Translater

08 مارچ 2025

ٹرمپ کی ٹیرف اسٹرائک !

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت اور چین سمیت دیگر ملکوں کی طرف سے اونچا ٹیکس (ہائی ٹیرف)لگائے جانے کی نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے بیحد نا مناسب قرار دیا ہے ۔ٹرمپ نے ساتھ ہی اعلان کیا دو اپریل سے جوابی ٹیکس لگائے جائے گے ۔انہوںنے جوابی ٹیکس کو لیکر اپنی دلیل رکھی یہ ٹیرف دوسرے دیشوں سے آنے والے سمان پر لگانا چاہتے ہیں ۔جو وہ دیش سے ہونے والی ایکس پورٹ پر لگاتے ہیں ۔ٹرمپ نے امریکی کانگریس (پارلیمنٹ)کے جوائنٹ سیشن کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا دیگر ملکوں سے ہمارے خلاف ٹیکس لگائے گئے ہیں اور اب ہماری باری ہے ہم ان دیشوں کے خلاف اس کو استعمال کریں ۔یوروپی یونین ،چین برازیل ،بھارت ،میکسکو اور کناڈا کیا آپ نے ان کے بارے میں سنا ہے ایسے بہت سے دیش ہیں جو ہمارے مقابلے میں ہم سے بہت سے زیادہ ٹیکس وسولتے ہیں یہ بلکل نہ مناسب ہے اپنی دوسری میعاد میں کانگریس کو پہلی بار خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کے بھارت ہم سے 100 فیصد سے زیادہ آٹو ٹیکس وسول کرتا ہے ہم بھی ایسا کرنے جا رہے ہیں یعنی 2 اپریل سے ہندوستانی سمان پر ڈونالڈ ٹرمپ ریسی پروکل ٹیرف پالیسی لاگو کر دیگا ۔اپنے 44 منٹ کی تقریر میں ٹرمپ نے کہا انہوںنے 43 دن میں جو کیا وہ کئی سرکاریں اپنے اپنے 4 یا 8 سال کے عہد میں نہیں کر سکیں ۔چلئے اپ آپ کو بتاتے ہیں ریسی پروکل لفظ کا مطلب کیا ہوتا ہے۔اور یہ کوئی دیش کسی دوسرے دیش پر کب لگاتا ہے ؟ریسی پروکل کا مطلب ہوتا ہے جیسے کو تیسا والی پالیسی ۔اسے ایسے سمجھئے کے وہ دیش بھی اسی طرح کا ایسا ٹیکس یا کاروباری پابندی ہے جو ایک دیش دوسرے دیش پر لگاتا ہے ۔جب وہ دیش بھی اسی طرح کا ٹیکس یا پابندی پہلے دیش پر لگاتا ہے ۔مطلب اگر ایک دیش دوسرے دیش کے سامان پر 100 فیصدی ٹیکس لگاتا ہے تو دوسرا دیش بھی اتنا ہی ٹیکس لگا سکتا ہے اس کا مطلب تجارت میں بیلینس بنانا ہوتا ہے اس سے یہ یقینی کرنا کے کوئی دیش دوسرے دیش کے سامان پر 100 فیصدی ٹیکس لگاتا ہے تو دوسرا دیش اسی طرح کا ٹیکس لگا سکتا ہے ۔اس کا مقصد تجارت میں توازن بنائے رکھنا ہوتا ہے جو یہ یقینی کرتا ہے کو کوئی دیش دوسرے دیش کے سامان پر زیادہ ٹیکس نہ لگائے ۔ریسی پروکل ٹیرف کی شروعات 19 ویں سدی میں ہوئی تھی 1860 میں برطانیہ ،فرانس کے بیچ ایک معادہ ہوا تھا جس میں ٹیرف کم کئے گئے تھے اس کے بعد 1930 کی دہائی آئی جب امریکہ نے امیوٹ ہولے ٹیرف ایکٹ لاگو کیا جس سے عالمی تجارت متاثر ہوئی اور مندی بڑھی ۔حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ نے چین ،یوروپی یونین اور دیگر ملکوں پر ٹیکس لگائے جس کے جواب میں ان ملکوں نے بھی امریکی سامان پر ٹیکس لگائے ہیں ۔بھارت اس برننگ مثلے سے کیسے نپٹے گا یہ دیکھا باقی ہے ۔اگر ٹرمپ بھارت پر 100 فیصد ٹیکس لگاتا ہے تو یقینی طور سے بھارت کی معیشت پر اس کا بھاری اثر پڑے گا دیکھان یہ ہے کے بھارت سرکار اس نئی چنوتی کا کیا حل نکالتی ہے تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ (انل نریندر)

آکاش آنند :عرش سے فرش پر !

بہوجن سماج پارٹی کی چیف مایاوتی میں اپنے بھتیجے آکاش آنند کو نہ صرف پارٹی کے سبھی عہدوں سے ہٹایا بلکہ اب پارٹی سے بھی باہر کر دیا انہوںنے پیر کو ایکس پر جانکار دی ان کا کہنا ہے ایک دن پہلے سبھی عہدوں سے ہٹائے جانے پر آکاش نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔آکاش کے بیان کو اپنی سسر ک دباﺅ میں آنے والا مفاد پرست اور غیر مشنری بتایا ۔آکاش آنند کو 2019 میں پارٹی کا قومی کنوینر بنایا گیا تھا اور 2023 آتے آتے رستوں میں کھٹاس بڑھی تھی ۔آکاش آنند نہ صرف پارٹی کے عہدوں سے ہٹائے گئے بلکہ پارٹی سے بھی باہر کا راستہ دکھا دیا ۔آکاش آنند مایا وتی کے سب سے چھوٹے بھائی آنند کمار کے بیٹے ہیں وہ 2017 میں لندن سے پڈھائی کے بعد بی ایس پی کے کام کاج سے جڑے ہوئے تھے ۔وہیں 2017 میں ٹھاکروں اور دلتوں کے درمیان لڑائی کے وقت وہ سہرسہ گئے تھے ۔2019 میں لوک سبھا چناﺅ کے بعد آکش کو بی ایس پی کا قومی کنوینر بنایا گیا تھا لیکن وہ پارٹی کو جیت دلانے میں ناکام رہے ۔حال ہی میں دہلی اسمبلی چناﺅ میں آکاش پارٹی کے انچارج تھے ۔لیکن سیٹ جیتنا تو دور کی بات ہے بلکہ پارٹی ووٹ شیئر میں بھی کافی گراوٹ آئی تھی ۔مایاوتی میں پچھلے سال لوک سبھا چناﺅ سے پہلے بھی پارٹی کی ذمہ داری سے ہٹا دیا تھا اور دلیل دی گئی تھی کے ابھی انہیں سیاسی دور پر پختہ ہونے کی ضرورت ہے ۔لیکن آکاش کو تب بھی ہٹایا گیا تھا جب وہ حکمراءبھاجپا پر سیدھا اور تلخ حملہ کر رہے تھے ۔لکھنو¿ میں اتوار کو بی ایس پی کی میٹنگ کے بعد بیان جاری کیا گیا ۔کاشی رام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہی آکاش آنند سبھی عہدوں سے ہٹایا گیا اور سسر اشوک سدھارتھ کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے ۔اشوک سدھارتھ نے پارٹی کو پورے دیش میں دو گروپ میں بانٹ کر کمزور کیا ہے ۔مایاوتی کو پلٹ کر جواب دینا وہ بھی ایکس پر اور اس پر نازیب طریقہ سے یہ تمام جدوجہد کے بعد حکمرانی کی اونچائیوں تک پہنچی مایاوتی کو مشکل آزمائش اور لمبی لڑائی ہونے کا لوکا چھوپا سندیش دینا ۔پارٹی کی مانے تو مایاوتی کو آکاش آنند کی یہ دونوں باتیں کھل گئیں اور یہیں آکاش آنند کو پارٹی سے باہر جانے کی سبب بنیں ۔بہوجن سماج پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے مایاوتی کے اس فیصلے سے نہ صرف ان کی پارٹی کے لوگوں کو بلکہ سیاسی تجزیہ نگاروں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے ۔آکاش آنند پارٹی کے نوجوان چہرہ ہیں حلانکہ ذمہ داری کے عہدے پر رہتے ہوئے پارٹی کی پرفارمنس نیچے آ رہی ہے ۔مایاوتی کے ساتھ ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کے وہ کبھی بھی سڑک پر نہیں اترتی ہے ۔سیاست کی گہری سمجھ رکھنے والے اپوزیشن پارٹیوں کے نیتا بھی مانتے ہیں کے اب کھل کر سیاست کرنے کے مایاوتی کے دن دبارہ نہیں آنے والے خاص کر بھاجپا کے خلاف جاریانہ رخ رکھنے کے رویہ کو بہن نے بہت پہلے ہی کنارے کر رکھا ہے ۔وہ بھاجپا کے دباﺅ میں ہے ایسا لگتا ہے کے آج بہوجن سماج پارٹی کی سیاسی زمین خسک گئی ہے ان کا ووٹ شیئر ،ووٹ بینک سبھی گرتا نظر آ رہا ہے ۔چناﺅ پر چناﺅ بسپا کی حالت دن بہ دن بدتر ہوتی جا رہی ہے آکاش آنند کا یہ کہنا کی مشکل متحان ہے اور لڑائی لمبی ہے ۔اس بار کو اچھی طرح واضع کرتی ہے کے بسپا میں اب بہت کچھ ہونے والا ہے دیکھنا ہے مایاوتی کے کور حمایتی پارٹی کے لئے کتنے فائدے مند رہتے ہیں یہ پارٹی کے اندر گھمسان کی شروعات ہے ۔ (انل نریندر)

06 مارچ 2025

شیئر بازار جعلسازی اور مادھوی بچ!

شیئر بازار میں جعلسازی اور قوائد خلاف ورزی کے الزامات میں آخر کار قانونی کارروائی شروع ہو گئی ہے ۔مادھوی بچ پر پچھلے کافی عرثے سے الزام لگتے رہے ہیں لیکن جب تک وہ عہدے پر تھیں تب کسی طرح کی نہ کوئی جانچ ہوئی نہ کوئی قانونی کارروائی۔بھارت کی پہلی خاتون سےبی چیف بچ پر امریکہ و امریکہ کی بڑی ریسرچ اینڈ انویسٹ منٹ کمپنی ہنڈن برگ ریسرچ نے بھی مفادات کے ٹکراﺅ کے الزامات لگائے ہنڈن برگ ریسرچ میں بچ اور ان کے پتی دھول بچ پر آفشور اٹیٹیز میں سرمایہ لگانے کے الزام لگائے تھے جو مبینہ طور پر ایک فنڈ ایڈکیئر کا حصہ تھی اڈانی گروپ کا چیئر مین گوتم اڈانی کے بڑے بھائی ونود اڈانی نے بھی سرمایہ لگایا بچ میاں بیوی نے سارے الزامات کو مسترد کر دیا تھا ۔تازہ معاملہ ایک اسپیشل عدالت نے کرپشن ایس سی بی کو شیئر بازار میں مبینہ جعلسازی اور انویسمنٹ قانون کی خلاف ورزی کے سلسلہ میں شیئر بازار ریگولیٹری سیبی کی سابق چیئرمین مادھوی بچ اور دیگر حکام کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے ۔ممبئی میں واقعہ ایس ایس بی عدالت کے جج شکتی کانت ایکناتھ راﺅ بانگر نے سنیچر کو پاس حکم میں کہا کے پہلی نظر میں قوائدی چوک اور مالی ملی بھگت کے ثبوت ہیں جنکی جانچ کی ضرورت ہے حکم میں کہا گیا ہے ۔کے قانون اسفورمنٹ ایجنسیوں اور سیبی کی لاپرواہی کے سبب مجرمانہ دفعات کے تقازوں کے تحت جوڈیشیئل مداخلت کی ضرورت ہے ۔عدالت نے کہا کے وہ اس جانچ کی نگرانی کرے گی اور 30 دنوں میں پوزیشن ریپورٹ بھی مانگی گئی ہے۔بچ کی میعاد 28 فروری کو ختم ہو گئی سیبی نے کہا ہے کی سیبی کے سرکاری آئینی فرائض کی تعمیل کرنے میں ناکام رہے بچ کو جعلسازی کی سہولت دی اور زابطوں کو پورا نہیں کرنے والی کمپنی کو انداراج کی اجازت دے کر کارپوریٹ کو دھوکا دھڑی ہونے دی۔شکایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔عدالت کے حکم کے بعد سیبی نے بیان جاری کر کہا جن حکام کا ذکر ہے وہ کمپنی کی اندراج کے وقت اپنے عہدوں پر نہیں تھے پھر بھی انہوںنے بنا نوٹس جاری کیا یا سیبی کو ثبوتوں کو ریکارڈ پر رکھنے کا موقع دیا بغیر شکایت کے منظوری دے دی ۔سیبی نے کہا جواب دے ایک تلف اور عادتن لاپرواہ کی شکل میں جانا جاتا ہے ۔اس کی پچھلی اپیلوں کو عدالت نے خارچ کر دیا اور کچھ معاملوں میں جرمانہ بھی لگایا ان حکام پر بھی مقدمہ درج ہوگا ۔ڈایئرکٹر چیف ایکزیگٹیو سندر رمن رام مورتی ،بی ایس ای کے اس وقت کے چیئرمین و پبلک ڈائریکٹرپرمود اگروال ،سیبی کے تین مستقل ممبر اشونی بھاٹیہ ،اننت نارائن ،کملیش چندر،وارنیہ ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کے کیس آگے بڑھتا ؟ کیا سچائی سامنے آ پائے گی یا ہر بار کی طرح لیپا پوتی ہو جائے گی۔ببئی اسٹاک ایکس جینج برا حال ہے پچھلے 28 سال میں سب سے نچلی ستح پر اسٹاک مارکیٹ ڈاﺅن ہوئی ہے اب تک لاکھوں کروڑوں کا نقصان ہو چکا ہے۔چھوٹے سرمایہ کار تبح ہو گئے ہیں کیاانہیں انصاف ملے گا ؟ امید کی جاتی ہے کے سخت اقدامات سے اسٹاک مارکیٹ سدھرے گی۔ (انل نریندر)

ایک ارب ہندوستانیوں کے پاس خرچ کرنے کو پیسے نہیں!

ہندوستان کی آبادی قریب ایک ارب 40 کروڑ ہے لیکن حال میں آئی ایک ریپورٹ میں کہا گیا ہے کے ان میں سے ایک ارب لوگوں کے پاس خرچ کے لئے پیسے نہیں ہیں وئر کپیٹل فرم بلو برگ وینچرس کی اس تازہ ریپورٹ کے مطابق دیش میں کنزیومر طبقہ چوں کی خاص طور پر کاروباری مالکوں یا اسٹارٹ اپ کا ایک منکنہ بازار اس سائز میں میکسو کی آبادی کے برابر یا 13 سے 14 کروڑ ہے اس کے علاوہ کئی کروڑ لوگ ایسے ہیں جنہیں امرجنگ کہا جا سکتا ہے لیکن وہ خرچ کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں کیوں کے انہوںنے ابھی خرچ کرنے کی شروعات کی ہے ریپورٹ کے مطابق ایشیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت کے کنزیومر طبقہ کا پھیلاﺅ اتنا نہیں ہو رہا ہے جتنا خرید کی ضرورت بڑھ رہی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے بھارت کی خوشہار آبادی کی تعداد نہیں بڑھ رہی ہے بلکہ جو پہلے سے خوشہال ہیں وہ اور امیر ہو رہے ہیں ۔یہ سب ملک کر دیش کے کنزیومر ماریٹ کو الگ طرح سے شکل دے رہے ہیں خاص کر پرزینٹیشن کا ٹرینڈ بڑھ رہا ہے ۔جہاں برانڈ بڑے پیمانے پر چیزوں اور سیل کی پیشکش پر دھیان دینے کے بجائے امیروں کی ضرورتوں کی پورا کرنے والی مہنگی عمدہ چیزوں پر مرکوز کر ترقی کو رفتار دیتے ہیں اس کی سب سے بڑی مثال بہت مہنگے گھروں اور بہترین کوالیٹی کے سمارٹ فون کی فروخت میں ازافہ ہو رہا ہے جبکہ ان کے سستے برانڈ فروخت میں جدوجہد کر رہے ہیں ۔بھارت کے کل بازار میں اس وقت سستے گھروں کی حصہ داری 18 فیصد ہے جبکہ 5 سال پہلے یہ حصہ داری40 فیصد ہوا کرتی تھی اس طرح عمدہ سامانوں کی حصہ داری بڑھ رہی ہے ۔اور معیشت پھل پھول رہی ہے مثال کے لئے کولڈ پلے اینڈ شیری جےسے آرٹسٹوں کے پروگرام مہنگے ٹکٹوں پر بکنا ۔بھارت کا درمیانہ طبقہ کنزیومر معاملے میں بہت پیچھے رہا ہے لیکن مارس لیس اوینٹ منیجروں کے ذریعہ اکھٹا ڈیٹا کی دیکھے تو تنخواہ کے ایک جیسے بنے رہنے کے سبب اس درمیانہ طبقہ کی حالت خراب ہے ۔جنوری میں شائع اس ریپورٹ میں کہا گیا ہے کے بھارت میں ٹیکس دینے والی آبادی کے 50 فیصد لوگوں کی تنخواہ پچھلی ایک دہائی میں جو کے توںرہی ہے ۔مالیتی عدم توازن کی وجہ سے بچت ختم کر دی ہے۔آر بی آئی مسلسل اس بات کو کہہ رہا ہے کے ہندوستانی خاندانوں کی مالی بچت 50 برسوں میں کم ستح پر پہنچ رہی ہے ۔ان حالات سے پتہ چلتا ہے کے درمیانہ طبقہ کے گھریلوں خرچ سے وابستہ چیزوں اور سیواﺅ میں آنے والی مشکلوں کی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ریپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے اے آئی آہستہ آہستہ روز مرہ کی استعمال کی جگہ لے سکتا ہے ۔ایسے میں سفید پوش شہریوں کے لئے نوکریا ں پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔بھارت کی مینوفیکچرنگ میں سوپر وائزروں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے ۔سرکار کے حالیہ ایک سروے میں ان تشویشات کو ظاہر کیا ہے اس میں کہا گیا ہے اس طرح کی تکنیکوکے وکاس کی وجہ سے لیبر ڈسپلیسمنٹ میٹر جیسی سیوا متاثر ہوئی معیشتوں کے لئے تشویش کا باعث ہے جہاں آئی ٹی فورس کا ایک اچھا حصہ سستی سروس سیکٹر میں کام کر رہا ہے یہ سب دیش کی معاشی ترقی کو پٹری سے اتار سکتا ہے۔ (انل نریندر)

04 مارچ 2025

وہ 10 منٹ جب ہوئی تو تو مے مے!

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ہوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی کے درمیان جمعہ کے روز وائٹ ہاﺅس کے اول آفس میں زبردست تلخ بحص ہو گئی ٹرمپ نے الزام لگایا کے زیلینسکی امن نہیں جاہتے اور وہ اگر سمجھوتہ نہیں کریں تو امریکہ اس جنگ سے باہر ہو جائے گا ۔انہوںنے یہ بھی دعویٰ کیا یوکرین روس کے ساتھ جنگ میں جیت حاصل نہیں کر سکتا ۔ٹرمپ نے زیلینسکی پر امریکہ اور اس کے لوگوں کی توحین کرنے کا بھی الزام لگایا وہیں زیلینسکی نے کہا ہم گارنٹی کے ساتھ جنگ بندی چاہتے ہیں اور ٹرمپ زیلینسکی کے درمیان بحث جاری تھی اس دوران امریکہ کے یوکرین میں سفیر آکسانہ مارکی روابیحد کشیدگی میں تھی اول آفس سے سامنے آئے وویڈیو میں یوکیرنی سفیر اپنا ہاتھ ماتھے اور چہرے پر رکھے ہوئے تھے۔دونوں لیڈروں کے درمیان بحث میڈیا کے کیمرے میں قید ہو گئی ۔اور ساری دنیا نے ٹرمپ کے ڈاٹنے والے لہجے کو دیکھا اور پریشان ہو گئی ۔وہ زیلینسکی کو یوں ڈانٹ رہے تھے جیسے کوئی حکمراں اپنے ملازموں کو ڈانٹتا ہے ۔پیش ہے بات چیت کے کچھ حصے ،جے ڈی واس (نائب صدر امریکہ)امن اور ترقی کا راستہ ڈپلو میسی کو جوڑتا ہے صدر ٹرمپ یہی کام کر رہے ہیں۔زیلینسکی بات کرتے ہوئے 3 سال پہلے ہم پر حملہ کرنے سے پہلے بھی روس نے ہمارا علاقہ چھینا ۔تب کسی نے پوتن کو نہیں روکا آپ کس طرح کی ڈپلو میسی کی بات کر رہے ہیں ،جے ڈی واس آپ کا مطلب کیا ہے ؟ جے ڈی واس ۔میں اس ڈپلو میسی کی بات کر رہا ہوں جو آپ کے دیش کو تبح ہونے سے بچائے گی ۔آپ ہماری بے عزتی کررہے ہو ،امریکہ میڈیا کے سانے آپ ہمیں قصوروار بتا رہے ہو۔ٹرمپ نے پوتن سے بات چیت کا راستی کھولا ہے اور فورا! جنگ بند کرانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔زیلینسکی کو تو جنگ لڑنے میں کئی طرح کی پریشانیاں ہو رہی تھی ۔زیلینسکی : جنگ کے وقت ہر کسی کو پریشانی ہوتی ہے ۔یہاں تک کے اُپ کو بھی ۔آپ کے پاس بڑھیا سمندر ہے آپ کو بھی یہ محسوس نہیں ہو رہا ہوگا اگر مستقبل میں یہ محسوس کرےں گے ۔زیلینسکی نے یہ بات کہہ کر اشارہ کیا کے آپ روس کو خوش کرنے کی کوشش کروگے تو آپ بھی جنگ کی زد میں آ سکتے ہو ۔ٹرمپ کو یہ بات چبھ گئی اور وہ بھی زیلینسکی واس کی بات چیت میں کود گئے ،ٹرمپ اونچی آواز میں بولے ہمیں یہ نہ بتاﺅ کے ہم کیا محسوس کریں گے ۔آپ اس پوزیشن میں نہیں ہو کے ہمیں یہ بات سکھاﺅ ابھی آپ کے پاس وہ داﺅ نہیں ہے ۔آپ کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ جوا کھیل رہے ہو ۔زیلینسکی : جنگ کی شروعات سے ہی ہم اپنی جنگ اکیلے لڑ رہے تھے اور ہمیں اس پر فخر ہے یہ سن کر ٹرمپ اور بھڑک گئے کیوں کے وہ یوکرین جنگ پر امریکہ خرچ کو بڑا نقصان بتا رہے ہیں ۔ٹرمپ: آپ اکےلے نہیں تھے ہم نے آپ کو ایک سابق صدر (بائیڈن)کے ذریعہ 250 عرب ڈالر کی مدد کی ۔جے ڈی واس : کیا آپ نے اس مدد کے لئے کبھی امریکہ کا شکریہ ادا کیا ؟امریکہ چناﺅ میں ڈیموکریٹس کے لئے کیمپئن کی تھی ۔(امریکی چناﺅ سے ٹھیک پہلے) زیلینسکی نے جو بائیڈن کے آبائی وطن کا دورا کیا تھا جس پر ٹرمپ کی پارٹی بہت ناراض ہوئی تھی۔زیلینسکی:براہ کرم اگر آپ کو لگتا ہے کے جنگ کے بارے میں اونچی آواز سے با ت کرکے آپ ۔۔ تبھی جھنجلائے ٹرمپ کے بیچ میں بات کرتے ہیں ۔ٹرمپ :اونچی آواز میں نہیں کر رہے ہیں ۔آپ کا دیش ایک بڑے بحران میں ہے ۔آپ اس جنگ کو نہیں جیت سکتے آپ کے پاس اس سب سے باہر نکلنے کا ایک موقع ہے ۔ہماری بدولت اس طرح بزنیس نہیں ہو پائے گا ۔ملکر کام کرنے کے لئے روئیہ بدلنا ہوگا (ٹرمپ اور جے ڈی کے منہ سے رویہ کی بات سن کر زیلینسکی غصہ میں آ جاتے ہیں ۔)جے ڈی واس :آپ صرف ہمیں شکریہ کہیئے ۔زیلینسکی : میں شکریہ کہہ چکا ہوں اور ایک بار پھر امریکی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہے ہوں ۔واس:میری نااتفاقی کو بھی قبول کیجئے ۔میڈیا کے سامنے لرنے کے بجائے نہ اتفاقی کے مسلے پر بات کی جائے۔جب آپ غلط ہوتے ہو تو غلط ہے ۔ٹرمپ اچھا ہی ہوا کے امریکی لوگ آج دیکھ رہے ہیں کی کیا ہوا آپ کو شکریہ ادا کرنا چاہئے ۔آپ کے پاس کوئی چال نہیں ہے آپ دفن ہو چکے ہو آپ کے لوگ مر رہے ہیں آپ کے پاس فوجی نہیں ہے ۔اگر آپ جنگ بندی کے لئے مان جاتے تو گولیاں برسنی بند ہو جاتی اور آپ کے لوگ نہ مرتے ۔زیلینسکی:میں جنگ روکنا چاہتا ہوں جیسے کی میں نے آپ سے کہا تھا کچھ گارنٹیاں بھی چاہتا ہوں ۔جنگ بندی کے بارے میں اپنے لوگوں کی رائے بھی لینا چاہتا ہوں ۔یہ تھی ٹرمپ، واس اور زیلینسکی کی پوری بات چیت کے اہم حصے ۔ڈونالڈ ٹرمپ ،زیلینسکی ،واس کے درمیان اول آفس میں جو ہوا اسے دنیا نے دیکھا اس تلخ نوک جھونک کے بعد جہاں روس ،یوکرین امن معائدہ کھٹائی میں پر گیا وہیں زیلینسکی کے لئے یوروپی لیڈرو سے لیکر سوشل میڈیا تک میں سپورٹ کا سیلاب آ گیا ۔ایک اہم بات اب جو بھی سربراہ مملکت سدر ٹرمپ سے ملے گا وہ بڑا چوکس رہے گا کی کہیں ٹرمپ کو غصہ آ گیا تو ۔۔!(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...