Translater
06 جنوری 2024
نتیش کی تاجپوشی: آگے کیا ہوگا؟
نتیش کمار بہار حکومت کے سربراہ ہیں۔ اب وہ اپنی پارٹی جے ڈی یو کے سربراہ بھی بن گئے ہیں۔ بہار میں گرینڈ الائنس کو متحد رکھنے کی ذمہ داری بھی ان پر ہے اور اب کہا جا رہا ہے کہ انہیں اپوزیشن جماعتوں کے بھارتی اتحاد کے کنوینر کی ذمہ داری ملے گی۔ کیا نتیش کمار اب بھی اتنی ذمہ داریاں ایک ساتھ نبھانے کے قابل ہیں؟ گزشتہ سال کے آغاز سے اپوزیشن اتحاد کو لے کر نتیش کے چہرے پر جو امید نظر آرہی تھی، وہ سال کے وسط میں کامیاب دکھائی دینے لگی۔ لیکن سال کے آخر تک اس کے بکھرنے کے چرچے بھی شروع ہو گئے۔ اپوزیشن جماعتوں کی پہلی میٹنگ جون 2023 میں پٹنہ میں ہوئی تھی۔ یہاں سے اپوزیشن اتحاد کی تصویر اور مرکز کی مودی حکومت کے خلاف دعوے کئے جارہے تھے۔ اب پٹنہ میں جو سیاست چل رہی ہے وہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد نہیں ہے بلکہ بہار کا عظیم اتحاد ہندوستان کی بنیاد ہے۔ بہار میں اگست 2022 میں نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ این ڈی اے سے الگ ہوگئی۔ اس طرح ریاست میں این ڈی اے کا خاتمہ ہوا۔ اس طرح بہار میں این ڈی اے حکومت کا خاتمہ ہوا اور نتیش نے اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی اور آر جے ڈی کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی۔ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی اس اتحاد میں شامل ہوئیں اور اسے گرینڈ الائنس کا نام دیا گیا۔ اب بی جے پی کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بہار میں جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ حال ہی میں آر جے ڈی سے قربت کی وجہ سے نتیش نے اپنی پارٹی کے قومی صدر لالن سنگھ کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ نتیش کے مخالفین بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنتا دل متحدہ میں ختم ہونے والی ہے۔ اس سیاسی دعوے کے علاوہ کئی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بہار میں عظیم اتحاد کی جماعتوں کے درمیان تناو¿ ہے۔ اس وقت بہار سیاسی عدم استحکام کے دور سے گزر رہا ہے۔ حالانکہ یہاں حکومت چل رہی ہے اور نتیش وزیر اعلیٰ ہیں، لیکن عظیم اتحاد کے اندر تناو¿ ہے اور ان کے اوچھے مقاصد صاف نظر آرہے ہیں۔ اس تبدیلی کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے نتیش کے لیے ایک بڑا قدم مانا جا رہا ہے۔ بہار کے عظیم اتحاد میں دراڑ کی خبروں کے درمیان ریاست میں سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے۔ اپوزیشن کے بھارت اتحاد میں مکمل اختلاف ہے۔ کسی بھی پارٹی میں سیٹوں کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس لیے مجھے ابھی تک بھارت کا اتحاد نظر نہیں آ رہا۔نہ ہی بی جے پی کے لیے کوئی بڑا چیلنج ہوگا۔ جس دن ممتا بنرجی نے اپوزیشن اتحاد کے کوآرڈینیٹر کے عہدے کے لیے ملکارجن کھرگے کا نام تجویز کیا، اپوزیشن اتحاد کا معاملہ پوری طرح سے بگڑ گیا۔ آئیے آج دیکھتے ہیں کہ نتیش کمار کیا اقدام کرتے ہیں؟ کیا وہ جے ڈی یو انڈیا اتحاد اور عظیم اتحاد کو سنبھال سکتا ہے؟ کیا آپ ان کو متحد رکھ پائیں گے؟ بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ نتیش کمار کا اگلا اقدام کیا ہے۔ نتیش کیا سوچتے ہیں؟ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ لالن سنگھ کو ہٹا کر خود جے ڈی یو کا صدر بننا ان کے لیے کوئی عام بات نہیں ہے، اس کے پیچھے ایک لمبی سیاست ہے۔ امید ہے جلد ہی اس راز سے پردہ اٹھ جائے گا۔
-انیل نریندر
ہٹ اینڈ رن قانون کی شدید مخالفت
ڈرائیوروں نے ہٹ اینڈ رن قانون کے خلاف ہنگامہ آرائی کی، مختلف مقامات پر سڑکیں بلاک کرکے ہڑتال شروع کردی۔ ٹرک، ٹیکسی اور بس آپریٹرز کی تنظیموں نے ہٹ اینڈ رن کیسز میں سزا کی نئی دفعات کے خلاف ملک بھر میں ہڑتال کی تھی۔ حال ہی میں پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے انڈین جسٹس کوڈ کے تحت فوجداری مقدمات میں سزا کی نئی دفعات کی گئی ہیں۔ نئے قانون کے تحت ہٹ اینڈ رن کیسز میں ڈرائیوروں کے لیے دس سال قید اور سات لاکھ روپے جرمانے کی گنجائش ہے۔ اب تک اگر کوئی ٹرک یا ڈمپر سے کچل کر مر جاتا ہے تو اس پر لاپرواہی سے گاڑی چلانے کا الزام عائد کیا جاتا تھا اور ڈرائیور کو ضمانت مل جاتی تھی۔ اگرچہ اس قانون کے تحت دو سال قید کی سزا ہے لیکن اب نیا قانون کافی سخت ہے۔ ڈرائیور سوچ رہے ہیں کہ کیا قانون کے نفاذ کے بعد ان کے لیے گاڑی چلانا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ دس سال قید اور سات لاکھ روپے جرمانے کی سزا کافی بھاری ہے۔ ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ ہمیں بمشکل 15 سے 20 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔ جرمانے کے 7 لاکھ روپے کہاں سے لائیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ اول تو انہیں اتنا بھاری جرمانہ ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ملتے، دوسرا انہیں نئے قانون سے سخت ہراساں کیے جانے کا خدشہ ہے۔ دس سال قید کی سزا بہت زیادہ ہے۔ ڈرائیوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حادثے کے بعد انہیں موقع پر بھیڑ کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ غلطی کس کی ہے، ہجوم ٹرک اور بس ڈرائیوروں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور ان پر حملہ کرتا ہے۔ نہیں، ہمیں موب لنچنگ سے بچنے کے لیے گاڑی چھوڑ کر موقع سے بھاگنا پڑے گا۔ اگر وہ نہ بھاگے تو ہجوم ہمیں مار مار کر موقع پر ہی مار ڈالتا ہے۔ کیا حکومت اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ وہ کسی حادثے کی صورت میں بھیڑ کو کنٹرول کرے گی؟ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ پولیس اور سرکاری محکمے کہتے ہیں کہ ڈرائیور حادثات کے بعد بھاگ جاتے ہیں۔ بس کال کرکے یہ معلومات دیں۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ اگر وہ اسی جگہ پر رہیں گے تو اس سے وہ ہجومی تشدد سے بچ جائیں گے؟ آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس (ناتھ زون) کے نائب صدر جسپال سنگھ کہتے ہیں، کوئی بھی جان بوجھ کر حادثہ نہیں کرتا ہے۔ سرکاری محکموں کا کہنا ہے کہ حادثے ہونے پر ڈرائیور فون نہیں کرتے۔ لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ وہ فون نہیں کرتا۔ آخر سڑکوں پر اتنے کیمرے اور ٹول بوتھ ہیں، ان کی مدد کیوں نہیں لی جاتی؟ سڑکوں پر گڑھے ہیں اور لائٹس نہیں ہیں اس طرف توجہ کیوں نہیں دی جاتی؟ ہندوستان میں زیادہ تر ڈرائیوروں کو مارا جاتا ہے۔ کئی بار ڈرائیوروں کو مارا پیٹا گیا ہے۔ انہیں ان کے سامان سمیت زندہ جلا دیا جاتا ہے لیکن ایسا کرنے والوں کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہوتا۔ کسانوں کو تین کالے قوانین کو ہٹانے میں ایک سال کا عرصہ لگا اور اس میں 300 سے زائد کسان شہید ہوئے لیکن ان ٹرک ڈرائیوروں نے دو دن میں حکومت کو بیک فٹ پر لا کھڑا کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس انتخابی سال میں حکومت کو اتنی بڑی ہڑتال کا سامنا ہے اور پھر 22 جنوری کو ایودھیا میں رام للا کے تقدس کا پروگرام بھی ہے۔ ان کی وجہ سے حکومت نے دو دن کے اندر اپنے اقدامات واپس لے لیے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنا سنگین قانون بنانے سے پہلے کسی بھی متعلقہ فریق سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ یہ قانون عجلت میں اس وقت منظور کیا گیا جب اپوزیشن کے 150 ارکان پارلیمنٹ سے باہر تھے۔ ابھی تک قانون واپس نہیں لیا گیا، صرف اتنا کہا گیا ہے کہ اس پر فی الحال عمل نہیں ہوگا۔ ڈرائیوروں کے لیے قانون منسوخ ہونا چاہیے، ملتوی نہیں ہونا چاہیے۔
(انل نریندر)
04 جنوری 2024
آسام میں امن سمجھوتہ !
یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (الفا) کے مذاکرات حمایتی گروپ نے تشددچھوڑ کر انجمن کو بھنگ کرنے اور جمہوری عمل میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے مرکز اور آسام حکومت کے ساتھ سمجھوتہ پر دستخط کئے ۔آسام امن سمجھوتہ نارتھ ایشٹ ،خاص کر ریاست میں امن چین سسٹم قائم کرنے کی سمت میں ایک اہم ترین میل کا پتھر ہے ۔یہ سمجھوتہ کے الفا انتہا پسندی کے 44 سالوں سے زیادہ لمبے سفر میں ایک اہم باب ہے ۔سماجی آسام میں لوگوں کی زندگی کو متاثر کرنے والے کئی میل کے پتھر پھینکے گئے ہیں لیکن اُلفا مسئلہ جو شروع میں ایک آندولن کی شکل میں شروع ہوا لیکن جلد ہی اغوا،جبرن وصولی ،قتلوں اور بم دھماکوں کے ساتھ مسلح لڑائی میں بدل گیا ۔اور چھایا رہا ۔انتہا پسند تنظیم کے ساتھ 1991 کے بعد سے بات چیت کی کئی کوششیں کی گئیں لیکن کوئی حل نہیں نکلا ۔اس منصفانہ سمجھوتہ میں بھلے ہی پریس بروا کا گروپ (اُلفا آئی ) شامل نہیں ہوا ہے ، یہ ہے اُلفا تنظیم کا 7 اپریل 1989 کو اوپری آسام کے ضلعوں کے 20 لڑکوں کے ایک گروپ نے شیو ساگر کے تاریخی عہدے یُگ کے ایم پی تھیئٹر رنگ گھر میں کیا تھا۔گروپ نے کئی موقعوں نے بات چیت کی خواہش جتائی تھی لیکن سرداری پر اپنے رویہ پر اڑا رہا لیکن 2011 میں تنظیم میں دوسری مرتبہ تقسیم ہوئی اور اروند راج کھویا سمیت کچھ بڑے نیتاو¿ں نے اپنا الگ گروپ بنا لیا ۔راج کھوبا اور ان کے حمایتی پڑوسی دیش آسام لوٹے اور سرداری کی مانگ چھوڑ کر بغیر کسی شرط کے بات چیت کی میز پر لوٹے ۔اس سے پہلے 1992 میں گروپ کی تقسیم ہوئی تھی اور بات چیت کی حمایت کرنے والے نیتا الگ ہو گئے ۔نارتھ ایسٹ کے آدی واسی علاقوں میں بھاجپا سرکار نے مرکز میں حکمراں ہوتے ہوئے خاصی توجہ دینی شروع کی ۔آدی واسی علاقوں میں ذاتی سنگٹھنوں کی ناراضگی سے دہائیوں سے مرکز میں بر سراقتدار سرکار کشیدگی کا سامنا کرتی رہی ہے لیکن بھاجپا نے پہل کرکے بورڈوں آدی باسی کاربی اور بماسہ علیحدگی پسند گروپوں کے ساتھ سمجھوتہ کرکے نارتھ ایسٹ میں علیحدگی پسندگی کی تپش کو کم کرنے میں اہم ترین کامیابی حاصل کی ہے ۔پچھلے چار سال میں نارتھ ایسٹ میں کل 9 سمجھوتہ کئے گئے ۔ریاست کے 85 فیصد علاقوں میں اپسپا آرمڈ فورسز پاور ایکٹ ہٹا لینے کے بعد آسام میں ماحول شانت ہوتا چلا گیا ۔اور اب امن سمجھوتہ کے پش منظر میں آسام سے پوری طرح اپسپا ہٹا لیا جائے گا۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آسام کیلئے ایک بڑے پیکج کا بھی اعلان کیا ہے ۔اُلفا کا آندولن خاصا مشتعل رہا ۔اور اُلفا سے لڑائی میں دس ہزار سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں اور سیکورٹی فورس کے کئی جوانوں کی شہادت ہوئی ۔اس سمجھوتہ سے اس علاقے میں مستقل امن کی راہ ہموار ہوئی ہے ۔مرکز ، آسام سرکار اور وزیر داخلہ کو مبارکباد ۔
(انل نریندر)
بی ایچ یو طالبہ سے مبینہ گینگ ریپ !
آئی آئی ٹی بی ایچ یو کی طالبہ سے مبینہ گینگ ریپ کے معاملے میں پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے ۔وارانسی کی ایک کورٹ نے تینوں ملزمان کو14دن کی جوڈیشیل حراست میں جیل بھیج دیا ہے ۔الزام کے مطابق یہ معاملہ گزشتہ1نومبر کو بی ایچ یو کیمپس میں ہوا ۔واردات کے تقریباً 60دنوں بعدتینوں ملزمان ،کرنال پانڈے ،آنند عرف ابھیشیک چوہان اور شکشم پٹیل کو پولیس نے گرفتار کیا ۔پولیس کے مطابق واردات میں استعمال موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی گئی ہے ۔کاشی زون کے ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ یہ گرفتاری کے بعد تینوں ملزمان نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے ۔تینوں ملزمان کو اتوار کی شام ایک مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔کورٹ نے تینوں کو 14 دن کی جوڈیشیل حراست میں جیل بھیجنے کا حکم دیا ۔ڈی سی پی رام سیوک گوتم نے بتایا ، تینوں ملزمان کو سنیچر وار کی دیر رات ان کے گھروں سے گرفتار کیا ہے۔تینوں نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔ملزمان کو واردات کے قریب 2 مہینے بعد گرفتاری کو لیکر پوچھے گئے سوال پر ڈی سی پی گوتم نے بتایا ،ا س واردات کو لیکر ہماری جانچ اور تلاشی ابھیان جاری تھا ۔ملزمان کو گرفتار کرنے سے پہلے انہیں وقت دینا ہماری حکمت عملی کا حصہ تھا ۔پولیس تینوں ملزمان کے بارے میں جانکاری جٹا رہی ہے ۔ہم پتہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیا ان کا پہلے بھی کوئی جرائم ریکارڈ رہا ہے ۔یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس بہوچرچت کانڈ میں گرفتار کئے گئے تینوں ملزمان بی جے پی کے آئی ٹی سیل سے جڑے تھے ۔پارٹی کے کئی بڑے نیتاو¿ں کے ساتھ ان کی تصویریں بھی شوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں ۔دعوے کے مطابق کرنال پانڈے وارانسی میں بی جے پی آئی ٹی سیل کے کنوینر رہ چکے ہیں ۔وہیں سکشم پٹیل بی جے پی کے وارانسی یونٹ میں آئی ٹی سیل کے اسسٹنٹ کنوینر رہ چکے ہیں ۔آنند عرف ابھیشیک آئی ٹی سیل ورکنگ کمیٹی کے ممبر رہ چکے ہیں ۔سکشم پٹیل کو لیکر دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی جے پی کاشی پرانت کے موجودہ صدر دلیپ پٹیل کے پرائیویٹ سیکریٹری ہیں ۔ایک بی جے پی نیتا کے لیٹر ہیڈ پر ان کی تقرری کا اعلان کرنے والا خط بھی وائر ل ہے ۔تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی جے پی تینوں کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے ۔حالانکہ بی جے پی کی طرف سے اس بارے میں کوئی پریس ریلیز یا باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے ۔ادھر سماج وادی پارٹی کے پردھان اکھلیش یادو نے x پر پوسٹ کرتے ہوئے بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا ۔انہوں نے لکھا یہ ہے بی جے پی کے سرکردہ نیتاو¿ں سے ابھیدان حاصل دو بھاجپا ئی جن پر طالبہ کے ساتھ بدفعلی کی حدود پار کرنے کا الزام ہے ۔سوال کیاکی کیا خاتون کی عصمت سے کھلواڑ کرنے کو بھاجپائیوں کو کھلی چھوٹ جاری رہے گی ۔وہیں کانگریس کے پردیش صدر اجے رائے نے ملزمان کی فوٹو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ۔طالبہ سے گینگ ریپ کرنے والے اور کوئی نہیں بی جے پی آئی ٹی سیل کے عہدیداران ہیں اور یہی ہے بی جے پی کا بدفعل چہرہ ۔بتا دیں کہ اجے رائے نے واردات میں بی جے پی سے جڑے لوگوں کی بات کھلے طور پر کہی تھی ۔اس کو لیکر ان کے خلاف لنکا تھانے میں مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔حالانکہ اس کی اکھل بھارتیہ بدیارتھی پریشد کی بی ایچ یو یونٹ نے ملزمان کو تحفظ دینے والوں کی جانچ کی مانگ کی ہے ۔
(انل نریندر)
02 جنوری 2024
پرینکا نے کیوں چھوڑا یوپی کا میدان ؟
کانگریس تنظیم نے ایک بڑی رد بدل کے تحت پرینکا گاندھی واڈرا کو اترپردیش ذمہ داری چھوڑنے پر موہر لگا دی ہے چھارکھنڈ کانگریس کے انچارج رہے اویناش پانڈے یو پی کے انچارج ہوں گے کہا جاتا ہے کے پرینکا گاندھی اب کانگریس کی آل انڈیا کیمپن میں لگے گی پرینکا گاندھی نے اکتوبر 2022 سے ہی کانگریس کی انچارج جنرل سکریٹری عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن اب اس پر منظوری ملی ہے ،کرناٹک تلنگانہ ،راجستھان ،چھتیس گڑھ سے لیکر مدھیہ پردیش اور شمال مشرق کی ریاستوں میں پرینکا کی کمیپین کے بعد یہ صاف ہو گیا تھا کے وہ اب لوک سبھا چناﺅ میں پارٹی کی اسٹار کیمپینر کے طور پر دکھائی دیں گی ۔اترپردیش اسمبلی چناﺅ میں کانگریس کی ہار کے بعد کرناٹک اور ہماچل میں کانگریس کے لئے پرچار لیا تھا کانریس نیتاﺅں کا کہنا ہے دوں جگہوں پر ان کے پرچار سے پارٹی کو فائدہ ہوا اور اسے چیت ملی اب قیاس ارائی کی جارہی ہے کے شائد اب وہ بھارت نیائے یاترا میں بھائی راہل گاندھی کا ساتھ دیں گی کانگریس کے سیاسی فیصلوں پر نگہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کے پرینکا کو ےو پی کا پرچار کا فی پہلے چھوڑ دینا چاہئے تھا کیوں کے انکا کاوئی اثر نہیں ہوا ایسے میں سوال یہ ہے کے پرینکا سے اترپردیش کی ذمہ داری لینا ریاست کی چناﺅی حکمت عملی میں ان کے نکامی پر مہر ہے یا پھر یہ سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جہاں انہیں یوپی کی جگہ ان ریاستوں میں ذمہ داری دی جائے جہاں کامیابی کا زیادہ امکان ہے ؟جس پارٹی نے 1947 سے 1989 کے درمیان کچھ پرسوں کو چھوڑ کر 4 دہائی تک یوپی میں راج کیا وہ اب لوک سبھا کی ایک سیٹ تک سمٹ گئی ہے یہ آج کی تلخ حقیقت ہے حلانکہ پرینکا کے حماکیتیوں کا کہنا ہے یوپی میں کانگریس کافی پہلے سے کمزور ہو گئی تھی ایسے میں محض 3-4 سال میں ان سے معجزے کی امید کیسے کی جا سکتی ہے لیکن پرینکا گاندھی 1984 سے راجیو گاندھی کے ساتھ امیڈھی جاتی رہیں ہیں بھلے ہی سونیا گنادھی پورے دیش میں پرچار کرنے کی وجہ سے وہاں نہیں جا پاتی ہوں لیکن پرینکا گاندھی رائے بریلی اور امیڈھی سیٹ پر کیمپین کے لئے ضرور جاتی تھیں اس کا مطلب کم سے کم 2 سیٹوں پر تو کانگریس کو جیتنا چاہئے تھا اب پرینکا کے انچارج رہتے ہوئے کانگریس امیڈھی ہار گئی تو پھر ان کے بنے رہنے کا کیا تک بنتا ہے ؟یہ بھی کہا جا رہا ہے کانگریس کے اندر ایک بڑا گروپ ہے جو پرینکا کے کام کاج کے تریقہ کو پسند نہیں کرتا وہ کہتے ہیں پنچاب میں کانگریس کی جو حالت ہوئی اس کے لئے پوری طرح سے پرینکا گاندھی ذمہ دار تھیں انہوںنے امریندر سنگھ کو ہٹاکر چرن جیت سنگھ چنی کو وزیراعلیٰ بنوایا ۔ نوجوت سنگھ سدھو کو کاگی اہمیت دی گئی آخر کا ر پنچاب کانگریس کے ہاتھ سے نکل گیا اس کے لئے پرینکا گاندھی ذمہ دار ہیں کیوں کے پنجاب کا سارا کام کاج وہیں دیکھ رہی تھی یہ ٹھیک ہے پورے دیش بھر میں پرینکا لوگوں میں پسند ضرور تھیں لوگ ان کے ریلیوں میں انہیں سننے کے لئے آتے تھے کچھ لوگوں کو ان میں اندیرا گاندھی کی عکس نظر آتا ہے لوگ ان کی بات کو بھی سنتے ہیں لیکن پرینکا کانگریس کے ووٹ دلا پائیں گی اس میں شبہ ہے ایسا بھی لگتا ہے پرینکا اس بار لوک سبھا چناﺅ بھی لڑیں گی کچھ کا یہ بھی خیال ہے کے ہو سکتا ہے کے وہ وزیراعظم مودی کے خلاف ورانسی سے چناﺅ لڑیں ۔
(انل نریندر)
چناﺅ کمیشن کی غیر جانب داری پر سوال ؟
چیف الیکشن کمشنر اور دیگر کمشنروں کی تقرری سے متعلق بل کو صدر جمہوریہ دروپدی مورمو نے منظوری دے دی ہے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر کمشنروں کی( تقرری سروس کی شرائت و ذمہ داری) بل کے تحت قانون وزیر قانون کی سربراہی میں دو افراد کو شامل کر ایک تلاش کمیٹی تشکیل کرنے کی سہولت رکھی گئی ہے اس کمیٹی میں شامل ممبر سیکرٹری سطح سے نیچے کے نہیں ہوں گے یہ کمیٹی سی ای سی اور ای سی کی شکل میں تقرری کے لئے 5 نام سفارش کریں گی ان ناموں پر وزیراعظم کی سربراہی والی سلیکشن کمیٹی غور کر تقرری کے لئے صدر کو بھیجے گی ۔بل میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنر کی 3 ممبروں والی کمیٹی راشٹر پتی کو بھےجے گی اس کمیٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا کی جگہ کبینیٹ وزیر کو شامل کیا گیا ہے ۔کانگریس کے ام پی رندیپ سرجے والا نے الزام لگایا کے مرکزی حکومت ایک آزاد چناﺅ کمیشن نہیں چاہتی ہے ۔بل کی قوائد سرکار کے ذریعہ چناﺅ کمیشن پر قبضہ کر اسے جے بی ادارہ بنانا ہے ۔انہوںنے جب سپریم کورٹ کے ذریعہ گزشتہ میں اس بارے میں دئے گئے حکم کو پڑھان شروع کیا تو چئیرمین جگدیپ دھنکڑ نے انہیں روک دیا اور کہا کے پارلیمنٹ قانون بنانے والا ادارہ ہے اور آپ (سرجے والا) بھی اسکے ممبر ہیں سپریم کورٹ نے مارچ میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کے سلیکشن کمیٹی میں وزیراعظم ،اپوزیشن لیڈر اور دیش کے چیف جسٹس کو شامل کیا جانا چاہئے بڑی عدالت نے پارلیمنٹ میں قانون بننے تک یہی تقاضہ نافظ کرنے کو کہا تھا ۔سپریم کورٹ کے سابق جسٹس روہیٹن نریمن نے موجودہ تقاضوں پر تشریف جتائی ہے ان کا کہنا ہے کے اگر چیف الیکشن کمشنر 2 چناﺅ کمشنروں کی تقرری وزیراعظم اور ایک مرکزی وزیر اور ایک اپوزیشن کے لیڈر پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کے ذریعہ کی جاتی ہے تو تو آزاد اور منصفانہ چناﺅ ایک تصور بن کر رہ جائے گیں اگر ایسا ہوتا ہے تو عدالت کو اسے منسوخ کر دینا چاہئے ۔اب تقرریاںپوری طرح سیاسی ہوں گی ۔سرکار نے دعویٰ کیا کی کے یہ بل سپریم کورٹ کی ہدایت پر تیار کیا گیا ہے یہ صرف اس کا مشورہ ہے پچھلے سال مار چ میں سپریم کورٹ نے ایک پروسز شروع کرنے کے لئے مشورہ دیا تھا اس کے تحت ہی پی ایم ،لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا انتخاب کریں گے اور پارلیمنٹ تقرریوں میں بھروسہ اور ووٹر کی نظر میں الیکشن کمیشن کے طئی اعتماد مضبوط ہوں لیکن پاس شدہ بل میں سرکار نے چیف جسٹس آف انڈیا کو اس پروسز سے باہر رکھا ہے کمیٹی میں بھلے ہی اپوزیشن کی موجودگی ہے لیکن یہ حصہ داری محض کھانہ پوری ہوگی ۔ ایسے میں الیکشن کمیشن کی اگر جانب داری پر سوال اٹھیں گے ۔آزادانہ اور منصفانہ چناﺅ کے لئے چناﺅ کمیشن کی آزادی اور منصفانہ حیثیت اہم ترین ہے جو ایک مضبوط جمہوریت کا مرکز ہے ظاہر ہے کے چناﺅ کمیشن میں ہونے والی ان تقرریوں کو لیکر بھروسے کا سنکٹ مناصب ہے ۔چناﺅ کمیشن سے امید کی جاتی ہے کے دیش میں جہاں بھی چناﺅ ہوں وہاں آزادانہ منصفانہ اور پور امن پولنگ کرائی جائے اکیلے چناﺅ کمیشن ہی نہیں بلکہ سرکار کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے الیکشن سسٹم پر عوام کا یقین قائم رہنا جمہوریت کی سہت کے لئے بیحد ضروری ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...