11 جنوری 2014

روم جل رہا ہے اور نیرو بنسی بجا رہے ہیں!

وہ ایک مشہور انگریزی کہاوت ہے کہ ’’روم جل رہا ہے اور نیرو بنسی بجا رہے ہیں‘‘ یہ کہاوت اترپردیش کی سماجوادی سرکار پر بالکل کھری اترتی ہے۔ اترپردیش میں لوگ ٹھنڈ سے مررہے ہیں اور سرکار جشن منا رہی ہے۔ مظفرنگر کے دنگا متاثرین کی بدحالی اور ٹھنڈ سے موت کے درمیان وزرا سمیت 17 ممبری ٹیم یوروپی ممالک کے دورے پر نکل پڑی ہے۔اسٹڈی ٹور میں کانگریس اور بسپا کا کوئی ممبر اسمبلی شامل نہیں ہے۔ بھاجپا اور راشٹریہ لوکدل کے ایک ممبر اسمبلی شامل ہیں۔شہری ترقی وزیر اعظم خاں کی رہنمائی میں وزرا اور ممبران اسمبلی کا وفد بدھوار کو صبح سویرے دہلی سے روانہ ہوکر استنبول (ترکی) پہنچ گیا ہے۔ یہ ٹیم نیدرلینڈ، برطانیہ، قاہرہ اور متحدہ عرب امارات بھی جائے گی۔ 18 دن کے ٹور پر گئی ٹیم میں شامل منتری اور ممبر اسمبلی ان دیشوں کی پارلیمانی روایت کی جانکاری حاصل کریں گے اور وہاں مختلف ہندوستانی برادریوں کے لوگوں سے ملیں گے۔ یہ ٹور ایسے وقت ہورہا ہے جب مظفر نگر میں فساد متاثرین کے کیمپوں پر بلڈوزر چل رہے ہیں، فساد متاثرین ادھر ادھر مارے پھر رہے ہیں اور ٹھنڈ سے35 بچوں کی جان جاچکی ہے۔ ریاست میں سرد لہرجاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن ملکوں کے اسٹڈی ٹور پر اعظم میاں نکلے ہیں ان میں سے ایک دو کو چھوڑ کر باقی سب ملک ٹھنڈ کی زد میں ہیں۔ ہمیں تو یہ سمجھ میں نہیں آیا کے وہ کونسا پارلیمانی نظام اور روایت کا مطالعہ کرنے نکلے ہیں۔ ایسے وقت 8 وزرا کا دیش سے باہر چلے جانا نا مناسب ہے اور سرکار کی یہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہی کہا جائے گا۔ یہ وقت کیا غیر ملکی دورے کا ہے لیکن ہم وزرا اور ممبران اسمبلی کو کیا کہیں جب ریاست کے وزیر اعلی اور پارٹی کے چیف خود رنگ رلیاں منا رہے ہیں۔ ریاست میں تراہی تراہی ہے اور سرکار جشن منارہی ہے۔وزیر اعلی اکھلیش یادو کے گاؤں سیفئی میں سالانہ مہتسو ہو رہا ہے۔ یہاں پر زبردست فلم اسٹار نائٹ ہوئی ہے۔ سلمان خاں، مادھوری دیکشت ،سوہا علی خان، رنبیر سنگھ، ساجد واجد، عالیہ بھٹ سمیت درجنوں بالی ووڈ اسٹار سیفئی میں اپنے فن کا جوہر دکھا رہے ہیں۔ اتسو پر بالی ووڈ اداکاروں کو سیفئی پہنچانے کے لئے چارٹرڈ جہازوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان اداکار خاص طور پر سلمان خاں،مادھوری دیکشت کو کروڑوں روپے دئے گئے یہ پروگرام پیش کرنے کے لئے۔ اس کے علاوہ اسٹیج کو بہترین سجاسنوار کر لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا۔ اس عالیشان اختتامی فیسٹول پر تقریباً30 کروڑ روپے خرچ ہوا ہوگا۔ سیفئی ہوائی پٹی کا نظارہ بین الاقوامی ایئرپورٹ جیسا تھا۔ دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے بعد ایک کے بعد ایک 16ہوائی جہاز یہاں اترے ۔ اکھلیش سرکار اور سپا چیف ملائم سنگھ یادو کی ترجیحات پر انتہائی دکھ ہوتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ مظفر نگر میں لوگ بچے ٹھنڈ سے مررہے ہیں اور ریاست کے نمبردو کے وزیر اعظم خاں یوروپی ٹور پر نکل پڑے ہیں۔ کیا بنیادی جوابدہی کے لئے واقعی کسی مطالعے کی ضرورت ہے؟ وہ بھی ایسے وقت۔ اترپردیش کی بدقسمتی یہ ہے کہ صوبے میں جب ایک طبقہ بنیادی چیزوں کے لئے مشقت کررہا ہے سیفئی مہتسو کے خلاف ہرطرف مظاہرے ہورہے ہیں اور منتری نمائندہ وفد یوروپ میں رنگ رلیاں منا رہا ہو؟ ٹھیک ہی کہا نہ صاحب کہ’ روم جل رہا ہے اور نیرو بنسی بجا رہے ہیں‘۔
(انل نریندر)

دیویانی معاملے میں دونوں ملکوں کی ساکھ داؤ پر لگی ہے!

امریکہ میں ہندوستانی سفارتکار دیویانی کھوبڑاگڑے تنازعہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ امریکہ میں ایک فیڈرل جج نے ابتدائی سماعت کے لئے 13 جنوری کا وقت طے کئے جانے کے بعد ہندوستانی ڈپلومیٹ دیویانی کی درخواست کو منظور کرلیا ہے۔فلاں تاریخ تک مقدمہ دائر کیا جانا چاہئے۔ نیویارک کی ساؤتھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جج سارا نیڈ برن نے ابتدائی سماعت کی تھی۔سزا کی میعاد کو 13 جنوری تک بڑھائے جانے پر دیویانی کے وکیل ڈینیل اراک نے کہا کہ ہم اپنے متبادلوں پر غور کررہے ہیں۔ بھارت نے امریکہ کے ذریعے دیویانی کے حق میں تمام دلیلوں کو مسترد کردیا ہے۔ مجبوراً بھارت نے جوابی کارروائی شروع کردی ہے۔تازہ قدم اٹھاتے ہوئے حکومت ہند نے امریکی سفارتخانے سے کہہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کی کمیونٹی سپورٹ ایسوسی ایشن ایس ایس اے کے زیر اہتمام چلائی جارہی تمام کاروباری سرگرمیوں کو روک دے۔ اس میں ریسٹوراں ،بار، ویڈیو کلب، سوئمنگ پول، اسپورٹس فیلڈ، بیوٹی پارلر اور جم شامل ہیں۔ دیگر ہدایت کے علاوہ امریکہ سے اس کے ذریعے کمرشل سرگرمیوں کے لئے ہندوستانی حکام کو دئے گئے ٹیکس ریزرو بھی دینے کو کہا گیا ہے۔ بھارت میں غیر سفارتکارو ں کو اس طرح کی کمرشل سرگرمیوں کی سہولت کو ڈپلومیٹک رشتوں پر1961ء کے ویانا معاہدے کی دفعہ 41:3 کی خلاف ورزی بتایا جاتا ہے۔ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ سرکار نے امریکہ سے کہا ہے کہ تین مہینے کے بعد سے وہ صرف اپنے سفارتی ملازمین کے لئے شناخت سے جڑے پروڈکٹس اور سگریٹ جیسے سامان سیدھے حاصل کرسکیں گے۔ اس سے پہل وہ دہلی میں واقع غیر ملکی مشنوں کے سفارتی ملازمین کے حصے کا سامان بھی حاصل کرتے تھے اور اس کے لئے یہ دلیل دی جاتی تھی کہ چار ہندوستانی ایس سی ایس اے کے ممبر ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا اس سے پہلے اے سی ایس اے قریب40 مشنوں کی طرف سے پورا فری ساما ن حاصل کرتا تھا۔ سمجھا جاتا ہے کہ امریکی سفارتکاروں کی گاڑیوں کو اب ٹریفک سے وابستہ ہر ایک کرائم کے لئے سزا دی جائے گی۔ دیویانی معاملہ دونوں ملکوں کے بیچ ایک کشیدہ اشو بن گیا ہے۔ امریکہ اگر معاملے کو سلجھانے چاہتا ہے تو اس کے پاس اب تین متبادل ہیں۔ پہلا متبادل ہے سال2012 دسمبر کو جعلی ویزا اور غلط جانکاری دینے کے الزام میں گرفتار دیویانی کو اقوام متحدہ میں ان کے شناختی کارڈ کو تسلیم کرکے ان کے خلاف عدالت کے محکمہ قانونی انصاف کے ذریعے مجرمانہ الزامات کے تحت مقدمہ دائر کئے جانے سے پہلے انہیں جوڈیشیل چھوٹ دی جائے۔ دوسرا متبادل ہے کے39 سالہ کھوبڑاگڑے کا اقوام متحدہ میں تبادلہ اور پھر ان پر مجرمانہ الزامات لگائے جانے کے بعد ان کو ایک ڈپلومیٹ کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ حالانکہ ہندوستانی ڈپلومیٹ دیویانی اور بھارت دونوں کے لئے کچھ تناؤ تو ضرور پیدا ہوگیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کھوبڑا گڑے کو اقوام متحدہ میں ٹرانسفر کرنے سے متعلق کاغذات20 دسمبر کو ملے تھے۔اتنے دن گزرجانے کے بعد بھی وزارت خارجہ کاغذات کا جائزہ لے رہا ہے اور اس معاملے کو زیادہ ہی لمبا کھینچ رہا ہے۔موجودہ حالات میں امریکہ کے لئے سب سے بہتر پہلا متبادل ہے ۔دراصل امریکہ نے اس معاملے کو اپنے وقار کا سوال بنا لیا ہے اور وہ دنیا کے سامنے جھکنا نہیں چاہتا۔ ادھر بھارت سرکار نے ٹھان لی ہے کہ لڑائی آر پار کی ہے۔ اگر دونوں ملکوں کے رشتوں میں دراڑ پڑتی ہے تو اس کے لئے امریکہ ہی ذمہ دار ہوگا۔
(انل نریندر)

10 جنوری 2014

لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کے ساتھ گاندھی خاندان کا مستقبل بھی داؤ پر!

17 جنوری کو نئی دہلی میں ایک روزہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا اجلاس ہونے جارہا ہے۔ یہ اجلاس لوک سبھا چناؤ سے پہلے ہورہا ہے اس لئے اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ کوشش یہ کی جارہی ہے اس اجلاس سے پہلے پارٹی اور حکومت میں وسیع تبدیلی کی خانہ پوری کرلی جائے۔ موصولہ اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ راہل گاندھی کو پی ایم امیدوار بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اے آئی سی سی کا ایجنڈا طے کرنے کے لئے منگلوار کو راہل گاندھی کی غیر موجودگی میں ان کے ہی گھر پر پرینکا گاندھی واڈرا نے کانگریس تنظیم سے وابستہ سرکردہ لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس میں احمد پٹیل، جناردن دویدی، جے رام رمیش، مدھو سودن مستری، موہن گوپال اور اجے ماکن جیسے سرکردہ لیڈر شامل ہوئے۔ یہ لیڈر کانگریس تنظیم اور سونیا گاندھی کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ لگتا یہ ہے کہ میڈم سونیا اپنی صحت کی وجہ سے اب زیادہ سرگرم رول نہیں نبھا پارہی ہیں۔ راہل گاندھی کو کانگریس کی باگ ڈور پوری طرح سونپنا چاہتی ہیں۔ لوک سبھا2014ء کے چناؤ کانگریس کے لئے اہمیت کے حامل ہیں لیکن ساتھ ساتھ نہرو گاندھی خاندان کا سیاسی مستقبل بھی طے ہوجائے گا۔ اگر 2014 ء میں کانگریس اتحاد سرکار نہیں بنا پاتا تو یقینی طور سے یہ نہرو۔ گاندھی خاندان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا سکتا ہے اسلئے داؤ نہ صرف پارٹی کا ہی مستقبل ہے بلکہ سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا کا مستقبل بھی طے کرے گا۔ عام آدمی پارٹی کے سیاسی پس منظر میں آنے سے کانگریس میں کھلبلی مچنا فطری ہے۔ بیشک کانگریس کی دہلی میں کیجریوال سرکار کو بنا شرط حمایت دینے سے ملی بھگت ثابت ہوجاتی ہے لیکن کانگریس کی تاریخ سے سبق لینا چاہئے۔ ایسے ہی جرنیل سنگھ بھنڈراں والا کو پہلے تو کانگریس نے اکالیوں کو نیچا دکھانے کے لئے کھڑا کیا۔ بعد میں وہی بھنڈراں والا کانگریس پر کتنا بھاری پڑا یہ سبھی کو معلوم ہے۔اسی وجہ سے ابھی سرکردہ لوگوں کے بھروسے مند مرکزی وزیر جے رام رمیش نے بیشک تبصرہ کردیا ہو لیکن رمیش کو کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کاابھرنا سیاسی پارٹیوں کے لئے ایک وارننگ ہے۔ انہوں نے لوگوں کی آواز نہیں سنی تو جلد ہی وہ تاریخ کا حصہ بن جائیں گی۔ رمیش نے کہا عام آدمی پارٹی نے سیاسی توقعات کو پھر سے قائم کیا ہے۔ اس نے سیاسی نظریہ ہی بدل ڈالا ہے۔اب تک یہ ٹرینڈ سیاست تک ہی محدود تھا لیکن اگر کانگریس بی جے پی اور علاقائی پارٹیوں نے لوگوں کی آواز نہیں سنی تو وہ جلد ہی تاریخ کے اوراق میں سما جائیں گی۔ دراصل کانگریس میں لائق لیڈروں کی کمی نہیں لیکن انہیں آگے بڑھنے کا موقعہ نہیں دیا جاتا۔راہل گاندھی پر آپ 500 کروڑ روپے ان کی ساکھ چمکانے میں بیشک لگادیں ۔17 جنوری کو ان کے نام پر مہر لگوا لیں لیکن اس سے کانگریس کی حالت بدلنے والی نہیں ہے۔ اس وقت کانگریس کے اندر کئی لابیاں کام کررہی ہیں ان میں سے 10 جن پتھ کی سونیا گاندھی کی لابی حاوی ہے۔ راہل گاندھی کی اپنی لابی ہے، منموہن سنگھ کی اپنی لابی ہے۔ سبھی لابیوں میں زیادہ تر غیر سیاسی افسر شاہی نظریئے کے لوگ ہیں جو جنتا سے بری طرح کٹے ہوئے ہیں۔ انہیں جنتا کا دکھ درد سمجھ نہیں آتا۔ان میں جنتا کے تئیں ہمدردی ہے جو ورکر جنتا سے جڑے ہیں وہ لیڈر شپ میں پالیسیاں بنانے میں ندارد ہیں۔ کانگریس اگر جنتا سے کٹ رہی ہے تو وہ منموہن سنگھ سرکار کی عوام مخالف اقتصادی پالیسیاں ہیں اور جب خود وزیر اعظم یہ کہیں کے مہنگائی اور گھوٹالوں پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں تو جنتا کانگریس سے کیا امید کرسکتی ہے؟ ان حالات میں کانگریس لیڈر شپ چاہے راہل گاندھی کو یا پرینکا کو ہمیں نہیں لگتا کے کانگریس کی حالت میں کوئی بہتری ہوگی۔ باقی تصویر17جنوری کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس کے بعد ہی صاف ہوجائے گی۔ کانگریس میں دو بڑی تبدیلیاں ہونے کی امید ہے۔ دیکھیں یہ تبدیلیاں کیا کیا ہوتی ہیں لیکن کانگریس میں بڑے غور و خوض کے بعدتبدیلیاں کرنی ہوں گی کیونکہ2014 لوک سبھا چناؤ میں صرف کانگریس پارٹی کا مستقبل ہی نہیں طے ہوگا بلکہ خود نہرو۔ گاندھی پریوار کا سیاسی مستقبل بھی داؤ پر ہوگا۔
(انل نریندر)

بجلی کمپنیوں کو وارننگ: آڈٹ کراؤ ورنہ لائسنس منسوخ!

دہلی کی نئی عام آدمی پارٹی سرکار کے اہم نشانے پر راجدھانی میں بجلی سپلائی کررہی کمپنیاں ہیں۔یہ اب صاف ہوچکا ہے دہلی سرکار نے ان کمپنیوں کو وارننگ دی ہے اگر وہ آڈیٹر جنرل کے ساتھ تعاون نہیں کرتیں تو ان کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ اسمبلی میں اپنے خطاب میں دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے کہا بجلی کمپنیوں کے بڑے کھاتوں کی جانچ ان کی مالی حالت کا پتہ لگانے کے لئے کی جارہی ہے اور انہیں یقینی طور سے تعاون دینا چاہئے۔ راجدھانی میں بجلی کے دام بجلی ریگولیٹری اتھارٹی طے کرتا ہے لیکن یہ بار بار ثابت ہوا ہے کہ پچھلی کانگریس سرکار کے لوگ ان کو بڑھاوا دیتے دیکھے گئے۔ کہا جاتا ہے بجلی میں کافی بہتری آئی ہے۔اب دہلی میں ویسے بجلی نہیں جاتی جیسے پہلے جایا کرتی تھی۔ یہ بھی ایک دلیل دی جاتی ہے کہ دہلی میں بجلی کے دام دوسرے شہروں اور پڑوسی ریاستوں سے سستے ہیں۔ انہی کے چلتے پچھلی سرکار کی نیت پر سوال اٹھے اور اروند کیجریوال سرکار نے آتے ہی 400 یونٹ بجلی ہر مہینے خرچ کرنے والوں کو سبسڈی دے کر بجلی کی قیمت آدھی کردی اور بجلی تقسیم کمپنیوں کے کھاتوں کی جانچ سی اے جی سے کروانے کا فیصلہ کیا۔ اب نئی سرکار کی ساکھ بجلی کے اشو پر داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ خبر ہے سی اے جی کی جانچ کی دستک آج کل میں بجلی کمپنیوں میں باقاعدہ پہنچنے والی ہے۔ سی اے جی نے تقریباً اپنی خانہ پوری پوری کرلی ہے۔ تینوں بجلی کمپنیوں سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب ریکارڈ اور ذمہ دار افسروں کی جانکاری وغیرہ کے بارے میں ایک سلٹ تیار کی گئی ہے۔ ہر بجلی کمپنی کے کھاتوں اور ریکارڈ کی جانچ کے لئے دو ٹیمیں لگائی جاسکتی ہیں۔ بجلی جنریشن، سپلائی کی باریکی سے جانکاری رکھنے والے افسروں اور کرمچاریوں کی ٹیم چھان بین کے لئے تیار ہے۔ بجلی تقسیم کے دہلی سرکار کے فیصلے سے پہلے جو سرکاری کرمچاری اس محکمے میں تھے وہ جانچ کرنے میں سی اے جی کی مددکرسکتے ہیں۔ بجلی کمپنیوں کو راحت دلانے کے لئے عدالتوں کی طرف نظر کو دہلی ہائی کورٹ نے جھٹکا دے دیا ہے۔ حالانکہ یہ کمپنیاں سبھی متبادلوں پر غور کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ بجلی کے نجی کرن کا فیصلہ 2002 ء میں لاگو ہوا تھا۔ جانچ پوری ہونے میں کتنا وقت لگے گا یہ ابھی صاف نہیں ہے۔ سی ایم کیجریوال نے تین مہینے کے لئے دہلی کے شہریوں کو 400 یونٹ تک سب سڈی دینے کا اعلان کیا ہے اس کامطلب ہے آڈٹ تین مہینے میں پورا ہونے کا امید ہے۔ لیکن جتنا بڑا کام ہے اس سے لگتا نہیں کے تین مہینے میں یہ کام پورا ہوجائے گا۔ واقف کاروں کے مطابق پہلے 11 سال کے ریکارڈ کا آڈٹ اور پھر اس کی رپورٹ آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ اس لئے کوئی تعجب نہیں ہوگا اگر کیجریوال کو ایک بار پھر سبسڈی کا اعلان کرنا پڑے ۔ اپریل میں لوک سبھا چناؤ کی ہلچل شروع ہوجائے گی اس لئے ضابطہ لاگو ہونے سے پہلے اروند کیجریوال کو یہ اعلان کرنا پڑسکتا ہے۔ کل ملا کر بیشک دیش میں صنعتی لابی خلاف ہو لیکن اگر جنتا کو کوئی راحت ملتی ہے تو ہمیں ایسے قدم کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

09 جنوری 2014

کانگریس اور آپ پارٹی میں ملی بھگت سامنے آئی!

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق پردھان نتن گڈکری نے کچھ دن پہلے دہلی بی جے پی کے ایک پروگرام میں سنسنی خیز انکشاف کیا تھا کہ اروند کیجریوال کی ’آپ‘ پارٹی اور کانگریس کے درمیان کوئی سودے بازی ہوئی ہے اور یہ سودے بازی ایک بڑے تاجر نے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں کروائی۔ اس میٹنگ میں دونوں پارٹیوں کے سرکردہ لیڈر موجود تھے۔ اس ملاقات کا مقصد تھا نریندر مودی اور بی جے پی کو کسی طرح بھی لوک سبھا چناؤ میں سرکار بنانے سے روکنا ہے۔ شری گڈکری نے یہ بھی کہا ان کے پاس اس ملاقات کے ثبوت ہیں جو وقت آنے پر جنتا کے سامنے رکھے جائیں گے۔ ایک انٹرویو میں گڈکری سے جب یہ پوچھا گیا کہ آپ نے کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے درمیان سودے بازی کا بیان دیا لیکن اس کا خلاصہ نہیں کیا۔ اگر سودے بازی کی بات صحیح ہے تو اس کا انکشاف کیوں نہیں کرتے؟ گڈکری زمینی حقیقت دیکھئے کے کانگریس کے تعاون سے دہلی میں عام آدمی پارٹی نے سرکار بنالی۔ کانگریس کوئی چیراٹیبل ادارہ نہیں ہے جو بغیر کسی مفاد کے حمایت دے۔ دونوں پارٹیوں کی سانٹھ گانٹھ سے پتہ چلتا ہے۔ جہاں تک نام کے انکشاف کی بات ہے ایسا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ میرے بیان کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر سودے بازی میں شامل لوگوں کے نام اور ملاقات کی جگہ کا پتہ چل چکا ہے۔ میں خود اس لئے نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ مجھے بھدی سیاست نہیں کرنی۔ اب آپ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ دیش کے 15-20 راجیوں میں اپنے امیدوار اتارے گی ساتھ ہی ہریانہ کی سبھی سیٹوں پر چناؤ لڑے گی۔ آپ کے نشانے پر خاص کو لوک سبھا کی شہری اور نیم شہری تقریباً200 سیٹیں ہیں۔ ظاہر ہے اس سے سب سے زیادہ درد سر بھاجپا کا بڑھنے والا ہے جسے شہری ووٹروں کی پہلی پسند مانا جاتا ہے ایسے میں بھاجپا یقینی طور پر آپ کو کمتر سمجھنے کی غلطی نہیں دوہرائے گی جو اس نے دہلی میں کی تھی اور اقتدار کی پہنچ سے معمولی نمبروں سے پیچھے رہ گئی۔ عام آدمی پارٹی کے ذریعے لوک سبھا چناؤ لڑنے کے اعلان کے بعد کسی نے تلخ رائے زنی کی کے چھ دن مکھیہ منتری رہنے والے کے لئے پردھان منتری کا خواب دیکھنے پر کوئی روک نہیں ہے۔ سبھی کو خواب دیکھنے کا حق ہے۔ اروند کیجریوال نے پردھان منتری امیدوار بننے کے اشارے بھی دئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی جو آدیش دے گے وہ ہی تسلیم ہوگا کل کو ایسی نوبت آئے تو آپ پارٹی مرکز میں سرکار بنا سکتی ہے۔ کیجریوال اپنا ڈرامہ شروع کردیں گے اور ایس ایم ایس ،نکڑ سبھاؤں سے ریفرنڈم کراکر فیصلہ کرالیں گے کیجریوال تم ہی پی ایم بنو۔کیجریوال کہہ دیں گے میں آپ کی توقعات کو تسلیم کرتا ہوں۔آپ پارٹی کو ایک طبقے کی حمایت ملنے کی امید ہے وہ ہیں مسلمان۔ دیش کی بڑی مسلم جماعت اسلامی ہند نے سنیچر کو عام آدمی پارٹی کے ابھارکو بدلتے ہوئے سیاسی منظر کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اروند کیجریوال کی پارٹی کے سامنے آنے کے بعد مسلمانوں کے بیچ یہ ایک احساس پیدا ہوا ہے کانگریس اور دوسری سیکولر پارٹیوں کو حمایت دینے کے بارے میں پھر سے غور کیا جائے۔ انہوں نے آپ کو ایک نیا متبادل قراردیا ہے۔ جماعت کے جنرل سکریٹری نصرت علی نے اخبار نویسوں کو بتایا کے دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار بنانا قومی سیاسی بدلتے پس منظر کا اشارہ ہے۔ مسلم اور مہذب سماج ایک کمزور طبقے میں اس نئے جذبے کو تقویت ملی ہے۔ صحیح معنوں میں آپ ایک نئے متبادل کی شکل میں ابھر کر سامنے آئی ہے۔ مسلم فرقے میں اب یہ احساس زور پکڑنے لگا ہے کہ اس کو نظر انداز کرنے والی کانگریس اور دوسری سیکولر پارٹیوں کو لیکر پھر سے غور کیا جائے اور نئے متبادل کے بارے میں سوچا جائے۔ اروند کیجریوال اپنی سادگی کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے۔ ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ دیش میں اور بھی کئی وزیر اعلی ہیں جو سادگی میں یقین رکھتے ہیں۔ تریپورہ کے وزیر اعلی منک سرکار ،گوا کے مکھیہ منتری منوہر پاریکر، پنڈوچیری کے وزیر اعلی این رنگا سوامی، مغربی بنگال کی ممتا بنرجی جیسے کئی وزرااعلی ہیں جن کے پاس نہ تو عالیشان بنگلہ ہے ، نہ گاڑیاں ہیں اور نہ ہی نوکروں کی لمبی چوڑی فوج ہے۔ گھر کا راشن پانی، پھل سبزی سے لیکر کپڑے دھونے تک کا کام خود کرتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں یہ وزیر اعلی میڈیا میں اپنی سادگی کا گنگان نہیں کرتے۔ منک سرکار کا کل اثاثہ 2.5 لاکھ روپے ہے اور دیش کے واکیلے وزیر اعلی ہیں جن کے نام پر نہ تو کوئی مکان ہے اور نہ ہی کوئی گاڑی۔ وزیر اعلی کے طور پر ملنے والی تنخواہ بھتہ اپنی پارٹی کو چلانے کے لئے عطیہ میں دیتے ہیں۔ گوا کے منوہر پاریکر کی کل پراپرٹی 7.4 کروڑ روپے مانی جاتی ہے۔ حکومت کی طرف سے ملے گھر میں دفتر چلاتے ہیں۔ خاندان نجی مکان میں رہتے ہیں۔ سرکاری خرچ کم کرنے کے لئے نہ تو پولیس کی حفاظت لی اور نہ ہی لال بتی۔ پنڈوچیری کے وزیر اعلی رنگا سوامی کی کل پراپرٹی 0.5 کروڑ روپے ہے۔ وہ صبح میں گھومنے جاتے ہیں اور دوست کی دوکان پر چائے پیتے اور اسی کے ساتھ گھر لوٹ کر جنتا کے مسائل سننے کیلئے موٹر سائیکل سے پونڈوچیری کی گلیوں میں نکل پڑتے ہیں۔ ممتا کی کل پراپرٹی 4.72 کروڑ روپے ہے۔ دو کمروں کے معمولی گھر میں رہنے والی ممتا کے پاس نوکروں کی لمبی فوج نہیں ہے۔ ذاتی سینٹرو کار میں گھومتی ہیں۔اس لئے اروند کیجریوال اگر سادگی کی بات کریں تو یہ کوئی پہلے وزیر اعلی نہیں ہوں گے۔بھاجپا نے نریندر مودی کو روکنے کیلئے کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے درمیان میچ فکسنگ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مرکز میں حکمراں پارٹی اس کیلئے ’آپ‘ کو اپنی ’بی‘ ٹیم کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ کانگریس کے حکمت عملی سازوں نے یہ سوچا تھا کہ آنے والے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس حالت پتلی ہے۔ اگر وہ 100 کے نمبر تک سمٹ جاتی ہے تو اتحادی سرکار بنانے کے لئے اسے باہری مدد لینی ہوگی۔ ایسے میں اگر آپ پارٹی 50-60 سیٹیں لے آتی ہے تو اس کے ساتھ مل کر مودی کے رتھ کو روکا جاسکتا ہے۔ بھاجپا کو جادوئی نمبر272 سیٹوں تک پہنچنے سے روکنے کے لئے کانگریس ۔ آپ پارٹی میں یہ سودے بازی ہوئی ہے لیکن ’آپ‘ کا قومی پس منظر میں مستقبل بہت حد تک اس بات پر منحصر کرے گا کہ وہ دہلی میں کیسی سرکار دے پاتی ہے ۔ اگر وہ جنتا کے وعدے پورے کرتی ہے تو یقینی طور سے اگلے چناؤ میں وہ سبھی پارٹیوں کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔
(انل نریندر)

08 جنوری 2014

آدرش گھوٹالے میں کیا راہل طاقتور کانگریسی لیڈروں سے لوہا لینے کو تیار ہیں؟

آدرش سوسائٹی گھوٹالے کی جانچ رپورٹ مہاراشٹر سرکار نے مسترد کردی ہے تو کسی کو تعجب نہیں ہوا کیونکہ یہ ہونا ہی تھا۔ کانگریسی حکومت ایسی جانچ رپورٹ بھلا کیسے قبول کرتی جس سے مرکزی وزیر داخلہ سمیت ریاست کے چارچار وزرا اعلی شامل ہوں۔ اگر قبول کرلیتی تو اسے کارروائی نہ کرنی پڑجاتی؟ اس لے سب سے آسان متبادل تھا کے اس رپورٹ کو ہی مسترد کرردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے۔ ہوا بھی یہی لیکن مہاراشٹر سرکار کا سارا حساب کتاب اس وقت گڑ بڑ ہوگیا جب کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے اچانک یہ کہہ دیا کہ اس جانچ رپورٹ پر پھر سے غور ہونا چاہئے۔ ان کے اس بیباک تبصرے سے مہاراشٹر سرکار کو مجبوراً کچھ دکھانے کے لئے کرنا ہی تھا۔ راہل گاندھی کی عدم اتفاقی کے بعد مہاراشٹر سرکار نے آدرش سوسائٹی گھوٹالے کی جوڈیشیل انکوائری رپورٹ کو قبول تو کیا لیکن جزوی طور سے ۔ حکومت نے داغی افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کردیا لیکن سرکار نے سابق وزیرا علی اشوک چوہان کو چھوڑ کر باقی سبھی سیاستدانوں کو یہ کہتے ہوئے ان کے خلاف کوئی بدعنوانی سامنے نہیں آئی اس لئے انہیں کلین چٹ دی جاتی ہے۔ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے صاف کیا کہ مہاراشٹر سرکار کے ذریعے ان لوگوں کے خلاف الگ سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی جن کا نام سی بی آئی کی چارج شیٹ میں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے آدرش سوسائٹی کو چار سابق وزرا اعلی اشوک چوہان ،سورگیہ ولاس راؤ دیشمکھ، سشیل کمار شندے اور شیو راج پاٹل اور سابق وزیر شہری ترقی سنیل ترکرے اور راجیش دیوے کو سیاسی سرپرستی حاصل تھی۔ کیا یہ ہی نظرثانی کا مطلب تھا؟ راہل گاندھی اس سے مطمئن ہیں؟ جانچ رپورٹ میں چھ سیاستدانوں کو آدرش پروجیکٹ کو سرپرستی دینے کا قصوروار پایا ہے ان میں چار وزرا اعلی ہیں اور یہ سبھی کانگریس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی کڑی میں این سی پی کے دو وزرا کے بھی نام ہیں۔ ان سبھی کے خلاف ریاستی سرکار کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ رپورٹ میں سب سے تلخ تبصرہ اشوک چوہان کے بارے میں ہے جنہیں اسی گھوٹالے کے سبب وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹنا پڑا تھا۔ ان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرنے سے ریاستی سرکار نے صاف صاف منع کردیا۔ یہ کہتے ہوئے کہ اشوک چوہان کے خلاف سی بی آئی پہلے ہی ایف آئی آر درج کرچکی ہے۔ لیکن غور طلب ہے کہ کچھ ہفتے پہلے گورنر نے اشوک چوہان کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دینے کی سی بی آئی کی عرضی مسترد کردی تھی۔ اس طرح آدرش سوسائٹی کانڈ کے سبھی ملزمان کو بچانے کا انتظام کرلیا گیا ہے۔ جس معاملے میں حکمراں پارٹی کے اتنے طاقتور لوگوں کے کردار کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہو وہاں کارروائی میں کیا سیاسی مشکلیں ہوں گی یہ پرتھوی راج چوہان جانتے ہوں گے۔انہوں نے کارروائی کے دائرے میں صرف افسروں کو رکھا ہے۔ کارروائی کو لیکر شروع سے ہی مہاراشٹر سرکار نے مرضی نہیں جتائی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر اس رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کرنا پڑا لیکن کیا راہل گاندھی جو لوک سبھا چناؤ کے لئے اپنی پارٹی کی ساکھ کو چمکانے میں لگے ہیں اس طرح کی لیپا پوتی کو قبول کرلیں گے؟ آدرش گھوٹالے کی جانچ رپورٹ کا جائزہ لینے کا حکم دے کر بیشک انہوں نے واہ واہی لوٹی ہو لیکن کرپشن کے خلاف لڑائی کو آگے بڑھانے کے لئے انہیں اپنی ہی پارٹی کے طاقتور لیڈروں سے مقابلہ آرا ہونا پڑے گا۔ کیا وہ اس کے لئے تیار ہیں؟
(انل نریندر)

نرسری داخلے کا معاملہ: اسکول سرکاری گائڈ لائنس نہیں مان رہے!

دہلی کے نرسری اسکولوں میں داخلے کا اشو لاکھوں ماں باپ اور بچوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دہلی سرکار کے وزیر تعلیم منیش سسودیا نے دہلی کے سرکاری اسکولوں پر نظر رکھنے کے لئے والینٹیروں کی ٹیم بنائی ہے جو روزانہ اسکولوں(سرکاری) میں جاکر ٹوائلٹ ، پانی، صاف صفائی اور ٹیچروں کی موجودگی پر نظر رکھے گی۔ یہ ٹیم روزانہ اپنی رپورٹ وزیر تعلیم کو دے گی لیکن جھگڑا پرائیویٹ اسکولوں میں نرسری داخلے کا ہے۔ داخلے کے لئے رجسٹریشن 15 فروری سے شروع ہورہے ہیں۔ اس مرتبہ دہلی سرکار کی گائڈ لائنس نے والدین کو بڑی راحت دی ہے تو وہیں اسکول اس کے خلاف ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔ جس وجہ سے داخلے میں دیری ہونے کا امکان ہے۔ تو ادھر اسکول درخواستوں سے پہلے ہی عجیب و غریب شرطیں رکھ رہے ہیں۔ اس بار 30 مارچ تک داخلہ چلے گا اور پوائنٹ سسٹم کی بنیاد پر داخلہ ہوگا۔ اسکول ابھی سے اپنے ضابطے بنا رہے ہیں لیکن ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ والدین کو چاہئے کے وہ گائڈ لائنس کو پڑھ کر قاعدے سے درخواستیں دیں۔ اس بار دوری کا دائرہ بڑھایا گیا ہے۔ پچھلے سال جہاں پانچ کلو میٹر کا تھا وہیں اس مرتبہ آٹھ کلو میٹر تک دائرے میں آنے والے اسکولوں میں والدین اپنے بچوں کے لئے فارم بھر سکتے ہیں۔ اس کے سب سے زیادہ پوائنٹ70 رکھے گئے ہیں لیکن نجف گڑھ ، روہیلا، بوانا، نریلا جیسے دیہات اور باہری دہلی کے علاقے ایسے ہیں جہاں 11 کلو میٹر تک کوئی اسکول نہیں ہے ایسے والدین کو سب سے زیادہ دقت ہے۔ پرانے طلباکو بھی اسکول پوائنٹ دیتا ہے۔ اس طبقے میں والدین جن اسکولوں میں پڑھ چکے ہیں وہاں بچوں کا داخلہ کرا سکتے ہیں انہیں اس کے لئے پانچ پوائنٹ ملیں گے۔ والدین کتنے سال تک پڑھے ہیں اس بارے میں کوئی قاعدہ نہیں ہے لیکن کچھ اسکول10 ویں تک پڑھنے کی شرط رکھ رہے ہیں تو کسی کا کہنا ہے والدین اسکول کے 12 ویں کے طالبعلم رہے ہوں۔ ایسے میں ان والدین کو سب سے زیادہ دقتیں آرہی ہیں جو اسکول میں ایک یا دو سال پڑھے ہوں۔ دوارکا میں واقع ’فیب انٹرنیشنل اسکول‘ ویج اور نان ویج ہونے کیلئے بھی پوائنٹ دے رہا ہے۔ اسکول کے مطابق اگر کوئی والد سبزی خور ہے وہ دور کے علاقے سے درخواست کرتا ہے تو اسے 60 پوائنٹ دوری کے اور10 پوائنٹ ویج ہونے کے ملیں گے۔ اسکولوں نے ایسی شرطیں رکھیں تھیں والدین کی انجمن کا کہنا ہے ایسی شرطیں ذاتیات کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔اس کے علاوہ ان طلبہ کے بھی فارم قبول کئے جائیں گے جن کے سگے بھائی بہن اسی اسکول میں پڑھتے ہوں لیکن کئی اسکول ایسے بھی ہیں جو تایا چاچا کے بچوں کو بھی قبول کرتے ہیں۔ دراصل کسی بھی اسکول میں صاف طور پر قاعدے طے نہیں ہیں۔ والدین کو دقت تب ہوتی ہے جب وہ 10اسکولوں میں ایک ساتھ فارم بھرتے ہیں۔ مان لیجئے کسی گھر کے چار بچے الگ الگ اسکول میں پڑھتے ہیں اگر والدین سملنگ طبقے میں فارم بھرتے ہیں تو کچھ منظور ہوں گے تو کچھ نہیں ایسے میں قواعد کی تشریح ضروری ہے۔ اس کے علاوہ نرسری کے ساتھ ساتھ پری نرسری میں داخلے کو لیکر بچے کی عمر طے کرنے کیلئے اسکولوں کی منمانی سامنے آرہی ہے جبکہ نرسری پری نرسری میں داخلہ لینے والے بچوں کی عمرکیا ہو اس بارے میں سرکار پہلے ہی گائڈ لائنس جاری کرچکی ہے۔
(انل نریندر)

07 جنوری 2014

کولکاتہ کی نربھیہ مانگے انصاف!

دہلی کی نربھیہ کے قصورواروں کو تو سزا مل گئی لیکن کولکاتہ کی بے قصور لڑکی کو انصاف نہیں مل سکے گا؟ ٹیکسی ڈرائیور کی 16 سالہ لڑکی سے جب ملزمان نے اجتماعی آبروریزی کی وہ اس وقت تھانے میں شکایت کرکے لوٹ رہی تھی۔ درندے یہیں نہیں رکے بلکہ اسے زندہ جلا دیا۔ 26 اکتوبر 2013ء کو اس بد قسمت نابالغ لڑکی سے پہلی بار آبروریزی ہوئی تھی۔ اگلے دن اس نے معاملہ درج کرایا تو ملزمان نے پھر اس سے آبروریزی کی۔23 دسمبر کو وہ گھر میں اکیلی تھی تب بدمعاشوں کا ایک گروپ اس کے گھر پہنچا اور اسے آگ کے حوالے کردیا۔ 65 فیصدی جلی ہوئی حالت میں اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس نے زخمی حالت میں پولیس کو بیان دیا جس میں پورے واقعے کی تفصیل بتائی تھی۔ اس کے باوجود پولیس اس معاملے کو خودکشی کا معاملہ بتاکر رفع دفع کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ لڑکی کے والد نے بتایا کے لڑکی کے بیان کے باوجود پولیس نے قتل کا معاملہ درج نہیں کیا۔ حالانکہ ایئرپورٹ ڈویژن کے ڈی سی پی نمبالکر سنتوش اتم راؤ نے بھی میڈیا کے سامنے مانا تھا کہ پولیس نے متاثرہ کا موت سے پہلے بیان لیا تھا۔ آرجی آئی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کے منتظم افسر نے بتایا لڑکی کا بیان لئے جانے کے وقت وہ وہاں موجود تھے۔ہم نے سنا تھا کہ لڑکی نے پولیس کو کہا کہ اسے آگ کے حوالے کردیا گیا تھا۔ اجتماعی آبروریزی کا شکار 16 سالہ لڑکی کے والد نے پولیس پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اسے دھمکایا اور لاش کو اپنے آبائی گھر بہار لے جانے کو کہا۔ حالانکہ پولیس نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔ پیشے سے ٹیکسی ڈرائیور لڑکی کے والد نے بتایا کے پولیس حکام نے منگل کی رات انہیں بلایا اور دھمکاتے ہوئے لاش کے ساتھ بہار چلے جانے کو کہا۔ پولیس حکام کے ساتھ غنڈو ں نے بھی دھمکی دی اور کہا اگر وہ ان کی بات نہیں مانیں گے تو انہیں ٹیکسی چلانے سے روکا جائے گا۔ لڑکی کے انتم سنسکار کو لیکر لیفٹ پارٹیوں کے ورکروں سے دیر رات تک بحث ہوتی رہی۔ دراصل لڑکی کے والد لیفٹ پارٹیوں کی مزدور یونین ’سیٹو‘ سے جڑے ہوئے ہیں۔لڑکی کے والد نے منگلوار کی رات جب لاش کو مردہ گھر لے جایا جارہا تھا تب پولیس نے خاندان کی اجازت کے بنا لاش کا انتم سنسکار کرنے کی کوشش کی لیکن لیفٹ پارٹیوں کے ورکروں کے زبردست احتجاج کی وجہ سے پولیس ایسا نہیں کرپائی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ متاثر حاملہ تھی۔ بھاری عوامی دباؤکی وجہ سے پولیس نے اہم ملزمان کے خلاف اب قتل کا معاملہ درج کرلیا ہے لیکن اس معاملے میں لیفٹ اور ترنمول جس طرح کی سیاست کررہی ہیںیہ کہیں بیچ میں ہی انصاف سے نہ بھٹک جائیں۔ بنگالی اخبار ’آنند بازار پتریکا‘ نے مغربی بنگال پولیس کے حوالے سے لکھا ہے پوسٹ مارٹم میں لڑکی کی کوکھ میں حمل کے جراثیم ملے ہیں۔نابالغ لڑکی کے ساتھ اس شرمناک واردات کے خلاف بدھوار کو کولکاتہ میں زبردست مظاہرے ہوئے۔ اس کی گونج جمعرات کو دہلی میں بھی دیکھنے کو ملی۔ اس سے پہلے سی پی آئی ایم اور دوسری لیفٹ انجمنوں کی رہنمائی میں سینکڑوں لوگ لڑکی کے انتم سنسکار میں شامل ہوئے۔ اب تک 6ملزمان کواس معاملے میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ نتیش کمار نے وزیر اعلی راحت فنڈ سے متاثرہ کے کنبے کو ایک لاکھ روپے کا چیک کیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں اس گھناؤنی واردات میں شامل درندوں کو سخت سے سخت سزا ملے گی اور بدقسمت لڑکی کو انصاف ملے گا۔
(انل نریندر)

بیباک دہلی پولیس کمشنر بھیم سین بسّی!

یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ آخر کار دہلی کو ایک ایسے پولیس کمشنر مل گئے ہیں جو جرائم کے اعداو شمار کے چھلانے یا دبانے میں یقین نہیں رکھتے اور کھل کر کہتے ہیں وہ نمبروں کی پرواہ نہیں کرتے۔ معاملے درج ہوں گے یہ شخص ہیں مسٹر بی ایس بسیّ۔ نئے سال میں پولیس کا ارادہ اعدادو شمار پر غور کرنے کی بجائے جرائم پیشہ پر نکیل کسنے کا ہے۔دہلی پولیس کمشنر بھیم سین بسی نے سالانہ پریس کانفرنس میں ’’اسکرین ونڈو‘‘ اصول کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کے جرم ناقابل برداشت ہے۔ جرم کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ جرائم درج ہوں گے تبھی ملزمان پکڑے جائیں گے۔ ہم ان کے نظریات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ عام طور پر ہم میڈیا والے پولیس کی نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں لیکن جب پولیس اچھا کام کرتی ہے تو اس کی تعریف کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ بات شروع کرتے ہیں مہلا عزت معاملوں سے متعلق۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ 2013ء میں آبروریزی کے 1569 معاملے درج ہوئے ہیں جن میں سے1398 معاملوں کو سلجھایا گیا۔ ان میں 78 فیصدی معاملوں کو سلجھانے میں ایک دو ہفتے لگیں گے۔ دوسری طرف ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے ایک بار پھر دہلی جرائم کی راجدھانی ثابت ہوئی۔ سال2012ء کے مقابلے میں نہ صرف آبروریزی کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے بلکہ ڈکیتی ، لوٹ مار،اقدام قتل اور عورتوں سے چھیڑ چھاڑ اور زر فدیہ کے لئے اغوا اور جھپٹ ماری میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ اعدادو شمار کو دیکھیں تو سال 2013ء میں یہ تعداد بڑھ کر73958 تک پہنچ گئی۔2012ء کے مقابلے میں یہ دوگنا سے زیادہ آبروریزی کے معاملے 1559 سامنے آئے۔ 2012ء میںیہ نمبر680 تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کے نربھیہ قتل کے بعد اب لڑکیاں کھل کر بدفعلی کے خلاف شکایتیں درج کرا رہی ہیں۔ سبھی کے لئے یہ ایک تشویش کا باعث ہے۔ ڈرگس اسمگلنگ معاملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سال2012ء کے مقابلے 2013ء میں ڈرگس اسمگلنگ کے معاملے بڑھے ہیں۔ دہلی پولیس کی نارکوٹکس ٹیم نے 2013ء میں ڈرگس کے435 معاملے درج ہوئے جو پچھلے سال کے مقابلے زیادہ ہیں۔ دہلی پولیس اب عورتوں سے بدفعلی کے معاملوں میں20 دن کے اندر عدالت میں چارج شیٹ داخل کردے گی۔بسی صاحب نے ایک حکم جاری کیاکے متاثرہ کو فوراً انصاف ملے اس کے لئے جانچ کی رفتار بڑھانی ہوگی۔ جن معاملوں میں 20 دن میں چارج شیٹ داخل نہیں ہوگی اس کی وجہ جوائنٹ کمشنر کو بتائی جائے گی۔ پولیس کو دیگر معاملوں میں بھی نمٹنا پڑتا ہے۔ دہلی میں مختلف معاملوں پر راجدھانی کے لوگوں میں غصہ ،ریلیاں، دھرنے مظاہروں کے معاملوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ نربھیہ معاملہ کرپشن کے خلاف لڑائی یا پھر گاندھی نگر میں پانچ سال بچی سے آبروریزی کی دل دہلانے والی واردات پر دہلی کے شہریوں کی زبردست ناراضگی دیکھنے کو ملی۔ لوگوں نے نہ صرف سسٹم کے خلاف اپنے غصے کو دھرنے اور مظاہروں کے ذریعوں سے پوری راجدھانی کے لوگوں تک پہنچایا بلکہ انہیں اس لڑائی میں شامل کیا۔ وہیں دوسری طرف دہلی پولیس بھی قانون و سسٹم کو بنانے میں سال بھر لگی رہی۔ جانتے ہیں کہ راجدھانی کی پولیس کنٹرول روم میں سال2013ء میں کتنی کالیں آئیں۔ یہ ہر روز 25 ہزار کے قریب بنتی ہیں۔ پی سی آر نے 30130 زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ پی سی آر ملازمین کے پاس 807 وین،138 موٹر سائیکلیں ہیں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ دہلی پولیس کتنے مورچے پر پبلک کا ساتھ دیتی ہے۔ ہم تنقید تو کرتے ہیں لیکن کبھی تو مثبت نظریہ بھی دکھانا چاہئے۔
(انل نریندر)

05 جنوری 2014

منموہن سنگھ کی 9 سال میں تیسری فلاپ پریس کانفرنس!

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے تقریباً10 سالہ پردھان منتری کے عہد میں اپنی تیسری پریس کانفرنس کی۔ نئے بنے نیشنل میڈیا سینٹر میں خاص طور سے چنندہ صحافیوں کو بلایا گیا تھا۔ پی ایم او نے اپنے 185 چہیتے اخبار نویسوں کو دعوت دیکر یہ کانفرنس بلائی تھی۔ پی آئی بی میں رجسٹرڈ 1500 سے زائد صحافیوں میں سے 185 صحافیوں و الیکٹرانک میڈیا کو بلایا گیا تھا۔ منموہن سنگھ سے زیادہ تلخ چبھنے والے سوال نہ پوچھے۔ ظاہر سی بات ہے روزنامہ ویر ارجن، پرتاپ، ساندھیہ ویر ارجن سے کسی کو اس کے لائق نہیں سمجھا گیا۔ خیر چھوڑیئے ہمیں تو عادت پڑ گئی ہے پچھلے تقریباًدس برسوں کے اپنے عہد میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہمیں تو ایک بار بھی اپنے گھر پر نہیں بلایا۔اٹل جی تو سل میں کئی بات تمام اخباری برادری کو 7 ریس کورس بلا لیا کرتے تھے اور غیر ملکی دوروں میں بھی ساتھ ے جایا کرتے تھے لیکن منموہن سنگھ نے اپنی ربڑ اسٹمپ نوکر شاہی کے غلام اور ریمورٹ کنٹرول کے ماتحت راج کیا۔ اس پریس کانفرنس کا ہمیں تو مطلب ہی نہیں سمجھ میں آیا۔ ایک بات ضرور سامنے آئی کے منموہن سنگھ آخر کار ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔ وہ اگلے وزیر اعظم کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں۔ راہل گاندھی اگلے پی ایم امیدوار ہوں گے۔ عزت مآب وزیر اعظم نے گھوٹالوں کو نہ روک پانے کے جواب میں کہا کہ یہ سب یوپی اے ۔I عہد میں ہوئے اور اس کے بعد ہم2009ء میں دوسری بار جیت کر آچکے ہیں اس سے لگتا ہے کہ ووٹروں نے کرپشن کے الزامات پر زیادہ توجہ نہیں دی حالانکہ انہوں نے مانا ان معاملوں میں گڑبڑیاں ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری کمزوریوں کی وجہ سے(کانگریس) میں سے کسی نے مجھے استعفیٰ دینے تک کو نہیں کہا۔آخر اس بات کو انہوں نے تسلیم کیا کہ حال ہی میں اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی ہار کی ایک وجہ مہنگائی بھی رہی۔ لوگ کانگریس کے خلاف ہیں اس کی وجہ ہمارے کنٹرول سے باہر تھی کیونکہ عالمی سامان کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں ایسے میں ہمارے لئے قیمتیں کنٹرول کرنا مشکل تھا یعنی کے وزیر اعظم نے مہنگائی کو بین الاقوامی حالات پر تھوپ دیا اور یہ نہیں مانا کے مہنگائی ان کی سرکار کی غلط اقتصادی پالیسیوں کے سبب رہی اور ان کی سرکار اور پارٹی کے گھوٹالوں کی وجہ سے بڑھی۔ ادھر منموہن سنگھ پریس کانفرنس کررہے تھے اور شام ہوتے ہوتے پیٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھا دئے گئے۔ سی این جی کے دام پہلے ہی بڑھ چکے ہیں۔ سب سے تکلیف دہ پہلو اس پریس کانفرنس کا شاید یہ رہا کہ جس طریقے سے انہوں نے بی جے پی کے پی ایم امیدوار نریندر مودی پر تلخ تبصرہ کیا عام طور ہر منہ نہ کھولنے والے نرم گو شخصیت کے مالک ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایسی بات کہہ دی جو کسی بھی وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتی۔ اور نہ ہی ان سے ایسی امید تھی۔ وزیر اعظم نے غیر رسمی طور سے سخت تلخ تیور اپناتے ہوئے بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا کے لیڈر نریندر مودی کے بارے میں کہا کہ 2002ء کے گجرات دنگوں میں بے قصور لوگوں کے قتل عام کو انہوں نے نظر انداز کیا۔ اگر کوئی مضبوط ہوتا تو وہ ایسا نہیں کرتا۔ اگر مضبوط پردھان منتری کو بھانپنے کا آپ کا پیمانہ احمد آباد کی سڑکوں پر شہریوں کے قتل عام کو نظرانداز کرنے کا تھا میں نہیں جانتا کہ دیش کو اس طرح کے مضبوط وزیر اعظم کی ضرورت ہے جو سب کا خیال رکھے اور نریندر مودی کا وزیر اعظم بننا دیش کے لئے تباہ کن ہوگا۔ وزیر اعظم کی شکل میں میں نے اپنا سب سے اچھا کام کیا ہے اور دیش کو ترقی کی اچھی رفتار دی ہے۔ میں نہیں مانتا کہ میں ایک کمزور وزیر اعظم ہوں۔ یہ تاریخ داں فیصلہ کریں گے بھاجپا اور ان کے ساتھی جو کہتے رہے ہیں پردھان منتری کو اس طریقے سے دیش کے ایک مکھیہ منتری کو نظرانداز کرکے ان الفاظ کا استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا۔دہلی میں84ء کے دنگے ،آسام اور مظفر نگر میں حال ہی میں ہوئے دنگے گجرات دنگوں سے زیادہ خوفناک تھے۔ صرف گجرات دنگوں کی بات کرنا کہاں تک دلائل پر مبنی ہے اور ان کا یہ بیان زیب نہیں دیتا؟ خاص کر جب حال ہی میں سپریم کورٹ ،ایس آئی ٹی عدالتوں نے نریندر مودی کو کلین چٹ دے دی ہے۔ بھاجپا پی ایم کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بھی کرسکتی ہے۔ آخر میں منموہن سنگھ کے طویل سیاسی سفر جو 22 سال کے قریب ہے ختم ہونے جارہا ہے۔ پانچ سال تک وہ وزیر خزانہ رہے جو ہماری نظروں میں سب سے اچھا عہد تھا کیونکہ انہوں نے دیش کو صحیح اقتصادی سمت دی۔ اس کے بعد8 سال وہ اپوزیشن کے لیڈر رہے اور پھر 9 سال کے لئے بطور وزیر اعظم رہے۔ اتنے دن سیاست میں رہنے کے باوجود وہ غیر سیاسی رہے اور ایک افسر شاہ سے بڑھ کر کچھ نہیں بن سکے ان کے عہد کو پتہ نہیں تاریخ داں کیسے بیان کریں گے۔ ہماری نظروں میں تو وہ نہایت ناکام ،لاچار، مایوس اور ربڑ کی مہر جیسے لیڈر رہے جنہوں نے اپنی ساری دنیا ریموٹ کنٹرول سے چلائی۔
(انل نریندر)

کجریوال کی اصلی اگنی پریکشا تو اب شروع ہوگی!

دہلی میں عام آدمی پارٹی سی سرکار کو آخر کار اعتماد کا ووٹ مل گیا اور اسپیکر بھی اس کا ہی امیدوار بنا ہے۔ وزیر اعلی اروند کجریوال خود بھی اعتماد کے ووٹ کو لیکر شش و پنج کی حالت میں مبتلا تھے اور اندیشہ جتا رہے تھے شاید ان کی سرکار48 گھنٹے ہی چل پائے۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کانگریس ان کی حمایت کرے گی۔ یہ طے ہوچکا تھا۔ اپوزیشن کے لیڈر بھاجپا کے ہرش وردھن نے کجریوال کی اچھی کلاس لی اور کہا کہ انہوں نے چناؤ کمپین کے دوران کجریوال کہا کرتے تھے کہ ایماندار پارٹی کو ووٹ دیں اور جو سب سے ایماندار لوگ ہیں انہیں ہی جتائیں۔ لوگوں نے بی جے پی کے سب سے زیادہ امیدوار جتائے اور یہ ثابت کردیا کے زیادہ ایماندار کون ہے۔ ان کا کہنا تھا کے70 فیصد لوگوں نے چناؤ میں ووٹ کر اپنی رائے صاف کردی تھی لیکن ’آپ‘ پارٹی نے اسے درکنار کرتے ہوئے کچھ لاکھ لوگوں سے ایس ایم ایس کروائے اور خود ساختہ منعقدہ جن سبھاؤں میں سار پانچ سو لوگوں سے ہاتھ اٹھواکر فیصلہ لیا کے وہ سرکار بنائیں گے۔ اس کے پیچھے کیا مجبوری تھی؟ کانگریس سے حمایت نہ لیں گے اور نہ دیں گے، پھر ایسی کون سی مجبوری تھی جو اسی پارٹی کو پردے کے پیچھے سے اقتدار میں بٹھا دیا۔ ہرش وردھن نے کہا اعلانات کو لاگو کرنے میں جتنی جلدی بازی آپ نے دکھائی اتنی ہی جلد بازی کانگریس سرکار کے گھوٹالوں کی جانچ کرانے میں کیوں نہیں دکھائی؟ ہمیں یہ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کجریوال کے قول اور فعل میں فرق آنے لگا ہے۔ قابل ذکر ہے کجریوال کتنے وقت سے کامن ویلتھ ٹرانسپورٹ ،بجلی ،پانی میں گھوٹالوں میں شامل شیلا سرکار کی کرپشن کی باتیں بڑھ چڑھ کر کرتے آرہے ہیں اور چناؤ میں بھی یہ ایک بڑا اشو تھا لیکن اب اقتدار کے لالچ میں وزیر اعظم بننے کے چار دن بعد ہی وہ ہرش وردھن سے کہہ رہے ہیں کہ آپ ثبوت دیں ہم 48 گھنٹوں میں کارروائی کریں گے۔ کجریوال پہلے تو کہہ رہے تھے کہ 30 دن میں جیل بھیج دیں گے اب اقتدار کے لالچ میں اپنی سرکار چلانے کے لئے سابق وزیر اعظم کے خلاف ثبوت مانگ رہے ہیں۔ کہتے ہیں سروجنی نائیڈو نے کہا تھا مہاتما گاندھی کو غریبی میں رکھنے کا خرچ بہت زیادہ تھا۔ اسی طرح کا معاملہ دہلی کے نئے وزیر اعلی کجریوال کے سکیورٹی نہ لینے سے سامنے آرہا ہے۔ اروند کجریوال کو عام آدمی بنائے رکھنے کے لئے پچھلے مکھیہ منتریوں سے 10 گنا زیادہ پولیس والوں کی سکیورٹی دینی پڑ رہی ہے۔ اب تک مکھیہ منتری کی حفاظت کے لئے جہاں 10 پولیس ملازم تعینات رہا کرتے تھے وہیں نئے وزیر اعلی کے ذریعے مقرر پروٹوکول کی تعمیل نہ کرنے سے ان کی سکیورٹی میں100 سے زیادہ پولیس والے تعینات کرنے پڑ رہے ہیں۔ اتنے برسوں میں ہم نے میٹرو میں کئی قانون ٹوٹتے نہیں دیکھے۔ لیکن کجریوال جب حلف لینے میٹرو سے گئے تو قانون کی دھجیاں اڑ گئیں۔ آپ کے لئے اسپیشل ٹرین چلائی گئی۔ سکیورٹی کے لئے ہزاروں پولیس والے تعینات کئے گئے، کجریوال نے چناؤ مہم میں جو وعدے کئے تھے ان کے برعکس کوئی کام نہیں ہوا۔ آپ نے کہا کہ ہم لال بتی کی گاڑی کا استعمال نہیں کریں گے، سرکاری بنگلے میں نہیں رہیں گے۔ آپ اور آپ کے وزرا نے گاڑی بھی لے لی اور اب اپنے 10 بیڈ روم کا گھر بھگوان داس روڈ پر لے لیا تھا۔لیکن حمایتیوں کی صلاح پر اب وہ اس میں نہیں جارہے ہیں۔ بہرحال جہاں تک چناوی وعدوں کا سوال ہے آپ کے قول و فعل میں فرق دکھائی دینے لگا ہے۔ آپ نے میٹر والے پانی کے گراہکوں کو 20 کلو لیٹر پانی مفت دینے کی بات کہی۔ دہلی میں 8.5 لاکھ لوگوں کے پاس پانی کے میٹر ہیں لاکھوں کو ابھی اس کا فائدہ نہیں ملے گا۔ آپ کی سرکار نے آتے ہی پانی کا بل 10 فیصدی بڑھا دیا ہے۔ فروری میں بل آتے ہی پوزیشن پتہ چل جائے گی۔بجلی کے لئے پھر سے سبسڈی دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے بجائے بجلی کمپنیوں پر دباؤ بنانا چاہئے تھا کہ وہ دام کم کریں۔ابا سوال یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی عام آدمی سے چناؤمیں کئے گئے 17مطالبات کو ایک ایک کر پورا کرے۔ ہم کجریوال صاحب کو وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ وہ جنتا کو راحت پہنچائیں گے ۔
(انل نریندر)