملنے کا انتظار کررہی تھی۔ کمپنی 2008ء سے ہندوستانی بازار میں داخلے کے لئے امریکی ممبران پارلیمنٹ سے لابنگ کروا رہی ہے۔ تب سے اب تک کمپنی کی ان سرگرمیوں پر کل 3.4 کروڑڈالر (180 کروڑروپے) کی رقم خرچ ہوچکی ہے۔ دسمبر سہ ماہی میں کئے گئے اس خرچ کے تحت کمپنی نے بھارت میں ایف ڈی آئی سے متعلق معاملوں پر غور و خوض پر زوردیا۔ کمپنی نے اپنے مختلف کاروباری مفادات کو لیکر امریکی سینیٹ ،ہاؤس آف نمائندگان اور امریکی کاروباری نمائندوں کے علاوہ امریکی محکمہ خارجہ سے بھی لابنگ کی تھی۔
(انل نریندر)

08 فروری 2013

مہا کنبھ اورسیاست: سبھی فائدہ اٹھانے کے چکر میں

بدھوار کی رات کو میں ایک ٹی وی مباحثے میں حصہ لینے گیا تھا۔ بحث کا موضوع دلچسپ تھا مہا کنبھ اور سیاست۔ لمبی اور سنجیدہ بحث ہوئی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کے الہ آباد میں مہا کنبھ کے اس مہا سمر کوسیاسی رنگ دے دیا گیا ہے۔ بحث ہوئی کے کیا مذہب اور سیاست کو الگ تھلگ کردینا چاہئے؟ ایک مذہبی انعقاد کو صرف دھارمک اشو پر ہی توجہ دینی چاہئے۔ حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں اور یہ تصور یا سچائی محض سادھو سنتوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ ہزاروں برسوں سے عیسائیوں اور اسلام کی لڑائی جاری ہے۔ آج جو جہاد چل رہا ہے وہ مولویوں کی دین ہے اور اسلام مذہب کو بچانے کے لئے لڑا جارہا ہے۔ چاہے وہ سکھ کو یا ہندو، مسلمان ہوں یا عیسائی سبھی فرقوں میں مذہب کی خاص اہمیت رہی ہے۔ ویسے میری شخصی رائے میں الہ آباد میں چل رہے مہا کنبھ کو ایک سیاسی اکھاڑا نہیں بنانا چاہئے تھا۔ اس سے اس کا تقدس اور مقصد کچھ حد تک متاثر ضرور ہوتے ہیں لیکن کئی ہندو تنظیمیں جو ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتی ہیں جب کروڑوں ہندو ایک جگہ پر اکٹھے ہوں، وشو ہندو پریشد تو خاص طور سے ایسے مواقعوں کا انتظارکرتی رہتی ہے، اس لئے اس نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاجپا کو ہندوتو کے راستے پر لوٹنے کے لئے بگل بجادیا ہے۔ کنبھ میں وشو ہندو پریشد کی مارگ درشن میٹنگ میں بھاجپا پردھان راجناتھ سنگھ نے ہندوتو پر زور دیتے ہوئے ایک بار پھر سے ایودھیا میں رام مندر اشو کو اچھال دیا ہے۔ مہا کنبھ میں سنتوں کے درمیان راجناتھ سنگھ نے کہا کے رام مندر تعمیر رام جنم بھومی پر ہی ہوگی۔ راجناتھ سنگھ نے صاف اشارے دئے بھاجپا ایک بار پھر ہندوتو کی طرف لوٹ رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھاجپا کی مجبوری بھی ہے۔ لوگ این ڈی اے کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کے اگر بھاجپا نے ہندوتو کو آگے بڑھایا تو فلاں حمایتی پارٹی الگ ہوجائے گی اور فلاں پارٹی این ڈی اے میں شامل نہیں ہوگی۔ میں کہتا ہوں این ڈی اے کا وجود تب ہی بچے گا جب بھاجپا اپنے دم خم پر 180 سے200 لوک سبھا سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں سامنے آئے گی۔ آج حالت یہ ہے کہ بھاجپا کا روایتی ووٹ بینک ٹوٹ چکا ہے۔ اس ووٹ بینک کو پھر سے بحال کرنے کے لئے بھاجپا نے ایک بار پھر ہندوتو کا سہارا لیا ہے۔ رہی بات بھاجپا کے ساتھ جڑنے کی اور ٹوٹنے کی تو میرا خیال ہے کہ آج نہ تو کوئی اشو کی وجہ سے اور نہ ہی اصولوں اور پالیسیوں کی وجہ سے کسی اتحاد میں شامل ہوتے ہیں محض اقتدار کا پھل اور اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے جڑتے ہیں اور بکھرتے ہیں۔ اگر بھاجپا نمبر ون پارٹی نہیں بنی تو بھول جائے اقتدار میںآنے کا خواب۔ انہیں کوئی اقتدار میں نہیں آنے دے گا۔ سبھی کے پاس اپنے اپنے موقف رکھنے کا بہانا ہوگا۔ فرقہ وارانہ پارٹی سے ہم نہیں جڑیں گے۔ اس لئے اگر بھاجپا کو اقتدار میں آنا ہے تو اپنے دم خم پر 200 سیٹوں کا نشانہ طے کرے۔ جب کانگریس نے دیکھا کے کنبھ تو بھاجپا اور وی ایچ پی نے ہائی جیک کرلیا ہے تو وہ پریشان ہوگئی اس لئے قیاس آرائیاں لگائی جانے لگی ہیں کہ بھاجپا کے راجناتھ سنگھ اور نریندر مودی کی کنبھ یاترا کے بعد کانگریس صدر سونیا گاندھی اور ان کے نائب راہل گاندھی سنگم میں ڈبکی لگانے کا اعلان کرسکتے ہیں۔ یہ ہی نہیں خبر ہے کہ کانگریس ان سنتوں تک پہنچنے کی کوشش میں لگی ہے جو اب تک بھاجپا اور وی ایچ پی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ویسے کنبھ کی خاص اہمیت ہے۔ برسوں بعد ایسا اتفاق بنا ہے کروڑوں ہندوؤں کے لئے مہا کنبھ میں اشنان کرناکافی اہمیت کا حامل مانا جاتا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے دھارمک سماگم میں بیرونی ممالک سے بھی سینکڑوں لوگ آئے ہوئے ہیں۔ پچھلی بار جب کنبھ ہوا تھا تو اقتدار میں تبدیلی ہوئی تھی لیکن کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ اس نقطہ نظر سے اترپردیش سرکار اور میلہ انتظامیہ سبھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔
(انل نریندر)

ججوں کے نظریئے میں بھی تبدیلی آرہی ہے بیشک آہستہ آہستہ ہی صحیح

یہ خوشی کی بات ہے کہ وسنت وہار گینگ ریپ معاملے میں فاسٹ ٹریک عدالت میں سماعت شروع ہوگئی ہے۔ پہلے دن طالبہ کے دوست نے ویل چیئر پر پہنچ کر اپنی گواہی دی۔ 16 دسمبر کی رات میں ہوئی اس سنگین واردات کا واحد چشم دید گواہ ہے۔ اس کی گواہی انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔ ویسے دکھ کی بات یہ ہے کہ لوگوں کی ذہنیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جیسے ہی وسنت وہار گینگ ریپ معاملے کی سماعت شروع ہوئی تو اسی دن راجدھانی دہلی کے علاقے جل وہار میں ایک اور آبروریزی کا واقعہ رونما ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ ساؤتھ دہلی کی عالیشان کالونی لاجپت نگر میں واقع جل وہار میں ایک کیبل آپریٹر نے24 سالہ لڑکی سے اس کے گھر میں گھس کر آبروریزی کی کوشش کی۔ لڑکی نے جب شور مچایا تو ملزم نے اس کے منہ میں پیچ کش گھسادیا اور فرار ہوگیا۔ پولیس نے ملزم انل کمار کو گرفتار کرلیا ہے۔ 16 دسمبر کے واقعے نے لوگوں میں ماحول بدلنے میں مدد کی ہے۔اگرچہ درندوں کی ذہنیت میں تبدیلی نہیں آئی لیکن آہستہ آہستہ جب عدالتوں کا ڈنڈا چلے گا تو آجائے گی۔ ایک اور خوفناک مجرم کو دو دن پہلے جب اس وحشی درندے کو عمر قید کی سزا سنائی جارہی تھی تو اس کے چہرے پر تشویش کا احساس جھلک رہا تھا لیکن منگلوار کو جیسے ہی اسے سزائے موت کا فرمان سنایا گیا تو وہ کانپ اٹھا، اس کے چہرے پر پسینے چھوٹ گئے۔ سیریل کلر کی شکل میں مشہور چندر کانت جھاکو ایڈیشنل سیشن جج کامنی لا نے حیوان قراردیا اور فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جس وحشی پن سے اس شخص نے قتل کی وارداتوں کو انجام دیا اس کے بعد اس میں سدھار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ شخص سماج کے لئے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ جرائم پیشہ کو سماج میں رہنے کی اجازت دی جائے گی تو وہ سماج کو تباہ کردیں گے اور یہ ملزم اسی زمرے میں آتا ہے۔ اس واقعے نے پورے سماج کو اجتماعی طور پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس طرح کے واقعے کے قصوروار کو سخت سزا ملنے کی امید کی جاتی ہے۔ اگر اسے واجب سزا نہیں ملی تو پورے عدلیہ نظام پر سوال کھڑے ہوجاتے ہیں۔ فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس لا نے کہا اگر اس جرائم پیشہ کو چھوڑدیا گیا تو وہ پھر ایسی واردات کو انجام دے سکتا ہے۔ خیال رہے چندر کانت جھا دہلی میں قتل کی وارداتیں انجام دیتا تھا اور ان کے سر کاٹ کر تہاڑ جیل کے باہر پھینک دیا کرتا تھا۔جس طریقے سے یہ وارداتیں کرتا تھا دراصل وہ پولیس کو وارننگ دیا کرتا تھا۔ اس سے وہ تو پورے سسٹم کے لئے ہی چیلنج بنا ہوا تھا۔ موجودہ معاملے میں جھا نے 2007 ء میں اوپندر نام کے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے تہاڑ جیل کے باہر پھینک دئے تھے۔ قتل کے دو دیگر معاملوں میں بھی اس کی درندگی ایسی ہی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس کو مارنے سے پہلے اس کو اذیتیں دی گئیں اور پھر اس کا جسم سے سر الگ کیا گیا۔ غریب خاندان کے لوگوں سے دوستی کر ان کا اعتماد جیتتا تھا اور پھر واردات کو انجام دیتا تھا۔ جسٹس کامنی لا نے تو انصاف کردیا لیکن بالائی عدالتوں کا کیا فیصلہ رہتا ہے یہ دیکھنا باقی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے ججوں کا بھی نظریہ بدلہ ہے اور وہ اب شاطر مجرمان کو آسانی سے بچ نکلنے نہیں دیں گے۔ تبدیلی ہر سطح پر ہورہی ہے بیشک آہستہ آہستہ ہی صحیح۔
(انل نریندر)

07 فروری 2013

سنگھ کے لیڈروں کو پھنساؤ ، 1 کروڑ روپیہ لو

ایک ہندی کے اخبار نیشنل دنیا نے ایک سنسنی خیز رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے بھگوا آتنک واد اور اس سے وابستہ ملزمان سے رشتوں کے الزام میں آر ایس ایس کے کردار کو ثابت کرنے کے لئے این آئی اے آر ایس ایس کا نام لینے کے لئے ملزمان کو ایک ایک کروڑ روپیہ دینے کا لالچ دے رہی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ مالیگاؤں ،مکہ مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس وغیرہ مقامات پر ہوئے دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار ملزمان کہہ رہے ہیں۔ اس معاملے کی سماعت خصوصی عدالت جے پور میں چل رہی ہے۔ ملزم مکیش واسوانی اور ہرشد سولنکی کی جانب سے وکیل کلدیپ گوڑ اور بھوپیش سنگھ کے ذریعے داخل عرضی میں کہا گیا ہے کہ این آئی اے کے حکام نے سینٹرل جیل جے پور میں ملزمان کو ان کے بیرک سے بلاکر 16 اپریل سے18 اپریل 2012ء میں پوچھ تاچھ کی تھی۔ اس دوران سولنکی پر دباؤ بنایا گیا کے وہ آر ایس ایس کے تین سینئر عہدیداران کا نام لیتے ہوئے یہ کہیں کہ ان کے کہنے سے سنیل جوشی کو قتل کیا گیا۔ الزام لگایا گیا کے این آئی اے کے حکام نے مکیش واسوانی اور سولنکی کو مختلف طریقے سے دھمکایا اور لالچ دیاکے ہر ایک کو ایک ایک کروڑ روپیہ دیں گے اور سبھی مجرمانہ معاملوں سے بری کردیا جائے گا۔ ایسی ہی شکایتیں اجمیر اور بھوپال کی عدالت میں بھی زیر سماعت قیدیوں نے بھی درج کرائی ہیں۔ ان قیدیوں کی عرضیوں کی کاپی بانٹی گئی ہے۔ سورگیہ سنیل جوشی پر الزام ہے کہ مالیگاؤں اور دیش کے دیگر حصوں میں دھماکوں میں ان کا رول تھا۔جوشی پر یہ الزام ہے کہ اس کا مالیگاؤں دھماکوں کے الزام میں گرفتار سادھوی پرگیہ ٹھاکر سے قریبی رشتہ تھا۔ مکیش اور سولنکی کو اجمیر درگاہ کے احاطے میں ہوئے دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اگر ملزمان نے سنگھ افسران کا نام جوشی کے قتل کے سلسلے میں لے لیا تو جانچ ایجنسیوں کے پاس جوشی کے قتل اور اس کانڈ سے جڑے بھگوا آتنک واد اور سنگھ کے نیتاؤں کے رشتے جڑے ہونے کا ٹھوس ثبوت مل جائے گا۔ کیا اس کا یہ مطلب بھی نکالا جائے کے ابھی تک این آئی اے کو ان دھماکوں اور سنیل جوشی کے قتل میں سنگھ کا ہاتھ ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت ہاتھ نہیں لگ سکا ہے؟ ہندو آتنک واد میں سنگھ پریوار کو زبردستی پھنسانے کے لئے رچی جارہی سازش کے اشو بھاجپا آنے والے سیشن میں اٹھائے گی۔ یہ اعلان بھاجپا پردھان راجناتھ سنگھ نے خود کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سنگھ میں آتنک واد کی ٹریننگ دی جاتی ہے تو مرکز اس پر پابندی کیوں نہیں لگادیتا؟ انہوں نے کہا مرکز میں وزیر غلط پروپگنڈہ بند کریں اور کسی کو جھوٹے الزام میں نہ پھنسائیں۔ جب کانگریس ایم پی سندیپ دیکشت نے کہا کہ اپنے بچاؤ میں ہر شخص کچھ نہ کچھ کہہ سکتا ہے۔ معاملہ عدالت میں چل رہا ہے اس لئے اسے اب این آئی اے اور کورٹ ہی جانے۔ کانگریس کے ایک دوسرے ایم پی جگدمبیکا پال نے کہا وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے یہ ضرور کہا کہ کچھ لوگوں کے رشتے آر ایس ایس سے وابستہ پائے گئے ہیں۔ اس بات سے متفق ہوا جاسکتا ہے لیکن یہ کہنا مناسب نہیں کے سنگھ یا اس کے کیمپوں میں آتنک واد کو بڑھاوا دیا جارہا ہے۔ اندور سے سینئر بھاجپا ایم پی سمترا مہاجن نے الزام لگایا کے اے ٹی ایس اور این آئی اے کے لوگوں نے اندور سے جس دلیپ پریدار کو پکڑا ہے ان کا آج تک کوئی پتہ نہیں لگا۔ مہاجن نے کہا لگتا ہے کہ این آئی اے دیش کے قانون کے بغیر کام کررہی ہے۔ قاعدے سے بغیر وارنٹ کے کسی شخص کو گرفتار نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی تلاشی لینے یا گرفتاری کرتے وقت کسی تنظیم یا سیاسی پارٹی پر الزام منڈھنا چاہئے۔ جب تک اسے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے۔ اب معاملہ عدالت میں ہے اور جلد پتہ چل جائے گا کے یہ بھگوا آتنک واد ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

کشمیر کے مفتی اعظم کا طالبانی فتوی

پڑوسی ملک افغانستان کا طالبانی اثر اب کشمیر میں بھی دکھائی دینے لگا ہے۔ کشمیر کے مفتی اعظم بشیر الدین نے طالبانی فتوی جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ کھلے عام تیز موسیقی غیر شرعی ہے۔ دراصل کشمیری لڑکیوں نے ایک ’راک بینڈ پرکاش‘ بنایا ہے جس کا مطلب ہے اندھیرے سے اجالے کی جانب۔ لیکن ان کی یہ کوشش دقیانوسی سماج کے لوگوں کے گلے نہیں اترتی۔ پہلے انہیں آن لائن بینڈ بند کرنے کی دھمکی دی گئی اور پھر سوشل سائٹ پر بھدے فقرے درج کئے گئے۔ اس کے بعد ان کے خلاف فتوی جاری کردیا گیا۔ سرینگر کے مفتی اعظم بشیر الدین احمد نے اس بینڈ کے خلاف فتوی جاری کیاکہ کھلے عام سنگیت غیر شرعی ہے اس لئے راک بینڈ میں شامل لڑکیوں کو یہ کام بند کردینا چاہئے۔ مفتی صاحب کے مطابق ہندوستانی سماج میں ساری بری چیزوں کی جڑ سنگیت ہے ۔ ان کا کہنا ہے ہماری لڑکیاں جو سنگیت کی طرف راغب ہورہی ہیں اور موسیقی کو جو بڑھاوا مل رہا ہے اس سے ہمارا دیش ترقی نہیں کرسکتا۔ حالانکہ ریاست کے وزیر اعلی عمر عبداللہ سمیت تمام لوگوں نے راک بینڈ پر پابندی لگانے کے لئے جم کر تنقید کی ہے۔ عمرنے تو ان لڑکیوں سے گانا نہ چھوڑنے کے لئے بھی اپیل کردی لیکن کشمیری لڑکیوں کے پہلے راک بینڈ نے موسیقی چھوڑنے کا تکلیف دہ فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ لڑکیاں اپنا بینڈ بند کررہی ہیں۔ بینڈ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑکیوں نے یہ فیصلہ مفتی کے فتوے کے سبب لیا ہے۔ دسویں کلاس کی یہ طالبات موسیقی کی دنیا میں نام کمانا چاہتی تھیں اس لئے انہوں نے راک بینڈ پرگاش بنایا تھا۔ہماری رائے ہے کہ ہنر کبھی بھی فرقہ وارانہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی یہ فتوؤں سے دبایا جاسکتا ہے۔ موسیقی ہر مذہب میں اہمیت کی حامل ہے۔ قومی مہلا کمیشن کی سربراہ ممتا شرما کا کہنا ہے کہ آزادی کے اتنے برسوں بعد اگر ہم لڑکیوں کو کوئی کام کرنے سے روکتے ہیں تو یہ دوہری ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ ہم لڑکے لڑکیوں کو برابر بھی کہتے ہیں اور لڑکیوں پر پابندی بھی لگاتے ہیں یہ غلط ہے۔ مذہب کے نام پر کچھ بھی کہنے سے مذہب کا کام چلنے والا نہیں۔ آپ کو گانا نہیں اچھا لگتا نہ سنیں لیکن مذہب کے نام پر روکنا کیا صحیح ہے۔ فرقہ وارایت کا زہر بانٹنے والوں نے بینڈ میں شامل لڑکیوں کے والدین تک کو اپنی بیٹیوں پر سخت پہرے بٹھانے کی ہدایت دی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ وادی میں نئی بیداری کی آواز کچھ دقیانوسی لوگوں کے گروپ کے اعتراض کے سبب خاموش ہوجائے گی۔ کیا سماجی کلچر کے خلاف موسیقی کو ایک اوزار کی طرح سے استعمال کرنا تھا۔ تین لڑکیوں کا حوصلہ بیچ میں ہی دم توڑ دے گا؟ کیا دیش میں کلچر بدامنی کا دور اتنا بڑھ گیا ہے کہ فنکاروں کو ان کے فن پر بھی پابندی لگائی جائے گی؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں شبہ ہے کہ ہم گزری صدیوں کی طرف تو نہیں بڑھ رہے ہیں؟
(انل نریندر)

06 فروری 2013

تیزی سے گرتا اکھلیش سرکار کی مقبولیت کا گراف

جس جوش اور جذبے اور نئی امیدیں لیکر اکھلیش یادو کی سماجوادی پارٹی نے اترپردیش اسمبلی میں کامیابی حاصل کی تھی وہ آہستہ آہستہ ہوا ہوائی ہوتی جارہی ہے۔ اکھلیش یادو کی سرکار کی کارکردگی سے آج سبھی مایوس ہیں۔ بالی ووڈ کی کسی فلم کی طرح اپنی ہی کرتوت سے سپا کی ساکھ پر وہاں پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ و ممبران اسمبلی و نیتاؤں اور ورکروں نے آج اترپردیش کی جنتا کو بری طرح گمراہ کیا ہے اور ان میں مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ اکھلیش یادو اپنے بزرگ رشتے داروں (تاؤ ۔ چاچا) کے چلتے بالکل ناکارہ ثابت ہورہے ہیں۔ یہ ہی نہیں رہی سہی کسر پردیش کے افسروں نے پوری کردی ہے۔ کرانتی رتھ پر سواری کر مکمل اکثریت حاصل کرنے والے وزیر اعلی اکھلیش یادو خود ایسے سفید پوشوں سے خاصے پریشان ہیں اور ان سے نمٹنے کے ٹھونس راستے تلاش رہے ہیں۔ خبر ہے کہ پارٹی اعلی کمان نے ایسے 800 نیتاؤں سے نجات پانے کا من بنا لیا ہے۔ راشٹریہ لوکدل کے جنرل سکریٹری اور ممبر پارلیمنٹ جینت چودھری نے کہا کہ بسپا اور سپا کے طریقہ کار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سپا میں پریوار واد اور ذات پات کا بول بالا ہے۔ سرکار کی غلط پالیسیوں کے سبب آج اترپردیش ترقی کے معاملے میں دوسری ریاستوں سے پچھڑ رہا ہے۔ ریاست میں قانون و نظام کے حالات بہت خراب ہیں۔ اترپردیش میں کسانوں کی حالت بہت خراب ہے۔ ان کے مسائل کا حل نہیں ہوپارہا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر سرکار و پارٹی کی گرتی ساکھ سے پریشان ہیں اور پارٹی کی ساکھ کو اپنی کرتوت سے دھبہ لگا ہے۔ممبران پارلیمنٹ و ممبران اسمبلی و نیتاؤں و ورکروں کی فہرست بنانے کی ذمہ داری ملائم سنگھ یادو نے پارٹی کے کچھ سینئر لیڈروں کو دے دی ہے۔ اس میں وزیر اعلی اکھلیش یادو کی قیادت میں پارٹی کے قومی سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو ،شیو پال یادو، محمد اعظم خاں اور کچھ سینئر لیڈروں کی ایک سات رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے۔ کمیٹی نے پارٹی کی ساکھ خراب کرنے کے لئے ناسور بن رہے قریب100 لیڈروں کو اب تک تلاش کیا ہے اور ان پر قبضہ کرنا اور پڑوسی کی زمین قبضہ کرنا اور اس پر اپنا اسکول بنانا، باپ بیٹے کو جھوٹے مقدموں میں پھنسانے کی دھمکی دے کر ان کو مکان بیچنے کے لئے مجبور کرنے جیسے سنگین مقدمات درج ہیں۔ دوسری طرف سپا سرکار اور پارٹی دونوں اترپردیش کی افسر شاہی سے پریشان ہیں اور اب ان کی ردوبدل کا پلان بنایا گیا ہے۔ خود ملائم سنگھ یادو نے پردیش سرکار کو افسرشاہی میں ردوبدل کی صلاح دی ہے۔ لکھنؤ میں ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے ملائم نے کہا قصوروار پائے جانے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پارٹی ورکروں کو ہدایت دی کے وہ افسروں کے تبادلے و تقرری میں دلچسپی نہ لیں اور ان کی چاپلوسی کرنے سے بھی بچیں۔ ملائم سنگھ یادو نے کہا کے افسروں کو یہ غرور ہوگیا ہے کہ سرکار وہ چلا رہے ہیں۔ اعظم خاں نے تو یہاں تک کہہ دیا پردیش کے ایسے ادھیکاری ڈنڈے کے عادی بن چکے ہیں۔ چابک چلتی ہے تو وہ کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کرپٹ اور منمانی کر رہے افسروں پر شکنجہ کسنے کے لئے ورکروں کو سخت کارروائی کرنے کی صلاح دی ہے۔ ملائم نے کہا کہ بسپا سرکارکے کلچر کے افسر بے لگام ہوگئے ہیں اور ان کی ردوبدل ہوگی تب ہی یہ جنتا اور ورکروں کی سنیں گے اور اپنی لیلاؤں سے مکھیہ منتری اکھلیش یادو اپنی سرکار کی گرتی ساکھ کو پردیش کے افسروں کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں۔ پردیش سرکار 100 سے زیادہ ضلع مجسٹریٹوں اور سینئر پولیس افسروں کا تبادلہ کرنے جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کے پردیش سرکار نے تقریباً40 ضلعوں کے ضلع مجسٹریٹروں اور اتنے ہی ضلعوں کو اعلی پولیس افسروں کے تبادلے کرنے کی فہرست تیار کرلی ہے۔ ریاست کے کئی ضلع ایسے ہیں جہاں کے ڈی ایم اور ایس ایس پی ایک ساتھ بدلے جائیں گے۔ اگر ایساہوتا ہے تو یہ پردیش کی افسر شاہی کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہوگا۔ جب کئی ضلعوں کے ضلع افسر اور سینئر افسروں کے بستر بوریئے ایک ساتھ بندھنے والے ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کے محض افسروں کو ادھر ادھر کرنے سے کیا اکھلیش یادو سرکار کی ساکھ سدھرے گی؟ یہ گراف اتنی تیزی سے نیچے آرہا ہے کے سماجوادی پارٹی نیتاؤں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اب ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو یہ کہنے لگے ہیں کے اس سرکار سے تو بہن جی کی سرکار ہی اچھی تھی۔
(انل نریندر)

ایچ آئی ایل نے مرتے بھارتیہ ہاکی کھیل میں روح پھونکی

انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) نے جس طرح کرکٹ کو نیا اوتار دیا ہے ٹھیک اسی طرح ہیرو ہاکی انڈیا لیگ (ایچ آئی ایل) نے بھارتیہ ہاکی کو ایک نئی زندگی دی ہے۔ میں ہیرو والوں کی اس اسکیم کے پیچھے کام کرنے والوں اور اس کے کامیاب انعقاد کرنے والوں کو بھی مبارکباد دیتا ہوں۔ میں خود جب ممکن ہوتا ہے تو میچ دیکھتا ہوں ۔ کچھ حد تک یہ ٹوئنٹی ۔ٹوئنٹی کرکٹ کی طرح کاانجوائے دیتا ہے۔لندن اولمپک میں بارہویں مقام پر رہنے کے بعد انڈین ہاکی جیسے مردہ ہوگئی تھی اور اس میں نئی جان آنے کے کوئی اثرات نہیں دکھائی پڑتے تھے لیکن ایچ آئی ایل نے اس مردہ ہوچکی بھارتیہ ہاکی میں ایسی نئی لو جگائی ہے کے جس کی کسی کو امیدنہیں تھی۔ لیکن ہاکی انڈیا نے آئی پی ایل کی کامیابی سے تلقین حاصل کرتے ہوئے ایچ آئی ایل کا اصول بھی تیار کیا ہے اور یہ کارگر ثابت ہوا ہے۔ جنوری میں شروع ہوئی ایچ آئی ایل نے بھارتیہ ہاکی میں بہت کچھ بدل ڈالا ہے اور ہاکی کھلاڑیوں کی نیلامی اور انہیں ملی بھاری قیمت اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے اچھے موقعوں نے بھارت کے نوجوان ہاکی کھلاڑیوں میں ایک امید کی نئی کرن دکھانے کا کام کیا ہے۔ ہاکی بھارت کا قومی کھیل ہوا کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کھیل کا اتنا زوال ہوا کے ہم دنیا کے ہاکی کے نقشے سے ہی غائب ہوگئے۔ ایسا نہیں تھا کہ بھارت میں ہنرمندی کی کمی تھی لیکن سہولیات کی کمی اور مالی تنگی، ہاکی کھلنے میں طریقے کی تبدیلی ،بہت سی ایسی باتیں ہوئیں جن سے ہم پچھڑتے چلے گئے۔ اس لیگ میں بیرونی ملک کے چوٹی کے ہاکی کھلاڑی بھارتیہ ہاکی کھلاڑی کے ساتھ مل کر کھیل رہے ہیں۔ ہمارے کھلاڑیوں کو ان کے اسٹائل اور جسمانی فٹنیس کا پتہ چل رہا ہے۔ اپنی خامیوں کا اندازہ ہوتا جارہا ہے۔ چوٹی کے کوچ ایچ آئی ایل ٹیم کے کوچ ہے اور ان کی حکمت عملی اور تربیت کا طریقہ سب کچھ کی جانکاری مل رہی ہے۔ ہاکی ٹیم گیم ہے اس لئے لیگ سے یہ ثابت بھی ہوجاتا ہے۔ دہلی ویب رائڈرز یہ ثابت بھی کرتی ہے۔ ٹیم نمبروں کی ٹیلی میں سب سے اوپر ہے اور اب تک ایک بھی میچ نہیں ہاری۔ ٹیم کا کوچ بھی ہندوستانی ہے چونکہ ٹیم اتنی اچھی طرح سے کمبائن کررہی ہے کے اس کے کامیابی رتھ کو کوئی نہیں روک پارہا ہے۔ ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایچ آئی ایل نے ٹی آر پی کے معاملے میں یوروکپ فٹبال کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ ہاکی کو ایسی مقبولیت پچھلے کئی برسوں سے نہیں ملی تھی۔ آئی پی ایل نے نہ صرف ہاکی بلکہ گولف، کشتی اور بیٹ منٹن جیسے کھیلوں کو فروغ دیا ہے۔ گولف پریمیر لیگ کچھ دنوں بعد مہاراشٹر کی ایم بی ویلی میں ہونے جارہی ہے۔ بیٹ منٹن میں بھی اسی طرز پر ٹورنامنٹ ہونے جارہا ہے۔ مجھے خاص خوشی رانچی کے نئے اسٹیڈیم کو دیکھ کر ہوئی ہے۔ ایسی ریاستوں میں جہاں ہاکی مشہور نہیں تھی وہاں پر بھی اب اس کی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے۔ رانچی شائنوز ٹیم بھی اچھا کھیل رہی ہے اور سیمی فائنل میں پہنچ سکتی ہے۔ایچ آئی لیگ سے جڑے سبھی لوگوں کو مبارکباد۔
(انل نریندر)

05 فروری 2013

عصمت دری اور قتل میں موت کی سزادامنی وعوام کی مانگ رنگ لائی

جیسا کہ میں بار بار اس کالم میں کہتا رہا ہوں کے دامنی کی قربانی ضرور رنگ لائی گی اس کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ 16 دسمبر کی اس روح کوجھنجھوڑ نے والی اس وار دات نے دیش کو ہلا کر رکھ دیا۔ دہلی کے جنتر منتر پر آج بھی مظاہرے اوردھرنے جاری ہے میڈیا بھی ایک دن خاموش نہیں بیٹھا۔ اس چوطرفہ دباؤ کے کئی اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ تازہ نتیجہ یہ ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے بدفعلی قانون میں بڑی ترمیم لانے والے آرڈیننس کو کیبنٹ نے منظوری دیدی اوراس پر صدرجمہوریہ نے اپنی مہر لگا دی۔ عورتوں کے ساتھ جنسی استحصال کرنے والے اب آسانی سے نہیں چھوٹ سکیں گے بلکہ بدفعلی جیسے گھناؤنے معاملے میں اگر متاثرہ کی موت ہوجاتی ہے یا مرنے حال ہوتی ہے تو ان معاملوں میں قصوروالوں کو سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے۔ بدفعلی قانون کی تشریح میں ترمیم کرتے ہوئے حکومت نے اس آرڈیننس میں جسٹس ورما کمیٹی کی سفارشوں کی بنیاد پر کئی ترمیما ت کی ہے۔ اس میں بدفعلی کے مجرمان کو تا عمر کی جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنے اورتیزاب سے حملہ کرنیوالوں کو بھی 20 سال کی سزا ئے قید ہے اس کے ساتھ آبروریزی کی متاثرہ کو معاوضہ دیئے جانے کی قانونی شق شامل کی گئی ہے۔ مرکزی کبینٹ میں فیصلے لینے کے بعد حکومت نے اس آرڈیننس کو صدرجمہوریہ کو بھیج دیا تھا انہوں نے منظوری بھی دیدی ہے اب جلد ہی سرکار اس کے نفاذ کے لئے نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔ محض 24 گھنٹے کے اندر تیزی سے رونما سرگرمیوں میں آرڈیننس لانے کا فیصلہ ہوا سونیا گاندھی نے جمعہ کی صبح وزیراعظم سے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ تب ہی کانگریس کور گروپ کی میٹنگ ساڑھے پانچ بجے طے ہوئی اور وزراء کو اس کی بھنک تک نہیں دی سرکار کے آرڈیننس لانے جارہی ہے اس کے بعد وزراء کو مطلع کیا گیا اورشام ساڑھے 6بجے وزیراعظم کی رہائش گاہ پر کیبنٹ کی میٹنگ ہوئی جس میں وزیرداخلہ، وزیر خزانہ ، وزیردفاع کیساتھ ساتھ سونیاگاندھی نے بھی آرڈیننس پرجائزہ لیا۔ اور اپنی رضا مندی دیدی۔ سونیاگاندھی نے منموہن سے کہا آپ آرڈیننس لائیے اس سے پارلیمنٹ کی اسٹنڈنگ کمیٹی کی کسی اہمیت پر کوئی سوال نہیں اٹھے گا۔ ہمیں دیش کو بچانے چاہئے کہ سرکار سخت قانون بنانے کے لئے اہل مند ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں اس آرڈیننس کے پیچھے ڈائیونگ فورس اورسونیا گاندھی خود تھی۔ پارلیمنٹ کاسیشن شروع ہونے سے 20 دن پہلے آرڈیننس کافیصلہ سرکار کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے یہ بھی ماننا پڑے گا ورما کمیٹی کی رپورٹ ملنے کے 9 دن کے اندر سفارشیں مان کر سرکار نے مستعدی دکھائی اس کے پیچھے ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن سرکار کو نہ گھیر سکے اب 6مہینے کے اندر پارلیمنٹ کو اپنی منظوری دینی ہوگی۔ حکمراں اور اپوزیشن عام رائے بنانی ہوگی۔ جسٹس جے ایس ورما کمیٹی نے ریپ وقتل معاملے میں بھی موت کی سزا سفارش نہیں کی تھی۔ لیکن سرکار نے اس کی اس بات کو نظر انداز کرکے ایک قدم آگے بڑھا دیا۔ 16 دسمبر کے واقعہ کے بعد دیش بھر میں پیدا ناراضگی اور پھانسی کی عام مانگ ترجیح دے کر نہ صرف دامنی کو انصاف دلانے کا کام کیا بلکہ کروڑوں عوام کی مانگ کوبھی پہچانا ہے آگے کا راستہ آسان نہیں کانگریس کو پارلیمنٹ اور سیاسی سطح پر انسانی حقوق تنظیموں سے اوربین الاقوامی دباؤ کاسامنا کرناپڑسکتا ہے۔ ویسے سرکار کوئی نئی بات نہیں کررہی ہے۔ ریپ وقتل کے آبروریز معاملے میں موت کی سزا تو پہلے ہی تھی اگر سرکار اس شق کی بنیاد پر اب معاملہ ختم کردیتی تو اس کا چوطرفہ غلط اثر پڑتا اور سیاسی نقصان بھی ہوسکتا تھا۔ رہا سوال چھٹے ملزم کا تو وہ نابالغ ہے تو ہماری رائے ہے کہ وہ ہرحالت میں موت کی سزا کا حقدار ہے ہماری ذاتی رائے میں جرائم کو اگردوزمروں میں بانٹ دیا جائے تو بالغ کرائم اورنابالغ کرائم کی تو پوزیشن واضح ہوجائے گی چائلڈجوینائل کرائم ہوتے ہیں جو بچے شرارت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گاڑی گھومنے کے لئے یا چاکلیٹ کھانے کے لئے پریس چرایا لیا یا کلاس کی لڑکیوں پر فقرے کس دیئے وغیرہ وغیرہ اب ایک جوینائل ،آبروریزی ،مظالم، قتل کا سوچا سمجھا پلان بنا کر اسے عملی جامہ پہناتا ہے تو نابالغ کرائم نہیں بلکہ بالغ کرائم ہے۔ اوراسے بطور بالغ کرائم کرنے کی ہی سزا ملنی چاہئے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ پتہ نہیں اس سے متفق ہے نہیں ؟ بہرحال سونیاگاندھی اوریوپی اے سرکار اس بات کے لئے مبارکباد کے مستحق ہے کہ انہوں نے عوام کی آواز اورمطالبہ پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔
(انل نریندر)

وسندھرا کو کمان سونپ کر سنگھ کو پھر بھاجپا نے دی مات

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ورکروں کو اس بات کی خوشی ہے کہ آخر کار پارٹی نے وہ فیصلہ لینے شروع کئے ہیں جو اس کے مفاد میں ہے آر ایس ایس کے اشاروں پر ناچنے سے انکار کردیا ہے اور کچھ حد تک اس کونظرانداز بھی کرناشروع کردیا ہے نتن گڈ کری اشو پر کرکری کرانے کے بعد اب سنگھ نے راجستھان میں شریمتی و سندھرا راجے سندھیا معاملے میں بھی مات کھائی ہے راجستھان میں اس سال میں ہونے والے چناؤ سے پہلے ریاستی بھاجپا کی کمان سابق وزیراعلی راجے سندھیا کو سونپ دی گئی ہے۔ وہ ریاست میں مختلف گروپوں میں تال میل بٹیھانے کی کوشش کریں گی وسندھرا راجے کٹر مخالف گلاب چند کٹاریہ کو اپوزیشن کالیڈر بنادیا گیا ہے حالانکہ پارٹی نے ابھی سندھیا کو پردیش پردھان بنانے کااعلان کیا ہے لیکن صاف ہے ان کا رول نہ صرف ٹکٹوں کے بٹوارے میں اہم ہوگا بلکہ وہ پارٹی کی وزیراعلی کے عہدے کے دعوی دار بھی ہوں گی۔ بھاجپا ذرائع کاکہناہے کہ آر ایس ایس کے دباؤ کے باوجود پارٹی نے وسندھرا کو کمان اس لئے سونپی کیونکہ پارٹی نیتاؤں کر لگتا ہے کہ راجستھان میں اگر بھاجپا کو دوبارہ اقتدار میں آنے ہے تو وسندھرا کی رہنمائی میں چناؤ لڑناہوگا۔ اس سے پہلے 2002میں بھی چناؤ سے ایک سال پہلے وسندھرا کو پردھان بنایا گیا تھااور پارٹی نے ان کی رہنمائی میں 2003 کے اسمبلی چناؤ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ذرائع کے مطابق سنگھ چاہتا تھا کہ راجے کو زیادہ چھوٹ نہ دی جائے۔ آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے گلاب چند کٹاریہ اور گھنشیام تیواری ان کی مخالفت کررہے تھے لیکن وسندھرا چاہتی تھی نہ صرف انہیں پردیش پردھان بنایا جائے بلکہ ان کو بطور وزیراعلی پیش کیاجائے جب کہ کٹاریہ گروپ چاہتا تھاکہ راجستھان کے پرانے بی جے پی لیڈروں کوترجیح دی جائے۔ وسندھراکے مخالف گروپ کو ٹکٹوں کے بٹوارے کا اختیار ملا تو ان کے لئے وزیراعلی بننے کا امکان مدھم ہوجاتا۔ ارون جیٹلی کے گھر پر ہوئی میٹنگ میں راجناتھ سنگھ اور دیگر لیڈروں نے یہ فیصلہ سنایا تو گھنشیام کی لابی نے اس کے بعد ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے میٹنگ کا بائیکاٹ کردیا۔ وسندھرا کو اب ایک متوازن ٹیم بنانی ہوگی۔اس میں سنگھ کے قریبی لیڈروں وورکروں کے کرادروں کو بھی نظر انداز نہ کیاجائے ٹکٹ بٹوارے میں وسندھرا اب اپنے زیادہ سے زیادہ حمایتیوں کوٹکٹ دے سکتی ہے۔ کٹاریہ کو لال بتی اور سہولیات تو ملے گی لیکن ان کے کاموں میں ضروری کمی آئے گی وسندھرا کے لئے سب بڑی چنوتی پارٹی میں گروپ بندی سے نپٹنا سبھی فریقین کوساتھ لے کر چلنا اور چناؤی حکمت عملی بنانی ہوگی۔ وسندھرا کے کمان سنبھالنے سے ریاست میں سیاسی تغذیہ بھی بدلیں گے۔ کانگریس تنظیم میں بھی ردوبدل ممکن ہے ۔ تیسرا مورچہ بننے کاامکان بھی بڑھا ہے۔ 
(انل نریندر)

03 فروری 2013

پرویز مشرف کی مکاری کا ایک اور ثبوت

پاکستانی لیڈر چاہے وہ سیاستداں ہو یا پھر فوجی افسر اپنی بات سے مکرانا، جھوٹی باتیں کرنا، مکاری کرنے کے لئے مشہور اور بدنام ہوچکے اب شاید ہی دنیا میں کسی پاکستانی لیڈر پر یقین ہوتا ہے۔ ایک بار پھر اس لمبے سلسلے میں پاکستان بے نقاب ہوگیا ہے۔ پاکستان کے ایک ریٹائرڈ کرنل نے اپنی کتاب ’’وٹنس ٹو بلنڈر: کارگل اسٹوری انفولڈس‘‘ میں سنسنی خیز خلاصہ کیا ہے کہ کارگل جنگ کے کھلنائک اور پاکستان کے سابق فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف نے نہ صرف بھارت کے خلاف جنگ کا منصوبہ بنایا تھا بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان قائم کنٹرول لائن کو بھی پار کیا تھا۔ ریٹائرڈ کرنل اشفاق حسین کارگل جنگ کے دنوں میں پاکستانی خفیہ ایجنسی کے رابطہ عامہ آئی پی ایس آر میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اس جنگ کو مشرف کی بڑی بھول قراردیتے ہوئے لکھا ہے کہ 28 مارچ 1999ء کو فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف اپنے کچھ حکام کے ساتھ زکریہ چوکی پر گئے تھے جو کنٹرول لائن سے 10 کلو میٹر آگے ہے۔ یعنی یہ بھارت کا حصہ ہے۔ اس چوکی پر تب تک12 ناردن لائٹ انفینٹری نے قبضہ کررکھا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ مئی سے جولائی 1999ء تک دونوں ملکوں کے درمیان کارگل جنگ ہوئی تھی جس میں بھارتیہ جوانوں نے پاکستانیوں کو دھول چٹا دی تھی۔ پاکستان کو نہ صرف کارگل جنگ کی ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا بلکہ ساری دنیا میں پاکستانی فوج کی تھو تھو ہوئی تھی ۔ اس لئے ان دنوں میں جنرل مشرف لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کر کارگل کے ایک بنکر میں رات بھر رہے۔ یہ دن 19 فروری1999 کو شروع ہوئی بس ’صدائے سرحد‘ سے تقریباً ایک ماہ بعد کی بات ہے یعنی ادھر اٹل بہاری واجپئی اور ادھر نواز شریف جب امن کی راہ پر بڑھ رہے تھے تو مشرف کارگل کی برفیلی پہاڑیوں پر بوئے گئے اپنے خونی بیجوں کی انتم سنچائی کررہے تھے۔ مشرف کے کارگل میں رہنے کے اس سنسنی خیز انکشاف سے پاکستان میں ایک طبقہ مشرف کی اس حولہ اور ہمت کے لئے وا ہ واہ ہی کر سکتے ہیں۔یہ واقعہ 1962ء میں نہیں بلکہ 1996ء میں ہوا ان کی یہ ہمت ہمارے سسٹم پر بھی بڑے سوال کھڑے کرتی ہے۔ ہماری فوج کی خفیہ سی آئی ڈی اور دیگر ایجنسیاں سو رہی تھیں؟ دشمن کا جنرل 11 کلو میٹر سرحد کے اندر گھس آئے اور ہمیں پتہ تک نہیں چلا؟ یہ 1962ء میں بھی ہوا تھا جب چینی نارتھ ایسٹ میں گھس آئے تھے اور ہمیں منہ کی کھانی پڑی تھی۔ بس غنیمت1996 ء میں یہ رہی کے بھارتیہ فوج نے ہمت اور قوت ارادی دکھاتے ہوئے کارگل سے پاکستانیوں کو مار مار کر بگادیا۔ جاتے جاتے وہ اپنے فوجیوں کی لاشیں تک چھوڑ گئے۔ تازہ انکشاف سے پاکستان کے اندر بھی ہلچل ہونا فطری ہے۔ واقف کاروں کے مطابق خود مشرف پر اس کا برا اثر پڑ سکتا ہے۔ جنرل عزیز کے بیان کے بعد مشرف نے دعوی کیا ہے کہ آپریشن کامیاب تھا اگر نواز شریف امریکہ نہیں جاتے تو پاک فوج کارگل کے نتیجتاً بھارت کا 300 میل کا ایریا قبضہ لیتی۔ یہ ویسا ہی غلط دعوی ہے کے جیسے کبھی ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت سے ہزار سال تک لڑنے کا عہد کیا تھا اور 1971ء میں ان کے 93 ہزار فوجی ہتھیار ڈال گئے تھے۔ مشرف ویسے ہی کئی مصیبتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بینظیر بھٹو قتل کیس میں مطلوب ہیں۔ پاک سرکار نے انٹر پول سے مشرف کو پکڑ کر پاکستان بھیجنے کوکہا۔ قانونی پچڑے میں مشرف پاکستان نہیں لوٹ پا رہے ہیں۔ اب نواز شریف کی پارٹی اور دیگر تنظیموں نے کارگل جنگ کے پلان اور آپریشن کے بارے میں جوڈیشیل انکوائری کی مانگ کی ہے اور یہ بھی مانگ اٹھنے والی ہے کہ کارگل میں مارے گئے پاک فوجیوں کے اشو پر جانچ کرا کر ان کی صحیح تعداد سامنے لائی جائے۔ یعنی سینکڑوں فوجیوں کے اس طرح سے مارے جانے کے لئے مشرف کو ذمہ دار ٹھہراکر ان پر ایک اور مقدمہ چل سکتا ہے۔
(انل نریندر)

’’ہٹ اینڈ رن‘‘ معاملے میں سلمان خان کو10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے

بالی ووڈ کے سپر اسٹار سلمان خان کی مشکلیں بڑھتی نظر آرہی ہیں۔ 2002ء کے’ہٹ اینڈ رن‘ معاملے میں جمعرات کو مجسٹریٹ نے مہاراشٹر سرکار کی عرضی قبول کر ان کے خلاف غیر ارادی قتل کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔ قصہ11 سال پرانا ہے۔28 ستمبر2002ء کو سلمان خان نے باندرا کی ایک بیکری میں مبینہ طور پر اپنی ٹوئیٹا لینڈ کروزر گاڑی گھسا دی تھی۔ اس دوران بیکری کے باہر فٹ پاتھ پر سو رہے ایک شخص کی موت ہوگئی تھی جبکہ چار شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے۔ حالانکہ سلمان کے خلاف معاملے کی سماعت شروع ہونے میں چار سال لگے اور 2006ء میں باندرہ کورٹ میں سماعت شروع ہوئی۔ موجودہ صورت میں 47 سالہ سلمان کے خلاف دفعہ 304(1) کے تحت لاپروائی سے گاڑی چلانے کا معاملہ چل رہا ہے جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 2 سال ہے مگر غیر ارادتاً قتل معاملے میں دفعہ304(2) کے تحت سلمان کو زیادہ سے زیادہ10 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ جرائم کی سنگینی کو دیکھتے ہوے مجسٹریٹ نے11 فروری کو سلمان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ سلمان کے وکیل دپیش مہتہ نے بتایا کہ سلمان کو سیشن کورٹ کے سامنے 11 فروری کو پیش ہونا ہوگا۔ وکیل مہتہ نے یہ بھی بتایا سلمان اس حکم کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ سلمان پر پہلے بھی اس معاملے میں مقدمہ درج تھا مگربعد میں ممبئی عدالت نے اسے بدل کر ان کے خلاف دفعہ304(1) (لاپروائی سے ڈرائیویٹ) کے تحت معاملہ درج کرنے کو کہا تھا۔ اس سال کے آغاز میں پولیس نے اپیل کی تھی کہ سلمان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ ویسے سلمان خان کو اگر تنازعوں کا خان کہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ وہ کوئی نہ کوئی تنازعے میں پھنسے رہتے ہیں۔ مارچ2002ء میں سابق محبوبہ اور اداکارہ ایشوریہ رائے نے سلمان کے خلاف پریشان کرنے کا معاملہ درج کرایا۔ پھر اسی سال ستمبر میں ’ہٹ اینڈ رن‘(مار کر بھاگنا) کا معاملہ درج ہوا۔ فروری2006 ء میں چنکارا کے شکار معاملے میں راجستھان کی ایک عدالت نے ایک سال کی سزا سنائی ، جس پر بعد میں ہائی کورٹ نے روک لگادی۔ سلمان کا پروفیشنل کیریئر اس وقت شباب پر ہے۔ ایک کے بعد ایک سپر ہٹ فلمیں دینے کا سہرہ انہیں جاتا ہے۔ ایسے میں یہ کیس آنا اور اس میں سزا سے سلمان فکر مند ضرور ہوں گے۔ انہیں اس کیس کو پوری سنجیدگی سے لڑنا ہوگا اور کوشش کریں کے وہ سزا سے بچ جائیں۔ اگر جرمانے اور معاوضے سے کیس نمٹ سکتا ہو تو یہ سب سے اچھا متبادل ہوگا۔ ’’آل دی بیسٹ سلمان‘‘۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...