Translater

19 ستمبر 2015

Arrest in India of first woman IS agent?

Muslims should follow Abu Bakr al-Baghdadi, the IS (Islamic States) chief as their role model. Forcibly convert non-Muslims into Islam you’ll be given place in the heaven i.e. Allah will bless you with an entry in Jannah. Such type of fire-breathing sermons are posted on the Facebook wall of Afshan Jabeen working for Islamic State (IS) arrested some days ago. The first Indian woman Afshan Jabeen working for dreaded terrorist outfit IS deeply rooted in Iraq and Syria has been arrested from Hyderabad after being deported from UAE to India. Afshan Jabeen alias Nichole Joseph who used to recruit online for IS was deported to India from UAE last Thursday alongwith her husband and three daughters. Her husband has been identified as Devendra Batra alias Mustafa. The woman was arrested by the Hyderabad police at Rajiv Gandhi Airport soon after reaching India.

The IS connection of this woman was detected in January when a young technocrat Salman Moinuddin informed about it after being arrested at Hyderabad Airport while leaving for Dubai. Aged around 30-35 years Salman Moinuddin told the police that a woman named Nicky Joseph claiming to be a British citizen met him online and told Salman that she loves him. During the interrogation he also told the police that the woman wanted to flee to Syria with him so that Salman could be recruited into IS. Though Salman is married and a post graduate in science and has worked earlier for IS. Jabeen was living in Dubai but as soon as Indian agencies found proofs against her they immediately contacted UAE authorities and got her deported to India. Interrogation of Afshan Jabeen is continuing.

UAE has deported four more Indians after deporting of Afshan Jabeen. Investigation from Afshan Jabeen working for IS are continuing. Though it was not fully disclosed whether 37 year old Afshan Jabeen alias Nicky Joseph was in direct contact with IS leaders or not. It has been disclosed in the interrogation that in the year 2014 an incident occurred in Gaza in which many Muslims died. Afshan Jabeen became an orthodox Muslim after the incident. She formed four groups on Facebook.  Afshan began to spit fire on the social media and started a campaign to forcibly convert non-Muslims into Islam. She also wrote on her wall that whosoever converts a non-Muslims into Islam in the name of Jehad will be given place in Jannah by Allah. IS threats in India are increasing and if our government and security agencies are not alert it may result in a disaster.  Many supporters of I.S like Afshan Jabeen are also present within India. Some outfits like SIMI also have soft corner for IS.

Of late IS has been engaged in the campaign of engaging Indian Muslims living in the Gulf countries. Concerned over negligible response from world’s second largest Muslim populated India, IS leaders are luring Indians living in counties like United Arab Emirates (UAE), Saudi Arabia, Kuwait and Yemen in the name of strengthening Islam. UAE decided to deport four more Indians lured by such delusion after deporting Afshan Jabeen. At first sight UAE has started pushing its dirt to India. According to MHA sources these four Muslim youths reached here on Tuesday belong to Kozhikode and Thiruvananthapuram in Kerala. Sources revealed that four more youths have been identified in Dubai having attraction for IS.  In fact these eight youths were in contact with a north Indian and a Bangladeshi present in Syria. An agency official watching the worldwide activities of IS told that after being declared non-Islamic by the Indian Muftis and Ulemas, IS leaders are giving more attention towards Muslim Indians living abroad for 10 to 15 years. In an attempt to counter the declaration of Ulemas regarding IS being non-Islamic likely to be included in the speech of Prime Minister Narendra Modi. He is scheduled to visit US in the last week of this month.

Sources said that in IS huge recruitments is also on in Europe. Thus it has become a matter of concern and tension in various European countries. India will have to combat IS at its own. US president has announced that he will not deploy his army for any ground battle with IS. If India assumes that the US will help it in combating IS it will be befooling oneself.  Asad government in Syria no matter how worse it may be, today is in the best position to put a check on IS on the ground level. Other gulf countries like Saudi Arabia etc. do not have enough courage or strength to combat IS. One thing is beyond comprehension i.e. Iran’s attitude over the whole issue. Being a Shia country why doesn’t it openly help Syria’s Asad (Shia) government? IS has become a threat for India. India should realize this as soon as possible.

-        Anil Narendra

 

مودی کی کامیاب خارجہ پالیسی رنگ لا رہی ہے

پی ایم کی ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ ہی خارجہ پالیسی کے سیکٹر میں سرگرمی دکھاتے رہے وزیر اعظم نریندر مودی کی انتھک کوششوں کے نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ عرصے سے اپنے لئے اقوام متحدہ کونسل یو این ایس سی میں مستقبل سیٹ کی مانگ کررہے بھارت کو اقوام متحدہ میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ سکیورٹی کونسل کی توسیع کی بات چیت پر اتفاق رائے ہو گیا ہے جسے بھارت کے لئے اچھی خبر مانا جارہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ بھارت کی تجویز کو یہ منظوری اس کے روایتی حریف چین کے احتجاج کو درکنار کر ملی ہے۔ جو خود تو اس سپریم ادارے میں ویٹو کا حق حاصل کرکے مستقل ممبر ہے لیکن بھارت کی ممبر شپ یا تجاویز میں وہ ہمیشہ رکاوٹیں ڈالتا رہا ہے۔ کیونکہ کونسل کا ڈھانچہ کافی عرصے سے ایک ہی دھرے پر چل رہا ہے اور یوروپ و پانچ مستقل ممبران کے مفادات کے حق میں اس کا جھکاؤ صاف صاف دکھائی پڑتا ہے۔ اس وجہ سے بہت سے دیش پچھلی دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے سکیورٹی کونسل کی توسیع اور اس کے موجودہ ڈھانچے میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ دوسری طرف سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبروں میں سے زیادہ تر نہ صرف جوں کے توں پوزیشن بنائے رکھنے کے حمایتی ہیں بلکہ دنیا کی اس سب سے بڑی پنچایت میں اب تک تبدیلی سے متعلق کوئی ریزولیوشن بھی نہیں آیا تھا اس لحاظ سے سکیورٹی کونسل کی توسیع سے متعلق بحث کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ذریعے اتفاق رائے سے منظوری فطری طور پر ایک تاریخی واقعہ بتایا جاسکتا ہے۔سکیورٹی کونسل میں مستقل ممبر شپ کی دعویداری کررہے بھارت کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کیلئے یہ ایک بڑی ڈپلومیٹک جیت ہے۔بھارت لمبے عرصے سے اس کی مانگ کرتا آرہا ہے اور مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ہر غیر ملکی دورے میں یہ اشو اٹھایا ہے۔ اب اقوام متحدہ کی میٹنگ میں 200 ممبران ملکوں نے سیکورٹی کونسل میں اصلاح اور توسیع کی تجویز دینے والے دستاویزات کو اگلے سال تک تیار کرنے کے لئے اتفاق رائے جتا دی ہے۔ فیصلہ لینے والے اس سپریم ادارے میں 15 دیش ہیں جن میں روس، چین، برطانیہ، فرانس اور امریکہ سمیت پانچ کو مستقل ممبر شپ حاصل ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے جب مختلف ملکوں نے تحریری تجویز دے کر بتایا کہ ریزولوشن میں کیا لکھا جائے۔ امریکہ روس اور چین نے اس کارروائی میں حصہ نہیں لیا لیکن بھارت کی کوششوں پر اس سے پانی نہیں پھرا ہے۔ پہلے اسے بھارت کی مستقل ممبر شپ کی مانگ کو جھٹکا دینے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے اور جواب در جواب تک اقتصادی طاقت بننے و اقوام متحدہ کی امن فوج میں یہ قابل قدر کردار نبھانے اور ان کے ممبر دیشو کی حمایت ہونے کی وجہ سے بھارت کو سکیورٹی کونسل میں مستقبل ممبر شپ تو ملنی چاہئے البتہ یہ اتنا آسان بھی نہیں ہوگا۔ فی الحال یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے بھارت کی مستقل ممبر شپ کی امید تو بنتی ہی ہے۔
(انل نریندر)

اسمارٹ گاؤں تو ضرور بناؤ لیکن پہلے خوشک سالی سے تو نمٹو

وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکار نے دیہی علاقوں میں سڑکیں اور ریلوے توسیع کے ساتھ اسمارٹ گاؤں بنانے کی کئی اہم اسکیموں کو بنیادی شکل دینے کی تیاری کرلی ہے جس کا تہہ دل سے ہم خیر مقدم کرتے ہیں لیکن دیش کے ان داتا کسان کی زندگی آج بھی خوشحالی اور بھرپور بارش پر منحصر ہے اور اس سمت میں سرکار سے زیادہ اسے مانسون پر منحصر رہنا پڑتا ہے۔ مانسون کی بے رخی نے کم و بیش دیش کے آدھے حصے کا جو برا حا ل کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے ہماری رائے میں آج پہلی ضرورت گاؤں کے وجود کو بچانے کی دکھائی پڑتی ہے۔ مانسون کی حالانکہ ابھی بدائی کا رسمی اعلان تو نہیں ہوا لیکن اب تک کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ لگتا ہے کہ مسلسل دوسرے برس دیش کو سوکھے سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس وقت دیش کا 44 فیصد حصہ بارش کی کمی سے لڑ رہا ہے۔ اترپردیش ، ہریانہ، پنجاب جیسے کھیتی کرنے والے راجیہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات کے مطابق پورے دیش میں ابھی تک عام سے 16 فیصدی بارش کم ہوئی ہے۔آئی ایم ڈی کی مانیں تو پیر تک دیش کے محض 6فیصدی حصے میں عام سے زیادہ برسات درج کی گئی ہے۔ 
وہیں50فیصد بارش علاقے میں کم ہوئی ہے۔ نازک صورتحال اترپردیش کی ہے۔ پردیش کے مشرقی حصے میں قریب42 اور مغربی حصے میں 44 فیصدی کم بارش ہوئی ہے۔ مہاراشٹر میں مراٹھواڑہ کے تین ضلع زبردست سوکھے کی زد میں ہیں۔ اس سال جنوری سے اب تک بیڑھ ، عثمان آباد اور لاتور میں400 سے زیادہ کسان موت کو گلے لگا چکے ہیں۔ خوشک سالی زدہ اضلاع میں بارش نہ ہونے کے سبب خریف کی فصل پوری طرح سے چوپٹ ہوچکی ہے۔ کم بارش ہونا اور سوکھا پڑنا بھارت کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دیش میں2005 سے2015 تک یعنی 11 برسوں میں 7 برس ایسے رہے ہیں جب عام سے کم یا بہت کم بارش ہوئی ہے۔ موجودہ برس اس معاملے میں سب سے خراب سال ثابت ہوا۔ اس سال اب تک عام سے 13فیصدی کم بارش ہوئی ہے۔ بھارت کے کچھ حصوں کو چھوڑدیا جائے تو بارش کے سبب کھیتی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تجربہ تو یہی بتاتا ہے کہ خراب مانسون کا سیدھا اثر جی ڈی پی پر پڑتا ہے جس میں ذرعی سیکٹر کا اشتراک15 فیصدی کے آس پاس ہوتا ہے۔ سرکار نے8دفیصدی ترقی شرح کی امید جتائی تھی جس کے برعکس پچھلے15 روز میں ہی اس کے7فیصدی تک رہنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ایشیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت آخر کب تک قدرت کی محتاج بنی رہے گی۔ جب تک دیش کی دوتہائی آبادی آج بھی کھیتی کے بھروسے پر گزر بسر کرتی ہے۔ بھولنا نہیں چاہئے کہ جن چار ریاستوں میں آج خوشک سالی منڈرا رہی ہے وہاں سے دیش کی غذائی پیداوار کا قریب ایک تہائی حصہ بنتا ہے۔ سوکھے کی چنوتی صرف کھیتی تک ہی محدود نہیں ہے۔ لگاتار مانسون کم ہونے سے زمین کی آبی سطح بھی نیچے چلی جاتی ہے جس سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ کوششوں کی سخت ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

18 ستمبر 2015

آئی ایس کی پہلی مہلا ایجنٹ کی گرفتاری

مسلمانوں کو ابو البغدادی جو آئی ایس کا چیف ہے،کو اپناآدرش بنانا چاہئے۔ غیر مسلموں کو زبردستی اسلام مذہب میں داخل کرو تو اللہ تمہیں جنت میں مقام عطا فرمائیں گے۔ یعنی اللہ تمہیں جنت میں جگہ دیں گے۔ اس طرح کی آگ اگلنے والے پیغام پچھلے کچھ دن پہلے گرفتار ہوئی اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس ) کے لئے کام کررہی خاتون افشا ں جبیں کی فیس بک وال پر پڑھے ہیں۔ عراق اور شام میں اپنی جڑیں جما چکی خطرناک دہشت گرد تنظیم آئی ایس کیلئے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون افشاں جبیں کو متحدہ عرب امارات سے بھارت ڈیپورٹ کئے جانے کے بعد حیدر آباد سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ افشاں جبیں عرف نکول جوزف جو آئی ایس کے لئے آن لائن بھرتی کرتی تھی، کو اس کے شوہر اور تین بیٹیوں کے ساتھ جمعرات کو دوبئی سے بھارت بھیج دیا گیا تھا۔ اس کے شوہر کی پہچان دیویندر بترا عرف مصطفی کے طور پر ہوئی ہے۔ بھارت پہنچنے کے بعد مہلا کو حیدر آباد پولیس نے جمعہ کے روز راجیو گاندھی ایئر پورٹ پر گرفتار کیا۔ اس خاتون کے تار آئی ایس سے جڑے ہونے کا انکشاف اس وقت جنوری میں ہوا تھا جب حیدر آباد ہوائی اڈے سے دوبئی روانہ ہوتے وقت گرفتار کئے گئے ایک لڑکے ٹیکنو کریٹ سلمان معین الدین نے اس بارے میں جانکاری دی تھی۔ تقریباً30-35 سال کے معین الدین نے پولیس کو بتایا تھا کہ خود کو نکی جوزف نامی برطانوی شہری بتانے والی ایک خاتون اسے آن لائن ملی تھی اور بتایا تھا کہ وہ سلمان سے پیار کرتی ہے۔ اس دوران اس نے پولیس کو یہ بھی بتایا تھا کہ وہ عورت اس کے ساتھ بھاگ کر شام جانا چاہتی ہے تاکہ سلمان کو آئی ایس میں بھرتی کیا جاسکے۔ حالانکہ سلمان معین الدین شادی شدہ ہے اور سائنس میں پوسٹ گریجویٹ ہے اور پہلے آئی ایس کے لئے کام کرچکا ہے۔جبیں حال ہی میں دوبئی میں رہ رہی تھی لیکن ہندوستانی ایجنسی کو جیسے ہی اس کے بارے میں ثبوت ملے تو اس نے فوراً متحدہ عرب امارات کے حکام سے رابطہ قائم کیا اور اسے بھارت واپس بھیجوایا گیا۔ افشاں جبیں سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔ اس کو بھارت بھیجنے کے بعد یو اے ای نے چار اور ہندوستانیوں کو بھارت بھیجا ہے۔ آئی ایس کے لئے کام کرنے والی افشاں جبیں سے پوچھ تاچھ جاری ہے حالانکہ اس بات کا ابھی پوری طرح انکشاف نہیں ہوا کہ 37 سالہ افشاں جبیں عرف نکی جوزف آئی ایس کے کیڈروں کے سیدھے رابطے میں تھی یا نہیں۔ پوچھ تاچھ میں اس بات کا خلاصہ ہوا کہ سال2014ء میں غزہ میں واردات ہوئی تھی جس میں کافی مسلمانوں کی موت ہوئی تھی اس واقعہ کے بعد افشاں جبیں کٹر مسلمان ہوگئی اس کے بعد اس نے فیس بک پر چار گروپ بنائے اور اس پر آگ اگلنا شروع کردی اور غیر مسلموں کو بھی اسلام مذہب میں زبردستی شامل کرانے کی مہم چھیڑ دی۔وہ فیس بک پر یہ بھی مواد ڈالتی تھی کہ جہاد کے نام پر جو بھی غیر مسلم کو اسلام مذہب میں شامل کرے گا اسے اللہ جنت میں مقام عطا فرمائے گا۔ بھارت میں آئی ایس کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ اگر ہماری حکومت اور سکیورٹی ایجنسیاں چوکس نہیں ہوئیں تو برا ہوگا۔ افشاں جبیں جیسے داعش حمایتی بھارت میں بھی موجود ہیں۔کچھ سیمی جیسی تنظیم بھی آئی ایس سے ہمدردی رکھتی ہیں۔ آئی ایس اب خلیجی ملکوں میں رہ رہے ہندوستانی مسلمانوں کو شامل کرنے کی بھی مہم میں لگی ہوئی ہے۔ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے مسلم آبادی والے بھارت سے نوجوانوں کی شمولیت سے فکر مند آئی ایس کے گرگے متحدہ عرب امارات سعودی عرب، کویت، یمن جیسے ملکوں میں یہ برسوں سے رہ رہے ہیں اور ہندوستانیوں کو اسلام مضبوط کرنے کے نام پر رجھا رہے ہیں۔اسی جھانسے میں آئی افشاں جبیں کو واپس بھیجنے کے بعد متحدہ عرب امارات نے چار اور ہندوستانیوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک نقطہ نظر سے متحدہ عرب امارات اپنی گند کو بھارت میں دھکیلنے میں لگا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق منگل کے روز بھارت آئے چار مسلم لڑکے کیرل کے کوزی کوٹ اور ترواننت پورم کے باشندے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ یو اے ای میں چار اور لڑکوں کی پہچان کی گئی ہے اور آئی ایس کی طرف راغب ہونے کی فراق میں ہیں۔ دراصل یہ آٹھوں لڑکے شام میں موجودہ ایک شمالی ہندوستانی اور ایک بنگلہ دیشی کے رابطے میں تھے۔ آئی ایس کی عالمگیر سرگرمی پر نظر رکھ رہی ایجنسی کے افسر نے بتایا کہ بھارت کے مفتی اور علماؤں کی طرف سے آئی ایس کو غیر اسلامی قرار دئے جانے کے بعد اس کے گرگے بیرون ممالک میں 10سے15 سال سے رہ رہے مسلم افراد کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اس کی کاٹ کی کوشش میں علماؤں نے آئی ایس کو غیر اسلامی انجمن قرار دئے جانے کو وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر کاحصہ بنایا جائے گا۔
مودی اسی مہینے کے آخری ہفتے میں امریکہ جانے والے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یوروپ میں آئی ایس میں سب سے زیادہ بھرتی ہورہی ہے۔ اسی وجہ سے یوروپ کے کئی ملکوں کیلئے یہ تشویش اور کشیدگی کا بڑا اشو بنا ہوا ہے۔ بھارت کو آئی ایس سے اپنے دم خم پر مقابلہ کرناہوگا۔ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے اعلان کردیا ہے کہ امریکہ آئی ایس سے مقابلہ کرنے کے لئے زمینی جنگ لڑنے کیلئے اپنی فوج نہیں اتارے گا۔ اگر بھارت یہ سوچے کے امریکہ آئی ایس کو روکنے کے لئے بھارت کی مدد کرے گا تو اپنے آپ کو دھوکے میں رکھنا ہوا۔شام میں بشرالاسد حکومت چاہے وہ جتنی بھی بری ہو آج زمین پر آئی ایس کو روکنے کی سب سے اچھی پوزیشن میں ہے۔ بھارت کو مصری اسد سرکار کی ہر ممکن مدد کرنی ہوگی۔آئی ایس کو اب روکنے کی قوت سعودی عرب وغیرہ خلیج کے دیگر ممالک میں نہیں ہے۔ ایک بات سمجھ سے باہر ہے وہ یہ ہے کہ پورے مسئلے پر ایران کا موقف ۔شیعہ ملک کے ناطے وہ اسد (شیعہ) کی سرکار کی کھل کر مدد کیوں نہیں کررہا ہے؟ آئی ایس بھارت کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔ اس حقیقت کو بھارت جلد سے جلد سمجھ لے۔
(انل نریندر)

17 ستمبر 2015

الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد شکشا متروں میں مایوسی

اترپردیش کی اکھلیش یادو سرکار کو ہائی کورٹ سے جھٹکے پر جھٹکا مل رہا ہے تو اس کے لئے اس کی غیر دور اندیشی حکمت عملی ذمہ دار ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے قریب پونے دو لاکھ ششکا متروں کے ٹیچر بنانے کے سرکار کے فیصلے کو پلٹ دیا اور کہا کہ ان کی تقرری میں طے پیمانوں پر تعمیل نہیں کی گئی ہے۔ہائی کورٹ کو یہ معاملہ اتنا ضروری لگا کہ چھٹی کے دن سنیچر کوتین نفری بنچ نے اتفاق رائے سے حکومت کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے ساری تقرریوں کو منسوخ کردیا۔ اس فیصلے پر ریاست میں زبردست رد عمل ہونا فطری ہی تھا۔ ریاست کے الگ الگ اضلاع میں شکشا متروں کی صدمے سے موت یا خودکشی کرنے کے معاملے سامنے آرہے ہیں۔ اب تک 6 شکشا متروں کی جان جاچکی ہے۔ پوری ریاست میں جگہ جگہ ہائے توبہ مچی ہوئی ہے۔ اسکول بند کئے جارہے ہیں، ٹرینیں روکی گئیں، وہیں سنبھل سے میمورنڈم دے کر صدر اور وزیر اعظم سے خواہشی موت کی اجازت کی اپیل کی ہے۔ بریلی میں شکشا متروں نے میٹنگ کرکے کلکٹر کے دفتر کے باہر مظاہرے کے بعد ضلع مجسٹریٹ کو میمورنڈم دیا تھا اور اس میں صدر جمہوریہ کو خط بھیج کر خواہشی موت کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ ان کی تعداد3400 ہے۔ فیض آباد کے آدتیہ نگر میں شکشا متروں کی میٹنگ کے دوران ایک شکشا متر کو دل کا دورہ پڑ گیا ۔ اس کو سنگین حالت میں ضلع ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے۔ شکشا متروں کی ہڑتال کے سبب سینکڑوں پرائمری اسکول بند ہیں۔ پردیش کے 1 لاکھ72 ہزار شکشا متروں کے سامنے زندگی کے گزر بسر کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر شکشا متروں کی عمر سرکاری نوکری پانے کی عمر سے زیادہ ہوچکی ہے لہٰذا وہ دوراہے پر کھڑے ہوگئے ہیں۔ بیشک شکشا متروں کا درد سمجھا جاسکتا ہے جس میں کچھ نے مایوسی میں خودکشی جیسا ہولناک قدم بھی اٹھایا ہے لیکن اس پورے معاملے میں اترپردیش سرکار کا رول زیادہ لاپرواہی والا ہے۔ مستقل اور پڑھے لکھے ٹیچروں کی تقرری کے بجائے صوبے کی ابتدائی تعلیم قریب ڈیڑھ دہائی سے جس طرح سے شکشا متروں کے حوالے کردی گئی ہے اول تو یہ بات بہت حیران کرنے والی ہے۔ جس طرح اترپردیش کی حکومتوں نے ان شکشا متروں کو مستقل ٹیچر بنانے کی شروعات کردی تھی وہ بھی قاعدے قانون کو طاق پر رکھ کر۔ اس سے ٹیچر بننے کی لائن میں لگے بے روزگار نوجوانوں کو بڑا دھکا پہنچا ہے لیکن انہیں اس کے لئے ہائی کورٹ کو قصوروار ماننے کے بجائے سرکار کی غیر دوراندیشی والی حکمت عملی کو قصوروار مانا جانا چاہئے۔ ان تقرریوں میں مایاوتی سرکار کے وقت میں کی گئی تقرریاں بھی شامل ہیں لہٰذا مایاوتی بھی کٹہرے میں ہیں۔ اس سے پہلے ہائی کورٹ نے ساڑھے 38 ہزار سپاہیوں کی تقرریاں بھی منسوخ کردی تھیں۔ نوئیڈا سمیت تین اتھارٹیوں کے چیف انجینئر یادو سنگھ کا اقتصادی گول مال جب سننے میں آیا تو پوری سرکار اس کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ اس کی سی بی آئی جانچ کی مخالفت کرنے کے لئے سپریم کورٹ تک پہنچ گئی۔ سپریم کورٹ نے سرکار کو پھٹکار لگائی تھی۔ گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں پرائمری تعلیم کے سینٹرلائزیشن اور مقامی نوجوانوں کو روزگار دینے کے لئے شکشا متروں کی جو شروعات کی گئی تھی وہ ایک تجربہ کے طور پر تو ٹھیک مانا جاسکتا ہے لیکن جب ریاستوں نے اسے بھی ٹیچروں کی بھرتی کا طریقہ مان لیا ۔ ایک کے بعد ایک ریاست میں پرائمری ٹیچر پرائمری تعلیم ٹھیکے پر مقرر کردہ ٹیچروں کے حوالے کردی گئی۔ بہتر ہو کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ دوسری ریاستوں میں بھی تعلیمی نظام میں پیدا اس خامی کو دور کرنے کا موقعہ بنے گا۔ اس سے ہمارا تعلیم نظام بھی بہتر ہوگا۔ جب ٹیچروں کی کاپیاں اور صلاحیت اور ان کی ٹریننگ کو ترجیح دی جائے گی لیکن فی الحال تو اترپردیش کی اکھلیش سرکار اس فیصلے سے سکتے میں آگئی ہے۔ ممکن ہے سرکار الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے اور اس فیصلے پر اسٹے کروادے۔ تب تک اسے اس نئے مسئلے سے کیسے نمٹنا ہے اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

ڈینگو کا قہر :ستمبر سے زیادہ خطرناک اکتوبر

دہلی میں ڈینگو کا قہر کم ہونے کی جگہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ دہلی میں ڈینگو کے مریض مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اب تک 1800 معاملے سامنے آچکے ہیں جس میں اکیلے ستمبر کے دو ہفتوں میں ہی 104 مریض دیکھے گئے ہیں۔ ابھی آدھا ستمبر باقی ہے اس لحاظ سے اس سال پچھلے پانچ برسوں کے مقابلے میں ڈینگو زیادہ خطرناک ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ڈینگو کے معاملے ستمبر سے زیادہ اکتوبر میں بڑھتے ہیں۔ ایمسی ڈی کے اعدادو شمار بھی یہی بتا رہے ہیں۔ تقریباً ہر سال اکتوبر میں ڈینگو کے مریض ماہ ستمبر سے زیادہ آتے ہوتے رہے ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے ستمبر ہائی بریڈنگ (مچھروں کا زیادہ پیداوار) کا وقت ہوتا ہے۔ بارش کے بعد ادھر ادھر پانی جمع رہتا ہے۔ اس ماہ درجہ حرارت اور گھٹن ڈینگو مچھروں کے لئے موضوع ہوتی ہے۔ جن مچھروں کی پیداوار ستمبر کے آخر تک ہوتی ہے وہ اکتوبر تک زیادہ سرگرم رہتے ہیں۔ لاڈو سرائے کے واقعہ کے بعد اب دہلی میں سرینواس پوری میں ہسپتالوں کی لاپرواہی کی وجہ سے ایک اور معصوم کی ڈینگو سے موت ہوگئی۔ معلومات کے مطابق بخار کی شکایت کے بعد6 سال کے بچے امن کو سرینواس پوری کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا وہاں جانچ میں ڈاکٹروں نے پایا کے اس کو ڈینگو ہے اس کے بعد اس کے ماں باپ آناً فاناً میں بچے کو لیکر مرکزی حکومت کے سب سے بڑے ہسپتال صفدر جنگ گئے لیکن تعجب ہے کہ وہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچوں کو ڈینگو نہیں ہے۔ پھر رشتے دار بچے کو لیکر گھرآگئے۔گھر پر جب بچے کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی اسے پاس کے ہسپتال لے گئے ،وہاں ڈاکٹروں نے کہا بچے کو کہیں اور لے جائیے یہاں علاج مشکل ہے۔ اس کے بعد بچے کو ماں باپ مول چند اور بترہ ہسپتال میں داخل کرانے کیلئے بھٹکتے رہے لیکن انہیں کہیں بیڈ نہیں ملا۔ آخر میں ایک پرائیویٹ ہسپتال لے گئے لیکن آخر کار معصوم بچے امن کی موت ہوگئی۔ ایم سی ڈی کی طرف سے پیچ کو جاری رپورٹ کے مطابق پچھلے ہفتے ڈینگو کے 613 مریض سامنے آئے تھے۔ اب تک اس برس ڈینگو کے 1872 مریض سامنے آچکے ہیں۔ دہلی میں ڈینگو کے بڑھتے مریضوں کی وجہ سے طبی عملہ کم پڑنے لگا ہے۔ کچھ ہسپتالوں کی طرف سے ڈاکٹر اور دوسرے ملازمین کی مانگ کی گئی ہے۔ مریضوں کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے دہلی حکومت نے سبھی ہسپتال کے ڈاکٹروں ، نرسوں اور نیم طبی اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کرنے کی فیصلہ لیا ہے۔ دہلی کے وزیر صحت ستندر جین نے سبھی ہسپتالوں کو اسپیشل فیور کلینک کھولنے کی ہدایت دی ہیں۔ ڈینگو پر دہلی میونسپل کارپوریشن کے اعدادو شمار بھلے ہی کچھ بھی کہیں لیکن اصلی سچائی اس سے الگ ہے۔ بھارت سرکار اور دہلی سرکار اور ایم سی ڈی کے ہسپتال ڈینگو کے مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ الگ وارڈوں میں بھی جگہ خالی نہیں ہے۔ سیاست چمکانے کے بجائے سبھی کو اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے اس پر توجہ دینی چاہئے۔
(انل نریندر)

16 ستمبر 2015

اوویسی کی چناوی تال سے پریشان نتیش۔ لالو

آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)کے چیف اسعدالدین اوویسی کے بہار کے سیمانچل میں چناؤ لڑنے کے اعلان نے بہار میں نتیش ۔ لالو مہا گٹھ بندھن میں ہلچل مچا دی ہے۔ اعلان کے ایک دن بعد ہی تمام سیاسی پارٹیاں حکمت عملی بنانے میں لگ گئی ہیں۔ اوویسی کی زور آزمائش بیشک سیمانچل کے چار اضلاع میں پھیلی 24 سیٹوں پر سمٹی ہوگی لیکن اسمبلی کی قریب10 فیصدی والا یہ چناوی علاقہ اگر اقتدار کی جنگ میں الٹ پھیر کرنے والا ثابت ہوا تو تعجب کی بات نہیں۔ مہا گٹھ بندھن کے لئے جھٹکا خاص تکلیف دہ ہوگا کیونکہ اس مسلم اکثریتی علاقے سے اسے دوہری امیدیں تھیں۔ سیٹوں کی تعداد بڑھے گی اور بھاجپا کو زبردست شکست دینے میں وہ کامیاب رہے گی۔ سیمانچل کے یہ چار ضلع خاص کر لالو پرساد یادو کے مسلم یادو (ایم وائی) فارمولے کو بھی ایک ماڈل لیباریٹری مانا جاتا تھا۔ ماحول کو جارحانہ موڑ دیتے ہوئے بھاجپا کے لیڈر گری راج سنگھ نے اوویسی کو شیطان بتاتے ہوئے کہا کہ ایسے زہریلے لوگوں سے ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ وہیں نتیش کی جے ڈی یو نے اوویسی کو بھاجپا کا ایجنٹ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ووٹ کاٹ کر بھاجپا کو فائدہ پہنچانے آئے ہیں لیکن بہار میں اوویسی فیکٹر کام کرنے والا نہیں۔ دوسری طرف خود اوویسی نے کہا اب وقت آگیا ہے بہار ہی نہیں پورے دیش میں مسلمانوں کو ان کا سیاسی حق ملنا چاہئے۔ کم سے کم 60 ایم پی مسلمان بننے چاہئیں۔ کانگریس نے بھی اوویسی کو بھاجپا کا مددگار بتایا۔ ادھر مہاراشٹر میں بھاجپا کی اتحادی پارٹی شیو سینا نے بھی بہار میں چناؤ لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ شیو سینا کے ایم پی و لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ ایک موقعہ ہمیں بھی دیں۔ ہم بہار میں سیٹوں پر چناؤ لڑیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ تو این ڈی اے کا حصہ ہو، تو راوت نے کہا کہ وہ صرف لوک سبھا اور مہاراشٹر میں این ڈی اے کے ساتھ ہیں، باقی جگہ ہم الگ ہیں۔ اگر اوویسی نتیش کمار کے مہا گٹھ بندھن کے لئے ووٹ کاٹو بن سکتے ہیں تو شیو سینا بھاجپا گٹھ بندھن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ حالانکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ نہ تو اوویسی کا اور نہ ہی شیو سینا کا بہار میں کوئی خاص اثر ہے۔ ویسے اوویسی کا آنا غیر متوقعہ نہیں ہے کیونکہ سیمانچل میں پچھلے دنوں ان کی ریلی کو زبردست حمایت ملی تھی لیکن اس کا اصل جھٹکا تو ان سیکولر طاقتوں کو لگنے والا ہے جو بھاجپا کی کامیابی مہم کا رتھ روکنے کی تمام امیدیں لگائے بیٹھی ہیں۔ بھاجپا کے لئے تو بہار چناؤ جیتنا زندگی اور موت کا سوال ہے کیونکہ اس نے سیدھے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر جوا کھیلا ہے۔ اوویسی اگر بہار میں اچھی سیٹیں پا لیتے ہیں تو پورے دیش کی مسلم سیاست میں ایک نیا مقام بنا سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

دہلی کابھگوڑہ سابق وزیر قانون سومناتھ بھارتی

عام آدمی پارٹی کے مالویہ نگر سے ممبر اسمبلی اور پیشے سے وکیل و دہلی کے سابق وزیر قانون سومناتھ بھارتی پر جہیز کے لئے پریشان کرنا، اقدام قتل سمیت کئی دفعات میں گذشتہ بدھوار کی شام ایف آئی آر درج کی گئی۔ ساؤتھ ویسٹ رینج کے جوائنٹ کمشنر دیپک پاٹھک نے بتایا۔ بھارتی کی بیوی لپیکا مشرا نے اس سال جون میں شکایت درج کرائی تھی اسی بنیاد پر کیس درج کیا گیا ہے۔ بھارتی کی بیوی لپیکا مشرا نے اس سال 10 جون کو ہی دہلی مہلا کمیشن میں شکایت درج کرائی تھی جس میں الزام لگایا تھا کہ 2010ء میں شادی کے وقت ہی ان کے شوہر برا برتاؤ کرتے رہے۔ انہوں نے اس بارے میں پولیس سے بھی شکایت کی تھی۔ دوارکا میں واقعہ کرائم اگینسٹ وومن سیل میں کونسلنگ میں پولیس چاہتی تھی کہ سومناتھ بھارتی اور لپیکا سمجھوتہ کرلیں۔ لیکن چار بار ہوئی کونسلنگ کے بعد نتیجہ صفر رہا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ کونسلنگ کے دوران لپیکا اور سومناتھ میں کافی تلخی دیکھی گئی۔ لپیکا نے کئی بار بولا کہ وہ سومناتھ کو دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔ دہلی پولیس کے ایک اعلی افسر کے مطابق ایف آئی آر درج ہونے کے اگلے ہی دن سومناتھ کو دوارکا نارتھ تھانے میں پولیس نے نوٹس جاری کردیا اور انہیں پوچھ تاچھ کے لئے تھانے آنے اور جانچ میں شامل ہونے کے لئے کہا۔ گذشتہ جمعہ کو 12 بجے تک پیش ہونا تھا جب وہ نہیں آئے تو پولیس ان کی تلاش میں لگ گئی اور جمعہ کو ہی کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ ادھر سومناتھ بھارتی نے گرفتاری سے بچنے کے لئے ایک مقامی عدالت میں پیشگی ضمانت کی عرضی لگادی۔ یہ عرضی ایڈیشنل سیشن جج سنجے گرگ نے خارج کرتے ہوئے کہا ممبر اسمبلی کے خلاف ان کی بیوی لپیکا مشرا نے یہ دوسری شکایت درج کرائی ہے۔ لپیکا کا الزام ہے کہ مہلا مخالف جرائم سیل کے سامنے یقین دہانی کے باوجود بھارتی نے اپنے برتاؤ میں کوئی سدھار نہیں کیا۔ جج موصوفہ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسا الزام ہے کہ اپیل کنندہ نے اپنے برتاؤ میں اصلاح نہیں کی اور شکایت کنندہ کے تئیں بربریت جاری رکھی۔
حقائق کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اپیل کنندہ پیشگی ضمانت کے حقدار نہیں ہیں۔ اس کے مطابق عرضی کو خارج کیا جاتا ہے۔ اب بھارتی کے وکیل اوپری عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔ لیکن ان کی گرفتاری اب کسی بھی وقت ممکن ہے۔ دہلی سرکار کا سابق وزیر قانون آج کی تاریخ میں بھگوڑہ بن گیا ہے اور قانونی طور سے فرار ہے۔ سومناتھ بھارتی نے اپنی تھو تھو کروائی ہے ساتھ ساتھ عام آدمی پارٹی کی بھی بے عزتی کروا دی ہے۔ آپ پارٹی نے سارے معاملے میں اپنے آپ کو یہ کہتے ہوئے الگ کرلیا ہے کہ یہ کنبہ جاتی معاملہ ہے اور ایسے معاملوں میں ہم کچھ کہنا نہیں چاہئیں گے۔ اچھی مثال پیش کی ہے سومناتھ بھارتی نے۔
(انل نریندر)

15 ستمبر 2015

سنگین لاپروائی کے سبب 3 افراد کی موت: ذمہ دار کون

دیش کی راجدھانی میں اگر ہسپتالوں کا یہ چونکانے والا حال ہے تو اوپر والا ہی بچائے دیش کے غریبوں کو چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات میں بہتر علاج کی سہولت میسر نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے دنوں لاڈو سرائے کے باشندے لکشمن اور ببیتا راوت کے اپنے 7سالہ بیٹے اویناش کو ڈینگو کی وجہ سے مال چند، ساکیت ،میکس ہسپتال سمیت کئی پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھرتی کرانے لے گئے تھے لیکن انہیں یہ کہہ کر واپس کردیا گیا کہ بیڈ خالی نہیں ہے۔اس کے بعد ایم بی روڈ پر واقع ہسپتال میں بچے کو بھرتی کرایا لیکن اس کی طبیعت اتنی بگڑ چکی تھی کہ اویناش نے دم توڑدیا۔ شام قریب 5 بجے لکشمن اور اس کے پڑوسی بچے کی لاش لے کر انتم سنسکار کے لئے چھترپور شمشان گھاٹ پہنچے۔ رات8 بجے لکشمن لوٹے اور سیدھے گھر چلے گئے۔ دیر رات قریب2 بجے لکشمن کے سسر نے پڑوسی گیانندر دیو آشیش کو فون کیا کے دونوں میاں بیوی کمرے میں نہیں ہیں اور بیڈ پر ایک سوسائڈ نوٹ پڑا تھا۔ لوگوں نے ان کی تلاش شروع کی۔ چھت سے انہوں نے دیکھا دونوں خون سے لت پت بلڈنگ کے پیچھے واقعہ ایم سی ڈی کنیا آدرش ودیالیہ کے کمپلیکس میں پڑے ہیں۔دونوں (ماں باپ) نے اپنے ہاتھ ڈوپتے سے آپس میں باندھ رکھے تھے۔ بچے کی موت سے ٹوٹ گئے ماتا پتا نے گھر کی چوتھی منزل سے کود کر خودکشی کرلی۔نہ بچے کی موت ہوتی اور نہ اس سے دکھی ماں باپ خودکشی کرنے پر مجبور ہوتے؟ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان موتوں کے لئے قصوروار کون ہے؟ کیا وہ بڑے ہسپتال ہیں جنہیں اپنی تجوریاں بھرنے کے علاوہ غریب سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ یا پھر ہمارا خراب سسٹم اس کے لئے قصوروار ہے۔ اگر نجی ہسپتالوں کی لوٹ کھسوٹ ایک درمیانے طبقے کے آدمی کسی طرح سے پورا کر بھی دیں پھر بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ مریض کا صحیح علاج ہو۔ پچھلے کئی دنوں سے راجدھانی میں ڈینگو کا قہر جاری ہے۔ہر سرکاری ہسپتال میں بستر پر تین تین مریض پڑے ہوئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ایسی ایمرجنسی صورتحال کے لئے ہمارا سسٹم کیا ہے؟ اصلیت میں ہیلتھ سروس دستیاب کرانا سرکار کی (مرکز اور ریاست) کی ذمہ داری ہے۔ سرکار جب اس میں اپنے آپ کو لاچار مانے تو پھر غریب کہاں جائے؟ ڈینگو کا علاج نجی ہسپتال میں کرانے میں غریب و مزدور طبقہ اور درمیانہ طبقے 50 ہزار سے3 لاکھ روپے تک دینے کیلئے کہاں سے انتظام کر پائیں۔ پھر ان کے پاس راستہ کیا بچتا ہے؟ ہمیں اپنے سرکاری ہسپتالوں کا جہاں نظام درست کرنا ہے وہیں ایسی ایمرجنسی اسکیم تیار رہنی چاہئے۔ رہی بات نجی ہسپتالوں کی تو باربار تلخ حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ وہ کہنے کو تو مفت بیڈ رکھتے ہیں لیکن اصلیت کچھ اور ہی ہے۔لکشمن ۔ببیتا اور بیٹے کی موت سے کیا حالات بدلیں گے؟
(انل نریندر)

9 سال بعد انصاف ملا لیکن وہ بھی ادھورا ہے

آخر کار9 سال پہلے11 جولائی 2006ء کو ممبئی کی 7 لوکل ٹرینوں میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں جمعہ کے روز ممبئی کی عدالت نے اپنافیصلہ سنادیا ہے۔ ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں ایک کے بعد ایک 7سلسلہ وار بم دھماکوں میں 80 سے زائد لوگوں کی جان گئی تھی اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ قصورواروں میں ایک شخص کمال احمد انصاری نے نیپال بارڈر کے راستے پاکستانی دہشت گردوں کو ممبئی تک لانے کاکام کیا۔ اس نے ایک لوکل ٹرین میں بم بھی رکھا جو ماٹنگا ریلوے اسٹیشن پر پھٹا تھا۔ اسپیشل جج ڈی ۔شندے نے دفعہ اور سرکاری وکیلوں کی دلیلیں سننے کے بعد13 میں سے12 افراد کو قصوروار قراردیا۔ عدالت نے ان 12 ملزمان کوآئی پی سی کی دفعہ 302 و مکوکا کے تحت قصوروار پایا۔ اس میں موت کی سزا تجویز ہے اور سرکاری وکیل راجہ ٹھاکرے نے کہا کہ اس معاملے میں ہم بھی سزائے موت کی مانگ کریں گے۔ اس وقت کے اے ٹی ایس چیف کے۔ پی رگھونشی کاکہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف ہم نے جو ثبوت پیش کئے تھے عدالت نے انہیں صحیح مانا۔ ایک ملزم کو بری کرنے کے فیصلے کو ہم دیکھیں گے اور پھر سوچیں گے کے ہم سے غلطی کہاں ہوئی۔
اس فیصلے سے متاثرہ خاندان کو ضرور تھوڑی راحت ملی ہوگی۔ ان دھماکوں میں 188 لوگ مارے گئے تھے اور800 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ زخمی لوگوں کو علاج کے سلسلے میں کئی مہینوں تک ہسپتال میں بھرتی رہنا پڑا تھا اور بھاری تعداد میں لوگ معزور ہوگئے تھے۔ ان دھماکوں سے متاثرہ لوگوں اور ان کے خاندانوں کے نقصان کی بھرپائی تو نہیں ہوسکتی لیکن ممبئی کی اسپیشل مکوکا عدالت کے فیصلے سے قصورواروں کو سزا ملنے سے انہیں سکون ضرور ہوا ہوگا۔ اس حملے کو دیش کے خلاف جنگ کی شکل میں دیکھا گیا جس میں پاکستان میں قائم آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کا ہاتھ تھا۔ اس میں قصوروار لوگوں کو سزا سنانے میں جو دیری ہوئی اس سے دہشت گردی سے نمٹنے کی دیش کے عزم کو لیکر بھی کئی سوال اٹھتے ہیں؟ یہ بار بار کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد حملوں کو انجام دینے والے لوگوں کو سزا سنانے میں حتی الامکان اور ممکن عزم کا ثبوت دیا جانا چاہئے لیکن ایسا نہیں ہو پارہا ہے۔ اس کے چلتے دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں اور ان کے سرپرستوں کو جیسا سندیش جانا چاہئے وہ نہیں جا پارہا ہے۔ 9 سال کی دیری اس لئے زیادہ ہے کیونکہ ابھی معاملہ بالائی عدالتوں میں جائے گا اور تعجب نہیں کہ آخری فیصلہ آنے میں ایک دو سال اور لگ جائیں۔ عام طور پر دیری کئی سطحوں پر ہوتی ہے۔ پہلے تو پولیس کی جیسی جانچ پڑتال ہے اس سے تو سبھی واقف ہیں اس کے بعد ہماری عدالتی کارروائی کہیں زیادہ وقت لیتی ہے اور بچاؤ فریق بھی سماعت ٹالنے ،گواہی وغیرہ میں مقدمے کو لمبا کھینچتے ہیں۔ رہی سہی کثر سپریم کورٹ بھی نکال دیتی ہے۔ اس معاملے میں قریب قریب 2 سال تک عدالتی کارروائی اس لئے ٹھپ رہی کیونکہ سپریم کورٹ نے مقدمے پر روک لگا دی تھی۔ اس معاملے میں قصورواروں کو عنقریب سزا سنائی جاسکتی ہے۔مطلوب دہشت گردوں کے بغیر یہ سزا ادھوری مانی جائے گی۔
(انل نریندر)

13 ستمبر 2015

بڑھتی منشیات مصنوعات سے اسپین برباد ہورہا ہے

منشیاتی مصنوعات اور بڑھتی نشے کی لت سے ہندوستان ہلکان ہوتا جارہا ہے۔ معاملہ چاہے نونہالوں میں بڑھتی نشے کی عادت ہو یا پھر دہشت گردی کو بڑھانے کے لئے منشیاتی مصنوعات کی اسمگلنگ ہو ، دونوں ہی سے دیش کی پریشانی بڑھنا فطری ہی ہے۔ پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ گوا میں بڑی تعداد میں اسکولی بچوں کے نشہ آور چیزوں کے استعمال کی لت کا شکار ہونے کی خبر آئی ہے۔ یہ تشویش کا موضوع ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس سے سماج کو اس بات کی فکر ہے کہ اس حالت میں مستقبل کی کیسی تصویرابھر رہی ہے۔ اگر سماج میں کسی بھی طرح کے نشے چاہے وہ شراب کا ہو یا دوسری منشیات کا کوئی حد یا ہچک نہیں ہے تو اس ماحول کا اثرنازک دل اور دماغ والے بچوں پر پڑنا طے ہے۔ آج گوا میں منشیات کی لش کے شکار لوگوں کی بڑی تعداد میں لڑکے ہیں۔یہاں راجدھانی دہلی میں ریو پارٹیوں میں بڑھتے نشے کی لت کی خبریں اکثر آتی ہیں۔ کروڑوں روپے کی منشیات کے ساتھ اسمگلر پکڑے جاتے ہیں۔ گوا کی ایک غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ آج کی تاریخ میں گوا کے اسکولی بچے بڑی تعداد میں منشیات منصوعات کے عادی بنتے جارہے ہیں۔ تنظیم کے چلانے والوں کا کہنا ہے کہ پہلے اسکول سے پاس ہوجانے کے بعد نوجوانوں میں منشیات کی لت بڑھتی دیکھی جاتی رہی ہے لیکن پچھلے ڈھائی تین سالوں میں علاقے کے بچوں میں بھی منشیات کے استعمال کے تئیں للک بڑھتی جارہی ہے۔ گوا جیسی چھوٹی سی ریاست کی تشویش پورے دیش کے پس منظر میں بہت بڑی ہوجاتی ہے۔ وجہ اسکول کالجوں سے لیکر گاؤں دیہات تک اور مہذب طبقے سے لیکر مزدور طبقے تک دیش کی آبادی کی ایک بہت بڑی شرح فیصد نشیلی ادویا کی لت کی عادی ہے بلکہ دیش کا ایک طاقتور مستقبل منشیات کی مصنوعات کی اسمگلنگ میں ملوث ہوکر مجرمانہ دنیا کا حصہ بن چکا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ نشہ خوری کی لت دیش کے اندر اس قدر اپنا جال پھیلا چکی ہے کہ 10 سال کی عمر میں داخل ہوتے ہوتے تمام بچے نشہ خوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ خاص کر مزدور طبقہ اس جہنم میں اپنا پورا مستقبل خاک میں ملا دینے کے لئے گامزن ہے۔ ادھر دیش کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بین الاقوامی سطح پر نشیلی منصوعات کی اسمگلنگ میں آتنک وادی گروپوں کے ملوث ہونے کی طرف نشاندہی کر عالمی برادری کو خبردار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ چنوتی سنگین ہے اور اس کے نتیجے پیڑھیوں تک دیش کو کھوکھلا کرنے والے ہوسکتے ہیں۔ حالانکہ اس کاروبار کی کوئی جغرافیائی حد طے نہیں ہے لیکن افیم جیسی مصنوعات دیشوں کا پڑوسی ہونے اور دنیا کے کئی خطرنا ک دہشت گرد تنظیموں کے نشانے پر ہونے کے ناطے بھارت کے لئے یہ چنوتی کہیں اور زیادہ سنگین ہے کیونکہ یہ چیلنج اکیلے بھارت کیلئے نہ ہوکر عالمگیر ہے۔ اس کے ازالہ اجتماعی عالمی کوششوں سے ہی ہوگا اور اس کی طرف وزیر داخلہ نے توجہ دلائی ہے۔
(انل نریندر)

مہاجرین کے سیلاب سے یوروپ ہلکان

بحران زدہ شام اور نارتھ افریقہ جیسے دیشوں سے مہاجرین کی اچانک آئی باڑھ سے پوری دنیا خاص کر یوروپی ممالک کیلئے ایک بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ لاکھوں مہاجرین کے ہجوم سے پورا یوروپ ہلکان ہے۔ اس کے کچھ دیش اس مسئلے کے تئیں سخت رخ اپناتے ہوئے ان مہاجرین کوا پنے دیش میں داخل ہونے نہیں دے رہے ہیں۔ وہیں آسٹریا اور جرمنی جیسے دیش کھلے دل سے وقت کے مارے ان مظلوموں کا خیر مقدم کررہے ہیں۔ جرمنی کی اتحادی حکومت ان کی دیکھ ریکھ پر ہونے والے 6 ارب یورو (قریب450 ارب) روپے کا خرچ کرنے پر اتفاق رائے جتا چکے ہے۔ حالانکہ کچھ قوم پرست لوگ سرحد کو یوں کھولنے کے چانسلر انجیلا مارکل کے قدم کو غلط ٹھہرا رہے ہیں۔ 
وہیں کچھ ماہرین اسے جرمنی کی دوراندیشی مانتے ہوئے اس کی ضرورت سے جوڑ رہے ہیں۔ شام کے مہاجرین بحران پر عرب کے خلیجی ملکوں کی خاموشی سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ عرب دنیا میں سعودی عرب، کویت، یردن جیسے ملکوں نے ان مہاجرین کے لئے اپنے دروازے بند کردئے ہیں۔ ادھر ہنگری سمیت یوروپی یونین کے کئی ممبرملکوں کی زبردستی کوٹہ پالیسی کی مخالفت بھی کررہے ہیں۔ یوروپی یونین کے جون میں ہوئی چوٹی کانفرنس میں ایک رائے سے ایک ایسے ہی ریزولیوشن کو نامنظور کردیا گیا تھا اس اسکیم میں محض 40 ہزار مہاجرین کو اٹلی، یونان اور ہنگری سے ہٹا کر دیگر ملکوں میں بھیجنے کی تجویز تھی۔حالانکہ ممبر دیش اپنی مرضی سے 32 ہزار مہاجرین کو پناہ دینے کو تیار تھے۔ ایسی بڑی تعداد سے تین گنا مہاجرین کو ممبر ملکوں نے بانٹنے کے لئے پرستاؤ پاس ہونے پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ کچھ ملکوں نے مہاجرین کو پناہ تو دینا مان لیا ہے لیکن کچھ شرائط پر۔ سائپرس نے500 فیریا مہاجرین کو پناہ دینے پر شرط رکھی ہے کہ یہ صرف عیسائی ہیں۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے کہا ہے کہ شام سمیت تمام جنگ زدہ ملکوں سے آرہے لوگ پناہ کے لئے نہیں آرہے ہیں بلکہ ان کی منشا تارکین وطن کی طرح جرمنی جاکر وہاں کی سہولیات حاصل کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہاجرین محفوظ ہونے کے باوجود سب سے قریب یوروپی ملکوں میں ہی نہیں رک رہے ہیں۔ یوروپ میں بڑی تعداد میں مغربی ایشیا اور افریقہ سے آرہے مہاجرین پر اسپین کے وزیرداخلہ نے وارننگ دی ہے ان کا کہنا ہے کہ شام سے آرہے ان رفیوجیوں کے ذریعے آتنکی تنظیم آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) کے ممبر یوروپ میں گھس پیٹھ نہ کرسکیں اس کے لئے سخت پہرے داری کی ضرورت ہے۔ ادھر یوروپی کمیشن کے چیف جینس کلاڈ جنکٹ ایک پلان پیش کرسکتے ہیں۔ اس پلان میں 1 لاکھ20 ہزار مہاجرین کو یوروپی ممالک میں پناہ دینے کے لئے ضروری کوٹہ سسٹم پیش کیا جاسکتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے ایک وزیر نے شام کے مشرقی مہاجرین کو آئی ایس دہشت گردوں سے لڑنے کے لئے واپس بھیجنے کی صلاح دی ہے۔ وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ صرف خواتین اور بچوں کو ہی پناہ دی جانی چاہئے۔ مردوں کو اپنے دیش کو آزاد کرانے کی غرض سے واپس بھیجنا چاہئے۔
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...