Translater

29 اگست 2020

زنجیروں میں جکڑی ملی عورت!

راجدھانی دہلی میں ایک انسانیت کو شرمسار کردینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک عورت کو نہ صرف بربریت کے طریقے سے مارا پیٹا جاتا تھا اور پچھلے چھ ماہ سے اسے جانوروں کی طرح زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا تھا دہلی مہیلا کمیشن نے منگل کے روز اس عورت کو اس کے گھر سے جکڑی زنجیروں سے آزاد کرایا دہلی مہیلا کمیشن کی چیرمین سواتی مالیوال نے بتایا کہ اس مہیلا کی حالت کے بارے میں ایک مہیلا پنچایت نے گراونڈ والنٹیر کے ذریعہ خبر دی تھی کہ ترلوک پوری کے ایک گھر میں مہیلا کو زنجیر سے باندھ کر رکھا گیا ہے مالیوال کا کہنا ہے کہ مہیلا کمیشن کی ایک ممبر فردوس خان نے اس عورت کے بارے میں بتایا اس کے بعد ایک ٹیم بنائی گئی اور پولیس کو ساتھ لے کر بتائے گئے پتہ پر سواتی مالیوال پہنچی اور فوراََ بندھی عورت کو آزاد کرایا اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرا دیا متاثرہ عورت کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور کارروائی کرنے کے لئے شکایت دی گئی ۔وہیں علاقہ کے جوائنٹ کمشنر نے بتایا کہ مقدمہ درج کر شوہر کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔عورت نے بتایا کہ اسے چھ مہینے سے باندھ کر رکھا گیا اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے کمرے میں پنکھا تک نہیں تھا اور باتھ روم تک نہیں تھا عورت کے جسم پر زخم ہو گئے تھے اس عورت کی 11سال پہلے شادی ہوئی تھی اس کے تین بچے ہیں اس کا شوہر گھر کے پاس ہی آٹا چکی چلاتا ہے پوچھ تاچھ کے بعد پتہ چلا کہ عورت کی دماغی حالت پہلے ٹھیک تھی لیکن اب بگڑ گئی ہے ۔ایسے حیوانوں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے ۔ (انل نریندر)

لوگوں کی توجہ بھٹکانے کے لئے بھارت سے تنازعہ!

چین کی حکمراں کمونسٹ پارٹی نے صدر شی زنگ پنگ کے کٹر مخالف کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے پارٹی کے باغی نیتا زیانگ نے زنگ پنگ پر الزام لگایا تھا کہ وہ چین کے لوگوں کی اقتصادی اور سماجی پریشانیوں سے توجہ بھٹکانے کے لئے بھارت اور چین کے درمیان تنازعہ کو بھڑکایا جا رہا ہے اور پارٹی میں زنگ پنگ کی مخالفت ہو رہی ہے زیانگ نے صدر کے لئے زیادہ سے زیادہ دو معیاد والا قاعدہ بدلنے کے لئے آئین میں ترمیم کے بعد پارٹی میں زنگ پنگ کی نکتہ چینی ہوئی تھی ان کے آڈیو وائرل ہونے کے بعد پارٹی نے اپنے نیتا کے خلاف کارروائی کی ہے ،اور زیانگ پچھلے ڈیڑھ دہائی سے چین کی سینٹرل پارٹی اسکول میں پروفیسر تھیں جہاں پارٹی کے نیتاﺅں کو پارٹی کے احکامات اور اصولوں کی نصیحت دی جاتی ہے ۔جیا نے کہا جن لوگوں کو میں نے پڑھایا سکھایا انہیں ہی باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ۔اب چین کی کمونسٹ پارٹی سیاسی کھچڑی میں بدل گئی ہے ۔امریکہ میں مقیم اس لیڈی نیتا نے کہا کہ زنگ پنگ کے آج بھی اختیارات لا محدود ہیں کوئی ان کی مخالفت نہیں کر سکتا ۔انہوںنے کہا کہ ووہان سے کورونا وبا پورے دیش دنیا میں پھیلا اور مرنے والوں کی تعداد کو لے کر بھی معلومات چھپائی گئی ۔حکمراں پارٹی بد نیتی پر آمادہ ہے اور چین ٹکڑوں میں بنٹا ہوا ہے اور پارٹی کے نتیاﺅں میں ہی تضادات پایا جاتا ہے ۔زیادہ تر نیتا کرپٹ ہیں اس لئے وہ صدر سمیت کسی کے خلاف آواز نہیں اُٹھا سکتے ۔زنگ پنگ کو اپنی نکتہ چینی برداشت نہیں اس سے پہلے بھی زنگ پنگ کے مخالفوں کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا ۔ (انل نریندر)

JEE,NEETپر حکومت اور طلبہ ،اپوزیشن آمنے سامنے!

دیش میں ان دنوں JEE,NEETکے امتحان منعقد کرائے جانے پر تنازع چھڑا ہوا ہے سیاست داں کیا ماہر تعلیم اور دانشور اپنی رائے دے رہے ہیں حکمراں و اپوزیشن میں ان کی اپنی دلیلیں ہیں بہت سے طلبہ اپنی مانگ پر قائم ہیں کہ امتحان کرائے جائیں اور سرکار بھی اپنی زد پر اڑی ہوئی ہے JEE کا ٹیسٹ ہونے میں چند دن بچے ہیں طالب علم امتحان دینے سے انکار نہیں کر رہے لیکن کورونا اور سیلاب کی وجہ سے آمد و رفت کی مشکلا ت کی وجہ سے ستمبر تک امتحان نہیں چاہتے کیونکہ امتحان مرکز تک جانے کے لیے سفر کی سہولت نہیں ہے کئی علاقوں میں سیلاب کا مسئلہ ہے۔ یہ امتحان ابھی کرائے جائیں کیونکہ دو بار ملتوی ہوچکے ہیں JEE,NEETکا امتحان ابھی نہیں کو ٹالنے کے لئے طالب علم سپرم کورٹ چلے گئے ہیں سرکار نے ابھی اپنی رائے نہیں بدلی اور کورٹ نے اپنا فیصلہ سرکار کے حق میں سنایا ہے بہت ممکن ہے نظر ثانی کے لئے معاملہ دو بارہ کورٹ جائے اس کے علاوہ کچھ ریاستوں کے وزیر اعلیٰ نے مرکزی سرکار سے ان امتحا نات کو حالات بہتر ہونے کے بعد کرانے کی صلاح دی ہے جن میں دلی اور اڑیشہ بھی شامل ہے وہیں دوسری طرف تعلیمی دنیا سے وابسطہ سو ماہر تعلیم نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر JEE,NEETامتحان ملتوی کرنے کی مانگ کی ہے آئی آئی ٹی کے ڈائیرکٹر وینو گوپال کے مطابق ستمبر میں امتحان کرانے کے بعد JEEایڈوانس کاامتحان ہوگا اس کے بعد ریزلٹ آنے کے بعد داخلوں کی کاروائی میں دو مہینوں کو وقت لگے گا ایسے میں اس سال کا شیشن نومبر سے پہلے کسی بھی صورت میں شروع نہیں ہو سکتا ۔ ایسے میں تعلیمی شیشن خراب نہیں ہوگا اور جن طلبہ کی تیاری پوری ہے وہ امتحان میں بیٹھ سکتے ہیں ان کا سال بھی برباد نہیںہوگا لیکن تاریخ ستمبر سے آگے بڑھتی ہے تو پورے سمیشٹر بدل جائے گا ۔اگر سرکا ر کی کوشش ہے کی اس سال نومبر میں شیشن شروع کرنے کے بعد چھٹیاں کم کر کے 2021اگست تک 2سمسٹر پورے کر لئے جائیں تاکہ اگلے سال ہونے والی JEE,NEETامتحان وقت پر کرائے جا سکیں کیا فیصلہ ہوتا ہے ۔ (انل نریندر)

28 اگست 2020

رنجن گوگوئی ہو سکتے ہیں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار؟

کانگریس کے سینئرلیڈر ترون گوگوئی نے دعویٰ کیا ہے آیودھیا زمین تنازعہ سمیت مختلف اہم معاملوں میں فیصلے دینے والے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی اگلے سال آسام میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ میں بھاجپا کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے امید وار ہو سکتے ہیں ۔حالانکہ تین بار وزیر اعلیٰ رہ چکے ترون گوگوئی کے دعووں کی بھاجپا نے تردید کی ہے ۔اور کہا کہ ان کو رجیہ سبھا میں نامزد کیا ہے ۔میں نے کئی ذرائع سے سنا ہے کہ رنجن گوگوئی وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے دعویداروں کی لسٹ میں ہیں ۔کانگریس نیتا نے دعویٰ کیا سابق وزیر اعلیٰ گوگوئی کے لڑکے رنجن گوگوئی آسانی سے انسانی حقوق کمیشن و دیگر کمیشن کے چئرمین ہو سکتے ہیں ۔بھاجپا ایودھیا زمین تنازعہ کے نپٹارے سے رنجن گوگوئی سے خوش تھی ۔اگر وہ بھاجپا کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار کے لئے راضی ہو جاتے ہیں تو یہ تعجب خیز نہیں ہوگا ۔حالانکہ پردیش صدر رندیپ کمار داس نے کہا لوگ جب بزرگ ہو جاتے ہیں تو کئی بے مطلب کی چیزیں بولتے ہیں ۔ترون گوگوئی نے سابق چیف جسٹس بھاجپا کے مکھیہ منتری امید وار بننے کے بارے میں جو کچھ کہا وہ سچ نہیں ہے ترو ن گوگوئی نے کہا کہ وہ کانگریس کے وزیر اعلیٰ عہدے کے امیدوار نہیں بننے جارہے ہیں ۔ (انل نریندر)

سڑک پر صحافی کی لاش رکھ کر مظاہرہ !

اتر پردیش کے جنگل راج میں ایک اور صحافی غنڈوں کے ہاتھوں شہید ہوگیا ۔بلیا میں پیر کی دیر شام ایک چینل کے صحافی رتن سنگھ کو گولی مار کر ہلاک کر دیاگیا ۔پولیس نے بدمعاشوں کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ بھاگ نکلے ۔ایس پی دیوندر ناتھ سمیت کئی اعلیٰ افسر تحقیقات میں مصروف ہیں اب تک چھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے صحافی کے رشتہ دار کو دس لاکھ روپئے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے ۔اعظم گڑھ کے ڈی آئی جی چند ردوبے نے بتایا کہ معاملے میں دس لوگوں کو ملزم بنایاگیا ہے ۔باقی لوگوں کی تلاش جاری ہے واضح ہو صحافی رتن سنگھ گاو¿ں میں کسی کے یہاں مل کر پیدل گھر واپس جارہے تھے تبھی کچھ لوگوں نے ان پر فائر کر دیا ۔جان بچانے کے لئے گاو¿ں کے پردھان کے گھر میں گھس گئے لیکن حملہ آوروں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا اور ان پر تین گولیاں ماری۔ جس سے رتن سنگھ کی موقع پر ہی موت ہو گئی ان کے قتل کے ناراض دیہاتیوں اور صحافیوں نے منگل کو لاش سڑک پر رکھ کر مظاہر ہ کیا اورتین گھنٹے تک جام کر دیا ۔اس دوران انتظامیہ نے پانچ لاکھ کی فوری امداد اور متوفی کی بیوی کو فوری نوکری دینے کا اعلان کیا تھا ۔تھانہ انچارج کو معطل کر دیا گیا ہے تمام نیتاو¿ں نے پریوار کو پچا س لاکھ روپئے کا معاوضہ اور بیوی کو سرکار ی نوکری اور ملزمان پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ لگانے کے ساتھ ان کے گھر کو زمین دوز کیا جائے اور معاملہ فاسٹریٹ عدالت میں چلے ۔ہم سورگیہ رتن سنگھ کو اپنی شردھانجلی پیش کرتے ہیں ۔امید کرتے ہیں سورگیہ کی آتما کو شانتی ملے گی ۔ (انل نریندر)

پلوامہ حملہ :این آئی اے نے داخل کی چارشیٹ !

پلوامہ میں 14فروری 2019کو سی آر پی ایف قافلے پر ہوئے خود کش حملے کے ماسٹر مائنڈ جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر اور اس کا بھائی رو¿ف اظہر تھے حملے میں 200کلو دھماکو سامان کا استعمال کیا گیا تھا اس میں 35کلو آرڈی ایکس تھا جو پاکستان سے لایا گیاتھا ۔این آئی اے کی چارشیٹ میں پڑوسی دیش کی سازش کا انکشاف کیا گیا ہے ۔ایجنسی نے منگل کے روز جموں کی اسپیشل عدالت نے حملے کے ڈیڑ ھ سال بعد ساڑے تیرہ ہزار صفحات کا چارشیٹ سماعت کے لئے قبول کر لیا ۔سولہ مہینے کی جانچ کے بعد مسعوواظہر سمیت 19آتنکی ملزم بنائے گئے ہیں ۔14فروری 2019کو آتنکی حملے میں سی آر پی ایف کے چالیس جوان شہید ہوئے تھے مقدمہ کی سماعت پہلی ستمبر سے شروع ہوگی ۔این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ پلوامہ حملے کے فوراً بعد جیش محمد ایک اور آتنکی حملے کی تیاری میں تھا لیکن بالا کوٹ ائیر اسٹرائک کو دیکھتے ہوئے اس نے حملہ روک دیا ۔چارشیٹ کے مطابق اب مسعود اظہر نے عمر فاروق کو پیغام بھیج کر حملہ نہ کرنے کو کہا تھا اس کے ڈیڑ ھ مہینے بعد فاروز مڈبھیڑ میں مارا گیا ۔پلوامہ حملہ جیش محمد کی ایک سوچی سمجھی بڑی سازش کا نتیجہ تھا جس کا تانا بانا حملے سے دو سال پہلے ہی بناجا رہاتھا ۔اس کے لئے باقاعدہ دہشت گردوں کو ٹریننگ لینے کے لئے افغانستا ن بھیجا گیا ۔طالبان آتنکی کیمپ میں دھماکہ کرنے کی ٹریننگ دی گئی ۔شاکر ،بشیر وغیرہ نے دہشت گردوں کی مد د کی تھی شاکر نے اپنے گھر میں ان دہشت گردوں کو پناہ دی تھی اور مدثر احمد خاں کے آتنکی نے شاکر کو بارودی چھڑیں بچھانے کو دیں ۔جنوری 2019میں سجاد احمد منڈو نے ایکو کار خریدی اسے شاکر ،بشیر کے گھر رکھا گیا ۔بارود کے دو بیگ بنائے گئے ایک افسر نے بتایا تھا جانچ ایجنسی کے سامنے سب سے بڑی چنوتی کار کا مالکانہ حق ثابت کرنا تھا ۔دھماکہ کے بعد گاڑی کے پرکچھے اڑ گئے تھے اور سیرئیل نمبر کے آخری دو نمبر بھی ٹوٹ گئے ۔حلہ آور عادل کی پہچان بھی ڈی این اے پروفائلنگ کے ذریعے ہوئے جیش کے ترجمان محمد حسن نے ایک ویڈیو میں حملے کی ذمہ داری لی تھی اس کا آر پی ایڈرس پاکستان میں پتہ لگا ۔پلوامہ کے حملہ آوروں کی کس کس نے مدد کی تھی اگر پلوامہ حملے میں مسعود اظہر پر لگے الزامات صحیح ثابت کئے جا سکیں تو پاکستان پر نئے سرے سے دباو¿ بنانے میں کامیابی ملے گی مناسب رہے گا دہشت گردانہ واقعات سے جڑے معاملوں کی سماعت ایک طے میعاد کے اندر ہو جس کے لئے صرف قومی جانچ ایجنسی کے ساتھ ساتھ ان عدالتوں کو بھی تیزی دکھانی ہوگی جن پر ایسے معاملوں کی سماعت کی ذمہ داری ہے دیکھیں عدالت میں این آئی اے کتنا کچھ ثابت کر سکتی ہے ۔ (انل نریندر)

27 اگست 2020

جب سب کچھ کھل چکا ہے تومندروں پر پابندی کیوں؟

لاک ڈاﺅن جب تقریباََ ختم ہو گیا ہے تو سپریم کورٹ کا خیال ہے کہ عبادت گاہوں کو لےکر بھی چوکسی کے ساتھ فیصلہ لینا چاہیے ۔جین دھرم کی طرف سے ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے نہ صرف انہیں تہوار منانے کی اجازت دی جائے بلکہ عدالت نے مہاراشٹر سرکار کی پابندی پر بھی سوال کھڑا کر دیا ہے ۔مالی مفادات سے وابسطہ ساری سرگرمیوں کی مہاراشٹر میں اجازت ہے جہاں بات پیسے کی آتی ہے تو خطرہ مول لینے کو تیار ہے جب دھامک استھلوں کی بات آتی ہے تو کہتے ہیں کہ کورونا ہے ۔ایسا نہیں کیا جا سکتا ،یہ رائے زنی چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کی بنچ نے پارتلک کھیانبر مورتی جین ٹرسٹ کی عرضی پر سماعت کے دوران کی بتا دیں کہ ممبئی میں مال اور دوکانیں کھل چکی ہیں عدالت نے ممبئی کے تین مندروں کو کھولنے کے لئے احتیاطی قد م کے ساتھ دیگر تہوار منانے اجازت دے دی ہے عدالت نے ساتھ کہا کہ ان کا یہ حکم صرف تین مندروں کے بارے میں ہے اسے دیگر مندروں پر لاگو نہ مانا جائے ،گنیش چترتھی اور دیگر تہواروں کے بارے میں ریاستی سرکار ہر معاملے کے مطابق فیصلہ لے گی عرضی گزار ٹرسٹ کی طرف سے پیش ہوئے وکیل دشنیت دوے نے تہوا رپر پانچ پانچ کے گروپ کو ایک دن میں کل پچاس لوگوں کو مندر میں جانے کی اجازت مانگی تھی اور کہا تھا کہ مندر جانے کے لئے سارے قواعد احتیاطی قدم سختی سے تعمیل کرائے جائیں گے دوسری جانب مہاراشٹر سرکار کی طرف سے پیش ہوئے وکیل ابھیشک منو سنگھوی نے اس کی مخالفت کی اور دلیل دی کہ ریاست میں کورونا کے حالا ت خراب ہیں اگر ایک کو اجازت دی گئی تو سبھی مانگ کریں گے ٹرسٹ نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چنوتی دی تھی ہائی کورٹ نے کورونا کے چلتے دھامک مندر وغیر ہ بند رکھنے کے ریاستی سرکار کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ہماری رائے میں جب مال اور دوکان سب کھل چکا ہے تو شرطوں کے ساتھ مندر بھی کھول دینا چاہیے ۔ (انل نریندر)

کانگریسی نیتاﺅں کو پارٹی سے زیادہ اپنے مستقبل کی فکر

کانگریس کی ورکنگ کمیٹی سے صاف ہو گیا ہے کہ پارٹی اوپر سے جتنی بھی کمزور نظر آرہی ہے وہ اس سے بھی زیادہ بری حالت میں پہنچ گئی ہے دراصل پارٹی کو جلد بڑی سرجری کی ضرورت ہے کانگریس کا نیا صدر کون ہوگا یہ وقت طے کرئے گا لیکن پارٹی کے اندر مستقل صدر کی مانگ کو لے کر تقریبا دو گروپ بن گئے ہیں پارٹی کے سینئر لیڈر اور نوجوان لیڈر آمنے سامنے آگئے ہیں ایک بڑا طبقہ سینئر لیڈروں کی اس تشویش کو کہ کانگریس لیڈر شپ پر دباﺅ اور اپنے مستقبل کی فکر کے طور پر دیکھ رہا ہے تاکہ تنظیم میں اس کا دبدبہ بنا رہے ۔پارٹی کے نگراں صدر سونیا گاندھی کو لکھے گئے خط پر دستخط کرنے والے زیادہ تر نیتاﺅں کے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے ساتھ زیادہ اچھے تعلقات نہیں رہے ہیں کیونکہ راہل نے پارٹی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد نوجوان لیڈ ر شپ پر زیادہ بھروسہ جتایا ہے ۔راجستھان میں سیاسی بحران میں غلام نبی آزاد اور مکل واسنک کی جگہ اجے ماکن اوررندیپ سورجیوالا پر اعتماد جتایا پارٹی کے نتیاﺅں کے خط کو راہل گاندھی کے خلاف عدم اعتماد کے طورپر بھی دیکھا جا رہا ہے پارٹی نے پچھلے ایک ماہ میں کئی مرتبہ باقاعدہ طور پر دہرایا ہے کہ پوری پارٹی راہل گاندھی کو پارٹی صدر کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے ۔یہ خط پارٹی میں اتحاد پر سوال کھڑے کرتا ہے دراصل خط پر دستخط کرنے والے نیتاﺅں کو پارٹی مفاد سے زیادہ اپنے مستقبل کی فکر ہے ۔اس لئے کانگریس کو چھ مہینے اور مل گئے یہ طے کرنے کے لئے کہ پارٹی کا نیا صدر کون ہو سکتا ہے؟اگر یہ امید کی جا رہی ہو کہ اس کے بعد کانگریس کو کوئی ایسا راستہ مل جائے گا جس کے ذریعہ وہ 2024میں مرکز میں اقتدار تک پہنچ پائے گی تو ایسی امید رکھنا بے معنی ہوگا ۔کانگریس بحران کے دور سے گزر رہی ہے اس کے لئے اس کے اندرونی اسباب جتنے ذمہ دار ہیں اس سے زیادہ باہری وجوہات بھی ذمہ دار مانی جا سکتی ہیں ۔سال 2014کے بعد بی جے پی سیاست میں جو تبدیلی آئی ہے اور نریندر مودی اتنے اونچے قد کے ساتھ اپنے آپ کو مضبوط بنا پائے ہیں اس کے بعد تمام اپوزیشن بونی لگنے لگی ہے بہت سے لوگوں کا خیال ہو سکتا ہے کہ یہ ایک نظریہ ہے لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ مقابلہ کرشمائی لیڈر شپ سے ہو تو پھر ہار پر بہت تعجب نہیں ہوتا کانگریس کے اندر جو کچھ نیتاﺅں کی ناراضگی ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پارٹی مسلسل چناﺅ ہار رہی ہے لیکن اس کی وجہ تلاش نہیں کی جا سکی جو دیوار پر لکھی عبارت جیسی دکھائی دے رہی ہے سوال اُٹھتا رہا ہے ہے کہ کیا کانگریس کو گاندھی خاندان سے الگ رکھ کر نہیں دیکھنا چاہیے ،؟بے شک دیکھئے لیکن اس پریوار سے ہٹ کر جو لوگ ہیں بھی ان کی قومی سطح پر کوئی قبولیت نہیں ہے ۔کانگریس کی سپریم کمیٹی سی ڈبلیو سی میں زیادہ تر لوگ وہ ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور راجیہ سبھا کی سیاست کرتے ہیں دوسرے ریاست کے لیڈر شپ میں قبو ل نہیں کرئے گی یہ صرف راہل گاندھی ہی ہیں جو صرف مودی کے خلاف لڑ رہے ہیں شاید اگر ان کی من کی ساری ٹیم بنے تو شاید پارٹی میں مضبوطی آجائے لیکن اس کے لئے سرجری کی ضرورت ہے ۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی ،ورکنگ کمیٹی کو بھنگ کی جائے اور نئی ٹیم بنائی جائے ۔ (انل نریندر)

26 اگست 2020

پوسٹل سروس کمزور کرنے کی ٹرمپ کی چال فیل!

امریکہ میں صدارتی چناﺅ میں اب صرف تقریباََ ستر دن سے کم وقت بچا ہے ۔کورونا انفیکشن کے چلتے جہاں ڈاک سے ووٹنگ کرانے کی تیاری چل رہی ہے وہیں ہار کے ڈر سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پوسٹل ووٹنگ کو روکنے کی چال اب پوری طرح فیل ہوتی نظر آرہی ہے ان پر الزام لگ رہے ہیں کہ وہ پوسٹل سروس کو کمزور کر رہے ہیں تاکہ ان کے مخالف ان کے خلاف ووٹ نہ ڈال پائیں ٹرمپ پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اگرڈاک کے ذریعہ ووٹ بھیجے گئے تو فرضی ووٹ پڑ سکتے ہیں ۔دراصل ٹرمپ کے ذریعہ مقرر پوسٹل سروس کے پوسٹ ماسٹر جنرل لیوران ڈی جوائے نے وہ سب تبدیلیاں منسوخ کر دی ہیں جو ٹرمپ نافذ کرنے والے تھے ۔انہوںنے دیش بھر میں خاص طور پر سوینگ #میں ڈاک خانوں نے پروسیسنگ آلات اور جگہ جگہ لگے نیلے رنگ کے پوسٹل کلیکشن باکس ہٹانے کا حکم دیا تھا یہ بھی کہا تھا کہ سبھی میل پروسیسنگ سیوا بند کی جائے گی اور ملازمین کے اوور ٹائم پر بھی پابندی لگے گی اپوزیشن کا الزام ہے کہ امریکہ ڈاک سیوا میں پابندی لگا دیتا ہے تو ٹرمپ کے خلاف پڑنے والے ووٹ کم ہو جاتے ہیں ۔جو پڑتے وہ کاﺅنٹنگ کے وقت بر وقت نہیں پہنچ پاتے اس تنازعہ کے چلتے ہی 17اگست کو یو ایس کانگریس کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے کانگریس کے ممبران کی چھٹیاں منسوخ کر انہیں واپس آنے کا حکم دے دیا تھا تاکہ ایک بل پر ووٹنگ ہو سکے جس سے ڈی جوائے کے ذریعہ کی جارہی ڈاک سیوا میں تبدیلی کو روکا جا سکے کورونا انفیکشن کی وجہ سے مانا جا رہا ہے کہ پچاس فیصد ووٹنگ ڈاک کے ذریعہ کی جائے گی اور ووٹ کو ڈاک کے ذریعہ وقت پر پہنچانے کی امریکی ڈاک سیوا کے علاوہ کسی اور کو نہیں دی جاسکتی اس معاملے میں جوائے باینڈن کو فائدہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ڈیموکریٹس یہ پروپگنڈہ کر رہے ہیں کہ ٹرمپ ہار کے ڈر سے غریب لوگوں کو ووٹ دینے سے روکنا چاہتے ہیں ۔امریکہ میں پوسٹل ووٹنگ روکنے کی صدر کی کوششوں کو اس وقت اور جھٹکا جب پارلیمنٹ کے نچلے ایوان نمائندگان نے ڈاک سروس میں ترمیم کا بل پاس کر دیا ۔بل میں سہولت ہے کہ سرکار چناﺅ سے پہلے ڈاک محکمے کو 187305کروڑ روپئے دے دی اس سے پوسٹل ووٹنگ پوری طرح کامیاب کرنے کے لئے کام کیا جائے گا ۔ (انل نریندر)

پرشانت بھوشن نے معافی مانگنے سے کیا انکار

سپریم کورٹ نے توہین عدالت معاملے میں قصوروار ٹھہرائے گئے جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن کو 24اگست تک مشروط معافی مانگنے کو کہا تھا اس کے بعد انہوںنے سپریم کورٹ میں جواب داخل کرکے کہا کہ میں ٹوئٹ کے لئے معافی نہیں مانگوں گا اگر معافی نامہ دوں گا تو میرے خود کے ضمیر کی توہین ہوگی دو صفحات کے بیان میں پرشانت نے کہا کہ میرے بیان کو پازیٹو نکتہ چینی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے عدالت نے اس میں دئے گئے حقائق کا محاسبہ نہیں کیا میرا ٹوئٹ میری سوچ کی علامت ہے ۔اور میں اپنے ٹوئٹ پر اٹل رہوں گا کورٹ کے 20اگست کے حکم کو دیکھ کر مجھے زبردست مایوسی ہوئی سماعت میں مجھ سے کہا گیا کہ دو تین دن میں اپنے بیان پر غور کریں اور پھر آرڈر میں بغیر شرط معافی مانگنے کو کہا گیا ۔پرشانت بھوشن کی طرف سے پیش ہوئے وکیل راجیو دھون نے کہا کہ ان کا بیان حقائق پر مبنی ہے ۔موجودہ تنازعہ میں کئی ریٹائرڈ جسٹس نے بھی ایسے ہی بیان دئے ہیں ۔عدالت سے درخواست ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے بھوشن کو سزا نہ دی جائے بتا دیں کہ عدالت 14اگست کو بھوشن کو توہین عدالت معاملے میں قصوروار قرار دے چکی ہے ۔جسٹس ارون مشرا نے سماعت کے دوران کہا کہ اس زمین پر ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو غلطی نہیں کر سکتا ہے ۔آپ بھلے ہی اچھے کام کر سکتے ہیں لیکن وہ آپ کو دس جرم کرنے کی اجازت نہیں دیتے جو ہوا سو ہوا لیکن ہم لوگ چاہتے ہیں شخص خاص (پرشانت بھوشن)کو اس کا کچھ پچھتاوا تو ہو بہتر ہے آپ نظر ثانی کریں اور یہاں صرف قانونی دماغ کا استعمال نہ کریں ۔پچھلی سماعت میں جمعرات کو بحث کے دوران ایک موقع ایسا بھی آیا جب سبھی لوگ چونک گئے آٹارنی جنرل مودی سرکار کے سب سے بڑے وکیل وینو گوپال نے سپریم کورٹ سے پرشانت بھوشن کو سزا نہ دینے کی اپیل کی انہوںنے کہا کہ ان کے پاس سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی فہرست ہے جو کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے جمہوریت کو فیل کر دیا ہے ۔وینو گوپال نے آگے کہا کہ ان کے پاس سابق ججوں کے بیان کے کچھ حصے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ اوپری عدالت میں بہت کرپشن ہے لیکن جسٹس مشرا نے انہیں روکتے ہوئے کہا کہ عدالت میرٹ پر سماعت نہیں کر رہی ہے پرشانت بھوشن کا بیان اور ان کا لہجہ اسے اور بھی خراب بنا دیتا ہے ۔سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ عدالت ان کی اپیل اس وقت تک نہی مان سکتی جب تک پرشانت بھوشن اپنے ٹوئٹ کے لئے معافی نہ مانگے کے اپنے پہلے موقوف پر دوبارہ غور نہیں کرتے پرشانت بھوشن کی اس عرضی کو خارج کر دیا گیا تھا ۔جس میں انہوںنے سزا پر سماعت ٹالنے کی اپیل کی تھی سپریم کورٹ میں پرشانت بھوشن کی جانب سے کھڑے وکیل دشینت دوبے نے سزا پر سماعت کے دوران بحث پر شروعات کی اس پر جسٹس ارون مشرا نے دوبے سے کہا کہ کورٹ انہیں بھروسہ دلاتی ہے کہ جب تک وہ نظر ثانی اپیل داخل نہیں کرتے تب تک کوئی سزا نہیں ہوگی ۔ (انل نریندر)

25 اگست 2020

روس میں اپوزیشن لیڈر کو زہر دیا گیا

روس کے اپوزیشن لیڈر الیکسی نوو لنی کو چائے مین زہر ملا کر دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔روس کے صدر ولادیمر پوتن کے کٹر مخالف الیکسی اس وقت نزع میں ہیں ۔اور وینٹی لیٹر پر رکھاگیا ہے انہیں جرمنی علاج کے لئے بھیجا گیا ۔اپوزیشن لیڈر نو لنی کے ترجمان نے ٹوئیٹ کر بتایا کہ نو ولنی کسی کام سے سائبریا گئے ہوئے تھے اور بدھ کے روز ماسکو لوٹتے ہوئے راستے میں طبیعت خراب ہو گئی جس کے جہاز کی ایمرجنیس لینڈنگ کرنی پڑی جہاز سے پتہ چلا ہے کہ انہیں خطرناک زہر دیا گیا ہے ۔ترجمان کے مطابق جہاز میں سوار ہونے سے پہلے الیکسی نے ائیر پورٹ کے کیفے میں چائے پی تھی اسی میں زہر ملا کر دیاگیا ۔ترجمان کیٹا نے بتایاکہ زہر چائے میں گھل گیا اطلاع ملتے ہی پولیس اسپتال پہونچی ادھر علاج کررہے ڈاکٹروں نے متزاد بیا ن دیا ہے کہ ان کی طبیعت ابھی ٹھیک ہے لیکن خطرہ برقرار ہے اور بچانے کی کوشش جاری ہے ۔جہاں تک زہر دینے کی بات ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔پیشہ سے وکی ولنی نے کئی بار پوتن مخالف ریلیاں کی تھیں اور انہیں کے چلتے کئی برس جیل میں کاٹنے پڑے کرملن کے روس کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ سے سرکار کے دشمنوں کو ٹھکانے لگانے کی تاریخ رہی ہے 2006میں الیگزینڈر لٹون کو زہریلی چائے دی گئی تھی جس سے ان کی لندن میں موت ہو گئی تھی بہرحال 4جون 1976کو پیدا 44سالہ الیکسی اپوزیشن لیڈر ہیں ۔اور کرپشن کے خلاف لڑنے والے ورکر کی شکل میں جانے جاتے ہیں انہیں روسی اور بین الاقوامی میڈیا میں کرپشن کے خلاف جارحانہ لیڈر کی شکل میں جانا جاتا ہے انہوں نے اصلاحات کی وکالت اور سیاسی کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے روسی صدر پوتن اور ان کی سرکار اور سیاسی ساتھیوں کے خلاف مظاہر ہ کیاتھا ان کے ترجمان ٹیٹا کا کہنا ہے کہ اس زہر خورانی کا تعلق اس سال ہوئے چناو¿ سے ہے اور وہ پوتن کے کٹر مخالف ہیں ۔ان کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے ۔ان کے ٹھیک ہونے پر ہی پتہ چل سکے گا کہ ان کو زہر دینے پیچھے کس کی سازش ہو سکتی ہے ۔ (انل نریندر)

دونوں بم تیار تھے بس ٹائمر سے جوڑنا تھا

دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے سینٹر دہلی کے رج روڈ علاقہ میں دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کے ایک مشتبہ دہشت گرد کو مڈبھیڑ کے بعد گرفتار کرکے دہلی کو ایک بڑے حادثہ سے بچا لیا دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے ڈپٹی کمشنر پرمود کشواہا کے مطابق دھولا کنواں اور کرول باغ کے درمیان واقع رج روڈ پر اس وقت مڈبھیڑ ہوئی جب یہ آتنکی موٹر سائیکل سے جارہا تھا محمد مستقیم خان عرف ابو یوسف آتنکی حملے کے لئے پندرہ اگست کے آس پاس دھماکہ کرنے والاتھا ۔لیکن سخت سکیورٹی کے سبب اس کے بارے میں پتہ لگ گیا ۔کچھواہا نے بتایا آئی ای ڈی لگانے کے بعد وہ نئی ہدایت کا انتظار کرتا اور اس کے بعد وہ فدائی حملے کے فراق میں تھا لیکن اسے یہ نہیں بتایا گیا کہ کب اور کہاں حملہ کرنا ہے اس وجہ سے یہ دہشت گرد حملے کو ٹال گیا انہوں نے اخبار نویشوں کو بتایا کہ مستقیم خان پر پچھلے برس سے ہی نظر رکھی جارہی تھی ۔مشتبہ آتنکی نے اپنا بم پوری طرح تیار کیا ہوا تھا بس اس میں ٹائمر جوڑنا باقی تھا ۔جانچ سے وابسطہ افسر کے مطابق ملزم نے بم میں دو تاروں کے اس جوائنٹ کو چھوڑ رکھا تھا جہاں اسے دھماکہ کرنے کے لئے ٹائمر فٹ کرنا تھا اور وہ ان بموں کو لیکر بیگ میں نکلاتھا اور اس کے پاس ہائی کوالٹی کی پستو ل بھی تھی تاکہ پکڑے جانے کی پوزیشن میں گولی چلا سکے ۔دہلی دہلانے کی فرا ق میں آئے آئی ایس آئی ایس کے دہشت گر د محمد مستقیم خان عرف یوسف سے پوچھ تاچھ میں پتہ چلا ہے کہ وہ پہلے بھی تین مرتبہ دہلی آچکا ہے ۔اوروہ بھیڑ بھاڑ والے بڑے بازاروں کی ٹوہ لے چکا ہے دہلی میں اس کوپناہ دینے اور کھانا پینا مہیہ کرانے والوں کی پہچان کی جارہی ہے اسپیشل سیل مشبہ دہشت گرد کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک سال پہلے ہی خفیہ یانیٹوں نے جانکاری مہیہ کرائی تھی تبھی سے پولیس کی ٹیم کی اس پر نظر تھی اور اطلاع ملتے ہی دھولا کنواں کے بدھ جینتی پارک علاقے میں گھیرابندی کی ۔جیسے ہی اس کی موٹر سائیکل کو روکا گیا تو اس نے پولیس پر گولی چلانی شروع کر دی ۔پولیس نے جوابی فائرنگ کی اور یہ آتنکی کو دوبوچ لیاگیا دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے دہلی میں ایک بڑا حادثہ ہوتے ہوتے بچا لیا جس کے لئے اس کی تعریف ہونی چاہیے ۔ (انل نریندر)

لاک ڈاو ¿ن میں دیش کے دو کروڑ تنخواہ دارسڑک پر

رزو بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا ماننا ہے کہ کووڈ 19-بحران کے اثر کے چلتے ہندوستانی معیشت میں بے یقینی کی ماحول ہے اور خوردہ مہنگائی میں تیزی جاری ہے ۔اکنامی کے بارے میں کمیٹی کا خیال ہے کہ برا وقت گزر گیا ہے جلد ہی خوردہ مہنگائی شرح میں گراوٹ آسکتی ہے ۔اور معیشت میں بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے ہمیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ رزرو بینک یہ کیسے مان سکتا ہے کہ برا وقت گزر گیا ہے اور ہندوستانی معیشت جلد بہتر ہو جائے گی ۔بے روزگاری انتہا پر ہے کورونا نے ہزاروں جانیں لیں لاکھوں کو متاثر کیا کروڑوں لوگوں کی روزی روٹی چلی گئی سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانمی کے ایک تازہ مطالعے کے مطابق لاک ڈاو¿ن میں دس کروڑ دیہاڑی مزدور ریڑھی پٹری والے آٹو ڈرائیور جیسے غریب لوگ بے روزگار ہوئے اور تنخواہ پانے والے بھی دو کروڑ لو گ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔سی ایم آئی ای نے بتایا کہ اپریل میں 17.7کروڑ تنخواہ دینے والی نوکریاں چلی گئیں ۔اس کے بعد مئی میں ایک لاکھ نوکریاں گئیں ۔سی ایم آئی آئی کے چیف ایگزیکیٹو مہیش یاس نے بتایا کہ تنخواہ دار نوکریاں آسانی سے نہیں جاتی لیکن انہیں دوبارہ پانا زیادہ مشکل ہوتا ہے اور اس لئے ان کی بڑھتی تعداد تشویش کا باعث ہے ۔2019-20میں اپنے اوسط کے مقابلے انیس کروڑ نوکریاں کم ہوئی تھیں جو پچھلے مالی سال کے مقابلے بائیس فیصدی کم تھیں ۔اس دوران 68لاکھ دیہاڑی مزدوروں کی نوکری چلی گئیں ۔دوسرے جب نوکریوں سے محروم لوگ اپنے دھندے سے جڑے لاکھوں پرواسی مزدور اپنے گاو¿ں میں ہی روزگار ڈھونڈنے لگے لیکن سیلاب نے رہی سہی کسر پوری کر دی ۔جون میں جو غیر ریاستی مزدور شہر لوٹ کر کام شروع کرنا چاہتے تھے ان میں مایوسی ہے ۔کیونکہ کورونا کے ڈر سے لوگ باہر نہیں نکل رہے ہیں اور ناہی کسی کو آنے دینا چاہتے ہیں ۔لہذا آٹو مالک اپنے آٹو اور ٹیکسیاں بیچ کر قسط چکا رہے ہیں ۔ریڑھی والوں کے گاہک ندارد ہیں ۔یہ بات الگ ہے کھیتی پر مزدوروں کا بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت پہلے سے ہی کم تھی اور اب ان کا اب وہاں رکنا غریبی میں آٹا گیلا ہونے جیسا ہے یعنی شہر میں کام نہیں گاو¿ں میں گزر بسر نہیں ہو سکتا لہذا ٹریجڈی بڑھنے کے آثا رہیں کیونکہ یہ بحران سپلائی میں کمی سے نہیں بلکہ زیادہ پیدا وار کی کھپت کو لیکر ہے لہذا سرکار ہر قیمت پر لوگوں کے ہاتھ میں پیسہ دے تاکہ وہ خریداری کر سکیں ۔ایم ایس ایم ای سیکٹر میں کام چلے روزگار پھر ملے اور معیشت کی گاڑھی پٹری پر آجائے ۔ (انل نریندر)

23 اگست 2020

اب چین کے سامنے جھولی پھیلانے گیا پاکستان!

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان رشتوں میں آئی تلخی کو دور کرنے کی کوشش میں سعودی عرب پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوا کو خاصی خفت کے بعد اسلام آباد لوٹنا پڑا ۔لیکن انہیں سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان سے ملنے سے ہی منع کر دیا اور انہیں وقت نہیں دیا گیا ۔باجوا آئی ایس آئی کے ڈائرکٹر لیفی نینٹ فیض حمید کے ساتھ پیر کو ریاض گئے تھے انہوںنے شہزادہ سے ملنے کی کافی کوشش کی تھی پاکستان میں فوج کے سب سے طاقتور درجہ پانے والے باجوا سیاسی قیادت کی طرف سے بگاڑی گئی بات کو بنانے کے لئے سعودی عرب گئے تھے سعودی عرب سے کرکری ہونے کے بعد پاکستان اب چین سے مدد کی درخواست کرنے جا رہا ہے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بدھوار کو چین پاکستان کے وزرائے خارجہ کی حکمت عملی مذاکرات کے دوسرے سیشن میں شرکت کے لئے چین کے دو روزہ دورے پر گئے ہوئے ہیں۔قریشی نے اپنے دورے سے پہلے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ چین کے اہم ترین دورے پر جا رہے ہیں اور دورے سے پہلے ان کی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے انگریزی اخبار کے ڈان کے مطابق قریشی نے کہا کہ چین سے مجھے امید ہے کہ یہ ملاقات دونوں ملکوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی خیا ل رہے کہ کچھ دنوں سے پاکستان کی سیاست میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اس وجہ سے وزیر خارجہ محمود قریشی نے او آئی سی اور سعودی عرب کے خلاف بیان دیے تھے ۔اس لئے اب سعودی عرب نے پاکستان سے مدد کے ہاتھ کھینچ لیئے ہیں ۔وہیں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے جنرل باجوا کے دورے ریاض کو کامیاب قرار دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات ابھی بھی اچھے ہیں اور ہم ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں ۔جبکہ سعودی شہزادے نے باجوا کو ملاقات کے لئے وقت ہی نہیں دیا تھا ہوا یوں کی کشمیر معاملے پر دنیا کی حمایت حاصل کرنے کے جوش میں وزیر اعظم عمران خان پہلے ترکی کے صدر طیب اردوغان کے قریب پہنچ گئے اور وہاں انہوںنے اردگان کے حوصلے کو بڑھاوا دیا عمران نے ایران سے بھی دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور ملایشیاءکے اس وقت کے وزیر اعظم ماسر محمد کے خاص بن گئے ترکی ،ملایشیاءایران نے ایک وقت کشمیر پر تو پہلے پاکستان کا ساتھ دیا اور ترکی بین الا اقوامی اسٹیج پر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا لیکن اس سب سے بیچ عمران یہ بھول گئے کہ یہ تینوں ہی دیش سعودی عرب کے مخالف ہیں اب پاکستانی فوج کے چیف کی بے عزتی کے بعد قریشی چین کی شرن میں پہنچے ہیں ۔ (انل نریندر)

دہلی میں ستر فیصد لوگوں پر انفیکشن کا خطرہ!

ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ قومی راجدھانی دہلی میں 29.1فیصد لوگوں میں کورونا وائرس انفیکشن کے خلاف ایٹی باڈیزڈیبلپ ہو گئے ہیں اس کا مطلب یہ نکالا جا سکتا ہے کہ ابھی ستر فیصدی دہلی کی آبادی پر کورونا کا خطرہ برقرار ہے ۔دہلی سرکار کے وزیر صحت ستیندر جین نے یہ جانکاری دی کہ سیرولوجیکل سروے کا اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جہاں ہرڈایمونٹی ڈیبلپ ہوئی ہے اور راجدھانی میں 101.5دنوں میں کورونا کے مریض دوگنے ہو رہے ہیں ۔ایسے ہی پورے دیش میں 28.8دنوں میں کورونا کے مریض دوگنے ہو رہے ہیں ۔حالانکہ دہلی میں موت کی شرح میں کافی کمی آئی ہے ۔اگست کے مہینے میں یہ 1.4فیصد ہے جبکہ دیش میں یہ 1.92فیصد ہے ۔جی ڈی ایم اے کی میٹنگ میں دہلی سرکار کے وزیر صحت نے کورونا کے سلسلے میں اعداد و شمار جاری کئے ان کے مطابق دہلی میں کووڈ کیس کی رفتار دوگنی ہونے کی خبر ہے ۔دیش کی دیگر ریاستوں کے بدلے دہلی میں کافی زیادہ ہے ۔حالانکہ 70فیصدی دہلی کے شہریوں پر کورونا انفیکشن کا خطرہ بنا ہوا ہے ۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عورتیں زیادہ انفیکشن سے متاثر ہوئی ہیں ۔جبکہ ٹھیک ہونے والے مردوں کی تعداد ان سے قریب چار فیصدی کم ہے ۔یعنی انفکیشن ہونے کے ساتھ کورونا کو مات دینے کے معاملے میں عورتیں مردوں سے آگے ہیں ۔پہلے سریولوجیکل سروے میں راجدھانی میں 22فیصدی لوگوں میں ایٹی باڈیز ملی تھی مخالف مانتے ہیں کہ ابھی دہلی میں ہرڈ ایمونٹی پھیلنا دور ہے ۔ایسے میں موجودہ حالات میں انفکیشن کو کنٹرول رکھنے پر زور دئے جانے کی ضرورت ہے۔اس میں موجودہ حکمت عملی کافی حد تک کارگر ثابت ہوئی ہے ۔جس میں یومیہ چار ہزار سے زیادہ معاملوں کو اب ایک ہزار کے آس پاس محدود کر دیا گیا ہے یہی نہیں کرونا سے ہونے والے اموات کی تعداد بھی کم کرنے میں مدد ملی ہے لیکن اس کے لئے اب جارحانہ طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے کورونا کا خطرہ ابھی برقرار ہے ۔دہلی میں ان لاک کا سلسلہ جاری ہے اس سے بھی انفیکشن بڑھنے کا خطرہ ہے اب سرکار کو مزید چوکس ہونا پڑے گا ۔ان کی کوشش ہونی چاہیے کہ دہلی میں کورونا انفیکشن کو جلد سے جلد کم از کم سطح پر لایا جا سکے ۔ (انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...